Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:25
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 25
°°°°°
زیغم سلطان گھر پہنچا تو گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی۔ کافی سارا ٹائم اسے زرام کے روم میں بھی لگ گیا تھا۔ وہ دبے قدموں سے سیڑھیاں چڑتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھا، دروازہ آہستہ سے کھولا تاکہ کسی کی نیند خراب نہ ہو۔ مدھم روشنی میں پورا کمرہ ایک سکون بھرا منظر پیش کر رہا تھا۔ کنگ سائز بیڈ پر دو معصوم سی شہزادیاں خوابوں کی دنیا میں گم تھیں… ایک اس کی ننھی بیٹی اور دوسری اس کی پیاری بیوی، مہرو۔ دونوں ایک دوسرے سے یوں لپٹ کر سو رہی تھیں جیسے برسوں کی شناسائی ہو، جیسے ان کے درمیان کوئی اجنبیت کبھی تھی ہی نہیں۔ شاید دونوں نے خوب دل بھر کے باتیں کی تھیں، راز و نیاز بانٹے تھے، اور تھک کر نیند کی آغوش میں چلی گئی تھیں۔ زیغم کے لبوں پر بے اختیار ایک نرم مسکراہٹ ابھری۔ وہ آہستہ سے دروازہ بند کر کے بیڈ کے قریب آیا۔ سکون بھری نیند میں ڈوبے چہروں پر نگاہ ڈالی، پھر جھک کر ارمیزہ کے ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دیا۔ ننھی سی جان نیند میں اور بھی معصوم لگ رہی تھی مگر زیغم کی نظریں وہیں رکنے والی نہ تھیں۔ ساتھ لپٹی مہرو پر اس کی نظر جیسے ٹھہر گئی تھی۔ نیند کی بے خبری میں اس کا دوپٹہ سرک چکا تھا، اور گھنے سیاہ بال جو ہمیشہ چٹیا میں بندھے ہوئے چادر کے اندر چھپے رہتے تھے، آج پہلی بار تھوڑے سے بکھرے ہوئے، کھلے نظر آ رہے تھے۔ زیغم نے کبھی اس کو اس روپ میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ معصوم تھی، واقعی معصوم۔ اس کے چہرے پر کوئی چالاکی، کوئی ملمع سازی نہ تھی، بس پاکیزگی اور سادگی تھی۔ زیغم کا مظبوط دل زوروں سے دھڑکتے ہوئے بے اختیار ہوا تھا۔ بھاری ہاتھ آہستہ سے بڑھا کر اس کے سر پر رکھا، انگلیاں ہلکی سی حرکت کرتے ہوئے بالوں سے ٹکرائیں مگر جیسے ہی لمس کا احساس ہوا، وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ ایک لمحے کو خود کو مہرو کے قریب محسوس کیا، پھر ایک گہرا سانس لیتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔ کمرے میں اب بھی وہی مدھم روشنی تھی، نیند میں کھوئی ہوئی دو روحیں، اور ایک جاگتی آنکھ، جو اس منظر کو ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں محفوظ کر لینا چاہتی تھی۔ وہ کچھ دیر کھڑا رہا تھا حیرانگی کی بات تھی کہ زیغم سلطان سے اپنے مضبوط دل کی بکھری ہوئی دھڑکنیں سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔ آنکھیں بند کیے گہری سانس لی اور پلٹ کر پھر سے مہرو کی جانب دیکھنے لگا تھا۔ زیغم سلطان کی نظریں مہرو کے پر سکون چہرے پر جم سی گئیں۔ مدھم روشنی میں اس کی سادگی اور معصومیت دل میں اترتی جا رہی تھی۔ وہ بے اختیار دھیرے سے مسکرایا، جیسے کسی ان کہی بات کو محسوس کر رہا ہو۔ ایک بار پھر سے وہ آہستہ سے جھک کر اس کے چہرے کو دیکھنے لگا تھا، جو نیند میں بھی کسی معصوم شہزادی جیسا لگ رہا تھا۔ اس کی سانسیں ہموار تھیں، پلکیں جھکی ہوئی، جیسے کوئی خواب بُن رہی ہو۔ زیغم کی انگلیاں بے ساختہ حرکت میں آئیں، مگر پھر رک گئیں۔ مدھم سی سرگوشی اس کے دل سے نکلی تھی۔
“بہت پیاری ہو تم… میرے خوابوں جیسی۔ وہ خواب جو ہمیشہ دیکھے، مگر کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔ تم میں وہ سادگی ہے جس پر میں دل ہار چکا ہوں۔”
اس نے ایک گہرا سانس لیا، نگاہیں مہرو کے چہرے پر ہی مرکوز تھیں۔
“دل میرا ہے، مگر حکومت تمہاری چلنے لگی ہے اور شاید میں خوش ہوں، ہاں خوش ہوں اس قید میں، جو تمہاری محبت نے میرے دل پر ڈال دی ہے۔”
“انتظار رہے گا اس دن کا… جس دن تم مجھے پورے دل سے قبول کرو گی۔ جس دن تمہاری آنکھیں اعتراف کریں گی کہ میں تمہاری زندگی میں محض ایک سایہ نہیں، بلکہ وہ شخص ہوں جو تمہیں ہمیشہ سنبھالنے کے لیے کھڑا رہے گا۔”
وہ بے اختیار اس کے بالوں کی ایک لٹ انگلی پر لپیٹنے لگا، مگر فوراً چونک کر پیچھے ہٹ گیا۔ ایک نرم ہنسی اس کے لبوں پر بکھر گئی۔
“تب تک، دل چاہے لاکھ بے ایمانی کرے، میں کبھی اپنے ایمان پر اسے حاوی نہیں ہونے دوں گا۔ محبت میرا جنون ضرور بنے گی، مگر عبادت کی طرح، پاکیزہ اور صبر آزما۔”
اس نے ایک آخری بار مہرو کو دیکھا، جیسے یہ منظر ہمیشہ کے لیے دل میں بسا لینا چاہتا ہو، پھر آہستہ سے بیڈ کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ نیند سے آنکھیں بوجھل ہونے لگی تھی۔ ابھی اس نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی تھی اس لیے گہری سانس لیتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھا اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔ مہرو کی آنکھ اچانک گہری نیند سے کھل گئی۔ سانسیں تھوڑی تیز تھیں، دل میں ایک بے چینی سی محسوس ہوئی۔ جیسے ہی اسے احساس ہوا، وہ فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
“نماز! میں نے نماز نہیں پڑھی!”
وہ لبوں ہی لبوں میں بڑبڑائی۔
آنکھیں نیند کے خمار میں بوجھل تھیں، مگر ضمیر کی خلش نے جھنجوڑ کر جگا دیا تھا۔ مغرب کی نماز تو ارمیزہ کے ساتھ ادا کر لی تھی، مگر اس کے بعد باتوں میں یوں کھوئی کہ کب نیند نے آ لیا، پتہ ہی نہ چلا۔ جلدی سے بیڈ سے اٹھی، ارد گرد نظریں دوڑائیں۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔ ارمیزہ بے خبر سو رہی تھی، جبکہ اس کے سوا کوئی اور موجود نہیں تھا۔ مہرو نے جلدی سے دوپٹہ وہیں رکھا اور واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ وضو کر نے کے لیے جیسے ہی واش روم کی دروازے کی جانب بڑھی دروازہ کھولتے ہی اس کا پاؤں نیچے رکھے ہوئے پائیدان سے الجھ گیا، وہ لڑکھڑاتے ہوئے زور سے کسی مضبوط وجود سے ٹکرا گئی۔
“آہ اا!”
سب کچھ پل بھر میں دھندلا سا ہو گیا۔مہرو کو لگا تھا کہ آج تو اس کی ہڈی پسلی ٹوٹ ہی جائے گی مگر مہرو کا پیر قالین میں الجھا، توازن بگڑا، اور وہ بری طرح لڑکھڑا گئی مگر گرنے سے پہلے دو مضبوط ہاتھوں نے اسے تھام لیا۔ زیغم سلطان کے طاقتور بازوؤں نے مہرو کی نازک کمر کو سہارا دیا۔ وہ اس کے سینے سے آ لگی تھی، جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔ مہرو کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ سانسیں بے ترتیب ہو گئیں۔ وہ لرزتی پلکوں سے بمشکل اوپر دیکھنے کی ہمت کر پائی، مگر زیغم سلطان کی گہری نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔ اس کی گنی سیاہ چوٹی، اس کی کمر پر جھول رہی تھی۔ زیغم کے وضو سے دھلے چہرے سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، اور کچھ بوندیں مہرو کے سر سے چہرے پر گر گئیں۔ وہ ساکت کھڑی، سانس لینا بھی بھول گئی تھی۔
“مہرو!”
زیغم کی آواز دھیمی مگر گہری تھی۔
مہرو کو جیسے ہوش آیا۔ اس کے سر پر دوپٹہ نہیں تھا، اور وہ اس کے اتنے قریب تھی کہ دل کی دھڑکنیں سنائی دینے لگی تھیں۔ شرم سے پانی پانی ہوتے ہوئے وہ گھبرا کر پیچھے ہٹنا چاہتی تھی، مگر زیغم سلطان کے بازوؤں کی گرفت نے اسے سنبھال رکھا تھا۔ آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تیرنے لگے۔ وہ تیزی سے رخ موڑ کر پلٹی زیغم نے ہاتھوں کی گرفت نرم کر کے اسے جانے دیا۔ وہ بیڈ کی طرف بڑھی، جہاں سے چادر اٹھا کر خود پر اوڑھ لی۔ دل قابو سے باہر تھا۔
“مہرو…”
زیغم نے آہستہ سے اس کا نام پکارا، مگر وہ جواب دینے کے بجائے رخ موڑے خاموش کھڑی رہی۔
“تم رو رہی ہو؟”
زیغم کی آواز میں نرمی تھی۔
“جی… کیونکہ میرے سر پر دوپٹہ نہیں تھا۔ آپ کب آئے؟”
“آپ کو بتانا چاہیے تھا نا۔”
اس کی آواز شرمندگی سے بھیگی ہوئی تھی۔ مہرو کی بے قراری اس کی سادگی پر مونچھوں تلے زیغم کے لب مسکرا دیے تھے۔
“مہرو، تم سو رہی تھی، میں کیسے بتاتا؟”
“اور اگر میں نے تمہیں بغیر دوپٹے کے دیکھ بھی لیا تو کیا ہوا؟”
“تم میری بیوی ہو۔ میرے سامنے تم پر کوئی پردہ واجب نہیں ہے۔”
مہرو کا دل زوروں سے دھڑکتے ہوئے پسلیاں توڑنے لگا تھا۔ زیغم کی بات میں اتنی اپنائیت، اتنا مان تھا کہ وہ مزید کچھ نہ کہہ سکی۔ صرف چہرہ چادر میں چھپا لیا، اور وہ وہیں خاموش کھڑی رہی، دل کی دھڑکنوں میں کچھ ان کہے جذبات لرزتے رہے۔ زیغم سلطان نے گہری سانس لی اور بے اختیار مسکرا دیا۔
“شکر ہے، نیند میں اسے یہ محسوس نہیں ہوا کہ میں پہلے ہی اس کے سر کے بال دیکھ چکا تھا… ورنہ نیند میں بھی اس کی حالت خراب ہو جاتی۔”
وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔ مہرو کی معصومیت اور شرم و حیا کا یہ عالم تھا کہ اگر اسے ذرا بھی اندازہ ہو جاتا، تو شاید وہ نیند میں بھی بے چین ہو جاتی۔ زیغم نے ایک نظر اس پر ڈالی، جو اب بھی چادر میں خود کو لپیٹے ہوئے رخ موڑے کھڑی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ مہرو بے حد نازک مزاج تھی، شرم و حیا اس کی فطرت میں تھی، اور یہی معصومیت تھی جو اسے بے حد خاص بناتی تھی۔اس کی یہی معصومیت پہلی نظر میں اس کے دل میں ایک خاص جگہ بنا گئی تھی۔
“اچھا میری طرف دیکھو، کچھ ایسا نہیں ہوا جس پر تم اس طرح پریشان ہو۔ یہ آنسو بہانے کی ضرورت نہیں، بس مجھے یہ بتاؤ کہ کیوں اٹھی تھی؟”
“واش روم میں جانا تھا؟”
“نہیں… وضو کرنا تھا، نماز پڑھنی ہے۔ میں سو گئی تھی، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب نیند آ گئی۔”
زیغم سلطان نے مہرو کو بغور دیکھا، اس کے چہرے پر پھیلی بے چینی کو محسوس کیا۔ وہ جانتا تھا کہ مہرو کی معصومیت اور شرم و حیا ہی اس کی سب سے خوبصورت پہچان تھی، مگر وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ کسی بے جا جھجک میں پڑ کر خود کو اور پریشان کرے۔ زیغم کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ ابھری۔
“ہمم… تو پھر کر لو وضو، دونوں مل کر نماز پڑھتے ہیں۔ اب میاں بیوی ایک ساتھ نماز تو پڑھ سکتے ہیں، اس میں تو میری بیوی کو شرم نہیں آئے گی نا؟”
مہرو نے حیرت سے زیغم کو نظریں اٹھا کر دیکھا، اس کی بات نے اسے یک دم چپ کروا دیا تھا۔ اس کے لبوں نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر الفاظ ساتھ چھوڑ گئے۔
“آپ پڑھ لیں، میں بعد میں پڑھ لوں گی…”
“کیوں بعد میں، ابھی کیوں نہیں؟”
“ابھی پڑھو میرے ساتھ، میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ جلدی وضو کر کے آؤ۔”
زیغم کے لہجے میں پیار بھی تھا اور حکم بھی، جسے مہرو نظرانداز نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا اور اپنے دوپٹے کو درست کرتے ہوئے وضو کے لیے چلی گئی۔ زیغم کی نظریں اس کا پیچھا کرتی رہیں۔ دل میں ایک عجیب سا سکون اترا کہ مہرو نے اس کی بات مان لی۔ وہ مسکراتے ہوئے جائے نماز کو درست کرنے لگا، کیونکہ آج دوسری بار وہ اور اس کی شریکِ حیات ایک ساتھ اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے والے تھے۔ زیغم کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ ابھری۔ وہ مہرو کی عادت سے خوب واقف تھا۔
مہرو نے وضو کے بعد دوپٹے کو حجاب کی طرح لپیٹ لیا تھا، اس کی آنکھوں میں نیند کی سرخی ابھی باقی تھی، مگر چہرے پر ایک عجیب سا سکون اتر آیا تھا۔ زیغم پہلے ہی جائے نماز بچھا چکا تھا۔ وہ خاموشی سے اس کے برابر آ کر کھڑی ہو گئی۔ کمرے میں ایک خاص تقدس اور خاموشی تھی، صرف مدھم روشنی میں دو سائے تھے جو ایک ساتھ اپنے رب کے حضور جھکنے والے تھے۔
“اللہ اکبر…”
دونوں نے ایک ساتھ سینے پر ہاتھ باندھ لیے۔ زیغم کی گہری آواز میں تلاوت کی مٹھاس تھی اور مہرو کی آنکھوں میں خشوع و خضوع۔ یہ محبت اور عقیدت کا ایسا امتزاج تھا، جہاں رشتے صرف دنیاوی قیود تک محدود نہیں رہتے، بلکہ روح کی گہرائیوں میں جاگزیں ہو جاتے ہیں۔ زیغم کی نظریں سجدے میں جھکی مہرو پر ایک پل کو ٹھہر گئیں۔ اس کی بیوی، جو چند لمحے پہلے ندامت اور جھجک میں لپٹی ہوئی تھی، اب مکمل سکون کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھک چکی تھی۔ وہ منظر اتنا دلکش تھا کہ زیغم کے دل میں ایک عجیب سا سرور دوڑ گیا۔ نماز ختم ہوتے ہی مہرو نے چہرے پر ہاتھ پھیرے اور چپ چاپ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ زیغم سلطان نے بھی اس کے ساتھ دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے، مگر اس کی نظریں دعا مانگتی مہرو کے چہرے پر جا ٹھہریں۔
“یا اللہ… میری دعا کو اس کی دعا کے ساتھ جوڑ دے، اس کے نصیب میں میرا ساتھ اور خوشیاں لکھ دے، اور میرے دل میں اس کے لیے جو محبت ہے، اسے عبادت کی طرح پاکیزہ بنا دے۔”
زیغم نے آہستہ سے ہاتھ چہرے پر پھیرا اور مہرو کی طرف دیکھا، جو ابھی بھی سر جھکائے بیٹھی تھی۔
“مہرو؟”
وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔
“جی”
“میں تمہیں عید پر ایک بہت ہی خاص تحفہ دینا چاہتا ہوں، مگر میں چاہتا ہوں کہ وہ تحفہ تمہاری پسند کا ہو۔ بتاؤ، تمہیں کیا چاہیے؟”
زیغم نے نرمی سے پوچھا۔
“کچھ نہیں، آپ نے پہلے ہی اتنی ساری چیزیں لے دی ہیں۔ اب تو کئی سالوں تک یہ ختم نہیں ہوں گی۔”
جتنی معصوم وہ خود تھی اتنا ہی معصوم اس کا جواب تھا۔
زیغم مسکرائے بنا نہیں رہ سکا تھا۔
“نہیں مہرو، میں تمہیں تحفہ دینا چاہتا ہوں، اور تمہاری پہلی عید پر وہ تمہاری پسند کا ہونا چاہیے۔ بتاؤ، کیا چاہیے؟”
وہ الجھن میں پڑ گئی۔
” کیا کہوں… مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔”
زیغم نے تھوڑا سا جھکتے ہوئے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔
“کچھ بھی، جو تمہیں بہت پسند ہو، جس چیز کے بارے میں تم نے کبھی سوچا ہو کہ یہ تمہارے پاس ہونی چاہیے، میں وہی لے کر آؤں گا۔”
مہرو جائے نماز پر بیٹھی سوچ رہی تھی، جبکہ زیغم خاموشی سے اسے محبت بھری عقیدت سے دیکھ رہا تھا۔ چند لمحے گزرنے کے بعد، اس نے آہستہ سے کہا:
“آپ مجھے قرآنِ پاک لے دیں… وہ جس کے حروف موٹے ہوں اور ورق بہت زیادہ ملائم ہوں۔ مجھے ایسا قرآن بہت پسند ہے۔ میرے پاس جو قرآن تھا، وہ بھی اسی گھر میں رہ گیا تھا، اور اس کے اوراق بھی شہید ہونے لگے تھے۔ اماں کہتی تھیں کہ وہ مجھے نیا لے دیں گی، مگر پھر…”
وہ کہتے کہتے افسردہ ہو گئی۔
زیغم نے نرمی سے اس کی طرف دیکھا۔
“پریشان مت ہو، تمہارا وہ قرآن میں مسجد میں رکھوا دوں گا، اور اپنی مہرو کے لیے نیا قرآن لے کر آؤں گا، بالکل ویسا جیسے تم چاہتی ہو۔”
مہرو نے آنکھیں اٹھائیں، جہاں شکرگزاری اور محبت کا امتزاج تھا، جبکہ زیغم کے لبوں پر ایک نرم سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی اور آنکھوں میں محبت رقص کر رہی تھی۔
“بہت شکریہ۔”
“کس بات کا شکریہ؟”
“شکریہ تو مجھے تمہارا ادا کرنا چاہیے کہ تم نے مجھ سے اتنا خوبصورت تحفہ مانگا۔”
“میں تو خوش قسمت ہوں کہ میں اپنی محبت کو اللہ کی پاک کتاب تحفے میں دے رہا ہوں۔ یہ خوش قسمتی تو تم نے مجھے بخشی ہے، مہرو۔”
“اللہ کی کتاب سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا۔”
“اور اس سے بڑھ کر کوئی محبت نہیں ہو سکتی کہ میں تمہیں وہ چیز دوں، جو تمہیں اپنے رب کے قریب کرے۔”
“چلو میرے ساتھ، میں ابھی اپنی مہرو کی پسند سے قرآن پاک آرڈر کرتا ہوں۔”
جائے نماز فولڈ کر کے رکھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے، زیغم نے نرمی سے اس کے سامنے اپنا مضبوط ہاتھ پھیلایا۔ مہرو نے، نظریں جھکائیں رکھی، مگر ہاتھ بڑھانے کی ہمت نہ کر پائی۔
“مہرو… قرآن پاک سے کتنی محبت ہے نا تمہیں؟”
“اسی قرآن میں شوہر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بیوی کا اپنے شوہر سے کوئی پردہ نہیں، وہ اس کا محرم ہے، اس کا محافظ ہے۔”
“تم میرے ساتھ بات کر سکتی ہو، مجھ سے ہر بات شیئر کر سکتی ہو۔ تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں رکھنا، مجھ سے قریب ہونا، یہ سب جائز ہے، کیونکہ میں تمہارا شوہر ہوں، تمہارا محرم۔”
اس کے لہجے میں محبت اور نرمی تھی۔
“بیوی کا اپنے شوہر سے شرمانا تو محبت کی خوبصورتی ہے، مگر بلاوجہ جھجکنا ضروری نہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں، جو ایک دوسرے کو سنوارنے اور چھپانے کے لیے ہوتے ہیں۔”
وہ مدھم لہجے میں سمجھاتے ہوئے اس کی سوچ کے حساب سے باتوں کو اس کے اندر اتار رہا تھا۔
“تم جانتی ہو، حضرت عائشہؓ نبی کریمﷺ کا ہاتھ پکڑا کرتی تھیں، ان سے سوال کیا کرتی تھیں، ان کے ساتھ وقت گزارتی تھیں، اور یہی محبت و قربت ایک نکاح شدہ رشتے کا حسن ہے۔”
مہرو جو اب تک جھکی نظروں سے اسے سن رہی تھی، آہستہ سے نظریں اٹھا کر دیکھا، اور چند لمحوں کی جھجک کے بعد اپنا نازک ہاتھ زیغم کے پھیلے ہاتھ پر رکھ دیا۔ زیغم کے چہرے پر ایک دھیما سا مسکراتا سکون اتر آتا تھا۔
مہرو کو اسلام اور اس کی تعلیمات سے بے حد محبت تھی۔ وہ اکثر اپنی اماں سے اپنے پیارے نبیﷺ کی زندگی اور ان کے اخلاق کے بارے میں سنا کرتی تھی۔ جتنا اسے سمجھ آتا، وہ قرآن پاک کا ترجمہ بھی پڑھنے کی کوشش کرتی، کیونکہ اماں نے جو کچھ اسے سکھایا تھا، وہی اس کی رہنمائی کا ذریعہ تھا۔ وہ کبھی کسی مدرسے یا اسکول میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کر سکی، مگر گھر میں موجود ایک اسلامی کتاب، جس پر اردو لکھی تھی، اس کی اماں اسے پڑھ کر سنایا کرتی تھیں۔ وہ انہی الفاظ میں دین کو سمجھنے کی کوشش کرتی، اور یوں آہستہ آہستہ قرآن کا ترجمہ بھی اس کے دل میں اترنے لگا۔
محبوب ﷺ کی سیرت کو بار بار سننے اور پڑھنے سے وہ ان کی تعلیمات کو سمجھنے لگی تھی۔ اسی محبت اور لگن کی وجہ سے وہ قرآن پاک کے ترجمے کو بھی سمجھنے کی بھرپور کوشش کرتی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سچائی، محبت، اور ہدایت کا اصل ذریعہ اللہ کی کتاب اور نبی ﷺ کی سیرت ہی ہے۔ اس لیے جب زیغم سلطان نے نبی کریم ﷺ کا حوالہ دیا تو مہرو کا دل نرم پڑنے لگا۔ وہ ہر بات کو دین کے تناظر میں دیکھتی تھی، اور جب دین کی بات آتی، تو اس کا دل خودبخود جھکنے لگتا تھا۔ زیغم بھی یہ بات خوب سمجھ چکا تھا کہ مہرو کا دل اسلام کی محبت سے سرشار ہے۔ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ اگر وہ کسی بات کو سمجھانا چاہے، تو اسے دین کے حوالے سے بیان کرے، کیونکہ مہرو کے لیے سب سے بڑی دلیل اس کا اپنا ایمان تھا۔
اس کے نازک سے ہاتھ کو تھامے، زیغم اس وقت خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان محسوس کر رہا تھا۔ مرد کے دل میں جب عورت کے لیے محبت خود سے جاگتی ہے، تو وہ اس عورت کو پلکوں پر بٹھا لیتا ہے، اس کی ہر خوبی کو سراہتا ہے، اور اس کی ہر خوشی کو اپنی ذمہ داری بنا لیتا ہے۔ زیغم بھی اسی جذبے کے تحت مہرو کی ہر پسند اور خواہش کو پورا کرنا چاہتا تھا۔ اسے اپنے ساتھ صوفے پر بٹھاتے ہوئے، زیغم سلطان نے موبائل اس کے سامنے کیا اور پنٹرائز سے مختلف خوبصورت قرآنی نسخے کھولنے لگا۔ ہر ایک پر نفیس نقش و نگار بنے تھے، سنہری حروف سے مزین جلدیں، کچھ مخملی غلاف میں لپٹے ہوئے، تو کچھ دیدہ زیب ڈیزائن میں سجے ہوئے۔ زیغم ایک ایک کی تفصیلات محبت بھرے انداز میں بتا رہا تھا، مگر مہرو تو بس حیرت سے اس دنیا کو دیکھ رہی تھی جو اس کے لیے بالکل نئی تھی۔ وہ ایک نسخہ دیکھتی، اس کے حسن میں کھو جاتی، مگر جیسے ہی دوسرا نظر آتا، پہلے والا ذہن سے محو ہو جاتا۔ آنکھوں میں حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لیے وہ زیغم کی طرف دیکھنے لگی۔
“میں ان میں سے کون سا پسند کروں؟”
“سارے ہی ماشاءاللہ بہت پیارے ہیں، مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ آپ بہت سمجھدار ہیں، آپ ہی منتخب کر دیں۔”
زیغم نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا، وہ اس کی معصومیت پر دل ہر رہا تھا۔
“اچھا ٹھیک ہے، میں منتخب کر دیتا ہوں، مگر آخری فیصلہ تمہارا ہوگا، تمہیں جو سب سے زیادہ پسند آئے گا، وہی لیں گے۔ قرآنِ پاک تو دل سے چنا جاتا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ تمہارا دل جس پر ٹھہرے، وہی تمہارا ہو۔”
مہرو نے ایک بار پھر ان خوبصورت قرآنی نسخوں کو دیکھا، پھر آہستہ سے زيغم کے قریب ہو کر ایک نسخے کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ… اس کا رنگ بھی بہت خوبصورت ہے، اور غلاف بھی بہت نرم لگ رہا ہے۔”
زیغم نے نرمی سے اس کی پسند کی تائید کی۔
“بہت خوب! پھر یہی آئے گا میری مہرو کے لیے۔”
زیغم نے جلدی سے آرڈر مکمل کیا اور مہرو کی طرف محبت سے دیکھا، جو اب بھی حیرت اور خوشی کے درمیان کہیں کھوئی ہوئی تھی۔ آج اس کے لیے ایک ایسی خوشی تھی جو الفاظ میں بیان کرنا مشکل تھا، اور زیغم کے دل میں سکون کہ وہ اپنی محبت کے لیے کچھ ایسا لا رہا تھا جو نہ صرف قیمتی تھا بلکہ روح کو بھی سکون دینے والا تھا۔
“شاباش، اب سو جاؤ، اور تم نے ابھی تک کپڑے نہیں بدلے؟”
زیغم نے نرمی سے پوچھا۔
مہرو نے نظریں جھکا لیں۔نفی میں سر کو ہلایا۔
“تم ان کپڑوں میں انکمفرٹیبل فیل کر رہی ہوگی۔”
“جی؟”
وہ تجسس سے دیکھنے لگی تھی۔ مہرو “انکمفرٹیبل” کا مطلب سمجھ نہیں پائی تھی۔
زیغم نے اس کی الجھن بھانپ لی اور محبت بھرے لہجے میں وضاحت کی۔
“میرا مطلب ہے کہ ان کپڑوں میں تم آرام سے نہیں سو سکو گی، اس لیے میں نے تمہارے لیے آرام دہ لباس بھی منگوائے ہیں۔ ان میں سے کچھ پہن لو اور سو جاؤ، صبح روزہ بھی رکھنا ہے نا تم نے۔”
“جی…”
مہرو نے ہلکا سا مسکرا کر سر ہلایا۔
“گڈ۔ مگر دھیان سے، سحری کے وقت پہلے تمہیں دوا کھانی ہے، اس کے بعد روزہ رکھنا ہے، ٹھیک ہے؟”
“جی…”
“چلو، اٹھو شاباش، جا کر کپڑے بدلو۔”
“ادھر آؤ، میں نکال کر دیتا ہوں۔”
یہ کہہ کر زیغم نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما اور الماری کی طرف بڑھا۔ بڑی سی الماری میں کئی ڈریسز ترتیب سے رکھے تھے، جن میں مہرو کے لیے لائے گئے آرام دہ لباس بھی موجود تھے۔ زیغم نے احتیاط سے ایک پیچ کلر کا نرم کپڑے کا فراک اور پلازو نکالا۔ یہ عام نائٹ سوٹ نہیں تھا بلکہ فل سلیوز فراک اور آرام دہ پلازو تھا۔ وہ جانتا تھا کہ مہرو شرم و حیا کا پیکر ہے، جو دوپٹہ تک نہیں ہٹنے دیتی، تو وہ کبھی ایسا لباس نہیں دیتا جس میں وہ خود کو غیر آرام دہ محسوس کرے۔
“یہ لو، یہ تمہارے لیے ہے۔ چینج کر لو۔”
زیغم نے نرمی سے کہا۔
مہرو خاموشی سے لباس پکڑ کر واش روم کی طرف بڑھنے لگی تو زیغم نے فوراً روکا۔
“مہرو! یہ ڈریسنگ روم ہے، تم یہیں بدل سکتی ہو۔ میں روم میں جا رہا ہوں۔”
مہرو نے چونک کر اسے دیکھا، زیغم کی آنکھوں میں خلوص اور عزت کا احساس جھلک رہا تھا۔
“بے فکر رہو، جب دروازہ بند ہوگا تو تم مکمل محفوظ ہوگی۔ تمہاری عزت، تمہاری آبرو، مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔ میرے ہوتے ہوئے ہمیشہ بے خوف رہا کرو۔”
زیغم نے محبت سے سمجھایا اور اس کے سر پر نرمی سے تھپکی دی، پھر کمرے سے باہر نکل گیا۔ کچھ ہی دیر بعد، مہرو دوپٹہ سر پر لیے، کپڑے بدل کر باہر آئی۔ زیغم پہلے ہی صوفے پر لیٹ چکا تھا تاکہ مہرو اور ارمیزہ آرام سے بیڈ پر سو سکیں۔ مہرو نے ہلکی سی نظر زیغم پر ڈالی۔ وہ اس کی نرمی، خیال اور محبت پر حیران تھی۔ آج پہلی بار اس کا دل پرسکون محسوس کر رہا تھا۔ زیغم نے بھی ایک نظر اس پر ڈالی، اور جب اسے پرسکون پایا، تو مسکرا دیا۔
مہرو کی جھجک پہلے سے کم تھی، وہ بھی ہلکی سی مسکرائی اور آہستہ سے جا کر ارمیزہ کے ساتھ لیٹ گئی۔ خود پر کمبل ڈالتے ہوئے، دل میں ایک عجیب سا سکون اترا، جیسے زندگی میں پہلی بار وہ واقعی محفوظ اور مطمئن تھی۔
“اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تُو نے میرے ہمسفر کے خانے کو اتنی خوبصورتی سے بھر دیا۔ میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تُو نے میری زندگی میں مہرو جیسی نیک سیرت ہمسفر عطا کی۔ ایسے ہمسفر کے لیے اگر پوری زندگی بھی تیرے حضور سجدہ ریز رہوں، تو بھی کم ہوگا۔”
رب کے شکر میں ڈوبا زیغم، گہری سانس لیتے ہوئے آنکھیں موند گیا۔ دل میں سکون کا ایک ایسا دریا بہہ نکلا تھا، جس میں شکرگزاری، محبت اور قربانی کے رنگ جھلک رہے تھے۔
°°°°°°°°
رات کا شاید تیسرا پہر تھا، سحری میں ابھی خاصا وقت باقی تھا۔ پوری حویلی نیند اور سکون میں ڈوبی ہوئی تھی۔ کمرے میں مدھم روشنی پھیلی تھی، ہر چیز ساکت تھی، مگر اس سکوت میں دانیا کے دل کی دھڑکن کی آواز ابھرتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ گہری نیند میں تھی جب اچانک، اپنے بے حد قریب کسی وجود کی موجودگی کا احساس ہوا۔ یہ خوشبو… یہ وحشت… یہ لمس… کچھ بھی انجان نہیں تھا! سالوں سے وہ اس اذیت سے گزرتی آئی تھی، ہر پل، ہر لمحہ! نیند کی گہرائی سے جھٹکے سے جاگی، اور اس کا ڈر سچ ثابت ہوا۔ اس کے بے حد قریب شہرام لیٹا تھا۔ چہرے پر خباثت، آنکھوں میں درندگی، لبوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ…
“چچچ… چچچ… ڈر گئی ہو؟”
شہرام نے طنزیہ انداز میں سرگوشی کی، اور اگلے ہی لمحے اس کے بازو کو سختی سے دبوچ کر کھینچا۔ دانیا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور بیڈ پر وپس آگر تھی۔ اس کے ہاتھوں کے زخم بھر چکے تھے، مگر ناخنوں کے کنارے اب بھی نازک تھے۔ شہرام کی گرفت کی شدت سے ناخنوں میں تیز درد کی ٹیس اٹھی، اور اس کے لبوں سے بے اختیار سسکی نکل گئی۔
“تمہارے بہت پر نکل آئے ہیں!” ا
“پنے بھائی کے آنے کی وجہ سے اتنی ہمت آ گئی ہے تم میں؟”
“اتنے دن اُس عاشق کے گھر گزار کر آئی ہو جو تمہارے یہاں آتے ہی تمہارے پیچھے پہنچ گیا! کیسے مزے سے اس کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی، ہاں؟”
“گھٹیا عورت! اپنے شوہر کے ہاتھ لگانے سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے اور اسی یار کے ساتھ اتنے دن گزار کر آئی ہو، تب تو تمہارے غیرت مند بھائی کو بھی غیرت نہیں آئی اور تجھے بھی!”
شہرام کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا، آنکھوں میں درندگی، چہرے پر غصے کی سرخی تھی۔ وہ ایک جھٹکے سے دانیا کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ چکا تھا، بے دردی سے کھینچتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا۔ دانیا تڑپ کر رہ گئی، مگر شہرام کی گرفت اتنی سخت تھی کہ اس کی سانسیں اٹکنے لگیں۔
“چھ… چھ… چھوڑو مجھے… درد ہو رہا ہے!”
بالوں کو چھڑوانے کی ناکام کوشش میں وہ تڑپ کر رو پڑی، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، مگر شہرام کی گرفت مزید سخت ہو گئی۔
“شششش… تمہاری آواز کمرے سے باہر نہیں جانی چاہیے!”
وہ سفاکی سے سرگوشی کرتا ہوا اور قریب جھکا، آنکھوں میں شیطانی چمک ابھری ہوئی تھی۔
“بہت دن ہو گئے ہیں، تمہیں میرے ہاتھوں نے نوچا نہیں!”
وہ لب بھینچ کر دانیا کے بالوں کو مزید سختی سے جکڑ چکا تھا، وہ اس کی بے بسی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
“تمہارے پر توڑنے پڑیں گے… وہی پر، جن سے تم نے اُڑنا سیکھ لیا ہے!”
اس کے لہجے میں زہر گھل چکا تھا، انگلیاں سر کی کھال تک پیوست ہو چکی تھیں۔
“گندی عورت! شادی سے پہلے بھی عاشقوں کو کمرے میں بلاتی تھی!”
وہ دانت پیس کر بولا، غصے سے آنکھوں کی سرخی مزید گہری ہو گئی۔
“شادی کے بعد جب میں نے تیرے عاشقوں کے آنے کے راستے بند کر دیے، تو پھر خود عاشقوں کے گھر چلی گئی؟”
اس کی گرفت میں وحشیانہ سختی آ گئی۔
“بہت آگ ہے تمہارے اندر… ابھی تمہیں…”
وہ دانیا کے چہرے کے قریب جھکا، آواز میں زہر گھلا ہوا تھا، اور دانیا کی سانسیں خوف سے اٹکنے لگیں۔ دانیا میں ہمت ہی تو نہیں تھی۔ وہ خود کو کوس رہی تھی، آنکھوں میں بے بسی اور خوف تیر رہا تھا۔ اگر ہمت ہوتی تو اس کی زخمی ٹانگ پر زور سے مار کر یہاں سے بھاگ سکتی تھی مگر اس کے وجود میں وہ طاقت ہی نہیں تھی، ہاتھ پیر جیسے باندھ دیے گئے تھے، ذہن مفلوج ہو چکا تھا مگر وہ کمزور، معصوم اور بے بس تھی!
وہ ہمیشہ ظلم سہتی آئی تھی، ہمیشہ دوسروں نے اسے روندنے کا حق سمجھا تھا۔ اسی لیے تو ہمیشہ ظلم برداشت کرتی رہی۔ اس کے آنسو رخساروں پر بہہ رہے تھے، مگر شہرام کے چہرے پر خباثت بھری تسکین تھی جبکہ اس وقت اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کا بھائی موجود ہے لیکن پھر بھی اس کی ہمت جواب دے چکی تھی، جیسے سالوں کے زخموں نے اس کے حوصلے کو مردہ کر دیا ہو۔ پھر بھی اس لڑکی میں ہمت نہیں تھی، کیسے ہوتی؟ جب سالوں تک اس شخص کے ہاتھوں مار کھائی تھی، اذیت جھیلی تھی، ہر بار وجود کو روندا گیا تھا۔ تو کیسے ہمت جمع کرتی؟
وہ کپکپا رہی تھی، دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، مگر جسم سن ہو چکا تھا۔ وہ اس کے چہرے پر قابض تھا، درندگی دکھا رہا تھا۔ وحشت سے اس کے وجود کو نوچنے پر تُلا ہوا تھا، اور دانیا کی دنیا تاریکی میں ڈوبتی جا رہی تھی۔
“ششش…!”
شہرام کی زہریلی سرگوشی اس کے کانوں میں اتری، جیسے زہر رگوں میں سرایت کر رہا ہو۔
“تمہیں تو عادت ہو چکی ہے نا، میرے ظلم سہنے کی؟”
“پھر آج کیوں تڑپ رہی ہو؟”
دانیا کی سانسیں اٹک گئیں، وہ بے بسی سے اپنی جگہ جمی رہی۔ جسم میں جیسے سکت ہی نہ رہی ہو۔ شہرام کی گرفت فولادی ہو چکی تھی، اس کے وجود پر اپنی طاقت کا سارا بوجھ ڈالے وہ اپنی درندگی کا اظہار کر رہا تھا۔
“تمہیں لگتا ہے تم بچ سکتی ہو؟”
“تمہارے بھائی کے آ جانے سے تم آزاد ہو جاؤ گی؟”
اس نے چہرے کو اپنے قریب کرتے ہوئے غصے اور خباثت سے کہا۔
دانیا کا وجود کانپ رہا تھا۔
“چھ…چھوڑو…!”
اس کی سسکی حلق میں گھٹ گئی۔ آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب تھا، مگر شہرام کو کب پرواہ تھی؟ وہ تو ہمیشہ کی طرح اسے نوچنے میں مصروف تھا، جیسے وہ اس کی ملکیت ہو، ایک بےجان شے جس پر اس کے حق کے علاوہ کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔
“یہ سب سہنے کی عادت ڈال لو… تمہاری تقدیر میں یہی لکھا ہے!”
وہ غرایا اور اس کی بے بسی پر مکروہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر در آئی۔
کمرے میں سناٹا تھا، مگر دانیا کے اندر ایک طوفان مچ چکا تھا۔ ایک شور، ایک فریاد، جو صدیوں پرانی لگتی تھی۔ وہ بارہا اس تاریکی میں ڈوبی، مگر ہر بار اسی زخم کے ساتھ واپس آ جاتی تھی۔ آج بھی کچھ بدلا نہیں تھا… شاید کبھی بدلے گا بھی نہیں۔
“جا… اب جا کر اپنے بھائی کو بتا کہ تمہارے شوہر نے تمہارے ساتھ……!”
وہ بات کو بیچ میں چھوڑتے ہوئے، اسے تڑپتے ہوئے روتے ہوئے دیکھ آنکھ کو دباتے ہوئے ہنس رہا تھا۔ اس کی ہنسی سے بھی شیطانیت ہی چھلک رہی تھی۔ دانیا کی سسکیاں دبتی جا رہی تھیں، اس کا وجود لرز رہا تھا، مگر شہرام کو کوئی پرواہ نہ تھی۔ وہ اپنی بیساکھی تھامے کھڑا تھا، چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ تھی۔
“جاؤ، بے غیرتوں کی طرح اپنے بھائی کو بتا دینا!”
وہ دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے زہریلے لہجے میں بولا، جیسے اس کی بے بسی اس کے لیے ایک کھیل ہو۔
“مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، جو کھاڑنا ہے، اکھاڑ لو!”
دانیا نے چہرہ تکیے میں چھپا لیا، آنکھوں میں جلتی ہوئی نمی تھی، مگر شہرام کے لہجے میں جیسے آگ دہک رہی تھی۔
“اور ہاں… کل سے اگر دروازہ تیرے روم کا بند ہوا تو پھر تیرا حشر آج سے بھی زیادہ برا ہوگا!”
وہ دھمکی دیتا ہوا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
دانیا نے بمشکل خود کو بیڈ سے اٹھایا، اس کے قدم ڈگمگا رہے تھے۔ ہر جوڑ درد سے چُور تھا، مگر اس سے زیادہ اس کی روح چھلنی تھی۔ وہ کپکپاتے قدموں سے واش روم کی طرف بڑھی، جیسے اپنے ہی وجود سے فرار چاہتی ہو۔ شاور کھولا تو ٹھنڈے پانی کی بوندیں جسم سے ٹکرانے لگیں، مگر اسے احساس ہی نہ ہوا۔ وہ وہیں کھڑی رہی، پانی اس کے وجود سے بہتا جا رہا تھا، مگر اندر لگی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ آنکھیں بند تھیں، مگر آنسو بہہ رہے تھے۔ نجانے کب تک وہ یونہی کھڑی رہی۔ شاید تب تک جب باہر سے اذان کی آواز گونجی۔ سحری کا وقت شروع ہو چکا تھا… مگر اس کی رات تو اب بھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ دانیا کی آنکھیں شاور کے پانی میں بھیگ چکی تھیں، مگر آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے، دل کی دھڑکن جیسے تیز اور بے ترتیب ہو چکی تھی۔ اس نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے دیوار کا سہارا لیا، پھر بے اختیار آسمان کی طرف دیکھا، جیسے وہاں سے کوئی جواب مانگ رہی ہو۔
“اللہ جی! اس شخص کے لیے کوئی سزا نہیں ہے؟”
اس کی فریاد گلے میں ہی رندھ گئی، آنکھوں میں بے بسی کی نمی مزید گہری ہو گئی۔
“یہ جانور ہے… جانور!”
اس کا دل چیخ چیخ کر فریاد کر رہا تھا، مگر اسے معلوم تھا کہ اس ظالم کی چیخیں کوئی اور سننے والا نہیں۔ وہ برسوں سے خاموش تھی، ہر ظلم سہہ کر چپ رہتی رہی، مگر آج اس کی روح دہائی دے رہی تھی۔ پانی بہہ رہا تھا، مگر وہ وہیں کھڑی رہی، جیسے اپنے ہی وجود سے نفرت ہو چکی تھی۔جیسے وہ چاہتی ہو کہ یہ پانی اس کی ساری تکلیف بہا لے جائے… مگر ایسا کبھی ہوا ہے؟
“یااللہ! کیا میں واقعی ایسی زندگی کے لیے پیدا کی گئی تھی؟”
اس کے لبوں سے سرگوشی نکلی، مگر جواب میں صرف شاور سے گرنے والے پانی کی آواز تھی۔
“کیا بتاؤں اپنے بھائی کو؟”
وہ بے بسی سے خود سے سوال کر رہی تھی۔ بے شک اس کا بھائی اس کا محافظ تھا، اس کا سہارا تھا، مگر کیا وہ یہ سب سن پاتا؟ کیا وہ سہہ پاتا؟
اس کے لب خاموش تھے، مگر آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائے وہ اپنے رب سے گویا سوال کر رہی تھی۔
“آخر ایک بہن اپنے بھائی کو اتنا نازک مسئلہ کیسے بتاتی؟”
دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے وہ سسک رہی تھی، آنکھوں میں بے بسی کا سیلاب تھا۔
“مجھے خود سے نفرت ہو گئی ہے…”
آواز کانپ رہی تھی، جیسے خود ہی خود سے بیزار ہو چکی تھی۔
“میں مر ہی کیوں نہیں جاتی؟”
“مجھے مر جانا چاہیے…”
اس کے لرزتے ہاتھ چہرے پر آ گئے تھے، جیسے خود کو چھپانا چاہتی تھی، جیسے اپنی حقیقت سے نظریں چرانا چاہتی تھی۔ سسکیاں تیز ہو گئی تھیں، اور وہ آہستہ آہستہ دیوار کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی تھی، جیسے زندگی کی ڈور ہاتھ سے سرک رہی تھی۔ جیسے کوئی امید باقی نہ رہی تھی۔
°°°°°°°°
“مہرو مہرو…”
“ہمم…”
گہری نیند میں مہرو کی سماعت سے میٹھی سی آواز ٹکرائی تھی۔ مہرو نے ہلکی سی پلکیں اٹھا کر دیکھا تو تھوڑی دوری پر کھڑا زیغم اسے اٹھا رہا تھا۔
“پیاری بیوی جی، اٹھ جائیے، سحری کا وقت ہو گیا ہے۔”
“جی…”
“جی… اٹھتی ہوں۔”
مہرو کہہ کر پھر سونے لگی تھی۔
“ٹائم نہیں ہے، اٹھ جاؤ!”
“سحری کھا کے، نماز پڑھ کے پھر سو جانا۔”
“ابھی وقت کم ہے، جلدی کرو، ہمیں ایک ساتھ ہی ٹیبل پر جانا ہے!”
مہرو ہمت کر کے اٹھی تھی۔ دونوں نے وضو کرتے ہوئے ایک ساتھ تہجد کی نماز ادا کی اور پھر ڈائننگ ٹیبل پر پہنچ گئے تھے۔ زرام بھی آ چکا تھا، توقیر کی فیملی بھی کچن میں سحری کے لیے موجود تھی۔ ٹیبل پر سب چیزیں رکھی جا رہی تھیں۔ زیغم نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی، اسے دانیا کہیں نظر نہیں آئی تھی۔
“سنیں…”
زیغم نے ملازمہ کو بلایا تھا۔
“جی، سائیں، حکم کریں۔”
“دانیا ابھی تک کیوں نہیں آئی؟”
“سائیں، انہوں نے کہا ہے کہ ان کی سحری ان کے کمرے میں دے دیں۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، آرام کرنا چاہتی ہیں۔”
“طبیعت ٹھیک نہیں ہے؟ کیا ہوا ہے انہیں؟”
زیغم تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“پتہ نہیں، سائیں، ہم نے بی بی جی کو اٹھایا مگر انہوں نے کہا کہ وہ کمرے میں ہی سحری کریں گی، طبیعت ٹھیک نہیں ہے، آرام کرنا چاہتی ہیں۔ اس سے زیادہ ہمیں نہیں پتہ۔”
“نہیں پتہ؟ کیا مطلب ہے؟”
“پوچھنا چاہیے تھا نا کیا ہوا اسے!”
زیغم تیزی سے دانیا کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔
“دانیا! دانیا! بیٹا، دروازہ کھولو!”
“بھائی، میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔”
“دانیا بیٹا، دروازہ کھولو!”
“طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو دوائی لینے کے لیے ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔ یہ کیا طریقہ ہوا کہ تم کمرے سے باہر نہیں آؤ گی؟”
زیغم کے دماغ میں کچھ غلط ہونے کا احساس تیزی سے سرایت کر گیا تھا۔ اس کے ماتھے پر شکنیں مزید گہری ہو گئیں۔ دروازے کے پیچھے دبے دبے سسکیوں کی آواز اب بھی آ رہی تھی، مگر اب وہ خاموش تھی۔ زیغم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔
“دانیا! اگر دروازہ نہیں کھولو گی، تو میں توڑ دوں گا!”
دروازے کے پیچھے مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔ زیغم نے بے چینی سے دروازے کی طرف دیکھا، جیسے اندر چھپی حقیقت کو جانچنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر اس نے ایک جھٹکے سے دروازے کو کندھا مارا۔ دروازہ زوردار آواز کے ساتھ کھل گیا، اور زیغم اندر داخل ہوا۔ سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے قدم وہیں جم گئے۔ دانیا بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی، چہرہ زرد اور آنکھیں سرخ تھیں، جیسے وہ پوری رات روئی ہو۔ وہ چادر کو اپنے گرد سختی سے لپیٹے بیٹھی تھی، جیسے خود کو دنیا سے چھپانا چاہتی ہو۔ زیغم تیزی سے اس کے قریب آیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
“دانیا… بیٹا، کیا ہوا ہے؟”
“کس نے کچھ کہا ہے؟”
دانیا نے نظریں جھکا لیں، لبوں کو سختی سے بھینچ لیا، جیسے کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ زیغم کے دل میں ایک عجیب سا خدشہ ابھرا۔ اس نے نرمی سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
“بیٹا، مجھے بتاؤ… تم اس حال میں کیوں ہو؟”
دانیا کے لب کانپے، آنکھوں میں ایک لمحے کو اذیت کی لہر ابھری، مگر پھر وہ آنکھیں بند کر گئی، جیسے سب کچھ کہنے سے ڈر رہی ہو… جیسے زبان پر تالے لگ گئے ہوں۔ اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ زیغم سے چھپی نہ رہ سکی تھی۔
“وہ کتا آیا تھا تمہارے کمرے میں؟”
زیغم کے لبوں سے غصے اور بے بسی میں ڈوبے الفاظ نکلے تھے، مگر اندر ہی اندر وہ جواب جان چکا تھا۔ دانیا کے چہرے پر ناخنوں کی واضح خراشیں چیخ چیخ کر کسی درندگی کی کہانی سنا رہی تھیں۔ زیغم سلطان کوئی ناسمجھ بچہ نہیں تھا۔ تیس سال کا کامیاب وکیل تھا، جو عدالتوں میں فیصلہ سناتا تھا مگر آج اس کے اپنے دل میں ایک ایسی آگ بھڑک رہی تھی، جسے کوئی قانون، کوئی دلیل، کوئی عدالتی اصول بجھا نہیں سکتا تھا۔ اس کے دماغ میں جیسے بجلی سی کوندی۔ دل کی دھڑکن قابو سے باہر ہونے لگی۔ سانسیں بے ترتیب ہوگئیں۔ مٹھی غیر ارادی طور پر بھنچ گئی۔ آنکھوں میں وحشت در آئی تھی۔
“پلیز بھائی، چپ کر جائیں… کچھ بھی مت کیجیے گا… میں اپنی اور تذلیل نہیں چاہتی!”
دانیا کی آواز کانپ رہی تھی۔ وہ اندر سے مکمل ٹوٹ چکی تھی۔ اس کا بدن لرز رہا تھا، ہونٹ ہچکیوں میں لرز رہے تھے، اور موٹی موٹی آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہہ رہے تھے۔ وہ اپنی بے بسی کو اپنے ہی آنسوؤں میں چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ زیغم کا وجود غصے سے کانپ گیا۔ اس نے دانیا کی سرخ پڑتی آنکھوں میں جھانکا، جہاں صرف بے بسی تھی، خوف تھا، اور وہ چبھتا ہوا درد تھا جو کسی معصوم کو توڑ کر رکھ دے۔
“کیوں چپ کر جاؤں؟ تمہاری تذلیل کیسے ہوگی؟”
اس کا لہجہ گرج دار تھا۔
“جو گھٹیا انسان یہ سب کچھ کر رہا ہے، اسے شرم آئی اور تم چاہتی ہو کہ میں چپ رہوں؟”
دانیا کا دل لرز گیا۔ بھائی کے لہجے کی شدت نے اس کی ہچکیوں میں مزید درد گھول دیا تھا۔ وہ اپنی مٹھیوں میں چادر کو بھینچتے ہوئے مزید سمٹ گئی، اپنا وجود کسی گہری کھائی میں پھینک دینا چاہتی تھی۔ نفرت محسوس ہو رہی تھی اس سے اپنے آپ سے۔ دانیا کو ڈرانا اس کا مقصد نہیں تھا مگر اس کی آواز سے دانیا کافی خوفزدہ ہو گئی۔ زیغم نے گہری سانس لیتے خود پر ضبط کی آخری کوشش کی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ابھی جا کر اس وحشی کا گلا گھونٹ دے، مگر وہ جانتا تھا کہ ابھی دانیا کو اس کے غصے کی نہیں، اس کے تحفظ کی ضرورت تھی۔ وہ پھر اس کے قریب بیٹھ گیا تھا۔ اپنے مضبوط ہاتھ اس کے نازک لرزتے کندھوں پر رکھے اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
“میں ہوں نا، دانیا…”
زیغم کی آواز اب نرمی میں بھیگ چکی تھی۔
“میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا… تم میری بہن ہو… میری عزت ہو… میری جان ہو…کیسے میں چپ ہو کر بیٹھ جاؤں، کیا میں بزدل ہوں؟”
محبت سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا، اسے اپنے ہونے کا یقین دلا رہا تھا۔ یہ احساس دلا رہا ہو کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی بہن کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ دانیا کی سسکیاں اب بھی جاری تھیں، مگر زیغم کی گرفت میں وہ خود کو محفوظ محسوس کرنے لگی تھی۔
“تمہیں اپنے بھائی پر یقین ہے؟”
تحمل بھرے لہجے میں پوچھا۔
“ہمم…”
دانیا نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تو پھر میرے ساتھ باہر چلو۔ ان کے سامنے مت دبّو۔ دانیا، جتنا تم دبّو گی، اتنا ہی وہ درندہ تم پر حاوی ہوگا۔ مجھے تم سے اجازت چاہیے۔”
زیغم کی آنکھوں میں گہرائی تھی، وہ بہت بڑے فیصلے کے دہانے پر کھڑا تھا۔
“کیسی اجازت؟”
تجسس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“خلا کے پیپر ریڈی کروائے ہیں، ان پر سائن کرو۔ میں تمہیں اس گھٹیا شخص سے آزاد کروانا چاہتا ہوں، اور یہی ٹھیک ہے۔”
بغیر کسی ہچکچاہٹ کے زیغم سلطان نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ وہ خاموش رہی۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں، مگر لبوں پر کوئی جواب نہ آیا۔
“خاموشی کو کیا سمجھوں، دانیا؟”
“کیا تم ابھی اور اپنی بے عزتی کروانا چاہتی ہو؟”
“کیا تم اس شخص کے ساتھ رہنا چاہتی ہو جو انسان کہلانے کے لائق بھی نہیں، جو تمہاری حفاظت تو کیا عزت بھی نہیں کر سکتا؟”
زیغم کا لہجہ سخت ہو چکا تھا، وہ کسی بھی قیمت پر اپنی بہن کو اندھیرے سے نکال لینا چاہتا تھا اور ایک عورت کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوتا اس لیے اسے بھائی بن کر سختی سے پیش آنا پڑ رہا تھا۔
“اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عورت کو خلا کا حق دیا ہے۔ اگر مرد اس کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار کرے، اس پر ہاتھ اٹھائے، اسے عزت نہ دے، اس کے حقوق کو پامال کرے، تو اسلام عورت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ایسے رشتے کو ختم کر دے۔”
اس نے مضبوط لہجے میں کہا، وہ نہ صرف اپنی بہن کے حق میں کھڑا تھا بلکہ اس کے دل میں جمی جھوٹی روایات کی دھند کو بھی مٹا رہا تھا مگر دانیا مسلسل خاموش تھی۔ اس کا دل و دماغ اس وقت فیصلہ کرنے کے قابل نہیں تھا۔ دماغ پر سوچوں کے، ڈر کے پہرے تھے۔ صحیح اور غلط کا فیصلہ وہ اس وقت نہیں کر سکتی تھی۔
“اللہ کے نزدیک نکاح محبت، عزت اور رحمت کا بندھن ہے۔ جہاں عزت نہ ہو، وہاں نکاح کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے۔ اگر تمہیں اس رشتے میں صرف تکلیف ملی ہے، اگر تمہیں وہاں کوئی تحفظ حاصل نہیں، تو اسلام تمہیں اجازت دیتا ہے کہ تم اس ظلم کو ختم کرو اور اپنی عزت کو بحال کرو۔”
اس کی آواز میں گہری سنجیدگی تھی۔
دانیا نے نم آنکھوں سے اپنے بھائی کو دیکھا۔ ایک مضبوط، پُراعتماد بھائی، جو نہ صرف اس کے حق میں کھڑا تھا، بلکہ اس کی زندگی کو ایک نئی روشنی دینے کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار تھا۔ یہ لمحہ اس کے لیے فیصلہ کن تھا۔
“جو آپ کو ٹھیک لگتا ہے، کر لیں…”
وہ بس اتنا ہی کہہ پائی تھی۔
“مجھے یہی ٹھیک لگتا ہے اور یہی ٹھیک ہے کہ تمہیں اس بے نام رشتے سے آزادی دلوائی جائے۔ اٹھو اور میرے ساتھ چلو۔ کمرے میں بند ہو کر مت بیٹھو۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ دکھاؤ اور بتاؤ کہ تم کمزور نہیں ہو!”
زیغم کا لہجہ مضبوط تھا، وہ اپنی بہن کے اندر دبی چنگاری کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“میں یہ نہیں کر سکتی بھائی… اگر اتنی ہمت مجھ میں ہوتی، تو آج اس کی اتنی ہمت نہ ہوتی کہ وہ…”
وہ کہتے کہتے خاموش ہو گئی، نظریں جھکا لیں۔ اس کے ادھورے الفاظ بھی زیغم بخوبی سمجھ رہا تھا۔
“ہمت سب کے اندر ہوتی ہے، صرف اسے اجاگر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ چلو میرے ساتھ!”
دانیا کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور اسے باہر لے آیا۔ جیسے ہی وہ ڈائننگ ٹیبل کے پاس پہنچے، زرام اور مہرو ایک دم کھڑے ہو گئے۔ ان کے چہروں پر حیرت اور پریشانی تھی، جیسے وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ کیا ہو رہا ہے۔
“شہرام گھٹیا انسان باہر آؤ!”
زیغم سلطان نے گرجدار آواز میں شہرام کو پکارا۔ حویلی کی دیواریں بھی اس کی للکار سے گونج اٹھیں۔
“اب کیا مصیبت ہے؟ کیوں صبح صبح چلا رہا ہے؟”
قدسیہ سحری کرنے کے لیے کچن میں دسترخوان بچھائے ہوئے اپنے شوہر کے ہمراہ بیٹھی ہوئی تھی جبکہ اس کی نکمی اولاد، دونوں ہی آج روزہ نہیں رکھنے والے تھے، اس لیے وہ نہیں اٹھے تھے۔
“دیکھ تو سہی، باہر کیا ہو رہا ہے!”
دونوں کچن سے باہر نکلے۔
“کیا تکلیف ہے؟”
توقیر کچن سے نکلتے ہوئے بولا۔
“توقیر سائیں، تکلیف میں تو تمہارا بیٹا آنے والا ہے!”
“اس لنگڑے کو بلاؤ، اسی سے بات ہونی ہے!”
“خبردار جو میرے بیٹے کے لیے دوبارہ گھٹیا لفظ استعمال کیا!”
“اس کی یہ حالت کرنے والے بھی تم ہو، اور وہ نہیں اٹھا، اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے!”
قدسیہ غصے سے بولی۔
“طبیعت ٹھیک نہیں؟ تو ابھی ٹھیک کر دیتا ہوں!”
زيغم دانیا کا ہاتھ چھوڑتے ہی تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ قدسیہ اور توقیر بھی فوراً اس کے پیچھے لپکے۔ انہیں اندازہ تھا کہ زیغم اوپر جا رہا ہے، تو معاملات خراب ہونے کے پورے اندیشے تھے۔ جاتے ہی زیغم نے نہ آؤ دیکھا، نہ تاؤ، بس زور کی لات ماری دروازے کو، اور دروازہ دھڑام سے کھل گیا!
شہرام، جو دانیا پر ظلم ڈھانے کے بعد پرسکون نیند سو رہا تھا، اسے ایسا لگا جیسے کمرے میں زلزلہ آ گیا ہو۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا!
“گھٹیا انسان! چین کی نیند سو رہے ہو دوسروں کی نیندیں برباد کر کے؟”
زیغم کی آواز گرج کی طرح کمرے میں گونجی۔
اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر آگے بڑھ کر شہرام کا گریبان پکڑا اور زبردستی بستر سے نیچے گھسیٹ لایا۔ شہرام، جو ابھی تک نیند میں ڈوبا ہوا تھا، اچانک اس وحشیانہ حملے پر بوکھلا کر ہڑبڑا گیا۔
جیسے ہی زمین پر گرا، اس نے فوراً اپنی زخمی ٹانگ پر ہاتھ رکھا اور تکلیف کا ناٹک کرنے لگا۔
“آہ… چھوڑو مجھے! درد ہو رہا ہے!”
وہ چیخا، جیسے واقعی جان نکلی جا رہی ہو۔
زیغم نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے گھورا، پھر جھک کر اس کے کان کے قریب آکر زہریلے لہجے میں بولا:
“درد ہو رہا ہے؟ یہاں پر؟”
اتنا کہہ کر اس نے پوری طاقت سے شہرام کی زخمی ٹانگ پر دو تین زوردار مکے مارے۔
شہرام کی چیخیں پورے کمرے میں گونج اٹھیں۔
“آہ… زیغم، چھوڑو مجھے… پلیز!”
وہ بے بسی سے زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا مگر زیغم سلطان کی آنکھوں میں کوئی رحم نہیں تھا۔ آج اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ زیغم نے شہرام کی تکلیف بھری چیخوں پر ایک لمحے کو بھی دھیان نہ دیا۔ اس کے اندر سلگتی آگ، اس کی آنکھوں میں دہکتے شعلے مزید بھڑک اٹھے تھے۔آج اس کے اندر کا بھائی ہر حساب برابر کرنا چاہتا تھا۔
“بس کرو زیغم! چھوڑ دو میرے بیٹے کو!”
قدسیہ اور توقیر بدحواسی میں کمرے میں داخل ہوئے، قدسیہ فوراً زیغم کی طرف لپکی مگر زیغم نے جھٹکے سے قدسیہ کو پیچھے کیا، اس کے چہرے پر حقارت تھی۔
“بیٹا؟ یہ تمہارا بیٹا ہے؟ جو کسی کی بیٹی کو روند کر چین کی نیند سوتا ہے؟”
زیغم کی آواز زلزلے کی طرح کمرے میں گونجی۔
“یہ ہے تمہارا بیٹا؟ یہ ہے تمہاری تربیت؟”
“لعنت ہے ایسے بیٹے پر اور لعنت ہے ایسی تربیت پر!”
قدسیہ کی آنکھوں میں بے بسی تھی، مگر زیغم کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔
“چالاکیاں، بے ایمانی، لوگوں کے ساتھ چالیں کھیلنا سکھایا، مگر اتنا نہیں بتایا کہ کسی کی بیٹی کی عزت کیا ہوتی ہے!”
اس نے شہرام کو جھٹکے سے دھکیلا، جو کراہتا ہوا زمین پر گر گیا۔ زیغم اس پر جھکا، آنکھوں میں دہکتے شعلے لیے بولا۔
“کاش فطرت میں یہ بھی گھول دیتے کہ عورت عزت کا نام ہے!”
اچانک دروازے پر ایک سایہ نمودار ہوا، دانیا سہمی ہوئی کھڑی تھی، اس کی آنکھوں میں وحشت اور خوف کی انتہا تھی۔ زیغم کے مضبوط ہاتھوں میں جکڑا ہوا شہرام، دانیا کو دیکھ کر کچھ بولنا چاہتا تھا مگر زیغم نے ایک زوردار مکا اس کے منہ پر جڑ کر خاموش کروادیا۔
“تجھے لگتا تھا کہ تُو بچ جائے گا؟ دانیا کی بربادی کا کوئی حساب نہیں ہوگا؟”
زیغم کی گرفت اس کے گریبان پر سخت ہوگئی۔
“کیا لگا کے لا وارث ہے وہ؟”
زیغم ایک کے بعد ایک اس کے منہ پر مکے برساتا جا رہا تھا، شہرام کے منہ سے خون نکل رہا تھا۔
“میری بہن لا وارث نہیں ہے! اس کا بھائی زندہ ہے!”
وہ زور سے چلایا۔
“دانیا کے ایک ایک آنسو کا بدلہ اگر میں نے تم سے نہ لیا تو میرا نام زیغم سلطان لغاری نہیں!”
“نہ میں تمہیں جینے دوں گا، نہ مرنے دوں گا!”
“تم موت مانگو گے مگر وہ تمہیں نصیب نہیں ہوگی، کیونکہ اتنی آسان موت تمہارے لیے نہیں ہو سکتی، شہرام لغاری!”
زیغم کی آنکھوں میں خون اتر ہوا تھا۔
اپنے بیٹے کو درد سے کراہتے دیکھ کر قدسیہ کی ممتا جاگ اٹھی تھی۔ قدسیہ نے چیخ کر توقیر کی طرف دیکھا۔
“کچھ کرو! یہ تمہارا بیٹا ہے!”
بزدل انسان! وہ اپنے شوہر پر ہی بھڑک اٹھی تھی۔ قدسیہ کے غیرت جگانے پر توقیر جلدی سے آگے بڑھا تھا۔
“چھوڑ… چھوڑ میرے بیٹے کو! تجھ میں شرم و حیا ہے؟”
“کسی بڑے چھوٹے کی تمیز ہے؟”
“ہمارے سامنے ہی ہمارے بیٹے کو مارے جا رہا ہے، چھوڑ!”
زیغم نے ایک سرد نگاہوں سے گھورتے ہوئے اپنی پسٹل اس کی کنپٹی پر رکھ دی۔
“اگر کسی نے مجھے روکنے کی کوشش کی، تو گولیوں سے سینہ چھلنی کر دوں گا!”
توقیر گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ زیغم سلطان گولی چلانے سے پہلے نہ سوچتا ہے، نہ پوچھتا ہے۔ اپنے بیٹے کا حال وہ پہلے ہی دیکھ چکا تھا، اس لیے بہتر سمجھا کہ خاموشی اختیار کرلے۔ قدسیہ کی آواز غصے اور بے بسی سے لرز رہی تھی۔جس طرح سے زیغم شہرام کو مار رہا تھا قدسیہ کو لگ رہا تھا کہ آج تو اس کا بیٹا ختم ہو جائے گا۔ وہ تیزی سے کمرے سے نکلی، ٹیبل کے پاس کھڑے زرام اور مہرو کو خونخوار نظروں سے گھورا، پھر جھپٹ کر زرام کا بازو پکڑا اور اسے گھسیٹتی ہوئی زیغم کے سامنے لے آئی۔
“تیرا خون سفید ہو گیا ہے؟”
“جا، جا کے اپنے بھائی کی جان بچا!”
وہ چیخی، آنکھوں میں وحشت اور دل میں بے بسی لیے زرام کو دھکیلنے لگی۔ زرام کی آنکھوں میں سختی تھی، مگر دل کے کسی کونے میں درد چھپا تھا۔
“کیوں مجھ سے پوچھ کر سارے کارنامے سر انجام دیے تھے؟”
قدسیہ نے جھنجھوڑ کر اسے دھکیل دیا۔
“بند کر اپنی بکواس! جا، جا کے اپنے بھائی کو بچا!”
وہ زرام کو گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے آئی۔ اندر کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ شہرام کی حالت بدترین ہو چکی تھی، زیغم کا غضب رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
زرام نے گہری سانس لی، مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔
“جب ظلم کیا تھا، تب نہیں سوچا تھا کہ کوئی بدلہ بھی لے گا؟”
“کسی بے بس کو اتنی ہی تکلیف دو، جتنی وہ سہہ سکے۔ جب حدیں ٹوٹتی ہیں، تو ایسے ہی طوفان آتے ہیں!”
“کیوں دیا تھا دانیا بھابھی کو اتنا درد؟”
“کیوں ستایا تھا اتنا کہ آج زیغم بھائی قیامت بن کر تم لوگوں پر ٹوٹ پڑے؟”
زرام نے نظریں نہیں پھیریں، زیغم کے ہر وار کو حق سمجھ کر خاموشی سے دیکھتا رہا۔
قدسیہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر زبان زہر اگل رہی تھی۔
“مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تُو میرا بیٹا ہے!”
“آج سے ہمارے سب رشتے ختم!”
“تُو تو ہمارے ہی خون کا پیاسا نکلا، دفع ہو جا، کمینے!”
اس نے غصے میں زرام کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی، مگر زرام خاموش کھڑا رہا۔ یہ اس کی ماں تھی، اس کی جنت، اس کے لیے سب کچھ… مگر آج وہ ایک ایسے مقام پر تھا جہاں نہ اپنوں کا ساتھ دے سکتا تھا، نہ ان کا دکھ بانٹ سکتا تھا۔ خونی رشتے جتنے بھی برے ہوں، ان کا درد پھر بھی محسوس ہوتا ہے۔ زرام کے دل میں بھی چبھن تھی، مگر اس کی ایمانداری اسے حق پر ثابت قدم رہنے پر مجبور کر رہی تھی۔ نایاب شور و غل سنتی ہوئی تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی، اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا دل دہل گیا۔ زیغم بری طرح شہرام کو پیٹ رہا تھا، خون میں لت پت چہرہ، زخمی وجود، اور ہر پڑنے والا مکا شہرام کی تکلیف میں اضافہ کر رہا تھا۔
نایاب تڑپ کر آگے بڑھی، آنکھوں میں بے بسی کے آنسو، آواز میں فریاد، مگر لہجے میں غصہ۔
“چھوڑ دو! چھوڑ دو میرے بھائی کو! درندے ہو تم! درندے!”
وہ چیخی، مگر زیغم کی آنکھوں میں انتقام کی آگ دہک رہی تھی، جو کسی فریاد سے بجھنے والی نہیں تھی۔
“اچھا، میں درندہ ہوں؟ اور تمہارا بھائی کیا ہے؟”
زیغم کے ہاتھوں میں وحشت تھی، وہ شہرام کے چہرے پر مسلسل مکے برساتا جا رہا تھا۔ نایاب بے بسی سے آگے بڑھی، مگر زیغم نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ جھڑک دیا۔
“یہ ظلم کرے تو حق، اور میں کروں تو درندگی؟”
“اور تم… تم کون سی دودھ کی دھلی ہو؟”
زیغم کی آنکھوں میں نفرت کی سرخی مزید گہری ہو چکی تھی۔ اس کا غصہ نایاب پر بھی اترا، وہ جھٹکے سے اس کے قریب آیا اور اس کے گلے کو سختی سے دبوچ لیا۔
“میرے سامنے اپنی معصومیت کا ڈرامہ مت کرو!”
اس کی آواز میں گرج تھی، چہرے پر وحشت۔ زیغم سلطان اس وقت کسی کا لحاظ کرنے والا نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے صرف اپنی بہن کی بے بسی گھوم رہی تھی۔چہرے پر نوچے گئے نشان، آنکھوں میں ٹوٹا ہوا حوصلہ، اور دل میں وہ درد جو کسی بھی غیرت مند بھائی کو خون کھولا دینے کے لیے کافی تھا۔ زیغم کی گرفت مزید سخت ہو گئی، وہ کسی کی جان لینے پر آ چکا تھا۔
“میری بہن کی خاموشی نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے!”
ساتھ ہی زیغم کی گرفت مزید سخت ہوگئی۔ اس کی سانسیں بھاری ہو چکی تھیں، آنکھوں میں جلتی آگ اور چہرے پر وحشت نمایاں تھی۔ اس وقت وہ کچھ بھی کر گزرنے کے لیے تیار تھا۔ اسے نہ کسی کی فریاد سنائی دے رہی تھی، نہ کسی کی بے بسی۔ اس کے سامنے صرف اپنی بہن کی تکلیف تھی، اس کے آنسو تھے، اس کی ٹوٹی ہوئی عزت تھی۔
“میری بہن کی چیخیں نہیں سنی تم لوگوں نے… مگر اس کی خاموشی نے مجھے سب کچھ سنا دیا۔ وہ جو لفظوں میں نہیں کہہ سکی، وہ اس کی آنکھوں نے مجھے بتا دیا۔ اس کی ہر آہ، ہر کانپتا ہوا سانس، میرے لیے قیامت بن چکا ہے!”
“اور اب، میں وہ قیامت تم سب پر ٹوٹنے دوں گا!”
نایاب کو اپنی سانسیں گھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں، مگر وہ خود کو چھڑا نہیں پا رہی تھی۔ قدسیہ تڑپ کر آگے بڑھی، مگر زیغم سلطان کی پسٹل دیکھ کر فوراً پیچھے ہٹ گئی۔ شہرام درد سے زمین پر کراہ رہا تھا، جبکہ زرام نظریں جھکائے خاموش کھڑا تھا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جہاں زرام زیغم کو غلط نہیں کہہ سکتا تھا، کیونکہ زیغم نے جو کچھ برداشت کیا تھا، وہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ تھا جو یہاں ہو رہا تھا مگر اس کے باوجود زرام کے لیے یہ منظر تکلیف دہ تھا، کیونکہ سزا بھگتنے والے سب اس کے اپنے تھے۔ اس وقت زیغم کو روکنا کسی کے بس میں نہیں تھا، مگر پھر قدرت کا کرشمہ ہوا…
“بس کر دیں، بھائی… بس کر دیں!”
دانیا کی آواز لرزتی ہوئی گونجی، مگر اس کے لہجے میں ایک مضبوطی تھی، ایک التجا تھی۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟”
“ان جیسے بن گئے ہیں؟”
“ہم ان جیسے نہیں ہیں، بھائی!”
“سحری کا وقت ہے، رمضان کا آخری روزہ ہے، اور آپ یہ سب کر رہے ہیں؟”
“مجھے یہ سب کچھ نہیں چاہیے… یہ خون خرابہ نہیں چاہیے!”
وہ تیزی سے آگے بڑھی اور زیغم کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ زیغم کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں، مٹھیاں بھینچ چکی تھیں، وہ غصے سے لرز رہا تھا، مگر دانیا کی آنکھوں میں ٹھہرے آنسوؤں نے جیسے اس کی شدت کو کچھ پل کے لیے زنجیر ڈال دی۔
“میں ان کو معاف نہیں کر سکتا، اتنا بڑا ظرف نہیں ہے میرا!”
زیغم کی آواز بھاری تھی، وہ ضبط کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا، مگر اس کی آواز میں بے بسی بھی شامل تھی، جیسے ہر زخم، ہر اذیت اسے دوبارہ سے دہکانے لگی ہو۔
“مت معاف کریں…”
دانیا کی آواز نرمی سے بھری تھی، مگر الفاظ میں یقین تھا۔
“مگر خون خرابہ بھی نہ کریں!”
“میں ہر قیمت پر اس سے آزاد ہونے کے لیے تیار ہوں، آپ جو کہیں گے، میں وہ کروں گی… بس، اس راستے سے ہٹ جائیں، بھائی!”
کمرے میں خاموشی کی دبیز چادر تن گئی۔ زیغم کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں، اس کی آنکھیں بند ہوئیں، جیسے اندر ہی اندر وہ اپنے اندر اٹھنے والے طوفان کو روکنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“میں تمہیں ڈیورس نہیں دوں گا!”
زیغم سلطان کے اندر سلگتی آگ شہرام کے الفاظ سے مزید بھڑک اٹھی۔ وہ پلٹا، غصے سے شہرام کی طرف دیکھا، اور ایک زوردار گھونسا مار کر دھاڑا۔
“میں بھی دیکھتا ہوں تم کیسے پیپرز پر سائن نہیں کرتے!”
“اور تمہیں کس نے یہ حق دیا کہ تم طلاق دے سکو؟”
“تم خلا کے پیپرز پر سائن کرو گے، اور میں تمہیں یہ اختیار بھی نہیں دوں گا کہ تم میری بہن کو طلاق دے سکو!”
زیغم نے تیزی سے سائڈ ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باکس اٹھایا، اس میں سے میڈیکل ٹیپ نکالی، اور شہرام کے منہ پر زبردستی چپکا دی۔
“اس کے ہاتھ پکڑو!”
زارام نے فوراً آگے بڑھ کر شہرام کے بازو مضبوطی سے تھام لیے۔ وہ زیغم کو صرف بھائی کہتا ہی نہیں تھا بلکہ اسے بھائی مانتا بھی تھا، اور آج اس نے یہ ثابت کر دیا۔ شہرام جھٹپٹا رہا تھا، مگر زرام کی گرفت میں جنبش تک نہ کر سکا۔
“میرے آنے تک اس کے ہاتھ مت چھوڑنا!”
زیغم غصے سے کہتا ہوا تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ شہرام نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی، مگر زرام کی گرفت کسی زنجیر کی طرح سخت تھی۔
“تھوڑی غیرت کر لے، مر جا ذرام!”
“اپنے بھائی کو اذیت دے رہا ہے، تجھے شرم نہیں آتی؟”
قدسیہ اسے کوس رہی تھی، جبکہ توقیر لغاری کی خونخوار نظریں اس پر جمی تھیں، مگر وہ خاموش تھا… بس خاموش۔
زيغم تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے روم کی طرف بڑھا۔ اس وقت وہ اتنے غصے میں تھا کہ ٹیبل کے پاس گھبرا کر کھڑی مہرو پر بھی اس کی نظریں نہیں ٹکیں۔ وہ سیدھا روم میں گیا، لاکر کھولا، اور اس میں سے پہلے سے تیار شدہ خلا کے پیپر نکال لیے۔ دو ہی سیکنڈ میں وہ دوبارہ روم سے باہر آ چکا تھا، آنکھوں میں بھڑکتا اشتعال اور ہاتھ میں وہ پیپرز، جن پر آج دستخط ہونا طے تھے۔
“سائن کر اس پر!”
زیغم نے غصے سے فائل شہرام کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
شہرام نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“سائن تو تمہیں کرنے پڑیں گے!”
زیغم نے پستول اس کی دوسری ٹانگ پر رکھتے ہوئے ٹریگر کھینچنے کا اشارہ کیا، اور ساتھ ہی شہرام کے منہ سے میڈیکل ٹیپ جھٹکے سے کھینچ دی۔ شہرام کے لبوں سے بے اختیار تکلیف بھری سسکی نکلی۔
“چل سائن کر! میری بہن تیری ملکیت نہیں جو تُو اسے عذاب دیتا رہے!”
زیغم کی آنکھوں میں سختی تھی۔
“میں خلا کے پیپروں پر سائن نہیں کروں گا!”
شہرام کا لہجہ ضدی تھا۔
“میری بہن کے سر پر سوتن لا کر بٹھا دی ہے اور مجھ سے اپنی بہن کی آزادی چاہتے ہو؟”
“اگر میری بہن کو آزاد کرو گے، تو ہی میں تمہاری بہن کو آزاد کروں گا!”
زیغم طنزیہ ہنسا۔
“اوکے! یہ تو بہت اچھا سودا ہے! میں ابھی تمہاری بہن کو آزاد کر دیتا ہوں، مجھے تو تمہاری بہن سے کوئی لینا دینا ہی نہیں!”
“مگر میں اپنی بہن کو تمہارے نکاح میں نہیں رہنے دوں گا!”
“آج سے میری بہن کا تم سے کوئی رشتہ نہیں!”
“طلاق!”
زیغم کے لفظ گونجے۔
“نہیں! نہیں زیغم!”
نایاب تڑپ کر آگے بڑھی۔
“خدا کا واسطہ ہے، ایسا مت کہو!”
“مجھے طلاق نہیں چاہیے!”
“شہرام بھائی، آپ میرا گھر کیوں برباد کرنے پر تلے ہیں؟”
“مجھے اس کے ساتھ ہی رہنا ہے!”
نایاب کی آنکھوں میں بے بسی تھی۔
شہرام طنزیہ ہنسا۔
“لو سن لو! تم بہن بھائی مجھے سگے نہیں لگتے!”
“ایک کہتا ہے، میری بہن کو چھوڑ دو، دوسری کہتی ہے، مجھے اسی کے ساتھ رہنا ہے!”
“فیصلہ کر لو، مگر ہمارا فیصلہ ایک ہے، سائن کرو!”
زيغم نے اس کی ٹانگ پر پستول کا دباؤ بڑھایا۔
“تمہیں تکلیف کیا ہے؟”
“میں نے تمہاری بہن کے ساتھ ایسا کیا ظلم کر دیا ہے جو تم اتنا تڑپ رہے ہو؟ بیوی ہے میری، حق تھا میرا!”
شہرام کی آواز میں طنز تھا، مگر زیغم کا صبر لبریز ہو چکا تھا۔ اس نے ٹریگر دبانے کے لیے انگلی بڑھائی ہی تھی کہ زرام نے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔
“بھائی! میرے سامنے نہیں! پلیز، میری ریکویسٹ ہے!”
ذرام کی آواز کانپ رہی تھی۔
“زرام، تم مجھے بہت عزیز ہو!”
زیغم کی آواز میں نمی تھی، مگر لہجے کی سختی برقرار رہی۔
“اس وقت میرا دل چاہ رہا ہے کہ اس شخص کے ٹکڑے کر دوں!”
“جانتا ہوں، تمہارے لیے یہ سب دیکھنا آسان نہیں، مگر میری جگہ خود کو رکھ کر سوچو! یہ کمینہ میری بہن پر ظلم کر کے اسے ‘حق’ کا نام دے رہا ہے!”
اس نے خونخوار نظروں سے شہرام کو گھورا، مٹھیاں بھنچ چکی تھیں۔
“تم اسے بتاؤ کہ عورت کا وجود ‘حق’ کے نام پر نوچنا، اسے حق نہیں، بے غیرتی کہتے ہیں!”
زیغم نے سختی سے کہا۔
“شوہر ہونا اختیار نہیں، ذمہ داری ہے!”
“اسلام نے بیوی کو عزت دی، اسے محافظ کہا، نہ کہ جابر!”
“نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ‘تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہترین ہو۔’ اور تُو ظلم کو مردانگی سمجھ رہا ہے؟”
“ہمارا دین عورت کا مقام بلند کرتا ہے، اور تُو اپنی ہی عزت پامال کر رہا ہے؟”
“یہ جہالت ہے اور میں تم جیسے درندے کے نکاح میں اپنی بہن کو نہیں رہنے دوں گا!”
زیغم کی آواز گرجدار تھی، لہجہ سخت اور فیصلہ کن۔
“یا تو اس کی جان جائے گی، یا پھر یہ خلا کے پیپرز پر سائن کرے گا!”
شہرام نے زیغم کی آنکھوں میں وحشت دیکھی، اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اب وہ بچ نہیں سکے گا۔ زیغم نے زبردستی اس کے ہاتھ میں پین تھمایا، دباؤ اتنا تھا کہ شہرام کو مجبوراً سائن کرنا پڑا۔ جیسے ہی سائن مکمل ہوئے، زیغم نے اسے پاؤں کی ٹھوکر ماری اور نفرت سے دیکھتے ہوئے پیچھے ہٹا۔ اپنی بہن کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اسے خود سے لگایا اور مضبوط قدموں سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
“تم بھی چلے جاؤ! یہاں کیوں بیٹھے ہو؟”
توقیر کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا۔
“تم اسی زیغم کے سگے ہو، اسی کے ساتھ رہو!”
“آج کے بعد ہمارا تم سے کوئی رشتہ نہیں!”
“تم ہمارے لیے مر گئے، اور ہم تمہارے لیے!”
زرام نے خاموشی سے نظریں جھکائیں، دل پر برچھی سی لگی تھی، مگر وہ بغیر کوئی جواب دیے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
“کب تک یہ منحوس ہمارے سر پر عذاب بن کر رہیں گے؟”
“اللہ! میرے بچے کا کیا حال کر دیا ہے!”
قدسیہ سینہ پیٹتے ہوئے اپنے بیٹے کی جانب بڑھی۔
“چھوڑ دیں مجھے! اب محبتیں جاگ رہی ہیں؟”
“تب کیوں نہیں نظر آیا جب وہ جانور بنا ہوا تھا، مجھے مار رہا تھا؟”
شہرام نے غصے سے اپنی ماں کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“تو کیا کرتی؟ چھڑوانے کی کوشش تو کر رہی تھی!”
“تڑپ تو رہی تھی! مگر وہ ہاتھ میں بندوق لیے گھوم رہا تھا، میں کیا کرتی؟”
قدسیہ نے بے بسی سے کہا، آنسو پلکوں کی دہلیز پر کانپ رہے تھے۔
کیسا لوگوں کا انصاف ہے نا، خود دوسروں پر ظلم کرتے رہتے ہیں، مگر جب اپنی باری آتی ہے تو مظلوم بن جاتے ہیں۔ سالوں تک دوسروں کی زندگی برباد کرنے میں لگے رہتے ہیں، اور جب وقت پلٹتا ہے تو خود کو بےقصور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظلم سہنا اور ظلم کرنا، دونوں برابر ہیں! مگر یاد رکھو، وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ جب مظلوم کی آہ فلک شگاف ہوتی ہے، تو ظالم کے لیے زمین بھی تنگ ہو جاتی ہے۔ انصاف کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، مگر جب چلتی ہے تو بڑے بڑے فرعون زمین بوس ہو جاتے ہیں!
°°°°°°°°
سحری کا وقت قریب تھا، مگر ٹیبل پر گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سبھی کے چہرے اترے ہوئے تھے، خاص طور پر دانیا اور زارم بےحد پریشان لگ رہے تھے، جبکہ مہرو کی آنکھوں میں واضح خوف تھا۔ زیغم نے خاموشی سے خلا کے پیپر لاکر میں رکھ کر واپس ٹیبل پر آیا تھا۔ اس نے ایک نظر سب پر ڈالی۔
“کوئی مر نہیں گیا جو تم سب سکتے کے عالم میں بیٹھے ہو!”
وہ سرد لہجے میں بولا۔
“میرا نہیں خیال کہ میں نے کسی پر کوئی ایسا ظلم کر دیا ہے، صرف ظالموں کو سزا دی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ تم لوگوں کو اس پر اتنا افسوسناک چہرہ بنا کر کھڑے ہونا چاہیے!”
وہ تلخی سے سب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
“تم لوگ کیا چاہتے تھے کہ میں چپ رہوں؟”
“سب سہہ لوں؟”
“بے غیرت بن جاؤں؟”
“اگر یہی دیکھنا تھا تو ٹھیک ہے، میں تم سب کی خوشی کے لیے خاموش ہو جاتا ہوں!”
زیغم کی گرجدار آواز پر مہرو اور ذرام اور دانیا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، مگر کوئی جواب نہ دیا۔
“بھائی، ہم نے ایسا کب کہا؟”
“آپ نے جو کیا، وہ بالکل صحیح کیا اور اگر ہماری کسی بات سے آپ کو تکلیف پہنچی ہے، تو ہمیں معاف کر دیں۔”
ذرام نے نظر جھکاتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔
“اب جو تم لوگ یوں منہ لٹکا کر کھڑے ہو، یہ مجھے برا لگ رہا ہے۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں نے کوئی غلط کام کر دیا ہو، جبکہ تم سب اچھی طرح جانتے ہو کہ حقیقت کیا ہے!”
“جتنا ظلم ان لوگوں نے کیا، اس کے بدلے میں نے ابھی انہیں کوئی سزا بھی نہیں دی۔ جانتا ہوں، تمہارا ان سے خونی رشتہ ہے، تمہیں تکلیف ہوتی ہے ان کو تکلیف میں دیکھ کر مگر میں کیا کروں؟ میرے تو اپنے خونی رشتے ان لوگوں نے ختم کر دیے، موت کے گھاٹ اتار دیے!”
زیغم نے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“ٹھیک ہے بھائی، میں اپنا چہرہ ٹھیک کر رہا ہوں، دیکھیں! اب خوش؟”
ذرام نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا۔
زیغم نے گہری سانس لی اور دانیا کی طرف دیکھا، جو خاموشی سے آنکھوں میں آنسو لیے کھڑی تھی۔
“دانیا، تم بھی اپنے اس مرجھائے ہوئے چہرے کو سیدھا کرو!”
“ورنہ میں سحری نہیں کروں گا، ایسے ہی روزہ رکھ لوں گا۔ تم لوگوں کی پریشان شکلیں مجھ سے دیکھی نہیں جاتیں۔ یا تو دعا کرو کہ میں مر جاؤں، بات ہی ختم ہو جائے، کیونکہ جیتے جی میں ان لوگوں کے ساتھ کوئی رحم دلی نہیں کر سکتا!”
“اللہ نہ کرے بھائی! آپ کو کچھ ہو، اللہ نہ کرے!”
دانیا تڑپ کر روتے ہوئے اس کے سینے سے لگ گئی۔
“ایسی بات مت کریں، پلیز! آپ کو کچھ نا ہو۔ ہمیں آپ کی بہت ضرورت ہے!”
زیغم نے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“ٹھیک ہے، نہیں کہوں گا، لیکن شرط ہے کہ تم سب چہرے پر یہ افسردگی ختم کرو۔ یہ رشتہ ختم ہو چکا ہے، چند دن میں کورٹ کا فیصلہ بھی آ جائے گا، بات ختم!”
“ہمیں اس آدمی سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا، اور میں اسے اب یہاں برداشت نہیں کر سکتا۔ اسے کل ہی پرانی حویلی بھجوا دوں گا، تاکہ اس کی شکل بھی نہ دیکھنی پڑے!”
دانیا کے سر پر بوسہ دے کر ، نرمی سے کرسی پر بیٹھا دیا۔
“چلو، اب سحری کرو! یہ سب بھول جاؤ!”
دانیا کو بٹھاتے ہوئے زیغم خود بھی اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔
زرام بھی اپنی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔
“جناب، آپ بھی بیٹھ جائیں۔ جانتا ہوں کہ آپ کی نظروں میں تو سب سے پہلے میں ظالم ثابت ہو چکا ہوں۔ آپ کو تو لگتا ہوگا کہ میں بہت ظالم ہوں، گھر میں ہر وقت تماشہ بنائے رکھتا ہوں، جھگڑا کرتا ہوں، لڑائیاں کرتا ہوں، ظلم کرتا ہوں سب پر… ایسا ہی لگتا ہے نا، مہرو؟”
زیغم نے پاس کھڑی مہرو کی جانب دیکھتے ہوئے نرمی سے مگر گہرے انداز میں کہا۔ مہرو نے نظریں چرائیں، اس کے چہرے پر بے چینی نمایاں تھی۔
“سائیں میں نے ایسا کب کہا؟”
وہ مدھم آواز میں بولی، جیسے مجبوری میں صفائی دے رہی تھی۔
زیغم کی ہلکی سی مسکراہٹ میں تلخی در آئی۔
“کہنے کی ضرورت نہیں، چہرے سب کچھ بتا دیتے ہیں، مہرو۔ تمہاری آنکھیں وہ سوال کر رہی ہیں جو زبان پر نہیں لائے جا سکتے۔”
مہرو خاموش تھی۔
“جو ہونا تھا، وہ ہو چکا۔ اب بیٹھ جاؤ اور سحری کرو۔ مجھ پر شک کرنا چھوڑ دو،میں اتنا ظالم نہیں ہوں، وقت خود سب ثابت کر دے گا۔”
مہرو خاموشی سے بیٹھ گئی تھی، سب بے دلی سے سہی مگر افطاری کرنے لگے تھے۔ ماحول میں کافی بیزاری گھل گئی تھی۔ ہلکی پھلکی افطاری کرتے ہوئے اذانیں شروع ہو گئیں۔ سحری کی دعا پڑھتے ہوئے زیغم نے زرام کی جانب دیکھا۔
“ٹائم سے سب تیاری کر لینا، کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔”
زیغم نے سنجیدگی سے کہا۔
“جی بھائی، ٹھیک ہے۔”
ذرام نے مؤدبانہ انداز میں کہا۔
“کیسی تیاری؟”
دانیا نے حیران نظروں سے دونوں کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“آج شام زرام کا نکاح ہے۔”
“کیا؟”
دانیا نے حیرانی سے پوچھا۔
“اچانک نکاح؟”
“کس سے؟”
“کون ہے وہ؟”
دانیا کو شدید حیرانی ہوئی تھی زرام کے نکاح کے بارے میں سن کر۔
“بھائی صاحب سے خود ہی پوچھ لو، بھائی صاحب کی اپنی پسند ہے۔”
زیغم نے مسکراتے ہوئے شرارت سے کہا۔
“زارم بھائی، کون ہے وہ؟”
“اور ہم سے چھپا کر رکھا؟”
“اور اچانک سے نکاح ہونے جا رہا ہے؟”
“یہ کیا بات ہوئی؟”
مصنوعی شکوہ کرتے ہوئے دانیا مسکرا دی۔
“ملیحہ نام ہے، اور باقی آپ آج شام خود مل لیجیے گا۔”
زرام ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولا۔
“فلحال تو بھائی کے سر پر سہرا باندھنے کی تیاری کریں۔”
“واہ برخوددار! شرما رہے ہیں؟”
زیغم نے شرارت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“نہیں، میں تو نہیں شرما رہا!”
“میں کیوں شرماؤں گا؟”
زرام فوراً بولا۔
“اچھا؟ شکل سے تو یہی لگ رہا ہے، ہوائیں اُڑی ہوئی ہیں اور بلش بھی بہت کر رہے ہو!”
زیغم نے چوٹ کرتے ہوئے کہا۔
“زیغم بھائی، پلیز چپ ہو جائیں!”
زرام نے جھنجھلا کر کہا۔
زیغم ہنستے ہوئے کرسی سے ٹیک لگا گیا۔
“اچھا بھئی، کچھ نہیں کہہ رہا، مگر یہ شرماتا ہوا چہرہ سب کچھ بتا رہا ہے!”
“اچھا چلو، مجھے بتائیں میرے ذمے کیا کام ہے؟”
دانیا نے بےچینی سے کہا۔
“اتنی شارٹ نوٹس پر بتایا ہے، اب تیاریاں کیسے ہوں گی؟”
“تم اس کے ساتھ مل کر شاپنگ لسٹ تیار کرو اور اس کے ساتھ ہی چلی جانا، دلہن کا ڈریس وغیرہ پسند کرنے کے لیے۔ اور اپنے لیے بھی جو کچھ لینا ہو، لے لینا۔ ولیمے کی اچھی تیاری ہونی چاہیے، عید کے تیسرے دن ولیمہ ہے۔”
“اور ولیمہ صرف اس کا نہیں، میرا بھی ساتھ میں ہے، تو تیاری ذرا زیادہ اچھی اور شاندار ہونی چاہیے!”
زیغم نے سنجیدگی سے کہا۔
“ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! میرے بھائی تو جھٹکوں پر جھٹکے دیے جا رہے ہیں!”
“مطلب، میرے دو دو بھائیوں کا ولیمہ ہے اور مجھے کانوں کان خبر نہیں! نوٹ فیئر!”
دانیا نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
“بھائی، اب میرا نکاح بھی اچانک سے ہو گیا تھا، تو میرے خیال سے میرا بھی ولیمہ ہونا چاہیے۔ میں نے سوچا، لگے ہاتھوں آرام سے اپنا ولیمہ بھی کر لوں، تاکہ ہماری شادی بھی حالات میں نہ آئے۔”
وہ ہنستے ہوئے مہرو کی جانب دیکھ کر بولا، تو مہرو شرم سے دوپٹے کا پلو لبوں پر رکھتے ہوئے نظریں مزید جھکا گئی۔
“تو کیا، مہرو بھابی کا ڈریس بھی میں سلیکٹ کر لوں؟”
دانیا نے جان بوجھ کر شرارتی نظروں سے بھائی کو دیکھتے ہوئے کہا، حالانکہ جواب وہ پہلے ہی جانتی تھی۔
“نہیں، مہرو کا ڈریس میں نے سلیکٹ کر دیا ہے، وہ ساڑھے دس تک پہنچ جائے گا۔”
“اوہو… تو یہ بات ہے! ہم پر بلش کرنے کا الزام لگا رہے تھے، اور یہاں تو اپنی دلہن کا ولیمے کا ڈریس تک منتخب کر لیا اور کانوں کان خبر نہیں ہونے دی!”
زرام کو بھی موقع مل گیا تھا زیغم کی ٹانگ کھینچنے کا۔
“ہاں بھائی، جب دل میں سوچ لیا تھا کہ میں نے بھی اپنا ولیمہ ساتھ میں کرنا ہے، تو میری دلہن بھی ولیمے کا ڈریس پہنے گی۔ میرے خیال سے اسے سلیکٹ کرنا میرا حق تھا، میں نے تو اپنی دلہن سے بھی نہیں پوچھا کہ وہ کیا پہنے گی!”
خوش دلی سے مسکراتے ہوئے بول رہا تھا۔ زیغم کے دل کی خوشی اس کے چہرے پر صاف دکھائی دے رہی تھی۔
“آپ دونوں بہت چالاک ہو!”
“چپ چاپ نکاح کا پروگرام بناتے ہو، اچانک سے نکاح کر لیتے ہو، اور پھر اچانک سے ولیمے کا بتاتے ہو۔ اللہ پوچھے آپ دونوں کو!”
“کوئی بات نہیں، میں بھی اپنی بھابیوں کے ساتھ مل کر آپ لوگوں سے خوب بدلے لوں گی!”
دانیا نے دھمکی دی۔
“ٹھیک ہے جی، اپنی بھابیوں کے ساتھ مل کر بدلے لے لینا، فلحال تیاری کرو۔”
زیغم نے مسکراتے ہوئے کہا اور کارڈ آگے بڑھایا۔
“یہ لو میرا کارڈ، شاپنگ دل کھول کر کرنا۔ اپنی بھی ہر چیز لینا، ارمیزہ کے لیے بھی سب کچھ خرید لینا، اور دلہن کی کسی چیز میں کمی نہیں ہونی چاہیے۔ باقی، میں نے اپنی ولیمے کی شیروانیاں سلیکٹ کر دی ہیں، وہ بھی مہرو کے ڈریس کے ساتھ ہی آ جائیں گی۔”
زیغم نے تفصیل سے سمجھائی۔
“بھائی، میرے پاس پیسے ہیں، اپنے ساتھ ساتھ دانیا کو بھی شاپنگ کروا دوں گا۔”
زرام نے نرمی سے کہا۔
“شٹ اپ! مطلب کہ تم مجھے صرف بھائی کہتے ہو، مانتے نہیں ہو؟”
زیغم نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“نہیں بھائی، ایسا کچھ نہیں ہے، آپ میرے بھائی ہیں!”
زرام نے فوراً صفائی دی۔
“اگر بڑا بھائی ہوں تو پھر مجھے فرض بھی نبھانے دو!”
“احسان نہیں کر رہا تم پر، یہ میرا فرض ہے کہ میں اپنے بھائی کا سادگی سے نکاح کے بعد دھوم دھام سے ولیمہ کروں، اور دوبارہ کہہ رہا ہوں، میں اپنی خوشی سے جو کر رہا ہوں، مجھے روکنا مت، مجھے برا لگے گا۔”
زیغم نے مضبوط لہجے میں کہا۔
“بھائی، آپ اپنا فرض بہت اچھی طرح سے نبھا رہے ہیں، اور جو کچھ میرے لیے کر رہے ہیں، میں خلوصِ دل سے اس کی عزت کرتا ہوں، مگر بھائی، پیسوں سے محبت کو نہیں تولا جاتا۔ آپ کی محبت بے لوث ہے، اور میرے پاس سچ میں پیسے ہیں۔”
زرام نے نرمی سے کہا۔
“زرام……”
زیغم نے اس کا نام کھینچتے ہوئے سنجیدگی سے پکارا۔
“میں اپنی خوشی سے کر رہا ہوں، بہن بھائیوں کے نام پر ایک دانیا اور ایک تم ہو میرے پاس۔ تو کیا میرا حق نہیں کہ میں تم لوگوں پر کچھ خرچ کر سکوں؟”
“ٹھیک ہے بھائی، جیسے آپ کو ٹھیک لگے۔”
زرام نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
“تو شاباش! پھر تم لوگ نماز پڑھو اور صبح ٹائم سے ہی نکل جانا تاکہ شام تک سب کچھ مکمل ہو سکے۔ اور ہاں، دانیا! کسی اچھی پارلر والی کے بارے میں ان کو بتاؤ اور جو بھی ڈیمانڈ ہو، وہ دیتے ہوئے ایمرجنسی میں اسے ہماری ہونے والی بہو کے گھر پر بجھوا دینا تاکہ وہ زرام صاحب کی دلہن کو اچھے سے تیار کر سکے۔”
زیغم کی بات پر زرام کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔
“چلیں میم، ہم بھی اپنے کمرے میں جا کر نماز ادا کر لیں۔”
محبت بھری نظروں سے مہرو کو دیکھتے ہوئے کہا اور نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔
“اللہ تعالیٰ ان کی جوڑی سلامت رکھے اور انہیں ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھے۔” زرام نے بلند آواز میں دعا دی۔
“آمین۔”
دانیا نے بھی دل سے کہا۔
زرام اور دانیا بھی اپنے روم میں نماز ادا کرنے کے لیے جا چکے تھے۔
°°°°°°°°
“مزید پڑھنے کے لیے اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کریں