Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:30
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 30
°°°°°°
“اے میرے اللہ، تُو میرے دل کے حال سے واقف ہے…”
“اے میرے اللہ، تُو جانتا ہے کہ میرے دل پر میرا زور نہیں ہے… مگر تُو یہ بھی جانتا ہے کہ تیرا یہ حقیر سا بندہ کتنا بے بس ہے…”
“آج میں اُس مقام پر کھڑا ہوں جہاں یا تو اپنے دل کی سُن کر اپنی محبت کی طرف ہاتھ بڑھا دوں اور تڑپتے دل کو سکون دے لوں… یا پھر اپنے ماں باپ کی سن کر، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی محبت سے دور ہو جاؤں اور اُنہی ماں باپ کا نافرمان کہلاؤں…”
“میں کس طرف جاؤں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا…”
“اے اللہ، تُو ہی مجھے راستہ دکھا…”
مائد خان کے دل میں ماں باپ اور محبت کے بیچ جھولتا ہوا ایک ایسا درد اٹھا، جو اب برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔ وہ بظاہر مضبوط شخص تھا… سالوں تک اپنی محبت کو دل میں دفن کر کے رکھا، یہاں تک کہ خود کو بھی کبھی احساس نہیں ہونے دیا۔ ہمیشہ خود سے جھوٹ بولتا آیا، مگر محبت… سچی ہو تو چھپائے نہیں چھپتی۔ دانیا کو دوبارہ دیکھ کر اس کی وہی دفن محبت جاگ اٹھی تھی… اب اُسے دبانا مشکل نہیں، ناممکن تھا۔ وہ دل اور دماغ کی جنگ میں بری طرح الجھا کھڑا تھا، قدم وہیں جمے ہوئے تھے، سوچوں میں ڈوبا… اور اردگرد کی دنیا سے بالکل غافل…نیاد ہی نہ رہا کہ وہ یہاں زیغم سے عید ملنے آیا ہے۔ ایک مجسمہ بنا ساکت کھڑا تھا۔ اتنے میں ارمیزہ شاید پچھلے گیٹ سے گھر کے اندر جا چکی تھی، دانیا اُسے تلاش کرتی واپس سیڑھیاں پار کر کے اُسی جگہ آ پہنچی جہاں مائد خان اپنے دل پر ہاتھ رکھے، گہری سوچوں میں گم کھڑا تھا۔ دانیا کو لگا، مائد خان اس وقت شدید تکلیف میں ہے۔ اسے تو مائد خان کے گھر والوں نے ہمیشہ بہت محبت اور اپنائیت سے رکھا تھا، ان کا یہ احسان وہ نہیں بھولی تھی۔ بس اُسی ناتے سے، دل کی گھبراہٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے وہ اُس کے قریب چلی آئی۔
“کیا ہوا آپ کو؟”
“آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟”
فکر مندی سے پوچھا۔
اُس کی آواز نے مائد کو گویا ہوش کی دنیا میں واپس کھینچ لیا مگر کچھ بولنا… اُس کے لیے ممکن نہ تھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ کچھ کہہ نہ سکا۔ وہ صرف اُسے دیکھے جا رہا تھا… محبت اور درد کی ملی جُلی کیفیت لیے… ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اُس کی پلکیں جھپکنے سے قاصر ہو گئی ہوں۔ اُس کے سامنے وہ لڑکی کھڑی تھی، جسے اُس نے بہت کم عمر میں چاہا تھا، جس سے شادی کے خواب دیکھے تھے مگر قسمت نے ایسا پلٹا کھایا کہ سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ سالوں سے دل میں چھپا کر رکھا تو پھر اب اُسے دیکھ کر نظر ہٹانا کیونکر ممکن ہوتا؟
یہ وہی محسوس کر سکتا ہے جس کے پاس دل ہو… محبت ہو… اور درد سہنے کا ظرف بھی ہو مگر یوں نظریں جما کر اُسے دیکھنا، اپنے یار کی عزت کی توہین تھی۔ اس نے زبردستی خود کو سنبھالا، نظریں پھیریں۔
“آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی… میں زیغم بھائی کو بلاتی ہوں۔”
وہ جواب نہ پا کر یہ کہتی ہوئی تیز قدموں سے اندر چلی گئی، جبکہ وہ اب بھی وہیں کھڑا، گہری سانس لیتا، چہرہ آسمان کی طرف اٹھائے سوچ رہا تھا۔
“بس تم مجھے مل جاؤ، میرا ہر درد دور ہو جائے۔”
کاش کہ یہ بات میں تمہیں بتا سکتا…”
یہ سوچتے ہوئے اپنے زور سے دھڑکتے ہوئے دل کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسے سانس لینے میں کافی دشواری ہو رہی تھی۔ دانیا بھاگتے ہوئے اندر پہنچی اور سب کو بتا چکی تھی کہ مائد کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ زیغم تیز قدموں سے باہر کی طرف آیا اور اُس کے پیچھے پیچھے زارام بھی چلا آیا تھا۔
“مائد کیا ہوا تمہیں؟”
زیغم نے تڑپ کر اپنے یار کو سہارا دیتے ہوئے اس کی پیٹھ کو سہلایا تھا۔
اسکے زرد چہرے کو دیکھ کر صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ مائد خان کو سانس لینے میں بہت مشکل ہو رہی تھی۔ وہ خود کو مضبوطی سے کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اس کی حالت بتا رہی تھی کہ تکلیف شدید تھی۔ اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا، اور اس کی رنگت میں اتنی تبدیلی آ چکی تھی کہ وہ درد کو جتنا بھی چھپانے کی کوشش کرتا، اس کا جسم اس کی حالت کو ظاہر کر رہا تھا۔ سانس میں اکھڑاؤ کے باعث، اس کی آنکھوں میں آہستہ آہستہ پانی بھرنے لگا تھا۔ اس کے جبڑے بھی سختی سے دبے ہوئے تھے، اور ہر گزرتے لمحے میں سانس لینے میں اور مشکل آتی جا رہی تھی۔
“بھائی، ان کو سہارا دے کر اندر لے کر چلیں۔”
ذرام ڈاکٹر تھا وہ سمجھ چکا تھا کہ مائد خان کو سانس لینے میں شدید دشواری ہو رہی ہے۔ مائد خان کی حالت دیکھتے ہوئے، وہ جان چکا تھا کہ مائد خان کو استماع کا اٹیک ہوا ہے۔
“مگر اس کو کیا ہوا ہے؟”
زیغم نے تیزی سے مائد خان کو سہارا دیتے ہوئے پوچھا۔ زیغم کی نظریں مائد خان کا معائنہ کر رہی تھی۔
“بھائی ان کو استماع کا اٹیک ہوا ہے، فوری علاج کی ضرورت ہے!”
“آپ ان کو اندر لے کر چلیں، میں فارمیسی سے استماع کا پمپ لے کر آتا ہوں۔”
ذرام جلدی سے باہر کی جانب بڑھا۔ فارم ہاؤس پر چھوٹی سی فارمیسی کا انتظام موجود تھا تاکہ یہاں کے ملازمین کو دوا کے لیے کہیں دور نہ جانا پڑے۔ مائد خان کی حالت بہت نازک تھی۔ سانس لینے میں شدید مشکلات بڑھتی جارہی تھیں۔ مائد خان کی حالت سنبھالنے میں زیغم کو سخت مشکلات کا سامنا تھا۔ وہ اس کے بھاری جسم کو سہارا دے کر لاؤنج تک لے آیا تھا۔ صوفے پر بٹھاتے ہوئے اس کی پیٹھ کو رگڑ رہا تھا۔
“ریلیکس، ریلیکس، ابھی سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
زیغم نے مائد خان کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام لیا تاکہ وہ اسے پرسکون کر سکے۔ مائد خان کی حالت اتنی خراب تھی کہ وہ تکلیف برداشت کرتا ہوا بھی اس کی صورت ظاہر نہیں ہونے دے رہا تھا مگر اس کی تکلیف واضح طور پر اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔
ملیحہ اور دانیا کی آنکھوں میں فکر تھی، اور وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ مائد خان کو سکون دینے کے لیے کیا کیا جائے۔ ماحول میں شدید ٹینشن تھی۔ ارمیزہ بھی اسی وقت پچھلے گیٹ سے اندر آئی۔ جیسے ہی اس نے یہ منظر دیکھا، وہ بھی گھبرا گئی۔ کچھ ہی دیر میں زرام دوڑتے ہوئے اندر آیا، ہاتھ میں دوا اور انہیلر (پمپ) لیے۔ اس نے فوراً مائد خان کے منہ کے قریب پمپ رکھا اور دو سے تین بار پمپ کرتے ہوئے اس سے سانس اندر کھینچنے کو کہا۔ چند لمحوں میں مائد خان کا سانس بہتر ہونا شروع ہو گیا۔ اس کے بعد زیغم نے اسے تکیہ لگا کر صوفے پر آرام سے لٹا دیا۔ زیغم پریشانی کی حالت میں بیٹھا تھا۔ بار بار اس کی نظریں اپنے یار پر جا رہی تھی۔ اس کی نظروں میں اپنے دوست کے لیے فکر مندی نظر آرہی تھی۔ زیغم کے مسکراتے چہرے پر اب تھکاوٹ اور تکلیف کی جھلک صاف نظر آ رہی تھی۔
“بھائی، ریلیکس ہو جائیں، اب یہ ٹھیک ہے!”
زرام نے اپنے بھائی کی حالت دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہم اسے ہاسپٹل لے کر چلتے ہیں تاکہ ٹھیک سے علاج ہو سکے۔”
زیغم پریشان لہجے میں بولا۔
“نہیں، فی الحال اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک میں سمجھ سکتا ہوں، یہ استماع کا ریگولر اٹیک نہیں ہے۔ پتہ نہیں، مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ کسی ذہنی یا جسمانی صدمے کی وجہ سے ہوا ہے۔”
ذرام نے سوچتی نظروں سے مائد کی جانب دیکھا، جو آنکھیں بند کیے ہو لیٹا ہوا تھا۔
“میڈیکل کے حساب سے جب پریشانی حد سے بڑھ جائے، تو ایسے اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ابھی انہیں زیادہ ٹریٹمنٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ میں میڈیسن لے کر آیا ہوں، انہیں کچھ ہلکا پھلکا کھلا کر، ان کو میڈیسن دے دیں اور پھر روم میں لے جا کر آرام کرنے دیں۔”
“انشاءاللہ آرام کے بعد وہ بہتر محسوس کریں گے۔ بعد میں احتیاطاً یہ سب ٹیسٹ کروا لیں گے، تب زیادہ بہتر ہوگا۔”
ذرام کی تسلی دینے والی باتوں نے زیغم کو کچھ سکون دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت حالات ٹھیک نہیں ہیں، لیکن ذرام کی باتوں سے اس کو امید تھی کہ مائد خان جلد ٹھیک ہو جائے گا۔
“نہیں، میں اب بہتر ہوں اور میں گھر چلوں گا۔”
مائد نے اپنے چہرے سے بازو ہٹاتے ہوئے کہا۔
“میں نے تم سے پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو؟”
“منہ بند کر کے آرام سے میرے ساتھ کمرے میں چلو!”
زیغم نے پورے حق سے اسے ڈانٹ دیا تھا۔
“عید والے دن تُو ایسے مجھ سے بات کرے گا؟”
“میں تو تمہیں عید ملنے کے لیے آیا ہوں!”
مائد کے لہجے میں کڑک نہیں تھی، وہ اب بھی آہستہ بول رہا تھا۔ تھکن اور بیزاری اس کی آواز میں چھلک رہی تھی، وہ زہنی طور پر مکمل تھک چکا تھا۔ دل اور دماغ کی جنگ نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا، چٹان جیسا مرد اس وقت اندر سے پوری طرح سے ٹوٹا ہوا تھا۔
“عید مبارک!”
زیغم نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسے سہارا دے کر اٹھاتے ہوئے سینے سے لگا لیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے عید مل رہے تھے۔
“تم کو بھی عید مبارک، خدا کرے ہماری دوستی ایسے ہی سلامت رہے!”
مائد نے آہستہ سی آواز میں کہا۔
“آمین!”
زیغم نے جواب دیا۔
“آپ سب لوگوں کو بھی عید مبارک!”
مائد نے آہستہ سے کہا اور حق کے ساتھ لے جاتے ہوئے زیغم کے ساتھ ساتھ روم کی جانب بڑھ رہا تھا۔ سب نے ‘خیر مبارک’ کہتے ہوئے اسے بھی ‘عید مبارک’ کہا تھا۔
“دانیا، جلدی سے کچھ فروٹس روم میں بھیجو!”
زیغم نے کہا اور وہ کہتے ہوئے مائد کو لے کر گیسٹ روم میں آگیا۔
کچھ ہی دیر میں ایک ڈش کے اندر فروٹس کاٹ کر دانیا خود لے کر آئی تھی کیونکہ جب اسے ضرورت تھی تو مائد اور مائد کے گھر والوں نے اسے سہارا دیا، اپنا پن دیا، اس کا خیال رکھا تھا۔ اس وقت ملازم کے ہاتھ میں فروٹس بھیجنا اسے اچھا نہیں لگا تھا۔ انسانیت کے ناطے اپنے برے وقت میں مائد کے گھر والوں کا دیا ہوا سہارا وہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔ اس نے ڈش کو لا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔ مائد بستر پر لیٹا ہوا تھا جبکہ زیغم اس کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا، پاؤں لٹکائے ہوئے۔ بے اختیار مائد کی نظریں اس کی جانب اٹھی اور فوراً جھک گئی تھی۔ وہ فروٹ رکھ کر چلی گئی تھی۔ زیغم خود سے اپنے ہاتھوں سے زبردستی فروٹ کھلا رہا تھا۔
“بس کرو یار مجھے اور نہیں کھانا۔”
مائد نے انکار کرتے ہوئے ہاتھ روک دیا تھا۔
“حد ہے ویسے، مجھے نہیں کھانا۔ ہٹے کٹے مرد ہو کر لڑکیوں جیسی حرکتیں مت کرو، فروٹ کھاؤ تاکہ میں تمہیں دوا دے سکوں۔”
زیغم نے گھور کر دیکھتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا تھا۔
“اب دل نہیں چاہ رہا تو کیا کروں؟”
“اس میں لڑکیوں والی بات کہاں سے آگئی؟”
مائد نے چڑتے ہوئے کہا۔
“اتنا چڑنے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے صرف اتنا بتاؤ، تمہیں کس بات کی ٹینشن ہے، یہ استماع کا اٹیک تمہیں کیوں آیا ہے؟”
“ایسا کیا سوچ رہے تھے جو تم اپنی حالت پر قابو نہیں رکھ سکے؟”
دماغ میں کب سے زیغم جو سوچ رہا تھا اسے لبوں تک لے آیا تھا۔
“کچھ بھی نہیں سوچ رہا تھا۔”
“زرام نے اپنی ڈاکٹری مجھ پر جھاڑ دی ہے۔”
“تمہیں زیادہ دماغ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
مائد صاف انکار کرتے ہوئے نظریں چرا گیا۔
“نظریں چرانے سے حقیقت نہیں بدل جاتی، اور تم کب سے جھوٹ کا سہارا لینے لگے مائد خان؟”
زیغم نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“مجھے کیا ضرورت ہے جھوٹ بولنے کی؟”
“جب مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے، تو پھر میں کیا بتاؤں؟”
مائد نے سخت لہجے میں کہا۔
“جھوٹ تمہاری شکل سے نظر آ رہا ہے کہ تم اس وقت بہت پریشان ہو۔”
“تم نجومی ہو جو تمہیں پتہ ہے؟”
مائد نے کروٹ لے کر رخ دوسری جانب کر لیا۔ وہ اس کی نظروں کا سامنا کرتے ہوئے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔
“نظریں چرا کر رخ پھیر کر بات کر رہے ہو، تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہاری بات پر یقین کر لوں گا؟”
زیغم اٹھ کر بیڈ کی دوسری جانب سے ہو کر اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔
“مجھے آرام کرنے دو، یا مجھے گھر جانے دو۔ میں تمہارے سوالوں کے جواب دینے کے موڈ میں نہیں ہوں۔”
“سوالوں کے جواب تو دینے پڑیں گے، اور گھر تو تمہیں ایسی حالت میں کبھی نہیں جانے دوں گا!”
زیغم نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔
“تم پولیس والے بن کر میرے سر پر کیوں سوار ہو گئے ہو؟”
“جب کہا ہے کہ کچھ نہیں ہے تو کچھ نہیں ہے۔ جب کچھ ہوا نہیں تو کیا بتاؤں؟”
مائد نے سختی سے کہا۔
“پولیس والا نہیں، مگر وکیل ضرور ہوں۔”
“ہاں، تو ساری وکالت مجھ پر جھاڑو گے؟”
“تم سچ بول دو، میں اپنی وکالت نہیں جھاڑتا۔”
“جب کچھ ہے ہی نہیں، تو کیا سچ بتاؤں؟”
“جھوٹ بول کر سچ سے نظریں چرا لینا سچ کی توہین ہوتا ہے، اور یہ بات ہمیشہ تم ہی مجھے بتاتے ہو۔”
“اور اگر کوئی کچھ نہ بتانا چاہے اور پھر بھی اسے کرید کرید کر پوچھا جائے تو یہ سامنے والے کی توہین ہوتی ہے۔ یہ بات بھی میں ہی تمہیں آج بتا رہا ہوں۔”
“تم اپنے فلسفے اپنے پاس رکھو اور مجھے بتاؤ کہ تمہیں کیا ہوا ہے؟”
“پوچھے بغیر مجھے چین نہیں آئے گا، اور جب تک مجھے چین نہیں آئے گا، میں تمہیں چین لینے نہیں دوں گا!”
زیغم نے سختی سے کہا تھا۔ وہ بیڈ سے پاؤں لٹکائے، بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھا تھا اور اب تکیے پر کہنی رکھ کر چہرہ اس کے قریب کرتے ہوئے سختی سے پوچھ رہا تھا۔
“پلیز تھوڑا دور رہ کر بات کرو، شادی کے بعد… مطلب نیکسٹ شادی کے بعد تمہارے لچھن تھوڑے خراب ہوگئے ہیں۔ مجھے تو تم سے خطرہ محسوس ہوتا ہے، پیچھے رہو، کہیں میری عزت پر ہاتھ ہی نہ ڈال دو!”
مائد نے اسے انگلی کے اشارے سے دور رہنے کو کہا اور مسکرا کر بات کر رخ پلٹنے کی اچھی کوشش کی تھی مگر مائد بھول گیا تھا کہ مقابل کوئی عام نہیں بلکہ اس کا خاص بچپن کا دوست زیغم سلطان تھا جو اس کی رگ رگ سے واقف تھا۔
“ڈرامے بند کرو، جو ایکٹنگ کرنی نہیں آتی، اسے کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اور میں نے پوچھا کہ تم پریشان کیوں ہو؟”
“ایسا کیا ہوا ہے کہ تم اس قدر پریشان ہو گئے کہ تمہیں استماع کا اٹیک آیا؟”
“اور زرام غلط نہیں کہہ رہا تھا، تمہیں آج تک کبھی استماع کا پرابلم نہیں ہوا، تو آج کیوں؟”
زیغم اپنی بات پر زور دیتے ہوئے جواب سننا چاہتا تھا۔
“بہت ضدی ہو یار تم!”
مائد نے گہری سانس لے کر چڑھتے ہوئے کہا۔
“پتہ ہے مجھے، میری خوبیاں مجھے گنوانے کی ضرورت نہیں ہے، جو پوچھا ہے، اس کا جواب دو!”
“کیوں جواب دوں؟”
“جب تم مجھے کچھ نہیں بتانا چاہتے تو میں نے کبھی تمہیں مجبور کیا؟”
“میرے خیال سے نہیں کیا، تو اب تمہیں بھی یہ حق نہیں کہ تم مجھے مجبور کرو۔”
“میرے پاس کون سا حق ہے اور کون سا نہیں، یہ مجھے مت سکھاؤ۔ اگر تم مجھ سے کبھی کوئی بات اگلوانے میں ناکام رہے تو یہ تمہاری کمزوری ہے۔ میں زیغم ہوں اور مجھے پورا حق ہے کہ یہ جاننے کا کہ کیا چیز میرے یار کو تکلیف پہنچا رہی ہے۔ اور میری باتوں کو گھمانے کی کوشش مت کرو!”
“تم اس کمرے سے قدم اسی صورت میں باہر رکھ سکتے ہو جب تم مجھے سچ بتاؤ گے!”
زیغم کے لہجے میں دوستی کا مان تھا، وہ پورے حق سے مگر سخت اور غصے والے لہجے سے پوچھ رہا تھا۔ دونوں کے بیچ میں شدید تلخی بھی ان کی دوستی کی گہرائی کو چھپانے میں ناکام تھی۔ مائد نے غصے سے اس کی جانب دیکھا۔ مائد سمجھ چکا تھا کہ زیغم کی سوئی اس بات پر اٹک گئی ہے اور جواب لیے بغیر وہ کبھی بھی پیچھے قدم نہیں ہٹائے گا۔ مائد نے زیغم کی جانب دیکھتے ہوئے گہری سانس لی۔ زیغم نے آئی برو اٹھا کر اسے منہ کھولنے کا اشارہ دیا۔
“گھر پر شادی کی بات چل رہی ہے، آغا جان اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ اسی ہفتے میں شادی کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ انکار کی گنجائش نہیں ہے!”
مائد سنجیدگی سے بولتے ہوئے درد زدہ نظروں سے زیغم کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“ہمم… تو یہ مسئلہ ہے۔ تم کیا چاہتے ہو؟”
زیغم نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“میں کیا چاہتا ہوں تم اچھی طرح سے جانتے ہو۔”
وہ نظر چراتے ہوئے آہستہ سے بولا تھا۔
“میری اچھی طرح جاننے سے اگر کچھ ہو سکتا تو میں سیکنڈوں میں تمہارے درد کو دور کر دیتا۔ تمہیں اس طرح تکلیف میں دیکھنا میرے لیے آسان نہیں ہے۔”
“مطلب تم مجھے یہ کہنا چاہتے ہو کہ تمہارے بس میں کچھ نہیں، تم میرے لیے کچھ نہیں کر سکتے؟”
مائد نے خفا نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
“جان دے سکتا ہوں تمہارے لیے، حکم کرو مگر جو تمہاری سچویشن ہے، اس سچویشن میں میں کچھ نہیں کر سکتا مائد خان، اور تم یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہو۔ ویسے اگر میری دوستی کو کسوٹی پر ڈال کر پرکھنا ہے تو میں حاضر ہوں۔”
زیغم کے لہجے میں سنجیدگی اور ٹھہراؤ تھا۔
“خاموش کیوں ہو؟”
“جواب دو، کیا چاہتے ہو؟”
‘جو کہو گے میں کر دوں گا!”
اسے خاموش دیکھ کر زیغم نے بات آگے بڑھائی تھی۔
“بہت مشکل سچویشن میں ہوں…”
مائد جبڑے میچ کر بولا۔
“میں اچھی طرح سے جانتا ہوں!”
زیغم نے سنجیدگی سے کہا۔
“آغا جان کے فیصلے کو رد نہیں کر سکتا ہوں، اتنی ہمت نہیں ہے مجھ میں…”
“میں یہ بھی جانتا ہوں!”
زیغم نے پھر سے سنجیدگی سے جواب دیا۔
“مگر ان کے فیصلے کو ماننا بھی میرے لیے آسان نہیں ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ میں خود کو ختم کر لوں۔”
مائد دلبرداشتہ ہو کر بول رہا تھا۔
“مائد خان، تم پر یہ باتیں زیب نہیں دیتی۔ مرد ہو، بہادری سے ہر چیز کا مقابلہ کرو۔”
زیغم نے مضبوط لہجے میں خفا نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ اتنے سالوں سے میں مقابلہ نہیں کر رہا؟”
“تم نہیں سمجھ سکتے میری سچویشن کو!”
مائد نے سر کو ہلکا سا جھٹکتے ہوئے اٹھ کر بیڈ سے سر لگا کر، ایک ہاتھ اپنی فولڈ کی ہوئی ٹانگ پر رکھتے ہوئے کہا تھا۔
“زندگی میں کوئی ایسی مشکل نہیں ہوتی جس کا ہم سامنا نہیں کر سکتے۔ مشکلوں سے ہار جانا بزدلوں کا کام ہوتا ہے اور تم بزل نہیں ہو!”
“میں تمہاری سچویشن کو سمجھ سکتا ہوں۔ میری زندگی تمہارے سامنے ہے، ہر سچویشن کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے میں نے، مگر خود کو ٹوٹنے نہیں دیا اور تم بھی ٹوٹ نہیں سکتے!”
“مائد، بہادری سے مقابلہ کرو!”
زیغم نے سختی سے اپنے یار کو ہمت دی۔
“اگر یہ شادی ہو بھی گئی، تو میں مونا کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتا اور نہ اسے خوش رکھ سکوں گا۔”
“تو انکار کر دو۔”
“نہیں کر سکتا، کیونکہ آغا جان برداشت نہیں کر سکیں گے اور ان کی جان کو میری وجہ سے خطرہ ہو، ایسا میں کبھی نہیں کر سکتا۔”
“تو پھر خود پر جبر کر جاؤ اور اس کڑوے جام کو خاموشی سے پی لو!”
“میں گھٹ گھٹ کر مر جاؤں گا…”
“مجھ سے کیا چاہتے ہو تم مائد خان؟”
“میں سمجھ نہیں پا رہا…”
زیغم مائد خان کا دوست تھا اور اسے اچھی طرح سے سمجھ آ رہا تھا کہ مائد خان کچھ تو ایسا کہنا چاہتا ہے جس کو کہنے کی اس میں شاید ہمت نہیں ہے یا پھر وہ دوستی کا لحاظ کر رہا ہے۔ زیغم کے پوچھنے پر مائد خاموش تھا۔ مطلب صاف تھا کہ وہ کچھ تو کہنا چاہتا ہے۔
“ہمارے بیچ میں ایسا کوئی پردہ نہیں ہے جس کی وجہ سے تم مجھے اپنے دل کا حال نہ بتا سکو۔ میں ہر رشتے میں صاف گوئی کا قائل ہوں، تم مجھے کھل کر بتا سکتے ہو کہ تم کیا سوچ رہے ہو۔ میرے یار کا دل کیا چاہتا ہے؟”
زیغم کے جملے سے مائد کو ہمت ملی تھی، نظریں اٹھا کر اپنے یار کو دیکھا، پھر سے نظریں جھکا لیں۔
“تیری نظریں جھکی ہوئی اچھی نہیں لگتی مائد خان!”
“آنکھوں میں آنکھیں ڈال اور دیکھ میری طرف۔ بتا، تیرا دل کیا چاہتا ہے؟”
“اگر میرے بس میں ہوا تو خدا کی قسم، زیغم سلطان تم پر اپنی جان وار کر بھی تمہیں خوشیاں دے دے گا، مگر جو چیز میرے بس میں نہ ہو، اس کے لیے مجھے کڑے امتحان میں مت ڈالنا۔”
ٹھہراؤ اور سنجیدگی سے زیغم سلطان اپنی ساری بات اس کے سامنے رکھ کر اسے ایک ساتھ بہت سی باتیں بتا گیا تھا۔
“تمہارے اختیار میں سب کچھ ہے، مگر تم سے یہ بات کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے۔ ایک لحاظ سے کہہ لو، شرم کہہ لو، یا دوستی کی لاج کہہ لو، مگر مجھ سے کہا نہیں جا رہا، مگر تم اچھی طرح سے سمجھ رہے ہو کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔”
وہ نظریں جھکاتے ہوئے آہستہ سے بولا۔
“لڑکیوں سے بھی زیادہ بدتر ہو تم۔ میرے سمجھنے سے کیا حاصل؟”
“جو تم چاہتے ہو، وہ اتنا آسان نہیں ہے!”
“جو تم چاہتے ہو، اس کے لیے تمہیں خود قدم اٹھانے ہوں گے، میں کیا کر سکتا ہوں؟ بتاؤ، مائد…”
اس کی حالت پر رحم کھاتے ہوئے، وہ بات کو آگے بڑھا رہا تھا۔
کیونکہ مائد خان اصولوں پر قائم رہنے والا پٹھان تھا، اور وہ دانیہ کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا، مگر دانیہ زیغم کی بہن تھی، اس لیے اسے کسی بھی لحاظ سے یہ بات کرنا دشوار ہو رہا تھا۔
“جس کے پاؤں زنجیروں سے ماں باپ نے باندھ رکھے ہوں،وہ کیسے قدم بڑھائے؟”
“خود سے کچھ نہیں کر پا رہا، اسی لیے تو تم سے امیدیں لگائی ہیں۔”
لہجے میں شدید بے بسی کے تاثرات سنائی دے رہے تھے۔
“اسی لیے تو، مائد خان، میں تمہیں کوئی مشورہ نہیں دے سکتا۔ کیونکہ تمہارے سامنے وہ ہستیاں کھڑی ہیں، جن کا دل دکھانے کی تم میں ہمت نہیں۔ اُن کے خلاف جانے کا راستہ تمہیں دکھا کر میں خود کو گناہگاروں کی صف میں کھڑا نہیں کرنا چاہتا۔ تمہارے ماں باپ میرے لیے اتنے ہی قابلِ احترام ہیں جتنے میرے مرحوم اماں سائیں اور ابا سائیں تھے۔”
“مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں تمہیں کون سا راستہ دکھاؤں، مائد خان… تمہارا درد مجھے نظر آ رہا ہے، تمہارے دل کی حسرت مجھے محسوس ہو رہی ہے مگر اللہ نے قرآن میں ہمیں واضح طور پر سکھایا ہے کہ والدین کے ساتھ سلوک کیسا ہونا چاہیے۔”
“ہماری زندگی میں کئی بار ایسی گھڑیاں آتی ہیں جب ہم ان کے فیصلوں سے تنگ ہوتے ہیں، ہمیں ان کے فیصلے اپنے دل کے حالات کے برعکس محسوس ہوتے ہیں، مگر اس سب کے باوجود ہم ماں باپ کا دل نہیں دکھا سکتے۔ کیونکہ والدین کا دل دکھانے کی سزا بہت بڑی ہے۔”
“اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تمہارے سامنے والدین بڑھاپے کو پہنچیں، تو ان سے نرمی سے بات کرو، اُن کے سامنے آواز بلند نہ کرو، یہاں تک کہ “افف” تک نہ کہو۔ انہیں کچھ ایسا نہ کہو جس کی وجہ سے تمہیں بعد میں پچھتاوا ہو۔ اور اگر تمہاری کوئی خواہش والدین کا دل توڑ کر پوری ہوتی ہے، تو وہ خواہش اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہرگز قابلِ قبول نہیں۔”
“ایسے میں، میں خود ایک کڑی آزمائش میں ہوں، مائد۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ کس طرح تمہارا حوصلہ بڑھاؤں۔”
“اللہ کے حکم کے سامنے کوئی دوسری دلیل نہیں ٹھہرتی، مائد خان۔”
زیغم نرمی مگر مضبوطی سے بول رہا تھا۔
“یا تو قربان ہو جاؤ… چپ چاپ ماں باپ کے فیصلے کے سامنے سر جھکا دو، یا پھر ان کے قدموں میں جھک کر، محبت اور عاجزی سے، اپنے دل کی بات منوا لو۔”
“راستے صرف دو ہی ہیں، اور دونوں ہی صبر اور حوصلے کے متقاضی ہیں!”
زیغم کی آواز میں سمجھداری تھی، ایک دوست کا اخلاص اور ایک بھائی کا درد جھلک رہا تھا۔ زیغم سلطان کی باتیں سن کر مائد خان نے گہری سانس لے کر کچھ دیر کے لیے آنکھوں کو بند کر لیا تھا۔ دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا سانس، جیسے اندر کہیں کوئی طوفان اٹھ رہا تھا۔ زیغم جو کچھ کہہ رہا تھا، وہ سب سچ ہی تو تھا۔ رب کے حکم کو کیسے نظر انداز کر سکتا تھا وہ۔ چند لمحوں کے سکون کے بعد اس نے آنکھیں کھول کر زیغم کی جانب دیکھا تھا جو اس کے جواب کا منتظر تھا۔
“دیکھو زیغم… میرے رب کا حکم سچ ہے، میرا رب جو کہتا ہے وہی حق ہوتا ہے مگر انسان کی فطرت، اس کے جذبات… ان کا کیا کیا جائے؟”
“اللہ نے انسانی دل میں احساسات رکھے ہیں، اور یہی احساسات بعض اوقات آزمائش بن جاتے ہیں۔”
“میں کون ہوتا ہوں رب کے حکم کو نہ ماننے والا؟”
“اُس کی عظمت کے سامنے سب کچھ چھوٹا لگتا ہے، میرا غرور، میری خواہش، میرے ارادے… سب کچھ۔”
“میں ماں باپ کی عظمت سے واقف ہوں، آغا جان اور مورے میری جان ہیں۔ میری سو جانیں بھی ان ہستیوں پر قربان۔ ان کی ایک مسکراہٹ پر میں دنیا وار دوں۔ میں اپنی خواہشوں کو رد کر کے ان کی خواہش کو پورا کرنے کی ہمت رکھتا ہوں مگر میں ڈرتا ہوں کہ اگر ماں باپ کی ایک خواہش کو پورا کرتے ہوئے میں خود تو قربان ہو جاؤں، لیکن بیوی کے وہ حقوق نہ نبھا سکا، جو میرے رب نے میرے ذمہ کیے ہیں، تو کیا میں اس کا حساب دے سکوں گا؟”
“کیا میں اللہ کے سامنے جواب دے سکوں گا؟”
“میرے دل میں ایک خوف ہے کہ کہیں میں اپنی محبتوں اور خواہشوں کے بیچ توازن نہ بنا سکوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنے فرض کو نظر انداز کر بیٹھوں۔”
“زیغم… میں ماں باپ کی رضا حاصل کرنے کے چکر میں بیوی کے ان حقوق کو نہ نبھایا، جو قرآن میں واضح کیے گئے ہیں، تو کیا میں گناہ گار نہ ٹھہروں گا؟”
مائد خان کے لفظ سچائی سے لبریز تھے۔ زیغم اس کی باتوں کو دھیان سے سن رہا تھا۔ اس کے درد کو محسوس کر رہا تھا۔ اس کے جذباتوں کو سمجھ بھی رہا تھا۔ اس کا یار اس وقت جس کشمکش میں پھنسا ہوا تھا وہ سچ میں بہت مشکل امتحان تھا۔
“ماں باپ کی ضد کے سامنے سر تو جھکا سکتا ہوں، لیکن اگر اُس کے بعد میں بیوی کے وہ حقوق ادا نہ کر سکا، جن کی وضاحت خود اللہ نے کی ہے، تو کیا میں اُس سزا کو برداشت کر سکوں گا؟”
ایک بار پھر سے مائد نے تجسس بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“شادی صرف کسی کو اپنے گھر لا کر قید کر دینا نہیں، زیغم۔ مردانگی بیوی کے ساتھ محبت سے رشتے کو نبھانے میں ہے، اس کی عزت اور حق ادا کرنے میں ہے۔”
مائد کا ایک ایک لفظ اس کے دل کی سچائی کا عکاس تھا۔
“میں نہیں جانتا کہ میں وہ فرض پورے کر سکوں گا یا نہیں… میں ایک سادہ انسان ہوں، میرے اندر ایک فطرت ہے، میں کم رشتوں کو اپناتا ہوں، مگر جنہیں اپناتا ہوں، ان کو پوری سچائی سے نبھاتا ہوں۔ الجھے ہوئے رشتے، نا مکمل جذبے، یہ سب میرے بس سے باہر ہیں…”
اس کی آواز میں درد تھا، سچائی تھی، اور وہ سوالات بھی، جو اندر سے ایک دین دار مگر حساس دل کو چیرتے ہیں۔ وہ رب کے حکم سے انکار نہیں کر رہا تھا، مگر اپنے اندر کے طوفان سے لڑ رہا تھا۔ دل کو مطمئن نہیں کر پا رہا تھا، اور شاید اسی لیے وہ زیغم کے سامنے کھل کر اپنا بوجھ ہلکا کر رہا تھا۔
“مائد، میں تمہاری کیفیت سمجھ رہا ہوں، سب کچھ سننے اور سمجھنے کے بعد میں اس فیصلے پر پہنچا ہوں کہ تمہیں خود پر جبر کرنا ہوگا۔ تم چاہو یا نہ چاہو اپنی خواہشات کو تمہیں مارنا پڑے گا کیونکہ آغا جان کبھی اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹتے، ان کے لیے ان کی روایات سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے… اولاد کی خوشی بھی نہیں۔ یہ بات میں بھی جانتا ہوں اور تم بھی۔”
سنجیدہ لہجے میں سمجھاتے ہوئے زیغم خود بھی پریشان تھا۔
“تمہارے انکار کی صورت میں آغا جان نہ تو تمہیں معاف کر سکیں گے اور نہ ہی اپنی صحت پر قابو پا سکیں گے اور بیچ کا کوئی ایسا راستہ نہیں ہے جو میں تمہیں دکھا سکوں۔”
زیغم فیصلہ کن انداز میں بول رہا تھا۔
“اسی لیے تو میں نہیں بتا رہا تھا، اچھی طرح سے جانتا تھا کہ تمہارے پاس کوئی حل موجود نہیں ہے۔”
“اگر میرے پاس حل نہیں تو کیا تم مجھے اپنے دل کی بات نہیں بتاؤ گے؟”
“ہم دوست ہیں، ایک دوسرے کی خوشی اور غم کو بانٹنا ہمارا فرض ہے۔”
“تم یہ میڈیسن کھاؤ اور کچھ دیر آرام کرو، میں تمہارے لیے لائٹ سا کچھ کھانے کو بنواتا ہوں۔”
زیغم نے میڈیسن نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے پانی کا گلاس تھماتے ہوئے کہا مگر مائد خان کی نظر دور کہیں، ٹکی ہوئی تھی۔ وہ کچھ سوچ رہا تھا، ایک ایسی سوچ جسے زبان تک لانے کے لیے اسے بڑی ہمت کی ضرورت تھی۔
“خیالوں کی دنیا سے باہر آؤ اور دوا کھاؤ۔”
اس کے منہ میں اپنے ہاتھ سے میڈیسن ڈالتے ہوئے پانی کا گلاس تھما دیا تھا۔
پانی کا گلاس ہاتھ سے پکڑ کر مائد لبوں سے لگاتے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا۔ زیغم اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“میں بھی آتا ہوں کھانے کے لیے بول کر۔”
زیغم روم سے باہر جا چکا تھا۔
“اے دو جہانوں کے مالک، سمندروں کو ایک جگہ پر روکنے والے رب!”
“میرے دل کو سکون دے دے۔”
“اے مشکلوں کو آسان کرنے والے، میرے رب، مجھے وہ صبر عطا کر جس سے میں پرسکون ہو جاؤں۔”
“تُو جانتا ہے میرے دل کے حالات، میرے دل کی تکلیفوں سے تو واقف ہے۔”
وہ آنکھیں بند کیے اپنے رب سے دعا کر کے اپنے دل کا سکون مانگ رہا تھا۔
زیغم روم سے باہر نکل کر گہری سوچ میں مبتلا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ مائد سے کیا کہنا چاہتا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ مائد کبھی خود سے یہ بات نہیں کہے گا، مگر جو کچھ مائد سننا چاہتا تھا، وہ چاہ کر بھی زیغم نہیں بول سکتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ مائد خان کو کسی مشکل میں پھنسے ہوئے وہ نہیں دیکھ سکتا تھا، اور اسی لیے خاموش ہو کر، تماشائی بن کر اپنے یار کو تکلیف میں دیکھتے ہوئے، کھانے کے بہانے سے باہر آ گیا تھا۔
کبھی کبھی انسان اپنے دوست کی خوشی کے لیے وہ نہیں کر پاتا جو دوست چاہتا ہے، اور یہ ایک ایسا تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے جو دل میں گہرے اثرات چھوڑ جاتا ہے مگر، اصل میں ہم جو کچھ اپنے دوستوں کے لیے نہیں کرتے، وہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ ہم اندر ہی اندر ان کے لیے بہتری چاہتے ہیں۔
زیغم جانتا تھا کہ وہ اس وقت مائد کا دل توڑ کر آیا ہے، مگر اس کے دل میں یہ خدشہ تھا کہ اگر وہ اس کی حقیقت بیان کرتا تو مائد کا دل مزید ٹوٹ سکتا تھا۔ مائد کا دل جو زیغم سے سننا چاہتا تھا، زیغم نے وہ نہیں کہا تھا، اور یہی بات زیغم کے لیے بہت مشکل تھی۔ کچھ فیصلے انسان کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں، اور یہ لمحہ بھی زیغم کے لیے انتہائی کٹھن تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی خاموشی مائد کی تکلیف میں مزید اضافہ کر رہی ہے، مگر وہ جانتا تھا کہ اس وقت جو فیصلہ وہ لے رہا تھا، وہ مائد کے لیے ممکنہ طور پر بہتر ہو سکتا تھا۔ زیغم اس وقت گہرے جذبات کی سرحدوں پر کھڑا تھا، اور وہ خود بھی اس فیصلے کے سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
یہ ایک ایسی آزمائش تھی جس میں زیغم کی محبت اور وفاداری دونوں کی جانچ ہو رہی تھی، اور وہ اپنے دوست کی تکلیف میں شریک ہونے کی بجائے، اس کی خوشی کے لیے وہ سب کچھ برداشت کر رہا تھا، جو اس کے دل میں تھا۔ یہ ایک دردناک حقیقت تھی، مگر وہ جانتا تھا کہ زندگی میں کبھی کبھی ہم وہ نہیں کر پاتے جو ہمیں کرنا چاہیے، لیکن ہم جو کرتے ہیں، اس کے پیچھے ہمارے دل کی گہرائی اور محبت چھپی ہوتی ہے۔
°°°°°
مائد کی طبیعت خراب تھی، اس لیے زیغم نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اسے گھر چھوڑ کر آئے گا۔ گھر پہنچتے ہی مورے نے گرمجوشی سے استقبال کیا اور زیغم کا ماتھا چوم کر دعائیں دیں۔ زیغم کو ہمیشہ کی طرح مورے سے وہی خوشبو آئی جو اسے اپنی اماں سائیں سے محسوس ہوتی تھی۔ اس کی موجودگی میں ایک نرمی اور محبت کا احساس تھا۔ آغا جان سے بھی وہ ادب و احترام سے ملا اور پھر واپسی کے لیے نکل آیا کیونکہ آج اسے حویلی واپس جانا تھا مگر ایک بات تھی جو زیغم کے دل میں تھی، مائد نے اس کی طبیعت کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتانے کی سختی سے تاکید کی تھی۔ زیغم چاہتا تھا کہ کسی کو مائد کی طبیعت کے بارے میں بتا دے تاکہ اس کا خیال رکھا جا سکے، لیکن مائد کے اصرار کے سامنے وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ اب وہ کمرے میں آ کر اپنے خیالات میں گم تھا، دل میں ایک عجیب سی الجھن اور اضطراب تھا۔ وہ اپنی سوچوں کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک روم کا دروازہ کھٹکا۔ مائد کی نظریں آہستہ آہستہ دروازے پر مرکوز ہو گئیں جب مونا داخل ہوئی، عید کے دن کی تیاری میں وہ چمک رہی تھی۔
اگر وہ مائد کی پسند ہوتی، تو اس کا دل اسے ایک لمحے کے لیے دیکھ کر خوش ہو جاتا، مگر حقیقت یہ تھی کہ ان دونوں کے درمیان ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ مائد کے دل میں مونا کے لیے کچھ خاص نہیں تھا، اور عید کے دن اس کا روم میں آ کر یوں سجی دھجی حالت میں نظر آنا، مائد کے لیے بیزاری کا باعث بن رہا تھا۔
“السلام علیکم، عید مبارک!”
مونا خوش دلی سے کہتی ہوئی دروازہ بند کرتے ہوئے آئی، وہ قریب آ کر اس کی طرف بڑھی، جبکہ مائد جلدی سے بیڈ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“خیر مبارک۔”
مختصر اور بے دلی سے جواب دیا گیا تھا۔
“صرف ‘خیر مبارک’؟ مجھے ‘عید مبارک’ نہیں کہو گے؟”
مونا نے بے تکلفی سے کہا اور بالکل اس کے قریب آ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔
مائد خان نے سرک کر کے تھوڑا پیچھے ہو جانے کی کوشش کی اور بیزاری سے کہا:
” تمہیں بھی عید مبارک۔”
“بہت روکھے، سوکھے پٹھان ہو تم!”
“پٹھان تو بہت رومینٹک اور خوش دل ہوتے ہیں، مگر تم میں تو ایسی کوئی خاصیت نہیں پائی جاتی۔”
مائد کی آنکھوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی تھی کیونکہ مونا نے طنزیہ لہجے میں یہ کہا تھا۔
“جب مجھ میں کوئی خاصیت نہیں ہے تو تم مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتی؟”
مونا نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ ایسا سیدھا اور صاف انداز میں یہ بات کہنے کی وہ توقع نہیں رکھتی تھی۔ اس کی آواز میں ایک خاص سختی اور ٹھہراؤ تھا۔ مائد کا جواب سن کر مونا کا دل جیسے ٹوٹ گیا تھا مگر وہ کافی ڈھیٹ لڑکی تھی۔ فوراً سے خود کو سمیٹ گئی۔
“بہت شوق ہے تمہیں مجھ سے پیچھا چھڑوانے کا؟”
“مگر مائد میں تمہارے نصیب میں لکھی جا چکی ہوں اور تم میرے نصیب میں۔ تم چاہو یا نہ چاہو، تمہیں ہمیشہ میرا ہو کر رہنا پڑے گا۔”
وہ ایک ایک بات کو کھینچتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ اس کا یہ انداز مائد کو غصہ دلا رہا تھا۔ جس کو وہ یہ حق دینا چاہتا تھا وہ تو اب تک اس کے دل میں چھپی محبت تک سے واقف نہیں تھی اور جس کے منہ سے وہ کچھ بھی نہیں سننا چاہتا تھا وہ اس پر حق جتا رہی تھی۔
“مونا مجھ پر اس طرح حق مت جتایا کرو، زہر لگتی ہو جب مجھ پر تم حق جتاتی ہو!”
مائد خان غصے سے دھاڑا تھا۔
مونا نے طنزیہ مسکراتی نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔
“کیوں درد ہوتا ہے میرے اس طرح حق جتانے پر؟”
“جب تم مجھ پر مرد ہو کر حق نہیں جتاتے تو مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے… دیکھ لو میں عورت ہو کر اپنا حق کتنی اچھی طرح سے جتا دیتی ہوں اور جب میرے حق جتانے پر تم تڑپتے ہو مجھے بہت سکون ملتا ہے… تم چاہو یا نہ چاہو… پوری زندگی… تم پر اسی طرح حق جتاؤں گی!”
وہ ایک ایک لفظ کو کھینچتے ہوئے بول رہی تھی۔ اس کا بولنے کا انداز دیکھ کر مائد کا خون کھول رہا تھا۔
“میں تمہارے اس حق کو نہ آج تسلیم کرتا ہوں… نا کل تسلیم کروں گا… تمہارے ارمان ادھورے تمہارے دل میں رہ جائیں گے… میں نے آج تک دبے چھپے لفظوں میں تمہیں بہت بار بتایا ہے کہ میں تمہیں پسند نہیں کرتا۔ بہت بار تمیز کے دائرے میں رہ کر بتانے کی کوشش کی تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا مگر تمہاری موٹی کھوپڑی میں یا تو یہ بات گھستی نہیں… یا پھر تم سمجھنا ہی نہیں چاہتی۔
“مگر آج میں تمہیں صاف الفاظ میں بتا رہا ہوں کہ میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا… تمہاری لمبی زبان اور میری الٹی کھوپڑی کا کبھی گزارا نہیں ہو سکتا!”
“تمہیں ایک رومینٹک، دل پھینک انسان چاہیے جو ہر وقت تمہیں اپنے واحیات الفاظ میں الجھائے رکھے اور میں وہ نہیں ہوں!”
“تم اپنے لیے، اپنے ٹائپ کا کوئی دل پھینک عاشق ڈھونڈو، جو تمہارے معیار پر پورا اترے۔”
آج مائد خان پھٹ پڑا تھا اور ایسے بول رہا تھا جیسے اس نے یہ سارے لفظ ایک سکرپٹ میں قید کر کے رکھے ہوں اور سالوں سے وہ اس کو بولنے کی پریکٹس کر رہا ہو۔ وہ بولنے پر آیا تو بولتا چلا گیا۔ آج بک بک کرنے والی مونا کی زبان ایک دم بند ہو گئی تھی۔ اسے غصے سے دھاڑتے ہوئے سن وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ مائد خان نے صاف ستھرے انداذ میں اس سے رشتے سے انکار کر دیا تھا۔
“تم ایسا نہیں کر سکتے… یہ میری انسلٹ ہے۔ پانچ سال کی عمر سے لے کر تمہارے بارے میں سنتی آئی ہوں کہ میری شادی تم سے ہونی ہے!”
“تھوڑی سی ہوش سنبھالی تو رشتہ طے کر دیا گیا، سالوں سے میری آنکھوں سے صرف تمہارے خواب دیکھے ہیں۔”
“میں نے تمہارے سوا کبھی کسی کو سوچا نہیں اور آج تم عین شادی کے دنوں مجھے رشتے سے انکار کر رہے ہو۔ میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔ میرے بھائی تمہیں کاٹ کر رکھ دیں گے!”
وہ غصے سے چلائی تھی اور اس کے چلانے کی آواز سن کر دروازہ کھولتے ہوئے آغا جان اور اس کی مورے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ آیا اس کا بھائی سبحان اور مونا کی ماں بھی اندر داخل ہو چکے تھے مگر اس وقت مائد خان اور مونا شدید غصے کی حالت میں تھے تو کسی کا لحاظ کیے بغیر وہ بولتے چلے جا رہے تھے۔
“ہاں تو اگر پانچ سال کی عمر میں تمہارے دماغ میں میرے خیالات ہاں ڈال دیے گئے تو میں بھی اس وقت ایسی کوئی بڑی سوچ کا مالک نہیں تھا!”
“میں بھی کوئی نوجوان نہیں تھا جسے رشتے کی اہمیت کا پتہ ہو، اگر پتہ ہوتا تو میں اسی وقت انکار کر دیتا!”
“میں تمہارے ساتھ زندگی کا سفر طے نہیں کر سکتا، جس کے ساتھ میں پانچ منٹ کھڑے رہ کر بات نہیں کر سکتا، اس کے ساتھ میں زندگی کیسے گزاروں گا بہتر ہے کہ آج یہیں پر ایک اچھے انداز سے ہم یہ رشتہ ختم کر دیں گے!”
مائد خان بولتا چلا جا رہا تھا باقی سب لوگ سکتے میں کھڑے تھے۔
“مائد خان اپنی زبان کو لگام دو!”
“تم اس رشتے سے انکار کر کے میری بہن کی توہین کر رہے ہو!”
مونا کے بھائی سبحان کی غیرت اچھلی تو وہ دھاڑتے ہوئے مائد کے گریبان پر ہاتھ ڈال چکا تھا۔ مائد خان کے گریبان پر جب سبحان خان نے ہاتھ ڈالا تو معاملہ بہت گرم ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ گھر کے بڑے معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کرتے، دونوں ہاتھا پائی پر اتر آئے تھے۔ سبحان نے ایک پہل کرتے ہوئے مائد خان کو ایک زور کا مکا جڑ دیا۔ مائدہ خان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا اور وہیں بیڈ پر اسےگراتے ہوئے مکوں کی برسات شروع ہو گئی، کہیں مکے اور کہیں گھونسے مارتے ہوئے اس کا تھوبڑا لال سرخ کر دیا تھا۔
آغا جان… مورے… مونا کی ماں… مونا… سب چھڑوانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ سبحان کی دھلائی دیکھنے لائق تھی۔ کچھ دن پہلے جو اس کی اچھی خاصی مائد کے ہاتھ سے ہاسپٹل میں ٹھکائی ہوئی تھی وہ ابھی زخم تازہ تھے کہ مائد خان نے ایک بار پھر سے اسے عبرت کا نشان بنا دیا۔ اس سے پہلے کہ معاملہ بہت زیادہ حد تک بڑھتا آغا جان نے ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے ایک زور تھپڑ مائد خان کے منہ پر مارا اور اسے چھوڑنے کو کہا تھا۔ آغا جان کی دھاڑ کمرے میں گونج اٹھی تھی۔ بڑی مشکل سے مائد خان کو پیچھے کیا گیا تھا۔ وہ اتنے غصے میں تھا کہ اسے آغا جان کا مارے ہوئے تھپڑ کا درد تک بھی محسوس نہیں ہوا تھا۔
“تم لوگوں میں کوئی شرم حیا ہے یا نہیں؟”
آغا جان کی دھاڑ سن کر کچھ دیر کے لیے سب خاموش ہو گئے تھے۔ کمرے میں سکوت چھا گیا تھا۔
“آغا جان، یہ بات آپ اپنے بیٹے سے پوچھیں، اس میں شرم ہے یا نہیں۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کی تربیت ہی ٹھیک نہیں ہوئی۔”
مونا نے اتنی بدتمیزی کے ساتھ آغا جان سے بات کی کہ کچھ دیر کے لیے تو آغا جان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں، اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ کیا یہ لڑکی اپنے گھر کی بہو بنانے کے لیے صحیح انتخاب ہے؟
“اپنی زبان کو لگام دو!”
“خبردار، جو آغا جان کے ساتھ اس ٹون میں بات کرنے کی کوشش کی!”
مائد غصے سے مونا پر برس پڑا تھا، اُسے گوارا نہیں تھا کہ کوئی اس کے آغا جان کے ساتھ اس طرح سے بات کرے۔ آج تک آغا جان سے کسی نے اس انداز سے بات نہیں کی تھی۔
“کیوں؟ میں نے کیا بدتمیزی کی اور کیا غلط کہا ہے؟”
“تمہاری تربیت ٹھیک ہوتی تو تمہیں پتہ ہوتا کہ ایک لڑکی کے ساتھ کیسے بات کرتے ہیں۔ ذرا اپنے اوپر توجہ دو، اور تمہیں پتہ چلے گا کہ میں نے تربیت کا لفظ کیوں بولا ہے۔”
وہ اپنی بات پر ڈٹی ہوئی، مائد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہی تھی۔ کوئی لحاظ، کوئی شرم نہیں تھی۔
“لڑکی! زبان کو لگام دو!”
“بات بات پر ہماری تربیت پر انگلی مت اٹھاؤ!”
مورے نے غصے سے کہا۔
“ذرا اپنے شہزادے کے کرتے پر لگے ہوئے لپسٹک کے نشان کو غور سے دیکھیں، اور اس کے بعد بتائیے گا کہ تربیت پر انگلی اٹھانی چاہیے یا نہیں!”
وہ ایک ایک لفظ کو چبا کر بولتے ہوئے حقارت سے مائد کی جانب دیکھ رہی تھی۔
سب کی نظریں بے اختیار مائد کی جانب اٹھی اور کرتے پر لگے ہوئے لائٹ سے کلر کے لپسٹک کے نشان کو دیکھ کر سب حیران تھے۔ سچ میں لپسٹک کا نشان عین سینے کے دل والے مقام پر چھپا ہوا تھا۔ مائد نے اپنے کرتے کی جانب دیکھا۔ نشان تو سچ میں وہاں پر موجود تھا۔ اسے فوراً یاد آیا کہ جب دانیہ اس سے ٹکرا گئی تھی، تو اس وقت اس نے اسی کلر کی لپسٹک لگا رکھی تھی۔ شاید اسی وقت یہ نشان لگا تھا، مگر یہ بات وہ ان سب کو بتا کر دانیا پر کبھی بھی انگلی اٹھانے کا موقع نہیں دے سکتا تھا۔ دانیا کی عزت کو محفوظ رکھنے کی خاطر وہ ان سب کی باتوں کو سننے کے لیے تیار تھا۔
“چپ ہو گئے، اب بتائیے کہ آپ کی تربیت ٹھیک ہے یا غلط؟”
وہ مورے اور آغا جان کی جانب دیکھ کر تنز کرتے ہوئے بول رہی تھی۔
“بالکل، میری بہن صحیح کہہ رہی ہے!”
“اس گھٹیا انسان کی آوارہ گردیاں دیکھو، اور اس کا اکڑا ہوا انداز دیکھو۔ اکڑ تو ایسے دکھاتا ہے جیسے بڑا ہی کوئی نیک فطرت انسان ہو!”
سبحان خان اس پر طعنہ کستے ہوئے اپنے منہ پر لگے خون کو صاف کر رہا تھا، جو مائد خان کے مکے کھانے کے بعد نکل رہا تھا۔ آغا جان تو اپنے بیٹے کو حیران نظروں سے دیکھے جا رہے تھے، انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کا بیٹا کبھی کچھ غلط کر سکتا ہے، مگر حالات مائد خان کے خلاف تھے۔
“چپ… دونوں چپ کر جاؤ!”
“کوئی بات نہیں اگر لپسٹک کا نشان لگا ہے، تو اس سے کیا ہوتا ہے۔ مرد ہے، اسے یہ سب کچھ شعبہ دیتا ہے!”
مونا کی ماں نے بات کو رفع دفع کر دیا تھا۔ ان کے نزدیک یہ کوئی بڑا عمل نہیں تھا، کیونکہ ایسے کارنامے اس کے بیٹے روز انجام دیتے تھے، تو اس کے نزدیک یہ بات غلط کیسے ہو سکتی تھی۔ مائد خان خاموش تھا۔
“ہاں، تو میں نے کب کہا ہے کہ یہ غلط ہے؟”
“مگر مجھے شادی سے انکار کر کے خود پارسائی بننے کی کوشش نہ کرے!”
“میں تو خود اس کو یہ سب کرنے کی اجازت دے دوں گی، کیونکہ ہمارے روایتی مرد ایسے ہی ہیں۔ ان کے لیے یہ شان و شوکت کا باعث ہے!”
“یہی خود کو ہر بار ثابت کرتا ہے کہ یہ سب سے الگ آسمان سے اتری ہوئی مخلوق ہے، ایسے مردوں سے نفرت کرتا ہے۔”
مونا نے اپنی عقل و ذہانت سے جو باتیں کہی تھیں، آغا جان وہ سننے پر مجبور تھے جبکہ یہ سب باتیں شرم کے لائق تھیں، جن کو وہ بڑوں کے بیچ میں بڑے فخر سے بولے جا رہی تھی۔
“اگر ثابت کرنا ہو تو چند منٹوں میں خود کو ثابت کر دیتا کہ میں تمہارے بیٹوں اور تمہارے گھر کے مردوں کی سوچ سے مختلف ہوں مگر میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ تم لوگ جو کچھ سوچنا چاہتے ہو، سوچو، میں صفائی نہیں دوں گا۔”
مائد کا لہجہ مکمل طور پر اٹل اور بے پرواہ تھا، اس کی نظر میں صفائی دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
“جب صفائی کے لیے کچھ ہے ہی نہیں تو کیا دو گے؟”
“اب ایٹیٹیوڈ ہے، جتنا دکھا سکتے ہو دکھا لو!”
مونا کی زبان میں تیزابیت اور طنز تھا، وہ مائد کو چیلنج کر رہی تھی۔ اس کے الفاظ نے واضح طور پر اس کی بے نیازی اور تیز طبیعت کو ظاہر کیا۔
“لڑکی! چپ کر جاؤ!”
آغا جان کا غصہ عروج پر تھا، ان کی آواز میں اتنی شدت تھی کہ سب خاموش ہو گئے۔ مونا کی ماں نے چالاک لومڑی جیسا دماغ استعمال کیا اور سوچا کہ آغا جان غصے میں آ چکے ہیں نہیں سچ میں رشتہ توڑ ہی نہ دیں۔
“مونا چپ کر جا، تم دونوں لڑائی جھگڑا کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟”
“بڑوں کا کوئی لحاظ بھی ہے یا نہیں؟”
مونا کی ماں نے فوراً اس کی زبان بند کر دی، تاکہ مزید بحث نہ ہو اور حالات بگڑیں نہ۔
“بھائی صاحب، آپ بتائیں کب ان دونوں کو شادی کے بندھن میں باندھنا ہے؟”
“کیونکہ ایسے تو یہ لڑائی جھگڑے کرتے ہی رہیں گے۔”
مونا کی ماں نے اس موقع پر عقل مندی سے بات کی، اور اپنی بیٹی کے رشتہ کو کامیاب بنانے کے لیے حالات کو بگاڑنے سے بچنا چاہا۔
“اب تو مجھے بھی لگتا ہے کہ ان کو نکاح کے بندھن میں باندھ دینا چاہیے، نکاح میں بڑی طاقت ہوتی ہے، یہ خود بخود سدھر جائیں گے۔”
آغا جان کا فیصلہ مستحکم اور واضح تھا، اور ان کا خیال تھا کہ شادی کی طاقت ہی ان دونوں کو بہتر بنا دے گی۔
“مگر آغا جان…”
مائد کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر اس کے بولنے سے پہلے ہی آغا جان نے اسے خاموش کر دیا۔
“خاموش! ایک لفظ بھی مت بولنا!”
“تم نے جتنا بولنا تھا، بول لیا!”
آغا جان کی آواز میں اتنی شدت تھی کہ مائد کو اپنی زبان بند کرنی پڑی۔ مائد کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر آغا جان نے فوراً اسے چپ کرا دیا۔ مائد کو صفائی دینے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔کبھی کبھی بڑے بہت خود غرض ہو جاتے ہیں۔ بچوں کی خوشیاں نہیں دیکھتے۔ زبردستی فیصلے تھوپ دیتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کا درد بچے ساری زندگی اٹھاتے ہیں۔
مائد غصے سے روم سے نکلتا ہوا راہداری سے ہوتا ہوا اپنی گاڑی میں جا بیٹھا تھا۔دروازہ فوراً سے کھول دیا گیا۔ گاڑی تیز سپیڈ سے دوڑاتا ہوا وہ گھر سے نکلا تھا۔ اس کی طبیعت ابھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں تھی مگر غصے کی شدت کو کم کرنے کے لیے وہ سارا غصہ گاڑی کی رفتار پر اتار رہا تھا۔بدوسری جانب آغا جان اپنی بات پر قائم تھے۔
“آپ لوگ گھر جائیں، ہم آج آپ کے گھر آ رہے ہیں اور انشاءاللہ اسی ہفتے ہم شادی کی تاریخ مقرر کر دیں گے۔”
آغا جان نے فیصلہ سنایا۔ ان کی آواز میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی، وہ اپنے فیصلے پر پختہ تھے۔ مورے خاموشی سے اپنے شوہر کے فیصلے کو سن رہی تھی۔ مورے نے خاموشی سے اپنے شوہر کی باتیں سنیں۔ دل ہی دل میں پریشان تھی کہ اس کے بیٹے کا دل دکھی ہے اس کا بیٹا اس رشتے سے راضی نہیں مگر وہ کیا کرتی۔ آج تک اس نے کبھی اپنے شوہر کے فیصلے کے خلاف زبان نہیں کھولی تھی۔ اپنے بیٹے کا درد بانٹنا چاہتی تھی مگر اپنے شوہر کے فیصلے کے خلاف کچھ نہیں کہہ سکتی تھی۔ مونا اس کی ماں، اور سبحان خان سب رخصت ہو گئے۔ ان کے چہرے پر اطمینان نہیں تھا، لیکن وہ کچھ نہیں کہہ سکے۔ مورے پریشان ہو کر آغا جان کے پاس باہر ہال کے صوفوں پر بیٹھ کر کچھ کہنا چاہتی تھی۔ مورے کا دل پریشانی سے بھرا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ آغا جان سے بات کرے، مگر وہ ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔
“کچھ کہنا چاہتی ہو؟”
آغا جان نے تلخ لہجے میں مائد کی ماں کی جانب دیتے ہوئے سوال کیا، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہیں۔
“جی، میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ہمارا بیٹا اس شادی سے خوش نہیں ہے، ساری زندگی کیسے گزارے گا؟”
مائد کی ماں نے بڑی ہمت جٹاتے ہوئے اپنے بیٹے کا دفاع کیا، اپنے بیٹے کی حالت پر تشویش ظاہر کی۔
“تمہارا بیٹا ہماری ناک کٹوانا چاہتا ہے اور تم اپنے بیٹے کی طرفداری کر کے میری پگ پر کیچڑ اچھالنا چاہتی ہو!”
آغا جان غصے میں بھرے ہوئے تھے، اور ان کی آنکھوں کی سرخی بڑھ گئی تھی۔ ان کے چہرے پر غصہ واضح تھا۔
“میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی عظمت بنائے رکھے، آپ کی شان ہمیشہ بلند رہے، مگر مجھ سے اپنے بیٹے کا درد نہیں دیکھا جاتا۔ وہ بہت پریشان ہے۔”
مائد کی ماں نے دل کی بات کی، لیکن اس کا لہجہ انتہائی احترام سے بھرپور تھا۔
“مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ تم اپنے بیٹے کو سمجھانے کے بجائے اس کی طرفداری کر رہی ہو، اسے شہ دے رہی ہو!”
آغا جان نے غصے سے کہا۔ ان کے لہجے میں سختی تھی۔ آغا جان کو لگ رہا تھا جیسے آج ان کی بیوی بھی ان کے حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہے ان کے فیصلے کے خلاف جا رہی ہے جبکہ وہ بیچاری تو اپنی ممتا کے ہاتھوں مجبور تھی۔
“ماں ہوں، کیا کروں، بہت کوشش کی ہے اسے سمجھانے کی اور خود کو سمجھانے کی، مگر نہیں سمجھا پائی۔”
“آپ نے خود دیکھا، وہ لڑکی ہمارے بیٹے کے لائق نہیں۔ کہاں ہمارا سنجیدہ، سلجھا، نیک فطرت بیٹا، کہاں وہ لڑکی جسے بڑوں کے بیچ میں کھڑے ہو کر بات کرنے کی تمیز نہیں ہے!”
یہ رشتہ مونا کے باپ اور آغا جان نے بچپن میں طے کیا تھا، لیکن مورے کو کبھی بھی مونا اپنے بیٹے کے لیے پسند نہیں آئی مگر اپنے شوہر کی خاطر مورے نے ہمیشہ اپنے بیٹے کے سامنے اس بات کا ذکر تک نہیں کیا تھا۔
“وہ لائک ہے یا نہیں، اس کا سوچنے کا وقت گزر چکا۔ اب وہ تمہارے بیٹے کی منگ ہے، اور تمہارے بیٹے کو ہر حال میں یہ شادی کرنی ہے!”
“میں برادری میں اپنی ناک نہیں کٹوا سکتا، لوگ باتیں کریں گے، تانے سننے پڑیں گے، اور میں یہ نہیں سن سکتا۔”
آغا جان اپنے فیصلے پر پوری طرح سے قائم تھے۔
“آپ کا فیصلہ چاہے آپ کے بیٹے کے لیے زندگی بھر کا روگ بن جائے، تب بھی آپ اپنا فیصلہ نہیں بدلیں گے؟”
مورے کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اپنے شوہر کی جانب دیکھتے ہوئے وہ شکوہ کر رہی تھی۔
“میرے لیے میری روایت سے بڑھ کے کچھ نہیں ہے۔ اگر تم لوگوں نے اس رشتے کو ختم کرنے کی کوشش کی، تو میں تم لوگوں سے ہر رشتہ توڑ لوں گا!”
آغا جان نے سختی سے کہا، اور ان کی آواز میں اتنی شدت تھی کہ مورے کو دھچکا لگا۔
“واہ! میری زندگی بھر کی عزت، احترام اور فرمانبرداری، وفاؤں، کا یہ صلہ دے رہے ہیں؟”
“آپ سے آج زندگی میں پہلی بار میں نے کچھ کہنے کی ہمت کی ہے، تو رشتے توڑنے کی دھمکی دے رہے ہیں؟”
مورے دل برداشتہ ہو کر روتے ہوئے اپنے شوہر کی جانب دیکھ رہی تھی۔
“میں تمہاری وفاؤں سے، فرمانبرداری سے اور احترام سے اچھی طرح واقف ہوں، اور دل سے قدر کرتا ہوں، مگر جو تم وفاؤں کے بدلے مانگ رہی ہو، وہ میں نہیں دے سکتا۔”
آغا جان نے بڑی سختی سے کہا، وہ اپنے فیصلے پر قائم تھے۔ ایموشنز میں بہہ جانے والے نہیں تھے۔ اپنے فیصلوں پر ڈٹ جانے والا سخت ضدی پٹھان تھا۔ جو اپنی بات اور اپنے فیصلوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا تھا۔
“مت کریں خان، ایسا!”
“وہ ہمارا بیٹا ہے، کچھ رحم کریں!”
مورے نے بے بسی سے درخواست کی، اور ان کے آنسو مزید بہنے لگے تھے۔
“بیٹے نے اگر منگ کو چھوڑ دیا، تو اس کے بھائی اس کے دشمن بن جائیں گے۔ پاگل بن کر، جذباتی بن کر فیصلہ نہ کرو!”
“مردوں کی طرح سوچو!”
آغا جان نے غصے میں آ کر کہا، اور وہ اپنے بیٹے کی زندگی کے بارے میں فکر مند تھے۔ مورے کو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی کہ آغا جان بے شک زبان سے کچھ نہیں کہتے تھے مگر ان کے دل میں ایک ڈر تھا کہ کہیں اس رشتے کو توڑنے سے مونا کے بھائی اور خاندان والے اس گھر کے اکلوتے چراغ کے دشمن نہ بن جائیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی درخزائی پتہ نہیں کہاں سے نازل ہو گیا تھا۔ وہ مورے اور آغا جان کی ساری بات سن چکا تھا۔
“آپ لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مائد بھائی بہت بہادر ہے وہ سب کا سامنا کر لیں گے… مگر آپ بھائی کی زبردستی شادی کروا کر غلط کر رہے ہیں!”
“تم چپ کر جاؤ! اس معاملے میں بولنے کا حق تمہیں ابھی نہیں ہے!”
درخزائی کا بیچ میں بولنے پر آغا جان نے سختی سے اسے منع کیا۔
“نہیں، آج میں بولوں گا!”
“آپ مائد بھائی کے ساتھ غلط کر رہے ہیں۔ بھائی اس شادی سے خوش نہیں ہیں! آپ کیوں نہیں دیکھ رہے؟”
“اور کیوں ڈر رہے ہیں؟”
“مائد بھائی بہادر، شیر ہیں، وہ سب کا مقابلہ کر لیں گے۔ کوئی میرے بھائی کے سامنے آ کر تو دکھائے۔ بھائی اکیلے نہیں ہیں، میں بھی ہوں اپنے بھائی کے ساتھ، کاٹ کے رکھ دوں گا اگر کسی نے میرے بھائی کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا۔”
درخزائی کا پٹھانی خون جوش مارتے ہوئے کھول رہا تھا۔
درخزائی نے پوری ہمت سے اپنی بات آغا جان کے سامنے رکھی۔ درخزائی نے آغا جان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پہلی بار مائد کی طرفداری کی۔ اسے اپنے بھائی کی بہادری پر پورا یقین تھا کہ وہ سب کو دیکھ لے گا۔
“میں نے کہا… تم چپ کر جاؤ!”
“اس معاملے میں بولنے کا حق تمہیں ابھی نہیں ہے۔ گھر کے چھوٹے بیٹے ہوں چھوٹے بن کر رہو۔ دوبارہ اگر میرے فیصلے میں بولنے کی جرات کی تو معافی نہیں ملے گی!”
آغا جان غصے سے حلق کے بل چلائے۔ آغا جان درخزائی کو اس معاملے سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ آغا جان نہیں چاہتے تھے کہ گاؤں میں دشمنی کی لہر چلے اور درخزائی کی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر آغا جان کو اپنے چھوٹے بھائی کی یاد آگئی تھی۔ درخزائی کے بابا بھی اسی طرح سے تیز غصے کے مالک تھے۔ آغا جان کو درخزائی کے غصے سے ڈر لگنے لگا تھا۔ آغا جان نہیں چاہتے تھے کہ جوان خون کوئی غلط قدم اٹھا بیٹھے۔ ان کے بھائی کی ایک چھوٹی سی نشانی تھی ان کے پاس، اور آغا جان اسے کھونا نہیں چاہتے تھے۔ آغا جان کے غصے سے بولنے پر درخزائی پاؤں پٹختا وہاں سے چلا گیا تھا۔
“مجھے لگ رہا ہے کہ بدگمانیوں کی ہوا چل پڑی ہے۔”
آغا جان صوفے سے اٹھتے ہوئے اپنی بیوی کی جانب دیکھتے ہوئے بولے۔
“میں یہ برداشت نہیں کروں گا!”
وہ کہتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے جبکہ مورے وہیں پر بیٹھی ہوئی آنسو بہا رہی تھی آج ہمت کر کے بولنے کے باوجود بھی وہ اپنے بیٹے کے لیے کچھ نہیں کر پائی تھی وہ ایک کمزور عورت تھی ہار گئی، وہ خود کو کوس رہی تھی۔
°°°°°°
زرام، ملیحہ کو لے کر اس کے اماں ابا کے گھر آیا تو دروازے پر ہی خوشیوں کی جھلک تھی۔ ملیحہ کے والدین نے اپنی بیٹی کو ہنستے مسکراتے، اتنی بڑی گاڑی سے اترتے دیکھا تو دل بھر آیا۔ آنکھوں میں شکر اور دل میں دعائیں تھیں، جیسے بیٹی کے نصیب پر رشک آ رہا ہو۔ فاریہ، اپنے گھر جا چکی تھی۔ ماحول پرسکون تھا ورنہ آتے ہی اس نے چھیڑ چھاڑ شروع کر دینی تھی مگر فون پر ہی اسے پتہ چل گیا تھا کہ فاریہ کو اس کے بابا نے واپس بلوا لیا ہے۔ اس کے جانے سے وہ اداس تو تھی مگر اس کی شادی میں موجود تھی، ملیحہ کے لیے اتنا ہی کافی تھا۔
ملیحہ کے ماں باپ نے اپنی استطاعت کے مطابق داماد کی خوب آؤ بھگت کی۔ سادہ سی میز پر خلوص کے رنگ تھے، اور زرام نے بھی کسی طرح کا تکبر ظاہر نہیں کیا۔ وہ جانتا تھا، اس کی بیوی اسے یونہی غصے سے دیکھتی رہتی ہے، اس لیے اس نے خود کو بالکل نرم رکھا۔ غلطی سے بھی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا ورنہ اس کی سپائسی چلی پھر سے بھڑک کر سارا ماحول خراب کر سکتی تھی۔
کچھ دیر بیٹھنے اور رسمی باتوں کے بعد، زرام نے نرمی سے اجازت چاہی۔
“اچھا، اب ہمیں اجازت دیں، ہم چلتے ہیں۔”
اس نے مہذب لہجے میں کہا۔
ملیحہ نے فوراً بات کاٹ دی۔
“نہیں، مجھے ابھی رکنا ہے، آپ چلے جائیں، میں دو دن بعد آؤں گی۔ مجھے اماں ابا کے پاس کچھ وقت گزارنا ہے۔”
یہ سن کر زرام جیسے ساکت ہو گیا۔ دل میں ایک جھٹکا سا لگا۔ ابھی کل ہی تو یہ اس کی نئی نویلی دلہن بنی تھی، جس کے ساتھ کے لیے اس نے دعاؤں میں ہاتھ اٹھائے تھے، منتیں مانگی تھیں۔ اب وہ اسے کیسے اکیلا چھوڑ کر چلا جاتا؟
ایسا کیسے ہو سکتا تھا؟
“نہیں، ابھی تو ہمیں گھر جانا ہے، ہم اپنی حویلی بھی نہیں گئے، میں تمہیں بعد میں پھر سے ملانے لے آؤں گا۔”
زرام نے اپنے دھڑکتے دل کو سنبھالتے ہوئے نرمی سے کہا۔
“نہیں، مجھے ابھی رکنا ہے، آپ چلے جائیں۔”
وہ اپنی ماں سے لپٹ کر اٹل لہجے میں بولی۔
یہ سن کر زرام کی سانسیں جیسے رکنے لگیں۔ اس کے دل کو کچھ ہونے لگا، ابھی تو ملیحہ اس کی زندگی میں آئی تھی، اور اب وہ اسے چھوڑ کر کیسے جا سکتا تھا؟
“نہیں بیٹا، تمہیں ابھی اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہیے۔”
“وہ کہہ رہا ہے تمہیں پھر سے ملوانے لے آئے گا، تو تمہیں جانا چاہیے۔”
اس کی ماں نے نرمی سے سمجھایا۔
“ہاں بیٹا، تمہاری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے، تمہیں سائیں کے ساتھ جانا چاہیے۔”
اس کے بابا نے بھی ویل چیئر پر بیٹھے ہاں میں ہاں ملائی۔
“کیوں؟ آپ لوگوں کو میں یہاں اچھی نہیں لگ رہی؟”
“آپ لوگ مجھے بھیج کر جان چھڑانا چاہتے ہیں؟”
ملیحہ نے رو دینے والی شکل بنا لی۔
“نہیں میرا بچہ، ایسا کچھ نہیں ہے!”
“ہماری بیٹی تو ہمارے گھر کی رونق ہے۔”
“نصیبوں سے ہمیں یہ لمحے نصیب ہوئے ہیں، مگر اب تمہارا شوہر تمہارا انتظار کر رہا ہے، اور اچھی بیٹیاں شوہر کے ساتھ خوشی سے جاتی ہیں، ضد نہیں کرتیں۔”
اس کی ماں نے بڑی سمجھداری سے اسے پیار سے سمجھایا۔
ملیحہ نے تھوڑی دیر ضد کی، آنکھیں بھی نم ہوئیں، مگر آخرکار ماں کے کہنے پر خاموشی سے زرام کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئی۔ منہ پھولا ہوا تھا، قدم بوجھل تھے، لیکن گاڑی میں جا بیٹھی۔ گاڑی جب کچی سڑک سے نکل کر پکی سڑک پر آئی، تو زرام نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا۔ ملیحہ کا چہرہ اب بھی ناراض تھا، وہ اسے دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔ جیسے سب قصور اسی کا ہو۔ زرام نے آہستہ سے سانس لی، اور دل ہی دل میں خود کو تسلی دی کہ یہ ناراضگی جلد ہی محبت میں بدل جائے گی۔ مگر اسے تو سو واٹ کا جھٹکا تب لگا جب اس نے ملیحہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور ملیحہ نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ کر کھا جانے والی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
“مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش مت کرنا!”
“جب میں کہہ رہی تھی کہ مجھے دو دن کے لیے رک جانے دو، تو تمہاری جان نکل گئی، کیا مجھے لے جا کر اچار ڈالنا ہے؟”
“تمہاری سوچ بھی روایتی شوہروں جیسی ہے۔ بس معصوم سی لڑکی کو شادی کر کے لے جاؤ اور پھر ماں باپ کے پاس رکنے نہ دو!”
“جیسے لڑکی کو ہمیشہ کے لیے خرید لیا ہو!”
وہ غصے سے مسلسل بولتی چلی گئی، اور زرام بیچارا بس چپ چاپ سن رہا تھا۔
“ایسا بالکل نہیں ہے!”
“میں تمہیں ملوانے کے لیے دوبارہ لے آؤں گا، تم اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو؟”
“میں غصہ کر رہی ہوں، کبھی سوچا ہے، اگر لڑکوں کو اس طرح ماں باپ سے دور رہنا پڑے، تو ان پر کیا گزرے؟”
“میں تو سالوں بعد اپنے ماں باپ کے ساتھ رہ پائی تھی، مگر تم جیسے عذاب نے آ کر فوراً شادی کر لی، اور اب اگر میں دو دن کے لیے رکنے کی بات کروں، تو بھی نہیں!”
“اففففف… میرے اللہ! تم اتنا غصہ کیسے کر لیتی ہو؟”
ذرام نے کانوں پر ہاتھ رکھے اور توبہ توبہ کرتے ہوئے کہا۔
“میری بات سنو… میرا دل تمہارے بغیر نہیں لگتا، اس لیے تمہیں چھوڑ کر آنا نہیں چاہتا تھا یار۔ ابھی تو میں نے تمہیں جی بھر کے دیکھا بھی نہیں اور تم ہو کہ مجھ سے دور جانے کی باتیں کر رہی ہو۔”
ذرام اپنی سیٹ سے تھوڑا جھکتے ہوئے شرارت سے سرگوشی کرتا بولا تو ملیحہ کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا۔
“اپنی سیٹ پر آرام سے بیٹھے رہو!”
“میں اس وقت بالکل بھی موڈ میں نہیں ہوں کہ تمہاری فضول باتیں سنوں۔”
وہ ناک سکوڑتے ہوئے انگلی اس کے سینے پر رکھ کر اسے پیچھے کرتے ہوئے بولی۔
“فضول حرکت نہیں کر رہا، محبت کا اظہار کر رہا ہوں، انرومینٹک کھڑوس لڑکی!”
“تم بچپن سے کھسکے ہوئے ہو یا بعد میں کوئی ری ایکشن ہو گیا ہے؟”
“نہیں… تمہیں دیکھ کر کھسک گیا ہوں!”
وہ ہنستے ہوئے اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔
“میں اس وقت دکھی ہوں کیونکہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر جا رہی ہوں، اور تمہیں رومینس اور مذاق سوجھ رہا ہے؟”
“ہاں تو کہاں لکھا ہے کہ جب لڑکی کو اس کے ماں باپ کے گھر سے واپس لے جا رہے ہوں تو لڑکا رومینٹک باتیں یا مذاق نہیں کر سکتا؟”
وہ اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے گہری نظروں سے اسے دیکھتا ہوا دانت نکالنے لگا۔ اسے سپائسی چلی کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے بہت مزہ آ رہا تھا وہ جان بوجھ کر پنگے لے رہا تھا۔
“تمہارے دانت کچھ زیادہ ہی نہیں نکلتے؟”
“نہیں، میرے دانت تو وقت پر اور ضرورت کے مطابق نکلتے ہیں، تم نے اپنے دانتوں کو اندر رکھا ہوا ہے، اسی لیے تمہیں ایسا لگتا ہے۔”
“قسم سے، تم اب مجھے اب نارمل انسان نہیں لگتے!”
“قسم سے تم مجھے تیکھی لاہوری مرچی لگتی ہو!”
“دھیان رکھنا، کہیں تمہارا منہ نہ جل جائے۔”
“ہائے! کبھی منہ لگو تو سہی، منہ جل بھی گیا تو کوئی غم نہیں۔”
” استغفراللہ!”
“کیا ہوا؟”
“کچھ نہیں!”
وہ شرم سے لال ہوتے ہوئے رخ موڑ گئی۔
“پی لوں… تیرے گیلے گیلے ہونٹوں کی سرگم، پی لوں… ہے پینے کا موسم!”
وہ جان بوجھ کر رومینٹک سونگ بےباکی سے گنگنانے لگا، اسے معلوم تھا کہ اس کی سپائسی چلی اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گی مگر اسے تپا کر جھگڑا کرنے کی لت لگتی جا رہی تھی ڈاکٹر زرام لغاری کو۔
“بہت ہی چھچھورے ہو، اور اس سے بھی زیادہ چھچھورے تمہارے سونگ!”
“تمہیں شرم نہیں آتی ایسے بےہودہ گانے گاتے ہوئے؟”
“اتنا رومینٹک سونگ ہے، اور تمہیں پتہ ہے کتنا پاپولر ہے؟”
“لوگوں نے ملینز میں ڈاؤنلوڈ کیا ہے!”
“استغفراللہ، استغفراللہ!”
“لعنت ہے ایسے سونگ پر، اور ان لوگوں پر بھی جو اسے سنتے ہیں!”
“تم اِن ڈائریکٹلی مجھ پر لعنت بھیج رہی ہو، میں تو بار بار سنتا ہوں۔ مجھے یہ سونگ بہت پسند ہے!”
“تمہیں شرم نہیں آتی اپنے شوہر پر لعنت بھیجتے ہوئے؟”
“شوہر کو شرم نہیں آتی ایسا گھٹیا گانا سنتے ہوئے؟”
“اس میں کیا برائی ہے یار؟”
“تم اس کے لیرکس دیکھو، کمال ہیں!”
“کمال تو تم بھی ہو، جس کی اتنی گھٹیا چوائس ہے!”
“نہ یار، ایسے نہ بولو۔ میری چوائس تو تم ہو، اور تم گھٹیا بالکل نہیں ہو… کمال چیز ہو میرے پٹاخے!”
“پٹاخے؟”
“چھی!”
“قسم سے، گلی کے چھچھورے عاشقوں جیسے الفاظ استعمال کرتے ہو، کون مانے گا کہ تم ایک پڑھے لکھے ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہو!”
“عاشق، عاشق ہوتا ہے… چاہے ڈاکٹر ہو، وکیل ہو یا پرائم منسٹر… عشق کی زبان تو ایک ہی ہوتی ہے۔”
وہ ہاتھ اٹھا کر جان بوجھ کر شاعرانہ انداز اپناتے ہوئے اُسے تنگ کر رہا تھا۔ جتنا وہ تنگ کر رہا تھا، اُتنی ہی وہ چڑ کر غصے سے بول رہی تھی۔
“اچھا سنو…”
“کس کے بارے میں کیا خیال ہے؟”
وہ شرارت سے آئی برو اٹھا کر بولا۔
“کس مطلب؟”
“ہائے… تمہیں ‘کس’ کا نہیں پتہ؟”
شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے اُسے شرمندہ کر کے لال ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔
“ایک لگاؤں گی کان کے نیچے اگر کچھ چھچھوری بات کی تو!”
“سیدھا دیکھ کر گاڑی چلاؤ، ٹھرکی انسان!”
“ارے! اپنی بیوی کے ساتھ ایسی باتیں کرنا تو ثواب ہوتا ہے۔”
“ثواب کے لیے مسلہ بچھا لو، اُس سے بھی مل جائے گا!”
“نہیں… بیوی سے پیار کرنے میں جو ثواب ملتا ہے، وہی چاہیے۔”
“میرے دل کو، میری روح کو سکون ملتا ہے!”
“چپ چاپ گاڑی چلاؤ! ورنہ تمہاری روح یہیں پرواز نہ کر جائے!”
“کتنی ظالم ہو، شوہر کی جان لینے کی بات کر رہی ہو۔”
زرام نے بیچارے سے انداز میں منہ بنا کر کہا۔
“شوہر ہے ہی اسی قابل، کہ اس کی جان نکال لی جائے!”
ملیحہ نے ناک سکوڑ کر تپے تپے لہجے میں جواب دیا۔
زرام تھوڑا جھک کر، سرگوشی کے سے انداز میں بولا:
“نکال لو جان… مگر… محبت سے، دل سے لگا کر… دھیرے دھیرے…”
ملیحہ کا چہرہ پل میں سرخ ہوا، مگر وہ ہنسی نہیں۔
“ایک چماٹ پڑی تو وہ بھی اتنی ہی دھیرج سے پڑے گی، سمجھے؟”
زرام نے آنکھوں میں شرارت بھرتے ہوئے کہا:
“ہائے… تمہارے ہاتھ کی چماٹ بھی محبت لگتی ہے!”
“ایک بات بتاؤ۔”
ملیحہ نے نرم آواز میں کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
“دو پوچھو میری جان۔”
زرام نے مسکراتے ہوئے پیار سے جواب دیا۔
“حویلی میں کون کون رہتا ہے؟”
ملیحہ کا لہجہ سنجیدہ سا ہو گیا تھا۔
“بہت سارے لوگ رہتے ہیں، مگر تمہارے لیے میں ہی خاص ہوں، اور دوسرے نمبر پر زیغم بھائی اور دانیا بھابھی تمہیں ان کے قریب ہی رہنا ہے!”
زرام سیریس ہو کر بولا۔
“دانیا بھابھی؟ مطلب وہ تمہاری بھابھی ہے؟”
ملیحہ نے حیرت سے سوال کیا۔
“مگر وہ تو زیغم سائیں کی بہن ہے نا تو تمہاری بھابھی کیسی ہوئی؟”
“تم بھی تو زیغم سائیں کے بھائی ہو، اس حساب سے تو وہ تم لوگ کی بہن ہوئی۔”
زرام نے مسکرا کر کہا:
“نہیں، میں اور زیغم بھائی کزنز ہیں۔ مگر زیغم بھائی میرے لیے سگے بھائی سے بھی بڑھ کر ہے اور دانیا مجھے اپنی سگی بہن کی طرح عزیز ہے۔”
وہ کچھ سوچتے ہوئے پریشان سا چہرہ بنا کر بولا:
“بھابھی تھی… اب وہ میری بہن ہی ہے، کیونکہ میرے بھائی اور دانیا کے بیچ میں علیحدگی ہو چکی ہے۔”
“مطلب زیغم سائیں اور تم سگے بھائی نہیں ہو؟”
“نہیں، میں چچا کا بیٹا ہوں۔”
زرام نے اس کی نظروں میں سچائی کے ساتھ کہا۔
ملیحہ نے کچھ لمحوں کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر دھیرے سے کہا:
“تمہاری باتوں میں کچھ خاص بات ہے۔”
زرام نے آہستہ سے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا:
“ملیحہ، میرا ہاتھ چھوڑنا مت۔ یقین رکھنا، نہ میں کبھی تمہیں دھوکہ دوں گا اور نہ کسی موڑ پر اکیلا چھوڑوں گا لیکن تمہیں یہ بھی جاننا ہوگا کہ بہت کچھ ایسا ہے جسے جان کر تمہیں دکھ بھی ہوگا، دھچکا بھی لگے گا۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو تمہیں نہیں اپنائیں گے، لیکن تمہیں ان کی باتوں کو دل پر نہیں لینا۔”
“تمہارے لیے یہ کافی ہونا چاہیے کہ میں نے تمہیں پورے دل سے چاہا ہے اور اپنا بنایا ہے۔”
وہ اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے، آنے والے وقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اسے سمجھا رہا تھا۔ جانتا تھا کہ حویلی جاتے ہی ایک طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
“تمہارے رشتے اتنے الجھے ہوئے ہیں۔ مجھے سمجھ تک نہیں آ رہا، میں ان سب کا سامنا میں کیسے کروں گی؟”
ملیحہ پریشانی کے عالم میں بولی۔
زرام نے اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑا اور جواب دیا:
“میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں، تمہاری ہر الجھن میں تمہارے ساتھ ہوں۔ ہر پریشانی مجھ سے گزر کر تم تک پہنچے گی۔”
اس نے یقین اور بھروسے سے اسے تسلی دی، اور ملیحہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تمہارے ماں باپ صحیح سلامت ہیں؟”
ملیحہ نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
“الحمدللہ۔”
زرام نے نظریں جھکاتے ہوئے جواب دیا۔
“تو پھر وہ تمہاری شادی میں شرکت کرنے کے لیے کیوں نہیں آئے؟”
اس نے تجسس سے پوچھا۔
“کیونکہ وہ میری شادی سے خوش نہیں تھے۔”
زرام نے آہستہ سے جواب دیا۔
“تو پھر تمہیں ان کے خلاف جا کر شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔”
ملیحہ نے سوچتے ہوئے کہا۔
“یہ میری محبت تھی۔ میں تمہیں نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔”
زرام نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔
“اور اب وہ تمہاری سرکشی کا سارا الزام مجھ پر ڈالیں گے اور روایتی حویلیوں کی طرح سزاؤں کی مستحق بہو ٹھہرے گی۔”
“ایسا کبھی نہیں ہوگا، تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔”
زرام نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے کہا۔
“میں ڈر نہیں رہی… کیونکہ اگر میرے ساتھ تو کسی نے ایسا سلوک کیا، تو میں ہرگز برداشت نہیں کروں گی۔”
پوری ہمت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
“ویری گڈ۔”
زرام مسکرا کر بولا:
“ایسا ہی کرنا چاہیے!”
“اپنے گھر والوں کو بتا دینا، میں مجبور بے بس لڑکی بالکل نہیں ہوں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا، ان کے بیٹے نے پسند کیا ہے تو جو سزا دینی ہے اپنے بیٹے کو دیں، مجھے نہیں۔”
ملیحہ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔ زرام کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
“کیوں ہنس رہے ہو؟”
“میں نے کوئی لطیفہ سنایا؟”
“نہیں، کچھ نہیں…”
زرام نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا، اور پھر اپنے بھائی کی بات کو یاد کرتے ہوئے کہا:
“تم واقعی اس حویلی کے لیے پرفیکٹ ہو۔ تم میں اپنی بات رکھنے کا دم ہے۔”
وہ ہنسی روک نہ سکا، کیونکہ ملیحہ سچ میں سب کے کسبل نکالنے کی ہمت رکھتی تھی۔ اس حویلی کو ایک ایسی ہی لڑکی کی ضرورت تھی۔ یہاں ہمیشہ معصوموں پر ظلم ڈھایا گیا تھا، اور دو مظلوم پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ ایک مہرو النساء اور دوسری دانیا۔
اور اب ملیحہ ان سب کے لیے انعام بن کر جا رہی تھی۔ گاڑی حویلی پہنچ چکی تھی۔ دھماکے شروع ہونے والے تھے، اور حویلی والوں کی خیر نہیں تھی۔ کس کو پتہ تھا کہ ڈاکٹر زرام لغاری اپنی بیوی کو نہیں ایٹم بمب کو لے کر آ رہا ہے؟
دل میں ایک جلال تھا، نظر میں اپنی عزت اور حقوق سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ لڑکی کبھی کسی کے سامنے سر نہیں جھکاتی تھی، اور نہ ہی کسی کے ظلم کو خاموشی سے برداشت کرتی۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ تمام لڑکیاں اپنی طاقت اور اہمیت کو پہچانیں، اور زندگی میں کبھی بھی اپنے حقوق سے دستبردار نہ ہوں۔
بیٹیوں کو یہ سکھاؤ کہ اپنے حق کے لیے لڑنا ضروری ہے، اور کبھی بھی اپنی عزت کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ وہ زمانے گئے جب لڑکیاں بیل بکریوں کی طرح مار کھایا کرتی تھیں۔ اب اپنی سیلف ریسپیکٹ کو سب سے بڑھ کر عزیز رکھنا ہوگا۔ لڑکیوں کو یہ سکھاؤ کہ وہ کسی کی جاگیر نہیں ہیں، اور وہ اپنی زندگی میں اپنی مرضی سے فیصلے کریں۔
بیٹیوں کو اعتماد دو، انہیں سکھاؤ کہ وہ اپنے حق کے لیے لڑیں، اور اس لڑائی میں انہیں اپنے ماں باپ کا مکمل ساتھ ملے۔ ماں باپ کے دیے گئے تحفظ کی بچیوں کی آنکھوں میں چمک ہو۔ شوہر کی خدمت کرنا، ادب کرنا ضروری ہے، لیکن اگر کسی کے سامنے سر جھکانے کا سوال ہو تو سر اُٹھا کر ڈٹ جانا چاہیے۔
ماں باپ کو اپنی بیٹیوں کے حق میں کھڑا ہونا چاہیے، ورنہ لوگ انہیں ایندھن بنا کر جلا دیتے ہیں۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو اتنا مضبوط بنانا ہے کہ وہ کسی بھی مشکل کا سامنا کر سکیں، اور دنیا کے سامنے اپنی حقیقت کو ثابت کر سکیں۔
خدارا بیٹیوں کو یہ مت سکھاؤ کہ جو بھی ہو جائے برداشت کرو، مر جاؤ مگر اس گھر سے قدم کبھی مت نکالنا، ایسے کئی بیٹیوں کے جنازے اٹھتے دیکھے ہیں۔
بیٹیوں کو سکھاؤ کہ بیٹا تمہاری عزت ہے، تم بھی اپنی زندگی جینے کا حق رکھتی ہو۔ تمہارے ساتھ غلط ہو تو ہم ہیں، تمہارے ماں باپ۔ ہمیں آ کر بتاؤ، بیٹا ہم سب کچھ سنبھال لیں گے۔ اپنی بیٹی کو یہ یقین تو دلاؤ کہ کچھ بھی ہوا تو ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بیٹیاں تو جان ہوتی ہیں، ماں باپ کے گھر کی رونق ہوتی ہیں۔ قسمت والے ہوتے ہیں وہ ماں باپ جن کے پاس یہ نعمت موجود ہوتی ہے۔ اپنی نعمت کو بوجھ سمجھ کر دوسروں کو نوچنے کے لیے ہمت ہرگز نہ دو، نوچ لو ان آنکھوں کو جو تمہاری بیٹیوں کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھیں۔ یہی عزم ہونا چاہیے ہر ماں باپ کا۔ بیٹی خدا کی سب سے حسین نعمت ہوتی ہے، دل میں خوشبو، آنکھوں میں چمک اور ہر لب پر دعا ہوتی ہے۔
وہ نہ صرف گھر کا چراغ ہے، بلکہ دل کی سکون بھی۔
بیٹی کی ہنسی میں جو مسکراہٹ ہو، وہ جنت کی خوشبو ہوتی ہے۔
بیٹیاں تتلیاں ہوتی ہیں، جو جب تک اپنے گھر میں رہیں، اپنے رنگ اور خوشبو سے ماحول کو مہکاتی ہیں۔ ان کی باتوں میں ایک خوبصورتی ہوتی ہے جو گھر میں رونق لاتی ہے مگر جب وہ اپنی منزل کی طرف پرواز کر جاتی ہیں، تو گھر ویران ہو جاتے ہیں۔ ان کو جینے دو، ان کے خوابوں کو پرواز دو، کیونکہ ان کے بعد کی زندگی میں ان کے راستے پر کئی چیلنجز آ سکتے ہیں، اور ان کو تیار کرنے کے لیے ان کی ہمت اور آزادی بہت ضروری ہے۔
°°°°°°°°°