Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:21
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 21
°°°°°°
سبحان نے سنجیدگی اور مکاری سے اس کی طرف دیکھا، چہرے پر سنجیدگی سجائے ہوئے تھا مگر اس کی شیطانی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ وہ اندر سے بہت خوش ہے۔
“جھوٹ کیوں بول رہے ہو مائد خان؟”
“تم نے یہ نہیں کہا کہ یہ لڑکی تمہارے لیے بہت خاص ہے اور تم اس کے لیے ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرو گے؟”
وہ دھیمے مگر سخت لہجے میں بولا۔
“سبحان خان! میں تمہاری جان لے لوں گا! تمہیں شرم نہیں آتی جھوٹ بولتے ہوئے؟”
“جھوٹ میں نہیں تم بول رہے ہو، میں نے ایسا کچھ نہیں کہا!”
وہ حلق کے بل چلایا تو اردگرد لوگ متوجہ ہونے لگے۔ مائد خان دورانی کی آنکھوں میں غصے کے شعلے بھڑک رہے تھے، جبکہ سبحان کا چہرہ اب بھی سپاٹ تھا۔ وہ شیطانی مسکراہٹ کو اندر دبائے ہوئے تھا۔ اس کے غصے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
سبحان نے ایک نظر اردگرد جم غفیر پر ڈالی، پھر دوبارہ مائد کی طرف متوجہ ہوا۔
“اوہ! تو تم کہنا چاہ رہے ہو کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟”
اس نے مصنوعی حیرت سے کہا، جیسے عام لوگوں کو گواہ بنانے کا پورا ارادہ رکھتا ہو۔ اسکے چہرے پر مکاری دیکھ کر مائد کا خون کھول اٹھا، مٹھیاں سختی سے بند کر لیں۔
“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا، اور تم اچھی طرح جانتے ہو!”
وہ دانت پیستے ہوئے غرایا۔
سبحان نے قدم آگے بڑھایا، اتنا قریب کہ مائد کو اس کی سرگوشی نما آواز سنائی دی۔
“تمہاری حالت دیکھ کر لگ رہا ہے کہ تمہیں ڈر لگ رہا ہے، مائد خان دورانی؟”
“جتنا تم بھڑک رہے ہو سب عقلمندوں کو سمجھ میں آرہا ہے کہ بات سچ ہے!”
مائد کی سانسیں بے ترتیب ہوئیں، غصے سے اس کے چہرے کی سرخی مزید گہری ہو گئی۔
“سبحان! باز آ جاؤ، ورنہ…”
ایک بار پھر مائد نے اس کے گریبان سے پکڑ کر جن جھنجوڑتے ہوئے کہا۔
سبحان نے شرارت سے آنکھیں سکیڑیں۔
“ورنہ کیا، مائد؟”
وہ دھیرے سے بولا، مگر اس کے لہجے میں واضح چیلنج تھا۔
“مجھے جان سے مار دو گے جو تم نے ابھی کچھ دیر پہلے کوشش کی؟”
“میں تو فیصلہ آغا جان پر چھوڑتا ہوں کیونکہ میں تم جیسا بدلحاظ اور بدتمیز نہیں ہوں۔”
اپنی مکاری کا جال پھینک کر سبحان ایک سائیڈ پر ہو گیا تھا۔
لوگوں کی سرگوشیاں بڑھنے لگیں، ہر کوئی اس تماشے کو مزید شدت سے دیکھنے لگا، مگر سبحان کے چہرے پر اب بھی وہی سفاکی سجی ہوئی تھی، جیسے وہ اس کھیل سے بھرپور لطف اٹھا رہا ہو۔ آغا جان نے غصے سے اپنی چھڑی زمین پر ماری، ان کا چہرہ سختی اور بے زاری سے سرخ ہو رہا تھا۔
“میں یہ تماشہ اور برداشت نہیں کر سکتا مائد خان، یہاں سے دفع ہو جاؤ!”
“میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔ تم نے جو تماشہ لگانا تھا، لگا لیا۔ اب میں تمہیں ایک سیکنڈ بھی اپنی نظروں کے سامنے برداشت نہیں کر سکتا!”
وہ سخت لہجے میں بولے، ان کے لیے یہ سب برداشت کرنا آسان نہیں تھا، انہیں اپنی بے عزتی محسوس ہو رہی تھی، اور کہیں نہ کہیں سبحان کی بات انہیں درست لگ رہی تھی۔
مائد نے بے یقینی سے آغا جان کو دیکھا۔
“آپ اس کی بات پر یقین کر رہے ہیں آپ کو اپنے بیٹے پر یقین نہیں ہے؟”
“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا! جو میں نے کہا، اس نے اس کا الٹ آپ کو دکھایا ہے!”
وہ بے بسی سے بولا، مگر آغا جان نے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
“میں نے کہا، چلے جاؤ!”
وہ لفظوں کو چباتے ہوئے زور سے بولے تھے:
“میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا!”
ان کی آواز میں کوئی لچک نہیں تھی، جیسے ان کے فیصلے میں کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔
“میں اس طرح نہیں جاؤں گا!”
“آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اور میں کہیں نہیں جاؤں گا!”
مائد نے ضدی لہجے میں کہا۔
آغا جان نے سخت نظروں سے اسے گھورا۔
“نہیں! طبیعت تو تم نے میری ٹھیک کر دی ہے! اس سے زیادہ میں اور کیا امید رکھ سکتا ہوں؟”
“یہ سارا تماشہ کھڑا کر کے تم نے میری تربیت کا بہت اچھے سے خیال رکھا ہے!”
ان کا غصہ عروج پر تھا، صحت زیادہ اچھی نہ ہونے کے باعث وہ لڑکھڑا رہے تھے۔
“آغا جان! آپ چل کر آرام کریں، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔”
مائد کو ان کی فکر ہوئی، وہ آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھامنا چاہتا تھا، مگر آغا جان نے سختی سے ہاتھ جھٹک دیا۔
“تم نے سنا نہیں؟ میں نے کہا، چلے جاؤ!”
ان کی آواز گونجی، جیسے کوئی فیصلہ سنایا جا رہا ہو۔
“میرے خیال سے ایک بار مائد کی بات تو سن لیں، وہ کیا کہنا چاہتا ہے؟” مورے کی مدھم سی آواز نے سکوت توڑا۔
آغا جان نے گہری، سخت نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
“کیا اب تم بھی میرے خلاف کھڑی ہو؟ تم بھی مجھے باتیں سناؤ گی؟”
“کیا یہی دن دیکھنے باقی رہ گئے تھے؟”
ان کی آواز میں شکوہ اور سختی یکجا تھی۔
“نہیں، میرا ایسا کوئی مقصد نہیں، خان!”
“میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اگر آپ کو میری بات بری لگی تو میں معذرت چاہتی ہوں۔”
مورے نظریں جھکا کر خاموش ہو گئی، ایک اچھی بیوی کی طرح۔
دوسری طرف، مونا اور اس کی ماں کی نظروں میں مائد خان مکمل مجرم بن چکا تھا۔ ان کی نظریں جیسے اس پر کڑے فیصلے صادر کر رہی تھیں۔ سبحان اپنی مکاری پر خوش تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ سالوں سے اس کی اور مائد خان کی چپقلش چلتی آ رہی تھی، اور آج اسے موقع مل گیا تھا مائد کو نیچا دکھانے کا۔ دروازے پر کھڑا درخزائی یہ سب برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کا خون کھول رہا تھا کہ اس کے بھائی اور اس کی خور جان پر بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں!
“آغا جان! اپنی اولاد کو اتنا بےمول مت کیجیے کہ کل کو آپ کو اپنے لفظوں کی سختی کا اندازہ ہو، تو آپ خود سے نظریں نہ ملا پائیں!”
“آپ کا خون ہوں، آپ کا بیٹا ہوں! مر سکتا ہوں، مٹ سکتا ہوں، مگر کبھی کوئی ایسی حرکت نہیں کر سکتا، جس سے میرے آغا جان کا سر شرم سے جھکے!”
مائد ادب و لحاظ کے دائرے میں رہ کر بول رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں چھپا درد سب کچھ کہہ رہا تھا کیونکہ آغا جان کا یقین اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا، اور آج… آج آغا جان کی نظروں میں اس کے لیے یقین ہی نہیں تھا۔
“مائد خان! تم نے سنا نہیں؟ میں اس وقت کوئی بات نہیں کرنا چاہتا!”
آغا جان نے ایک بار پھر سختی سے کہا۔
ان کی بگڑتی ہوئی طبیعت کو دیکھ کر مائد کو محسوس ہوا کہ شاید اس کا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے۔ ساری دنیا کی باتیں ایک طرف، مگر اپنے آغا جان کے لیے مائد خان کی محبت ایک طرف تھی۔ وہ انہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا، اور آغا جان اس وقت اسے اپنی نظروں کے سامنے نہیں چاہتے تھے۔ دل پر پتھر رکھ کر، مائد خان نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک بار یہاں سے چلا جائے گا۔
“ٹھیک ہے! اگر میرے جانے سے آپ کو سکون ملتا ہے، تو میں چلا جاتا ہوں۔”
مائد نے گہری سانس لی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سختی تھی۔
“مگر کوئی یہ غلط فہمی نہ پالے کہ وہ ہم میں دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہو گیا!”
“باپ اور بیٹے کے رشتے میں دراڑ ڈالنا نہ صرف مشکل، بلکہ ناممکن ہے!”
وہ زہرخند لہجے میں بولا، نظریں سیدھا سبحان پر گاڑتے ہوئے۔
سبحان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، مگر مائد کی نگاہوں کی تپش نے اسے لمحے بھر کو چپ کروا دیا۔ مائد نے ایک آخری نظر آغا جان پر ڈالی، پھر دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے درخزائی کو اشارہ کیا۔
“آغا جان کو روم میں لے جاؤ!”
اس نے سخت لہجے میں کہا اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔
°°°°°°°°°°
دانیا روم میں ارمیزہ کے ساتھ بیٹھی بےحد پریشان تھی۔ وہ مسلسل سوچ رہی تھی کہ باہر کیا ہو رہا ہوگا، مگر جانے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔ ویسے بھی، اسے یہ مناسب نہیں لگ رہا تھا کہ وہ وہاں جائے، خاص طور پر جب مائد کی منگیتر مونا، اس کا بھائی اور ان کی ماں پہلے ہی اسے برداشت نہیں کرپا رہے تھے۔ وہ کوئی بچی نہیں تھی جو حالات کی سنگینی نہ سمجھ پاتی۔ مونا کی ماں کی سخت نظریں، اس کے بھائی کا تحقیر بھرا انداز—یہ سب دانیا دیکھ چکی تھی۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کی موجودگی ان لوگوں کے لیے ناگوار ہے مگر اس وقت اس کے دل میں صرف ایک سوال تھا: آخر جھگڑے کی اصل وجہ کیا ہے؟
کبھی کبھی لوگ اپنی عقل کا ایسا خرافاتی استعمال کرتے ہیں کہ کسی معصوم شخص کو ہی قصوروار ٹھہرا دیتے ہیں، جو بے خبر ہوتا ہے کہ اس کے خلاف کیا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ دانیا کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔ اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے، مگر وہاں موجود کچھ لوگ اسے ہی اس ساری کشیدگی کی جڑ سمجھ رہے تھے۔
“پھو پھو؟”
“جی؟”
“باہر کیوں لڑ رہے ہیں؟”
ارمیزہ نے معصومیت سے پوچھا۔ یہ سوال وہ کوئی چھ بار دہرا چکی تھی۔
“بتایا ہے نا، بیٹا! وہ بڑے ہیں، ان کا کوئی اپنا پرسنل معاملہ ہوگا۔ بچے ایسی باتیں نہیں پوچھتے۔”
دانیا نے نرمی سے اس کے بال سنوارتے ہوئے سمجھایا۔
“دانیا، پلیز! آپ ارمیزہ کو لے کر میرے ساتھ چلیں، میں آپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں۔ مجھے کچھ ضروری کام ہے۔”
مائد خان اچانک کمرے میں داخل ہوا۔ بظاہر اس کا لہجہ نرم تھا، مگر نظر اٹھا کر ایک بار بھی انہیں نہیں دیکھا تھا۔ اس کے چہرے پر تناؤ، آنکھوں کی لالی، اور ضبط کی سختی صاف بتا رہی تھی کہ وہ شدید غصے میں ہے—ایسا غصہ جسے قابو میں رکھنا اس کے لیے مشکل ہی نہیں، ناممکن ہو رہا تھا۔
“مگر ہم ابھی تو آئے ہیں!”
ارمیزہ نے آہستہ سے کہا۔
“بیٹا، ہم پھر آ جائیں گے، ابھی ایک بار چلو!”
دانیا نے نرمی سے سمجھایا۔
“مگر مورے سے تو مل لیں…”
دانیا نے جھجکتے ہوئے کہا۔
“پلیز، دانیا! چلیں، مجھے آپ کو گھر چھوڑنا ہے۔”
مائد کے الفاظ سخت اور سنجیدہ تھے، مگر نظر اب بھی دانیا پر نہیں تھی۔ دانیا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر معاملہ کیا ہے، مگر اتنا ضرور محسوس ہوا کہ اسے جانا چاہیے۔ ویسے بھی، وہ آئی بھی مائد کے ساتھ ہی تھی، تو جانا بھی اسی کے ساتھ بنتا تھا۔ اس نے ارمیزہ کا ہاتھ تھاما اور خاموشی سے مائد کے پیچھے چل پڑی مگر دروازے پر آتے ہی ان کا سامنا آغا جان، مونا، مونا کی ماں، اور سبحان سے ہو گیا۔ مونا، اس کی ماں اور سبحان کی نظریں زہر آلود تھیں، جیسے دانیا کی موجودگی ہی ناقابلِ برداشت ہو جبکہ آغا جان نے مایوسی سے نفی میں سر ہلا دیا۔ ان کے دماغ میں کیا چل رہا تھا، یہ دانیا کے لیے سمجھنا فی الحال ناممکن تھا جبکہ مائد صرف اس لیے دانیا کو یہاں سے لے جانا چاہتا تھا کہ کوئی اس پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ وہ اس کے یار کی عزت تھی، اور وہ اسے اعتماد کے ساتھ یہاں چھوڑ کر گیا تھا مگر مونا اور اس کی فیملی پر وہ کبھی یقین نہیں کر سکتا تھا، اس لیے دانیا کو یہاں سے لے جانا اس وقت ضروری تھا۔ مورے کی نظریں احساسات سے خالی تھیں—نہ کچھ اچھا لگ رہا تھا، نہ برا مگر درخزائی کی آنکھوں میں روشنی تھی، جیسے اسے مائد کا فیصلہ بالکل درست لگا ہو۔
“مورے، میں چلوں؟”
دانیا، جو ابھی تک ہر بات سے بے خبر تھی، آہستہ سے مورے کے قریب ہوئی اور اجازت طلب کی۔ مورے نے اس کے سر پر محبت سے ہاتھ رکھا اور خاموشی سے جانے کا اشارہ کر دیا۔ دانیا نے ایک نظر مورے کے چہرے پر ڈالی، مگر وہاں کچھ ایسا نہ تھا جو اسے تسلی دے سکتا۔ دل میں ایک عجیب بےچینی لیے وہ پلٹنے لگی، مگر اگلے ہی لمحے مونا کی ماں کی آواز اس کے کانوں میں پڑی—ایک زہر آلود طنز جو سیدھا اس کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گیا۔
“ویسے حد ہوتی ہے! کیسے کوئی اپنی جوان بیٹی کو کسی جوان لڑکے کے ساتھ اس کے گھر میں رہنے کی اجازت دے سکتا ہے؟”
“مجھے تو سمجھ نہیں آتی، اس کے بھائی اور اس کے گھر والوں کی غیرت زندہ بھی ہے یا مر چکی ہے؟”
لفظوں میں زہر تھا، اور وقت بھی ایسا تھا کہ ان کا وار سیدھا دل پر لگا مگر یہ جملہ بولنے کا وقت صحیح تھا یا غلط، یہ کہنا مشکل تھا—کیونکہ ٹھیک اسی لمحے زیغم سلطان وہاں پہنچ چکا تھا۔
“غیرت بھی زندہ ہے، اور جس کے لیے یہ جملہ آپ نے بولا ہے، اس کا بھائی بھی زندہ ہے! دوبارہ یہ لفظ بولنے کے لیے زبان باقی نہیں رہے گی، حلق سے کھینچ کر باہر نکال دوں گا۔ جرات کیسے ہوئی میری بہن کے بارے میں ایسی بات کہنے کی؟”
زیغم سلطان کی آواز گرجی، جیسے بادل کسی پہاڑ سے ٹکرا کر گونج اٹھا ہو۔
سب نے ایک ساتھ پلٹ کر دیکھا۔ وہ گہری نیلی آنکھوں والا سندھی شہزادہ، گلے میں اجرک ڈالے، پورے دبدبے کے ساتھ ان کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں سے غصے اور غیرت کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔
“اے اللہ! رحم فرما… اس کا اس وقت یہاں آنا ٹھیک نہیں تھا!”
مائد دل میں سوچتے ہوئے مٹھیاں بھینچ گیا۔وہ سانس روکے کھڑا تھا، قدم اٹھانے سے قاصر تھا۔ جیسے زمین نے مائد کے قدم جکڑ لیے ہوں۔ زیغم بہت غلط وقت پر آیا تھا… بہت غلط وقت پر! وہ دل میں سوچ کر گھبرا اٹھا تھا۔
“اچھا! تو تم ہو اس کے غیرت مند بھائی؟”
مونا کی ماں نے زہر بھرے انداز میں کہا۔
“اگر اتنی ہی غیرت جاگ گئی ہے تو لے جاؤ اپنی بہن کو!”
“اور ویسے بھی، جوان جہان بہن کو کسی غیر کے گھر چھوڑنے کا بھلا کیا جواز بنتا ہے؟”
اس کی نظریں حقارت سے زیغم پر جمی تھیں، لبوں سے زہر ٹپک رہا تھا۔
“شکل سے تو اچھے خاصے امیر کبیر لگتے ہو، تو کیا ضرورت تھی اسے دوسروں کے در پر چھوڑنے کی؟ دو وقت کی روٹی کھلانا مشکل تھا کیا؟”
وہ جیسے طنز کے تیر برسا رہی تھی، مگر زیغم سلطان کی نیلی آنکھوں میں اُترتا طوفان بتا رہا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے کوئی بھی حد پار کرسکتا تھا!
“اگر میرے سامنے اس وقت عورت ذات نہ ہوتی، تو یہ جو زبان پٹر پٹر کر رہی ہے، اس کے میں اتنے ٹکڑے کر دیتا کہ گننا مشکل ہو جاتا!”
زیغم سلطان کا لہجہ برف سے زیادہ ٹھنڈا، مگر آگ سے زیادہ تپش لیے ہوئے تھا۔ اس کی نیلی آنکھوں میں چنگاریاں بھڑک رہی تھیں۔
“اپنی غیرت کی قسم، اگر دوبارہ میری بہن کے بارے میں زبان کھولی، تو پھر عورت ہونا بھی تمہیں نہیں بچا پائے گا!”
سختی سے کہتے ہوئے وہ ایک قدم آگے بڑھا، اور سامنے کھڑی مونا کی ماں کے چہرے پر جمی حقارت کو اپنی خالص مردانہ دبدبے سے روند دیا۔ سب سکتے میں آ گئے تھے کیونکہ ایسا کسی نے نہیں سوچا تھا کہ زیغم بھی یہاں پہنچ سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی اس معاملے کو سنبھال پاتا، سبحان کی مردانگی تھوڑی زیادہ ہی اچھل پڑی تھی۔
“اوئے! تیری ہمت کیسے ہوئی میری ماں کے ساتھ اس طرح سے بات کرنے کی؟”
وہ سینہ تان کر آگے بڑھتے ہوئے زیغم کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے والا تھا کہ زیغم خان کی ٹانگ ہوا میں لہرائی اور زور سے اس کے پیٹ پر لگی۔ غیرت مند سبحان اچھلتا ہوا پیچھے کھلے دروازے سے آغا جان کے داخل کیے ہوئے کمرے کے اندر جا گرا۔ ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ کسی کو یقین نہیں آیا کہ زیغم کی ایک ہی ضرب نے سبحان کو اس کی اوقات یاد دلا دی تھی۔ مونا کی ماں تیزی سے آگے بڑھی، مگر زیغم کی سرخ پڑتی آنکھوں نے اسے وہیں روک دیا۔
“پڑا رہنے دو اسے زمین پر، تھوڑی دیر اپنی اوقات یاد آنے دو!”
سبحان نے کراہتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی، مگر زیغم نے ایک قدم آگے بڑھایا اور اس کے سینے پر پاؤں رکھ کر جھک گیا۔
“غیرت صرف نام کی نہیں ہوتی، عمل میں بھی ہونی چاہیے۔ اگر اتنی ہی غیرت ہے تو اپنی زبان کو لگام دینا سیکھو۔ اپنی ماں کے لیے تم سے برداشت نہیں ہوا، اور میری بہن کے لیے جو تم لوگ بول رہے تھے، تب تمہاری غیرت مر گئی تھی؟”
زیغم غرایا، اس کے ہاتھوں کی سختی ابھی سبحان نے محسوس ہی کہاں کی تھی!
مائد نے ایک نظر دانیا پر ڈالی، جو ساکت کھڑی تھی۔ زیغم کی یہ شدت دیکھ کر وہ اندر ہی اندر لرز گئی، مگر اسے معلوم تھا کہ اس کا بھائی اس کی ڈھال بن کر پہنچ چکا ہے۔ اب وہ سب سے خود ہی نپٹ لے گا۔ کمرے میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔ کسی کو یقین نہیں آیا کہ چند لمحے پہلے جو سبحان غرور سے اکڑا کھڑا تھا، وہ اب زمین پر پڑا ہوا تھا۔ زیغم سلطان کی نیلی آنکھیں طیش سے دہک رہی تھیں، جیسے کسی نے سلگتی چنگاریوں کو ہوا دے دی ہو۔
“یہ تو بس پہلا سبق تھا۔ اگر آئندہ میری بہن کے بارے میں کوئی زبان درازی کی، تو زبان ہاتھ میں تھما دوں گا!”
سبحان کے چہرے پر جلن اور شرمندگی تھی۔ وہ اس لیے بھی نہیں جھٹپٹا رہا تھا کیونکہ زيغم نے ہاتھ میں پسٹل تھام رکھی تھی، جو آتے ہی اس پر قہر بن کر گر چکی تھی۔ ایسے بندے کا کیا پتہ کہ کب گولی اس کے سینے میں اتار دے… اس لیے وہ خاموشی سے زمین پر پڑا سسک رہا تھا مگر زیغم نے اسے مزید ذلیل ہونے کا موقع نہیں دیا۔ جھٹکے سے اس سے دور ہوتے ہوئے، نگاہ گھما کر مونا کی ماں کی طرف متوجہ ہوا، جو اب تک شاک میں کھڑی تھی۔
“اور آپ… عورت ہو، اسی لیے چپ ہوں مگر اتنا یاد رکھنا، جو عزت دوسروں کی بہن بیٹیوں کی نہیں کرتے، ان کے اپنے آنگن میں بھی بربادی ناچتی ہے!”
آخری جملہ ہوا میں بکھرتے ہی زیغم نے ایک سخت نظر سب پر ڈالی اور دانیا کی طرف بڑھا، جو خود بھی حیرت میں تھی۔ اس نے کوئی وضاحت نہیں دی، کوئی بات نہیں کی، بس ایک حکم دیا:
“چلو، یہاں اب مزید ایک لمحہ بھی رکنے کی ضرورت نہیں!”
دانیا، جو ساکت کھڑی تھی، ایک نظر مائد پر ڈال کر زیغم کے ساتھ چلنے لگی۔ مائد کے چہرے پر کشمکش تھی، وہ جانتا تھا کہ زیغم کا یوں آنا حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، مگر اس وقت کوئی بھی اس کی سننے والا نہیں تھا۔
دروازے سے نکلتے ہوئے زیغم ایک بار پھر پلٹا۔
“یہ بات ابھی شروع ہوئی ہے، ختم نہیں۔ تم سب نے میری بہن کی عزت پر سوال اٹھایا ہے، اس کا جواب پورے وقار سے دوں گا، مگر اپنے طریقے سے!”
یہ کہہ کر وہ شان سے باہر نکل گیا، پیچھے صرف سناٹا اور جھکی نظریں رہ گئیں۔
مونا کی ماں نے مورے کی طرف دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا:
“ہم اپنی توہین کبھی برداشت نہیں کریں گے!”
“یہ کون سا طریقہ ہے، بلوا کر ذلیل کروانے کا؟”
مورے، جو اب تک ضبط کیے بیٹھی تھی، مزید خاموش نہ رہ سکی۔
“بہن، ذلیل ہم نے نہیں کروایا، آپ کی زبان نے کروایا ہے!”
“معاملہ آرام سے بھی حل ہو سکتا تھا، مگر بغیر سوچے سمجھے آپ کیچڑ اچھالتی چلی گئیں۔ اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟”
“اگر اس کے بھائی نے آپ کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، تو کوئی بھی غیرت مند بھائی یہی کرتا!”
مورے کا لہجہ سخت تھا، مگر وہ سچ بول رہی تھی۔ مونا کی ماں کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔
“اس نے جو کیا ہے، اس کا حساب تو اسے چکانا پڑے گا، یہ سمجھتا کیا ہے خود کو؟”
“اگر میں نے اسے دھول نہ چٹائی تو میرا نام سبحان نہیں!”
سبحان خان غصے سے اٹھ کھڑا ہوا، اور مٹھیاں بھینچتے ہوئے بولا۔
مائد، جو خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا، دل میں سوچ رہا تھا۔
“ماشاءاللہ! یہ اسے دھول چٹوائے گا جس نے ایک ہی وار میں اسے زمین پر گرا دیا؟”
“مائد کی ماں، اب ایک لفظ اور مت بولنا! چپ کر جاؤ!”
آغا جان، جو اس تماشے سے حیران اور پریشان دونوں تھے، درخزائی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے۔ ان کی آواز میں وہی رعب تھا جو ہمیشہ سے پورے خاندان کو چپ کروا دیتا تھا۔ انہوں نے مورے کی طرف دیکھا، جو ابھی بھی تیز نظروں سے مونا کی ماں کو گھور رہی تھی۔
” بس، اب خاموش ہو جاؤ!”
پھر وہ مونا کی ماں کی طرف متوجہ ہوئے۔
“اور بہن جی، میں آپ سے معافی مانگتا ہوں، جو کچھ ہوا بہت غلط ہوا مگر کچھ باتیں خود سوچنے والی ہوتی ہیں۔ جو بیج بویا جاتا ہے، وہی فصل کاٹی جاتی ہے!”
ہال میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی، مگر اب کی بار وہ خاموشی طوفان کے آنے سے پہلے کی نہیں، بلکہ سچ کے منہ پر مارے گئے تھپڑ کی تھی۔
“آپ جو کچھ بول رہی تھیں، وہ بھی مناسب نہیں تھا۔”
آغا جان کی آواز میں ٹھہراؤ تھا، مگر ان کے الفاظ کا وزن محسوس کیا جا سکتا تھا۔
“آپ کا جو بھی مسئلہ تھا، میں اسے حل کرنے کے لیے تیار تھا اور اب بھی ہوں۔ بات بچوں کے درمیان ہوئی تھی، ہمیں بڑوں والا ہی ظرف دکھانا چاہیے تھا۔”
وہ ایک لمحے کو رکے، نگاہیں سخت تھیں مگر لہجے میں تلخی نہیں تھی، بس سچائی تھی۔
“میں زیادہ کچھ نہیں کہوں گا، مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ وہ بچی ایسی نہیں ہے۔ اس کی اپنی کچھ مشکلات ہیں، کچھ پریشانیاں ہیں، جن سے وہ خود بھی نہیں سنبھل پا رہی۔”
وہاں پر موجود ہر فرد خاموشی سے انہیں سن رہا تھا، حتیٰ کہ مونا کی ماں بھی۔
“اور ہمارے گھر کا ماحول ایسا نہیں کہ کسی کی بہو بیٹی پر گندی نظر ڈالی جائے۔ میں اپنے بیٹے کی طرفداری نہیں کروں گا، مگر یہ ضرور کہوں گا کہ مائد کبھی اس لڑکی کے لیے دل میں میل نہیں رکھ سکتا، کیونکہ زیغم سلطان اس کا دوست نہیں، اس کا بھائی ہے۔”
آغا جان نے ایک گہری سانس لی، جیسے اپنے اندر اٹھنے والے غصے کو ضبط کر رہے ہوں۔
“اور میری تربیت، میرا خون، ایسا نہیں ہے کہ میرے بیٹے پر کوئی ایسی تہمت آئے۔ میرا بیٹا نہ بے غیرت ہے، نہ اس کی نیت گندی ہو سکتی ہے مگر آپ لوگوں نے میرے خیال سے کچھ زیادہ ہی بات کو طول دے دیا۔”
ان کے آخری الفاظ ہوا میں معلق ہو گئے، جیسے پوری محفل کو ان کا وزن محسوس ہو رہا ہو۔ زیغم، مائد، اور باقی سب افراد خاموش تھے، ان کی نظروں میں اپنے آغا جان کے لیے احترام واضح تھا۔ آغا جان کی شخصیت ایسی تھی کہ نہ وہ کبھی جھوٹ کا ساتھ دیتے اور نہ ہی کبھی غلط کہتے تھے، دبدبے والی شخصیت تھی۔
آغا جان نے ایک آخری نگاہ مونا کی ماں پر ڈالی اور سخت لہجے میں کہا:
“اگر اب بھی آپ کو یقین نہیں آتا، تو مسئلہ ہمارے گھر میں نہیں، آپ کی سوچ میں ہے!”
آغا جان کے آخری الفاظ نے مونا، اس کی ماں اور اس کے بھائی کو ایک پل میں احساس دلایا کہ معاملہ اب غلط رخ اختیار کر رہا ہے۔ وہ جان گئے تھے کہ آغا جان واقعی بھڑک اٹھے ہیں، اور اگر وہ اپنی ضد پر قائم رہے تو یہ ان کے اپنے ہی خلاف جائے گا۔ ان کو اپنی بیٹی کے رشتے کو خراب نہیں کرنا تھا کیونکہ بے شک مائد خان ایک بہترین انتخاب تھا۔ مائد خان لاکھوں میں ایک تھا اور اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے وہ ایسی آفر کیسے ٹھکرا سکتے تھے جبکہ دوسری طرف، آغا جان کی سچائی بھری باتوں نے مائد کے دل کو تسکین دی تھی۔ وہ تھپڑ جو کچھ دیر پہلے سب کے سامنے آغا جان نے اس کے چہرے پر رسید کیا تھا، اس کا ملال بھی اب کم ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ اسے تھپڑ کا دکھ نہیں تھا، وہ اس کے آغا جان تھے چاہے جتنے مرضی تھپڑ مار لیتے، مگر مائد کو دکھ صرف اس بات کا تھا کہ اس کے آغا جان نے اس پر یقین نہیں کیا۔ اب وہ دکھ کم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ مائد کے لبوں پر بھی ایک پرسکون مسکراہٹ ابھری تھی۔ وہ دیکھ سکتا تھا کہ حالات آہستہ آہستہ واضح ہو رہے تھے، اور آغا جان کی مداخلت نے ان سب کو ان کی حدیں یاد دلا دی تھیں۔ اب کسی کو بھی مزید بڑھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
مونا کی ماں نے جلدی سے بات سنبھالی۔
“نہیں، نہیں، آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟”
“ٹھیک ہے، جو ہونا تھا ہو گیا، ہمیں آپ سے کوئی شکایت نہیں۔”
آغا جان نے گہری سانس لے کر سر ہلایا۔
“جی بہتر، اگر شکایت نہ ہو تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ جتنا کچھ خراب ہونا تھا، ہو چکا۔ مزید کی گنجائش نہیں۔”
وہ درخزائی کا سہارا لے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
درخزائی نے آغا جان کو بستر پر لٹانے کی کوشش کی، مگر ان کا بھاری وجود سنبھالنا اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔ مائد فوراً آگے بڑھا اور دوسری طرف سے آغا جان کا ہاتھ تھام کر انہیں آرام سے بیڈ پر لٹا دیا۔ جیسے ہی وہ سیدھے ہوئے، آغا جان نے مائد کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
مونا کی ماں نے موقع غنیمت جانا اور فوراً بولی۔
“اچھا بھائی صاحب، آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں، آپ آرام کریں۔ ہم دوبارہ چکر لگائیں گے، بلکہ آپ خود فون کر کے بتا دیجیے گا، یا گھر آ کر ہی تاریخ طے کر لیجیے گا۔ بچوں کی شادیوں سے گھر میں خوشیوں کا ماحول آ جائے گا، اور جو کچھ ہوا، اس پر مٹی ڈالیں۔ ناراضگی دل میں نہ رکھیے گا۔”
وہ جلدی سے ساری بات سمیٹنے کی کوشش کر رہی تھی، تاکہ معاملہ مزید نہ بگڑے۔
“جی، انشاءاللہ، آپ کو کوئی اچھی خبر سنائیں گے۔”
آغا جان نے مختصر سا جواب دیا۔
مونا کی ماں سبحان خان کے ساتھ اللہ حافظ کہہ کر باہر نکل گئی، مگر مونا کچھ دیر وہیں کھڑی رہی۔ اس نے بنا جھجھک مائد کی طرف دیکھا اور کہا:
“کچھ دیر تو میرے ساتھ آؤ، مجھے تم سے بات کرنی ہے۔”
مائد کو اس کا یہ انداز بالکل پسند نہیں آیا، مگر وہ اس وقت آغا جان کے سامنے مزید غلط ثابت نہیں ہونا چاہتا تھا۔ مورے نے بھی نظروں سے اشارہ کیا کہ چلا جا، تو وہ بوجھل قدموں کے ساتھ مونا کی بات سننے کے لیے کمرے سے باہر نکل آیا۔ اس کا دل بالکل بھی نہیں چاہ رہا تھا، مگر وہ خاموشی سے اس کے ساتھ دروازے کے پار چلا گیا۔
°°°°°°°°
“ہاں بولو، کیا کہنا ہے؟”
مائد نے ویٹنگ ایریا سے باہر آتے ہوئے کہا۔
“بے شک سب نے یقین کر لیا ہو، مگر میں نے نہیں کیا۔ تمہاری آنکھوں میں جو اس لڑکی کے لیے جذبات ہیں، وہ مجھ سے چھپے نہیں ہیں۔ عورت کو بہت جلدی سمجھ آ جاتا ہے کہ اس کے مرد کے دماغ میں کیا چل رہا ہے!”
مونا نے بے جھجک اپنی بات مکمل کی۔
“یہیں پر اپنی زبان بند کر لو!”
مائد کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے شعلے لپکے۔
“جب میں نے کہا ہے کہ ایسا کچھ نہیں تو پھر بات کو دوبارہ کریدنے کا کوئی مطلب نہیں۔ اگر تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہے، تو عید کے بعد، آغا جان نے کہہ دیا ہے کہ ڈیٹ فکس ہو جائے گی۔ شادی ہو جائے گی، تو آ جانا میرے گھر اور کرتی رہنا میری نگرانی۔ جب ڈھونڈنے سے بھی کوئی ایسی چیز ملے، تو مجھے ضرور بتانا لیکن اگر فضول میں تم نے کیچڑ اچھالنے کی جرأت کی، تو یاد رکھنا، مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا!”
مائد خان کا ضبط جواب دینے لگا تھا، اور اس کے لہجے کی سختی نے مونا کو بھی چند لمحے کے لیے ساکت کر دیا۔
“مائد خان، مت بھولو کہ میں بچپن سے تمہارے ساتھ منسوب ہوں۔ تم سے زیادہ تمہیں میں جانتی ہوں، سمجھتی ہوں۔ تمہیں ہمیشہ غصہ اسی بات پر آتا ہے جو اصل میں سچ ہو، اور تم اسے تسلیم نہیں کرنا چاہتے اور یہ غصے سے کسی اور کو چپ کروانا، مونا خان تم سے نہیں ڈرتی!”
مونا کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔
“کاش بچپن سے لے کر اب تک جانتے ہوئے، اتنا بھی جان جاتیں کہ مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے!”
مائد نے دوٹوک جواب دیا۔
“اور اگر میں یہ کہوں کہ میں یہ بھی جانتی ہوں تو؟”
مونا نے ایک قدم قریب ہو کر سرسراتی آواز میں پوچھا۔
“تو پھر تمہاری کوئی عزت نفس نہیں ہے، یہ کہوں گا!”
مائد کے لب سختی سے بھینچ گئے۔
“ہاں، نہیں ہے!”
مونا کے لبوں پر ہلکی سی ہنسی آئی، مگر آنکھوں میں کچھ اور ہی رنگ تھا۔
“بچپن سے میرے گھر والوں نے تمہارے ساتھ میرا رشتہ طے کر رکھا ہے۔ میری آنکھوں میں تمہارے خواب سجے ہیں، اور اب اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں ان سارے خوابوں کو توڑ کر صرف تمہارے جذبات کا خیال کرتے ہوئے تم سے دور ہو جاؤں گی، تم سے شادی سے انکار کر دوں گی، تو تم بہت بڑی غلط فہمی میں ہو، مائد خان! میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی!”
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر سرد لہجے میں بولی:
“ہم پٹھانوں میں پچھتر فیصد شادیاں ایسی ہی ہوتی ہیں، جہاں پر خان دل سے راضی نہیں ہوتے، مگر پھر بھی انہیں وہی عورت ملتی ہے جو خاندان والے بیاہ کر لاتے ہیں۔ وہی گھر کی اصل بہو اور مالکن ہوتی ہے، اور جو… جو ایسی چلتی پھرتی ہوں، ان کا کوئی مقام نہیں!”
اس کی نظریں زہر خند انداز میں دانیہ کی زات پر انگلی اٹھا رہی تھی۔
مائد کا ضبط آخری حد کو چھو گیا۔ وہ ایک جھٹکے سے اس کی جانب بڑھا، نظریں برف کی مانند سرد تھیں۔
“مونا! اگر ایک لفظ اور تم نے اس کے بارے میں کہا، تو خدا کی قسم، میں ہر لحاظ بھول جاؤں گا! اس کے بعد تو چاہے ساری دنیا مجھ پر دباؤ ڈال لے، میں مر جاؤں گا مگر تم سے شادی نہیں کروں گا!”
اس کے چہرے پر بھڑکتے شعلے دیکھ کر مونا کو خاموش رہنا ہی بہتر لگا مگر خاموش رہنا اس کی فطرت میں کہاں تھا؟ وہ ایک گہری نظر مائد پر ڈالتی، اپنی ماں اور بھائی کے پیچھے چلتی ہوئی ہسپتال کے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
“اے اللہ! تُو دلوں کے بھید جانتا ہے، بے شک تجھ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا کہ میرے دل میں کیا ہے۔ اگر میری زندگی میں کوئی ایک بھی نیکی ہے جو تُو نے قبول کی ہو، تو اس کے صدقے یا رب، اس معصوم لڑکی کی عزت پر میری وجہ سے کوئی داغ نہ آئے۔ اگر ایسا ہوا تو مائد خان خود کو کبھی معاف نہیں کر سکے گا۔”
“یا اللہ! میں نے ہمیشہ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے، میرے دل میں کبھی اس کے لیے کوئی میل نہ تھا، اور تُو اس بات کا سب سے بہتر گواہ ہے۔ ان بدزبانوں کی زبانوں پر تالا لگا دے۔ یا اللہ! میرے یار کی عزت پر اپنی رحمت اور حیا کی چادر ڈالے رکھنا۔”
“یا اللہ! اگر میری تقدیر میں کوئی آزمائش لکھی ہے تو مجھے صبر اور استقامت عطا کر، مگر کسی بے گناہ کو میری آزمائش کا حصہ نہ بنا۔ یا اللہ! اگر میرا کوئی عمل کسی کی بدگمانی کا سبب بنا ہو، تو میرے دل کی سچائی لوگوں کے دلوں میں ڈال دے۔ میرے دوست، میرے اپنوں، اور میرے پیاروں کی عزت اور ناموس کی حفاظت فرما۔”
“یا اللہ! تُو پردے ڈالنے والا ہے، ہمارے عیبوں پر اپنی رحمت کی چادر ڈال دے۔ ہمیں ایسے الزامات سے محفوظ رکھ جو ہمارے کردار کو مجروح کریں۔ سچ کو سچ ثابت کر، جھوٹ کو بے نقاب کر، اور ہمیں اپنی امان میں رکھ۔ یا اللہ! ہمیں ایسی آزمائش میں نہ ڈالنا جس کا ہم میں صبر نہ ہو۔ ہمیں پاکیزہ راستے پر چلا اور ہر فتنہ، ہر برائی، اور ہر شر سے بچا۔”
“یا رب! اگر میری دعاؤں میں کوئی کمی ہو، تو اپنی رحمت سے اسے پورا فرما۔ میرے حق میں جو بہتر ہو، وہ میرے نصیب میں لکھ دے، اور مجھے ہر وہ چیز دے جو میرے لیے بھلائی کا سبب بنے۔ آمین یا رب العالمین!”
مائد خان مونا کے جانے کے بعد دانیہ کی ذات پر اٹھنے والے سوالوں سے گھبرا گیا تھا اور جب انسان گھبراہٹ اور تکلیف میں ہوتا ہے، تو اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتا۔ وہ بھی اپنے رب کے حضور دعا گو تھا۔
“یا اللہ! تُو بہتر جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے۔ میں نے کبھی اپنی نظروں کو بے حیا نہیں کیا، نہ کبھی کسی کی عزت پر کوئی غلط خیال آیا۔ یا رب! اگر میری نیت میں کبھی کوئی لغزش ہوئی ہو، تو مجھے معاف کر دے، مگر اس بے گناہ پر کوئی داغ نہ لگے۔”
“یا اللہ! تُو حق اور باطل میں بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ اگر میں سچا ہوں، تو میری سچائی لوگوں کے دلوں میں ڈال دے۔ اگر میں کسی آزمائش میں مبتلا ہونے والا ہوں، تو مجھے وہ حوصلہ دے کہ میں سرخرو ہو جاؤں۔ یا رب! ہر الزام، ہر تہمت، اور ہر بدگمانی سے میری اور میرے اپنوں کی حفاظت فرما۔”
وہ ضبط کی آخری حدوں پر تھا، مگر اس کا رب دعائیں سننے والا تھا۔
”واہ رے دنیا! ترے رنگ نرالے، پاک محبت کو مٹی میں ڈالے۔“
”مگر مت بھول، اے سازشوں والے، ہے اوپر بھی اک جہاں سنبھالے۔“
”یہ فریب، یہ چالیں، سبھی ماند پڑیں، جب فیصلے رب کے فرمان سے چلیں۔“
”زمیں ہو کہ گردوں، سبھی کے خدا، ہے حاکمِ برحق، وہی ہے عطا!“
شعر کی تشریح:
یہ شعر دنیا کے ظاہری فریب، سازشوں اور ناانصافیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ دنیا والوں کے نرالے رنگ اور چالاکیوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ سچی محبت کو بھی مٹی میں روندنے سے گریز نہیں کرتے مگر شاعر ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ سب سازشیں عارضی ہیں کیونکہ زمین و آسمان کا مالک اللہ ہے، جو بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔
دوسرے حصے میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی چالاکیاں اور دھوکے وقتی ہیں، لیکن اللہ کا انصاف اٹل ہے۔ وہی سب کچھ دیکھنے اور سنبھالنے والا ہے۔ جب اللہ کی طرف سے فیصلہ آتا ہے، تو دنیا کی تمام چالاکیاں بے اثر ہو جاتی ہیں، کیونکہ اصل اختیار اور قدرت صرف اسی کے ہاتھ میں ہے۔
°°°°°°°°°°
گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ خاموشی گاڑی کے اندر گونج رہی تھی۔ خاموش کے سناٹے میں بس گاڑی کے ٹائروں کی آواز تھی جو سنائی دے رہی تھی۔ ارمیزہ کچھ دیر تک اس عجیب سے ماحول سے خوفزدہ ہو کر بیٹھی رہی، پھر دانیا کے سینے سے سر لگا کر سو گئی مگر دانیا کی آنکھوں میں اپنے بھائی کی نظروں سے کہیں گر نہ جائے اس کا خوف تھا۔ زیغم مسلسل خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا، چہرے پر عجیب سختی تھی، جیسے کسی شدید کشمکش میں مبتلا ہو۔
“بھائی، مجھے آپ کی قسم، مجھے نہیں پتہ کہ وہاں پر جو سب کچھ ہوا، وہ کیوں ہوا، مگر آپ میری طرف سے اپنے دل میں کوئی ناراضگی مت رکھیے گا۔”
دانیہ کی آواز لرز گئی، اس کے آنسو اس کے خدشات کی گواہی دے رہے تھے۔ زیغم نے ایک پل کو اسے دیکھا، پھر دوبارہ نظریں سڑک پر جما دیں۔
“میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں کہ میری ذات سے میرے بھائی کو کوئی شکایت ملے، یا میرے بابا جان کی عزت پر انگلیاں اٹھیں مگر بدقسمتی سے میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیشہ اپنے بابا اور بھائی کی عزت پر انگلیاں اٹھوانے والی ذات بن جاتی ہوں۔ پتہ نہیں کیوں؟”
گاڑی کے اندر کی فضا مزید بوجھل ہو گئی۔ مائد جو اب تک خاموش بیٹھا تھا، ایک گہری سانس لے کر دانیا کی طرف متوجہ ہوا۔
“دانیا، تم نے سوچا بھی کیسے کہ میں تمہیں غلط سمجھ رہا ہوں؟”
زیغم نے اچانک دانیا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کر لیا۔ اس کے لمس میں وہ تحفظ تھا جو ایک بھائی ہی اپنی بہن کو دے سکتا ہے۔
“مر گیا وہ زیغم، جس نے کبھی دشمنوں کی چالوں میں آ کر اپنی بہن کے بارے میں یہ سوچا تھا کہ شاید اس سے کوئی غلطی ہوگئی ہو!”
“آج کا زیغم لوگوں کو پرکھنا بہت اچھی طرح جانتا ہے۔ میری بہن آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہے، اور اس بات کی گواہی خود زیغم سلطان دے گا۔ میں وہ انگلیاں، وہ ہاتھ توڑ کر رکھ دوں گا جو میری بہن کی طرف اٹھے گا!”
دانیا نے حیرت سے اپنے بھائی کو دیکھا، آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے، مگر دل کسی بوجھ سے آزاد ہو رہا تھا۔
“آج تو تم نے اپنی صفائی میں جو کہنا تھا، کہہ دیا۔ خبردار جو اپنی صفائی کے لیے کبھی تم نے منہ کھولا!”
“مت بھولو، دانیا، جب عورت اپنے کردار کی گواہیاں دیتی ہے، تبھی لوگ اسے مجبور، بے بس اور بے سہارا سمجھتے ہیں۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ شاید اس کے اندر کوئی نہ کوئی غلطی ضرور ہوگی!”
زیغم نے اس کی آنکھوں میں جھانکا، جیسے اسے ہمیشہ کے لیے یہ بات ذہن نشین کروا رہا ہو کہ وہ کسی کے آگے اپنی سچائی ثابت کرنے کی محتاج نہیں۔
“مگر بھائی، کبھی کبھی تو صفائیاں اور دلیلیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں لوگ ہماری خاموشی پر کیوں یقین کریں گے؟”
“یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ لوگ وہی سوچتے ہیں جو وہ ہمارے بارے میں سوچنا چاہتے ہیں۔ کبھی کبھی ان کی باتوں سے روح تک چھلنی ہو جاتی ہے، مگر ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں ہوتے جن سے ہم انہیں یقین دلا سکیں کہ ہم غلط نہیں۔”
دانیا کی آواز لرز رہی تھی، مگر اس کے الفاظ میں ایک عجیب سا کرب تھا، ایک بے بسی جو اسے اندر سے توڑ رہی تھی۔ زیغم نے ایک لمحے کے لیے گہری سانس لی، پھر گاڑی ایک جھٹکے سے روکی اور دانیا کی طرف دیکھا۔
“تو ٹھیک ہے، پھر لوگوں کو جو سوچنا ہے، انہیں سوچنے دو!”
“ہم کسی کے پابند نہیں ہیں کہ سب کو صفائیاں دیتے پھریں، اور دانیا! خود کے خول سے باہر نکلو۔ جب تک تم خود اپنی عزت نہیں کرو گی، تب تک کوئی اور تمہاری عزت نہیں کرے گا!”
زیغم کا لہجہ سخت تھا، مگر محبت اور شفقت چھلک رہی تھی۔ دانیا نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا، جیسے وہ ہر لفظ دل میں اتار رہی ہو۔
“عورت ہونا معاشرے میں گناہ نہیں ہے!”
“سب سے پہلے خود کو عزت دو، لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا سیکھو۔ زیغم سلطان کی بہن ہو کر تم میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ تم لوگوں کا منہ توڑ جواب دے سکو!”
“جب تم غلط نہیں ہو تو پھر گلٹی فیل کیوں کر رہی ہو؟”
گاڑی میں ایک پل کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔ زیغم کی آواز دانیا کے دل میں اتر رہی تھی۔
“اور جہاں تک رہی میری بات تو مجھے تم پر خود سے زیادہ بھروسہ ہے!”
“ماضی کو بھول جاؤ، اگر ماضی کے پنوں کو ساتھ لے کر گھومتی رہو گی تو کبھی زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکو گی۔ لوگ آتے رہیں گے، انگلیاں اٹھاتے رہیں گے، باتیں سنائیں گے اور چلے جائیں گے مگر تم؟ تم یونہی خاموشی سے روتی رہو گی؟ پھر اپنی صفائیاں پیش کرتی رہو گی؟”
زیغم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر نرم مگر مضبوط لہجے میں کہا:
“اپنی ذات کے خول سے باہر آؤ، خود کو سمجھو، خود کو رسپیکٹ دو!”
“سیکھو کہ اپنی عزت کی حفاظت کیسے کرنی ہے!”
دانیا کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر ساتھ ہی ایک نیا عزم بھی جاگ رہا تھا۔
“میں ہمیشہ تمہارے سر پر نہیں رہوں گا دانیا!”
“اللہ نہ کرے کہ آج مجھے کچھ ہو جائے، تو کیا پھر سے تم ان ظالموں کے سامنے جھک جاؤ گی؟”
“اللہ نہ کرے، بھائی! کیسی باتیں کر رہے ہیں؟”
“اللہ تعالیٰ آپ کو میری بھی زندگی لگا دے!”
وہ تڑپ کر بولی تھی۔
زیغم ہلکا سا مسکرایا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک گہری سنجیدگی تھی۔
“یہ حقیقت ہے، دانیا! زندگی اور موت کا کسی کو کوئی بھروسہ نہیں۔ اللہ نے زندگی بنانے سے پہلے موت کا فرمان جاری کیا ہے، اور ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے مگر جب تک زندگی ہے، تب تک ہمیں اپنی عزت اور خودداری کے ساتھ جینا چاہیے!”
“آپ کو کیا لگتا ہے، بھائی کہ میں آپ کی طرح ہمت والی نہیں بننا چاہتی؟”
“مگر مجھ سے نہیں بن پاتا! مجھ میں نہیں ہے آپ جتنی ہمت!”
زیغم کا چہرہ سخت ہوگیا، آنکھوں میں غصہ نہیں، مگر ایک عجیب سا اضطراب تھا۔ اتنا سمجھانے کے بعد بھی دانیا نے یہ کہہ دیا تھا کہ اس میں ہمت نہیں ہے۔
“ہمت بھی آئے گی، اور لانی بھی پڑے گی!”
زیغم کی آواز کسی پتھر کی مانند مضبوط تھی۔
“اب تمہیں اپنے پیروں پر کھڑا بھی ہونا پڑے گا، اور سب کو منہ توڑ جواب بھی دینا پڑے گا کیونکہ تم جیسا ایک اور نمونہ اس گھر میں موجود ہے، اس کی حفاظت بھی مجھے کرنی ہے!”
دانیا نے حیرت سے زیغم کی طرف دیکھا۔
“دوسرا نمونہ؟”
وہ کچھ سمجھ نہیں پائی۔
زیغم کی نظریں اب اس کے چہرے کا ایک ایک زاویہ پڑھ رہی تھیں، جیسے وہ کوئی بہت بڑی بات کہنے والا ہو۔
“ہاں، دانیا!”
وہ گہری سانس لے کر سیدھا ہوا۔
“تم دونوں بالکل ایک جیسی فطرت کے مالک ہو، اور میں ہر وقت گھر پر نہیں رہ سکتا تم لوگوں کی حفاظت کرنے کے لیے۔ اس لیے تمہیں اتنی بہادر اور سخت بننا ہوگا کہ توقیر سائیں کی پوری نسل تم سے ڈرے!”
دانیا نے بے یقینی سے اپنے بھائی کو دیکھا۔
“دوسرا نمونہ کون؟”
زیغم کی نظروں میں ایک گہری چمک تھی، ایک ایسا راز جو ابھی کھلنا باقی تھا!
“پہلے تم میری ایک بات کا جواب دو۔”
زیغم نے گاڑی واپس سے اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
“جی، پوچھیں…”
دانیا نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
“تمہیں نایاب اپنی بھابھی کے روپ میں پسند ہے؟”
“کبھی نہیں! زہر لگتی ہے وہ مجھے آپ کے ساتھ!”
وہ غصے سے بولی۔
زیغم نے ایک نظر اس پر ڈالی۔
“کیوں؟”
“کیونکہ ایک تو وہ آپ سے عمر میں پانچ، چھ، سات سال بڑی ہے!”
“مگر اس سے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، بڑی بیوی اسلام میں منع تھوڑی ہے۔”
زیغم نے تحمل سے کہا۔
“وہ بالکل آپ جیسی نہیں ہے۔ آپ بہت اچھے ہیں، مگر وہ اتنی جھوٹی، مکار، بدتمیز، بدلحاظ، بددماغ، ظالم اور پتہ نہیں کیا کیا ہے!”
“میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں اس کی تعریف کر سکوں!”
دانیا تیزی سے بولتی گئی۔
زیغم کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
“اچھا، اور تمہیں میرے لیے کیسی بیوی چاہیے تھی؟”
“کیسی بھابھی کی توقعات ہیں تمہاری؟”
“جو بہت پیاری ہو، انوسنٹ ہو، جو میرے بھائی کے ساتھ چلے تو لوگ رشک کی نظر سے دیکھیں۔ ایسی ہو، جو مجھ سے پیار کرے، مجھے اپنی بہن سمجھے۔ میرے پاس بہن نہیں، تو ہم دونوں بہنوں کی طرح رہیں۔ میری ایک اچھی دوست ہو، ارمیزہ کے لیے ایک اچھی ماں ہو۔ جو ہمارے گھر میں، ہماری حویلی میں، ہمارے اماں سائیں اور ابا سائیں کے بنائی ہوئی حویلی کے اندر سکون اور خوشیاں لے کر آئے۔ ہمارے گھر کو جنت کا گہوارہ بنا دے، جو سب سے الگ ہو، سب سے منفرد!”
زیغم نے ایک گہری سانس لی، پھر گاڑی کی رفتار بڑھاتے ہوئے کہا:
“تو پھر ایسی لڑکی ڈھونڈو، میں شادی کر لوں گا!”
دانیا نے جھٹ سے چونک کر اس کی طرف دیکھا
“سچ؟”
زیغم نے اسے نظر بھر کر دیکھا اور مدھم آواز میں کہا:
“مگر ایک مسئلہ ہے…”
“کیا مسئلہ؟”
دانیا کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“میں پہلے ہی شادی شدہ ہوں، دانیا!”
زیغم کی آواز گاڑی کے اندر گونجی۔
“نایاب!!”
دانیا کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
“بھائی، میں مانتی ہوں کہ آپ کی شادی ہو چکی ہے، لیکن کیا وہ واقعی اس قابل ہے کہ وہ ہماری بھابھی کہلائے؟”
زیغم نے سر جھٹکا۔
“شادی ایک حقیقت ہے، اور حقیقت کو قبول کرنا سیکھو، دانیا۔ تمہاری ناپسندیدگی سے رشتے ختم نہیں ہوتے۔”
“مگر بھائی، وہ آپ کے لائق نہیں!”
دانیا کی آواز میں سختی تھی۔ زیغم نے گہری سانس لی، ایک پل کو خاموشی چھا گئی۔
“بھائی، آپ نے مجھے اپنی باتوں میں الجھا دیا ہے، اور یہ نہیں بتایا کہ آپ نے کس کا ذکر کیا ہے؟ ‘نمونہ’؟ مطلب، مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا!”
دانیا نے الجھن سے پوچھا۔ اسے لگا تھا کہ زیغم نے کچھ ایسا کہا ہے جو وہ جان بوجھ کر واضح نہیں کر رہا۔
زیغم نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
“ہمم… تو جس ‘نمونے’ کی میں بات کر رہا ہوں، وہ تمہاری ہو چکی بھابی ہیں۔ میں تمہارے لیے تمہارے ساچے میں ڈھلنے والی بھابی لے کر آیا ہوں!”
“کیا…؟”
دانیا کا دل ایک پل کو دھڑکنا بھول گیا۔ اسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا تھا۔
“مگر یہ سوچ لو، وہ اتنی معصوم ہے کہ اب اس کی حفاظت تمہیں کرنی پڑے گی۔ تو سوچ لینا، جس کی حفاظت دانیا کرے گی، وہ خود کیسی ہوگی؟”
زیغم نے ایک رازدارانہ انداز میں کہا۔
دانیا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“بھائی، مطلب… آپ نے واقعی…؟”
“بالکل! صاف لفظوں میں کہوں تو، تمہیں ایک ‘معصوم’ بھابی چاہیے تھی، اور میں تمہارے لیے ‘معصوم پلس’ لے آیا ہوں!”
زیغم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
دانیا کی نظروں میں حیرت تھی، جیسے یقین ہی نہ کر پا رہی ہو کہ اس کا بھائی واقعی اس کے لیے من پسند بھابی لے آیا ہے۔
“اور… نایاب نے یہ سب ہونے دیا؟”
یہ سوال اس کے دماغ میں گونج رہا تھا۔ ایک ساتھ بہت سے سوالوں نے اس کے دماغ میں جنم لیا تھا۔ مگر سب سے بڑا سوال یہی تھا۔
“یہ سب کیسے ہوا؟”
“بھائی……”
“ہمم؟”
زیغم نے نظریں سڑک پر جمائے رکھیں، مگر لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
“پلیز مذاق مت کیجیے گا، سچ کہہ رہے ہیں نا؟”
دانیا کی آواز میں بے یقینی جھلک رہی تھی۔
زیغم نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا، پھر مسکرا دیا۔
“سو فیصد سچ!”
گاڑی چلاتے ہوئے اس کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر مضبوطی سے جمے ہوئے تھے۔
“تھینک یو! تھینک یو! تھینک یو سو مچ بھائی!”
دانیا کی خوشی قابو سے باہر تھی۔
“میں یہ نہیں پوچھوں گی کہ کب، کیسے، کیوں ہوا، بس جو ہوا بہت اچھا ہوا! اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا!”
وہ خوشی سے جھومتے ہوئے بولی۔
“اور اب گاڑی چلائیں مت، ہواؤں میں اُڑائیں!”
“مجھے فوراً اپنی بھابی دیکھنی ہے!”
وہ جوش سے بولی۔
“مجھے اپنی بھابی کے پاس جانا ہے!”
“بھائی، سچ میں، آپ نے مجھے اتنی بڑی خوشی دی ہے کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتی!”
خوشی کے مارے اس نے جلدی سے زیغم کے کندھے پر لب رکھ کر چوم لیا، پھر اپنا سر اس کے ساتھ لگا لیا، جیسے ایک چھوٹا بچہ اپنے والد کے قریب ہونے پر سکون محسوس کرتا ہے۔ زیغم نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر مسکراتے ہوئے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔
“بس اب تیار رہنا، کیونکہ بھابی کو سنبھالنا بھی تمہاری ذمہ داری ہے!”
دانیا کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
“بھابی میری ذمہ داری نہیں، میرا سب سے قیمتی تحفہ ہیں!”
“اچھا مطلب کہ اب تمہیں تحفہ مل چکا ہے، اب تمہیں عیدی دینے کی ضرورت نہیں؟”
زیغم نے جان بوجھ کر چھیڑتے ہوئے کہا۔
“مجھے کوئی عیدی نہیں چاہیے!”
“میرے لیے میری بھابھی سب سے بڑی عیدی ہے، سب سے بڑی خوشی بن کر وہ آئی ہیں ! تھینک یو بھائی!”
دانیا کی خوشی بے قابو تھی۔
“کوئی تو ہے جس کے لیے میں اس حویلی میں جانے کے لیے ایکسائٹڈ ہوں، ورنہ بھائی، مجھے نفرت ہو گئی تھی اس حویلی سے، جو کہ میرے اپنے باباسائیں کی ہے!”
اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، جو برسوں بعد لوٹی تھی۔
وہ ارمیزہ کی طرف دیکھنے لگی جو اس کی گود میں، معصومیت سے آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔ اس کا ماتھا چوم کر چہک کر بولی:
“ہائے ارمیزہ! اٹھو، تمہارے لیے بابا پیاری سی مما لے کر آئے ہیں!”
زیغم خاموشی سے دانیا کی خوشی دیکھتا رہا۔ اس کی مسکراہٹ میں اطمینان تھا، جیسے کوئی بوجھ کندھوں سے ہٹ چکا ہو۔ کہیں نہ کہیں یہ سکون تھا کہ اب دانیا اور مہرو ایک ساتھ بہت خوش رہیں گی۔ اس نے دانیا کو مضبوط بنانے کے لیے مذاق میں کہا تھا کہ اسے مہرو کی حفاظت کرنی ہوگی، مگر حقیقت میں… مہرو، دانیا اور ارمیزہ کی حفاظت کے لیے، وہ اکیلا شہزادہ ہی کافی تھا!
“ہمت ہو اگر دل میں، تو راہیں نکل آتی ہیں!”
“اندھیری رات کے پردے میں سحر بھی کھل جاتی ہے!”
“غم کے بادل چھٹتے ہیں، امیدیں باندھی جاتی ہیں!”
“طوفانوں کی لہریں بھی، کناروں سے جا ملتی ہیں!”
“ظلم کی حکمرانی ہو، تو کب تک چل پائے گی؟”
“عدل کے فیصلے آخر، تقدیر میں لکھے جاتے ہیں!”
“انصاف کے ترازو میں، سچ کا پلڑا بھاری ہے!”
“صبر کی دہلیز پر، رحمت کی بارش جاری ہے!”
“خدا کی لاٹھی بے آواز، مگر ضرب کاری ہے!”
“ظالموں کے لیے مقرر، ہر موڑ پر یاری ہے!”
°°°°°°°°
زیغم جاتے ہوئے مہرو کے پاس گھر کی اس خاص ملازمہ کی بیٹی کو چھوڑنے کے لیے کہہ کر گیا تھا، جو اس کی اماں سائیں کے زمانے سے حویلی میں کام کر رہی تھی اور بے حد قابلِ بھروسہ تھی۔ زیغم نہیں چاہتا تھا کہ مہرو اس اجنبی ماحول میں خود کو تنہا محسوس کرے یا کسی قسم کی پریشانی میں پڑے، اس لیے وہ جاتے ہوئے تاکید کر گیا تھا کہ وہ لڑکی مہرو کے ساتھ ہی رہے گی، جب تک وہ واپس نہ آ جائے۔ جب سے زیغم گیا تھا، مہرو اس لڑکی کے ساتھ ہی تھی۔ وہ دونوں چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آ رہی تھیں، جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔
“بی بی جی، آپ بہت پیاری ہیں!”
لڑکی نے جھجکتے ہوئے کہا۔
“تم بھی بہت پیاری ہو، اور مجھے بی بی جی مت کہو، میرا نام مہر النساء ہے، تم مجھے میرے نام سے بلاؤ۔ ہم دونوں کی عمر ایک جتنی ہے، تو پھر مجھے بی بی مت بولو، اور میں بی بی جی نہیں ہوں۔”
مہرو نے بڑی معصومیت سے اپنا تعارف کروایا۔
لڑکی نے فوراً دونوں ہاتھ جوڑ لیے۔
“اللہ، اللہ، استغفراللہ! میں آپ کا نام کیسے لے سکتی ہوں؟”
“آپ ہماری بی بی جی ہیں! میری اماں نے بتایا ہے کہ آپ سائیں کی بیوی ہیں، تو میں سائیں کی بیوی کا نام کیسے لے سکتی ہوں؟”
مہرو ہلکا سا مسکرائی۔
“میں ان کی بیوی نہیں ہوں، میں بھی تم لوگوں جیسی ہوں، بس وہ مجھے اپنی بیوی سمجھتے ہیں… یہ بات کسی کو بتانا مت!”
اس نے رازدارانہ لہجے میں سرگوشی کی۔
لڑکی کی آنکھوں میں حیرت تھی۔
“اچھا مطلب آپ سائیں کی بیوی نہیں ہیں؟”
مہرو نے گہری سانس لی۔
“نہیں…… بیوی… مطلب نکاح تو ہوا ہے میرا ان کے ساتھ، مگر میں بیوی نہیں ہوں۔”
لڑکی نے الجھن سے سر کھجایا۔
“نکاح ہوا ہے، مگر بیوی نہیں؟”
“نکاح کرنے سے تو بیوی بن جاتی ہے نا؟”
“تم بھی بالکل بدھو ہو!”
مہرو نے ہلکی سی خفگی سے کہا۔
“میں بھلا سائیں کی بیوی کیسے بن سکتی ہوں؟”
“سائیں کی بیوی کو سائیں جتنا امیر ہونا چاہیے، پڑھی لکھی ہونی چاہیے، اور بہت خوبصورت بھی۔ میں بھلا سائیں کی بیوی کیسے ہو سکتی ہوں؟”
“مجھ میں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے!”
وہ اداسی سے بولی، جیسے خود کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
لڑکی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“مگر… اگر سائیں نے آپ کو اپنی بیوی مان لیا ہے، تو پھر آپ بی بی جی ہی ہو نا؟”
مہرو نے نظریں چرائیں، دل میں ایک عجیب سی الجھن لیے، جیسے خود کو سمجھانے اور دوسروں کو یقین دلانے کے درمیان کہیں کھو گئی ہو۔
“اچھا تم چھوڑو، تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمہارا نام کیا ہے؟”
“میرا نام سکینہ۔”
“اچھا سکینہ، سائیں کی جو اصل بیوی ہے، سائیں ان سے پیار کرتے ہیں؟”
“یہ بات آپ سائیں سے پوچھیں، ہمیں منع ہے کہ ہم اس گھر کی باتیں ایک دوسرے سے کریں۔”
سکینہ نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔
“اچھا ٹھیک ہے، مت بتاؤ مگر یہ بات کسی سے مت کہنا کہ میں نے تم سے پوچھا ہے، میں نے تو ویسے ہی پوچھا تھا کیونکہ مجھے ان کی بیوی کی خدمت کرنی ہے، میری اماں نے کہا تھا کہ سائیں کی بیگم کی خدمت کرنا، ان کے بچوں کی خدمت کرنا مگر سائیں نے تو مجھے اپنے بچوں سے ملوایا ہی نہیں اور ان کی بیگم نے مجھ پر آتے ہی غصہ کر دیا تھا۔ اب میں کیسے ان کی خدمت کروں؟”
“کیسے اپنی اماں جان کے حکم کو مانوں؟”
“میری اماں جان کی روح مجھے بددعائیں دیتی ہوگی…”
مہرو کے لہجے میں اداسی تھی۔
“سائیں کی بس ایک بیٹی ہے، ارمیزہ، جو اس وقت اپنی پھوپھو کے ساتھ کچھ دن کے لیے کہیں گئی ہوئی ہیں۔”
“اچھا، سائیں کی بہن بھی ہیں؟”
“ہاں، دانیا بی بی، وہ بہت اچھی ہیں، بالکل اس گھر سے مختلف، بہت پیار کرنے والی، سب کا خیال رکھنے والی مگر وہ تو…”
سکینہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔
“کیا… ان کو کیا ہوا؟”
مہرو نے فوراً پوچھا۔
“کچھ نہیں، بی بی جی! آپ نے جو بھی گھر کے بارے میں پوچھنا ہے، وہ سائیں سے پوچھیں۔ آپ مجھ سے ویسے سب باتیں کر سکتی ہیں۔ حکم کریں، میں آپ کے پاؤں دبا دوں، آپ کا سر دبا دوں، میں آپ کی خدمت کے لیے ہوں۔”
“چھوڑو یہ سب! تمہیں خدمت کے علاوہ اور کوئی بات نہیں آتی؟”
“تم میری سہیلی ہو، تمہیں پتہ ہے میری کوئی سہیلی نہیں ہے…”
مہرو کی آواز میں تنہائی اور اداسی نمایاں تھی، جیسے پہلی بار کسی کو دل کی بات کہہ رہی ہو۔
“بی بی جی، سکینہ کی جان بھی آپ پر قربان، مگر ہم دونوں سہیلیاں نہیں بن سکتیں۔ آپ بہت معصوم اور بہت پیاری ہیں، مگر اونچ نیچ کا فرق نہیں سمجھ رہیں۔ آپ مالک ہیں، ہم نوکر۔”
سکینہ نے سر جھکا کر ادب سے کہا۔
“آپ کو شاید نہیں معلوم مگر پوری حویلی جانتی ہے کہ آپ سائیں کی بیوی ہیں۔ سائیں نے خود سب کے سامنے یہ اعلان کیا ہے۔ ہم تو آپ کے غلام ہیں، آپ کے حکم پر جان بھی حاضر ہے، مگر ہم میں بہنوں والا، دوستوں والا رشتہ نہیں بن سکتا۔”
سکینہ زمین پر بیٹھی تھی، تو “مہرو” بھی اس کے برابر بیٹھ چکی تھی۔
“میں یہ فرق نہیں مانتی، نہ سمجھتی ہوں۔ تم میرے ساتھ ایسے بات کرو جیسے ایک سہیلی دوسری سہیلی سے کرتی ہے۔”
سکینہ نے نظریں جھکا لیں۔
“آپ بہت نیک ہیں، مہرو بی بی، مگر حویلی کے کچھ اصول ہیں۔ ہمیں ان کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔”
وہ اسی مدعے پر بحث کر رہی تھی کہ دروازے کو کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔
زیغم سلطان کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر سکینہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ چادر کو سنبھالتے ہوئے سر جھکا کر مؤدب انداز میں بولی:
“سلام، سائیں!”
سکینہ نے فوراً چادر سنبھالتے ہوئے سر جھکا کر مودبانہ انداز میں کہا۔
“وعلیکم السلام!”
زیغم نے مختصر جواب دیا۔ یہ سنتے ہی سکینہ جلدی سے کمرے سے نکل گئی۔
“السلام علیکم!”
زیغم نے مہرو کے معصوم چہرے کو دیکھتے ہوئے نرمی سے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام!”
مہرو نے نظریں جھکائے بڑے ادب سے جواب دیا۔
“ہاں جی، بور تو نہیں ہوئی، دل لگ گیا تھا تمہارا سکینہ کے ساتھ؟”
زیغم نے استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
“جی، دل تو لگ گیا تھا، مگر وہ میری سہیلی نہیں بننا چاہتی، کیونکہ وہ آپ لوگوں سے ڈرتی ہے نا۔”
“اچھا؟ مطلب تمہیں لگتا ہے کہ ہم سب کو ڈرا کے رکھتے ہیں، بیگم؟”
زیغم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
“نہیں، میں نے سائیں ایسا نہیں کچھ کہا، مگر میرے اتنا کہنے پر بھی سکینہ میری سہیلی بننے کو نہیں مانی۔ اس لیے میں نے کہا، اگر میں نے غلط کہا تو مجھے معاف کر دیجیے۔”
وہ اداس سا چہرہ لے کر بول رہی تھی۔ اسے سچ میں سکینہ کا سہیلی بننے پر نہ ماننا برا لگا تھا۔ اس بات پر دکھی تھی۔
“ضرورت نہیں ہے معافی مانگنے کی۔ اور سکینہ تمہاری سہیلی بن جائے گی۔ میں خود کہوں گا اسے کہ وہ تمہاری سہیلی بن جائے۔ پھر خوش؟”
اس کی اداسی کو محسوس کرتے ہوئے زیغم نے چٹکیوں میں اس کی اداسی ختم کر دی۔
“سچ میں؟ آپ سکینہ کو میری سہیلی بنا دیں گے؟”
مہرو کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔
“بالکل سچ! اگر میری مہرو یہی چاہتی ہے، تو ضرور ہوگا۔”
زیغم نے نرمی سے کہا۔
“بہت شکریہ، سائیں! اس کے بدلے آپ جو بھی کہیں گے، میں کروں گی۔ آپ کا کمرہ بھی صاف کر دوں گی، آپ کے جوتے بھی……”
“مجھے کچھ نہیں چاہیے، اور تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں۔ گھر میں بہت سے ملازم ہیں، یہ سب کرنے کے لیے۔”
زیغم کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
“کچھ کر سکتی ہو تو نظر بھر کے محبت سے مجھے دیکھو، اور سمجھو کہ تمہارا کیا مقام ہے۔”
وہ ہلکی آواز میں بڑبڑایا۔
“سائیں، آپ نے کچھ کہا؟”
مہرو نے حیرانی سے نظریں اٹھائیں۔
“ہم؟ نہیں، کچھ نہیں!”
زیغم نے سرسری انداز میں جواب دیا۔
°°°°°°°°
اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے