Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:4

رازِ وفا
از قلم زویا علی شاہ
قسط نمبر 4
°°°°°°°°°
“توقیر” برسوں تک لوگوں پر ظلم کرتا رہا، یہاں تک کہ اپنی سگی بھتیجی پر ہونے والا ظلم بھی خاموشی سے دیکھتا رہا مگر اب جب اپنی اولاد کی باری آئی تو تڑپ کر ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ پل بھر میں ساری اکڑ ڈھیر ہو چکی تھی۔کیسی دوغلی دنیا ہے اپنی اولاد کے لیے رول الگ، اور دوسرے کے لیے رولز الگ رکھتے ہیں۔ اپنے بیٹے کے باری تڑپ رہا ہے اور ابھی “دانیہ” جیسی مجبور اور کمزور لڑکی پر ظلم ہوتے ہوئے دیکھ اپنے گھر والوں کو نہیں روکا جبکہ خونی رشتہ تھا سگے بھائی کی بیٹی تھی۔ اسے تڑپ کر ہاتھ جوڑتے ہوئے دیکھ، “زیغم سلطان” نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے چچا کو دیکھ رہا تھا۔

“یہ رحم دلی اس وقت کہاں تھی جب دانیہ پر ظلم ہو رہا تھا؟”
“جب یہ شخص میری بہن پر وحشیوں کی طرح ہاتھ اٹھاتا تھا، جب تمہاری بیوی اور بیٹی اس کے ساتھ ظلم کی انتہا کرتی تھیں، اس وقت یہ ہاتھ کیوں نہیں جڑے ان کے سامنے؟”
“زیغم” سخت لہجے میں دھاڑ رہا تھا۔

“اگر میں آج وقت پر نہ پہنچتا تو وہ اسے زندہ جلا کر مار دیتے اور کہانی بنا لیتے کہ وہ کچن میں حادثاتی طور پر جل گئی!”
“یہی پلیننگ تھی نا تم لوگوں کی؟”
“زیغم” کی نظروں میں قہر تھا، آواز میں ایسا جلال کہ سامنے کھڑے “توقیر لغاری” کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔

“اور حیرت تو یہ ہے کہ تم لوگوں کو ڈر نہیں تھا۔ تم لوگوں کو لگتا تھا کہ تم لوگ دانیا کی جان لینے کے بعد جو بھی من گھڑت کہانی سناؤ گے اس پر یقین کر لیا جائے گا۔ ایک بار یہ نہیں سوچا کہ کروڑوں ایکڑوں کی زمینوں کی وارث، “سلطان لغاری” کی بیٹی، جس کے ہاتھ لگانے سے چیزیں سونا بن جاتی ہیں، وہ کچن میں کام کرتے ہوئے جل گئی، کون یقین کرے گا؟”
“ایک بار یہ نہیں سوچا کہ سوال تو اٹھے گا کہ ملازم کہاں مر گئے تھے؟”
“چلو یہ تو چھوڑو کہ کوئی یقین کرے گا یا نہیں۔ بس یہی بتا دو کہ جب یہ سب ہو رہا تھا تب اس کی معصوم ذات پر تمہیں ترس کیوں نہیں آیا؟”
“زیغم” کا ایک ایک لفظ، ایک ایک جملہ سچائی کی داستان سنا رہا تھا۔ اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر “توقیر” کی حالت رو دینے والی تھی۔ وہ بے بسی سے ہاتھ جوڑے اس کے قدموں کی جانب بڑھا، مگر “زیغم” نے فوراً پیچھے ہٹتے ہوئے ہاتھ بلند کرتے ہوئے سخت تیور کے ساتھ روک دیا۔

“یہ ڈرامے بازی مجھ پر مت آزماؤ۔ مجھے تم پر رحم نہیں آئے گا، اور اس کی وجہ تم خود ہو۔ جب اپنے ہی سگے بھائی کو غلط دوائیاں دے کر مار دیا، جب میرے بابا سائیں زمین پر تڑپتے ہوئے جان کی آخری بازی ہار رہے تھے تب تم لوگوں کو ترس نہیں آیا، رحم نہیں آیا، خونی رشتے کا لحاظ نہیں کیا تو اب مجھ سے کوئی بھی امید مت رکھو۔”
“جب میری ماں کو ایکسیڈنٹ کروا کر راستے سے ہٹایا دیا۔اس وقت تم نے ظلم کرتے ہوئے کوئی رشتہ، کوئی لحاظ، کوئی ہمدردی نہیں رکھی تو آج مجھ سے بھی کوئی امید مت رکھنا۔”
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر “توقیر” کو سچائی دکھا رہا تھا۔ “زیغم” کے غرانے کی آواز پوری حویلی کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھی۔

“میں وہ آگ بن کر لوٹا ہوں جو تمہاری ظالم کی دنیا کو پوری طرح سے تہس نہس کر دے گی۔”
“تم لوگوں کا وہ حشر کروں گا کہ نہ تم لوگ جینے کے قابل رہو گے، نہ مرنے کے قابل۔ جینا چاہو گے تو جینے نہیں دوں گا، مرنا چاہو گے تو مرنے نہیں دوں گا۔”
“زیغم سلطان لغاری” سزا کی ایک نئی داستان لکھے گا جسے دیکھ کر ظلم کرنے والوں کی روح کانپ جائے گی۔”
“تم لوگوں کو وہ اذیت ناک سزا دوں گا کہ آج کے بعد کوئی کسی مجبور اور بے بس پر ظلم کرنے سے پہلے مر جانا بہتر سمجھے گا۔”

“میں اپنے بیٹے کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤں گا، تم مجھے اس طرح سے روک نہیں سکتے۔”
“توقیر” نے پوری ہمت جمع کرتے ہوئے اس بار سختی سے کہتے اپنے بیٹے کی جانب قدم بڑھا دیے تھے۔

“نہ نہ “توقیر” سائیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ افسوس کہ میری اجازت کے بغیر تم لوگ حویلی سے باہر نہیں جا سکتے سمجھے؟”
“زیغم” کی بات پر “توقیر” اپنی جگہ پر کھڑے ہوتے ہوئے آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہا تھا۔ ظلم کرنے والے کو آج سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کون سا راستہ اپنائے۔ نرمی والا راستہ اپنا کر وہ دیکھ چکا تھا اور سختی کرنے کی اس کی اوقات نہیں تھی کیونکہ سامنے جو کھڑا تھا وہ رحم دل “سلطان لغاری” نہیں تھا جو اس کے بیٹے پر رحم کر جاتا اس کی نظروں کے سامنے “زیغم سلطان” کھڑا تھا جو بچپن سے ہی ضدی اڑیل اور اپنی بات پر ڈٹ جانے والا تھا اور ڈر تو بچپن سے اس کی فطرت میں نہیں تھا۔وہ آج 30 سالہ “زیغم سلطان” کو کیسے ڈرا اور دبا سکتے تھے جو پوری طرح سے پاور فل ہو کر واپس لوٹا تھا۔

“ایسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہیں جا سکتے تو مطلب نہیں جا سکتے۔”
“جب تک میری اجازت نہیں ہوگی اس حویلی میں کچھ بھی نہیں ہوگا۔”
“تمہارے پالتو کتے ایک ایک کر کے باہر مردان خانے میں اکٹھے کر کے باندھے جا رہے ہیں، اس کے بعد کتوں کو ٹرک میں لاد کر یہاں سے دور بھیج دیا جائے گا اور اس حویلی میں صرف وفادار رہیں گے جو تم لوگوں پر نگرانی کریں گے کیونکہ تم لوگوں سے تو ابھی بہت کام لینا ہے۔”
دھمکی خیز انداز میں بولتے ہوئے “زیغم” نے نظریں اٹھا کر اوپر “مائد” کی جانب دیکھا تھا۔

“کسی ڈاکٹر کو بلاؤ، اس بیغیرت کو ہوش میں لائے کیونکہ اس کا ہوش میں آنا بہت ضروری ہے۔”
“زیغم” نے “شہرام” کی جانب قہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے “مائد” سے کہا۔

“یہ مر نہیں سکتا، کیونکہ اپنی بہن کو اس کی بیوہ کہلانا مجھے بالکل پسند نہیں۔”
اپنے بیٹے کے بارے میں اس طرح کی باتیں سننا “قدسیہ” اور “توقیر” کے لیے بہت تکلیف دہ تھا مگر سچائی یہی تھی کہ جو گناہ کیے تھے وہ سب ایک ہی جھٹکے میں ان کے سامنے آ چکے تھے اور اس وقت میں وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں بول سکتے تھے کیونکہ “زیغم” کیا کر سکتا تھا یہ تو اس نے آتے ہی بتا دیا تھا۔ “زیغم سلطان” اپنی بات پوری کرتے تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا گیا مگر روم کے قدم رکھتے ہی اس کے قدم رک گئے۔ “دانیہ” بیڈ کے قریب زمین پر بے ہوش پڑی تھی۔ “زیغم” تیزی سے آگے بڑھا، اسے اٹھایا اور بیڈ پر لٹایا۔

“دانیہ۔۔۔”دانیہ۔۔۔”ہوش میں آؤ۔”
اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے چہرے کو تھپ تھپا کر بار بار اس کا نام پکار رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں “دانیہ” ہوش میں تو آ گئی، مگر اس کی آنکھوں میں ڈر ہی ڈر تھا۔

“زیغم” نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے کہا:
“سب ٹھیک ہے، دانیہ پلیز ریلیکس ہو جاؤ ۔”

مگر وہ رونے لگی۔
“بھائی، مجھے یہاں نہیں رہنا، پلیز مجھے کہیں اور لے جائیں۔”

“زیغم” نے گہرا سانس لیا۔
“یہ ہمارا گھر ہے، “دانیہ”۔ ہم اسے چھوڑ کر کیوں جائیں؟”

“بھائی پلیز۔۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھ جوڑے ہوئے تھی۔
اس کی پریشانی دیکھ کر “زیغم” نے فیصلہ لیتے ہوئے نرمی سے اس کے ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامتے ہوئے نیچے کر دیا۔

“ٹھیک ہے، جب تک تم بہتر محسوس نہ کرو، تمہیں کہیں اور لے چلتا ہوں لیکن ایک دن تمہیں واپس آ کر ان لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا ہوگا جو ان لوگوں نے تمہارے ساتھ کیا ہے۔ تم ان کو معاف نہیں کرو گی۔۔۔وعدہ کرو۔”

“بس مجھے یہاں سے لے جائیں۔”
“زیغم” کے وعدے کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
“زیغم” کو اس وقت دانیا کی بات مان لینا ہی بہتر لگا تھا۔ وہ اس حالت میں نہیں تھی کہ “زیغم” کی بات کو سمجھ پاتی اور اس کی بہن نے جتنی تکلیفیں برداشت کر لی تھی۔ان سب کو مٹانے کے لیے کچھ وقت چاہیے تھا۔

“ٹھیک ہے چلو اٹھو۔”
اسے سہارا دیتے ہوئے اٹھا کر کھڑا کیا مگر وہ جیسے ہی کھڑی ہوئی، اس کا سر چکرا گیا۔ “زیغم” نے فوراً اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔ اس کے زخم چیخ چیخ کر ظلم کی کہانی سنا رہے تھے۔دروازے کے قریب جا کر “زیغم” نے “مائد” کو آواز دی۔ “مائد” فوراً اندر آ گیا۔

“زیغم” نے سنجیدگی سے پوچھا:
“کیا میں کچھ دن کے لیے “دانیہ” کو تمہارے گھر چھوڑ دوں؟”

“مائد” نے حیرانی سے دیکھا۔
“کیسی بات کر رہے ہو؟”
“تمہیں اجازت لینے کی ضرورت ہے۔ تمہارا اپنا گھر ہے۔ چلو، ابھی چلنا ہے؟”
وہ سنجیدگی سے اپنی نظریں “زیغم” پر مرکوز کیے ہوئے تھا۔

“ہاں، کیونکہ مجھے “دانیہ” کو محفوظ جگہ پر چھوڑ کر کچھ حساب برابر کرنے ہیں۔”

“بے فکر رہو، مورے ہے نا، وہ خیال رکھ لے گی۔”
“مائد” خان نے اپنی ماں کا نام لیا تھا۔
“زیغم” “دانیہ” کو لیے باہر نکلا۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے اس جگہ سے گزرا جہاں “شہرام” بے ہوش پڑا تھا۔ “قدسیہ” اور “توقیر” بے بسی سے تڑپ رہے تھے۔ اس نے جان بوجھ کر “دانیہ” کا چہرہ اپنی طرف رکھا تاکہ وہ یہ منظر نہ دیکھ سکے۔ “توقیر” کچھ بولنا چاہتا تھا، مگر “زیغم” کی ایک نظر نے اسے خاموش کر دیا۔ “زیغم” نے “مائد” کی طرف اشارہ کیا کہ جو بھی بات کرنی ہو، وہ کرے۔ “دانیہ” کو لے کر وہ تیزی سے باہر گیٹ کی جانب آ گیا۔ “مائد خان” کے آدمی پہلے ہی چُکّنا کھڑے تھے، فورا سے گاڑی کے دروازے کھول دیے گئے۔ “زیغم” نے “دانیہ” کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ “مائد” بھی باہر آ چکا تھا۔وہ خاموشی سے آکر پچھلی سیٹ پر بیٹھتے دروازہ بند کر چکا تھا۔

“زیغم” نے گیٹ پر کھڑے اپنے آدمیوں کو سخت لہجے میں حکم دیا:
“ان سب کو پرانی حویلی لے جاؤ اور اچھی طرح خاطر تواضع کرو۔ پرانی حویلی کا پتہ “رفیق” بتا دے گا۔”
“رفیق”، جو برسوں سے “سلطان لغاری” کا وفادار ملازم تھا، “زیغم” کو فخر سے دیکھ رہا تھا۔ “زیغم” کے آنے پر “رفیق” کتنا خوش ہے یہ اس کے چہرے سے ہی نظر آ رہا تھا۔ “رفیق” نے “زیغم” کا بچپن اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تھا اور پرانی حویلی پر “توقیر” اور “شہرام” کے وفادار ملازمین کو لے جانے کا آرڈر دے چکا تھا۔ “زیغم” نے گاڑی اسٹارٹ کی اور “دانیہ” کو محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے روانہ ہو گیا۔
°°°°°°°°°°
ہاسٹل کے کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ایک طرف میز پر بکھری ہوئی کتابیں اور کچھ خالی کافی کے کپ رکھے تھے، جو اس بات کا ثبوت تھے کہ یہاں رات دیر تک جاگ کر پڑھائی یا پھر کوئی گہری سوچیں پروان چڑھتی رہی۔
کمرے میں ایک ہلکی سی ویرانی چھائی ہوئی تھی، مگر “زرام” کے دماغ میں چلنے والے خیالات کسی طوفان سے کم نہیں تھے۔کبھی کبھی سوچوں کا مرکز وہ لوگ بن جاتے ہیں جو اچانک سے تیز ہوا کے ٹھنڈے جھونکے کی طرح میں چھو کر گزر جائیں۔
وہ بیڈ پر نیم دراز تھا، ہاتھ کے نیچے رکھے تکیے کو دباتا جا رہا تھا۔ اس نے ہلکے نیلے رنگ کی ٹی شرٹ اور سیاہ ٹریک پینٹ پہن رکھا تھا، جو واضح کر رہا تھا کہ وہ ابھی ابھی کہیں باہر سے آیا ہے اور اب آرام کے موڈ میں ہے مگر آرام کہاں! دماغ میں تو بس وہی چہرہ گردش کر رہا تھا۔ وہ لڑکی… بڑی بڑی، گھبرائی ہوئی آنکھیں… جو خوفزدہ ہرنی کی طرح چاروں طرف دیکھ رہی تھیں۔ سامنے دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک ماحول کی خاموشی میں واضح سنائی دے رہی تھی۔ “زرام” نے آنکھیں بند کر کے سر تکیے میں دبا لیا، جیسے چاہ رہا ہو کہ وہ لمحہ پھر سے آنکھوں کے سامنے آ جائے، وہ لڑکی دوبارہ نظر آ جائے۔

“میرے پیچھے کتا لگا ہوا ہے!”
وہ کانپتی ہوئی آواز، وہ بے ترتیب سانسیں، اور وہ بے چین نظریں… “زرام” نے گہری سانس لی۔ وہ لڑکی اتنی گھبرائی ہوئی کیوں تھی؟
کمرے میں جلتی مدھم روشنی کے باوجود اسے وہی شام یاد آ رہی تھی، جب وہ اچانک اس کی گاڑی سے ٹکرا گئی تھی۔ “زرام” نے تو اِدھر اُدھر دیکھا بھی تھا، مگر کہیں کوئی کتا نہیں تھا۔ پھر وہ اتنی خوفزدہ کیوں تھی؟

“آپ مجھے کہیں بھی چھوڑ دیجیے، بس یہاں سے دور لے جائیں!”
یہ جملہ اس کے کانوں میں گونجا، جیسے وہ ابھی بھی یہیں، اس کے سامنے کھڑی ہو۔ اس نے جو زردی مائل دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا، وہ ایک ہاتھ سے سنبھال رہی تھی اور دوسرا ہاتھ بے چینی سے بند مٹھی میں دبائے کھڑی تھی۔ دوپٹے کا پلو اس کے دانتوں تلے دبا ہوا تھا، جیسے خود کو کسی کی نظروں سے بچانے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۔ “زرام” نے ایک جھٹکے سے آنکھیں کھول دیں۔

“کون تھی وہ…؟ کہاں سے آئی تھی…؟ اور کیوں وہ اس قدر گھبرائی ہوئی تھی…؟”
ابھی وہ انہی سوچوں میں ڈوبا تھا کہ دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا، اور “فیصل” نامی طوفان اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں جوس کی بوتل تھی، جو شاید باہر سے لیتا آیا تھا۔ اس نے ایک نظر “زرام” پر ڈالی، جو اسی انداز میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔جس حال میں وہ چھوڑ کر گیا تھا، اور مسکرا کر بوتل ٹیبل پر رکھ دی۔

“ہیلو! کس کے خیالوں میں گم ہو؟”
“فیصل” نے پاس پڑے تکیے کو اٹھا کر “زرام” کی طرف اچھالا، جو سیدھا اس کے سینے پر لگا۔”زرام” نے ایک دم آنکھیں بند کیں، پھر آہستہ سے تکیہ نیچے رکھتے ہوئے گہری سانس لی۔

“یار… اسی کے بارے میں سوچ رہا ہوں، جو اس دن میری گاڑی سے آ کر ٹکرائی تھی۔ بہت خوبصورت تھی…”
اس کے لہجے میں عجب سی بے خودی تھی۔
“فیصل” نے آنکھیں سکیڑیں، شرارتی مسکراہٹ چہرے پر آ گئی۔ “فیصل” اور “زرام” روم میٹ بھی تھے اور بہت اچھے دوست بھی اس لیے ایک دوسرے سے وہ ہر چیز کھل کر شیئر کر لیا کرتے تھے اور اس دن ہوئے حادثے کے بارے میں “زرام” نے آتے ہی “فیصل” کو سب کچھ بتا دیا تھا۔

“بس خوبصورت؟ یا کچھ خاص بات بھی تھی؟”
“فیصل” نے تجسس سے پوچھا۔
“زرام” نے سیدھا ہو کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی، نظریں اب بھی کہیں دور تھیں۔

“خاص………… ہاں، بہت خاص۔ وہ عام لڑکی نہیں تھی “فیصل!”
“اس کی آنکھوں میں خوف تھا، مگر اس خوف کے پیچھے عجیب سی معصومیت بھی تھی۔”
“اس کا چہرہ… جیسے شام کے وقت ہلکی سنہری روشنی میں دمکتا سفید گلاب۔”
“وہ سادہ سے حلیے میں بھی بہت حسین تھی جبکہ اس کی سادگی دوپٹے کے پلو سے آدھی ہی دکھائی دے رہی تھی۔”

“فیصل” نے قہقہہ لگایا۔
“واہ بھئی! شاعری بھی شروع ہو گئی؟”
“لگتا ہے جناب کو عشق کی بیماری ہو گئی ہے۔”
“بہتر ہے کہ اس کا جلدی سے علاج کر لو ورنہ یہ جیسے جیسے جڑ پکڑے گی، لاعلاج ہوتی چلی جائے گی۔”

“زرام” نے نظر انداز کرتے ہوئے سر جھٹکا۔
“نہیں یار ایسا کچھ نہیں ہے، بس وہ ایک پل……… اور دل میں کہیں گہرائی تک بس گئی۔ اس کا سادہ لباس، وہ زردی مائل دوپٹہ، جو دیہاتی انداز میں سر پر جما رکھا تھا، اور اس کا گھبراہٹ میں دوپٹے کے پلو کو دانتوں میں دبانا……… جانے کیوں وہ منظر دل سے نکل ہی نہیں رہا۔”

“فیصل” نے حیرانی سے “زرام” کو دیکھا۔
“تُو پہلے خود کسی مدے پر پہنچ لے۔ تمہیں تو خود اپنے جذبات سمجھ میں نہیں آرہے مجھے کیا تم خاک سمجھاؤ گے۔”
“فیصل” کو اس کی فیلنگ کا اچھی طرح سے اندازہ ہو رہا تھا جبکہ ابھی تک “زرام” کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے اور کیا سوچ رہا ہے۔

“کچھ اندازہ ہے کہ وہ کون ہو سکتی ہے؟”
“فیصل” نے کچھ سوچتے ہوئے سوال کیا۔

“زرام” نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“نہیں۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا…… کہ میں چاہ کر بھی بھول نہیں پا رہا۔”

“فیصل” نے “زرام” کی حالت دیکھ کر ہنستے ہوئے کندھے پر ہاتھ مارا۔
“یار اگر اتنی ہی پسند آ گئی ہے تو جا کر ڈھونڈ!”
“تیرے گاؤں کی ہے، کوئی نہ کوئی تو اسے جانتا ہوگا۔ آخر اتنی حسین لڑکی چھپی تو نہیں رہ سکتی!”

“زرام” نے گہری سانس لی، انگلیوں سے پیشانی مسلنے لگا۔
“پتہ نہیں یار… بس ایک پل کی جھلک تھی، اور میں اب تک اسی کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ وہ اتنی ڈری ہوئی کیوں تھی؟”
“اتنی بےچین، جیسے کسی سے بچ کر بھاگ رہی ہو۔”

“فیصل” نے تکیہ اٹھا کر دوبارہ اس کی طرف اچھالا۔
“یہاں بیٹھ کر سوچنے سے کچھ نہیں ہوگا۔”
“اگر وہ تجھے واقعی اتنی خاص لگی ہے تو ہمت کر، جا اور پتہ کر کہ وہ ہے کون۔ ورنہ کہیں دیر نہ ہو جائے اور تیرے خوابوں کی رانی کسی اور کی حقیقت نہ بن جائے!”
“زرام” نے نظریں جھکا لیں۔ “فیصل” مذاق کر رہا تھا، مگر “زرام” کے دل میں واقعی کچھ ایسا تھا جو اسے بے چین کر رہا تھا۔ وہ لڑکی… وہ آنکھیں… اور اس کی گھبراہٹ… سب کچھ جیسے کسی راز میں لپٹا ہوا تھا۔

“چلو مجنوں صاحب اٹھو کھانے کے لیے کچھ لایا ہوں پہلے کھا لیں پھر نوٹس تیار کرنے ہیں۔”

“ہمم……… میں ذرا فریش ہو کر آتا ہوں۔”
وہ بیڈ سے اٹھ کر چپل پہنتا ہوا باتھ روم جانب بڑھ گیا تھا۔

“معاملہ سنجیدہ ہی لگ رہا ہے، ڈھونڈنا پڑے گا اسے جس نے اس کی راتوں کی نیند اور دن کا چین اڑا لیا ہے۔”
“فیصل” سوچتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔
°°°°°°
“قدسیہ”، “نایاب” اور “توقیر” بڑی مشکل سے بے ہوش “شہرام” کو سنبھالتے ہوئے روم کے بیڈ تک لانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ “شہرام” کا بھاری وجود ان کے لیے سنبھالنا آسان نہیں تھا، مگر وہ کسی بھی صورت اپنے بیٹے کو اس حالت میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ بیڈ کی چادر خون سے سرخ ہو چکی تھی، اور یہ منظر “قدسیہ” اور “توقیر” کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ “نایاب” اپنے بھائی کی یہ حالت دیکھ کر بے قابو ہو کر رو رہی تھی، جبکہ “قدسیہ” کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ رکھا تھا۔

“سائیں، کیا ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے؟”
“خدا کا واسطہ ہے، کچھ کریں! اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا تو میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی!”
“قدسیہ” ضبط کھو بیٹھی اور “توقیر” پر برس پڑی۔

“توقیر”، جو پہلے ہی بے بسی کی انتہا پر تھا، غصے سے دہاڑا۔
“کیا کروں؟ تمہارے خیال میں میں کیا کر سکتا ہوں؟ تم اندھی تھیں؟ وہاں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا؟ یا سُنائی نہیں دے رہا تھا جب میں اس “زیغم” کی منتیں کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ہمیں ہاسپٹل لے جانے کی اجازت دے دو؟”
“مگر اس نے میری ایک نہیں سنی! اس نے تو اپنے اُس مغرور دوست “مائد” سے کہہ دیا کہ اس سے بات کرو، اور وہ—–––”
“توقیر” نے تلخی سے بات ادھوری چھوڑ دی۔

“وہ تو خود کو نجانے کیا سمجھتا ہے۔ کیسے میرے سامنے اکڑ کر کھڑا تھا۔”
“میرے گھر پر کھڑا ہو کر مجھے ہی اکڑ دکھا رہا تھا۔ کیا بول رہا تھا کہ تھوڑی دیر میں ڈاکٹر آ جائے گا، مرے گا نہیں تمہارا بیٹا۔ جتنے ظلم کیے ہیں، مر نہیں سکتا وہ۔ کیسی بےحسی سے بولا تھا۔”
“مجھے تھوڑا سا سنبھل جانے دو اس کو تو میں سب سے پہلے دیکھ لوں گا۔”
“توقیر” کو “مائد” پر غصہ آ رہا تھا!
“قدسیہ” خاموشی سے اپنے نیم بے ہوش بیٹے کے چہرے کو تک رہی تھی۔

“مگر ڈاکٹر ابھی تک آیا کیوں نہیں، کچھ کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔”
وہ ایک بار پھر سے “توقیر” کا کندھا جھنجوڑتے ہوئے بولی تھی۔

” میں کچھ کروں؟ کیا کروں؟”
“میرے آدمیوں کو اس نے گیٹ سے ہی اٹھوا لیا!”
“حویلی کے اندر چند گھنٹوں میں ہر پرانے ملازم نکال باہر کر دیے ہیں!”
“جو بچے ہیں، وہ سب اسی کے ہیں، اب میں کیا کر سکتا ہوں؟ بولو!”
“توقیر” نے غصے سے ہاتھ جھٹکا۔
عین اسی لمحے روم کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور ایک شخص اندر داخل ہوا۔ سفید کوٹ میں ملبوس، چہرے پر سنجیدگی، نظریں “شہرام” کی طرف اُٹھیں، مگر انداز میں سختی تھی۔

“شور شرابہ بند کریں، پیچھے ہٹیں، مجھے دیکھنے دیں۔”
آواز میں حکم تھا، لہجے میں کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ “قدسیہ”، “نایاب” اور “توقیر” کے چہرے ایک ساتھ اوپر اُٹھے۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ ڈاکٹر بھی “مائد” کا آدمی ہے۔ انہیں پہلے سے ہی سمجھایا جا چکا تھا کہ “شہرام” اور اس کے خاندان کو کس طرح “ٹریٹ” کرنا ہے۔ “قدسیہ” کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر دبا لیا تھا۔ وہ بے اختیار پیچھے ہٹ گئی، مگر اس کی نظریں اپنے زخمی بیٹے کے چہرے پر جمی رہیں۔ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ کسی بھی طرح “شہرام” کو ہوش آ جائے۔ ڈاکٹر کے ساتھ آیا ہوا میڈیکل اسسٹنٹ تیزی سے آلات ترتیب دے رہا تھا، ہر چیز ڈاکٹر کے ہاتھ میں وقت سے پہلے پہنچ رہی تھی۔ “زیغم” کے حکم پر “شہرام” کا علاج حویلی کے اندر ہی ہونا تھا، باہر لے جانے کی اجازت نہیں تھی مگر انسانیت کے ناطے وہ اس کی جان بچا رہا تھا، چاہے نیت کچھ بھی ہو۔ ڈاکٹر نے سخت لہجے میں سب کو باہر جانے کا کہا، کیونکہ یہ ایک مکمل آپریشن تھا۔ “قدسیہ”، “توقیر” اور “نایاب” بے بسی کے عالم میں باہر نکل گئے، مگر ان کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ اندر، خاموشی کے عالم میں ڈاکٹر نے بلیٹ سے زخم کے گرد کاٹنا شروع کیا، اور کچھ ہی دیر میں گولی نکال لی گئی۔ “شہرام” کی ٹانگ سے نکلنے والا خون چادر کو مکمل طور پر رنگین کر چکا تھا۔ ڈریسنگ اور سٹچنگ کا عمل جاری تھا۔ گولی اتنی گہرائی میں نہیں تھی کہ ہڈی کو مکمل نقصان پہنچائے، لیکن زخم شدید تھا۔

ڈاکٹر نے آپریشن مکمل کیا اور باہر آ کر سخت لہجے میں اعلان کر دیا:
“گولی گہری نہیں تھی، مگر زخم شدید ہے۔ اگلے چھ مہینے تک یہ چلنے پھرنے کے قابل نہیں ہوگا۔”
“قدسیہ” کا چہرہ سفید پڑ گیا، “توقیر” نے بے یقینی سے ڈاکٹر کو دیکھا۔ “نایاب” کا ضبط ٹوٹنے کو تھا۔جس انداز سے ڈاکٹر بات کر رہا تھا “نایاب” کا دل چاہا کہ اس ڈاکٹر کے منہ پر ایک تھپڑ مار دے اگر پہلے والے حالات ہوتے تو ایسا ضرور کرتے مگر اب حالات بدل چکے تھے “زیغم سلطان” کی حکومت آچکی تھی اور اس وقت اس کے باپ کی حکومت پوری طرح سے وہ تہس نہس کر چکا تھا۔ ایسے میں وہ خاموش رہ کر اپنے غصے کو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

“اور ہوش؟”
“قدسیہ” نے ہلکی لرزتی آواز میں پوچھا۔

“کچھ ہی دیر میں آ جائے گا۔”
ڈاکٹر نے سرد لہجے میں کہا، جیسے کوئی عام بات ہو۔
یہ کہہ کر وہ اپنے آلات سمیٹنے لگا۔ میڈیکل اسسٹنٹ خاموشی سے مدد کر رہا تھا، اور جیسے ہی سب کچھ مکمل ہوا، ڈاکٹر “زیغم” کے فون پر دیے گئے حکم پر وہاں سے روانہ ہو گیا۔ “قدسیہ” نے ایک لمحے کے لیے اپنے بیٹے کو دیکھا، جو بے ہوشی کی حالت میں پڑا تھا۔ آج، پہلی بار، اسے لگا جیسے وہ واقعی قید میں ہیں۔ “توقیر” نے گہری سانس لی، اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔ “توقیر” تیز قدموں سے چلتا ہوا حویلی کے بڑے گیٹ تک آیا۔ جیسے ہی اُس نے چاروں طرف نظر دوڑائی، ایک بے یقینی کی لہر اُس کے چہرے پر دوڑ گئی۔ یہاں، جہاں کل تک اُس کے خاص لوگ پہرے دیتے تھے، آج وہ کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ جو ملازمین عام طور پر سر جھکائے رکھتے تھے، آج سینہ تان کر کھڑے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب بغاوت تھی—–ایک ایسی روشنی، جو “توقیر” کے لیے اجنبی تھی۔ اُس کی نظر جیسے ہی “رفیق” پر پڑی، اُس کے اندر غصے کا لاوا پھٹنے لگا۔

“رفیق!” تجھے میں نہیں چھوڑوں گا!”
“مجھے پورا یقین ہے کہ یہ سب تیری ہی سازش ہے، تُو نے “زیغم” کو یہاں بلایا ہے!”
“توقیر” دھاڑا، اُس کی آواز میں غصے اور بے بسی کا امتزاج تھا۔”رفیق” نے ایک لمحے کو بھی نگاہیں نہیں چرائیں۔ وہ ہمیشہ سے “توقیر” کے سامنے جھک کر بات کرنے کا عادی تھا، مگر آج–––– آج اُس کی آنکھوں میں نہ خوف تھا، نہ جھجک۔

“نہ سائیں! میری اتنی اوقات ہوتی تو کیا بات تھی!”
“رفیق” نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
“بدقسمتی سے، میں نے “زیغم” کو نہیں بلایا مگر کاش ایسا کر پاتا، تو خود کو خوش قسمت سمجھتا اور ہاں، ایک بات سن لیں—اب آپ کا خوف مجھ پر کام نہیں کرے گا۔ ڈر کے دن گئے، سائیں! جو کرنا ہے کر لیجیے!”
یہ صرف وضاحت نہیں تھی، اعلانِ بغاوت تھا!
“توقیر” کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اُس کے لب بھینچ گئے، مٹھیاں سختی سے بند ہو گئیں۔

“دیکھ لوں گا تم سب کو––––ایک ایک کو دیکھ لوں گا!”
وہ غصے سے پلٹا اور تیز قدموں سے حویلی کے اندر جانے لگا مگر حقیقت یہی تھی کہ یہ “توقیر” کے لیے ایک شرمندگی بھرا لمحہ تھا۔ جس حویلی میں کل تک اُس کی حکومت تھی، جہاں ہر شخص اُس کی مرضی سے چلتا تھا، آج وہاں ہر نظر میں بغاوت تھی۔ آج، وہ تنہا تھا––––مکمل تنہا!
°°°°°°°°°
رات کافی ہو چکی تھی۔چاندنی رات میں سرسبز میدانوں کے بیچوں بیچ قائم یہ شاندار حویلی اپنی مکمل شان و شوکت کے ساتھ کھڑی تھی۔ قدیم مغلیہ اور پشتون طرزِ تعمیر کا امتزاج لیے، یہ حویلی اپنی مثال آپ تھی۔ اونچے بلند و بالا ستون، پیچیدہ اور نفیس کندہ کاری سے مزین جھروکے، اور مضبوط آہنی دروازے اس کی قدامت اور رعب کی عکاسی کر رہے تھے۔ حویلی کے مین گیٹ پر چمکدار سنہری رنگ سے بنے نقش و نگار، اور اس پر نصب قیمتی فانوس روشنی بکھیر رہے تھے۔ گیٹ کے دونوں اطراف قدآور، سخت گیر محافظ کھڑے تھے، جن کے چہروں پر سنجیدگی اور چوکسی واضح تھی۔ کسی اجنبی کو اس دروازے کے اندر قدم رکھنے کی جرات نہ تھی—یہاں چڑیا بھی مائد خان کی اجازت کے بغیر پر نہیں مار سکتی تھی۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی ایک وسیع و عریض پتھر سے جُڑا صحن تھا، جس کے درمیان میں ایک قدیم فوارہ رواں تھا، اس کے گرد سرسبز باغیچہ تھا جہاں نایاب اور قیمتی پھول کھلے تھے۔ گلاب، موتیا، چنبیلی اور نرگس کی خوشبو ہوا میں بسی تھی۔ باغیچے کے ساتھ خوبصورت لکڑی کی بنی ٹیبلز رکھی تھیں، جہاں حویلی کے معزز مہمان شام کی چائے پیا کرتے تھے۔ حویلی کی دیواروں پر قیمتی پینٹنگز اور لکڑی کی نازک نقش و نگار والی کھڑکیاں تھیں، جو پرانی بادشاہی دور کی حویلیوں کی یاد دلاتی تھیں۔ داخلی دروازے کے قریب ہی چمچماتی ہوئی گاڑیوں کی ایک قطار کھڑی تھی، جس میں مہنگی ترین گاڑیاں شامل تھیں، جن کی جھلک تک کسی عام آدمی کو دیکھنے کو نہ ملتی۔ حویلی کے صدر دروازے کے سامنے ایک وسیع و عریض برآمدہ تھا، جہاں بڑی بڑی لکڑی کی آرائشی کرسیاں ترتیب سے رکھی تھیں۔ سامنے لگے جھاڑ فانوس کی روشنی پورے برآمدے کو جگمگا رہی تھی۔ اسی وقت گیٹ کے سامنے چمچماتی گاڑی آ کر رکی۔ جیسے ہی گاڑی کا ہارن بجا، گیٹ پر موجود محافظ ایک دم الرٹ ہو گئے، مگر جب گاڑی کے اندر موجود شخص پر نظر پڑی تو وہ فوراً مؤدب انداز میں پیچھے ہٹ گئے۔ یہ “مائد خان” کی گاڑی تھی، جو پورے جاہ و جلال کے ساتھ اپنے گھر پہنچا تھا مگر “مائد خان” اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ خوبرو شخصیت کا مالک “زیغم سلطان لغاری” اترا تھا۔ “زیغم” اس گھر میں پہلی بار نہیں آیا تھا۔ “زیغم” پہلے بھی کئی مرتبہ بچپن سے لے کر جوانی تک “مائد” کے گھر آتا جاتا رہا تھا کیونکہ “مائد” اور “زیغم” کی دوستی سکول کے دور سے چلی آ رہی تھی۔ حویلی کے اندر مائد کی مورے بڑی بے چینی کے ساتھ کافی دیر سے اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی تھی۔ جیسے ہی “مائد” کی گاڑی گیٹ پر رکی، اس کا ہارن بجتے ہی وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھیں۔ ہمیشہ کی طرح، آج بھی اپنے بیٹے کے لیے اندرونی گیٹ خود جا کر کھولا، حالانکہ گھر میں ملازموں کی ایک بڑی فوج موجود تھی لیکن “مائد” کی مورے کے دل کو تسکین صرف تب ملتی جب وہ اپنے ہاتھوں سے گیٹ کھول کر بیٹے کو گھر آتا دیکھتیں۔ “مائد” گاڑی سے اترا اور جیسے ہی آگے بڑھا، مورے کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ ہمیشہ کی طرح خوش دلی سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں، مگر آج ان کے ساتھ کوئی اور بھی تھا۔ “زیغم سلطان” اور ایک پیاری معصوم سی لڑکی—جس کے چہرے پر زخموں کے نشان تھے، ہاتھوں پر پٹیاں بندھی تھیں، اور رنگت زرد پڑ چکی تھی۔”مائد” نے “السلام وعلیکم” کہتے ہوئے اپنی مورے کے دونوں ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگائے تھے۔

“وعلیکم السلام۔۔۔میرا بچہ اتنی دیر کیوں لگا دی کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی اور تُو میرا فون بھی نہیں اٹھا رہا تھا، میں کال پہ کال کیے جا رہی تھی۔ میں پریشان ہو گئی تھی۔”
اس کی مورے نے آتے ہی شکایت زدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔”دانیہ” اور “زیغم” نے حسرت بھری نگاہوں سے “مائد” کی ماں کی جانب دیکھا تھا۔ کتنی محبت بھری یہ گھڑی تھی۔اتنی شفقت اور محبت تھی اس کی ماں کے لہجے میں مگر بد نصیبی نے ان سے ان کی جنت کو لے لیا تھا۔

“مورے میری پیاری مورے سب کچھ بتا دوں گا کیا گیٹ پر کھڑے کھڑے رہ کر سب کچھ پوچھیں گی؟”
“میرے ساتھ مہمان آئے ہیں، ان سے نہیں ملیں گی۔آپ جانتی ہیں ان کو؟”
“مائد” کا اشارہ “زیغم” کی جانب تھا۔

“ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں نہ پہچان سکوں۔ یہ تو میرا بیٹا ہے، اسے تو میں بچپن سے دیکھتی آئی ہوں۔ اب بھلا یہ پوچھنے کی بات ہے؟”
“سالوں بعد آیا ہے، پر ہے تو اپنا بچہ، آجا، آجا میرے بیٹے!”
مورے نے شفقت سے “زیغم” کے سر پر ہاتھ پھیرا، اور “زیغم” کے لبوں پر ممتا کی مورت کو دیکھ کر ایک مدھم مسکراہٹ پھیل گئی۔

“مائد” نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کو بتایا:
“اور یہ “دانیہ” ہے، “زیغم” کی بہن۔ کچھ دن ہمارے گھر مہمان رہے گی، اور یہ ہمارے لیے بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ “زیغم” نے ہمیں اس لائق سمجھا۔”
“مائد” نے بڑی رازداری کے ساتھ اپنی ماں کے کان میں بتایا تھا۔

مورے نے فوراً خوشی سے ہاتھ جوڑ کر کہا:
“بسم اللہ، بسم اللہ! اگر میری بیٹی ہمارے گھر رہے گی، تو اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہو سکتی ہے؟”
“دل بہلا رہے گا، رونق لگی رہے گی۔”
“میں خدا کا شکر کرتی ہوں جس نے میرے گھر پر اس پیاری سی نعمت کو بھیجا ہے۔”
مورے نے آگے بڑھ کر “دانیہ” کو گلے لگا کر اس کا ویلکم کیا تھا اور انہیں اپنے ساتھ بڑے سے ہال میں لے کر آگئی مگر “دانیہ” کی حالت دیکھ کر مورے کی نظریں اس کے چہرے پر مرکوز ہو کر رہ گئی تھیں۔ ایک لمحے کو رک کر، “دانیہ” کی طرف بغور دیکھا۔ اس کے ہاتھوں پر پٹیاں بندھی تھیں، چہرہ زرد تھا، زخموں کے نشان نمایاں تھے، اور وہ کمزور سی صوفے پر بیٹھی تھی، “زیغم” اس کے ساتھ بیٹھا تھا، جبکہ “مائد” اور مورے سامنے والے صوفے پر دونوں بیٹھے تھے۔

“میری بیٹی کے ہاتھوں کو کیا ہوا؟”
“چہرہ کیوں ایسا زرد ہے۔اتنے زخم کیوں ہیں میری بچی کے چہرے پر؟”
“اگر مناسب سمجھے، تو بتا دو، نہ سمجھے تو میں کوئی سوال نہیں کروں گی، میرے دل کو بڑا دکھ ہو رہا ہے اس کی حالت دیکھ کر۔”
مورے نے شفقت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے نرمی سے پوچھا تھا۔

“زیغم” نے گہری سانس لیتے ہوئے نظریں اٹھا کر ایک نظر مورے کی طرف دیکھا۔
“نہیں اماں سائیں، آپ کو پورا حق ہے پوچھنے کا۔”
“زیغم” بچپن سے ہی “مائد” کی ماں کو جب بھی آتا تھا اماں سائیں کہہ کر ہی بلاتا تھا کیونکہ سندھی میں ماں کو زیادہ تر اماں سائیں کہہ کر بلاتے ہیں اور “زیغم” “مائد” کی ماں کو اپنی ماں کی طرح ہی سمجھتا تھا۔

وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولا تھا:
“اماں سائیں اور ابا سائیں کے بعد، میری غیر موجودگی میں دشمنوں نے خوب فائدہ اٹھایا…پورے گھر پر اپنی ملکیت بنا لی ہر چیز پر قبضہ کر لیا۔ اتنا ہی نہیں میری معصوم بہن کو بہت تکلیف دی۔”
“زیغم” کو یہ سب کچھ بتاتے ہوئے بہت تکلیف ہو رہی تھی۔

مورے کے چہرے پر ایک دم غصہ ابھر آیا تھا۔
“اللہ غرق کرے ایسے ظالموں کو!”
“گھر کی بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے کوئی؟”
“مائد”، “زیغم” خبردار جو ان ظالموں کو چھوڑا! ایسا سبق سکھانا کہ دوبارہ کبھی ایسا کرنے کے بارے میں سوچیں بھی نہ!”

پھر جیسے ایک خیال آیا، تو تجسس سے پوچھا:
“اور اس کا شوہر؟”
“وہ کہاں تھا؟ اس نے خیال کیوں نہ رکھا اپنی بیوی کا؟”

“مائد” کا چہرہ سخت ہو گیا، آواز میں برف سی سردی اتر آئی۔
“شوہر پاس ہی تھا، اماں… پر بے غیرت تھا! اور بے غیرت لوگ اپنی عزتوں کی حفاظت کبھی نہیں کر پاتے!”
“زیغم” نے ایک لمحے کو نظر اٹھا کر “مائد” کو دیکھا، جبکہ “دانیہ” خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھی تھی، ہاتھوں پر بندھی پٹیوں کو گھور رہی تھی۔ وہ پہلے والی “دانیہ” نہیں رہی تھی، جو ہوا کے جھونکے کی طرح کھلکھلاتی تھی، اس کا غرور، اس کی انا، اس کی خوبصورتی، اس کا کانفیڈنس— سب چھین لیا گیا تھا۔ وہ بس ایک پتلے کی مانند صوفے پر بیٹھی تھی۔

مورے کا دل تڑپ اٹھا، اس کے قریب آئی، شفقت سے اس کا چہرہ تھاما اور نرمی سے بولی:
“میری بیٹی! فکر نہ کر، اب میں ہوں نا!”
“میں تیرا خیال رکھوں گی، اپنے ہاتھوں سے تجھے دیسی کھانے کھلا کھلا کر تندرست کر دوں گی۔”
پھر محبت سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا، جیسے اپنی ممتا میں چھپا لیا ہو۔ “دانیہ” کو ایک لمحے کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے پہلو میں اس کی اپنی اماں سائیں بیٹھی ہو۔ آنکھوں میں ضبط ٹوٹا، اور آنسو خاموشی سے بہہ نکلے۔

مورے نے فوراً نرمی سے اس کے آنسو پونچھے۔
“نہ، میری بیٹی، نہ! رونا نہیں! کمزور لوگ روتے ہیں، اور میری بیٹی کمزور نہیں ہے!”
“زیغم” مورے کی محبت کو دیکھ کر پرسکون ہو گیا تھا اسے یہ یقین ہو گیا تھا کہ اس کی بہن بالکل صحیح جگہ پر پہنچی ہے یہاں پر اس کی بہن کا بھرپور خیال رکھا جائے گا۔

“آغا جان کہاں ہیں؟”
“مائد” نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا تھا۔

“وہ آج قریبی گاؤں میں ان کے کسی دوست کا انتقال ہو گیا تھا، وہیں گئے ہیں، بول کر گئے تھے کہ رات کو دیر سے آئیں گے۔”

“ہمم…”
“مائد” نے سر ہلایا اور ارد گرد نظریں گھمائیں۔
“درخزائی” کہاں ہے؟”

“وہ کہاں ہوگا؟ اپنے کمرے میں ہے!”
“جب سے وہ لڑکا اسکول سے واپس آیا ہے، ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس کی ریسنگ ختم نہیں ہوئی۔ پتہ نہیں کیا الٹی سیدھی گاڑیاں اڑاتا رہتا ہے اسکرین پر بیٹھا ہوا!”
مورے نے مسکراتے ہوئے بتایا۔

“اچھا مورے، اس کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں، مت روکو اسے، کیا کریں؟”
“درخزائی”، جو کہ “مائد” کے چچا کا بیٹا تھا، مگر حقیقت میں اس کے لیے سگے بھائی سے کم نہ تھا۔ “مائد” کی محبت اور اپنائیت نے کبھی “درخزائی” کو احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ یتیم ہے۔بہت چھوٹی عمر میں اس کے ماں باپ، یعنی “مائد” کے چچا اور چچی، ایک کار ایکسیڈنٹ میں انتقال کر گئے تھے۔ تب سے “درخزائی” ان کے ساتھ ہی رہتا تھا، مگر حویلی میں کبھی کسی نے اسے یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ اکیلا ہے۔ وہ بھی مورے کو ماں کی طرح “مورے” اور آغا جان کو “آغا جان” ہی کہہ کر بلاتا تھا۔ “مائد” کو “درخزائی” سے خاص انسیت تھی۔ وہ اس سے تقریباً 16 سال بڑا تھا، مگر اسے چھوٹے بھائی سے زیادہ ایک بیٹے کی طرح چاہتا تھا۔

“اللہ کرے وہ ہمیشہ خوش رہے!”
مورے نے آہستہ سے کہا۔

“آمین”
“اچھا مورے، ہمیں اجازت دیں، آپ دانیا کا خیال رکھیے گا، ہمیں واپس حویلی جانا ہے۔”
“زیغم” اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

“ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟”
“کھانا تو کھا کر جاؤ! ایسے نہیں جانے دوں گی۔”
مورے نے ہاتھ باندھ کر سختی سے کہا۔

“مورے پلیز! میرا حویلی جانا بہت ضروری ہے۔”

“نہیں، کھانا کھا کر جانا ہے۔”
“کھانے سے بھر کر کچھ نہیں ہوتا۔”
مورے نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔

“زیغم”، مورے ٹھیک کہہ رہی ہے، کھانا کھا لینا چاہیے۔”
“مائد” نے نرمی سے کہا۔

“تم کھا لینا، مجھے جانا ہے۔”
“زیغم” نے دو ٹوک انداز میں کہا اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔

“تم اکیلے بالکل نہیں جا سکتے وہاں پر!”
“میں تمہارے ساتھ جاؤں گا۔”
“مائد” نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔

“نہیں، اس کی ضرورت نہیں ہے۔”

“میں نے تم سے پوچھا نہیں کہ ضرورت ہے یا نہیں۔”
“مائد” کا لہجہ سخت ہو چکا تھا۔

“مائد”، میری بات سنو۔۔۔”

“تمہاری ہزار باتیں سنوں گا مگر رہوں گا تمہارے ساتھ!”
“دوبارہ یہ مت کہنا کہ تمہیں میری ضرورت نہیں۔ اگر تجھے میری ضرورت نہیں ہے تب بھی میں تیرے ساتھ جاؤں گا کیونکہ مجھے تیری بہت ضرورت ہے۔ سالوں پہلے تُو مجھے چھوڑ کر چلا گیا تھا، ایک بار پھر سے تجھے کھونا نہیں چاہتا!”
“اور ان لوگوں پر مجھے بالکل یقین نہیں ہے۔ جانتا ہوں کہ تو بہادر ہے، خود ہر چیز ہینڈل کر سکتا ہے، اس پر مجھے ذرا بھی شک نہیں مگر تیرے ساتھ رہنا میری مجبوری ہے کیونکہ مجھے یہاں پر نہ تو نیند آئے گی، نہ سکون ملے گا، اور میں تیرے ساتھ رہوں گا تو مطلب رہوں گا۔”
“مائد” کے انداز میں ایک دوست کا حق جھلک رہا تھا۔ “زیغم” چاہ کر بھی زیادہ انکار نہیں کر پایا۔

“ماشاءاللہ! اللہ تعالیٰ نظرِ بد سے بچائے میرے بیٹوں کی دوستی کو۔”
“زیغم” کی ماں مسکراتے ہوئے ان کی بلائیں اتار رہی تھی۔

“چلو، تم لوگ منہ ہاتھ دھو کر ٹیبل پر پہنچو، میں ابھی تم لوگوں کے لیے کھانا لگواتی ہوں۔”

“چلو آؤ، میری پیاری بیٹی کو میں اس کا کمرہ بھی دکھاتی ہوں۔”
مورے نے “دانیہ” کو اپنے ساتھ اٹھاتے ہوئے شفقت سے کہا۔

“مورے “درخزائی” کو بھی بلوائیں!”

“وہ اس وقت نہیں آئے گا جاتے ہوئے بول کر گیا تھا کہ اس نے کچھ پیزا وغیرہ آرڈر کر کے کھا لیا ہے تو اس سے مت بلایا جائے اس کی کوئی آن لائن ریس چل رہی ہے!”

“یہ بہت غلط کرتا ہے۔ گھر کا کھانا کم اور باہر کے پزے وغیرہ کھا کر اپنی صحت خراب کرتا ہے!”
“مائد” خان منہ میں بڑبڑاتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا۔

“کیا کروں یہ تمہاری محبت اور لاڈ کا نتیجہ ہے وہ کچھ سنتا نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ “مائد” بھائی آئیں گے تو میں ان کو بتا دوں گا مجھ پر سختی مت کیا کریں!”
“مائد” مسکرا کر رہ گیا تھا اپنے چھوٹے سے بھائی کی دھمکی پر۔
“دانیہ” بالکل خاموش تھی، جیسے وہ یہاں پر موجود ہی نہ ہو، جیسے سب کچھ اس کے لیے اجنبی تھا۔ کچھ ہی دیر میں سب لوگ منہ ہاتھ دھو کر ٹیبل پر پہنچ چکے تھے، اور کھانے کی مہک فضا میں پھیل چکی تھی۔ تازہ دیسی کھانوں کی خوشبو بتا رہی تھی کہ کھانا بہت لذیذ ہوگا اور اس میں ممتا کی محبت شامل تھی۔ “زیغم” اور “مائد” تو پیٹ بھر کر کھا رہے تھے، مگر “دانیہ” جیسے نوالوں سے کھیل رہی تھی، خاموشی سے نظروں کے سامنے پلیٹ کو دیکھ رہی تھی مگر اصل محبت اور اپنائیت کا لمحہ تب آیا جب مورے نے خود چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر “دانیہ” کے منہ میں ڈالنے شروع کیے۔ “دانیہ” کے انکار کے باوجود، مورے شفقت سے اسے کھلاتی جا رہی تھی۔ “دانیہ” محبت بھری نظروں سے اس ماں کے روپ کو دیکھ رہی تھی، جیسے کوئی خواب ہو۔ وہ انکار نہیں کر پائی اور نوالے کھانے لگی۔
“مائد” اور “زیغم” آپس میں باتیں کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً اس محبت بھرے منظر کو دیکھ رہے تھے، جہاں ممتا نے بیٹی کو اپنی گود میں سمیٹ لیا تھا۔ کچھ ہی لمحوں میں “دانیہ” کے چہرے سے ویرانی کے رنگ پھینکے پڑنے لگے تھے اور یہ چیز “زیغم” کو پرسکون کر رہی تھی۔
°°°°°°°
رات کی تاریکی میں موبائل اسکرین کی روشنی مدھم کمرے کو روشن کر رہی تھی۔ وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھی تھی، ہاتھ میں موبائل تھا، اور اسکرین پر صرف ایک ہی نام جگمگا رہا تھا… “زیغم” یہ نام صرف تصویر پر ہی نہیں اس کے دل پر بھی چھپا ہوا تھا۔ “زیغم” کی تصویر سامنے تھی، سیاہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس، جیسے ہمیشہ کی طرح باوقار اور پُرکشش۔ گہری نیلی آنکھیں، جو اس کی طرف دیکھتی محسوس ہو رہی تھیں، جیسے وہ خاموشی سے اس کے ہر احساس کو پڑھ رہا ہو۔ گورا رنگ اور اس پر پھیلی ہوئی قدرتی سرخی… وہی مخصوص ایٹیٹیوڈ، وہی دبدبہ، جس نے ہمیشہ اسے بے بس کر رکھا تھا۔

“زیغم…” تم اس طرح مجھے اگنور نہیں کر سکتے!”
اس نے تڑپ کر کہا، جیسے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہو۔ جیسے تصویر سب کچھ سن رہی ہو۔ موبائل کی اسکرین پر اس کے انگلیوں کے پور ہلکے سے لرزے، وہ “زیغم” کی تصویر کو چھوتے ہوئے آہستہ سے اپنے لبوں سے لگا گئی۔ جیسے اس لمس میں بھی وہ اس کی قربت محسوس کرنا چاہتی ہو۔ فون ملایا ہوا تھا مگر مقابل نہ تو فون اٹھا رہا تھا نہ کٹ کر رہا تھا۔ یہ خاموشی اس کے دل کو توڑ رہی تھی، مگر وہ ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔
اس نے دوبارہ نمبر ڈائل کیا… ایک، دو، تین بیپ… پھر وہی خاموشی۔ نہ کوئی جواب، نہ کال کاٹنے کی زحمت۔

“ایک غلطی ہو گئی مجھ سے… جسے تسلیم کرنے کے لیے میں تیار ہوں، مگر تمہیں تو جیسے میرے دور ہونے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا!”
اس کی پلکیں بھیگنے لگیں، مگر ہاتھ اب بھی اس تصویر پر ٹھہرا ہوا تھا۔ جیسے وہ اس چہرے کے ہر زاویے کو اپنی آنکھوں میں محفوظ کر لینا چاہتی تھی۔

“زیغم” جان–––– کیوں کیوں مجھے اگنور کر کے یہاں سے چلے گئے اور جاتے ہوئے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ کیا میرا جرم اتنا بڑا ہے کہ تم ایک بار مجھے صفائی کا موقع دینے کو تیار نہیں ہو؟”
“کیا میرا تم پر کوئی حق نہیں تھا، جو تم میری ایک چھوٹی سی خطا کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہو؟”
“میں مر رہی ہوں تمہارے بغیر پلیز میرا فون اٹھاؤ “زیغم؟”
وہ خود سے ہی بولتے ہوئے تڑپ کر بولتے ہوئے بیڈ پر لیٹتی چلی گئی تھی۔ سکرین پر “زیغم” کی تصویر ویسی کی ویسی تھی، خاموش، مگر گہری نیلی آنکھوں میں وہی روایتی سختی۔ پکچر کے اندر بھی ایٹیٹیوڈ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ انداز ایسا جیسے کہہ رہا ہو کہ “مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔”

“پیار کرتی ہوں تم سے، اور تم بھی مجھ سے پیار کرتے ہو نا؟”
“تو کیا محبت میں ایک غلطی کی معافی نہیں ہوتی؟”
وہ “زیغم” کی سکرین پر نظر آتی ہوئی خوبصورت دلکش پکچر سے پوچھتے ہوئے بے قرار ہو رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے انگلیاں “زیغم” کے چہرے پر پھیریں، ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، جیسے وہ اس تصویر میں ہی اس کی قربت محسوس کرنا چاہتی ہو مگر پھر حقیقت کا ادراک ہوا……… “زیغم” تو یہاں تھا ہی نہیں، بس اس کی بے رحم خاموشی تھی۔

“زیغم…” پلیز فون اٹھاؤ!”
آخری بار اس نے فون کان سے لگایا، مگر دوسری طرف اب بھی وہی سرد خاموشی تھی۔ وہ نم آنکھوں سے ٹوٹے دل کے ساتھ موبائل کی روشنی میں بیٹھی رہی، “زیغم” کی تصویر کو دیکھتی رہی، اس کی نیلی آنکھوں میں اپنا درد تلاش کرتی رہی… مگر وہاں صرف خاموشی تھی، اور یہ خاموشی کسی گونجتی چیخ سے کم نہیں تھی۔ ایک چھوٹی سی غلطی نے ان کے خوبصورت رشتے کو تباہ کر دیا تھا اور وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ یہ غلطی اس نے خود کی ہے، “زیغم” کی اس میں کوئی غلطی نہیں مگر اب تو وقت گزر چکا تھا، وہ معاف کرنے کو تیار نہیں تھا، بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ اسے مناتی بھی کیسے وہ تو امریکہ سے بھی بنا بتائے واپس جا چکا تھا۔
°°°°°°°
“مائد” کی مورے “دانیہ” کو کھانا کھلانے کے بعد آرام کی غرض سے روم میں چھوڑ آئی تھی جبکہ “زیغم” اور “مائد” کچھ دیر ٹیبل پر بیٹھے ہوئے کسی خاص پہلو پر بات کرتے رہے تھے اور اب وہ حویلی واپس جا رہے تھے۔ “زیغم” “مائد” کو بتا کر “دانیہ” سے ملنے روم تک آیا تھا۔ “زیغم” دروازہ کھول کر روم کے اندر داخل ہوا۔ دروازہ نرمی سے بند کرتے ہوئے “دانیہ” کی جانب بڑھا تھا۔ “دانیہ” بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی، نظریں جھکی ہوئی، جیسے کسی گہری سوچ میں گم ہو۔ “زیغم” اس کے قریب آ کر ٹھہرا، ایک نظر کمرے کے شاندار اندرونی حصے پر ڈالی۔ وسیع و عریض کمرہ، نرم و گداز قالین، دیواروں پر نفیس نقش و نگار، اور ایک طرف خوبصورت جھلملاتے پردے… یہ کوئی عام کمرہ نہیں تھا، بلکہ گھر کا سب سے خاص کمرہ لگ رہا تھا، جو خاص طور پر “دانیہ” کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

“دانیہ”، میں جا رہا ہوں، تم یہاں آرام سے رہنا۔”
“زیغم” نے نرم مگر سنجیدہ لہجے میں کہا۔
“دانیہ” نے کوئی جواب نہیں دیا، بس انگلیاں آپس میں گوندھتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔ “زیغم” نے اس کے چہرے کو بغور دیکھا، وہ جانتا تھا کہ اس کے اندر طوفان برپا ہے، مگر زبان سے کچھ کہے بغیر سب سہنے کی شاید وہ عادی ہو چکی تھی۔

“دانیہ!”
“زیغم” نے تھوڑا جھک کر ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے اس کا چہرہ اوپر کو کرتے مخاطب کیا،وہ اس کی خاموشی توڑنا چاہتا تھا۔

“آپ جا رہے ہو؟”
“دانیہ” نے آہستہ سے سر اٹھایا، آنکھوں میں نمی کے ساتھ گہری اداسی تھی۔

“ہاں، اور تم یہاں بالکل محفوظ ہو۔ اماں سائیں بہت اچھی ہیں۔ وہ تمہارا بہت خیال رکھے گی، اس لیے بے فکر رہو۔”
“زیغم” نے اطمینان دلانے والے انداز میں کہتے ہوئے “دانیہ” کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔

“اور آپ؟”
“دانیہ” کے لبوں سے ہلکی سرگوشی نکلی۔ بھائی کے تحفظ کو محسوس کرتے ہوئے آنسو بھی جاری ہو کر رخساروں سے بہنے لگے تھے۔ “زیغم” لمحہ بھر کو رکا، پھر ہلکا سا مسکرا کر اس کے اداس چہرے کو دیکھا۔

“میں………… میں یہیں ہوں، کہیں بھی جاؤں، مگر جب بھی میری پیاری بہنا کو ضرورت ہو گی، تو میں ہمیشہ تمہارے لیے حاضر ہوں۔”
“دانیہ” نے ایک نظر “زیغم” پر ڈالی، اس کے جانے کی خبر سن کر نجانے کیوں دل بوجھل ہو رہا تھا۔

“زیغم…” بھائی کل آپ واپس آؤ گے؟”

“زیغم” نے نرمی سے سر ہلایا۔
“ہو سکتا ہے، اگر تم کہو تو ضرور آؤں گا۔”

“میں تو چاہتی ہوں کہ آپ یہاں سے نہیں جائیں۔”
“دانیہ” نے کہتے ہوئے “زیغم” کے ڈر سے جلدی سے نظر چرا لی۔

“اس لیے تو کہا تھا کہ تم میرے ساتھ وہیں پر رہو، ہمارے گھر پر ہماری حویلی، مگر تم مانی نہیں۔ خیر اب جب تم حکم کرو گی تمہارا بھائی فوراً سے پہلے تمہارے پاس ہوگا۔ جب تمہارا دل چاہے حکم کرنا میں تمہیں آ کر حویلی لے جاؤں گا۔”
“ذہن سے ہر ڈر کو نکال دو اب ظلم کا دور گیا، اب ہماری باری ہے!”
“میں ان کا حشر کیا کرتا ہوں تم صرف یہ سوچو!”
“زیغم” نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ تسلی بخش انداز میں کہا۔
“دانیہ” نے کوئی جواب نہیں دیا، بس آہستہ سے سر جھکا لیا۔ “دانیہ” کے دماغ پر جو ڈر کا عکس، جو پہرے ان ظالموں نے بٹھا رکھے تھے، وہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہو سکتے تھے۔ اگر کہا جائے “دانیہ” کو اندر سے ان لوگوں نے پوری طرح سے کھوکھلا کر دیا ہے تو غلط نہیں تھا۔ “زیغم” نے چند لمحے اسے دیکھا، دل میں دشمنوں سے نپٹنے کا عہد کرتے ہوئے، ایک نظر پورے کمرے پر ڈالی، جیسے تسلی کر رہا ہو کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ پھر ‘اللہ حافظ’ کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔

“بھائی…”
“دانیہ” کی مدھم سی آواز پر وہ رک گیا۔

“پلیز اپنا خیال رکھنا––––وہ بہت ظالم ہیں––––میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی۔”
“زیغم” پلٹا ایک لمحے کے لیے کچھ بولا نہیں، بس اس کی طرف دیکھا، پھر ہلکے سے سر جھکا کر لبوں پر طنزیہ سی مسکراہٹ پھیلائے ہوئے تھا۔

“اگر وہ ظالم ہیں تو میں ان سے کہیں زیادہ ظالم ہوں۔۔۔۔بے فکر رہو میں اپنا خیال رکھوں گا اور پوری حفاظت کروں گا کیونکہ میری بہن کا حکم ہے۔”
“زیغم” کا لہجہ اس قدر میٹھا تھا کہ “دانیہ” کو اپنے زخموں پر لگتی ہوئی مرہم کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔ وہ مسکراتی نظر اس پر ڈال کر دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ “دانیہ” وہیں بیٹھی ، دروازے کی طرف دیکھتی رہی، اس کی اداس نظریں “زیغم” کے جا چکے راستے کو دیکھ رہی تھی۔ کمرے میں ہلکی روشنی تھی، اور باہر کی ٹھنڈی ہوا پردوں کو ہلکے سے ہلا رہی تھی۔ باہر کی فضا خوشگوار تھی، مگر اندر… “دانیہ” کے دل میں ویرانیوں کے دیے جل رہے تھے۔ ہر چیز معمول کے مطابق تھی، مگر اس کے اندر ایک بے نام سی اداسی تھی مگر پھر “زیغم” کے الفاظ ذہن میں گونجے… اس کے مضبوط لہجے میں چھپی محبت، تحفظ کا احساس، اور وہ مان، جو صرف ایک بھائی ہی دے سکتا ہے۔

بھائی… وہ محافظ ہوتا ہے، جس کی پناہ میں بہن خود کو دنیا کی خوش قسمت شہزادی سمجھتی ہے۔ بھائی کی محبت صرف لفظوں تک محدود نہیں ہوتی، وہ دعاؤں کی صورت، حفاظت کی دیوار، اور زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ جب بھائی ساتھ ہو، تو راہیں آسان لگتی ہیں، جب بھائی کی دعائیں ہوں، تو مشکلات بھی سر جھکا دیتی ہیں۔ بھائی اور باپ کے جوتے دروازے کے باہر رکھے ہوں تو وہ صرف جوتے نہیں ہوتے، وہ اس گھر کی عزتوں کی پہرہ داری کرتے ہیں، وہ دیواریں بنتے ہیں جن کے سائے میں بہن خود کو سب سے زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہے۔
“دانیہ” نے گہری سانس لی، “زیغم” کی موجودگی کا احساس ہی کافی تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اکیلی نہیں ہے، اس کا بھائی اس کے ساتھ ہے۔ اس کا محافظ، اس کا مان… اس کی زندگی کی سب سے بڑی ڈھال۔ یہ سوچ کر اس کے دل میں سکون سا اترنے لگا، مگر کہیں نہ کہیں، کسی کونے میں ایک بے نام سا ڈر اب بھی چھپا بیٹھا تھا۔ وہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے تکیے پر سر ٹکائے بلینکٹ کو مضبوطی سے خود پر اوڑھتے ہوئے ماضی کے ان دردناک دریچوں میں جا نکلی تھی، جہاں ہر رات اس کے لیے ایک نئی اذیت لے کر آتی تھی۔ وہ دن بھر “قدسیہ” اور “نایاب” کے ظلم سہتی، کام کے بوجھ تلے پس کر، تھک ہار کر بمشکل چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کرتی لیکن جیسے ہی سکون کی ایک جھلک محسوس ہونے لگتی، عذاب ایک بار پھر اس کی دہلیز پر دستک دے دیتا۔ اچانک دروازہ زور سے کھلا اور قدموں کی بھاری چاپ نے سکون کے اس مختصر لمحے کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ وہ بوکھلا کر اٹھ بیٹھی، دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں، آنکھوں میں خوف لہرا گیا۔

“ک… کون؟”
اس نے لرزتی آواز میں پوچھا، مگر اگلے ہی لمحے کسی نے بے دردی سے بلینکٹ کھینچ کر نیچے پھینک دیا۔

“میں ہوں…… اور کون ہو سکتا ہے؟”
آواز میں زہر گھلا تھا، حقارت کی سلگتی چنگاریاں تھیں۔

“کیوں؟ تمہیں کسی اور کی امید تھی؟ گندی عورت!”
“مردوں کو چوری چھپے اپنے کمرے میں بلوانے کی عادت جو ہے نا تمہیں؟”
“اسی لیے پتہ ہی نہیں چلا کہ شوہر آیا ہے یا عاشق؟”
شراب کے نشے میں دھت، وہ رات کے تیسرے پہر مویشی درندہ بن کر اس پر ٹوٹ پڑا تھا۔ وہ اذیت میں تڑپی، کانپتی رہی، مگر اس کی بے بسی کسی کو دکھائی نہیں دی۔ اس کی گردن پر بے رحمی سے دانت گاڑ دیے گئے، جیسے کوئی شکاری اپنے شکار کو چیر رہا ہو۔ دھوپ میں جھلسی ہوئی اس کی کمزور کلائیاں “شہرام” کی گرفت میں جکڑی جا چکی تھیں۔ وہ کتنی تڑپ کر روئی تھی… مگر کوئی اس کی آواز سننے والا نہیں تھا۔ وہ ماں باپ کی لاڈلی بیٹی تھی… جس کے ناز اٹھانے میں اس کے اماں سائیں نے کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جسے کبھی ایک پانی کا گلاس بھی خود سے اٹھانے کی نوبت نہ آئی تھی، جو نرم مخملی بستروں پر سونے والی شہزادی تھی۔ جس کی نزاکت گلاب کے کومل پھولوں جیسی تھی، جس کے ناز و انداز میں معصومیت اور تربیت کی خوشبو تھی مگر تقدیر نے اس شہزادی کو سنگ لاخ راستوں پر بے دردی سے گھسیٹ دیا تھا۔ وہ جو ہاتھ اٹھانے کے لیے بھی نرمی کی طلبگار تھی، وہ جو ذرا سی سختی پر بھی سہم جاتی تھی، اسے کتنی درندگی اور بے رحمی سے روندا گیا تھا، نہ صرف ایک رات… بلکہ کئی راتوں، کئی دنوں تک!
وہ شوہر کہلانے کے لائق نہیں تھا!
“شہرام” نام کا ایک سایہ تھا، جو بس اذیت دینے کے لیے اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا تھا۔ نہ وہ شوہر کی طرح محبت سے پیش آتا، نہ محافظ بن کر اس کے سر پر سایہ کرتا، نہ ہی قربت میں کوئی اپنائیت، کوئی انسیت ہوتی۔ بس ہر بار… ایک نئی اذیت، ایک نیا زخم، ایک نئی تذلیل!
وہ کمبل میں چھپ کر سسک رہی تھی، جیسے خود کو دنیا سے اوجھل کر دینا چاہتی ہو، جیسے ان یادوں سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔ “شہرام” کے دیے گئے زخم اس کے جسم پر ہی نہیں، اس کی روح پر بھی بے شمار تھے۔ ایسے نشان، جو کبھی مٹ نہیں سکتے تھے۔ وہ اس وقت بھی یادوں کی ان زنجیروں میں جکڑی تڑپ رہی تھی، سسک رہی تھی، بلک رہی تھی…… جیسے کوئی قیدی اپنی سزائے موت سے پہلے آخری چیخیں مار رہا ہو۔
ان سے دور آ کر بھی تحفظ کا احساس محض ایک سراب سا لگ رہا تھا، وہ اب بھی خوفزدہ تھی۔ ایسا خوف، جو اس کی رگوں میں اتر چکا تھا… ایسا ڈر، جو اس کی سانسوں میں بس گیا تھا… ایسا وحشت بھرا سایہ، جو روشنی میں بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا تھا۔ وہ کمبل میں سمٹی ہوئی تھی… جیسے یہ کوئی قلعہ ہو، جو اسے بیرونی دنیا کے ظلم سے بچا سکتا ہو، مگر اندر کی ٹوٹ پھوٹ کا کیا؟
وہ سانس بھی دھیرے لے رہی تھی… جیسے ذرا سی آہٹ بھی اسے کسی عذاب میں دھکیل سکتی ہو۔ وہ باہر دیکھنے سے بھی گھبرا رہی تھی…… ایسا کیوں تھا؟
وہ اب یہاں محفوظ تھی، مگر پھر بھی دل میں ایک خوف تھا، جو بار بار دھڑکن تیز کر دیتا تھا۔یہ کیسی وحشت تھی ان لوگوں کی، جو معصوم “دانیہ” کے دل و دماغ پر وحشی درندوں کی طرح نقش ہو چکی تھی، جو صرف جسم کو نہیں، روح کو بھی ریزہ ریزہ کر چکی تھی۔ وہ آنکھیں بند کیے پڑی تھی، مگر یادوں کے دروازے بند کرنے کا کوئی اختیار اس کے پاس نہ تھا۔
°°°°°°°°°
اندھیری رات میں چمچماتی ہوئی بلیک جیپ حویلی کے مرکزی دروازے کے سامنے آ کر رُکی۔ گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی روشنی گیٹ پر کھڑے گارڈ کے چہرے پر پڑی، جو فوراً سیدھا ہو کر مستعد کھڑا ہو گیا۔ جیپ کے دروازے کا لاک کھلا، اور اندر سے “زیغم” نے اترتے ہی ایک نظر حویلی کے ماحول پر ڈالی۔ بلیک کلر کا تھری پیس سوٹ، گہری نیلی آنکھوں میں دبنگ پن اور چہرے پر وہی خاص وڈیرانہ رعب لیے، جیسے کوئی بادشاہ اپنے قلعے میں داخل ہو رہا ہو۔ یہ اس کا قلعہ ہی تھا، جہاں کا بادشاہ اس کا بابا سائیں “سلطان لغاری” تھا مگر ان کے جانے کے بعد یہاں پر کتے سردار بن کر بیٹھ گئے تھے۔
وہ گہری سوچ سوچتے ہوئے “مائد” کے ساتھ تھوڑا آگے بڑھا اور گیٹ پر کھڑے خاص گارڈ کو سخت نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا:
“سب نمک حراموں کو پرانی حویلی پہنچا دیا؟”

گارڈ نے فوراً مؤدبانہ انداز میں سر جھکایا۔
“جی سائیں، ان کو تو “رفیق” خود ساتھ چھوڑنے کے لیے گیا ہوا ہے۔”
“زیغم” نے ایک لمحے کو گہری سانس لی، جیسے دماغ میں کئی باتیں گردش کر رہی تھی۔

“شاباش! صبح ملتا ہوں تم سب لوگوں سے، اور “رفیق” کو کہو کہ گاؤں میں ہونے والے تمام حالات کی اطلاع دے۔”
یہ کہہ کر “زیغم” “مائد” کے ہمراہ تیز قدموں سے حویلی کے اندر بڑھ گیا، اور گارڈ مؤدب انداز میں سر جھکائے دروازے کے پہرے پر دوبارہ مستعد ہو گیا۔آج حویلی کے در و دیوار خوش تھے حویلی کا اصل مالک لوٹ آیا تھا۔

” نمک حرام لوگ نیچے تشریف لے آئے ہیں؟”
“زیغم سلطان” کی کرخت آواز سے پورا گھر جاگ گیا تھا۔ “توقیر لغاری” اور “قدسیہ” گھبرا کر باہر اپنے زخمی بیٹے کے کمرے سے نکلے تھے۔ ملازمین بھی سہم کر تعینات ہو گئے، مگر “سلمہ” اور “نایاب” ابھی تک نہیں آئیں تھیں۔ “سلمہ” پھپھو کے نہ آنے کا ریزن تو یہ تھا کہ وہ اس وقت نیند کی گولیاں کھا کر بے سد سو رہی تھی۔ ان کو تو نہ “زیغم” کے آنے کا پتہ تھا اور نہ ہی گھر میں اتنا کچھ ہو گیا تھا اس بارے میں پتہ تھا۔ کافی ہیوی ڈوز لے کر سونے کی عادی تھی۔ اس وقت تو انہیں کوئی قتل بھی کر دیتا تب بھی ان کو نہیں پتہ چل سکتا تھا۔ جبکہ دوسری جانب “نایاب” صاحبہ شاید ابھی ابھی جا کر سوئی تھی اس لیے اسے پتہ نہیں چلا۔ ویسے بھی وہ کافی پرسکون گدوں والی نیند سونے کی عادی تھی۔ “زیغم” نے سرد غصے بھری، انگار کی طرح تپتی ہوئی نظروں سے “توقیر” اور “قدسیہ” کی جانب دیکھا۔

“بیٹی کہاں ہے تم لوگوں کی؟”

“ظاہر سی بات ہے، سو رہی ہے۔”
“قدسیہ” نے گھبرا کر کہا۔ دل میں تو سوچ رہی تھی کہ یہ عذاب پھر سے آگیا ہے مگر منہ سے کچھ بھی بکنے کی ہمت نہیں تھی۔

” اچھا… سو رہی ہے؟”
“نواب کی بیٹی کو بتاؤ کہ سونے کا وقت ختم ہو گیا ہے لیکن تم لوگ کیوں بتاؤ گے؟”
“میں خود جا کر بتاتا ہوں۔”
وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ “قدسیہ” اور “توقیر” گھبرا کر اسے روکنے کے لیے آگے بڑھے۔ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ ان کی بیٹی کی شامت آچکی ہے مگر “زیغم” نے کوٹ کی جیب سے پسٹل نکال کر انگلی پر گھماتے ہوئے انہیں رکنے کا اشارہ کیا۔ دونوں سہم کر پیچھے ہٹ گئے۔

“میرا نہیں خیال کہ تم لوگ چاہو گے کہ تم دونوں کو بھی میں تمہارے اس بیٹے کی طرح اپاہج بنا کر بیڈ پر لٹا دوں……… اگر چاہتے ہو تو بتا دو یہ شوق ابھی پورا کر دیتا ہوں۔”

“نن نہیں ہم ایسا کیوں چاہیں گے!”
“قدسیہ” تو توقیر کے پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی۔

“پھر یہاں سے ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی جرات مت کرنا!”
“زیغم” “نایاب” کے کمرے کے دروازے پر پہنچا اور ہینڈل گھما کر دروازہ کھولنے لگا، مگر وہ اندر سے لاک تھا۔ اس نے غصے سے زور سے دروازے پر ہاتھ مارا۔ “زیغم” نے دروازے پر اتنی زور سے ہاتھ مارا کہ پوری حویلی کو ایسا محسوس ہوا جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ لکڑی کے دروازے پر پڑنے والی زوردار ضرب کی آواز نے سونے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ “نایاب” جو گہری نیند میں تھی، ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ دل بے تحاشہ دھڑکنے لگا۔ وہ خوفزدہ نظروں سے دروازے کی طرف دیکھتی ہوئی لرزتے لہجے میں بولی:
” کک…کک… کون؟”

“تمہارا شوہر………”
“زیغم” کے نے ایسے کہا تھا جیسے کوئی فنی جوک سنا رہا ہو کیونکہ کبھی اس نے “نایاب” کو اپنی بیوی تو تسلیم کیا نہیں تھا مگر آج اسے یہ بتا رہا تھا کہ اس کا شوہر ہے، حیرت انگیز بات تھی۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے، مگر پھر بھی اس نے ہمت کر کے دروازہ کھول دیا۔ جوں ہی نظر “زیغم” پر پڑی، اس کے تو پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اس کی سانس اٹک گئی، پورا بدن خوف سے کپکپانے لگا تھا۔ “نایاب” کی حالت ایسی تھی جیسے اس وقت اس نے بھوت دیکھ لیا ہو اور کچھ ایسی ہی حالت اس کے ماں باپ کی تھی مگر نیچے کھڑے ہوئے “مائد” کو بہت مزہ آ رہا تھا یہ سب کچھ دیکھ کر۔

“مائدہ خان” تم میرے روم میں جا کر آرام کرو۔”
بلند آواز میں “مائد” کے لیے فرمان جاری کرتے ہوئے، نظریں کپکپاتی ہوئی “نایاب” پر مرکوز کیے ہوئے تھا۔

“اور تم دونوں جب میں اٹھوں یہیں پر کھڑے نظر آؤ ورنہ مجھے دیر نہیں لگے گی تم دونوں کو بیڈ پر لٹاتے ہوئے!”
“قدسیہ” اور “توقیر” کو دھمکی آمیز کڑک دار لہجے میں کہتے ہوئے اب بھی نظریں ان کی بیٹی پر ہی مرکوز کیے ہوئے تھا۔

“مگر ہم سے اتنی دیر کھڑا نہیں رہا جائے گا!”
“قدسیہ” نے دبی دبی آواز میں کہا۔

“کھڑا رہنا پڑے گا کیونکہ یہ “زیغم سلطان” کا حکم ہے اور نہ ماننے والوں کا انجام وہی ہوگا جو تمہارے بیٹے کا ہے!”
جس انداز سے “زیغم” نے کہا تھا “قدسیہ” کو کھڑا رہنا ہی بہتر سمجھا ورنہ دل میں سوچ کر رہ گئی تھی کہ اس کا کیا بھروسہ کے سچ میں اس کے بیٹے کے ساتھ ہی ان دونوں کا بیڈ بھی لگوا دے۔ دونوں میاں بیوی کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھی اور دوسری جانب بیٹی کی حالت ان سے بھی خراب تھی جس کے روم کے سامنے کھڑا تھا۔ اس سے پہلے کہ “نایاب” کوئی لفظ ادا کر پاتی، “زیغم” ایک جھٹکے سے کمرے کے اندر داخل ہو گیا اور بھاری ہاتھ سے دروازہ بند کر دیا۔ دروازہ بند ہونے کی آواز میں ایسا دھماکا تھا جیسے کسی قید خانے کا پھاٹک بند ہوا ہو

********************

رازِ وفایہ محض ایک کہانی نہیں، ایک فکری سفر ہےجہاں جاگیردار کا ظلم بھی بے نقاب ہوتا ہےاور جاگیردار کا انصاف بھی اپنے وزن کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔اگر یہ تحریر آپ کو سوچ میں ڈال گئی ہےتو اگلے ابواب اسی سوال کو آگے بڑھاتے ہیں

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *