Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:29
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر :29
°°°°°°
“عید مبارک!”
مائد خان دورانی جھک کر ادب سے اپنی مورے کا ہاتھ چومتے ہوئے، محبت بھرے انداز میں ان کے سر پر لب رکھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں اپنی ماں کے لیے ٹپکتی محبت صاف جھلک رہی تھی۔ مورے اپنے بیٹے کو دیکھ کر خوشی سے کھڑی ہوگئی۔
“خیر مبارک، خیر مبارک، مورے کی جان، سدا خوش رہو، سلامت رہو، ہنستے مسکراتے رہو۔ میرا خدا تمہاری زندگی میں اتنی خوشیاں بھر دے کہ جب بھی نظر بھر کر دیکھوں، میرا بیٹا مسکراتا ہوا نظر آئے۔”
انہوں نے اپنے پٹھانی لہجے میں مائد کی بلائیں لیتے ہوئے ڈھیر ساری دعائیں دی۔ ممتا بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے گلے سے لگا لیا۔ مورے کی جان بستی تھی مائد خان دورانی میں اور مائد کی بھی جان بستی تھی اپنی مورے اور آغا جان میں۔ مورے کی بے تحاشہ دعاؤں پر مائد کے لب مسکرا دیے اور دل میں سکون کی روحانیت اترنے لگی۔
“آپ بھی صدا ہمارے سر پر سلامت رہیں۔ اللہ تعالیٰ میری جنت کو ہمیشہ میری نظروں کے سامنے رکھے۔”
دونوں ہاتھوں کو ادب سے چوم کر اپنی آنکھوں سے لگایا۔
اس کے مضبوط ہاتھوں میں مورے کے پھولے پھولے، گورے، ضعیف ہاتھ بہت پیارے لگ رہے تھے۔ ماں بیٹے کی یہ محبت دیکھ کر رشک آنے لگا۔ آج کے دور میں ایسی محبت واقعی قابلِ تعریف ہے۔
“کیا بات ہے، صرف اپنی مورے سے ہی عید ملو گے؟”
‘آغا جان سے نہیں ملنا؟”
“ماں جنت ہے تو باپ بھی جنت کا دروازہ ہے، یار ہماری طرف بھی مسکرا کر دیکھ لیا کرو۔”
آغا جان، جو مائد سے پہلے ہی ساتھ والی مسجد سے عید نماز ادا کر کر کے واپس آچکے تھے۔ ماں بیٹے کو دیکھ کر خوش دلی سے مخاطب ہوئے۔ مائد نے مسکرا کر آغا جان کی طرف رخ کیا۔
“عید مبارک، آغا جان! عید مبارک!”
“اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہمارے سر پر سلامت رکھے، آپ تو ہمارے گھر کی مضبوط چھت ہیں۔ محبت کا وہ درخت، جس کے بغیر مائد خان دورانی ادھورا ہے۔”
وہ آگے بڑھا اور آغا جان سے گلے ملتے ہوئے محبت بھرے پرجوش انداز میں بولتے ہوئے آغا جان کے سینے سے لگ گیا۔
“خیر مبارک، خیر مبارک، جیتے رہو، خوش رہو، فتح پاؤ، کامیاب رہو میری جان۔”
آغا جان نے اپنی شفقت بھری آواز میں دعا دیتے ہوئے، بیٹے کی جوانی پر فخر سے نظر ڈالی۔ مائد کی مضبوط جوانی پر ہمیشہ آغا جان کی نظریں رشک کرتی ہوئی نظر آتی تھی۔ اس وقت بھی مائد کو اپنے سینے سے لگائے وہ خود کو مضبوط اور نوجوان محسوس کر رہے تھے۔ باپ ہمیشہ اپنے بیٹے کی جوانی کو رشک بھری نظروں سے دیکھتا ہے کیونکہ بیٹے کی صورت میں باپ کو ایک بار پھر سے بھرپور زندگی اور طاقت جینے کا موقع ملتا ہے۔
“کیا بات ہے! ساری محبت، پیار اور دعائیں صرف مائد بھائی کے لیے ہیں؟”
“میرے لیے کچھ نہیں؟”
درخزائی، جو باہر ملازمین کو عید مبارک کہہ کر اندر آ رہا تھا، اپنے بھائی پر محبت برستی دیکھ کر منہ بسورتے ہوئے بولا۔ مائد اور درخزائی ایک ساتھ عید نماز ادا کر لوٹے تھے مگر اسے اندر تک آنے میں تھوڑی دیر لگ گئی تھی۔
“میری جان، اندر تو آؤ، جتنی محبت مائد کے لیے ہے، اس سے زیادہ تمہارے لیے ہے مگر اس کے لیے قریب تو آؤ، میرا بچہ!”
مورے نے مسکرا کر ہاتھ پھیلاتے ہوئے درخزائی کو بلایا، تو وہ تقریباً بھاگتے ہوئے آ کر ان کے گلے لگ گیا۔ کون کہہ سکتا تھا کہ مائد مورے اور آغا جان کا سگا بیٹا ہے اور درخزائی مائد کے چچا کا بیٹا، یہ سچ تھا کہ مائد کے ماں باپ نے کبھی درخزائی کو محسوس تک نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ ان کی اپنی اولاد نہیں ہے۔
“عید مبارک، مورے!”
اس نے بھی اپنے بھائی کی طرح مورے کا ماتھا اور ہاتھ چومے۔
کیونکہ مائد خان دورانی اس کا رول ماڈل، اس کا کرش تھا۔ درخزائی کو ہمیشہ اپنے بھائی جیسا بننا تھا، اور وہ اسی کے انداز میں مورے سے عید ملا۔
“خیر مبارک، خیر مبارک، میرا بچہ، اللہ تمہیں سلامت رکھے، تمہیں پڑھائی میں کامیاب کرے، جیتے رہو!”
مورے نے اس کا ماتھا چوم کر پیار سے دعا دی۔ درخزائی تیزی سے آگے بڑھا اور آغا جان سے گلے ملا۔
“عید مبارک، آغا جان!”
“خیر مبارک، خوش رہو، سلامت رہو، ہنستے مسکراتے رہو!”
آغا جان نے محبت سے سینے سے لگا کر اس کی پیٹھ تھپکی۔
“اچھا، ایک کام کرو، تم سب یہاں بیٹھو، میں ابھی اپنے ہاتھوں سے بنی ہوئی کھیر لے کر آتی ہوں!”
مورے خوشی سے بولتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھ کر کچن کی جانب بڑھی۔
“مورے! تھوڑا جلدی کیجیے گا، مجھے زیغم سے عید ملنے جانا ہے۔ آپ جانتی ہیں، اُس کے بغیر میری عید ادھوری ہوتی ہے۔ ویسے بھی سالوں بعد وہ پاکستان میں ہے، ورنہ ہمیشہ فون پر عید مبارک کہی جاتی تھی۔ آج میں جا کر خود ملنا چاہتا ہوں۔ کب سے فون کر رہا ہے مگر میں نے نہیں اٹھایا۔ مجھے اُس کے روبرو عید مبارک کہنا ہے۔”
مائد نے مورے کو بلند آواز میں پکارا اور صوفے پر آغا جان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“مورے، مجھے بھی دوستوں سے عید ملنے جانا ہے!”
درخزائی فوراً اپنے بھائی کی نقل میں بولا، کیونکہ اسے ہر وہ کام کرنا ہوتا تھا جو مائد کرتا۔ اس کی عادت سے گھر کے تمام افراد اچھی طرح سے واقف تھے۔ آغا جان اور مائد اس کی ادا پر مسکرا کر نفی میں سر ہلانے لگے۔
“آرہی ہوں!”
مورے نے بلند آواز میں جواب دیا۔
“میرے خیال سے میں نے کوئی انوکھی بات تو نہیں کی، جو آپ مجھے ایسے گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں۔”
اپنی طرف آغا جان اور مائد کو مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے، درخزائی نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔ انداز شوخ تھا مگر بات مکمل سنجیدگی سے کی گئی تھی۔
“تم اپنے بھائی کو تھوڑا کم کاپی کیا کرو۔ کل کو تم کہو گے کہ اس کی شادی کے ساتھ تمہاری بھی شادی کر دو، تو ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ابھی تم چھوٹے ہو۔”
آغا جان نے ایک دم سے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ ان کا انداز لمحوں میں بدل گیا تھا۔ مائد خان نے یہ تبدیلی فوراً نوٹ کی، اور وجہ بھی جانتا تھا۔
آغا جان کا مزاج زیغم کا نام لینے کے بعد بدلا تھا، مگر اصل مسئلہ زیغم نہیں تھا، وہ تو صرف ایک وجہ تھا۔ پرابلم اس ہستی سے تھی جو بے قصور ہونے کے باوجود سب کی نظروں میں آ چکی تھی۔ مائد کے ذہن میں دانیا کا عکس بار بار ابھر رہا تھا مگر آغا جان کو کچھ کہنے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔ آغا جان کی صحت مکمل طور پر ٹھیک نہیں تھی۔ ڈاکٹرز نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ انہیں کسی قسم کی ٹینشن نہ دی جائے۔ آغا جان، مورے، اور درخزائی… یہی تو تھا اس کا چھوٹا سا خاندان تھا۔ اور مائد خان کسی کی بھی تکلیف برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اسی لیے خود پر جبر کیے وہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔ کئی دنوں بعد عید کے دن وہ ذرا سا مسکرایا تھا، مگر یہ خوشی لمحوں میں ختم ہونے والی تھی۔ آغا جان کے انداز سے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اب کیا موضوع چھیڑنے والے ہیں۔ اور مائد کا شک بالکل درست نکلا۔ آغا جان نے باتوں باتوں میں شادی کا مدعا چھیڑ دیا۔ بظاہر درخزائی پر رکھ کر چھیڑا گیا، مگر نشانہ مائد تھا۔ اسے صرف انفارم کیا جا رہا تھا۔ وہ بات جو فیصلے کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ آغا جان کے سنجیدہ ہوتے ہی درخزائی خاموش ہو کر نظریں جھکا گیا۔ اسی لمحے مورے ملازمہ کے ساتھ کھیر لے آئی تھیں۔ سب کے سامنے کھیر کے پیالے رکھے جا چکے تھے۔ مورے کے ہاتھ کی کھیر مائد کو ہمیشہ پسند رہی تھی، مگر اس وقت اس کا دل بالکل نہیں چاہ رہا تھا۔ دل بوجھل سا ہو چکا تھا مگر اپنی مورے کی خوشی کی خاطر وہ ہمیشہ کی طرح جھوٹ موٹ کھیر کی تعریف کرتا ہوا چمچ اٹھا بیٹھا۔ وہ مورے کا دل نہیں توڑ سکتا تھا۔
“کبھی اپنے سسرال بھی جا کر چکر لگایا کرو۔ چند دنوں میں تم اس گھر کے داماد بننے والے ہو، تمہارا فرض بنتا ہے کہ سسرال والوں کی خیریت دریافت کرو!”
آغا جان کی رعب دار اور سنجیدہ آواز کمرے میں گونج اٹھی۔
مورے نے ایک نظر آغا جان کو دیکھا، پھر خاموشی سے نظریں جھکا کر ان کے پہلو میں بیٹھ گئیں۔ وہ ایک صابر اور فرمانبردار عورت تھیں۔ درخزائی کو یہ ٹاپک ہمیشہ زہر لگتا تھا۔ وہ خاموشی سے کھیر کا پیالہ اٹھا کر وہاں سے اٹھ گیا کیونکہ اس کے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ بدلنے والا نہیں تھا۔ اگر سب کچھ اس کے بس میں ہوتا، تو وہ کبھی مائد کی شادی مونا سے نہ ہونے دیتا مگر اس گھر میں فیصلے آغا جان کے چلتے تھے، اور ان کا فیصلہ تھا کہ مائد کی شادی اس کی بچپن کی منگیتر مونا سے ہی ہوگی۔ مائد خاموش تھا۔ آغا جان نے اس کے چہرے کی طرف گہری نظر سے دیکھا۔ مائد نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔
“مائد، میں تم سے بات کر رہا ہوں!”
آغا جان کا لہجہ بھاری اور سخت ہو چکا تھا۔
“آغا جان، میں سن رہا ہوں…”
“اگر سن رہے ہو، تو جواب دینا بھی لازم ہے۔”
“آغا جان، آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سبحان خان سے میری نہیں بنتی۔ میں اس کے گھر نہیں جانا چاہتا!”
مائد نے تمیز میں رہتے ہوئے مگر سخت لہجے میں جواب دیا۔
“جانا تو پڑے گا، وہ تمہارا سسرال ہے!”
“کب تک تم سبحان کو سامنے رکھ کر سسرال کو نظر انداز کرو گے؟”
“وہ لڑکی جو سالوں سے تمہارے نام پر بیٹھی ہے، اگر تم اس کے گھر نہیں جاؤ گے تو یہ اس کی توہین ہوگی۔”
“بابا جان، جو اس کا بھائی کر کے گیا، کیا وہ توہین نہیں تھی؟”
“کیا عزت صرف ان کی ہے، میری کوئی عزت نہیں؟”
“مائد… بات کو اچھالو مت۔ وہ بات ختم ہو چکی ہے۔ وہ مجھ سے معافی مانگ چکا ہے۔”
آغا جان نے سرد لہجے میں کہا۔
“بات ختم کیسے ہو گئی؟”
“الزام جن پر لگائے گئے، ان سے تو معافی نہیں مانگی گئی۔ تو میں کیسے معاف کر دوں؟”
مائد نے نظریں جھکائے، کھیر کا پیالہ ٹیبل پر رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“مطلب کہ اب تمہیں قائل کرنا پڑے گا؟”
“اگر اس نے مجھ سے معافی مانگ لی، تو تم سے مانگ لی۔ ایک ہی بات ہے، تم بدل رہے ہو مائد خان دورانی… میرے فیصلوں پر سوال اٹھانے لگے ہو، کیا میں سمجھوں کہ میرا بیٹا اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اب وہ مجھ سے اور میرے فیصلوں سے آزادی چاہتا ہے؟”
“آغا جان، میں نے ایسا نہیں کہا۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر، آپ کے فیصلے سر آنکھوں پر… مگر آغا جان، ہر جگہ مت جھکایا کریں۔ سبحان خان نے بہت کچھ ایسا کہا جو نہیں کہنا چاہیے تھا۔ تو میرے خیال سے اسے مجھ سے معافی مانگنی چاہیے تھی اور آپ کو نہیں لگتا کہ زیغم کی بہن کی بھی توہین ہوئی؟”
“اس سے بھی معافی مانگنی چاہیے!”
“مطلب کہ تمہارا اصل مسئلہ وہ لڑکی ہے؟”
“اس دن بھی تم نے سارا تماشا اسی کے لیے کھڑا کیا، اور آج پھر اسی بات کو اچھال رہے ہو، اب سمجھ آیا، مسئلہ وہ لڑکی ہے!”
“آغا جان، پلیز… بات کو غلط رنگ مت دیں۔ حق کی بات کر رہا ہوں۔ اللہ کے نزدیک تہمت بہت بڑی چیز ہے، اور اس سے بچنے کا حکم ہے۔ آپ کو میرے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، نا کہ میرے سوال پر سوال اٹھانا چاہیے۔”
“مائد خان، تم مجھ سے بحث کر رہے ہو؟”
آغا جان نے سنجیدگی سے کہا۔
“نہیں آغا جان، بحث نہیں کر رہا… حق کی بات کر رہا ہوں، اور حق کی بات کرنا سب کا حق ہے!”
“ٹھیک ہے۔ سبحان سے کہہ دوں گا کہ وہ تم سے اور تمہارے دوست سے معافی مانگ لے مگر تم شادی کی تیاری کرو۔ میں مزید تاخیر نہیں چاہتا۔ اسی ہفتے تمہاری اور مونا کی شادی طے ہے، اور یہ میرا فیصلہ ہے۔ اس پر رد و بدل کرنے کی جرات بھی مت کرنا۔”
آغا جان نے حتمی لہجے میں فیصلہ سنا دیا۔
مائد خان کا دل جیسے کرچی کرچی ہو چکا تھا۔ درد کی ٹیسیں اس کے اندر اتر رہی تھیں۔ اس کے لب خاموش تھے، مگر دل چیخ رہا تھا۔ وہ مونا کو اپنی شریکِ حیات کے روپ میں کبھی تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کبھی اپنانا نہیں چاہتا تھا۔
سالوں سے وہ اس رشتے سے بچنے کی کوشش کرتا آ رہا تھا، مگر یہ رشتہ اس کی جان نہیں چھوڑ رہا تھا اور اب، اس رشتے کو اس پر مکمل طور پر مسلط کرنے کا فرمان جاری ہو چکا تھا۔
“انکار کرنے کا حق اگر آپ نے دیا ہوتا تو ضرور انکار کرتا، مگر یہ حق تو آپ نے کبھی اپنے بیٹے کو دیا ہی نہیں۔ یہ رشتہ کل بھی مجھ پر مسلط کیا گیا تھا اور آج بھی میری رضا مندی کے بغیر اپنا فیصلہ آپ مجھ پر مسلط کر رہے ہیں۔”
مائد نے ایک نظر اٹھا کر آغا جان کی جانب درد بھری نگاہوں سے دیکھا۔ مائد کی آنکھوں میں اس قدر درد تھا کہ اگر آغا جان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ضرور اپنا فیصلہ بدل دیتا، مگر اس کے سامنے آغا جان تھے جو ہمیشہ سے اپنی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے آئے تھے۔ ہمیشہ انہوں نے مضبوط فیصلے کیے تھے، جذباتوں میں بہہ جانے والے انسان نہیں تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ اپنے بیٹے کی آنکھوں کا درد ان کو نظر نہیں آرہا تھا۔ درد کو دیکھتے ہوئے بھی وہ روایات کے خلاف نہیں جا سکتے تھے، اور ان کے نزدیک یہ فیصلہ ایک حق تھا جو کہ مونا نے سالوں سے اس کا انتظار کیا ۔ بچپن سے ہی اس سے منسلک کر دی گئی تھی۔ وہ اپنے بیٹے کے درد کو دیکھ کر بھی اندیکھا کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔ مائد نے درد بھری نظروں سے اپنی ماں کی جانب دیکھا، شاید اس امید پر کہ وہ کچھ بولیں، مگر اس کی مورے نے ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا تھا، کیونکہ نہ تو اپنے بیٹے کے درد کو نظر انداز کر سکتی تھی اور نہ ہی اپنے شوہر کے خلاف جا سکتی تھی۔ تو وہ کیا بولتی؟ خاموشی سے نظریں جھکائے بس رب سے دعا گو تھی کہ اللہ پاک سب بہتر کرے۔
“مورے، زبردستی رشتہ جوڑ رہے ہیں آپ لوگ۔ کل کو اگر میں انصاف نہ کر سکا، تو مجھ سے شکوہ مت کیجئے گا۔”
یہ بات وہ کھڑا ہوتے ہوئے سنجیدگی سے کہتے باہر کی جانب بڑھ گیا جبکہ مورے گہری سانس لیتے ہوئے اپنے بیٹے کو دور تک جاتا ہوا دیکھتی رہی۔
“اے اللہ، اس کے دل کو صبر دے، تُو تو دلوں کے بھید جانتا ہے۔ میں اس پاگل کو کیسے بتاؤں کہ میں اس کی ماں ہوں اور اس کے دل کے حال سے واقف ہو چکی ہوں۔ جانتی ہوں کہ اس کے دل میں کسی اور کی محبت ہے، مگر میں چاہ کر بھی اس لڑکی کو اس کی زندگی میں نہیں لاسکتی، کیونکہ اس کے آغا جان کبھی نہیں مانیں گے۔”
وہ تڑپتے ہوئے سوچ رہی تھیں۔
“اس کے آغا جان اپنی روایات کے مطابق ایسی لڑکی کا انتخاب کبھی نہیں کریں گے جو پہلے سے شادی شدہ ہے۔ میرے اللہ میں جانتی ہوں وہ بچی پھول کی مانند ہے، معصوم ہے، پیاری ہے، ایماندار ہے، اس میں کوئی کھوٹ نہیں۔ مجھے اس بچی سے کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے لیے وہ میری بیٹی کی طرح ہے۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اپنے بیٹے کی پسند کو بڑے فخر سے اس کی زندگی میں لے آتی… مگر میں مجبور ہوں… مائد کے آغا جان اس لڑکی کو بہو کے طور پر کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور اگر وہ اپنے بیٹے کے سامنے مجبور ہو کر اس رشتے کی حامی بھر بھی لیتے ہیں، تب بھی یہ آسان نہیں ہوگا، قیامت ٹوٹ جائے گی، خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ میرے اللہ تُو جانتا ہے کہ اگر یہ رشتہ ٹوٹ گیا تو… طوفان آئے گا، ایک ایسا طوفان جس میں خوشیاں بہہ جائیں گی… بربادی ہی بربادی چاروں طرف پھیل جائے گی۔”
وہ ہاتھوں کو رگڑتے ہوئے سوچ رہی تھی۔
“اے اللہ، میرے بیٹے کی حفاظت فرما۔ سب کچھ دیکھتے سمجھتے ہوئے میں کیسے اس کا ساتھ دے دوں؟”
“میں جانتی ہوں کہ اس وقت اس کا دل تکلیف میں ہے، وہ سمجھ رہا ہے کہ کوئی اس کے ساتھ نہیں کھڑا مگر میں کیسے بتاؤں کہ میں اپنے شہزادے کے دل کا حال جانتی ہوں، اس کے درد کو اپنے دل پر محسوس کر رہی ہوں، مگر میں کچھ نہیں کر سکتی سوائے اس کے لیے دعا کرنے کے… میں اپنے بیٹے کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔”
“اے اللہ، میرے بیٹے کے دل کو سکون عطا فرما۔ اور اس کے دل میں مونا کی محبت ڈال دے۔”
وہ اپنے رب سے دعا کرتے ہوئے رونے لگی تھی۔ آخر ماں کا دل تھا اپنے بیٹے کو تڑپتا ہوا دیکھ کر سکون سے کیسے رہ سکتی تھی۔
ماں وہ ہستی ہے جو اپنے بچے کی ہر تکلیف کو دل کی گہرائیوں میں محسوس کرتی ہے، مگر پھر بھی اس کی حالت پر خاموش رہ کر، اپنی تکلیف اپنے دل میں چھپاتی ہے۔ مائد کی مورے کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی، اپنے بیٹے کا درد دیکھ کر وہ تڑپ رہی تھی، مگر اس کی تقدیر کے سامنے وہ بے بس تھی۔ ماں کا دل ہمیشہ اپنے بچے کے لیے دھڑکتا ہے، مگر جب وہ کچھ نہ کر سکے تو وہ دکھ اور غم میں ڈوب جاتی ہے، کیونکہ ماں کی محبت میں سب سے بڑی قربانی اپنے بچے کی خوشی کے لیے اپنی تکلیفوں کو چپ چاپ جھیلنا ہے اور مورے کی خاموشی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس رشتے کے ٹوٹنے پر اس کے بیٹے کے اردگرد دشمن ہی دشمن پھیل جانے تھے اور وہ اپنے بیٹے کی جان نہیں گوانا چاہتی تھی۔ اپنے بیٹے کی تڑپ دیکھ کر وہ تڑپ سکتی تھی رو سکتی تھی دعا کر سکتی تھی، اس کے سوا کوئی حل نہیں تھا۔
°°°°°
“بابا، مجھے ڈھیر ساری عیدی چاہیے!”
ارمیزہ اپنے بابا سے عید ملنے کے بعد گلے میں بازو ڈالے ہوئے، اپنی معصوم فرمائش کر رہی تھی۔
“عیدی تو مل جائے گی، مگر پہلے تم یہ بتاؤ کہ تمہیں تیار کس نے کیا ہے؟”
“وہ بھی اتنا پیارا!”
“تم اتنی پیاری لگ رہی ہو کہ آج تو بابا نے تمہیں کھا جانا ہے!”
زیغم نے منہ کھول کر کھا جانے والے انداز میں دانت دکھائے۔
ارمیزہ شرماتے ہوئے، چہرے پر ہاتھ رکھ کر چھپ گئی۔ زیغم جب مہرو کے روم میں جا رہا تھا، تو راستے میں ہی ارمیزہ باہر بھاگتی ہوئی آئی اور اس سے ٹکرا گئی۔ زیغم نے فوراً اُسے اپنی بانہوں میں اُٹھا لیا۔
“نہیں! آپ ایسا نہیں کر سکتے، یہ گندی بات ہوتی ہے!”
“آپ مجھے عیدی دیں بس، مجھے عیدی چاہیے!”
ارمیزہ ضدی ہو کر بول رہی تھی۔
“ارے بھئی، عیدی دے دوں گا، مگر پہلے تم اتنی پیاری لگ رہی ہو کہ میں تمہیں کھا جاؤں گا!”
زیغم نے ایک بار پھر شیر والے انداز میں منہ کھول کر آواز نکالی، اور ارمیزہ کو مزید گلے لگا لیا۔
“جی نہیں! آپ ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں، میں جانتی ہوں!”
ارمیزہ سر ہلاتے ہوئے، معصومیت سے اپنے بابا کی محبت پر یقین رکھتے ہوئے بول رہی تھی۔
“ہاں، پیار تو کرتا ہوں، مگر کس نے کہا کہ ہم جس سے پیار کرتے ہیں، اسے پیار سے کھا نہیں سکتے؟”
“میں تو تمہیں کھا جاؤں گا!”
زیغم نے پھر سے شیر والے انداز میں منہ کھول کر دھمکی دی۔
“بابا، مت کریں! مجھے ڈر لگ رہا ہے!”
ارمیزہ اپنے بابا کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے سچ میں ڈر رہی تھی، جیسے وہ اسے واقعی کھا جائے گا۔
“چلو ٹھیک ہے، میں عیدی دے دیتا ہوں، جتنی میری بیٹی چاہے گی۔”
“مگر بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟”
زیغم نے محبت بھرے لہجے میں پیار سے اُس کی چھوٹی سی ناک سے اپنی سخت کھڑی ہوئی ناک رگڑتے ہوئے شرارت سے پوچھا۔
“میں آپ کو کچھ بھی نہیں دوں گی!”
ارمیزہ نے معصوم سا چہرہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
“کیوں بھئی؟ کیوں کچھ نہیں دو گی؟”
$یہ کیا بات ہوئی، بھئی مجھے بھی تو عیدی چاہیے نا!”
زیغم نے ہنستے ہوئے کہا۔
“بابا عیدی نہیں لیتے، صرف بچے ہی عیدی لیتے ہیں، آپ کو اتنا بھی نہیں پتہ؟”
وہ معصومیت سے اپنے بابا کو سمجھا رہی تھی۔
“یہ کیا بات ہوئی بھئی، یہ کونسا رول ہوا؟”
“بابا کا دل بھی چاہتا ہے، بابا کو بھی عیدی ملنی چاہیے۔ آپ مجھے عیدی دو، پھر میں آپ کو عیدی دوں گا۔”
اپنی پر زور دیتے ہوئے کہا۔ اپنے بابا کی بات پر ارمیزہ بیچاری سوچ میں پڑ گئی۔
“ٹھیک ہے، میں آپ کو عیدی دے دوں گی۔ بتائیں، آپ کو کتنی چاہیے؟”
“بس تھوڑی سی مانگنی ہے، زیادہ نہیں۔ آپ بابا ہیں نا، اس لیے آپ کو کم عیدی ملے گی!”
وہ ہار مانتے ہوئے کہتی، پیاری لگ رہی تھی۔
“نہیں بھئی! مجھے زیادہ عیدی چاہیے اور مجھے عیدی کے طور پر یہاں، یہاں، اور یہاں پر تین کسیاں چاہییں!”
زیغم نے اپنے دونوں گال اور ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا۔
“آپ کو پیسوں کی جگہ کسیاں چاہیے؟”
“میں تو ڈر ہی گئی تھی، مجھے لگا آپ کو پیسے چاہیے!”
ارمیزہ نے خوش ہو کر اپنے بابا کے ماتھے اور گالوں پر چومتے ہوئے فٹ سے عیدی دینی شروع کردی۔ زیغم نے آنکھیں بند کر کے اپنی پیاری گڑیا سے محبت بھری عیدی وصول کی۔ باپ بیٹی کے درمیان بےحد خالص اور نرم محبت سے بھرا لمحہ تھا۔
“تھینک یو سو مچ، اتنی پیاری عیدی دینے کے لیے!”
زیغم نے پیار سے اسے نیچے اتارتے ہوئے جیب سے اپنا والٹ نکالا، عیدی نکالی اور اس کے ننھے ہاتھ میں تھماتے ہوئے اس کا ماتھا چوم لیا۔
“تھینک یو بابا!”
“ویلکم میرا بچہ۔”
“لو یو! آپ ورلڈ کے بیسٹ بیسٹ بیسٹ بابا ہیں!”
وہ چہک اٹھی۔
“اور آپ ورلڈ کی بیسٹ بیسٹ بیسٹ بیسٹ بیٹی ہو!”
“میری پرنسز سے پیارا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اب جلدی سے بتاؤ، میری شہزادی کو اتنا پیارا کس نے بنایا؟”
“ماما نے یا پھوپھو نے؟”
وہ زمین پر گھٹنے کے بل بیٹھتے ہوئے پیار سے پوچھ رہا تھا۔
“مجھے دانیا پھوپھو نے تیار کیا ہے، اسی لیے میں اتنی پیاری لگ رہی ہوں۔ ماما کو اتنا پیارا تیار کرنا نہیں آتا!”
ارمیزہ نے سادگی سے جواب دیا۔
“ایسا نہیں کہتے، ارمیزہ۔ ماما آپ کو تیار کرنا سیکھ لیں گی۔ آپ کی ماما بہت معصوم ہیں، انہیں یہ فیشن کرنا، میک اپ کرنا، ڈریسنگ کرنا بالکل نہیں آتا۔ آپ اور دانیا پھوپھو مل کر ماما کو سب کچھ اچھے سے سکھا دینا!”
“سکھائیں گے نا؟”
زیغم نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے پوچھا۔
“جی، سکھا دیں گے۔”
وہ شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے بولی۔
“گڈ گرل!”
“اور دوبارہ کبھی اس طرح نہیں کہنا کہ ماما اچھا تیار نہیں کرتی ہیں، ماما کو برا لگے گا۔”
زیغم نے محبت سے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔
“جی ٹھیک ہے۔”
ارمیزا نے ہاں میں سر کو ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
“ویری گڈ۔”
زیغم نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے شاباش دی۔
“چلو اب جا کر دیکھو، دانیا پھوپو تیار ہو رہی ہیں یا نہیں۔”
زیغم اس کے مقابل گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا اب اٹھ کر کھڑا ہو چکا تھا۔ ارمیزہ جا چکی تھی۔ مہرو کے لیے اس کی محبت گہری ہو چکی تھی۔ یہ سن کر کہ مہرو کو تیار کرنا نہیں آتا، دل کو تھوڑا سا برا لگا تھا۔ وہ جانتا تھا مہرو ماڈرن نہیں، میک اپ اور ڈریسنگ جیسے کام اسے نہیں آتے، کیونکہ وہ ایک الگ ہی دنیا کی، سادہ، معصوم سی شہزادی تھی لیکن زیغم سلطان کے لیے اس کی مہرو بالکل پرفیکٹ تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے، دل میں مہرو کو سوچتے ہوئے روم کی طرف بڑھ رہا تھا۔
°°°°°°°°°
مہرو نے سکن کلر کی لانگ چنٹوں والی فراک پہن رکھی تھی۔ ہوا میں عید کی خوشیوں کی ہلکی سی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ کمرے میں خاموشی تھی۔ مہرو بلیک اور اورنج کلر کا دوپٹہ، جو دانیا نے خاص اس کے لیے چنا تھا، سر پر ویسے ہی اوڑھا تھا جیسے وہ ہمیشہ سلیقے سے اوڑھتی تھی۔ اکیلے میں بھی اسے اپنے سر سے دوپٹہ اتارنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ خود سے بھی خود کا پردہ رکھنے والی لڑکی تھی۔
بالکل سادہ سی مہرو، تیار ہو کر بہت حسین لگ رہی تھی۔ ہونٹوں کے نیچے ہلکی سی مسکراہٹ، پلکوں پر ان دیکھے خوابوں کی چمک، اور کانوں میں سادہ گولڈ کی بالیاں۔ وہ پرکشش سی اپنے عکس کو آئینے میں دیکھ رہی تھی۔ دانیا نے ملیحہ کی شاپنگ کے دوران چپکے سے یہ سب اس کے لیے خریدا تھا۔ زیغم کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ اپنی بھابی کے لیے اتنی محبت سمیٹ کر لائی ہے۔ آئینے کے سامنے کھڑی مہرو خود کو غور سے دیکھ رہی تھی۔
“یہ میں ہوں؟”
وہ خود سے سوال کر رہی تھی۔
مہرو نے اتنی خوشیاں تو ساری زندگی میں نہیں دیکھی تھیں جتنی اسے زیغم کی زندگی میں آ کر ملی تھیں۔ صرف اپنی اماں کے جانے کا دکھ تھا۔ اس کے سوا ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی زندگی یوں بدل جائے گی۔ زیغم کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ اپنے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں سے تنگ آ چکی تھی۔ اکیلے میں زیغم کو سوچنا بھی دل پر قابو چھین لیتا تھا اور دل کی دھڑکنوں کی بے ترتیبی کی وجہ وہ خود بھی نہیں سمجھ پاتی تھی۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھی۔
اچانک دروازہ کھلا مگر زیغم سلطان کی قدموں کی چاپ سنائی نہیں دی، وہ تو خیالوں میں گم تھی۔ زیغم سلطان کی نظریں مہرو پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ اس معصوم سی لڑکی کو دیکھتے ہوئے ایک جگہ ساکت کھڑا تھا۔ کیا تھا اس میں؟
وہ کون سی خصوصیات تھیں جنہیں دیکھ کر وہ اپنے دل پر قابو نہیں رکھ پاتا تھا؟
کیا وہ معصومیت تھی؟
خوبصورتی تھی؟
یا پھر اس کی سادگی؟
جو بھی تھا، وہ واقعی لاجواب تھا۔ ایسا سادہ حسن، ایسی بے مثال سادگی کی مورت اس نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔ ہر بار جب وہ مہرو کو دیکھتا، تو اس کے دل میں ایک شکرگزاری کا احساس اُبھرتا۔ وہ جتنی بار اپنے رب کا شکر ادا کرتا، وہ کم لگتا تھا۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی بے رنگ زندگی میں کوئی ایسا داخل ہوگا، جو اتنی سادگی اور خوبصورتی سے بھرا ہوا ہوگا۔ مہرو کی زندگی میں دنیا داری کے رنگ نہیں تھے۔ یہی بات اس کے دل کو چھو جاتی تھی۔ آہستہ سے قدم اُٹھاتے ہوئے، وہ مہرو کے بے حد قریب آ گیا۔ وہ آئینے میں گہری نظریں جمائے کہیں دور کہیں خیالوں کی دنیا میں گم تھی، جیسے کچھ سوچ رہی ہو۔ اسی لیے اسے زیغم کی موجودگی کا احساس نہیں ہوا تھا۔
“عید مبارک میری معصوم محبت…”
زیغم نے سرگوشی میں کہا۔
اس کی آواز سن کر وہ ہوش میں آتے ہوئے جلدی سے پیچھے ہونے لگی تھی، مگر اب ایسا ممکن نہیں تھا۔ زیغم نے اسے اپنی بانہوں میں سمیٹے رکھا تھا۔
“میں نے کہا عید مبارک۔”
محبت سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پھر سے دہرایا۔
“آپ کو بھی عید مبارک۔”
وہ دھڑکتے دل سے بمشکل کہہ پائی۔
“عید مبارک کہتے ہوئے اتنا گھبرانے کی ضرورت کیا ہے؟”
وہ پیار سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
“آپ مجھے چھوڑیں، پھر جواب دوں گی!”
وہ نظریں جھکائے سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔
“جی نہیں، پہلے جواب تو پھر جانے دوں گا!”
وہ ضدی سا ہوتا ہوا بولا۔
“آپ ایسا نہیں کر سکتے سائیں۔”
“آپ ایسا نہیں کر سکتے تھے زیغم…… میرا نام لے کر بلایا کرو!”
“میں آپ کا نام نہیں لے سکتی، آپ کیوں نہیں سمجھتے؟”
“تم میرا نام لے سکتی ہو، تم کیوں نہیں سمجھتی؟”
اس کی کمر پر ایک ہاتھ رکھ کر، دوسرے ہاتھ سے اس کی ٹھوڑی کو اوپر کرتے ہوئے، اسے اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کرتے ہوئے نرمی سے بولا:
“میری طرف دیکھو۔”
“مجھے آپ سے شرم آتی ہے۔”
“ہائے، اور میں تمہاری شرم پر فدا ہوتا ہوا مر جاؤں گا، اور کتنی پاگل کرو گی اپنی معصوم محبت میں زیغم سلطان کو؟”
ہائے کرتے ہوئے وہ ٹھنڈی آہیں بھر گیا تھا۔
“اللہ نہ کرے سائیں، اللہ تعالی آپ کو عمر دراز عطا فرمائے!”
“کیسی باتیں کرتے ہیں؟”
وہ بے اختیار زیغم کے ہونٹوں پر اپنا نازک سا ہاتھ رکھے ہوئے تڑپ کر بولی تھی۔
“اتنی فکر ہے میری؟”
وہ نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے ہوئے نیچے کرتا ہوا گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔ آنکھوں میں محبت کا ایک جہاں آباد تھا، جسے دیکھنے کی مہرو میں ہمت نہیں تھی، وہ شرماتے ہوئے لال ہو کر نظریں جھکا گئی۔
“مہرو، میری طرف دیکھو… تمہاری آنکھوں میں میں خود کو دیکھتا ہوں، نظریں مت جھکایا کرو، مجھے لگتا ہے میں کہیں چھپ گیا ہوں۔”
ہاتھوں کے پیالے میں پیار سے اس کا چہرہ تھامتے ہوئے اسے اپنی طرف دیکھنے کو بول رہا تھا۔
“بتاؤ نا، تمہیں میری اتنی فکر ہے؟ اگر مجھے کچھ ہوا تو تمہیں فرق پڑے گا؟”
وہ مہرو کے منہ سے اپنی اہمیت سننے کے لیے بے تاب تھا۔
“سائیں، آپ نے مجھے زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا دیا، میری زندگی کچرے سے زیادہ نہیں تھی، آپ نے مجھے عزت بخش دی، مجھے کیسے آپ کی فکر نہیں ہوگی؟”
“مہرو…”
زور سے مہرو کا نام لیا تھا۔
“آج تو خود کو برا بھلا کہہ دیا، دوبارہ کہنے کی جرات مت کرنا!”
“میں برداشت نہیں کروں گا!”
“تم میرے لیے کیا ہو، میرے پاس بتانے کو الفاظ نہیں ہیں!”
“میں تم سے پیار کرتا ہوں… بہت پیار کرتا ہوں، اور تم میرے لیے دنیا کی سب سے حسین اور قیمتی چیز ہو، جس کے لیے میں جان دے بھی سکتا ہوں اور جان لے بھی سکتا ہوں!”
سویٹ سے زیغم سلطان کو دیکھنے کی شاید مہرو کو عادت ہو گئی تھی، آج زیغم سلطان کا ہلکا سا جنونی روپ دیکھا تو وہ گھبرا گئی تھی، اور گھبرا کر پھر سے اسی کے سینے میں چھپ گئی۔ زیغم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا کہ وہ تھوڑا لاؤڈ اور سخت بولا ہے۔ وہ ڈر گئی ہے، اس کی معصوم سی جان ڈر گئی ہے۔ اس کی معصوم سی جان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ زیغم سلطان کی غصے کی تپش کا سامنا کر پاتی ہے۔
“مہرو، ڈرنا نہیں ہے، میری بات کو سمجھو، تمہیں سب کچھ کرنے کی اجازت ہے، خود کو برا بھلا کہنے کی اجازت نہیں ہے!”
“تم نے کیسے خود کو کچرے سے ملا لیا؟”
“تم یہاں… یہاں پر بستی ہو!”
زیغم نے اپنے دل پر زور سے ہاتھ مارا تھا، اتنے زور سے کہ اس کی دھمک مہرو کے کانوں تک سنائی دی تھی۔ جس سے وہ مزید ڈر گئی۔
“آئندہ…… آئندہ کبھی نہیں کہوں گی، کبھی نہیں کہوں گی!”
وہ ڈرتے ہوئے جلدی جلدی بول گئی تھی۔
“اور مجھ سے ڈرنا بھی نہیں ہے مہرو، میں تمہیں کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا!”
“تمہیں مجھ پر یقین ہے نہ؟”
مہرو نے سر کو ہلایا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی ڈر دکھائی دے رہا تھا۔
“کیوں ہو تم اتنی معصوم؟”
“کیوں اتنی ڈرپوک ہو؟”
“میں تمہیں کیسے سنبھالوں گا؟”
“تم کانچ کی گڑیا ہو، اتنی نازک کہ تمہیں ہر کسی سے چھپا کر اور بچا کر رکھنا پڑے گا!”
“مہرو، اس دنیا سے لڑنے کے لیے تمہیں مضبوط اور ہوشیار ہونا پڑے گا۔”
مہرو کی معصومیت سے زیغم کو ڈر لگ رہا تھا۔
“اگر کل کو میں نہ رہا، تو کیسے کرو گی اپنا دفاع؟”
اس کی معصومیت اور گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے بے اختیار بولا تو مہرو رونے لگی تھی۔ خوبصورت آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ کر کے گرنے لگے تھے۔
“آپ ایسے کیوں بول رہے ہیں؟”
“اللہ نہ کرے آپ کو کچھ ہو!”
“اگر آپ کو کچھ ہوا تو میں کیا کروں گی؟”
“پہلے اماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی اور اگر آپ کو کچھ ہوا تو مہرو بھی مر جائے گی، میرا تو کوئی نہیں ہے، میں کہاں جاؤں گی؟”
وہ سسک سسک کر رو رہی تھی۔
“شششش… چپ رونا نہیں… کچھ نہیں ہوگا مجھے!”
اسے تڑپ کر روتے ہوئے دیکھ کر بانہوں کا حصار مضبوط کرتے ہوئے اسے خود میں چھپا لیا۔
“پھر آپ بار بار ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں؟”
وہ روتے روتے سسک کر بولی۔
“میری جان معاف کر دو آئندہ نہیں کہوں گا۔”
اس کی پشت کو سہلاتے ہوئے معافی مانگی۔
“آپ مجھ سے معافی نہ مانگیں۔”
وہ روتے روتے احترام سے بولی۔ زیغم کے لب اس کے احترام پر مسکرا دیے تھے۔
“جو حکم جناب کا… مگر خدارا چپ کر جاؤ، میں تمہارے آنسو نہیں دیکھ سکتا۔”
وہ محبت سے بولتے ہوئے اسے خود میں سمیٹے ہوئے تھا۔
کیا تھا اس لڑکی کے اندر جو زیغم سلطان کو اپنے آپ سے ملوا رہا تھا؟
یہ زیغم سلطان سے تو وہ خود بھی کبھی نہیں ملا تھا۔ وہ سوچنے پر مجبور تھا۔
“اچھا میری طرف دیکھو، چپ ہو جاؤ، جو کہو گی، ویسے ہی کروں گا!”
“سائیں بس دوبارہ آپ کبھی بھی مرنے والی باتیں نہیں کریں گے!”
سرخ آنکھوں سے ایک نظر سائیں کو دیکھتے ہوئے وعدہ لے رہی تھی۔
“بالکل بھی نہیں کروں گا۔”
اس کے آنسو اپنی ہتھیلیوں سے صاف کرتے ہوئے اس کا حکم مان لیا گیا تھا۔
پورے گاؤں پر حکم چلانے والا، اس کانچ کی گڑیا کے حکم کے تابع ہوا کھڑا تھا… اس کو کہتے ہیں محبت کی طاقت… جہاں مقابل حکم نہیں چلاتا بس کہتا ہے اور سامنے والا مان لیتا ہے۔”
“اچھا اپنی مہندی کا رنگ تو دکھاؤ مجھے پتہ چلے کہ میں کتنا پیار کرتا ہوں تم سے۔”
وہ شرما کر مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے کر چکی تھی۔ مہندی کا رنگ بہت گہرا تھا اور ہارٹ کے اندر لکھا ہوا اپنا نام دیکھ کر وہ مسکرایا تھا۔ اس لمحے مہندی سے لکھا ہوا نام اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے نام کی مہر اس کانچ کی گڑیا پر لگی ہو۔ دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامے ہوئے لبوں سے لگاتے پیار سے دیکھا تو وہ شرماتے ہوئے چہرے کا رخ موڑ گئی مگر ہاتھوں کو کھینچا نہیں تھا۔ اس کے نازک ہاتھ اب بھی اسکے ہاتھوں میں قید تھے۔
“بہت شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے، بہت شکریہ میری زندگی کو حسین بنانے کے لیے۔ تمہیں اتنا چاہوں گا، اتنی محبت دوں گا کہ لوگ ایک دن زيغم سلطان اور مہرو کی محبت کی مثال دیں گے۔”
وہ کہتے ہوئے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
“کبھی مجھے چھوڑ کر مت جانا، تم سے مل کر میں نے اپنا آپ پایا ہے، تم دور ہوئی تو میں خود سے دور ہو جاؤں گا۔”
نرمی سے کہتے ہوئے اس کے سراپے میں پوری طرح سے ڈوبا ہوا تھا۔ وہ خاموشی سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔
“مجھ سے عیدی نہیں مانگو گی؟”
زیغم نے خود سے پوچھا تھا کیونکہ مہرو نے تو کوئی ڈیمانڈ رکھی نہیں تھی مگر وہ چاہتا تھا کہ اس سے اتنی مانگی جائے۔
“نہیں میں تو بس اماں سے عیدی مانگتی تھی…”
اس نے سچائی سادگی سے بتاتے ہوئے زیغم کا دل توڑ دیا تھا۔
“مطلب کہ تم مجھ سے عیدی نہیں مانگو گی؟”
زیغم نے حیرانی سے پوچھا۔
“کیا مجھے مانگنی چاہیے؟”
مہرو نے سوال کیا۔
“ہائے اللہ سوال پر سوال…”
وہ مسکرا دیا۔
“بالکل مانگنی چاہیے، تمہارا حق ہے، پورے حق سے مجھ سے عیدی وصول کرو!”
“ٹھیک ہے پھر عیدی دے دیں مجھے!”
“ایسے کون عیدی مانگتا ہے؟”
“تو پھر کیسے عیدی مانگتے ہیں؟”
“آپ مجھے بتا دیں، میں ویسے مانگ لوں گی۔”
“زیغم مجھے جلدی سے میری عیدی دے دیں!”
“اس طرح سے کہو۔”
“نہیں… نہیں… میں تو ایسے نہیں بول سکتی، مجھے گناہ ہوگا۔ میں آپ کا نام نہیں لے سکتی۔”
مہرو نے صاف انکار کر دیا۔
“ہاں ہاں ہاں بول سکتی ہو، اور کوئی گناہ نہیں ہوگا!”
اس کی نقل اتارتے ہوئے بولا۔
“یہ میرا حکم ہے، مجھ سے عیدیں مانگو ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گا اور پھر روم سے چلا جاؤں گا، تمہیں یہاں اکیلا چھوڑ کر۔”
زیغم نے پیاری سی دھمکی دی تو مہرو کے طوطے اڑ گئے تھے۔ ڈرپوک مہرو کی جان نکل گئی تھی یہ سن کر کہ وہ کیلی رہے گی اور زیغم یہاں سے چلا جائے گا۔
“نہیں مجھے چھوڑ کر مت جائیے گا، میں آپ کا نام لے کر عید مانگ لوں گی۔”
وہ رودینے والی شکل بنائے ہوئے بولی تھی۔
“چلو جلدی کرو شاباش…”
وہ شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔
“زز…… کیسے بولوں آپ کا نام؟”
وہ نام لیتے ہوئے رک گئی۔ اس کی نظروں میں زیغم سلطان ایک بہت بڑی اور عظیم ہستی تھی اور اپنی عظیم ہستی کا نام لینا اس کے نزدیک غلط اور گناہ تھا، اسی لیے اس سے زیغم کا نام نہیں لیا جا رہا تھا جبکہ زیغم اس کے منہ سے اپنا نام سننے کے لیے بے تاب تھا۔
زیغم: “تم میرا نام لینے کی کوشش کرو، میرا نام لینا کوئی مشکل کام نہیں ہے!”
مہرو: “مگر میرے لیے بہت مشکل ہے۔ آپ کیوں اتنی ضد کر رہے ہیں؟”
زیغم: “میں ضد نہیں کر رہا، یہ میری خواہش ہے۔”
مہرو: “آپ کی خواہش مشکل ہے۔”
زیغم: “ناممکن تو نہیں ہے نا؟”
مہرو: “آپ مجھے اپنی باتوں میں اتنا الجھا دیتے ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی، میں کیا جواب دوں؟”
زیغم: “تم نے مجھے اپنی محبت میں اتنا الجھا دیا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں اپنی محبت کا اظہار کہاں سے شروع کروں۔”
مہرو: “آپ میرے ساتھ ایسی گہری گہری باتیں مت کیا کریں۔”
زیغم: “پھر تم آسانی سے میری بات مان جایا کرو۔”
مہرو: “سائیں، آپ بہت مشکل انسان ہیں۔”
زیغم: “نہیں، میں بہت سادہ انسان ہوں۔ جس دن سمجھ جاؤ گی تو اس بات کا خود سے اعتراف کرو گی۔”
مہرو: “آپ جو بھی کہہ لیں، مجھ سے آپ کا نام نہیں لیا جائے گا۔”
زیغم: “سوچ لو، میری بات کو رد کر رہی ہو!”
مہرو: “سائیں، اتنی میری اوقات نہیں ہے۔”
زیغم: “دل پر حکومت کرنے والے اوقات کی بات نہیں کرتے!”
مہرو: “سائیں، آپ کو پتہ ہے، آپ کے لیے ایک پڑھی لکھی بیوی ہونی چاہیے تھی، جانتے ہیں کیوں؟”
زیغم نے گہری نظروں سے مہرو کو دیکھا۔
زیغم: “نہیں، مجھے نہیں پتہ کہ میرے لیے پڑھی لکھی بیوی کیوں ہونی چاہیے تھی۔”
زیغم کی نظروں سے محبت چھلک رہی تھی۔
مہرو: “کیونکہ آپ کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے، اور آپ کو میں کبھی نہیں سمجھ سکوں گی۔ آپ کو سمجھنے کے لیے ایک عقلمند پڑھی لکھی لڑکی کی ضرورت تھی۔ آپ کو نہیں لگتا کہ آپ نے مجھے بیوی بنا کر غلط فیصلہ لیا ہے؟”
زیغم: “نہیں، مجھے تو بالکل نہیں لگتا کہ میں نے غلط فیصلہ لیا ہے۔ میری زندگی کا سب سے کامیاب اور صحیح فیصلہ تم ہو۔ اور شوہر کو سمجھنے کے لیے کس نے کہا کہ بیوی کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے؟”
“محبت کی اپنی زبان ہوتی ہے، جسے کسی پڑھائی یا کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب تمہیں مجھ سے محبت ہو جائے گی، تو تم خود میرے دل کا حال پڑھ لو گی، اور اپنے دل کا حال بتا بھی دو گی۔”
“اور کوئی بات نہیں، مت لو میرا نام، اگر جب محبت ہو جائے گی، تو تم خود سے میرا نام بھی لو گی، اور اتنی محبت سے لو گی، کہ میرے نام کو ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ شہد میں ڈوب چکا ہے۔”
زیغم نے گہری نظروں سے مہرو کو دیکھا، اور مہرو کے پورے وجود میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔ کچھ خاص تھا اس کی نظروں میں جس کی تاب مہرو نہ لاتے ہوئے نظریں چرانے لگی تھی۔
زیغم اپنے والٹ سے بھاری رقم نکالتے ہوئے بولا:
“یہ تمہاری عید ہے، تم میری زندگی میں انعام بن کر آئی ہو۔ تمہارے سامنے تو میں دو جہان کی دولت بھی ڈال دوں، تو وہ کم ہوگی۔”
“یہ چھوٹا سا نظرانہ سمجھ کر رکھ لو۔”
مہرو پھٹی پھٹی نظروں سے نوٹوں کو دیکھ رہی تھی، اس نے زندگی میں کبھی اتنے سارے پیسے ایک ساتھ نہیں دیکھے تھے۔
“سائیں، اتنے پیسوں کا میں کیا کروں گی؟”
“اپنے پاس رکھ لو، ہم خریداری کرنے جائیں گے تو پھر اپنی مرضی سے جو دل چاہے لے لینا۔ اگر نہیں تو تمہاری خریداری کے لیے میں ہوں، ہر وقت ہمارے ساتھ ہوں گا، تو تمہیں اپنے پیسے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تمہاری پہلی عید ہے میری طرف سے، تو اسے سنبھال کے رکھ لو ہمیشہ کے لیے۔”
“مگر…”
وہ کچھ کہنے لگی تھی کہ زیغم نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کروا دیا۔
“اگر مگر چھوڑو اور مجھے میری عید دو۔”
“آپ کے ہی پیسے ہیں، اس میں سے آپ جتنے چاہے لے لیں۔”
مہرو معصومیت سے اپنی ہتھیلی پر رکھے ہوئے پیسے زیغم کے سامنے کرتی ہوئی بولی۔
“میری پاگل بیوی، مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔”
زیغم گہری سانس لے کر بولتے ہوئے اس کے سر پر تھپکی ماری۔
مہرو: “تو پھر آپ کو کیسے عیدی دوں؟ آپ کو کیا چاہیے؟”
“کچھ نہیں چاہیے۔”
ذرا سا آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر لب رکھ کر پیار سے چومتے ہوئے پیچھے ہو گیا۔
“بس اتنا ہی کافی ہے۔”
زیغم پیچھے ہٹ کر مسکرایا، مگر اتنے سے ہی مہرو کی دل کی دھڑکنیں اس کی باڑ توڑنے کے لیے کافی تھیں۔ وہ جلدی سے شرماتی ہوئی ڈریسنگ روم میں جا کر چھپ گئی، بالکل بچوں جیسی حرکتیں تھی اس کی۔ زیغم سلطان گہری سانس لیتے ہوئے نچلے ہونٹ کو کاٹتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔
°°°°°°°
“شکر ہے تمہارا دل تو کیا کمرے سے باہر قدم رکھنے کو۔ مجھے تو لگا جناب سیوے بیٹھ گئے ہیں اب انڈوں میں سے جب بچے نکلیں گے تب ہی باہر آؤ گے۔”
“اور دوست کو بھول گئے ہیں جناب، بندے میں کوئی شرم ہوتی ہے۔ مجھے زبردستی عید والے دن یہاں روک کر پچھلے دو گھنٹے سے تم اپنے کمرے میں گھسے ہوئے اور نکلنے کا نام نہیں لے رہے۔گھٹیا پن کی بھی کوئی حد ہوتی ہے کمینے بے غیرت انسان۔”
ٹیبل پر الگ الگ طرح کا میٹھا رکھا ہوا تھا جو ملازمین نے خاص بنایا تھا اپنے مالکان کے لیے اور ٹیبل پر سب سے پہلے زیغم مہرو آ کر بیٹھے تھے اور اس کے بعد فیصل کو بلوایا گیا تھا۔ جو بیچارہ کب سے ٹی وی لاؤنج کے صوفے پر بیٹھا ہوا انتظار کر رہا تھا کہ کب زرام صاحب اپنی دلہن کو لے کر کمرے سے باہر آئیں مگر زرام کو محبت کے کچھ لمحے نصیب ہوئے تو وہ روم میں زیادہ دیر تک رک گیا تھا۔ ملیحہ سے باتیں کرتے ہوئے اسے ٹائم کا اندازہ نہیں ہوا تھا مگر اب باہر آتے ہی زرام فیصل کا ہاتھ پکڑ کر ضروری بات کا بہانہ بناتے ہوئے باہر گارڈن ایریا میں لے آیا تھا اور اب خوب گالیوں سے نوازا جا رہا تھا۔
“شرم کر لے کمینے انسان، ایک تو میری ابھی نئی نئی شادی ہوئی ہے اور دوسرا عید کا دن ہے اور تم مجھے گالیاں دے رہے ہو۔”
زرام نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے کہا۔
“چپ بالکل چپ ہو جا۔ اگر ایک لفظ بھی بولا تو خدا کی قسم تمہارے دانت توڑ دوں گا تو اتنا کمینہ ہے… تجھے ذرا شرم نہیں آئی کہ دوست باہر بیٹھا ہوا ہے لفنگے انسان… تیری اپنی بیوی ہے، تیرے پاس ہی رہے گی، محبت کے پیچے بعد میں لڑا لینا، پہلے چند گھڑیاں میرے پاس تو آ کر بیٹھ لیتے۔”
فیصل اچھا خاصا بھڑک اٹھا تھا۔
“کول کول، میرا بچہ کول کول، زیادہ ہی بھڑک گئے ہو، لگتا ہے تمہیں بھی ٹھکانے لگانا پڑے گا، تمہاری بھی شادی کروانی پڑے گی!”
ذرام دانت نکالتے ہوئے اس کے غصے کو کول کرنا چاہتا تھا۔
“تو جا بھاڑ میں اور تیری کول کول بھی جائے بھاڑ میں!”
“اور مجھے نہیں کرنی شادی، شادی کے بعد بندہ اتنا بے غیرت ہو جاتا ہے تو مجھے شادی کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے اور میں جا رہا ہوں۔”
“اچھا یار سوری سوری، آئندہ ایسی گستاخی نہیں ہوگی، ایک بار معاف کر دے!”
وہ فیصل کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگا چکا تھا، کیسے جانے دیتا جگری یار تھا اس کا۔
“مجھے نہ تیری ضرورت ہے، نہ تیری سوری کی، تو جا اور مجھے بھی جانے دے۔”
وہ جھٹپٹ کر جانا چاہتا تھا، مگر زرام نے اسے جھپٹ کر اپنے ساتھ لگائے رکھا۔
“چل یار معاف کر دے نا، آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی، نئی نئی شادی ہوئی ہے اور ویسے بھی تیری بھابھی نے پہلی بار دو چار پیار کی باتیں کی تو میں بہک گیا تھا یار!”
وہ بتاتے ہوئے شرما رہا تھا۔
“ہاں اور جس دن بھابھی نے تھوڑی زیادہ پیار کی باتیں کی تو پھر تو تمہاری یادداشت چلی جائے گی، تم نے کوما میں چلے جانا ہے اور اس سے زیادہ پیار کی باتیں کی تو تم نے تو مر ہی جانا، دیکھ لینا!”
فیصل جلتے بھونتے ہوئے بولا۔
“استغفراللہ، استغفراللہ!”
“یہ سننے سے پہلے میرے کان کیوں نہیں جل گئے؟”
“دوست دوست کو بد دعائیں دے رہا ہے! شرم کر کمینے!”
وہ عورتوں کی طرح کان پر ہاتھ رکھ کر استغفر استغفراللہ بولا تو فیصل کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔
“بہت بڑا لعنتی ہے تُو، چل اب مجھے جانے دے، اماں کا چار سے پانچ بار فون آ چکا ہے۔”
“نہیں، پہلے چل اندر، کچھ کھا، اس کے بعد چلے جانا!”
وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر زبردستی اندر لے آیا تھا، جہاں پر زرام کی دلہن صاحبہ بھی تشریف لا چکی تھی۔ مہرو بھی زیغم سلطان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی، اور ارمیزہ اور دانیہ بھی آ چکی تھیں۔ میٹھا کھایا جا رہا تھا جسے دانیہ پروس رہی تھی۔ فیصل کو بھی میٹھا دیا گیا، خوشگوار لمحوں کو خوب انجوائے کیا جا رہا تھا۔ ہلے گلے کا ماحول تھا۔
“واہ بھائی، لاجواب میٹھا تھا، میں نے تو دل بھر کے کھایا ہے!” ف
یصل نے کھل کر تعریف کی۔
“ہاں، نظر آ رہا ہے کہ ڈاکٹر ہو کر بھی خوب میٹھے کے گلچھڑے اڑائے ہیں، تمہیں شرم آنی چاہیے اتنا میٹھا کھا کر، ہم ڈاکٹر مریضوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟”
ذرام نے ہنستے ہوئے کہا۔
“ہاں تو کیا کریں، اب ڈاکٹروں کو عید والے دن میٹھا کھانے کا حق نہیں ہے؟”
فیصل نے اس کی بات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے ٹشو سے ہاتھ صاف کیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
“اچھا، اب میں چلتا ہوں، زیغم بھائی، مجھے اجازت دیجیے۔”
“جی، تھینک یو سو مچ، ہمیں اپنا قیمتی وقت دینے کے لیے۔ اور بہت جلد آپ لوگوں کے ہسپتال کا افتتاح ہونے والا ہے، تو اپنا بوریا بستر باندھ کر پہنچ جائیے گا۔”
زیغم نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
“جی، انشاءاللہ، میں ٹائم سے پہنچ جاؤں گا، اللہ حافظ، آپ سب کو۔”
“اور ملیحہ بھابھی، اس بے وقوف کا خیال رکھیے گا!”
وہ جاتے ہوئے سب کو اللہ حافظ بول کر، ملیحہ کو خاص تاکید کرتے ہوئے بولا تھا۔
“یہ اپنا خیال خود بہت اچھا رکھ سکتے ہیں، مجھے کیا ضرورت ہے ان کا خیال رکھنے کی؟”
اس کا جواب سن کر فیصل مسکرایا، لیکن زیغم کو اس لڑکی کا اعتماد سے بھرا ایٹیٹیوڈ بہت اچھا لگ رہا تھا۔
“کروا دیا نا عزت کا کچرا؟”
“چل، تجھے تو میں ذرا گاڑی تک چھوڑ کر آؤں۔ اس سے پہلے کہ تُو منہ کھول کر اور میری عزت کا کچرا کروائے!”
زرام ہنستے ہوئے اس کے ساتھ گاڑی تک جانے کے لیے چلا گیا جبکہ زیغم نے دانیا اور ملیحہ کو عیدی دی اور اس کے بعد تمام گھر کے ملازمین کو بھی عیدی دینی شروع کر دی۔ زیغم اور ذرام نے سب کو اچھی خاصی عیدی دے کر خوش کر دیا تھا۔ ارمیزہ کو شیطانی سوجھی، سب لوگ وہیں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ کر عید کو انجوائے کرتے ہوئے باتیں کر رہے تھے، کہ ارمیزہ نے جان بوجھ کر اپنی پوپو جان کو چٹکی کاٹی اور پھر بھاگ کر دور جا کھڑی ہوئی۔
“شرارتی! تمہیں تو میں ابھی پوچھتی ہوں!”
دانیا اٹھ کر اسے پکڑنے کے لیے لپکی، تو وہ کرسیوں کے اردگرد گھومنے لگی۔ دانیا بھی اس کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہوئے پکڑنے لگی تھی۔ سب ان کا یہ منظر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے، ہنس رہے تھے۔
“تمہیں تو میں ابھی بتاتی ہوں، رکو رکو رکو!”
دانیا اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی اور ارمیزہ اس کے آگے آگے بھاگتے ہوئے باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی تھی۔
“تمہیں تو آج میں پکڑ کر چار پانچ چٹکیاں کاٹوں گی!”
وہ بہت تیزی سے بھاگتی ہوئی، سیڑھیوں سے اترتی ہوئی باغیچے کی جانب گئی تھی کیونکہ ارمیزہ اُس کے آگے آگے بھاگتی، باغیچے میں جا کر چھپ گئی تھی۔ وہ تیزی سے تقریباً دوڑتی ہوئی ایک مضبوط چٹان سے ٹکرا کر لڑکھڑائی۔ وہ نیچے گرنے ہی والی تھی مگر اسے مضبوط ہاتھوں کی گرفت نے گرنے سے روک لیا تھا اور وہ مضبوط ہاتھ مائد خان دورانی کے تھے، جو زیغم سے عید ملنے کے لیے گھر کے اندر داخل ہو رہا تھا اور سیڑھیوں سے اتر کر باغیچے کی جانب آتی ہوئی دانیا زور سے کے ساتھ ٹکرا گئی تھی۔ مائد خان نے اُس کی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے گرنے سے بچا لیا۔ دانیا کو تو اس نے بچا لیا تھا مگر اب مائد خان کی دھڑکنوں کو کون سنبھالتا۔ دانیا کیپری اور قمیض پہنے ہوئے تھی اور دوپٹہ سر سے سرکتا ہوا بھاگنے کی وجہ سے گلے میں لٹک رہا تھا۔ ہلکا سا میک اپ تھا جسے صرف برائے نام ہی کہا جا سکتا تھا۔ پنک کلر کی لگی ہوئی لپسٹک مائد سے ٹکرانے کی وجہ سے مائد کے سینے پر چھاپ چھوڑ چکی تھی۔ دانیا کو اپنے اتنے قریب پا کر پٹھان کا دل زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا۔ دانیا نے تو گرنے کے ڈر سے آنکھیں بند کر لی تھیں مگر اس کے روپ کا جادو مائد خان پر چل رہا تھا۔ چند سیکنڈ مائد خان پر بہت بھاری پڑ چکے تھے۔
“اے الله، زہ دا خپل نصیب دی یا زہ ته صبر راکڑا.”
بے اختیار یہ دعا اس کے منہ سے نکلی تھی۔
مائد نے پشتو میں یہ کہا تھا۔
(“اے اللہ، تو اسے میرا نصیب کر دے یا میرے دل کو صبر عطا کر دے۔”)
مائد کی آواز سن کر دانیا جلدی سے ہوش میں آئی اور اس سے جلدی سے دور ہو کر کھڑی ہو گئی۔ دوپٹے کو سر پر ٹھیک کیا۔ مائد نے پشتو میں دعا کی تھی تو دانیا سمجھ نہیں سکی تھی کہ اس نے کیا کہا ہے مگر اس کی آواز پہچان چکی تھی۔
“اس طرح مت بھاگا کریں، اگر میں صحیح وقت پر نہیں آتا تو آپ کو چوٹ لگ سکتی تھی۔”
اپنے یار کی عزت کے احترام میں وہ نظر چرا گیا تھا جبکہ گستاخ دل بار بار اسے دیکھنے کی تمنا لیے ہوئے تھا۔
“وہ میں ارمیزہ کو پکڑ رہی تھی۔”
دانیا بھی شرمندہ تھی یہ سوچ کر کہ آخر اس کے بھائی کا دوست اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا کہ وہ کتنی بے وقوف ہے۔
“آپ کو اپنا دھیان رکھنا چاہیے۔”
اس کے جواب کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے اپنی بات پر زور دیا۔
“جی آئندہ دھیان رکھوں گی۔”
“تھینک یو۔”
“کس بات کا؟”
“چند سیکنڈ میرے سامنے کھڑے ہو کر میری باتوں کا جواب دینے کا!”
مائد کی نظروں میں کچھ ایسا تھا جسے دیکھ کر وہ گھبرا گئی تھی۔
“میں ارمیزہ کو دیکھ کر آتی ہوں۔”
بہت تیزی سے وہاں سے بھاگتی ہوئی کچن چلی گئی تھی۔
مائد خان نے چہرہ اوپر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا تھا۔ دل میں شدید درد اٹھا تو اس نے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔
°°°°°°°°°