Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:26

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر:26
°°°°°°
زیغم نے سلام پھیرا، اور نظریں مہرو کی جانب اٹھائیں تو وہ پہلے ہی نماز مکمل کرکے جلدی سے بیڈ پر جا بیٹھی تھی۔ نظریں چرائے، پلو انگلیوں میں لپیٹے، جیسے کسی معصوم سی چڑیا نے اپنا رخ پھیر لیا ہو۔ ولیمے کی بات سنتے ہی اس کے گال لال ہو رہے تھے، جیسے گلاب کی پتیوں پر شرم کی شبنم ٹھہر گئی ہو۔ زیغم نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، چہرے پر پھیرے، اور پھر پرسکون انداز میں اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ مہرو کے قریب آیا تو وہ بےاختیار سرک کر تھوڑا پیچھے ہو گئی۔ زیغم نے ذرا سا اور آگے قدم بڑھایا تو وہ مزید پرے ہٹ گئی۔ زیغم نے ہلکی مسکراہٹ دبائے گہری نظروں سے اسے دیکھا اور مزید قریب ہوا۔ مہرو کی پلکیں لرزنے لگیں، جیسے ہوا کے نرم جھونکے میں کسی شفاف جھیل کی سطح لرز جائے۔

“سائیں، آپ اپنی جگہ پر کیوں نہیں بیٹھ رہے؟”
اس نے مدھم سی آواز میں کہا، مگر لہجے میں بےاختیار کپکپاہٹ تھی۔

زیغم نے نرمی سے جواب دیا:
“تم اپنی جگہ پر کیوں نہیں بیٹھ رہیں؟”
“یہ اصول تم پر بھی لاگو ہوتا ہے، مہرو۔”
مہرو نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی، مگر رخ پھیر لیا، جیسے خود کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہو۔

“مہرو، اتنا بھی کیا شرمانا؟”
“نکاح ہوا ہے، تو ولیمہ بھی ہونا چاہیے نا۔ میری طرف دیکھو، مہرو…”
زیغم نے محبت سے اس کا نام لیا، جیسے کوئی مقدس دعا پڑھ رہا ہو۔

“نہیں سائیں، مجھے آپ سے شرم آتی ہے…”
وہ بمشکل سرگوشی کر پائی۔

زیغم کی نظریں گہری ہو گئیں۔
“تمہارے اس شرمانے پر فدا ہے میرا دل۔”
وہ مزید قریب ہوا، مہرو کا دل دھڑک اٹھا۔ رخساروں کی لالی مزید گہری ہو گئی۔

“مگر میری جان، بار بار اتنا بھی ظلم مت کرو کہ میرا دل میرے بس میں نہ رہے…”
زیغم کی سرگوشی میں ایسی تپش تھی کہ مہرو کی سانسیں بےترتیب ہو گئیں۔
وہ پیچھے ہٹنا چاہتی تھی، مگر زیغم کی نظریں جیسے زنجیر بن گئی تھیں، ایک اندیکھی قید جس میں وہ خود کو جکڑا محسوس کر رہی تھی۔

“سائیں، آپ ایسی باتیں مجھ سے نہ کیا کریں۔”
اس نے پلو دانتوں تلے دبا لیا، جیسے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہو۔

زیغم نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی، نظریں مزید گہری ہو گئیں۔
“اچھا؟ تو ایسی باتیں کس سے کروں؟”
“ایسی باتیں تو اپنی بیوی سے کی جاتی ہیں، مہرو۔”

مہرو نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔
“نہیں، مجھ سے نہیں کیا کریں… مجھے شرم آتی ہے۔”

زیغم نے مدھم لہجے میں کہا۔
“اچھا، میری طرف دیکھو تو سہی۔”
مہرو کی پلکیں لرزیں، مگر نظریں اٹھانے کی ہمت نہ کر پائی۔ وہ کہاں سے حوصلہ لاتی کہ زیغم سلطان کی گہری آنکھوں میں دیکھ سکے، جن میں ایک مکمل جہاں آباد تھا۔ زیغم نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام لیا، اس کی نازک ہتھیلی کو اپنے مضبوط ہاتھوں کے حصار میں سمیٹ لیا۔ مہرو کی سانسیں بےترتیب ہونے لگیں، زیغم کے ہاتھوں کی حدت اس کے وجود میں اتر رہی تھی۔

“مہرو، میری طرف دیکھو…”
زیغم کی آواز میں وہ شدت تھی کہ مہرو کے دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی۔ زیغم نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر نرمی سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔ مہرو کی سانسیں رکنے لگیں، پلکیں لرز رہی تھیں، مگر آج زیغم کا قریب ہونا عجیب نہیں لگ رہا تھا۔ شاید کیونکہ اس کی آنکھوں میں محبت تھی، اپنائیت تھی، ایک ایسا لمس جو دل کے دروازے پر مدھم مدھم دستک دے رہا تھا۔ یہ لمس نیا تھا، یہ احساس نیا تھا، مگر دل میں جو روشنی اتر رہی تھی، وہ حد سے زیادہ حسین تھی۔

زیغم نے اس کی نازک ہتھیلی کو محبت سے تھامے رکھتے ہوئے سرگوشی کی۔
“مہرو، قسم ہے تمہیں، اگر میری عزت کرتی ہو تو میری طرف دیکھو۔”
مہرو کی پلکیں لرزیں، جیسے کوئی برف کا گالہ دھیرے دھیرے پگھل رہا ہو۔ اس نے ہمت کرکے نظریں اٹھائیں، نیلی آنکھوں میں ایک دنیا بسی ہوئی تھی۔

زیغم کی نظریں اس کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔
“اب بتاؤ، میں تمہیں اچھا لگتا ہوں؟”

مہرو کا دل حلق میں آ گیا۔
“جی…”
وہ بامشکل بولی۔

زیغم نے شرارتی مسکراہٹ دبائی۔
“کیا جی؟”

مہرو نے نظریں جھکا لیں۔
“اچھے لگتے ہیں…”

زیغم نے ابرو اٹھائی۔
“صرف اچھا لگتا ہوں؟”

مہرو کی پلکیں لرزیں، دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
“بہت اچھے لگتے ہیں…”

زیغم نے شرارت سے سر جھٹکا۔
“کنجوس لڑکی!”
مہرو نے لب کاٹ کر نظریں جھکا لیں، جیسے مزید کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی۔

زیغم نے نرمی سے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“تم جانتی ہو، تم مجھے کتنی اچھی لگتی ہو؟”
مہرو نے خاموشی سے نفی میں سر ہلایا۔

زیغم کی آنکھوں میں گہرائی مزید بڑھ گئی۔
“اتنی کہ میرا دل چاہتا ہے صبح سے شام تک، شام سے رات تک، اور رات سے اگلے دن تک بس تمہیں دیکھتا رہوں۔ تمہیں اتنی شدت سے چاہتا ہوں کہ میرا دل چاہتا ہے اپنی ساری محبت تمہارے قدموں میں رکھ دوں۔ میری صبح تم سے ہو، میری شام تم پر ختم ہو۔ میرا ہر خواب تم سے شروع ہو، اور تم پر ختم ہو۔”
مہرو کا دل جیسے کسی مدھم ساز پر دھڑکنے لگا۔ زیغم کے الفاظ اس کے وجود میں اتر رہے تھے، اور وہ اس لمحے میں کہیں کھو رہی تھی۔

“ایسے کرتے ہیں تعریف جیسے میں نے کی ہے!”
زیغم نے مسکراتے ہوئے شرارت سے کہا۔

مہرو نے ہڑبڑا کر نظریں چرائیں۔
“نہیں… آپ نے بہت زیادہ کچھ کہہ دیا ہے، مجھے سب کچھ یاد نہیں رہتا۔”
وہ شرماتے ہوئے بولی۔
مطلب کہ مہرو کو زیغم سلطان کے جذبات سمجھ آنے لگے تھے۔ زیغم کے لیے تو اتنی ہی خوشی کافی تھی کہ اس کی مہرو اب اس کی باتیں سمجھنے لگی ہے اور پہلے کی طرح ان کو ناقابل یقین نہیں سمجھ رہی تھی۔ مسلسل بات کرتے ہوئے مہرو کا ہاتھ زیغم کے ہاتھ میں تھا۔ زیغم کے لیے یہ اعتماد ہی کافی تھا۔

“مہرو، تمہیں مہندی لگوانا پسند ہے؟”
مہرو شرم و حیا میں گھلتی ہوئی لال سرخ ہو رہی تھی، اس لیے زیغم نے نرمی سے بات بدل دی۔

“جی، بہت پسند ہے!”
وہ خوش ہو کر بولی۔

زیغم مسکراتے ہوئے بولا:
“اچھا تو پھر بلواؤں تمہاری دوست کو؟”
“تمہارے ہاتھوں پر مہندی لگا دے۔”

“میری دوست؟”
مہرو نے حیرت سے دہرایا۔

“ہاں جی، تمہاری دوست سکینہ!”
“اسے بہت اچھی مہندی لگانی آتی ہے، دانیا اور باقی لوگوں کو بھی وہی مہندی لگاتی ہے۔”
زیغم نے وضاحت کی۔

“مجھے بھی مہندی لگوانی ہے!”
نیند سے بیدار ہوتی ارمیزہ نے مہندی کی بات سنتے ہی جلدی سے اپنے بابا کے ساتھ لپٹتے ہوئے اپنی ڈیمانڈ کر دی۔

زیغم نے ہنستے ہوئے اس کے گال پر بوسہ دیا۔
“اچھا جی، میری بیٹی نے مہندی لگوانی ہے؟”
“ٹھیک ہے، ضرور لگوائیں گے، بس تھوڑا سا دن چڑھنے دو، پھر سکینہ کو بلا کر دونوں ہاتھوں پر مہندی لگوائیں گے۔”

“اور تم مہندی لگواتے ہوئے ہتھیلی پر میرا نام لکھوانا مت بھولنا!”
وہ مہرو کی طرف جھک کر مدھم سرگوشی میں بولا۔
مہرو نے شرما کر ارمیزہ کے بالوں میں ہاتھ پھیراتے سر ‘ہاں’ میں ہلا دیا۔

“بہت شکریہ، جناب!”
زیغم نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، پھر ہلکے سے جھک کر مہرو کی آنکھوں میں جھانکا۔
“ہماری بات ماننے کے لیے!”
مہرو نے گھبرا کر نظریں چرائیں، مگر ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھر آئی۔ زیغم نے نرمی سے ارمیزہ کو گود میں اٹھایا اور اس کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو گیا۔ ننھی شہزادی خوشی سے قہقہے لگا رہی تھی، جبکہ مہرو خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ یہ منظر کسی مکمل تصویر کی مانند تھا، جیسے کوئی خواب حقیقت میں ڈھل چکا ہو۔ ایک مکمل، حسین اور خوشحال فیملی!
مہرو کو لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔ زیغم کی آنکھوں میں سکون اور خوشی کی چمک تھی۔ وہ ارمیزہ کو گدگدی کر رہا تھا، اور ننھی پری کھلکھلا رہی تھی لیکن ایک لمحے کے لیے بھی زیغم نے مہرو کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔ وہ مضبوطی سے اس کی انگلیاں تھامے ہوئے تھا، جیسے کوئی وعدہ کر رہا ہو، جیسے یہ لمس ہمیشہ قائم رہے گا۔ مہرو کی سانسیں الجھنے لگیں، دل کے تار کسی اندیکھی سرگم پر بجنے لگے۔ یہ لمحے، یہ احساسات… یہی تو زندگی کی اصل خوشی تھی، جو زیغم کو بڑی مشکل سے نصیب ہوئی تھی… اور خوشیاں کس چیز کا نام ہوتی ہیں یہ تو مہرو اب پتہ چل رہا تھا… اس کی بے رنگ سی زندگی میں زیغم سلطان نے رنگ بھر دیے تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے مل کر مکمل ہو گئے تھے۔
°°°°°°°°°
مغرب میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا، آسمان پر ہلکے سرخی مائل بادل بکھرے ہوئے تھے۔ شام کا ہلکا سا نیلا پن زمین پر اپنی مدھم چمک بکھیر رہا تھا۔ دکانوں کی روشنیاں جل چکی تھیں، بازار میں ہلچل تھی، اور خریداری میں مصروف لوگوں کے چہرے خوشی اور جوش سے دمک رہے تھے۔ دانیا نے اپنی پریشانیاں پس پشت ڈال کر اپنے بھائی کی خوشیوں میں خود کو شریک کر لیا تھا۔ وہ زرام اور فیصل کے ساتھ دکانوں میں گھوم رہی تھی۔ ہر دکان پر رک کر دلہن کے لیے مخصوص چیزیں دیکھی جا رہی تھیں، ان کی خوبصورتی اور معیار پر بحث ہو رہی تھی، اور آخر میں سب کچھ بہترین چنا جا رہا تھا۔ بڑے بڑے بیگ اور شاپرز گاڑی میں بھر چکے تھے۔ ایک طرف دلہن کے خاص خاص لباس تھے۔ ہر جوڑے کے ساتھ میچنگ جیولری اور چوڑیاں الگ الگ پیک کی جا رہی تھیں۔ نرم مخملی ڈبوں میں بند خوبصورت جھمکے، بندے، ٹیکے، اور گلے کے سیٹ چمک رہے تھے۔ مہندی کی خوشبو تھیلوں سے نکل کر فضا میں بسی جا رہی تھی۔ دلہن کے جوتوں کا انتخاب بھی ذوق سے کیا گیا تھا۔ مختلف ہیلز، سینڈل، اور روایتی کھسے ایک سائیڈ پر ترتیب سے رکھے جا رہے تھے۔ ہر جوڑے کے ساتھ ایک خوبصورت ہینڈ بیگ بھی لیا گیا تھا جو کپڑوں سے مکمل ہم آہنگ تھا۔ میک اپ کا سیکشن بھی خاص توجہ کا مرکز تھا۔ بہترین برانڈز کے فاؤنڈیشن، لپ اسٹکس، آئی شیڈوز، بلش، کاجل، اور دیگر ضروری اشیاء الگ سے رکھی جا رہی تھیں۔ پرفیومز اور باڈی اسپرے کی مہک نے فضا کو مزید دلکش بنا دیا تھا۔ بہت گھنٹوں کی تھکا دینے والی شاپنگ کے بعد جب وہ سب گھر پہنچے تو خریداری کے بڑے بڑے بیگ اور شاپرز دیکھ کر قدسیہ کی نظریں ایک لمحے کے لیے ٹھہر گئیں۔ اس کے چہرے پر الجھن کے آثار ابھرے، مگر صبح سحری کے وقت ہونے والے ہنگامے کے بعد وہ چپ رہنے میں ہی عافیت جانتی تھی لیکن جیسے ہی اس کی نظر زرام پر پڑی، جو دانیا اور فیصل کے ساتھ تھا، اس کی بے چینی بڑھ گئی۔

قدسیہ سے رہا نہ گیا، وہ زرام کے قریب آئی اور سوال کر ہی ڈالا۔
“یہ سب کیا ہو رہا ہے؟”
“کس چیز کی تیاریاں چل رہی ہیں؟”

اس کے الفاظ ابھی مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ سیڑھیوں پر کھڑے زیغم سلطان، جو فون پر بات کر رہا تھا، اونچی آواز میں بولا:
“چاہے جس چیز کی تیاریاں ہو رہی ہوں، آپ کو اس سے کیا مسئلہ؟”
“آپ تو رشتہ ختم کر چکی ہیں، آپ کے لیے یہ مر گیا اور آپ اس کے لیے مر چکی ہیں، پھر آپ کو اس سب سے کیا مطلب؟”

“اچھا؟ میرے کہنے سے یہ رشتہ ختم ہو جائے گا؟”
“مت بھولو، یہ میرا بیٹا ہے!”
پلٹ کر دیکھتے ہوئے تیکھے لہجے میں جواب دیا۔

“جب رشتہ توڑ رہی تھیں تب یہ یاد نہیں آیا تھا کہ یہ آپ کا بیٹا ہے؟”
زیغم سلطان طنزیہ لہجے میں مسکراتے ہوئے بولا۔

“میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی، میں اپنے بیٹے سے پوچھ رہی ہوں، اسے بات کرنے دو۔”

“وہ کچھ نہیں بتائے گا۔”
زیغم نے سخت لہجے میں کہا۔

“کیوں نہیں بتائے گا؟ میرا بیٹا ہے!”
قدسیہ نے ضدی انداز میں کہا۔

“بھائی سے بحث کی ضرورت نہیں، میں بتا دیتا ہوں، مگر خدا کا واسطہ ہے، کوئی نیا مسئلہ مت کھڑا کیجیے گا۔”
زرام نے ہاتھ اٹھا کر نرمی سے کہتے آخری الفاظ اپنی ماں کے لیے بولے تھے۔

“نہیں کرتی تمہارے بھائی سے بحث۔ بس بتاؤ، کیا کھچڑی پک رہی ہے؟”
قدسیہ نے ہنکارا بھرا۔

زرام نے گہرا سانس لیا اور مضبوط لہجے میں کہا:
“میرا نکاح ہے آج۔”

قدسیہ کے لبوں سے بے اختیار حیرت میں ڈوبا ہوا جملہ نکلا:
“کیااااا؟ نکاح؟”
“اور ہمیں بتانا ضروری نہیں سمجھا؟”
“کس سے؟”
“کہیں اپنی نئی نویلی بیوی کے جیسی نیچ ذات کی لڑکی تو لانے کا پروگرام نہیں بنا رہا یہ؟”

“خبردار! زبان سنبھال کر بات کریں!”
قدسیہ کی تلخ بات سن کر زیغم کی برداشت جواب دے گئی، وہ دھاڑا۔

“یہی وجہ تھی کہ آپ کو نہیں بتایا تھا مگر اب بتا رہا ہوں۔ یہ میری زندگی ہے، میرا فیصلہ ہے، اور مجھ پر زیغم بھائی نے کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا۔ یہ میری اپنی پسند ہے اور میں جہاں چاہوں شادی کر سکتا ہوں۔ یہ حق تو ہے نا میرے پاس؟”
زرام نے پر سکون مگر مضبوط لہجے میں کہا۔

“یہ تمہیں ہمارے خلاف بھڑکا رہا ہے۔ اور تم اس کے بہکاوے میں آرہے ہو؟”
قدسیہ غصے سے بولی۔

“ہم تمہاری شادی خود کریں گے، کسی اچھی جگہ، اچھے گھرانے میں۔”

زرام نے سر جھٹکا۔
“مجھے جہاں شادی کرنی ہے، میں وہاں کر رہا ہوں۔ اور پلیز، اس معاملے میں کوئی رکاوٹ مت ڈالیں۔ اماں، مجھے اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے جسے میں پسند کر چکا ہوں۔”

قدسیہ نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں۔
“کون ہے؟”
“کہاں رہتی ہے؟”
“ہمیں بھی تو بتاؤ!”
“ہم نے تمہیں پیدا کیا، کیا اتنا حق نہیں ہمارا تم پر؟”

“حق ہے، اس لیے بتا رہا ہوں۔ وہ اسی گاؤں میں رہتی ہے، ایک کسان کی بیٹی ہے، غریب گھر کی لڑکی ہے۔ اگر آپ اس رشتے کے لیے خوش ہیں تو میرے ساتھ چلیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔”
زرام نے دوٹوک جواب دیا۔

قدسیہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
“میں لعنت بھیجتی ہوں ایسے رشتے پر جو نیچ ذات سے لیا گیا ہو!”
“جن لوگوں کی اوقات ہمارے ساتھ بات کرنے کی بھی نہیں، ان کو تم ہمارے گھر لا کر ہمارے سر پر بٹھانا چاہتے ہو؟”
“میں کسی کسان، کسی غریب گھر کی لڑکی کو اپنی بہو قبول نہیں کروں گی!”

زرام نے بے نیازی سے شانے اُچکائے۔
“تو ٹھیک ہے، مت کریں قبول۔ اور مجھے تو آپ پہلے ہی اپنے بیٹے کی فہرست سے نکال چکی ہیں، اس لیے برائے مہربانی، چپ کر جائیں۔”
اپنے بیٹے کے دو ٹوک آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیے گئے جواب پر قدسیہ غصے سے پاگل ہو رہی تھی۔

“میں قیامت برپا کر دوں گی!”
“یہ شادی نہیں ہونے دوں گی!”
“جس کے اشاروں پر ناچ رہے ہو نا،اسے بہت مہنگا پڑے گا! “
وہ چلاتے ہوئے بولی۔

“میں کسی کے اشاروں پر نہیں ناچ رہا!”
“خدا کا واسطہ ہے، اپنے ذہن سے یہ بات نکال دیں کہ میں اتنا بے وقوف ہوں کہ کسی کے اشاروں پر ناچوں گا!”
زرام کی آواز میں حد درجہ ضبط تھا، مگر لہجے کی سختی اس کے اندر اٹھنے والے طوفان کو واضح کر رہی تھی۔ وہ الفاظ چبا چبا کر بول رہا تھا۔ اس کی اونچی آواز نے قدسیہ کو کچھ سیکنڈ کے لیے چپ کروا دیا تھا۔

“یہ نکاح میرا اپنا فیصلہ ہے!”
“وہ لڑکی میری پسند ہے!”
“زیغم بھائی اس بارے میں کچھ نہیں جانتے، ہر چیز کے لیے ان کو قصور وار ٹھہرانا بند کر دیں!”

قدسیہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔
“ایسا تو تمہیں لگتا ہے نا کہ تم اپنا دماغ استعمال کر رہے ہو، جبکہ تم تو ٹھہرے بے وقوف۔ بچپن میں پہلے اس کے ماں باپ کے اشاروں پر چلتے تھے، اور اب اس کے اشاروں پر چل رہے ہو۔ تمہارا اپنا دماغ ہے کہاں، جو تم استعمال کرو گے؟”
قدسیہ اپنے بیٹے کو کوستے ہوئے بولی۔
زیغم سلطان زہر الود نظروں سے قدسیہ کو دیکھ رہا تھا جو اپنے بیٹے کی خوشیوں کی دشمن بنی ہوئی چیخ رہی تھی۔

“یہ تماشہ ختم کریں!”
“شادی کر رہا ہے، کسی کا قتل کرنے نہیں جا رہا!”
“تم لوگوں نے تو قتل کرنے سے پہلے، اپنوں کا خون بہانے سے پہلے نہیں سوچا، اور وہ بیچارہ تو صرف نکاح کر رہا ہے!”
“اور یہ ‘نیچ ذات’ کا کیا مطلب؟”
“تم لوگوں سے زیادہ نیچے تو کوئی نہیں ہے!”
“اتنے بڑے خاندان سے تعلق رکھتے ہوئے، کون سا ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو تمہیں کسی اور پر انگلیاں اٹھانے کا حق دیتا ہے؟”
زیغم سلطان سیڑھیوں سے تیزی سے نیچے اترتے ہوئے دہاڑا تو قدسیہ خاموش ہو گئی تھی، کیونکہ زرام کے بس کی بات نہیں تھی کہ وہ اپنی ماں کو چپ کروا سکے۔

“اپنے کردار کی طرف دیکھیں، اپنی سوچ کو پرکھیں، اپنی زندگی کے ہر لمحے کا جائزہ لیں۔ اگر آپ خود روشنی میں نہیں ہیں تو دوسروں کو چراغ تھمانے کا حق بھی نہیں رکھتے۔ دوسروں کی خامیوں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اندر کی تاریکیوں کو پہچانیں۔ جو خود آئینہ دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ دوسروں کے چہروں پر داغ تلاش کرنے میں سرگرداں رہتے ہیں۔ لوگوں کے گناہوں کو گننے سے پہلے اپنی نیکیوں کا حساب کر لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کی خطائیں تلاش کرتے کرتے آپ خود کہیں کھو جائیں۔ جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتے ہیں، وہ اکثر خود اس میں گر جاتے ہیں۔ حق پر چلنے کے لیے آواز بلند کریں، مگر یاد رکھیں کہ سچائی وہی بیان کر سکتا ہے جس کا ضمیر پاک ہو۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے نکلیے، مگر پہلے خود کو سنواریے، کیونکہ بہتر دنیا کی شروعات ہمیشہ اپنے اندر کی روشنی سے ہوتی ہے۔ روشنی بنیں، بجھنے والا چراغ نہیں!”
زیغم سلطان کی آنکھوں میں غصے کی شدت تھی، الفاظ برف کی طرح ٹھنڈے مگر کاٹ دار۔ وہ قدسیہ کو آئینہ دکھا رہا تھا، جیسے حقیقت کا بے رحمانہ عکس اس کے سامنے لا کھڑا کیا ہو۔

“کسی اور کی نہیں تو کم سے کم اپنی اولاد کی سگی تو بن جائیں!”
قدسیہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ زبان جیسے کسی نے مقفل کر دی ہو۔ زیغم کی نظریں اس پر جمی تھیں، جیسے دیکھنا چاہ رہا ہو کہ سچ کی یہ چبھن کہاں تک محسوس ہوئی ہے۔ قدسیہ کے لیے وہاں ایک لمحہ بھی رکنا مشکل ہو گیا۔ ہونٹ سختی سے بھینچ لیے، ہاتھوں کی مٹھیاں بند ہو گئیں۔ نظریں چرائیں اور غصے میں قدم زمین پر زور سے مارتی ہوئی سیدھا توقیر کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

“چغلی نہ کرے تو اس کے دل کا بوجھ کیسے ہلکا ہو!”
زیغم سلطان ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹک کر مڑ گیا۔

“منہ سیدھا کر زرام، آج تمہاری زندگی کا سب سے خوشی کا دن ہے، کسی بھی بات کو سر پر سوار مت کرو۔ میں تمہاری خوشیوں کو گرہن نہیں لگنے دوں گا، یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔ مگر تمہیں اپنے قدموں پر مضبوطی سے قائم رہنا ہوگا۔”
زیغم نے آگے بڑھ کر زرام کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ اس کے انداز میں بڑے بھائیوں کا پورا حق جھلک رہا تھا۔ زرام نے بے اختیار سر جھکا لیا، آنکھیں ہلکی سی نم ہو گئیں۔ زیغم کی محبت بھری گرفت نے اسے ایک نئی ہمت دی تھی۔

“ریلیکس ہو جا اور جلدی کر، ہمیں فارم ہاؤس پہنچنا ہے۔ یہاں پر ان لوگوں کی بے شگونیا میں تو برداشت نہیں کر سکتا اور نہ تمہیں کرنے دوں گا۔”
زیغم نے اس کے کندھے پر تھپکی دی، اس کی آواز میں وہی مضبوطی تھی جو ہمیشہ زرام کے لیے ایک ڈھال بنی رہی تھی۔

“مگر بھائی، یہ اتنے آرام سے نکاح نہیں ہونے دیں گے؟”
زرام کی آواز میں بے یقینی تھی، آنکھوں میں ایک انجانی گھبراہٹ۔

“کیسے نہیں ہونے دیں گے؟”
زیغم کی بھاری آواز میں ایسا ٹھہراؤ تھا کہ زرام نے بے اختیار سر اٹھایا۔

“میرے ہوتے ہوئے یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ تم بس تیاری کرو اور نکلو۔”
پھر جیسے کچھ سوچ کر زیغم نے فوراً اپنا فیصلہ بدلا۔
“بلکہ رہنے دو، تیاری بھی فارم ہاؤس پر جا کر کریں گے اور افطاری بھی وہیں ہوگی۔ تم گاڑی میں جا کر بیٹھو۔”
وہ مضبوطی سے بولا، ہر پریشانی کا حل اسکے پاس تھا۔

“دانیا، یہ سب سامان بھی گاڑی میں رکھوا دو، وہیں جا کر سب ریڈی ہونا۔”
دانیا کو بھی ہدایت دی، جو خاموشی سے سر ہلا گئی۔ یہ کہہ کر زیغم تیز قدموں سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا، جبکہ زرام اور دانیا افسردہ چہرے لیے خاموشی سے باہر کی جانب بڑھ گئے۔ پل بھر میں سب کچھ پریشانی اور دکھ کی نظر کر دیا تھا۔ ہمیشہ سے ایک فسادی عورت تھی، فساد پھیلانا اس عورت کو ہمیشہ سے بہت پسند تھا اور آج اپنے بیٹے کی خوشی میں بھی اس نے یہی کچھ کیا تھا۔ زیغم سلطان مہرو کا ہاتھ تھامے اپنے روم سے نیچے آیا تھا۔ ابھی وہ سیڑھیاں پار ہی کر رہا تھا کہ سامنے قدسیہ اور توقیر کھڑے نظر آئے۔ دونوں کے چہروں پر غصے اور غیظ و غضب کی لکیریں نمایاں تھیں۔ جیسے ہی زیغم ان کے قریب پہنچا، توقیر آگے بڑھا اور دھاڑتے ہوئے بولا:
“تم کیسے میرے بیٹے کی شادی میری اجازت کے بغیر کر سکتے ہو؟”
“تمہیں اس کا نکاح کرنے کا حق دیا کس نے؟”

زیغم ایک لمحے کو رکا، پھر نگاہیں سختی سے توقیر کی آنکھوں میں گاڑ دیں۔
“مجھے یہ حق اس نے خود دیا ہے جس کا نکاح ہو رہا ہے۔ آپ کا نکاح نہیں کروا رہا، جو آپ اس قدر بھڑک رہے ہیں!”
اس نے الفاظ چبا چبا کر کہا۔

“میں یہ نکاح نہیں ہونے دوں گا!”
توقیر حلق پھاڑ کر چلایا۔

زیغم ہلکا سا مسکرایا، جیسے اسے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ سب ہونے والا ہے۔ وہ ایک قدم آگے بڑھا اور گہری، دھمکی آمیز آواز میں بولا:
“یہ نکاح تو ہو کر رہے گا۔ ایڑی چوٹی کا زور لگا لو، روک سکتے ہو تو روک لو!”
قدسیہ اور توقیر کے ماتھے پر مزید بل پڑ گئے۔ پیچھے کھڑی مہرو، جو ایک بار پھر اس شور شرابے کا مرکز بن چکی تھی، گھبرا کر زیغم کی پشت کے پیچھے چھپ گئی۔ اس کے نازک ہاتھ زیغم کی قمیض کو مضبوطی سے جکڑے ہوئے تھے۔ وہ روزانہ ایک نیا فساد دیکھنے کی عادی ہو چکی تھی، لیکن یہ سب ابھی بھی اس کے لیے ڈراؤنا خواب تھا۔اس کا معصوم دل خوف سے دھڑکتے ہوئے باہر آنے کو تھا۔ اچانک نایاب سیڑھیوں سے اترتی ہوئی آئی، نظروں میں طنز اور زبان زہر سے بھی زیادہ تیز جلتی آرہی تھی۔

“تمہارا مسئلہ کیا ہے، زیغم؟”
وہ تلخی سے بولی۔

“میرے ایک بھائی کو زخمی کر کے تمہیں چین نہیں ملا؟”
“میرے سر پر سوتن ڈال دی، پھر بھی صبر نہیں آیا؟”
“میری پوری فیملی کو قید کر کے رکھا، پھر بھی تسلی نہیں ہوئی؟”
“میری بیٹی کو مجھ سے دور کر دیا، اور اب تم میرے بھائی کا نکاح کسی جھونپڑی زدہ گھر میں کر رہے ہو؟ تم چاہتے کیا ہو؟”
زیغم نے ایک نظر اس پر ڈالی، جیسے اس کی بے تُکی باتیں کانوں پر اثر ہی نہیں کر رہی ہوں۔ اس کے چہرے پر وہی سرد ٹھہراؤ تھا، جیسے وہ پہلے سے ہی ان سب الزامات کے لیے تیار تھا۔ ارمیزہ جو زیغم کی گود میں تھی، ماں کی تلخ آواز سنتے ہی خوفزدہ ہو گئی۔ وہ اور زیادہ سکڑ کر اپنے باپ سے لپٹ گئی۔ زیغم نے نرمی سے اسے تھپکی دی مگر نگاہیں اب بھی نایاب پر تھیں۔

“تمہاری اس بکواس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے!”
زیغم نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔

“اور نہ میں تمہیں جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ اپنے گریبان میں جھانکو، سب کچھ خود ہی سمجھ آ جائے گا کہ تم نے کیا کیا ہے۔”
یہ کہتے ہی زیغم نے مہرو کا ہاتھ تھاما اور دروازے کی طرف بڑھا، مگر اچانک نایاب بھاگ کر قریب آئی۔

“میری بیٹی کو چھوڑ کے جاؤ!”
“تم اسے نہیں لے جا سکتے!”
وہ تقریباً چیخی اور آگے بڑھ کر ارمیزہ کو کھینچنے کی کوشش کی مگر زیغم پہلے ہی محتاط تھا، اس نے زور سے جھٹکا دیا تو نایاب لڑکھڑاتی ہوئی پیچھے، سیدھا توقیر سے جا ٹکرائی۔

“تمیز کے دائرے میں رہو!”
زیغم کی آواز میں برف جیسی ٹھنڈک اور فولاد جیسی سختی تھی۔

“ورنہ تمہیں بھی لنگڑا کر کے تمہارے بھائی کے ساتھ ڈال دوں گا۔ پھر دونوں ساتھ ساتھ بیڈ پر پڑے ایک دوسرے کے دکھڑے سناتے رہنا!”
“رفیق۔۔۔۔۔۔”
زیغم نے رفیق کو اونچی آواز میں پکارا، اور اگلے ہی لمحے، جیسے کسی دیو نے اپنی پناہ گاہ سے قدم باہر نکالا ہو، رفیق تیزی سے اندر آیا۔ اس کے ہاتھ میں پسٹل تھا، اور چہرے پر ایسا سفاک سکون جیسے بس ایک اشارے کا انتظار ہو۔

“جی، سائیں؟”
رفیق نے مؤدب مگر خطرناک انداز میں کہا۔

“اگر ان میں سے کوئی بھی اندر کے گیٹ سے باہر نکلا، تو میں تم لوگوں کی گردنیں اپنے ہاتھ سے اڑا دوں گا!”
زیغم کی آواز گونجی، جیسے فیصلہ صادر ہو چکا ہو۔
یہ کہہ کر وہ مہرو کا ہاتھ تھامے اور ارمیزہ کو سینے سے لگائے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ زیغم سلطان گیٹ پار کر چکا تھا۔ تیزی سے گاڑی کے قریب پہنچا، ارمیزہ کو پیچھے سیٹ پر دانیا کے حوالے کیا، پھر خود اگلی سیٹ پر زرام کے ساتھ جا بیٹھا۔ زرام پہلے ہی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔ گاڑی اسٹارٹ تھی اور اگلے ہی لمحے، وہ وہاں سے نکل چکے تھے… سیدھا فارم ہاؤس کی طرف!
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔
°°°°°°°°°°°
فارم ہاؤس سے تیار ہو کر زرام، زیغم اور مائد بروقت پہنچ چکے تھے۔ وہ سب چند گواہ اور مولوی کے ہمراہ زرام کی دلہن بیاہنے کے لیے ملیحہ کے گھر پہنچے۔ ملیحہ کے گھر پر پہلے ہی تمام انتظامات مکمل کیے جا چکے تھے۔ ملیحہ کو پارلر والی آ کر خوبصورت تیار کر گئی تھی، اور گھر والوں نے خوش دلی سے اس پر پھول نچھاور کیے۔ اس کے بابا، جو ویل چیئر پر بیٹھے تھے، نکاح کے بعد مبارک باد دیتے ہوئے رو پڑے۔

“میری بیٹی اب آپ کے حوالے ہے، خیال رکھیے گا۔”

زیغم نے تسلی دی، اور اس کے بعد زرام خود آگے بڑھا۔ اس نے ملیحہ کے بابا کے ہاتھ تھامے اور محبت بھرے لہجے میں بولا:
“آپ بے فکر رہیں، آپ کی بیٹی کو کوئی دکھ نہیں ہوگا۔ اب وہ میری ذمہ داری ہے۔ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھیں۔”

“بہت شکریہ، چھوٹے سائیں، بہت شکریہ۔”
ملیحہ کے بابا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“اللہ آپ کو سلامت رکھے ہماری تو سوچ سے بڑھ کر اللہ نے ہمیں نوازا ہے!”
نکاح کے بعد گواہ اور مولوی جا چکے تھے، اور اب وہاں صرف مائد، زرام اور زیغم موجود تھے۔ نکاح گاؤں کی روایت کے مطابق دلہن کو الگ روم کے اندر بیٹھا کر ہی کروایا گیا تھا، جبکہ زرام کے لیے انتظام باہر کیا گیا تھا۔ اس سادگی میں ایک خوبصورت روایت جھلک رہی تھی۔ ملیحہ نے ابھی تک زرام کو نہیں دیکھا تھا۔ وہ ذہنی طور پر اتنی منتشر تھی کہ یہ بھی محسوس نہ کر سکی کہ نکاح میں زرام کا نام آیا ہے۔ اس کے ذہن میں بس یہی سوال گردش کر رہا تھا کہ آخر کیوں اتنے بڑے اور بااثر گھرانے سے اس کا رشتہ آیا؟
کیا کوئی خاص وجہ تھی کہ وہ اسے بیاہ کر لے جا رہے ہیں؟
فاریہ حیران تھی کہ ملیحہ نے زرام کے نام پر توجہ کیوں نہیں دی۔ وہ تو سب جانتی تھی کیونکہ اس کی زرام سے پہلے ہی بات ہو چکی تھی، اور زرام نے اسے تسلی دی تھی کہ وہی آ رہا ہے اپنی دلہن کو لینے مگر جب ملیحہ نے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہ کیا، تو فاریہ نے بھی خاموش رہنے میں ہی بہتری جانی۔ شاید ملیحہ کے لیے یہ حقیقت اچانک سامنے آنا ضروری تھا۔ اپنے ماں باپ سے رخصت ہوتے وقت ملیحہ جذباتی ہو کر رو پڑی تھی۔ والدین نے اسے دعاؤں اور پیار کے ساتھ الوداع کہا۔ بڑی سی گاڑی کا دروازہ کھولا گیا، اور ملیحہ، جو ابھی تک اپنے چہرے پر گھونگٹ ڈالے بیٹھی تھی، بس اپنے پیروں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھ پا رہی تھی۔ جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا گیا، ایک ہاتھ اس کے سامنے بڑھایا گیا۔ وہ جانتی تھی کہ جو بھی تھا، اسے گاڑی میں بٹھانے کے لیے مدد دے رہا تھا کیونکہ گاڑی کافی اونچی تھی۔ ملیحہ کو جھجک تو محسوس ہوئی، مگر اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ دلہن تھی، کچھ بول نہیں سکتی تھی۔ خاموشی سے ہاتھ آگے بڑھایا، اور جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھی، کسی نے اس کا لہنگا سمیٹ کر دروازہ بند کر دیا۔ دوسری جانب وہ شخص ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس کے جسم سے ایک مانوس سی خوشبو آ رہی تھی۔ ملیحہ خیالوں کی دنیا سے باہر آئی۔ یہ خوشبو…؟
پیچھے زیغم اور مائد نے اس کے ماں باپ کو الوداع کہہ کر اپنی گاڑی میں بیٹھنے کے بعد قافلہ آگے بڑھا۔ گاڑیاں آگے پیچھے تھیں، جبکہ ان کے گارڈز کی گاڑیاں بھی پیچھے پیچھے چل رہی تھیں۔
دوسری جانب ملیحہ بے خبر تھی کہ اس کا دولہا کوئی اور نہیں، زرام ہی ہے۔ وہ اس خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے بالآخر خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ آخر ملیحہ تھی…! کشمکش جو دل میں آ جائے، اسے جانچنے کی کوشش کیے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ جھجکتے ہوئے، اس نے ہلکا سا گھونگٹ سرکایا اور سامنے بیٹھے شخص کو دیکھنے کی کوشش کی، جو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اسٹیئرنگ تھامے گاڑی چلا رہا تھا مگر جیسے ہی اس پر نظر پڑی، ملیحہ کا دل ایک دم اچھل گیا۔ اس نے گھونگٹ اٹھا کر پیچھے کی جانب پھینک دیا۔

“تم…!”
وہ حیرت اور بے یقینی کے مارے چیخ پڑی تھی، جبکہ زرام کے لبوں پر مسکراہٹ کھل اٹھی تھی۔

“جی… میں! اور کون ہو سکتا ہے؟”
“میں ہی تمہارا نصیب ہوں، مائی اسپائسی چِلی۔”

“نن… ن…۔ نہیں! میرے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا!”
“میرے گناہوں کی سزا مجھے ایسے نہیں مل سکتی!”
وہ چلائی تھی۔

“گناہوں کی سزا نہیں، مائی اسپائسی چِلی، میں تو تمہاری نیکیوں کا تحفہ ہوں۔”
زرام مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر آنکھ ونگ کرتے ہوئے بولا، تو ملیحہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ اپنی جیت کا جشن منا رہا تھا، اور یہ ملیحہ کو مزید غصہ دلا رہا تھا۔

“زرام کے بچے!”
“میں تمہارا خون کر دوں گی!”
وہ دانت پیستے ہوئے غرائی۔

“اسی لیے تو لے کر جا رہا ہوں، میرا خون کر دینا، زرام تو تمہارے ہاتھوں سے مرنے کے لیے تیار ہے!”
زرام نے شوخ لہجے میں کہا، اسے ملیحہ کے غصے میں مزید مزہ آ رہا تھا۔

“گاڑی روکو اور مجھے نیچے اتارو!”
وہ چلائی تھی۔

“پاگل ہو؟ مائی اسپائسی چِلی، تم میری بیوی ہو!”
“نکاح کر کے، پورے حق سے، تمہارے ماں باپ سے اجازت لے کر، عزت، ادب اور لحاظ کے ساتھ، دین و قانون کے مطابق تمہیں ساتھ لے جا رہا ہوں!”
وہ دانت نکالتے ہوئے اسے مزید تیش دلا رہا تھا۔

“مجھے یہ ‘مائی اسپائسی چِلی’ کہنا بند کرو، تمہارے ادب و لحاظ کی ایسی کی تیسی، تم سمجھتے کیا خود کو؟”
‘امیرزادے ہو گے تو اپنے گھر ہو گے، میں تمہاری خریدی ہوئی قیمتی چیز نہیں ہوں جسے تم زبردستی اپنے گھر لے جا کر، شو پیس بنا لو گے، جیتی جاگتی انسان ہوں اور مجھے تم نہیں پسند بات ختم!”
“اور اگر تم نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی، میں تمہارا وہ حشر کروں گی کہ تم ساری زندگی یاد رکھو گے!”
وہ غصے سے چلاتے ہوئے سیٹ پر بیٹھی، پورا ایک لڑاکا عورت کی طرح اس کی جانب انگلی تان کر دھاڑی۔ اس کی آنکھوں میں وحشت تھی، لب غصے سے کانپ رہے تھے، اور سانس بے ترتیب ہو چکی تھی۔ وہ اپنے وجود کی ساری شدت اپنی آواز میں سمو چکی تھی۔ پتہ نہیں کیوں مگر اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ہار چکی ہے اور زرام جیت چکا ہے۔ زرام، جو اب تک گاڑی چلا رہا تھا، ایک لمحے کے لیے چونکا۔ اس کی نظریں ملیحہ کے سجے چہرے پر جم گئیں۔ وہ غصے میں بھی اتنی حسین لگ رہی تھی کہ زرام کی نظریں جیسے اس کے چہرے کا طواف کرنے لگی تھیں۔ دلہن کے روایتی لباس میں، جو ابھی بھی اس کے سراپے پر جچ رہا تھا، اس کی تیکھے نقوش، بڑی بڑی آنکھیں اور غصے سے سرخ ہوتا چہرہ—سب کچھ زرام کو مزید مسحور کر رہا تھا۔ زرام کی نظریں جیسے ٹھہر سی گئیں۔ ملیحہ اس کے سامنے دلہن کے روپ میں بیٹھی تھی، مگر یہ روپ عام دلہنوں جیسا نہیں تھا۔ اس میں ایک عجیب سا جادو، ایک ان کہی کشش تھی جو زرام کے دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رہی تھی۔ سرخ رنگ کے بھاری کام والے لہنگا کُرتی میں ملیحہ کی خوبصورتی نکھر کر سامنے آ رہی تھی۔ گہرے سرخ دوپٹے کی جھلک میں اس کے چہرے کی خوبصورتی اور نکھار اور بھی نمایاں ہو گیا تھا۔ اس کی بڑی، ہرنی جیسی آنکھیں، جو کاجل کی تہہ سے مزید گہری اور پرکشش لگ رہی تھیں، زرام کو ایک پل کو ساکت کر گئیں۔ پلکوں پر ہلکا سا گلیٹر، جیسے ستارے سمٹ کر آنکھوں میں قید ہو گئے ہوں۔ اس کے گلابی رخساروں پر بلش کا ہلکا سا لمس، جیسے شرم کے رنگ نے خود اپنا وجود وہاں بکھیر دیا ہو۔ لبوں پر سرخ رنگ کی لپ اسٹک اس کے سراپے سے مکمل میل کھا رہی تھی، اور بڑی بڑی آنکھوں میں ہلکی سی نمی نے انہیں مزید دلکش بنا دیا تھا۔ نتھ کی باریک چین اس کے گال سے ٹکرا کر ایک دلربا سا منظر پیش کر رہی تھی، جبکہ ماتھے پر سجی بِندیا، جیسے اس کے حسن کو سمیٹ کر ایک نقطے میں قید کر رہی تھی۔ کانوں میں جھمکتے جھمکے، اور گلے میں پہنا ہوا گولڈ کا نیکلس، جو اس کی دھڑکنوں کے ساتھ ہلکا سا حرکت کر رہا تھا۔ اس کے بازوؤں میں چمکتی کانچ کی چوڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا کر ہلکی کھنک پیدا کر رہی تھیں، جیسے ان کی کھنک خاموشی بھی زرام سے ہمکلام ہو رہی تھی۔ ہاتھوں پر سجی مہندی کی گہری لالی، انگلیوں میں چمکتے نگینے، اور دوپٹے کے کنارے پر جڑا موتیوں کا بارڈر، سب کچھ مل کر ایک مکمل خواب سا منظر تخلیق کر رہے تھے۔ وہ خواب جو زرام نے کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا اور خدا نے آج پورا کر دیا تھا۔

زرام نے بے اختیار سانس اندر کھینچا۔
“تم دلہن بن کر سچ میں میری ہو گئی ہو یا میرا خواب ہے؟”
“مجھے یقین نہیں آرہا!”
اس کی نظریں اس کے سراپے میں کھو گئی تھی۔

“بند کرو یہ فضول باتیں!”
وہ غصے سے بولی۔

“جھوٹ ہے نہ میں تمہاری دلہن ہوں اور نہ ہمارا نکاح ہوا ہے۔ خود کو چٹکی کاٹو اور ہوش میں آ جاؤ!”
وہ زہریلے لہجے میں بولی۔

زرام نے گاڑی ایک جھٹکے سے روکی، اپنا رخ اس کی طرف موڑا۔
“تمہیں لگتا ہے، میں تمہیں زبردستی لے جا رہا ہوں؟”
وہ شرارتی نظروں سے دیکھتا ہے ہوئے آئی برو اٹھا کر بولا۔

“تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہارے ساتھ خوشی خوشی جا رہی ہوں؟”
ملیحہ نے نظریں چراتے ہوئے تلخی سے کہا۔

زرام نے اپنی مسکراہٹ دبائی، اور جھک کر اس کے چہرے کے قریب ہوتے ہوئے سرگوشی کی۔
“تمہیں ابھی بھی نہیں سمجھ آئی؟”
“تم میری ہو اور ہمیشہ میری رہو گی!”
“بڑی محبت سے تم سے نکاح کر کے، اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں، پوری زندگی کا ساتھ ہے… میری اسپائسی چِلی تسلیم کر لو… میں زبردستی نہیں کر رہا، میں تمہیں اپنا حق دے رہا ہوں… پورے حق سے، تمہیں اپنانے کا حق!”

ملیحہ کا دل ایک پل کو لرزا، مگر اس نے فوراً خود کو سنبھالا۔
“حق؟”
“تمہارا حق؟”
“میرا تم پر، اور تمہارا مجھ پر، کوئی حق نہیں… میں تمہاری ملکیت نہیں ہوں زرام!”
وہ کٹیلے لہجے میں بولی تھی۔

“ملکیت نہیں… تم تو میرا جنون ہو!”
زرام نے دلکشی سے کہا، اور اس کی آنکھوں میں وہی دیوانگی جھلکنے لگی جو ملیحہ کو ہمیشہ پریشان کر دیتی تھی۔

“مجھے جنونی آدمی کے ساتھ نہیں رہنا، تم اپنا جنون اپنے پاس رکھو!”
وہ منہ بسورتی ہوئی نظر پلٹ کر باہر دیکھنے لگی تھی۔

“اپنا جنون تو میں اپنے پاس ہی رکھوں گا کیونکہ میری جان تم میرا جنون سنبھال نہیں سکتی۔”
وہ دلکشی سے مسکرایا تھا۔

“دوبارہ اگر مجھے جان کہنے کی کوشش کی تو قسم سے تمہاری جان نکال لوں گی!”
وہ چیخی تھی۔

“میری جان تو پہلے ہی تمہاری ہو چکی ہے۔”
وہ مسکراتے ہوئے اس کے غصے کو مزید تیش دلا گیا تھا۔

“تم مجھے میرے گھر چھوڑ کر آؤ، مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا بات ختم!”
“میں مزید کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتی!”
وہ دو ٹوک فیصلہ کن انداز میں بولی۔

“ہنسو، روؤ یا چیخو چلاؤ، مارو پیٹو، جو کچھ بھی کرنا ہے کرو… مگر رہنا تو تمہیں میرے ساتھ ہی ہوگا!”
وہ ایک ایک لفظ کو بڑی دلکشی سے کہتے ہوئے واپس گاڑی چلانے لگا تھا۔ لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی۔ دل میں محبوب کو پا لیں گے سکون تھا مگر دوسری جانب سب کچھ اس کے برعکس تھا۔

“تمہیں بہت مہنگا پڑے گا یہ عشق تماشا!”
وہ تلخی سے بولتی ہوئی اپنی گرفت گاڑی کے کھلے ہوئے شیشے پر سخت کر چکی تھی۔

“ذرام کو سستی چیزوں کا شوق بھی نہیں ہے!”
لاپرواہی سے کہتے ہوئے پیار بھری نظر اس پر ڈالی تھی۔

“مگر میرے معاملے میں تو ہمیشہ گھاٹے میں رہو گے۔ نہ تو تمہیں میری صورت میں کوئی امیر زادی ملے گی اور نہ اچھی بیوی۔”
وہ جل کر کہتی ہوئی وپس کھڑکی کی جانب رخ موڑ گئی۔ اس کی بات سن کر وہ زیرِ لب مسکرایا تھا۔

“امیر زادیوں کا مجھے کوئی شوق نہیں، اور اچھی بیوی… وہ تو میں تمہیں خود بنا لوں گا۔”
اس نے دھیمے مگر یقین سے بھرپور لہجے میں کہتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔

“واہ جی! مجنوں کو کچھ زیادہ ہی بھروسہ ہے خود پر؟”
وہ نقل اتارتی ہوئی بولی تھی،لہجے میں غصہ تھا مگر اس کے دل میں کہیں ہلکی سی ہلچل ضرور مچ چکی تھی۔ جس کو وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔

“الحمدللہ خود پر اتنا بھروسہ ہے کہ ساری زندگی کم پڑ جائے گی توڑنے کے لیے!”
مضبوط لہجے میں بولتے ہوئے بار بار اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھ رہا تھا۔

“ساری زندگی کا کافی مفصّل پلان تیار کر لیا ہے تم نے۔ تمہیں لگتا ہے کہ میں ساری زندگی تمہارے ساتھ رہوں گی؟”
“سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی!”
وہ ضدی انداز میں بولتی چلی گئی۔

“کیوں نہیں رہو گی؟”
“مجھ سے کیا مسئلہ ہے؟”
“میں بھینگا ہوں؟”
“پھینا ہوں؟”
“لنگڑا ہوں؟”
“اندھا ہوں؟”
“کوئی کمی تو ہوگی نہ مجھ میں جس کی وجہ سے تم میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی؟”

“نہیں، تم میں یہ سب کچھ پرفیکٹ ہے، مگر اس کے باوجود بھی میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔”

“لیکن کیوں؟”

“کیونکہ مجھے تمہاری شکل پسند نہیں ہے۔”

“کوئی بات نہیں، میں ماسک پہن لوں گا۔ پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں میری شکل نہ دیکھنا پڑے!”
وہ پھر مسکرایا تھا۔ آنکھوں سے شرارت کے رنگ چھلک رہے تھے۔

“بار بار اس طرح ہنس کر میری بے بسی کا مذاق مت اُڑاؤ!”
“اگر ماں باپ کی عزت کا لحاظ نہ ہوتا، تو ابھی کے ابھی یہیں گاڑی سے اتر جاتی۔”
وہ غصے کی شدت سے کپکپا رہی تھی۔

“چلو، اللہ کا شکر ہے تمہیں کسی چیز کا لحاظ ہے، ورنہ مجھے تو لگا تھا کہ تم کسی کا لحاظ نہیں رکھتی، اسپائسی چلی۔”
ایک بار پھر اسے ستانے کے لیے پھر سے اسپائسی چلی کہتے ہوئے آنکھ کو ونگ کیا تھا۔

“بے شرم، بے ہودہ، گھٹیا انسان!”
“گھٹیا حرکتیں کرتے ہوئے زہر لگتے ہو تم!”
“اور زہر لگتی ہے مجھے تمہاری یہ حرکتیں!”
وہ زرام کے آنکھ مارنے پر، چڑ گئی تھی۔

“استغفراللہ، استغفراللہ، جہنم میں جاؤ گی لڑکی!”
“شوہر کو اتنی گالیاں کون دیتا ہے؟”
“ویسے بھی، میں نے اتنا کوئی بڑا گناہ نہیں کیا جس کے بدلے تم مجھے اتنی ساری گالیوں سے نواز رہی ہو!”
وہ خوبصورت لبوں سے دبی دبی مسکراہٹ مسکرائے جا رہا تھا۔

“جہنم میں تو تب جاؤں گی نا جب میں تمہیں اپنا شوہر مانوں گی!”
“نہ تم میرے شوہر ہو اور نہ میں تمہاری بیوی، فضول کے رشتے میرے ساتھ مت جوڑو زرام!”
“مجھے زہر لگ رہا ہے تمہارے منہ سے یہ لفظ!”
وہ شوہر کہنے پر چلا اٹھی تھی، دل مٹھی میں لیے ہوئے، اس کے چہرے کی سرخی صاف بتا رہی تھی کہ وہ شدید غصے میں ہے۔

“میری جان، بیوی تو ہو تم میری، اور میں تمہارا شوہر ہوں۔ اس رشتے کو جتنی جلدی تسلیم کر لو گی، بہتر ہے۔”
وہ تھوڑا سا اس کے قریب ہوتے ہوئے سرگوشی میں بولا تھا۔
وہ کسک کر کھڑکی کے ساتھ جا لگی۔ اس کا قریب ہونا ملیحہ کی دھڑکنوں کو شدید اشتعال میں مبتلا کر گیا تھا۔ دھڑکنیں بےقابو ہو کر شور مچانے لگیں۔ اسے اپنی ہی دھڑکنوں کے شور پر غصہ آ رہا تھا۔

“ٹھرکی انسان!”
“بےہودہ انسان!”
“قسم سے، اگر مجھے پتہ ہوتا کہ میرا نکاح تم سے ہے تو میں نکاح والے دن بھاگ جاتی!”

“کہیں بھی بھاگ جاتی، میں تمہیں ڈھونڈ لاتا!”
“چاہے تم دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوتی!”
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سختی سے بولا تھا۔

“ڈھونڈ لاتے؟”
“بڑا آیا ایف آئی اے کا آفیسر!”
ملیحہ نے طنزیہ انداز میں کہا تھا، اس کی آنکھوں میں اب بھی غصے کی چنگاریاں بھڑک رہی تھیں۔ دل ابھی تک بےقابو دھڑک رہا تھا، جیسے کسی انجانے خوف نے اسے جکڑ رکھا تھا۔ وہ زرام کی نظروں سے نظریں چرانا چاہ رہی تھی، مگر اس کی گہری، پراسرار نظریں ملیحہ کو اپنی روح تک جاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔

“تمہیں ڈھونڈنے کے لیے مجھے ایف آئی اے کا آفیسر بننے کی ضرورت نہیں، عاشق کی نظریں محبوب کو ڈھونڈ لیتی ہیں، پھر چاہے محبوب دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو!”
“اور بس کرو یار، کتنا جھگڑا کرو گی؟”
“اتنی پیاری لگ رہی ہو، اور دلہن بن کر کون لڑائی کرتا ہے یار!”
زرام ہتھیار ڈالتے ہوئے لڑائی ختم کرنا چاہتا تھا۔

“میں لڑائی کرتی ہوں، ہمیشہ کروں گی، ساری زندگی کروں گی!”
“تمہارا جینا مشکل کر دوں گی، تم سوچنے پر مجبور ہو جاؤ گے کہ تم نے کس بلا سے شادی کر لی ہے!”
وہ ایک کے بعد ایک دل جلانے والی باتیں کر رہی تھی مگر دوسری جانب ذرا سا بھی اثر نہیں تھا۔

“اللہ تیرا شکر ہے! میرے لیے تو اتنا ہی کافی ہے کہ تم ساری زندگی میرے ساتھ رہو گی!”
وہ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے خوش دلی سے بولا۔

“اللہ جی! کہاں پھنسا دیا ہے مجھے؟”
“کیسے جھیلوں گی میں اس عذاب کو؟”
وہ چڑتے ہوئے سامنے گاڑی کی ڈیش بورڈ پر ہاتھ رکھتے ہوئے سر ٹکا گئی۔
زارم کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی تھی، وہ خاموش ہو گیا کیونکہ وہ اچھا خاصا اس سے چڑا کر تیش دلا چکا تھا۔ ذرام اس کی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا۔ اور اب خاموش ہو جانا ہی بہتر تھا کیونکہ فارم ہاؤس پر وہ لوگ پہنچ چکے تھے۔
°°°°°°°°
زیغم سلطان کے فارم ہاؤس کا کمرہ جو کبھی سادگی اور خاموشی کی علامت تھا، آج اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ دلہن کے کمرے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ دانیا کی محنت کا یہ شاہکار کمرہ دلوں کو چھو جانے والے منظر میں بدل چکا تھا۔ گولڈن کلر کے پردے ہوا میں لہر رہے تھے۔ کمرے میں چاروں طرف نور کی روشنیاں پھیلی ہوئی۔ کنگ سائز خوبصورت بڑے سے بیڈ پر بچھی ہوئی سفید سلکی بیڈ شیٹ، جس کے کارنر پر نیٹ کی خوبصورت پھولوں کی سیج بنی ہوئی تھی۔ بیڈ کے اوپر گلاب کی پتیوں سے ایک دلکش ہارٹ کی شکل تیار کی گئی تھی، جو کسی کو محو کر دینے کے لیے کافی تھی۔ نرم تکیوں پر بھی ریڈ روز کی پتیوں کو دلکشی سے گرایا گیا تھا۔ بیڈ کے ارد گرد گلاب کے پھولوں کی لڑیاں جڑیں ہوئی تھیں، جنہوں نے کمرے کو ایک جنت کا منظر بنا دیا تھا، ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے گلاب کے پھولوں کی رنگین دنیا میں یہ کمرہ سما گیا تھا۔ فرش پر گلاب کی پتیوں کی تہہ بچھائی گئی تھی، جنہیں قدم رکھتے ہوئے محسوس کیا جا سکتا تھا کہ کمرہ خوشبو سے بھرا ہوا تھا۔ روم کے ہر کونے میں پانی کے باول رکھے گئے تھے، جن میں جلتی ہوئی کینڈلز کی نرم روشنی پھیل رہی تھی۔ ان کینڈلز کی نرم، مدھم روشنی نے کمرے کو ایک دلکش اور رومینٹک ماحول دیا تھا۔ دانیا نے اپنے بھائی کے روم کو سجانے کے لیے کہیں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور سب سے بڑھ کر تو سرپرائز یہ تھا کہ دانیا نے بغیر زیغم کو اطلاع دیے، ملیحہ کی خریداری کرتے ہوئے، ذرام اور فیصل کے ساتھ مل کر اپنے بھائی کی دلہن کے لیے بہت پیاری شاپنگ کی تھی اور پلان یہی تھا کہ آج ایک نئی دلہن کا استقبال کیا جائے گا اور دانیہ کے اس پلان میں ذرام اور فیصل دونوں برابر شریک تھے۔ اسی لیے فیصل کو فارم ہاؤس پر روک لیا گیا تھا، جبکہ یہ بات ذرام کو بہت بری لگی تھی کہ اس کا اکلوتا دوست نکاح میں شامل نہیں ہو رہا مگر پھر اس نے صبر کر لیا تھا یہ سوچ کر کہ آخر گھر میں کوئی ایسا ضرور مرد ہونا چاہیے جو سارے انتظامات دانیا کے ساتھ مل کر سنبھال لے، جبکہ زیغم اس بات سے پوری طرح سے انجان تھا۔ اسے تو یہی پتہ تھا کہ فیصل صرف ذرام اور ملیحہ کے اچھے ویلکم کے لیے گھر پر رکا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی، باہر سے گاڑیوں کے ہارن سے پتہ چل رہا تھا کہ دلہنیا لے کر سب واپس آ چکے ہیں۔

“چلیں، اب آپ آرام سے بیڈ پر بیٹھ جائیں، میں ذرا دوسری بھابی کا استقبال کر کے آتی ہوں!”
“آپ روم سے باہر نہیں نکلیں گی، یہ زیغم بھائی کے لیے سرپرائز ہے!”
وہ مہرو کو سمجھاتے ہوئے بیڈ پر بٹھا کر اس کے لہنگے کو ترتیب سے پھیلاتے ہوئے نیٹ کا دوپٹہ لے کر اس کے چہرے پر گھونگھٹ ڈالتے ہوئے مسکرائی تھی۔

“ماما، آپ اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گی، یہ بابا کے لیے سرپرائز ہے۔”
پاس کھڑی ہوئی ارمیزہ، جو کب سے اپنی ماما کو تیار ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی، وہ جاتے ہوئے بڑے پیار سے بول رہی تھی۔ اس کی نظروں میں اپنے بابا کے سرپرائز کی خوشی چمک رہی تھی۔ مہرو نے ‘ہاں’ میں سر کو ہلایا اور دانیا ارمیزہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے روم کا دروازہ بند کر کے باہر نکل گئی، جبکہ مہرو کا دل عجیب سی بے جان چینی سے دھک دھک کیے جا رہا تھا۔ ایک عجیب، خوبصورت سا احساس مہرو کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رہا تھا۔ دل میں تیز ہوا کے جھونکے گزر رہے تھے۔ ایک الگ سا احساس جس کو اس نے آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ بے اختیار، بے خودی کے عالم میں کھو رہی تھی۔ اس کے سینے میں تیز دھڑکنوں کا شور عروج پر تھا۔ بے اختیار وہ اپنے وجود میں اٹھتی ہوئی ہلکی سی لزش کو واضح محسوس کر رہی تھی۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے تھے۔ یہ سب کیوں تھا وہ سمجھنے سے بالکل قاصر تھی۔
مہرو کی عمر اٹھارہ سال تھی، مگر اس کی سوچ بالکل اٹھارہ سال کی لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔ وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ پختہ تھی اور اس کی سوچ کا انداز بالکل مختلف تھا۔ اس رات کا، اس لباس کا، اور دلہن کے روپ کا حقیقت میں کیا مطلب تھا، وہ ابھی تک نہیں سمجھ پائی تھی۔ وہ اس لمحے کو پوری طرح سے نہیں سمجھ پا رہی تھی، لیکن ایک لڑکی ہونے کے ناطے، اس کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی۔ ایک ایسی کیفیت جو خود بخود اُبھری تھی، جیسے کوئی غیر معمولی تبدیلی ہو رہی ہو۔ مہرو اپنے اندر کی بے چینی، ہچکچاہٹ، اور سنجیدگی کے درمیان پھنس گئی تھی۔ وہ اپنے آپ میں کچھ ایسا محسوس کر رہی تھی جو پہلے کبھی نہیں تھا، اور یہ احساس اسے ایک نئی دنیا میں لے جا رہا تھا، جہاں ہر چیز نئی تھی، اور ہر لمحہ ایک نئی توقع سے بھرا ہوا تھا۔ وہ اپنے گھٹنوں کے گرد دونوں ہاتھ لپیٹ کر، اپنی انگلیوں کو اذیت دیتے ہوئے بار بار مروڑ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اضطراب کی جھرمٹ تھی اور چہرے پر ایک سوالیہ سا رنگ تھا، جیسے وہ کسی پیچیدہ صورت حال میں گھری ہوئی ہو۔ اس کی انگلیاں بے اختیار مڑ رہی تھیں، جیسے وہ اندر سے کسی کشمکش میں مبتلا ہو، اور اس کا دل تیز دھڑک رہا تھا، جیسے ہر سوچ، ہر احساس اس پر بھاری پڑ رہا ہو۔ وہ ہر لمحہ خود سے سوال کر رہی تھی، لیکن جواب کہیں بھی نہیں مل رہا تھا۔
°°°°°°°°
فارم ہاؤس آچکا تھا مگر ملیحہ اب بھی ڈیش بورڈ پر سر ٹکائے ہوئے خاموش تھی۔

“جناب، سر اٹھا لو، تمہارا سسرال آ گیا ہے!”
فارم ہاؤس کے مین گیٹ پر پہنچتے ہوئے ذرام نے آہستہ سے مسکراتے ہوئے شرارتی انداز میں کہا تھا مگر ملیحہ نے ذرام کی سوچ کے مطابق سر نہیں اٹھایا، خاموشی سے ڈیش بورڈ پر سر رکھے لیٹی رہی تھی۔ گاڑی مین گیٹ کے اندر جا کر کھڑی ہو گئی تھی، اور مین گیٹ پر کھڑے ہوئے ملازمین نے پھولوں کی برسات کر دی تھی۔ پیچھے ہی مائد اور زیغم کی گاڑی بھی اندر داخل ہوئی، اور ان کی گاڑی پر بھی پھولوں کی برسات کی گئی تھی، آخر وہ براتی تھے۔ پورا فارم ہاؤس رنگین روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ آج چاند رات تھی، اور گاؤں میں ویسے بھی خوشیوں کا ماحول تھا۔ کہیں کہیں پر بچے آتشبازی کر رہے تھے، اور آسمان پر رنگین نظارے دیکھنے کو مل رہے تھے۔ آج چاند رات،اور صبح عید تھی، مگر ذرام کی زندگی میں تیسری خوشی یہ تھی کہ اس کا محبوب اسے مل چکا تھا،جسے اس کی دل نے پوری شدت سے چاہا، وہ اس کی ہو چکی تھی،اس کی پہلی نظر کی محبت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی ہو کر اس کے نکاح میں تھی۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی میں داخل ہو کر، جو رنگ ملیحہ کی وجہ سے پھیلے تھے، اس کی چمک، اس کی روشنی، اس کی خوشبو، ذرام کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔

دوسری جانب زیغم سلطان اس بات سے پوری طرح سے بے خبر تھا کہ جس کے ساتھ وہ نکاح تو کر چکا تھا، مگر اسے دلہن کے روپ میں دیکھنا اسے نصیب نہیں ہوا۔ آج اسے اس کی دلہن بنا کر اس کے روم میں بٹھایا گیا تھا مگر اس سرپرائز سے ابھی شہزادہ بالکل بے خبر تھا۔ جیسے ہی وہ گاڑی سے نیچے اُترا، فارم ہاؤس میں ملازمین کی جو بیویاں تھیں، انہوں نے ہاتھ میں بڑے بڑے پھولوں سے سجے تھال پکڑ رکھے تھے، اور ساتھ ہی دانیا، فیصل اور ننھی سی شہزادی ارمیزہ بھی ہاتھوں میں پھولوں کے خوبصورت گولڈن رنگ کے تھال لیے کھڑے تھے، جبکہ ارمیزہ کے ہاتھ میں اس کی جسامت کے حساب سے چھوٹی سی تھالی دی گئی تھی۔ وہ اپنے چاچو اور بابا کا استقبال پھول پھینک کر ہنستے مسکراتے ہوئے کررہی تھی۔ ملیحہ کی جانب کا دروازہ کھولتے ہوئے جیسے ہی ذرام نے اس کے سامنے ہاتھ پھیلایا، ملیحہ نے کھا جانے والے نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ یہ منظر صرف ذرام نے نہیں، مائد اور زیغم نے بھی دیکھا تھا، اور دونوں نے چونک کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا، اور دونوں کی نظروں میں شرارت چھلک رہی تھی۔ دونوں ہی ایکسٹرا سمجھدار تھے اس لیے اتنا تو سمجھ چکے تھے کہ کوئی نہ کوئی ماجرہ تو ضرور ہے جو دلہنیاں آتے ہی اتنے غصے سے دیکھ رہی تھی۔

“خدا کا واسطہ ہے، جو کچھ کرنا اندر جا کے کر لینا، یہاں میری عزت کا کباڑا مت کرو، میری پیاری سی دلہن!”
ذرام زیرِ لب بڑبڑایا تھا اور ہاتھ اس کے سامنے برابر پھیلائے رکھا۔

“تمہاری عزت کا تو میں ایسا جنازہ نکالوں گی کہ تمہارے بڑے بھی یاد کریں گے، سائیڈ پہ ہٹ جاؤ، ورنہ کچھ ایسا نہ کر دوں کہ تم منہ دکھانے کے لائق نہ رہو!”
وہ دانتوں کو پیستے ہوئے آہستہ سے بولی تھی۔ ذرام کو لگا کہ اس کا تھوڑا سا پیچھے ہٹ جانا ہی بہتر ہے۔ بندی کا دماغ کافی خراب تھا۔ اس سے کوئی بھی امید کی جاسکتی تھی۔ کچھ ہی دوری پر کھڑا ہوا زیغم سلطان سمجھ چکا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے، اس لیے اس نے آگے قدم بڑھائے تھے۔

“میری بھابھی، پلس بہو، ہمارے فارم ہاؤس پر تمہارا ویلکم ہے۔ آج سے تم زرام کے ساتھ ہمارے گھر پر پورا حق اور ملکیت رکھتی ہو!”
اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر، بڑی محبت سے کہا گیا تھا، جس میں ایک بڑے بھائی کی محبت شامل تھی اور سسر جیسا روعب دکھائی دے رہا تھا۔ ملیحہ نے شرم سے نظریں جھکائے رکھی اور کچھ نہیں بولی تھی کیونکہ اتنا تو جان چکی تھی کہ زیغم سلطان ان کے گاؤں کا سردار ہے، اس کے بارے میں اس کے ماں باپ اسے بہت کچھ بتا چکے تھے، تو زیغم سلطان ہر لحاظ سے عزت کا پیکر تھا، اس کے سامنے نہ وہ بول سکتی تھی اور نہ ہی کچھ کہہ سکتی تھی اور اوپر سے نرم، میٹھا لہجہ ملیحہ کو اس چیز کی اجازت بھی نہیں دیتا تھا۔

“چلو ذرام دلہن کو اندر لے کر آؤ!”
زیغم سلطان کے حکم پر ذرام نے فوراً ہاتھ پھیلا دیا، تو اب کی بار ملیحہ صرف زیغم سلطان کی وجہ سے مجبوری کے تحت اپنی مہندی سے سجھی ہتھیلی اس کے مضبوط ہاتھ پر رکھ چکی تھی مگر یہ اس کے لیے بہت مشکل تھا، کتنا مشکل، یہ تو صرف اس کا دل ہی جانتا تھا۔ ملیحہ کی نازک ہتھیلی کو ذرام نے فوراً اپنی مٹھی میں قید کر لیا۔ اس کی ہتھیلی اپنے ہاتھ میں محسوس کر کے ذرام کی مضبوط دھڑکنوں میں اشتیال برپا ہو گیا تھا۔ ان جذبات، ان لمحات کو نام دینا بہت مشکل تھا مگر جو بھی تھا بہت حسین اور خوبصورت تھا۔ ملیحہ شدید گھبراہٹ کا شکار تھی، ہاتھوں کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگنے لگی تھی۔ کچھ سیکنڈ گھنٹوں پر بھاری ہونے لگے تھے۔ زرام محبت سے اس کے بھاری لہنگے کو ہاتھ سے سنبھالتے ہوئے گاڑی سے نیچے اُتارا تھا۔ ملیحہ جیسے ہی گاڑی سے نیچے اُتری، اس نے فوراً زرام کا ہاتھ چھوڑ دیا، اور ساتھ ہی پھولوں کی برسات شروع ہو گئی تھی۔ دونوں پر پوری راہداری پر ان کے اوپر سے پھول برسائے گئے تھے۔

دانیا نے آگے بڑھ کر ملیحہ کا خوش دلی سے استقبال کیا۔
“ویلکم میری پیاری سی بھابھی جان!”
“اور میں ہوں آپ کی نند “دانیہ۔”
ملیحہ نے مسکراتے ہوئے سلام کہا تھا، مگر مسکراہٹ صرف مجبوری کے تحت تھی۔ اسے اس وقت زرام پر بہت غصہ تھا، اسے لگ رہا تھا کہ اس کی ہار ہو چکی ہے اور یہ سب پھول زرام کی جیت کی خوشی میں پھینکے جا رہے ہیں۔ اس سے غصہ آ رہا تھا اپنی ذات پر، کہ آج پھر ایک بار امیری جیت گئی اور غربت ہار گئی تھی۔ وہ ایسا سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر یہ سب اس کے دل کی آواز تھی اور دل پر اس کا اختیار نہیں تھا۔ فیصل نے بھی آگے بڑھ کر ویلکم کہتے ہوئے خوبصورت گلابوں کا بکا اس کے ہاتھ میں تھمایا۔

“ویلکم بھابھی!”

“تھینک یو!”
ملیحہ بامشکل بولی تھی۔ گلاب کے بکے کو فوراً ملیحہ کے ہاتھ سے آ کر نوکرانی نے لے لیا۔ سب لوگ اندر کی جانب بڑھنے لگے تھے، جبکہ زیغم کی نظریں مہرو کو ڈھونڈ رہی تھی، مگر وہ کچھ بول نہیں سکا تھا۔ اسے تو امید تھی کہ سب کے ساتھ پھول لیے اسے سجی سنوری مہرو بھی نظر آئے گی مگر چاروں اطراف میں نظر دوڑانے کے باوجود بھی اس کی جان سے کہیں نظر نہیں آئی تھی۔
دوسری جانب، زیغم سلطان کے پیچھے کھڑے ہوئے مائد کی نظریں بار بار بے اختیار دانیا کے سراپے سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھیں۔ دانیا نے آرتشی رنگ کی پیروں کو چھوتی ہوئی شفون کی فراک پہن رکھی تھی، جس کے دامن اور بازوں پر بہت نفیس موتیوں اور دھاگے کا کام ہوا تھا، اور سر پر دوپٹہ بہت اچھے سے سجایا گیا تھا۔ میک اپ سے سجا ہوا تھا، چہرہ مائد خان دورانی کی مضبوط دھڑکنوں میں اشتیال پیدا کیے ہوئے اسے بے اختیار کر رہا تھا۔ وہ اپنی نظروں کو روکنے سے قاصر ہو رہا تھا، سالوں سے جس دل کو اس نے مضبوطی سے ایک جگہ پر روک رکھا تھا، آج وہ اس کی ماننے کو تیار نہیں تھا۔ نظر گستاخ ہو کر بار بار دانیا کے سراپے پر جا رہی تھی، جس کو وہ بار بار روکنے کی کوشش میں ناکام ہو رہا تھا۔ وہ خود کو زبردستی روکتے ہوئے رخ موڑ کر کمر پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ سب لوگ اندر کی جانب بڑھ چکے تھے، زیغم بھی اندر جا رہا تھا۔

“تمہیں کیا، کوئی کارڈ وغیرہ دینا پڑے گا اندر آنے کے لیے؟”
زیغم نے پلٹ کر کہا۔

“نہیں، میں اب گھر جاؤں گا، آغا جان کی طبیعت ٹھیک نہیں، تو مجھے گھر جانا چاہیے۔”
مائد خود سے ہی نظر چراتے ہوئے آہستہ سے بولا تھا۔
اصل بات تو یہ تھی کہ وہ اپنی نظروں پر پہرے نہیں رکھ پا رہا تھا، اور زیغم کے سامنے اس کی عزت کو دیکھنا اس کے نزدیک بہت غلط بات تھی۔ اس کا دل دیوانگی سے جسے دیکھنا چاہ رہا تھا وہ اس کے یار کی عزت تھی۔ مائد ایک غیرت مند پٹھان تھا، اس لیے اسے یہاں سے جانا ہی بہتر لگا تھا کیونکہ نظروں پر پہرے لگانا اس کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا۔

“کھانا کھا کر جانا، یہ کیا طریقہ ہوا؟”
زیغم نے سختی سے کہا۔

“نہیں، مجھے گھر جانا ہے، آغا جان کا میسج آیا ہے، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔”
مائد جھوٹ بول رہا تھا۔

“اندر آ جاؤ، جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔”

“میں جھوٹ نہیں بول رہا!”

“خود کو کسی مضبوط فیصلے پر کھڑا کرو۔ اس طرح نظر چرانا اور بھاگنا کسی چیز کا حل نہیں ہے!”
زیغم سلطان نے صاف الفاظ میں کہتے ہوئے قدم اندر بڑھا لیے، جب کہ مائد نے گہری سانس لیتے ہوئے جاتے ہوئے زیغم سلطان کو دیکھا، اور ماتھے پر آئے ہوئے پسینے کو ہتھیلی سے صاف کیا تھا۔

“پتہ نہیں کیا کمپیوٹر سسٹم لگا ہے اس کے اندر، ہر چیز اس کو سمجھ میں آ جاتی ہے!”
وہ بے اختیار بڑبڑایا تھا، اور قدم اندر کی جانب بڑھا دیے تھے کیونکہ زیغم نے جانے سے منع کیا تھا، تو مائد چاہ کر کے بھی نہیں جا سکتا تھا۔ ٹیبل پر رکھے گئے کھانے کی خوشبو پورے ڈائننگ ہال میں پھیل رہی تھی۔ ملازمین کے ہلچل کے بعد، ٹیبل پر تیار شدہ کھانا سج چکا تھا۔

“دانیا، زرام کی دلہن کو اس کے روم میں بٹھاؤ اور ٹیبل پر کھانا لگوا دو۔”
زیغم نے اندر داخل ہوتے ہی دانیا سے کہا تھا۔ اسے مائد خان کی فکر تھی کہ وہ ٹائم سے کھانا کھا لے۔ دانیا نے اپنے بھائی کی بات پر اثبات میں سر کو ہلایا۔ وہ زرام کی دلہن کو لے کر سجے ہوئے روم کی جانب بڑھ گئی۔ جاتے ہوئے دانیہ نے ملازمین کو حکم دے دیا تھا کہ فوراً ٹیبل پر کھانا لگایا جائے۔

“زرام، تم کھانا اپنی دلہن کے ساتھ جا کر کھا لو!”
زیغم نے اس کی جانب دیکھ کر کہا۔

“نہیں بھائی، میں آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھاؤں گا۔”
زرام نے جواب دیا، کیونکہ ٹیبل پر صرف مائد خان اور زیغم ہی تھے۔ فیصل ان کے ساتھ ہی تھا مگر اسے ایک ضروری کال آگئی تھی تو سننے کے لیے باہر جا چکا تھا۔ زرام کو مناسب نہیں لگا کہ وہ ان کو چھوڑ کر فوراً اپنے روم میں جاتا جبکہ دل تو یہی کہہ رہا تھا کہ وہ اٹھ کر اپنی ملیحہ کے پاس چلا جائے مگر زرام ایک سمجھدار لڑکا تھا۔ مائد خان اور فیصل اس کے مہمان تھے تو کیسے وہ سب کچھ چھوڑ کر چلا جاتا۔ اس لیے دل پر پہرے لگا کر وہ سمجھداری سے وہیں پر کھڑا تھا۔

“نہیں بھائی، اتنا زیادہ تکلف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہاری دلہن کا موڈ پہلے ہی خراب ہے، ہم نہیں چاہتے کہ مزید خراب ہو!”
مائد خان نے شراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو زیغم کی ہنسی چھوٹ گئی، اور زرام بیچارہ شرما گیا۔

“نہیں بھائی، ایسا کچھ نہیں ہے، وہ گھبرائی ہوئی تھی۔”
زرام نے بہانہ بنایا۔

“ہاں جی، ہمیں پتہ ہے وہ گھبرائی ہوئی تھی، مگر پتہ نہیں کیوں، دیکھنے میں تم زیادہ گھبرائے ہوئے لگ رہے تھے!”
زیغم نے شرارتی انداز میں کہا اور کرسی کو کھینچتے ہوئے اس پر بیٹھ گیا۔ اس کے دماغ میں اب بھی مہرو کا خیال چل رہا تھا، لیکن وہ جان بوجھ کر اس پر سوال نہیں کرنا چاہتا تھا۔

“اچھا چلو، بیٹھ جاؤ۔ دو لقمے لے لو، مگر بہتر یہی ہے کہ اپنی دلہن کے ساتھ جا کر کھانا کھاؤ کیونکہ تمہارے حلق سے اترے گا نہیں!”
مائد خان نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے ایک اور تیر زرام کی جانب پھینکا۔
مائد خان کے کہنے کی دیر تھی کہ زرام فوراً سے بیٹھ گیا۔ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اگر نہ بیٹھا تو اس کی اور بھی زیادہ کھلی اڑائی جائے گی۔

“بابا، بابا، آپ کو پتہ ہے؟”
چھوٹی سی ارمیزہ بھاگتے ہوئے اپنے بابا کے قریب آئی اور اس کے کندھے کو جھولتے ہوئے بڑے پرجوش انداز کچھ بتانے لگی۔ دانیہ جو ملیحہ کو روم میں بٹھا کر باہر نکلی تھی، فوراً ارمیزہ کے قریب آئی۔ اسے اچھی طرح سے اندازہ تھا کہ ارمیزہ کیا بتانے کے لیے بے چین ہے مگر اپنے سرپرائز کو چوپٹ ہوتا ہوا دانیا نہیں دیکھ سکتی تھی اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ بروقت باہر آئی تھی۔

“ارمیزہ…”
“سرپرائز بتاتے نہیں ہیں، بچے!”
دانیا نے پیار سے کھینچ کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے سمجھایا تھا۔

“اوہ، میں بھول گئی!”
ارمیزہ نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔

“کیا سرپرائز ہے؟”
زیغم نے گھورتے ہوئے دیکھ مسکرا کر پوچھا۔ زیغم کو دال میں کچھ کالا لگ رہا تھا۔

“ابھی تو بتایا ہے کہ سرپرائز ہے اور سرپرائز بتایا نہیں جاتا۔ آپ کا سرپرائز آپ کو کھانے کے بعد مل جائے گا!”
دانیا نے ایٹیٹیوڈ سے کہا اور ارمیزہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے نظریں چرا گئی۔ اپنے بھائی کی بے چین سی حالت دیکھ کر دانیا کو ہنسی آرہی تھی۔ زیغم کے لیے دانیا کا یہ انداز ہضم کرنا بہت مشکل تھا مگر اپنی بہن کو خوش دیکھ کر زیغم سلطان کے دل میں سکون اترا تھا۔ وہ اپنے بھائی کو تنگ کرتی ہوئی بہت پیاری لگ رہی تھی مگر اس کا سجا سنوارا روپ اور مسکراتا ہوا چہرہ اور حسین ادائیں کسی اور پر بہت بھاری پڑ رہی تھی۔ کھانا مائد خان کے حلق میں اٹکنے لگا۔ بے اختیار، اس نے پاس پڑے گلاس کو اٹھایا اور لبوں سے لگا کر پورا حلق میں انڈیل لیا۔ گلے میں کانٹے سے چبتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے مگر ہائے رے قسمت، دانیا اس بات سے بالکل بے خبر تھی… پوری طرح سے انجان تھی کہ کسی کے لیے اپنا دل سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔ وہ تو اپنی ہی دھن میں مست اپنے بھائیوں کی خوشیوں کو سیلیبریٹ کر رہی تھی۔

“اچھا، تم لوگوں نے کوئی پلاننگ کی ہے اور مجھے نہیں پتہ؟”
“یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے!”
“میں تمہارا بڑا بھائی ہوں، مجھے ہر بات پتہ ہونی چاہیے!”
زیغم نے کوشش کی کہ کچھ اور معلومات حاصل کرسکے مگر پوری طرح سے ناکام ہوا۔

“ایسا کچھ نہیں ہونے والا، سرپرائز سرپرائز ہوتا ہے، میں نہیں بتاؤں گی اور آپ چپ چاپ کھانا کھائیں!”
دانیا نے پیار سے اپنے بھائی کو گھورتے ہوئے کہا، اور ملازمہ کے ہاتھ سے کھانا لے کر ڈش کو ترتیب سے رکھنے لگی۔ زیغم نے مسکرا کر نفی میں سر کو ہلایا، لیکن دل میں وہ جاننا چاہتا تھا کہ مہرو کہاں ہے مگر اس وقت مہرو کے بارے میں سوال کر کے وہ مائد خان اور زرام کو موقع نہیں دینا چاہتا تھا کہ وہ اس کا مذاق اڑائیں۔ دل میں بے چینی تھی، کھانا حلق سے اتر نہیں رہا تھا۔

“ارمیزہ، آپ کیا لیں گی؟”
دانیا نے خود کو مصروف دکھاتے ہوئے ارمیزہ سے پوچھا اور اس کی پسند کا کھانا کھلانے لگی۔ مائد کا دل بے چین تھا، اس نے بڑی مشکل سے تھوڑا سا کھایا اور زیغم سے اجازت لیتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر نو دوگ ہو گیا۔ یہ ایک مشکل سچویشن تھی۔ فیصل جو باہر کال سننے کے لیے گیا تھا، واپس آ کر ٹیبل پر بیٹھ چکا تھا۔ کھانے کے بعد وہ بھی اجازت لینا چاہتا تھا، لیکن زیغم اور زرام دونوں نے اسے روکا۔

“نہیں، تم نہیں جا سکتے، شہر کافی دور ہے، تو یہاں سکون سے رہو۔ تمہارے روم کا انتظام کروا دیا گیا ہے!”
زیغم نے کہا۔
کھانے کے بعد فیصل بھی اپنے روم میں چلا گیا۔ اب ٹیبل پر صرف زرام، دانیا اور زیغم بچے تھے۔ ذرام نے اشارے سے اسے کہا تھا کہ وہ اپنے روم میں چلا جائے۔

“اچھا بھائی، ہم لوگ بھی جا رہے ہیں سونے کے لیے، ہم بہت تھک چکے ہیں۔ کسی چیز کی ضرورت ہو، تو ملازمین کو کہہ دیجئے گا، ہمیں مت اٹھائیے گا!”
دانیا جان بوجھ کر نظریں چراتی ہوئی ارمیزہ کو لے کر اپنے روم کی جانب جا رہی تھی۔

“دانیہ…”
دانیا کے قدم رک گئے جب زیغم کی بھاری آواز سنائی دی۔

“جی بھائی…”
وہ دیکھے بغیر بولی تھی۔

“مہرو کہاں ہے؟”
سنجیدگی سے پوچھا گیا تھا۔

“بھائی، اس کے سر میں درد تھا، وہ سو گئی ہے…”

“اتنا درد تھا تو مجھے بتا دیتی، میں ڈاکٹر کے پاس لے جاتا، بچے…”
زیغم نے تڑپ کر کہا۔

“بھائی، میں نے اسے میڈیسن دے دی ہے، وہ کہہ رہی تھی کہ وہ سوئے گی تو ٹھیک ہو جائے گا…”
دانیا نے جواب دیا اور ارمیزہ کو لے کر تیزی سے اپنے روم میں چلی گئی۔ وہ اپنے بھائی کے سوالوں سے بچنا چاہتی تھی کیونکہ زیادہ دیر تک اپنے بھائی سے جھوٹ بولنا اس کے بس میں نہیں تھا۔ دو سیکنڈ اور کھڑی رہتی تو شاید اس کی چوری پکڑی جاتی۔ زیغم پریشان ہو گیا تھا، اس نے فوراً اپنا فون اٹھایا اور تیز قدموں سے اپنے روم کی طرف بڑھا۔
°°°°°°°°°
توقیر کا پورا خاندان سر پکڑے بیٹھا تھا۔ چاند رات تھی مگر ان کے لیے یہ کسی ماتم سے کم نہ تھی۔ پورا ماحول سوگوار تھا۔ ان لوگوں کو نہ عید کی خوشی تھی، نہ چاند رات کی۔ قدسیہ اور توقیر کے روم میں سب کا بیٹھنا اس بات کا ثبوت تھا۔

“امی مجھے بہت درد ہو رہا ہے…”
شہرام اپنی ماں کے بیڈ پر لیٹا کراہ اٹھا۔ اس کی ٹانگ میں شدید تکلیف تھی۔ انجیکشن تو لگ گیا، پر فرق کوئی خاص نہیں پڑا تھا۔ زیغم کی مار سے اس کا چہرہ تک بدل چکا تھا۔

“بہت کتی چیز ہے زیغم… یہ ہمیں چین سے جینے نہیں دے گا۔”
توقیر غصے سے دانت پیس کر بولا۔

“بہت جلد کچھ کرنا پڑے گا ورنہ یہ ہر چیز پر قابض ہوتا جائے گا۔”
وہ بے بسی سے سامنے دیوار کو گھورتا رہا۔

“آئے ہوئے ابھی ایک مہینہ ہوا ہے اور نظام ہی الٹ دیا ہے اس نے…”
توقیر کے چہرے پر جلن اور شکستگی واضح تھی۔

“مجھ سے میری سیٹ چھین لی، ہمیں حویلی میں قید کر رکھا ہے!”
وہ ایک ایک بات گنواتا جا رہا تھا۔

“نایاب پر سوتن بیاہ لی، اپنی بہن کو شہرام سے آزاد کروا لیا!”
بات کرتے ہوئے اس کا سانس پھولنے لگا۔

“ہماری نواسی ہم سے دور، ہمیں نوکر بنا دیا!”
اس کی آواز میں دکھ ہی دکھ تھا۔

“اور اب ہمارے بیٹے کو کسی جھونپڑی میں بیاہ کر اپنا بنا رہا ہے!”
اس کی نظر شہرام پر پڑی تو وہ اور تڑپ اٹھا۔

“ساری پراپرٹی اپنے نام سیو کر لی ہے…”
وہ لرزتی آواز میں بول رہا تھا۔

“بہت جلد ہمیں کٹورے پکڑوا دے گا، پورے گاؤں میں بھیک منگوائے گا!”
توقیر کا لہجہ تیز اور دھواں دار تھا۔

“تمہیں کیا لگتا ہے؟”
“تم کچھ کرنے کے قابل ہو؟”
قدسیہ نے کڑوا طنز کیا۔

“اگر تم قابل ہوتے تو اب تک کچھ کر چکے ہوتے!”
اس کے الفاظ تیر بن کر لگے۔

“اتنے سالوں میں کچھ نہیں کر سکے، اور وہ چھوکرہ ایک مہینے میں سب کر گیا!”
قدسیہ نے زہر اگلنا جاری رکھا۔

“تم تو جب بھی منہ کھولو گی، زہر ہی اگلو گی… ناگن کہیں کی!”
توقیر کا پارہ چڑھ گیا۔

“بس! یہی ایک کام ہے جو آپ سب کو خوب آتا ہے… جھگڑا!”
شہرام نے تکلیف سے کروٹ لی اور ٹانگ تھام لی۔

“بالکل! بس جھگڑنا آتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قابض ہوتا جا رہا ہے!”
نایاب نے بھی جل کر کہا۔

“سچ میں کٹورا تھما دے گا اور بھیک منگوائے گا ہم سے!”
اس کی آواز میں مایوسی تھی۔

“تو کیا کروں؟”
“سب گھر میں ہی ہو!”
توقیر نے بے بسی سے سب کو دیکھا۔

“تمام فون کالز پر ٹریکر لگے ہوئے ہیں، باہر نہیں جانے دیتا!”
اس نے ہاتھ کی انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔

“ایک رفیق ہی تھا ساتھ، وہ بھی اس کے آتے ہی گرگٹ کی طرح رنگ بدل گیا!”
توقیر نے منہ پھیر لیا۔

“باقی سب ملازم پہلے بھی وفادار نہیں تھے، بس ساتھ ہونے کا دکھاوا کرتے تھے…”
آواز دبی ہوئی تھی، مگر کرب نمایاں تھا۔

“تو کیا اب ساری زندگی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے اور اس کے ہاتھ کی کٹھ پُتلی بنے رہیں گے؟”
شہرام درد سے کراہتا ہوا بولا، چہرے پر جھنجھلاہٹ تھی۔

“نہیں، کوئی حل نکالتے ہیں مگر فلحال صبر کرو، ہمارے لیے یہی بہتر ہوگا۔”
توقیر نے گہری سانس لیتے ہوئے نرمی سے کہا۔
سب خاموشی سے اپنی اپنی جگہ سر پکڑے بیٹھے تھے، ماحول مایوسی میں ڈوبا ہوا تھا۔ زيغم نے صرف ایک مہینے میں ان کے چھکے چھڑا دیے تھے۔
°°°°°°°°°°

“مزید پڑھنے کے لیے اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کریں

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *