Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:24

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 24
°°°°°°
“میں سمجھا نہیں… پتہ نہیں تم کیا کہنا چاہتے ہو!”
مائد کی نظریں سامنے جمی تھیں، لہجہ مدھم تھا۔

“سمجھ تو تم بخوبی رہے ہو، بس کر دو… جب تمہیں جھوٹ بولنا نہیں آتا تو کیوں کوشش کر رہے ہو؟”
زیغم کی بات پر مائد نے لب بھینچ لیے۔

“تم جتنا مرضی انکار کرو، مگر میں تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں، مائد!”
زیغم نے گاڑی کا اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے ایک نظر اس پر ڈالی۔
گاڑی میں خاموشی چھا گئی تھی، مگر زیغم کی نظریں مائد سے جواب مانگ رہی تھیں۔

“میرے بارے میں کچھ غلط مت سوچنا، تمہاری عزت، تمہارا وقار مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔”
مائد نے نظریں گاڑی کے شیشے پر جمائے آہستہ سے کہا۔

“اچھی طرح جانتا ہوں، صفائی دینے کی ضرورت نہیں۔”
زیغم نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔

مائد نے گہرا سانس لیا۔
“میں نے جب بھی دیکھا، عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا ہے۔”
زیغم نے ایک نظر اس پر ڈالی، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی مگر وہ خاموش رہا۔ گاڑی کے اندر بوجھل سی فضا پھیل چکی تھی۔

“خدا کی قسم! کبھی میں نے یہ بات زبان پر لانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا، جس سے ان کی عزت یا وقار میں کمی آئے۔”
مائد کی آواز بھاری تھی، نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

“میں نے تو کبھی خود سے بھی اس بات کا اظہار نہیں کیا تھا… نہیں جانتا تھا کہ تمہیں کیسے پتہ چلا۔”
اس نے گہرا سانس لیا تھا، وہ اپنے اندر کی الجھن کو ضبط کر رہا تھا۔

“اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔ جانتا ہوں کہ میری یہ سوچ غلط تھی، مگر… اس سب کو کبھی ہماری دوستی کے بیچ میں مت آنے دینا۔”
زیغم خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا، جبکہ مائد کی آواز میں بے بسی تھی۔

“کچھ چیزیں انسان کے بس میں نہیں ہوتیں… یہی سوچ کر معاف کر دینا کہ یہ خطا، جو میں نے ان کے بارے میں سوچا، یہ بھی خود سے ہو گئی تھی۔ میں ایسا کچھ نہیں چاہتا تھا۔”
گاڑی کے اندر گہری خاموشی چھا گئی تھی، جیسے ہوا بھی سانس روکے کھڑی تھی۔

”محبت اگر ہو وفا کے اصول سے“
”یہ روشن رہے خدا کے قبول سے“
”جو دل میں ہو اخلاص کی روشنی“
”تو جُڑے نہ جُڑے، گلہ کیا وصول سے؟“

یہ اشعار محبت کی سچائی اور پاکیزگی کو بیان کرتے ہیں۔
پہلا مصرع بتاتا ہے کہ اگر محبت وفا اور اصولوں کے ساتھ کی جائے تو یہ خوبصورت اور قابلِ احترام جذبہ بن جاتی ہے۔
دوسرا مصرع محبت کی سچائی کو اجاگر کرتا ہے، جو اگر خالص ہو تو خدا کی رضا بھی اس میں شامل ہو جاتی ہے۔
تیسرے مصرع میں محبت کے اخلاص پر زور دیا گیا ہے۔ اگر یہ نیکی اور سچائی پر مبنی ہو تو اس کی اپنی ایک قدر ہوتی ہے، حالات جیسے بھی ہوں۔
آخری مصرع یہی سکھاتا ہے کہ سچی محبت صرف پانے کا نام نہیں، بلکہ خلوص ہی اس کی اصل قیمت ہے، چاہے محبوب ملے یا نہ ملے۔
زيغم سلطان نے شاعری کے یہ چند بول بہت سادہ الفاظ میں کہے تو مائد نے بے اختیار اس کی جانب نظریں اٹھا کر دیکھا تھا۔ زیغم نے بھی گہری سانس لیتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔

“مائد خان، مجھےتمہاری محبت پر فخر ہے۔ تم ایک غیرت مند انسان ہو۔ کاش تم میری بہن کا نصیب بنتے تو مجھ سے زیادہ خوشی کسی کو نہیں ہوتی، مگر بدقسمتی نے اس طرح ڈیرے ڈالے کہ میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکا۔”
زیغم کی بات پر مائد نے لب بھینچ لیے۔

“بہت عرصہ پہلے جب میں یہاں سے گیا تھا، تب سے جانتا ہوں کہ تم دانیا کے ساتھ ایک پاکیزہ رشتہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ میری نظر میں یہ غلط نہیں تھا۔ جب خدا اور اس کے رسولﷺ نے اس چیز کی اجازت دی ہے، تو ہم کون ہوتے ہیں پیچھے ہٹنے والے؟ مگر قسمت نے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اچانک دانیہ کی شادی شہرام سے ہوگئی… کیوں ہوئی، تم اس ریزن سے بالکل ناواقف ہو، اس لیے اب میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں تمہیں کچھ بتا سکوں۔”
زیغم کے لہجے میں بے بسی تھی۔

“ایک بات تو کلیئر ہے، میں دانیہ کو شہرام سے ہمیشہ کے لیے آزاد کروا لوں گا۔ وہ گھٹیا فطرت انسان میری بہن کے قابل نہیں، جس نے اسے نہ عزت دی، نہ محبت۔ ہمیشہ دھتکارا، مارا، اذیت دی، بدکلامی کی… ایسا شخص میری بہن کے قابل نہیں ہو سکتا مگر جہاں تک تمہارا سوال ہے، تو یہ فیصلہ دانیہ کا ہوگا۔ میں کوئی زور زبردستی نہیں کروں گا۔ اگر وہ اپنی خوشی سے تمہاری طرف قدم بڑھائے، تو مجھ سے زیادہ خوش کوئی نہیں ہوگا۔”
مائد کی سانسیں رکی ہوئی تھیں۔ زیغم کی زبان سے وہ سب کچھ سننا، جسے وہ خود بھی خود سے کہنے سے ڈرتا تھا، ایک عجیب احساس تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ خوش ہو یا اپنی بے بسی پر ماتم منائے۔

“اگر میرا یار میرے ساتھ رشتہ داری کے بندھن میں بندھ جائے، تو میں خوش کیوں نہیں ہوں گا؟ اور اگر خدا نے دانیہ کے نصیب میں تمہیں لکھ دیا، تو میں فخر سے کہوں گا کہ یہ میری بہن کی خوش نصیبی ہوگی۔ مائد خان ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا، اور جس کے نصیب میں لکھا جائے، وہ دنیا کی خوش نصیب ترین لڑکی ہوگی۔”
زیغم کے ہر لفظ میں سچائی تھی۔
مائد نے نظریں جھکا لیں۔ اس کے ایک ایک لفظ پر وہ قربان ہو جانا چاہتا تھا۔ ایسی دوستی کی مثال نہ کبھی کسی نے دیکھی ہوگی، نہ سنی ہوگی۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں، دل میں بس ایک ہی خیال گونج رہا تھا۔ ”دوستی واقعی دنیا کا سب سے خوبصورت رشتہ ہے، جس میں خون کے رنگ شامل نہیں ہوتے، مگر پھر بھی یہ خون کے رنگوں سے کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے۔“ ایک طرف آغا جان تھے، جن کی جان کے ساتھ وہ رزق نہیں لے سکتا تھا۔ مائد خان وہ بیٹا نہیں تھا جو اپنے ماں باپ کا دل توڑ سکتا۔ وہ ماں باپ، جو روایات میں بندھے ہوئے، اپنے بیٹے کی خوشیوں کو دیکھ کر بھی نظر انداز کر رہے تھے۔
دوسری طرف وہ دوست تھا، جس نے اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کہہ دی، جو کہنا آسان نہیں تھا۔ دوستی کی وہ بنیاد رکھی، جو آج کل ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی اور پھر وہ لڑکی تھی، جسے مائد نے دل کی پرتوں میں چھپا رکھا تھا، اپنی محبت کو خود سے بھی چھپا رکھا تھا۔ کبھی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا، یہاں تک کہ جس سے محبت کرتا تھا، وہ بھی اس بات سے بے خبر تھی۔ اس کی عزت پر کوئی انگلی نہ اٹھے، اسی لیے اس نے اپنی محبت کو دل میں ہی دفن کر دیا تھا لیکن ایک طرف وہ لڑکی بھی تھی، جسے مائد خان اپنی شریکِ حیات کے طور پر کبھی قبول نہیں کر سکتا تھا۔ بچپن میں اس کا رشتہ طے کر دیا گیا تھا، جب رشتوں کی اہمیت کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ وہ ایسی صورتِ حال میں پھنس چکا تھا، جہاں نہ آگے جانے کا راستہ تھا، نہ پیچھے ہٹنے کا۔ ہر طرف صرف خاموشی تھی۔
زیغم سلطان تو اپنی بات کہہ کر خاموش ہو گیا، لیکن مائد ایک ایسی کشتی میں بیٹھ چکا تھا، جس کے چاروں طرف طوفان ہی طوفان تھے۔ نہ کوئی راستہ، نہ کوئی منزل۔ اگر اپنی خوشیوں کی طرف قدم بڑھاتا، تو آغا جان کی نظر میں وہ بیٹا بن جاتا جس پر انہیں فخر تھا، مگر وہ فخر مٹی میں مل جاتا۔ اور اگر وہ آغا جان کی فرمانبرداری میں اس لڑکی سے شادی کر لیتا، تو پوری زندگی ایک دھندلے سفر کی نذر ہو جاتی۔ نہ تو وہ مونا کو وہ خوشی دے سکتا تھا جو وہ ڈیزرو کرتی تھی، اور نہ خود کبھی خوش رہ پاتا۔ کڑے امتحان میں تھا وہ۔

زیغم نے گاڑی کو کچے راستے سے موڑا، گاؤں کے اندر کی طرف بڑھاتے ہوئے ایک نظر مائد پر ڈالی۔
“سکتے کے عالم سے باہر آ جاؤ، اللہ پر بھروسہ رکھو، جو بھی ہوگا بہتر ہوگا۔ میرے خیال سے تمہیں اپنے آغا جان کی بات مان لینی چاہیے۔ تم ان سے بے حد محبت کرتے ہو، اور اگر یہ رشتہ نہ ہوا تو وہ دکھی ہوں گے، اور تم انہیں دکھی نہیں دیکھ سکتے۔ تو بہتر ہے کہ مزید مت الجھو۔”

زیغم نے ایک بار پھر مائد کے دل کی بات پڑھی، تو مائد نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔
“یار! تو نجومی تو نہیں بن رہا؟ ہر بات دل کی کیسے سمجھ لیتا ہے؟”
مائد بے اختیار بول اٹھا۔

زیغم مسکرا دیا۔
“دوستی اگر سچی ہو تو دوست کے دل کی بات پڑھنا مشکل نہیں ہوتا۔ تیرا جو بھی فیصلہ ہوگا، زیغم سلطان تیرے ہر فیصلے میں تیرے ساتھ کھڑا ہوگا۔ کوئی بھی فیصلہ ہم دونوں کی دوستی میں دراڑ نہیں ڈال سکتا۔ اب تھوڑا ریلیکس ہو جا۔”
“ہم زرام کا رشتہ لینے جا رہے ہیں۔”

“زرام کا رشتہ؟”
مائد نے حیرانی سے زیغم کو دیکھا۔

زیغم نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
“ہاں جی، زرام کا رشتہ! شہزادے کو پیار ہو گیا ہے، اور اسی محبت کو اس کے پاس لانے کے لیے رشتہ لینے جا رہا ہوں۔”
مائد نے مزید حیرت سے ارد گرد نظر دوڑائی۔ کچا اور بوسیدہ سا علاقہ، تنگ گلیاں، پرانی دیواریں… یہ سب دیکھ کر وہ الجھن میں پڑ گیا۔

“واہ بھئی، یہ تو بہت اچھی خبر ہے، مگر کنفرم یہی جگہ؟”
“تم واقعی یہاں رشتہ لینے آئے ہو؟”
مائد کی نظروں میں بے یقینی تھی۔
اس کی حیرانی بجا تھی۔ کہاں زیغم سلطان کی شاہانہ فیملی اور کہاں یہ معمولی سا علاقہ۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔

”عشق نہ دیکھے شان و حسب، نہ محل نہ کچی بستی“
”یہ تو بس دل کا سودا ہے، جہاں جو ہارا وہی جیتا“

“اب ذرام صاحب کو محبت ہو گئی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے!”
زیغم ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔

“میں تو ویسے ہی ان روایت، ان قاعدے قانونوں کو نہیں مانتا، میرا مقصد تو بس اپنے بھائی کو اس کی محبت دلوانا ہے۔”

“اللہ تعالیٰ ان کی محبت میں برکت دے اور انہیں ہمیشہ خوش رکھے!”
مائد آہستہ سے بولا۔

“محبت جگہ دیکھ کر نہیں ہوتی، دل دیکھ کر ہوتی ہے، اور جب دل کی لگن سچی ہو، تو راستے خود بخود بن جاتے ہیں۔”

“بے شک”
مائد کی بات پر زیغم نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ گاڑی ایک لکڑی کے پرانے گیٹ کے سامنے روک دی۔ ملیحہ کے گھر کا ایڈریس زیغم پہلے ہی رفیق سے لے چکا تھا، اس لیے راستہ تلاش کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔

“بس پہنچ گئے، اب دیکھتے ہیں قسمت کیا فیصلہ کرتی ہے…”
زیغم نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔
مائد نے سامنے نظر دوڑائی، سادہ مگر صاف ستھرا گھر، صفائی ستھرائی باہر سے ہی دکھائی دے رہی تھی۔ باہر لگے چند گملے اور پرانی دیواروں پر پڑی دراڑیں… یہ سب اس جگہ کے سادگی بھرے ماحول کو واضح کر رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
چولہے کے گرد ہلکی روشنی تھی، جلتی لکڑیوں کی ہلکی آنچ، دھواں اوپر کو اٹھتا ہوا۔ ملیحہ کی اماں چوکی پر بیٹھی روٹیاں پکا رہی تھیں، اور سب قریب بیٹھے بھرے ہوئے کریلوں کی تعریفیں کر رہے تھے۔ ملیحہ نے روٹی کا ایک ٹکڑا توڑ کر فاریہ کی طرف بڑھایا۔
“لے نا، زیادہ نہیں کھایا تو تھوڑا سا چکھ لے۔ اماں کے ہاتھ کے کریلے ایسے ہی ہوتے ہیں، ذائقہ زبان پر ٹھہر جاتا ہے۔”

فاریہ نے مسکراتے ہوئے نوالہ لیا ہی تھا کہ دروازے پر ہونے والی کھٹ کھٹ نے سب کو متوجہ کر دیا۔ ملیحہ کی اماں نے ہاتھ جھاڑ کر برتن سائیڈ پر رکھے اور دروازہ کھولنے چل دی۔ جیسے ہی دروازہ کھولا، سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر ایک پل کو ان کے قدم جم گئے۔

“سائیں… آپ؟”
لبوں پر حیرانی، آنکھوں میں عقیدت۔ ہاتھ خودبخود جڑ گئے۔ سامنے زیغم سرکار کھڑے تھے، گہرے نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں، چہرے پر ایک عجیب سی روشنی، دائیں طرف کھڑے شخص کو ملیحہ کی اماں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، مگر انداز بتا رہا تھا کہ وہ بھی کوئی عام شخصیت نہیں تھی۔

“کیوں؟ کیا میں آپ لوگوں کے گھر نہیں آ سکتا؟”
زیغم نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“سائیں! یہ گاؤں آپ کا، ہم آپ کے، مالک آپ۔ جب چاہیں تشریف لائیں، بس… بس یہ گھر آپ کے شایان شان نہیں، اس لیے پوچھا۔”

زیغم نے سر ہلایا، نظر میں نرمی اتری۔
“مالک صرف وہ ذات ہے جو سب کا رب ہے، ہمیں تو اس نے آپ سب کا وسیلہ بنایا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔”
ساتھ کھڑے مائد خان نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔
“السلام علیکم!”

“وعلیکم السلام، سائیں!”
ملیحہ کی اماں نے عقیدت سے سر جھکایا۔

“اندر آ کر بیٹھیے، ہمارے لیے تو خوش نصیبی ہے کہ آپ ہمارے گھر آئے۔”
“ملیحہ کے ابا، دیکھو! زیغم سرکار ہمارے گھر آئے ہیں، اور ساتھ میں جو شخصیت ہیں، ہم انہیں نہیں جانتے، مگر یہ بھی قابلِ قدر ہیں۔”

ملیحہ کے بابا نے اپنی ویل چیئر کو آہستہ سے گھمایا، چولہے کے قریب روشنی میں ان کا چہرہ واضح ہوا۔ ہاتھوں کو اپنی چادر پر رکھتے ہوئے عقیدت سے بولے:
“سرکار! ہمارے گھر تشریف فرمائیں، ہمارے لیے یہ لمحہ کسی نعمت سے کم نہیں۔”
سادگی، محبت، عقیدت، سبھی جذبات اس چھوٹے سے صحن میں سمٹ آئے تھے۔ باہر چاند کی مدھم روشنی، اندر لکڑی کے چولہے کی ہلکی آنچ، اور بیچ میں بیٹھے لوگ یہ سب ایک خوبصورت کہانی بن چکے تھے، ایک سادہ مگر دل کو چھو لینے والا لمحہ تھا۔ زیغم اور مائد اندر داخل ہو چکے تھے۔ چولہے کی روشنی میں دونوں کی پرکشش شخصیت مزید نمایاں ہو رہی تھی۔ ملیحہ اور فاریہ فوراً اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئیں۔ انداز بتا رہا تھا کہ یہ لوگ کسی اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اور حقیقت بھی یہی تھی۔ دونوں کی شخصیت ایسی تھی کہ نظریں خودبخود ٹھہر جاتیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک وجیہہ، رعب دار مگر دھیما انداز، جیسے کوئی خاص کشش ہو۔

فاریہ نے ہلکی سی کہنی ملیحہ کے بازو پر ماری اور سرگوشی میں بولی:
“ہائے اللہ! یہ دو چاند زمین پر کیسے اُتر آئے ہیں؟”
لبوں پر شرارت بھری مسکراہٹ تھی۔

ملیحہ نے فوراً اسے گھورا۔
“زبان بند رکھ! سن نہیں رہی تھی اماں کہہ رہی تھیں کہ سرکار زیغم آئے ہیں۔ مطلب یہ ہمارے گاؤں کے سرکار ہیں، اس لیے فضول باتیں مت کر، چپ رہ۔”

ملیحہ کے بابا نے خوش دلی سے سینے پر ہاتھ رکھ کر زیغم اور مائد کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“آئیں سائیں! بسم اللہ کیجیے، یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ سرکار نے ہمارے گھر قدم رکھا۔”
ان کی آنکھوں میں عاجزی تھی، مگر لہجے میں خوشی نمایاں تھی۔
صحن میں اندھیرا سا تھا، بس چولہے کی ہلکی روشنی اور کمرے کے اندر جلتی واحد بلب کی روشنی باہر تک آ رہی تھی۔ باہر روشنی کا کوئی خاص انتظام نہیں تھا، اس لیے ملیحہ کی اماں نے جلدی سے ملیحہ کو اشارہ کیا کہ مہمانوں کے لیے اندر جگہ بنائی جائے۔ ملیحہ اور فاریہ فوراً اندر گئیں، دو موڑے گھسیٹ کر رکھے اور چارپائی پر جلدی سے ایک صاف چادر ڈال دی۔ گھر میں کوئی خاص فرنیچر نہیں تھا، سادگی ہر طرف جھلک رہی تھی۔ غربت خاموشی سے اپنا حال بیان کر رہی تھی، لیکن اس سادگی میں بھی ایک وقار تھا۔ گھر کی معمولی سی کمائی کا بڑا حصہ ملیحہ کے بابا کے علاج پر خرچ ہو جاتا تھا، یہی وجہ تھی کہ وسائل محدود تھے مگر مہمان نوازی میں کہیں کوئی کمی نہیں تھی، چہرے پر وہی عقیدت، وہی خلوص۔

“ملیحہ جلدی سے دودھ میں پتی ڈال کر لے کر آ۔”
اس کی ماں نے آہستہ سے کہا۔

“دیکھیں، آپ کو تکلف کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابھی روزہ افطار ہوا ہے، تو ہم سب کچھ کھا کر آئے ہیں۔ پلیز، آپ ہمارے پاس آ کر بیٹھیں، ہمیں آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔”
زیغم نے ان کو بے چین سا ہوتے دیکھ منع کیا تھا۔

“نا سائیں! ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟”
ملیحہ کے بابا نے عقیدت سے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

“مانتے ہیں کہ ہمارے پاس نہ شایانِ شان برتن ہیں نہ کھانے کے خاص وسائل، مگر دل کی حسرت ہے کہ آپ ہمارے گھر آئے ہیں، تو کچھ نہ کچھ کھا کر جائیں، ورنہ ہماری کیا اوقات کہ کم از کم آپ کی مہمان نوازی کر سکیں؟”

“ایسا نہیں کہتے!”
زیغم نے دھیمے لہجے سے مسکرا کر مائد کی طرف دیکھا۔

“ٹھیک ہے، آپ بنوائیں، ہم ضرور پیئیں گے۔”
مائد نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
وہ دونوں جانتے تھے کہ غریبوں کا دل تو پہلے ہی حالات کی سختیوں سے آزمایا ہوتا ہے، اس پر مزید بوجھ ڈالنا کہاں کی عقلمندی تھی؟ اور یہاں تو وہ اپنے بھائی کی خوشیاں لینے آئے تھے، کیسے کسی کو آزردہ کر سکتے تھے؟

“جی سائیں، بہت مہربانی! آپ ہمارے گاؤں کا چڑھتا ہوا سورج ہیں، جس کے آنے سے ہمارے گاؤں کے اندھیرے مٹ گئے۔ آپ ہمارے لیے فرشتوں سے کم نہیں۔ خدا آپ جیسا بیٹا ہر ماں باپ کے گھر میں پیدا کرے!”
ملیحہ کی ماں نے عاجزی سے کہا، تو زیغم کی نظریں لمحہ بھر کو جھک گئیں۔ شاید وہ بھی اسی ماں کی دعاؤں کا محتاج تھا، جو سادگی میں محبت بکھیررہی تھی۔ بے اختیار زیغم کو اپنی اماں سائیں کی یاد آ گئی۔ اس کا دل ایک دم ماضی کے دریچوں میں جا اُترا۔ وہ اپنی اماں سائیں سے بے حد محبت کرتا تھا، مگر وہ بہت جلد زیغم کو چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ یہ حسرت زیغم کے اندر ایک معصوم بچے کی طرح دبی ہوئی تھی۔ ایک ایسی تشنگی، جو وقت کے ساتھ اور بڑھتی جا رہی تھی۔ جب بھی وہ کسی بزرگ عورت کو دیکھتا، خاص طور پر ضرورت مند اور سادہ دل خواتین کو، تو اس کے اندر وہی بے بسی جاگ اٹھتی۔ دل میں ایک کسک سی محسوس ہوتی کہ “میرے پاس میری اماں سائیں کیوں نہیں؟” زیغم کے لیے اس بات کی کبھی اہمیت نہیں رہی کہ کوئی عورت کسی بڑے طبقے سے تعلق رکھتی ہے یا کسی غریب گھر کی ہے۔ اس کے لیے ماں، صرف ماں تھی۔ وہ رُتبہ، جو کسی فرق، کسی حیثیت کا محتاج نہیں ہوتا۔
زیغم اور مائد حال احوال پوچھنے میں مصروف تھے، جبکہ فاریہ مسلسل ملیحہ کو چھیڑے جا رہی تھی۔

“یہ بتا، جناب! تمہارے گھر میں اب بڑے سرکار کیوں آئے ہیں؟”
وہ شرارت سے سرگوشی میں بولی۔

“پہلے وہ بڑی سی گاڑی والا شہزادہ تمہارے پیچھے دیوانہ ہوا پھرتا تھا، اب یہ آ گئے ہیں! کچھ خاص بات ہے کیا؟”

ملیحہ نے فوراً آنکھیں نکالیں۔
“زبان بند رکھ! زیادہ بولے گی تو اماں سن لے گی، پھر جو ہوگا وہ تمہیں ہی بھگتنا پڑے گا!”
چائے بنانے میں تین منٹ بھی نہیں لگے تھے۔ ملیحہ جلدی سے چائے تیار کر کے لے آئی اور ڈش میں سجے دو کپ ٹیبل پر رکھ دیے۔ جیسے ہی اس نے کپ سامنے رکھا، زیغم اور مائد نے ایک ساتھ نظر اٹھا کر دیکھا۔ اب گھر میں دو لڑکیاں تھیں، اور دونوں ہم عمر تھی۔ مائد اور زیغم تو الجھ گئے تھے کہ ،آخر رشتہ کس کا مانگنا ہے؟
زیغم کی نظریں بے ساختہ ملیحہ کی طرف اٹھیں، مگر فوراً ہی اس نے خود پر قابو پا لیا۔ گاؤں کا جرگہ سنبھالنے والا سردار، ایک کامیاب وکیل، اور ہر گتھی کو سلجھانے والا شخص، زیغم سلطان کے لیے کسی بھی معاملے کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں تھا۔کس گھتی کو کیسے سلجھانا ہے اسے خوب آتا تھا۔

“ماشاءاللہ! یہ دونوں آپ کی بیٹیاں ہیں؟”
زیغم نے تصدیق کے لیے پوچھا۔

ملیحہ کی ماں نے نرمی سے جواب دیا:
“بیٹیاں تو یہ دونوں ہیں، مگر یہ ہماری اپنی بیٹی ہے اور یہ اس کی خالہ زاد بہن ہے، لیکن ہمارے لیے دونوں برابر ہیں۔”
یہ سنتے ہی زیغم کے دل میں سکون سا اترا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ جو ان کی بیٹی ہے، وہی اس کے بھائی کی پسند ہے۔ زیغم سلطان نے ایک نظر ملیحہ پر ڈالی۔ “پسند تو اچھی ہے میرے بھائی کی…” زیغم نے دل ہی دل میں سوچا اور ہلکا سا مسکرا دیا۔۔ملیحہ فاریہ کے ساتھ چولہے کے پاس جا کر بیٹھی باتیں کر رہی تھی، اس حقیقت سے انجان کہ ان کی زندگی کا ایک نیا باب کھلنے والا تھا۔ زیغم سلطان نے ایک نظر لڑکی کو دیکھا اور خاموش ہو گیا۔

“ہم آپ کے دروازے پر امید کی جھولی لے کر آئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ ہمیں خالی ہاتھ نہیں بھیجیں گے۔”
زیغم سلطان نے بہت سادگی سے اور گاؤں کے رکھ رکھاؤ والے انداز میں رشتہ لینے کی بات شروع کی تھی۔

“سائیں! ہم آپ پر قربان جائیں، ہمارے گھر میں ہمارے پاس ایسا کیا ہے جو ہم اپنے سائیں کے قدموں میں رکھ سکیں؟”
“ہم آپ کو کہاں کچھ دینے کے قابل ہیں؟”
ملیحہ کے بابا نے شرمندہ سی نظروں سے کہا۔

“ہمیں آپ کی سب سے قیمتی چیز چاہیے، اور ہم بڑی امید سے آئے ہیں کہ آپ ہمیں انکار نہیں کریں گے۔”

“میں سمجھا نہیں سائیں۔”
ملیحہ کے بابا نے حیرانی سے دیکھتے ہوئے۔

“ہمیں اپنے بھائی کے لیے آپ کی بیٹی کا ہاتھ چاہیے۔ ہم با عزت طریقے سے آپ کی بیٹی کو اپنے گھر کی بہو بنانا چاہتے ہیں۔”
زیغم کے یہ الفاظ ملیحہ اور فاریہ بھی سن چکی تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کو حیران نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ ملیحہ کا بابا، ملیحہ کی اماں حیران تھے۔ کہاں زیغم سلطان کی اونچی حویلی، شان و شوکت، رتبہ، اور کہاں ان کا بوسیدہ سا جھونپڑی نما گھر، جہاں دو وقت کی روٹی کا گزر بسر بھی مشکل سے ہوتا تھا۔ جن کے ہاں ملازم بھی سوچ سمجھ کر رکھے جاتے تھے، وہ وہاں سے ان کی بیٹی کے لیے رشتہ مانگ رہے تھے۔ یہ ان کے لیے حیرانی کی بات تھی۔ کچھ دیر کے لیے تو ماحول میں خاموشی چھا گئی۔ کوئی جواب ہی نہیں تھا جو دے پاتے۔

“ہم آپ کے جواب کے منتظر ہیں اور اچھی خبر لے کر جانا چاہتے ہیں…”
مائد خان نے ماحول کی خاموشی کو توڑتے ہوئے سنجیدہ انداز میں کہا۔
ملیحہ کے بابا نے بے اختیار اپنی بیوی کی طرف دیکھا، جو گم صم بیٹھی تھی۔ یہ فیصلہ ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ ملیحہ اور فاریہ، جو چولہے کے قریب بیٹھی سب سن رہی تھیں، ایک دوسرے کو خاموش نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔

“سائیں، یہ بہت بڑا فیصلہ ہے… ہمیں کچھ وقت دیجیے…”
ملیحہ کے بابا نے بمشکل کہا۔ ان کے لہجے میں عاجزی تھی، مگر دل میں بے شمار سوالات۔

زیغم سلطان نے سر ہلایا، وہ ان کی الجھن سمجھ رہا تھا۔
“ہم جواب لے کر جائیں گے… کیونکہ جو چیز قسمت میں لکھی ہو، اس میں دیر کیسی؟”
سامنے رکھی ہوئی چائے کا کپ اٹھا کر لبوں کو لگاتے ہوئے، سپ لیتے ہوئے زیغم سلطان نے مائد کی جانب بھی چائے کا کپ بڑھا دیا تھا تاکہ وہ لوگ تھوڑا کمفرٹیبل فیل کریں۔

“سائیں، آپ ہمارے گھر آئے، یہ بات ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، مگر جو بات آپ کہہ رہے ہیں، اس نے ہمیں سکتے میں ڈال دیا ہے۔ ہماری اوقات آپ کے گھر نوکر بن کر جانے کی نہیں، اور آپ ہماری بیٹی کو سر کا تاج بنانے کی بات کر رہے ہیں؟”
ملیحہ کے بابا کا لہجہ بھرا ہوا تھا، الفاظ دل کی گہرائیوں سے نکل رہے تھے۔ بات کرتے ہوئے ان کے لہجے میں زیغم سلطان اور مائد کے لیے ریسپیکٹ بھی تھی اور اپنی بیٹی کے لیے پریشانی بھی۔

“سائیں، پاؤں کی جوتی کو اگر سر کا تاج بنا بھی لیا جائے، تو زیادہ دیر لوگ اسے قبول نہیں کرتے… اور میری ایک ہی بیٹی ہے، میں نہیں چاہتا کہ وہ رل جائے…”
انہوں نے بے بسی سے کہا، نظریں جھکائے، ان کی عزت نفس کسی کڑے امتحان سے گزر رہی تھی۔ وہ ہاتھ جوڑے نظر جھکائے بات کر رہے تھے۔ مائد خان اور زیغم سلطان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، وہ پہلے سے ہی یہ خدشات سمجھ چکے تھے۔ یہ رشتہ اور اس کی الجھنیں وہ پہلے سے سوچ کر آئے تھے مگر فلحال وہ خاموشی سے ان کی بات سن رہے تھے اطمینان کے ساتھ۔
ملیحہ کی ماں نے کانپتے ہاتھوں سے دوپٹے کا پلو مروڑا، نظریں اپنی بیٹی پر جا ٹکیں، جو چولہے کے پاس خاموشی سے بیٹھی تھی، اس کے چہرے پر کئی سوالات تھے، مگر زبان خاموش تھی۔

“اگر زیغم سلطان آپ کے دروازے تک آیا ہے، تو سوچ سمجھ کر آیا ہے۔ اگر آپ کو مجھ پر یقین ہے، تو بے فکر ہو کر اپنی بیٹی کا ہاتھ میرے بھائی کے ہاتھ میں دے دیں۔ ہر طرح کی ذمہ داری میں اٹھا رہا ہوں، ذرا سی بھی کوتاہی نہیں ہوگی۔ آپ کی بیٹی کو وہی عزت ملے گی، جو سلطان کے گھر کی بہو بیٹیوں کو ملنی چاہیے!”
زیغم سلطان کے لہجے میں ٹھہراؤ اور وقار تھا۔
ملیحہ کے والد نے بے اختیار ایک گہری سانس لی، نظریں ملیحہ کی ماں کی طرف اٹھائیں، جو خود بھی گم سم بیٹھی تھی۔

“آپ اپنی بیٹی کی رضامندی پوچھ کر مجھے جواب دیجیے۔ اگر آپ کا جواب نہ میں بھی ہوا، تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوگا کہ میرے رویے میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ نہ کوئی ناراضی ہوگی، نہ کوئی دشمنی۔ آپ کا سردار ویسا ہی رہے گا جیسا ہے!”
زیغم کی بات میں وقار تھا، وہ اپنے ہر لفظ کی گواہی دے رہا تھا۔

“آپ سوچ وچار کر کے اپنا فیصلہ سنائیں۔ انکار کی صورت میں یہ بات یہیں ختم ہو جائے گی، مگر مجھے خوشی ہوگی اگر آپ مجھے یہاں سے…”
وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر نظریں جھکا کر بولا:
“خوشی کی خبر دے کر رخصت کریں۔”
ماحول پر گہرا سکوت طاری تھا۔ باہر ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔

“ٹھیک ہے سائیں، آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ اگر واقعی ہماری بیٹی آپ کے گھر اس خوش نصیبی کے ساتھ رہے گی، تو اس سے بڑی بات ہمارے لیے اور کیا ہوگی؟”
“مگر، سائیں، یہ ضرور سوچ لیں کہ اس حویلی میں وہ لوگ بھی رہتے ہیں…”
ملیحہ کا بابا کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ اس کا اشارہ توقیر لغاری کی طرف تھا۔

“آپ بے فکر رہیں، میرے ہوتے ہوئے آپ کی بیٹی کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔”
زیغم نے تسلی بخش انداز میں کہا۔ مائد خان نے ایک نظر زیغم کی طرف دیکھا، جبکہ مائدکی آنکھوں میں تجسس تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ زرام، توقیر لغاری کا بیٹا ہے؟ زیغم کی آنکھوں کا اشارہ واضح تھا۔ “خاموش رہو۔”

“ٹھیک ہے، جب آپ ہر چیز کی ذمہ داری لے رہے ہیں، تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔”
ملیحہ کے بابا نے تسلی بخش انداز میں کہا۔

“ہمارے لیے یہ کسی معجزے سے کم نہیں کہ جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگ لائن میں کھڑے ہوتے ہیں، وہ سرکار خود ہمارے گھر آئے ہیں، ہماری بیٹی کا ہاتھ مانگنے۔ ہماری طرف سے ہاں ہے!”

“نہیں، پہلے آپ لڑکی سے پوچھیں۔ اس کی رضامندی بہت معنی رکھتی ہے۔ اس کا اقرار ہو یا انکار، دونوں ہمیں منظور ہوں گے، مگر جو حق خدا نے دیا ہے، وہ ہم چھین نہیں سکتے۔ آپ اپنی بیٹی کی رائے ضرور لیں، پھر جواب دیجیے گا۔”

“سائیں، ہماری بیٹی ہمارے فیصلے کے خلاف نہیں جائے گی۔”
ملیحہ کی ماں نے نرمی سے کہا۔

“پھر بھی، ہم چاہیں گے کہ آپ اپنی بیٹی سے اجازت لیں، یہ اس کا حق ہے۔”

“زیغم ٹھیک کہہ رہا ہے۔”
مائد نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔

“ٹھیک ہے، سائیں، میں ابھی پوچھ کر آتی ہوں۔”
ملیحہ کی ماں اٹھ کر کمرے سے باہر نکلی اور تھوڑی دور چولہے کے پاس بیٹھی ملیحہ اور فاریہ کے قریب جا کر بیٹھ گئی۔

“ملیحہ، بیٹا، تم سب باتیں سن چکی ہو۔ بتاؤ، میرا بچہ، تمہارا فیصلہ کیا ہے؟”
“مگر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا کہ یہ وہی شخص ہے، جس کی وجہ سے تم اپنے گاؤں، اپنے ماں باپ کے پاس واپس آ سکی ہو۔”
ملیحہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر اپنی ماں کے چہرے کی طرف دیکھا۔

“اماں، آپ کا جو فیصلہ ہوگا، میرے سر آنکھوں پر۔ میں کبھی آپ کے فیصلے کے خلاف نہیں جاؤں گی۔ میرے لیے آپ اور بابا سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ جو فیصلہ آپ کریں گی، وہی میرا فیصلہ ہوگا۔ میری طرف سے اجازت ہے۔”
وہ نظریں جھکا کر آہستہ سے بولی۔

“شاباش میری بچی! مجھے تم پر یہی یقین تھا۔ انشاءاللہ تم خوش رہو گی۔ یہ تمہاری خوش قسمتی ہے کہ جس گھر میں نوکر بھی سوچ سمجھ کر رکھے جاتے ہیں، وہاں سے میری بیٹی کے لیے رشتہ آیا ہے۔ یہ تو اللہ کا کرشمہ ہی ہو گیا!”
ماں نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے محبت سے کہا اور واپس پلٹ گئی جبکہ فاریہ ہونقوں کی طرح اسے تکے جا رہی تھی۔

“ملیحہ! تم ایسا کیسے کر سکتی ہو؟”
اس کی ماں کے جاتے ہی وہ فوراً بولی۔

“کیا مطلب؟”

“مطلب یہ کہ تم اتنی معصوم مت بنو!”
وہ دانت پیستے ہوئے بولی۔

“مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ زرام تمہیں کتنا پسند کرتا ہے، پھر بھی تم نے اس رشتے کے لیے ہاں کر دی؟ کیونکہ یہ اس سے زیادہ امیر ہیں؟”

“فاریہ، فضول باتیں مت کرو!”
“میرے بابا نے کتنے مان سے کہا کہ ‘ہماری بیٹی ہمارے فیصلے کے خلاف نہیں جائے گی’… کیا کرتی میں؟ اپنے بابا کا دل توڑ دیتی؟”
“ان سے کہتی کہ ان کی بیٹی نے شہر جا کر تعلیم حاصل کر لی ہے اور نئے عاشق بھی پیچھے لگا لیے ہیں؟ یہ بتاتی انہیں؟”

“ملیحہ! زرام بھائی تم سے بہت پیار کرتے ہیں، یار! تم کیسے اس طرح انہیں دھوکہ دے کر چھوڑ سکتی ہو؟”
“وہ پاگل ہے تمہارے لیے!”

“ہاں تو پاگل کو پاگل رہنے دو، میں کچھ نہیں کر سکتی اور چھوڑنے کی بات تو تب ہو جب میں نے ان کو پکڑ رکھا ہو!”

“اتنے بڑے گھر سے رشتہ آیا ہے، اس لیے زرام بھائی کو ٹھکرا رہی ہو؟”
“جبکہ وہ بھی کسی غریب گھر سے تعلق نہیں رکھتے!”

“فاریہ! تم فضول میں مجھ سے الجھ رہی ہو۔ اگر یہ رشتہ کسی جھونپڑی والے کے گھر سے بھی آیا ہوتا، میں تب بھی ہاں کر دیتی! میرے لیے میرے بابا کی بات بہت معنی رکھتی ہے۔ بڑی قسمت سے مجھے اپنے اماں ابا کے قریب رہنا نصیب ہوا ہے، میں ان کے چہروں پر درد نہیں دیکھ سکتی!”
“اور جہاں تک زرام کی بات ہے، تو امیر زادے نے دو چار دن، دس دن میں مجھے بھول جانا ہے۔ میں کوئی حسین زادی یا امیر زادی نہیں ہوں جو ہمیشہ اس کے دل میں بسی رہوں گی۔ یہ چار دن کی محبت تھی، بھول جائے گا اور پھر اپنے جیسے کسی اسٹیٹس والی لڑکی سے شادی کر لے گا۔”
“مجھے تو اس رشتے پر بھی کوئی بھروسہ نہیں ہے کہ یہ لوگ کیوں میرے جیسی غریب لڑکی کو اپنی حویلی کی بہو بنا کر لے جانا چاہتے ہیں۔ ان بڑی بڑی حویلیوں کے بڑے بڑے راز ہوتے ہیں۔ میں تو اپنی ہی زندگی کی کشمکش میں گری ہوئی ہوں، میں کیا کسی اور کی سوچوں!”
وہ خاموش ہو گئی، نظریں چولہے کی لو پر جم گئیں۔

“بہت غلط کر رہی ہو، بہت زیادہ!”
“مرضی ہے تمہاری، تمہاری زندگی ہے، جب دل میں آئے، جو دل میں آئے، کرو!”
فاریہ غصے سے اس کے قریب سے اٹھ کر دور جا کھڑی ہوئی جبکہ ملیحہ خاموشی سے چولہے کی لو کو دیکھ رہی تھی، عجیب سی کشمکش میں گھری ہوئی۔

“کیوں میرا رشتہ لینے آئے ہوں گے؟”
“کیا لڑکے میں کوئی خرابی ہوگی؟”
“کہیں لڑکا پاگل تو نہیں؟ یا شاید لڑکے کی پہلے شادی ہوئی ہو اور اس کی محبت… اس کی پہلی بیوی ماں نہیں بن سکتی ہو، اس لیے مجھے قربانی کا بکرا بنا کر لے جا رہے ہیں یا پھر کچھ اور؟”
“آخر مجھے اتنے بڑے گھر کی بہو بنانے کا کوئی تو لاجک ہوگا!”
وہ خود ہی سوچوں میں الجھی جا رہی تھی، دماغ میں ہزاروں سوالات گردش کر رہے تھے، جبکہ فاریہ فون پر ٹائپنگ میں مصروف تھی۔ اندر، رشتے کے لیے ہاں ہو چکی تھی۔ باہر کھڑے رفیق کو فون کر کے زیغم نے اندر آنے کو کہا۔ مٹھائی کے ٹوکرے پہلے ہی ساتھ لائے گئے تھے، شاید امید تھی کہ جواب ہاں ہی ہوگا۔
°°°°°°°°°°
زرام موبائل کی اسکرین پر ملیحہ کی تصویر دیکھتے ہوئے بے قراری سے الٹا، پیٹ کے بل لیٹا تھا۔

“محترمہ! کیوں تم نے میری راتوں کی نیند اور دن کا چین حرام کر رکھا ہے؟”
وہ زیرِ لب بڑبڑایا، تصویر کو مزید غور سے دیکھتے ہوئے۔

“آ جاؤ اور سنبھال لو مجھے… شدت سے تمہارا انتظار ہے۔”
وہ بے بسی سے گہرا سانس لے کر کروٹ بدل گیا۔

“زیغم بھائی پتہ نہیں کب جائیں گے۔ بات کرنے کے لیے…”
وہ ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے سوچ رہا تھا، دل میں ایک عجیب سی بے قراری لیے۔ زرام کے موبائل کی اسکرین پر آنے والی کال نے اسے سوچوں کے سکوت سے نکالا۔ اس نے چونک کر دیکھا… فاریہ کا نمبر جگمگا رہا تھا۔

“یہ اچانک فاریہ کی کال؟”
وہ حیرانی سے موبائل کو گھورتا رہ گیا، لیکن جیسے ہی کال مس ہوئی، فوراً اسکرین پر ٹائپنگ کے نشانات نمودار ہونے لگے۔ پیغامات ایک کے بعد ایک آنے لگے تھے… اس کا دل بے اختیار تیز دھڑکنے لگا۔ “آخر کیا بات ہو سکتی ہے؟” وہ تیزی سے میسجز کھولنے لگا۔ زرام نے لرزتے ہاتھوں سے موبائل کی اسکرین پر ابھرتے الفاظ پڑھے۔

“ذرام بھائی! ملیحہ کے گھر پر ایک بہت بڑے سردار رشتہ لے کر آئے ہیں اور اس کے اماں ابا نے ہاں کر دی ہے۔ اگر آپ کچھ کر سکتے ہیں تو کر لیں۔ میرا فرض تھا آپ کو بتانا، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتی۔ پلیز… اپنی ملیحہ کو بچا لیں!”

اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔
“نہیں! یہ نہیں ہو سکتا…”
وہ تیزی سے اٹھا، بے یقینی سے دوبارہ میسج پڑھا، جیسے الفاظ بدل جائیں گے مگر حقیقت اپنی جگہ اٹل تھی۔

“ملیحہ… کسی اور کی؟”
اس کی سانسیں بھاری ہونے لگیں۔

“یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”
اس نے موبائل زور سے مٹھی میں دبایا اور جھٹکے سے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔

“مجھے اسے روکنا ہوگا… کسی بھی قیمت پر!”
وہ منہ میں بڑھایا تھا۔

“تم میری ہو، صرف میری، ملیحہ!”
زرام کے لبوں سے وحشت زدہ سرگوشی نکلی۔

“میں تمہیں کسی اور کا نہیں ہونے دوں گا!”
اس کی آنکھوں میں ایک جنون تھا، ایسا جنون جس میں محبت تھی، ضد تھی، بے بسی تھی اور… حد سے بڑھی ہوئی چاہت تھی۔

“یہ واحد، پہلی اور آخری بات ہے جس کے لیے مجھے صحیح اور غلط میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہا!”
وہ موبائل کو مٹھی میں دبائے، ایک لمحے میں فیصلہ کر چکا تھا۔

“اگر دنیا کی ہر حد بھی پار کرنی پڑی، تو کر جاؤں گا… مگر ملیحہ کو کھونے کا تصور بھی میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے!”
سوچتے ہوئے جلدی سے اس نے زیغم کا نمبر ملا دیا تھا۔

“گھر آ کر بات کرتا ہوں، ضروری جگہ پر بیٹھا ہوں!”
زیغم نے فون اٹھاتے ہی کہا۔

“نہیں بھائی! پہلے میری بات سنیں، میری بات سے زیادہ ضروری کچھ نہیں ہے!”
زرام نے ضدی انداز میں کہا۔

“کہا نہ، گھر آ کر بات کرتا ہوں!”
زیغم نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔

“بھائی! میں نے بھی کہا نا کہ ابھی، ابھی میری بات سن لیں، ورنہ اگر میرے ہاتھوں سے کچھ غلط ہو گیا تو پھر مجھے دوش مت دیجیے گا!”

“مطلب؟”
زیغم نے تجسس سے پوچھا۔

“مطلب یہ کہ آپ کیوں نہیں جا رہے ملیحہ کے گھر؟”
“وہاں کوئی بہت بڑا سردار رشتہ لے کر آیا ہے، اور اس کے ماں باپ نے ہاں کر دی ہے! میں گولی سے اڑا دوں گا اس شخص کو، جو میری ملیحہ کو اپنا بنانے کی کوشش کرے گا! وہ میری ہے، صرف میری!”
ذرام حد سے زیادہ گھبرایا ہوا اور غصے میں تھا۔

زیغم سلطان کے لبوں پر ایک گہری، رازدارانہ مسکراہٹ ابھری۔
“ٹھنڈ رکھ، سکون سے بیٹھ… اس وقت میں ہی بیٹھا ہوں ان کے گھر میں، اور میں ہی رشتے کی بات کر رہا ہوں… اور ہاں بھی مجھے ہی کی گئی ہے!”

“کیا؟ آپ سچ کہہ رہے ہیں؟”
زرام نے حیرانی سے پوچھا۔ اس کی لہجے میں بھی یقینی تھی۔ وہ حیرت سے دو بار اپنے فون کو دیکھ چکا تھا۔خوشی اور تجسس کی شدت سے کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھی۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔ اس کی آواز سے اس کے بھائی کو اس کی خوشی اور بے چینی کا اندازہ ہو رہا تھا۔ زیغم سلطان زیر لب مسکرایا رہا تھا۔ اس کے لبوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ تھی، وہ زرام کی بے چینی سے لطف اندوز ہو رہا تھا، مگر آنکھوں میں شرارت تھی۔

“بھائی پلیز بتائیں آپ سچ کہہ رہے ہیں یا مذاق کر رہے ہیں؟”
زیغم کی خاموشی پر زرام نے بے چین سا ہو کر پھر سے پوچھا۔

“ایک بات بتا، پہلے کبھی میں نے جھوٹ بولا ہے؟”
ٹھنڈے لہجے میں کہا۔

“نہیں! کبھی جھوٹ نہیں بولا!”
“میرے بھائی جھوٹ نہیں بولتے!”
“آپ دنیا کے بیسٹ بھائی ہیں، گریٹ ہو یار، آپ گریٹ ہو!”
زرام دل سے یقین کرتے ہوئے اپنی خوشی چھپا نہیں سکا تھا۔
وہ پورے دل سے بول رہا تھا، ہر لفظ میں محبت اور عقیدت شامل تھی۔ بیڈ پر دھڑام سے گرتے ہی اس کی سانس ہموار ہو گئی، دل میں جو بے چینی کی آگ جل رہی تھی، وہ پل میں ٹھنڈی ہو چکی تھی۔

زیغم ہنستے ہوئے بن دیکھے اس کی حالت کو سوچ کر محظوظ ہو رہا تھا۔
“چل، باقی مکھن بعد میں لگا لینا، ابھی ذرا مجھے اپنی ہونے والی بھابھی پلس بہو کو روایتی طریقے سے سندھی نشانی یا جو بھی کہتے ہیں، وہ دینا ہے۔”
وہ مدھم سے قہقہے کے ساتھ بولا، زرام کے جذباتی پن پر لطف اندوز تو ہو رہا تھا مگر اس کے انداز میں اپنے بھائی کے لیے حاصل کر لی گئی جیت کی خوشی بھی تھی، مگر ساتھ ہی اپنی ذمہ داری کا احساس بھی۔

“اللہ تیرا شکر ہے! تُو نے میری دعا سن لی، تُو نے ملیحہ کو ہمیشہ کے لیے میرا کر دیا!”
زرام کا دل شدتِ جذبات سے لبریز تھا، آنکھوں میں عاجزی اور ہونٹوں پر شکر کے الفاظ تھے۔

“اے اللہ! میں تجھے حاضر و ناظر جان کر وعدہ کرتا ہوں، میں کبھی اسے کوئی دکھ نہیں آنے دوں گا، ہمیشہ خوش رکھوں گا، اپنی پلکوں پر بٹھا کر رکھوں گا۔ یہ میری واحد ضد تھی، ایسی خواہش تھی جسے میں روک نہیں پا رہا تھا، مگر تُو نے مجھے غلطی سے بچا لیا۔”
اس نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے دل سے شکر ادا کیا، اپنے رب کے ہر فیصلے پر سجدہ ریز ہونے کو تیار تھا۔ جلدی سے بیڈ سے اٹھا تاکہ نفل ادا کر سکے۔
جب دل کی خواہشیں شدت میں تبدیل ہو جائیں، مگر شرط یہ ہو کہ وہ شدت سچی ہو، تو خدا انہیں یوں پوری کر دیتا ہے جیسے زرام کی دعائیں قبول ہو گئیں۔ بعض محبتیں قسمت کے اوراق پڑھ کر نہیں، دل کی سچائی سے حاصل کی جاتی ہیں۔ کچھ چاہتیں آزمائش بن کر آتی ہیں، مگر جب نیت صاف ہو، تو تقدیر بھی جھک کر راستہ دے دیتی ہے۔
وہ وضو کر کے اپنے سٹڈی روم کی طرف بڑھا، دل میں شکر کے جذبات موجزن تھے۔ قدم خودبخود تیزی سے اٹھ رہے تھے، دل میں بے قراری تھی کہ جلد از جلد رب کے حضور جھک جائے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ آہستہ سے بند کیا، جائے نماز کو سیدھا کیا اور سکون سے اس پر کھڑا ہو گیا۔ نگاہیں جھکائیں، سانسیں ہموار کیں، دل کی دھڑکنوں میں عجیب سا سرور تھا۔

“اللہ اکبر”
کانوں کے لو کو چھوتے ہی جیسے دنیا تھم گئی۔ دل و جان سے سر جھکا دیا، ایسا لگا جیسے ہر بے چینی، ہر اضطراب سجدے میں گر گیا ہو۔ وہ آج رب کے حضور سر بسجدہ تھا، ایک ایسی محبت کے لیے جو اس کی دعا تھی، اس کی ضد تھی، اس کی زندگی تھی۔ یہ سجدہ فقط شکر کا نہیں تھا، بلکہ اس وعدے کی تجدید بھی تھی جو اس نے رب سے کیا تھا کہ وہ اپنی ملیحہ کو ہمیشہ خوش رکھے گا، کبھی کسی دکھ کا سایہ اس پر نہیں پڑنے دے گا۔ آج وہ رب کے فیصلے کے سامنے جھکا تھا، اور اس جھکنے میں ہی اسے اپنی دنیا کی سب سے بڑی جیت محسوس ہو رہی تھی۔
°°°°°°°°°
زیغم سلطان نے ایک لمحے کو پورے کمرے کا جائزہ لیا، پھر آگے بڑھا۔ وقار اور سنجیدگی کے ساتھ پگڑی کو تھاما اور جھک کر احترام سے ملیحہ کے بابا کے سر پر رکھ دی۔

“یہ ہماری طرف سے عزت و احترام کا نشان ہے۔”
لہجہ اپنائیت اور ٹھہراؤ لیے ہوئے تھا، ہر لفظ وقار میں لپٹا ہوا۔
ملیحہ کی ماں نے جیسے ہی یہ منظر دیکھا، ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ خوشی، فخر اور ممتا کے جذبات آنسو بن کر چھلکنے کو بے تاب تھے۔ انہوں نے بے اختیار اپنی بیٹی کی طرف دیکھا، جو شرم سے نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔

“تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم کس کو ٹھکرا رہی ہو؟”
فاریہ، جو ملیحہ کی قریبی دوست اور بہن تھی، بے چین سی آگے بڑھی اور آہستہ سے اس کے قریب سرگوشی میں بولی۔

“زارم تم سے کتنی محبت کرتا ہے، مگر تم نے اس کی محبت کو ٹھکرا دیا!”
اس کے لہجے میں شکوہ تھا، ایک ٹوٹا ہوا دکھ، جو آنکھوں میں جھلک رہا تھا۔
ملیحہ نے آہستہ سے نظریں اٹھا کر فاریہ کو دیکھا، مگر کوئی جواب نہ دیا۔ صرف خاموشی، ایک گہری، بوجھل خاموشی، جو سب کہہ رہی تھی۔ زیغم سلطان ایک بار پھر آگے بڑھا۔ رفیق سے قیمتی تحائف تھامے، اس نے وہ ملیحہ کی ماں کے سامنے رکھ دیے۔

“یہ ہماری طرف سے آپ کے گھر کی رونق کے لیے ہے۔”
لہجے میں وہی بے ساختہ رعب، جو ہمیشہ اس کے ہر لفظ میں جھلکتا تھا۔

“ہمیں فخر ہے کہ ہماری بیٹی کو اتنا عزت دار گھر مل رہا ہے۔ اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں، کم ہے۔”
ملیحہ کے بابا نے گہرا سانس لیا، زیغم کی طرف دیکھا، نظریں جھکائیں اور دھیمے مگر مطمئن لہجے میں کہا۔ ہر جملے میں ایک یقین تھا۔

“آج سے آپ ہماری حویلی کی عزت ہیں، ہمارے بھائی کا مان ہیں۔”
زیغم سلطان آگے بڑھا اور ملیحہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی عمر سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے اسے اپنی حویلی کی بہو کی طرح اپنایا۔ اس کے چہرے پر گہرا وقار اور آنکھوں میں ذمہ داری کی روشنی تھی۔ اس نے جیب سے ایک بڑی رقم نکالی اور ملیحہ کی ہتھیلی پر رکھی۔ سندھ کی روایت تھی کہ رشتے کی نشانی کے طور پر ہتھیلی پر پیسے رکھے جاتے تھے، اور زیغم نے یہی روایت نبھائی۔

“آپ کو ہمارے گھر میں وہی عزت ملے گی جو اس گھر کی بہو کو ملنی چاہیے۔”
ملیحہ نے کانپتے ہاتھوں سے پیسے تھام لیے، دل کی دھڑکن بے ترتیب تھی۔
اندر کہیں نرم و نازک جذبات کروٹ لے رہے تھے، جو کسی کے ساتھ بے اختیار محبت ہو جانے کا پیغام دے رہے تھے مگر اس نے… ان جذبات کو کچل دیا تھا۔ ہر جذبے سے انکار کر رہی تھی۔ اپنے دل کے اندر اٹھنے والی اس خاموش بغاوت کو بے رحمی سے دبا دیا، جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں۔ ملیحہ کی ماں، جو ابھی تک خاموش کھڑی تھی، یکدم آگے آئی۔ آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔ اس نے بے اختیار اپنے ہاتھ جوڑ کر زیغم سلطان کا شکریہ ادا کیا۔

“سردار، آپ نے ہماری عزت کو عزت دی، اس سے بڑھ کر ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔”

زیغم نے فوراً ان کے ہاتھ تھام لیے اور نرم لہجے میں کہا:
“یہ ہاتھ جوڑنے کے لیے نہیں، دعائیں دینے کے لیے ہیں۔بزرگوں کے ہاتھ دعائیں دیتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔”
وہاں بیٹھے سب نے یہ منظر دیکھا اور اس رشتے کی مضبوطی کو محسوس کیا۔ سندھی روایت کی خوشبو ہر طرف بکھر چکی تھی، اور ایک نیا بندھن رسمی طور پر جُڑ چکا تھا۔

“میری ایک چھوٹی سی، اور التجا سے بھری درخواست ہے… اگر آپ لوگ مان لیں، تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔”

“سائیں، آپ حکم تو کریں… ایسے مت کہیں!”
ملیحہ کے ماں باپ نے ایک ساتھ کہا تھا، دل میں ایک ہی احترام کا جذبہ لیے ہوئے تھے۔

“میں چاہتا ہوں کہ عید سے پہلے ہمارے گھر کی بہو کو رخصت کروا کر اپنے گھر لے جائیں۔ عید سے پہلے، میں نکاح کرنا چاہتا ہوں!”
اس کے لہجے میں بےحد سنجیدگی اور فیصلہ کن ٹھہراؤ تھا۔

“سائیں، آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر… مگر ہماری ایک ہی بیٹی ہے۔ آپ کی شانِ شایان تو ہم کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں، مگر ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ ہم اپنی بیٹی کو عزت و وقار کے ساتھ رخصت کریں۔ اپنی حیثیت کے مطابق، تھوڑا بہت ہی سہی، کچھ خریداری کریں، ایک دلہن کا جوڑا ہی بنا لیں، اور مہمانوں کی کچھ خاطر تواضع کر سکیں۔ ہر ماں باپ کی طرح، ہماری بھی یہ خواہش ہے…”
ملیحہ کے بابا نے ادب سے نظریں جھکاتے ہوئے کہا، جبکہ ملیحہ کہ ماں کی آنکھوں میں ممتا کی بھری چمک کے ساتھ نمی بھی جھلک رہی تھی۔

“آپ فکر کیوں کر رہے ہیں؟”
“سب کچھ ہو جائے گا۔ جب آپ اپنی اتنی قیمتی چیز ہمیں سونپ رہے ہیں، تو پیچھے کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔ آپ نے اپنا جگر کا ٹکڑا دے کر ہم پر جو احسان کیا ہے، اس کے علاوہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔ ہر چیز کا انتظام ہو جائے گا۔”
مائد نے کھڑے ہو کر کمر پر ہاتھ باندھتے ہوئے بات کو مکمل کیا۔ زیغم سلطان نے اپنے یار کی بات پر اثبات میں سر ہلا دیا، اس کے ہر لفظ کی تائید کر رہا تھا۔

“مگر سائیں، پھر بھی…”

“آپ پریشان نہ ہوں۔ جو آپ کرنا چاہتے ہیں، وہ سب ہو جائے گا اور جہاں تک مہمان نوازی کی بات ہے، تو ہم زیادہ لوگ نہیں لے کر آئیں گے۔ آپ کو کسی تکلف کی ضرورت نہیں۔ بس چند گواہ، مولوی، دولہا اور ہم ہوں گے۔ آپ کو کسی بھی انتظام کی ضرورت نہیں، یہ میرا حکم ہے۔”
زیغم سلطان کا لہجہ حتمی تھا، اس کے الفاظ میں وہی رعب جو ہمیشہ اس کے فیصلوں میں جھلکتا تھا۔

“اور جہاں تک ہماری ہونے والی بہو کی چیزوں کا تعلق ہے، تو انشاءاللہ، کوئی کمی نہیں ہوگی۔ سب انتظام ہو جائے گا اور وقت سے پہلے سب کچھ گھر پہنچا دیا جائے گا۔ بس آپ ہمیں نکاح کی اجازت دے دیں۔”

“ٹھیک ہے، سائیں۔ جب چاہیں آ جائیں۔ جی بسم اللہ۔ انکار کے لیے تو آپ نے کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔”
ملیحہ کے بابا کے لہجے میں خوشی بھی تھی، بیٹی کو رخصت کرنے کا درد بھی تھا اور زیغم سلطان نے جو ان کو عزت بخشی تھی اس کا فخر بھی تھا۔

“ٹھیک ہے، پھر کل کا دن مقرر ہے۔ کل ہم نکاح کے لیے آئیں گے اور ہمیں خوشی ہے کہ آپ نے ہمیں خوش کر دیا۔ ہم آپ کے احسان مند رہیں گے۔”
مٹھائی کا ٹوکرا کھول دیا گیا۔ فاریہ جلدی سے پلیٹ میں مٹھائی رکھ کر لے آئی مگر اس کے چہرے پر خوشی نہیں تھی۔ وہ اس رشتے پر خوش نہیں تھی، مگر خاموش تھی۔ سب نے مٹھائی کھا لی تھی۔ ملیحہ کی ماں نے اپنی بیٹی کا منہ میٹھا کروا دیا۔ خوش اخلاقی سے سلام دعا کرتے ہوئے سب لوگ وہاں سے رخصت ہو گئے۔

جاتے ہوئے زیغم سلطان نے حتمی انداز میں کہا:
“کل ظہر کے بعد نکاح کا وقت مقرر ہے۔”

“ملیحہ پتر، تُو خوش ہے نا؟”
مہمانوں کے جاتے ہی ملیحہ کی ماں نے جلدی سے اس کے قریب آ کر پوچھا۔

“آپ خوش ہیں، اماں؟”
ملیحہ نے اپنی ماں کے چہرے کے دونوں طرف ہاتھ رکھتے ہوئے، پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

“میں خوش ہوں، بہت خوش ہوں۔”
ماں کی آنکھوں میں نمی جھلکنے لگی۔

“میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری بیٹی اتنے روشن نصیب لے کر پیدا ہوئی ہے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میری بیٹی سچ میں محلوں میں جائے گی؟ میں خوش ہوں، بہت خوش۔ اللہ تیرے نصیبوں میں خوشیاں لکھ دے، میری بیٹی۔ میں نہیں چاہتی کہ تیری زندگی میں وہ دکھ آئیں جو ہم نے دیکھے۔ میرا رب مہربان ہے، اس نے میری سن لی۔”

“بس پھر، آپ خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں۔ میری خوشی تو آپ اور بابا کی خوشی میں ہی چھپی ہوئی ہے۔”
ملیحہ نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کو گلے لگا لیا، پھر ایک نظر آنسو بہاتے ہوئے اپنے بابا کی طرف دیکھا، جو ویل چیئر پر بیٹھے محبت بھری نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے، مگر ضبط کے باوجود ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

“بابا، پلیز روئیں مت۔”
ملیحہ تڑپ کر ان کے پاس پہنچی۔

“میری جھلی، یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔”
بابا نے لرزتے ہاتھوں سے بیٹی کا ہاتھ تھاما۔

“میں خوش ہوں کہ میری بیٹی محلوں میں جائے گی، رانی بن کر راج کرے گی۔ وہ ہم جیسوں کی بیزار، بے رونق اور غربت بھری زندگی نہیں جئے گی۔ ماں باپ کو اور کیا چاہیے؟”
ملیحہ نے آنسو پونچھتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کی، مگر آواز میں نمی برقرار تھی۔

“بس، اب آنسو نہیں بہانے، نہ خوشی کے، نہ غم کے۔ کیا آنسو ہمارے ہی نصیب میں لکھے ہیں؟”
ملیحہ نے گہرا سانس لیا اور نظریں جھکا کر بولی:
“میں نے کوئی شرط نہیں رکھی، مگر کل نکاح میں ایک شرط ضرور رکھوں گی کہ مجھے شادی کے بعد بھی اسکول میں پڑھانے کی اجازت دی جائے۔ میں آپ کے اخراجات خود اٹھاؤں گی۔”

ملیحہ کی ماں نے تڑپ کر بیٹی کی طرف دیکھا، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں، اس کے بابا بول پڑے تھے۔
“نہ بیٹی، نہ! ہمیں تو ہماری اوقات سے بڑھ کر ملا ہے۔ ان کے گھر میں ہماری حیثیت شاید ان کی ملازموں سے بڑھ کر نہ ہو، مگر انہوں نے ہمیں سر کا تاج بنا کر عزت دی ہے۔ میری بیٹی، کوئی شرط مت رکھنا، اپنے بابا کا سر مت جھکانا۔”
بابا نے دھیمے مگر سخت لہجے میں کہا۔

“مگر بابا، میں آپ کا خیال رکھنا چاہتی ہوں، یہ میرا حق ہے۔”

“اگر تو اپنے بابا کی عزت کرتی ہے تو ایسی کوئی شرط نہیں رکھے گی۔ یہ میرا حکم ہے!”

ملیحہ نے نم آنکھوں سے بابا کو دیکھا، پھر ہلکے سے سر جھکا دیا۔
“ٹھیک ہے بابا، جیسا آپ چاہیں گے۔”
اس کا دل بوجھل ہو گیا تھا، جیسے کسی نے اس کی خواہشوں کو قید کر دیا ہو۔ وہ خاموشی سے پلٹی اور کمرے سے نکل گئی۔

باہر آئی تو دیکھا، فاریہ غصے سے منہ پھلائے چارپائی پر بیٹھی تھی۔ ملیحہ نے آہستہ سے اس کے پاس جا کر بیٹھتے ہوئے سرگوشی کی:
“کیا ہوا؟ تمہیں کیا مسئلہ ہے؟”

“تجھے تو جیسے پتہ ہی نہیں کہ مسئلہ کیا ہے۔ اتنی نیک پروین بننے کی ضرورت نہیں!”
فاریہ غصے سے پھونکیں مارتی بولی۔

ملیحہ نے گہری سانس لی۔
“تم کیوں اپنا دل جلا رہی ہو؟”
“وہ امیر زادہ ہے، اسے اپنے جیسی ہزاروں مل جائیں گی۔ خوبصورت ہے، پڑھا لکھا ہے، امیر ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ وہ میرے غم میں ڈوب کر بیٹھا رہے گا؟”
“مجھے تو سمجھ نہیں آتی تمہیں اس سے اتنی ہمدردی کیوں ہے؟”

“عقل کی اندھی! مجھے اس سے ہمدردی نہیں، تم سے محبت ہے!”
“میں چاہتی ہوں کہ تمہیں وہ ملے جو تم سے محبت کرتا ہے۔ اور زرام بھائی کی آنکھوں میں تمہارے لیے بے انتہا محبت ہے۔ مرتا ہے وہ تم پر!”
“تمہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا یا تم ضرورت سے زیادہ شوخی ہو گئی ہو کہ تمہیں اس کی محبت مل گئی ہے، خود کو عظیم ہستی سمجھنے لگی ہو؟”
فاریہ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

“فاریہ، آہستہ بولو! اماں ابا سن لیں گے!”

“تو سن لیں، میں کیا کروں؟ جب منع کیا تھا، تھوڑا صبر کر لیتی!”
“فٹافٹ نکاح کی تاریخ کے لیے بھی حامی بھر دی، رشتہ بھی دے دیا، شگن بھی ہو گئے۔ پتہ نہیں کون سی آگ لگی ہوئی تھی!”

“پہلی بات یہ ہے کہ میں نے فوراً سے نکاح کے لیے ہاں نہیں کی۔ یہ بات تم جانتی ہو اور دوسری بات تم میرے لیے خوش نہیں ہو؟”

“نہیں، میں بالکل خوش نہیں ہوں!”
“نہ لڑکا دیکھا، نہ شکل دیکھی! بس ان کا رتبہ اور روپیہ پیسہ دیکھا! اگر لڑکا جاہل، لنگڑا، لولا ہوا تو؟ کل کو پتہ چلا کہ وہ نامرد ہے۔”

“استغفراللہ! استغفراللہ! کتنا بے باک بول رہی ہو! چپ کر جاؤ!”

“اللہ کرے! میں تو کہتی ہوں، وہ ایسا ہی ہو! نامرد ہو، تاکہ تم صحیح سلامت واپس آجاؤ اور تمہاری شادی پھر زرام بھائی سے ہو جائے!”

ملیحہ کا صبر جواب دے گیا۔ وہ غصے سے تڑپ کر بولی:
“شرم کرو! ہوش کے ناخن لو! کچھ بھی بکتی رہتی ہو!”
“کیا میں تمہارے لیے تماشہ ہوں؟”
“جیسا بھی ہو، لنگڑا ہو، لولا ہو، اندھا ہو، کانا ہو، یا تمہارے کہنے کے مطابق نامرد۔ میں پوری زندگی اسی کے گزار دوں گی، مگر کبھی کوئی گھٹیا حرکت نہیں کروں گی! میرے ماں باپ کے ماتھے پر میری وجہ سے کوئی داغ نہیں لگے گا، سمجھی تم؟”
“اور دوبارہ ایسا کچھ بولا تو میں ہمیشہ کے لیے تم سے دور ہو جاؤں گی۔ کبھی بات نہیں کروں گی!”

“ملیحہ میں تمہاری دشمن نہیں ہوں، میری بات سنو!”
جاتی ہوئی ملیحہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے فاریہ نے تڑپ کر کہا۔

“زرام بھائی تمہارے لیے بہترین ہیں، وہ تم سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، ہم انکار کر سکتے ہیں۔ زیغم سردار کتنے اچھے انسان ہیں، وہ غصہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے خود کہا تھا کہ لڑکی کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا۔ وہ وسیع دل کے مالک ہیں، سمجھ جائیں گے!”

“میں زرام کو پسند نہیں کرتی! بات ختم!”
ملیحہ کی آواز میں سختی تھی۔

“دوبارہ تم نے اس کا ذکر کیا تو مجھے کھو دو گی، فاریہ!”
“میں اپنے بابا کا سر شرم سے جھکنے نہیں دوں گی۔ کتنی شان سے زیغم سردار میرے بابا کے سر پر پگڑی رکھ کر گئے ہیں۔ میری ساری زندگی ان لمحوں کے بدلے قربان، مگر میں ان کے وقار کو مجروح نہیں کر سکتی!”

“ملیحہ، ضد مت کرو، تم اپنی خوشیاں قربان کر رہی ہو!”
فاریہ کی آنکھیں نمی سے بھر گئیں۔

“نہیں، میں اپنی خوشیاں نہیں، اپنے ماں باپ کی عزت بچا رہی ہوں!”
“ماں باپ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا، اور دو دن کی محبت کے لیے میں اپنی ذمہ داری نہیں بھول سکتی!”
“اپنے ماں باپ کی عزت خاک میں نہیں ملا سکتی، فاریہ!”
“میں نے ہمیشہ اپنے بابا کی آنکھوں میں بے بسی دیکھی ہے، لیکن آج پہلی بار ان میں غرور اور مان دیکھا ہے۔ میں یہ خوشی ان سے نہیں چھین سکتی، چاہے میری زندگی کسی بھی موڑ پر کیوں نہ چلی جائے۔ دو دن کی محبت کے لیے میں اپنے ماں باپ کے وقار کو نہیں توڑ سکتی۔ میری قسمت میں جو لکھا ہے، میں اسے خوشی خوشی قبول کروں گی!”
فاریہ نے بے بسی سے ملیحہ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ اس کی آنکھوں میں بے شمار جذبات تھے، مگر ملیحہ کی بات میں اتنی مضبوطی تھی کہ وہ مزید کچھ کہہ نہ سکی۔ فاریہ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ وہ جانتی تھی، ملیحہ فیصلہ کر چکی تھی۔

“ٹھیک ہے… جیسے تمہاری مرضی۔ میں تمہاری خوشیوں سے جیلس نہیں ہوں، بس شاید کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہوں… مجھے معاف کر دینا۔”
فاریہ نے مدھم لہجے میں کہا، مگر اس کے لفظوں میں اب بھی اداسی تھی۔
ملیحہ نے ایک گہری سانس لی، مگر کوئی جواب دیے بغیر پلٹی۔ فاریہ خاموشی سے چارپائی پر جا بیٹھی، موبائل نکالا اور اس میں مصروف ہونے کی کوشش کرنے لگی، مگر اس کی نظریں بار بار دروازے کی سمت اٹھ رہی تھیں، جہاں سے ملیحہ اندر جا چکی تھی۔ ملیحہ نے آہستہ سے دروازہ دھکیلا اور اندر داخل ہوتے ہی اپنی اماں اور ابا پر نظر پڑی۔ اس کے والد اب بھی وہیں بیٹھے تھے، نظریں جھکائے جانے کس سوچ میں گم، جبکہ اس کی ماں آہستہ آہستہ کچھ کپڑے تہہ کر رہی تھی۔

“اماں، بابا…”
اس نے نرمی سے پکارا، مگر آواز میں چھپی ہلکی سی لرزش اس کے دل کی بے قراری کو ظاہر کر گئی۔ اس کی ماں نے چونک کر نظر اٹھائی، اور اس کے والد نے سر گھما کر اپنی بیٹی کو محبت بھری نظروں سے دیکھا۔ ملیحہ نے ہلکی مسکراہٹ سجانے کی کوشش کی، مگر اس کے دل کے اندر ہلچل تھی، جو اس کی آنکھوں میں واضح جھلک رہی تھی۔

“آپ لوگ پریشان ہیں؟”
ملیحہ نے اپنے بابا کے قریب بیٹھتے ہوئے آہستہ سے پوچھا۔

“پریشان نہیں ہیں، خوش ہیں۔”
اسکے بابا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، مگر اس کی آنکھوں میں کچھ اور ہی داستان لکھی تھی۔

“اچھا، پھر یہ خوشی آپ کے چہرے پر کیوں نہیں دکھائی دے رہی؟”
ملیحہ نے پیار ان کے ہاتھ تھام لیے۔
اس کے بابا نے ایک پیار بھری نظر سے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے گہری سانس لی، وہ اپنے جذبات کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

“بیٹی کو رخصت کرنا آسان نہیں ہوتا، اور ہم تو بدقسمت تھے کہ ابتدا سے لے کر آج تک تمہیں خود سے دور رکھا۔ کبھی مہمانوں کی طرح ملنے جاتے تھے، ورنہ تمہیں یاد کرتے کرتے زندگی گزر گئی۔ اب جا کر موقع ملا تھا کہ تم ہمارے پاس رہو، مگر اللہ نے تمہارے نصیب کسی اور کے ساتھ جوڑ دیے… جس کی ہمیں بے حد خوشی ہے، لیکن ماں باپ کا دل ہے نا، تھوڑا دکھی ہو گیا۔”

ملیحہ نے نم آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھا۔
“تو پھر اتنی جلدی کیوں کر رہے ہیں نکاح کے لیے؟”
“ابھی تھوڑا رک جائیں نا…”

“نہ بیٹا، انکار مت کرنا!”
اس کی ماں فوراً سخت لہجے میں بولی۔

“سائیں بہت خوشی سے یہاں سے گئے ہیں، اور اب نکاح سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تم ہماری فکر نہ کرو، ہم بہت خوش ہیں۔ ہر ماں باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی باعزت طریقے سے اپنے گھر رخصت ہو۔”
اسکے بابا نے بھی بیٹی کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا، جیسے اس کی ماں کی بات کی تائید کر رہے ہوں۔ خوشی اور غمی کا انوکھا امتزاج ہواؤں میں گھل چکا تھا۔
°°°°°°°
“کل نکاح ہے، اور نکاح میں تمہیں شرکت کرنا ہے۔ میرے خیال سے کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے۔”
زیغم نے گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی مائد کی جانب دیکھا۔

مائد نے اپنی طرف کا دروازہ بند کرتے ہوئے ایک نظر اس پر ڈالی۔
“جب کہنے کی ضرورت نہیں تو پھر بول کیوں رہے ہو؟”
“میں حاضر ہو جاؤں گا۔ فلحال مجھے گھر جانا چاہیے، بلکہ ہاسپٹل… آغا جان وہاں ہیں، اور تم نے میرا اچھا خاصا وقت ضائع کروا دیا ہے۔”

“چلو، میں تمہیں چھوڑ آتا ہوں۔”
زیغم نے پیشکش کی۔

“نہیں، تم حویلی تک لے چلو، میں اپنی گاڑی سے ہاسپٹل چلا جاؤں گا اور تم جاؤ، دو کام کر لو۔ ایک تو زرام کو جا کر یہ خوشخبری دو، اور دوسرا، میری چھوٹی سی بھابھی کا خیال رکھو، جو کسی الگ دنیا کی مخلوق لگتی ہیں۔”

زیغم کے ماتھے پر شکنیں ابھریں۔
“کیا مطلب؟”

“مطلب یہ کہ جس حویلی تم اُسے لے کر آئے ہو، وہاں سب خون کے پیاسے لوگ رہتے ہیں۔ بچا کر رکھنا انہیں… ہر لمحہ وہ لوگ خونخوار نظروں سے اسے دیکھتے ہیں۔”
مائد نے گہری نظروں سے کہا اور شیشہ نیچے کرتے ہوئے رات کی خنکی کو اندر آنے دیا۔

“ہاں، یہ بات تو ٹھیک ہے۔ سب کے سب درندگی بھری نظروں سے دیکھتے ہیں، اور وہ… وہ بہت معصوم ہے۔ اتنی معصوم کہ کم از کم میرا تو آج تک ایسی کسی لڑکی سے پالا نہیں پڑا۔”
زیغم کے لبوں پر ایک دھیمی مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سا تاثر تھا، جیسے خود کو مہرو کی معصومیت کا یقین دلا رہا ہو۔
مائد نے ایک گہری سانس لی، نظریں سامنے رکھے زیغم کی سنجیدگی کو محسوس کیا۔ وہ اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے بھی اسی ٹھہرے انداز میں بات کر رہا تھا، جیسے اس کی دنیا کا مرکز بدل چکا ہو۔

مائد نے بے اختیار دل میں دعا کی:
“یا اللہ میرے یار کی خوشیوں کو ہمیشہ سلامت رکھنا…”

“بہت پیاری جوڑی ہے تم دونوں کی، اللہ ہمیشہ سلامت رکھے، خوش رہو۔ میری دعائیں ہمیشہ تم لوگوں کے ساتھ ہیں مگر بھابھی کا بہت خیال رکھنا، تم جانتے ہو کہ معصوم لوگوں کے ساتھ یہاں کیا سلوک ہوتا ہے۔ اور ماشاءاللہ جس طرح کی بھابھی لے کر آئے ہو، یہاں تو معصومیت کی انتہا ہوگئی ہے۔ تو ہر سچویشن کے لیے تیار رہنا، آنکھیں چار کر کے رکھنا، زیغم!”

زیغم نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسٹیئرنگ پر گرفت مضبوط کی۔
“بے فکر رہو، آنچ بھی نہیں آنے دوں گا۔ دانیا، ارمیزہ اور مہرو پر… صرف یہ تینوں ہی نہیں، ایک اور ذمہ داری بھی جُڑ گئی ہے۔ ذرام کی بیوی کے لیے جو وعدے کر کے آیا ہوں، اس پر بھی قائم رہنا چاہتا ہوں۔”

“ابھی تک شاید یہ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ ذرام توقیر کا بیٹا ہے۔ جب انہیں یہ حقیقت معلوم ہوگی، تو نجانے کیا طوفان کھڑا ہوگا اور دوسری طرف زرام… وہ بھی نہیں جانتا کہ ملیحہ کے بابا کی ٹانگ کاٹنے والا کوئی اور نہیں، بلکہ اس کا اپنا ہی سفاک باپ ہے۔”
“یہ بھی نہیں جانتا کہ ملیحہ کی ماں کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والا اور کوئی نہیں، بلکہ وہی درندہ صفت شخص ہے، جو بدقسمتی سے اس کا باپ ہے اور یہ لڑکی… یہ بھی نہیں جانتی کہ زرام کا تعلق اسی آدمی سے ہے، جس کی وجہ سے وہ سالوں اپنے ماں باپ سے دور رہی۔ پتہ نہیں جب یہ ساری حقیقتیں کھلیں گی، تو کیا ہوگا… ہاں مگر، اس سب میں ایک امتحان بھی ہے… میرے بھائی کی محبت کا! دیکھنا چاہتا ہوں، وہ کتنا قائم رہ سکتا ہے اپنی محبت پر!”
زیغم سنجیدگی سے کہتے ہوئے بولتا چلا جا رہا تھا اور مائدخاموشی سے سب کچھ سن رہا تھا۔

“مجھے امید ہے کہ زرام اپنی محبت پر کھرا اترے گا، کیونکہ جب سچے دل سے کسی سے محبت ہوتی ہے، تو اسے کسی اور چیز سے فرق نہیں پڑتا۔”
مائد نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔

زیغم نے گہری سانس لی۔
“انشاءاللہ! اللہ کرے ایسا ہی ہو…”
دونوں یار آپس میں اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے حویلی تک پہنچ چکے تھے۔ مائد نے باہر ہی گاڑی سنبھالی، پھر زیغم سے گلے ملتے ہوئے ہاسپٹل کے لیے نکل گیا جبکہ زیغم خوشی خوشی قدم اٹھاتا ہوا حویلی کے اندر داخل ہوگیا۔
°°°°°°
زرام بے چینی سے زیغم کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئی تھی دروازہ کھٹکا۔ زرام نے چونک کر سر اٹھایا۔ زیغم سلطان اندر داخل ہوا، چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

“ہاں کر دی انہوں نے!”
زارم نے بے یقینی سے آنکھیں پھیلائیں۔

“جی کر دی”

سچ…؟ ہاں کر دی؟”
زیغم نے آگے بڑھ کر کھینچتے ہوئے اسے گلے لگا لیا۔

“ہاں جی رشتہ پکا ہو گیا ہے، مبارک ہو! بہت مبارک ہو!”
زارم کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ اس وقت وہ اپنے دل کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا تھا کہ وہ کتنا خوش تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں جہاں اس کی مٹھی میں آگئے ہوں۔

“تھینک یو بھائی! آپ نہیں جانتے، آپ نے مجھے کتنی بڑی خوشی دی ہے!”
“اگر برا نہ منائیں تو میں آپ کو کس کر سکتا ہوں؟”
زیغم نے مصنوعی ناگواری سے اسے پرے کیا۔

“چھی چھی، یہ سب اپنی بیگم کے لیے سنبھال کر رکھو، مجھے نہیں چاہیے!”
زارم نے شرمندہ ہو کر ماتھے پر ہاتھ مارا۔

“کیا ہو گیا آپ کو؟”
“بڑے بھائی کو پیار سے گال پر کس تو کر سکتا ہوں!”

زیغم نے شرارت سے کہا:
” اچھا تو کر لو پھر!”
زارم جھجکا، پھر ہنستا ہوا پیچھے ہٹ گیا۔

“نہیں، اب رہنے دیں، جس انداز میں آپ نے کہا ہے، شرم آ گئی!”
زیغم کی ہنسی گونجی۔ زرام نے بھی مسکراتے ہوئے نظریں جھکا لیں۔ کمرے میں خوشی کا رنگ بکھر چکا تھا۔ زیغم نے کمر پر ہاتھ باندھتے ہوئے سنجیدگی سے زرام کو دیکھا۔

“اچھا، میں نے اپنا کام کر دیا ہے، اب تمہاری باری ہے۔ اپنے ماں باپ کو کس طرح بتانا ہے، یہ تمہارا مسئلہ ہے، کیونکہ میں ان کے منہ نہیں لگنا چاہتا۔”
زارم نے گہرا سانس لیا، نظریں جھکا کر الجھن میں پڑ گیا۔

“بھائی، میں انہیں نہیں بتانا چاہتا، کیونکہ وہ کبھی بھی اس رشتے کے لیے ہامی نہیں بھریں گے۔ الٹا فضول میں بہت سارے مسائل کھڑے کر دیں گے، جو کہ میں نہیں چاہتا۔”

“سوچ لو، تمہارا اپنا فیصلہ ہے، میں اس میں کچھ نہیں کہوں گا۔”
زیغم نے کندھے اچکائے، لہجے میں لاتعلقی تھی۔

“جی بھائی، سوچ لیا۔ میرا یہی فیصلہ ہے، مجھے کسی کو نہیں بتانا۔”
زارم نے نظریں اٹھا کر مضبوط لہجے میں کہا۔
زیغم نے اثبات میں سر ہلایا، پھر فون نکالتے ہوئے ہدایت دی۔

“ٹھیک ہے، پھر ایک کام کرو۔ اپنی بیگم کے لیے شادی کا ڈریس، ولیمے کا ڈریس، اور مہندی کا ڈریس سلیکٹ کرو۔ ساتھ میں جو چیزیں ضروری ہوں، وہ بھی طے کر لو۔ اگر کسی ہیلپ کی ضرورت ہو تو دانیہ سے لے لینا۔”
زارم خاموشی سے سن رہا تھا۔

“لڑکی کے ماں باپ کے لیے بھی اچھے کپڑے اور ضروری سامان بھجوانا۔ اور کسی اچھی پارلر والی کا بھی انتظام کروا دینا۔ سب سامان اور پارلر والی کو کل وقت پر ان کے گھر بھیج دینا، تاکہ تمہاری دلہن کو تیار کر دیا جائے۔”

زیغم نے موبائل کی اسکرین لاک کرتے ہوئے نظر گھمائی۔
“کل افطار کے بعد نکاح ہوگا، اور تمہاری شیروانی میں خود سلیکٹ کر لوں گا۔ اس کی ٹینشن مت لینا۔”
زارم نے گہری سانس لی، چہرے پر سوچ کے آثار نمایاں تھے۔ دل میں خوشی کے لڈو پھوٹ رہے تھے کہ کہاں رشتہ پکا کرنے گیا تھا اس کا بھائی اور کہاں نکاح کی دیر تک لے آیا ہے وہ بھی کل کی۔ زرام کے تو پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے تھے۔ زارم نے آگے بڑھ کر زیغم کے ہاتھ تھامے، آنکھوں میں شکر گزاری کے جذبات نمایاں تھے۔

“بھائی آپ بے فکر رہیں سب کچھ ہو جائے گا لیکن میں کن لفظوں میں آپ کا شکریہ ادا کروں سمجھ نہیں آ رہا آپ نے مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی دی ہے اور اتنی جلدی نکاح کی بات کر کے تو آپ نے جیسے مجھے خرید ہی لیا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں آپ کا یہ احسان کیسے اتاروں…”

زیغم نے نظریں سخت کر لیں، لہجے میں بے لچک فیصلہ تھا۔
“بھائی بھائیوں پر احسان نہیں کرتے اور انعام کے طور پر مجھے صرف اس لڑکی کی خوشیاں چاہییں، اس کے والدین کے چہروں پر جو پریشانی تھی اسے اپنی محبت سے ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا، انہیں برابری دینا!”
زارم نے خاموشی سے سنا، زیغم کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔

“سالوں سے جو روایتیں چلی آ رہی ہیں انہیں توڑ دینا۔ اگر بدقسمتی سے کسی غریب گھر کا رشتہ کسی حویلی کے نوابزادے کے دل پھینکنے پر ہو جائے، تو ساری زندگی اس کے ماں باپ کو پاؤں کی جوتی بنا کر رکھا جاتا ہے، کبھی ماں باپ کو بیٹی سے ملنے نہیں دیا جاتا!”

زیغم کی آنکھوں میں سنجیدگی کی شدت تھی۔
“ایسی کوئی روایت میں اپنی حویلی میں قائم نہیں ہونے دوں گا جب ایک غریب گھر کی لڑکی سے محبت کرنے کی ایک امیر زادہ جرات کر سکتا ہے تو پھر اس کے ماں باپ کو بھی سر کا تاج بنانا سیکھو۔ کسی غریب کی بیٹی کو اپنی محبت بنا کر لے آنے کے بعد اس کے ماں باپ کی عزت اور وقار کو پیروں تلے پیرؤں تلے مت روندا کرو!”
زیغم کے لہجے میں سچائی چھلک رہی تھی۔ زیغم سلطان کا یہ انداز، اس کا لہجہ اس کی رحم دلی، اس کا وقار، اسے سب سے منفرد بناتا تھا۔ وڈیروں کی دنیا میں سب سے الگ سوچ رکھنے والا انسان۔ جس نے حکمرانی کی ایک نئی مثال قائم کر دی تھی۔

“بھائی آپ کو میری طرف سے کبھی شکایت نہیں ہوگی، میں ملیحہ کے ماں باپ کو اپنے ماں باپ کی طرح ریسپیکٹ دوں گا، آپ بے فکر رہیں!”
زارم نے پرعزم لہجے میں کہا۔

زیغم نے اثبات میں سر ہلایا۔
“انشاءاللہ میں یہی چاہتا ہوں کہ ہر قدم پر تم ثابت قدم رہو، عشق کے امتحان تو ابھی باقی ہیں، ابھی تو آغاز ہے، دیکھنا چاہتا ہوں کہاں تک تم کھڑے رہتے ہو!”
یہ کہہ کر زیغم کمرے سے جا چکا تھا مگر زرام گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا زیغم کی آخری بات بے بنیاد نہیں تھی۔ کچھ تھا جو اسے جھنجھوڑ کر رکھ گیا تھا۔
°°°°°°°°
کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ صرف مدھم سی روشنی موبائل کی اسکرین سے جھانک رہی تھی۔ فیصل بستر پر بے سدھ پڑا تھا۔ اچانک فون کی مسلسل بجتی بیل نے اس کے سکون پر حملہ کر دیا۔

“افف… کون ہے جو اس وقت میرا قتل کرنے پر تُلا ہے؟”
فیصل نے نیند میں بڑبڑاتے ہوئے ہاتھ اِدھر اُدھر مارے، جیسے کوئی خزانہ ڈھونڈ رہا ہو۔ کافی جدو جہد کے بعد فون ہاتھ لگا تو جیسے احسان کر کے کال ریسیو کر لی۔

“ہیلو…”
اس کی آواز میں نیند کا پورا جہان آباد تھا۔

“ابے اوئے، ہیلو کے بچے! ہوش میں آ!”
“ہمیشہ سوتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے مرے ہوئے چوزے کی طرح پڑا ہو۔ نیند میں آدھی بات سنتا ہے، آدھی سمجھنے کی کوشش میں اگلے جہان پہنچ جاتا ہے! ہوش میں آ، میں فون کر رہا ہوں!”
زرام کی دھاڑ کانوں کے پردے چیرنے کو تیار تھی۔

فیصل نے جھنجھلا کر آنکھیں بند کیے ہی جواب دیا:
“تُو ہمیشہ موت کا فرشتہ بن کر کیوں آتا ہے؟”
“تُو عین اس وقت جب میں خواب میں حوروں کے ساتھ چائے پی رہا ہوتا ہوں! تجھے اور کوئی وقت نہیں ملتا؟”

“منہ بند کر، میری بات غور سے سن!”
“کل مغرب کے وقت میرا نکاح ہے۔ تُو نہ صرف آئے گا، بلکہ میرے ساتھ شاپنگ بھی کرے گا۔ تیار ہو جا!”
زرام کے الفاظ فیصل کے دماغ پر بم کی طرح گرے۔

“ہیں… کیا بولے جا رہے ہو؟”
“نکاح؟”
“نکاح کس سے؟”
“کب؟”
“کہاں؟”
“کیوں؟”
“کیسے؟”
“بھائی، ایک منٹ، کیا تُو نشے میں تو نہیں؟”
فیصل نے گھبرا کر اٹھتے ہی تکیہ ایک طرف پھینک دیا۔

“ملیحہ سے اور کس سے، گدھے!”
“تھوڑا ہوش میں آ، میں اپنی خوشی تیرے ساتھ سیلیبریٹ کرنا چاہتا ہوں۔ تیرے بغیر میری خوشی ادھوری ہے!”
زرام کی آواز میں خوشی کی لہریں تھی اور یہ خوشی فیصل کے ساتھ سیلیبریٹ کیے بغیر ادھوری تھی اور فیصل صاحب نیند میں آدھی بات سننے کے عادی تھے مگر آج تو اس کی آنکھ کھل گئی تھی اور زرام کی بات پر فیصل نے ایسے جھٹکا کھایا جیسے کوئی نیا آئی فون پانی میں گر گیا ہو۔

“ملیحہ بھابھی مان گئیں؟”
“بھائی، سچ بول، یہ خواب ہے یا حقیقت؟”
“کیونکہ مجھے تو یاد ہے، تُو اسے زہر لگتا تھا۔ اتنا زبردست یو ٹرن؟”
“اب میں شہد لگنے لگا ہوں!”
“اگر تُو ہوش میں آ جائے تو ساری تفصیل بتا دوں؟”
زرام نے طنزیہ انداز میں کہا۔

“یار، ہوش میں آ گیا ہوں، جلدی بول، سچ بول رہا ہے نا؟”
فیصل کے اندر کا جاسوس جاگ چکا تھا۔

“100 پرسنٹ سچ، میرے بھائی!”
“اور اب نکاح میں رنگ بھرنے کے لیے تُو چاہیے۔ کل تُو نہیں آیا تو میں تجھے خود اٹھانے آ جاؤں گا!”
زرام نے دھمکی دی۔

فیصل نے ایک لمبی سانس لی، پھر مسکرا کر بولا:
“اچھا تو یہ بات ہے؟”
“چلو، پھر ایسی دھماکے دار انٹری مارتا ہوں کہ نکاح تو تیرا ہوگا، مگر تو لگے گا دولہن!”

“شٹ اپ! میں کیوں دلہن لگوں گا؟”
“اور تُو صرف انٹری نہیں مارے گا، میرے ساتھ شاپنگ بھی کروائے گا۔ زیغم بھائی نے ساری زندگی کی ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر ڈال دی ہے، اور مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ شادی کے لیے کیا کیا خریدتے ہیں۔”
زرام کی پریشانی واضح تھی۔

“ہاں، ہاں، ظاہر ہے! تجھے تو بس دلہن لانی تھی، باقی سب کچھ آسمان سے نازل ہونا چاہیے تھا!”
فیصل نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔

“بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے تھا!”
“اور اب نہیں ہوا تو تُو کرے گا میری مدد، کیونکہ تیری تو گرل فرینڈز کی لسٹ 13 ہے، تُجھے تو شاپنگ کا پورا تجربہ ہے، ٹھرکی کی مثال!”
زرام نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

فیصل نے فوراً چہرے پر معصومیت طاری کر لی۔
“اوہ اچھا جی! مدد بھی چاہیے اور مجھے ٹھرکی بھی کہہ رہے ہو؟”
“کوئی نہیں، بیٹا، ایک بار تیری شادی ہو جائے نا، پھر دیکھنا ملیحہ بھابھی کیسے تیرے پرزے ڈھیلے کرتی ہیں۔ ملیحہ بھابی جو تمہارا حشر کریں گے نا وہ دیکھنے کے لیے میں بے تاب ہوں!”

“شرم کر دوست ہو کر کسی بددعائیں دے رہا ہے کمینے… مجھے تو پہلے ہی اس سے ڈر لگتا ہے، ہر وقت منہ میں مرچی لے کر گھومتی رہتی ہے!”

“بیٹا تو اسی لائق ہے، تجھے ملیحہ بھابھی جیسی ہی بیوی ملنی چاہیے تھی!”
زرام کی حالت سے فیصل محذوظ ہو رہا تھا۔

“لیکن تُو نہیں جانتا، تُجھے ملیحہ بھابھی کو سونپتے ہوئے میرے دل پر کیا گزر رہی ہے۔ بھائی، تُو نہیں سمجھ سکتا، یہ دل کے معاملے ہیں!”
فیصل نے جذباتی ہو کر کہا۔

“ہاہاہا! اوہ ہو، دل پر گزر رہی ہے یا دماغ پر؟”
“کیونکہ مجھے تو لگ رہا ہے کہ نکاح کے بعد تیری اصل زندگی کی کہانی شروع ہونے والی ہے۔ تمہیں تمہاری گرل فرینڈ سے ملنے کے لیے کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہو گا!”
ذرام نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔

“ہاں یہ بات تو بالکل صحیح ہے، کیونکہ تیرے ہوتے ہوئے میری آدھی سے زیادہ گرل فرینڈز ناراض ہو جاتی ہیں کیونکہ تُو مجھے جانے نہیں دیتا اچھا ہی ہوا تیری شادی ہو جائے گی۔تُو پھنس جائے گا، یااللہ تیرا شکر ہے…”
فیصل خوش دلی سے دعا کرتے ہوئے کہا۔

“اور فکر نہ کر، تیرا بھائی ہے نا، تیری شاپنگ بھی کروں گا اور تیرے سر پر سہرا بھی باندھوں گا۔ بس ایک بار میری پسند کی شیر وانی پہن لینا، تاکہ تُو دولہن ہی لگے!”
فیصل نے شرارت سے کہا۔

“شٹ اپ! میں دلہن کیوں لگوں گا، گدھے؟”
“دیکھ لینا، شادی کے دن میں اتنا ہینڈسم لگوں گا کہ ملیحہ کو خود یقین نہیں آئے گا کہ وہ مجھ سے شادی کر رہی ہے!”
زرام نے خود اعتمادی سے کہا اور ویسے بھی شیروانی زیغم بھائی خود ڈیسائڈ کریں گے ہمیں صرف تمہاری بھابھی اور اس کے گھر والوں کے لیے شاپنگ کرنی ہے۔

“دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے!”
“مطلب کہ اب شیر وانی زیغم بھائی لائیں گے؟”
“وہ تو اپنی پرسنلٹی کے حساب سے کوئی سوبر، اچھی سی لائیں گے، جبکہ میں تو تمہارے لیے کوئی موتیوں اور ستاروں والی بھڑکیلی سی پسند کرتا تاکہ پتہ ہی نہ چل سکے کہ بھابھی کون سی ہیں اور جیجو کون سے!”
فیصل کو شیطانی سوج رہی تھی۔

“چل، تُو اپنے ارمان اپنی شادی پر پورے کر لینا۔ اب میں فون رکھتا ہوں، صبح فری رہنا، میں آ کر تجھے پک کر لوں گا، پھر شاپنگ کرنے چلیں گے۔”

“ٹھیک ہے یار، تُو سو جانا، ایسا نہ ہو کہ تیری پوری رات ملیحہ بھابھی کی یادوں میں کانٹوں پر گزرے اور صبح تُو سویا رہے اور نکاح کا ٹائم گزر جائے!”
فیصل نے شرارت سے کہا۔

“لعنت ہے تجھ پر!”
“کچھ اچھا بھی بول لیا کر۔”
“اللہ نہ کرے کہ مجھے نیند آئے، نیند تو آنی نہیں!”
اس سے پہلے کہ فیصل کچھ اور کہتا، زرام نے ہنستے ہوئے فون بند کر دیا تھا۔
°°°°°°°°

“مزید پڑھنے کے لیے اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کریں

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *