Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:38

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر :38
°°°°°°°°°
“چلیے سرکار، آپ نے اگر میرے لیے میری پسند کا کھانا بنوا لیا ہے تو روم میں چلیں، اچھی طرح سے جانتی ہو کہ میرا ہی کمرہ مجھے تمہارے بغیر اچھا نہیں لگتا۔”
زیغم نے جان بوجھ کر مہرو کو محبت لٹاتی نظروں سے دیکھتے، بلند آواز میں کہا تھا تاکہ حمائل یہ سن لے۔ وہ حمائل کو بتانا چاہتا تھا کہ اس کی زندگی میں مہرو کی بہت خاص جگہ ہے، مہرو عام نہیں ہے جسے وہ اس طرح حقارت سے دیکھ سکتی ہے۔بحمائل کے سینے میں جلن کی آگ بھڑک رہی تھی، اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ زیغم اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے کی طرف لے جا رہا ہے مگر افسوس، وہ کر کچھ نہیں سکتی تھی، اس وقت تو بالکل بھی نہیں۔

“سکینہ! گیسٹ روم سیٹ کروا دو، یہ ہماری مہمان ہیں۔ ان کا خیال رکھیے اور کھانے پینے کا انتظام کیجیے۔”
دانیا نے سکینہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

“جی بی بی، میں ابھی کر دیتی ہوں۔”
سکینہ مؤدبانہ انداز میں کہتی ہوئی جانے لگی تھی۔

“بالکل بھی نہیں! مجھے گیسٹ روم میں نہیں رہنا۔ اپنے بھائی سے جا کر پوچھو، جب وہ ہمارے ساتھ امریکہ میں ہمارے گھر میں رہتا تھا تو کیا ہم نے اسے گیسٹ روم میں رکھا تھا؟”
“نہیں! گھر کا فرد بنا کر رکھا تھا، اور میں بھی گھر کا فرد بن کر رہوں گی۔ مجھے زیغم کے روم کے قریب ہی کوئی کمرہ چاہیے۔”
اس نے ایسے حکم دیا جیسے دانیا اس کی ملازم ہو۔ دانیا خاموش ہو گئی تھی، مگر سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے زیغم نے پلٹ کر دیکھا۔

“یہ جو بھی کہتی ہے مان لو۔ احسان ہے ان کا ہم پر، کیونکہ چاہے انہوں نے زبردستی ہی ہمیں اپنے گھر پر روکا تھا، مگر میں ان کے گھر میں ایک لمبے عرصے تک رہا ہوں، اور ہم لغاری خاندان کا خون ہیں، احسان نہیں رکھتے!”
“سکینہ! آپ میرے اور مہرو بی بی کے ساتھ والا کمرہ ان کے لیے ریڈی کروا دیں۔”
زیغم نے جاتے ہوئے پھر سے احساس دلایا تھا کہ صرف زیغم کا کمرہ نہیں، وہ کمرہ مہرالنساء کا بھی ہے۔

“جی بی بی جی آئیے، میں آپ کو آپ کا کمرہ دکھا دیتی ہوں۔”
سکینہ نے باادب انداز سے کہا اور ہینڈ کیری اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے سیڑھیوں پر چڑھنے لگی تھی۔ حمائل پھونک مارتی ہوئی سیڑھیوں پر قدم رکھ رہی تھی۔ اس کا بس چلتا تو ابھی اسی وقت اس معصوم سی مہرو کا گلا دبا دیتی جس کا ہاتھ زیغم سلطان کے ہاتھ میں تھا۔ وہ دونوں اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر چکے تھے، اور وہ غصے کی شدت سے تپتی ہوئی فلحال کے لیے کمرے میں ملازمہ کے ساتھ آ گئی۔ کمرہ کافی خوبصورت اور وسیع تھا۔ بے شک یہ خالی تھا، مگر گھر کے افراد کے لیے ہی بنایا گیا تھا۔ یہ وہی کمرہ تھا جہاں پر پہلے دن مہرالنساء آ کر اس حویلی میں رکی تھی۔ یہ بات تو ابھی تک حمائل نہیں جانتی تھی، ورنہ شاید اسی وقت اس کمرے کو بھی آگ لگا دیتی۔

“میں فریش ہو کر آتی ہوں، میرے لیے ایک گلاس اورنج جوس بنا کر دو، اس لڑکی کو دیکھ کر تو میرا بی پی لو ہونے لگا ہے۔”
وہ جاتے ہوئے حکم سکینہ پر تھوپتی ہوئی شاور لینے جا چکی تھی۔

“اللہ معاف کرے، آتے ہی حکم صادر کرنے شروع کر دیے۔ اللہ اس کو جلدی لے جانا ورنہ ہماری جان کا عذاب بھی نہ بن جائے۔”
سکینہ منہ مروڑتے ہوئے دل میں سوچ کر کمرے سے باہر نکلی تھی، کیونکہ اسے حمائل بالکل پسند نہیں آئی تھی۔ مہرو اس کے دل کے بہت قریب تھی اور وہ زیغم اور حمائل کے بیچ میں ہونے والی ساری بات سن چکی تھی۔ اس لیے سکینہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ لڑکی یہاں پر رکے مگر بیچاری سکینہ کے چاہنے سے کیا ہو سکتا تھا… اب تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا تھا کہ مہرو کے نصیب میں کیا لکھا ہے۔
°°°°°°°
گھر کے آنگن میں سبحان کی لاش رکھی جا چکی تھی۔ فضا میں گھٹن ہی گھٹن تھی۔ اس کی ماں روتے ہوئے لڑکھڑاتے قدموں سے لاش پر جھکی ہوئی تھی۔ آنچل کی شکنیں بکھر چکی تھیں، چہرے پر خاک اور لبوں پر دہائی تھی۔

“سبحان اُٹھ جا میرے بیٹے… میری سانسیں چل رہی ہیں، تُو کیوں سو گیا ہے؟”
“تیری جانے کی عمر نہ تھی…”
“میں نے تو تیرے سر پر سہرا سجانا تھا…”
“میرے کلیجے کا ٹکڑا ہے تُو…”
“میرا کلیجہ چیر کے تُو نہیں جا سکتا…”
“میں نہیں جانے دوں گی…”
“ہائے اللہ جی، مجھے صبر نہیں آ رہا…”
“اللہ مجھے صبر دے!”
اس کی ماں چھاتی پیٹ پیٹ کر چیخیں مار مار کر دہائیاں دے رہی تھی۔ دوسری جانب مونا، جو چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی، اپنے بھائی کی میت کے سینے پر سر رکھے تڑپ رہی تھی۔ آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں، لب کانپتے ہوئے بول رہے تھے:
“لالا… لالا، میں آپ کو نہیں جانے دوں گی…”
“اٹھ جائیں، ورنہ میری جان نکل جائے گی لالا!”

فضا میں بین تھے… درد تھا… آسمان سر پر درد کے بادل لیے جھکا ہوا تھا۔ عورتیں دھاڑیں مار رہی تھیں:
“ہائے سبحان! کس دشمنی میں مارا گیا؟”
“ہائے ربا! کیا دیکھنا باقی تھا؟”
کچھ قریبی خواتین اور محلے کی عورتیں آپس میں روتے ہوئے دہائیاں دے رہی تھیں۔ سبحان کے بقیہ پانچوں بھائی لاش کے گرد خاموش کھڑے تھے۔ آنکھیں خون سے بھری ہوئی تھیں، ہونٹ سلے ہوئے… ایک ایک نے مٹھی بھینچ رکھی تھی۔ دل میں قسم کھا لی تھی کہ: “مائد خان، اب تو بچ نہیں پائے گا… ہم تیرے وجود کا نام و نشان مٹا دیں گے!”

اسی لمحے مولوی کی آواز فضا میں گونجی:
“کلمہ شہادت پڑھو… کلمہ شہادت!”
چارپائی لائی جا چکی تھی، کفن اوڑھا دیا گیا۔ سبحان کی ماں لاش سے لپٹ گئی تھی۔

“مت لے جائیں… مت لے کر جائیں میرے سبحان کو… ورنہ مجھے بھی ساتھ دفن کر دو… میں اپنے بچے کے بغیر نہیں رہ سکوں گی!”
“سہرے سجانے کی عمر تھی…”
“اللہ! میں نے کیا دیکھ لیا… مر کیوں نہ گئی؟”
پانچواں بھائی چار قدم تھامے لڑکھڑاتے قدموں سے چل رہا تھا، آنکھوں میں طوفان لیے ہوئے۔

ایک بھائی زور سے چیخا:
“ہم نے وعدہ کیا ہے، سبحان!”
“تیرا لہو رائیگاں نہیں جائے گا!”
پیچھے عورتیں چھاتیاں پیٹ رہی تھیں۔ مونا بے ہوش ہو چکی تھی اور سبحان کی ماں اور بہن کو سنبھالنا محال تھا۔ صرف تڑپتی ہوئی صدائیں باقی تھی… درد… اور بدلے کی قسم۔ سبحان کے بھائیوں کی آنکھوں میں خون سوار تھا۔ ہواؤں کا رُخ بدل چکا تھا۔ فضا چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ اب خون کی ندیاں بہیں گی…
طوفان آئیں گے…
ایسی آندھیاں چلیں گی کہ قتل و غارت کی ہر حد ٹوٹ جائے گی۔ فضا میں چلتی ہواؤں کا رُخ صاف بتا رہا تھا کہ… ‘یہ لوگ مائد کو زندہ نہیں رہنے دیں گے!’
°°°°°°°°
“مہرو، میری طرف دیکھو… پریشان ہو؟”
زیغم نے آہستہ سے اس کے اداس چہرے پر ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر چہرہ اوپر کیا۔ لہجہ بے حد نرم تھا، نظروں میں محبت کی سرخیاں۔ وہ اس کے دل میں اٹھتے طوفان کو بخوبی سمجھ رہا تھا۔ مہرو بجھی بجھی نظریں، خاموش لب لیے، سب کچھ کہہ چکی تھی۔

“نہیں… میں پریشان نہیں ہوں۔”
معصوم سا جھوٹ، سادگی سے کہا گیا۔ انداز ایسا جیسے خود کو یقین دلا رہی ہو کہ وہ واقعی پریشان نہیں ہے۔

زیغم سلطان نے اس کے معصوم چہرے سے نظریں نہیں ہٹائیں، دونوں بازو سینے پر باندھے، سیدھی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے صاف گوئی سے پوچھا:
“کیوں پریشان نہیں ہو؟”
“ایک لڑکی آکر تمہارے شوہر پر حق جتا رہی ہے، اور تم کہتی ہو کہ تمہیں فرق نہیں پڑتا؟”
“یہ بات اچھی نہیں ہے مہرو!”
“تمہیں پریشان ہونا چاہیے۔ کوئی آ کر تمہاری قیمتی چیز پر حق جتائے اور تم خاموش رہو… یہ دانشمندی نہیں، بے وقوفی ہے!”
“میں تمہارا شوہر ہوں، اور کسی بھی دوسری عورت کو یہ حق نہیں کہ وہ میرے اوپر آ کر حق جتائے۔”
زیغم سلطان اُسے بار بار یہ احساس دلا رہا تھا… کہ وہ صرف مہرو کا ہے اور وہ اُسے سنبھال لے گا۔

“میں… میں کیا کہہ سکتی ہوں؟”
“وہ آپ کی اپنی ہے، آپ ان کے ساتھ رہتے تھے…”
مہرو نے نظریں چراتے ہوئے آہستہ سے کہا۔ اس کا لہجہ، اس کی بے بسی کا مکمل اظہار تھا۔ گلا خشک، حلق سے تھوک تک نہ اتر رہا تھا۔ مطلب واضح تھا… فرق تو اسے پڑ رہا ہے، مگر زیغم کے سامنے اپنے جذبات ظاہر کرنا… اس کے بس کی بات نہ تھی… نہ ہمت تھی، نہ عادت۔
معصوم مہرو کے لیے نہ حمائل اور زیغم کا رشتہ سمجھنا آسان تھا، نہ حمائل کی باتیں برداشت کرنا… اور نہ ہی اپنے دل کی کیفیت کسی کے سامنے کھولنا۔
وہ ایک الگ ہی دنیا کی لڑکی تھی مگر اس کی نم ہوتی آنکھیں، اس کے دل کی ساری داستان بغیر لفظوں کے سنا چکی تھیں۔

“میری اپنی صرف تم ہو!”
زیغم نے اسے کمر سے تھام کر قریب کیا، یقین دلانے کے لیے کہ وہ صرف اُسی کا ہے۔

“سُنا تم نے؟”
“میں صرف تمہارا ہوں، اور یہ بات میں کتنی بار کہوں مہرو؟”
“کیا میں تمہارے لیے اتنا فضول ہوں کہ تم مجھے آسانی سے چھوڑ دینے کے لیے تیار ہو جاتی ہو؟”
زیغم کی آنکھوں میں درد تھا… چبھن تھی۔ مہرو کا چہرہ نم تھا، وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ زیغم کی آواز پھر ابھری۔

“میں چاہتا ہوں کہ تم لڑو… اگر کوئی میری طرف دیکھے!”
“اور میں کسی اور کی طرف دیکھوں، تو تم جھپٹ کر مجھے نوچ لو!”
“پوچھو مجھ سے کہ جُرأت کیسے ہوئی، تمہارے ہوتے ہوئے میں کسی اور کو دیکھوں؟”

“نن…نہیں… نہیں سائیں!”
“ایسا کچھ نہیں… آپ تو میرے لیے بہت اہم ہیں…”
وہ تڑپ کر اس کے چہرے پر ہاتھ رکھنے لگی، لیکن زیغم نے نرمی سے اس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا، اور دور ہٹ گیا۔ آج پہلی بار… زیغم کی آنکھوں میں سچ میں دُکھ تھا۔
کیوں مہرو مجھ پر حق نہیں جتاتی…؟
کیوں نہیں پوچھتی کہ وہ لڑکی کون ہے…؟
کہاں سے آئی ہے…؟
میرا اور اس کا کیا رشتہ ہے…؟
اس کا دل چاہتا تھا کہ مہرو سب کچھ پوچھے… ایک بیوی بن کر!

“مجھے ابھی کوئی بات نہیں کرنی!”
زیغم واش روم کی طرف بڑھ گیا… کیونکہ وہی ایک جگہ تھی جہاں جا کر وہ اپنے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر اپنے غصے اور درد کو کم کر سکتا تھا۔ دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا، دروازہ بند ہی کرنے والا تھا کہ مہرو، دروازے پر ہاتھ رکھے اس کے ساتھ اندر آ چکی تھی۔ زیغم نے حیرت سے اُسے دیکھا…

“سائیں ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟”
“مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ میں آپ کی بیوی ہوں… اور آپ مجھے ایسے… وہ… آپ کی زبان میں کیا کہتے ہیں… اگر… نور… اگنور نہیں کر سکتے!”
زیغم کے لب مسکرا اُٹھے۔ ایک تو مہرو نے پہلی بار انگلش لفظ ٹھیک بول دیا تھا، دوسرا، پرفیکٹ وقت پر، اور تیسرا… وہ ہمت کر کے اس کے پیچھے واش روم تک آ چکی تھی!

“ہنسیے مت، میں بےوقوف نہیں ہوں!”
“مہرو کو آپ کی دنیا کی چیزیں سمجھ نہیں آتیں، مگر مہرو بےوقوف نہیں ہے!”

“تو میں نے کب کہا کہ میری مہرو بےوقوف ہے؟”
“میں تو کہتا ہوں… میری مہرو خود ہی اپنے آپ کو فضول سمجھ کر مجھ پر حق جتانا چھوڑ دیتی ہے…”

“اب سے جتاؤں گی… لیکن آپ نے مجھے ڈانٹنا نہیں ہے!”

“خدا کی قسم… کبھی حق جتاؤ تو سہی… قربان نہ ہو جاؤں اُس لمحے پر!”
زیغم نے جھٹکے سے مہرو کو قریب کرتے ہوئے گھما کر دیوار سے لگا دیا… وہ اس کی سانسوں سے زیادہ قریب تھا۔ اس کی گرم سانسیں مہرو کی گردن اور چہرے کو جلا رہی تھیں۔ مہرو سہم کر، آنکھیں بند کر گئی۔

“حق جتاؤ… پورے حق سے مجھ پر…”
“میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں…”
وہ سرگوشی کرتا، مہرو کی گردن میں اپنا چہرہ چھپانے لگا۔ اس کے ہونٹوں کی جنبش مہرو کی جلد کو جلا رہی تھی… وہ گہری سانسیں لیتی، اپنے کندھے پر زیغم کے سختی سے جمنے والے ناخنوں کو سہتے اپنے حواسوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مہرو خاموش تھی… اور زیغم اُس خاموشی کو اپنی دھڑکن سے پُر کر رہا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دونوں کے درمیان کوئی لفظ باقی نہیں رہا، صرف جذبے رہ گئے ہوں… محبت کی وہ نرمی، جو سروں کے جھکنے سے، سانسوں کے ملنے تک پہنچتی ہے۔ زیغم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما، نرمی سے، جیسے کسی نازک دعا کو چھو رہا ہو۔ اپنی نگاہوں سے اُس پر اپنی چاہت لکھنے لگا، ایسی چاہت جو بولی نہیں جاتی، صرف محسوس کی جاتی ہے۔
مہرو کی پلکیں لرزیں، زیغم کے لمس نے اُسے اپنے اندر جذب کرنا شروع کر دیا، نہ کوئی عجلت، نہ کوئی تقاضا، بس ایک مکمل سکون… جیسے وقت تھم گیا ہو، اور صرف دلوں کی صدا باقی رہ گئی ہو۔
ہر جذبہ، ہر قربت، محبت کی اجازت سے لبریز تھا۔ زیغم کے انداز میں حاکمیت نہیں، رفاقت بول رہی تھی… وہ محبت جو خود کو روک کر، حدود کے دائرے میں اپنا رنگ جماتی ہے۔ یہ رشتہ… جو کچھ لمحے پہلے صرف لفظوں میں جڑا تھا، اب جذبوں کے لمس سے مکمل ہو چکا تھا۔ کوئی چیخ نہیں، کوئی ہچکی نہیں… بس پلکوں کی باڑ سے گرتے چند نم قطرے، جنہیں زیغم نے خاموشی سے چُنا اور محبت کی مہک میں جذب کر لیا۔

زیغم نے اس کے ماتھے کو چھو کر اپنے دل کا یقین اس میں اتارا، اور سرگوشی کی۔
“اب ہم ایک ہیں… جیسے دل کی دھڑکن اور سانس، الگ ہو ہی نہیں سکتے۔”
مہرو نے جواب نہیں دیا۔ جذبات کا شور تھم چکا تھا… سانسیں معمول پر تھیں مگر دل کی دھڑکنیں اب بھی زیغم کی محبت کا ورد کر رہی تھی۔ مہرو اُس کے سینے سے لگی، خاموش تھی… مگر زیغم کے اندر جیسے کئی کہانیاں ہلچل مچا رہی تھیں۔ جنہیں وہ آج لفظوں کا پیراہن دینے لگا۔

“مہرو… میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں!”
“اور چاہتا ہوں یہ بات تمہارے دل کی دیوار پر کندہ ہو جائے، کبھی اگر میں تم سے دور ہو بھی جاؤں… تو میری محبت کے اس لمس کو، اس احساس کو، اپنے سینے میں قید رکھنا!”
زیغم کی آواز میں تھکن تھی، مگر جذبوں کی شدت آج بھی ویسی ہی تھی۔ پُراثر، بےساختہ، بےپناہ۔

“تم میری ہو مہرو… میری اور صرف میری!”
“کبھی تم پر کوئی نظر ڈالے تو… میں اس نظر کو نوچ ڈالوں گا!”
“اتنی شدت سے تمہیں چاہا ہے… کہ اگر تم نہ رہیں تو شاید زیغم بھی باقی نہ رہے!”
وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا… جیسے ہر لفظ کے ساتھ کوئی دعا باندھ رہا ہو۔

“اور اگر کبھی میں نہ رہوں… تو تم پر یہ فرض ہوگا کہ تم خود کو ختم نہیں کرو، نہ جسمانی طور پر، نہ روحانی طور پر…”
“بلکہ جیو، مضبوط بنو… مگر وہ وفا نہ ٹوٹے جو ہماری رب سے جڑی ہے۔ وفا کا رشتہ ہمیشہ قائم رہنا چاہیے اور دل میں ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ تم صرف زیغم سلطان کی ہو!”
مہرو کی پلکیں نم تھیں… وہ ہر لفظ سن رہی تھی، کچھ دل میں اتار رہی تھی، کچھ ابھی سمجھنے سے قاصر تھی۔ وہ کم پڑھی لکھی، معصوم سی لڑکی تھی… اور زیغم… پڑھا لکھا، باشعور… مگر محبت کی زبان نہ تعلیم دیکھتی ہے، نہ حیثیت، وہ دل سے دل تک پہنچتی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب زیغم، مہرو کو خود میں سمیٹے ہوئے محبت کی بارش کے تھمنے کے بعد کچھ لمحوں کی گرمی میں… کچھ کہہ رہا تھا، کچھ سمجھا رہا تھا… اور مہرو… کبھی اس کے لفظوں کو سمجھ رہی تھی، کبھی صرف اس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی۔ یہی محبت تھی… جو اگر لفظوں میں نہ بھی سمجھ آئے، تب بھی دل کی دنیا میں اپنا گھر بنا لیتی ہے۔

“سائیں… آپ مجھے کیوں ڈرانے والی باتیں کر رہے ہیں؟”
مہرو کی پلکیں لرزیں، آواز میں بےساختہ گھبراہٹ اور نرمی تھی۔

“آپ کی یہ بڑی بڑی باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔”
زیغم کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ وہ اس کی معصومیت پر قربان ہو گیا۔

“آ جائیں گی، مہرو…”
“بس تم ان باتوں کو اپنے دل کے کسی کونے میں سمیٹ کر رکھ لو۔ کبھی بھولنا مت… کبھی نہیں۔”
وہ نرمی سے جھکا، محبت اور احترام سے اس کے ماتھے پر لب رکھے… جیسے رشتے کے مکمل ہو جانے پر شکر ادا کر رہا ہو۔
پھر یکدم سنجیدگی سے اٹھا کیونکہ وہ بھول چکا تھا کہ اس وقت سبحان کے بندے اور اس کے بھائی مائد کی جان کے دشمن بنے گھوم رہے ہیں اور اسے ہر حال میں اپنے یار اور اس کی فیملی کو پروٹیکٹ کرنا ہے۔

“مہرو، جلدی سے تیار ہو جاؤ، مجھے تمہیں کہیں لے کر جانا ہے۔”

“کہاں جانا ہے؟”
اس نے حیرانی سے پوچھا، نظریں چراتے ہوئے۔

زیغم نے اسے دیکھتے ہوئے شرارتی انداز اپنایا۔
“یہ تو میں تمہیں وہاں جا کر ہی بتاؤں گا… بس سمجھ لو، یہ ایک سرپرائز ہے۔”
محبت بھری نظروں سے اس کے شرمائے چہرے کو دیکھا، اور فریش ہونے کے لیے چلا گیا۔
کچھ ہی دیر میں زیغم تیار ہو کر دانیا سے ملنے کے لیے باہر نکل گیا، اور مہرو بھی خاموشی سے اٹھ کر تیاری میں لگ گئی۔ آج اس کے چہرے کی لالی کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھی… ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے دل کی گہرائی سے زیغم سلطان کے ساتھ بندھے اس رشتے کو تسلیم کر لیا ہو۔ محبت کے رنگ اب چہرے پر کھلنے لگے تھے… اور نظریں ہر شے سے چھپاتی، خود ہی گواہی دے رہی تھیں کہ مہرو، آج مکمل ہو چکی تھی۔
°°°°°°°°°°
زیغم، دانیا اور مہرو ایک گاڑی میں جا رہے تھے، جبکہ دوسری گاڑی میں ملیحہ، زرام۔
“زیغم بھائی، ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
دانیا نے اب تیسری بار وہی سوال دہرایا تھا۔ اس کے لہجے میں پہلے سے کہیں زیادہ تجسس اور بے چینی تھی۔

مگر زیغم کا جواب اب بھی وہی تھا، ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ۔
“سرپرائز ہے… وہاں چل کر پتہ چل جائے گا۔”

“بھائی، ایسا بھی کیا سرپرائز ہے جو آپ بتا نہیں رہے؟”
“مجھے تو ٹینشن ہو رہی ہے… پلیز، بتائیں نا!”
دانیا کا تجسس اب بے چینی میں بدل رہا تھا۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سی معصومیت اور بےتابی جھلک رہی تھی۔

“بس پہنچنے والے ہیں اس کے بعد پتہ چل جائے گا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں!”
زیغم نے سنجیدگی سے کہا تھا۔
مہرو خاموشی سے سب کچھ سن رہی تھی۔ اس کے چہرے پر اس وقت شرم و حیا کے رنگ پھیلے ہوئے تھے۔ وہ زیغم سے نظریں چرا رہی تھی۔ جیسے دل میں جذباتوں کو چھپا رہی ہو، مگر چہرے کی روشنی اور سرخیاں ہر بات عیاں کر رہی تھی۔ جو باقی سب تو نہیں سمجھ سکتے تھے مگر زیغم تو اچھی طرح سے سمجھ رہا تھا کہ یہ سرخیاں چہرے پر کیوں پھیلی ہوئی ہیں۔ پچھلی سیٹ پر ارمیزہ، جو اپنے ٹیب پر گیم کھیلنے میں مگن تھی، دانیا کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کا دھیان گفتگو میں کم اور گیم میں زیادہ تھا، مگر گاڑی کا ماحول بہرحال کچھ خاص بدل چکا تھا۔ انجان سے، نئے سے راستے پر گاڑی رواں دواں تھی۔ باہر کا منظر بھی کچھ اجنبی سا لگ رہا تھا، وہ کسی خاص مقام کی جانب بڑھ رہے تھے، جہاں ہر قدم ایک نئی حقیقت کی طرف لے جا رہا تھا۔ سڑک کے دونوں جانب درختوں کی قطاریں خاموشی سے ان کا گزر دیکھ رہی تھیں، ہوا میں ہلکی سی نمی اور سنسنی تھی، جیسے وقت خود بھی انتظار کر رہا ہو کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ ان کی گاڑی کے پیچھے زیغم کے خاص سیکیورٹی انتظام والی گاڑیاں بھی رواں دواں تھیں۔ ہر گاڑی میں مکمل مسلح افراد، چوکنے اور الرٹ… جیسے کسی مشن پر نکلے ہوں۔
زیغم کی نظریں مسلسل سامنے تھیں، اس کے چہرے پر سنجیدگی، مگر اندر کہیں سکون بھی تھا۔ ان کے پیچھے ہی ذرام اور ملیحہ کی گاڑی بھی آرہی تھی۔ دانیا اب خاموش ہو چکی تھی، شاید منظر اور فضا نے اسے بھی متوجہ کر لیا تھا۔ اور مہرو… اب بھی نظریں جھکائے، خاموش، اپنے دل کی دھڑکنوں کے شور میں گم تھی۔
گاڑی اپنی منزل پر آ کر رک گئی تھی۔ ایک کافی بڑی حویلی نما عمارت تھی جو گاؤں سے کافی ہٹ کر بنائی گئی تھی، مگر ارد گرد کا ماحول خوشگوار تھا۔ سبزہ ہی سبزہ تھا، اور فضا میں ایک عجیب سی سکونت اور تازگی تھی۔ گاڑی جیسے ہی گیٹ کے سامنے رکی، فوراً ہی گیٹ کھول دیے گئے تھے، اور گاڑی اندر تک پہنچ گئی۔ مہرو، ارمیزہ اور دانیا تینوں حیرانی سے نیچے اُتر کر خاموشی سے زیغم کے ساتھ چلنے لگیں۔ وہاں پر کھڑے ہوئے ملازمین نے نظریں جھکا رکھی تھیں، جو ظاہر کرتا تھا کہ وہاں پر زیغم کو سب جانتے تھے لیکن ماحول کافی سنجیدہ سا تھا، خاص کر گھر کی عورتوں کے لیے تو یہ کچھ ڈرا دینے والا تھا، کیونکہ وہاں پر زیادہ تر مرد حضرات ہی نظر آ رہے تھے، کچھ سیکیورٹی گارڈز اور گیٹ پر کھڑا چوکیدار بھی… زیغم کے ساتھ چلتے ہوئے اندر داخل ہو گئے تھے۔
اندر سے حویلی کافی خوبصورت تھی، جیسے جس نے بھی یہ بنائی تھی، وہ دل سے اس پر محنت کر کے گیا تھا۔ دانیا اور مہرو چاروں اطراف میں دیکھ کر حیران ہو رہی تھیں کہ یہ کس کا گھر ہے؟ مگر اصل حیرانی انہیں تب ہوئی جب انہوں نے آغا جان، مورے اور درخزائی کو وہاں پر دیکھا۔ انھیں بالکل سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہاں کیا ہونے والا ہے۔ حیران تھیں کہ سب لوگ یہاں پر اکٹھے کیوں ہیں۔ انجان سی جگہ تھی۔ سب کے چہرے پر پر اسرار سی خاموشی تھی۔ رسمی سلام دعا کے بعد مہرو ان کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی، جبکہ زیغم نے دانیا کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“دانیا بیٹا، تم میرے ساتھ آؤ، مجھے تم سے بات کرنی ہے۔”
دانیا نے حیرانی سے زیغم کی طرف دیکھا، جیسے وہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ بھائی نے ایسی کیا بات کرنی ہے جو اسے الگ لے جا رہے ہیں، مگر بغیر کسی سوال کے خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑی۔ زیغم نے کمرے میں آ کر دروازہ بند کر دیا۔

“بھائی مجھے ڈر لگ رہا ہے… کیا بات ہے جو آپ اتنی پرائیویسی میں آ کر کرنا چاہتے ہیں؟”
“اور ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟”
“میرا اب بھی یہی سوال ہے… پلیز بھائی، جواب دیں نا… میرا دل بند ہو رہا ہے!”
دانیا نے ایک ہی سانس میں گھبرا کر کئی سوال کر ڈالے تھے۔ اس کی آواز میں لرزش تھی، آنکھوں میں بے چینی تھی۔

“گھبرانے کی ضرورت نہیں، تمہارا بھائی ہے ساتھ میں…”
زیغم نے نرمی سے کہا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا۔
دانیا وہیں پاس رکھے سنگل صوفے پر بیٹھ گئی۔ ساتھ والے صوفے پر زیغم بیٹھ چکا تھا، چہرے پر گہری سنجیدگی تھی مگر لہجے میں خاص شفقت چھپی تھی۔ کمرے کی فضا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی… زیغم کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ جو ادا ہو کر، کوئی بڑا موڑ لینے والا تھا۔ دانیا کی نظریں مسلسل زیغم پر جمی تھیں، دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ اس کا دل عجیب سی گھبراہٹ کا شکار تھا۔

“دانیا بیٹا… میں جانتا ہوں کہ جو کچھ میں کہنے والا ہوں، وہ نہ تمہارے لیے سننا آسان ہے، نہ میرے لیے کہنا…”
زیغم کا لہجہ پرسکون مگر گہرا تھا۔ آنکھوں میں ایک ایسا عکس جو برسوں کی ذمہ داریوں کا بوجھ لیے ہوئے تھا۔

“میں تمہارا بڑا بھائی ہوں… تمہارا بابا سائیں بھی، اماں سائیں بھی… سب کچھ میں ہی ہوں تمہارا، تو میں جو کچھ کہوں گا… اُس کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔ میرے پیار پر، میرے اخلاص پر شک مت کرنا، دانیا…”
زیغم نے نرمی سے، مگر بھرپور احساس کے ساتھ اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
دانیا حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے بھائی کی باتوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی، ایک گہرائی تھی جو وہ کم ہی محسوس کرتی تھی۔ وہ الجھ کر رہ گئی تھی۔ دل میں خوف بڑھ رہا تھا، مگر وہ خاموشی سے سن رہی تھی۔ اس کا بھائی تنوید باندھ کر کچھ کہہ رہا تھا، جیسے کوئی ایسا بوجھ اُتارنے جا رہا ہو جو برسوں سے دل پر رکھا ہو… یا شاید کوئی ایسا فیصلہ سنانے جا رہا ہو جس کے بعد زندگی ویسی نہ رہے مگر جو بھی تھا دانیا کو اندر سے جھنجوڑ گیا تھا۔

“بھائی… آپ کو جو بھی کہنا ہے، پلیز کہہ دیں… سسپنس مت بڑھائیں، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”
وہ گھبرا گئی تھی، آواز میں کپکپاہٹ اور چہرے پر حیرانی کا رنگ صاف جھلک رہا تھا۔ زیغم نے خاموشی سے نظریں اٹھائیں اور براہِ راست اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

“میں نے فیصلہ کیا ہے کہ… آج ہی… ابھی… اسی وقت… تمہارا نکاح مائد خان سے ہوگا۔”
یہ الفاظ دانیا پر قیامت بن کر گرے۔ جیسے کسی نے اسے بلندی سے دھکا دے دیا ہو۔ جیسے زمین اس کے قدموں سے کھسک گئی ہو۔ وہ سکتے میں آ گئی تھی۔ پلکیں جھپکنا بھی بھول گئی تھی۔ پھر یکدم وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی، جیسے خود کو سنبھالنا اس کے بس میں نہ رہا ہو۔

“ایسا نہیں ہو سکتا بھائی!”
اس کی آواز کانپ رہی تھی، وجود لرز رہا تھا۔

“دانیا… پلیز، جذباتی مت ہونا۔ پہلے میری بات سن لو…”
زیغم نے تحمل سے کہا، مگر وہ رکنے کو تیار نہ تھی۔

“نہیں بھائی! مجھے کوئی بات نہیں سننی!”
اس کے لہجے میں شدت، دکھ اور بغاوت سب کچھ تھا۔

“آپ مجھ پر ایک زبردستی کا رشتہ نہیں تھوپ سکتے!”
“دانیا نے بہت سال… بہت سال ایک زبردستی کے رشتے کو نبھایا ہے!”
“اور شاید آپ بھول گئے ہیں… اس رشتے سے مجھے آزاد کروانے والے… آپ ہی تھے!”
“اگر آپ نے مجھے پھر سے ایک زبردستی کے بندھن میں باندھنا تھا… تو کیا ضرورت تھی مجھے اس پہلے رشتے سے نکالنے کی؟”
اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ شدتِ جذبات سے اس کے رخسار بھیگ گئے۔ دل کی ساری بھڑاس الفاظ میں نکل رہی تھی، اور اس کا پورا وجود لرز رہا تھا۔

“میں تمہیں زبردستی اس رشتے میں نہیں باندھ رہا… میری بات تو سنو۔”
زیغم نے نرمی سے اس کے قریب ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

“تو کیا کر رہے ہیں بھائی؟”
وہ یکدم پیچھے ہوئی، آنکھیں سرخ تھیں، لب لرز رہے تھے۔

“آپ کو لگتا ہے آپ میری رائے پوچھ رہے ہیں؟”
“نہیں بھائی! آپ تو بس اپنا فیصلہ سنا رہے ہیں!”
اس کے لہجے میں دکھ تھا، احتجاج تھا، اور بےبسی۔

“آپ نے خود کہا ابھی، اسی وقت، میرا نکاح مائد خان سے ہوگا… تو یہ رائے لینا نہیں، صرف فیصلہ تھوپنا ہے!”
وہ روتے ہوئے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی، اور اس کا ہر آنسو اس کے اندر کا حال سنا رہا تھا۔ زیغم کی آنکھوں میں بھی بوجھ سا اتر آیا۔ وہ ایسا کبھی نہیں چاہتا تھا مگر نہ چاہتے ہوئے وہ اپنی بہن کے آنسوؤں کی وجہ بن گیا تھا۔

“دانیا کبھی کبھی حالات انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔ کسی کے سکھ کی وجہ بنتے ہوئے انسان کسی کے آنسوؤں کا سبب بن جاتا ہے۔اس وقت بھی کچھ ایسا ہی ہو گیا ہے… کہ مجھے تمہاری مرضی جانے بغیر یہ فیصلہ لینا پڑا۔ ورنہ میں تو… آرام سے تمہارے فیصلے کا انتظار کرتا۔”

“جی بھائی!”
وہ طنز بھری تکلیف سے بولی:
“میرے لیے تو ہمیشہ سب کچھ اچانک ہی ہوتا ہے… کبھی آپ، کبھی ابا سائیں آ جاتے ہیں… اور بس ایک حکم سنا دیا جاتا ہے… دانیا کا نکاح ہے… دانیا کو پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟”
“وہ تو بھیڑ بکری ہے… اس کے پاس دماغ نہیں، دل نہیں، احساس نہیں!”
“بس ایک اطلاع دے دی جاتی ہے کہ اب اس کی زندگی کا مالک کون ہوگا!”
اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو، رخساروں کو بھگوتے جا رہے تھے۔ وہ رو رہی تھی، مگر صرف آنکھوں سے نہیں… وہ اندر سے چیخ رہی تھی۔ زیغم نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ دانیا کے ہر لفظ نے اسے اندر تک ہلا دیا تھا۔ اسے آہستگی سے اپنے ساتھ لگا کر صوفے پر بٹھا دیا اور خود… زمین پر بیٹھ گیا تھا۔ سر جھکا کر، نظریں نیچی کر کے، اپنی ہی بہن کے سامنے مجرم کی طرح بیٹھا تھا۔

“کیا گزرے وقت کے لیے… ابا سائیں کو اور مجھے… معاف نہیں کر سکتی؟”
اس کی آواز مدھم تھی، ٹوٹتی ہوئی۔ نظروں میں شرمندگی تھی۔

دانیا نے پلکیں بھگو کر نظریں چرا لیں۔
“کیا آج میرے انکار پر… آپ مجھے معاف نہیں کر سکتے؟”

“دانیا… اس نکاح سے… کسی کی زندگی بچ سکتی ہے۔”
زیغم آہستہ سے بولا۔

دانیا نے زخمی خوردہ ہنسی ہنس کر، آنسوں سے بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“اچھا… تو اب بات سمجھ میں آئی… آپ اپنی بہن کو بلی کا بکرا بنا کر، کسی کی زندگی بچا رہے ہیں؟”
اس کے الفاظ میں شکوہ بھی تھا اور ٹوٹ پھوٹ کی تڑپ بھی۔

“آج ایک بار پھر… دانیا اسی مقام پر آ کھڑی ہوئی ہے، جہاں سے آپ نے خود آ کر مجھے نکالا تھا۔ مت نکالتے بھائی!”
“مجھے جلنے دیتے اسی آگ میں… کم سے کم مجھے جلانے کے لیے نئے ایندھن کا انتظام تو نہ کرنا پڑتا!”
اس کے لہجے میں اتنا درد تھا کہ زیغم سلطان کو اپنا کلیجہ پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ آنکھیں چرا بھی نہیں سکا، کیونکہ دانیا کی ایک ایک بات… ایک ایک آنسو… اس کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہا تھا۔ وہ جو کبھی اپنی بہن کا اچھا محافظ نہیں بن سکا تھا، آج ایک بار پھر خود کو ایک بےبس بھائی محسوس کر رہا تھا… ایسا بھائی، جو اس کی راہوں سے ماضی میں بھی کانٹے ہٹا نہ سکا تھا اور آج بھی نہ چاہتے ہوئے اس کی درد کی وجہ بن گیا۔ ایسا بھائی، جس کی موجودگی کے باوجود اس کی بہن نے سالوں تک جہنم جیسی زندگی گزاری۔
وہ لمحہ لمحہ یاد آ رہا تھا… دانیا کی وہ خالی آنکھیں… وہ خاموشیاں… وہ بےآواز چیخیں… وہی چیخیں آج الفاظ بن کر اس کے سامنے آ گئیں تھیں اور ہر لفظ… ہر شکوہ… زیغم کے اندر موجود غیرت، محبت، اور پچھتاوے کو نوچ رہا تھا۔
وہ کچھ دیر یونہی خاموش رہا… سانس لینا بھی بوجھ لگ رہا تھا۔ پھر گہری سانس لے کر آنکھیں بند کر لیں، جیسے خود سے نظریں چرا رہا تھا۔ دل ہی دل میں اس نے خود سے کہا: ‘زیغم سلطان… تُو ہار گیا آج… ایک بھائی ہونے کے ناتے، تُو بہت پیچھے رہ گیا۔’ مگر پھر خود میں ہمت جمع کرتے ہوئے۔ خود کو ہی یہ یقین دلایا کہ وہ اپنی بہن کی خوشیاں وقت سے چھین لائے گا۔ گہری سانس لے کر اس نے لبوں سے سانس کو آہستگی سے خارج کیا، جیسے سینے میں دبا سارا دکھ نکال رہا ہو۔ نرمی سے ہاتھ بڑھایا… اور دانیا کے رخساروں پر بہتے آنسو شفقت سے صاف کیے۔ اس کے لمس میں وہی مان تھا جو برسوں پہلے ابا سائیں کے لمس میں محسوس ہوتا تھا۔

“دانیا… آج تم رو لو… جتنا رونا ہے، رو لو… جتنے آنسو بہانے ہیں، بہا لو… جتنا اپنے بھائی پر غصہ نکالنا ہے، نکال لو… مگر یہ نکاح ہو کر رہے گا۔”
اس کی آواز میں نہ سختی تھی، نہ ضد… بس ایک باپ جیسا فیصلہ تھا۔

“جانتی ہو کیوں؟”
“کیونکہ ابا سائیں کہا کرتے تھے… کہ کبھی کبھی اپنے بچے کو زندگی دینے کے لیے، اُس کی صحت کے لیے، کڑوا، زہر جیسا شربت بھی پلانا پڑتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ماں باپ اپنے بچوں سے نفرت کر رہے ہوتے ہیں… وہ صرف ان کی زندگی بہتر کر رہے ہوتے ہیں۔”
زیغم کی نظریں ٹوٹتی بہن کے چہرے پر جمی تھیں، اور وہ الفاظ نہیں، اپنے دل کا بوجھ اتار رہا تھا۔

“آج میں بھی تمہاری زندگی میں ہر غلط چیز کو ٹھیک کرنے کے لیے تمہیں یہ کڑوا شربت پلا رہا ہوں۔ اس رشتے کو تم زہر سمجھ کر ہی سہی… پر قبول کر لو۔ انشاءاللہ… آنے والا وقت بہت کچھ بہتر کر دے گا۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے خود کو مضبوط کیا… کیونکہ اسے معلوم تھا، اگر وہ کمزور پڑا… تو دانیا کا آنے والا کل اندھیرے میں ڈوب جائے گا اور وہ اپنی بہن کو دوبارہ اس تاریکی میں نہیں دھکیل سکتا تھا۔ جن اندھیروں سے اس نے اپنی بہن کو بڑی مشکل سے نکالا تھا۔

“آپ… آپ میرے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں!”
وہ دل برداشتہ ہو کر، ٹوٹے ہوئے لہجے میں رو دی تھی۔

“میں شادی نہیں کرنا چاہتی… کسی سے بھی نہیں کرنا چاہتی!”
“مجھے نفرت ہے اس لفظ سے… اس نام سے!”
اس کی آواز میں وہ تمام زخم بول رہے تھے جو برسوں سے سینے میں دفن تھے۔

“آپ میرے ساتھ یہ مت کریں… اگر حکم سنانا ہے تو کہہ دیجئے کہ دانیا… تم یہ زہر سے بھرا پیالہ پی لو!”
“دانیا اف نہیں کرے گی۔”
وہ بےبسی سے رو رہی تھی… دل میں برسوں سے جو زخم ناسور بن چکے تھے ان سے خون بہنے لگا تھا۔ درد کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کا تڑپ کر رونا زیغم کے کلیجے کو خون میں ڈبو رہا تھا مگر وہ خاموش تھا۔

” دانیا اپنے بھائی پر قربان ہو جائے گی… آپ کے فیصلے کو کبھی رد نہیں کروں گی بھائی… دانیا میں تو اتنی ہمت ہی نہیں تھی… نہ کل نہ آج، کہ میں آپ کے فیصلوں کو رد کر سکوں۔”
اس کی سسکیاں کمرے کی خاموشی میں گونج رہی تھیں۔

“اگر ابا سائیں کے فیصلوں کو رد کر سکتی… تو سالوں پہلے شہرام نام کا زہر نہ پیتی… اور آج، آج ایک بار پھر سے آپ مجھ سے وہی سب کروا رہے ہیں۔”
اس کی آنکھیں سوجنے لگی تھیں، چہرہ آنسوؤں سے تر… اور دل چھلنی۔

“کیوں کر رہے ہیں؟”
“کیوں مجھ سے یہ دشمنی نبھا رہے ہیں؟”
وہ پوچھ رہی تھی، اپنے بھائی سے… اپنی تقدیر سے۔ اس نے چھوٹی سی عمر میں اتنے دکھ دیکھ لیے تھے کہ اب اسے ہر چیز سے خوف آنے لگا تھا۔

“اس فیصلے… اور اُس فیصلے میں فرق ہے، دانیا!”
زیغم کی آواز میں وہ شدت تھی۔ جس میں برسوں کا پچھتاوا نظر آ رہا تھا۔

“شہرام… انسان نہیں تھا، حیوان تھا۔ جس نے میری بہن کو… کانٹوں پر روند دیا… میری معصوم بہن کی خوشیوں کا، جذباتوں کا، معصومیت کا گلا گھونٹ دیا…”
لفظوں کے ساتھ آنکھیں بھی نم ہو چکی تھیں۔

“بدقسمتی سے ابا سائیں… اس کی فطرت سمجھ نہ سکے تھے اور… ابا سائیں کے ہر حکم کے سامنے میں مجبور تھا۔”
اس نے نظریں جھکائیں، جیسے اپنی ہی نظروں سے بچنا چاہتا ہو۔

“اور جس طرح کے حالات ہو گئے تھے، اُس وقت… تم غلط نظر آ رہی تھی۔ میں معافی مانگتا ہوں… اُن سب حالات کے لیے، جس میں میں نے تمہیں غلط سمجھا۔”
اس نے آگے بڑھ کر دانیا کا ہاتھ تھام لیا، اس کی آنکھوں میں ندامت کے سائے لرز رہے تھے۔

“مجھے پوری زندگی… یہ دکھ رہے گا کہ میں نے اپنی بہن پر بھروسہ نہیں کیا… اور ان دشمنوں کی چال میں پھنس گیا۔”
کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔

“مگر آج… آج اس فیصلے میں فرق ہے، دانیا!”
نرمی سے مگر پورے یقین سے کہا۔

“مائد خان… تمہیں ہمیشہ پلکوں پر بٹھا کر رکھے گا۔ وہ… تمہیں کبھی زندگی میں کوئی دکھ نہیں دے گا۔”
زیغم کی آنکھوں میں اعتماد تھا، یقین کی چمک تھی۔

“اس کی ضمانت میں خود لیتا ہوں۔”

“سب تیاریاں ہو چکی ہیں… میں زبان دے چکا ہوں۔”
زیغم کی آواز میں ایک عجیب سی لرزش تھی، جیسے وہ ٹوٹ رہا تھا۔

“اپنے بھائی کی زبان کی خاطر… نکاح تو تمہیں کرنا پڑے گا، دانیا!”
وہ ٹوٹا، بکھرا، بے بس بھائی آج اپنی بہن کے سامنے کھڑا تھا۔ اسے خود پر شرمندگی ہو رہی تھی کیونکہ کچھ سال پہلے اس کے ابا سائیں نے ایسے ہی اسے اموشنل کر کے، اپنی پگ اس کے قدموں میں رکھ کر، اس سے نایاب کے ساتھ نکاح پر دستخط کروائے تھے… اسے خود پر شرمندگی ہو رہی تھی… مگر آج دانیہ کی خوشی کی خاطر وہ بھی اسی روایات کو برقرار رکھے ہوئے تھا، جو کبھی اس سے زہر لگتی تھی۔

“میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں…”
اس نے لرزتے ہاتھوں سے اپنے گلے کی اجرک نکالی… وہ اجرک جو صدیوں سے سندھی روایات میں عزت و وقار کی نشانی مانی جاتی ہے… اسے اتار کر آہستہ سے دانیا کے قدموں میں رکھ دیا۔ یہ منظر اتنا پراثر تھا کہ دانیا تڑپ اٹھی۔

“بھائی… یہ کیا کر رہے ہیں؟”
اس نے اجرک جھٹ سے زمین سے جھپٹ کر اٹھا لی۔

“یہ… یہ تو میرے بھائی کی اکڑ، میرے بھائی کی اونچی شان کی نشاندہی کرتی ہے۔ میرے بھائی کی شان سدا سلامت رہے۔ اسے اس طرح زمین پر کیوں رکھا؟”
دانیا کا دل پھٹنے کو آیا، آنکھیں چھلک کر درد بیاں کر رہی تھیں۔ وہ ایسا تو کچھ نہیں چاہتی تھی۔ وہ خاموش تھا نظریں جھکائے بیٹھا تھا۔ دانیا نے اجرک کو چوم کر اپنے بھائی کے گلے میں ڈال دی۔

“یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟”
“کیوں مجھے گناہگار کر رہے ہیں؟”
وہ بے بسی میں رو دی، آواز میں دکھ، غصہ اور بے انتہا تکلیف تھی۔

“ہاں کر دو دانیا… اپنے بھائی کو بے زبان ہونے سے بچا لو…”
زیغم نے دونوں ہاتھ جوڑ لیے تھے، نظریں جھکی ہوئی تھیں، جیسے خود بھی اپنی بہن کے سامنے شرمندہ تھا۔ دانیا کی آنکھیں بھر آئی تھیں… دل میں جیسے پھر سے کچھ ٹوٹ گیا تھا۔

“بہت محبت کرتی ہوں آپ سے بھائی…”
اس نے دھیمے مگر لرزتے لہجے میں کہا۔

“ٹھیک ہے… کر دی ہاں…”
ایک بار پھر سے دانیا نے اپنے عزیز رشتے کی لاج رکھنے کے لیے خود کو قربان کر دیا تھا۔ وہ ٹوٹے سے لہجے میں وعدہ دے رہی تھی۔

“پہلے ابا سائیں کی پگ کی لاج رکھی تھی اور قربان ہو گئی… اور آج… آپ کی اجرک پر… آپ کی بہن قربان ہو گئی۔”
اس کی آواز نم تھی، مگر لہجہ مضبوط… جیسے دل پر پتھر رکھ کر بول رہی ہو۔

“جا کر اعلان کر دیجئے کہ دانیا نے ہاں کر دی ہے!”
“میں اپنے بھائی کو یوں ٹوٹتا، کمزور پڑتا ہوا نہیں دیکھ سکتی!”
“مگر بھائی… یاد رکھئے گا… یہ میری رضامندی نہیں ہے!”
“آپ نے اس رشتے کو مجھ پر تھوپ کر، مجھ سے ‘ہاں’ کروائی ہے!”
زیغم خاموشی سے آگے بڑھا، اس کے سر پر محبت سے ہاتھ رکھا اور آہستہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔

“انشاءاللہ آنے والے وقت میں… تم خود اپنی زبان سے یہ کہو گی کہ ‘بھائی، آپ نے میرے لیے بہت اچھا فیصلہ لیا تھا’ انشاءاللہ مجھے کبھی اپنے فیصلے پر پچھتانا نہیں پڑے گا… اور نہ ہی تمہیں زندگی میں کبھی یہ رشتہ پچھتانے کا موقع دے گا!”
وہ نظریں چراتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو ہاتھ کی پشت سے رگڑتے ہوئے صاف کر رہی تھی۔

“یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا بھائی… کہ میری زندگی کی تلخیوں کو آپ کا دوست برداشت کر بھی پاتا ہے یا نہیں…”
“فلحال… میں کچھ نہیں کہوں گی۔”
وہ تلخی سے بولی۔

زیغم نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“نکاح کی تیاریاں ہو چکی ہیں، میں مہرو اور ملیحہ کو بھیج رہا ہوں… میں اپنی بہن کو دلہن کے روپ میں سجا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں… میری خواہش ہے کہ میں اپنی بہن کو دلہن بنا کر… مائد کے ساتھ رخصت کروں!”

“جی ٹھیک…”
وہ لب ہلا سکی تو بس یہی ایک لفظ نکلا۔
مگر دل میں… سب کچھ ٹوٹ چکا تھا۔ وہ دلہن نہیں بننا چاہتی تھی۔ سہاگ کے جوڑے سے اسے نفرت ہو چکی تھی مگر قسمت نے ایک بار پھر اسے سہاگ کے لباس میں… دلہن بننے پر مجبور کر دیا تھا۔
°°°°°°°°°°°
کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھلا تھا… مہرو اور ملیحہ اندر داخل ہوئیں تو دانیا بدستور وہیں بیٹھی تھی… نم آنکھوں کے ساتھ، بے جان وجود لیے۔ چہرے پر کوئی خوشی نہیں تھی۔

“چلو دانیا…”
مہرو نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“وقت ہو گیا ہے… سائیں چاہتے ہیں کہ آپ ان کی دی ہوئی زبان کی لاج رکھیں…”
ملیحہ چپ تھی، نظروں سے اس کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی دانیا اس وقت ٹوٹ کر بکھری ہوئی ہے۔ دانیا اور مہرو دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ باہر جا کر زیغم نے سب لوگوں کو اس نکاح کی نوعیت سے آگاہ کر دیا تھا۔ زیادہ تفصیل نہیں دی تھی مگر اتنا ضرور کہا تھا کہ فلحال دانیا اس نکاح سے خوش نہیں ہے مگر اس کا فیصلہ یہی ہے کہ یہ نکاح ہو کر رہے گا۔ اس نے زبان دے دی ہے، اور اب وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔ سب زیغم کے اس فیصلے سے حیران تو ضرور تھے، مگر کسی میں بھی اس کے فیصلے کو جھٹلانے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ دانیا اس کی بہن تھی، اور اگر اس نے یہ فیصلہ لیا تھا تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی لیا ہوگا۔ یہ سوچ کر سب خاموش تھے۔

“چیزیں رکھو یہاں…”
مہرو نے نوکرانی کو اشارہ کیا، جو یہاں کے ایک ملازم کی بیوی تھی۔ اس نے تھال لا کر رکھ دیا جس میں سُرخ جوڑا، بھاری جیولری، اور دلہن کو تیار کرنے کی سب چیزیں شامل تھیں۔ دانیا نے ایک نظر اُس سرخ لباس پر ڈالی… یہ اس کے لیے صرف لباس نہیں تھا۔ اس کی ہر پرانی چیخ اس میں سی دی گئی تھی، جیسے ماضی کا ہر زخم اس جوڑے میں جگمگا رہا ہو۔ دل کہہ رہا تھا کہ چیخ چیخ کر کہے کہ وہ یہ جوڑا نہیں پہنے گی… دل کہہ رہا تھا کہ پھوٹ پھوٹ کر روئے، مگر بھائی کی خوشی کے لیے، ایک بار پھر سے… دانیا قربان ہو گئی تھی۔ خدا سے شکوہ نہیں کر رہی تھی، کیونکہ وہ گنہگار نہیں ہونا چاہتی تھی۔ خود میں ہی مرتی جا رہی تھی۔

“تیار ہو جاؤ دانیا…”
ملیحہ نے نرمی سے کہا۔

“زیغم بھائی تمہیں دلہن کے روپ میں سجا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں…”
دانیا نے سر جھکایا، ہونٹوں پر کانپتی خاموشی تھی۔ ‘اٹھ جاؤ دانیا… ہمت کرو… رو لو، تڑپ لو، جو مرضی کرو… مگر یہ لباس تو پہننا ہے، نکاح کے کاغذ پر دستخط بھی کرنے ہیں… جب قسمت میں یہی لکھا ہے تو اٹھ کیوں نہیں جاتی؟’ وہ خود کو غصے سے کوستے ہوئے سمجھا رہی تھی۔ بڑی ہمت کر کے اس نے دلہن کا لباس پہن لیا تھا۔ دلہن کا جوڑا کیسے اس نے زیب تن کیا یہ تو صرف اس کا دل جانتا تھا یا اس کا خدا۔ مہرو اور ملیحہ نے اسے تیار کرنا شروع کیا… بالوں میں گجرا الجھاتے ہوئے، ہونٹوں پر ہلکی سی لالی سجاتے ہوئے، درد زدہ نظروں سے اسے دیکھتے رہے، کیونکہ دانیا کے چہرے پر خوشی کا ایک عکس بھی نہ تھا۔
اس کے چہرے پر درد چھپا ہوا تھا، مگر آنکھیں چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھیں۔ بار بار آنسو پونچھنے کے باوجود وہ تھم نہیں رہے تھے مگر یہ زیغم سلطان کا فیصلہ تھا، تو وہ بیچاری دونوں کیا کر سکتی تھیں۔

“بہت خوبصورت لگ رہی ہو…”
مہرو کی آنکھیں کہتے ہوئے بھیگ گئیں۔

“کاش یہ لمحہ تمہارے لیے خوشی کا ہوتا…”
وہ اس کے دلہن سے سجے روپ کو دیکھ کر بے اختیار روتے ہوئے بولی تھی۔
مہرو کا دل تو ویسے ہی بہت معصوم تھا، اور اس وقت دانیا کے آنسو دیکھ کر وہ پوری طرح سے ٹوٹ چکی تھی۔
دانیا خاموش رہی… بس آئینے میں اپنی صورت دیکھتی رہی، جیسے اس کے اندر کی وہ دانیا آج کہیں کھو گئی ہو، جسے گہری نظروں سے وہ تلاش کر رہی تھی۔ اس کے سامنے تو ایک نئی، مجبور، خاموش دلہن کھڑی تھی، جو آئینے میں اسے خود نظر آ رہی تھی۔ سرخ جوڑا پہن کر بھی… اس کے اندر کی ویرانی ختم نہیں ہو سکی تھی۔ اس وقت اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے موت کے تختے پر لے جایا جا رہا ہو، جہاں سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
°°°°°°°°°
زیغم نے آہستہ سے مائد کی شیروانی کے بٹن بند کیے، اس کے بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی، گولی کا زخم ابھی بھی تازہ تھا، اور زیغم نے نہایت احتیاط سے اس زخم پر دھیان دیتے ہوئے اسے تیار کیا۔ مائد خاموش تھا، مگر حیرت سے زیغم کو دیکھ رہا تھا… جس کے چہرے پر نہ کوئی پریشانی، نہ تھکن، گویا سب کچھ نارمل ہے۔
عجیب بات تھی… ایک طرف سبحان کا قتل… دوسری طرف دشمن خون کے پیاسے، اور زیغم سلطان اپنے یار کا نکاح دھوم دھام سے کروا رہا تھا۔

“یہ کلر کیسا لگ رہا ہے؟”
زیغم نے بے فکری سے پوچھا، باہر موت ناچ نہیں رہی تھی، اور وہ اپنے یار سے شیروانی کے رنگ کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ جسے وہ خود خرید کر لایا تھا۔ مائد کے لبوں پر سوال آ کر رک گیا، وہ پوچھنا چاہتا تھا… ‘دانیا کو کیسے منایا؟’ وہ جانتا تھا دانیا کے دل میں کوئی خوشی نہیں، اسے سب یاد تھا، وہ درد، وہ آنسو، وہ نفرت جو دانیا کے چہرے پر وہ دیکھ چکا تھا… مگر زیغم کے انداز میں ایسی خود اعتمادی تھی جیسے سب کچھ ٹھیک تھا۔

“یار، بتا دے… دانیا نے ہاں کیسے کی؟”
آخر کار اس نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا۔
زیغم نے خاموش نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی نگاہ میں کچھ دیر پہلے ک ،عکس ابھرا، جہاں ایک بھائی اپنی بہن کو مجبور کر رہا تھا اس رشتے کے لیے حامی بھرنے کو۔

“کچھ فیصلے دل سے نہیں لیے جاتے…”
مدھم آواز میں کہا۔ پرفیوم اٹھا کر ساتھ اسے تیار کر رہا تھا۔

“کبھی کبھی بہنیں بھائیوں کی زبان بچانے کے لیے ہار مان لیتی ہیں۔ بہنیں بہت پیاری ہوتی ہیں۔کبھی باپ اور کبھی بھائی کی عزت کی لاج رکھنے کے لیے قربان ہو جاتی ہیں!”
مائد کی آنکھوں میں پریشانی کے گہرے رنگ تھے۔ دل پر بوجھ سا محسوس ہونے لگا تھا مگر زیغم کی آنکھوں میں نہ کوئی ملال تھا نہ جھجک، اور نہ کوئی شکوہ نا شکایت… وہ اپنے فیصلے پر قائم تھا، اور پورے فخر کے ساتھ اپنے یار کو دلہا بنا رہا تھا۔

“چلو اب باقی تیار ہو جاؤ، میں اپنی بہن کو دلہن بنا کر ہمیشہ کے لیے تمہاری حفاظت میں… تمہارے ساتھ یہیں پر رخصت کرنے کی تیاری کر کے آتا ہوں۔”
مائد نے اس کے جانے سے پہلے زیغم کی طرف دیکھا… پھر اچانک، آگے بڑھ کر اس کا بازو تھاما اور جھٹکے سے اپنی جانب کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ زیغم کو شاید اس شدت کی توقع نہ تھی، مگر وہ خاموش رہا۔

“مائد خان… ساری زندگی تمہارے اس احسان کو نہیں بھولے گا…”
اس کی آواز بھاری تھی۔

“تم نے جو قربانی دی ہے آج… تم نہ بھی کہو، مگر میں جانتا ہوں… سب جانتا ہوں…کس طرح تم نے دانیا کو منایا ہوگا۔ یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہارے لیے آسان نہیں ہوگا اپنی بہن پر یہ فیصلہ مسلط کرنا۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا تھا پھر زیغم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جذبات سے بھرا ہوا وعدہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیا۔

“خدا کی قسم، مر جاؤں گا… مگر تمہاری بہن کی خوشیوں پر آنچ نہیں آنے دوں گا… اس کی زندگی خوشیوں سے بھر دوں گا، کسی غم کو اس کے نزدیک نہیں آنے دوں گا… یہ ایک پٹھان کا وعدہ ہے… جو مر جائے گا مگر اپنے وعدے سے کبھی مکرے گا نہیں!”

“مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تم یہ قسمیں کیوں کھا رہے ہو؟”
زیغم نے سختی سے اسے گھورا۔ چہرے پر وہی رعونت، وہی سرداری کا رعب… جو صرف زیغم سلطان کا خاصہ تھا۔

“اگر مجھے تم پر یقین نہ ہوتا، تو کیا تمہیں لگتا ہے میں اپنی بہن کا ہاتھ یوں ہی تھما دیتا تمہارے ہاتھ میں؟”
وہ ایک قدم مائد کے قریب آیا اور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سخت لہجے میں بولا۔

“پٹھان ہو نا… اس لیے کھوپڑی زیادہ گہرائی میں سوچنے کے قابل نہیں!”
“اگر صحیح سمت میں دماغ کا استعمال کیا ہوتا، تو تمہیں اندازہ ہوتا کہ میں نے یہ سب تمہارے لیے نہیں، اپنی بہن کے لیے کیا ہے!”
مائد خاموش کھڑا رہا، لیکن زیغم کی باتیں ایک ایک کر کے دل میں تیر کی طرح لگ رہی تھیں۔

“مجھے معلوم ہے… تم میری بہن سے محبت کرتے ہو اور اُسے عمر بھر خوش رکھو گے… بس اسی ایک بات پر یقین کر کے، میں نے اُسے مجبور کیا کہ تم سے نکاح کرے!”

وہ پل بھر کو رُکا… پھر تلخی سے بولا:
“ورنہ تم سے مجھے کوئی ہمدردی نہیں، سمجھے؟”
“زیادہ اپنے آپ کو طرم خان سمجھنے کی ضرورت نہیں… یہ سب میں نے تمہارے لیے نہیں کیا!”

زیغم نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا اور جیسے ایک حکم صادر کیا۔
“اب جلدی سے تیار ہو جاؤ… اور سردار بننے کا خواب دیکھنا بند کرو کیونکہ سردار صرف ایک ہے… اور وہ میں ہوں!”
یہ کہہ کر زیغم سلطان کمرے سے باہر نکل گیا… مگر دروازے کی چُرچراہٹ سے پہلے، مائد خان کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی تھی۔ حقیقت کیا تھی… یہ مائد خان سے بہتر کون جان سکتا تھا۔ اس نے اپنے یار کو خوشیاں دے دی تھیں… بغیر جتائے، بغیر شکوے کے۔
یہی تو رفاقت تھی… اور زیغم سلطان… وہ شاید دنیا کا پہلا ایسا دوست تھا، جو قتل و غارت کے بیچ… اپنے یار کی شادی دھوم دھام سے کرا رہا تھا!
نہ پروا دنیا کی، نہ دشمنوں کی… بس وفا کی ایک جنگ تھی، جو زیغم سلطان جیت چکا تھا۔
°°°°°°°°°°°
زیغم سلطان نے جو کیا، وہ سب کی سوچ سے کہیں بڑھ کر تھا… نہ صرف آغا جان، مورے خان اور مائد خان… بلکہ پوری فیملی حیران رہ گئی تھی۔
باہر لان کو ایک شاندار ہال کی شکل دے دی گئی تھی… سرخ گلابوں سے سجا دلکش اسٹیج، گولڈن مخملی صوفوں پر چمکتا روشنیوں کا جال، سب کچھ خواب جیسا منظر پیش کر رہا تھا۔ مائد خان کو بڑے عزت و احترام سے اسٹیج پر لا کر بٹھا دیا گیا تھا۔۔حالانکہ باہر سے کوئی مہمان نہیں آیا تھا، یہ سب زیغم کے خاص بندوں اور مائد کے چند چُنے ہوئے لوگوں کے ذریعے خاموشی سے کروا کر کروایا گیا تھا۔ سیکیورٹی مکمل تھی… اہتمام میں کوئی کمی نہ تھی۔ مائد تو خود حیران تھا… اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کے نکاح کی تقریب ایسی دھوم دھام سے ہوگی۔ اور پھر وہ لمحہ آ ہی گیا… جب دانیا آ رہی تھی… چاروں طرف سے دوپٹہ تھامے، ملیحہ، مہرو زرام اور ایک ملازمہ ان کے ساتھ تھی۔ ارمیزہ، گلابی لہنگا کرتی پہنے، پھوپھو کے آگے آگے دوڑتی ہوئی… خوشی سے چہکتی آ رہی تھی۔
زیغم کی آنکھیں اپنی بہن کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر بھیگ گئیں۔ ریڈ میکسی پہنے، سادہ میک اپ میں وہ روئی روئی سی لگ رہی تھی… مگر سادگی میں بھی بے انتہا خوبصورت لگے جا رہی تھی۔ مائد خان کا دل دانیہ کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر زوروں سے دھڑک اٹھا تھا۔ آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ سچ میں دانیا اس کی دلہن بن کر آرہی ہے۔ زیغم نے آگے بڑھ کر خود اپنی بہن کا ہاتھ تھاما… نرمی سے تھام کر اسٹیج کے قریب لایا… پھر وہاں آ کر خاموشی سے ہاتھ چھوڑ دیا۔ چند لمحے گزرے… جب مائد ویسے ہی بیٹھا رہا، تو زیغم کی آواز گونجی۔ وہی بے باک، وہی رعونت بھرا انداز تھا۔

“اب اٹھے گا؟یا پٹھانی کھوپڑی کو یہ بھی سمجھانا پڑے گا کہ ہاتھ بڑھا کر اپنی ہونے والی بیوی کو سٹیج پر بٹھاؤ؟”
اس کے لہجے میں شوخی تھی، مگر آنکھوں میں مصنوعی سنجیدگی… مائد ایک دم گھبرا گیا… شرما بھی گیا… اور جھجکتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے ہاتھ آگے بڑھایا… چھ فٹ کا پٹھان شرما کر گھبرا کر اٹھتا ہوا بہت جاذبِ نظر لگ رہا تھا مگر دانیا نے، اپنی نرم انگلیوں سے اس کا ہاتھ تھامنے کے بجائے، اپنے بھاری لہنگے کو ذرا سا سنبھالا اور خاموشی سے سٹیج کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر جا پہنچی۔ مائد بس کھڑا، اسے جاتے دیکھتا رہا…

“چل بیٹا، تیار ہو جا…”
زیغم نے آنکھ مارتے ہوئے اس کے قریب آ کر کان میں سرگوشی کی۔

“میری بہن تیرے ایسے پرزے ڈھیلے کرے گی کہ تُو بھی یاد رکھے گا…”

مائد نے گھور کر دیکھتے نفی میں سر ہلایا۔
“شرم کرو… بہن ہے تمہاری…!”

“میری بہن تھی… اب تمہاری ہونے والی بیوی ہے۔ اور تم میرے دوست ہو… تو سمجھ لو، میں اب کوئی لحاظ رکھنے والا نہیں!”
وہ زور سے ہنسا، اور مائد کے کندھے پر تھپکی دے کر، ایک بار پھر اسے اپنے انداز میں شرمندہ کر گیا۔ اور اب… محفل میں ایک خاص سا سکوت چھا گیا تھا۔نکاح کا ٹائم ہو گیا تھا۔ قاری صاحب پہنچ چکے تھے۔ سب جانتے تھے کہ دانیا کے دل میں ابھی بھی وہ درد، وہ زخم موجود ہیں… لیکن ان زخموں پر اب مائد خان کے صبر، محبت، اور بے پناہ خلوص سے مرہم رکھا جا رہا تھا۔ مائد خان نے آہستگی سے اپنی نظریں جھکائے، اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھا، جس کی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں… لب کپکپا رہے تھے… مگر کچھ ہی دیر میں اس کی تقدیر کا حصہ بننے والی تھی۔

زیغم نے دانیا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے سرگوشی کی۔
“خوشیاں تمہارا راستہ دیکھ رہی ہیں۔ مت گھبراؤ… اللہ کا نام لے کر قبول کرو اس رشتے کو۔”
دانیا نے بس نظریں جھکا کر سر ہلایا… وہ جانتی تھی کہ اب چاہے جو بھی ہو، اس رشتے کو قبول کرنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ یہ رشتہ صرف ایک مجبوری تھا… نکاح ہو چکا تھا، دونوں ایک دوسرے کو قبول کر چکے تھے۔ نکاح نامے پر دستخط ہو چکے تھے۔ مائد خان کی جانب سے یہ رشتہ محبت سے لبریز تھا مگر دانیا کی جانب سے صرف مجبوری۔
نکاح کے بعد قاری صاحب رخصت ہو چکے تھے، محفل میں ایک بار پھر سے روشنی، خوشبو، اور ہلکی سی مسکراہٹیں واپس لوٹنے لگی تھیں۔ ملیحہ اور مہرو نے دانیا کو سمیٹ کر گلے لگایا، اور ارمیزہ اپنی معصوم ہنسی کے ساتھ سٹیج پر ناچنے لگی۔

“میری پھوپو کی شادی ہے… میری پھوپو کی شادی ہے!”

درخزائی نے پھر سے زور سے تالیاں بجا کر ڈی جے کو اشارہ دیا۔
“اب کوئی ایسا سونگ لگا کہ سب پھر سے جھوم اٹھیں… یہ ساری آنکھیں اب صرف خوشی کے آنسو چاہتی ہیں!”
اس نے بلند آواز میں کہا تھا۔
آغا جان اور مورے نے بہت سی دعائیں اس جوڑے کو دی اور چہرے پر خوشی سجائے وہ سٹیج سے نیچے سب کے ساتھ بیٹھ چکے تھے۔ مورے اور آغا جان اب سٹیج کے نیچے لگے ہوئے شاہی سے صوفے پر براجمان ہو چکے تھے… دونوں کے چہروں پر فخر، محبت اور سکون کا عکس صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ملیحہ اور زرام بھی وہیں ان کے ساتھ بیٹھ چکے تھے، جبکہ ارمیزہ، خوشی سے چہکتی ہوئی، اپنی پھوپو جان کے ساتھ اسٹیج پر واپس جا کر بیٹھ گئی تھی۔ درخزائی تو جیسے خوشی سے پاگل ہو رہا تھا…کبھی اِدھر دوڑتا، کبھی اُدھر۔

اسی ہنگامے میں اس نے ڈی جے والے سے جا کر کہا:
“بھائی، ایسا سونگ بجا، کہ محفل میں جان آ جائے!”
مگر محفل میں اصل رنگ تو اس وقت بھرا… جب زیغم سلطان نے خود درخزئای کے کان میں کچھ کہا، اور اگلے ہی لمحے، فضا میں ایک خوبصورت، خوشیوں بھرا سونگ گونجنے لگا۔

“ڈھولک میں تال ہے، پائل میں چھم چھم”
“گھونگھٹ میں گوری ہے، سہرے میں ساجن”
“جہاں بھی تُو جائے، خوشیاں ہی پائے”
“میرے دل نے دعا دی ہے، میرے یار کی شادی ہے…”

یہ بول جیسے پوری فضا میں دوستی، وفا اور خوشیوں کے رنگ بکھیر رہے تھے… اور زیغم سلطان… وہ جو ہمیشہ سنجیدہ، سخت گیر، اور پروقار نظر آتا تھا… آج… اپنے یار کی شادی پر سندھی اسٹائل میں جھومر ڈالتے ہوئے ہلکا ہلکا ناچ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ فضا میں بلند تھے، قدم دھیمے تال میں زمین پر تھرک رہے تھے… ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی۔
یہ منظر سب کے لیے چونکا دینے والا تھا… سب حیرت سے زیغم کو دیکھ رہے تھے، جو شاید زندگی میں پہلی بار یوں بے ساختہ ناچ رہا تھا… یہ صرف جھومر نہیں تھا… یہ محبت، دوستی، قربانی، اور شکرانے کا رقص تھا… جو اس وقت میں ہمیشہ کے لیے دلوں میں نقش ہورہا تھا۔
یہ لمحہ… جیسے خوشیوں کا بادل برس رہا ہو، دلوں میں جذبوں کی برسات ہو رہی ہو۔ محفل سجی تھی مگر اصل رنگ زیغم کے چہرے سے چھلک رہا تھا۔

“پیار ملا، پریت ملی، میرے یار کو”
“بڑی پیاری جیت ملی میرے یار کو”

اس نے ہاتھوں کو لبوں تک لے جا کر چوم کر فضا میں بکھیرے تو مائد خان کے دل کی دیوار پر محبت کے چراغ جل اٹھے۔ یہ اس کی خوش نصیبی تھی کہ زیغم جیسے بھائی اور یار نے اسے اپنی دنیا میں جگہ دی۔ محفل میں تالیاں، قہقہے اور سونگ کی دھیمی لے کے ساتھ جب زیغم، درخزائی اور زرام نے جھومر ڈالا، تو لگ رہا تھا جیسے زمین بھی ان کے ساتھ رقص کر رہی ہو۔ وہ لمحے صرف خوشی کے نہیں تھے، وہ شکرانے کے لمحے تھے اور جب دانیا نے اپنے بھائی کو یوں مستی میں ناچتے دیکھا، تو اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو… ہنسی میں ڈھل گئے۔
وہ بچپن یاد آ گیا جب زیغم اپنی بہن کو گود میں لے کر اسے ہنسانے کے لیے اوٹ پٹانگ حرکتیں کیا کرتا تھا۔ وہ بچپن کا وہی بھائی آج پھر اس کے لیے خوشی میں جھوم رہا تھا۔ دانیا نے اپنے آنکھوں سے آنسو پونچھے، ہلکا سا مسکرائی، اور دل ہی دل میں کہا:
“بھائی… تیری یہ خوشی، میری زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ ہے۔ تُو خوش ہے تو میں بھی خوش ہوں۔”
°°°°°°°°
کھانے کا انتظام زیغم نے بہت اچھا کیا تھا۔ فیملی کے ساتھ ساتھ باقی تمام ملازمین کو بھی بہترین کھانا اور میٹھے پکوان پیش کیے گئے تھے۔ کھانے کے بعد کچھ دیر سب لوگ وہیں رکے رہے، مگر پھر زیغم نے اجازت مانگی، اور مورے اور آغا جان درخزائی بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس وقت سب کا وہاں موجود رہنا مناسب نہیں تھا، کیونکہ اس وقت مائد خان کی حفاظت زیادہ اہم تھی اور سبحان خان کے بھائی کتوں کی طرح مائد کو ڈھونڈ رہے تھے۔ زیغم کسی کو موقع نہیں دینا چاہتا تھا کہ کوئی مائد خان تک پہنچ سکے۔ پہلے تو وہ صرف دوست تھا اب اس کی بہن کا سہاگ بھی بن چکا تھا۔ سب لوگ باری باری مائد خان اور دانیا سے مل رہے تھے۔ دانیا کا موڈ اب بھی خراب تھا، آنکھوں میں آنسو، اور سانسیں ایسے رک رک کر چل رہی تھیں جیسے اسے کسی قید خانے میں بند کیا جا رہا ہو۔ زیغم نے جب اس کے سر پر ہاتھ رکھا، تودانیہ اپنے بھائی سے لپٹ گئی۔ آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔

“بھائی پلیز، مجھے اپنے ساتھ لے چلیں… پلیز! اب نکاح ہو گیا ہے نا، مجھے ہمارے گھر جا کر رہنا ہے۔”
اس کے لہجے میں التجا تھی، آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی۔ عجیب سے ڈرنے سے گھیر رکھا تھا۔ مائد خان جی یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔

“دانیا بیٹا، سمجھنے کی کوشش کرو۔ تمہارے شوہر کو اس وقت تمہاری ضرورت ہے۔ تم اس کے ساتھ یہیں رہو۔ صرف چند دن کی بات ہے۔ اس کے بعد تم اپنے شوہر کے گھر، یعنی اپنی حویلی بھی جاؤ گی اور ہمارا گھر تو ہمیشہ تمہارا ہی ہے۔ جب دل چاہے، وہاں آنا۔ وہ تمہارا مائیکہ ہے۔ جب چاہو آسکتی ہو لیکن ابھی تمہیں اپنے شوہر کے ساتھ، خوشی خوشی رہنا ہے۔”
اس وقت زیغم کے لیے سخت فیصلے لینا ضروری تھا۔ دانیا کو مائد کے ساتھ رکھنا، اسے سنبھالنا، اس کی حوصلہ افزائی کرنا، سب بہت اہم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ نرمی دکھانے کا وقت نہیں کیونکہ اگر وہ نرم پڑ گیا تو مائد اور دانیا کا رشتہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ اسے اپنی بہن کو خوش دیکھنا تھا، اپنے یار کو خوش دیکھنا تھا، اس کے لیے اسے سخت فیصلے لینے پڑ رہے تھے۔ زیغم کے انکار پر ،دانیا کو شدید غصہ آیا۔ وہ اپنے لہنگے کو سمیٹتی ہوئی خاموشی سے اٹھ کر کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کر لیا۔ یہ لمحہ سب کے لیے تکلیف دہ تھا۔ مورے اور باقی خواتین پریشان نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔

“میں سب سنبھال لوں گا، آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔”
مائد خان نے پُراعتماد لہجے میں کہا، تو سب خاموشی سے باہر کے راستے کی طرف چل پڑے۔ مائد، سب کو باہر تک چھوڑنے کے لیے آگے بڑھا۔

“بہت خیال رکھنا ہماری بیٹی کا… اس کا غصہ نرمی سے برداشت کر جانا… اس کے دکھوں کو اپنی محبت سے مرہم لگانا…”
مورے نے اپنی مخصوص پٹھانی، نرمی سے بھرے لہجے میں اپنے بیٹے کو سمجھایا۔ اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں۔

“بے فکر رہیں، میں آپ کی بیٹی کا بہت خیال رکھوں گا… کچھ بھی بولے میں افف نہیں کروں گا۔”
فرما برداری سے کہتے ہوئے مسکرا دیا تھا۔ مائد خان کی گالوں کی لالی بتا رہی تھی کہ وہ کتنا خوش ہے اور اس کی خوشی کو دیکھ کر اس کی مورے کا دل باغ باغ ہو گیا تھا۔ آغا جان نے بھی آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا، پیار سے اس کے چہرے کو دیکھا۔

“میری بھی یہی نصیحت ہے… اس بچی کا دل بہت نازک ہے۔ زندگی میں اس نے پہلے ہی بہت سے دکھ برداشت کیے ہیں۔ تمہاری مورے مجھے اس کے بارے میں سب بتا چکی ہیں۔ اب تم نے خود آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما ہے تو زندگی میں کبھی دوبارہ اس کے دل کو مت توڑنا۔ اب اگر دل ٹوٹا تو واپس جوڑنا مشکل ہو جائے گا۔”
مائد آغا جان کی بات غور سے سن رہا تھا۔ چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔

“میری طرف سے دانیا کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی… بس آپ لوگ اپنا دھیان رکھیے گا۔ سبحان کے بھائی اس وقت پاگل کتوں کی طرح چاروں طرف مجھے ڈھونڈ رہے ہیں۔ میں نے آپ کی اور زیغم کی بات مان کر یہاں ہونے کا فیصلہ تو کر لیا ہے… مگر ہر لمحہ مجھے آپ سب کی فکر لگی رہتی ہے۔”
اس کے لہجے میں فکر، بے بسی اور غصے کی آمیزش تھی۔

“اور آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ زیغم کو سمجھائیں گے… اُس وعدے پر قائم رہیے گا، آغا جان۔ مجھے بہت جلد یہاں سے نکلنا ہے۔ میں یہاں بزدلوں کی طرح چوڑیاں پہن کر چپ نہیں بیٹھ سکتا۔”
آغا جان نے اس کی پشت پر مضبوط ہاتھ رکھا۔ خاموشی سے مائد کی طرف دیکھا، چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں فکرمندی تھی۔

“اللہ تعالیٰ سب بہتر کرے گا۔ تم فکر مت کرو۔ بہت جلد سب ٹھیک ہو جائے گا اور میرا بیٹا شیر ہے، یہ بات ہمیں کسی کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں!”
وہ اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے گاڑی میں مورے کے ساتھ جا بیٹھے تھے۔
°°°°°°°°

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *