Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:22
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 22
°°°°°°
“مہرو!”
“جی؟”
“تم سے کوئی ملنا چاہتا ہے۔”
“کون؟”
مہرو، جو سکینہ کو اپنی سہیلی بنانے کے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی، زیغم کی بات پر حیرت سے پلٹی۔
“دانیا ملنا چاہتی ہے۔ تمہیں پتہ ہے دانیا کون ہے؟”
مہرو کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
“جی، پتہ ہے۔ وہ آپ کی بہن ہیں، بہت اچھی ہیں، سب سے الگ، سب کا خیال رکھنے والی، رحم دل… اور…”
وہ کچھ سوچتے ہوئے رکی۔
“اور بھی کچھ بتایا تھا سکینہ نے، مگر میں بھول گئی۔”
زیغم نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔
“ماشاءاللہ! تم نے تو کافی ساری نالج حاصل کر لی ہے۔”
وہ کمر پر ہاتھ باندھے کھڑا مسکرا دیا۔ مہرو کی دانیا کے بارے میں اتنی معلومات سن کر اسے اچھا لگا تھا۔
“ہاں جی، سب کچھ دانیا کے بارے میں تم نے صحیح بتایا، اور وہی دانیا تم سے ملنا چاہتی ہے۔”
مہرو نے بے یقینی سے زیغم کو دیکھا۔
“مجھ سے؟”
“ہاں، تم سے۔ وہ ارمیزہ کو روم میں سلا کر آرہی ہے!”
“ارمیزہ کا بھی تمہیں سکینہ نے بتا دیا ہوگا کہ وہ کون ہے؟”
زیغم نے مہرو کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“جی، وہ آپ کی بیٹی ہے، اور آپ ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔”
مہرو نے فوراً جواب دیا، جیسے سکینہ کی بتائی ہوئی باتیں اسے ازبر ہو چکی ہوں۔
“ویری گڈ۔ ہاں، وہ میری بیٹی ہے اور میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں۔”
زیغم کے چہرے پر ایک محبت بھری مسکراہٹ آئی۔
“دانیا سے بھی بہت محبت کرتا ہوں، کیونکہ وہ میری اکلوتی بہن ہے۔”
وہ نرمی سے بولا، جیسے کسی بہت عزیز ہستی کی بات کر رہا ہو۔
“اور اب تو اس محبت کی لسٹ میں کسی اور کا نام بھی جُڑ چکا ہے… مگر وہ بے خبر ہے۔”
زیغم کے لبوں پر ایک گہری مسکراہٹ پھیل گئی، آنکھوں میں ایک ان کہی کہانی تھی، مگر وہ خاموش رہا۔
“السلام علیکم!”
دانیا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ سامنے کھڑی کمسن، معصوم حسینہ کو دیکھ کر اس کے چہرے پر محبت بھری چمک آئی۔
مہرو نے نظریں اٹھائیں، سامنے ایک خوبصورت، نرمی سے بھرپور چہرہ تھا۔
“و… وعلیکم السلام!”
وہ بمشکل کہہ پائی، جب دانیا نے بنا کسی جھجک کے اسے گلے سے لگا لیا۔
“اففف! تم تو بالکل پریوں جیسی ہو!”
“سچ میں، زیغم بھائی نے سچ میں کہا تھا کہ تم بہت معصوم ہو!”
دانیا نے محبت سے اس کے گال تھپتھپائے۔
مہرو ایک دم حیران سی رہ گئی، یہ اپنائیت… یہ بے تکلفی؟
“تھینک یو، تھینک یو سو مچ بھائی! مجھے اتنی پیاری سی بھابھی دینے کے لیے!”
دانیا خوشی سے چہک کر، زیغم کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
“نہیں، نہیں دانیہ بی بی، میں بھابھی نہیں بن سکتی!”
مہرو گھبرا کر بولی۔
“اچھا جی؟ کیوں نہیں بن سکتیں؟”
دانیا نے شرارت سے آنکھیں سکیڑیں۔
“کیونکہ، میں آپ جیسی نہیں ہوں!”
“مگر ہمیں تو تم اپنی جیسی لگ رہی ہو!”
دانیا نے نرمی سے کہا۔
“نہیں، آپ سمجھ نہیں رہی ہیں۔ میں بہت غریب گھر کی لڑکی ہوں، اور آپ لوگ بہت امیر ہیں۔ ہمارا کوئی جوڑ نہیں ہو سکتا۔ یہ بات میں نے سائیں کو بھی سمجھائی تھی، مگر سائیں ٹھیک سے سمجھے نہیں تھے۔ اب شاید سمجھ جائیں گے۔ آپ ان کی بہن ہیں، آپ انہیں سمجھا سکتی ہیں۔ میری اماں نے مجھے……”
“مہرو…!”
زیغم نے اس کا نام کچھ کھینچ کر پکارا، جیسے تنبیہ کر رہا ہو کہ یہ بات مزید ڈسکس نہیں ہوگی۔ معصوم مہرو زیغم کے انداز کو فوراً سمجھ گئی۔ وہ گھبرا کر چپ ہو گئی اور اپنے ہاتھ مروڑنے لگی۔
“مہر النسا!”
دانیا نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“بھائی نے جو بھی بات کسی کو بتانے سے منع کی ہے، اسے ڈسکس مت کرو اور دوسری بات، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کہاں سے آئی ہو، غریب ہو یا امیر۔ یہ سب چیزیں پیچھے چھوڑ دو۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ تم زیغم بھائی کی بیوی ہو۔ انہوں نے تمہیں پورے دل سے قبول کیا ہے، اور ہمیں تم دل کی گہرائیوں سے پسند ہو!”
دانیا نے ایک بار پھر مہرو کو محبت سے گلے لگا لیا، اپنی اپنائیت کا مکمل احساس دلایا۔
“مہرو، آؤ یہاں بیٹھو!”
دانیا نے اسے نرمی سے اپنے ساتھ صوفے پر بٹھایا، جبکہ زیغم بھی قریب ہی بیٹھ گیا۔ زیغم کو دانیا کا مہرو کو اپنانے کا انداز بہت اچھا لگا تھا۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس!”
زیغم نے مختصر جواب دیا۔
رفیق اندر آیا، ہاتھوں میں تھیلے تھامے ہوئے۔
“سائیں، یہ آپ کے آرڈرز آگئے ہیں۔”
وہ سلام کرتا ہوا تھیلے زیغم کے حوالے کر کے واپس چلا گیا۔
یہ وہی چیزیں تھیں جو زیغم نے رفیق کے نمبر سے آن لائن آرڈر کی تھیں۔ اس کا اپنا فون پانی گرنے کی وجہ سے خراب ہو چکا تھا، اس لیے نیا فون، اور مہرو کے لیے کئی خوبصورت لباس، جوتے، اور دیگر ضروری سامان بھی منگوایا تھا۔ رفیق تین بار آ کر تمام بیگز اندر رکھ چکا تھا۔
“بھائی، یہ سب کیا ہے؟”
دانیا نے حیرانی سے پوچھا۔
“یہ سب تمہاری بھابھی کی شاپنگ ہے۔ ابھی انہیں مال لے جانے کا وقت نہیں تھا، تو میں نے آن لائن آرڈر کر دیا۔”
زیغم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے ہوئے بیٹھا تھا۔
“واہ ماشاءاللہ! میرے پیارے بھائی جان کو شاپنگ کرنی آ گئی ہے!”
دانیا نے شرارت سے مہرو کی جانب دیکھ کر کہا۔
مہرو حیرانی سے بیگز کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے زندگی میں کبھی اتنی چیزیں ایک ساتھ نہیں دیکھیں تھیں۔ دل میں تجسس تھا کہ ان میں آخر کیا ہوگا۔ زیغم، جو اپنا نیا فون سیٹ کر رہا تھا، اپنی ہی دھن میں مصروف تھا جو کہ بظاہر ایسا تھا حقیقت میں تو وہ خود دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کی معصوم سی بیوی ان سب چیزوں میں کیسی لگتی ہے۔
“بھائی جان، اجازت ہے؟ میں اپنی بھابھی کی شاپنگ دیکھ سکتی ہوں؟”
دانیا نے شرارت سے پوچھا۔
“بالکل دیکھ سکتی ہو، اور ساتھ میں اپنی بھابھی کو تیار بھی کرواؤ۔ ان کا سامان بھی سیٹ کروا دو، تمہاری بہت مہربانی ہوگی!”
زیغم نے فون سے نظریں ہٹائے بغیر کہا، مگر ہلکا سا مسکرا بھی دیا۔
“یہ بھی کوئی بہن سے پوچھنے کی بات ہے؟”
“میں بھابھی جان کا سامان بھی لگوا دوں گی، اور اپنی چھوٹی سی بھابھی کو تیار بھی کر دوں گی!”
دانیا نے محبت سے کہا، اور پھر ایک نظر مہرو کے سادہ لباس پر ڈالی۔
اسے احساس ہوا کہ مہرو جو لباس پہنے بیٹھی ہے، وہ زیغم سلطان کی بیوی کو سوٹ نہیں کرتا۔ شاید اسی لیے زیغم نے فوری طور پر سب کچھ منگوا لیا تھا، تاکہ مہرو روم سے باہر نکلنے سے پہلے اس کے شایانِ شان نظر آئے۔
”عشق نہ جانے نام و نسب کو، عشق نہ دیکھے تاج و رتب کو“
”یہ تو بس اِک راہِ جنون ہے، نہ مانے دنیا کی حد کو“
”نہ زر، نہ زَر کی چاہ رکھے، یہ تو بس اک سچائی تکے“
”سجدے میں گر جائے سر اپنا، نہ جھوکے ظالم کی ضد کو“
”عشق تو بس اک راز ہے دل کا، نہ تولے دنیا کے قد کو“
تشریح:
“یہ شعر عشق کی سچائی اور اس کی بے غرضی کو بیان کرتا ہے۔”
“پہلے مصرع میں بتایا گیا ہے کہ عشق کسی کی ذات یا حسب و نسب کا محتاج نہیں ہوتا، نہ ہی یہ دولت اور رتبے کی پرواہ کرتا ہے۔”
“دوسرے مصرع میں عشق کی جنونیت کو ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ دنیاوی حدوں کو نہیں مانتا، بلکہ اپنی راہ خود بناتا ہے۔”
“تیسرے مصرع میں واضح کیا گیا ہے کہ عشق زر (دولت) یا زَر (چمک دمک) کا محتاج نہیں، یہ خالص جذبات اور سچائی پر مبنی ہوتا ہے۔”
“چوتھے مصرع میں عشق کی عاجزی کو دکھایا گیا ہے کہ یہ سراپا سجدہ ہے، مگر ظالم کے آگے کبھی جھکنا نہیں سیکھتا۔”
“آخر میں عشق کو ایک راز کہا گیا ہے، جو دنیاوی پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا، بلکہ یہ ایک روحانی حقیقت ہے جسے صرف دل کی گہرائیوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔”
زیغم سلطان کی محبت مہرالنسا٫ بن گئی تھی۔ یہ سب قسمت کے کھیل تھے، ایسا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ تقدیر کے دھاگے کیسے الجھائے رکھنے ہیں، یہ بس وہی جانے جو انہیں بُنتا ہے۔ دو الگ راہوں پر چلنے والے، مختلف دنیا کے مسافر، ایک دوسرے کے نصیب میں لکھ دیے گئے۔ واہ اللہ! تیری قدرت… تو ہی جانے، کیسے بیگانوں کو اپنوں میں بدل دیتا ہے!
°°°°°°°°°
دانیہ، مہرو کو لے کر اس کا تمام سامان ڈریسنگ روم کے کبرڈز میں ترتیب سے سیٹ کر رہی تھی۔ مہرو خوش تھی، اور اس کی خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ جس لڑکی نے کبھی زندگی میں اتنے سارے کپڑے ایک ساتھ نہ دیکھے ہوں، اس کے چہرے کی مسکراہٹ ایسی ہی ہو سکتی ہے—جس کو کبھی سالوں بعد صرف ایک سادہ سا سوٹ لا کر دیا جاتا تھا اور یہاں… کپڑے، جوتے، میک اپ کا سامان… جتنا علم زیغم سلطان کو خواتین کی ضروریات کا تھا، اس نے ہر چیز وافر مقدار میں منگوا رکھی تھی۔ دانیا سب کچھ نہایت ترتیب سے سیٹ کر رہی تھی، اور مہرو کا دل خوشی سے دھڑک رہا تھا۔ لب خاموش تھے، مگر آنکھوں میں چمک تھی۔ معصوم بچے کی مانند وہ ہر چیز کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔ دوسری طرف، کچھ فاصلے پر بیٹھا زیغم سلطان، جو بظاہر اپنے فون کی سیٹنگز میں مصروف تھا، بار بار نظریں اٹھا کر اپنی چھوٹی، معصوم بیوی کو دیکھ رہا تھا۔ مہرو اپنی خوشی میں مگن تھی، بے خبر کہ کچھ دور بیٹھا کوئی اسے دیکھ کر اس سے کہیں زیادہ خوش ہو رہا ہے۔
“بھائی!”
“جی…”
“میں نے سب سامان لگا دیا ہے، اور اب آپ آ کر دیکھ بھی سکتے ہیں کہ میں نے ٹھیک سے سیٹ کیا ہے یا نہیں۔ ساتھ میں اپنی دلہن کے لیے ڈریس کی سلیکشن بھی کر سکتے ہیں۔ میری طرف سے پوری اجازت ہے، میں ذرا ارمیزہ کو دیکھ کر آتی ہوں۔”
دانیا دیکھ چکی تھی کہ اس کا بھائی چوری چوری مہرو کو دیکھ کر لبوں میں ہی مسکرا رہا تھا۔ اسی لیے وہ اسے وقت دینا چاہتی تھی، تاکہ وہ خود اپنی پیاری سی بیوی کے لیے ڈریس سلیکٹ کر سکے۔ زیغم مسکرا دیا، مگر کچھ بولا نہیں۔ اس کا مطلب صاف تھا—وہ سچ میں خود ہی منتخب کرنا چاہتا تھا کہ مہرو کیا پہنے گی۔ دانیا شرارت بھری مسکراہٹ لیے، ارمیزہ کو دیکھنے کے بہانے کمرے سے جا چکی تھی جبکہ مہرو خاموش نظروں سے کھڑی ہوئی تھی۔ یہاں خوشیاں اس کی سوچ سے کہیں آگے بڑھ کر اس کا استقبال کر رہی تھیں۔ آتے ہی جس طرح نایاب نے اس کے ساتھ سلوک کیا تھا، اسے لگا تھا کہ یہاں زندگی بہت مشکل ہونے والی ہے مگر یہاں خدا نے اسے اس کی سوچ سے کہیں بڑھ کر نواز دیا تھا۔ وہ کنفیوز تھی… اپنی ہی خوشیوں میں۔ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے، زیغم نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور آہستہ آہستہ مہرو کی جانب آیا۔
مہرو کا دل بے اختیار تیز دھڑکنے لگا۔ اب کی بار گھبراہٹ پہلے سے بھی زیادہ تھی۔ اسے کسی مرد سے بات کرنے کی عادت نہیں تھی… اور یہاں تو زیغم سلطان خود اس کے قریب آ رہا تھا۔ زیغم جیسے ہی قریب آیا، مہرو گھبرا کر جلدی سے پلٹنے لگی، مگر وہ ایک قدم بھی نہ اٹھا سکی۔ بے اختیار، زیغم نے اس کی نازک سی کلائی تھام لی۔ مہرو کا دل گھبراہٹ سے زور سے دھڑکا۔ اس کے لیے یہ سب نیا تھا، اجنبی سا۔ بغیر کچھ کہے، مہرو نے اپنی کلائی کو ہلکے سے مروڑا، اسے چھڑوانے کے لیے… مگر زیغم سلطان کی گرفت مضبوط تھی، مگر نرمی سے بھری ہوئی۔
“سس… سائیں، چھوڑ دیں!”
مہرو کی لرزتی آواز میں بے بسی جھلک رہی تھی۔
زیغم نے گہری نظروں سے اسے دیکھا، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر لہجے میں مضبوطی برقرار رہی۔
“اب یہ ممکن نہیں۔”
اس نے دھیمے مگر حتمی انداز میں کہا، گرفت ابھی بھی نرمی سے قائم تھی۔
“سس… سائیں میرا ہاتھ چھوڑیں…”
مہرو کے الفاظ ٹوٹنے لگے تھے۔
” کہا تو ہے اب یہ ممکن نہیں۔”
زیغم کے لہجے میں ٹھہراؤ، فیصلہ کن شدت تھی، جس سے مہرو کا دل اور بھی زور سے دھڑک اٹھا تھا۔ اس نے ایک بار پھر اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کی، مگر زیغم سلطان کی گرفت میں نرمی کے باوجود ایک عجیب سی شدت تھی۔ وہ چاہتا تو ایک پل میں چھوڑ دیتا، مگر شاید چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔
“سس… سائیں…!”
مہرو کی آواز بمشکل نکلی، گھبراہٹ اس کی آنکھوں میں واضح تھی۔
زیغم نے آہستہ آہستہ اس کی کلائی کو تھوڑا سا ڈھیلا کیا، مگر چھوڑا نہیں۔ نگاہوں کی گہرائی میں ایک عجیب سا احساس تھا—کوئی ایسا جذبہ جو مہرو نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ مہرو کی پلکیں لرزنے لگیں، دل کی دھڑکنیں قابو میں نہ نہیں تھی۔ یہ سب اس کے لیے نیا تھا… یہ لمس، یہ الفاظ، یہ اپنائیت، اسکی چھوٹی سی سوچوں سے کہیں آگے تھا یہ سب کچھ، جس کو وہ سمجھ نہیں سکتی تھی مگر اس کا چھوٹا سا دل محسوس ضرور کر سکتا تھا۔ زیغم نے آہستگی سے اس کی نازک کلائی چھوڑ دی، مگر اس کی نگاہیں ابھی بھی مہرو کے چہرے پر جمی تھیں، جو سر جھکائے بے حد معصوم لگ رہی تھی۔
“مجھے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، مہرو…”
زیغم کی آواز میں نرمی تھی، مگر اس کے الفاظ میں وہی مضبوطی تھی جو دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رہی تھی۔
“جانتا ہوں، تم بہت معصوم ہو… اس چالاکیوں بھری دنیا سے دور، مگر سمجھدار ہو۔تم میری بات کو سمجھ سکتی ہو۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں، میری ذات سے نہ تو کبھی تمہیں کوئی دکھ ملے گا، نہ تمہاری انا کو ٹھیس پہنچے گی۔ ہمیشہ تمہارا محافظ بن کر کھڑا رہوں گا۔ جب بھی پلٹ کر دیکھو گی، تمہارے پیچھے مضبوط چٹان کی طرح مجھے کھڑا پاؤ گی۔”
مہرو کا دل زور سے دھڑکتے ہوئے اتنا شور مچائے ہوئے تھا کہ دھڑکنوں کی آواز مہرالنساء اپنے کانوں میں بخوبی سن سکتی تھی۔ زیغم بات کرتے کرتے تھوڑا سا اس کے قریب ہوا تو مہرو بے اختیار دو قدم پیچھے ہو گئی۔ سر پر لیے دوپٹے کو ہاتھوں میں مضبوطی سے جکڑ لیا۔ نظریں نیچے جھکائے، مگر وہ الفاظ جو زیغم سلطان کے لبوں سے نکل رہے تھے، اس کے دل پر عجیب سی چوٹ کر رہے تھے، جیسے کوئی اجنبی سا احساس جاگنے لگا ہو… ایسا احساس جو خوبصورت تھا، اس کے دور ہونے پر زیغم گہری سانس لے کر، لبوں پر مسکراہٹ سجائے اپنی جگہ پر رک گیا تھا۔ ایسی کوئی حرکت نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے مہرو کی معصوم سوچ پر گھبراہٹ زدہ، برا اثر باقی رہ جائے۔
“تمہاری اماں نے تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں بڑی امید اور بھروسے سے دیا تھا۔ انہیں لگا تھا، میں نے ان پر احسان کیا ہے، مگر آج میں کہتا ہوں… مہرو، انہوں نے تمہیں مجھے سونپ کر مجھ پر احسان کیا ہے۔”
مہرو کے ہاتھ دوپٹے کے پلو کو اور سختی سے تھام چکے تھے، دل کی دھڑکن جیسے بے قابو ہو رہی تھی۔ نظریں ایک لمحے کے لیے زیغم کی جانب نہیں اٹھی تھی مگر وہ مسلسل نظریں اس پر گاڑھے کھڑا تھا۔
“خود کو کسی سے کمتر مت سمجھنا مہرو… ماضی میں کیا تھا، تم کہاں سے آئی، یہ سب بے معنی ہے۔ آج کی حقیقت بس اتنی ہے کہ تم زیغم سلطان کی بیوی ہو… وہ بھی وہ بیوی، جسے میں نے پورے دل سے قبول کیا ہے!”
“نہیں… مگر آپ کی اصل بیوی تو وہ بی بی جی ہیں نا، جنہوں نے آتے ہی مجھے مارا اور مجھ پر غصہ کیا تھا… اب آپ یہ سب کچھ بول رہے ہیں، تو اگر بی بی جی کو پتہ چل گیا، تو وہ غصہ کریں گی… اور پھر سے مجھے ماریں گی…!”
مہرو بے اختیار اپنے دل کا ڈر زبان پر لے آئی۔ الفاظ لرز رہے تھے، جیسے کسی انجانے خوف نے اسے گھیر رکھا ہو۔ زیغم سلطان کے چہرے پر سختی در آئی، نظریں گہری ہوئیں، اور آواز میں سختی آ گئی۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا، مہرو! میں تم سے وعدہ کرتا ہوں… اس کی اتنی جرأت نہیں کہ میرے ہوتے ہوئے وہ تمہاری طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھے، ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات ہے!”
“ایک بار میری غیر موجودگی میں اس نے اپنی اوقات دکھا کر تم پر ہاتھ اٹھایا ہے مگر میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔اور جو کچھ اس دن تمہارے ساتھ ہوا اس کے لیے میں تم سے معافی مانگتا ہوں!”
مہرو نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“نہ سائیں نہ کیوں گنہگار کرتے ہیں۔ آپ کو معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ غصہ کر سکتی ہیں… کیونکہ وہ آپ کی اصل والی بیوی ہیں نا…”
“مہرو… اصل بیوی؟”
زیغم نے ایک لمبی سانس لی، پھر اپنی جگہ سے ذرا قریب ہوا۔ اس کی نظریں مہرو کے چہرے پر جمی تھیں، جہاں معصومیت کے ساتھ انجانا سا خوف بھی تھا۔
“اصل بیوی تم ہو!”
مہرو کا دل زور سے دھڑکا۔
“اور کیوں ہو… یہ بات بھی وقت کے ساتھ تمہیں خود ہی پتہ چل جائے گی۔ بس ایک بات ذہن میں رکھو—کبھی بھی شرمندگی فیل مت کرنا، کبھی بھی یہ مت سوچنا کہ دو بیویاں ہونے کی وجہ سے میں عدل نہیں کر سکوں گا۔ اگر نایاب واقعی میری بیوی ہوتی، تو زیغم سلطان عدل و انصاف ضرور کرتا مگر بہت کچھ ایسا ہے جو تمہاری نظروں سے ابھی اوجھل ہے۔ آہستہ آہستہ سب جان جاؤ گی۔”
مہرو خاموشی سے سن رہی تھی، ہر جملہ جیسے اس کے دل کی دیواروں پر نقش ہو رہا تھا۔
“اور آج کے بعد کبھی یہ مت کہنا کہ تم اصل بیوی نہیں ہو۔ اصل بیوی وہ ہوتی ہے جسے شوہر دل سے تسلیم کرتا ہے… اور زیغم سلطان کے دل نے تمہیں پورے دل سے تسلیم کیا ہے، مہرو!”
زیغم کی آواز میں ایسی شدت تھی کہ مہرو کو لگا، جیسے اس کا ہر لفظ سچائی سے بنا ہو۔
“اپنے مقام کو سمجھو، اپنی حیثیت کو پہچانو، مہرو… تم زیغم سلطان کی بیوی ہو، وہ بیوی جس کا ہر حق میں نے دل سے قبول کیا ہے!”
مہرو کا دل دھڑک رہا تھا، اس کی چھوٹی سی عقل میں جتنا آ سکتا تھا، وہ ہر لفظ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی…
“میری طرف دیکھو، مہرو!”
زیغم سلطان نے نرم مگر مضبوط لہجے میں کہا۔ مہرو کی پلکیں لرزیں، مگر اس نے سر اٹھایا۔نظر بھر کر زیغم کی جانب دیکھا مگر اس کی نیلی پرکشش گہری آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی، فوراً سے پلکیں جھک گئی تھی۔
“مہرو” میں نے کہا میری طرف دیکھو!”
“مجھ سے نہیں دیکھا جا رہا…”
وہ منمنائی سی آواز میں بولی۔
“کیوں نہیں دیکھا جا رہا؟”
“پتہ نہیں”
اس کی شرما کر گھبراہٹ سے جھکی ہوئی نظریں زیغم سلطان کے دل پر سیدھا وار کر رہی تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے مت دیکھو مگر وعدہ کرو… آج کے بعد کبھی نہیں کہو گی کہ تم میری بیوی نہیں ہو۔ تم اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میری بیوی ہو، تم صرف اور صرف میری ہو، اور تم نے سب سے کہنا ہے کہ تم میری بیوی ہو۔ اس سے ڈر کر انکار نہیں کرنا۔ یہ میرا حکم ہے!”
مہرو نے لب بھینچ لیے، دل زور سے دھڑکا۔
“ٹھیک ہے… کہہ دوں گی!”
وہ آہستہ سے بولی۔
زیغم کی نظریں اس کے چہرے پر گہری ہوئیں، جیسے کسی چیز کا یقین چاہتا ہو۔
“اور اگر کسی نے تمہیں مارا تو، میں ہاتھ توڑ دوں گا!”
زیغم نے اس کو دل میں چھپے اس سوال کا جواب دیا تھا جس کو اس نے لبوں سے نہیں کہا مگر اس کے دل میں موجود تھا۔
“نہیں… ہاتھ مت توڑیں… بس آپ منع کر دیجیے گا!”
مہرو گھبرا کر جلدی سے بولی۔
اس کی معصومیت پر زیغم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ مونچھوں تلے لب کے کنارے کو کاٹتے ہوئے اس نے اپنی ہنسی کو روک رکھا تھا۔
“اچھا، چھوڑو یہ سب… تم جلدی سے تیار ہو جاؤ، آج تم سب کے ساتھ باہر بیٹھ کر افطاری کرو گی!”
مہرو نے چونک کر اسے دیکھا۔
“مگر… میرا روزہ نہیں ہے، مجھے کسی نے صبح اٹھایا ہی نہیں!”
“کوئی بات نہیں، ابھی دو دن تم روزہ رکھ بھی نہیں سکتی، تمہیں تین وقت دوا لینی ہے۔ بعد میں رکھ لینا… لیکن افطار کے وقت میرے ساتھ باہر بیٹھو گی، تاکہ سب کو پتہ چل سکے سلطان کی بیوی کون ہے!”
“اور ہاں، آج تم نے یہ ڈریس پہننا ہے!”
زیغم سلطان نے الماری سے ایک ڈارک بلیو لونگ فراک نکالی۔ اس کے ساتھ پرنٹڈ دوپٹہ تھا، جو بہت نفیس اور حسین لگ رہا تھا۔
“یہ…؟”
مہرو نے حیرت سے دیکھا۔
“ہاں، یہی…!”
زیغم نے سر ہلایا۔
مہرو کو ہمیشہ سے خوبصورت کپڑے پسند تھے، مگر اسے کبھی ایسے ملبوسات نہیں ملے تھے۔ اس کی اماں جو کپڑے لاتیں، وہ ہمیشہ سادہ ہوتے، ایک جیسے، بغیر کسی شوخ رنگ یا زرق برق کے، مگر یہ تو ڈیزائنر سوٹ تھا، الگ ہی شان والا۔
مہرو نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ وہ تو صرف دیکھ کر ہی خوش ہو گئی تھی۔
“اور اس کے ساتھ یہ جوتی پہننی ہے!”
زیغم سلطان نے ایکسپینسیو مگر نفیس سی میچنگ سینڈلز اس کے سامنے رکھ دیں۔ مہرو نے ہلکی سی حیرانی سے انہیں دیکھا، پھر زیغم کی طرف نظر اٹھائی۔
“یہ…؟”
“ہاں، یہ…!”
زیغم نے سنجیدگی سے کہا۔
“کیوں پسند نہیں ہے؟”
“نہیں ایسا تو بالکل نہیں ہے… یہ تو بہت اچھی ہے!”
“تو پھر اسی کو پہننا، میچنگ بالکل پرفیکٹ ہونی چاہی… میری بیوی ہو تم!”
مہرو نے نرمی سے سر جھکا لیا۔ وہ میچنگ کرنے والی لڑکی نہیں تھی، کبھی ایسے سوچا بھی نہیں تھا، مگر زیغم سلطان کی سوچ الگ تھی۔ وہ اسے اپنے اسٹیٹس کے مطابق کھڑا کرنا چاہتا تھا، لیکن اس لیے نہیں کہ اسے مہرو کے پس منظر سے کوئی مسئلہ تھا… یا وہ اسے اپنے قابل نہیں سمجھتا تھا۔ نہیں!
بلکہ اس لیے کہ مہرو خود کو کسی سے کمتر نہ سمجھے! اور نہ ہی کوئی یہ جرات کرے کہ اسے زیغم سلطان سے کم تر سمجھے۔
“چلو، شاباش! جلدی سے کپڑے چینج کر کے آؤ، میں تمہاری میچنگ کی باقی چیزیں نکالتا ہوں۔”
مہرو کپڑے لے کر اندر چلی گئی، جبکہ زیغم سلطان خود اپنے ہاتھوں سے اس کے لیے ہر چیز ترتیب دے رہا تھا۔ سلور اور گولڈ میں جڑی باریک سی چین… جس میں ڈائمنڈ کے نفیس نگینے لگے تھے، اور ان کے ساتھ میچنگ ٹاپس—یہ سب کچھ اس نے اپنے خاص جیولر سے خاص آرڈر پر منگوایا تھا۔ وہ خود پر حیران تھا!
یہ سب کیسے کر سکتا تھا وہ؟
زیغم سلطان نے اپنی زندگی میں کبھی یہ سب نہیں کیا تھا۔ نہ نایاب کے لیے، نہ حمائل کے لیے! حمائل کو شاپنگ کروانا الگ بات تھی، مگر یہ سب… کبھی نہیں!
بس پیمنٹ کر دینا، چیزیں سلیکٹ کرنا نہیں! اسے لگتا تھا کہ یہ سب اس سے آتا ہی نہیں… مگر آج… آج اسے پہلی بار احساس ہوا کہ یہ سب کچھ وہ کر سکتا ہے… پہلی بار… پہلی شاپنگ… پہلی میچنگ… اور سب کچھ وہ دل سے کر رہا تھا… مہرو کے لیے!
چھوٹی سی مخملی ڈبیا کھولی، تو اندر چمکتا ہوا رنگ جیسے مہرو کے نام کی مہر بن چکا تھا۔ زیغم سلطان کے لبوں پر ہلکی سی جان لیوا مسکراہٹ ابھری، وہ خود بھی حیران تھا کہ اس پل وہ کیوں اتنا خوش تھا۔ جاذبِ نظر شہزادہ، جو ہمیشہ سنجیدہ اور رعب دار رہتا، آج خود بلش کر رہا تھا… مسکراہٹ دبا کر بھی نہ دبا سکا… یہ سب… پہلی بار ہو رہا تھا!
°°°°°°°°°°°
دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوتے ہی نایاب کی آنکھوں میں شرارت اور زہر ایک ساتھ چمکنے لگا۔ وہ دھڑلے سے شہرام توقیر کے سامنے جا کھڑی ہوئی، جیسے آگ میں گھی ڈالنے آئی ہو۔
“شہرام بھائی! کچھ خبر ہے؟”
لبوں پر ہلکی مسکراہٹ، مگر لہجے میں محض طنز اور فساد کی بو تھی۔
“آپ کی بیوی صاحبہ حویلی تشریف لا چکی ہیں، مگر مجال ہو جو آ کر خبر لی ہو کہ شوہر زندہ ہے یا نہیں!”
شہرام جو بیساکھی کے سہارے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا، ایک پل کو ٹھٹکا، پھر اس کی نظریں وحشت سے بھڑکیں۔ نایاب نے کندھے اچکائے، جیسے کوئی خاص بات نہ ہو۔
“بہت ہی بدذات قسم کی لڑکی ہے، کم از کم ہم سے نہیں تو اپنے شوہر سے تو ہمدردی ہونی چاہیے تھی نا؟”
نایاب نے ایک اور زہریلا تیر اپنے بھائی کی جانب پھینکا تھا۔ جیسے ہی اسے معلوم ہوا کہ دانیا حویلی میں واپس آ چکی ہے، وہ فوراً فساد کی چنگاری بن کر شہرام کے کمرے میں آن پہنچی تھی، اور اب کامیابی سے آگ بھڑکانے کا کام جاری تھا۔ شہرام نے دانت پیستے ہوئے سگریٹ لبوں میں دبائی، چہرے پر ایسی سختی ابھری کہ لگتا تھا، وہ لمحہ ضائع کیے بغیر طوفان برپا کر دے گا۔
“اچھا ہوا جو وہ واپس آگئی…”
اس نے زہر خند لہجے میں کہا، آنکھوں میں شکار دیکھنے والی چمک تھی۔
“اب دیکھتا ہوں، اس کا بھائی اسے کتنے دن بچا کر رکھتا ہے۔ بھائی کے آنے کی وجہ سے بہت پر نکل آئے ہیں۔ اس کے پر کاٹ کے اس کو ہمیشہ کے لیے زمین پر رینگنے والا کیڑا نہ بنایا تو میرا نام بھی شہرام نہیں!”
اپنے بھائی کے جملے پر نایاب نے اندر ہی اندر فاتحانہ مسکراہٹ دبائی۔ مقصد تو پورا ہو چکا تھا، وہ جو چاہتی تھی، وہ کہہ چکی تھی۔ آگ لگ چکی تھی،تھوڑا سا مزید بھڑکانے کا ارادہ رکھتی تھی۔
“دیکھ لیجیے، جو بھی کرنا ہے کر لیجیے، میرا تو کام تھا اطلاع دینا، سو دے دی!”
وہ مطمئن انداز میں کندھے اچکاتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔
شہرام کی نظریں دروازے پر جم گئیں، لبوں میں دبائی ہوئی سگریٹ کا دھواں آہستہ آہستہ باہر چھوڑا، جیسے اپنے اندر کے غصے کو سلگنے دے رہا ہو۔ اچانک ہی غرایانے لگا۔
“بلکہ بعد میں کیوں؟ تمہیں آج رات ہی سبق نہ سکھایا تو میرا نام بھی شہرام توقیر نہیں!”
اس کی مٹھیاں سختی سے بھینچ گئیں، چہرہ سرد اور خطرناک ہو گیا۔
“بہت عیاشی کے دن گزار لیے تم نے، اور تم جتنا مرضی اپنے بھائی کی شہ پر سینگ نکال لو، حقیقت یہی ہے کہ تمہاری اوقات نہیں میرے سامنے کھڑے ہونے کی!”
لبوں میں دبائی سگریٹ راکھ بن کر نیچے گری، مگر اس کے دل میں جلنے والی آگ کی شدت مزید بڑھ چکی تھی۔ اب یہ فیصلہ ہو چکا تھا… دانیا کو معاف کرنا اس کے اصولوں میں شامل نہیں تھا۔گھٹیا انسان اپنے تمام ظلم نظر انداز کر کے اس وقت شوہر کے دماغ سے سوچ رہا تھا،۔ کہ دانیا کو اس کی عیادت کے لیے آنا چاہیے۔ شہرام توقیر صوفے پر بیٹھا، ایک ہاتھ کی پشت سے اپنی کنپٹی مسل رہا تھا۔ کمرے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں پھیلی وحشت کسی بھی اندھیرے سے زیادہ خطرناک لگ رہی تھی۔ لبوں میں دبائی سگریٹ سلگتے سلگتے راکھ ہونے لگی،مگر اس کے اندر کی نفرت مزید دہکنے لگی۔
“تمہاری چوہیا جتنی جان ہے، اور میری سزائیں کتنی کڑی ہیں، اس بات سے تم واقف تھی!”
سرگوشی نما لہجے میں خود سے کہا، جیسے ہر لفظ کو ذہن میں نقش کر رہا ہو۔
“پھر بھی تم نے اس گھر کو اور مجھے چھوڑنے… مجھے چھوڑنے کی جرات کی؟”
اس کا ہاتھ ٹانگ کے زخم پر گیا، جہاں گولی لگنے کا ہلکا سا زخم اب بھی باقی تھا۔ اس کی آنکھوں میں خون اترا، دانت پیسے۔
“اس کی سزا تو تمہیں دوں گا!”
“ایسی سزا کہ تمہارا رواں رواں کانپ اٹھے گا!”
صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے زیرِ لب مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں وحشت تھی، خالص ظلم کی جھلک۔ کمرے میں ایک پل کو گہرا سکوت چھا گیا، اس نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے کسی خطرناک فیصلے کو دل میں پختہ کر چکا ہو۔
°°°°°°
ہسپتال کے کمرے میں گہری خاموشی تھی، صرف مانیٹر کی بیپ کی آواز ماحول کی سنجیدگی کو مزید گہرا کر رہی تھی۔ آغا جان کے چہرے پر تھکن نمایاں تھی۔ مورے خاموش بیٹھی، بیٹے کے چہرے کو غور سے دیکھ رہی تھی، مگر مائد کی نظریں آغا جان پر جمی ہوئی تھیں۔ دروازہ کھلا، اور ڈاکٹر ذاکر اندر آیا۔ اس کی تیوریوں پر ناگواری تھی۔
“میں نے کہا تھا، کہ ان کو ٹینشن نہ دیں!”
اس نے سخت لہجے میں کہا۔
“یہ سب کچھ ہسپتال میں ہونا بالکل غلط تھا!”
مورے نے نرمی سے معذرت کی، مگر ڈاکٹر نے دوٹوک انداز میں کہہ دیا:
“اب انہیں دو تین دن ہسپتال میں رکھنا ہوگا، ان کی ہارٹ بیٹ ابھی بھی نارمل نہیں ہو رہی۔”
مائد خاموش تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ڈاکٹر جو کہہ رہا ہے، وہ درست ہے۔ یہ جھگڑا یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا، مگر ہو چکا تھا، اور اس کا نتیجہ آغا جان کی بگڑتی طبیعت کی صورت میں نکلا تھا۔ آغا جان کو نیند کی دوا دے دی گئی تھی، اور اب وہ گہری نیند میں تھے۔ ان کا سانس لینا بھی مدھم ہو گیا تھا، مگر چہرے پر وہی تھکن باقی تھی۔ درخزائی بھی ہسپتال میں ہی تھا، مگر وہ آغا جان کی کچھ دوائیاں لینے باہر گیا تھا۔ اس وقت کمرے میں صرف مائد اور مورے تھے، اور ان دونوں کے درمیان ایک عجیب سا سکوت چھایا ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نرس کو ہدایت دے کر جا چکے تھے۔
“مائد!”
مورے کی آواز میں کچھ ایسا تھا جو مائد کو چونکا گیا۔
“جی؟”
“کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں؟”
مائد نے ایک لمحے کے لیے سانس روکی۔ نظریں مورے پر جمائیں، پھر فوراً ہی چہرہ موڑ لیا۔
“کچھ نہیں، بس…”
مورے نے گہری نظروں سے اسے دیکھا، جیسے وہ اس کے لفظوں کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ ماحول کی خاموشی اور بھی بوجھل ہو گئی تھی۔
“نو مہینے اپنی کوکھ میں رکھا ہے تمہیں، مائد!”
مورے نے مضبوط لہجے میں کہا۔
“ایک ماں کا رشتہ باپ سے نو مہینے پہلے کا ہوتا ہے اپنے بچے کے ساتھ… اس لیے مجھ سے جھوٹ مت بولو۔ جو کچھ تمہارے دل میں ہے، اسے زبان پر لے آؤ!”
“مورے، ایسا کچھ نہیں ہے۔”
مائد نے نظریں چرائیں، مگر اس کے لہجے میں وہ یقین نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا۔
مورے نے گہری سانس لی۔
“جب کچھ نہیں ہوتا، تو نظریں چرا کر نہیں، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جاتی ہے، مائد!”
مائد نے پلکیں جھپکیں۔ مورے ٹھیک کہہ رہی تھی، مگر کچھ باتیں کہنا آسان نہیں ہوتا۔ کچھ حقیقتیں خاموشی میں ہی بہتر لگتی ہیں۔
“مورے، کچھ چیزیں ہوتے ہوئے بھی نہ بتائی جائیں، تو زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔”
“اچھا؟ اگر نہیں بتاؤ گے، تو کیا تمہارے اندر کا درد، بے چینی، بے سکونی ختم ہو سکے گی؟”
“نہیں، وہ تو نہیں ہو سکتی…”
مائد کے لہجے میں بےبسی تھی۔
“مگر میرے چپ رہنے سے ان رشتوں کو تکلیف نہیں پہنچے گی جو میرے لیے بہت عزیز ہیں… جو مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔”
مورے نے گہری نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ مائد کچھ ایسا چھپا رہا ہے جو بہت گہرا اور تکلیف دہ ہے…
“جن رشتوں کی خاطر تم نے خاموش رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ان رشتوں کے لیے دل میں کوئی میل مت رکھنا، مائد۔ تمہارے آغا جان اور میں تم سے بہت پیار کرتے ہیں۔”
مورے کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“مجھے آپ کے پیار پر کبھی بھی شک نہیں تھا، نہ ہو سکتا ہے۔ ماں باپ کے پیار پر شک کرنا… ایسا تو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ اپنا دل برا مت کریں۔”
مائد نے مورے کو قریب کرتے ہوئے اس کا ماتھا محبت اور عقیدت سے چوم لیا۔
“مگر تم خوش نہیں ہو گے، تو ہم کیسے خوش رہیں گے؟”
“ہمارا بیٹا اندر ہی اندر گھٹتا رہے، یہ بھی ہم سے برداشت نہیں ہوگا۔ کبھی کبھی ماں باپ اپنی روایت کے سامنے مجبور اور بے بس ہو جاتے ہیں۔ بس یہی سوچ کر ہمیں معاف کر دینا کہ ہم بھی اپنی روایات میں بندھے ہوئے لوگ ہیں، جو چاہ کر بھی نہیں نکل سکتے۔”
“مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں۔”
“مطلب کہ اپنے آغا جان سے شکوہ ہے؟”
“نہیں، مجھے ان سے بھی کوئی شکوہ نہیں۔”
لیکن مورے نے اس کی آنکھوں میں وہ خاموشی دیکھ لی تھی، جو کہہ رہی تھی کہ شاید… قسمت سے شکوہ ضرور ہے۔
“مورے جب آپ جانتی ہیں کہ مائد بھائی اس رشتے سے خوش نہیں ہیں، تو پھر زبردستی کیوں کر رہے ہیں؟”
درخزائی نے بےچینی سے کہا۔
“آپ بات کریں آغا جان سے، مجھے تو وہ مونا بالکل پسند نہیں ہے!”
دروازے پر کھڑا درخزائی جو دوائیاں لے کر آیا تھا، مائد اور مورے کی گفتگو سن چکا تھا۔ وہ خاموش نہیں رہ سکا۔ درخزائی، مائد سے مختلف تھا۔ مائد سنجیدہ اور سوچ سمجھ کر فیصلے لینے والا تھا، جبکہ درخزائی بغیر کسی جھجک کے، اپنی بات فوراً کہہ دینے والا تھا۔
“درخزائی، تم ابھی چھوٹے ہو، ان باتوں سے دور رہو۔ تمہیں صحیح، غلط، اچھے، برے کا نہیں پتہ۔”
مورے نے نرم مگر سخت لہجے میں اسے چپ رہنے کو کہا۔
“تو پھر تو آپ کے لیے اور بھی افسوس کی بات ہے کہ میں بچہ ہو کر یہ سمجھ رہا ہوں کہ آپ ایک غلط رشتہ جوڑ رہے ہیں، جس سے مائد بھائی کبھی خوش نہیں رہ سکتے، اور آپ کو بڑے ہو کر یہ بات سمجھ نہیں آ رہی!”
“درخزائی، خاموش ہو جاؤ!”
مائد نے اسے چپ رہنے کو کہا تھا۔
“ہاں، مجھے بھی چپ کروا دیں، جیسے آپ ہمیشہ سے چپ رہتے ہیں!”
“کیوں نہیں آپ صاف الفاظ میں کہتے کہ آپ کو مونا سے رشتہ نہیں کرنا؟ آپ کو وہ نہیں پسند؟ وہ آپ کے مزاج کی نہیں ہے!”
“لڑکیوں کی طرح چپ کر کے سالوں سے بیٹھے ہوئے ہیں، بات کرنے کی ہمت نہیں آپ میں۔ اگر آپ کی جگہ میں ہوتا، تو کب کا یہ رشتہ ختم کر چکا ہوتا!”
درخزائی یہ کہہ کر ٹیبل پر دوائیاں رکھتے ہوئے باہر نکل گیا تھا۔
“اس کو سمجھاؤ، اپنے آغا جان کے سامنے اس طرح مت بولے!”
“اس کا یہ بچپنا گھر میں قیامت لے آئے گا!”
مورے نے پریشان ہو کر مائد کی جانب دیکھا، جیسے اس سے التجا کر رہی ہو کہ وہ درخزائی کو روک لے، اس کے بےباک الفاظ کہیں سب کچھ نہ بگاڑ دیں۔
“آپ پریشان نہ ہوں، میں سمجھا لوں گا۔”
مائد نے مورے کو تسلی دی۔
“آپ آغا جان کا خیال رکھیں، میں ابھی آتا ہوں۔”
وہ تیزی سے روم سے باہر نکلا، نظریں دوڑائیں، مگر درخزائی کہیں دکھائی نہ دیا۔ ہسپتال کے ایریے سے گزرتے ہوئے جب وہ ویٹنگ روم کی طرف جا رہا تھا، تو اسے وہیں پر درخزائی نظر آیا۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے، غصے سے کھڑا تھا، چہرے پر بغاوت کے آثار واضح تھے۔
“زما ورور، زما شهزاده، زما شیره… دا قهر ستا پہ مخ هېڅ مناسبه نه ده!” )
(میرے بھائی، میرے شہزادے، میرے شیر… یہ غصہ تم پر بالکل سوٹ نہیں کرتا۔)
مائد, نے نرمی سے کہا، آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا اور محبت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“چھوڑ دیں مجھے!”
درخزائی نے جھٹکے سے پیچھے ہٹ کر مائد کی گرفت سے خود کو آزاد کروایا۔ چہرہ غصے سے سرخ، آنکھوں میں بغاوت کی چمک۔
“آپ اپنے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں، اور اگر میں کچھ بولنے لگا تو آپ نے مجھے ڈانٹ دیا!”
“اگر خود پر زیادتی کرنے سے مورے اور آغا جان خوش ہیں، تو کیا یہ سودا برا ہے؟”
مائد نے مدھم آواز میں کہا، جیسے خود کو سمجھا رہا ہو۔
“ہاں جی، سودا برا ہے… بہت برا ہے!”
“اپنی خوشیاں، اپنی زندگی جینے کا سب کو حق ہوتا ہے، یہ آپ کا رائٹ ہے! اور اپنے رائٹ سے ہٹ کر آپ غلط کر رہے ہیں!”
درخزئی کی آواز میں بےبسی اور غصے کا امتزاج تھا۔
“زندگی کبھی کبھار سمجھوتوں کا نام بھی ہوتی ہے، درخزائی۔”
مائد نے سنجیدگی سے کہا۔
“اور اگر یہ سمجھوتہ آپ کو اندر سے مار دے، تب کیا؟”
درخزائی نے بےچینی سے کہا، جیسے وہ مائد کو ہلانے کی کوشش کر رہا ہو۔
مائد نے نظریں جھکا لیں، جیسے درخزائی کی سچائی نے اس کے دل میں کہیں گہرا وار کر دیا ہو۔
“کبھی کبھار خود کو قربان کرنا ہی سب کے لیے بہتر ہوتا ہے۔”
“نہیں، بھائی! سب کے لیے بہتر وہ ہوتا ہے جو آپ کو خوش رکھے!”
درخزائی کی آواز لرز گئی، مگر وہ اپنی بات پر ڈٹا رہا۔ مائد نے آہستہ سے آگے بڑھ کر درخزائی کو سینے سے لگا لیا، جیسے اسے یقین دلانا چاہتا ہو کہ وہ سب سنبھال لے گا، مگر درخزائی کی آنکھوں میں بےیقینی تھی۔
“یہ فیصلہ آپ کے دل کی خوشی کے خلاف ہے، بھائی… اور میں یہ ہونے نہیں دوں گا!”
“میں تمہیں ایسا کچھ کرنے کی اجازت نہیں دوں گا!”
“تم اچھی طرح جانتے ہو کہ آغا جان کے دل کے حوالے سے ڈاکٹر نے ہمیں کیا ہدایت دی ہے۔ میں اپنی خوشی کے لیے آغا جان کی جان داؤ پر نہیں لگا سکتا! اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے!”
مائد کی آواز میں وہ سختی تھی جو ,درخزئی, کے دل پر سیدھا وار کر گئی۔ درخزائی نے بےیقینی سے مائد کو دیکھا، جیسے اس کے الفاظ پر یقین نہ آ رہا ہو۔
“اور تم ایسا کچھ نہیں کرو گے جس سے گھر میں مسائل پیدا ہوں، گھر کا امن خراب ہو، آغا جان کی صحت پر اثر پڑے! اگر تم نے میرے خلاف جا کر کچھ بھی ایسا کیا، تو یاد رکھنا…”
“میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا! دور ہو جاؤں گا تم سے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے!”
مائد کی باتوں سے درخزائی کی سانس جیسے رک گئی۔ مائد کو غصہ تو آتا تھا، مگر وہ کبھی بھی اس سے اس طرح بات نہیں کرتا تھا۔ آج اس کی آنکھوں میں بےرحمی نہیں تھی، مگر فیصلہ اٹل تھا۔ مائد اچھی طرح جانتا تھا کہ درخزائی اس سے بے حد محبت کرتا ہے، اور وہ سچ میں کچھ ایسا کر جائے گا جس سے نقصان ہونے کا اندیشہ تھا۔ اس لیے بروقت اسے روکنا ضروری تھا۔ درخزائی کی مٹھیاں سختی سے بند ہو گئیں، وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر مائد کے الفاظ نے جیسے اس کے لب سی دیے تھے۔ مائد وہاں رکا نہیں تھا، سیدھا ہسپتال کے بیرونی راستے کی طرف بڑھ گیا۔ اس وقت اسے کسی سے بات کرنے کی بالکل خواہش نہیں تھی۔ وہ کچھ دیر سب سے دور ہو کر اپنے دل و دماغ کو ایک ٹریک پر لانا چاہتا تھا… مگر یہ کام بہت مشکل تھا۔
“میں صحیح کر رہا ہوں… ہاں! یہی ٹھیک ہے!”
اس کا دماغ سختی سے فیصلے پر قائم رہنے کا کہہ رہا تھا۔
“آغا جان کی صحت کا معاملہ ہے، جذبات میں آ کر کوئی غلط قدم نہیں اٹھا سکتا!”
مگر دل… دل تو جیسے بغاوت پر اتر آیا تھا۔
“درخزائی ٹھیک کہہ رہا تھا، تم بھی تو جانتے ہو کہ وہ غلط نہیں!”
“تم کیوں خود کو روک رہے ہو؟”
“اگر وہ کچھ کر بھی رہا ہے تو یہ سب تمہارے لیے ہے!”
مائد نے جھنجھلا کر سانس باہر نکالی، جیسے دل کی آواز کو جھٹک دینا چاہتا ہو، مگر وہ آسان نہیں تھا۔
“یہ معاملہ جذبات سے نہیں، عقل سے حل کرنا ہوگا!”
دماغ نے پھر سرگوشی کی۔
“مگر کب تک؟ کب تک خود کو قائل کرتے رہو گے؟”
“کب تک اپنی خوشیوں سے منہ موڑو گے؟”
دل نے چوٹ کی۔
مائد نے سختی سے آنکھیں بند کیں، اس کی مٹھیاں خودبخود بھینچ گئیں۔ ایک فیصلہ جو آسان لگ رہا تھا، اب دل و دماغ کی جنگ میں الجھ چکا تھا۔ مائد پارکنگ ایریا کی ویران سائیڈ پر آ کر رکا۔ گہری سوچوں میں گم، ذہن کی الجھنوں میں الجھتا جا رہا تھا۔ دل اور دماغ کی جنگ شدت اختیار کر چکی تھی۔
دماغ کہتا تھا کہ جو فیصلہ کیا ہے، وہی ٹھیک ہے—اس پر اٹل رہنا ضروری ہے۔ مگر دل؟ دل بے چین تھا، بار بار کہہ رہا تھا کہ شاید کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے۔ انہی خیالات میں گھرا، اچانک اس کے دماغ میں ایک جھماکا ہوا—زیغم جو کچھ دیکھ کر گیا ہے، اس کا اثر اس کے ذہن پر کیا پڑا ہوگا؟
مائد اس بات سے بالکل بے خبر تھا۔ آخر انگلی اس کی بہن پر، اس کی عزت پر اٹھی تھی، اور وہ پرسکون نہیں رہ سکتا تھا۔ یہ جاننے کے لیے کہ زیغم کیا سوچ رہا ہے، مائد بے چین تھا۔ اس سے پہلے بھی وہ دو سے تین بار کال کر چکا تھا، مگر فون مسلسل بند جا رہا تھا۔ گہری سانس لے کر اس نے دوبارہ فون نکالا، نمبرز پر انگلیاں چلائیں اور فون کان سے لگا لیا۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی—زیغم کا ردِعمل کیا ہوگا؟
°°°°°°°°
“مہرو” بلو رنگ کی فراک میں ملبوس، اپنے سر پر ہلکے ہاتھوں سے اوڑھا گیا دوپٹہ سنوارتی ہوئی باہر نکلی۔ جیسے ہی وہ روشنی میں آئی، اس کی معصومیت اور قدرتی حسن نے ماحول کو اور بھی دلکش بنا دیا۔ وہ پہلے ہی بے پناہ حسین تھی، مگر اس لباس میں جیسے اس نے خود پر نہیں بلکہ لباس پر احسان کر دیا ہو۔ گورا چہرہ، چودھویں کے چاند کی مانند دمک رہا تھا۔ شفاف جلد، سادگی میں لپٹی معصومیت، اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہی تھی۔ “زیغم” وہیں کھڑا رہ گیا۔ نظریں جیسے ساکت ہو گئیں، پلکیں جھپکنا بھی بھول گیا تھا۔ بے اختیار قدم اٹھاتے ہوئے وہ اس کے قریب آیا، نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے لا کھڑا کیا۔
“یہ دیکھو، یہ تمہارے لیے ہے۔ پہن لو، سلور گولڈ کی میچنگ جولری۔”
“مہرو” نے زیور کو دیکھا، آنکھوں میں چمک آ گئی۔ پسندیدگی کا اظہار اس کی مسکراہٹ سے واضح تھا۔
“میں یہ پہن لوں؟”
“ہاں، یہ پہن لو۔ تمہیں پسند آئی؟”
“بہت پیاری ہے، پسند بھلا کیسے نہیں آئے گی؟”
“مہرو” نے نرمی سے سر ہلایا۔
“زیغم” نے مسکرا کر پیار سے دیکھا۔
“تو پھر جلدی سے پہنو، افطاری کا وقت ہونے والا ہے۔ میں تھوڑی دیر میں آ رہا ہوں۔ اور ہاں، ہلکا سا میک اپ بھی کر لینا، ویسے تو تمہیں ضرورت نہیں، مگر اگر تھوڑا سا کرو گی تو مجھے اچھا لگے گا۔”
“مہرو” کی آنکھوں میں حیرانی تھی۔
“سائیں، مجھے نہیں کرنا آتا۔”
“زیغم” نے چونک کر دیکھا۔
“کیا مطلب؟”
“جی، مجھے نہیں آتا۔”
“تم نے کبھی میک اپ نہیں کیا؟”
“مہرو” کی آنکھوں میں سادگی کی جھلک تھی۔
“نہیں… اماں نے کبھی ایسا کچھ لے کر ہی نہیں دیا۔ بس چوڑیاں، مہندی، کپڑے، اور جوتے… یہی سب کچھ تھا۔”
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی، بڑے آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے مدھم سی ہنسی۔
“میں نے تو یہ فوٹو والا شیشہ پہلی بار دیکھا ہے، ہمارے گھر میں ایک چھوٹی سی ٹکڑی تھی جو اماں کہیں سے لے آئی تھیں، میں نے جب بھی خود کو دیکھا، اسی میں دیکھا۔ اتنا بڑا آئینہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔”
“زيغم” نے اس کی سادگی میں چھپے درد کو محسوس کیا، مگر ہونٹوں پر تبسم لاتے ہوئے کہا:
“تو آج پہلی بار اپنے آپ کو صحیح سے دیکھ لو۔ یہ روشنی، یہ عکس، یہ سب کچھ ہمیشہ تمہارا ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔”
ہوا میں ہلکی سی خنکی گھل چکی تھی، افق پر شام کا سایہ دھیرے دھیرے پھیل رہا تھا، اور “مہرو” کی آنکھوں میں ایک نئی چمک جاگ اٹھی تھی— خواب دیکھنے کی اجازت مل گئی تھی۔ “زيغم” نے نرمی سے “مہرو” کی طرف دیکھا، جو اب بھی زیور کو الجھن سے دیکھ رہی تھی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ سچ میں آج کے وقت میں ایک لڑکی کو میک اپ کرنا نہیں آتا، اور اسے میک آپ کی چیزوں کے بارے میں نہیں پتہ، بہت حیران کن تھی اس کے لیے یہ بات اور بہت دلچسپ اور پیاری بھی۔
“میں ابھی “دانیا” کو بھیجتا ہوں، وہ تمہیں تیار کرنے میں مدد کر دے گی۔”
وہ نرمی سے بولا۔
“مہرو” نے نظریں جھکا لیں، جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو، مگر خاموش رہی۔ اس کی نظریں بار بار اپنی جیولری کو دیکھ رہی تھی۔ کچھ سوچتے ہوئے “زیغم” نے سامنے ڈریسنگ پر پڑی ہوئی مخملی ڈبیا کو اٹھایا۔ اس میں سے نازک سی رنگ نکالی، جو اس نے بڑے دل سے “مہرو” کے لیے پسند کی تھی۔
“اپنا ہاتھ دو!”
“زیغم” نے مضبوط لہجے میں کہا، اپنا مضبوط ہاتھ اس کے سامنے پھیلا دیا۔
“مہرو” نے جھجکتے ہوئے نظریں جھکا کر نفی میں سر ہلا دیا۔
“یہ میرا حکم ہے!”
“زیغم” نے سنجیدگی سے کہا:
“تمہاری اماں نے کہا تھا کہ سائیں کا کوئی حکم نہیں ٹالنا، یاد ہے نا؟”
“مہرو” نے آہستہ سے سر ہلایا۔
“جی…”
“تو پھر ہاتھ آگے کرو۔”
“زیغم” کو اب سمجھ آنے لگا تھا کہ اپنی پیاری سی بیوی سے بات کیسے منوانی ہے۔ “مہرو” نے پورے پانچ منٹ لگائے، مگر پھر بھی ہاتھ اس کے ہاتھ پر نہیں رکھا۔ “زیغم” نے خود نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما، مگر بس اتنا ہی جتنا ضروری تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ “مہرو” گھبرا جائے، بلکہ محبت سے اسے اپنی محبت میں باندھنا چاہتا تھا۔ نرمی سے اس کی شفاف انگلی میں انگوٹھی پہناتے ہوئے، وہ مسکرا دیا۔ انگوٹھی “مہرو” کے ہاتھ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ لمبی، نازک انگلیاں، قدرتی حسن کا ایک دلکش امتزاج۔ نہایت نفاست سے کٹے ہوئے ناخن، سادگی میں اسلامی انداز کا عکس لیے ہوئے تھے۔
“زیغم” نے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھا اور مدھم آواز میں کہا:
“بالکل تمہاری طرح، یہ انگوٹھی بھی نازک اور حسین ہے اور آج کے بعد، یہ تمہارے ہاتھ سے کبھی نہیں اترے گی۔”
“مہرو” نے سر جھکا لیا، اس کی آنکھوں میں حیا کا رنگ اور بھی گہرا ہو چکا تھا۔
“سادگی میں چھپی ہے روشنی کی جوت”
“پاکیزگی میں ہے محبت کی مہر ثبت”
“حسنِ فطرت کا ہے یہ انمول شاہکار”
“امتحانِ عشق ہے، صبر کا ہے ثبوت”
سر سے پاؤں تک ایک نظر ڈال کر، دل میں سوچتے ہوئے ہلکی مسکراہٹ لبوں پر سجا لی۔
“میں ابھی آتا ہوں!”
مدھم لہجے میں کہتے ہی وہ باہر نکل گیا تھا۔
°°°°°°°°°°
“فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے؟”
“فون بند کیوں تھا تمہارا؟”
فون اٹھاتے ہی “مائد” نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔
“نہیں اٹھایا کیونکہ میرا دل نہیں چاہ رہا تھا۔”
“زیغم “نے بے پروائی سے جواب دیا۔
“شٹ اپ! تمہارا نمبر بند کیوں تھا؟”
“مائد” جھنجھلا گیا۔
“فون پانی میں گر گیا تھا، اسی لیے بند تھا۔ جلدی سے نیا فون لے لیا تاکہ تمہیں دل کا دورہ نہ پڑے، کیونکہ میں جانتا تھا کہ تمہاری حالت خراب ہو جائے گی نمبر نہ ملنے پر۔”
“مائد” نے غصے سے دانت پیسے۔
“کسی اور نمبر سے انفارم تو کر سکتے تھے نا کہ فون خراب ہو گیا ہے؟”
“کیوں؟ کیا تم میری بیوی ہو جو تمہیں ہر حال میں بتانا ضروری تھا؟”
“زیغم” نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“مائد” طنزیہ ہنسا۔
“ماشاءاللہ! مجھے تو نہیں لگتا کہ بیوی بن کر بھی کوئی تم پر لگام ڈال سکتا ہے!”
“زیغم” نے گہری مسکراہٹ دبائی۔
“یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ اگر بیوی من چاہی ہو تو وہ لگام بھی ڈال لیتی ہے اور اپنی بات منوا بھی لیتی ہے۔”
“اچھا، شکریہ، جنرل نالج پہنچانے کے لیے!”
“مگر یہ نالج تم پر سوٹ نہیں کرتی!”
“زیغم” سنجیدہ ہوا۔
“اگر فارغ ہو اور “آغا جان” کی طبیعت بہتر ہے، تو افطاری پر تمہارا انتظار کروں گا۔”
بغیر اس کا جواب سنے، “زیغم” نے فون بند کر دیا۔
“مائد” نے غصے سے فون کو گھورا۔
“حد ہے یار! کیا انسان ہے، کم از کم میری بات تو سن لیتا!”
“اب پتہ نہیں یہ دماغ میں کیا پکا رہا ہے۔”
پھر گہری سانس لے کر، سر جھٹکتے ہوئے بولا۔
“اب جب “آغا جان” کی طبیعت بہتر ہے، تو کیا کروں، چلا ہی جاتا ہوں، آخر پتہ تو چلے کہ یہ بندہ سوچ کیا رہا ہے!”
مائد نے گہری سانس لی، قدموں کی رفتار خودبخود تیز ہو گئی۔ ہسپتال کی چہل پہل میں اس کے چہرے پر سنجیدگی نمایاں تھی۔ وہ جانتا تھا کہ مورے کی اجازت لینا ضروری ہے، مگر زیغم سے ملے بغیر وہ خود کو مطمئن نہیں کر سکتا تھا۔ یہ جاننا کہ زیغم نے اس سارے معاملے کو کس زاویے سے دیکھا، اس کے لیے بے حد ضروری تھا۔ شاید یہ ملاقات کئی سوالوں کے جواب دے دیتی، یا شاید مزید الجھنوں میں ڈال دیتی۔ اس سے اس بات پر بہت شرمندگی تھی کہ اس کے یار نے پہلی بار اس سے کوئی ہیلپ مانگی تھی جسے وہ پوری طرح سے نبا نہیں سکا۔یہ شرمندگی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔
°°°°°°°°
مہرو کو تیار کرنے کے لیے دانیا آئی تھی، اور اس کے ساتھ ارمیزہ بھی تھی کیونکہ وہ جاگ چکی تھی۔ زیغم، مائد سے بات کرنے کے لیے باہر رکا، جبکہ دانیا اور ارمیزہ کمرے میں داخل ہو چکی تھیں۔
“یہ کون ہے؟”
ارمیزہ نے اندر آتے ہی پہلا سوال کیا۔
اس سے پہلے کہ دانیا کوئی جواب دیتی، زیغم اندر آ چکا تھا۔
“یہ تمہاری ماما ہیں۔ تم نے کہا تھا نا کہ تمہیں نئی ماما نہیں چاہیے؟”
یہ جملہ دانیا اور ارمیزہ کے لیے حیران کن نہیں تھا، مگر مہرو کے لیے یہ لمحہ کسی طوفان سے کم نہیں تھا۔ وہ حیرت سے زیغم کو دیکھنے لگی، جیسے اسے اپنی سماعت پر یقین نہ آ رہا ہو۔
“ماما! تھینک یو بابا! آپ میرے لیے اتنی پیاری مامالے کر آئے ہیں!”
ارمیزہ خوشی سے چہک اٹھی، دوڑ کر اپنے بابا کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ارمیزہ کی تو جیسے لاٹری نکل پڑی تھی۔ زیغم نے جھک کر اسے بانہوں میں اٹھا لیا، اس کی معصوم خوشی نے اس کے دل کو سکون دیا۔ اپنی بیٹی کے چہرے پر خوشی دیکھ کر کو لگا کے مہرو کی صورت میں خدا نے خود سے ان کو ایک خوبصورت تحفہ دے دیا ہے، جو دانیا ارمیزہ اور خود زیغم سلطان کی زندگی میں خوشیوں کے رنگ لے کر آئی تھی۔
“ویلکم، مائی بچہ!”
زیغم نے نرم لہجے میں کہا، پھر ایک محبت بھری نظر مہرو پر ڈالی، جو آج کسی خواب کی تعبیر جیسی لگ رہی تھی—معصوم، خوبصورت، دلکش۔
“اب میری بیٹی کچھ کہے اور اس کے بابا نہ مانیں، ایسا ہو سکتا ہے؟”
“ویسے تمہاری ماما کے لیے یہ ارینجمنٹ اللہ نے خود کیا ہے۔ تمہاری دعائیں سن لی گئیں، اور اللہ نے خود ہی تمہاری ماما کو ہمیں دے دیا۔”
ارمیزہ کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے نرمی سے کہا۔
مہرو کے چہرے پر بے یقینی کی کیفیت تھی، جیسے وہ خواب اور حقیقت کے درمیان معلق ہو۔
“آپ کی نئی ماما آپ کو پسند ہیں؟”
زیغم نے پیار سے پوچھا۔
ارمیزہ نے فوراً سر ہلایا۔
“مجھے ماما بہت بہت زیادہ پسند ہیں! بہت پیاری ہیں!”
“میں ان سے مل لوں؟”
“جی جی، بالکل ملو!”
اب تک سکتے میں کھڑی مہرالنساء کو ارمیزہ نے بانہوں میں بھر لیا۔ اس کے معصوم ہاتھ مہرو کی کمر سے لپٹ گئے، جیسے وہ اپنے چھوٹے سے دل کی ساری محبت اس پل میں سمو رہی ہو۔ دانیا نے ایک نظر زیغم پر ڈالی، جو اپنی دھڑکنوں کو قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ وہ اپنے بھائی کی حالت سمجھ رہی تھی، اور دل سے دعاگو تھی کہ مہرو ہمیشہ اس کی زندگی میں خوشیوں کی روشنی بکھیرتی رہے۔
“ماما، آپ بہت پیاری ہیں، اور اس ڈریس میں تو اور بھی بیوٹی فل لگ رہی ہیں۔”
ارمیزہ کے معصوم دل نے سچائی پوری ایمانداری سے بیان کی تھی، کیونکہ حقیقت میں، دانیا کے دیے گئے ہلکے سے میک اپ ٹچ نے مہرالنساء کے سراپے کو مزید نکھار دیا تھا، جیسے اس کی خوبصورتی کو ایک نئی چمک مل گئی ہو۔
“شکریہ… آپ بھی بہت پیاری ہیں!”
سکتے میں کھڑی مہرالنساء کے لبوں پر، ارمیزہ کی معصوم بات سن کر، بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ نیچے جھکی اور ارمیزہ کو نرمی سے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔
“تھینک یو…”
“جی، ٹھیک ہے۔”
مہرالنساء کو ایک بار پھر یہ انگریزی الفاظ عجیب لگے، مگر اس نے اپنی حیرت کو قابو میں رکھا کیونکہ یہ الفاظ وہ اس سے پہلے زیغم کے لبوں سے بھی سن چکی تھی۔
“آپ ہمیشہ ہمیشہ میرے ساتھ یہی رہیں گی ناں؟”
“مجھے چھوڑ کر جائیں گی تو نہیں؟”
ارمیزہ کے لفظوں میں اداسی کی ہلکی سی پرچھائیں تھی۔ نایاب نے ہمیشہ اسے اپنی ممتا سے دور رکھا تھا، اور ممتا کی محبت سے محروم یہ بچی، آج دل کی گہرائیوں سے اس قربت کو محسوس کر رہی تھی… جو اسے پہلے لمس سے مہرو سے ملی تھی۔
“جی بالکل، یہ ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی، آپ کے ساتھ رہے گی، آپ سے پیار کرے گی اور آپ نے بھی بدلے میں اپنی ماما کو بہت سا پیار دینا ہے، ان سے دور نہیں ہونا۔ آپ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت انجوائے کرو گے، مجھے یقین ہے۔”
زیغم نے آگے بڑھ کر ارمیزہ کو محبت بھرے لہجے میں تسلی دی، مگر نظریں بار بار بے اختیار ہو کر مہرو کی دلکشی پر جا رہی تھی۔ دانیا یہ منظر دیکھ رہی تھی اور اس کے لبوں پر ہنسی روکنے سے بھی رک نہیں پا رہی تھی۔
“جی، مہرو اب ہمیشہ ہمیشہ ہمارے پاس رہے گی، مطلب یہ کہ آپ کے بابا کے ساتھ، آپ کے بابا کے روم میں!”
“یعنی 24 گھنٹے جب چاہیں مگر ہمارے لیے سہولت میسر ہوگی کہ، ہم ان کے روم میں آ کر انہیں ڈسٹرب کر سکتے ہیں!”
دانیا نے شرارت سے اپنے بھائی کو چھیڑا۔
زیغم نے جملے کی نزاکت کو فوراً بھانپ لیا اور ایک لمحے کو شرما گیا مگر اگلے ہی لمحے دانیا کو گھورتے ہوئے، جیسے وارننگ دے رہا ہو کہ وہ حد سے آگے نہ بڑھے۔
“سوری!”
دانیا نے کان پکڑ کر فوراً معصومیت سے معافی مانگی، اور اس کی یہ ادا بےحد دلکش لگ رہی تھی۔ زیغم نے مسکراتے ہوئے اپنی پیاری بہن کو محبت سے ساتھ لگا لیا۔ آج زیغم، دانیا، ارمیزہ—سب کو لگ رہا تھا کہ ان کی فیملی مکمل ہو گئی ہے مگر مہرالنساء… وہ اب بھی کشمکش میں تھی۔ وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ اپنی ماں کی جدائی پر روئے یا پھر قسمت کے اس حسین انعام پر خوش ہو، جو اسے بنا مانگے نواز دیا گیا تھا۔
°°°°°°°°°°
“خیریت ہے آج دھڑا دھڑ باہر سے بھی چیزیں آ رہی ہیں اور کچن میں بھی خاصی ہلچل ہے… کوئی افطار پارٹی ہے کیا؟”
قدسیہ نے حیرانی سے پوچھا، کیونکہ آج کچن میں کچھ الگ ہی منظر تھا۔ باہر سے بھی کافی کچھ منگوایا جا رہا تھا۔
سکینہ کی ماں نے مختصر جواب دیا:
“جی، باہر سے تو کوئی نہیں آ رہا، مگر سائیں کا حکم ہے کہ آج کی افطاری بہت اسپیشل ہونی چاہیے۔ سب کچھ سائیں نے خود سلیکٹ کیا ہے۔ مزید کچھ جاننا ہو تو آپ خود سائیں سے پوچھ سکتی ہیں۔”
اور یوں، دو لفظوں میں بات ختم کر دی گئی۔
“کیوں؟ تمہیں موت پڑ رہی ہے مجھے جواب دیتے ہوئے؟”
قدسیہ کی آواز زہر میں ڈوبی ہوئی تھی۔
“آج تک ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والے، آج ہم ہی کو جواب دینے سے کتراتے ہیں؟”
وہ غصے سے آگے بڑھی، آنکھوں میں وحشت تھی۔
“کوئی نہیں! زیادہ وقت نہیں بچے گا زیغم کی حکومت کو! پھر دیکھنا، اگر میں نے تم جیسے لوگوں کو ایک ایک کر کے حویلی سے باہر نہ پھینکا تو میرا نام بھی قدسیہ نہیں!”
اس کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ تھی، جیسے آنے والے طوفان کا اعلان کر رہی ہو۔
“ہمیں جو سائیں کا حکم ہے، وہی ماننا ہے، اور ان کا حکم ماننا ہم پر فرض ہے!”
“آپ نے ہمیں ٹکڑوں پر پالا، اس کے لیے ہم شکر گزار ہیں، مگر باقی کی بات آپ جا کر سائیں سے کریں۔ ہمیں اس معاملے میں کچھ کہنے کا حکم نہیں!”
آواز میں نہ جھجک تھی، نہ خوف… بس ایک واضح اعلان کہ سائیں کا حکم ہی آخری فیصلہ ہے!
“تیری بیٹی کو اگر میں نے اٹھا کر کوٹھے پر بیچ کر، تمہیں خون کے آنسو نہ رولایا… تو میرا نام قدسیہ نہیں!”
“آپ میری بیٹی کو ہاتھ لگا کر تو دیکھیں!”
سکینہ کی ماں کی آنکھوں میں سرخی ابھر آئی، صبر جواب دے گیا تھا۔
“اگر زیغم سائیں نے آپ کے ہاتھ نہ توڑ کر، وہی ہاتھ آپ کے سامنے نہ رکھ دیے، تو کہنا! آپ کا وہ ظالم دور گیا، اللہ سلامت رکھے اس حویلی کے سائیں کو! آپ اور آپ کا شوہر نظر اٹھا کر تو دیکھیں، پھر میں مان جاؤں گی!”
قدسیہ کا چہرہ فق ہو گیا مگر اگلے ہی لمحے، سکینہ کی ماں کا لہجہ مزید تلخ ہو گیا۔
“وہ آگئے ہیں نا رکھوالے!”
“عزتوں کی حفاظت کرنے والا، خدا انہیں سلامت رکھے، انہیں ہماری عمر لگ جائے! مگر تم لوگوں سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے۔ سالوں سے یہی تو کرتے آ رہے ہو، لوگوں کی عزتوں کے ساتھ کھیلتے ہو!”
قدسیہ کا خون خشک ہونے لگا۔ اس کے قدم خودبخود پیچھے ہٹے۔ وہ جانتی تھی، اگر یہ آواز زیغم سلطان کے کانوں تک پہنچی، تو اس کی زندگی عذاب بن جائے گی! وہ بات کو بیچ میں چھوڑ کر، تیزی سے کچن سے نکل گئی۔
“اماں صبر کر، پریشان نہ ہو!”
سکینہ نے جلدی سے اپنی ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھا، جو غصے سے لرز رہی تھی۔
“ان کے کہنے سے کیا ہوگا؟’
‘اب سائیں ہیں نا، سب کی حفاظت کرنے کے لیے!”
“اللہ کے بعد بس انہی کا بھروسہ ہے… اللہ انہیں سلامت رکھے!”
سکینہ کی ماں کا لہجہ دکھ اور غصے سے بھرا ہوا تھا۔
“ورنہ یہ گدھ نما عورت، اس کا شوہر، اس کا بیٹا… ہمیں نوچ کھائیں گے! اور سالوں سے یہی تو کر رہے ہیں، ہماری عزتوں کو نوچتے آ رہے ہیں!”
اس کے الفاظ میں برسوں کی اذیت، ظلم اور انتقام کی آگ صاف جھلک رہی تھی۔
“چل جا بیٹا، جلدی سے ٹیبل پر افطاری کی سب چیزیں رکھ، سب آنے والے ہیں!”
“جی اماں، ٹھیک ہے!”
سکینہ فوراً اپنی ماں کا حکم مانتے ہوئے فروٹ چاٹ اور دہی بھلوں والا پیالہ اٹھا کر ٹیبل کی جانب بڑھ گئی۔
°°°°°°°°°°
دانیا، زیغم، ارمیزہ اور مہرالنساء ایک ساتھ ٹیبل پر آئے۔
مہرالنساء کو زیغم کے ساتھ سنورے ہوئے، مہنگے سوٹ میں دیکھ کر اوپر سیڑھیوں پر کھڑی نایاب کا تن بدن جل اٹھا، جیسے کسی نے اس پر سانپ چھوڑ دیے ہوں۔ ٹیبل پر مائد خان اور زرام پہلے سے موجود تھے، خاموشی سے سب کا انتظار کر رہے تھے۔
°°°°°°