Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:32

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 32
°°°°°°
زیغم سلطان کے کانوں نے جو سنا، اُس پر یقین کرنا آسان نہیں تھا۔

“کیا کہا تم نے؟”
“مائد بھائی… اس دنیا میں نہیں رہے؟”
اس نے درخزائی کے الفاظ دہراتے ہوئے بے یقینی سے فون کان سے تھوڑا دور کیا۔ درد کی ایک سرد لہر تھی جو ریڑھ کی ہڈی میں اُتر گئی۔
جس کے بارے میں وہ سن رہا تھا، وہ صرف دوست نہیں تھا۔ وہ زیغم کا سایہ تھا، اس کا مان، اس کے جینے کا حوصلہ… اس کا بھائی۔ اس کا سرمایہ تھا کہ دکھ درد کی ہر کہانی میں وہ ہمیشہ شامل رہا تھا۔ سارا بچپن اس کے ساتھ گزارا تھا۔ وقت جیسے رک گیا تھا، فضاؤں میں ایک گونج سی تھی، خاموشی کے شور میں لپٹی ہوئی۔ زیغم کا دل دھڑکنا بھول چکا تھا۔ آج ایک بار پھر سے زیغم کے دل نے اس درد کو محسوس کیا تھا جو درد اس نے اپنے بھائی، اپنی اماں سائیں اور ابا سائیں کی موت کی خبر کو سن کر محسوس کیا تھا۔ فون کی دوسری طرف درخزئی کی آواز مسلسل کانپ رہی تھی، جیسے لفظ بھی ہچکیاں لے رہے ہوں۔

زیغم خان اچانک جھٹکے سے اُٹھا۔
“چپ ہو جاؤ… ایسا نہیں ہو سکتا!”
آواز دل سے نکلی تھی، نہ یقین تھا نہ صبر۔ قدموں میں بےچینی اور دل میں طوفان۔ ایک پل کی بھی دیر کیے بغیر وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ مہرو بیڈ پر بیٹھی گبھرا گئی۔

“ان کو… کیا ہوا؟”
وہ بڑبڑاتے ہوئے حیران ہو کر بولی تھی مگر وہ جا چکا تھا۔

گاڑی اسٹارٹ ہوئی تو ٹائروں کی چیخ سنائی دی۔تیز سپیڈ کے ساتھ فاصلے طے کرتی ہوئی۔ اندھیری رات کے سینے کو چیرتی گاڑی اس مقام کی طرف دوڑی جہاں ریسکیو ٹیم آخری امیدیں سمیٹ رہی تھی۔ وہ جگہ ویران تھی۔ ہواؤں میں اداسی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ مورے آغا جان، درخزائی، دریا کے بے رحم کنارے پر کھڑے تھا۔

زیغم گاڑی سے نکلتے ہی بھاگتا ہوا درخزائی کے پاس پہنچا۔
“درخزائی… مائد خان… کہاں ہے؟”
آواز میں ہلکی سی چیخ تھی، سانس بے ترتیب، آنکھوں میں صرف ایک اُمید۔ درخزائی نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، لبوں پر خاموشی کا قفل تھا۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹا، جیسے کوئی ان کہی حقیقت سامنے آ گئی ہو۔ درخزائی کی نظریں دریا پر جم گئیں۔ وہی دریا، جو چند گھنٹے پہلے تک ایک خاموش منظر تھا، اب موت کی تصویر تھا۔ ریسکیو اہلکار خاموشی سے اپنے آلات سمیٹ رہے تھے۔ ان کی خاموشی چیخ رہی تھی۔ ان کا انداز بتا رہا تھا کہ اب ڈھونڈنے کو کچھ باقی نہیں رہا۔ وہ اپنی امیدیں ہار چکے تھے۔ زیغم سلطان کی سانسیں رک سی گئیں۔ دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔

“بکواس ہے سب… ایسا بالکل نہیں ہو سکتا… ایسا نہیں ہو سکتا!”
“یہ لوگ کیسے ہار مان کر جا سکتے ہیں؟”
زیغم بلند آواز میں بولا تھا۔

“بھائی… میں نے خود دیکھا…”
درخزائی کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔

“ریسکیو ٹیم نے ہر جگہ تلاش کی… مگر کچھ نہیں ملا… وہ شاید…”
الفاظ حلق میں اٹک گئے۔ درخزائی میں کہنے کی ہمت نہیں تھی۔

ریسکیو ٹیم کے ایک اہلکار نے زیغم کی تڑپ دیکھ کر آہستہ سے کہا:
“ممکن ہے ڈیڈ باڈی دریا کی تہہ میں کہیں جھاڑیوں یا چٹانوں میں پھنسی ہو۔ پانی کا بہاؤ بہت خطرناک ہے، وہاں پہنچنا ممکن نہیں۔”
درخزائی زاروقطار رو رہا تھا۔ زیغم سلطان کی گہری نیلی آنکھوں نے نمی چھپانے کی کوشش کی، چہرہ درد کی شدت سے سخت ہو چکا تھا۔ وہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہا تھا۔

“تم لوگ ایسے ہار کر نہیں جا سکتے ابھی سرچ آپریشن رک نہیں سکتا تم لوگوں کو ڈھونڈنا ہوگا یہ تم لوگوں کا کام ہے!”
زیغم نے سختی سے کہا۔

“سر ہم حاضر ہیں… آپ حکم کریں، آپ جو کہیں گے، ہم کرنے کے لیے تیار ہیں… ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے مگر پانی کا بہاؤ بہت تیز ہے، ڈیڈ باڈی تک پہنچنا مشکل ہی نہیں… ناممکن ہے۔”
بہت تمیز اور تحمل سے جواب دیا گیا تھا کیونکہ سب کی حالت نظر آرہی تھی کہ وہ اس وقت کتنی تکلیف سے گزر رہے ہیں۔

“مجھے مائد خان ڈھونڈ کر دو، ایسے میں سرچ آپریشن بند نہیں ہونے دوں گا!”
زیغم نے حکم سنایا تھا۔ ایک بار پھر سے ریسکیو ٹیمیں زیغم کے حکم کے مطابق پانی میں تلاش جاری رکھے ہوئے تھیں۔ مسلسل تلاش کرتے ہوئے زيغم خود ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھا مگر ایک بار پھر سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ امیدیں بری طرح سے ٹوٹ رہی تھی ہر امید ٹوٹ رہی تھی۔

“مائد خان… تُو ایسے جا نہیں سکتا یار…”
اس نے خود سے کہا تھا۔ کئی گھنٹوں کے بعد ہار مانتے ہوئے وہ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ باہر آگیا تھا۔ درخزائی کے قریب آ کر کھڑے ہوتے ہوئے وہ خود کو ہارا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ درخزائی کی سسکیاں دریا کے شور میں دب تو رہی تھیں، مگر زیغم کے دل کو چیرتی جا رہی تھیں۔ اور وہ لمحہ… جب کچھ بچے ہوئے ریسکیو اہلکاروں نے خاموشی سے قریب آ کر نظریں جھکا کر صرف نفی میں سر ہلایا زیغم کا دل جیسے ہمیشہ کے لیے ساکت ہو گیا۔

“ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے… کہ آپ لوگ خود کو سنبھال لیں۔ شاید اب مائد خان صرف یاد میں زندہ رہے گا۔”
“اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کر لیجئے…”
ریسکیو کہ مین آدمی کے یہ لفظ آغا جان، مورے، درخزائی اور زیغم سلطان کے سینے کے آر پار ہو گئے تھے۔

“آہ… اا… میرا بیٹا مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتا… میرا مائد مجھے نہیں چھوڑ سکتا…!”
مورے کی چیخیں دریا کی بے رحم لہروں سے ٹکرا کر فضا میں بکھر رہی تھیں۔ وہ چیخ نہیں رہی تھی، وہ ٹوٹ رہی تھی۔ ایک ماں کا دل چیخ رہا تھا، ممتا کا درد چیخ رہا تھا۔ ریسکیو اہلکاروں کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔ اتنے دلخراش منظر کو دیکھ کر جذبات قابو سے باہر ہو رہے تھے۔ زیغم سلطان نے تیزی سے آگے بڑھ کر مورے کو سنبھالا، جو زمین پر گرنے والی تھی۔ اسے سینے سے لگا کر تھام لیا، جیسے اس کی ٹوٹتی روح کو سہارا دے رہا ہو۔

“چھوڑ دو مجھے… چھوڑ دو مجھے اگر مجھے میرا مائد نہ ملا تو میں بھی اسی دریا میں کود کر اپنی جان دے دوں گی… میرا مائد… میرا مائد!”
مورے تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔ وہ زیغم سے خود کو چھڑا کر دریا کی طرف بڑھنا چاہتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بیٹے کی تلاش، اور دل میں موت سے لپٹنے کی حسرت تھی۔ وہ اس وقت خود میں نہیں تھی۔ ممتا کے صدمے نے اس کی عقل، ہوش، سب کچھ چھین لیا تھا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ریسکیو ٹیم کی خاموشی بھی آنسو بن کر چہروں پر برس رہی تھی۔ زیغم سلطان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس کا دل پھٹ رہا تھا، مگر وہ خود کو تھامے، مورے کو سنبھال رہا تھا۔

“مورے… پلیز صبر کریں…”
اس نے لرزتی آواز میں کہا مگر دل خود جواب دے رہا تھا۔

مورے نے آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
“صبر…؟ صبر… کیسے کر جاؤں صبر…؟”
“میرا مائد چلا گیا… اور تم کہہ رہے ہو صبر کر جاؤں؟”
“وہ تمہارا دوست تھا نا؟”
“اسے آواز دو! بلاؤ اسے!”
“اسے بتاؤ اس کی مورے رو رہی ہے!”
مورے زیغم کا سینہ جھنجھوڑتے ہوئے چیخ رہی تھی۔ زیغم نے اس لمحے بے اختیار انہیں سینے سے لگایا، آنکھیں بند کیں، اور ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے خود بھی رو پڑا۔

“بلاؤ اسے! رونا بند کرو تم مرد ہو نا؟”
“تم نہیں رو سکتے!”
“اسے بلاؤ واپس!”
“جو وہ چاہتا تھا میں سب دوں گی! سب!”
مورے کی آواز تیز ہو گئی تھی۔ اچانک اس نے رخ موڑا اور آغا جان کی طرف دیکھا، جو کچھ فاصلے پر گاڑی سے ٹیک لگائے رو رہے تھے۔ جوان بیٹے کی موت کی خبر نے آغا جان کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔

“اب خوش ہو گئے آپ؟”
“میرے بیٹے کی جان لے کر خوش ہو گئے نا؟”
“اب آپ کی روایات کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ آپ کی روایات جیت گئیں، اور میری ممتا ہار گئی!”
مورے کا ایک ایک لفظ آغا جان کے دل کو چیرتا جا رہا تھا۔ وہ غصے سے کانپ رہی تھی، چیخ رہی تھی، طنز کی تپش آنکھوں سے برس رہی تھی۔

“مورے… وہ بھی دکھی ہیں… وہ بھی مائد کے باپ ہیں…”
زیغم نے نرمی سے مورے کو تھامتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی۔

“نہیں! انہیں کوئی دکھ نہیں ہے!”
“اگر ہوتا تو وہ میرے بیٹے کی بات سنتے، اس کے دل کا حال سمجھتے!”
“ان کی روایات… ان کی انا… میرے بیٹے کی جان لے گئی!”
مورے نے تڑپ کر اپنا چہرہ پیٹنا شروع کر دیا۔
زیغم گھبرا گیا، جلدی سے ان کے ہاتھ پکڑ لیے، مگر دیر ہو چکی تھی۔ مورے کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔

“میں ماں ہوکر اپنے بیٹے کا ساتھ نہیں دے سکی… میرا بیٹا تڑپ کر اپنے دل کا درد مجھے سنانا چاہتا تھا… مگر میں بیوی ہونے کا فرض نبھاتی رہی اور اپنے بیٹے کو ہارتا ہوا دیکھتی رہی… خاموش تماشائی بن کر اس کے درد کو دیکھتی رہ گئی… ان کی روایات جیت گئی… اور میں ہار گئی…”
مورے نے بھاری سانسوں کے ساتھ روتے ہوئے کہا۔ ان کے ایک ایک لفظ سے درد کی گہرائی نظر آرہی تھی۔ مورے کے طرز سنتے ہوئے۔ آغا جان زمین میں گڑ جاتے اگر ممکن ہوتا۔ آج پہلی بار ان کی بیوی نے ان کے سامنے زبان کھولی تھی اور یہ زبان نہیں تھی، ایک ممتا کا ماتم تھا۔ آج تک وہ کبھی اپنے شوہر کے فیصلے کے خلاف نہیں گئی تھی۔ کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی مگر آج وہ ہر لحاظ بلا طاق رکھے ہوئے چیخ رہی تھی اور وہ آنکھیں نیچے کیے ہوئے خاموش کھڑے تھے۔ جواب نہیں دے سکے۔

“اب خوشیاں منائیں، شادیانے بجائیں!”
“سب کو جا کر بتائیں کہ میرا بیٹا مر گیا!”
وہ آگے بڑھ کر آغا جان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔

“آپ کو رشتہ توڑنا منظور نہیں تھا، بیٹے کی جان چلی گئی، یہ برداشت کر لیں گے؟”
آغا جان نظریں جھکائے کھڑے تھے۔

“بولیے نا! بولتے کیوں نہیں؟”
“ساری زندگی گلٹ کے ساتھ جیئیں گے، کہ آپ نے اپنے بیٹے کی جان لے لی، آپ میرے بیٹے کے قاتل ہیں! آپ نے میرے بیٹے کی جان لی ہے! مار دیا میرے بچے کو!”
“کیا چلا جاتا اگر میرے بیٹے کو اُس کی خوشیاں دے دیتے؟”
“وہ شادی کرنا چاہتا تھا اپنی مرضی سے۔ آپ نے وہ حق بھی نہیں دیا، اور روایات کی زنجیروں میں میرے بیٹے کو جکڑ کر رکھ دیا۔ ٹھنڈ پڑ گئی نا آپ کے کلیجے میں!”
مورے طعنوں پر طعنہ مارتی، غصے سے لرزتی ہوئی بولتی جا رہی تھی۔ ان کا دکھ حد سے بڑھ چکا تھا۔ اچانک چکرا کر بے ہوش ہوتے ہوئے زمین کی طرف گرنے لگی کہ آغا جان نے تڑپ کر اسے تھام لیا مگر مورے نے انہیں خود سے دور جھٹک دیا، اور پھر سے گرتے گرتے زیغم اور درخزائی نے آگے بڑھ کر انہیں سنبھالا۔ یہ ایک ہولناک منظر تھا۔ دل دہلا دینے والا، اذیت ناک۔
فضا میں چیخوں کی گونج تھی۔ آغا جان تڑپ تڑپ کر رو رہے تھے۔ درخزائی کا دل پھٹ رہا تھا۔ مورے غم سے نڈھال ہو کر بے ہوش ہو چکی تھی۔ زیغم کے لیے سب کو سنبھالنا بہت مشکل تھا۔ وہ خود بھی اس وقت ٹوٹ چکا تھا۔ اس کا یار، اس کی جان، دنیا سے جا چکا تھا۔ زیغم کی آنکھوں میں درد چبھ رہا تھا، دل میں کرب تھا، مگر وہ خود کو سنبھالے، اپنے یار کے گھر والوں کو سنبھال رہا تھا۔ بڑی مشکل سے سب کو گاڑیوں میں بٹھایا، اور پھر جنازے کے جیسی خاموشی میں گھر کی جانب روانہ ہو گئے۔
°°°°°°°
پورے گاؤں کی ہر آنکھ اشکبار تھی۔ فضا میں ایک گہرا سوگ چھایا ہوا تھا۔
مائد خان، جس نے ہمیشہ اپنے گاؤں، اپنے لوگوں کا خیال رکھا، آج خود اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔ وہ ایک غیرت مند پختون کا بیٹا تھا، جس نے کبھی کسی بیٹی، کسی بہن کو بُری نظر سے نہیں دیکھا تھا۔ اسی لیے اس کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی۔ ہر دل اداس تھا، ہر چہرے پر غم کا سایا تھا۔
حویلی کے بڑے حصے میں لوگوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ آغا جان کے گرد دور دور سے بڑے زمیندار، معززین، رشتہ دار جمع تھے مگر سب سے بڑا کرب یہ تھا کہ آغا جان کے پاس اپنے بیٹے کی لاش بھی نہیں تھی، جسے سامنے رکھ کر وہ بین کر سکتے، آنکھوں سے چُھو کر آخری دیدار کر سکتے۔
لوگ تسلیاں دے رہے تھے، دعائیں دے رہے تھے، مگر صبر کہاں سے آتا؟
جوان بیٹے کو کھو دینا ایسا صدمہ تھا، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ دوسری طرف درخزائی تھا، جو روتے روتے نڈھال ہو چکا تھا۔ اس کے لیے مائد صرف بھائی نہیں، اُس کی دنیا تھا۔ اب اسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دے رہا تھا۔
زیغم ہر طرف سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا، اپنے یار کا غم دل میں لیے، اس کے گھر والوں کا سہارا بھی بننے کی کوشش کررہا تھا۔
اور مورے… عورتوں کے بیچ بیٹھی بار بار غم سے بے ہوش ہو رہی تھی۔ اس کا بلڈ پریشر ہائی ہو رہا تھا، تو اسے اٹھا کر کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ دانیا اور مہرو، جو افسوس کے لیے آئی تھیں، ان دونوں کو مورے کے پاس بیٹھا دیا گیا۔ ویسے بھی دانیہ کی یہاں زیادہ جان پہچان نہیں تھی، تو فی الحال اسے کمرے میں ہی رکھا گیا۔ سبحان خان کی پوری فیملی آ چکی تھی۔ مونا عورتوں کے بیچ بیٹھی رو رہی تھی۔ آخر مائد اُس کی بچپن کی منگ تھا، اُس سے رشتہ صرف زبانی نہیں، دلی بھی تھا۔اس کی حالت دیکھ کر عورتیں بھی رو پڑی تھیں، اسے دلاسے دے رہی تھیں۔

جب تلاش کا عمل ختم ہو چکا تھا۔ اب کوئی امید نظر نہیں آرہی تھی، تو آغا جان نے نم آنکھوں سے سر جھکایا اور قرآن و سنت کے مطابق غائبانہ نمازِ جنازہ کا اعلان کر دیا۔ گاؤں کی جامع مسجد میں صفیں بچھا دی گئیں۔ ہر طرف خاموشی، سنجیدگی اور سوگ کا عالم تھا۔ آغا جان کندھوں پر چادر ڈالے، سر جھکائے بیٹھے تھے۔ زیغم نے درخزائی کو سہارا دیا ہوا تھا، جو بار بار سسکیاں لے رہا تھا۔

“آج ہم اپنے بیٹے، بھائی، اور دوست مائد خان کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کریں گے۔ جس کی میت نہ مل سکی، مگر وہ اللہ کے حضور حاضر ہو چکا ہے۔ ہم اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کی مغفرت کے لیے جنازے کی نماز ادا کرتے ہیں۔”
امام صاحب نے درد زدہ لہجے میں اعلان کیا۔
تمام نمازیوں نے نیت باندھی۔ چار تکبیریں ہوئیں، پہلی کے بعد ثناء، دوسری کے بعد درودِ ابراہیمی، تیسری کے بعد میت کے لیے مغفرت کی دعا، اور چوتھی کے بعد سلام پھیرا گیا۔ دعا کے الفاظ فضا میں بلند ہوئے:
“اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ…”
آمین کی صدائیں فضا میں گونجیں۔
نماز کے بعد سب نے ہاتھ اٹھا کر روتے ہوئے اس کے لیے دعائیں مانگیں۔ کچھ مٹی قبرستان میں علامتی طور پر ایک جگہ پر ڈالی گئی تاکہ نشان باقی رہے، اور وقت کے ساتھ اگر میت مل جائے تو تدفین وہاں ہو سکے۔
یہی غائبانہ نمازِ جنازہ کا اسلامی اور مکمل طریقہ ہے۔

جنازے کا عمل غیبی انداز سے، روحانی کیفیت میں مکمل کیا گیا۔ تدفین کے بعد لوگ تھوڑی دیر ٹھہرے، فاتحہ پڑھی، اور پھر آہستہ آہستہ واپس جانے لگے۔ اب صرف قریبی رشتہ دار، چند خاص مہمان اور خاندان کے افراد حویلی میں باقی رہ گئے تھے۔ غم کا بوجھ ابھی کم نہیں ہوا تھا، مگر رسمِ دنیا کے مطابق لوگ لوٹ چکے تھے۔
°°°°°°°
“مائد… مائد… میرے بچے…”
مورے کی ٹوٹی ہوئی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ وہ بے ہوشی کی کیفیت میں تھی، مگر زبان پر صرف ایک ہی نام تھا… اپنے بیٹے کا۔ دانیا اُن کے پاس بیٹھی، نم آنکھوں کے ساتھ ان کا ماتھا دبا رہی تھی۔ مورے کا بی پی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا، اور ان کی بے چینی ہر لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔
دانیا کا دل بہت بوجھل تھا۔ یہ وہی مورے تھیں جنہوں نے اُسے اپنی بیٹی کی طرح چاہا تھا۔ جب وہ اپنی ماں کی شفقت سے محروم، دکھی ہو کر اپنے گھر سے آئی تھی، تو مورے نے اپنی ممتا سے اُسے سنبھالا تھا۔ اُسے سہارا دیا تھا، ہر دکھ کی گھڑی میں ڈھال بن کر کھڑی ہوئیں تھیں۔ آج وہ کچھ کرنا بھی چاہتی، تو کیا کر سکتی تھی؟ کچھ بھی نہیں۔ صرف ان کے سرہانے بیٹھ کر بے بسی سے رونا اس کی واحد طاقت بچی تھی۔ کمرے میں مہرو بھی تھی، مگر خاموش۔
وہ خود کو اجنبی محسوس کر رہی تھی۔ بس اتنا جانتی تھی کہ مائد خان، زیغم کا گہرا دوست تھا۔ جس سے وہ دو بار ہی ملی تھی، مگر اس لمحے وہ اس پورے ماحول کے درد کو محسوس کر رہی تھی۔ دل کے اندر ایک عجیب سا بوجھ تھا۔ کمرے میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ایسا سناٹا جو دل کو چیرتا چلا جا رہا تھا۔ اسی سناٹے میں دانیا کی آنکھوں کے سامنے وہ سب لمحے اُبھرنے لگے۔ جب وہ زخمی تھی اور وہ جلے ہوئے ہاتھوں پر پٹی لگوانے سے ڈر رہی تھی۔ وہی مائد خان، جس نے نرمی سے، زبردستی کا سا پیار دکھا کر اس کا زخم صاف کروایا تھا۔
دانیا کی پلکیں لرزنے لگیں۔ پھر وہ لمحہ یاد آیا جب ہسپتال کے باہر اس کے لیے لڑ رہا تھا۔ اپنی آواز میں ایسا بھروسہ لے کر، جیسے وہ کسی بہت خاص رشتے کی حفاظت کر رہا ہو۔ خیالات کسی دھارے کی طرح بہتے چلے جا رہے تھے۔ کبھی کبھی کچھ سوچوں پر اختیار نہیں ہوتا۔ بس دل بے ساختہ ان میں بہتا چلا جاتا ہے۔ دانیا… صرف سوچے جا رہی تھی۔
°°°°°°°
“آغا جان، حوصلہ کریں… اگر آپ یوں ہمت چھوڑ دیں گے تو مورے اور درخزائی کو، کون سنبھالے گا؟”
مائد تدفین کے بعد آغا جان کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ کچھ قریبی رشتہ دار بھی وہاں موجود تھے۔ آغا جان مسلسل درد میں ڈوبے ہوئے آنکھوں کو بار بار صاف کر رہے تھے۔

“آغا جان…”
زیغم کی جانب دیکھتے ہوئے ان کو اپنا بیٹا یاد آگیا تھا۔ دونوں ایک جیسے ہی تو تھے… چہرے بھی، انداز بھی!
آغا جان دل پر قابو نہ رکھ سکے۔ زیغم کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے گہری سانس لی اور رو پڑے۔ ان کے ہر آنسو میں ان کے دل کا درد چھلکتا تھا۔ آغا جان مضبوط شخصیت کے مالک تھے، اس طرح ان کا ٹوٹ کر رونا ان کے دل کے حالات کا عکاس کر رہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے جانے کے بعد بالکل ٹوٹ گئے ہیں۔ ان کا اس طرح ٹوٹ کر رونا زیغم کے دل کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔

“کیسے سنبھالوں اپنے دل کو؟ کیسے سنبھالوں میں؟”
“میرا بیٹا میری جان تھا۔ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ ایک بار نہیں سوچا کہ اس کے آغا جان کیسے رہیں گے؟”
“اپنے بابا اتنا ناراض ہوگیا کہ مجھ سے اتنا دور چلا گیا… معافی کا موقع ہی نہیں دیا!”

“بس آغا جان… کبھی کبھی ہم اپنے پیاروں کے دل کی کیفیت کو سمجھنے میں بہت دیر لگا دیتے ہیں۔ جب تک ہم اُن کے دل کا حال سمجھ کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں، تب تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ کاش آپ نے وقت پر اسے سمجھ لیا ہوتا، مگر آپ بھی اپنی جگہ مجبور تھے۔ آپ نے ہمیشہ اپنی روایات کو اہمیت دی مگر اس سب میں قسمت کا لکھا بھی شامل تھا، ورنہ آپ نے تو کبھی ایسا نہیں چاہا۔”
زیغم آغا جان کو تسلی دے رہا تھا، مگر اس لمحے وہ خود اندر سے کس کرب سے گزر رہا تھا، یہ صرف وہی جانتا تھا۔

“جانتا ہوں میں اپنے بیٹے کا گنہگار ہوں… اب ساری زندگی پچھتاوا رہے مگر وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔”
آغا جان دل برداشتہ ہو کر اشکوں سے رو رہے تھے۔ کچھ دیر آغا جان کے پاس بیٹھنے کے بعد، انہیں زبردستی کھانا اور دوا کھلا کر کمرے میں لٹا دیا۔ زیغم نے اجازت طلب کی کہ اب گھر جانا ہے، مگر آغا جان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ آواز میں لرزش تھی، مگر لہجہ بھرپور التجا لیے ہوئے تھا۔

“دانیا بیٹی کو یہیں اپنی مورے کی پاس چھوڑ جاؤ۔”
“میں اس کو نہیں سنبھال سکتا… وہ اپنے بیٹے کے غم میں ٹوٹ چکی ہے…مجھے دیکھنا تک نہیں چاہتی۔”
“درخزئای کی حالت تو تم دیکھ ہی چکے ہو… اسے تو نیند کی دوا دینی پڑی ہے تاکہ کچھ لمحے اس درد سے آزاد ہو سکے۔”
زیغم کچھ کہہ نہ پایا، صرف سر جھکا کر رہ گیا۔

“آغا جان، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے… بس ایک بات کا خیال رکھیے گا۔”
“اس وقت سبحان کی فیملی یہاں موجود ہے، اگر کسی نے بھی میری بہن پر انگلی اٹھائی… تو میں برداشت نہیں کروں گا!”
زیغم نے سنجیدگی سے کہا۔

“ایسا کچھ نہیں ہوگا، وہ لوگ ابھی چلے جائیں گے اور تم بے فکر رہو… جانتا ہوں، اس وقت ہم پر یقین کرنا تمہارے لیے آسان نہیں، مگر دانیا بیٹی کی حفاظت کی پوری ذمہ داری میری ہے۔”
انہوں نے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے معافی مانگنے والے انداز میں کہا تھا۔

“آغا جان، کیا کر رہے ہیں؟”
“خدارا مجھے گنہگار تو مت کیجیے…”
زیغم نے دونوں ہاتھوں کو ادب سے تھام لیا تھا۔

“جیسے آپ مائد کے آغا جان ہیں، ویسے ہی میرے بھی۔ میں نے ہمیشہ آپ کا احترام کیا ہے اور میرے لیے آپ قابلِ احترام شخصیت ہیں۔”
“ٹھیک ہے، دانیا یہیں رہے گی، آپ بے فکر رہیں۔ میں صرف مہرو کو ساتھ لے جا رہا ہوں۔”
“آپ اپنا خیال رکھیں… دوا ٹائم سے لیجیے گا، میں انشاءاللہ صبح پھر حاضر ہو جاؤں گا!”
یہ کہہ کر زیغم نے آغا جان کو اپنا خیال رکھنے کا کہا، اور باہر نکل گیا۔ دانیا کو رکنے کا کہتے ہوئے، مہرو کو ساتھ لے کر وہ وہاں سے روانہ ہو چکا تھا۔
°°°°°°°°
“تم ابھی تک یہاں ہو، اپنے بھائی کے ساتھ گئی کیوں نہیں؟”
مونا کی ماں کا چیختا ہوا لہجہ اچانک فضا میں گونجا، جیسے کسی سوئی ہوئی خاموشی کو بےدردی سے چیر گیا ہو۔ وہ دانیا کو دیکھتے ہی غصے سے تلملاتی ہوئی اس کی طرف بڑھی تھی۔ دانیا ٹھٹک کر رکی، قدموں میں جیسے زنجیر پڑ گئی ہو۔ ابھی وہ زیغم اور مہرو سے مل کر اپنے کمرے کی طرف ہی لوٹی تھی کہ ان دونوں ماں بیٹی کی نظریں اس پر جا پڑی تھیں۔

“مجھے… مجھے زیغم بھائی نے کہا ہے کہ میں یہاں رک جاؤں…, تاکہ مورے کا خیال رکھ سکوں… ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔”
اس کا لہجہ نرم تھا، آواز میں لرزش تھی۔ وہ ڈری ہوئی لگ رہی تھی۔ جیسے اچانک کسی طوفان میں آ گئی ہو۔

“کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں یہ ڈرامے بازیاں کرنے کی!”
مونا کی ماں کا چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔

“جس کے لیے تم یہ سب کرتی رہی ہو، وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا!”
“دفعہ ہو جاؤ یہاں سے!”
“کھا گئی ہو تم میرے مائد کو، اب تو پیچھا چھوڑ دو!”
اس سے پہلے کہ دانیا کوئی جواب دیتی، مونا غصے سے آگے بڑھی اور جھپٹ کر اس کے کانوں کو دونوں ہاتھوں سے بری طرح پکڑ کر جھنجھوڑا۔

“آہ…!”
دانیا کی ہلکی سی چیخ نکلی، وہ پیچھے ہونے لگی، لیکن مونا کا ہاتھ سختی سے جکڑا ہوا تھا۔ مونا کے طیش بھرے انداز سے وہ سہم گئی، مونا کی آواز اس قدر بلند تھی کہ گھر کی خاموش فضا دہل گئی۔

“کیا ہو رہا ہے یہاں؟”
مورے کی نقاہت زدہ آواز آئی، وہ ہلکی سی ہوش میں آ کر بیٹھی اور ڈولتے قدموں سے روم سے باہر نکل آئی۔ اسی لمحے شور سن کر آغا جان بھی دوسرے کمرے سے باہر آ گئے، ان کی پیشانی پر سنجیدہ بل اور آنکھوں میں تشویش تھی۔

“کیا تماشہ لگا رکھا ہے؟”
آغا جان کمرے سے باہر نکلے تو ان کی سرخ آنکھیں سیدھی اس مونا اور اس کی ماں پر جا کر رک گئی ، چہرے پر غصے سے زیادہ دکھ چھپا ہوا تھا۔ مونا نے فوراً دانیا کے کندھوں سے ہاتھ پیچھے ہٹا لیے مگر نظریں بدستور زہر آلود تھیں۔ جیسے ابھی جھپٹ کر دانیا کا وجود نوچ ڈالے گی۔

“کچھ نہیں بھائی صاحب، بس یہی کہہ رہی تھی کہ اب اسے اپنے گھر جا کر رہنا چاہیے۔”
مونا کی ماں نے بات کو سنبھالتے ہوئے چہرے پر اچانک نرمی لانے کی ناکام کوشش کی۔ بہت چالاک اور ڈرامے باز عورت تھی، ایک پل میں ہی اپنا لہجہ بدل چکی تھی جبکہ آغا جان سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے، ان کی نظریں اب بھی اسی پر جمی تھیں، کچھ دیر خاموشی سے اس کے اندر کا سارا زہر دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

“ویسے بھائی صاحب، معذرت کے ساتھ کہنا پڑے گا…”
زہر بھرے لہجے میں بات جاری رکھی۔

“اس کا بھائی ،بڑا ہی کوئی بے غیرت قسم کا انسان ہے، جو اپنی جوان بہن کو بار بار یہاں چھوڑ کر چلا جاتا ہے!”
طنزیہ نظروں سے ذلیل کرنے والے انداز میں کہا تو بے اختیار دانیہ کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے۔ وہ اپنے بھائی کے خلاف کچھ نہیں سن سکتی تھی۔

“خبردار! اگر دوبارہ زیغم بیٹے کے لیے کوئی غلط لفظ بھی بولا… میں حلق سے زبان کھینچ لوں گی!”
مورے کی آواز بجلی کی کڑک کی طرح حویلی میں گونجی۔ کڑک آواز سن کر سب نے چونک کر دیکھا تھا۔

“ایسے بیٹے ہر گھر میں پیدا نہیں ہوتے۔ قسمت والی ہوتی ہیں وہ مائیں جن کے نصیب میں زیغم اور مائد جیسے بیٹے ہوتے ہیں۔”
مورے کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں مگر لہجہ فولاد جیسا تھا۔

“تم کیا جانو بہادر اور نیک بیٹے کیسے ہوتے ہیں، تم نے تو سبحان خان جیسے نمونے پیدا کیے… گھٹیا فطرت کے مالک۔ جن کی فطرت میں ہمیشہ دوسروں کو نیچا دکھانا، دھوکا دینا اور دشمنیاں کرنا ہے!”
وہ دروازہ پورا کھول کر برستی ہوئی باہر آئیں۔ انداز ایسا جیسے طوفان آ گیا ہو۔
مورے کے لہجے میں جو کڑواہٹ تھی، وہ برسوں کے صبر کی چھلک تھی۔ آج تک انہوں نے کبھی اس انداز میں نہیں بولا تھا، مگر بیٹے کے غم نے ضبط کا باندھ توڑا تو صبر سونامی بن کر اُمڈ پڑا۔ مونا اور اس کی ماں کے تو چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے بس کھڑی رہ گئیں۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ مورے اس لہجے میں بھی بول سکتی ہیں۔ وہ تو ہمیشہ خاموش چپ رہنے والی صابر عورت تھیں مگر آج ان کے کڑک دار لہجے سے مونا اور اس کی ماں کی کھڑے کھڑے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ آغا جان اپنی شیر دل بیوی کو دیکھ کر ساکت ہو گئے۔ ان کی نظریں حیرت سے مورے کے چہرے پر ٹکی تھیں، اور دل میں یہ سوال گونج رہا تھا کہ “یہ روپ… یہ شدت… کہاں
چھپا کر رکھی ہوئی تھی؟”

“اس دو ٹکے کی لڑکی اور اس کے بے غیرت بھائی کی وجہ سے ہماری توہین کی جا رہی ہے، جبکہ آپ لوگوں کا اصل اور گہرا رشتہ تو ہم سے ہے، ان سے نہیں!”
مونا کی ماں نے غصے سے آگے بڑھتے ہوئے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، لہجہ زہر سے بھی زیادہ تلخ تھا۔ مورے نے نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ ایک پل کو اسے دیکھا۔ اگلے ہی پل بول کر گویا دھماکہ کر دیا تھا۔

“کون سا رشتہ؟ کیسا رشتہ؟”
آواز میں لرزش نہیں تھی، صرف درد تھا… اور آگ۔

“جب وہ ہی نہیں رہا جس کی وجہ سے تم لوگوں کا اس گھر سے تعلق تھا… تو پھر زبردستی رشتے کی دہائی مت دو ہمیں!”

ان کی سانس تیز ہو چکی تھی، مگر وہ ٹھہرے ہوئے انداز میں بولی۔
“زبردستی کے اسی رشتے نے… میرے بیٹے کی جان لے لی!”

ایک پل کو رکی، پھر آخری فیصلہ سنا دیا۔
“اب اس گھر میں دوبارہ مت آنا… یہ رشتہ اب ختم ہو چکا ہے!”
الفاظ نہیں، جیسے بجلی گری ہو۔ مونا، اس کی ماں، اور پیچھے کھڑے سبحان… تینوں بس مورے کو دیکھتے رہ گئے۔ ان کی آنکھوں میں حیرت، صدمہ اور خاموش شکست تھی۔ مورے، جو ہمیشہ نرمی اور ضبط کی علامت رہی تھی، آج طوفان بن کر سب کچھ بہا لے گئی تھی۔

“اور خبردار! جس نے اس پر انگلی اٹھانے کی کوشش کی۔ یہ میری بیٹی ہے۔ اگر کسی نے بھی میری بیٹی کے بارے میں ایک لفظ کہا، تو میں اُس کی زبان حلق سے کھینچ لوں گی!”
روتی ہوئی دانیا کو مورے نے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ وہ ممتا کی آغوش میں ایسے چھپ گئی جیسے صدیوں بعد ماں کا سایہ ملا ہو۔

“جا رہے ہیں، مگر یہ توہین ہم کبھی نہیں بھولیں گے!”
“پہلے آپ کا بیٹا ہماری توہین کرتا تھا، اب آپ شروع ہو گئی ہیں!”
سبحان غصے سے بدتمیزی پر اتر آیا، لہجہ تیز تھا اور قدم تیز تر۔ مگر اگلے ہی لمحے آغا جان نے ایک قدم آگے بڑھایا۔

“یہیں رک جا، سبحان!”
ان کی آواز گونجی، گرجدار اور رعب دار تھی۔

“عورتوں کی بات… عورتوں میں رہنے دو!”
الفاظ ایسے تھے کہ سبحان کے قدم خودبخود رک گئے۔

“بات تو اب کوئی رہی نہیں، ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔ ہم تو یہاں آپ کے غم میں شریک ہونے آئے تھے مگر آپ لوگ اس لائق ہی نہیں!”
سبحان نے آغا جان کی طرف دیکھتے ہوئے بدتمیزی اور غصے بھرے لہجے میں کہا۔ آغا جان خاموش ہو گئے تھے آنکھوں میں گہری اداسی تھی مگر لب ساکت تھے۔ جس انداز میں سبحان بات کر رہا تھا اگر اس وقت مائد ہوتا تو اس کا منہ توڑ دیتا۔ بے اختیار آغا جان سوچ کر افسردہ اور دلبرداشتہ ہو گئے تھے۔

“تم یہاں سے تشریف لے جاؤ!”
آغا جان نے با مشکل کہا۔

“جا رہا ہوں اپنی بہن کو لے کر اور اب کبھی اس دہلیز پر قدم نہیں رکھیں گے!”
وہ پلٹا اور ایک بار پھر زہر اگلا۔

“اچھا ہوا آپ کا بیٹا مر گیا اور میری بہن کی جان چھوٹ گئی۔”
“ورنہ ساری زندگی ہمیں اپنی بہن کی وجہ سے اس دہلیز پر بار بار آنا پڑتا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ساری زندگی آپ کے بیٹے کو برداشت کرنا پڑتا جو ہمیں ایک پل کو بھی پسند نہیں تھا!”
وہ حقارت سے بولا۔ لفظوں کی تلخی چھت سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھی اور فضا میں بوجھ سا بھر گیا تھا۔ وہ لوگ وہاں سے جا چکے تھے، مگر جو آخری الفاظ وہ بول کر گیا تھا، وہ آغا جان اور مورے کے دل میں ایسا نقش چھوڑ گئے تھے کہ مدتوں مدھم نہ ہو پاتے۔

کبھی کبھی لوگ یہ سوچے بغیر بول جاتے ہیں کہ ان کے الفاظ کسی کے سینے میں خنجر کی طرح پیوست ہو سکتے ہیں مگر زبان سے نکلا لفظ، تیر کی طرح ہوتا ہے، ایک بار نکل جائے تو واپس نہیں آتا، اور نشانہ ضرور لگاتا ہے۔
دنیا کا یہی دستور ہے، جو دل میں ہو وہ نہیں، جو زبان پر ہو وہی سننے کو ملتا ہے۔ اب آگے کیا ہوتا ہے، یہی دیکھنا ہے کیونکہ کچھ الفاظ صرف بولے نہیں جاتے، وہ تقدیر کا رخ موڑ دیتے ہیں۔
°°°°°°°°°°
صبح ناشتے کی ٹیبل پر زیغم نے ملیحہ اور زرام کو بھی بلوایا تھا۔ دانیا تو مورے کے پاس رک گئی تھی اور وہ اپنی بچی کچی فیملی کے ساتھ درد زدہ ماحول میں بیٹھا ہوا ناشتہ کرنے لگا تھا۔ دل بالکل نہیں کر رہا تھا، افسردہ تھا، مگر زندہ رہنے کے لیے کھانا تو پڑتا ہے، یہی سوچ کر وہ چند لقمے لینے کے لیے بیٹھا تھا۔ ملیحہ زرام کے ساتھ خاموش نظروں سے بیٹھی تھی کیونکہ مائد کی موت کی خبر سب تک پہنچ چکی تھی، تو سب ہی افسردہ تھے۔ اسی وقت شہرام، جو کل سے پتہ نہیں گھر کے کس کونے میں غائب تھا اور نظر تک نہیں آیا تھا، اس وقت اچانک باہر والے دروازے سے اندر داخل ہوا۔ اس کی ٹانگ کافی حد تک تقریباً ٹھیک ہو چکی تھی، اب وہ بیساکھی کے سہارے مگر آہستہ آہستہ چلنے کے قابل ہو چکا تھا۔

“اپنی بہن کو پھر کہیں چھوڑ آئے ہو؟”
“کیا تم سے اپنی بہن کو دو وقت کی روٹی نہیں دی جاتی؟”
“ویسے تو بڑے غیرت مند بنتے ہو!”
وہ آتے ہی زیغم پر طنز برساتا ہوا آگے بڑھا۔

“زبان سنبھال کر بات کرو شہرام، ورنہ زبان کاٹ کر کتوں کے آگے ڈال دوں گا!”
زیغم سلطان ہاتھ میں پکڑے نوالے کو پلیٹ میں رکھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

“کیوں… سچی بات سن کر آگ لگ گئی؟”
وہ اس پر ہنستے ہوئے بولا۔

“تم ایسے باز نہیں آؤ گے!”
زیغم غصے سے آگے بڑھنے لگا تھا کہ زرام بیچ میں آ گیا۔

“رہنے دیں بھائی، انہوں نے تو شرم و حیا، ہر چیز کا دامن چھوڑ دیا ہے۔ آپ ان کے منہ مت لگیں!”
ذرام نے آگے بڑھ کر زیغم کا ہاتھ بڑے مان سے پکڑا تو وہ رک گیا۔ زرام کا بھرم وہ توڑنا نہیں چاہتا تھا ورنہ اس وقت اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ شہرام کا تھوبڑا توڑ کے رکھ دے مگر اس سب کے بیچ میں، ملیحہ حیران نظروں سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ شہرام کو دیکھتے ہی وہ پہچان گئی تھی کہ یہ وہی شخص ہے، جس نے اسے اس رات راستے سے آتے ہوئے اغوا کیا تھا اور اپنے فارم ہاؤس پر لے گیا تھا۔ وہ پہچان گئی تھی وہ نشے میں دھت تھا اور سوچ میں گندگی بھرے ہوئے ارادے سے اسے لے کر اپنے فارم ہاؤس پر گیا تھا۔
اس دن تو صرف اس کی قسمت اچھی تھی کہ جب وہ فارم ہاؤس سے بھاگی تو گیٹ کے چوکیدار نے اس پر رحم کھاتے ہوئے اسے بھاگنے میں مدد دی تھی ورنہ اس کی عزت کو تار تار کرنے والا یہ شخص اسے نوچ کھاتا۔

پاگلوں بھاگتے ہوئے جب اس نے اپنی ماں سے فون پر بات کی تھی، تو اس کی ماں نے واضح کہا تھا: “تم یہاں سے بھاگ جاؤ، ورنہ یہ شخص تمہیں برباد کر دے گا!” ملیحہ جانتی ہے کہ وہ کیسے بھاگی تھی اس وحشی درندے سے۔ وہ تو کئی سالوں بعد آنکھوں میں ہزاروں خواب سجائے اپنی ماں سے ملنے کے لیے آئی تھی۔ اس سے کیا پتہ تھا کہ وہ راستے میں ہی اس درندے کے ہاتھ چڑھ جائے گی۔ ملیحہ تو ابھی تک اس بات سے بھی واقف نہیں تھی کہ اس کا باپ ہی وہ شخص ہے جس کی وجہ سے وہ سالوں اپنے گھر سے دور رہی۔ اس رات وہ زرام کی گاڑی سے ٹکرائی تھی اور زرام نے ہی اسے شہر تک چھوڑا تھا۔ وہ رات، وہ خوف، وہ اذیت… ملیحہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی اور اب، اس گھر میں اسے شہرام کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے زمین اس کے پیروں تلے سے نکل گئی ہو۔

“یہ… یہ کون ہے؟”
ملیحہ نے لرزتی آواز میں، لفظوں کو توڑتے ہوئے پوچھا۔
سب کے چہرے اس کی طرف مڑ گئے تھے، اس کے گھبرائے ہوئے تاثرات دیکھ کر۔

“میں… تمہارے شوہر کا بھائی ہوں!”
شہرام نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے جواب دیا۔ وہ نہ صرف ملیحہ کو دیکھ چکا تھا بلکہ پہچان بھی چکا تھا مگر نایاب کی طرح، اس کے چہرے پر بھی شرمندگی کا کوئی سایہ نہ تھا۔

“نن… نہیں… نہیں ایسا نہیں ہو سکتا… میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکا؟”
“تم اس کے بھائی ہو؟”
ملیحہ کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں، جبکہ زرام کچھ سمجھ نہ پایا۔

“کیسے بتائے گا… آخر میرا بھائی ہے نا… تو وہ میرے بارے میں تمہیں کچھ کیوں بتائے گا؟”
شہرام مکاری سے ہنستا ہوا زرام اور ملیحہ کے رشتے میں زہر گھول چکا تھا۔

ملیحہ کچھ سنے بغیر غصے سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی، یہ کہتے ہوئے:
“میں اب یہاں نہیں رکوں گی!”
زارم، سب کچھ سمجھنے سے قاصر، تیز قدموں سے اس کے پیچھے بھاگتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔ مہرو اور ارمیزہ ایک نیا تماشا دیکھ کر حیران تھیں۔ اس گھر میں تو ہر دن ایک نیا تماشا ہو رہا تھا۔

“بڑے گھٹیا اور کم ظرف انسان ہو تم!”
“کم سے کم اپنے چھوٹے بھائی کی زندگی میں زہر گھولنا تو بند کر دو۔ کیا ملا تمہیں؟”
زیغم نے غصے سے شہرام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

“میں نے کیا زہر گھولا؟”
“وہ لڑکی ٹھیک نہیں ہے میرے بھائی کے لیے، تو میں کیسے اسے اس کی زندگی میں رہنے دوں؟”

“واہ! اور تم ٹھیک ہو؟ گھٹیا انسان… میں ساری سچائی جانتا ہوں… گندگی تمہارے دماغ میں ہے، ملیحہ بہت نیک فطرت لڑکی ہے۔ تم گندے انسان ہو… اور تمہیں لگتا ہے کہ ذرام اور ملیحہ کا رشتہ خراب کر پاؤ گے؟”
زیغم نے بھنویں چڑھاتے ہوئے سوالیہ انداز میں گھورا۔

“ہاں! بالکل! میں اس رشتے کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔ اپنے بھائی کو کسی اچھی جگہ ایڈجسٹ کروں گا۔ تم نے میرے بھائی کو جھونپڑی والوں کے حوالے کر دیا!”
شہرام نے اپنی نفرت بھری سوچ واضح کی۔

“ماشاءاللہ! تم کرو گے زرام کی زندگی کے فیصلے، جس نے خود زندگی میں کبھی کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا اور میں بھی دیکھتا ہوں کہ تم ذرام اور ملیحہ کے رشتے کو کیسے خراب کرتے ہو!”
“یہ رشتہ میں نے جوڑا ہے، میں اس پر تپش بھی نہیں آنے دوں گا!”

“تو ٹھیک ہے! پھر ان کے بیچ سے یہ غلط فہمی دور کر کے دکھاؤ!”
شہرام نے شاطرانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے چیلنج کیا۔

“بہت پیار کرتا ہے وہ اس سے!”
“وہ خود اس غلط فہمی کو دور کرے گا!”
‘تم اس کی فکر مت کرو!”
زیغم نے سخت سنجیدگی سے کہا۔

“ٹھیک ہے! دیکھتے ہیں پھر کیا کرتا ہے… تم آرام سے ناشتہ کرو… تمہیں اتنا تلملانے کی ضرورت نہیں۔ جب تمہیں یقین ہے کہ سب ٹھیک کر لو گے… تو آرام سے بیٹھو!”
شہرام شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
°°°°°°°°°
“ملیحہ میری بات تو سنو!”
ذرام نے تیزی سے اس کے قریب آ کر الماری سے نکالے جا رہے کپڑوں پر ہاتھ رکھ دیا۔

“ہاتھ… مت… لگانا مجھے!”
ملیحہ کی آواز میں کپکپاہٹ، دکھ، اور نفرت کا ایسا امتزاج تھا کہ ذرام ایک پل کو ساکت رہ گیا۔ وہ ایک ایک لفظ کو چباتے ہوئے روتی، تڑپتی ہوئی، انگلی اٹھا کر بولی تھی۔

“اوکے، ہاتھ نہیں لگاؤں گا… لیکن پلیز، مجھے بتاؤ تو سہی، ہوا کیا ہے؟”
ذرام نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہوئے جیسے خود کو بے گناہ ثابت کرنا چاہا، اس کی آنکھوں میں بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔

“تمہیں نہیں پتہ؟”
اس کے لب کانپے، آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں حیرت، صدمہ اور اذیت تھی۔

“نہیں، مجھے واقعی کچھ نہیں پتہ…”
ذرام کی آواز دھیمی پڑ گئی تھی۔

“جھوٹ… تم جھوٹ بول رہے ہو!”
ملیحہ چیخی تھی۔

“اور تم سچ بول بھی کیسے سکتے ہو؟”
“آخر جس کے بھائی ہو، اس جیسے ہی ہو گے!”
اس کے لہجے میں زہر نہیں، دل کا ٹوٹا یقین تھا۔

ذرام نے بے اختیار آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامنا چاہا۔
“ملیحہ پلیز، یقین کرو… میں جھوٹ نہیں بول رہا، مجھے سچ میں نہیں معلوم تم کس بارے میں بات کر رہی ہو…”

“ہاتھ چھوڑو میرا!”
اس نے زور سے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔

“تم بھی اپنے بھائی جیسے ہو… فرق صرف اتنا ہے کہ اُس نے بغیر نکاح مجھے نوچنے کی کوشش کی، اور تم نے نکاح کا نام دے کر مجھے عزت سے اپنے گھر بلایا… پر کیا فرق پڑتا ہے، نیت تو ایک ہی ہے!”
ذرام کا دل جیسے کسی نے چیر کے رکھ دیا ہو۔

“کیا… کیا کہا تم نے؟”
وہ ایک قدم پیچھے ہٹا، جیسے کسی گہری کھائی میں گر رہا ہو۔

“تم سمجھتی ہو کہ میں… میں تمہیں نوچنے کے لیے لایا ہوں؟”
بے یقینی سے بھری ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“ہاں! تم بھی چھپاتے رہے کہ وہ تمہارا بھائی ہے۔ اگر سچے ہوتے، تو سب کچھ پہلے ہی بتا دیتے!”
وہ اٹل لہجے میں چیختے ہوئے بول رہی تھی۔

“جب مجھے کچھ پتہ ہی نہیں تھا، تو کیسے بتاتا؟”
“مجھے نہیں پتہ کہ تمہارے اور شہرام بھائی کے بیچ میں کیا ہوا تھا، میں نہیں جانتا کہ تمہارا اور شہرام کا کیا رشتہ تھا۔”
ذرام کی آواز میں گہری بے بسی تھی۔

“رشتہ…… تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے، ہمارے بیچ میں کوئی بھی رشتہ نہیں تھا!”
وہ غصے سے سرخ آنکھوں سے گھورتی ہوئی تڑپ کر بولی تھی۔

“میرا اور تمہارے بھائی کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ سب اس کی گندی سوچ میں تھا۔ میں تو گاؤں آرہی تھی، اپنے ماں باپ سے ملنے… پر راستے میں اُس نے مجھے اغوا کیا، فارم ہاؤس لے گیا… تاکہ…”
اس کے لب رک گئے۔ آنکھیں آنسوؤں سے مزید بھیگ گئیں، وہ رخ موڑ کر کھڑکی کی طرف دیکھنے لگی۔ جو کچھ شہرام نے کیا تھا اسے سوچ کر بتانے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔ ذرام نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا، جیسے سب کچھ اس کے وجود سے نکل کر زمین پر بکھر چکا ہو۔ اسے خود پر شرمندگی ہو رہی تھی۔ اس کے گھر والے اتنے گھٹیا تھے کہ جب بھی پردہ اٹھایا جاتا نیچے سے گند نکل رہا تھا۔

“خدا کی قسم، مجھے کچھ نہیں معلوم تھا… اگر پتہ ہوتا، تو خود تمہیں سب بتاتا۔ مجھے افسوس ہے، شرمندگی ہے کہ وہ میرا بھائی ہے…”
وہ اس کے قریب آیا، نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

ملیحہ نے تڑپ کر ہاتھ جھٹک دیا۔
“اب تمہارے کسی بھی لمس پر یقین نہیں رہا ذرام… اب تم پر چاہ کر بھی کبھی یقین نہیں ہو سکے گا!”
درد زدہ لہجے میں کہتے ہوئے پھر سے اپنے کپڑے سمیٹنے لگی تھی۔

“ملیحہ رکو!”
ذرام کی آواز میں صرف بے بسی نہیں، جنون بول رہا تھا۔ وہ ایک ہی جست میں آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔

“جب کہا ہے کہ نہیں جانے دوں گا تو پھر کیوں یہ تماشہ کر رہی ہو؟”
اس کے ہاتھوں سے کپڑے جھٹک کر دور کرتے ہوئے سختی سے بولا۔

“چھوڑو میرا ہاتھ!”
وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹی، مگر ذرام نے اسے کھینچ کر قریب کر لیا۔
اچانک کھینچنے پر وہ توازن کھو بیٹھی، اور لڑکھڑاتی ہوئی سیدھا ذرام کے سینے سے جا لگی۔ اس کے بازوؤں کا حصار اتنا مضبوط تھا کہ وہ خود کو چھڑا نہ سکی۔ غصے سے اسے اور بھی رونا آرہا تھا۔ زرام کے مقابلے میں وہ بہت کمزور تھی۔ اسے اپنی اسی بے بسی پر رونا آ رہا تھا۔

“چھوڑو مجھے… میں کہہ رہی ہوں چھوڑ دو!”
ملیحہ کی آواز میں چیخ تھی، مگر آنکھوں میں وہی نمی، وہی ٹوٹا اعتماد۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، جنون کی شدت لیے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

“تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گا ملیحہ!”
اس نے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر سختی سے باندھ رکھے تھے۔ وہ چاہ کر بھی آزادی نہیں پا رہی تھی۔

“میں تمہیں نہیں جانے دوں گا… میرا پہلا اور آخری فیصلہ ہے!”
ملیحہ کی آنکھوں میں حیرت، غصہ، اور ہلکی سی لرزش ابھری۔

ملیحہ: “میں تمہاری جاگیر نہیں ہوں!’

زرام: “تم میری محبت ہو میرا جنون ہو!”

ملیحہ:”میں تم سے محبت نہیں کرتی!”

“میں کرتا ہوں اتنا کافی ہے..”
“جتنا غصہ نکالنا ہے، نکالو، چیخو، چلاو، مگر یہاں رہ کر نکالو… میرے ساتھ رہ کر، کیونکہ تم میرا عشق نہیں، میرا جنون ہو ملیحہ!”
ذرام کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی، آواز میں تھرتھراہٹ تھی۔

“میں مر تو سکتا ہوں، لیکن تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا!”
“اور رہی بات شہرام بھائی کی… تو انہیں آج، اسی وقت، اسی لمحے… اس گھر سے نکال دوں گا!”

“اسے نکالو… یا اپنے گھر میں رکھو… مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا… مگر میں یہاں نہیں رہوں گی، دھوکے بازوں کے گھر میں!”
ملیحہ نے غصے سے دھکا دیا تھا، مگر ذرام لمحہ بھر میں پھر سے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

“ہٹو میرے راستے سے، ذرام!”
وہ آنسوؤں میں بھیگی چیخ میں بولی، مگر ذرام نے اس کے دونوں بازو مضبوطی سے تھام لیے۔

“جتنا تم خود کو مجھ سے دور کرنا چاہتی ہو، میں اتنا ہی تمہیں اپنی قربت میں رکھنا چاہتا ہوں، ملیحہ!”
اس کی آواز کپکپا رہی تھی، آنکھوں میں شدت، دل میں طوفان تھا۔ ملیحہ ہاتھ چھڑوا کر جانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر وہ اسے خود سے دور ہٹنے نہیں دے رہا تھا۔ وہ بار بار پیچھے ہٹتی، اور وہ بار بار اسے اپنی گرفت میں لیتا۔

“زرام چھوڑو مجھے…!”
وہ سسکتی ہوئی بولی، مگر ذرام نے اس کی بات کاٹ دی۔

“نہیں چھوڑوں گا! تم جتنا غصہ نکالنا چاہتی ہو، نکالو… مگر یہیں، میرے پاس!”
وہ ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا، اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی سیدھا اس کے سینے سے واپس جا لگی۔

“تم میرا جنون ہو!”
“میں مر سکتا ہوں، مگر تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا!”
ملیحہ کی سانسیں تیز تھیں، وہ اسے دھکیل رہی تھی، مگر کب تک… وہ اس کے مضبوط بازوؤں میں قید تھی۔

“رہی بات شہرام بھائی کی… تو وہ آج ہی اس گھر سے جا رہے ہیں… تمہارے سکون کی قسم!”
ملیحہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

“اور مجھے تمہاری قسموں پر یقین نہیں زرام!”
اس نے تھرتھراتے ہوئے کہا، مگر ذرام نے پیشانی اس کی پیشانی سے ٹکا دی۔

“اتنی بے یقین اچھی نہیں ہوتی ملیحہ…”

“میرے پاس تم پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، ذرام!”
ملیحہ نے کڑوی سچائی سے بھری آواز میں کہا، آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔

“میرے نزدیک تم بالکل بھی قابل یقین نہیں ہو… میں نہ تم سے محبت کرتی ہوں نہ یقین تو پھر تمہارے ساتھ رہنے کی کوئی وجہ اور گنجائش بھی نہیں بچتی ہے!”
زرام کا دل توڑتے ہوئے وہ صاف گوئی سے بولتی چلی گئی۔

“ٹھیک ہے… جو دل میں آئے، وہ سوچو۔ مگر ایک بات یاد رکھو… تم یہاں سے نہیں جا سکتیں!”
ذرام کی آنکھوں میں جنون بول رہا تھا، وہ بےقرار ہو کر اس کے قدم روکنا چاہ رہا تھا، مگر ملیحہ مسلسل چلتی جا رہی تھی۔ اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھلا اور زیغم سلطان اندر داخل ہوا… رعب دار مگر شفیق چہرہ… متوازن لہجہ۔

“ملیحہ آرام سے بیٹھ جاؤ اور میری بات سنو…”
زیغم سلطان کی بھاری آواز سن کر وہ پیچھے ہٹ کر خاموشی سے کھڑی ہو گئی تھی۔

“میں سب جانتا ہوں… اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہارا دکھ سچا ہے۔”
اس نے نرم لہجے میں کہا، اور پھر ذرام کی طرف دیکھا۔

“ذرام، تم حیران ہو کہ میں یہ سب پہلے سے جانتا تھا… مگر میں نے تمہیں اس لیے نہیں بتایا کیونکہ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ میرا بھائی اپنی محبت کے لیے کتنا خالص ہے، کتنا سچا ہے، اور کیا وہ کسی مشکل فیصلے میں ڈٹ کر کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں۔”
ذرام خاموشی سے اپنے بھائی کو دیکھ رہا تھا۔

“لیکن مجھے خوشی ہے کہ تم دونوں سچ کے راستے پر ہو… مجھے خوشی ہے کہ میرے بھائی کی محبت خالص ہے… یہ رشتہ… یہ گھر… تم دونوں کا ہے!”
زیغم نے ملیحہ کی طرف قدم بڑھائے۔

“بیٹا، میں آج ہی شہرام کو پرانی حویلی منتقل کر رہا ہوں۔ تم یہاں محفوظ ہو، یہ تمہارا اپنا گھر ہے، تمہارے شوہر کا گھر ہے۔ یہاں تمہاری عزت، تمہارا سکون مقدم ہے۔”
ملیحہ خاموش کھڑی تھی، اس کی آنکھیں جھک چکی تھیں۔

“رشتے توڑنا آسان ہے، بیٹا… مگر انہیں نبھانا ہنر ہے۔ تم ایک سمجھدار لڑکی ہو، اپنے ماں باپ کو دوبارہ دکھ نہ دینا۔ وہ تمہیں ہنستا دیکھ کر جیتے ہیں۔ کیا تم نہیں چاہو گی کہ ان کی یہ خوشی ہمیشہ سلامت رہے؟”
ملیحہ کا دل جیسے رک گیا تھا، زیغم سلطان کے لہجے میں شفقت تھی۔ بھائیوں جیسے تحفظ کا احساس تھا۔ اس نے ایک نظر ذرام پر ڈالی… مگر اس کے لیے نظر بےیقینی سے خالی نہ تھی۔ وہ زیغم کے کہنے پر خاموشی سے ہاں میں سر کو ہلاتے ہوئے رک گئی۔ زرام کے لیے دل ابھی نرم نہیں ہوا تھا۔
°°°°°°°°°
[تین مہینے بعد]
تقریباً تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا، مگر کوئی بھی اپنی زندگی میں آگے نہیں بڑھ پایا تھا۔ وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ آغا جان کی نظریں ہر لمحہ خاموشی سے اپنے بیٹے کو تلاشتی تھیں۔ مورے نے مکمل خاموشی اختیار کر لی تھی۔ وہ آغا جان سے کوئی بات نہیں کرتی تھی۔ جب بھی آغا جان بات کرنے کی کوشش کرتے، وہ وہاں سے ہٹ جاتی۔ جیسے مکمل قطعِ تعلق اختیار کر لیا ہو۔
درخزائی کے چہرے کی مسکراہٹ ختم ہو چکی تھی۔ لگتا تھا مائد خان ہی اس کے چہرے پر وہ معصوم مسکراہٹ لانے کا سبب تھا، جو جاتے جاتے وہ بھی ساتھ لے گیا تھا۔ دانیا ان تین مہینوں میں مورے کے ساتھ ہی رہی۔ وہ ان کے ساتھ سوتی، ان کا خیال رکھتی۔ جیسے ایک بیٹی بن کر مورے کے دل میں اتر گئی۔ مورے کو دانیا سے محبت ہونے لگی تھی۔ وہ اسے اپنی بیٹی سے بھی بڑھ کر چاہنے لگی تھی۔ آغا جان کا دل بھی دانیا کے لیے نرم ہو چکا تھا۔ اب گھر میں جو بھی تھوڑی بہت رونق باقی تھی، وہ صرف دانیا کی وجہ سے تھی۔ وہ آغا جان کی دوائیوں کا خیال رکھتی، مورے کی فکر کرتی، درخزائی کو زبردستی کھانا کھلا کر خوش کرنے کی کوشش کرتی تھی مگر دانیا کی یہ ساری کوششیں بھی گھر کی سوگوار دیواروں میں خوشیوں کی کوئی لہر نہ لا سکیں۔ وقت کا پہیہ کسی کے لیے نہیں رکتا، اسی طرح مہینے گزر گئے۔

دوسری جانب مہرو اور ارمیزہ کی قربت بڑھنے لگی۔ ارمیزہ، مہرو سے خاصی اٹیچ ہو چکی تھی لیکن نایاب کی چالاکیاں ختم نہ ہوئیں۔ وہ وقفے وقفے سے اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی مگر اب اس کی ہر چال کا جواب دینے کے لیے گھر میں اس کو ٹکر دینے والی ملیحہ 24 گھنٹے موجود ہوتی تھی، جس سے زیغم اور زرام کو کچھ سکون محسوس ہونے لگا تھا۔ البتہ زرام اور ملیحہ کا رشتہ بہت خراب ہو چکا تھا۔ جیسے ہی ملیحہ کو یہ علم ہوا کہ شہرام اس کا بھائی ہے، اُس کا اعتماد زرام سے اٹھ گیا۔ زرام کی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی رشتہ بہتری کی طرف نہیں آپایا تھا۔
زیغم، جو پہلے ہی سب جانتا تھا، اس نے نرمی سے سمجھایا کہ اُسے اپنی بیوی کو سنبھلنے کے لیے کچھ وقت دینا چاہیے۔ کچھ رشتوں کو وقت پر چھوڑ دینا چاہیے وہ آہستہ آہستہ بہتر ہو جاتے ہیں کیونکہ اس وقت زرام کا عکس صرف یہی تھا کہ وہ شہرام کا بھائی ہے، توقیر کا بیٹا… اور یہ دونوں باتیں ہیں ملیحہ کے نزدیک بہت تکلیف دہ تھیں اور زرام پر بے یقینی کرنے کے لیے کافی تھی۔ اس کی جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی تو ایسا ہی رد عمل دیتی۔ یقین بہت نازک ڈور ہوتی ہے آسان نہیں ہوتا، فوراً سے ٹوٹے ہوئے یقین کو بحال کرنا۔ ایسے رشتوں کو تھوڑا سا وقت دینا چاہیے۔ زرام بھی یہی کر رہا تھا۔ شہرام کے حوالے سے زرام کی کی شخصیت دب گئی تھی قریبی رشتوں کا یہ عکس اتنا بھاری اور تکلیف دہ تھا کہ زرام کی اپنی شناخت گویا مٹ چکی تھی۔ وہ صحیح ہو کر بھی غلط ثابت ہو چکا تھا۔

دوسری جانب ملیحہ کا درد بھی بہت بڑا تھا۔ وہ ٹوٹے ہوئے دل سے اس گھر میں رہنا نہیں چاہتی تھی، مگر زیغم سلطان کے کہنے پر رک گئی۔ لیکن دل سے رشتہ ٹوٹ چکا تھا۔

دوسری طرف ہسپتال کی اوپننگ ہو چکی تھی۔ فیصل بھی وہاں آ چکا تھا۔ ذرام اور فیصل زیادہ تر ہسپتال میں مصروف رہنے لگے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کے لیے یہ ہسپتال ایک بڑی سہولت بن گیا تھا۔ بہترین ڈاکٹروں کو تعینات کیا جا رہا تھا اور کام تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ زیغم جرگہ کے کاموں میں مصروف ہوتا جا رہا تھا۔ آج کل کورٹ کچہری کے چکر بھی اس کے کافی زیادہ لگ رہے تھے۔ زمینوں کی دیکھ بھال اور دیگر کاموں نے اسے بری طرح سے الجھا رکھا تھا۔
ادھر وہ مائد کے گھر والوں کا بھی مکمل خیال رکھتا، ہر روز وہاں چکر لگا کر انہیں بیٹے کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتا تھا۔ ان تین سوا تین مہینوں میں زیغم نے ایک بیٹا بن کر ان کی خدمت کی اور ہر طرح کا خیال رکھا تھا۔ جتنا ہو سکا انہیں درد سے دور رکھنے کی کوشش بھی کی۔
یوں وقت کا پہیہ چلتا رہا… بس فرق یہ تھا کہ ان گھڑیوں میں مائد خان نہیں تھا۔
°°°°°
پچھلے تین ماہ سے کیمرے کی آنکھ مسلسل اسے دیکھ رہی تھی… مگر وہ اس بات سے ناواقف تھا کہ کوئی ہر پل اس کے تحفظ کے لیے نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ جب مائد خان کا سر گاڑی سے ٹکرایا، تو اس کے بعد اسے کچھ بھی یاد نہیں رہا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا… نجانے کیا ہوا، کیسے ہوا، کچھ بھی یاد نہیں تھا۔ جب آنکھ کھلی، تو خود کو ایک پرسکون کمرے میں پایا۔ گرمی کی شدت تھی، مگر اندر کی ٹھنڈک اور سکون نے اسے یہ احساس دلا دیا کہ روم میں اے سی چل رہا ہے۔ وہ حیران تھا۔ اتنے پُرسکون ماحول میں کیسے ہے… جبکہ ایکسیڈنٹ کے بعد اسے یا تو ہاسپٹل میں ہونا چاہیے تھا، یا پھر… قبر میں۔ مگر ہوش نہ ہاسپٹل میں آیا، نہ قبر میں…

کمرے کا ماحول ہاسپٹل جیسا ہرگز نہیں تھا، مگر جو کچھ اس کے علاج کے لیے ضروری تھا، وہ سب کچھ وہاں موجود تھا۔ ڈاکٹر موجود تھا… وارڈ بوائے خاموش کھڑا تھا، جیسے زبان کھولنے پر سختی سے پابندی ہو… جیسے کسی کے حکم کا پابند ہو…
جب مائد کو ہوش آیا، تو اسے کندھے میں شدید درد کا احساس ہوا… بازو کی ہڈی فریکچر ہو چکی تھی۔ ماتھے پر گہری چوٹ کی وجہ سے کئی ٹانکے لگے تھے۔ درد کی شدت نے سوچنے کی مہلت نہ دی۔

وقت کے ساتھ ساتھ جب وہ سنبھلا، تو سوال کرنے لگا:
“میں کہاں ہوں؟ یہاں کیوں ہوں؟ مجھے کس نے یہاں لایا ہے؟”
مگر مجال ہے کہ کسی نے جواب دیا ہو… کمرے میں صرف تین افراد آتے… ایک ڈاکٹر، ایک نوجوان جو دوا دیتا اور ڈریسنگ کرتا، اور تیسرا صفائی والا، جو کھانا لے آتا۔
مائد بار بار سوال کرتا، مگر جواب ندارد۔
پہلے اسے لگا شاید یہ سبحان خان کی چال ہے، مگر یہ وہم جلد ہی ٹوٹ گیا۔ اگر سبحان اسے یہاں رکھتا، تو خدمت نہ کرتا۔ وہ تو اس کی سانسیں تک چھین لینا چاہتا تھا… جبکہ یہاں، اسے بہترین ماحول، اعلیٰ خوراک اور مکمل آرام دیا جا رہا تھا۔ یہ سب کچھ مائد خان کو سوچنے پر مجبور کر رہا تھا…

دن گزرتے گئے… وہ سوال پوچھ پوچھ کر تھک چکا تھا۔ اب تو جھنجھلانے لگا تھا۔ آج پورے سوا تین ماہ ہو چکے تھے۔ بازو کا فریکچر تقریباً ٹھیک ہو چکا تھا… زخم بھر چکے تھے… کہا جا سکتا تھا، وہ مکمل صحت یاب ہو چکا تھا مگر جس سوال نے اس کے دماغ کو گرفت میں لے رکھا تھا، اس کا جواب ہنوز نہ ملا… ‘اسے یہاں کس نے رکھا ہے؟ کیوں؟’ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے پیچھے کیا راز ہے۔
‘اس کے اپنے کہاں ہیں؟’
‘مورے کیسی ہے؟ آغا جان… درخزائی… زیغم سلطان کیسا ہے؟’
‘کسی نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کیوں نہ کی؟’

سوال، سوال، سوال…

اور آج، غصے میں آ کر اس نے ڈاکٹر کو دو تین مکے جڑ دیے۔ مائد خان کی پٹھانی کھوپڑی آخر کب تک صبر کرتی۔ اب ہاتھ بھی ٹھیک تھا، مگر حیرت تو تب ہوئی جب ڈاکٹر ہنسا… نہ غصہ، نہ شکایت… بس ہنسی… مائد کو لگا شاید ڈاکٹر کا دماغ چل گیا ہے۔

ڈاکٹر نے ہنستے ہوئے کہا:
“ریلیکس ہو جائیں مسٹر مائد خان… آج آپ کے سب سوالوں کا جواب مل جائے گا۔”
اپنے ہونٹ پر لگے کٹ سے خون صاف کرتے ہوئے، نظریں اس کے چہرے پر جمائے مگر اصل حیرت تو تب ہوئی، جب اُس نے پہچانے ہوئے قدموں کی آہٹ سنی… سیڑھیوں کی جانب دیکھا، اور چونک گیا…

“تم…؟”
زیغم سلطان کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھ کر مائد خان بے حد خوش ہوا، مگر حیرت بھی کم نہ تھی۔ حیرانی کو ایک طرف رکھ کر وہ تیزی سے آگے بڑھا، اس کا یار، اس کا شہزادہ یار، نظروں کے سامنے تھا۔ دونوں نے بازو پھیلا کر ایک دوسرے کو سینے سے لگا لیا، ایسا منظر جیسے یاری خود بولنے لگی ہو۔ ڈاکٹر اور وارڈ بوائے بھی یہ منظر دیکھ کر مسکرا اٹھے۔

“کہاں تھا تو؟ مجھے ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی؟”
“پچھلے تین مہینے سے میں غائب ہوں، اور تو نے مجھے تلاش بھی نہیں کیا؟”
مائد نے شکوہ کیا مگر زیغم خاموش رہا، بس محبت بھری نظروں سے دیکھتا رہا۔

“ایسے معشوق کی طرح مجھے مت دیکھ، یہ بتا کہ ڈھونڈنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟”
مائد نے چڑ کر کہا، مگر وہ پھر بھی خاموش تھا۔

“اب تُو مجھے غصہ دِلا رہا ہے، یہ نہ ہو کہ تیری آمد کی خوشی بھول کر تجھے دو چار مکے جڑ دوں!”
مائد غصے سے بولا تو ڈاکٹر صاحب بھی ہنس پڑے۔

“ہاں جی، ان کو بتا دیجیے، ورنہ ان کے ہاتھوں نے تو آج ہمارا نقشہ ہی بدل دیا ہے!”
ڈاکٹر نے اپنے ہونٹ کی طرف اشارہ کیا جہاں کٹ لگا تھا۔

“صبر کر، بیٹھ جا، سب بتا دوں گا!”
زیغم نے ہنستے ہوئے کہا۔

“یہاں کیسے بیٹھ جاؤں؟ اگر تجھے بھی قید کر لیا گیا تو؟”

“ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا جو تجھے یا مجھے قید کر سکے، ٹھنڈ رکھ، سکون سے بیٹھ!”
زیغم اسے زبردستی گلے لگا کر پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ مائد ابھی تک سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ زیغم نے ڈاکٹر اور وارڈ بوائے سے ہاتھ ملا کر شکریہ کہا، وہ دونوں روم سے جا چکے تھے۔ اب کمرے میں صرف مائد خان اور زیغم سلطان موجود تھے۔ مائد حیرت سے اسے تک رہا تھا، جبکہ زیغم صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر مزے سے بیٹھا تھا جیسے کسی دعوت میں آیا ہو۔

“اب تُو بولے گا یا پھر میں اپنے طریقے سے تمہاری زبان کھلواؤں؟”
“مجھے بتا کہ کیا چکر ہے؟”
مائد کا غصہ عروج پر تھا۔

“افف! بتا دیتا ہوں نا، کیا چکر ہے!”
“پہلے، آیا ہوں، کوئی چائے پانی تو پوچھ لو، آتے ہی سوال پر سوال!”
زیغم کے چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ تھی۔ مائد نے غصے میں آ کر ایک زور کا مکا جڑ دیا، محبت کا انداز بھی پٹھانی تھا۔ زیغم مسکرا کر ہونٹ صاف کرنے لگا۔

“کمینے! تین مہینوں میں کھا کھا کے سانڈ بن گیا ہے!”
“کوئی کام نہیں ہے! پہلے ڈاکٹر کو زخمی کیا، اب مجھے، لگتا ہے گھر جا کر بھی دنگے کرے گا!”
زیغم ہنستا ہوا بولا۔

“میں مذاق کے موڈ میں نہیں! بتا، یہاں کیا چل رہا ہے؟”
“دماغ پھٹنے لگا ہے سوچ سوچ کر!”
مائد اب شدید غصے میں تھا۔

“تُو میری نازک حسینہ، اپنے معصوم دماغ اور دل کا، دل پر زور نہ ڈال یار! آ، بیٹھ، گپیں مارتے ہیں!”
زیغم اب بھی تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔ ہاتھ بڑھاتے ہوئے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ بٹھا چکا تھا۔

بیشک، دوستی وہ رشتہ ہے جو رگوں میں خون کی مانند رواں رہتا ہے۔
غصے میں بھی، مائد اور زیغم کی محبت آنکھوں سے چھلک رہی تھی، جیسے مہینوں کی دوری نے تعلق کو مزید مضبوط کر دیا ہو۔
سچے دوست وہ نہیں جو صرف ہنسی میں ساتھ ہوں، بلکہ وہ ہیں جو آنکھوں کے نم ہوتے ہی دل کی دھڑکنوں میں اتر جاتے ہیں۔
دوستی وہ چھاؤں ہے جو وقت کے تپتے لمحوں میں سکون بن کر اترتی ہے۔ یہ وہ لمس ہے جو لفظوں کے بغیر بھی دل کا درد پڑھ لیتا ہے۔
سچا دوست آئینہ ہوتا ہے، جو ہماری خامیوں کو بھی محبت سے دکھاتا ہے۔
ایسا آئینہ جو ٹوٹے بھی، تو چہرہ نہیں کاٹتا۔
مائد اور زیغم کی یاری ایسی ہی تھی۔ شدید غصے میں بھی ایک دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتی۔ مکے لگنے کے بعد بھی، مضبوط محبت کی دیواریں ہلتی نہ تھیں۔

دوستی کا رشتہ دنیا کی سب سے خاموش عبادت ہے۔ نہ دعاؤں میں مانگا جاتا ہے، نہ دعاؤں میں جتایا جاتا ہے۔ بس وقت گزرنے کے ساتھ، اس کا رنگ اور گہرا ہو جاتا ہے اور اگر قسمت میں ہو، تو وہ یار زندگی کا ایسا سہارا بن جاتا ہے جو ٹوٹ کر بھی جوڑتا ہے۔

دوستی، جیت ہے، باقی سب، ہار ہے،
دُکھ کی گھڑی میں، جو بنے، وہ دیوار ہے۔
وفا کے سفر میں، جو قدم سے، قدم مِلا لے،
وہی اصل، دوست، وہی سب پہ، بھاری پیار ہے۔
°°°°°°°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *