Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:35

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 35
°°°°°°°°°
“دیکھو دانیا، مجھے باتوں کو گھمانا نہیں آتا، میں بہت صاف گو انسان ہوں۔ جو ہوں، جیسا ہوں، ویسا ہی نظر آتا ہوں۔”
وہ گہری سانس لیتے ہوئے دانیا کی جانب دیکھ کر تحمل سے بولا تھا۔

“میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔”
دانیا نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا۔

“ایسے مت دیکھو، مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کوئی بہت غلط بات کر رہا ہوں جبکہ جیسا تم نے ابھی کہا، تم اس بات سے واقف ہو کہ میں تم سے کیا کہنا چاہتا ہوں۔ پھر بھی، میں اپنی ہر بات ایمانداری اور سچائی سے تمہارے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔”
مائد خان کا لہجہ پرسکون، تحمل سے بھرا، نظروں میں محبت لیے، وہ اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے، غصے بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ جیسے کہنا چاہتی ہو، کہ جب منع کر دیا ہے تو پھر کیوں بات شروع کر رہے ہو؟

“زندگی نے تمہیں بہت دکھ دیے، تمہارے شکوے بجا ہیں، کیونکہ جس طرح کے لوگ تمہاری زندگی میں آئے، اس کے بعد کسی پر بھروسہ کرنا آسان نہیں ہوتا مگر ہر شخص ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی ایک کی غلطی کی سزا کسی بے قصور کو نہیں ملنی چاہیے۔”
“تم ہاتھ بڑھا کر تو دیکھو، سب حق تمہارے پاس ہوں گے، فیصلے تمہارے ہوں گے، پورے میں کروں گا۔ خواب تم دیکھو گی، تعبیر میں لے کر آؤں گا۔ تمہارے ہر شکوے کو ختم کر دوں گا، ہر شکایت کو دور کر دوں گا۔ ایک بار پورے یقین سے ، مائد خان کا ہاتھ تھام کر تو دیکھو۔”

“اس طرح کے بڑے بڑے ڈائیلاگ بولنا آسان ہوتا ہے مگر کسی ادھوری، طلاق یافتہ لڑکی کا ہاتھ تھامنا…بہت ہمت مانگتا ہے، مسٹر مائد خان!”
اس کی آواز لرز رہی تھی، مگر لہجہ سخت تھا۔ آنکھوں سے بےآواز آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ مائد کو یوں گھور رہی تھی جیسے اس کی سچائی کو پرکھ رہی ہو۔ کانپتے لبوں سے نکلے ہر لفظ نے، مائد کے دل پر سوال کی ایک درد بھری لکیر ڈال رہا تھا۔ دانیا اُس لمحے ایک عام سی لڑکی نہیں، بلکہ اپنے زخموں کی حفاظت کرتی ہوئی خوددار عورت لگ رہی تھی، جو ٹوٹ کر بکھر چکی تھی اور بے اعتباری کے سمندر میں پوری طرح سے غرق ہو چکی تھی۔

“تو آپ سے کس نے کہا کہ مائد خان ایک کمزور مرد ہے؟”
مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں آپ کا ہاتھ تھام سکوں، آپ کچھ زیادہ ہی مجھ سے بدگمان لگ رہی ہیں اور مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، اس طلاق لفظ سے!”
مائد کی آواز میں نرمی تھی مگر لہجہ خود اعتمادی سے لبریز۔ وہ تھوڑی سی دوری پر کھڑا، براہِ راست دانیا کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا، جیسے وہ اس کی ہر تکلیف، ہر خوف کو جذب کر رہا تھا۔ نہ وہ پیچھے ہٹا، نہ نظریں چُرائیں، جیسے یہ اعلان ہو کہ وہ ٹھہرنے آیا ہے… بھاگنے نہیں۔

“بدگمان اپنوں سے ہوا جاتا ہے، اور میرا نہیں خیال کہ میرا آپ کے ساتھ کوئی بھی ایسا رشتہ ہے!”
وہ دو ٹوک دل توڑنے والے انداز میں بولی تھی، اس کا یہ کہنا مائد خان کے دل پر کٹ لگانے کے لیے کافی تھا۔ مائد خان نے درد بھری نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔

“دل توڑنا بہت اچھی طرح سے جانتی ہے آپ۔”
وہ درد زدہ لبوں سے مسکرایا تھا۔

“جی، جو چیز زندگی میں آپ کو ملی ہو، وہ چیز کسی کو دینا بہت آسان ہوتی ہے۔ یہ چیز مجھے زندگی میں وافر مقدار میں ملی ہے، تو میرے لیے آسان ہے کہ میں اسے آپ کو تحفے کے طور پر دے سکوں۔”
وہ سنجیدگی سے کڑے الفاظ بول رہی تھی، نظروں میں آنسو بھرے ہوئے تھے، آنکھوں میں نمکین پانی بھرا ہوا تھا۔ بات کرتے ہوئے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ کافی زیادہ گھبرائی ہوئی تھی، مگر وہ ہر بات حاضر دماغی سے بول رہی تھی۔

“خوش قسمتی ہے کہ آپ ہمیں تحفے میں کچھ دے رہی ہیں۔ ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، پھر چاہے تحفے میں ہمیں اپنا غصہ اور یہ احساس دے رہی ہیں، کہ ہمارا آپ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں…”
نظروں میں محبت کا بھرم لیے وہ اب بھی اسے دیکھ رہا تھا۔

“جی بالکل، آپ کا ہمارے ساتھ ایسا کوئی رشتہ نہیں، جسے ہم کوئی نام دے سکیں۔ آپ میرے بھائی کے دوست ہیں، میرے لیے احترام کی شخصیت ہیں بس… اس کے علاوہ ہمارا کوئی رشتہ نہیں ہے!”
دو ٹوک بغیر کسی لحاظ کے بول گئی تھی۔

“سب کچھ سمجھ کر اتنا کٹھور بننا اچھی بات نہیں ہوتی… اظہارِ محبت کر چکا ہوں، اب اس طرح کہہ کر آپ میری توہین کر رہی ہیں!”
ٹوٹے دل سے درد بھرے لہجے میں کہا۔

“ایک عورت کے لیے کٹھور بن کر رہنا ہی سب سے اچھی بات ہے۔ ایک عورت کا کٹھور بننا اس کی زندگی میں آنے والی کئی مصیبتوں کو کم کر دیتا ہے، کیونکہ یہ دنیا ایک معصوم لڑکی کے لیے جہنم ہے، جہاں ایک ہلکے سے قدم کے لڑکھڑانے سے لوگ آپ کو مجرم قرار دے دیتے ہیں، پھر فرق نہیں پڑتا کہ لڑکی کا قدم جان بوجھ کر ڈگمگایا تھا یا وہ کسی کی سازش کی زد میں آگئی تھی، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتان”
“اور جب کسوٹیوں پر پورا اترنے کی باری آتی ہے، تو کسوٹی پر صرف لڑکی کو اتارا جاتا ہے۔ اپنے یقین نہیں کرتے، خون کے رشتے منہ موڑ لیتے ہیں۔ بہت تکلیف دے ہوتا ہے وہ راستہ جب اپنے جگہ جگہ کھڑے ملیں، مگر آپ کو دیکھ کر منہ میں موڑ لیں!”
“اور جن کا خود کا کوئی ضمیر نہ ہو… کوئی کردار نہ ہو… وہ آپ کے کردار کی دھجیاں اڑائیں… آسان نہیں ہوتا مسٹر مائد… ان لمحوں کو فیس کرنا!”
“آپ میرے بارے میں جانتے ہی کیا ہیں جو محبت کا دعویٰ کر رہے ہیں؟”
“اگر میں ایک زخم سے پردہ اٹھاؤں، تو آپ کی روح کانپ جائے گی اور آپ مجھ سے اتنی نفرت کریں گے، دوبارہ کبھی خیالوں میں بھی مجھے آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ مت کریں محبت کے دعوے، نہ تو میں آپ کی محبت کے لائق ہوں اور نہ ہی مجھے محبت کی خواہش ہے!”
وہ اتنی سختی سے بولتی چلی گئی کہ مائد خان کو چپ کروا گئی تھی۔ اس کے لہجے میں درد، چبھن، ایک طوفان تھا۔ ایک ایسا طوفان جسے وہ باندھ لگائے ہوئے بول رہی تھی۔ مائد خان حیران تھا کہ جب وہ ضبط کر کے بولتے ہوئے اسے اتنا خوفزدہ کر رہی ہے، تو جب وہ بغیر ضبط کے بولے گی تو کیا ہوگا۔

“تو ٹھیک ہے، پھر آپ اپنے زخموں سے پردہ ہٹا کر دکھا دیجیے، اور لیجئے، میری محبت کا امتحان، فیصلہ اس کے بعد کر لیں گے!”
“کیونکہ اس طرح تو میں آپ کی راہوں سے نہیں جاؤں گا!”
“مائد خان ہوں، ڈر کر کسی چیز سے پیچھے ہٹ جانا میری فطرت میں نہیں ہے!”
مائد خان کے لہجے میں گہری محبت اور استقامت کی جھلک تھی۔

“آپ کو کیوں سمجھ نہیں آ رہا، میں نے کہا کہ مجھے کسی رشتے کی کوئی خواہش نہیں ہے، آپ اچھے نہیں، بہت اچھے ہیں، مگر جس رشتے کو آپ بنانا چاہتے ہیں، وہ نہ آج بن سکتا ہے، نہ کل، نہ پوری زندگی!”
وہ ٹوٹے لہجے میں بولی، جیسے ماضی کے زخم آج بھی تازہ ہوں۔ لفظوں میں نہ نرمی تھی، نہ امید، بس ایک بند دروازہ تھا جسے وہ دوبارہ کھولنے کے لیے تیار نہ تھی۔

“آپ کیوں نہیں سمجھ رہیں کہ مجھے اس رشتے کی شدت سے خواہش ہے، اب سے نہیں، تب سے، جب مجھے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ یہ محبت ہے یا صرف وقت کی کوئی کشش۔ یہ رشتہ تو ضرور بنے گا، آج نہیں تو کل، نہیں تو پوری زندگی۔ اس رشتے کی امید لگائے… ہار کبھی نہیں مانوں گا!”
مائد خان کا لہجہ مضبوط تھا، اس کی آنکھوں میں وہ ضد جھلک رہی تھی جو صرف سچے چاہنے والوں کی ہوتی ہے۔ وہ ہارنے والوں میں سے نہیں تھا، وہ ایک ایسا شخص تھا جو جذبات کو لفظوں میں نہیں، عمل میں ڈھالنا جانتا تھا۔

“دروازہ کھولوائیں!”
وہ سرد لہجے میں کہتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھی، اور زور زور سے دستک دینے لگی۔ اس کی بے نیازی مائد خان کو اندر تک چبھ گئی۔ وہ، جس نے آج تک کسی لڑکی سے اظہارِ محبت نہ کیا تھا… جس کے جذبات ہمیشہ دانیہ کے لیے تھے… آج وہی دانیہ، اس کے خالص جذبے کو یوں ان سنا کر کے، منہ موڑ کر کھڑی تھی۔ مائد کے لیے یہ لمحہ ناقابلِ برداشت تھا۔ بے اختیار دو قدم آگے بڑھا، اس کی نازک کلائی کو سختی سے تھام کر دروازے سے پیچھے کھینچ لیا۔
دانیہ گھبرا گئی، آنکھیں بند کر کے دیوار سے لگ گئی، مائد نے دونوں ہاتھ اس کے اطراف رکھے، اور جھک کر، چہرہ اس کے قریب لا کر، اپنی تپش زدہ نظریں اس کے چہرے پر مرکوز کر دیں۔ مائد خان کا ضبط، اس لمحے شکست کھا گیا تھا۔ اس کی شخصیت کا دباؤ… اس کی نظروں کی شدت… اور اندازِ محبت ایسا تھا کہ چپ بھی بولتی محسوس ہونے لگی۔

“ی۔۔۔ی۔۔۔یہ۔۔۔کک۔۔۔کیا بدتمیزی ہے!”
وہ الفاظ توڑتے ہوئے، آنکھیں بند کیے، بےبس سی آواز میں بولی۔
دانیہ کے لب کپکپا رہے تھے۔ خوف، حیرت اور دل کی دھڑکنوں کی تیزی نے، اس کے لہجے میں بےاختیاری گھول دی تھی۔ وہ خود کو اس قرب سے سنبھال نہ سکی تھی۔

“کیا کریں… ہماری محبت کو، تمیز کی بات سمجھ کر، ٹھہراؤ سے بولتے ہیں!”
وہ بھاری لہجے میں بولا۔ گرم سانسوں کی حدت دانیا کے چہرے پر پگھلنے لگی تھی۔ دل کی دھڑکنیں، دھڑکن نہیں، ہتھوڑے بن چکی تھیں۔ مائد خان کی قربت نے دانیا کو ساکت کر دیا تھا۔ وہ بےبس سی دیوار سے جا لگی، نہ آنکھیں کھلیں، نہ قدم ہلے، بس وجود کانپنے لگا۔ مائد خان کی نیت بدنیتی نہ تھی، لیکن وہ لمحہ، اظہار اور انکار کے درمیان لٹکتا وہ وقت، اسے قبول نہ تھا۔ وہ دانیا کو ادھورے جملوں، اور خاموش آنکھوں کے ساتھ اس کمرے سے جانے کی اجازت دے دیتا، تو ایسی صورت میں شایداس رشتے کی قبر وہ خود کھود رہا ہوتا اور ایسا وہ ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا۔

“دور ہٹیں مجھ سے! میں، زیغم بھائی کو بتا دوں گی!”
وہ، جو ابھی تک شیرنی بنی کھڑی تھی، مائد خان کے ذرا سا قریب آنے پر، بھیگی بلی بن کر بھائی کا ڈراوا دینے لگی۔ اس کی آنکھیں اب بھی بند تھیں، لب کپکپا رہے تھے، اور سانسیں الجھتی جا رہی تھیں۔ مائد خان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

“کیا بتاؤ گی؟”
وہ شرارت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
دونوں ہاتھ اب بھی دیوار پر اس کے اطراف رکھے تھے، جیسے وہ دیوار نہیں، خود ایک قید ہو۔ دانیا چاہ کر بھی اس پہاڑ جیسے وجود کو ہٹا کر نکل نہیں سکتی تھی۔ اتنی ہمت کب تھی اُس میں؟

“مم… میں… بتاؤں گی کہ…”
الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر لبوں سے نکلے، لیکن بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ گھبرا کر دوبارہ آنکھیں بند کر گئی۔

“کیا بتاؤ گی؟”
“کہ مائد خان نے محبت کا اظہار کیا ہے؟”
وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔

“ویسے، یہ بات زیادہ شرم کی ہے کہ تم یہ اظہارِ محبت والی بات… اپنے بھائی سے کہو گی۔”
مائد خان کی آواز میں نرمی بھی تھی، شرارت بھی، مگر لہجے میں ایسی گرفت تھی جو دانیا کو کانپنے پر مجبور کر گئی۔ وہ شخص، جو روب دار تھا، اب دل کی گہرائی سے اپنا جذبہ بیان کر رہا تھا، اور دانیا… وہ صرف دھڑکنوں کی تیزی سے خود کو تھامنے کی کوشش کر رہی تھی۔

“آپ کو شرم نہیں آ رہی، مجھ سے ایسی باتیں کرتے ہوئے؟”
وہ تپ کر بولی، آنکھوں میں نمی، آواز میں لرزش تھی۔ دل دھک دھک کر کے اس کے لیے عذاب بنا ہوا تھا۔

“نہیں! مجھے بالکل شرم نہیں آ رہی!”
وہ شوخ لہجے میں گویا ہوا۔

“کیونکہ اس شرم کے چکر میں میں نے اپنی زندگی کے بہت سے سال ضائع کر دیے ہیں، اور اب… شرم کے لیے میرے پاس وقت نہیں بچا۔”
“اب اگر 31 سال کا ہو کر اپنی محبت کا اظہار نہیں کروں گا، تو کیا 60 سال کا بابا بن کر، لکڑی کے سہارے آ کر اظہارِ محبت کروں گا؟”
اس کا انداز شوخ بھی تھا، سچا بھی مگر وہ اپنی جگہ سے ہلا نہیں۔ دیوار پر دونوں ہاتھ ٹکائے کھڑا رہا، جیسے اس لمحے کو وہ ہر صورت تھامنا چاہتا ہو کیونکہ اسے معلوم تھا، وہ کسی بھی وقت بھاگ سکتی ہے۔ ویسے تو اسٹور روم کا دروازہ بند تھا مگر جس سپیڈ سے کچھ دیر پہلے وہ دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی، ایسا لگتا تھا جیسے وہ پورے گھر کو وہاں جمع کر سکتی ہے۔ مائد خان صرف اس سے بات کرنا چاہتا تھا، بس وہ الفاظ جو برسوں سے دل میں دبے تھے، آج بےساختہ لبوں پر آ گئے تھے۔ اس کے لہجے میں نہ کوئی خوف تھا۔

“آپ کو ایسی حرکتیں زیب نہیں دیتی۔ اس طرح کا بیہیویئر آپ کی شخصیت پر بالکل بھی سوٹ نہیں کرتا!”
دانیہ نے سخت لہجے میں کہا، مگر آواز کی لرزش بتا رہی تھی کہ وہ خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

“اچھا؟ تو پھر میری شخصیت پر کیا سوٹ کرتا ہے؟”
“حکم کرو، میں ویسا بن جاتا ہوں!”
مائد خان کے لہجے میں شوخی بھی تھی، سنجیدگی بھی۔

“آپ ایک سوبر انسان ہیں، اور اس طرح کی حرکت آپ کو زیب نہیں دیتی۔ ایک لڑکی کو اسٹور روم میں بند کر کے، اس پر پریشر ڈال کر، بات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں!”
بڑی ہمت سے دانیہ نے نظریں اٹھا کر کہا تھا۔

“پہلی بات… میں نے لڑکی کو اسٹور روم میں بند نہیں کیا، لڑکی پہلے سے اسٹور روم میں بند تھی۔ میں نے تو صرف اس کی مدد کی۔ اب مدد کرتے ہوئے میں خود بند ہو گیا تو اس میں میں مظلوم ہوں، کیا کر سکتا ہوں؟”
وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔

“جی نہیں! آپ نے جان بوجھ کر دروازہ بند کیا تھا!”
دانیہ نے ہمت کرتے ہوئے آنکھیں کھول کر، چبھتی نظروں سے کہا۔

“کون یقین کرے گا اس بات پر؟”
مائد نے ایک آئی برو شرارت سے اٹھاتے ہوئے کہا۔

“مگر آپ نے ایسا ہی کیا!”
“میں سب کو بتاؤں گی!”
اس نے سخت لہجے میں کہا، مگر آواز میں ہلکی سی لرزش نمایاں تھی۔

“کوئی یقین نہیں کرے گا… کیونکہ آپ کے مطابق تو میری شخصیت سوبر ہے!”
وہ بےنیازی سے بولا، اس سارے منظر میں صرف وہی مطمئن تھا۔

“جانتی ہوں، کوئی یقین نہیں کرے گا… دانیہ پر تو پہلے بھی کسی نے یقین نہیں کیا!”
وہ بے ربط لہجے میں چیخی، جیسے دل میں چھپا لاوا اچانک پھٹ گیا ہو۔ درد کے اندیکھے دروازے کھلنے لگے تھے، اور دانیہ کی آواز میں برسوں کی بےبسی لرزنے لگی تھی۔

“پہلے بھی میں روتی رہ گئی… کتنا چیخ چیخ کر کہا تھا کہ میری کوئی غلطی نہیں ہے!”
اچانک وہ ماضی کی تپش میں جلنے لگی۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے وہی اندھیری رات لوٹ آئی تھی۔ وہ پرسکون نیند میں تھی، بےخبر، بےفکر۔

“اور پھر۔۔۔ وہ آیا تھا۔۔۔ بہت قریب۔۔۔ اتنا قریب کہ سانسیں رکنے لگیں۔”
اس کی آواز کپکپا رہی تھی۔

” کچھ سرحدیں پار ہوئیں، مگر آخری حد سے پہلے۔۔۔ وہ بھاگ گیا۔ کھڑکی سے کود کر، جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔”
“میں کچھ بھی نہیں کر سکی۔۔۔ میں کچھ بھی ثابت نہیں کر سکی۔۔۔!”
وہ تڑپ کر رو پڑی۔ مائد کے قدم پیچھے ہٹے، اس کے اندر کچھ ٹوٹنے لگا تھا۔ وہ ایسا منظر کبھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا، نہ ہی ایسی تکلیف کو چھونا چاہتا تھا جو صدیوں کی خاموشی سے بنی ہو۔ وہ یہ تو جانتا تھا کہ دانیا کی شادی اچانک شہرام سے طے کر دی گئی تھی، مگر اس وقت زیغم پاکستان موجود نہیں تھا۔ جب اچانک سے اسے بلوایا گیا، وہ شادی پر آیا، تو ہوا کے جھونکے کی طرح آیا اور بنا کچھ کہے چلا گیا۔ اس نے نہ کوئی سوال کیا، نہ کوئی شکوہ… جیسے سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش رہنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ یہ مکمل راز تو دفن ہو گیا تھا لیکن مائد کو ہمیشہ سے محسوس ہوتا رہا کہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوا ہے، جو سب کچھ بدل گیا۔ جو ایک محبت کو آدھے راستے پر روک گیا اور آج… دانیا کا یہ انکشاف، اس کے مضبوط دل میں جیسے کسی نے تیز دھار چلا دی ہو۔ اب وہ اس خاموشی سے زیادہ دیر نظریں نہیں چرا سکتا تھا، کیونکہ یہ جاننا ضروری ہو گیا تھا کہ آخر اس کی محبت کے درمیان کون سا زخم چھپا ہے جو اسے مکمل ہونے سے روک گیا۔

“دانیا، خدا کا واسطہ ہے، یہ پہیلیاں مت بجھاؤ، میرا دل بند ہو جائے گا۔”
“آپ مجھے سب کچھ بتا سکتی ہو… اس یقین سے کہ تمہارے ہر حقیقت سے پردہ اٹھانے کے بعد بھی مائدخان کی محبت نہیں بدلے گی!”
“میں نے محبت آپ کی روح سے، پیارے چہرے کی معصومیت سے، تمہاری سادگی سے کی ہے!”
“مجھے بالکل فرق نہیں پڑے گا کہ تمہارے ماضی میں کیا تھا، مگر… مجھے اس شخص کا چہرہ ضرور دکھاؤ جس نے تمہاری زندگی کو اتنا بے رنگ کر دیا ہے!”
وہ گہری سانس لیتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامے وہیں زمین پر بیٹھ گیا تھا۔ دانیا تو پہلے ہی ٹوٹی ہوئی تھی، وہ نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ مائد کے دل کو چیرنے والی دانیا کب تک اس کی محبت کے سامنے اس کی توہین بن کر کھڑی رہنے میں کامیاب ہوتی؟ وہ رو رہی تھی کیونکہ ماضی کے زخم اسے درد دے رہے تھے۔ وہ اندر ہی اندر تڑپ رہی تھی، اور مائد اس کے لب کھولنے کے انتظار میں خاموش بیٹھا تھا۔

“اپنے دل کا حال بتاؤ، میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔”
کافی دیر سے اسے سسک سسک کر روتے دیکھ کر مائد نے نرمی سے کہا۔

“کچھ نہیں بتانا مجھے، پلیز… خدا کے لیے مجھے یہاں سے جانے دیں۔ اگر آپ میری ذرا سی بھی عزت کرتے ہیں تو مجھے جانے دیں!”
وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے، بے خیالی کی دنیا سے باہر آئی تھی۔

“میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔ اتنی کہ… کاش میرے پاس وہ لفظ ہوتے جن سے میں اپنے دل کا حال بتا سکتا… بتا سکتا کہ میں آپ کی کتنی عزت کرتا ہوں۔”
مائد کے لہجے میں عزت بھی تھی، محبت بھی، اور سچائی جاننے کی تڑپ بھی۔

“تو مجھے جانے دیں، اور اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو ختم کر دیں۔ میں آپ کے لائق نہیں ہوں، بس اتنا سمجھ لیجئے۔ پوری دنیا پڑی ہے، آپ کو مجھ سے بہتر لڑکی مل جائے گی… جیسی آپ چاہتے ہیں۔”
وہ نظریں چراتے ہوئے اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔

“اس کا فیصلہ مجھے کرنے دیں… آپ میرے کتنے قابل ہیں، یہ بات میرے دل سے پوچھئے۔ ہر فیصلہ آپ اپنی طرف سے نہیں کر سکتیں۔ آپ کو ٹائم دیتا ہوں، خود کو سنبھالیں، اور میری محبت پر یقین کرنے کی کوشش کریں۔ اگر قابل سمجھیں، تو اپنے دل کا حال مجھے بتائیں۔ خدا کی قسم، ہر زخم پر مرہم رکھوں گا۔”
لہجے میں نرمی، لبوں پر التجا، نظروں میں محبت کا جذبہ لیے وہ اس کے مقابل کھڑا تھا۔ وہ اس وقت کچھ بھی سننے کے قابل نہیں تھی۔ اور مائد بھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ اسے مزید پریشان کرے کیونکہ وہ بہت ٹوٹ چکی تھی۔
مائد خان کے لیے وہ کیا تھی… یہ احساسات ابھی بتانے باقی تھے۔ اس کے دل کی دھڑکنوں میں کہیں ایک نرم سی دھڑکن بن کر وہ بسی ہوئی تھی، یہ جذبات ابھی چھپے تھے۔ مائد نے جیب سے فون نکالا، اور نمبر ڈائل کیا۔

“درخزائی، سٹور روم کا آ کر دروازہ کھولو!”
وہ فون بند کر چکا تھا۔
آخری نظر دانیا کے نم آنسوؤں پر ڈالی۔

“آنسو صاف کر لیں، بہت رو لیا…اب خود سے پیار کریں، خود پر اعتبار کریں… ہر مشکل آسان ہو جائے گی، ہر دھند چھٹ جائے گی۔”
وہ نرمی سے کہتا دروازے کی جانب بڑھا۔
درخزائی دروازہ کھول چکا تھا، اس نے کوئی سوال نہیں کیا۔
خاموشی سے دروازہ کھولا اور واپس پلٹ گیا کیونکہ اس کے لیے تو ہمیشہ سے یہی رشتہ پرفیکٹ تھا اور اسی رشتے کے لیے وہ دعا گو تھا کہ یہ مکمل ہو جائے۔
°°°°°°°°°
“کیا کہا پرسوں ولیمہ ہے؟”
“حد ہو گئی بھائی، ایسے اچانک ولیمہ کون کرتا ہے؟”
زرام پر تو جیسے بم پھوٹ پڑا تھا۔

“بالکل ویسے ہی جیسے اچانک سے نکاح ہو سکتا ہے!”
زیغم نے سختی اور محبت بھرے لہجے سے کہا۔ یہی اس کا مخصوص انداز تھا۔

“بھائی نکاح کی بات الگ ہے، اب ولیمہ ڈیلے ہوتے ہوتے تین، سوا تین مہینے آگے چلا گیا ہے تو اب تھوڑا مجھے سنبھلنے کا موقع تو دیتے، میں ذرا اپنا ولیمہ دھوم دھام سے منانا چاہتا ہوں!”
زرام نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔

“ہاں جی، اس نے اپنے ولیمے پر خود بھنگڑے ڈالنے ہیں اور ظاہر سی بات ہے پرفارمنس کے لیے آپ کو ٹائم دینا چاہیے تھا!”
فیصل نے گلے میں سماعت آلہ پہن رکھا تھا، جس سے دل کی دھڑکن یعنی ہارٹ بیٹ چیک کی جاتی ہے اور وائٹ ڈاکٹروں والا کوٹ پہنے ہوئے وہ کرسی پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ تینوں اس وقت گاؤں میں بنائے ہوئے اپنے ہاسپٹل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ زیغم سلطان نے یہ خوشخبری ہاسپٹل میں آکر زرام کو سنائی تھی۔

“تُو اپنی زبان بند رکھ، اتنا شوخہ مت بن، بھنگڑے میں کیوں ڈالوں گا؟”
“تیری کون سی ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں جو تو بھنگڑے نہیں ڈال سکتا؟”
زرام نے فوراً سے اپنے دوست کی اچھی خاصی درگت بنا دی تھی۔ اب وہ چھوچھ لٹکائے ہوئے بیٹھا تھا۔

“بھنگڑے بعد میں ڈال لینا، پہلے ذرا تیاری کی لسٹ دیکھو۔ سلطان لغاری کے بیٹوں کا ولیمہ ہے اور بہت دھوم دھام سے ہوگا، ہر خاص و عام کو بلایا جائے گا، تو کہیں کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے!”
زیغم نے فون پر لسٹ نکال کر زرام کے سامنے رکھی، اور فیصل کو بھی دکھا رہا تھا، مگر زرام کی نظروں میں نمی تھی۔

“بھائی، میرے لیے اس سے بڑی سیلیبریشن نہیں ہو سکتی کہ آج آپ نے مجھے سلطان لغاری کا بیٹا کہہ دیا۔ میرے لیے یہ ایک اعزاز ہے!”

“کہہ دیا سے کیا مراد؟”
“ابا سائیں تمہیں اپنا بیٹا مانتے تھے، اور میں تمہیں اپنا بھائی مانتا ہوں… دانیا تو تمہیں اپنا بھائی مانتی ہے۔ خون کا رشتہ ہے ہمارا… ایک ہی خون ہماری نسوں میں دوڑ رہا ہے… تو پھر اب تک تمہیں اس بات پر یقین کیوں نہیں ہے کہ تم سلطان لغاری کے بیٹے ہو؟”
زیغم اس کے جذبات سمجھتے ہوئے اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولا تھا۔

“یقین ہے بھائی، بس ہر دن اپنا عکس، اپنے وجود کی جڑیں جن لوگوں سے جُڑی ہوتی ہیں، دیکھ کر گھبرا جاتا ہوں۔”
وہ گہری سانس لیتے ہوئے، اوپر کو چہرہ کیے ہوئے تھا۔

“سب ٹینشن دماغ سے نکال دے، ان سب کے لیے میں موجود ہوں۔ تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے، سمجھے؟”
“اپنی زندگی کو ملیحہ کے ساتھ خوبصورتی کے ساتھ جیو، بہت اچھی بیوی ملی ہے تمہیں، بس تھوڑی سی تیکھی ہے!”
زیغم کہتے ہوئے مسکرایا تھا۔

“تھوڑی نہیں بھائی، کچھ ضرورت سے زیادہ ہی تیکھی ہے!”
زرام کے لبوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ سر کے پیچھے ہاتھ مارتے ہوئے وہ چہرے کا رخ پھیر کر، ٹیبل پر کہنی جماتے ہوئے، ہاتھ گال پر رکھے ہوئے تھا۔

“بھائی، اگر ملیحہ بھابھی اتنی تیکھی نہ ہوتی تو اس کا اچار کیسے ڈالتی؟”
“اس کو مٹھی میں کرنا کوئی آسان کام تھوڑی تھا۔”
فیصل نے بھی لگے ہاتھ زرام کی درگت بنا دی۔

“مجھے مٹھی میں کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ میں نے تو ہمیشہ سے ایک سوچ رکھی تھی کہ مجھے کسی ایک کا ہو کر رہنا ہے۔ مٹھی میں تو تمہیں کرنا مشکل ہے، جس کی لفنگوں جیسی حرکتیں ہیں۔ ہر اٹھ دن کے بعد تمہارا نئی لڑکی کے ساتھ چکر چل رہا ہوتا ہے… فون پر تمہاری لمبی لمبی کالیں چل رہی ہوتی ہیں… آئے دن تم کسی نہ کسی نئی لڑکی کے ساتھ ڈیٹ پر جاتے ہو… تو میرے خیال سے تمہیں قید کرنے کی زیادہ ضرورت ہے!”

“زرام۔۔۔۔۔۔”
فیصل نے آنکھیں دکھا کر گھورتے ہوئے ذرام کا نام لیا تھا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ زیغم کے سامنے اس کی اصلیت آئے۔ زیغم کی شخصیت دب دبے والی اور سنجیدگی بھری تھی۔ اس لیے اب بس فیصل کی پھٹ رہی تھی۔

“کیوں؟ اپنی حقیقت بھائی کو نہیں بتاؤ گے؟”
زرام ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہو کر پوچھ رہا تھا۔ فیصل کی حالت دیکھ کر اسے بہت مزہ آ رہا تھا جبکہ زیغم سنجیدہ ہو کر دونوں کی جانب دیکھ رہا تھا کیونکہ اس کی نظر میں یہ بالکل جوک نہیں تھا۔

“بھائی، یہ مذاق کر رہا ہے…”
زیغم کی سنجیدہ نظریں دیکھ کر فیصل نے جلدی سے اپنی کرتوتوں پر پردہ ڈالتے ہوئے بہانہ بنایا تھا۔

“نہیں بھائی، میں بالکل سچ بول رہا ہوں، میری اتنی اوقات نہیں کہ میں آپ سے مذاق کروں!”
زرام نے ایک بار پھر سے بیچارے کے ڈالے ہوئے پردے کو تار تار کر دیا تھا۔

“تیرا بیڑا کر کے کمینے… لعنتی کتے، بے غیرت!”
“تُجھے تو میں بعد میں دیکھوں گا!”
فیصل نظروں سے گھورتے ہوئے، دانت چبا رہا تھا، مگر کچھ بولنے کی ہمت نہیں تھی۔ وہ یہ سب کچھ دماغ میں سوچ رہا تھا، اور زرام کو اس کی حالت پر بڑا مزہ آ رہا تھا۔

“یہ مذاق نہیں ہے فیصل!”
“دیکھو، مجھے نہیں پتہ تم میرے بارے میں کیا سوچتے ہو، مگر میری نظر میں تم بالکل زرام جیسے ہو!”
“ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، زندگی میں بہت سی چیزیں وقتی طور پر اچھی لگتی ہیں، دل کو خوشی دیتی ہیں، مگر حقیقت میں وہ ہمارے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ آج کل لڑکے اور لڑکیاں، دوستی کے نام پر جو رشتے بناتے ہیں نا، جیسے گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ، یہ سب وقتی خوش فہمی ہوتی ہے۔”
“ہمارا پیارا اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی غیر لڑکی یا غیر لڑکے سے اس طرح کا تعلق بنانا درست نہیں۔ اللہ نے جو حدود بنائی ہیں، وہ ہماری بھلائی کے لیے بنائی ہیں۔ جب ہم ان حدود کو توڑتے ہیں، تو ہم دل کے سکون، عزت، اور اللہ کی رضا سے دور ہو جاتے ہیں۔”
“محبت غلط نہیں، لیکن محبت کا صحیح راستہ ‘نکاح’ ہے!”
“نکاح کے بغیر جو تعلق ہوتا ہے، وہ ایک دن ختم ہو جاتا ہے، اور پیچھے رہ جاتی ہے صرف شرمندگی، دل کی چوٹ، اور اللہ کی ناراضگی۔”
“دیکھو فیصل، شیطان ہمیشہ چاہتا ہے کہ انسان بہک جائے، کچھ ایسا کرے جو وقتی طور پر کول لگے، لیکن انجام بہت برا ہو۔”
قرآن میں اللہ نے صاف منع فرمایا ہے: ”زنا کے قریب بھی مت جاؤ“ یعنی اس کے راستوں سے بھی بچنا۔”
“اور یہ لڑکے لڑکی کی دوستی… یہ انہی راستوں کی شروعات ہے!”
“تو بھائی! عزت والا بنو… ایسا کام کرو جس پر کل تم فخر کر سکو، اور اللہ بھی تم سے راضی ہو۔”
“جس دن تم نے سچی محبت کو اللہ کی رضا سے جوڑ دیا، وہی دن تمہاری زندگی کی سب سے بڑی اور خوبصورت محبت کا دن بن جائے گا۔”
زیغم اسے سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا۔ ایک ایک لفظ میں خوفِ خدا نظر آ رہا تھا۔

“خود کو پاکیزہ رکھو!”
“یہ صرف عورت پر لازم نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے لیے پاک دامن ہو، بلکہ مرد پر بھی یہی فرض ہے۔”
“اگر ایک مرد کو پاک دامن، صاف ستھری عورت چاہیے، تو عورت کو بھی یہی حق حاصل ہے اور یہ جو تم لوگوں نے ماڈرن ٹرینڈ بنا لیا ہے نا کہ “عورت تو عورت ہوتی ہے، مرد کو سب معاف ہے” تو ایسا کہیں نہیں لکھا!”
“مرد کو بھی اسی طرح جواب دینا ہوگا جیسے عورت کو… اللہ کے نزدیک نہ مرد برتر ہے نہ عورت… دونوں کے لیے ایک ہی میزان ہے۔”
“مرد کو بھی نظر کی حفاظت کا حکم ہے، نظریں جھکانے کا حکم ہے۔ یہ سب باتیں یاد رکھو، فیصل!”
“یہ وقت ہے خود کو بچا کر چلنے کا… اِدھر اُدھر بھٹکنے کا نہیں!”
زیغم سلطان نے جیسے پورا خطبہ دے دیا تھا اور بیچارے فیصل کو تو کچھ لمحے کے لیے چکر ہی آ گئے۔ اسے لگ رہا تھا جیسے دنیا کا سب سے خراب انسان وہی ہے۔ اور اس حال کا ذمہ دار؟
صرف ایک، اس کا اپنا دوست، زرام تھا، جسے اس وقت وہ جی بھر کے گالیاں دینا چاہتا تھا مگر زیغم نے جو کچھ سمجھایا، وہ بالکل سچ تھا اور یہی ہمارا دین، ہمارا اسلام ہمیں سکھاتا ہے۔ زیغم کی باتوں کا اثر فیصل پر ہو چکا تھا، اور اس نے اپنے ماضی کے رویوں پر شرمندگی محسوس کی۔

“جی بھائی، آپ بالکل بجا فرما رہے ہیں، مگر قسم سے کبھی بھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی جس سے میں زنا جیسے گھٹیا الفاظ کا مستحق ہوتا۔ ہاں، مگر موج مستی میں ڈیٹ پر جا کر گپ شپ مارنا، اور دوستوں کے سامنے شو کرنا کہ یہ میری گرل فرینڈ ہے، یہ سب مجھے اچھا لگتا تھا۔ آئندہ اس چیز سے بھی گریز کروں گا۔”
فیصل نے نظر جھکا کر کہا۔
زیغم کی آنکھوں میں ایک سکون کی جھلک تھی، اس کے چہرے پر ایک نرم مسکراہٹ آئی۔

“فیصل، انسان غلطیاں کرتا ہے، مگر انہیں سدھارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔”
فیصل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔

“یقین رکھو، یہی فیصلہ تمہاری زندگی کا سب سے بہتر ہوگا۔ اللہ تمہیں ہدایت دے گا، بس تمہیں اپنی راہ ٹھیک کرنی ہے۔”
زیغم نے ایک آخری بات کہہ کر فیصل کو مزید ہمت دی۔
فیصل کی آنکھوں میں شکریہ کی جھلک تھی، اور دل میں ایک نئی امید پیدا ہو رہی تھی۔ کہیں نہ کہیں فیصل خود بھی خود پر شرمندہ تھا کہ بے شک اس نے زنا جیسا گھٹیا کام تو نہیں کیا تھا مگر جس انداز سے زیغم نے اسے سمجھایا تھا اسے سمجھ آ چکا تھا کہ گرل فرینڈ بنانا بھی کوئی قابلِ تعریف کام نہیں ہے۔

“اچھا میں چلتا ہوں تم لوگ لسٹ اچھی طرح سے دیکھ لینا۔ میں نے تم دونوں کے موبائل پر سینڈ کر دی ہے اور کوئی خاص انتظام میں تبدیلی کروانی ہو تو بتا دینا!”
زیغم کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔

“کتے… کمینے… بے غیرت… گھٹیا انسان… تم نے میری اچھی خاصی بینڈ بجوا دی!”
زیغم کے جاتے ہی فیصل ذرام پر چڑھ دوڑا تھا۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر گلے میں پہنے ہوئے ہارٹ بیٹ چیک کرنے والی مشین کو لپیٹتے ہوئے، اس کی جانب بڑھا تھا اور مارنے کا ارادہ رکھے ہوئے تھا۔

“اوئے اوئے کمینے، ایسا مت کرنا!”
“چوٹ لگ جائے گی!”
ذرام اس سے بچنے کے لیے ٹیبل کے ارد گرد گھومتے ہوئے اس کی طرف سے بچ رہا تھا۔

“چوٹ لگ جائے گی؟”
“تجھے تو میں ایسا سبق سکھاؤں گا کمینے… تو بڑا پارسائی بنا پھرتا ہے… تم نے میری عزت کا کچرا کروا دیا!”
فیصل غصے میں چیختے ہوئے ذرام کے پیچھے دوڑ رہا تھا۔

ذرام نے تیز قدموں سے اس سے بچنے کی کوشش کی، اور پھر اس کو پکڑ کر تھوڑا سا روکا۔
“پہلے سن تو لو، پھر مارنا!”

“تو بچ کر کہاں جائے گا؟”
“جتنی بکواس کرنی تھی کر لی۔ اب تجھے میری سزا ملے گی!”
فیصل نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے کہا، لیکن ذرام نے ایک طرف اچھل کر اپنے آپ کو بچایا۔

“اگر تجھے اپنی عزت اتنی ہی عزیز ہے تو پھر یہ بے غیرتیاں چھوڑ دے۔ بہتر ہے کہ تُو اپنی عزت خود بچائے!”
ذرام نے ہنستے ہوئے کہا۔

“کمینے، میری ہنسی مذاق کو تم نے زیغم بھائی کے سامنے اس طرح ایکسپلین کیا کہ پتہ نہیں وہ میرے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے!”
فیصل غصے سے ذرام کو دیکھتے ہوئے بولا۔
فیصل کو اس بات کا غصہ تھا کہ ذرام نے اس کی ہنسی مذاق کو زیغم کے سامنے اس طرح پیش کیا کہ وہ اس کی اصل حقیقت جان گیا، اور اب وہ فکر مند تھا کہ زیغم اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہو گا۔

“یار، تیرے چہرے پر جب غصہ آتا ہے نا، تو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا کی سب سے بڑی بلا تجھ پر ٹوٹ پڑی ہو!”
“اور ویسے بھی، زیغم بھائی کو تمہاری حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری تھا، ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ ان کا معصوم بھائی کیسے دوستوں کے ساتھ رہتا ہے!”
ذرام نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ فیصل کا چہرہ لال ہو چکا تھا۔

“کوئی نہ بیٹا، یاد رکھنا! اگر یہ بدلہ میں نے تم سے لے لیا تو پھر کہنا!”
فیصل نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے قسم کھائی۔

“دیکھ لینا، تمہیں بھی ملیحہ بھابھی کے سامنے ایسا پھنساؤں گا کہ تم یاد رکھو گے اور پھر تمہیں میری ضرورت پڑے گی تو میں بالکل دوبارہ ساتھ نہیں دوں گا!”
وہ دانتوں کو پیتے ہوئے بول رہا تھا۔

“ہاہاہاہا!”
ذرام نے ہنستے ہوئے کہا۔
“پہلے خود کو تو زیغم بھائی کی نظروں میں اٹھا لے، بعد میں مجھے پھنسا لینا!”
“میں ذرا اپنے پیشنٹ کو چیک کر کے آتا ہوں، تم ذرا ہارٹ بیٹ ٹھیک کر لو، کافی تیز ہو گئی ہے!”
ذرام تیزی سے دوسری جانب سے ہوتا ہوا باہر نکل گیا۔

“کمینہ… اگر تو میرا دوست نہ ہوتا نا تو اس وقت میں نے تیرا قتل کر دینا تھا!”
فیصل نے دروازے کی جانب غصے سے دیکھتے ہوئے کہا اور پھر اپنی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔ اس کی سانس اچھی خاصی پھول چکی تھی۔
°°°°°°°°°
زیغم مصروف تھا، اس لیے اس نے رفیق کو بھیجا تھا کہ وہ جا کر دانیا کو لے آئے۔ دانیا اپنی حویلی جانے والی تھی، اسے یہاں رہتے ہوئے کافی مہینے گزر گئے تھے، اور اب وہ سچ میں اپنے گھر جانے کو بے تاب تھی۔

“تم نے ہمارا بہت خیال رکھا ہے، تم جیسی بیٹی پا کر میں خود کو خوش نصیب محسوس کرتی ہوں، میری بیٹی نہیں ہے، آج میرا یہ درد کم ہو گیا کیونکہ تمہارے روپ میں مجھے بہت پیاری خدمت گزار بیٹی مل گئی ہے۔”
مورے نے شفقت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“مجھے بھی آپ کے روپ میں اماں سائیں واپس مل گئی ہیں۔ آپ بہت اچھی ہیں، اللہ تعالی آپ کو تندرستی اور صحت والی زندگی دے۔”
دانیا نے دل سے مورے کو دعا دی تھی۔ مائد خان یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا، اور یہاں سے دانیا کا جانا، پتہ نہیں کیوں، اس کے دل کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔

“اللہ حافظ۔”
وہ آغا جان کے آگے سر جھکاتے ہوئے بولی۔

آغا جان نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“بیٹا تم نے جس طرح اس دکھ کی گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا، ہمارا خیال رکھا، ہم تمہارا احسان اور تمہارے بھائی کا احسان کبھی نہیں بھولیں گے۔”

“آپ اپنا خیال رکھیے گا اور دوائیاں ٹائم سے لیجئے گا۔”
دانیا نے نرمی سے ادب سے کہا۔

“میں اپنا خیال رکھوں گا، مگر تم آتی رہنا۔ یہ تمہارا اپنا گھر ہے، جب چاہے آ جاؤ، اور مجھے زبردستی آ کر دوائیاں کھلا دینا۔”
آغا جان نے شفقت محبت اور خوش مزاجی سے کہا تھا۔ ان تین مہینوں میں آغا جان کو بھی دانیا سے کافی لگاؤ ہو گیا تھا۔ وہ سچ میں بہت اچھی تھی اور اس نے سب کا بہت خیال رکھا تھا، اور یہ چیزیں آغا جان کی نظروں سے چھپی ہوئی نہیں تھیں۔

“تمہارا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے؟”
دانیا نے درخزائی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو منہ پھلا کر کھڑا ہوا تھا۔

“آپ جا رہی ہیں تو میں بھنگڑے تھوڑی ڈال سکتا ہوں؟”
بیزار سا منہ بنا کر بولا کیونکہ اسے دانیا کا جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا، وہ اداس تھا دانیا کے جانے سے۔

“بھنگڑے تو ضرور ڈالے جائیں گے، مگر جب تمہاری شادی ہوگی، اور تمہاری شادی پر میں پورا ایک مہینہ پہلے آ کر سارے انتظام بڑی بہن بن کر سنبھال لوں گی، پرومس!”
وہ پیار سے مسکرانے کے لیے بول رہی تھی۔

“میری شادی جب ہوگی دیکھی جائے گی، ابھی آپ ہفتے میں دو سے تین دن ہمارے پاس رکنے آئیں گی، اور میں جب چاہوں، آپ کے گھر آ سکتا ہوں۔ یہ بات زیغم بھائی کو بول دیجئے گا۔ مجھے میری خورجان سے ملنے کے لیے کوئی نہیں روک سکتا!”

“ہاں بابا، جب چاہو تم آ سکتے ہو، اور تمہیں کس نے کہا کہ کوئی تمہیں روک سکتا ہے؟”
“میرا بھائی جب چاہے مجھ سے مل سکتا ہے، اور اب یہ سوجھا ہوا منہ ٹھیک کرو، ایسے بالکل اچھے نہیں لگتے ہو، اور پڑھائی دل لگا کر کرنا۔ اگر تمہارا رزلٹ اچھا نہ آیا، تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی اور پھر ملنے بھی نہیں آؤں گی۔”

“ایسا بالکل نہیں ہوگا، میں آپ کی خاطر بہت اچھی پڑھائی کروں گا اور اچھی پوزیشن لے کر آؤں گا، آپ یہاں نہ آنے کے بہانے مت ڈھونڈیں۔”
کافی ایموشنل سین تھا، سب اس سے ملتے ہوئے الوداع کر رہے تھے۔ درخزائی باہر تک چھوڑنے کے لیے آیا تھا، مورے بھی ساتھ میں تھی، آغا جان بھی ساتھ میں تھے۔ ایسے میں مائد کو بالکل اس کے ساتھ بات کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ گاڑی حویلی سے نکل چکی تھی، حفاظت کے لیے زیغم نے اپنے خاص بندوں کی گاڑی ساتھ میں الگ سے بھجوائی تھی، مگر پھر بھی مائد نے اپنی طرف سے بھی ایک گاڑی بھجوا دی تھی کیونکہ زیغم اور مائد کے چاروں طرف میں ان کی کامیابیوں اور کھیتوں کی وجہ سے کافی دشمنیاں پائی جاتی تھیں، اور زیغم کی تو خود اپنے گھر میں دشمنیاں آخری حدوں کو چھو رہی تھیں، تو ایسے میں حفاظت کڑی کرنے کی ضرورت تھی۔ آخر ادھر سے زیغم نے اپنی بہن کی حفاظت اور تحفظ کے لیے پورے انتظام کیے تھے اور یہاں سے مائد خان کی محبت رخصت ہو رہی تھی تو مائد خان نے بھی اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر مائد کو یہ دکھ تھا کہ اس کی دانیا سے بات نہیں ہو سکی۔
°°°°°°°
زرام کمرے میں داخل ہوا تو ہلکی سی خنکی نے اس کے تھکے وجود کو چھو لیا۔ شام ڈھل چکی تھی اور کھڑکی کے پار اندھیرا اترنے لگا تھا۔ کمروں میں ہلکی سی خوشبو رچی تھی، جیسے کسی نے عطر کا چھینٹا مار دیا ہو۔ ملیحہ نظر نہیں آئی، مگر واش روم کے دروازے کے نیچے سے بہتا پانی، اور اندر سے آتی شاور کی آواز واضح تھی۔ آج ہاسپٹل میں کافی مصروف دن گزرا تھا۔ مسکراہٹ چہرے سے غائب، مگر شرارت اندر کہیں جاگ رہی تھی۔ زرام نے بنا جوتے اتارے، خود کو بیڈ پر یوں گرایا جیسے کسی جنگجو نے میدان خالی کیا ہو۔ الٹا لیٹتے ہوئے اس کے لمبے پاؤں بیڈ سے نیچے لٹک گئے۔ وہ آنکھیں بند کر کے سکون کی سانس لینے لگا۔ ملیحہ نے بالوں پر تولیہ لپیٹا ہوا تھا۔ شاور کی بھاپ سے اس کے گال گلابی ہو رہے تھے۔ جیسے ہی وہ واش روم سے نکلی، سامنے زرام کو بیڈ پر پڑے دیکھا، تو چیخ مار بیٹھی۔

“یا اللہ! زرام تم ہوش میں ہو؟”
“ایسے کون لیٹتا ہے؟”
“دل بند ہو گیا میرا!”
وہ ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی۔
زرام نے سست انداز میں کروٹ بدلی، چہرے پر تھکا مسکراہٹ چمک اٹھی۔

“ارے… میں نے کیا کیا؟”
“بس لیٹا ہوں…”

ملیحہ نے تپ کر تولیہ ایک طرف پھینکا۔
“کلیجہ باہر نہیں آیا، دل بند ہونے والا تھا… سانڈ کی طرح بیڈ پر گرے ہو!”
“ایسے اچانک تمہیں کمرے میں دیکھ کر، مطلب بیڈ پر پھیلا ہوا، لیٹا دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آگیا تھا!”
زرام نے دونوں ہاتھوں کو سر کے پیچھے رکھا، اور مسکرا کر گہری نظروں سے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا۔

“تو پھر کلیجہ مجھے دے دو، اس پر بیڈ شیٹ بچھا کر سو جاؤں گا… محبت بھرا بستر بنے گا!”

“بہت ہی گھٹیا مزاق ہے تمہارا!”
وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی، گیلے بال کنگھی سے سلجھاتے ہوئے آئینے میں اسے گھور رہی تھی۔

“کیا کریں جب تم سامنے ہوتی ہو تو دل ہارنے کے لیے میں ایسے ہی گھٹیا مذاق کر سکتا ہوں… اچھے مذاق مجھ سے بنائے نہیں جاتے!”
زرام نے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔

ملیحہ نے ناک سکوڑا۔
“دل ہارنے والے نہیں، دماغ گھمانے والے ہیں!”
“اپنے لیٹنے کا انداز دیکھو جوتے بھی نہیں اتارے… کہیں سے بھی لگتا ہے کہ تم ایک پڑھے لکھے ڈاکٹر ہو؟”
ملیحہ نے تولیہ سٹینڈ پر ڈالا اور ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی تھی۔

“یار پڑھے لکھے سے کیا مراد پڑھے لکھے انسان میں دل نہیں ہوتا؟”
“اب تمہارے ساتھ تو رومینس کا کوئی چانس ملتا نہیں ہے، تو کیا کروں اپنے دل کو مار لوں؟”
“بیڈ کے ساتھ دل لگی کی باتیں کرتے ہوئے رومینس بھی کر لیتا ہوں، اب اس پر بھی تمہیں مسئلہ ہے؟”
زرام نے بیچاری سی شکل بناتے ہوئے کہا۔ وہ بات کا رخ کسی اور جانب ہی لے گیا تھا۔

“اپنے خرافاتی دماغ سے کبھی رومینس کے علاوہ بھی کچھ سوچ لیا کرو۔ دنیا میں اور بھی بہت سی بہترین چیزیں ہیں سوچنے کے لیے!”
ہاتھ باندھے کھڑی ناک سنگوڑتے ہوئے بولی تھی۔

“مسئلہ کیا ہے اور سوچنے کے لیے ذرا بتاؤ، تاکہ میری بھی نالج میں اضافہ ہو سکے!”
وہ مسلسل پاؤں کو ہلاتے ہوئے بیڈ پر پھیل کر لیٹا ہوا تھا۔ لبوں پر شرارتی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔

“بہت کچھ ہے سوچنے کے لیے اور میں تمہاری نالج میں اضافہ کرنے کے لیے اس گھر میں نہیں آئی!”
اس کی نظروں تاب نہ لاتے ہوئے وہ نظر چرا گئی تھی۔

“اچھا ویسے جس کام کے لیے تم اس گھر میں لائی گئی ہو وہ کام کون سا تم ایمانداری سے کر کہاں رہی ہو، تمہارا کام ہے میری خدمت کرنا!”
“میرے جوتے اتارو، اچھی بیوی کی طرح میرے پاؤں دباؤ!”
وہ مصنوعی ایکٹنگ کرتے ہوئے بہت پیارا لگ رہا تھا۔

“تمہارا گلا نہ دبا دوں؟”
“پیچھے ہٹاؤ پاؤں… اور تم یہ الٹی سیدھی باتیں کہاں سے سیکھ کر آتے ہو، کہاں سے آتے ہیں تمہارے دماغ میں ایسے خرافاتی آئیڈیاز؟”

“آئیڈیازسے کیا مطلب؟”
“میں تمہارا شوہر ہوں… تمہارا مجازی خدا ہوں… تم میری بیوی ہو… تمہارا فرض ہے میری خدمت کرنا!”
وہ بہت اچھی ایکٹنگ کر رہا تھا۔ دانت نکال کر ملیحہ کو زچ کر کے محظوظ ہو رہا تھا۔

“خدمت تو میں تمہاری ایسی کروں گی کہ تمہاری سات پشتیں یاد رکھیں گی!”
“بڑا آیا پاؤں دبوانے والا!”
اس کے سر کے نیچے تکیہ کھینچ کر، ایک کے بعد ایک تکیہ مارتے ہوئے۔ وہ ذرام کا حشر نشر کر رہی تھی اور وہ دانت نکال کر ہنسے جا رہا تھا۔ تکیہ پکڑ کر سائیڈ پر پھینک دیا۔ اس کے ہاتھ کو مضبوط ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کھینچا تو وہ لڑکھڑاتے ہوئے اس کے اوپر آ گری۔

“سپائسی چلی بھائی نے ولیمہ طے کر دیا ہے تیار رہنا!”
“ویسے تو یہ خبر تم تک پہنچ چکی ہے مگر میں اپنی طرف سے اسپیشل بتا رہا ہوں اور اب مجھ پر بھی ذرا نظر ثانی کر دو!”
شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو ہٹاتے، نچلے ہونٹ کے کنارے کو دبا گیا تھا۔ نظروں میں خماریوں کا جہاں آباد تھا۔

“اس سے کیا مراد ہے کیا کہنا چاہتے ہو؟”
دھڑکتے دل کو قابو کرتے ہوئے وہ مطلب پوچھ رہی تھی۔

“بچی تو نہیں، اچھی طرح سے سمجھ رہی ہو!”
شرارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اسے بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔

“زرام تمہارا میں نے منہ توڑ دینا ہے، اگر تم ان چھچوری باتوں سے باز نہیں آئے تو!”
اس کی باتوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے وہ گھبرا گئی تھی۔ چہرے پر شرم و حیا کی لالیاں پھیلتے ہوئے اسے اور بھی حسین بنا رہی تھی۔

“اچھا چھچوری باتیں ہیں… تو ٹھیک ہے پھر میں اپنے دل کی باتوں کو پورا کرنے کے لیے باہر چکر چلا لوں؟”
“کیونکہ تم میرے ہاتھ نہیں آرہی!”
دھمکی دینے والے انداز میں بولتے ہوئے اسے خود پر گرائے ہوئے تھا۔

“چلا کر دکھاؤ، اگر تمہارے ساتھ ساتھ اس حسینہ کی سانسیں بھی بند نہ کر دی جس کے ساتھ تم نے چکر چلایا تو میرا نام ملیحہ نہیں!”
دبنگ انداز میں غراتے ہوئے کہا۔

“تو پھر تم آ جاؤ سانسوں سے زیادہ قریب، میں نہیں لگاتا کسی کو منہ!”
گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے جذباتوں سے چور لہجے میں کہا۔

“کبھی نہیں!”
وہ شرم سے لال ہوتے ہوئے بولی۔

“کیوں؟”
تجسس سے پوچھا۔

“بے شرم آدمی چھوڑو مجھے دانیا سے ملنے جانا ہے!”
اس کے سینے پر دباؤ دیتے ہوئے شرم سے لال سرخ ہوتی ہوئی، صوفے پر رکھے ہوئے دوپٹے کو کھینچتی، سو کی سپیڈ سے کمرے سے بھاگ کر دانیا سے ملنے کے لیے چلی گئی تھی۔

“ہائے… ڈاکٹر کو دل کا دورہ پڑ جانا ہے لڑکی اتنا مت تڑپاؤ!”
وہ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے آنکھیں بند کر گیا تھا۔
°°°°°°
ولیمے کی تقریب بہت بڑے پیمانے پر کی گئی تھی۔ ہر خاص و عام نے شرکت کی تھی۔ قیمتی فانوسوں کی روشنی، گلابوں کی خوشبو، اور بارش بھی تھی تو گرمی کے موسم میں بھی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی۔ ٹھنڈی ہواؤں میں رچی موسیقی نے تقریب کو اور بھی دلچسپ بنا دیا تھا۔
مہر النسا زیغم کے ساتھ ولیمے کی دلہن بنی ہوئی بیٹھی تھی، پنک اور گولڈن رنگ کے جوڑے میں وہ بےحد حسین لگ رہی تھی۔ اتنی حسین کہ زیغم سلطان کی نظریں پل بھر کے لیے بھی اس سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔ وہ بار بار نظر چراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔ چھوٹی سی حسین ولیمے کی دلہن لمبے چوڑے زرام لغاری کے دل کو قید کیے ہوئے تھا۔ دل، شرارتی ہو کر، مہرو کے قریب جانے کو بے قرار تھا۔ بڑی مشکل سے پہرے لگائے بیٹھا تھا۔ مہرو اتنا سب کچھ دیکھ کر بے حد خوش تھی۔ یہ سب کچھ اس کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ حسین تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں اتنی خوشیاں ایک ساتھ کبھی نہیں دیکھی تھی۔ مہنگے کپڑے سجے سنورے لوگ بڑے بڑے گفٹس یہ سب کچھ اس کے لیے بہت نیا تھا۔ اس کے دل کی خوشی چہرے سے صاف نظر آرہی تھی۔

دوسری جانب ملیحہ ذرام کے ساتھ ولیمے کی دلہن بن کر سٹیج پر بیٹھی ہوئی تھی۔ گرے کلر جوڑا پہنے وہ چاند کی مانند چمک رہی تھی۔ ذرام بار بار شرارتی نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اس کی شرارتی نظروں کی ہر بات کو وہ سمجھ رہی تھی اور شرم و حیا سے لال ہو رہی تھی۔ چاروں طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔

“سیدھی شکل کر کے بیٹھ جاؤ… سٹیج پر ہو، کچھ تو شرم و حیا کر لو!”
ملیحہ نے سرگوشی کی۔

“نظریں اب تم سے ہٹ نہیں رہی… تو میں کیا کروں؟”
ذرام, نے چہرے پر مصنوعی معصومیت طاری کرتے ہوئے آہستگی سے جواب دیا۔

ملیحہ نے آنکھیں تنگ کرتے ہوئے اس کے بازو میں چٹکی کاٹی۔
“تم جیسے شوہروں پر پابندی لگنی چاہیے کہ اگر دلہن کی جانب دیکھا تو جرمانے کے ساتھ ساتھ قید بھی ہوگی۔”

“اگر دولہے کو سزا ملے اور بعد میں رہائی پر بیوی کی طرف سے بھاری انعام ملے تو پھر یہ سزا بھی خوشی خوشی دولہا قبول کر سکتا ہے!”

“تمہیں کچھ زیادہ ہی نہیں شرارتیں سوجھ رہی؟”
تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی تھی۔

“اب تو یہ شرارتیں زندگی بھر چلیں گی… بیوی جو بن گئی ہو اور ولیمے کے بعد حق جتانے کا پورا پورا حق بنتا ہے!”
ذرام نے ہنستے ہوئے آنکھ دبائی۔

“ویسے، تم کچھ زیادہ فری ہو رہے ہو، مجھے لگتا ہے تمہیں سبق سکھانا پڑے گا۔ بھول گئے ہو کہ میں، ملیحہ، ہوں… تم نے مجھے کچھ زیادہ ہی ہلکے میں لے لیا ہے اور ٹارچر کرنا شروع کر دیا ہے!”

“ٹچ نہیں کر رہا، اور جو کر رہا ہوں وہ تم سمجھ کر بھی نہیں سمجھنا چاہ رہی مگر جو تم گالوں پر سرخیاں چھوڑ رہی ہو، اُس کے بعد تم مجھے سبق سکھانے کے لائق نہیں رہیں، سپائسی چلی… مان لو اس بات کو۔”
دونوں سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے، اور فیصل تھوڑی دوری پر کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ بات کیا ہو رہی ہے، یہ اسے معلوم نہیں تھا، مگر یہ ضرور دیکھ رہا تھا کہ باتیں ہو رہی ہیں۔

وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا قریب آیا اور ذرام کے کان کے قریب ہو کر سرگوشی کی۔
“صبر رکھ لو بلی کے بکرے… مہمانوں کو بھی ذرا دیکھ لو۔ کب سے دیکھ رہا ہوں اپنی چونچ بھابھی کی چونچ کے ساتھ جوڑ کر بیٹھے ہو۔”

“کیوں؟ تمہیں جلن ہو رہی ہے؟”
ذرام نے بھی اس کے کان میں سرگوشی کی۔

“نہیں، مجھے کیوں جلن ہو؟”

“جلن تو ہو رہی ہے، بس دکھا نہیں رہے ہو۔”
” فنکشن ختم ہو لینے دے… پھر ملنا ذرا اکیلے میں، تمہارے دانت توڑنے ہیں۔”
ذرام نے گھور کر دیکھتے ہوئے کہا۔
دونوں سرگوشیوں میں ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے تھے، مگر انداز میں خالص شرارت گھلی ہوئی تھی۔

دانیا، اپنے دونوں بھائیوں کے ولیمے پر بہت خوبصورت تیار ہوئی تھی۔ ارمیزہ کا بازو تھامے، وہ خود مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہی تھی۔ مائد خان کی پوری فیملی ولیمے میں شرکت کے لیے آئی تھی۔ دانیا، پرپل کلر کے شفون کی بھاری فراک میں، سر پر سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے، نفیس میک اپ کے ساتھ جیسے ہی مائد خان کی نظروں سے ٹکرائی، دل زور سے دھڑکا اور لمحہ بھر کے لیے وہ بس جھوم سا اٹھا۔ دل تو دانیا کا بھی دھڑک گیا تھا، مگر اُس نے فوراً نظریں پھیر لیں اور آغا جان اور مورے سے ملنے لگی۔ درخزائی خوشی سے چہکتا ہوا، اُس کے لیے لایا گیا تحفہ تھما رہا تھا۔ مورے اور آغا جان نے اُسے شفقت سے گلے لگا کر پیار دیا۔ سب دانیا سے مل کر آگے بڑھنے لگے، سب سے آخر میں مائد خان تھا۔

“بہت پیاری لگ رہی ہو… صدقہ دے دوں گا، نظر اتار لیجیے گا…”
وہ یہ بات سرگوشی میں کہتے ہوئے پاس سے گزرا تھا۔
صرف دانیا نے یہ سنا، اور اُس کا دل زوروں سے دھڑک اٹھا، وہ ساکت رہ گئی جبکہ وہ آگے بڑھ کر سٹیج پر چلا گیا تھا، جہاں زیغم اور ذرام بیٹھے تھے۔ یہ ایک بہت ہی الگ سا احساس تھا… ایسا کہ جس سے اُسے پل بھر کو سانس لینا بھی بھول گیا تھا۔

“تھوڑا اور لیٹ آ جاتا، اتنی جلدی آنے کی کیا ضرورت تھی؟”
مائد سے ملتے ہی، زیغم نے شکوہ کیا۔

“سوری یار… اصل میں کچھ خاص لوگ زمینوں کا ایک ضروری مسئلہ لے کر آئے تھے، اُسی کو نپٹانے میں تھوڑی دیر ہو گئی۔ معاف کر دو، میں جانتا ہوں… سزا کا مستحق ہوں۔”
گفٹ تھماتے ہوئے مائد نے معذرت کی۔

“سزا تو ملے گی… کیونکہ معاف کرنے والا میں ہوں نہیں۔”
ذیغم نے غصہ اندر ہی اندر مضبوطی سے تھامے رکھا تھا۔

“یار… تیرے لیے جان حاضر ہے، سزا دے لینا، فی الحال اپنا موڈ ٹھیک رکھ۔”
مائد نے ہنستے ہوئے بات کو ٹال دیا تھا۔
ولیمے کا فنکشن باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا تھا اور کچھ ہی دیر میں کھانا بھی لگا دیا گیا۔ خوشیوں سے بھرے ماحول میں کھانوں کی خوشبوئیں مہکنے لگیں۔ توقیر کی فیملی میں سے یہاں کوئی بھی موجود نہ تھا، کیونکہ زیغم اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ لوگ تماشہ ہی کھڑا کریں گے۔ اسی لیے اس نے ملازمین کو کہہ کر اُنہیں حویلی کے اندر کمروں تک محدود کروا دیا تھا۔ کمرے لاک تھے، وہ چاہ کر بھی باہر نہ آ سکتے تھے… البتہ صرف سلمہ باہر آئی تھی، جو رنگ برنگے کھانوں کی خوشبو سونگھ سونگھ کر دیوانی سی ہو رہی تھی۔ ولیمے کی تقریب اپنے جوبن پر تھی… ہر طرف خوشبوئیں، چہل پہل، اور ہنستے چہروں کا ایک ہجوم سا لگا ہوا تھا۔ اسی ہجوم میں اچانک ایک دبلی پتلی، ماڈرن سی لڑکی، اونچی ہیلز پر ہچکولے کھاتی ہوئی، فیصل کے ساتھ چلتے ہوئے… نجانے کیسے، سیدھی جا ٹکرائی فیصل سے۔ فیصل نے ایک قدم پیچھے لے کر بمشکل خود کو سنبھالا ہی تھا کہ اس لڑکی نے ناک سکوڑتے ہوئے، اپنی بڑی بڑی عینک کے پیچھے سے تیز نظروں سے گھورا۔

“اتنے موٹے موٹے چشمے لگا رکھے ہیں، اگر یہ دیکھنے کے کام نہیں آتے تو انہیں اتار کر گھر پہ رکھ آنا چاہیے تھا!”
تلخی سے بھری ہوئی اس کی آواز صاف سنائی دی۔

فیصل نے بمشکل ہنسی دبائی۔
“بائی دا وے میڈم، آپ دیکھ کر نہیں چل رہیں تھیں۔ میں تو اپنی جگہ پر کھڑا تھا، آپ آ کر مجھ سے ٹکرائیں ہیں۔”
وہ اس کی ناک پر چڑھے غصے کو دیکھ کر ہنسا… کیونکہ یہ ماڈرن سی لگنے والی لڑکی، اُسے کہیں نہ کہیں بے حد غصیلی لگی۔

لڑکی نے ناک چڑھاتے ہوئے، پھر آنکھیں مٹکائیں۔
“آپ لوگوں کی یہی پرابلم ہے… کبھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے، اسی لیے پاکستان ترقی نہیں کر رہا!”

فیصل ہنسا۔
“او مائی گاڈ… تو آپ پاکستان کی ترقی کے لیے آئی ہیں؟”

“Are you thinking it’s a joke?”
نازک سی لڑکی نے فیصل کو گھور کر دیکھتے ہوئے ڈانٹنے والے انداز میں کہا تھا۔

“No no, not at all. Someone like you isn’t to be mocked you’re worth admiring, not joking about. I deeply appreciate beauty from the heart.”
فیصل کی بات سن کر بالوں کو جھٹکا دیتی ہوئی وہ اسٹیج کی جانب بڑھ گئی تھی۔ فیصل اس سے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے سوچنے پر مجبور تھا کہ یہ لڑکی کون ہے۔ جو بھی تھی غصے والی تھی مگر چیز پٹاخہ تھی۔
°°°°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *