Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:41

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر :41
°°°°°°°°
اور کسی مرد کی نظر میں اپنے لیے عزت تلاش کرتی ہیں۔
بے وقوف ہیں وہ…
جو خود اپنے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتیں،
مگر مرد سے توقع رکھتی ہیں کہ وہ اُن کے لیے لڑے گا۔”
،ملیحہ، نے ایک ایک لفظ کو ٹھہراؤ سے ذرام کے دماغ میں اتارا تھا۔
،ذرام ،خاموش نظروں سے اسے دیکھے جا رہا تھا،وہ ایسی تھی یہ بات تو وہ ہمیشہ سے جانتا تھا۔اپنی عزت اپنی ریسپیکٹ کرنے والی۔
کچھ دیر خاموشی مکمل طور پر کمرے کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے تھی۔۔دونوں کے بیچ میں کچھ شاید بولنے کو باقی نہیں رہا تھا۔وہ ہینڈ بیگ وہ کاندھے پر سیٹ کرتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھنے لگی تھی۔اس کی جانب سے بات ختم ہو چکی تھی۔
“رکو،۔۔زرام کی آواز کمرے کی خاموشی کا سینہ چیرتے ہوئے گونج اٹھی تھی۔۔۔مجھے بھی بولنے کا موقع دوں گی” زرام نے نرمی سے کہا۔۔

” میرے پاس کوئی موقع نہیں ہے۔ تم بہت کمزور ہو۔میرا دفاع کبھی نہیں کر سکتے۔ملیحہ نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے نظریں چرا کر کہا۔مگر زرام نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھا تھا۔ملیحہ کا اسے کمزور کہنا ایک بار پھر سے ذرام کے سینے میں خنجر گھونپنے جتنا اذیت ناک تھا۔۔
محبت میں انسان بے بس اور کمزور ہو جاتا ہے،
کبھی کبھی اتنا کہ…
اس کا اپنا محبوب بھی اُسے بزدل سمجھنے لگتا ہے۔وہ نرمی سے اس کا ہاتھ تھامے اس کے قریب ہو کر کھڑا تھا۔لہجہ درد سے گوندا ہوا تھا۔۔مگر وہ پتھر بن کر خاموش کھڑی تھی۔۔

“تمہاری خاموشی مجھے مار دیتی ہے… اور تمہاری ناراضی، اندر سے توڑ دیتی ہے۔”
“یار محبت کی ہے تم سے… اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بار تم مجھے نظر انداز کر جاؤ اور میں، سہہ جاؤ…
مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے کبھی تو میرے نظریے سے بھی سوچ لیا کرو.. سن تو لو، شاید میری بات میں وہ سچائی ہو، جو تمہیں اس گھر سے جانے سے روک لے۔”
ملیحہ اس کے ٹہراؤ سے بھرے لہجے کو سن رہی تھی۔۔ آنکھیں نم تھیں، مگر وہ اب بھی نظریں چُرا رہی تھی۔۔

“مجھے نہیں رہنا مجھے جانا ہے.”. بس اتنا ہی بولی تھی..

“تم نے میری بات کبھی مکمل سنی ہی نہیں… بس ہر بار خود ہی فیصلہ سنا دیا۔”
” زارم کا لہجہ بھاری ہو چکا تھا، “تمہیں کھونے کا خوف مجھے توڑ رہا ہے، پلیز… مت جاؤ۔”اس کی نظروں میں التجا تھی بے تحاشہ ملیحہ کے لیے محبت تھی۔

مگر کبھی کبھی، محبت کسی مقام پر کم پڑ جائے،
تو شوہر کے تحفظ سے بھرے الفاظ بیوی کے دل کو سکون دے جاتے ہیں۔
ہر موڑ پر صرف محبت نہیں،
کبھی شوہر کا ساتھ، اس کی ڈھال بن کر رہنا بھی ضروری ہوتا ہے…
اور ملیحہ کو بھی اس لمحے، ذرام سے اسی تحفظ کی امید تھی۔
دونوں اپنی جگہ ٹھیک تھے،
شاید وقت ہی غلط تھا…
جس نے دونوں کو ایک دوسرے سے الجھا دیا۔۔
“اچھا… ہمیشہ میں نے تمہاری نہیں سنی۔ خود سے فیصلہ کیا؟ کس کو پاگل بنا رہے ہو زارم؟”کتنی آسانی سے تم نے مجھے کٹ گہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔
” یہ بتاؤ… کب میرا فیصلہ چلا؟ کب وہ ہوا جو میں چاہتی تھی؟”
“میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، مگر میری تم سے شادی ہو گئی۔”
“میں اس حویلی میں نہیں رہنا چاہتی تھی، مگر میں اس حویلی میں رہ رہی ہوں۔”
“میں تمہاری ماں سے ذلیل نہیں ہونا چاہتی تھی، مگر روز ہو رہی ہوں!”
“تو کہاں گیا میرا فیصلہ؟ کہاں گئی میری بات کی وقعت؟ کب مانا گیا جو میں چاہتی تھی؟”اس کی جانب دیکھ کر پوچھ رہی تھی مگر زرام کے پاس اسے سمجھانے کے لیے کوئی جواب نہیں تھا۔وہ خاموشی سے ایک بار پھر نظر اس کے چہرے پر مرکوز کیے کھڑا تھا۔وہ اپنے غصے میں ضدی بنی کھڑی تھی۔اور وہ محبت میں بے بس ہو کر کھڑا تھا۔۔۔

چھپ کیوں ہو۔؟ بولو ناں۔
اس کے سینے پر ہاتھ جماتے ہوئے، وہ نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑ کر پوچھ رہی تھی۔
“تمہاری یہ خاموشی تمہاری بات کا جواب ہے کہ آج تک جب سے ہمارا ٹکراؤ ہوا, سب کچھ تو تمہاری مرضی سے ہوا ہے.. میری مرضی کہیں پر بھی شامل نہیں ہے..”

“اگر سب کچھ میری مرضی سے ہوا تھا،
تو آج ایک بار پھر ،میری مرضی سے یہاں رک کیوں نہیں جاتی؟
میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا،
جو تمہارے ساتھ ہوا، میں اس پر شرمندہ ہوں۔”
وہ دھیمے لہجے میں اس سے روک رہا تھا۔نظروں میں اسے کھو دینے کا ڈر تھا۔محبت صرف عورت کو نہیں،
مرد کو بھی بے بس اور کمزور کر دیتی ہے،
کبھی جذبات کے ہاتھوں،
کبھی اپنے ہی آنسو چھپاتے ہوئے…
وہ بھی ٹوٹتا ہے،
بس ظاہر نہیں ہونے دیتا۔

ملیحہ کے لبوں پر تنقیدی سی ہنسی تھی۔
“واہ، کیا جواب دیا ہے۔
شرمندہ ہو؟
مجھے۔۔ تمہاری۔۔۔ شرمندگی نہیں چاہیے۔
مجھے انصاف چاہیے،
مجھے وہ ریسپیکٹ واپس چاہیے۔ جو تمہاری ماں نے مجھ پر ہاتھ اٹھا کر چھین لی ہے ۔
میرے منہ پر تھپڑ مارا گیا،
مجھے بےعزت کیا گیا،وہاں پر کھڑے ہر شخص نے وہ منظر دیکھا۔
کیا تم میری وہ عز واپس لا سکتے ہو؟
نہیں، کیونکہ وہ تمہاری ماں ہیں۔ تمہارے لیے ادب کی علامت ہے۔۔
بیوی کی تو کوئی عزت ہی نہیں ہوتی نا؟”اور اگر بیوی غریب گھر کی ہو پھر تو عزت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔

وہ درد زدہ لہجے سے روتے ہوئے بولتے جا رہی تھی۔وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔اپنے غصے اور انا کے بیچ میں وہ اس وقت زرام کے چہرے پر جو بے بسی جو درد تھا وہ دیکھ نہیں پا رہی تھی۔۔

“تم بس چپ رہ سکتے ہو،میرے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے،اسی لیے، زارم،
یہ جھوٹی محبت کے دعوے بند کرو۔
میں تمہارے کہنے سے یہاں نہیں رکنے والی،
کیونکہ میں اپنے ساتھ یہ توہین آمیز سلوک مزید برداشت نہیں کر سکتی۔
چاہے اس کی قیمت (تمہیں ) ہمیشہ کے لیے کھو دینا ہی کیوں نہ ہو۔”ملیحہ کا لہجہ فیصلہ کن تھا۔
“تم کیا چاہتی ہو؟
کہ میں تمہیں کہوں جا کے میری ماں کے منہ پر تھپڑ مار دو؟
تب تمہیں سکون ملے گا؟”وہ ٹوٹے ہوئے لہجے سے پوچھ رہا تھا۔

“نہیں،
میں نے کب کہا تم اپنی ماں کی توہین کرو؟
میں تو جانتی ہوں کہ
ماں جنت ہوتی ہے،بیٹے کے لیے عزت و احترام کی جگہ ہوتی ہے..

“مگر بیوی بھی انسان ہوتی ہے۔اس کو بھی درد ہوتا ہے اس کی بھی عزت نفس ہوتی ہے۔
مگرمرد ہمیشہ ماں اور بیوی کے درمیان کھڑا رہتا ہے،
فیصلہ نہیں کرتا…
بس خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عورت ٹوٹتی ہے،
اور مرد… بچ نکلتا ہے۔”کب تک یہ روایات برقرار رہیں گی۔کب تک بہو کو شوہر کی محبت ثابت کرنے کے لیے زندہ درگور کیا جاتا رہے گا۔
میں کوشش تو کر رہی تھی،
کہ تم تک تمہاری ماں کی باتیں نہ پہنچیں،
کوشش کر رہی تھی،
کہ خود کو تمہاری امیدوں پر پورا اترنے کے قابل بنا سکوں…
ہر روز، کسی نہ کسی بہانے،
وہ مجھے ذلیل کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتی تھیں،
برداشت کر رہی تھی،
مگر آج…
جب انہوں نے ہاتھ اٹھا کر میری عزت پر،
میری انا پر تھپڑ مارا ہے،
تو وہ میں برداشت نہیں کر سکتی…
اتنی ہمت نہیں ہے مجھ میں…
کیا کروں؟ملیحہ تیز تیز لہجے میں کہتے اپنے دل میں چھپا ہوا وہ درد سنا رہی تھی، جس سے وہ ناواقف تو نہیں تھا، وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں اس کے ساتھ کیسا سلوک رکھتی ہے۔ اس وقت وہ ایک مجبور بیٹا اور بے بس شوہر نظر آرہا تھا۔۔

“تمہیں کیا لگتا ہے،
میری نظروں میں تمہاری عزت نہیں؟
کیا لگتا ہے کہ یہ سب دیکھ کر مجھے سکون ملتا ہے؟
کبھی نہیں سوچا ہوگا نا…
کہ ایک مرد بھی انسان ہوتا ہے،
اسے بھی درد ہوتا ہے،
وہ بھی ٹوٹتا ہے…
کبھی میرے نظریے سے سوچ کر تو دیکھو،
میں کتنی تکلیف میں ہوں۔

لہجہ لرزنے لگا تھا،
آواز نمی سے بھیگ گئی تھی،
یہ ذرام کا وہ پہلو تھا،
جسے ملیحہ نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
“میرے اپنے ماں باپ نے…
میرے اپنوں کے خون کو پانی کی طرح بہا دیا…
زیغم بھائی… جسے میں نے ہمیشہ بڑا بھائی مانا،
بڑے بابا… جنہیں ہمیشہ رول ماڈل سمجھا…
ان کی زندگی اجاڑنے والا…
کوئی اور نہیں…
میرا اپنا خاندان تھا۔

میرا باپ،
میرا بھائی،
میری ماں،
میری بہن…

سب کچھ انہی کے ہاتھوں برباد ہوا…
اور ان سب کے بیچ…
میں کہاں ہوں؟
کہیں نہیں…
مگر پھر بھی قصور وار…
صرف میں ہوں۔”
“دانیا بھابھی کو…
میرے سگے بھائی نے…
موت سے بھی بدتر زندگی جینے پر مجبور کر دیا۔
میری اپنی ماں…
میری اپنی بہن نے…
اسے جلا کر مارنے کی کوشش کی…
اگر وقت پر زیغم بھائی نہ آتے…
تو دانیا بھابھی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔
یہ سب…
کسی اور نے نہیں…
میری اپنی ماں،
میری اپنی بہن نے کیا۔
مگر…
اس سب میں،
میں شامل نہیں تھا…
پھر بھی…
قصوروار میں ہوں۔”

“زیغم بھائی…
اپنے ماں باپ کےقتل…
اور اپنی بہن کی وہ زندگی،
جو میرے گھر والوں نے
موت سے بدتر بنا دی تھی…
کبھی نہیں بھول پائے۔

وہ سزا دینا چاہتے ہیں…
جو کہ ان کا حق ہے۔

مگر…
اس سب میں میں شامل نہیں تھا…
پھر بھی…
قصوروار میں ہوں۔”
“سب میرے گھر والوں سے نفرت کرتے ہیں، اور یہ نفرت بالکل جائز ہے، کیونکہ وہ نفرت کے لائق ہیں۔ تم بھی نفرت کرتی ہو، اور تمہارا نفرت کرنا بھی ٹھیک ہے کیونکہ تمہیں جو کچھ ان لوگوں سے جھیلنا پڑا، وہ قابل نفرت ہے۔ مگر کوئی میرے نظریے سے کیوں نہیں سوچتا؟ کیوں نہیں یہ دیکھتا کہ میری شناخت انہی کے ساتھ جڑی ہے؟ یہ وہ شناخت ہے جو میری سب سے بڑی تکلیف ہے…

کاش میرے اختیار میں ہوتا، میں سب سے پہلے خود سے یہ شناخت چھین لیتا، میں کہہ سکتا کہ میں توقیر لغاری کا بیٹا نہیں ہوں، یا میں شہرام لغاری کا بھائی نہیں ہوں، یا میں قدسیہ لغاری کی کوک سے پیدا نہیں ہوا، یا میں نایاب کا بھائی نہیں ہوں۔ قسم خدا کی، میں ان سب مہروں کو خود سے مٹا دیتا، مگر میرے بس میں کچھ نہیں، میں بے بس ہوں۔

سب مجھے سناتے ہیں، سب مجھے بتاتے ہیں کہ میرے گھر والے کیسے ہیں، لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ میں کیا کروں؟ اگر میں سزا دوں، تو گنہگار ہو جاؤں گا، کیونکہ وہ میرے ماں باپ ہیں، اور رب کے حکم کے مطابق ہمیں ان کے سامنے اف کرنے کا بھی حق نہیں، تو کیا کروں؟ کس راہ پر چلوں؟ مجھے کوئی راہ نہیں نظر آتی…

وہ روتے ہوئے زمین پر بیٹھا تھا، اس کے آنسو اس کی بے بسی کا مظہر تھے۔ ملیحہ نے قریب آ کر اس کا ساتھ دینے کی کوشش کی، مگر وہ سختی سے اسے دور کر رہا تھا۔

چلی جاؤ… تم بھی چلی جاؤ، اور مجھ پر رحم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم نے ٹھیک کہا، میں کمزور مرد ہوں، جو تمہارا سہارا نہیں بن سکتا۔ جو تمہاری امیدیں مجھ سے وابستہ ہیں، میں انہیں پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہوں۔ تم چاہتی ہو کہ میں تمہارا سہارا بنوں، لیکن میں نہیں بن سکتا، کیونکہ میرے گھر والوں کی کوئی حد نہیں، وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں…

میں تمہیں اپنے ساتھ لے جانے کی تیاری کر رہا تھا، لیکن یہ سب میری سوچ تھی۔ تم آزاد ہو، تمہیں کسی بھی رستے پر چلنے کا حق ہے، لیکن میں وہ شخص ہوں جس کا کوئی قصور نہ ہو کر بھی وہ قصوروار سمجھا جاتا ہے…

میری زندگی ایک زبردستی مسلط کی گئی تقدیر ہے، لیکن میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میرے خون میں ضد شامل ہے، اور میں اس ضد کو نہیں بدل سکتا…”

کبھی کبھی ہم بھول جاتے ہیں کہ مرد نے خود پر ایک مضبوط خول چڑھا رکھا ہوتا ہے، اور ہم یہ نہیں دیکھ پاتے کہ اس کے اندر کیا چل رہا ہوتا ہے۔ وہ جو شانت اور پرسکون نظر آ رہا ہوتا ہے، اس کے دل میں اندر سے چیخیں اٹھ رہی ہوتی ہیں، جو اپنا درد بیان کرنا چاہتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں مرد کو ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ “مرد ، کمزور نہیں ہونا چاہیے۔” یہ سوالات مسلسل گھومتے رہتے ہیں کہ “مرد بن، کیوں عورتوں کی طرح آنکھوں سے آنسو بہا رہا ہے؟” اور “مرد ہو کر یہ سب کیسے کر سکتا ہے؟” ایسی باتیں، ایسی سوچیں، ہم ہر جگہ سن لیتے ہیں۔ مگر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مرد بھی انسان ہے؟ اس کے اندر بھی ایک دل ہے، وہ بھی جذبات رکھتا ہے، وہ بھی سوچ سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے، اور یہی چیزیں اسے ایک مکمل انسان بناتی ہیں۔

کیوں مرد رو نہیں سکتا؟ کیوں وہ صرف برداشت کرتا جائے؟ کیا اس کا بھی جینے کا حق نہیں؟ خدا کی قسم، ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی۔ مرد بھی رو سکتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر جذبات رکھے ہیں۔ اللہ نے کبھی نہیں کہا کہ مرد کے اندر جذبات نہیں ہوتے یا وہ نہیں روتا۔ ہاں، اللہ نے کہا کہ مرد مضبوط ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب وہ تکلیف میں ہو، وہ اپنے درد کو نہ بیان کرے، وہ رو نہ سکے۔کسی مرد کی خاموشی اور چہرے کی مسکراہٹ سے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کس کے اندر درد اور جذباتوں کا شور نہیں ہے۔

آج زرام کی حالت دیکھیں۔ وہ اپنے اندر کے درد کو چھپاتے چھپاتے کہاں تک پہنچا۔ یہ صرف ایک انسان کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی اصولوں کے خلاف ایک بڑی حقیقت ہے، جو ہمیں دیکھنی چاہیے اور سمجھنی چاہیے۔

°°°°°°°°

“ملیحہ… تم نے اسے جو کچھ کہا،
اس کے بعد اس کا تمہیں اس طرح جانے کے لیے کہہ دینا…
اور کمرے سے نکال دینا…
یہ ایک نارمل سا ردِعمل ہے۔
وہ اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے۔”

زیغم کا لہجہ نرم، مگر بہت گہرا تھا۔
وہ چاہتا تھا کہ ملیحہ صرف الفاظ نہیں…
احساس کو بھی سمجھے۔اسے احساس دلانا چاہتا تھا کہ کہیں نہ کہیں غلطی تو اس سے بھی ہوئی ہے۔۔
“وہ ہمارے ہر جذبے کو سمجھتا ہے…
اس کی قدر کرتا ہے…
مگر کہیں نہ کہیں…
ہم کم پڑ گئے ہیں اسے سمجھنے میں۔”

ملیحہ نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
نہ کوئی احتجاج، نہ صفائی۔
شاید دل کی عدالت میں ابھی فیصلہ باقی تھا۔
“وہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہا تھا،
مگر ہم دیکھ نہیں سکے۔
ہم سب اپنی اپنی جگہ قائم کھڑے تھے،
کہ ہمارے ساتھ غلط ہوا ہے…
ہم نے کبھی یہ کیوں نہیں سوچا…
کہ غلط تو اس کے ساتھ بھی ہوا ہے؟”
“بے شک وہ غلط کرنے والے اس کے اپنے تھے…
مگر اس میں اُس کا تو کوئی قصور نہیں تھا…
وہ تو بے قصور ہوتے ہوئے بھی خود کو
مجرم سمجھ رہا تھا ،
مگر ہم…
ہم اس کے اندر پلتے ہوئے اس درد کو سمجھ نہیں سکے…”

زیغم نے سانس کھینچی،اور کمر پر دونوں ہاتھ باندھے کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہلنے لگا تھا۔زیغم کی آواز میں اب نرمی کے ساتھ شرمندگی بھی تھی۔
ملیحہ شرمندگی سے، آنکھوں سے نمی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔

کئی بار دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود
جب زرام نے روم کا دروازہ نہیں کھولا،
تو زرام کی محبت میں جکڑے ہوئے
اس کے قدم حویلی سے باہر نہیں گئے تھے۔
بلکہ وہ…
زیغم کے روم میں چلی آئی تھی۔
جو ایک بھائی جیسا محافظ بھی تھا،
اور ایک سردار جیسا حاکم بھی۔
اس وقت وہ اس کے سامنے بیٹھی تھی،
اور ساری بات بتا چکی تھی۔
زیغم سب کچھ سننے کے بعد…
نہ صرف اُسے سمجھا رہا تھا،
بلکہ اپنے اندر بھی جھانک رہا تھا…
کہ کہیں نہ کہیں…
غلطی تو اس سے بھی ہوئی ہے۔زیغم نرمی سے بھرے لہجے میں سمجھا رہا تھا مگر سنجیدگی سے بھرپور تھا۔۔۔ملیحہ خود پر شرمندہ تھی شرمندگی آنکھوں سے آنسوں بن کر بہہ رہی تھی
“آپ روئیں نہیں…
سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ذرام بھائی آپ کے ساتھ ٹھیک ہو جائیں گے،
اور سائیں ہیں نا…
یہ جا کر ان کو سمجھائیں گے،تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا …”
مہرو کا نرم سا لہجہ،
محبت سے بھرپور آنکھیں،
اور سچے یقین سے لبریز الفاظ…
ملیحہ کے دل پر مرہم رکھ رہے تھے۔
اس کا سافٹ سا دل،
ملیحہ کو یوں روتے ہوئے دیکھ کر تڑپ اٹھا تھا۔
بے اختیار اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے۔ایک بہن کی طرح اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔
ملیحہ کی آنکھیں بند تھیں،
مگر دل مہرو کی باتوں کی گرمی محسوس کر رہا تھا۔انداز ایسا کہ جیسے ،ایک سگی بہن جو بےلوث محبت کرتی ہے۔
کمرے کے ایک کونے میں کھڑے زیغم کے لبوں پرہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔
اپنی مہرو کے اس یقین پر،
جو کہہ رہی تھی کہ سائیں سب کچھ ٹھیک کر دیں گے۔
اسے اپنے رب کی رحمت پر تو یقین تھا ہی،مگر جب کسی معصوم دل سے
یقین کی یہ روشنی ملتی ہے…
تو اندھیرے بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

“کبھی کبھی کسی کے یقین کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے انسان کو خود سے بڑھ کر کسی اور کے بھروسے کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔مگر اگر بھروسہ کرنے والا کوئی ایسا شخص ہو جو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو تو پھر بوجھ نہیں محسوس ہوتا۔”
زیغم نے گہرا سانس لیا تھا۔ آنکھوں میں تیز روشنی چمک رہی تھی، جیسے حویلی کے بوجھ تلے دبے زیغم سلطان نے اپنے اندر سے وہ طاقت چن لی ہو جو برسوں پہلے وہ بھول چکا تھا۔۔۔
وہ جو ایک بھائی کی طرح سب کو جوڑ کر رکھنے والا تھا، اب ایک سردار کی طرح حویلی کے زخم سمیٹنے نکلا تھا۔
اسے اب مہرو کے یقین کو صرف نبھانا نہیں تھا، اسے اپنے عمل سے سچ ثابت کرنا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ وقت سخت ہے، مگر اسے اب نرم لہجوں اور مضبوط فیصلوں سے ان دراڑوں کو بھرنا ہوگا جو اپنوں کے بیچ پڑ چکی تھیں۔بہت مشکل فیصلے کرنے کا ارادہ لیے ہوئے تھا۔ ایک آخری نظر ملیحہ پر ڈالی جو آنکھوں میں نمی لیے مہرو کے بازوؤں میں سمٹی بیٹھی تھی، اور پھر اپنے مخصوص وقار سے دروازے کی سمت بڑھا۔
دروازہ کھلا تھا، مگر اس کے ارادے اب بند دروازے بھی کھول سکتے تھے۔جب دل کہ فیصلے مضبوط ہوں تو راستے اپنے آپ بنتے جاتے ہیں۔

…وہ دھیمے قدموں سے حویلی کے دہلیز پار کر رہا تھا، مگر ذہن کی زمین پر سوچوں کے ہل پہلے ہی چل چکے تھے۔

حویلی کی راہداریوں میں اس کے قدموں کی چاپ گونج رہی تھی، اور ساتھ ہی دل میں ایک ٹھہرا ہوا عزم بھی گونج رہا تھا۔ زیغم جانتا تھا کہ ہر رشتہ جذبات سے بندھا ہوتا ہے، مگر ہر فیصلہ جذبات سے نہیں، دانش مندی اور صبر سے بھی کیا جاتا ہے۔

جب اس کی نگاہ زرام کے کمرے کے بند دروازے پر پڑی، تو وہ ایک لمحے کو رکا، جیسے دل چاہا ہو کہ اندر جھانک کر دیکھے… مگر پھر وہ آہستہ سے پلکیں جھکا کر آگے بڑھ گیا۔
خاموشی سے… نرمی سے… جیسے کسی زخمی کو خود ہی سمیٹنے کا موقع دینا چاہتا ہو۔
“ابھی نہیں…”
اس کے دل نے کہا،
“ابھی نہیں، زرام کو تھوڑا وقت چاہیے… اور میں اسے وہ وقت ضرور دوں گا۔”

حویلی سے باہر نکلتے ہوئے سورج کی دھوپ اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جیسے روشنی اور فیصلہ ساتھ چل رہے ہوں۔
اب اسے سیدھا اپنے ڈیرے جانا تھا ۔ وہاں سے وہ وہی بن کر لوٹے گا جس کی حویلی کو اشد ضرورت تھی… زیغم سلطان، وہ جو ہر مشکل میں ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے۔
کبھی کبھی انسان دل، انا اور رشتوں کے بیچ میں کمزور پڑ جاتا ہے…
دل چاہتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بس وہی کر گزرے جو دل کہتا ہے،
انا کہتی ہے کہ تم کیوں جھکو، تم تو ٹھیک تھے،
اور رشتے… وہ بیچ میں آ کر ہر فیصلہ مشکل بنا دیتے ہیں۔
ان لمحوں میں انسان کا دل تڑپتا ہے، انا چیختی ہے، اور رشتے چپ چاپ، خاموشی سے خفا ہو جاتے ہیں…
اور تب انسان، جو بظاہر بہت مضبوط لگتا ہے، اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے…
بس وہ لمحے، وہ فیصلے… انسان کو عمر بھر کے لیے بدل دیتے ہیں۔
زیغم سلطان بھی ایسے ہی ایک نازک دور سے گزر رہا تھا… جہاں دل، انا اور رشتے تینوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔
اور آج کا دن…
آج کا فیصلہ…
اس کی آنے والی زندگی پر ایک گہرا نقش چھوڑنے والا تھا۔
یہ فیصلہ مثبت ہوگا یا منفی…؟
یہ وقت بتائے گا۔
یہ لوگ طے کریں گے، ان کے اندازِ نظر پر منحصر ہوگا۔
مگر ایک بات طے تھی…
آج زیغم سلطان وہ شخص نہیں رہا تھا جو کل تھا۔
کبھی کبھی ایک فیصلہ، انسان کے اندر موجود پورے شخص کو بدل دیتا ہے۔

فیصلے کی شدت اتنی گہری تھی کہ زیغم سلطان کا مضبوط وجود لمحہ بھر کو لرز گیا تھا۔ سڑک پر دوڑتی گاڑیوں، کھیتوں کی سرسبز پٹیوں اور آسمان پر بکھرے بادلوں کے مناظر اس کی نظر کے سامنے تھے، مگر دل کے اندر کچھ اور ہی طوفان برپا تھا۔

“کبھی کبھی انسان وہ فیصلہ کرتا ہے جو صرف دماغ کے لیے صحیح ہوتا ہے، دل کے لیے نہیں…” وہ خود سے کہہ کر چپ ہو گیا۔
کالے چشمے کے پیچھے چھپی ہوئی آنکھوں میں نمی کی ایک لکیر ابھری، مگر وہ نمی وہی دفن ہو گئی، جہاں اکثر بہادروں کے آنسو چھپائے جاتے ہیں ۔ خاموشی میں، تنہائی میں، خود سے دور ایک مقام پر۔جہاں دل پر گرتے آنسو کسی کو دکھائی نہ دیں۔

“سائیں، ڈیرے پہ چلیں یا سیدھا شہر؟”
ڈرائیور نے پیچھے دیکھیں بغیر پوچھا تھا۔۔

“ڈیرے پہ… پہلے کچھ فیصلے کرنے ہیں۔”
زیغم کی آواز تھکی ہوئی تھی مگر مضبوط،
زیغم کے حکم پر گاڑی غبار اڑاتی ہوئی کالی سیاہ سڑک پر مڑ گئی ۔ اُس جانب جہاں زندگی کسی نئے موڑ کی منتظر تھی۔۔
°°°°°°°
کمرے کی مدھم روشنی میں جائے نماز بچھی تھی۔کمرے کی کھڑکیاں کھلی ہوئی تھی، ہوا بالکل رکی ہوئی تھی، جیسے وقت ٹھہر گیا تھا۔
وہ سجدے میں نہیں تھا… ابھی قیام میں کھڑا تھا، لیکن آنکھوں سے بہتے آنسوؤں نے اس کے چہرے کو دھو دیا تھا۔
لب ہل رہے تھے… مگر الفاظ نہ تسبیح تھے نہ دعا… وہ صرف دل کا بوجھ تھے۔

“میں کیوں ہوں…؟ میرے ہونے کا وجود کیا ہے…؟”
یہ سوال اس کے دل سے نکلا تھا، زبان سے نہیں۔ مگر رب تو دلوں کے راز جانتا ہے۔
“کیا مجھے شکوہ کرنے کا حق ہے…؟ نہیں، ہے ہی نہیں۔ میں جانتا ہوں۔
مگر اے اللہ… میں انسان ہوں…!
اور دل، دل ہے… جب درد سے پھٹنے لگے، تو خاموشی بھی چیخ پڑتی ہے۔”

وہ اب بیٹھ چکا تھا۔ ہاتھ دعا کے لیے اٹھے تو نہیں تھے، بس کپکپا رہے تھے۔
“سچائی کا ساتھ دیا، اپنے خلاف گیا… پھر بھی الزام میرے ہی حصے آیا۔
محبت کی، بےلوث کی… مگر وہ بھی اعتبار نہ کر سکی۔
سب اپنی جگہ ٹھیک تھے، سو میں ہی غلط ٹھہرا۔
اور میں… میں تب بھی خاموش رہا…!”

جائے نماز پر آنسو گرنے لگے… اور اس کی دل کی صدا صرف ایک تھی۔
“میرے اللہ… مجھے صبر عطا کر… بس تھوڑا سا صبر…!
کہ میں تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں… خالی ہاتھ، ٹوٹے دل کے ساتھ۔”

اس کے لبوں پر اب کوئی لفظ نہ تھا…
بس دل کہہ رہا تھا:
“کبھی کبھی بندہ شکوہ نہیں کرتا، وہ فقط دکھ بانٹتا ہے… اور تو، یا رب… تُو تو دلوں کا حال جانتا ہے۔”

“سجدے کی خاموشی میں ٹوٹتا ہوا دل رب کے بہت قریب ہوتا ہے ۔”
میں تیرا گنہگار بندہ… تیرے سامنے ہرگز سوال نہیں اٹھا رہا۔
میں بندہ بشر… میری اوقات نہیں کہ میں اپنے رب کے لکھے نصیب پر انگلی اٹھا سکوں۔
اے اللہ…!
تو میرے دل کے درد کو یہ سمجھ کر اپنی بارگاہ میں قبول ہونے دے کہ تیرا بندہ دکھی ہو کر فریاد لیے تیرے در پر، تیرے سامنے سجدہ ریز کھڑا ہے۔

وہ جائے نماز پر جھکا تھا، جسم ساکت، مگر دل میں ایک طوفان برپا تھا۔
میں جانتا ہوں کہ تو دل کا درد بھی سمجھتا ہے،
دلوں پر مرہم بھی رکھتا ہے،
راز بھی رکھتا ہے،
سکون بھی دیتا ہے…
جبکہ بندوں سے ایسی امیدیں لگانا تو احمقوں کا کام ہوتا ہے۔

وہ سجدے میں نہ جانے کتنی دیر سر رکھے روتا رہا تھا،
اور اس کے آنسو جائے نماز میں جذب ہو کر
اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو رہے تھے۔

وہ اس قدر ٹوٹا ہوا تھا کہ اللہ کی رحمت نے اُسے تھام لیا تھا۔
پرسکون کر دیا تھا۔
جائے نماز پر ہی کب سکون کی نیند سو گیا، اُسے پتہ ہی نہ چلا تھا۔

آنکھیں فجر کی اذانوں پر کھلی تھیں،
موذن کی صدا فضا میں گونج رہی تھی۔

“اللہ اکبر… اللہ اکبر…”
اذان کی آواز سن کر اس کے دل میں ایک سکون اترا تھا…
وہی سکون، جس کی اسے مدتوں سے تلاش تھی۔

سچ کہتے ہیں،
جب انسان بہت ٹوٹا ہوا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کے بے حد قریب ہوتا ہے…
اور وہ…
اس لمحے…
اپنے اللہ کے اتنے قریب تھا،
شاید اتنا جتنا وہ اپنی پوری زندگی میں کبھی نہیں ہو سکا تھا۔

وہ اٹھا ، وضو کیا…
اور جائے نماز پر کھڑا ہو گیا تھا۔
فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد…
اس کے دل میں ایک سکون ہی سکون تھا۔
یہ سکون کیسا تھا؟
وہ خود بھی نہیں جانتا تھا…
مگر وہ دل میں اتر چکا تھا۔

پھر وہ تسبیح فاطمہ پڑھنے لگا۔

سبحان اللہ… سبحان اللہ… سبحان اللہ…
الحمدللہ… الحمدللہ … الحمدللہ …اللہ اکبر… اللہ اکبر… اللہ اکبر…

اگر کوئی اس تسبیح کو دل سے پڑھے،
اس اذکار کا ذکر دل سے کرے،
تو اس میں کتنا سکون ہے…
آپ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔

ہم لوگ غفلت میں اس قدر کھو گئے ہیں۔سکون ڈوبتے ہیں فحاطشی میں، لوگوں میں، دنیا کی بھیڑ میں …
مگر سکون تو یہاں ہے…
اللہ کی ذات میں…
ذکر میں…
سجدے میں۔
” اللہ کی بارگاہ میں فیصلے کی دہلیز پر تھا…!
“اے میرے رب…!
جیسے تو نے مجھے درد سے تڑپتے ہوئے دیکھ کر میرے دل کو سکون بخشا ہے…
اسی طرح مجھے صحیح راستہ دکھا دے،
کہ میں کیسے انصاف کا تقاضا تول سکوں۔”

اس کی آواز تھکی ہوئی، لیکن دل سے نکلی ہوئی تھی۔
“میں ماں باپ کا گناہ گار بھی نہیں بننا چاہتا…
اور جن کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے،
ان کے ساتھ ناانصافی بھی نہیں کر سکتا۔”
اس کا دل ایک بار پھر لرز اٹھا تھا۔
دو راہوں کے درمیان کھڑا وہ شخص،
جو ہر پل اپنے رب کے در پر جھکا رہا،
اب اپنا کیس…
اپنی فریاد…
اپنے دل کا بوجھ…
اللہ کی بارگاہ میں رکھ چکا تھا۔
اور اُسے یقین تھا…
پختہ یقین…
کہ اس کا رب اسے ضرور راستہ دکھائے گا۔
پُرسکون سا ہو کر وہ اٹھا تھا۔
نرمی سے جائے نماز کو تہہ کیا،
اور بیڈ کے قریب آ کر کراؤن کے ساتھ پشت لگا لی تھی۔
آنکھیں بند کیے،
دل میں رب کی طرف سے آنے والی کسی رہنمائی کا منتظر…
کمرے میں مدھم سی خاموشی چھائی تھی،
اور اس کی سانسوں میں بھی سکون اُتر چکا تھا۔
کہیں دل کے کسی کونے میں،
ایک روشنی جاگ رہی تھی…
راستہ… شاید دکھا دیا گیا تھا،
یا ابھی دکھایا جانا باقی تھا۔
مگر اب وہ تیار تھا۔
کیونکہ جب انسان اپنے رب کو دل سے پکار لے…
تو پھر راہیں الجھتی نہیں…
کھلنے لگتی ہیں۔

“ملتا ہے سکون بھی، جواب بھی…
نماز کے سجدے میں جا کر دیکھ،
اللہ کے حضور اپنا دل جھکا کر دیکھ!”
°°°°°°°°°

گرمی کی شدت کے باوجود ڈیرے پر لوگوں کی موجودگی کم نہ تھی۔ درختوں کی چھاؤں تلے چارپائیاں بچھی تھیں، سامنے کچے فرش پر مرد، بزرگ، نوجوان اور چند معتبر خواتین بھی مخصوص پردے میں بیٹھے تھے۔ زیغم سلطان جب وہاں پہنچا تو حسبِ معمول سب اٹھ کر کھڑے ہوئے، اس نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو بیٹھنے کا کہا اور خود مخصوص سرداری نشست پر براجمان ہوا۔

یہ وہی جگہ تھی جہاں سے روز زیغم انصاف سناتا، شکایات سنتا اور دلوں کے بوجھ ہلکے کرتا۔ مگر آج، آج کا دن کچھ الگ تھا۔
چار سے پانچ معمول کے معاملات نمٹانے کے بعد زیغم نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش کیا، اس کی آواز گونجی تو اس میں ایک عجیب سا بوجھ اور لرزش تھی، مگر لہجہ مضبوط تھا۔

“کوئی بھی خاص ہو یا عام، یہاں سے ابھی کوئی نہیں جائے گا۔ سب یہیں موجود رہیں۔ مجھے ایک نہایت اہم اعلان کرنا ہے۔”
لوگ ساکت ہو گئے، سب نظریں اسی پر مرکوز تھیں۔ زیغم کی نگاہیں دور افق پر ٹکی تھیں جیسے کچھ سوچ رہا ہو، پھر اس نے پلکیں بند کیں، گہری سانس لی اور بولنے سے پہلے لمحہ بھر کو توقف کیا۔

“میری درخواست ہے کہ جو بھی فیصلہ میں آج سنانے جا رہا ہوں، اس پر نہ کوئی انگلی اٹھائی جائے گی نہ کوئی اعتراض۔ آپ سب جانتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ ایمانداری، انصاف اور حقیقت کو مقدم رکھا ہے۔ آج بھی میرا فیصلہ انہی اصولوں پر مبنی ہو گا۔ ممکن ہے آپ میں سے کچھ کو یہ ناگوار گزرے، مگر مجھے یقین ہے کہ جس طرح ماضی میں میرے فیصلوں پر آپ نے اعتماد کیا ہے، آج بھی کریں گے۔”
کچھ چہروں پر بے چینی، کچھ پر سوال، مگر اکثریت خاموشی سے سننے کو تیار تھی۔

جرگے کے ماحول میں ایک دم سنّاٹا چھا گیا تھا۔ زیغم کی بات ابھی مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ جرگے کے خاص فرد، جنہیں علاقے میں خاص عزت حاصل تھی، اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ ان کی آواز میں وہی روایتی جوش اور وفاداری تھی جو برسوں سے لغاری خاندان سے جڑی ہوئی تھی۔

“سائیں، آپ حکم کریں! آپ کے فیصلے پر، آپ کے ایک اشارے پر، ہماری جان، ہمارا مال، سب قربان۔”
انہوں نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بلند آواز میں کہا، اور مجمع میں موجود دوسرے لوگ بھی اثبات میں سر ہلانے لگے۔

زیغم کے لبوں پر شکر گزار مسکراہٹ ابھری، مگر آنکھوں میں چھپا بوجھ گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ وہ کھڑا ہوا، سر جھکا کر سب کو مخاطب کیا۔

“شکریہ… مجھے آپ سب سے یہی امید ہے۔ اسی امید کی ڈور تھام کر آج میں ایک ایسا فیصلہ سنانے جا رہا ہوں جو میرے لیے بھی بہت مشکل ہے۔”

ایک لمحے کو وہ خاموش ہوا، جیسے اپنی ہی بات کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔

“آپ سب لوگ توقیر لغاری کو جانتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ کسی تعارف کی ضرورت ہے۔”

اتنا کہنا تھا کہ مجمع میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ لوگوں کے چہروں پر سختی، ناگواری، اور کچھ کی آنکھوں میں پرانی یادوں کی چنگاریاں جھلکنے لگیں۔ زیغم نے ان سب کے تاثرات دیکھے اور سر ہلایا۔

“میں جانتا ہوں… آپ سب کا اس کے لیے غصہ بجا ہے۔ اس نے جو کچھ کیا، وہ کسی معافی کے قابل نہیں۔ مگر… میں چاہتا ہوں کہ آپ میری بات توجہ سے سنیں۔”

اس کا لہجہ ایک دم سنجیدہ، متین اور دھیمے مگر مضبوط لہجے میں ڈھل گیا۔

“میں آپ سب کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ توقیر لغاری ہی وہ شخص ہے، جس نے میرے والد، بابا سائیں سلطان لغاری، کا قتل کروایا۔ میری اماں سائیں، کا ایکسیڈنٹ بھی اسی نے کروایا تھا… اور ان کی جان لے لی گئی۔”

مجمع میں ہلچل مچ گئی۔ جیسے کسی نے خاموش بیٹھے دلوں پر پتھر پھینکا ہو۔ کچھ کے چہروں پر دکھ، کچھ کے چہروں پر غصہ، اور کچھ بےیقینی سے زیغم کو گھورنے لگے۔

“جی ہاں، آدھا گاؤں یہ بات جانتا ہے… اور آدھا سن چکا ہے۔ مگر پھر بھی… میرا فیصلہ ہے کہ میں، زیغم سلطان، توقیر لغاری کو… معاف کر رہا ہوں۔”

خاموشی کا ایک طوفان تھا جو پورے مجمع پر چھا گیا۔ جیسے کسی نے وقت کو روک دیا ہو۔
“میں ہاتھ جوڑ کر آپ سب سے بھی یہی گزارش کرتا ہوں… کہ آپ بھی اسے معاف کر دیں۔ میں جانتا ہوں یہ آسان نہیں، لیکن اگر ہم معاف کرنا سیکھ جائیں، تو ہماری آنے والی نسلیں نفرت کے ورثے سے آزاد ہو سکتی ہیں۔”

یہ الفاظ نہیں، جیسے ایک درد بھری التجا تھی جو دل سے نکلی تھی۔ لوگ اب بھی ششدر تھے، کچھ کی آنکھوں میں آنسو، کچھ کے دلوں میں طوفان۔
زیغم کا اعلان ابھی فضا میں گونج ہی رہا تھا کہ مجمع میں ایک بےچینی سی دوڑ گئی۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ کچھ چہروں پر دکھ تھا، کچھ پر صدمہ۔ لیکن پھر خاموشی کو توڑنے والی آواز ایک عورت کی تھی۔سیدھی، مضبوط ا۔

“سائیں، آپ کے حکم پر ہماری جان قربان…”
ایک درمیانی عمر کی عورت، روایتی اجرک اوڑھے، غصے اور دکھ کی آمیزش لیے کھڑی ہوئی۔
“…مگر ہم آپ جتنا جگرا نہیں رکھتے! ہم اس زخم کو بھلا نہیں سکتے۔ ہم اس خون کو معاف نہیں کر سکتے جو ہمارے سینے میں اب تک جل رہا ہے۔”

اس کی آواز میں وہ صدیوں کی دبائی گئی تکلیف تھی جو آج کسی نے پہلی بار سننے کی ہمت کی تھی۔ اس کے پیچھے پیچھے کئی عورتیں کھڑی ہو گئیں۔ ان کے چہروں پر ضبط کے نشانات اور آنکھوں میں سوال تھے۔
“آپ تو مرد ہیں، طاقتور ہیں، جرگے کے سردار ہیں۔ مگر ہم مائیں ہیں، بیویاں ہیں، بیٹیاں ہیں۔جنہوں نے اپنے باپ، بھائی، شوہر کے جنازے اٹھائے ہیں۔”
ایک اور عورت کی آواز بلند ہوئی۔

زیغم ایک لمحے کو خاموش ہو گیا۔ اس نے ان عورتوں کو دیکھا۔وہ عورتیں جن کے چہروں پر دکھ کی وہ لکیریں تھیں جو توقیر کی معافی کو قبول کرنے سے انکاری تھیں۔۔۔
“ہم آپ کے فیصلے کی عزت کرتے ہیں، سائیں…”
اب ایک نوجوان لڑکی بولی، جس کی آنکھوں میں نمی اور لہجے میں تلخی تھی،
“…مگر انصاف کے بغیر معافی صرف کمزوری ہوتی ہے۔ اور ہم کمزور نہیں ہیں!”
سارا مجمع دم سادھے کھڑا تھا۔ زیغم کی آنکھوں میں نمی ابھری۔ اس نے سب کی طرف دیکھا، ایک گہری سانس لی، اور ایک لمحے کے لیے جیسے سارا وزن اس کے کندھوں پر آ گرا تھا۔
“میں جانتا ہوں… یہ فیصلہ سب کے لیے آسان نہیں… اور شاید قابلِ قبول بھی نہ ہو… مگر میں یہی چاہتا ہوں کہ زخموں سے آگے بڑھا جائے… ورنہ یہ جرگہ ہمیشہ صرف انتقام کا اکھاڑا بن کر رہ جائے گا۔”
“سائیں، آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ ہماری عزتوں کا کوئی مول نہیں؟ آپ ایسے ہی اس شخص کو معاف کر دیں گے، جس کی وجہ سے ہماری عزتوں کے جنازے نکلے؟”
یہ آواز ایک جوان، پُرکرب عورت کی تھی۔ اس کی آواز میں دکھ، طوفان اور سوال کی ایسی شدت تھی کہ سارا مجمع لرز اٹھا۔ مجمع میں سناٹا چھا گیا، مگر زیغم کے دل میں وہ الفاظ پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اترے۔ وہ جانتا تھا… کہ یہ سوال ضرور اٹھے گا، اور یہ زخم بولیں گے، جو برسوں سے اندر ہی اندر رستے آ رہے تھے۔
زیغم نے گہری سانس لی، پلکیں بھاری تھیں مگر نظریں مضبوط۔
“آپ لوگوں کا دکھ بجا ہے… آپ لوگ حق پر ہیں۔”
اس کی آواز میں تھکن تھی، سچائی تھی، اور ایک ان دیکھی معذرت چھپی ہوئی تھی۔
“مجھے لگتا ہے جیسے میں آپ سب کا مجرم ہوں۔ لیکن آج میں نے جو فیصلہ سنایا، وہ صرف میرا فیصلہ ہے۔ میں نے صرف خود کو معاف کرنے کا بوجھ اٹھایا ہے۔”

اس کی نظر ایک ایک چہرے پر ٹھہری۔

“آپ سب… آپ سب کو جو مناسب لگے، وہ کیجیے۔ آپ آزاد ہیں۔ مگر میں اس شخص کو معاف کر چکا ہوں۔”

چند چہرے چونک گئے، کچھ غصے میں سر ہلانے لگے۔
“دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ اس نے جو بویا ہے، وہی کاٹے گا۔ اور میرا یقین ہے… میرا پختہ یقین ہے کہ میرا رب اسے معاف نہیں کرے گا۔”
اب اس کی آواز میں لرزش نہیں تھی، بلکہ عزم کی گونج تھی۔

“میں چاہتا ہوں کہ میرا رب اس کو ایسی سزا دے… ایسی سزا کہ اس کی روح کانپ جائے، اور وہ ہر رات تڑپ تڑپ کر سونے کی کوشش کرے۔ میں نے اسے رب کی عدالت میں چھوڑ دیا ہے۔”

“اور میں چاہتا ہوں کہ دنیا یہ بھی دیکھے… کہ جب انسان سزا دینے کی طاقت رکھتا ہو، پھر بھی معاف کر دے
۔تو پھر رب کیا کرتا ہے!”

فضا جیسے ایک لمحے کو ساکت ہو گئی۔ صرف ہوا کا ایک جھونکا زیغم کی اجرک کو ہلکا سا سرکاتا ہوا گزرا۔ سب کی نظریں… زیغم پر ٹک گئیں۔کچھ لوگوں کی نظروں میں بے یقینی تھی۔تو کچھ کی نظروں میں زیغم کے فیصلے کو مان لینے کی چمک دی۔
“ٹھیک ہے سائیں… اگر آپ نے اپنا فیصلہ رب پر چھوڑ دیا ہے، تو ہم نے بھی اپنا فیصلہ خدا پر چھوڑ دیا ہے۔”

یہ آواز تھی ایک دبے پردے میں لپٹی ہوئی لڑکی کی، جو آج اپنی زمین کے فیصلے کے لیے حاضر ہوئی تھی۔ اس کے باپ کو بھی توقیر نے مروایا تھا۔ اس کی عزت کو بھی توقیر نے پیروں تلے روندا تھا، مگر آج… آج وہ اللہ کی رضا کے لیے، اور زیغم سلطان کے فیصلے کے صدقے اپنا فیصلہ رب کی عدالت میں پیش کر رہی تھی۔
وہ کھڑی ہوئی، آواز بھری ہوئی مگر مضبوط تھی۔”جب آپ… اتنا بڑا جگرا کر سکتے ہے، اپنی ماں اور باپ کے خون کو معاف کر سکتے ہیں ، اپنی بہن پر ہوئے ظلم کو نظر انداز کر سکتے ہیں، تو ہم بھی… آپ کے صدقے، اس ظالم کو معاف کرتے ہیں۔”
چرغہ کے اندر ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ مجمع سے ایک کے بعد ایک آواز اُبھری، سب نے “ہاں” میں “ہاں” ملائی۔ زیغم کی آنکھوں میں آنسو تھے، جنہیں اس نے ایک بار پھر سے اپنے کالے چشمے کے پیچھے چھپا لیا۔

اسے فخر تھا، اپنے لوگوں پر… ان کی وفاداری پر، ان کے دلوں پر جو اس کے فیصلے پر جھک گئے۔ مگر دل… وہ تو زیغم سلطان کا دل جانتا تھا کہ یہ فیصلہ اس نے کس کرب، کس بوجھ، کس اذیت کے ساتھ سنایا ہے۔
یہ دباؤ نہیں تھا… یہ محبت تھی۔ یہ وہ رشتہ تھا جو ایک سردار اور اس کی قوم کے بیچ ہوتا ہے۔ایسا رشتہ جسے صرف دل والے سمجھ سکتے ہیں۔

اس نے آہستہ سے اپنی اجرک سنبھالی، سفید کاٹن کے سوٹ کی سلوٹوں کو سیدھا کیا، اور دھیرے دھیرے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔ دونوں ہاتھ جوڑ کر، سر جھکا کر، شکریہ ادا کیا… مگر الفاظ اس کے لبوں تک نہ پہنچے۔

اس کے قدم تیزی سے جرگہ کی طرف بڑھے، وہ سیدھا اپنی گاڑی کی طرف گیا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ منزل کی طرف روانہ ہوا… ایک ایسی منزل جو اس کے دل کو سکون دے سکتی تھی۔

گاڑی قبرستان کے پاس آ کر رکی۔ زیغم نے آہستہ آہستہ قدم بڑھائے، وہی راستہ… وہی خاموشی… مگر آج دل اور آنکھ دونوں بھاری تھے۔ وہ آہستہ سے اپنے ابا سائیں اور اماں سائیں کی قبروں کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔

گھٹنوں کے بل… جھکے ہوئے سر کے ساتھ… وہ ان کی گود میں چھپ کر رو لینا چاہتا تھا۔
” ابا سائیں… آج میں نے وہ کیا ہے، جو شاید آپ ہوتے تو نہ کرتے… یا شاید کرتے، مگر آسانی سے نہیں۔”

آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔ اس نے دعا کی، چہرے پر ہاتھ پھیرا، اور یوں دونوں قبروں کو دیکھا… جیسے ماں باپ واقعی سامنے بیٹھے ہوں، سن رہے ہوں، اور اسے تسلی دے رہے ہوں۔
وہ قبر کے سرہانے بیٹھا، دونوں ہاتھ جوڑے، نظریں جھکی ہوئیں، آواز رندھی ہوئی مگر جذبات سے لبریز تھی۔

“مجھے معاف کر دیجیے… میں نے آج وہ فیصلہ کیا ہے… جسے کرنے کے لیے میرا دل کبھی راضی نہیں تھا۔ بڑی زبردستی… بہت زبردستی… خود کو منایا ہے بابا سائیں۔”
وہ آہستہ سے بولا، جیسے قبر کے اندر کوئی سن رہا ہو… جیسے ماں سائیں کی تھپکی اور ابا سائیں کی گرمجوش آغوش کا لمس ابھی بھی اس کے دل کو محسوس ہو رہا ہو۔

“میں نے آج توقیر سائیں کو معاف نہیں کیا… میں نے ذرام کے لیے آسانی پیدا کی ہے۔”
اس کے لہجے میں ایسی سچائی تھی، جو پتھر کو بھی پگھلا دیتی۔
“میں نے ذرام کو ہمیشہ بھائی سمجھا… وہ میرا بھائی ہے بابا سائیں، وہ بہت تکلیف میں تھا۔ میں نے اس کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے… اپنے دل پر پتھر رکھ لیا ہے۔”
ایک آنسو… اور پھر دوسرا… اور پھر خاموشی میں گونجتی ہوئی سسکی…

“یہ سوچ کر… کہ آپ لوگوں کو مجھ سے چھیننے والا توقیر سائیں کو سزا اللہ کی ذات دے گی۔ میرا یقین ہے اُس رب کی ذات پر… کہ اس کی آخرت، دنیا خود دیکھے گی۔”
وہ لمحے کے لیے خاموش ہوا، نظریں قبروں پر ٹکائے جیسے جواب سننے کی کوشش کر رہا ہو۔
“میں نے اس کو معاف کر کے آزادی نہیں دی… میں نے ذرا کو سکون دینے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ وہ… ہر دن ان کی قید کو دیکھ کر… ٹوٹ رہا تھا۔ اُس کا اپنی بیوی کے ساتھ رشتہ بکھرنے لگا تھا۔”

زیغم کی آواز لرز گئی۔

“مجھے نہیں معلوم میں نے یہ فیصلہ صحیح کیا ہے یا غلط… مگر آپ کا خون ہوں، آپ کا بیٹا ہوں، لاکھ سخت بن جاؤں… مگر رشتوں کے سامنے، آج کمزور پڑ گیا ہوں۔”

وہ سر جھکا کر رو رہا تھا۔ دل کی بات رب کے حضور، ماں باپ کی قبروں کے قریب بیان ہو رہی تھی۔ خاموشی گواہ بن گئی تھی اس منظر کی… اور زیغم سلطان کی آنکھوں سے بہنے والا ہر آنسو، اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کا گواہ تھا۔

اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اماں سائیں کی مامتا اور ابا سائیں کا ضبط اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہے ہوں…

“تو نے جو کیا، وہی ٹھیک فیصلہ تھا،ہم تجھ پر فخر کرتے ہیں…”
جب بندہ رب پر اپنا فیصلہ چھوڑ دیتا ہے…
تو وہ خود کو سزا سے نہیں دیتا بلکہ، سکون سے جوڑ دیتا ہے۔

وہ بدلہ نہیں لیتا، مگر انصاف کا یقین چھوڑتا نہیں۔
وہ دل میں درد رکھتا ہے، مگر زبان پر دعا لے آتا ہے۔

وہ وقت کے سپرد کر دیتا ہے ہر زخم،
اور جانتا ہے کہ وقت رب کے حکم سے ہی زخموں کا حساب لیتا ہے۔

وہ کمزور نہیں ہوتا، بلکہ رب کی رضا میں سب سے مضبوط انسان بن جاتا ہے۔
کیونکہ وہ جانتا ہے کہ “جس رب کی زمین پر ظلم ہوا، وہی رب عرش سے عدل کرے گا۔”

زیغم نے بھی یہی کیا… دل پر وار کھا کے، رب کے دربار میں سب کچھ سونپ دیا۔۔۔۔

°°°°°°°°°

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *