Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:28

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر :28
°°°°
زیغم سلطان مہرو کو لے کر اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے گاؤں کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر تھا، سنجیدہ چہرہ، پر وقار انداز، اور نظریں سیدھی سڑک پر۔ اس کی گاڑی کے پیچھے سیکیورٹی کی گاڑی رواں تھی، جس میں اس کے خاص لوگ موجود تھے۔ چپ چاپ مگر چوکس۔ زیغم سلطان کا تعلق معمولی طبقے سے نہیں تھا کہ وہ یوں اکیلا گھومتا۔ اُس کی حفاظت کا بندوبست ہر وقت لازم تھا۔ مہرو، دلہن بنی زیغم کے پہلو میں بیٹھی تھی، خاموش تھی مگر اندر سے بے حد گبھرا رہی تھی۔ دل تیز دھڑک رہا تھا، ہاتھوں کی انگلیاں دوپٹے کے پلّو میں الجھی ہوئی تھیں۔ گھر میں جسے گھبراہٹ کھائے جا رہی تھی، وہ اب نئے ماحول میں ایک عجیب سی ہچکچاہٹ کے ساتھ بیٹھی تھی مگر جیسے ہی گاڑی گاؤں کے اندرونی حصے میں داخل ہوئی، منظر ہی بدل گیا۔

چاند رات کی چمک، گلیوں کی روشنیاں، مہندی اور چوڑیوں کے سٹالز، لڑکیوں کی کھنکتی ہنسی، کہیں سے اُڑتی خوشبو، اور ہر طرف ایک خوبصورت سی گہما گہمی۔ مہرو کی نظریں حیرت سے چاروں طرف دوڑنے لگیں۔ آنکھوں میں ایک دم سے چمک آ گئی۔ اس کے چہرے پر خاموش خوشی کا عکس تھا۔ جیسے وہ کچھ لمحوں کے لیے اپنی گھبراہٹ، اپنا خوف سب کچھ بھول گئی ہو۔ اسے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ چاند رات ایسی بھی ہوتی ہے۔ گاڑی کی رفتار مدھم ہوئی تو زیغم نے ایک نگاہ پہلو میں بیٹھی مہرو پر ڈالی، جو پلکیں جھپکائے ایک ایک منظر کو جذب کر رہی تھی۔ اس کے چہرے کی حیرانی اور سادگی نے زیغم کے دل میں ایک بار پھر محبت کی لہر دوڑا دی۔

“کیسی لگ رہی ہے تمہیں چاند رات؟”
زیغم نے نرمی سے پوچھا۔

مہرو نے سادہ سی مسکراہٹ سے لب ہلائے، نظریں جھکائیں اور مدھم لہجے میں بولی۔
“سائیں… یہ… یہ سب اتنا خوبصورت ہے…”
مہرو کی دھیمی سی آواز گاڑی گونج گئی تھی۔ آہستہ سے بولنے پر بھی مہرو کی آواز کی کھنک کو محسوس کیا جا سکتا تھا۔ اس کے لیے یہ سب کچھ نیا اور بہت حسین تھا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ بہتی نہر پر جلتے دیے جیسے خاموشی سے مہرو کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ پانی پر ٹمٹماتی روشنیوں کا عکس، گاؤں کی سادگی میں چھپی وہ خوبصورتی تھی جسے مہرو نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ وہ کھڑکی پر بچوں کی سی معصومیت سے ہاتھ رکھے، چہرہ تھوڑا سا باہر نکالے، پوری محویت سے وہ منظر دیکھ رہی تھی۔ جیسے کوئی خواب تھا، جو آج حقیقت میں بدل گیا ہو۔ وہ اپنی گاڑی کے گرد چمکتے دیے، اور آسمان پر پورے عروج سے جگمگاتی چاندنی، اور گاؤں کی سادہ مگر دل کو چھو لینے والی رونقوں کو حیرت سے تک رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ دنیا اتنی خوبصورت اور اتنی حسین ہے۔

گاڑی آہستہ رفتار سے گاؤں کی مرکزی گلی میں داخل ہوئی تھی۔ دونوں طرف چھوٹے چھوٹے سٹالز، رنگ برنگی چوڑیاں، گجرے، مہندی، اور بچوں کے کھلونے فروخت کرنے والے اپنی آوازوں سے چاند رات کی رونقوں کو مزید بڑھا رہے تھے۔ کہیں سے ہنسی آ رہی تھی، تو کہیں چھوٹے سے ڈھابے پر کچھ دوستوں کی چائے پینے کے ساتھ ساتھ گپوں کی کھنک فضا کو خوشگوار بنا رہی تھی۔مہرو باہر کی دنیا کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی اور زیغم سلطان کی نظریں ساتھ بیٹھی ہوئی اپنی جان کو دیکھ کر خوش تھی۔ وہ دلہن کی طرح سجی ہوئی ڈیپ ریڈ کلر کے دوپٹے کے نیچے جھکی پلکوں سے کبھی ایک طرف دیکھتی تو کبھی دوسری طرف۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی، معصومیت اور بچپنا، سب کچھ تھا۔ معصومیت کی ایک الگ ہی مثال تھی سادگی تو اس میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی ذرا سی بھی بناوٹی نہیں تھی۔ اسے جتنا دیکھ رہا تھا، زیغم کا دل اتنا ہی اس کا دیوانہ ہو رہا تھا۔ زیغم سلطان نے ایسی محبت، ایسے جذبات آج تک کبھی کسی کے لیے محسوس نہیں کیے تھے۔ محبت اتنی خوبصورت اور حسین ہوتی ہے، یہ بات تو زیغم سلطان کو آج پتہ چلی تھی۔ محبت پر زور نہیں ہوتا، یہ بھی اسے آج سمجھ آیا تھا۔
سچ کہتے ہیں، جب محبت ہو جاتی ہے تو انسان کا خود پر اختیار نہیں رہتا۔
یہ جملہ ہمیشہ زیغم سلطان کو بے معنی لگتا تھا، کیونکہ اسے کبھی محبت جیسی کوئی چیز محسوس نہیں ہوئی تھی۔ کبھی کسی نے زیغم کو اپنی ضد بنا کر اسے پانا چاہا، تو کبھی دوستی میں مجبور کر کے محبت کرنے کو کہا گیا۔ زیغم نے اپنے دل کو مجبور کر کے کوشش کی، مگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکا۔
محبت ایسی ہوتی ہے، یہ تو اسے آج پتہ چلا تھا۔
خود سے ہو گئی، اور بے اختیار ہو گئی۔
اتنی ہو گئی کہ زیغم اس میں ڈوب چکا تھا۔

”دل کے ہاتھوں ہوتے ہیں عاشق بھی مجبور!“
”ورنہ کوئی کسی کے لیے یوں بے بس نہیں ہوتا!“

زیغم سلطان جو کب سے اپنی مہرو کو دیکھ رہا تھا مگر مہرو تو باہر کی دنیا میں پوری طرح سے کھوئی ہوئی تھی۔ زیغم کو اس سے بات کرنی تھی، اس لیے خود سے بات شروع کی۔

“یہ میرا گاؤں ہے مہرو… اور آج سے تمہارا بھی۔”
آہستہ سے اس کا نازک سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
مہرو چونکی، پلکیں پھڑپھڑائیں مگر کچھ نہ بولی۔ وہ ہاتھ چھڑانے کے بجائے ساکت سی بیٹھی رہ گئی۔

“چاند رات ہے… اور تم میرے ساتھ ہو… یہی سب سے خوبصورت بات ہے۔ میرے لیے سالوں بعد ایسی خوبصورت چاند رات آئی ہے!”
وہ دل میں سوچ رہا تھا کیونکہ مہرو تو باہر کی دنیا میں ایک بار پھر سے گم ہو چکی تھی۔ وہ تو اس بات سے بھی غافل تھی کہ زیغم اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہیں۔ گاڑی کے شیشے سے وہ لڑکیاں نظر آ رہی تھیں جو ایک دوسرے کے ہاتھوں پر مہندی لگا رہی تھیں، کچھ چھوٹی بچیاں چوڑیوں کے رنگوں میں کھوئی ہوئی تھیں، اور کچھ دوشیزائیں اپنے مہندی والے ہاتھ چھپا کر ہنستی بھاگتی جا رہی تھیں۔ زیغم کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

“یہاں ہر چہرے پر خوشی ہے… جیسے چاند رات میں چاندنی زمین پر اتر آئی ہو… میری زندگی کی چاندنی، میری اندھیری راتوں کا اجالا تم ہو مہرو!”
وہ یہ سب کچھ اپنے دل میں ہی سوچ رہا تھا۔ زیغم جانتا تھا، وہ ابھی کچھ اور کہنے یا سننے کے قابل نہیں مگر اس کا ہاتھ تھامے رکھنے میں، اس کی موجودگی محسوس کرنے میں، ایک عجیب سا سکون تھا اور یہی سکون وہ اسے دینا چاہتا تھا۔
چاندنی رات… گاؤں کی سادگی… مہرو کی خاموشی… اور زیغم کے دل کی تیز دھڑکنیں ایک مکمل تصویر کا عکس بنا رہی تھی۔

“مہرو…”
زیغم کی آواز میں وہی مان، وہی نرمی تھی، جو مہرو کے دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی۔

“جی…”
مہرو نے آہستہ سے جواب دیا۔ نظریں جھکی ہوئی تھیں، جیسے دل کہیں اور تھا اور جسم کہیں اور۔

“تمہیں مہندی لگوانا اچھا لگتا ہے؟”
زیغم نے محبت سے پوچھا، کیونکہ مہرو باہر آ کر خوش تو بہت تھی مگر اس کی خاموشی توڑنے کے لیے زیغم کو بار بار خود سے بات شروع کرنی پڑ رہی تھی۔ وہ خود سے کوئی بات نہیں کر رہی تھی۔ وہ باہر کی دنیا سے بہت متاثر تھی اتنی متاثر کہ زیغم کے ہاتھ کا لمس بھی اسے ہوش میں لانے میں ناکام تھا۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا۔

“جی، مجھے بہت اچھا لگتا ہے مہندی لگوانا۔ کیا میں بھی باہر جا کر مہندی لگوا لوں؟”
مہرو کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، وہ نظریں اٹھائے بغیر ایک نظر باہر دیکھتے ہوئے زیغم سے پوچھ رہی تھی۔ اس کے پوچھنے میں ایسی مٹھاس تھی کہ زیغم کے دل میں نرم سا احساس پیدا ہونے لگا تھا۔

“میں نے اس طرح سے کبھی مہندی نہیں لگوائی… اگر آپ کو اچھا نہ لگے، آپ مجھے منع کریں گے تو مہرو نہیں جائے گی!”
اس کی آواز میں وہ نرمی اور محبت تھی جس نے زیغم کو لاجواب کر دیا۔ وہ انکار نہیں کر سکا۔ وہ زیغم سلطان تھا، سردار زیغم سلطان، اور وہ اس کی بیوی تھی۔ گاؤں کے بیچوں بیچ، سب کی نظروں کے سامنے، اسے دلہن کے روپ میں مہندی لگوانے کی اجازت دینا… یہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی مگر کہتے ہیں نا، عشق وہ سب کچھ کروا لیتا ہے جس کے بارے میں ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔
اگر عشق میں بھی انسان عام لوگوں کی طرح سوچنے لگے، تو پھر عام اور عاشق میں فرق ہی کیا رہ جائے؟
محبت اپنی زبان رکھتی ہے، اپنی سوچ، اور اسے صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جو محبت میں پوری طرح سے کھو چکے ہوں۔

“مہرو، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کی خواہش کرو اور میں پوری نہ کروں؟”
“میری مہرو کو ہاتھوں پر مہندی لگانا اچھا لگتا ہے تو مہرو کے ہاتھوں پر مہندی ضرور لگے گی اور یہاں بیٹھ کر مہندی لگوانا تھوڑا نامناسب تو ہے مگر میں اپنی مہرو کے لیے سب مناسب کرنے کی طاقت اور صلاحیت دونوں رکھتا ہوں!”
“چلو دو منٹ کا وقت دو، ابھی مہرونساء زیغم لغاری کے حساب سے شان و شوکت کا انتظام کیا جائے گا، اس کے بعد تم مہندی لگوا لینا۔”
وہ پیار سے بولتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو بے اختیار اٹھا کر لبوں سے لگا کر محبت بھرا لمس چھوڑتے ہوئے مسکرایا تھا۔ زیغم کی مونچھوں کی ہلکی سی چبن کو ہاتھ پر محسوس کر کے مہرو کے پورے وجود میں سنسناہٹ دوڑ گئی تھی۔ اب وہ ہوش میں آئی تھی کہ اس کا ہاتھ زیغم کے ہاتھ سے اس کے لبوں تک کا سفر طے کر چکا ہے۔ گھبرا کر ہاتھ پیچھے کرنا چاہا مگر اب کی بار زیغم نے پیار سے دیکھتے ہوئے نفی میں سر کو ہلایا۔

“کم سے کم ہاتھ پکڑنے کی اجازت تو دے سکتی ہو، اتنا حق تو میں تم پر رکھتا ہوں۔”
زیغم کے لہجے میں ایسی محبت تھی کہ وہ خاموش ہو گئی تھی۔ زیغم نے جیسے ہی گاڑی روکی، اس کے گارڈز فوراً سے اس کی گاڑی کے پاس آئے تھے۔ زیغم نے شیشے کے پار دیکھتے ہوئے گارڈز کو حکم دیا تھا۔

“اپنی بی بی جی کے لیے مہندی کا انتظام کرو، پردہ لگوایا جائے گا۔”
زیغم کے خاص بندوں نے فوراً سے وہاں پر تمبو کی دیوار بناتے ہوئے پردے کا انتظام کر دیا تھا۔ وہاں پر لوگوں کا ہجوم دیکھنے لائق تھا مگر گارڈز نے مردوں کو پیچھے رہنے کا حکم دیا تھا اور کہہ دیا کہ “بی بی جی ساتھ میں ہیں تو اس وقت وہ زیغم سائیں سے نہیں مل سکتے۔” مگر خواتین تو اتنی خوش تھیں کہ کچھ نے تو پھولوں کے گجرے، جن کو وہ بیچنے کے لیے سٹال لگائی ہوئی تھی، ان سے پھول توڑ کر زیغم اور مہرو پر پھول برسانے شروع کر دیے۔ زیغم نے مہرو کا ہاتھ تھام رکھا تھا اور گاڑی سے اترتے وقت اپنی اجرک گلے سے اتار کر مہرو کے کندھوں پر ڈال دی تھی۔ وہ دلہن بنی ہوئی اس کے ساتھ چلتی ہوئی بہت حسین لگ رہی تھی۔ ایک پرفیکٹ جوڑا، چاند اور ستارے کی جوڑی لگ رہی تھی۔ شہزادہ اپنی شہزادی کا ہاتھ تھامے قدم با قدم چلتے ہوئے تمبو سے بنی ہوئی دیوار کے اندر داخل ہو گئے تھے۔ مہرو حیران اور خوشی بھری نظروں سے اپنے اور زیغم کے استقبال کو دیکھ رہی تھی۔ زیغم سلطان کی گاؤں میں کیا حیثیت ہے یہ بات مہرو کو اچھی طرح سے سمجھ میں آرہی تھی۔ ہر کوئی با ادب کھڑا ہوا تھا۔ زیغم کے ساتھ چلتے ہوئے کسی مرد کی جرات نہیں تھی کہ کوئی اس کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھ سکتا۔ ایک تحفظ بھرا احساس وہ محسوس کر رہی تھی۔ باڑ کے اندرصرف لڑکیاں مہندی لے کر آ گئی تھیں، اور مہرو کے لیے کرسی رکھ دی گئی، اور ساتھ میں زیغم کے لیے بھی کرسی رکھ دی گئی تھی۔ زیغم وہاں خواتین کے بیچ میں بیٹھنا نہیں چاہتا تھا، مگر مہرو اتنی ساری عورتوں کو دیکھ کر کنفیوز تھی، تو وہ اسے چھوڑ کر جا نہیں سکتا تھا۔ وہیں کرسی رکھ کر آرام سے بیٹھ گیا۔

“آپ لوگ صرف دو تین لوگ یہاں رک جائیں، باقی باہر چلے جائیں، انشاءاللہ کسی دن میں خاص انتظام کروا دوں گا۔ آپ اپنی بی بی سے حویلی میں آکر مل لیجیے گا۔”
زیغم سلطان خواتین سے مخاطب ہوا تھا ان کی محبت کو بڑی عزت بخشتے ہوئے ان سے یہ کہا گیا تھا کہ انہیں حویلی میں بلوایا جائے گا۔ زیغم سلطان کی یہی فطرت اسے عام سرداروں سے الگ اور مختلف بناتی تھی۔

زیغم سلطان نے بہت احترام سے کہا تو ،تمام خواتین سلام کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے ان کی خوبصورت جوڑی کو دعائیں دیتی ہوئی باہر نکل گئی تھیں۔ بس ایک بڑی خاتون اور دو لڑکیاں رکیں، جو مہرو کو مہندی لگانے لگی تھیں۔ مہرو کے سیدھے ہاتھوں پر آلریڈی مہندی لگی ہوئی تھی، جو دانیا نے آج کل کے ماڈرن زمانے کے سٹائل لگائی کیونکہ اسے مہندی لگانا نہیں آتا تھا مگر آج کل تو سب کچھ اتنا آسان ہو گیا ہے ناں، خاص طور پر مہندی لگانے کا شوق رکھنے والوں کے لیے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا جب ہاتھ کانپتے، ہاتھوں سے باریک سی لکیریں بنائی جاتیں اور ایک ڈیزائن بنانے میں گھنٹوں لگ جاتے۔
اب تو “مہندی اسٹینسلز” آ گئے ہیں۔ چپکنے والے اسٹیکر جیسے سانچے، جنہیں بس ہاتھ یا پاؤں پر لگا دو، اوپر سے مہندی بھر دو، اور تھوڑی دیر بعد جب سٹینسل ہٹاؤ تو نیچے سے بالکل سلیقے دار، نفیس سا ڈیزائن جھلکنے لگتا ہے۔ یہ اسٹینسلز خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے نعمت سے کم نہیں جو خود مہندی لگانا نہیں جانتے، یا جنہیں سیدھی لائن بناتے ہوئے بھی ہاتھ لڑکھڑا جائے۔
جدید دور کی یہ سہولت، پرانے شوق کو اور بھی حسین بنا دیتی ہے لیکن آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ہاتھ سے لگی مہندی کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ نفیس ڈیزائن، اپنی پسند کا انداز اور مہندی لگنے کی خوشی کہ پتہ نہیں میرا ڈیزائن کیسا بنے گا یہ سب اسٹینسلز سے ممکن نہیں ہوتا۔
اسی لیے بازاروں، گلیوں اور شاپنگ مالز کے باہر آج بھی مہندی کے اسٹال لگتے ہیں۔ جہاں عورتیں کونز لیے بیٹھی ہوتی ہیں اور ہاتھوں پر خوبصورت ڈیزائن بناتی ہیں۔ اصل مہارت تو انہی کے ہاتھوں میں ہے، جو اسٹینسل کبھی نہیں دے سکتا۔ اب مہرو کے الٹے ہاتھوں پر وہ خوبصورت بیلیں بنائی جا رہی تھیں۔مخملی شفا گوری کلائیاں جو کہ چوڑیوں سے بھری ہوئی تھی ان کو دھاگے کی مدد سے باندھ دیا گیا تھا اور ہاتھوں کی پشت پر خوبصورتی سے مہندی لگائی جا رہی تھی گورے ہاتھوں پر مہندی دمک رہی تھی، کھل رہی تھی۔

“سائیں، آپ کا نام بی بی جی کے ہاتھ پر لکھ دوں؟”
ایک لڑکی نے نظریں نیچے رکھے ہوئے پوچھا۔

زیغم سلطان جو تھوڑی سی دوری پر بیٹھا تھا بولا:
“یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے؟”
“دونوں ہاتھوں پر لکھ دیجیے۔”
وہ لبوں کو خاموش رکھے ہوئے تھا۔ مسکراہٹ کو ان لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا مگر دھڑکنیں خوشی سے جھوم رہی تھیں۔ اور مہرو تو ایسے نظریں جھکائے بیٹھی تھی جیسے اس نے سنا ہی نہ ہو۔ لڑکیاں دبی دبی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے، مہندی سے دونوں ہاتھوں پر ہارٹ کے اندر زیغم کا نام لکھ رہی تھیں اور مہندی سے اپنے ہاتھ پر لکھے ہوئے نام کو دیکھ کر مہرو کا دل ایک انجان سے خوبصورت احساس میں گرفتار ہو رہا تھا۔ مہرو کو مہندی لگ چکی تھی۔

“بی بی جی، اگر رنگ گہرا آیا تو مطلب سائیں آپ سے بہت پیار کرتے ہیں…”
ایک لڑکی نے چہک کر کہا تھا۔

“ارے سائیں بی بی جی سے بہت پیار کرتے ہیں، بی بی جی کے ہاتھ تو دیکھو، ہتھیلیاں سرخ لال ہوئی پڑی ہیں، اس سے زیادہ کیا رنگ آئے گا مہندی کا؟”
دوسری لڑکی نے ہنستے ہوئے پہلے سے لگی ہوئی مہندی کی جانب اشارہ کیا تھا۔
مہرو شرما گئی تھی جبکہ زیغم سلطان کے دل نے پورے دل سے قبول کیا تھا کہ وہ مہرو سے سچ میں بہت محبت کرتا ہے، اور اگر مہندی کا رنگ شوہر کی محبت کی نشاندہی کرتا ہے تو آج سے وہ اس بات پر یقین رکھے گا۔ یہ سوچ کر دل میں مسکرا دیا تھا۔ اپنی پیاری سی بیوی کے ہاتھوں پر سجی ہوئی مہندی کو دیکھ کر زیغم نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر والٹ نکالا، اور اس میں سے پانچ پانچ ہزار کے دو نوٹ نکال کر ان لڑکیوں کو دے دیے۔ ایک پانچ ہزار کا نوٹ وہاں بیٹھی ہوئی خاتون کو بھی دے دیا۔ لڑکیاں تو خوشی سے سما نہیں پا رہی تھیں۔ اتنے پیسے تو وہ پوری رات مہندی لگا کر بھی نہیں کما سکتی تھیں، جتنے ایک جھٹکے میں انہیں مل گئے تھے۔

زیغم، مہرو کو اپنے ساتھ لے کر آہستہ آہستہ گاڑی کی جانب بڑھا۔
مہرو گاڑی میں بیٹھ ہی نہیں پا رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں پر مہندی لگی تھی اور وہ اپنا بھاری لہنگا اور اجرک سنبھال نہیں پا رہی تھی۔ ایک تو وہ بہت نازک مزاج تھی، دوسرا گاڑی کی اونچائی زیادہ تھی، اور تیسرا اس نے بھاری لہنگا پہن رکھا تھا۔ پریشان نظروں سے اس نے زیغم کی طرف دیکھا۔ زیغم کے لب مسکرا دیے۔ وہ ذرا سا نیچے جھکا اور مہرو کو اپنی مضبوط بانہوں میں اٹھا کر گاڑی میں بٹھا دیا۔ بہت حسین منظر تھا یہ۔ خواتین بلائیں اتار رہی تھیں، اور زیغم کے خاص بندے فوراً ہی نظریں پھیر کر کھڑے ہو گئے تھے۔ کسی کو مرنا تھوڑی تھا جو زیغم سلطان کے اس پیار بھرے لمحے کو گھور کر دیکھنے کی ہمت کرتے۔ زیغم شریف ضرور تھا، مگر اس کا غصہ کیسا ہوتا ہے، یہ وہاں کھڑے ہر فرد کو معلوم تھا۔ جو دوسروں کی عزتوں کی حفاظت کرتا ہے، وہ اپنی بیوی کے لیے کس قدر پوزیسو ہوگا، یہ بات کسی کو سمجھانے کی ضرورت نہیں تھی۔

مہرو کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب تھیں، جب زیغم نے اُسے جھک کر اٹھایا، اور گاڑی میں بٹھاتے ہوئے اُس کا چہرہ مہرو کے کافی قریب تھا، تو زیغم سلطان کی سانسوں کو مہرو نے اپنے چہرے پر محسوس کیا۔ اتنا قریب کسی مرد کی سانسوں کو محسوس کرنا مہرو کے لیے ایک نیا اور انوکھا تجربہ تھا۔ یہ احساس مہرو کے لیے بہت الگ تھا، مگر وہ حیران تھی کہ یہ احساس اُسے بے چین نہیں کر رہا تھا۔ بلکہ وہ اس قربت کو پا کر خوش تھی۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، مگر اس دھڑکنے میں کوئی گھبراہٹ نہیں تھی۔ لوگوں کو مہرو کی کیفیت سمجھ نہیں آ رہی تھی، مگر اس کے چہرے پر حیا کی سرخی صاف جھلک رہی تھی۔ نظریں نیچے جھک چکی تھیں، پلکیں اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
زیغم دوسری جانب سے ہوتا ہوا فرنٹ سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا۔ گاڑی اسٹارٹ ہو چکی تھی، مگر مہرو تو اپنے مہندی والے ہاتھوں پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ سر اٹھا کر سامنے دیکھے۔ زیغم سلطان کے لب، مونچھوں تلے مسکرا دیے تھے۔ زیغم مہرو کے دل کی حالت سے واقف تھا مگر وہ گھبرائی ہوئی نہیں تھی، صرف شرم و حیا کی لہروں میں ڈوبی ہوئی تھی اور یہ دیکھ کر زیغم کے دل کو عجب سا اطمینان محسوس ہوا تھا۔ گاڑی فارم ہاؤس کی جانب چل پڑی تھی۔ راستے میں مہرو کی آنکھیں چاندنی رات میں گاؤں کی خوشحالی کو دیکھ کر چمک رہی تھیں، اور اس کی ہلکی سی مسکراہٹ زیغم کے دل کو خوشی سے مسرور کر رہی تھی۔ وہ اسے یوں پرسکون اور خوش دیکھ کر خود بھی اک عجب سی راحت محسوس کر رہا تھا۔
°°°°°°°
رات گزر چکی تھی، دن چڑھ چکا تھا۔ صبح کی فضاؤں میں عید کی خوشیوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ آج عید کا دن تھا، ملیحہ اور زرام کی ایک ساتھ پہلی عید تھی، مہرو اور زیغم کی بھی ایک ساتھ پہلی عید تھی۔ دل میں خوشیوں کا احساس بھرا ہوا تھا خاص کر مردوں کے۔
مگر ایک بیچارہ ایسا بھی تھا، جسے زبردستی عید والے دن اپنے گھر والوں سے دور رکھا گیا تھا، وہ تھا بیچارا فیصل، جو زرام کے نکاح میں شامل ہونے کے لیے آیا تھا۔ رات دیر تک چلنے والی محافل کی وجہ سے وہ واپس نہیں جا سکا تھا، اور آج اسے زیغم نے کہا تھا کہ کچھ وقت یہاں گزار کر پھر بے شک لوٹ جائے۔ زیغم کی بات کو عزت دیتے ہوئے فیصل رک گیا تھا اور گھر فون کر کے بتایا تھا کہ وہ آج نہیں آ سکے گا۔ تھوڑی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد اسے اجازت مل گئی تھی۔ گھر کے تمام مرد عید نماز ادا کرنے کے لیے نکل چکے تھے جبکہ خواتین ابھی تک عید کے لیے تیار ہو رہی تھیں۔

ارمیزہ اپنی پیاری سی فراک کو پھیلا کر مسکرا رہی تھی۔
“پھوپھو، میں کیسی لگ رہی ہوں؟”
ارمیزہ نے اپنی فراک کو پھیلا کر پوچھا، اس کی آنکھوں میں عید کی خوشیوں کی چمک تھی۔ معصومیت سے بھرا چہرہ اس وقت ہر غم ہر دکھ سے بے نیاز تھا۔ وہ دانیا کے سامنے کھڑی تھی، جو خود اس کی تیاری کے تمام مراحل میں شریک تھی مگر پھر بھی ارمیزہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ کیسی لگ رہی ہے۔

“بہت پیاری لگ رہی ہے میری جان، ہمیشہ کی طرح!”
دانیا نے آگے بڑھ کر ارمیزہ کا ماتھا محبت سے چوم لیا۔ اپنی تعریف سن کر ارمیزہ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ ارمیزہ نے وائٹ اور ریڈ کلر کے کمبینیشن میں فیری فراک پہنی ہوئی تھی۔ بالوں کا خوبصورت ہیئر سٹائل اس پر بہت جچ رہا تھا۔ اس کا پیارا سا ہیئر سٹائل جس میں چھوٹے چھوٹے سٹون لگے ہوئے تھے، دانیا نے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ ارمیزہ کے گالوں پر ہلکا سا بلش آن لگایا تھا، اور لبوں پر لپ گلوس لگا کر وہ چھوٹی سی ننھی سی پری لگ رہی تھی۔ اب ارمیزہ بہت ایکسائٹڈ تھی اور اپنے بابا کو اپنا ڈریس دکھانے کے لیے بے تاب تھی۔

دانیا نے ارمیزہ کو گود میں اٹھایا، اور محبت سے اپنی پیاری سی گڑیا کو دیکھتے ہوئے بے اختیار دل سے دعا نکلی۔
“اللہ اس کے نصیب اچھے کرے، کیونکہ کبھی میں بھی تو ایسی گڑیا ہوا کرتی تھی۔”
دانیا کو یاد آیا جب وہ چھوٹی تھی اور عید کے دن اپنے بابا کے ساتھ خوش ہو کر تیار ہوتی تھی، لیکن آج کچھ بھی مختلف تھا۔ آج وہ خود بھی تیار نہیں ہوئی تھی، سادہ لباس میں کھڑی تھی جو اس نے رات کو چینج کر کے پہنا تھا۔ دل میں ایک گہرا دکھ تھا، عید کی خوشی اس کے لیے ایک دھندلا سا منظر بن چکی تھی۔
وہ یاد کر رہی تھی کہ عید کے دن ہی اس کے ابا سائیں کو ہارٹ اٹیک آیا تھا، اور چاند رات تو بدترین الزامات کے ساتھ گزر گئی تھی۔ عید ہمیشہ دانیا کے لیے سوگ اور غم لے کر آتی تھی، اور آج بھی اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ چھوٹی سی ارمیزہ اپنی پھو پھو کی آنسو صاف کر رہی تھی۔

“پھوپھو، آپ کیوں رو رہی ہیں؟”
دانیا کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، وہ بس خاموش رہی۔
کبھی کبھی انسان اپنے دل کا درد کسی کو نہیں بتا سکتا، اور دانیا کی حالت یہی تھی۔ وہ اپنے بھائی کی خاطر بظاہر نارمل ہو چکی تھی، لیکن دل سے وہ درد کبھی نہیں نکل سکا تھا۔

“کچھ نہیں میری جان، میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ جاؤ، جا کر دیکھو مہرو ماما تیار ہو گئی ہیں۔”
دانیا نے جان بوجھ کر ارمیزہ کو کچھ دیر خود سے دور بھیجا، تاکہ معصوم بچی پر منفی اثر نہ پڑے۔

“نہیں پہلے مجھے بتائیں آپ کیوں رو رہی ہیں؟”
وہ منہ بھلائے پریشان ہو کر پوچھ رہی تھی۔

“کچھ بھی نہیں ہوا میری جان، میری آنکھ کو شاید کچھ چلا گیا ہے اس لیے پانی نکل رہا ہے!”
وہ آنکھوں کو جلدی سے صاف کر گئی تھی۔

“جھوٹ بولنا بری بات ہوتی ہے!”
ارمیزہ نے اپنی پھو پھو کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“مجھے پتہ ہے کہ جھوٹ بولنا بری بات ہوتی ہے دادی اماں، میں جھوٹ نہیں بول رہی اور تم جاؤ جا کر ماما کو دیکھو کہ وہ تیار ہو گئی ہیں ورنہ بابا کیا سوچیں گے ہم نے آپ کی ماما کا ذرا سا دھیان نہیں رکھا۔”
اسے گود سے نیچے اتار کر پیار سے اس کے گالوں سے کھیلتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی تھی تاکہ ارمزہ کو یقین ہو سکے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دانیا صرف بہانے سے اسے باہر نکالنا بھیجنا چاہتی تھی ورنہ مہرو کو تو وہ خود تیار کروا کرو کر آئی تھی۔

“ٹھیک ہے میں ابھی دیکھ کر آتی ہوں۔”
وہ اپنی پھوپھو جان پر یقین کرتی ہوئی فراک کو سنبھالے بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل گئی تھی۔
جیسے ہی ارمیزہ روم سے باہر گئی، دانیا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا۔ کب سے اپنے آنسوؤں کو روکے کھڑی تھی، لیکن اب پلکوں کی باڑ توڑتے ہوئے وہ بہتے ہوئے آنسو چھلک کر باہر آنے لگے تھے۔ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے ہوئے، وہ بیڈ کے کونے پر بیٹھ گئی تھی۔

“بابا کیوں چلے گئے آپ؟”
“مجھے صفائی کا موقع تک نہیں دیا۔ اتنی مہلت تو رب سے مانگ لیتے کہ آپ کی بیٹی آپ کو ثابت کر کے بتا سکتی کہ آپ کی بیٹی نے آپ کا سر شرم سے نہیں جھکایا!”
“آپ نے وہ صدمہ دل پر لے لیا۔ آپ کو میری وجہ سے ہارٹ اٹیک آیا، اور میں یہ بات کبھی نہیں بھول سکتی!”
“کسے دیکھاؤں اپنا درد؟”
“زیغم بھائی اپنی زندگی میں بہت کچھ برداشت کر چکے ہیں۔ ان کی اپنی زندگی اتنی الجھنوں کا شکار ہے، اور میں نہیں چاہتی کہ میں اپنے بھائی کی زندگی میں جو چند لمحے خوشیوں کے ہیں، انہیں اپنی آنکھوں میں ڈبو کر چھین لوں!”
“کس کو بتاؤں؟ کس کو بتاؤں اپنا درد؟”
وہ لبوں سے کچھ نہیں بول رہی تھی، مگر سسک سسک کر ایک ایک جملے کی تکلیف کو محسوس کر رہی تھی۔ آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو اس کی ہتھیلیوں پر گرنے لگے تھے۔ وہ بہت درد میں تھی، اس وقت۔ ماضی کی تلخیاں اس کی نظروں کے سامنے گھوم رہی تھیں۔ ہر وہ منظر جس میں اس نے اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا، اپنے بابا کی سانسیں ٹوٹتی ہوئی دیکھی، اپنی اماں سائیں کو خون میں لت پت دیکھا۔ کچھ ایسے درد بھی تھے جن کو وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی، کیونکہ ان کو سوچتے ہوئے اس کا رشتہ اپنے زیغم بھائی سے خراب ہو سکتا تھا مگر سچ تو یہی تھا کہ وہ درد بھی دانیا کا سینہ چیر رہا تھا۔ آسان نہیں ہوتا اپنوں کو کھونا، اور دانیا نے سب رشتے کھو دیے تھے۔ اکلوتا خون کا رشتہ، گہرا رشتہ، اس کا بھائی زیغم سلطان تھا۔ اس کی زندگی میں بے رنگ ویرانیاں اور غموں کے ڈیرے تھے، مگر خدا نے شاید اس کے غموں پر رحم کھا لیا تھا اور اسے مہرو کی صورت میں خوشیاں نصیب کی تھیں۔ دانیا اپنے بھائی کے لیے بہت خوش تھی، لیکن دانیا نہیں چاہتی تھی کہ اس کا بھائی اس کی وجہ سے دکھی ہو۔ دانیا نے خود کو اپنے اندر ہی سمیٹ لیا تھا، مگر درد کو اندر رکھنا آسان نہیں تھا۔ اس کا دل پھٹ رہا تھا۔
وہ اکیلے میں خود سے مخاطب تھی:
“کیسے چھپاؤں اس درد کو؟ کس سے کہوں؟”

زخم دینے والے بھول جاتے ہیں کہ ان کے دیے گئے زخم کسی کے لیے زندگی بھر کا روگ بن جاتے ہیں۔ عید والے دن، جب سب خوشیوں میں غرق تھے، دانیا اپنے دل کے کرب میں ڈوبی ہوئی تھی۔ خون کے آنسو رو رہی تھی وہ۔ یہ وہ دن تھا جب اس کے اندر کا دکھ، اس کا غم اور وہ تلخ یادیں جو وہ کبھی بھی اپنے دل سے نہیں نکال پائی، سب ایک بار پھر سر اٹھا کر اُس کے سامنے آ گئیں۔ وہ عید کے دن، جو محبت اور خوشی کا دن سمجھا جاتا ہے، اپنے اندر ایک گہری تنہائی اور درد کا بوجھ اٹھائے کھڑی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ وقت کبھی ماضی کے زخموں کو نہیں مٹا سکتا۔ وہ ہمیشہ کے لیے اس کے ساتھ رہیں گے۔ اور اسی دن، جب ہر طرف خوشیاں پھیل رہی تھیں، دانیا اپنے دکھوں کو سمیٹے، اپنے آنسوؤں میں ڈوب کر خاموشی سے اندر ہی اندر ٹوٹ رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
“عید مبارک سویٹی!”
زرام جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہوا، سب سے پہلے وہ ملیحہ کے کمرے میں گیا۔ وہ دانیا کے کہنے پر اُٹھ کر تیار ہو رہی تھی۔ سلور کلر کے پلازو کے اوپر ڈیزائنر کرتی پہنے ہوئے تھی، بالوں کو برش کر کے کیپچر میں قید کرتے ہوئے وہ ہلکا سا میک اپ کر کے کھڑی تھی۔ ہلکے سے میک اپ کی ٹچ کے ساتھ وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔ جیسے ہی زرام اندر داخل ہوا، ملیحہ نے جلدی سے بیڈ پر رکھے ہوئے دوپٹے کو اٹھانے کی کوشش کی، مگر زرام نے جان بوجھ کر تنگ کرنے کے لیے جھپٹ کر دوپٹے کو اٹھا کر اپنے کمر کے پیچھے ہاتھ کر لیا۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے؟”
ملیحہ نے زرام کی آنکھوں میں دیکھ کر غصے سے کہا۔

“جب تم جواب نہیں دو گی، تو میں بھی ایسے ہی کروں گا۔ میں نے کہا ‘عید مبارک سویٹی’، اب تم مجھے ریٹرن میں کہو، ‘خیر مبارک سویٹ ہاٹ’…”

“کیا کہوں؟”
ملیحہ چلا پڑی۔

“میرے خیال سے اتنا تو تم نے پڑھا ہوگا۔ میں نے کہا مجھے کہو ‘خیر مبارک سویٹ ہاٹ’ مطلب کہ ‘دلبر جانی’…”
زرام نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔

“قسم سے بڑے چھچھورے ہو زرام…”
ملیحہ نے اس کی چھیڑ چھاڑ پر کہا۔

“ہائے، ایک بار پھر سے میرا نام لینا۔”
زرام دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولا تھا اور چھچھورے والی بات کو اس نے پوری طرح سے نظر انداز کر دیا۔

“تم میں شرم ہے؟”
“میں نے تمہیں چھچھورا کہا ہے!”
ملیحہ نے اس کی ہٹ دھرمی پر جھنجھلاتے ہوئے کہا۔

“کوئی بات نہیں میری جان، تمہارا مجھ پر حق ہے، تم مجھے چھچھورا کہو، عاشق کہو، پاگل کہو، دیوانہ کہو، جانِ من کہو، جانِ جاں کہو، سر کا تاج کہو، تمہارا مجھ پر حق ہے، تم کہہ سکتی ہو میری جان!”
زرام نے جان بوجھ کر وہ جملے استعمال کیے تھے جو ملیحہ کو مزید چڑھا دیں۔

ملیحہ غصے سے لال پیلی ہوتی ہوئی خود کو کوس رہی تھی ۔وہ اللہ سے دعائیں کر رہی تھی۔
“اے اللہ، مجھے معاف کر دے، یہ بندہ میرے کون سی گناہوں کی سزا ہے؟”
“کس عذاب کو میرے پلے باندھ دیا؟”
“اللہ، مجھے معاف کر دے!”
اس کی حالت دیکھ کر زرام کو بے حد مزہ آ رہا تھا۔ وہ ملیحہ کو تپاتے ہوئے اپنی ہنسی روک نہیں پا رہا تھا۔ وہ اس کی چڑی کوئی شکل دیکھ کر خوش تھا، لیکن ملیحہ کی حالت لمحہ بہ لمحہ زیادہ ہی پیچیدہ ہو رہی تھی۔ وہ اپنی ہنسی پر قابو پانے کی کوشش کررہا تھا مگر ملیحہ کی جھنجھلاہٹ اس کو تسکین دے رہی تھی۔

“میری جان، میں تمہاری عبادت کا صلہ ہوں، کم سے کم مجھے گناہوں کی سزا تو مت سمجھو!”
زرام نے دو قدم بڑھا کر ملیحہ کے قریب آ کر کہا، اس کی نظروں میں محبت تھی، مگر ملیحہ کا دل اس کی محبت کو سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔

“عبادت کا صلہ تم جیسا نہیں ہوتا، تم گناہوں کی سزا ہو!”
ملیحہ کہتے ہوئے دو قدم اٹھا کر اس سے دور ہو کر دروازے کی جانب جانے لگی تھی مگر زرام نے اس کی کلائی کو مضبوطی سے تھام لیا۔ وہ اسے چھڑانے کی بے جان سی کوشش کر رہی تھی۔

“میرا ہاتھ چھوڑو زرام!”
وہ چیخ کر بولی۔

“نہ چھوڑوں تو؟”
وہ نرمی سے بولا۔

“کیوں نہیں چھوڑو گے؟”
“کیا تم نے مجھے خرید لیا ہے؟”
ملیحہ نے پلٹ کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“خرید تو تم نے مجھے لیا ہے، میرے دل پر پوری طرح قبضہ جما کر بیٹھی ہو، دماغ کو کسی اور کے بارے میں سوچنے تک نہیں دیتی، مگر مجھ سے بات تک کرنا تمہیں گوارا نہیں ہے۔ پلیز ایسا مت کرو، تمہیں کس بات کی مجھ سے ناراضگی ہے؟”
زرام نے نرم لہجے میں کہتے اس کی کلائی کو پکڑے رکھا۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا دوپٹہ اس نے محبت سے اس کے سر پر دیتے ہوئے اسے تحفظ کا احساس دلایا تھا۔ ملیحہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔ وہ جتنی بھی ضدی اور اکڑو بننے کی کوشش کرتی، اس کا دل اندر سے ٹوٹ رہا تھا۔ وہ مسلسل ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر زرام کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کروانا اس کے لیے ناممکن تھا۔

“مجھے کچھ نہیں بتانا، میرا ہاتھ چھوڑو زرام!”
وہ پھر سے روتی ہوئی کہہ رہی تھی۔ وہ زرام سے نظریں چرا رہی تھی۔

“ہاتھ تو میں کبھی نہیں چھوڑوں گا، اگر ہاتھ چھوڑنا ہوتا تو پھر پکڑتا ہی کیوں؟”
زرام کی آواز میں محبت اور نرمی تھی، وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔

“عید کا دن ہے، گلے شکوے دور کرو۔ تمہیں مجھ سے کیا پرابلم ہے، ایک بار لبوں سے بول کر بتاؤ تو صحیح خدا کی قسم، ذرام اپنے اندر سے وہ ہر چیز نکال دے گا جس سے تمہیں تکلیف ہو رہی ہے۔”
اس کے نرم الفاظ اور محبت بھری نگاہوں نے ملیحہ کے دل کو مزید ٹوٹنے کی حد تک پہنچا دیا تھا، وہ جو ضدی بنی کھڑی تھی وہ بکھرنے لگی تھی مگر اب اپنی طرف سے وہ اپنے دل کی حالت کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔

“میں نے کہا نا مجھے کچھ نہیں کہنا!”
ملیحہ نے آنکھوں میں نمی اور لہجے میں سختی لیے ایک بار پھر خود کو چھڑانے کی کوشش کی۔

“ایسے نہیں چلے گا ملیحہ!”
زرام نے تھوڑا قریب ہو کر اس کے دونوں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام لیے، اس کے لہجے میں اب نرمی کے ساتھ بے بسی بھی شامل ہو چکی تھی۔

“شادی کی ہے تم سے، نکاح کیا ہے، پیار کرتا ہوں تم سے… دنیا کی ہر خوشی تمہارے قدموں میں لا کر رکھ دوں گا۔ جیسا چاہو گی ویسا بننے کو تیار ہوں، مگر تمہاری یہ ناراضگی، تمہارے یہ آنسو… یہ سب مجھے تکلیف دیتے ہیں، یار کس بات کا غصہ ہے تمہیں؟”
اس نے بات مکمل کرتے ہی اسے صوفے پر بٹھانے کی کوشش کی، مگر ملیحہ ابھی بھی ضد پر اڑی ہوئی کھڑی رہی۔

“اِدھر بیٹھو، میری بات سنو!”
وہ اس کے کندھوں پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہوئے زور ڈال کر آخرکار اسے صوفے پر بٹھانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ خود بھی فوراً اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس کے ہاتھوں کو تھامے رکھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ لمحوں میں پھر سے اٹھ کر دور ہو جائے گی اور واقعی جیسے ہی وہ بیٹھا، ملیحہ نے فوراً پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، مگر زرام کے مضبوط ہاتھوں نے اس بار ہلنے تک کی اجازت نہیں دی۔

“آرام سے بیٹھ جاؤ، کھا نہیں جاؤں گا تمہیں!”
وہ ذرا سا طنز اور ذرا سی مسکراہٹ لیے بولا۔

“میں کوئی جاہل انسان نہیں ہوں کہ تمہاری مرضی کے خلاف تمہیں چھونے کی کوشش بھی کروں۔ اپنی حدودیں مجھے یاد ہیں۔ کتنی بار یہ بات سمجھانی پڑے گی؟”
اس کے لہجے میں اب سنجیدگی کا رنگ تھا، تو ملیحہ نے آنسو بھری آنکھوں سے اسے گھورا۔

“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟”
زارم نے الجھ کر پوچھا۔

“دیکھ رہی ہوں وہ حرکت جو تم نے رات کو کی… اُس وقت تمہاری تمیز، تہذیب اور یہ بڑی بڑی باتیں کہاں گئی تھیں؟”
ملیحہ کی آواز بھیگ چکی تھی، مگر اس کے اندر کی چبھن صاف محسوس ہو رہی تھی۔

“یار…”
زرام کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ وہ اس کی نم آنکھوں کو دیکھنے لگا تھا۔

“تم میری بیوی ہو… اور دلہن بنی ہوئی، اتنی پیاری لگ رہی تھی… تو یار… ایک چھوٹی سی جھپی تو لی تھی…”
وہ شرارتی انداز میں بولا، اس کی آنکھوں میں محبت اور مان تھا اور ملیحہ کے لیے عزت بھی۔

“مان جاؤ نا یار… عید کا دن ہے ناراضگی ختم کرو…”
اس کے لہجے میں التجا تھی، نظروں میں محبت تھی۔ سب کچھ ملیحہ کو اچھی طرح سے محسوس ہو رہا تھا۔

“ٹھیک ہے… مان جاؤں ٹھیک ہو جاؤں گی… ناراضگی ختم کر دوں گی!”
“مگر میری ایک شرط ہے!”
ملیحہ نے تھوڑا سا نرم لہجہ اپنایا، مگر سوال دل سے نکلا تھا، بے حد گہرا اور سیدھا۔

“ٹھیک ہے حکم کرو میں ہر کسوٹی پر اترنے کے لیے تیار ہوں!” و
ہ سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے بے یقینی سے بھرے ہوئے چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا۔

“بس اتنا بتا دو کہ تم نے مجھ سے شادی کیوں کی؟”
“میرا ہی انتخاب کیوں کیا؟”
وہ اپنی نم آنکھوں میں ہزاروں شکوے لیے زرام کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔

“یہ کیسا سوال ہے…؟”
زرام نے حیرانی سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“میرا دل اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہے کہ تم اتنے امیرزادے ہو کر تمہیں شادی کرنے کے لیے میں ہی ملی تھی… اس بات پر بھروسہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہے ہو… تمہارا اسٹیٹس مجھ سے میچ نہیں کرتا، تم چاہو تو دن میں چاہے چار شادیاں کر لو… اور وہ بھی اپنے سٹیٹس کے مطابق… پھر میں ہی کیوں؟”
اس کے لہجے میں درد، بے یقینی چھپی ہوئی تھی، جو شاید اعتبار کے رستے ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ رہی تھی، جیسے زرام کے دل میں جھانک کر اپنی اہمیت تلاش کر رہی ہو۔ زارم کے لیے لمحہ خاصا وزنی تھا۔ اس کا جواب، وہ صرف الفاظ نہیں، اس کے جذبات کا اعتبار بننے والا تھا۔بزارم نے گہری سانس لے کر اپنے اندر کے تمام جذبات کو سمیٹا، ایک پل کو اس نے صرف ملیحہ کی آنکھوں میں دیکھا۔

“میرا نہیں خیال کہ تمہیں میری سچی محبت کا احساس نہیں ہوا ہوگا!”
نرمی اور درد سے لبریز لہجے میں وہ گویا ہوا۔

“اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھو، کیا تمہیں میری آنکھوں میں سچائی نظر نہیں آتی؟”
وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے اپنے الفاظ کی گواہی اس کی خاموشی سے مانگ رہا تھا۔ ملیحہ خاموش بیٹھی تھی، نظریں زرام کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ دل کی بے یقینی آنکھوں سے صاف نظر آرہی تھی۔ اس کی آنکھوں کی بے یقینی زرام کو تکلیف دے رہی تھی۔

“بولو ملیحہ… کیا تمہیں میری آنکھوں میں محبت کی سچائی نظر نہیں آتی؟”
“یا پھر تم دیکھنا نہیں چاہتی؟”
زارم کے لہجے میں خفگی نہیں تھی مگر آنکھوں میں بے یقینی کا درد ضرور نظر آرہا تھا۔

“یہ جو تم سٹیٹس کی بات کرتی ہو… محبت میں سٹیٹس کہاں سے آ گیا؟”
اس نے تھوڑا سا آگے جھک کر کہا۔

“کس نے تم سے کہا کہ محبت سٹیٹس دیکھ کر کی جاتی ہے؟”
“کس نے کہا کہ محبت پر انسان کا زور ہوتا ہے؟”
زارم کے ایک ایک لفظ میں یقین تھا، شدت تھی، اور ایک ایسا سچ تھا جو وہ ملیحہ کو محسوس کروانا چاہتا تھا۔

“محبت تو بس ہو جاتی ہے… تم سے ہو گئی ملیحہ، سچ میں ہو گئی…”
وہ اب بھی اسے دیکھے جا رہا تھا۔ صرف اس کے جواب کا منتظر تھا۔

“کر لو میری محبت پر یقین!”
زارم کی آواز مدھم تھی، لیکن اس کے الفاظ میں وہی گہری شدت تھی جو کسی عاشق کے دل کی سچائی کو ظاہر کرتی ہے۔

“اتنی بے یقینی اچھی نہیں ہوتی، کبھی کبھی محبوب کی بے یقینی، محبوب کی جان لے لیتی ہے…”
آہستگی سے کہا، لہجے میں درد اور بے بسی کی انتہا تھی۔ بے یقینی نے واقعی اس کے دل کو زخمی کر کے رکھ دیا تھا۔ لفظوں میں ایسی محبت، ایسا احترام، اور ایسی عقیدت چھپی تھی کہ ملیحہ کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں۔ اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی۔ غصے سے بھرا ہوا دل نرم ہو کر زارم کی محبت پر ایمان لا چکا تھا مگر دماغ… وہ اب بھی ضدی تھا۔ جو دل کی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ وہ خاموشی سے بیٹھی، کچھ بول نہیں سکی، کیونکہ زارم جیسے سیدھی سچائی بولنے والے شخص سے بحث کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ دل تسلیم کر چکا تھا مگر زبان اب بھی خاموش تھی، اور زارم، اس خاموشی کو بھی محبت کی ایک قسم سمجھ کر بس اسے دیکھے جا رہا تھا۔

“اگر کل کو تمہاری محبت میں شرکت کرنے والی پہلے سے حویلی میں موجود ہوئی، جیسے کہ امیر زادوں کی بڑی بڑی حویلیوں میں ہوتا ہے… ایک غریب گھر کی لڑکی کو لڑکے کی پسند سے کچھ دن کے لیے اس کی ضرورت کا سامان بنا کر نکاح کر کے لے جایا جاتا ہے… مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اس لڑکے کی زندگی میں پہلے سے، اسی کے خاندان کی کوئی خاص لڑکی، بیوی کے روپ میں موجود ہوتی ہے… اگر میرے ساتھ بھی ایسا ہوا تو میں کیا کروں گی ذرام؟”
اس کی آواز لرز گئی تھی، دل کی چپ نے لبوں سے الفاظ چُرائے اور وہ پھر گویا ہوئی۔

“اگر کل کو مجھے پتہ چلے کہ میری حیثیت یہ ہے کہ مجھ پر زرام کا دل آ گیا تھا… مگر میں بیوی کی حیثیت خاندان میں بالکل نہیں رکھتی… مجھے پوری زندگی صرف تمہاری محبوبہ کی حیثیت ملی تو؟”
“کل کو مجھے تانے سننے پڑے کہ اس خاندان سے اور سٹیٹس سے میچ کرتی ہوئی لڑکی تو وہی تھی، جو پہلے سے شادی کر کے تم نے اپنی حویلی میں رکھی ہوئی ہے۔ جسے تمہارے گھر والے اپنی بہو مانتے ہیں، جسے تم شان کے ساتھ لے کر چلتے ہو اور مجھے تم صرف اپنے لیے چند دنوں کی خوشی کا سامان سمجھ کر لے آئے ہو… تو میں کیا کروں گی؟”
“میں اپنی توہین برداشت کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ذرام… میں مر جاؤں گی!”
اس کے دل کی سچائی… دل کے اندر چھپا ہوا ڈر… آخرکار زبان پر آ گیا، اور آنکھیں… وہ تو جیسے برسنے کے لیے منتظر تھیں… ایک ہی پل میں چھلک کر بہنے لگیں۔ زرام کے لب خاموش تھے۔ آنکھوں میں اس کے لیے عقیدت تھی، مان تھا۔

“خدا کی قسم، تمہارے سوا میری زندگی میں نہ کوئی لڑکی ہے، نہ کبھی آ سکتی ہے۔ میرے دل نے تم سے محبت کی، میں نے تمہیں اپنا بنا لیا!”
“جس دن تم سے نظریں پھیرنے لگے، خدا کرے اگلا سانس نصیب نہ ہو… مر جاؤں گا مگر تم سے کبھی بے وفائی نہیں کروں گا… یہ وعدہ ہے تم سے!”
“یقین کر لو میری جان، تمہیں دھوکہ نہیں دوں گا!”
“ایک بار میرا ہاتھ پورے یقین سے پکڑ کر تو دیکھو… تمہیں ڈگمگانے نہیں دوں گا۔”
اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے اس کا چہرہ اوپر کیا۔
بھیگی ہوئی پلکیں، دل کا درد، اور سرخ آنکھوں میں چھپا ہار جانے کا ڈر… سب واضح نظر آ رہا تھا۔ ہاتھوں کی پشت سے نرمی سے اس کے آنسو صاف کرتے، اس کے خوبصورت چہرے کو، لمحہ بھر کو محبت سے دیکھا۔ نرمی سے اس کے ماتھے پر لب رکھے، اور عقیدت سے آنکھیں بند کر لیں۔ محبت کو… محبت پر… محبت سے یقین آ چکا تھا۔ وہ جھجکی… مگر دور نہیں ہوئی، بلکہ اس کے سینے پر سر ٹکاتے ہوئے، محبت کے سامنے خود کو مکمل طور پر ہار گئی تھی۔

“کر لیا یقین… مان لیا تمہاری محبت کو… لے آئی تمہارے یقین پر ایمان…”
“مگر سوچ لینا… جس دن میرا بھروسہ… میرا یقین ٹوٹا… میں تمہاری نظروں کے سامنے… اپنی جان لے لوں گی!”
ذرام کے سینے پر سر رکھے، وہ آہستگی سے بول رہی تھی، آواز میں ایسی شدت اور درد تھا کہ لمحہ لمحہ رک کر دل کو چیرتا جا رہا تھا۔

“ملیحہ نے زندگی میں بہت سے دکھ دیکھے ہیں۔ میری زندگی کی پہلی خوشی بن کر تم آئے ہو۔ تم نے خود سے خود کو میرا کیا ہے۔ تو قسم سے… جس دن خود کو… خود سے… مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی… تو صرف تباہی آئے گی…”
“اس تباہی میں ختم ہو جائے گی ملیحہ… میں نہ کسی گواہی کو مانوں گی… نہ کسی ثبوت کو…”
اس کے لفظوں میں محبت کی گہرائی کے ساتھ جنونیت بھی تھی۔ وہ بولتے بولتے لمحہ بھر کے لیے رکی، آنکھیں بند کیں، اپنے جذباتی بوجھ کو تھامنے کی کوشش کر رہی تھی۔

“زرام بس ایک بات یاد رکھنا… کہ کبھی غلط فہمی کو ہمارے درمیان پیدا ہی مت ہونے دینا…”
وہ اب بھی ذرام کے سینے سے لگی، آہستگی سے بولتی چلی گئی تھی، اور وہ… بس سنتا رہا تھا… خاموشی سے… احساس سے… محبت سے…

“انشاءاللہ… کوئی غلط فہمی ہمارے درمیان نہیں آئے گی… میں آنے ہی نہیں دوں گا…”
“محبت سے بھری دنیا ہوگی… تم… میں… اور ہمارے بچے…”
بچوں کے ذکر پر ملیحہ شرم سے لال ہو گئی۔ چہرہ مزید اس کے سینے سے چھپا لیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ملیحہ اس طرح شرمائی تھی۔ زرام کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ لبوں پر سکون بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔

“چلو اب جلدی سے مجھے عید مبارک بولو… اور ساتھ میں ’سویٹ ہارٹ‘ لگانا…”
وہ شرارت سے مسکرایا، اس کے چہرے کو نرمی سے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں تھامتے ہوئے، نظریں اس کی آنکھوں سے ملاقاتیں کرنے لگی تھی۔

“میں ایسا کچھ نہیں کہنے والی… ہاں، عید مبارک کہہ دیتی ہوں!”
“آپ کو میری طرف سے بہت بہت عید مبارک…”
نظروں کو چراتے ہوئے وہ آہستہ سے بولی تھی۔ وہ شرما کر پیچھے ہٹنے لگی تھی کہ زرام نے اس کے نازک ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام کر ہلکا سا جھٹکا دیا۔ وہ سنبھل نہ سکی اور جھٹکے سے اس کے بالکل قریب آ گئی۔ اگر وہ وقت پر زرام کے کندھوں پر ہاتھ نہ رکھتی تو اس کے سینے سے جا لگتی۔ دھوپ کی ہلکی سی روشنی اندر آ رہی تھی، اور اسی لمحے اس کا دوپٹہ ہلکا سا سرک کر کندھوں سے نیچے چلا گیا۔

“شوہر سے ایسے کوئی عید مبارک کہتا ہے؟”
زرام نے محبت بھرے نرم لہجے میں کہا۔
اس کے چہرے پر آئی بالوں کی ایک لٹ کو نرمی سے ماتھے سے ہٹایا۔ اور آہستگی سے کان کے پیچھے کر دیا۔ اس کے لہجے میں ایک چاہت بھری سنجیدگی اور نظروں میں شرارت تھی۔

“جی ہاں، ایسے ہی عید مبارک کہا جاتا ہے…”
وہ جھٹکے سے دور ہوتے ہوئے دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی تھی۔

“جھوٹ اپنے دل سے پوچھو کہ شوہر کو عید مبارک کیسے کہا جاتا ہے…”
وہ تیز دھڑکنوں کے ساتھ اس کے برابر کھڑا ہوا تھا۔ ملیحہ نظریں چرا گئی۔

“بہت کنجوس ہو، شوہر کو گلے لگا کر عید مبارک کہا جاتا ہے۔ خیر، کوئی بات نہیں، جب وعدہ کیا ہے کہ جناب کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کروں گا، تو انشاءاللہ میں اپنے وعدے پر قائم بھی رہوں گا مگر زیادتی کر رہی ہو، اللہ تعالی کی بارگاہ میں جواب دینا پڑے گا کہ عید والے دن اپنے شوہر کے گلے لگ کر عید کیوں نہیں ملی۔”
زرام کی باتوں میں شوخی محبت اور شرارت کے رنگ گہرے ہونے لگے تھے۔

“آپ بے فکر رہیں میں اپنے اللہ کو جواب دے دوں گی۔ میں اللہ کو کہہ دوں گی کہ میرے شوہر بہت ٹھرکی انسان ہیں، وہ پہلے ہی مجھے گلے لگا چکے ہیں، اور اب ایسا کوئی چانس نہیں ہے۔ آپ میری عید دیں!”
زارم کی باتوں سے ملیحہ شرم سے لال ہو چکی تھی لیکن فوراً بات کو بدلتے ہوئے، عیدی کے لیے ہاتھ پھیلا کر اس کا دھیان اپنی بات سے ہٹا دیا۔

“پہلے عیدی والا کام تو کر لو، پھر دے دوں گا!”
وہ اپنی بات پر قائم تھا۔ شرارتی نظروں سے دیکھ کر اسے شرمانے پر مجبور کر رہا تھا۔

“عید دے رہے ہو، یا پھر…”
وہ اپنے اندر کے جذباتوں کو چھپانے کی ناکام سی کوشش کرتے ہوئے بولی۔

“یا پھر کیا؟”
ذرام کی نظروں سے شرارت چھلک رہی تھی۔ اس کے قریب ہوتے ہوئے نرمی سے اس کی کمر پر ہاتھ باندھے اسے خود سے دور جانے سے روک چکا تھا۔

“کچھ بھی نہیں…”
زرام کے قریب ہونے سے وہ گھبرا گئی تھی۔ زرام کے لب مسکرا رہے تھے۔ گہری نظریں اس کی شرمائی ہوئی مسکراہٹ پر مرکوز کر تھیں۔

“عیدی لینے کے لیے پہلے شوہر کو عیدی دینی پڑتی ہے سپائسی چلی!”
“اس کے بعد جتنی چاہو گی، اس سے زیادہ عید دے دوں گا۔”
زارم جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا تھا، اور اس کے شرمانے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ محبت کی بارش دونوں پر برسنے لگی تھی، مگر زارم جانتا تھا کہ محبت میں اپنی حدود اور دائرے نہیں بھولنے چاہیے۔ وہ اپنے پورے حق کے باوجود بھی۔ملیحہ کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ ایسی ہوتی ہے محبت، جہاں انسان اپنے جذبات کا احترام بھی کرتا ہے اور دوسروں کے احساسات کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ وہ اس کے بے حد قریب ہو کر اپنے محبت سے بھرے احساسات کا احترام کر رہا تھا مگر بال کے برابر رکھے ہوئے فاصلے سے وہ اس کو اس کی مرضی کا تحفظ بھی دے رہا تھا۔ تھوڑا سا تنگ کرنے کے بعد، ذرام نے ملیحہ کو عیدی دے دی تھی، مگر اپنی محبت کی مہر عیدی کے نوٹوں پر لگاتے ہوئے لبوں سے لگا کر چومتے ہوئے دی تھی۔ ملیحہ نے شرما کر دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ لیے۔

“بعد میں شرما لینا، اپنی عیدی لے لو۔”
مسکرا کر نرمی سے کہا۔

“مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ میری سپائسی چلی اتنا اچھا شرما سکتی ہے۔”
نرمی سے اس کے چہرے سے ہاتھوں کو ہٹا کر، اس کی ہتھیلی پر عیدی کے نوٹ رکھتے ہوئے، محبت سے اس کے بالوں پر لب رکھ دیے۔

“عید مبارک میری سپائسی چلی!”

“آپ کو بھی عید مبارک!”
وہ اس کے سینے سے سر ٹکاتے ہوئے، دل کی گہرائیوں سے اسے عید مبارک کہتے ہوئے اس کے سینے سے لگ گئی تھی۔
زرام نے اس کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کیا تھا، تو بن مانگے ہی اسے اپنی محرم کو گلے لگانے کا پورا موقع نصیب ہو چکا تھا۔ اس کی عید مکمل ہو چکی تھی اور دل خوشی سے جھوم رہا تھا۔ دونوں بازو سے اسے تحفظ سے سمیٹے، سینے سے لگائے، دونوں کی عید مکمل ہو گئی۔ محبت کی گونج اور قربت میں دونوں نے اپنے جذبوں کو خاموشی سے محسوس کیا۔ وقت رک گیا تھا۔ ارد گرد کا پس منظر کہیں غائب ہو چکا تھا۔ صرف وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ موجود تھے۔
°°°°°°°°
زیغم گھر میں آتے ہی سب سے پہلے اپنی اکلوتی بہن کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔ دل تو مہرو سے ملنے کو بھی بے قرار تھا، مگر اس وقت ایک بھائی کی محبت زیادہ حاوی تھی۔ وہ دانیا کے روم کی طرف گیا، دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر داخل ہوا۔ دانیا، نے خود کو سنبھالنے کی پوری کوشش کی، مگر اس کی آنکھوں سے چھلکتے آنسو، جنہیں اس نے جلدی سے صاف کیا، چھپ نہ سکے۔ آنکھوں کی سرخی اور سوجن بتا رہی تھی کہ وہ بہت شدت سے اور کافی دیر تک روئی ہے۔ زیغم تڑپ کر آگے بڑھا۔

“کیا ہوا ہے تمہیں؟ کیوں رو رہی ہو؟”
دانیا کے چہرے کو پیار سے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے، پریشان نظروں سے پوچھا۔

“نن… نہیں بھائی، میں رو نہیں رہی تھی…”
وہ لفظوں کو توڑتے ہوئے جھوٹ بول رہی تھی تاکہ اس کا بھائی دکھی نہ ہو۔

“جھوٹ… مت بولو دانیا!”
سختی سے کہتے ہوئے، اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔

“سچ بول رہی ہوں بھائی، کچھ نہیں ہوا…”
اپنے بھائی کے گلے لگتے ہوئے، اس کی آنکھوں سے آنسو زبردستی چھلک کر باہر آ رہے تھے، مگر وہ پھر بھی اپنے جھوٹ پر ڈٹی ہوئی تھی۔ وہ اپنے بھائی کو دکھی نہیں کرنا چاہتی تھی، مگر اپنے دل کا درد سمیٹنے میں بھی بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔ زیغم نے اسے تھوڑا سا پیچھے کرتے ہوئے دکھی نظروں سے دیکھا۔

“کیا میں اتنا پرایا ہو گیا ہوں کہ تم مجھے اپنے دکھ میں شریک نہیں کرو گی؟”
“کیا تم نے ابھی تک اپنے بھائی کو معاف نہیں کیا، جو یوں چھپ چھپ کر رو رہی ہو؟”

“نہیں بھائی… آپ کے سوا اس دنیا میں میرا ہے ہی کون؟”
“آپ میرے لیے سب کچھ ہیں، میرے دل میں آپ کے لیے کوئی شکوہ نہیں۔”
دانیا اپنے بڑے بھائی کا ہاتھ پیار سے چومتے ہوئے محبت سے بول رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے آنسو اس کے دل کا درد صاف بیان کر رہے تھے۔ وہ دکھی تھی، ٹوٹ چکی تھی۔ زیغم کی آنکھوں میں بہن کا یہ حال دیکھ کر بے بسی اتر آئی۔

“میں تمہارا بھائی ہوں… تمہارے ساتھ کھیلتے ہوئے بڑا ہوا ہوں۔”
“چند سال تم سے دور رہا، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ میں تمہارے چہرے پر تمہارے دل کا درد پڑھنا بھی بھول گیا؟”
“مجھے بتاؤ ایسا کیا ہے جو میری بہن کو تکلیف دے رہا ہے؟”
“ایسا کیا ہے جو تمہیں چھپ چھپ کر رونے پر مجبور کر رہا ہے؟”
اس نے پیار سے ،دانیا، کے آنسو صاف کیے۔

“دانیا، زندگی میں میں نے ہر قیمتی رشتہ کھو دیا ہے۔ میں رشتوں کے معاملے میں بہت بدنصیب ہوں۔ اب تم میری زندگی کا کل سرمایہ ہو۔ میں تمہیں نہیں کھونا چاہتا!”
“میں تمہیں دنیا کی ہر خوشی دینا چاہتا ہوں۔ جو وقت گزر گیا، اس پر مت رو!”
بڑی شفقت سے اسے سمجھا رہا تھا۔

“بھائی کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جن سے ہم پیچھا چھڑانا چاہیں تب بھی نہیں چھوڑتے۔ وہ ناسور بن کر اندر ہی اندر گہرے ہوتے رہتے ہیں۔”
“گزرے وقت کی یادیں بہت تلخ ہیں، میں چاہ کر بھی انہیں بھلا نہیں پا رہی… کیا کروں؟”
دانیا اپنے بھائی کے سینے سے لگ کر سسک رہی تھی۔ اس کی ہر سسکی اس کے ٹوٹے دل کی گواہی دے رہی تھی۔ زیغم نے نرمی سے اس کے آنسو صاف کیے۔

“اب جنہوں نے ہمیں رلایا ہے، اب انہیں رونے دو!”
“ہم اپنے حصے کے آنسو بہا چکے ہیں۔”
“تم زیغم سلطان کی بہن ہو… کمزور نہیں ہو!”
“جو ہمیں دکھ دے گئے ہیں، وہ اپنے کیے کی سزا ضرور پائیں گے۔ دنیا مکافاتِ عمل ہے اور آج… آج عید ہے۔ رو کر اماں سائیں اور ابا سائیں کی روحوں کو تکلیف مت دو!”
زیغم مضبوط لہجے میں بولا۔ لہجے میں بھائیوں والا نرمی کا احساس بھی تھا اور سردار والا حکم بھی۔ دانیا،نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔ کچھ لمحے دونوں بہن بھائی تلخ یادوں کو یاد کر کے ایک دوسرے کو تھامے رہے، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے کمرے سے باہر نکلنے لگے کہ زیغم کا دھیان اس بات پر گیا کہ دانیا بالکل تیار نہیں تھی۔ رف سی حالت میں کھڑی تھی۔

“پہلے جلدی سے تیار ہو جاؤ… اور پھر کمرے سے باہر آنا۔ بہت پیاری سی تیار ہو کر آنا… بالکل ویسے جیسے بچپن میں ہوتی تھی۔ بہت سارا میک اپ لگا کر!”
زیغم نے ہنستے ہوئے اس کے سر پر تھپکی دی۔

“اب بچپن جیسا کچھ نہیں رہا بھائی… اب عیدیں اچھی نہیں لگتیں۔”
“سب کچھ پیچھے رہ گیا ہے… وہ دانیا بھی پیچھے رہ گئی۔”
دانیا، کی آواز میں درد امڈ آیا تھا۔

“کچھ بھی پیچھے نہیں گیا، سب کچھ ویسے کا ویسا ہے اور اماں سائیں اور ابا سائیں ہمیں جنت میں ضرور ملیں گے اور اس وقت… تمہاری اماں سائیں بھی میں ہوں، اور ابا سائیں بھی۔”
“اور میرا حکم ہے… میری پیاری بہن فوراً تیار ہو کر باہر آئے!”
زیغم، کی آواز میں شفقت اتر آئی تھی۔

“جب تک تم تیار ہوتی ہو۔ تب تک میں تمہاری بھابھی اور اپنی چھوٹی سی بیٹی کو عید مل آتا ہوں۔”
“اور ہاں، جلدی تیار نہ ہوئی تو میں ناراض ہو جاؤں گا۔”
وہ جاتے جاتے رُکا، پلٹ کر مسکرا کر بولا تھا۔
دانیا، نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا۔ وہ اس وقت صرف اپنے بھائی کی خاطر تیار ہونے لگی تھی۔ ورنہ دل تو بلکل بھی آمادہ نہ تھا۔ زیغم جا چکا تھا، اور دانیا اپنے کمرے میں بھائی کی خوشی کے لیے آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی تھی۔
کبھی کبھی اپنے پیاروں کو خوشی دینے کے لیے اپنے مردہ دل کو بھی زندہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھار پیاروں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے زبردستی خود پر جبر کر کے مسکرانا بھی پڑتا ہے، چاہے دل رو رہا ہو مگر لبوں پر مسکراہٹ سجانی پڑتی ہے۔
°°°°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *