Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:40

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر:40
°°°°°°°°°
“پلیز ایسے حیرانگی سے مت دیکھیں… پہلے ناشتہ ٹرائی کریں، پھر بتائیے گا میں نے کیسا بنایا ہے۔”
مائد کی نرم مگر پُراثر آواز کھوئی ہوئی آنکھوں سے اُسے تکتے دانیا کو جیسے ہوش کی دنیا میں لے آئی۔
وہ چونک کر پلکیں جھپکاتی ہوئی سیدھی ہوئی، دوپٹے کو سلیقے سے سنبھالا اور خفا سی ہو کر بیڈ سے نیچے اتری۔
“آپ کو میرے لیے اتنی زحمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں آپ سے ایسی کوئی بھی توقع نہیں رکھتی،” وہ کافی روکھے لہجے میں بولی۔

مائد کی آنکھوں میں نرمی تھی، مگر انداز میں شوخی چھپی ہوئی تھی۔
“میں نے کب کہا کہ یہ میں نے آپ کے لیے زحمت سے بنایا ہے؟ اپنی خوشی سے بنایا ہے۔ آپ میری بیوی ہیں، اور میرا دل چاہا کہ آپ کے لیے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بناؤں۔ اگر آپ حویلی میں ہوتیں، تو آپ کی خیال مورے خود کرتیں ، مگر اب آپ یہاں ہیں… میرے ساتھ… تو میرا فرض بنتا ہے کہ یہ سب خود کروں۔”
مائد کے لبوں پر محبت بھری دھیمی مسکراہٹ تھی، دانیا… بے اختیار پلٹ کر ان لمحوں میں چلی گئی جہاں اس کا نکاح شہرام سے ہوا تھا۔ وہی شہرام جو نام کا اس کا شوہر تھا … جس نے سچائی کے لبادے میں دھوکہ چھپا رکھا تھا۔۔
(ماضی)
“اٹھ جاؤ مہارانی… اور اُٹھ کر میرے پاؤں دباؤ!”
اتنی خوفزدہ، کرخت آواز تھی کہ لمحے میں ہی دانیا کی نیند ٹوٹ گئی۔

پوری رات اس کی درندگی کی بھوک کا شکار بنی رہی، اور صبح…
ایک ان پڑھ، جاہل مرد سے بھی زیادہ بدتر انداز میں اسے جگایا گیا۔
کتنی بے دردی سے پاؤں کی ٹھوکر اس کے نازک وجود کو لگی،
جس سے وہ بیڈ سے نیچے لڑکھڑاتے ہوئے جا گری۔
“آہہ!”
چیخ اس کے منہ سے بے اختیار نکلی۔
وہ اپنے وجود سے نفرت محسوس کر رہی تھی۔
معصوم سی دانیا…
جس کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا کہ
وہ آج بھی اُن لمحوں کو یاد کر کے کانپ جاتی تھی۔
سسکیاں، درد، اور کچھ بکھری ہوئی آوازیں…
مائد حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“پلیز… شہرام… میرے قریب مت آئیے گا!”
وہ اپنے آپ کو بیڈ سے پیچھے کھینچتی،
فرش پر گھسیٹتی ہوئی روکتی چلی گئی۔

شہرام، جو بیڈ سے شیطانیت لیے اٹھا،
درندگی سے اُس کی جانب بڑھا۔
“سائیں کہو… سائیں!
آج کے بعد اگر صرف شہرام کہا تو…
حلق سے زبان کھینچ لوں گا… سمجھی؟”
وہ اُس کے قریب بیٹھا،
بالوں کو زور سے مٹھی میں پکڑ کر جھنجھوڑنے لگا …
یوں جیسے جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتا ہو۔

“گھٹیا لڑکی!
جب یار کو اکیلے کمرے میں بلایا تھا، تب ڈر نہیں لگا؟
اب شوہر سے ڈر لگ رہا ہے؟”
وہ نفرت سے بولا اور دانیا کے چہرے پر ایک کے بعد ایک تھپڑ جڑتا گیا۔بولنے میں تمیز اور تہذیب دور دور تک نظر نہیں آرہی تھی۔
“مت ماریں! پلیز مت ماریں!”
وہ چہرہ ہاتھوں سے چھپائے چیخ پڑی۔

مائد خان… گھبرا کر اُس کے قریب گیا…
اس کی کانپتی ہوئی حالت نے اُسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔
“دانیا ہوش میں آئیں… وہ یہاں نہیں ہے۔
نہ اُس کا آپ پر کوئی حق ہے، نہ آپ کا اُس سے کوئی واسطہ۔
آپ میری بیوی ہیں… مائد خان کی!”
مائد نے اُس کے لرزتے ہاتھ چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہا…
آواز میں سختی بھی تھی، نرمی بھی…
جذبات کی لڑکھڑاہٹ میں بولا تھا۔

دانیا نے روتی ہوئی سرخ آنکھوں سے
چاروں طرف دیکھا…
جیسے یقین نہ آ رہا ہو کہ وہ اب بھی ماضی میں ہے یا حال میں۔

وہ اتنی گہرائی میں ڈوب چکی تھی
جہاں اُسے اب بھی لگتا تھا کہ شہرام اُس کے آس پاس ہے…
کہ وہی سب کچھ دوبارہ ہوگا…

“کوئی نہیں ہے یہاں پر… صرف میں ہوں!
اور صرف میں ہی رہوں گا!”
مائد نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر نرمی سے کہا۔
وہ اُسے یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا…
مگر وہ…
بیڈ کے کنارے پر چپ چاپ جا بیٹھی۔
اور جیسے ہی وہ اُس کے قریب ہونے لگا…
وہ پیچھے ہٹ گئی۔

مائد نے خاموشی سے اس کا ہاتھ تھام لیا…
دل سے… پورے احساس کے ساتھ۔پورے حق سے کہ اس کی بیوی ہے۔اب دانیا کو اس درد سے نکالنے کے لیے اس راستے پر چلنا تھا مائد خان اچھی طرح سے سمجھ چکا تھا کہ اب دانیا کو زبردستی اس درد سے کھینچ کر اسے باہر نکالنا پڑے گا۔ورنہ وہ اسی طرح گھٹ گھٹ کر ختم ہو جائے گی۔۔۔

“کب تک، دانیا…؟
کب تک آپ خود سے نظریں چُراتی رہیں گی؟
محبت کرتا ہوں آپ سے…
ہر حق دیتا ہوں آپ کو!

مجھے بھی حق دیجئے …
یا کم از کم اتنا تو کیجئے کہ اپنا درد سنا دیں،
اپنے زخم دکھا دیں…
تاکہ میں مرہم لگا سکوں۔
یا پھر…
بس ایک بار، صرف ایک بار…
اُس تلخ ماضی کو چھوڑ دیں…اور میرا ہاتھ تھام لیں،!”
“نہ درد دکھاتی ہیں، نہ میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کو تیار ہو رہی ہیں… کیوں دانیا؟ کیوں؟” مائد خان کا لہجہ جذبات سے بوجھل ہو گیا تھا۔

“مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی… نہ تو اپنے دکھ دکھانے ہیں، نہ ہی اپنے زخموں پر آپ سے مرہم لگوانا ہے۔!”

وہ جھٹکے سے اٹھنے لگی تھی کہ مائد نے سختی سے اس کا ہاتھ تھام کر واپس بٹھا دیا۔
“ایسا نہیں ہوگا! اب یا تو آپ میرا ہاتھ تھام کر میرے ساتھ نئے سفر پر قدم ملا کر چلیں گی، یا پھر ماضی کے زخموں سے پردہ اٹھانا ہوگا…”
“آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے!” دانیا کا لہجہ روہانسا ہو گیا تھا۔

“بالکل نہیں کر سکتا… ایگری کرتا ہوں اس بات پر۔ مگر آپ کو درد میں بھی نہیں رہنے دوں گا، دانیا۔ آپ کو یہ بات سمجھنی ہوگی!”مائد نے سنجیدگی سے کہا۔

“اگر میں نے اپنے زخموں سے پردہ ہٹا دیا… تو آپ برداشت نہیں کر پائیں گے، مائد خان دورانی!”
دانیا نے ایک ایک لفظ کو چباتے ہوئے، سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے کہا، برسوں کا درد ایک لمحے میں زبان پر آ گیا تھا۔
“اس کی پرواہ آپ مت کریں…”
مائد نے آہستہ مگر پُرعزم لہجے میں جواب دیا، “میں نہ صرف ہر زخم پر مرہم رکھنا جانتا ہوں، بلکہ برداشت کی وہ حد بھی رکھتا ہوں… جو آپ کو حیران کر دے گی۔”
“ضرورت سے ۔۔۔کچھ۔۔ زیادہ یقین ہے آپ کو خود پر!”
دانیا نے مائد کی جانب طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے تلخی سے کہا، لہجہ کڑوا تھا اور آنکھوں میں چبھتا ہوا سوال۔

“خود پر میرا یقین صحیح ہے یا غلط… اس کا فیصلہ آپ اس وقت کیجیے گا، جب آپ مجھے اپنے ساتھ ماضی کے اندھیروں میں لے جائیں گی۔”
مائد نے مضبوط لہجے میں کہتے، گہری نظروں سے اس کے چہرے کی جانب دیکھا ۔ وہ چہرہ جو بظاہر خاموش تھا، مگر اس کے پیچھے ایک طوفان چھپا بیٹھا تھا۔

آج وہ اس طوفان کی گہرائی جاننا چاہتا تھا۔
وہ درد… جو ہر لمحہ دانیا کے وجود میں چھپا رہتا تھا،
مائد اُس کی وجہ جاننا چاہتا تھا…
کیا چھپا ہے اس دل میں،
جس کی دھڑکنیں آج بھی کسی پرانے زخم پر ٹھہر سی جاتی ہیں…؟

وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔عجیب سی بے چینی چھپی تھی اس کی نظروں میں۔

“ایسے مت دیکھیں مجھے!”
“آج، ابھی…بتائیں کہ کیا ہے آپ کے دل میں؟
کیوں آپ کو لگتا ہے کہ میرے اندر وہ ہمت نہیں جو آپ کے ماضی کا سامنا کر سکے گی؟
مائد نے دانیا کی آنکھوں میں دیکھ کر سخت مگر سنجیدہ لہجے میں کہا۔
بتائیں نا پلیز!
میں سن رہا ہوں۔
موجود ہوں۔
اور آپ کے دل کی بات سنے بغیر جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے!”
دانیا نے گہری سانس لی، جیسے سینے میں دبا ایک طوفان اب لبوں پر آنے کو بے تاب تھا۔
اس کے لہجے میں کانپتی ہوئی سختی تھی، جیسے کوئی زخمی پرانے زخم کو خود سے کھولنے کی کوشش میں شدید زخمی ہوتی جا رہی تھی۔

“میں بھی چاہتی ہوں… ہاں، آج میں بھی چاہتی ہوں کہ آپ کو سب کچھ پتہ ہو!”
وہ پلکیں جھپکائے بغیر مائد کی آنکھوں میں جھانک کر بولی،
“آخر میں بھی تو دیکھوں کہ کتنا مضبوط دل ہے آپ کا۔
میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں کہ ایک مرد…
اپنی فطرت سے ہٹ کر… کیسے سوچ سکتا ہے۔
میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ آپ کی محبت کی حد کیا ہے؟
کہاں تک جا سکتے ہیں آپ…
میرے لیے؟”

یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی،
لیکن اس کی آنکھوں میں وہ سب کچھ تھا
جو لفظوں سے کہیں زیادہ گہرا، کہیں زیادہ دردناک تھا۔
اور مائد…
وہ جانتا تھا
کہ آج جو سنے گا
وہ صرف کہانی نہیں
بلکہ ایک لڑکی کی برباد روح کا نوحہ ہوگا۔مکر وہ تیار تھا۔
“میں سننے کو تیار ہوں، دانیا!”
مائد نے اپنے لہجے کو تھامتے ہوئے،
پُرسکون مگر پورے یقین سے کہا۔
“کیونکہ محبت…
محبت میں کوئی حد نہیں ہوتی۔
نہ وقت کی، نہ صبر کی،
نہ درد کی، نہ برداشت کی…
اور یہ بات، آج میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔”
وہ جھک کر دانیا کے بالکل قریب ہوا،
مگر ہاتھ نہیں بڑھایا،
صرف نگاہوں سے چھونا چاہا،
“آپ جتنا بھی کہو،
جتنا بھی سناؤ،
جتنا بھی دکھاؤ…
میں سب سنوں گا،
کیونکہ میں آپ کو چاہتا ہوں…
پورے وجود کے ساتھ،
آپ کے ماضی سمیت!”
اس لمحے، کمرے کی ہوا میں ایک خاموش سی لرزش ہوئی،
جیسے وقت رُک گیا ہو،
جیسے لمحے نے خود کو روک کر
محبت کے ایک ان دیکھے امتحان کو ساکت نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا تھا…

“بہت مشکل ہے میرے لیے اپنے زخموں سے پردہ ہٹانا، بالکل ایسے جیسے خود کو کسی کے سامنے بے نقاب کرنا۔

آج یا تو آپ کی سوچ جیتے گی، یا میری۔ اس کے لیے مجھے تکلیف سے گزرنا ہوگا۔دانیا کی درد زدہ سی آواز کمرے میں گونج کر ماحول افسردہ کرنے لگی تھی۔وہ ایک ایک کر کے ماضی کے ورق پلٹنے لگی تھی۔

دانیہ کی آواز میں سسکیوں کی لرزش نمایاں تھی۔
“میں ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی، میں تو وہ لڑکی تھی جو ہر لمحے میں خوشی تلاش کر لیا کرتی تھی، جسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ غم کیا ہوتا ہے۔”

وہ ایک لمحہ رکی، گہرا سانس لیا، اور پھر ماضی کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے بولی،
“مجھے صرف یہ پتہ تھا کہ صبح کا آغاز اماں سائیں کی میٹھی سی آواز سے ہوتا ہے۔ اُن کے ہاتھ کا ناشتہ، ان کی شفقت، ان کی ڈانٹ میں چھپی ممتا… ناشتہ کرتے وقت وہ میرے سر پر کھڑی رہتیں، کہتیں ‘ڈھنگ سے کھاؤ بیٹا، اپنی صحت کا خیال کیا کرو۔'”

دانیہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“ابا سائیں… وہ تو جیسے مجھ پر اپنی ساری محبت نچھاور کر دیتے تھے۔ بیٹوں جیسا پیار دیا انہوں نے مجھے۔ میرے ایک لفظ پر سب کچھ حاضر کر دیا کرتے تھے۔”

اس کے چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ ابھری۔
” میرے پیارے دو بھائی… بہرام بھائی اور زیغم بھائی، میری دنیا کے سب سے خوبصورت رنگ۔ بہرام بھائی مجھے ہمیشہ اپنی بیٹی کہا کرتے تھے۔ دانیہ… دانیہ… ان کے لبوں پر ہمیشہ میرا نام ہوتا۔ میری ہر خوشی کو اپنا فرض سمجھتے۔”

وہ لمحہ بھر رکی، پھر آہستگی سے بولی،
“زیغم بھائی میرے دوست تھے، بھائی تھے، میرے رازدار تھے۔ ہم تینوں بہن بھائی ایک دوسرے میں گم رہتے تھے۔”

دانیہ نے آنکھیں بند کیں جیسے درد کی لہر دل سے گزر گئی ہو۔
“پھر ایک دن… سب کچھ ٹوٹ گیا۔ ایک غلط فہمی نے میرے بھائیوں کے بیچ وہ زہر گھول دیا جو کبھی ختم نہ ہوا۔ زیغم بھائی اور بہرام بھائی ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔”

اس کی آواز بھرائی،
“ایک کو ملک بدر کر دیا گیا، دوسرے نے زہر کو اندر ہی اندر پالا، حتیٰ کہ وہ زہر اس کی جان لے گیا۔”

دانیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“ابا سائیں یہ صدمہ سہہ نہ پائے، دل کے مریض بن گئے۔ زیغم بھائی کو بلوایا گیا، مگر وہ جیسے اجنبی ہو چکے تھے… اور نایاب… اس نے جو زہر گھولا، اس نے میرے پورے خاندان کو نگل لیا۔”

وہ سسکتے ہوئے بولی،
“نایاب نے بہرام بھائی کو اپنی چالوں میں جکڑ لیا، جائیداد ہتھیالی، اور پھر… الزام لگا دیا کہ ارمیزہ زیغم بھائی کی بیٹی ہے۔”

دانیہ نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا جیسے ان یادوں سے خود کو چھپانا چاہتی ہو،
“یہ الزام… یہ شک… میرے بھائی کو قبر میں لے گیا۔”

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف دانیہ کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔

“اور پھر… نایاب کو زیغم بھائی چاہیے تھے۔ شہرام اس کا بھائی تھا، وہ نایاب کی خوشی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا… اور اس نے مجھے استعمال کیا۔”

دانیہ کی آواز ٹوٹنے لگی۔
“میں سو رہی تھی… گہری نیند میں۔ کسی نے میرے کمرے میں داخل ہو کر سب کچھ برباد کر دیا۔ میرے کپڑوں کو کھینچا گیا، میری عزت پر حملہ کیا گیا، جیسے کوئی دھبہ لگا گیا ہو… مگر کچھ ہوا نہیں تھا… حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔”

اس کی آنکھوں میں بے بسی تیرنے لگی۔
“میں چیخی، روئی، اماں سائیں کے گلے لگی، مگر سب کچھ الٹا ہو گیا۔ قدسیہ چچی نے میرے کردار پر سوال اٹھا دیے۔ میرے اپنے مجھ پر شک کرنے لگے۔”

ایک وقفہ آیا، پھر وہ ہارے ہوئے لہجے میں بولی،
“ابا سائیں لڑکھڑا گئے، اماں سائیں کی آنکھوں میں بھی شک اتر آیا، مگر وہ ماں تھی… وہ مان گئی۔”

دانیہ نے لرزتی آواز میں کہا،
“پھر شہرام آگے بڑھا… کہا کہ وہ مجھ سے نکاح کر لے گا، بشرط کہ زیغم بھائی اور نایاب کا نکاح کروا دیا جائے۔ ابا سائیں مان گئے، زیغم بھائی کو بلوایا گیا۔ نکاح ہوا، مگر زیغم بھائی کہہ گئے کہ وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔”

نایاب اور شہرام نے جس چکر میں یہ سب کیا تھا جب وہ پورا نہ ہو سکا تو
“پھر ظلم بڑھتا گیا… ابا سائیں کو ایسی دوائیں دی گئیں جو دل کے مریض کو مار سکتی تھیں۔ اور ایک دن وہ بھی چلے گئے۔”

دانیہ کی آواز کانپ رہی تھی،
“اماں سائیں کو جب سچ کا پتہ چلا، وہ بھی مار دی گئیں۔ میں رہ گئی اکیلی… اس حویلی میں… ان درندوں کے بیچ۔”

وہ آنکھیں پونچھتے ہوئے بولی،
“زیغم بھائی کو سچ بتانا چاہتی تھی، مگر وہ جا چکے تھے۔ اور یہاں… یہاں ہر دن مجھے صرف مار پڑتی۔ ذرا سی بات پر، صرف اس لیے کہ میں سچ بولنا چاہتی تھی۔”
اس کے لفظوں میں ، بے بسی، کرب، اور وہ دکھ جو آج آنسوؤں سے بہتا ہوا باہر آ رہا تھا۔۔
مائد خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں بھی نمی تیر رہی تھی۔
دانیہ کی کہانی مکمل نہیں تھی، مگر آج… اس نے اپنا دل کھول دیا تھا۔اور مائد حیران تھا کہ اس کے اندر اتنا درد چھپا ہوا تھا اسی لیے تو وہ بھروسہ نام سے نفرت کر رہی تھی۔
“مجھے بہت دکھ ہے کہ آپ کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا… سچ کہوں تو جتنا دکھ آپ نے سہا، وہ سہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ آپ بہت بہادر ہو “
مائد نے اس کے ہاتھ پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہوئے ہمت دینے والے محتاط لہجے میں کہا ۔۔

“میں آپ کے ساتھ ہوں… ہر دکھ میں، ہر قدم پر… اور میں، زیغم کے ساتھ مل کر، ان سب کو ان کے کیے کی سزا دیں گے ۔”
دانیا کی کہی ہوئی ہر بات مائد کے دل کو چیر رہی تھی، جیسے پگھلا ہوا سیسا قطرہ قطرہ کر کے اس کے کلیجے پر گر رہا تھا۔۔۔
دانیا نے گہری سانس لی، آنکھوں میں عجیب سا سکون اور آگ ایک ساتھ بھری تھی۔
“نہیں… ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی۔”
وہ تھوڑا سا جھکی، نظریں مائد کی آنکھوں میں گاڑ دیں، “یہ تو صرف وہ دکھ تھے جو میرے وجود سے جڑے تھے۔ اب میں آپ کو وہ پہلو دکھاؤں گی… جنہیں دیکھ کر آپ کی محبت کا فیصلہ شاید ایک نئی کروٹ لے…”
دانیانے خاموشی سے اپنے بازو پر لگے بٹن کو کھولا اور آہستہ آہستہ آستین کو اوپر کرنا شروع کیا۔
مائد جو اُس لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا، ایک پل کو چونک گیا۔ دانیا نے نگاہ کا اشارہ کیا، اپنے بازو کی طرف دیکھنے کا کہا ۔ مائد کی نظریں اس کے بازو کی طرف سرکیں… جیسے وقت تھم گیا تھا ۔

مائد کا دل تڑپ اٹھا۔
وہ بازو… جس پر بے شمار جلتے سگریٹ کے نشان تھے۔ ایک نہیں، دو نہیں… سینکڑوں۔ کچھ پر جلانے والے نے “ایس” کے حروف ایسے کندہ کیے تھے جیسے وہ کسی کی ملکیت کا نشان ہوں، اور کچھ نشان تو محض درندگی کی بےرحم گواہی دے رہے تھے۔

مائد کے لب کانپے، آواز رکی رکی سی نکلی،
“ی… یہ…”
پھر الفاظ جیسے گلے میں اٹک گئے، “کک… کیا ہے یہ؟”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا، اور وہاں دکھ کے ساتھ کوئی صدیوں کی تھکن بھی چھپی تھی۔
“یہ ہے مرد کی… مردانگی کا ثبوت!”
دانیا کی نظروں میں تنز بھرا سکوت تھا، لبوں پر زخمی مسکراہٹ۔

“پلیز… میں جاننا چاہتا ہوں دانیا۔۔۔”
مائد نے شدت سے کہا ۔

“بتا تو رہی ہوں۔۔۔ ایک مرد نے اپنی مردانگی دکھائی… یوں کہ میرے وجود پر نقوش چھوڑ گیا۔ ایک نہیں، دو نہیں… بے شمار۔
وہ نشان جو اب شاید تمہارے حوصلے سے باہر ہوں۔۔۔
اسی لیے تو آپ سے دور بھاگ رہی تھی ۔۔۔
آپ تو میرے کچھ زخموں کو دیکھ کر کانپ گئے۔۔۔
پھر ان زخموں کو کیسے سہہ پائیں گے…
جنہیں میں سالوں سے اپنے جسم میں، اپنے احساس میں، اپنے سائے میں چھپا کر جی رہی ہوں۔۔۔”
وہ کہتے کہتے خاموش ہو گئی، شرم اور اذیت کے بوجھ تلے پلکیں جھک گئیں۔

“ان… ان جگہوں پر… کیسے برداشت کرو گے؟”
وہ بمشکل کہہ پائی،
پھر سسک سسک کر رونے لگی۔
لفظوں نے ساتھ چھوڑ دیا، مگر اس کا درد مائد کے دل میں اتر چکا تھا۔۔۔
وہ سب سمجھ چکا تھا۔جو کچھ وہ کہنا چاہتی تھی وہ ایک سمجھدار مرد کی طرح سمجھ چکا تھا۔وہ ایک لڑکی تھی حیا کی چادر میں لپٹی ہوئی۔اپنے احساسات اپنے زخموں کو کھل کر نمایاں کر کے نہیں بتانے کی ہمت رکھتی تھی۔۔مگر وہ سب سمجھ چکا تھا۔

وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا۔
کھڑکی کے پاس جا کر، لوہے کی سلاخوں کو تھام کر گہری سانس بھری۔
جیسے فضا بھی اس لمحے کا بوجھ اٹھا رہی ہو۔
سانس لینا دشوار ہو گیا تھا،
کیونکہ جو کچھ سنا، وہ کسی بھی مرد کے لیے سہنا آسان نہ تھا۔۔۔
“کہا تھا نا… کہ آپ برداشت نہیں کر سکیں گے۔۔۔”
وہ آہستہ سے بولی،
سسکیوں کے بیچ بمشکل الفاظ کو ترتیب دے پائی۔
اسے مائد کی پشت نظر آ رہی تھی،
وہ دو ونڈو کے درمیان کھڑا، رخ پھیرے خاموش تھا۔
فضا میں سناٹا تھا…
بس دانیا کی رندھی ہوئی آواز اور دل کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی۔
مائد خاموش تھا۔
شاید لفظ اس کے پاس ختم ہو چکے تھے،
یا شاید وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
رخ اب بھی دوسری جانب تھا،
مگر اس کی خاموشی میں جو طوفان تھا،
وہ دانیا کی خاموشی سے کم نہ تھا۔۔۔

“اب بھی وقت ہے پلیز ، آپ اپنا راستہ بدل لیجیے،”
وہ شکستہ لہجے میں بولی،
“میں آپ کے قابل نہیں ہوں، اسی لیے تو آپ سے دور بھاگ رہی ہوں۔”
آنکھیں جھکی تھیں، آواز بھی جیسے زمین میں دھنس رہی تھی۔

“آپ شفاف آئینہ ہیں اور میں… میں تو ایک ایسی کراہت زدہ تصویر ہوں، جس کا چہرہ خود سے بھی دیکھنا مجھے گوارا نہیں۔۔۔
ایک ایسی لڑکی… جو اپنی ہی شکل سے نفرت کرنے لگی ہے۔”
وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی، آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو نہ روک سکی۔

مائد نے گہری سانس بھری، اور پلٹ کر اس کے پاس آ بیٹھا۔
نرمی سے فرش پر بیٹھتے ہوئے اس کا کانپتا ہاتھ تھاما،
اس کے ہاتھ کو لبوں سے چھوا، اور پھر اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔
دانیا حیران تھی۔
وہ اس کا یہ ردِعمل سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
“اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ سب جاننے کے بعد میری محبت میں کوئی کمی آ جائے گی…
تو دانیا، آپ بہت غلط سوچ رہی ہیں۔۔۔”
وہ زمین پر بیٹھا اور سر اس کی گود میں رکھ دیا۔
دانیا دم بخود رہ گئی،
اتنا سب کچھ بتانے کے بعد بھی… اس کی آنکھوں میں وہی پہلی محبت تھی،
نہ کوئی گِلہ، نہ شکایت، نہ فاصلہ۔

“میرا دل پھٹ رہا ہے یہ سوچ کر کہ میری معصوم سی محبت،اکیلی اتنا سب کچھ سہتی رہی… غلط فہمیوں کو ہمارے بیچ میں جگہ نہ دو۔
“میرے لیے تم وہی ہو دانیا…
جو اسکول بیگ اٹھائے، تیز قدموں سے چلتی ہوئی ایک دن مجھ سے ٹکرا گئی تھی…
اور جس کی آنکھوں میں پہلی بار دیکھتے ہی مجھے محبت ہو گئی تھی ۔۔۔اور آج اتنے سالوں بعد ،میری محبت وقت کی بھٹی میں کندن بنی ہے، بدلی نہیں۔”

“مگر مائد… آپ بہت اچھے ہیں، آپ مجھ سے بہتر کے حقدار ہیں۔
میں چاہتی ہوں آپ مجھ سے دور ہو جائیں۔۔۔”
“دانیا!”
وہ کانپتی آواز میں بولا،
“میری محبت کو ٹھکرانا مت۔۔۔
میں تمہارے ہر زخم پر مرہم رکھوں گا،
تمہارا ہر درد سمیٹ لوں گا۔۔۔
مگر مجھے یوں لٹکا کر مت چھوڑو،
اور یہ مت کہو کہ تم میرے قابل نہیں ہو۔
میرے قابل صرف تم ہو۔۔۔
میں نے تمہیں جتنا چاہا ہے، اتنی محبت تو میں نے کبھی خود سے بھی نہیں کی۔۔۔”
“مگر…”
“ششش۔۔۔”
وہ اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔
اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروا دیا۔
“یقین تھا نا تمہیں، کہ سب سننے کے بعد میں خود ہی پیچھے ہٹ جاؤں گا۔۔۔؟”
دانیا نے آہستگی سے سر ہلایا۔

“تو دیکھ لو۔۔۔ میرے قدم تو ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔۔۔
تمہارا ماضی سن کر مجھے تکلیف ضرور ہوئی،
مگر میری محبت اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔۔۔
اب تم کیا کرو گی۔؟”
وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا،
اور وہ۔۔۔ آنکھوں میں نمی لیے، اس شخص کی محبت پر حیران۔۔۔
خاموش بیٹھی تھی۔
“سچ میں؟
آپ کو میرے اس کراہت زدہ وجود سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟
سب کچھ سننے کے بعد بھی،ہمیشہ
ایسی ہی محبت کر سکتے ہیں؟”

مائد نے نرمی سے اس کے ہاتھ تھامے،
پیشانی پر رکھتے ہوئے عقیدت پیش کی۔

“پوری زندگی۔۔۔
اتنی ہی محبت کروں گا،
بلکہ وقت کے ساتھ یہ اور بڑھتی جائے گی۔”
بدل گئے تو پھر۔۔
دانیا کی آواز میں لرزش تھی،

مائد نے پلکیں جھپکائے بغیر اس کی آنکھوں میں دیکھا،
“سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
وہ ہلکا سا مسکرایا،

“ایک بار سوچ کر کے تو دیکھیں…”
دانیا نے نگاہیں چرا لیں،

“جو چیز ہو نہیں سکتی، اسے خیالوں میں بھی کیوں سوچنا۔”
مائد کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا،

“کل کو اگر آپ کو اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہوا تو پھر؟”

“ممکن ہی نہیں۔”

دانیا نے جیسے آخری بار آزمانا چاہا،
“سوچ لیں۔۔۔”
مائد نے بغیر پلک جھپکائے جواب دیا،
“سوچ لیا۔”

خاموشی کچھ لمحے کو چھا گئی، پھر دانیا آہستہ سے بولی،
“آج کے بعد واپسی کا راستہ نہیں ہوگا۔۔۔”
مائد نے اس کے ہاتھ تھام لیے،
“میں چاہتا ہوں کہ واپسی کا راستہ اپنے ہاتھوں سے بند کر دوں، تاکہ پھر کبھی نہ تم پلٹو… نہ میں۔”بے قراری سے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامتے ہوئے انداز ایسا جیسے وعدہ کر رہا تھا۔۔۔

ایسے مت دیکھو… یقین کر لو۔
مائد نے نرمی سے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھا، آنکھوں میں مکمل یقین تھا۔

“میں خوش ہوں… اپنے رب کی رضا پر، اپنی قسمت پر،”
“جس کی قسمت میں تم جیسی لڑکی آئی، جس کا دل خوبصورت ہے،”
وہ رُک کر سانس لیتا ہے،
“تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں۔”اس کے لہجے میں اطمینان تھا، سکون تھا۔

دانیا کی آنکھوں سے بہتے آنسو مائد کے لفظوں میں ٹھہرنے لگے۔

“کیوں خود کو خود سے اتنا بدزن کر رہی ہو؟ کیوں خود سے نفرت کر رہی ہو؟”
وہ جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا ہوا اس کے ٹوٹے ہوئے وجود کو مضبوط سہارا دیتے ہوئے ساتھ لگا گیا۔۔

“تمہارے ساتھ جو ہوا، اُس میں غلط وہ ہے جس نے غلط کیا ہے۔”
“بے شک دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ خدا کبھی معاف نہیں کرتا ایسے ظالموں کو… اور یہ ظالم… بھی اپنے انجام کو ضرور پہنچیں گے۔”مائد کا لہجہ بھرا ہوا تھا مگر آنکھوں میں مضبوطی تھی۔

“اگر ہاتھ تھاما ہے تو کبھی چھوڑیے گا مت … اور کبھی مجھ سے نفرت مت کرنا ۔”
وہ ٹوٹتی آواز میں بولی، نظریں جھکائے، دل میں چھپی لرزش لیے۔
مائد نے بغیر کچھ کہے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔

دانیا نے اس کے کندھے سے اپنا سر ٹکا دیا۔
“میں نے یقین کر لیا ہے… آپ کی محبت پر، آپ کے ساتھ پر، ۔”

لمحہ جیسے ساکت ہو گیا تھا… صرف دو دل، ایک احساس، اور ایک خاموشی جو سب کچھ کہہ گئی۔
کبھی کبھی خاموشی بھی بولتی ہے…
اس وقت مائد خان اور دانیا کی خاموشی بھی ایک دوسرے سے بہت کچھ کہہ رہی تھی۔ یہ خاموش پیغام تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہیں۔

ایک اصل مرد اپنی مردانگی تب ثابت کرتا ہے جب وہ ایک ٹوٹی ہوئی عورت کو تھامتا ہے، اس کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے، نہ کہ سوال کرتا ہے۔
ایک ایسے مرد کی پہچان بنتا ہے۔اچھا مرد نیک ماں باپ کی تربیت کا عکس ہوتا ہے۔

آج کے دور میں کسی عورت پر انگلی اٹھانا، الزام لگانا، اور کیچڑ اچھالنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
مگر کسی کے درد کو بانٹنا، اس کے ماضی پر پردہ ڈال کر اسے عزت دینا… یہ صرف وہی مرد کر سکتا ہے جو نسلی، باوقار اور دل والا ہو۔
مائد خان نے دانیا کا ہاتھ تھامے رکھا تھا۔
اس کی نظروں میں کوئی سوال نہ تھا، صرف سکون، یقین اور وہ مان تھا جو شاید دانیا نے کبھی خود کو بھی نہیں دیا تھا۔

فضا میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ مگر اس خاموشی میں بوجھ نہیں تھا، وہ شفا تھی، وہ وعدہ تھی، وہ یقین تھا…جو دانیا کے زخموں پر مرہم بن کر لگ چکا تھا۔۔۔
°°°°°°°°°

مہرو کی زندگی میں آج کا سورج بہت سے نئے رنگ لے کر طلوع ہوا تھا۔ معصوم سی مہرو، جس کی آنکھوں میں “جلن” نام کی کوئی چیز نہیں تھی، جو اس دنیا داری سے بہت دور تھی، جس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کسی لڑکی سے جلن محسوس کر سکتی ہے، کیونکہ اس احساس کو کبھی اس کے دل نے محسوس ہی نہیں کیا تھا۔ مگر آج، وہ ڈر رہی تھی، کیونکہ اس کے اندر جلن کا بیج جڑیں پکڑ رہا تھا۔
اور یہ سب کچھ رات کے اس پہر حمائل اور زیغم کی باتیں سن کر ہوا تھا۔
یہ ڈر زیغم کی جانب سے نہیں تھا، یہ ڈر اسے حمائل کی طرف سے تھا، کہ وہ اس کے شوہر کو چھین لے گی۔
آج کمرے کی حد تک محدود رہنے والی مہرو، صبح فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد کچن کی جانب جانے کا ارادہ رکھتی تھی، کیونکہ وہ زیغم کے لیے صبح کی چائے اپنے ہاتھوں سے بنانے جا رہی تھی۔
زیغم سلطان اس کے بدلے ہوئے رویے کو محسوس کر رہا تھا۔
وہ صبح صبح اٹھ کر اچھے سے کپڑے پہن کر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی، تیار ہو رہی تھی۔ سلیقے سے بالوں کی چٹیاں بنائیں، ہلکی سی تیاری کے ساتھ، سر پر روز کی طرح ترتیب سے دوپٹہ رکھ کر، وہ نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کے بعد باہر جانے والی تھی، کہ زیغم پوچھے بغیر رہ نہیں سکا۔
“رکو مہرو، میری بات سنو… کہاں جا رہی ہو؟”

“آپ کے لیے چائے بنانے… آپ روز چائے پیتے ہیں صبح اُٹھ کر، تو میں نے سوچا، آج میں اپنے ہاتھوں سے اپنے سائیں کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں…”

وہ نرم لہجے میں، دروازے کے بے حد قریب کھڑی ہو کر بول رہی تھی۔

“مگر گھر میں بہت سارے ملازم موجود ہیں، پھر تم کیوں جانا چاہتی ہو؟ تم اِدھر میرے پاس بیٹھو، باتیں کرو۔ ویسے بھی کچھ ہی دیر میں میں چلا جاؤں گا، اور ہو سکتا ہے شام تک واپس نہ آؤں… تو ابھی میرے پاس آ کر بیٹھو۔”زیغم کی نظروں میں تجسس تھا کیونکہ آج مہرو کا رویہ معمول کے مطابق بالکل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔

“نہیں سائیں، میں آپ کے لیے ابھی چائے بنا کر لاتی ہوں،”
وہ نرمی سے، مگر ضد بھرے انداز میں بولی۔
“مجھے اچھا لگتا ہے کہ میں آپ کے کام خود کروں۔”
یہ کہتے ہوئے وہ پلٹی تو،
،زیغم، کے دل میں ایک اور سوال نے جنم لیا۔
اب تو اسے یقین ہونے لگا تھا کہ، ,مہرو,، کے دل و دماغ میں کچھ نہ کچھ ضرور چل رہا ہے۔
کیونکہ، ,مہرو,، اور ضد؟
یہ تو وہ چیز تھی جو کبھی اس کی شخصیت کا حصہ نہ تھی۔
تو پھر یہ کہاں سے آ گئی؟
،زیغم، کا تجسس اب بے قابو ہوتا جا رہا تھا۔
“میرے پاس آؤ، میرے
زیغم نے ہاتھ کے اشارے سے نرم لہجے میں اسے اپنے قریب آنے کو کہا تھا
وہ آہستہ سے نظریں چراتے ہوئے قریب آ بیٹھی

“کیا ہوا ہے؟
سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا

“کچھ… کچھ بھی نہیں
اپنا ہاتھ نرمی سے اپنے سائیں کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے نظریں چرا گئی

“مہرو
میری طرف دیکھو
میری مہرو کو جھوٹ بولنا نہیں آتا
اور میں نہیں چاہتا کہ اس بے رنگی دنیا میں ڈھل کر میری مہرو جھوٹ بولنا سیکھے
بتاؤ، کیا ہوا ہے؟
وہ خاموش تھی، مگر آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو رخساروں سے بہنے لگے تھے۔

میری جان، ایسی کیا بات ہے جو تمہیں پریشان کر رہی ہے؟
اپنے سائیں کو بتاؤ گی نہیں؟
وہ نرمی سے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے، اس کی بے چینی کو جاننے کی کوشش کر رہا تھا، اور آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔

“میں… میں آپ کی قابل بننا چاہتی ہوں…”
وہ ہچکی لیتے ہوئے شکوہ بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بول رہی تھی،
اس کی آنکھوں میں خوف کی لہریں واضح دکھائی دے رہی تھیں۔

“تم میرے قابل ہو، تو ہی میرے ساتھ، میرے اتنے قریب بیٹھی ہو،
اور یہ بات تمہارے دماغ میں آئی کہاں سے، مہرو؟
کہ تم میرے قابل نہیں ہو؟”
“میں نے آپ کی اور وہ نئی بی بی جی جو آئی ہیں، ان کی باتیں سن لی تھیں،”
وہ ایسے بتا رہی تھی جیسے یہ باتیں سن کر اس نے کوئی غلط کام کیا ہو، کوئی جرم کیا ہو۔
“ہمم… تو یہ بات ہے؟ اگر سب باتیں رات کو سن لی تھیں، تو پھر رات کو مجھ سے جواب کیوں نہیں مانگا؟ سو کیوں گئی تھی؟”
زیغم نے نرمی سے پوچھا۔
“میں سوئی نہیں تھی، بس سونے کا ڈرامہ کر رہی تھی…”
بڑی معصومیت سے اس نے سچائی قبول کی،
زیغم کے لب مسکرا دیے تھے۔
“اچھا، میری مہرو کو ڈرامہ کرنا بھی آتا ہے؟”مذاق سے پوچھا۔

“نہیں، رات کو پہلی بار کیا تھا۔”مہرو نے ایمانداری سے جواب دیا۔

“اچھا اچھا، رونا بند کرو، مگر تمہیں ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تم مجھ سے صاف صاف پوچھ لیتی،
میں ہر بات کا ایمانداری سے جواب دیتا، کیونکہ تمہیں پورا حق ہے مجھ سے پوچھنے کا۔
کیا آخر میں اس کے کمرے میں کیوں گیا اور میری ہمت کیسے ہوئی یہ سب کرنے کی؟ وغیرہ وغیرہ۔”

“اللہ نہ کرے سائیں! کیسی باتیں کر رہے ہیں؟
میں کیوں آپ سے سوال کروں گی؟
اور ویسے بھی، میرے سائیں تو اتنے سچے ہیں، وہ کبھی جھوٹ بولتے ہی نہیں،
اور میں نے آپ کی سب باتیں سن لی تھیں۔
قسم سے سائیں، میں باتیں سننے نہیں گئی تھی،
میں تو آپ کو دیکھنے گئی تھی کہ آپ ابھی تک کیوں نہیں آئے؟
مگر پھر میں نے آپ دونوں کی باتیں سن لیں، آپ کی آوازیں دروازے سے باہر آ رہی تھیں۔”
“قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے تم پر یقین ہے،
اور اتنا یقین ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔”
نرمی سے اس کے چہرے کو اوپر اٹھاتے ہوئے، پیار سے کہا۔

“شوہر اگر رات کے پہر کسی اجنبی، کسی نامحرم لڑکی کے کمرے میں پایا جائے،
تو بیوی کو پورا حق پہنچتا ہے کہ وہ پوچھ سکے کہ وہ رات کے اس پہر وہاں کیا کر رہا تھا۔
اس کا مطلب شک ہی نہیں…
اس کا مطلب محبت بھی ہو سکتا ہے۔”

“نہیں، جب کسی سے محبت کی جاتی ہے،
یقین کیا جاتا ہے،
تو پھر ایسے سوال نہیں کیے جاتے کہ وہ کب، کہاں اور کیوں تھا۔”

،مہرو، نے اتنی گہری بات کی تھی کہ ،زیغم، تو کچھ سیکنڈ کے لیے اسے دیکھتا رہ گیا۔
اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ سچ میں اس کے سامنے وہی ،مہرو، ہے
جو بہت کم بولتی ہے،
جس کی سادہ مزاجی نے اسے متاثر کیا تھا،
مگر آج…
آج اس نے اتنی گہری بات کہہ دی۔
،زیغم، حیران تھا۔
“مہرو، تم نے آج مجھے حیران کر دیا…
کبھی کبھی انسان بہت بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کر کے بھی
وہ دانش مندی حاصل نہیں کر پاتا
جو ایماندار اور سچے دل سے کہیں ہوئی بات میں ہوتی ہے۔”

،زیغم نے آہستہ سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کی آنکھوں میں تحسین، محبت اور فخر کے رنگ جھلکنے لگے۔
“مجھے نہیں پتہ، سائیں، آپ کیا کہہ رہے ہیں… آپ کی بڑی بڑی باتیں سمجھنا میرے لیے بہت مشکل ہے۔
مگر مجھے آپ کے قابل بننا ہے،
ورنہ وہ حمائل بی بی آپ کو مجھ سے چھین کر لے جائے گی،
اور مہرو اکیلی رہ جائے گی۔
مہرو کا تو آپ کے سوا کوئی نہیں ہے…
پھر مہرو کہاں جائے گی؟
اب تو اماں بھی نہیں ہیں میرے پاس،
جن کے پاس جا کر میں رہ لوں گی۔”

وہ نم آنکھوں سے، ,زیغم, کی جانب دیکھ کر بول رہی تھی۔
اس کے ایک ایک لفظ میں سچائی جھلک رہی تھی۔
،زیغم، نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
“جب تک میں زندہ ہوں، دنیا کی کوئی طاقت تمہیں مجھ سے الگ نہیں کر سکتی۔
بے فکر ہو کر رہو، پرسکون زندگی جیو۔
اور تم میرے قابل ہو،
بار بار خود کو عام مت بناؤ۔
تم بہت خاص ہو…
،زیغم سلطان، کی محبت کبھی بھی عام ہو ہی نہیں سکتی۔”
وہ ہلکا سا مسکرایا،
“اور تم کہیں نہیں جاؤ گی، ناشتہ بنانے یا چائے تیار کرنے کے لیے۔
گھر میں ڈھیروں ملازم ہیں۔
کبھی کبھار اپنی نگرانی میں،
محبت سے میرے لیے کچھ بنوانا چاہو تو وہ الگ بات ہے،
ورنہ یہ چیزیں تمہارے ڈیوٹی میں شامل نہیں۔
تم یہاں بیٹھو…
میرے پاس،
اور میرا سر دبا دو،
میری معصوم سی بیوی صاحبہ!”

اس کی نازک سی ہتھیلی کو نرمی سے اپنے ماتھے پر رکھتے وہ تکیے پر لیٹ گیا تھا۔
،مہرو، خاموشی سے اس کے پاس بیٹھی، اپنی نازک انگلیوں سے اس کا ماتھا سہلا رہی تھی۔زیغم کی باتوں نے کچھ حد تک پرسکون کر دیا تھا۔۔

،زیغم، نے دوسرا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا اور آہستہ سے اسے لبوں سے چھو لیا،
آنکھیں بند کیے وہ صرف کچھ لمحوں کے لیے سکون لینا چاہتا تھا۔

دماغ میں سٹریس بہت تھا۔
ایک طرف، ,سبحان, کے بھائی پاگل ہوئے پھر رہے تھے، ,مائد, کو ڈھونڈنے کے لیے۔
وہ کسی بھی وقت اس کی غیر موجودگی میں اس کی فیملی کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔
اور دوسری جانب، ,حمائل, اس گھر میں ایک ایسی مصیبت بن کر آئی تھی جس کی چالوں کو سمجھنا آسان نہیں تھا۔
,زیغم, جانتا تھا، وہ بے شک ابھی ,مہرو, کو تسلی دے کر پرسکون کر چکا ہے،
لیکن ,حمائل, کسی بھی لمحے کوئی چال چل سکتی تھی۔
اس کا دماغ بہت شاطر تھا اور ,مہرو, اس کے مقابلے میں بہت سادہ، بہت کمزور۔
اور پھر وہ ایک لمحے کو نہ چاہتے ہوئے بھی ,نایاب, کو یاد کر گیا۔
اس گھر میں ,نایاب, کی موجودگی بھی اسے پریشان کر رہی تھی۔
اس کا دل بے چین ہو رہا تھا،
کہ کہیں ,مہرو, کسی بڑی مشکل میں نہ پھنس جائے۔
اور ایک طرف شہرام جو دوسری حویلی سے بھاگ چکا تھا اور اس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا کہ اسے زمین کھا گئی یا آسمان نکل گیا۔۔اسے ڈھونڈنا ایک پہیلی بن چکا تھا۔۔
یہی سوچیں تھیں جو اس کے دل کو گھبراہٹ میں مبتلا کیے ہوئے تھیں۔
اور وہ اپنی آنکھیں بند کیے، ,مہرو, کی ہتھیلی کے لمس میں عارضی پناہ تلاش کر رہا تھا۔محرو نرمی سے سر کو دبا رہی تھی اور وہ اپنی پریشانیوں میں گم تھا۔
°°°°°°°°
“ملیحہ”
، زرام ،نے واش روم کا تھوڑا سا دروازہ کھولتے ہوئے تھوڑی بیزاری کے ساتھ اس کا نام پکارا تھا۔۔۔

ملیحہ نے بیڈ پر پڑی کتاب سے سر اٹھایا، ایک آنکھ بند کرتے ہوئے واش روم کی جانب دیکھا ۔۔’کیا ہے ملیحہ؟’

“بدتمیز لڑکی کبھی شوہر سے پیار سے بھی بات کر لیا کرو۔’
زارم نے ہنستے ہوئے کہا تھا، کیونکہ وہ ملیحہ کے اس انداز سے بخوبی واقف تھا اور سچ پوچھیں تو اُسے ملیحہ کا یہی انداز سب سے زیادہ بھاتا تھا۔ اب ملیحہ کو شرارت سوجھی۔
“بادشاہ سلامت …. کیا ہے جی؟’
اس نے شوخی سے جواب دیا اور دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہو گئی۔

زارم کی ہنسی چھوٹ گئی ملیحہ کا جواب سن کر۔
‘استغفراللہ… تم رہنے دو، جیسے بولتی ہو ویسے ہی بولو۔ اور مہربانی کر کے میرے کپڑے نکال دو!۔

“کیوں جی؟ آپ کو میرا یہ والا انداز بھی پسند نہیں آیا؟ آپ کہیں تو میں کچھ اور ٹرائی کر لوں؟” ملیحہ نے سر جھکایا اور دانتوں میں مسکراہٹ دبائی۔انداز ایسا تھا جیسے اُسے زرام سے بہت شرم آ رہی ہو ۔
“تم رہنے دو، جیسے بولتی ہو ویسے ہی بولو۔ تمہارے اس انداز سے تو مجھے شرم آ رہی ہے، پلیز اتنا مت شرماؤ۔”

“کیا ہوا سرتاج؟ آپ کو میرا یہ انداز پسند نہیں آیا تو میں کچھ اور ٹرائی کر لوں؟”

“نہیں جی، آپ میرے پر مہربانی کریں، کوئی اور نیا آئیڈیا ٹرائی کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس مہربانی کر کے الماری سے میرے کپڑے نکال دیجیے۔”وہ تھوڑا سا واش روم کا دروازہ کھولے کھڑا اس کے انداز پر ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔

“کیوں؟ پہلے والے کپڑے کہاں ہیں، جو آپ لے کر گئے تھے؟”

“وہ فرش پر گر کر گیلے ہو چکے ہیں۔ مہربانی کر کے اور کوئی سوال مت کرنا، میں ہاسپٹل سے لیٹ ہو رہا ہوں۔ مجھے جلدی سے دوسرے کپڑے نکال کر دو۔”

“چچ۔۔۔ چچ ۔۔۔ کبھی بڑے ہونے کا ارادہ ہے یا اسی طرح ہمیشہ چننے منے کاکے بن کر کپڑے فرش پر گراتے رہنے کا ارادہ ہے؟ کون مانے گا کہ اتنے بڑے ڈاکٹر ہو تم؟ تم نے مریض کو آپریشن تھیٹر میں کیا سنبھالنا ہے، واش روم میں تم سے اپنے کپڑے تو سنبھالے نہیں جاتے!” ملیحہ دانت نکالتے ہوئے سر ادھر سے ادھر ہلاتے، بڑے مزے سے بیڈ پر بیٹھی ہوئی زرام کی حالت سے محظوظ ہو رہی تھی۔
“تم مجھے کپڑے پکڑا رہی ہو یا میں ٹاول باندھ کر باہر آ جاؤں؟”
“نہیں نہیں۔۔۔ ایسی کوئی بھی حرکت کرنے کی کوشش کی تو میں باہر سے واش روم کی کنڈی لگا دوں گی، پھر وہیں اندر کھڑے ہوئے سڑتے رہنا۔۔۔” تیزی سے گھبرا کر ہنستے ہوئے وہ الماری کی جانب بڑھی۔
“چلو اچھا ہے، تم آرام سے مان گئی، کیونکہ تمہیں اچھی طرح سے پتہ ہے زرام لغاری جو کہتا ہے، وہ کر کے دکھاتا ہے۔ اگر تم نے اگلے دو سیکنڈ میں مجھے کپڑے نہیں دیے، تو میں تولیہ باندھے ہوئے باہر آ جاؤں گا، اور تولیے کا آپشن۔۔۔”
“شٹ اپ!” وہ کچھ کہنے والا تھا کہ ملیحہ نے “شٹ اپ” کہہ کر اس کے مذاق کو گلے میں ہی روک دیا۔

“چھچھورے انسان! یہ پکڑو کپڑے اور پہن لو!” وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کپڑے اسے تھوڑے سے کھلے دروازے سے پکڑاتے ہوئے جھنجھلا کر بولی۔
“میں نے کہا، چھچوری حرکت کی ہے، ویسے ارادہ ضرور ہے۔”وہ کپڑے تھامتے ہوئے اس کا ہاتھ بھی ساتھ میں تھامے ہوئے شرارت سے بولا ۔۔

“چپ کر کے کپڑے پکڑو، میرا ہاتھ چھوڑ دو ورنہ۔ایک لگاؤں گی ۔!”

“بہت بدتمیز ہو! ذرا تمیز نہیں کہ شوہر سے کیسے بات کرتے ہیں؟”اس کے شرم سے لال ہوتے چہرے کو دیکھ اس شرارتی ہو رہا تھا

“ہاں، نہیں ہے تمیز! کسی تمیز والی لڑکی سے شادی کر لیتے! کس نے کہا تھا مجھ سے شادی کرنے کے لیے؟ تم ہی مرے جا رہے تھے! مجھے تو کوئی شوق نہیں تھا تمہارے ساتھ شادی کرنے کا!”

“کیا کروں، دل تم پر آ گیا تھا نا۔”

“تو پھر اپنے دل کو سمجھا لیتے۔”

“سمجھایا تھا… کمبخت مانا ہی نہیں۔۔۔”

“ہاں تو یہ تمہارے دل کی غلطی ہے، میری تو نہیں!”
وہ باتوں میں مصروف تھی کہ زرام نے اس کا ہاتھ تھوڑا سا کھینچتے ہوئے اندر کو لے جانا چاہا، وہ جھٹپٹا کر ہاتھ چھڑاتے ہوئے سو کی سپیڈ سے پیچھے ہو گئی۔

زارم قہقہہ لگا کر ہنسا تھا، “ڈرتی بہت ہو مجھ سے؟”
“کیونکہ تمہاری حرکتیں لفنگوں کے جیسی ہیں، اس لیے ڈرنا پڑتا ہے!”وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولی۔۔
“تم مجھے جتنا بُرا سمجھتی ہو، اتنا لفنگا میں ہوں، نہیں!
اگر واقعی ہوتا نا، تو اب تک بغیر تولیہ کے باہر آ چکا ہوتا۔”

“چھی… بدتمیز!”

“تم مجھے جتنا بےشرم سمجھتی ہو… اتنا ہوں نہیں!”
زارم کی آواز میں شرارت تھی، مگر آنکھوں میں چمک اور لہجے میں ایک عجیب سا اعتماد،
“اگر لفنگا ہوتا نا، تو ابھی تک بغیر تولیے کے ہی باہر آ چکا ہوتا!”

“چھی! بتمیز !”
ملیحہ نے ناک چڑھائی اور ایک جھٹکے سے نظریں ادھر ادھر گھما کر خود کو سنبھالا،
وہ پہلے ہی الماری سے کپڑے نکال کر تھوڑا سا دروازے کے ساتھ پیچھے ہو چکی تھی، اور اب دونوں ہاتھوں سے دروازے کے کنارے کو تھامے کھڑی تھی۔

زارم نے اندر سے تولیہ سنبھالتے ہوئے ہنستی ہوئی آواز میں کہا،
“اب کیا ہوا؟ خود ہی تو دے چکی ہو کپڑے، پھر بھی ایسے بھاگ گئی جیسے میں تمہیں کھا جاؤں گا!”

ملیحہ نے چہرہ تھوڑا سا دروازے سے جھانکا، آنکھیں پھیلائے ہوئے،
“کیونکہ تم پر بھروسا ہی نہیں ہے! کب تم چھچھوری حرکتوں پر اتر آؤ یقین کرنا مشکل !”
“تم بے فکر ہو کر یقین کر سکتی ہو کیونکہ چھچوری حرکتوں کے بادشاہ زرام لگاری کپڑے پہن چکا ہے اور باہر آرہا ہے وہ واش روم کے اندر سے اونچی آواز میں بولا تھا۔۔بولنے کا انداز ایسا تھا جیسے بادشاہ سلامت باہر تشریف لا رہے ہوں۔ملیحہ کو ہنسی آ رہی تھی۔۔
“دل تو چاہتا ہے کہ باہر سے کنڈی لگا دوں۔۔ملیحہ نے اونچی آواز میں کہا۔

“انسان بن جاؤ کوئی الٹی سیدھی حرکت مت کرنا میں ہاسپٹل سے لیٹ ہو رہا ہوں…زارم نے شرٹ پہنتے ہوئے گردن نکال کر دروازے کی سمت دیکھا۔۔

زرام کے ڈرنے پر ملیحہ کھی کھی کر کے ہنس پڑی تھی۔

“ڈرو مت ڈرپوک انسان ،نہیں لگاتی کنڈی آرام سے پہن لو کپڑے ، میں نیچے جا رہی ہوں ناشتہ بنانے۔”اس کی ڈری ہوئی آواز سن کر وہ ہنستی ہوئی دروازے کی جانب پڑی تھی۔
“بہت دانت نکل رہے ہیں تمہارے رکو آ کر بتاتا ہوں…
“ہاتھ آؤں گی تب بتاؤ گے نا…
اس سے پہلے کہ وہ باہر آتا ملیحہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔
“چل لاکھ لڑکی…. ہاسپٹل سے واپس آکر بلہ لوں گا…. وہ جاتی ہوئی ملیحہ کو انگلی سے وارن کرتے ہوئے … ٹاول سے سر کو خشک کرتے ہوئے باہر نکلا تھا۔۔

“تمہارے ساتھ زندگی بہت دلچسپ ہے میری سپائسی چلی …. وہ مسکراتے ہوئے سوچ کر، ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہو کر تیار ہونے لگا تھا۔۔۔
°°°°°°°
“آئے ہائے! اندھی ہو گئی ہو کیا؟ حیوانوں کی طرح بھاگی آ رہی ہو!”

قدسیہ کا غصے سے بھرا جملہ تیزی سے ہوا میں گونجا تھا، جیسے ہی ملیحہ ہنستے ہنستے زارم کے ساتھ بھاگتی ہوئی اُس سے آ ٹکرائی۔ وہ ایک دم پیچھے ہٹتے ہوئے اس سے ٹکرا گئی تھی۔ قدسیہ غصے سے چیخ پڑی۔

“کم سے کم جملے تو سوچ کر بولا کریں، میں کوئی جان بوجھ کر آپ سے نہیں ٹکرائی، اور نہ ہی مجھے آپ سے ٹکرانے کا شوق ہے۔”
ملیحہ نے تڑک سے جواب دیا، چہرے پر سختی اور لہجے میں خفگی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ قدسیہ اکثر اسے ذلیل کرنے کے لیے اسی قسم کے زہریلے جملے اچھالتی ہے۔ زارم کی وجہ سے وہ اکثر برداشت کر جاتی تھی، لیکن صبح صبح اس طرح کی بداخلاقی وہ اب اور سہہ نہیں پائی۔

“زبان مت چلاؤ میرے ساتھ ورنہ زبان کاٹ کر ہتھیلی پر رکھ دوں گی! جس کو دیکھو نواب کی اولاد بنا ہوا ہے اس گھر میں!”
قدسیہ کی آنکھوں میں غصہ اور چہرے پر وحشت تھی۔
اس نے جھپٹ کر ملیحہ کے بالوں کو مروڑا تو ملیحہ چیخ اٹھی۔

مگر وہ بھول گئی تھی، یہ عام لڑکی نہیں… ملیحہ ہے۔
“جو طریقہ میرے ساتھ اپنایا ہے نا، کیا آپ کو لگتا ہے مجھے نہیں آتا؟ اگر میں نے آپ کی چٹیا گھما دی تو آپ اتنی زور سے گریں گی کہ اگلے کئی دنوں تک چکر آتے رہیں گے، اور بیڈ سے اٹھنے کی لائٹ نہیں بچے گی!”

ملیحہ نے جھٹکے سے اپنے بال چھڑائے اور پھر ایک ہاتھ سے قدسیہ کا ہاتھ مروڑ کر سختی سے تھام لیا۔
اسی لمحے شور کی آواز سن کر زارم کمرے سے باہر نکلا۔

“کیا ہو رہا ہے یہ؟”
زارم کی آواز بلند ہوئی، چہرے پر غصہ اور حیرت تھی۔۔

“ہائے ہائے! ابھی بتانا ضروری ہے کیا ہو رہا ہے؟ تمہاری بیوی میرے ہاتھ مروڑے کھڑی ہے اور تم پوچھ رہے ہو کیا ہوا ہے؟ خون سفید ہو گیا ہے تمہارا، خون سفید!”
قدسیہ بیٹے کو دیکھتے ہی فوراً ڈرامے پر اُتر آئی۔

“ملیحہ! ہاتھ چھوڑو۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے، ماں ہے میری، جیسی بھی ہے… مگر میری ماں ہے! یہ سب مت کیا کرو!”
زارم نے فوراً مداخلت کی، مگر ملیحہ کے چہرے پر ضبط کی آخری لکیر بھی ٹوٹ چکی تھی۔
“اچھا؟ تو پھر اپنی ماں کو بھی سمجھا دو کہ وہ تمیز اور تہذیب کے دائرے میں رہے۔ اور اگر تم نے غلط وقت پر اینٹری ماری ہے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ مجھے کوئی شوق نہیں تمہاری ماں سے بدتمیزی کرنے کا… اگر تمہاری ماں کو اپنی بے عزتی کروانے کا شوق ہے تو پھر میں کچھ نہیں کر سکتی!”

وہ ہاتھ چھوڑ چکی تھی، مگر لہجہ اب بھی اتنا ہی سخت تھا، آنکھوں میں سلگتی چنگاریاں۔

“جس کو اپنے شوہر سے بات کرنے کی تمیز نہیں، وہ اپنی ساس سے کیا تمیز دکھائے گی؟”
قدسیہ نے تلخی سے ملیحہ کو گھورتے ہوئے کہا۔
“اور یہ بات آپ پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ شوہر سے بات کرنے کی تمیز آپ کو بھی نہیں ہے۔ میں تو جب سے اس گھر میں ائی ہوں کبھی نہیں دیکھا آپ نے اپنے شوہر کے ساتھ تمیز سے بات کی ہو۔۔اب ذرا خود سے پوچھیں، اپنی بارے میں کیا رائے ہے؟”
ملیحہ کی نظریں براہ راست قدسیہ کی آنکھوں میں تھیں، ایک ایک لفظ قدسیہ کے اندر تک چب گیا تھا۔۔

قدسیار ملیحہ زرام کی آوازوں کا شور اتنا بڑھ چکا تھا کہ زیغم، محرو، حمائل، نایاب اور توقیر سب کمروں سے باہر نکل آئے۔

“تو اب میرے ساتھ زبان چلائے گی؟ تیری اوقات کیا ہے؟ دو کوڑی کی لڑکی! کچرے کے ڈھیر سے اٹھا کر لائی گئی، اور تُو میرا مقابلہ کرے گی؟!”

قدسیہ نے ایک جھٹکے سے آگے بڑھتے ہوئے ہاتھ اُٹھایا اور زور سے ملیحہ کے چہرے پر تھپڑ مارا۔

تھپڑ اتنا زور دار تھا کہ ملیحہ ہلکی سی لڑکھڑائی، گرتے گرتے سنبھلی، لیکن آنکھوں میں نمی تیر گئی۔

اس نے کانپتے ہونٹوں سے زارم کی طرف دیکھا۔
پورے ماحول میں سناٹا چھا گیا۔ سب کے چہرے حیرت اور بے یقینی سے بھر گئے۔

“اماں! یہ کیا حرکت ہے؟ آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ میری بیوی کے ساتھ ایسا سلوک کریں!”
زارم تڑپ کر آگے بڑھا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے تمہاری ہمدردی کی! اپنی ماں کو رکھو تم! مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا!”
وہ آنکھوں میں آنسو لیے، غصے سے کانپتے لہجے میں بولی اور پیچھے اپنے کمرے کی جانب مڑ گئی۔

“ملیحہ! میری بات تو سنو!”
زارم نے آواز دی، مگر وہ نہیں رکی۔

اپنے قدموں کی چاپ میں وہ سارا شور دفن کر گئی، اور کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“جاؤ! بیوی کے دم چھلے، جاؤ!”
قدسیہ کی زہریلی آواز پیچھے سے گونجی۔

“بس کریں! بس کر دیں! خدا کا واسطہ ہے، بس کر دیں! آپ کی اپنی زندگی میں سکون نہیں تو کم سے کم دوسروں کی زندگی میں تو رہنے دیں!”
زم کی آواز میں التجا تھی، لیکن اب سب کچھ حد سے گزر چکا تھا۔۔۔وہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔اندر جاتے ہی دروازہ بند کر چکا تھا۔۔

“ہماری زندگیوں میں سکون ہی سکون تھا،”
نایاب کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا۔
“بس کچھ لوگ ہماری زندگی میں عذاب بن کر نازل ہوئے اور زندگی کا سکون چھین لیا۔”
اس کی نگاہوں کا زاویہ صاف بتا رہا تھا کہ اشارہ کس کی طرف ہے۔
“ہماری زندگی کو عذاب بنانے والے یاد،خدا کی قسم اگر ہم نے بھی ان کی زندگیوں کو عذاب نہ بنا دیا، تو پھر کہنا!”
جملے میں تھرتھراہٹ تھی، اور نشانہ واضح طور پر زیغم اور مہرو تھے۔

” دنیا… مکافاتِ عمل ہے۔ جو کچھ تم لوگوں نے بویا تھا، اب وہ کاٹنے کا وقت آ چکا ہے۔”

“اپنے ہی ہاتھوں سے لگائی گئی فصل کاٹتے ہوئے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟”

“اور ہاں، اپنے چہرے پر اتنی معصومیت مت سجاؤ۔ یہ تم پر سوٹ نہیں کرتی۔ دوسروں کی زندگیاں جہنم بنانے والی، آج خود ذرا سی سختیوں پر تڑپ رہی ہے، اور خود کو مظلوم سمجھ رہی ہے؟ حیرت ہوتی ہے!
جبکہ جو کچھ تم نے دوسروں کے ساتھ کیا، اس کے بدلے میں تو تمہیں ابھی کچھ خاص ملا بھی نہیں۔”
زیغم نے سخت لہجے میں کہا، اس کی آنکھوں میں غصے کی گہری جھلک صاف نظر آ رہی تھی۔۔۔

“میں نے تم سے بہت پیار کیا، مگر تم اس کے قابل نہیں تھے!”
“اب اس پھول جھڑی کا ایسا حشر کروں گی کہ تم یاد رکھو گے، جس پر اپنی عشق کی بارش کرتے پھر رہے ہو!”وہ محرو کی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے بولی۔مہرو کو اس کے ساتھ کھڑے دیکھ نایاب کو بہت تکلیف ہو رہی تھی اس کا بس چلتا تو اسی وقت محرو کا گلا دبا دیتی۔۔جس دن سے زیغم نے اسے طلاق دی تھی اور زیادہ تر اپنے کمرے میں بند رہتی تھی آج بہت دنوں بعد وہ کمرے سے نکلی تھی۔اور باہر نکلتے ہی مہرو کو دیکھ اسے آگ لگ گئی تھی۔۔

“تم نے میری زندگی کے بہت سے قیمتی رشتے مجھ سے چھین لیے، مگر اب… اب میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا!”
زیغم کی آواز میں گونجتی دھمکی صاف سنائی دی۔۔۔

“اور اگر محروم کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا نا، تمہارے حلق سے سانسیں کھینچ لوں گا!”
نایاب کی گردن پکڑ کر سختی سے جھنجوڑا، “زیغم سلطان کا وہ روپ دیکھو گی کہ تمہاری روح کانپ جائے گی!”

غصے میں آ کر اس نے زور سے دھکا دیا تو وہ پیچھے تماشائی بن کر کھڑی حمائل سے ٹکرا گئی۔اگر صحیح وقت پر ہمائل اس سے سہارا نہ دیتی تو وہ زمین پر پڑی ہوتی۔۔
“ایسا کیا ہے اُس میں جو تم اُس کے لیے پاگل ہو گئے ہو؟ کیا ہے ایسا اُس میں؟”
وہ پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی زیغم کے بے حد قریب آئی تھی، آنکھوں میں جلن، لہجے میں دہکتا ہوا زہر۔
“بولو کیا ہے ایسا اس میں جو تم اس کے والے ہو گئے ہو…

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیختی ہوئی اس جگہ کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے لگی تھی کہ زینغ نے اس کے ہاتھوں کی کلائیوں کو تھامتے ہوئے نفی میں سر کو ہلاتے گھور کر دیکھ ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے خود سے دور کیا…

“دوبارہ ایسی جرات مت کرنا۔۔۔اگر دوبارہ میرے قریب ان پر ہاتھ ڈالا تو تمہارے ہاتھ سلامت نہیں بچیں گے۔وہ حلق کے بل چلایا تھا۔۔۔

“اور رہی بات کہ اس میں کیا خاص ہے… مہرو کی جانب دیکھتے ہوئے اشارہ کیا..
“اس میں وہ سب کچھ ہے… جو ایک عورت میں ہونا چاہیے۔ جو تم میں بالکل نہیں!”مہرو گھبرا گئی تھی زیغم نے نرمی سے اسے اپنے پیچھے چھپا لیا تھا۔۔
زیغم کے الفاظ سیدھے نیاب کے دل کو چیر گئے۔اور دوسری جانب حمائل کی حالت بھی نایاب سے زیادہ مختلف نہیں تھی۔
“مجھ سے دور رہ کر بات کرو!”
وہ پلٹ کر ایک قدم پیچھے ہوا، “مجھے تمہارے اندر سے مکاری کی بو آتی ہے!”
حمائل کی نظریں زیغم پر جمی ہوئی تھیں، وہ اسے ایک نئے انداز میں دیکھ رہی تھی۔ زیغم کی نظر میں مہرو کے لیے ایک خاص دیوانگی تھی، جو حمائل کے لیے بھی نئی تھی۔زیغم بہت ٹھہراؤ سے بات کرنے کا عادی تھا مگر یہاں تو اس کا ایک الگ ہی جنونی روپ دیکھنے کو مل رہا تھا۔ایک ایسا روپ جو حمائل نے اتنے سالوں میں نہیں دیکھا تھا ایسی دیوانگی وہ اپنے لیے چاہتی تھی۔جو اسے کبھی مل نہ سکی۔۔

سلمہ اور رومی دیر سے آئے، لیکن جب انہوں نے باہر کا منظر دیکھا۔سلمہ تو لطف اندوز ہو رہی تھی کیونکہ اسے تو ایسے تماشے بہت اچھے لگتے تھے۔جب کہ رومی حیران تھی۔اور اسے یہ سب کچھ بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔

پچھتاؤ گے تم، ایک دن تمہیں یہ سب یاد آئے گا، نایاب نے انگلی اٹھا کر وارن کیا، پھر غصے میں پیچھے ہٹ گئی۔

“جو بھی کرنا ہو، کر لینا، میں نہ تو تم سے ڈرتا ہوں نہ تمہارے باپ سے۔”زیغم نے اس کی باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔ہوا میں کشیدگی برقرار تھی مگر سب خاموشی سے اپنے اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے تھے سب کے دماغ میں الگ الگ خیالات تھے۔۔۔وہ الگ بات ہے کسی کے دماغ میں اچھے خیالات تھے، تو کسی کے دماغ میں برے،کوئی کسی کے لیے گھٹیا پلان بنا رہا تھا۔تو کوئی اپنی محبت کو سمیٹنے اور سمجھانے میں مصروف تھا۔۔
°°°°°°°°°°
“ملیحہ، پلیز… میری جان، میری بات تو سنو… ذرام دروازہ بند کرتے !تیزی سے اس کی جانب لپکا، جو غصے سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ہینڈ بیگ شولڈر پر ڈالے، گھر سے جانے کے لیے کمرے سے باہر کی جانب قدم بڑھا رہی تھی۔اس کی کلائی تھام کر جا نے سے روک چکا تھا۔۔
“مجھے۔۔ تمہاری ۔۔کوئی بات نہیں سننی! مجھے یہاں سے جانا ہے تو مطلب جانا ہے!”
،ملیحہ، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، روئی ہوئی سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے ،لفظوں پر زور دیتے ہوئے بولی۔

“ایسے۔۔ کیسے چلی جاؤ گی؟ میں تمہیں نہیں جانے دوں گا!”
زارم نے تڑپ کر اس کا ہاتھ کھینچتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا۔
“اچھا؟ کیوں نہیں جانے دو گے؟ کیا تم نے مجھے خرید لیا ہے؟ یا یہاں رکھ کر تم اپنی ماں سے روز روز مجھے ذلیل کروانا چاہتے ہو؟
اور اب تو انہوں نے ہاتھ بھی اٹھانا شروع کر دیا ہے! ایک کام کیوں نہیں کرتے؟ تم بھی ہاتھ اٹھاؤ مجھ پر!”
،ملیحہ، نے ،زارم، کا ہاتھ غصے سے پکڑا اور اپنے چہرے پر مارنے کے لیے لایا، مگر ،زارم، نے مٹھیاں بھینچ کر، ہاتھ مضبوطی سے روک لیا۔

“پاگل ہو گئی ہو؟ میں کیوں تم پر ہاتھ اٹھاؤں گا؟”
“ابھی پاگل نہیں ہوئی… مگر جس طرح کا سلوک میرے ساتھ ہو رہا ہے، بہت جلد پاگل ہو جاؤں گی!
اور میں پاگل نہیں ہونا چاہتی… میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا، کہ میں کچھ بھی ایسا ویسا برداشت نہیں کروں گی۔ لہجہ درد سے لبریز تھا۔

“زرام ۔۔مجھے کوئی شوق نہیں تھا ان بڑی بڑی حویلیوں کا…
“میں نے کبھی اتنے اونچے خواب نہیں دیکھے تھے جن کی اڑان بھرتے ہوئے میں زخمی ہو جاؤں…
“میں نہیں آنا چاہتی تھی یہاں!

“ان اونچی حویلی کے اندر مجھے تم لے کر آئے تھے، تم نے مجھے پسند کیا تھا…
تو پھر سزا مجھے کیوں دی جا رہی ہے ؟”،ملیحہ، چیخ کر بولی، غصے سے بھرے لہجے میں بولتے ہوئے ،وہ صرف اور صرف زرام کے منہ سے ، اپنے سوالوں کا جواب سننا چاہتی تھی۔۔۔

“ششش… پلیز، پلیز… ریلیکس ہو جاؤ، اتنا غصہ مت کرو… میں جانتا ہوں تمہارے ساتھ جو ہوا وہ بہت غلط تھا ۔”اسے اپنے قریب کرتے اس کے آنسوں کو بھاری ہاتھ سے صاف کیا۔۔۔

“سچ میں؟ تمہیں پتہ ہے ،کہ میرے ساتھ غلط ہو رہا ہے ؟”
،ملیحہ، نے تنزیہ لہجے میں پوچھا۔لب رونے کی شدت سے کپ کپا رہے تھے۔۔

،زارم، نے نظریں جھکا لیں، کیونکہ وہ جانتا تھا… سچ میں ،ملیحہ، کے ساتھ جو ہوا، وہ غلط تھا۔اس کی انسلٹ ہوئی تھی،ایک بار نہیں بار بار ہوئی تھی۔جبکہ اس کا کوئی قصور نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ اس گھر میں اس کی محبت بن کر آئی ۔صرف اسی چیز کی اسے سزا مل رہی تھی۔
اور وہ جانتا تھا، کہ وہ چپ رہنے والوں میں سے نہیں ہے۔۔

“بتاؤ ،نا ،… سچ میں تمہیں پتہ ہے کہ جو میرے ساتھ جو ہو رہا ہے!وہ غلط ہے؟وہ ایسے پوچھ رہی تھی کہ زرام کو خود پر شرمندگی ہونے لگی۔۔

“چلو خیر اتنا ہی بتا دو….کہ اب تم کیا کرو گے؟وہ کچھ دیر خاموشی کے ساتھ اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتی رہی تھی۔۔۔

افسوس ….تم کبھی بھی نہیں کچھ کرو گے!”
،ملیحہ، کا لہجہ تیز، مگر درد سے بھرا ہوا تھا وہ آنسؤں سے بھری آنکھوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی ایک نا امیدی اس کی آنکھوں سے چھلک رہی تھی۔ذرام شرمندہ اور خاموش تھا۔کہتا بھی تو کیا کہتا وہ سچ ہی تو بول رہی تھی۔۔
“تم اسی طرح چپ چاپ صرف محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے رہو گے… تمہاری ماں کا حوصلہ بڑھتا جائے گا…”ایک دن پھر تمہاری ماں… اُسی حوصلے اور ہمت کے ساتھ میرے اوپر پھر سے ہاتھ اٹھائیں گی۔
پھر ہاتھ سے کام بڑھ جائے گا…
پھر وہ مجھے بالوں سے گھسیٹیں گی…
پھر اس سے بھی بات آگے جائے گی…
اور ایک دن… میرا گلا دبا کر، اسی حویلی کے کسی کونے میں مجھے دفن کر دیا جائے گا!”بڑے ٹھہراؤ اور درد کے ساتھ اس نے یہ ساری منظر کشی کرتے ہوئے ذرام سے کہا تھا۔۔۔

،زارم، نے تڑپ کر اس کی جانب دیکھا۔۔
“،ملیحہ،! ایسا نہیں ہوگا۔میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا ۔”

“ایسا ہی ہوگا…”وہ یقین سے بھرے انداز سے اسے دیکھ رہی تھی۔ایسا یقین کہ جس کے سامنے ذرام کا حوصلہ ٹوٹنے لگا تھا۔ ۔

“تمہاری ماں کی آنکھوں میں، حویلی کی وہ روایتی عورتوں والا گہرا عکس ہے…
جو کسی کو بھی مار کر زندہ دفن کر دینے کے لیے کافی ہے۔”
،ملیحہ، کا لہجہ کڑوا تھا، مگر سچائی سے لبریز تھا۔۔۔
“ذرام، مجھے یہ کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے… مگر میں کہوں گی ضرور…
کیونکہ ،ملیحہ، کمزور نہیں ہے۔”
وہ لمحہ بھر کو رکی،

“میں تم سے پیار کرنے لگی ہوں…
مگر پھر بھی، تمہیں چھوڑ کر، تم سے دور چلی جاؤں گی۔
جانتے ہو کیوں؟”
،زارم، اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ خاموش، ساکت۔اس کے جواب کا منتظر تھا۔
،ملیحہ، نے لبوں پر ضبط کی لکیریں کھینچیں،
“کیونکہ ایک لڑکی کی سیلف رسپیکٹ سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
محبت بہت قیمتی جذبہ ہے…
مگر عزتِ نفس سے بڑھ کر نہیں۔
میں یہاں رہ کر خود کو لاچار، بے بس، بے سہارا نہیں بنا سکتی۔”
ملیحہ کے فیصلہ کن انداز اور مضبوطی کو دیکھ ،ذرام کی سانسیں بند ہونے لگی تھی وہ اسے کھونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ملیحہ کے اسے چھوڑ کر جانے والی بات اس کے اندر تک توڑ گئی تھی۔۔

“تو کیا… تم مجھے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلی جاؤ گی؟”تجسس بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“ہمم… چلی جاؤں گی،”
،ملیحہ، نے آہستہ سے سر ہلایا،
آنکھوں میں وہ عزم تھا، جو زرام کی محبت سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

“میری محبت کا… تمہاری نظروں میں کوئی مقام نہیں ہے؟”
،زارم، نے درد سے بھرے لہجے میں پوچھا۔
“محبت کو مقام دینا…
ہمیشہ عورت پر ہی کیوں فرض ہوتا ہے؟
مرد محبت کو کیوں مقام نہیں دے سکتا؟
کیا مرد کی محبت… چند ڈائیلاگز پر ختم ہو جاتی ہے؟”
،ملیحہ، کا لہجہ زہر میں ڈوبا، سچ سے لبریز تھا۔
“مرد کہتا ہے، ‘میں تمہارے بغیر رہ نہیں سکتا،
میں تمہارے لیے یہ کر دوں گا… وہ کر دوں گا’۔
اور بے وقوف لڑکیاں…
ان چند میٹھے جملوں کے بدلے…
ایک حویلی کی چار دیواری کے اندر… گھٹ گھٹ کر مر جاتی ہیں۔تاکہ وہ محبت کا مقام بنا سکیں۔”
اس کے لبوں پر تنزیہ مسکراہٹ تھی۔۔اس مسکراہٹ کے پیچھے کرب اور نفرت کا زہر ظاہر ہو رہا تھا۔۔

“چپ مت رہو ذرام۔میری باتوں کا جواب دو۔یہ کون سا ‘محبت کا مقام’ ہوتا ہے؟
جو اونچی حویلی کے مرد…
چھوٹے گھر سے لائی گئی لڑکی کو اپنے گھر والوں سے ذلالت دلوا کر دیتے ہیں؟”
“اگر تمہاری محبت کے مقام کو ثابت کرنے کے لیے،
مجھے یہ سب سہنا ہوگا…
گھٹ گھٹ کر جینا ہوگا…
تمہاری ماں کی سزائیں برداشت کرنی ہوں…
تو میں معذرت چاہتی ہوں…
میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی۔”

،ملیحہ، نے آنکھوں میں شعلے لیے، دو ٹوک کہا،
“ایسی ،محبت گئی پھاڑ میں! جس میں اپنی عزت کو نیلام کرنا پڑے۔”
سب سے پہلے خود کی عزت کرنی چاہیے۔”
“میں بے وقوف سمجھتی ہوں اُن لڑکیوں کو…
جو خود کی عزت نہیں کرتیں،
جاری ہے ۔
°°°°°°

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *