Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:33
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 33
°°°°°°
“مہارانی اٹھ جاؤ، 12 بجے تک سوتی رہتی ہو؟”
قدسیہ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی، ماتھے پر بل، آواز میں خراش، اور ہاتھ کمر پر ٹکے ہوئے۔ کمرے میں نیم اندھیرا تھا، مگر وہ ساری بتیاں جلا کر جیسے حساب برابر کر چکی تھی۔ اسے پروا نہیں تھی کہ یہ اس کی بہو کا کمرہ ہے۔ لحاظ… لفظ تو قدسیہ کی لغت میں تھا ہی نہیں لیکن ایک بات وہ بھول گئی تھی… یہ ملیحہ کا کمرہ ہے، کوئی عام لڑکی نہیں۔ خود اعتمادی سے بھری ہوئی ہے اپنی ریسپیکٹ کرنا جانتی ہے۔ بیڈ پر نیم دراز، ملیحہ نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا، کروٹ بدلی، جسم سست، چہرے پر ہلکی سی بےبسی اور تھکن کی پرچھائیاں۔ رات بھر کی تکلیف، سر میں درد، ہلکا بخار اور دل میں وہ پرانی سلگتی بدگمانی… جو تین ماہ سے شہرام کی وجہ سے ان کے رشتے کے بیچ میں چلی آ رہی تھی۔
“ایسا بھی کیا بخار، کام کاج چھوڑ کر بس لیٹی ہو، بہو ہو، کوئی مہمان نہیں!”
قدسیہ کی آواز نے سکون کا گلا گھونٹا۔
ملیحہ نے آہستہ سے آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا، لب سختی سے بھینچ لیے، مگر زبان خاموش۔ اندر خوا خاموش طوفان… جو ہر لمحہ بڑھتا جا رہا تھا۔
قدسیہ نے دوبارہ تن بدن میں زہر گھولا۔
“اٹھو بی بی، کمرہ خالی کرو، مہارانی بن کر سو رہی ہو!”
ملیحہ کا وجود آہستہ سے سیدھا ہوا، وہ بیڈ پر بیٹھ گئی، چہرہ سپاٹ، آنکھوں میں وہ گہرا نیند زدہ غرورلیے۔
“اٹھ گئی ہوں۔ کیا کمرہ صاف کرنا ہے جو اتنی اتاولی ہو رہی ہیں؟”
قدسیہ کا چہرہ لال، ناک پھڑکی۔
“قینچی کی طرح تمہاری زبان چلتی ہے، بدزبان لڑکی! تمیز نہیں ہے تمہیں؟”
ملیحہ کے چہرے پر ایک کٹیلی مسکراہٹ ابھری۔
“نہیں، مجھے تمیز نہیں ہے۔ جو سامنے سے ملتا ہے، وہی اس کے منہ پر واپس دے مارتی ہوں۔ یہی ہے میرا طریقہ۔”
قدسیہ تیزی سے اس کی جانب بڑھی، ہاتھ فضا میں، آنکھوں میں چنگاریاں۔
“زبان کاٹ دوں گی جو میرے ساتھ بدتمیزی کی!”
ملیحہ کا ہاتھ بجلی کی طرح بڑھا، قدسیہ کی کلائی پکڑی، گھمایا، دھڑام سے اس کی کمر پیچھے کی جانب جھکی، آنکھوں سے درد ٹپک پڑا۔
“زبان کاٹنا تو دور کی بات ہے… میرے چہرے کے نزدیک ہاتھ بھی لانے کی کوشش کی نا… خدا کی قسم! یہ ہاتھ توڑ کر، چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر، پریشر کُکر میں ابال کر، باہر باندھیں ہوئے تمہارے ڈوگی کے منہ میں ٹھونس کر نہ کھلا دیا تو… میرا نام بھی ملیحہ نہیں… سمجھی؟”
قدسیہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ کمرہ خاموش… بس سانسوں کی آواز آرہی تھی۔ اچانک روم کے اندر زرام داخل ہوا تھا۔ ملیحہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور ہاسپٹل میں اس کا دل نہیں لگ رہا تھا۔ بار بار فون پر بھی جب اس نے فون نہیں اٹھایا تو فیصل نے کہا کہ وہ گھر جا کر دیکھ لے کہ بھابھی ٹھیک ہے یا نہیں مگر یہاں تو نظارہ ہی الگ تھا۔ زرام کا چہرہ پل میں سخت ہوا، نظریں سیدھا ملیحہ پر رکیں، جو تپی ہوئی نظروں سے ساس کو دیکھ رہی تھی۔
“ہاتھ چھوڑو، ملیحہ!”
اس کی آواز دبی ہوئی، مگر وزن دار تھی۔
ملیحہ نے ایک پل کو نظریں اٹھا کر زرام کو دیکھا، جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو، پھر بنا ایک لفظ کہے کلائی چھوڑ دی۔
قدسیہ فوراً پیچھے ہوئی، ہاتھ سہلاتے ہوئے دھاڑی۔
“اب دیکھو اس کی حرکتیں! بہو ہے یا دشمن؟”
زرام نے گہری سانس لی، قدم آگے بڑھایا۔
“اماں بس کریں۔ میں سب سمجھ رہا ہوں۔”
قدسیہ کی آنکھیں پھیلیں۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟ میں غلط ہوں؟”
“غلط یا صحیح کا فیصلہ ابھی نہیں کروں گا، مگر ملیحہ بیمار ہے۔ل اور بیمار انسان کے ساتھ اس طرح کا رویہ… نہ آپ کو زیب دیتا ہے، نہ اس حویلی میں کسی اور کو!”
زرام کا لہجہ کافی تلخ تھا۔
“آپ میری بیوی کو اپنی بہو نہیں مانتیں… تو براہ کرم کمرے میں آ کر اس پر چلانا بھی مناسب نہیں۔”
ذرام نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
“پلیز، آپ چلی جائیں… اور آئندہ جو کچھ کہنا ہو، مجھ سے کہیں… ملیحہ سے آپ کا کوئی تعلق نہیں۔”
“یہ صرف میری بیوی ہے… اس پر میرا حق ہے یہ چاہے سوئے، اٹھے یا کچھ بھی کرے… میں خود دیکھ لوں گا۔ آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں!”
“لعنت ہے تم جیسے بیٹے پر، جو اپنی بیوی کا دم چھلا بن کر ماں کو غلط ٹھہرا رہا ہے۔”
قدسیہ نے جل کر کہا۔
“بالکل… میں لعنت کے قابل ہوں… آپ مجھ پر لعنت بھیجا کریں… ماں ہیں، آپ کا مجھ پر پورا حق ہے۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا!”
ذرام نرم لہجے میں بولا۔
“تم مجھے ماں سمجھتے ہو؟”
قدسیہ نے درد بھرے انداز میں خود کو مظلوم بنانے کی کوشش کی۔
“میں تو ماں سمجھتا ہوں… مگر کاش آپ نے ماں والا فرض نبھایا ہوتا۔ ہر طرف بدگمانیوں کا سماں ہے، ایسے میں ایک اچھا بیٹا بننا میرے لیے بہت مشکل ہو چکا ہے… اور یہ سب کسی اور نے نہیں… آپ لوگوں نے خود کیا ہے!”
“ماشاءاللہ… ہم غلط… اور یہ جو پارسا تمہاری بیوی ہے… یہ جو کر رہی تھی، وہ سب ٹھیک ہے؟”
قدسیہ نے تپ کر جواب دیا۔
“یہ بھی غلط کر رہی تھی… سمجھا دوں گا… مگر آپ باؤنڈری لائن کراس کر کے میرے کمرے تک دوبارہ مت آئیے گا… آپ کو غصہ ہے، گلہ ہے، شکوہ ہے، مارنا ہے، کوسنا ہے… تو یہ سب کرنے کے لیے آپ کا بیٹا حاضر ہے کیونکہ آپ نے مجھے پیدا کیا ہے، اسے نہیں۔ اس پر آپ کا کوئی ایسا حق نہیں جسے استعمال کر کے آپ اس کے ساتھ یہ رویہ رکھیں۔”
وہ حق پر بولتا چلا جا رہا تھا اور بخار سے تپتے ہوئے وجود سے ملیحہ نظریں اٹھا کر اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ اس کے دفاع میں… اس کے حق کے لیے آواز بلند کر رہا تھا۔
“میں اس لڑکی کو اس گھر میں نہیں ٹکنے دوں گی، میرا اتنا پڑھا لکھا ڈاکٹر بیٹا اور یہ جاہل جھوپڑ پٹی لڑکی؟ میری بہو کی حیثیت سے؟ ہرگز نہیں!”
قدسیہ نے نفرت سے زہر اگلا تھا۔
“اماں، یہ تو ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی۔ جانتی ہیں کیوں؟”
‘کیونکہ میں ایسا چاہتا ہوں!”
ذرام نے ایک قدم آگے بڑھا کر نرم مگر جنون سے لبریز لہجے میں کہا۔
“یہ میری زندگی میں میری مرضی سے، میری خوشی سے آئی ہے اور جب تک میں زندہ ہوں، اسے خود سے دور نہیں جانے دوں گا، یہ خود چاہے تب بھی نہیں!”
زرام کے لہجے سے اس کا جنون جھلک رہا تھا۔
قدسیہ نے ملیحہ کی طرف نفرت سے دیکھا۔ جیسے ابھی اسے کھا جائے گی۔
“میں اس کو تمہاری زندگی سے باہر کر کے دکھاؤں گی۔ میں بھی دیکھتی ہوں، یہ کیسے تمہارے ساتھ رہتی ہے!”
وہ اٹل لہجے میں بول رہی تھی۔
“ایسا تو صرف ایک صورت میں ممکن ہو سکتا ہے… خدا سے دعا کریں کہ میں مر جاؤں، کیونکہ میرے مرنے کے بعد ہی یہ لڑکی مجھ سے آزاد ہو سکے گی… کیونکہ جیتے تو میں اسے خود سے کبھی الگ نہیں ہونے دوں گا!”
اس کے لہجے میں جنون، آنکھوں میں عزم اور نگاہوں میں ملیحہ کے لیے بے پناہ محبت تھی۔ ملیحہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ دل، ذرام کے لفظوں سے زور سے دھڑکا تھا۔ بے اختیار اس کے دل نے یہ سوچا تھا کہ کیا سچ میں زارام اتنی نفرت کے لائق ہے جتنی نفرت وہ اس سے کرنے لگی ہے؟
اس کے گھر والے برے ہیں، غلط ہیں تو کیا اس میں ذرام کا قصور ہے؟ آج پہلی بار اس کے دل میں یہ سوچا تھا۔
“اللہ نہ کرے کہ میری بیٹے کو کچھ ہو، اللہ کرے یہ لڑکی مر جائے اور میرے بیٹے کی جان چھوٹ جائے، جادوگرنی نے پتہ نہیں کیا جادو کر دیا ہے!”
قدسیہ ملیحہ کی جانب انگارے برساتے ہوئے دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
“بس کر دیں اماں! صرف اتنا ہی بولیں جتنا آپ کو زیب دیتا ہے!”
“آپ ملیحہ کو بددعائیں نہیں دے سکتی، آپ مجھے بددعائیں دینے کا حق رکھتی ہیں، میری بیوی کو نہیں!”
زرام تڑپتے ہوئے بولا تھا۔ اس سے برداشت نہیں ہوا تھا کہ اس کی ماں ملیحہ کو مرنے کی بددعائیں دے رہی ہے۔ اس کا دل رکنے لگا تھا۔
“جس کے مرنے کی دعائیں کر رہی ہیں، ایک بات ذہن میں رکھیں کہ اس کے مرنے پر، میری بھی سانسیں بند ہوں گی۔ اگر یہ نہیں، تو میں بھی نہیں، یہ ختم تو میں بھی ختم!”
“تسلیم کر لیں کہ اس کے بغیر زارام کا وجود نہیں ہے۔ میں اس کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا!”
وہ جنون سے بولتا چلا گیا۔
“تمہارے جنون کا نشہ تو میں اتار لوں گی!”
“جب تمہاری زندگی میں کوئی کم سن حسینہ، تمہارے سٹیٹس سے میچ کرتی ہوئی لے کر آؤں گی، تو تم خود ہی بھول جاؤ گے!”
قدسیہ نے جنونی انداز میں کہا۔
“آپ اگر ہزار کمسن حسینہ بھی لا کر میرے سامنے کھڑی کر دیں، تب بھی میرا انتخاب ملیحہ ہوگی کیونکہ اس کو میں نے چاہا ہے… میرا پہلا اور آخری انتخاب یہی ہے، اور یہی رہے گا، کبھی نہیں بدل سکتا!”
وہ درد زدہ لہجے میں جنونی ہو کر بولتا چلا گیا، اور قدسیہ اسے کوستے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔ زرام دروازہ بند کرتا ہوا، کمرے کی لائٹس آف کر کے، صرف جتنی کی ضرورت تھی اتنی جلا کر، ملیحہ کے قریب آ کر بیٹھ گیا تھا۔ وہ بخار سے تپ رہی تھی، نظریں چراتے ہوئے، رخ پھیر کر بیٹھی تھی۔
ذرام نے نرمی سے اس کے ماتھے پر ہاتھ کی پشت رکھتے ہوئے فیور چیک کیا۔
“تمہیں ابھی بخار ہے۔ لیٹو، میں پٹیاں کرتا ہوں۔”
“مجھے نہیں کروانی۔”
“میں نے تم سے پوچھا نہیں، بتایا ہے کہ پٹیاں کرنی پڑے گی۔ دوا کے بعد بھی بخار نہیں گیا، پٹیاں کرنا ضروری ہے۔”
وہ اٹھ کر واش روم سے باؤل کے اندر پانی بھر کر لے آیا تھا اور وہ اس کے آنے سے پہلے ہی کمبل منہ کے اوپر لیے لیٹ گئی تھی۔ اسے کمبل اوڑے دیکھا تو زرام کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
“ضدی لڑکی! ہر وقت ضد کرنا اچھی بات نہیں ہوتی۔”
“تمہیں بخار ہے، پلیز پٹیاں کرنے دو!”
نرمی سے اس کے چہرے سے کمبل کھینچتے ہوئے، پاؤں بیڈ سے لٹکائے، باؤل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے، پٹی بھگو کر نچوڑتے ہوئے، اس کے ماتھے پر رکھتے، ایک ہاتھ اس کے اوپر سے گزار کر تکیے پر رکھے ہوئے تھا۔
“تمہیں اماں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا۔”
وہ پٹی بدلتے ہوئے، نرمی سے بولا۔
“آپ کی اماں نے پہلے آ کر کمرے میں مجھ پر چلانا شروع کیا تھا!”
وہ شرمندہ سا نرم لہجہ لیے بولی تھی، بخار کی شدت کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا، اور اس کے نزدیک یہ غلط بھی تھا۔ قدسیہ جیسی بھی تھی، زرام کی ماں تھی، یہ گلٹ اس کے اندر موجود تھا اور زرام ہمیشہ اس کے ماں باپ کی بہت عزت کرتا تھا اس لحاظ سے اس کا دل ملامت کر رہا تھا کہ اسے قدسیہ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا۔
“جانتا ہوں، پہل اماں نے کی ہو گی، مگر پھر بھی آئندہ دھیان رکھنا!”
“وہ جو بھی ہیں، جیسی بھی ہیں، میری ماں ہے، میری جنت ہے۔ ماں باپ اگر برے بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ حق کہیں اولاد کو نہیں دیا کہ وہ اپنے ماں باپ کی انسلٹ کر سکیں یا کروا سکیں۔”
نرمی سے کہتے ہوئے پٹیاں بدلتا جا رہا تھا، نظریں اس کے پیارے سے چہرے پر مرکوز تھیں۔
“جی… ٹھیک ہے، آئندہ دھیان رکھوں گی۔”
“جی… ٹھیک ہے، آئندہ دھیان رکھوں گی… اتنا ادب، میرے لیے؟”
وہ شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرا دیا۔
“کیوں، عزت ہضم نہیں ہو رہی؟”
“سچ میں ہضم نہیں ہو رہی، کیا کروں؟”
‘جب سے شادی ہوئی ہے عزت کبھی ملی نہیں، نا۔”
“ہاں تو، کبھی عزت والے کام بھی تو نہیں کیے!”
“ہر گزرتے دن کے ساتھ تمہارے نئے سے نئے راز میرے سامنے آتے ہیں، تو کیسے کروں تمہاری عزت؟”
“یار، تم راز کے بارے میں تو ایسے بات کر رہی ہو جیسے ہر روز میری گرل فرینڈ کے چیپٹر تمہارے سامنے کھل رہے ہیں!”
وہ شرارتی ہو کر بولا۔
“گرل فرینڈ؟ گرل فرینڈ بنا کر تو دیکھو، بنانا تو دور کی بات ہے، اگر تمہاری پچھلی زندگی میں بھی گرل فرینڈ نام کی کوئی شے موجود رہی نا، تو میں وہ حشر کروں گی کہ تمہارے بڑے بھی تمہارا نام لیتے ہچکچائیں گے!”
وہ بخار میں تپ رہی تھی، مگر یہ لفظ سنتے ہی جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ غصے میں کالر کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر کھینچا، تو ذرام اس کے بالکل قریب آ چکا تھا۔ چہرہ چہرے کے مقابل، سانسوں سے سانسیں ٹکڑا رہی تھیں مگر ملیحہ کو خبر ہی نہ تھی کہ وہ اس وقت ذرام لغاری، جس کا مضبوط دل اب بےایمانیاں کرنے کے لیے تیار تھا۔
“کیا کرو گی اگر میری پچھلی زندگی میں کوئی لڑکی رہی ہو؟”
وہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر مدھم لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ اس کا قریب ہونا زرام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ سانسیں چہرے پر پڑیں تو ملیحہ ہڑبڑا گئی۔ جلدی سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، مگر اب دیر ہو چکی تھی۔ ذرام کی بانہوں کا محبت بھرا حصار قائم ہو چکا تھا۔ چھٹکارا ممکن نہ رہا۔
“چھوڑو…!”
اس نے بمشکل کہا۔
“پہلے یہ بتاؤ، اگر میری زندگی میں کوئی اور ہوتی، تو تم کیا کرتیں؟”
محبت بھری خماردار نظروں سے دیکھا۔
“اس کی جان لے لیتی… اور تمہاری بھی!”
ذرام نرمی سے مسکرایا۔
“میری جان تو ویسے ہی تمہاری ہے، کوئی اپنی جان کی جان کیسے لیتا ہے؟”
“جان اگر بےوفائی کرے، تو اس جان کی جان لینا فرض ہو جاتا ہے۔”
ملیحہ کا لہجہ سخت تھا۔
ذرام آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا:
“تو تم مانتی ہو کہ میں تمہاری جان ہوں؟”
“نہیں… میں صرف اتنا مانتی ہوں کہ اگر تم نے کسی اور کی طرف دیکھا، تو میں تمہاری جان لے لوں گی۔”
“مان لو میری سپائسی چلی کہ میری محبت تمہارے دل کی دہلیز پر دستک دے چکی ہے۔ دل کا دروازہ کھل چکا ہے، اب تم مجھ سے محبت کرنے لگی ہو۔”
“مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔”
ذرام نے گہری سانس لی۔
“محبت تو ہے میری جان، اور شدت اتنی کہ میری زندگی میں کسی اور کا تصور تم سہہ بھی نہیں سکتیں۔ نہ مانو، مگر دل میں جھانک کر دیکھو۔ خود پتہ چل جائے گا!”
“چھوڑو مجھے…”
اس نے آنکھیں چراتے کہا۔
“کیوں؟ میری قربت تمہارے ارادے کمزور کر رہی ہے؟”
“ایسا کچھ نہیں ہے!”
“ایسا ہی ہے… بس ہٹ جاؤ اپنی ضد سے۔ تسلیم کر لو کہ تم اب میری ہو اور میری محبت میں ہار چکی ہو۔”
زرام کے لہجے کی محبت اور جنون دونوں ہی ملیحہ کے دل کی گہرائیوں تک اتر رہے تھے مگر لبوں سے انکار کیے جا رہی تھی۔
محبت کبھی پوچھ کر نہیں ہوتی!
محبت کبھی زبردستی روکی نہیں جا سکتی!
محبت کے اپنے قاعدے قوانین ہوتے ہیں!
یہ جب چاہے، جہاں چاہے، آ سکتی ہے، اس پر انسان کا زور نہیں ہوتا!
یہ ایک قدرتی عمل ہے!
نہ تو کسی کے کہنے سے ہوتی ہے، اور نہ ہی کسی کے روکنے سے رکتی ہے!
محبت تو خدا کا دیا ہوا تحفہ ہے!
کہتے ہیں نا، محبت کرنا گناہ نہیں ہوتا، اگر کی جائے اصول سے!
خدا کو بھی محبت تھی، اپنے پیارے رسول سے!
محبتوں کے مفہوم،اگر نہ بدلے جائیں، تو محبت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی مگر آج ہوس کو محبت کا نام دے کر، محبت کو محبت سے ہی بدنام کر دیا گیا ہے۔
°°°°°°°°
“زیغم میرے صبر کا امتحان مت لے، مجھے بتا کہ تُو یہاں تک کیسے پہنچا اور مجھے بتا کہ پچھلے تین مہینوں سے تمہیں میری خبر کیوں نہیں تھی؟”
مائد خان، غصے سے زیغم کو گھورتے ہوئے دیکھ کر پوچھ رہا تھا۔ اس کے صبر کے پیمانے پوری طرح سے لبریز تھے۔ سوالوں کا بھونچال تھا، مگر کوئی جواب اس کے پاس نہیں تھا، اور اس وقت اس کے تمام سوالوں کا جواب صرف اور صرف زیغم سلطان دے سکتا تھا، جو کہ مسکراہٹ بھرا چہرہ لیے خاموش بیٹھا تھا، ٹانگ پر ٹانگ جمائے، جیسے سیر و تفریح کے لیے آیا ہو۔ اس کا بے فکری بھرا انداز مائد کو اور بھی غصہ دلا رہا تھا۔
“بتاتا ہوں یار، صبر کرو، ابھی میرے تو ہونٹ پر درد ہو رہا ہے، تم نے جو کٹ مجھے دیا ہے، اب اس کا جواب تمہاری بھابھی کو بھی جا کر دینا ہوگا، کیسے لگا ہے۔ بندی بیچاری معصوم ہے، ورنہ شک کی نظر سے دیکھ سکتی ہے!”
زینم سلطان بات کا رخ بدلتے ہوئے اسے اور ٹریک پر ڈال رہا تھا، مگر مائد کی سوچ وہیں پر ٹکی ہوئی تھی۔
“میری بھابھی بہت معصوم ہے اور بڑی بدنصیب بھی، جس کے حصے میں تیرے جیسا کمینہ انسان آیا ہے، جو مدے کی بات پر نہیں آ رہا، مجھے الجھائے جا رہا ہے، تُو مجھے بتا کہ تُو کس سے ملا ہوا ہے، تو یہاں تک کیسے پہنچا؟”
“کیونکہ تیرے لچھن دیکھ کر تو نہیں لگ رہے کہ تُو یہاں تک چھپتا چھپاتا آیا ہے، اچھی طرح سے نظر آ رہا ہے کہ تیرے ساتھ یہاں پر کوئی نہ کوئی تیسرا ملا ہوا ہے، جس کے ساتھ تو نے ملی بھگت کی ہے، جلدی سے بتا کہ یہ سارا چکر کیا ہے؟”
وہ سانس لیے بنا بولتے ہوئے زیغم سے سچ اگلوانے کے لیے بے تاب تھا۔
“اچھا یار، بتاتا ہوں، تیرے اندر ٹھنڈ نام کی کوئی چیز نہیں ہے… بتا دیتا ہوں۔ تین مہینے سے ایک زبردست سا ٹوسٹ تیار کر رہا تھا، سرپرائز تیار کر رہا تھا، اور تجھ سے تین سیکنڈ صبر نہیں ہو رہا، بڑا ہی اتاولا انسان ہے۔”
اس کی بے صبری دیکھ کر زیغم نے اسے بتانے کی ٹھان لی تھی۔
” جلدی منہ کھول!”
مائد نے کہا تھا۔
“اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر میری ساری بات سننا، ایسا نہ ہو کہ کہیں سچائی سن کر تمہیں دل کا دورہ پڑ جائے!”
زیغم نے بات شروع کرنے سے پہلے ہی اسے سمجھا دیا تھا کہ بات کافی جھٹکا لگنے والی ہے۔ مائد خاموش تھا، کچھ نہیں بولا۔
“اس دن، جب تم عید والے دن مجھ سے ملنے کے لیے آئے تھے، اور تمہاری طبیعت بہت خراب تھی، اور اس کے بعد جب ہم بیٹھے، تو جب تم بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ تم مونا کے ساتھ نہیں رہ سکتے، تم اسے بیوی کا حق نہیں دے سکتے، اس کے جذبات کی عزت نہیں کر سکتے، اور جب میں نے تمہیں یہ مشورہ دیا کہ تم انکار کر دو، تو تم نے کہا تھا کہ میں آغا جان کو یہ صدمہ نہیں دے سکتا کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔”
“جب یہ ساری باتیں میں نے سنی، تو میں اچھی طرح سے جانتا تھا کہ تم کیا کہنا چاہتے تھے، مگر اس بات پر میں کبھی ایگری نہیں ہو سکتا تھا۔ جانتے ہو کیوں؟”
“کیونکہ تمہارا دل چاہتا تھا کہ میں تم سے کہہ دوں کہ میں دانیا کا نکاح تم سے کر دوں گا!”
یہ الفاظ مائد خان کو جھٹکے کی طرح لگے تھے، کیونکہ سچ میں وہ یہی چاہتا تھا،
مگر اس وقت تو زیغم کچھ بولا نہیں تھا، تو مائد کو لگا کہ زیغم کو سمجھ نہیں آئی،
مگر یہاں تو زیغم پوری طرح سے ہر بات کو سمجھ کر بھی اس وقت نہیں بولا تھا۔
“ایسے حیرت سے مت دیکھو، میں جانتا تھا کہ تمہارا پوائنٹ یہی تھا، مگر میں اپنی بہن کو بٹی ہوئی محبت میں دھکیلنا نہیں چاہتا تھا، اس وقت ایک بھائی کے جذبات، ایک دوستی کے جذبات پر زیادہ حاوی تھے۔”
“دانیا، نے زندگی میں بہت کچھ برداشت کیا، اب میں اس کے لیے بہت سوچ سمجھ کر اور اس کی مرضی کے مطابق فیصلہ لینے کے حق میں تھا مگر دوسری جانب، تمہارا درد مجھ سے دیکھا نہیں جا رہا تھا، پھر بھی میں نے صبر کیا، مگر جب میں تمہیں گھر پر چھوڑ کر واپس نکلا، تو ابھی میں زیادہ دور بھی نہیں پہنچا تھا کہ مجھے ،درخزائی، کا فون آیا، کہ ،سبحان، اور اس کی فیملی نے گھر میں مسئلہ کرییٹ کر دیا ہے، اور تم غصے سے تیز سپیڈ میں گاڑی لے کر گھر سے چلے گئے ہو، وہ کافی پریشان تھا، میں نے اسے حوصلہ دیا کہ میں سب دیکھ لوں گا۔”
“اسی وقت میں نے تمہارے گارڈز سے بات کی تھی، تو ان کے ہیڈ سے پتہ چلا کہ تمہارے دو گارڈز تمہارے پیچھے ہی تھے، مگر تمہاری گاڑی اتنی تیز تھی کہ وہ تم سے تھوڑا دور ہو گئے، مگر مسلسل وہ میرے ساتھ ٹچ میں تھے مگر بد نصیبی کہ ان کے پہنچنے سے کچھ دیر پہلے ہی تمہارا ایکسیڈنٹ ہو گیا، اور تم بری طرح زخمی ہو گئے، وہ ٹرک والا ٹکر مارتے ہی فوراً وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تھا تو اس وقت، تمہارے لیے میں نے یہ پلان بنایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں زندگی دے اور صحت دے، میں تمہیں تکلیف میں نہیں رہنے دوں گا۔”
“میرا یہ گھر گاؤں سے کافی دور ہے اور اس کے بارے میں کسی کو کچھ خاص نہیں پتہ۔ سالوں پہلے ابا سائیں نے اسے تعمیر کروایا تھا، مگر یہاں پر آ کر کبھی وہ رہے نہیں تھے۔ ان کی پراپرٹی کے پیپرز کو دیکھنے کے بعد ہی مجھے بھی گھر کے بارے میں پتہ چلا تھا۔”
“تمہاری سکیورٹی کے لیے، مجھے یہ سب سے سیو جگہ لگی۔ اس گھر کی بیسمنٹ میں تمہارے لیے سب انتظام کر لیا تھا۔ ڈاکٹر میرا اپنا دوست تھا، تو میری ایک کال پر وہ مجھ سے پہلے یہاں پہنچ گیا۔ ہر چیز اویلیبل تھی، تمہیں سر پر کافی گہری چوٹ لگی تھی، بازو بھی فریکچر تھا۔”
‘سارا انتظام بہترین تھا، تمہیں فل ٹریٹمنٹ ملا تو ڈاکٹر نے مجھے بتا دیا تھا کہ اللہ کا شکر ہے تمہاری جان کو کوئی خطرہ نہیں۔ بس جیسے ہی مجھے یہ خبر ملی، تو میں نے اپنے پلان کو اور بھی مضبوط کر دیا۔”
‘تمہاری گاڑی تو میں پہلے ہی دریا میں پھینکوا چکا تھا تاکہ لوگوں کو یہ پتہ چلے کہ تم زندہ نہیں بچے، تاکہ گاڑی اور تمہیں ڈھونڈنے کے چکر میں وہ لوگ الجھ جائیں اور مجھے سوچنے کا تھوڑا سا وقت مل سکے۔”
“اس طرح، پچھلے تین مہینوں سے تمہارا علاج ہو رہا تھا اور یہاں تک کسی کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ اور رہی یہ بات کہ میں نے تمہیں ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی۔ اب تمہیں سارے جواب مل گئے ہیں اور میں ہر لمحہ تم پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔”
“وہ دیکھو سامنے!’
زیغم نے دیوار کی جانب ہاتھ کیا، جہاں دیوار پر لگے ہوئے فریم کے اندر کیمرہ لگا ہوا تھا، جسے مائد خان نہیں دیکھ پایا تھا۔
“کیمرے کی نظر سے میں ہر وقت تمہیں دیکھتا تھا کہ میرا یار ٹھیک ہے یا نہیں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرتا؟”
وہ بولتا چلا جا رہا تھا اور مائد خاموش تھا اور حیران تھا اپنے یار کی دوستی پر، جس نے اتنی لمبی چوڑی پلاننگ کی۔ زیغم کی بات ختم ہوتے ہی مائد نے ایک پل دیکھا… پھر لپک کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
“یار تُو نے نبھا دی دوستی… تُو نے میرا یقین جیت لیا۔”
زیغم خاموش رہا۔ خاموشی سے اس کی پیٹھ تھپتھپا رہا تھا۔
“جان ہے تو میری، تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ تجھے تڑپتا ہوا دیکھ کر میں کوئی فیصلہ نہ لیتا؟”
اپنے یار کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے، محبت سے بولا تھا۔ الفاظوں میں دوستی کے گہرے رنگ تھے۔
“جب جب ہم پر کوئی مشکل پڑی، تب تب مائد خان چٹان کی طرح میرے ساتھ کھڑا رہا۔کبھی مشکل سے مشکل گھڑی میں بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔ تو میں تمہیں کیسے اکیلا چھوڑتا؟”
“مگر تم اپنے گھر والوں کے خلاف نہیں جا سکتے تھے۔ ریزن بھی ٹھیک تھا کیونکہ آغا جان تمہارے انکار کو برداشت ہی نہیں کر پاتے مگر سبحان کی فیملی نے جو رنگ دکھائے ہیں، اب تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اب سارا رشتے والا تماشہ خود ہی ختم ہو گیا ہے!”
زیغم نے سنجیدگی اور شرارت سے کہا۔
“مطلب؟ کیا کیا ہے سبحان کی فیملی نے؟”
مائد نے تجسس سے پوچھا۔
“بہت کچھ کہا… اور بدلے میں ساری فیملی کو مورے کی طرف سے بہت کچھ سننے کو ملا تھا۔ مورے نے ایسی درگت بنائی کہ ساری فیملی دیکھتی رہ گئی کہ مورے میں کون سا بھوت آگیا ہے۔”
“مجھے تو حیرانی ہو رہی ہے کہ مورے کسی کے ساتھ غصے سے بول کر لڑ سکتی ہیں۔”
مائد حیران تھا کہ اس کی مورے ایسا کچھ کر سکتی ہے۔
“کیونکہ ان لوگوں نے دانیا کو برا بھلا کہا تھا اور مورے سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہوا… اور اوپر سے تمہاری موت کا دکھ تھا… اور آغا جان اور مورے نے خوب انصاف کرتے ہوئے ان کی آؤ بھگت کی۔ سبحان خان اپنی فیملی کو لے کر وہاں سے دفع ہو گیا، اور اس کے بعد ان کا ہمارے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں۔”
“اور تمہارے لیے ایک اور بہت بڑی خوشخبری ہے… تمہاری بچپن کی منگیتر مونا خان کی شادی ہو گئی ہے۔”
“کیا؟”
زیغم کی بات پر مائد کو جیسے جھٹکا لگا، اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ اس کے لیے یہ خبر خوشی کی تھی مگر یقین کرنا مشکل۔
“سکتے سے باہر آ جا، سچ میں مونا کی شادی ہو گئی۔ وہ تم سے پیار کرتی تھی، مگر تمہارے ‘مرنے’ کا سننے کے بعد اس کا عشق بھی ختم ہو گیا۔ سنا ہے کافی بڑا جال پھینکا ہے۔ اپنی ٹکر کے کے لوگوں میں شادی کی ہے۔ لڑکا عمر میں تھوڑا زیادہ ہے، مگر مال و دولت اتنا ہے کہ مونا کے بھائیوں کے معیار پر پورا اتر گیا۔”
“اے اللہ تیرا شکر ہے، میری جان چھوٹی اس بلا سے۔”
مائد نے بے اختیار آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا۔
“مگر یار، میرے جانے کے بعد مورے آغا جان اور درخزائی کا کیا حال ہوا؟”
“یا وہ بھی اس کھیل میں شامل تھے؟”
“پاگل ہے کیا؟”
“میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی۔ یہ راز صرف میرے اور تمہارے بیچ رہے گا۔ اگر کسی ایک کو بھی خبر ہو جاتی، تو بات پھیلتے دیر نہیں لگتی۔ اور بنا بنایا کھیل بکھر جاتا۔”
“اور آگے کیا کرنا ہے، یہ تم خود طے کرو۔ میرا نام کہیں نہیں آنا چاہیے۔ آغا جان اور مورے مجھ سے محبت کرتے ہیں، مجھ پر اعتماد کرتے ہیں۔ کیا سوچیں گے میرے بارے میں؟”
“اسی لیے میری طرف سے صاف انکار ہے۔ اب آگے میں کچھ نہیں کروں گا۔”
“مگر یار، میں گھر جا کر کیا بتاؤں گا؟”
“جب پوچھیں گے کہ زندہ تھا تو اتنی دیر کہاں رہا اور کیوں؟”
مائد نے پریشانی سے کہا۔
“تم کہہ دینا کہ سبحان خان نے قید کر لیا تھا، ایکسیڈنٹ بھی اس نے ہی کروایا تھا۔ ویسے بھی اس نے اتنے کارنامے کیے ہوئے ہیں، اس میں ایک اور سہی۔ آغا جان آسانی سے مان جائیں گے اور جب معاملہ بگڑنے لگے گا، تو میں سنبھال لوں گا۔”
“بڑا شاطر دماغ ہے تیرا، وکیل جو ٹھہرا۔ وہاں سے بات نکالتا ہے جہاں تک میری سوچ بھی نہیں جاتی۔”
مائد نے مسکرا کر کہا۔
“ہاں بھائی کیا کروں ہر پہلو سے کیس کو دیکھنا پڑتا ہے!”
زیغم مسکرایا۔
“چل اب ٹائم ضائع نہ کر، جلدی چلنے کی تیاری کر۔ میں ڈاکٹر صاحب اور باقی سب سے مل کر شکریہ ادا کر لوں، جن کے تُو نے ہوش اُڑا دیے۔”
“تو ڈاکٹر صاحب سے پہلے ہی کہہ دیتا، کہ مجھے تھوڑا سا بتا دیتا کہ یہ سارا تمہارا پلان ہے، تو میں اس کا یہ حال نہ کرتا۔”
مائد ہنسا، شرمندہ بھی ہوا۔ پھر ڈاکٹر اور سب سے مل کر اجازت لی، اور دونوں وہاں سے نکل گئے۔
راستے میں زیغم نے دوسری گاڑی لے لی اور مائد کو سکیورٹی کے ساتھ اس کی حویلی بھیج دیا۔ اب آگے کا سفر مائد کو خود طے کرنا تھا جبکہ زیغم اپنے گھر کی جانب جا رہا تھا۔
°°°°°°°°°
نیم تاریک کمرہ چاندنی کی روشنی میں نہایا ہوا تھا۔ کھڑکی سے آتی خنک ہوا نے کمرے کے سفید ریشمی پردوں کو آہستہ آہستہ ہلانا شروع کیا تھا۔ فرش پر پڑا نرم قالین، دیواروں پر ہلکے نیلے اور گلابی رنگ کے امتزاج نے اس کمرے کو کسی شہزادی کے خوابوں کی دنیا جیسا بنا دیا تھا۔ بیڈ پر بچھا سلکی کمفرٹر، کناروں پر کڑھائی والے تکیے اور ایک طرف رکھے گلدان سے پھوٹتی خوشبو نے کمرے کی فضا کو اور زیادہ دلکش بنا دیا تھا۔
“مت کریں نا، مجھے گدگدی ہو رہی ہے!”
ارمیزہ کی ہنستی ہوئی آواز کمرے میں گونج اٹھی، وہ ہنستے ہنستے بیڈ کے کنارے پر لڑھک گئی، اور ہاتھ سے گال چھپاتے ہوئے مہرو کو روکنے کی کوشش کرنے لگی۔
“تو ہونے دو، گدگدی! آپ نے بھی تو مجھے کی تھی نا!”
مہرو نے قہقہہ لگاتے ہوئے بیڈ پر جھک کر اسے دوبارہ گدگدی کرنا شروع کی، اور دونوں کی ہنسی فضا کو مزید خوشبو دار کرنے لگی۔
ایسا لگتا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ان ماں بیٹی کے قہقہے اس کمرے کے ماحول کا حصہ بن چکے تھے۔ مہرو خود معصوم سی بچی لگ رہی تھی مگر اسے ماں کا جو رتبہ ملا تھا اسے وہ بخوبی محبت اور شفقت سے سنبھال رہی تھی۔ اور اس کی یہی ادائیں وقت کے ساتھ ساتھ زیغم سلطان کے دل پر قبضہ جمانے کے لیے کافی تھی۔ اس وقت وہ گھر پر نہیں تھا تو مہرو ارمیزہ کے روم میں تھی۔ دونوں خوب انجوائے کر رہی تھی۔
مہرو کی بانہوں میں سمٹی ارمیزہ نے پیار سے کہا:
“آپ میری بیسٹ ماما ہیں!”
“اور آپ میری سب سے پیاری بیٹی ہو!”
مہرو نے اس کی پیشانی چوم لی۔
“سچی؟”
“مچی!”
مہرو نے ہنستے ہوئے جواب دیا اور ارمیزہ کے ماتھے پر پیار سے تھپکی دی۔
چاندنی کھڑکی سے اندر آ کر ارمیزہ کے چہرے پر پڑی۔ ارمیزہ کچھ سوچتے ہوئے مہرو کی جانب دیکھ رہی تھی۔
“اب بابا سے پیار کرتی ہیں؟”
سوال سن کر مہرو لمحے بھر کو خاموش ہو گئی۔ دل ایک پل کو زور سے دھڑکا۔ نگاہیں جھکی رہیں۔
“نہیں,”
“ہا… کیوں نہیں کرتی؟”
“میرے بابا اتنے ہینڈسم ہیں!”
ارمیزہ نے آنکھیں پھیلا کر حیرانی سے کہا۔
مہرو مسکرا دی۔
“کیونکہ میں صرف بچوں سے پیار کرتی ہوں، اور آپ کے بابا بڑے ہیں!”
“آہو… پھر ٹھیک ہے… آپ صرف مجھے ہی پیار کیا کریں۔”
ارمیزہ نے معصومیت سے کہا۔
“ٹھیک ہے جناب ہم صرف آپ سے پیار کریں گے!’
مہرو نے محبت سے اس کو اپنے ساتھ ہلا کر جھولتے ہوئے کہا۔
“اب مجھے پیارا سا تیار کریں!”
“جیسے دانیا پھوپھو کرتی تھیں!”
ارمیزہ نے اپنا نیا مطالبہ سامنے رکھ دیا اور اب تو اکثر ایسے مطالبے رکھتی رہتی تھی کیونکہ مہرو سے کافی زیادہ منسوب ہو چکی تھی۔
مہرو نے مسکراتے ہوئے اسے گود میں اٹھایا۔
“ٹھیک ہے، آج آپ کو ہم تیار کریں گے، لیکن شکایت نہیں سننی مجھے، کیونکہ مجھے زیادہ اچھا میک آپ نہیں آتا اور آپ یہ بات جانتی ہیں۔”
“میں شکایت نہیں کروں گی، میں آپ کو سکھاؤں گی، اچھا میک اپ کیسے کرتے ہیں!”
ارمیزہ نے مہرو کے گال پر بوسہ دیا۔
دونوں ڈریسنگ روم میں آئیں۔ آئینے کے سامنے بیٹھی ارمیزہ کی آنکھوں میں ستارے چمک رہے تھے۔ مہرو نے اس کے بالوں میں نرم برش چلایا، دو چٹیاں بنائیں، اور ہلکی سی لپ گلوس لگائی۔ بہت پیار بھرا لمحہ تھا جہاں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے بے حد خوش تھی۔ کمرے میں روشنی مدھم ہو چکی تھی۔ دور آسمان پر چاند جگمگا رہا تھا۔ کمرے کی روشنی، چاندنی کی پہلی کرنوں سے مل کر ایک ایسا منظر تشکیل دے رہی تھی، جیسے جنت کا کوئی ٹکڑا ہو۔
یہ لمحہ معصوم سی ماں بیٹی کی بے مثال محبت، ہنسی، نرمی اور بے فکری کا خوبصورت عکس تھا۔ اس رات کی چپ میں ہمیشہ کے لیے قید ہو گیا تھا۔
مہرو، ارمیزہ کی سگی ماں نہیں تھی اور عمر میں بھی بہت چھوٹی تھی، مگر اس میں ماں بننے کے تمام گن شامل تھے۔ معصوم سی بچی کو اس نے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ بچوں کو صرف پیار اور محبت کی زبان سمجھ آتی ہے، اور وہ جہاں سے پیار اور محبت پاتے ہیں، وہ اس کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔
نایاب، سگی ماں بن کر بھی اس بچی کو خوشیاں نہیں دے سکی، اور مہرو نے سوتیلی ماں کا ٹیگ لگا کر بھی اس بچی کو محبت سے خود میں سمیٹ لیا تھا۔ ممتا کی کوئی زبان نہیں ہوتی، اگر ممتا سچی ہو، تو ہر کسی کو خود بخود سمجھ میں آ جاتی ہے۔
°°°°°°°°
رات کافی ہو چکی تھی، خاموشی کا سینہ چیرتے ہوئے آہستگی سے دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ کمرے کے سکون میں گھل گئی۔ زیغم تھکے سے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا، اسے نیند آ رہی تھی۔ پوری حویلی پر خاموشی کا راج تھا۔ کمرے میں آ کر وہ سکون والے دونوں چہروں کو دیکھنا چاہتا تھا… مہرو اور ارمیزہ کو۔
چاروں اطراف میں نظریں دوڑائیں مگر دونوں ہی روم میں نہیں تھیں۔ دل عجیب سی بے چینی سے دھڑک اٹھا تھا، جیسے کسی نے کلیجے کو مٹھی میں لے لیا ہو کیونکہ گھر میں رہنے والے لوگ بھی تو ایسے تھے جن پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا مگر پھر دل میں خیال آیا کہ گھر میں ذرام اور ملیحہ بھی موجود ہیں، ان کے ہوتے ہوئے اسے پوری امید تھی کہ اس کی دونوں جانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ دل کو تھوڑا سکون پہنچا تھا۔
اس وقت وہ مائد کو اس کی حویلی روانہ کر کے گھر واپس لوٹا تھا اور دانیا ابھی تک مائد کے گھر پر تھی۔ زیغم اسے صبح لے کر آنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
اچانک سے اسے خیال آیا کہ شاید مہرو ارمیزہ کے روم میں اس کے ساتھ ہوگی۔ نرم قدم اٹھاتے ہوئے وہ اپنی شہزادی کے روم کی جانب بڑھا تھا۔ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تاکہ ان کی نیند ڈسٹرب نہ ہو۔ اور اس کی امید کے مطابق ارمیزہ مہرو کے پہلو میں پرسکون سو رہی تھی۔ کھڑکی تھوڑی سی کھلی ہوئی تھی۔ پردے سے چھن کر آتی ہوئی چاندنی کھڑکی سے اندر جھانک رہی تھی، اور دونوں ماں بیٹی اس روشنی میں جیسے کسی پریوں کے دیس سے آئی ہوئی معصوم صورت لگ رہی تھیں۔ دونوں کے چہرے پر ایک جیسی معصومیت تھی۔
بیڈ کے قریب جا کر ہلکا سا جھک کر، ارمیزہ کے ننھے ہاتھ پر لب رکھ کر چومتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیا۔ وہ بہت محبت کرتا تھا ارمیزہ کے ساتھ۔ اس نے پورے دل سے اسے اپنی بیٹی تسلیم کیا تھا۔ اسے بالکل فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ اس کے بھائی کی اولاد ہے۔ اُس بھائی کی جس نے اپنی بیوی کے پیار کی پٹی کو آنکھوں پر باندھے رکھا اور اسے بےعزت کر کے گھر سے نکال دیا، اس کے سچ پر یقین نہیں کیا۔ زیغم کے لیے صرف ارمیزہ اس کی بیٹی تھی، اور وہ اس رشتے کو پوری ایمانداری سے نبھا رہا تھا۔ نایاب کے سچ کو جانتے ہوئے بھی خاموش رہنے کی وجہ یہی تھی کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ جب یہ حقیقت کھلے تو نایاب چیخ چیخ کر ارمیزہ کے وجود پر سوال اٹھائے۔ اس چھوٹے سے وجود کو اس کی ماں کے دینے والے زخموں سے بچانے کے لیے زیغم اپنے سینے میں ہزاروں دکھ سمیٹے ہوئے تھا۔ اس ننھی سی گڑیا کو بچانے کے لیے اس نے نایاب نامی زہر بھی خاموشی سے پی رکھا تھا۔ ارمیزہ کے ہاتھوں کو چُوما تو ارمیزہ نیند میں ہلکی سی کروٹ لے گئی اور اس کا ننھا سا ہاتھ اپنی ماں کے چہرے پر جا ٹکا۔
زیغم کی نظر بے اختیار مہرو کے معصوم چہرے پر جا ٹکی تھی، جو اس کی زندگی میں اجنبی سی آئی تھی، مگر اب دل کا ایک خاص گوشہ صرف اس کے لیے دھڑکتا تھا۔ زیغم نے کب سوچا تھا کہ جسے وہ صرف سہارا دینے کے لیے اپنے گھر میں لایا ہے، وہ خود اس کا سب سے بڑا سہارا بن جائے گی۔ جو خود ابھی کسی رشتے کو سمجھنے کی پوری طرح قابل نہیں تھی، معصومیت اس کے ہر انداز سے چھلکتی تھی۔ وہ ماں کا کردار اتنا اچھے سے نبھا رہی تھی کہ زیغم اس پر حیران ہوتا تھا۔
کوئی اتنا خوبصورت کیسے ہو سکتا ہے؟
محبت کی شدت میں سوچتے ہوئے پیار سے ہاتھ اس کی جانب بڑھایا تھا مگر پھر فوراً سے روک لیا… کیونکہ محبوب نے ابھی تک خود کو چھونے کی اجازت نہیں دی تھی یا پھر یوں کہہ لیں کہ محبوب ابھی محبت اور محرم کے رشتے سے ناواقف تھا۔
اس کی نیند میں بھی اس کے احترام میں ہاتھ پیچھے کر لیا گیا تھا۔ جذباتوں کا گلا گھوٹ دیا گیا تھا۔ ایسا احترام محبت میں کرنے والا زیغم سلطان ہی ہو سکتا تھا۔ جس کے پاس پورے اختیارات تھے مگر ان اختیارات میں سب سے اول نمبر پر اس نے اس پیاری سی لڑکی کے چھوٹے سے معصوم دل کی خواہشوں کو رکھا ہوا تھا۔
اس بیش قیمت پھول کو وہ اتنی چاہت سے اپنی زندگی میں سمیٹ کر رکھنا چاہتا تھا کہ اس کی خوشبو کبھی مدھم نہ ہو۔ دل چاہتا تھا کہ وہ اپنا تعلق جتا دے، مگر اُس نسبت پر اس نے بہت سخت پہرے بٹھا رکھے تھے کیونکہ وہ اسے زبردستی نہیں، بلکہ اس کی رضا کے ساتھ مکمل مان کے ساتھ اپنانا چاہتا تھا۔
محبت میں بھی اپنے اندر کچھ تہذیب ضروری ہوتی ہے۔
محبوب کے وقار کو مقدم رکھنا، اس کی خاموشی کو زبان دینا، دراصل یہی سچی محبت کہلاتی ہے۔
پھر کیوں کچھ لوگ مردانگی کے زعم میں اس ہستی کو، جسے وہ چاہتے ہیں، اس کی مرضی کے خلاف اپنے جذبات کے شکنجے میں جکڑنے لگتے ہیں؟
جبکہ سچ تو یہ ہے کہ محبت ایک نازک جذبہ ہے، اور اسے قائم رکھنے کے لیے سب سے پہلے احترام ضروری ہوتا ہے۔
پیار برساتی نظروں سے اسے دیکھ کر وہ آہستگی سے اس کے قریب سے اٹھا، اور اپنے کمرے کی جانب جانے کی پوری ہمت کر رہا تھا۔ اسی کو کہتے ہیں محبت میں فرشتوں جیسی حفاظت کرنا۔ اسی کو کہتے ہیں اصلی مرد!
باہر بارش ہو رہی تھی، موسم حد درجہ دلکش اور رومینٹک تھا۔ ایسے لمحوں میں تو بےجان درختوں میں بھی زندگی اُتر آتی ہے۔ لوگ ان گھڑیوں میں رومینس کے بہانے ڈھونڈتے ہیں، ناپاک رشتوں میں بھی تسکین تلاش کر لیتے ہیں مگر یہاں محبت کا مفہوم کچھ اور تھا۔ یہاں تعلق میں وہ تقدس تھا جہاں نکاح کا سایہ موجود تھا، محرم ہونے کا حق حاصل تھا، اور دل کو یہ تسلی بھی کہ وہ لڑکی اب اس کی کی زندگی میں شریکِ حیات کا حق رکھتی ہے… پھر بھی، نہ قربت کی خواہش نے کوئی حد پار کی، نہ نفس نے سر اٹھایا۔
جسم میں بھرپور جوانی کا خون دوڑ رہا تھا۔ تیس سال کا خوبرو مرد اور سامنے اٹھارہ سال کی معصوم حسینہ، جو اس کی بیوی تھی۔ گہری نیند میں سو رہی تھی، چاہتا تو محبت کے کچھ تقاضے توڑ کر حق جتا سکتا تھا مگر اس نے کوئی باریک لکیر تک عبور نہیں کی۔
یہ جبر نہیں تھا، یہ رضا پر صبر تھا۔ یہ محبت کا وہ درجہ تھا، جو صرف خلوص سے حاصل ہوتا ہے۔
وہ چاہتا تھا کہ وہ دن بھی آئے، جب وہ خود دل سے اس کی ہو جائے۔ دل ہی دل میں یہی دعا کی، اور نرمی سے ان پر کمبل درست کرتے ہوئے، خاموشی سے دروازہ بند کر کے باہر نکل گیا۔
“اے محبت کا نام لے کر اس رشتے کو پامال کرنے والو… کبھی محبت کا اصل مفہوم سمجھو!
جہاں محبوب اگر شریکِ حیات بھی ہو، تب بھی اُس کی رضا کو مقدم رکھنا، نفس کی چاہت کو قربان کر دینا۔ بس اسے ہی اصل محبت کہتے ہیں۔”
°°°°°°°°°
مہرو صبح فجر کی نماز کے لیے اُٹھی، دل میں ایک انجانی سی بے چینی لیے۔ اُسے شدت سے احساس ہوا کہ زیغم پوری رات واپس نہیں آیا۔ اُسے یقین تھا، اگر وہ آتا، تو ضرور کمرے میں آتا، مگر وہ نہیں آیا تھا۔ یہی بے چینی اس کے دل کو مزید مضطرب کر رہی تھی۔ بمشکل چار رکعتیں ادا کیں، پھر جلدی سے جائے نماز فولڈ کرتی ہوئی، ارمیزہ کے چہرے پر نظر ڈالی، جو گہری نیند میں تھی۔ کمرے کا دروازہ بند کر کے وہ زیغم کے روم کی جانب بڑھی، جو اب اس کا بھی کمرہ تھا۔
فجر کا وقت تھا، گھر میں چند ملازمین ہی جاگ رہے تھے، باقی سارا ماحول خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ تیزی سے اندر داخل ہوئی۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ زیغم لائٹ بند کر کے سونے کا عادی تھا۔ مہرو کی موجودگی میں وہ سائیڈ کا مدھم لیمپ جلا دیا کرتا تھا، مگر آج چونکہ مہرو نہیں تھی، وہ اندھیرے میں ہی سو رہا تھا۔ مہرو نے ساتھ دیوار پر لگا سوئچ دبا کر لائٹ جلا دی۔ بیڈ پر نظر پڑتے ہی دل کو ایک عجیب سا قرار ملا۔ زیغم سلطان، ایک بازو سر کے نیچے رکھے، کروٹ کے بل سو رہا تھا۔ اُسے دیکھتے ہی مہرو کا دل زور سے دھڑکا۔
پڑھے لکھے لوگ اسے “بیٹ مس کرنا” کہتے ہیں، مگر مہرو ان احساسات سے واقف نہ تھی مگر جو بھی تھا، بہت پیارا تھا۔ دل میں عجب سی کھنکھناہٹ تھی، دھڑکنیں تیز تھیں، زیغم کے قریب جانے کو بیتاب۔
دروازہ آہستگی سے بند کرتے ہوئے، وہ دبے قدموں زیغم کے قریب جا کھڑی ہوئی۔ وہ سویا ہوا شہزادہ، جیسے میگنیٹ کی طرح مہرو کے دل کو کھینچ رہا تھا۔ مہرو کے چہرے پر ابھرتے جذبات اتنے نمایاں تھے کہ اگر زیغم جاگ رہا ہوتا، تو ان لمحوں پر خود کو وار دیتا اور آج کی یہ پہلی رات کی دوری، جو نکاح کے بعد مہرو کے نصیب میں آئی، اس نے اُس کے اندر دبی ہوئی محبت کو بیدار کر دیا تھا۔ جس احساس سے وہ ناآشنا تھی، وہ اب خود سے ظاہر ہونے لگا تھا۔
سچ کہتے ہیں… عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔
آج مہرو سے سب کچھ بے اختیار ہوتا چلا جا رہا تھا۔ بیڈ کے کنارے پر بیٹھتے ہوئے، بے اختیار نازک ہتھیلی کو اُٹھا کر اس کے گال پر رکھا۔ زیغم کے چہرے کو محسوس کرنا چاہتی تھی، یہ سب کچھ وہ بے اختیار کر رہی تھی۔
نہ کوئی سوچ، نہ کوئی سمجھ، بس ایک رات کی دوری کی جو تڑپ تھی، اُس نے اُسے اندر سے بہت تڑپا دیا تھا۔ محبت خود سے چھلک کر باہر آ گئی تھی۔ گھنی داڑھی پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہوئے، گہری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ شاید آج پہلی بار اُس نے زیغم کو اتنے قریب سے دیکھا تھا۔ وہ کتنی پرسکون نیند سو رہا تھا۔
“سائیں آپ بہت پیارے ہیں… مجھے یقین نہیں آتا کہ آپ میرے ہیں!”
“میری قسمت ایسی کہاں تھی کہ آپ جیسے ہیرے کو پا سکتی…”
وہ بے اختیار سوچ رہی تھی… اس کے ہاتھ کے نرم لمس کو محسوس کرتے ہوئے زیغم نیند سے بیدار ہونے لگا تھا۔ ہلکی سی پلکیں لرزیں اور اُس نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔ گہری نیلی آنکھیں، نیند سے پڑے لال ڈوروں کے ساتھ دلکش لگ رہی تھیں۔ جیسے ہی وہ نیند سے جاگا، مہرو ایک دم سے اُٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی…
“مہرو…”
نیند کی خماری میں نرمی اور محبت سے مہرو کا نام لیا۔
اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر، اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ پر رکھنے کی تمنا ظاہر کی۔ مہرو نے دھڑکتے دل سے آہستہ سے نظریں چراتے ہوئے، اپنی نازک سی ہتھیلی اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔ مضبوط ہاتھ میں اُس کی نرم ہتھیلی کو نرمی سے سمیٹتے ہوئے، اُسے اپنے قریب آنکھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔ مہرو حکم پاتے ہی کچھ بولی نہیں تھی، آہستہ سے بیٹھ گئی… مگر نظر جھکی ہوئی تھی۔
“کیا بات ہے؟”
“سرکار کا چہرہ اترا ہوا کیوں ہے؟”
اُس کے اداس چہرے کو دیکھتے ہوئے زیغم نے سوال کیا۔
“آپ پوری رات کہاں تھے؟”
مہرو نے نظریں جھکائے، دھیمی آواز میں اس کے سوال پر سوال کیا مگر اس کا یہ سوال زیغم سلطان کے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھا گیا تھا۔
“کک… کیا؟”
ایک بار پھر سے کہنا…”
زیغم نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہوئے، اٹھ کر پیچھے کو سرکتا ہوا بیٹھ گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اُس کے کانوں نے صحیح سنا ہے۔
“معاف کر دیجئے اگر آپ کو برا لگا ہو… میں آپ کے لیے پریشان تھی، اسی لیے پوچھا…”
زیغم کے ایکسائٹڈ ردعمل پر مہرو گھبرا کر بولی تھی۔ اُسے لگا شاید زیغم کو برا لگا ہے کہ اُس نے یہ پوچھا کہ وہ رات بھر کہاں تھا۔
“پاگل لڑکی… میں ناراض نہیں ہوں، خوش ہوں، بہت خوش ہوں… پھر سے پوچھو، تم نے کیا پوچھا ہے؟”
زیغم نے مسکرا کر اس کے ہاتھوں کو اپنے مضبوط دونوں ہاتھوں میں تھامے، بے اختیار لبوں سے لگا لیا۔ مہرو کی دھڑکنیں جیسے پتھر ہو گئی تھیں۔ سانسیں الجھنے لگیں تھیں۔ بیچاری اب کیسے بتاتی؟ زیغم کی ایکسائٹمنٹ نے اُسے گھبراہٹ اور شرمندگی کے حصار میں لے لیا تھا۔ وہ نظریں جھکائے خاموش تھی۔ ہاتھ چھڑوانے کی ہلکی سی کوشش کی، مگر ناکام رہی کیونکہ زیغم نے اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
“مہرو… پلیز بتاؤ نا، تم نے جو کہا ہے، وہ میں ایک بار پھر سننا چاہتا ہوں، مجھے یقین نہیں آ رہا…”
اس کے لہجے میں نرمی بھی تھی اور بے چینی بھی۔
“میں نے کہا… آپ کہاں تھے؟ رات کو کیوں نہیں آئے گھر؟”
وہ مدھم آواز میں بولی، جیسے خود کو سنانے سے بھی جھجک رہی ہو۔
زیغم نے گہری سانس لی، پھر آہستگی سے چھوڑتے ہوئے، مسکرا کر اس کی جانب دیکھا۔
“کیا میری مہرو نے مجھے مس کیا؟”
تجسس سے پوچھا، اور وہ اس جواب کا ‘ہاں’ میں سننا چاہتا تھا۔
“کیا کیا؟”
مہرو نے حیرانی سے پوچھا۔
اسے “مس” لفظ کی سمجھ نہیں آئی تھی۔
زیغم کو فوراً احساس ہوا کہ اس کی جان کو یہ انگلش ورڈ سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ ہمیشہ کوشش کرتا تھا کہ ایسے الفاظ نہ بولے، لیکن کبھی کبھار وہ لبوں سے پھسل ہی جاتے۔ آخر ایک طویل وقت اس نے امریکہ جیسے ماڈرن ملک میں گزارا تھا اور آج کل تو ٹرینڈ تھا کہ مشرقی الفاظ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی لوگ بھول جاتے تھے مگر زیغم اپنی طرف سے کافی کوشش کرتا تھا کہ وہ مہرو کے سامنے ایسے ماڈرن الفاظ نہ بولے جس طریقے سے سمجھ نہ آئے۔
وہ خاموش سا مسکرا دیا، اور نرمی سے بولا:
“میں نے پوچھا… میری مہرو نے… مجھے یاد کیا؟”
مہرو جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔ یاد تو بہت کیا تھا، مگر کہنے کی ہمت نہیں تھی۔ بڑی مشکل سے تھوک نگلا اور سر کو ہلکا سا “ہاں” میں جنبش دی مگر اُس کا اتنا سا کہنا بھی زیغم سلطان کے لیے کسی بڑے انعام سے کم نہ تھا۔ دل جیسے لڈو پھوٹ رہے تھے۔
“سرکار، اگر یاد کیا ہے تو ذرا کھل کے بول دو نا، کیوں تڑپا کر لطف اندوز ہو رہی ہو؟”
نرمی سے اس کی ٹھوڑی تھام کر چہرہ اوپر کیا، اور اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کیا۔
“شوہر کو یاد کرنا غلط تو نہیں ہے نا؟”
“اگر میری مہرو کے دل نے مجھے یاد کیا ہے، تو ایک بار کھل کے کہہ دو کہ… ‘ہاں زیغم! میں نے تمہیں بہت یاد کیا۔’ تمہیں پتہ ہے، تمہارا اتنا سا کہنا، میرے لیے کتنی بڑی خوشی کا باعث ہے؟”
“جی… میں نے آپ کو بہت یاد کیا…”
زیغم نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:
“ہائے۔۔۔”
مہرو کی پلکیں جھک گئیں، پھر آہستگی سے بولی:
“آپ بتائیں… آپ کیوں نہیں آئے رات کو؟”
وہ کچھ بدلی بدلی سی تھی، مگر پھر بھی ہمت کر کے پوچھ لیا۔
اس کی نظر میں زیغم تو رات بھر گھر پر نہیں تھا۔
“سرکار، ہم رات کو ہی گھر آ گئے تھے، مگر تھوڑا دیر سے لوٹے تو آپ کو پتہ نہیں چلا۔”
محبت سے بھیگی نظریں اس پر جمائے بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ، اپنے ہاتھوں میں تھامے۔ یہ لمحے اس کے لیے بہت قیمتی تھے۔
“اگر آپ رات کو آئے تھے تو سائیں، آپ نے مجھے اور ارمیزہ کو بتایا کیوں نہیں؟”
بڑے پیار سے شکوہ کیا تھا۔
“سائیں کی جان، میں آپ دونوں کو بتانے ہی آیا تھا، مگر آپ اور ارمیزہ دونوں بہت آرام دہ نیند میں تھیں تو مناسب نہیں لگا کہ آپ کو جگاؤں!”
“نہیں، آپ جگا دیتے… میں آپ کا انتظار کرتے کرتے پتہ نہیں کب سو گئی، مجھے پتہ ہی نہیں چلا!”
“اگر جگا دیتا… تو جو تمہارے چہرے پر سکون تھا، وہ کیسے دیکھتا؟”
“اگر جگا دیتا… تو اتنے پیارے چہرے کی زیارت کیسے کرتا؟”
“اگر جگا دیتا… تو محبت کے وہ لمحے، نظروں میں قید کیسے کرتا؟”
وہ میٹھے لہجے میں کچھ بول رہا تھا، مہرو سب کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی مگر جو بھی بول رہا تھا، وہ اس کے دل کی دھڑکنوں کو چھو رہا تھا۔ سائیں کا بولا ہر لفظ اسے اچھا لگ رہا تھا۔ محبت، اس کے رگ رگ میں اتر رہی تھی۔ مہرو خاموش تھی، نظریں اب بھی جھکی ہوئی تھیں۔ زیغم کے الفاظ، لہجہ، لمس۔ سب کچھ اسے بےحد عزیز لگ رہا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی ہیں یا سانسیں دھیمی، مگر ایک سکون کی لہر تھی جو اندر تک اتر رہی تھی اور زیغم اسے دیکھ دیکھ کر دیوانگی کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔
فطرتی عمل ہے جب آپ کسی کو چاہتے ہیں تو اس کی ہلکی سی رضامندی بھی آپ کو بے قرار کر دیتی ہے۔
“مہرو…”
زیغم نے آہستگی سے پکارا۔
“جانتی ہو؟ جب تم نے کہا نا کہ تم نے مجھے یاد کیا… تو مجھے لگا جیسے میرے اندر کی ہر تھکن، ہر بےچینی، ایک پل میں ختم ہو گئی۔”
مہرو نے سر اٹھایا، نگاہیں اس کے چہرے پر جمی تھیں اور اس کے ہونٹوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ تھی۔ تھوڑا سا آگے جھکتے ہوئے نرمی سے، زیغم نے اس کے ماتھے پر لب رکھے۔
“میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں!”
“بدلے میں بس یہ ہی چاہتا ہوں، تمہاری یہ سادگی، تمہاری یہ بے ساختہ محبت… کبھی نہ بدلے۔”
ہوا کی خنکی میں، اُن کے درمیان گرمجوشی پھیل رہی تھی۔
کمرے کی خاموشی میں صرف دھڑکنوں کی صدا تھی۔ اس کے بدن سے اڑتی ہوئی مدھم سی خوشبو زیغم کے دل کی دھڑکنوں کو الجھانے لگی تھی۔ نرمی سے اسے ساتھ لگائے بانہوں کا گھیرا اس کے گرد بنائے ہوئے تھا مگر اب زیغم کی حفاظت میں وہ جھٹپٹائی نہیں تھی، پرسکون سی ہو کر اس کے سینے سے سر ٹکائے ہوئے تھی مگر شرم سے دھڑکنیں بے ترتیب تھی۔
“مہرو…”
“جی؟”
“ایک بات کہوں؟”
“جی کہیں…”
“میں چاہتا ہوں کہ میری ہر صبح، تمہارے چہرے کو دیکھ کر ہو…اور ہر رات کا اختتام، تمہیں دیکھتے ہوئے۔”
“میری زندگی کے سفر میں، تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو… تمہاری محبت پر، تم پر، صرف میرا حق ہو… کیا میری مہرو، مجھے یہ سب اختیارات دے گی؟”
زیغم کے لہجے میں نرمی تھی، کوئی غرور، کوئی حکم نہیں۔ بس ایک محبت بھری التجا، جو سیدھی دل میں اترتی گئی۔
مہرو نے نظریں اٹھا کر نہیں دیکھا، اس کے لب ہولے سے ہلے۔
“آپ کے جتنا پاس میں ہوں، اس کے بعد اور حق کیسے دوں؟”
یہ جملہ مختصر تھا، مگر اس کے پیچھے کتنی ہمت، کتنی جھجک، اور کتنا مان تھا، یہ زیغم سلطان سے بہتر کون جان سکتا تھا۔
وہ لڑکی جو اپنی فطرت میں سراپا حیا تھی، آج زیغم کی قربت میں، اس کی بانہوں کے حصار میں محفوظ بھی تھی، مطمئن بھی۔ اس کا سر زیغم کے سینے پر ٹکا تھا اور دل کے اندر ایک عجیب سا سکون اتر چکا تھا۔
یہی تو تھا یقینِ محبت تھا، جو الفاظ کا محتاج نہیں ہوتا، محسوسات کی زبان میں بولتا ہے۔
زیغم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اور اس نے جھک کر ایک بار پھر اس کے بالوں پر لب رکھ دیے۔ یہ لمس، یہ لمحہ، بس زیغم کے لیے پوری دنیا بن چکا تھا۔
“سائیں آپ کے ہونٹ پر کیا ہوا ہے؟”
مہرو کی مدھم سی آواز میں چھپی پریشانی، زیغم نے فوراً محسوس کر لی تھی۔ وہ اس کے چہرے پر موجود اُس معمولی سے زخم کو دیکھ چکی تھی جو مائد خان کی حرکت کا نتیجہ تھا۔ زیغم کی مسکراہٹ میں فخر سا اتر آیا۔ اُسے خوشی ہوئی تھی کہ اس کی بیوی اب نہ صرف اسے دیکھتی ہے، بلکہ اُس کے چہرے پر اُترے ہر نشان کو محسوس بھی کرنے لگی ہے۔
“کچھ نہیں ہوا… معمولی سی چوٹ ہے، ٹھیک ہو جائے گی۔”
اس نے نرمی سے جواب دیا، پھر ذرا جھجکتے ہوئے بولا:
“تھوڑی سی اجازت دو، میں نماز پڑھ لوں، اس کے بعد تمہارے پاس بیٹھ کر خوب باتیں کرتے ہیں۔”
مہرو نے سر ہلایا۔
“جی، ٹھیک ہے۔”
زیغم اٹھا، اور اٹھتے ہوئے ایک بار پھر محبت سے اسے دیکھا۔ پھر واش روم کی جانب بڑھ گیا۔ مہرو بھی اپنی مخصوص کرسی پر آ بیٹھی۔ قرآن پاک کو احترام سے کھول کر تلاوت میں مصروف ہو گئی۔ یہ وہی قرآن تھا جو زیغم سلطان نے اُسے تحفے میں دیا تھا۔ ایک محرم کی محبت، ایک شوہر کی دی ہوئی روحانی سوغات۔
ویسے بھی، قرآن پاک سے تو مہرو کو بچپن سے محبت تھی، مگر جب جب وہ اس نسخے کو کھولتی، تو صرف اللہ کی محبت نہیں، زیغم کی دی ہوئی اس مقدس سوغات میں چھپی اُس کی محبت بھی دل میں اترنے لگتی۔ دل ہی دل میں ایک خاموش سی دعا لبوں پر آتی “اللہ میرے سائیں کو سلامت رکھے۔”
°°°°°°