Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:43

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A

قسط نمبر:43
°°°°°°°° زیغم نے کمرے میں قدم رکھا تو مہرو کو بے چین سی حالت میں جائے نماز پر بیٹھے ہوئے دعا کرتے پایا۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، وہ ہاتھ چہرے پر پھیرتی ہوئی اٹھ کر تیزی سے اس کی جانب بڑھی۔ وہ دروازہ بند کر کے ابھی پلٹا ہی تھا کہ وہ اس کے سینے سے لگ گئی ۔

“کہاں گئے تھے؟ آپ سارا دن گزر گیا، آپ نے مجھے فون بھی نہیں کیا اور مجھے یاد بھی نہیں کیا۔ آپ کو پتہ ہے، مہرو،نے آپ کو کتنی شدت سے یاد کیا۔ میں صبح سے آپ کا انتظار کر رہی تھی!”

مہرو کے دل میں بے شمار برے خیالات آ رہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا کہ سائیں کو بالکل بھی اس کی فکر نہیں ہے۔ پہلی بار اتنے شکوے کر رہی تھی۔ وہ اتنا کچھ بولتی نہیں تھی، مگر آج وہ پورے حق سے تڑپ کر رو کر شکوہ کر رہی تھی۔

زیغم کے بھاری ہاتھ اس کے گرد محبت کے حصار کی طرح سخت ہوتے چلے گئے۔

“میری سرکار، خطا ہو گئی جو میں نے تمہیں یاد نہیں کیا۔ میں حقدار ہوں سزا کا، مگر تمہیں رونے نہیں دوں گا۔اس کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ باقی جو بھی سزا ہوگی، وہ مجھے قبول ہے،اس خطا کی جو بھی سزا دینا چاہو، دے سکتی ہو۔”

پیار سے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوئے، محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
میں آپ کو کیسے سزا دے سکتی ہوں؟ بس، آپ مجھے یہ بتائیں، آپ سارا دن کہاں تھے؟ آپ نے مجھے یاد کیوں نہیں کیا؟ آپ کو میری یاد کیوں نہیں آئی؟”

وہ شکوہ کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی،دل کی ہر بات وہ آنکھوں کے ذریعے اس تک پہنچا دینا چاہتی تھی۔

آج تمہارے کے سائیں کا دل درد سے اس قدر بھرا ہوا تھا کہ غلطی سے غلطی ہو گئی۔ پتہ نہیں کیسے میں اپنی مہرو کو یاد کرنا بھول گیا۔”

وہ اپنے دل میں چھپے درد کی شدت کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہ درد صاف جھلک رہا تھا۔ وہ زیادہ کچھ نہ کہہ سکا، بس وہ خود میں سمٹ کر مہرو کے سامنے بیٹھا۔
“آپ پریشان ہیں؟”
مہرو نے اس کی بے چینی اور دل کی حالت کو محسوس کیا۔ اس کی آواز میں نرمیت تھی، جیسے وہ اپنے سائیں کی تکلیف سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اپنے سائیں کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت سے پوچھا۔
“ہمم… بہت پریشان ہوں۔”
زیغم کا لہجہ اور بھی مدھم ہو گیا تھا، جیسے وہ درد کی شدت کو الفاظ میں ڈھال نہ پا رہا ہو۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی تھی، اور اس کے اندر کی گہری ٹوٹ پھوٹ صاف محسوس ہو رہی تھی، جیسے دل کی ہر دھڑکن میں درد کا راج تھا۔

“اگر آپ پریشان ہیں تو آپ مجھے بتا سکتے ہیں۔ جانتی ہوں کہ مجھ اتنی عقل نہیں ہے، پڑھی لکھی نہیں ہوں، سمجھدار بھی نہیں ہوں، آپ کی پریشانی کو ٹھیک بھی نہیں کر سکوں گی، مگر پھر مجھے اچھا لگے گا اگر آپ مجھے اپنا دکھ بتائیں گے۔”
“اماں کہتی تھی کہ دکھ بتانے سے ہلکا ہو جاتا ہے۔”
وہ اتنے پیار اور معصومیت سے یہ سب بول رہی تھی کہ زیغم کو اس کی معصومیت پر رشک آ رہا تھا۔ بے اختیار وہ سوچنے لگا تھا کہ زندگی ایسی ہی ہونی چاہیے، اتنی سادہ، اور اتنی معصوم۔ مہرو دنیا داری سے دور، نہ کوئی چالاکی، نہ مکاری، کچھ بھی نہیں آتا تھا۔ بس، وہ تھی اور اس کی سادگی۔

“کس نے کہا کہ میری محبوبہ سمجھدار نہیں ہے؟”
زیغم نے نرمی سے مہرو کی ٹھوڑی کو اپنے ہاتھ سے اٹھایا، تاکہ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بات مکمل کرے۔
“کس نے کہا کہ میری مہرو عقلمند نہیں ہے؟ اور سنو… پڑھے لکھے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج کے دور میں تمہیں بہت سے پڑھے لکھے لوگ ملیں گے، مگر اندر سے خالی، کھوکھلے، احساسات سے عاری۔”

اس کی پیشانی پر جھکتے ہوئے اپنی محبت کی مہر ثبت کرتے ہوئے بولا، جیسے دل کے اندر چھپے ہر جذبے کو لفظوں میں سمو رہا تھا۔

“آج کے وقت میں اچھا دل ہونا سب سے بڑی خوبی ہے، اور میری مہرو کے پاس ایک خوبصورت دل ہے…!”
مہرو حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی، آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے تھے، جیسے کسی نے اس کی چھوٹی سی دنیا کو چمکتا سورج دے دیا ہو۔

زیغم نے محبت سے اس کے گال پر ہاتھ رکھا ۔
“اور تمہیں پتہ ہے؟ تم میرے لیے سکون ہو۔ تمہارے پاس ہونے سے مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں ایک صاف، تازہ، پُر سکون سانس لے سکتا ہوں۔”
اس کی باتوں میں ایسا مان، ایسا سچ تھا کہ مہرو کا دل بھر آیا۔ وہ بس خاموشی سے اپنا ماتھا اس کے سینے پر ٹکا گئی، زیغم کے محبت بھرے سچے الفاظ اس کے پورے دن کی بے چینی کو چند منٹوں میں ختم کر گئے۔
“اب چپ کیوں ہو؟”
زیغم نے نرمی سے مہرو کی ٹھوڑی چھوئی، اس کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔اس کے درد سے بھرے ہوئے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بہت جچ رہی تھی۔
“میں نے تمہیں یاد نہیں کیا… یہ میری غلطی ہے۔ اور اب میں سزا کے لیے تیار ہوں، جو سزا دینا چاہو دے سکتی ہو۔”
اس کے لہجے میں مکمل ندامت تھی، آنکھوں میں سچائی جھلک رہی تھی۔

مہرو نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا، لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آئی۔
“مجھے کوئی سزا نہیں دینی… آپ پریشان تھے، اس لیے مجھے یاد نہیں کیا… کوئی بات نہیں۔”
وہ اپنے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے معصومیت اور محبت سے لبریز بول رہی تھی ۔۔
“میں آپ کے لیے کپڑے نکالتی ہوں۔”
اس کے لہجے میں خالص محبت اور بے لوثی کی چمک تھی۔

زیغم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی، وہ اس کی سادگی پر دل ہی دل میں قربان ہو گیا۔
“ہاں جی، نکال دو کپڑے۔ میں چینج کر کے فریش ہو کر آتا ہوں۔”
وہ شوخ نظروں سے کہتا ہوا اٹھنے لگا، مگر کچھ سوچتے ہوئے پھر رک گیا، دل کی گہرائی سے مہرو کی سچی محبت کو محسوس کرتے ہوئے گہری نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔۔
“مہرو!
‘جی!
“مجھے اچھا لگے گا اگر تم مجھے سزا دو۔ اور میرے خیال سے… تمہیں مجھے سزا دینی چاہیے۔ میری جرات کیسے ہوئی کہ میں تمہیں بھول گیا؟ اپنی مہرو کو بھول گیا؟”
اس کے لہجے میں محبت کی شدت تھی، جیسے وہ اپنی ہر خطا کا کفارہ مہرو کی مسکراہٹ سے ادا کرنا چاہتا ہو۔

مہرو نے نظریں جھکا لیں، دل محبت کے احساس سے بھر آیا تھا، اور کمرے میں ایک عجیب سا سکون بھر گیا تھا۔

“ٹھیک ہے، اگر سائیں آپ چاہتے ہیں کہ میں سزا دوں… تو پھر ٹھیک ہے، میں ضرور سزا دوں گی، مگر آپ کے فریش ہونے کے بعد۔”کیونکہ مہرو آپ کی کوئی بھی بات ٹال نہیں سکتی۔
مہرو کی آنکھوں میں شرارت کی چمک تھی، جسے زیغم نے صاف محسوس کیا۔
مگر اس کی مسکراہٹ میں جو محبت اور سکون چھپا تھا، وہ زیغم کے دل کو کسی نرم آہٹ کی طرح چھو گیا۔

زیغم نے ہنستے ہوئے سر جھٹکا، اور دل سے سرشار ہو کر اسے دیکھا۔
“ٹھیک ہے سرکار، بندے کو اپنی سزا کا انتظار رہے گا۔ میں دو منٹ میں آتا ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے شوخی سے انگلیوں کی چٹکی بجائی، اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

مہرو خوش دلی سے ہنستی ہوئی الماری کی جانب بڑھی، اور زیغم کے کپڑے نکالنے لگی۔
زیغم کے قدموں میں اب وہ بوجھل پن نہیں رہا تھا جو باہر کی دنیا سے آتے وقت اس کے وجود پر چھایا ہوا تھا۔
سچ کہتے ہیں، اگر محبت کرنے والی بیوی سچے دل کی مالک ہو تو وہ اپنے شوہر کے دن بھر کی تھکن کو لفظوں کے بغیر ہی اتار لیتی ہے۔
زیغم یہی سکون محسوس کر رہا تھا ،
جب وہ فریش ہو چکا مگر مہرو کی جانب سے کپڑے نہ ملے تو اسے مجبوراً دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔
“مہرو، جلدی سے کپڑے دے دو۔ کیا م ارادہ ہے کہ مجھے باتھ روم میں قید رکھا جائے؟”ہنستے ہوئے بولا۔

دروازے کے باہر سے مہرو کی شرارتی ہنسی سنائی دی، جو نرمی اور شوخی سے بھری ہوئی تھی۔
“یہی تو آپ کی سزا ہے سائیں۔ آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ سزا ملنی چاہیے!”
وہ دروازے کے قریب کھڑے ہو کر ہنسی دبا رہی تھی۔

“شرارتی لڑکی! یہ کیسی سزا ہے؟ اب میں یہاں کھڑا رہوں؟”زیغم نے بے ساختہ ہنستے ہوئے کہا۔

“جی سائیں، یہی سزا ہے۔ اب آپ کھڑے رہیں۔ کپڑے میں تب دوں گی جب میرا دل چاہے گا۔مہرو نے ہنسی دباتے ہوئے جواب دیا،
آپ ایک کام کریں ، بار بار کہیں ‘ مہرو، مجھے کپڑے دے دو’… جیسے آپ انگلش میں کہتے ہیں نا ‘پلیز پلیز مہرو’۔ویسے ہی کہیں۔جب دل کرے گا تو آپ کو معاف کر دوں گی اور کپڑے بھی دے دوں گی۔”
زیغم نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر دیکھا۔۔
مگرمہرو نے حیا اور شوخی کے حسین امتزاج کے ساتھ رخ دوسری سمت کیے ہنستی ہوئی کھڑی تھی ۔۔
اس کی معصومیت اور حیا کا عالم یہ تھا کہ وہ بند دروازے کے باوجود آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں کر رہی تھی۔

مگر مہرو شاید بھول گئی تھی کہ اس کے سامنے زیغم سلطان لغاری تھا ،اس شخص کو حالات سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے آتے تھے۔
زیغم نے خاموشی سے وہ ہنگامی لباس نکالا جو ہمیشہ باتھ روم میں ایمرجنسی کے لیے رکھا جاتا تھا۔
سادہ سا لباس پہنا، گلے میں تولیہ ڈالا اور دبے قدم سے دروازہ کھول کر باہر آ گیا۔

مہرو جو انتظار میں تھی کہ زیغم معافی کی منت سماجت کرے گا، حیران رہ گئی۔
پلکیں جھپکیں، مگر آواز نہیں آئی۔

“بتائیں سائیں، کیا آپ کو کپڑے چاہیے؟ منتیں کر رہے ہیں یا پھرمیں جا رہی ہوں؟”
آواز نہ آنے پر ،وہ گھبرا کر دھمکی دے رہی تھی۔۔
اچانک، زیغم بالکل قریب آ گیا تھا۔
نرمی سے، محبت بھری شوخی کے ساتھ وہ مہرو کے قریب آیا۔
اپنے وجود سے اس کی پشت کو ہلکے لمس سے چھوا اور دونوں ہاتھوں سے اس کے ہاتھوں کو اپنے لمس میں لے لیا۔

“کہاں جانے کا ارادہ ہے…؟”ہلکی آواز میں، دل سے اترتی محبت سے بولتے وہ قریب بے حد قریب ہو چکا تھا۔

مہرو کی سانسیں رک سی گئیں۔
اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
زیغم نے نرمی سے اس کے رخسار کو چھوا، جیسے کوئی محبت سے دعا مانگتے اس انداز سے قریب ہو جیسے ہاتھ اور چہرہ۔
مہرو کا چہرہ لال ہو گیا تھا، حیا کی شدت سے وہ نظریں تک نہ اٹھا سکی۔
زیغم ہنس دیا، ایک محبت بھرا، مدھم سا قہقہہ، جس میں جیت اور محبت دونوں چھپی تھیں۔
بتاؤ نا، کہاں جانے کا ارادہ ہے؟”
وہ نرمی سے سرگوشی کرتا ہوا ایک اور حسین گستاخی کر گیا تھا۔

“چھوڑیں… یہ تو بے ایمانی ہے۔ آپ نے خود کہا تھا کہ آپ کو سزا ملنی چاہیے۔”
مہرو زیغم کے اس قدر قریب ہونے سے سٹپٹا گئی تھی، محبت کے مضبوط حصار میں جکڑی ہوئی۔

“بالکل بھی بے ایمانی نہیں ہے۔ میں نے سوچا کہ جب سزا ملنی ہی ہے تو تمہارے سامنے مجرم بن کر کھڑا ہونا چاہیے۔”
“میں سزا کے لیے تیار ہوں۔جلدی سے سزا دو۔۔۔زیغم نے مسکرا کر کہا۔

ایسے کون سزا لیتا ہے… چھوڑیں مجھے سائیں۔”

“میں تو نہیں چھوڑوں گا ۔”
زیغم نے محبت سے کہا۔

“تنگ مت کریں نا…”
مہرو نے بمشکل سرگوشی کی۔

“میں تو تنگ کروں گا۔”
زیغم ہنسا۔
“سائیں، آپ ایسے نہ کیا کریں۔ آپ بہت اچھے ہیں، اچھے بن کر ہی رہا کریں۔”
وہ شرمائی تھی۔
“مجھے اچھا بننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ مجھے ایسا ہی رہنا ہے۔”
زیغم نے شرارت سے جواب دیا۔
“تمہیں کیا لگا، تم کپڑے نہیں دو گی تو میں باہر نہیں آ سکوں گا؟”

“ہائے اللہ، سائیں! آپ بغیر کپڑوں کے؟”
مہرو کی شرم سے جان نکلنے کو تھی، کپڑے ہاتھ میں پکڑے گھبرا کر قریب کی میز پر پھینک دیے اور دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ لیے۔

زیغم کا زوردار قہقہ کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج اٹھا تھا۔
مہرو شرم و حیا کے مارے کانپ رہی تھی، یہ سوچ کر کہ سائیں بغیر کپڑوں کے باہر آ گیا ہے۔
زیغم خاموشی سے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا، جبکہ مہرو نے اب بھی چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔

“مہرو… آنکھوں سے ہاتھ ہٹاؤ، میں نے کپڑے پہنے ہیں۔ اتنا بھی چھچورا اور چیپ نہیں ہوں میں۔”
وہ ہنستے ہنستے بمشکل بولا۔

“قسم کھائیں… پہلے قسم کھائیں کہ آپ نے کپڑے پہنے ہیں۔”
مہرو نے معصومیت سے کہا۔

“استغفراللہ! تمہیں مجھ پر اتنا بھی یقین نہیں؟”
زیغم نے مسکراتے ہوئے کہا،
“تمہاری قسم… میں نے کپڑے پہنے ہیں۔”
“اللہ میاں کی قسم کھائیں۔”
مہرو کی آواز میں بے ساختہ اصرار تھا۔

“اللہ کی قسم، میں نے کپڑے پہنے ہیں۔”
زیغم نے نرمی سے اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔
مہرو نے ہچکچاتے ہوئے آہستہ آہستہ پلکیں جھکائیں اور پلکوں کی اوٹ سے مدھم سی نظر زیغم پر ڈالی۔ جب واقعی اسے زیغم مکمل لباس میں نظر آیا تو جیسے اس کے دل کو تسکین ملی۔

“اففف… اللہ کا شکر ہے، آپ نے تو میری جان نکال لی تھی۔”
وہ بمشکل کہتے ہوئے اپنی دھڑکنیں سنبھالنے لگی۔
“پاگل لڑکی، تم مجھے ایسا سمجھتی ہو؟” اس کے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ ٹاول سے سر خشک کر رہا تھا۔ پانی کی بوندیں اڑتی ہوئی مہرو کے چہرے پر پڑی تھیں، اور وہ چند لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کر کے محسوس کرنے لگی۔
“اچھا سنو، تم نے کھانا کھایا؟”

“نہیں، آپ نہیں تھے تو میں نے کھانا کس کے ساتھ کھانا تھا؟”

“پاگل لڑکی، تم صبح سے بھوکی گھوم رہی ہو؟”
“کیوں؟ آپ نے کھانا کھا لیا؟”
“نہیں۔”
“تو پھر میں آپ کے بغیر کیسے کھانا کھا سکتی تھی؟”
زیغم نے مہرو کی طرف نرمی سے دیکھا۔ “جب میں گھر پر نہیں ہوتا، تم کھانا کھا لیا کرو، ایسے بھوکی مت رہا کرو۔ پہلے ہی تمہاری چڑیا کی جتنی جان ہے، اوپر سے بھوکی رہ کر تم نے ایک دن غائب ہو جانا ہے، میں ڈھونڈتا رہ جاؤں گا کہ مہرو کہاں گئی ۔”
“جی نہیں، ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ میں آپ کے بغیر کھانا نہیں کھاؤں گی۔” وہ اپنی ضد پر ڈٹی ہوئی تھی اور اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ کا احساس تھا، جو زیادہ تر بچوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔مگر وہ بھی بچوں کے جیسی سوچ کی مالک تھی ۔

“اچھا، چلو جلدی کرو، سکینہ سے کہو کہ جلدی سے کھانا لے کر آئے، مجھے بھی بھوک لگی ہے۔” وہ اپنے ٹاول کو سٹینڈ پر ڈالتے ہوئے،مسکراتی آنکھوں سے گھومتے ہوئے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔
“جی، ابھی کہتی ہوں۔” مہرو دروازے کی جانب بڑھی، “مہرو، کہاں جا رہی ہو؟”زیغم نے تجسس سے پوچھا۔

“سکینہ سے کھانے کے لیے کہنے جا رہی ہوں۔”
“سرکار روم میں انٹرکام اس لیے لگایا ہے، جب چاہیں آپ ملازموں سے بات کر سکیں، تو تمہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انٹرکام سے کہہ دو۔”

“اوہو۔ میں بھول گئی تھی۔” مہرو نے فوراً اپنی عقل پر ہنستے ہوئے سر پر ہاتھ مارا اور انٹرکام کی طرف بڑھ گئی۔ “سکینہ، جلدی سے سائیں کے لیے اور میرے لیے کھانا لا دیں، پلیز!” اس نے انٹرکام پر بات کی اور پھر فون بند کر دیا۔

زیغم نے اس کے عمل پر تجسس بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ مہرو میں آہستہ آہستہ ایک تبدیلی آ رہی تھی۔ اب وہ “پلیز” اور “سوری” جیسے لفظوں کو بھی قبول کر رہی تھی، جو پہلے اس سے بالکل نہ سمجھ میں آتے تھے اور نہ بولنے آتے۔۔
“مہرو۔”
“جی?”
“ادھر آؤ۔” زیغم نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بلا بلایا۔

مہرو قریب آئی۔

زیغم کی نظریں اس پر ٹکی ہوئیں تھیں، “تمہیں میں نے انگلش میں کچھ اور بھی بولنے کے لیے سکھایا تھا، وہ کب سیکھو گی؟”
“سائیں، مجھے نہیں سیکھنا۔ آپ مجھے صرف اچھی اچھی انگلش سکھایا کریں، گندی باتیں آپ خود ہی سیکھیں۔”مہرو کی مسکراہٹ چھپاتے شرم سے لال ہوتے جواب دیا۔۔۔
“حد ہے، اس میں گندی بات کون سی ہے؟ دنیا کی واحد لڑکی ہو جس کو ‘I love you’ جیسا لفظ گندا لگ رہا ہے، جبکہ اس کے تو معنی ہی اتنے پاک ہیں، محبت بھرے ہیں۔ ‘I love you’ کا مطلب ہے ‘میں تم سے پیار کرتا ہوں’ یا ‘میں تم سے پیار کرتی ہوں’، اس میں غلط کیا ہے؟”

“سائیں، چپ کر جائیں اور کھانا کھائیں۔” وہ دروازے کی طرف گئی، اور زیغم ہنستے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔

سکینہ کھانے کی ٹرالی لے کر آئی اور دروازے پر ہی روز کی طرح دے کر واپس چلی گئی۔”
مہرو نے دروازہ بند کیا اور کھانے کی ٹرالی سامنے کرتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی۔ زیغم بھی اس کے ساتھ آ کر بیٹھا، اور مہرو کے بلش کرتے ہوئے گالوں کو دیکھ کر مسکرایا۔
“مہرو، تمہیں پتہ ہے، آج کل تو لوگ چلتے پھرتے کہتے ہیں ‘I love you, I love you.’ اس لفظ کا لوگوں کی نظر میں کوئی مطلب ہی نہیں ہے، اور تم ہو کہ ‘I love you’ کو سن کر اتنا بلش کر رہی ہو کہ قسم سے مجھے بھی لگ رہا ہے میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے۔”

مہرو کی گالوں پر لالی چھا گئی تھی، اور زیغم کی مسکراہٹ میں شرارت کی جھلک تھی۔
“چلو، آؤ، کھانا کھاتے ہیں، اس سے پہلے کہ کوئی تمہیں اتنا بلش کرتا ہوا دیکھ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ زیغم نے ایسا کیا کہہ دیا کہ بیچاری مہرو شرم سے لال ہوئے جا رہی ہے۔…”اس کے قریب ہی بیٹھ چکا تھا جبکہ مہرو بڑی سمجھداری سے پلیٹ کے اندر کھانا نکال رہی تھی۔مہرو میں کافی بدلاؤ آنے لگا تھا۔
یہ بدلاؤ کچھ تو وقت کے ساتھ آنے لگا تھا اور کچھ حمائل کے آنے کے بعد مہرو خود سے اپنے اندر بدلاؤ لارہی تھی کیونکہ اسے اپنے سائیں کے ماحول میں خود کو ڈھالنا تھا اس جیسی بننے کی وہ کوشش کر رہی تھی کہ اس کے سائیں کو شرمندگی نہ ہو ،وہ خود کو زیغم کے سٹیٹس کے مطابق بنانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔
بے شک زیغم منہ سے کچھ نا کہے مگر اسے سب سمجھ میں آتا تھا کہ مہرو اپنے اندر یہ بدلاؤ کیوں لا رہی ہے۔مہرو پلیٹ میں کھانا نکال کر سیٹ کرتے ہوئے زیغم کے آگے ٹیبل پر رکھ چکی تھی زیغم نے نوالا بناتے ہوئے پہلے اس کے منہ میں ڈالا۔پھر خود کھانے لگا تھا وہ بھی تو صبح سے بھوکا تھا۔دونوں کھانا کھاتے ہوئے اپنی سوچوں میں گم سے ہونے لگے تھے وہ سوچ رہی تھی کہ اسے اپنے سائیں کے لیے باعث شرمندگی نہیں بننا۔اسےخود کو سدھارنا ہے سمجھدار بننا ہے۔جبکہ زیغم سوچ رہا تھا کہ یہ پاگل لڑکی کیوں بدلنا چاہتی ہے، یہ جیسی ہے مجھے ایسی ہی قبول ہے، مجھے ایسی ہی اچھی لگتی ہے۔۔

میاں بیوی کے رشتہ میں یہ ایک گہرا سفر ہوتا ہے، جس میں کبھی کبھار بیوی اپنے پہلو پر سوچتے ہوئے ایک الگ سمت چل پڑتی ہے، اور شوہر بھی اپنے خیالات میں ایک نئی راہ اختیار کرتا ہے۔ کبھی کبھی یہ الگ سمتیں ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں، اور کبھی کبھار یہ اختلافات رشتہ میں پیچیدگیوں کا باعث بن جاتے ہیں۔
°°°°°°°°°°°
“اماں ایسے کیا دیکھ رہی ہیں جیسے پہلی بار مجھے دیکھا ہو؟” رومی آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر تیار ہو رہی تھی۔ آج اس کا ہسپتال میں پہلا دن تھا۔وہ اپنے ہی گاؤں میں بنے ہوئے خوبصورت بڑے اور جدید ہاسپٹل میں جانے کے لیے کافی ایکسائٹڈ تھی۔یہ ہاسپٹل اس کے اپنے بھائیوں نے تعمیر کروایا تھا۔وہ دل ہی دل میں بہت خوش تھی۔
“میں تو تمہیں دیکھ کر خوش ہو رہی ہوں،آج تک یہ سب لوگ اس گھر میں شان سے جیتے تھے اور سلمہ ہمیشہ اکیلی رہی تمہارے روپ میں مجھے ایک مضبوط سہارا مل گیا ہے۔میں تو یہ سوچ سوچ کر خوش ہوئے جا رہی ہوں کہ میری بیٹی ڈاکٹر ہے۔ اور ۔۔۔کیسا منہ توڑ جواب دیا تم نے قدسیہ اور نایاب کو، ایمان سے دل خوش ہو گیا۔” سلمہ نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے چمکدار آواز میں چما دیا۔

“استغفراللہ! آپ کو لڑائیاں جھگڑے دیکھ کر اتنا مزہ کیوں آتا ہے؟ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آپ سچ میں میری ماں ہیں۔ میں تو ایسی نہیں ہوں، مجھے تو لڑائیوں سے کوفت ہوتی ہے۔” رومی نے منہ بناتے ہوئے بالوں میں برش کیا، انہیں جوڑے کی شکل دی اور کیچر لگا دیا۔

“ارے میں تھوڑی لڑائیاں کرواتی ہوں؟ یہاں تو حویلی میں ہر وقت دنگے تماشے ہوتے رہتے ہیں، تو اس میں میرا کیا قصور؟ بھئی فری کی شراب تو ملا بھی نہیں چھوڑتا، تو میں فری کے تماشے کیسے چھوڑ دوں؟” سلمہ دونوں ہاتھ جھاڑتے ہوئے بڑی شان سے صوفے پر پیر اٹھا کر اآلتی پالتی مار کر بیٹھ چکی تھی۔

“بری بات ہے۔ اگر کہیں جھگڑا ہو بھی جائے تو اسے سلجھانا چاہیے یا اس سے دور ہو جانا چاہیے۔” وہ ہونٹوں پر ہلکا سا گلوسی ٹچ دیتے ہوئے ماں کو گھور کر بولی۔

“اچھا چل، زیادہ اماں بننے کی ضرورت نہیں۔ جلدی سے تیار ہو جا، میں تیرے لیے ناشتہ لے کر آتی ہوں۔”

“ناشتہ نہیں کرنا مجھے۔ بس اورنج جوس کا ایک گلاس چاہیے۔ اور ویسے بھی آپ کو اتنی حیرت کس بات پر ہو رہی ہے کہ میں ڈاکٹر ہوں؟فون پہ ہزار بار تو بتایا ہے کہ میڈیکل کی پڑھائی کر رہی ہوں۔” رومی کو اپنی خوشی یاد آ گئی۔

“ہاں ہاں، تو میں نے کب کہا کہ مجھے نہیں پتا؟ پر میری بیٹی اتنی بڑی ڈاکٹر ہے، یہ مجھے نہیں پتہ تھا۔مجھے تو لگا کوئی عام سی میڈیکل کی پڑھائی کر رہی ہوگی۔!” سلمہ نے ہنستے ہوئے کہا۔

“چلو، آج آپ کو پتہ چل گیا۔ اب یاد رکھیے گا اور بھولیے گا مت! اور مجھے جلدی سے اورنج جوس کا گلاس دے دیں ” وہ ہنستی ہوئی آنکھوں پر مسکارا لگا رہی تھی۔۔
“ابھی لائی!” سلمہ سو کی سپیڈ سے باہر نکلی اور اگلے پانچ منٹ میں جوس کا گلاس لے کر چراغ سے نکلے جن کی طرح واپس آ گئی۔ رومی اپنے کاندھے پر ہینڈ بیگ رکھتے ہوئے موبائل دیکھ رہی تھی۔

“تھینک یو سو مچ!” رومی نے ماں کے ہاتھوں سے گلاس لیا اور تین ہی سانسوں میں جوس پی کر اللہ حافظ کہتی ہوئی دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔
زرام پہلے سے گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔

“اسلام علیکم زرام بھائی! میں لیٹ تو نہیں ہو گئی؟” رومی نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔

“نہیں، بالکل بھی دیر نہیں ہوئی، بالکل ٹھیک وقت پر ہو۔ اچھی بات ہے، کامیاب انسان بننے کے لیے ٹائم ٹیبل کا پابند ہونا چاہیے۔ ایسا زیغم بھائی فرماتے ہیں۔” زرام نے مسکرا کر گاڑی کو گیئر لگایا اور لکڑی کے خوبصورت بڑے گیٹ سے نکل کر ہسپتال کی طرف چل دیے۔

“ویسے زرام بھائی، کہنا پڑے گا کل کیا انٹری ماری تھی آپ نے!” رومی ہنستے ہوئے کل کا سین یاد کر رہی تھی۔

“کیا کرتا، مارنی پڑی۔ ورنہ میری بیچاری بیوی پر تمہاری مامی جان اور کزن نے دھاوا بول دیا تھا۔” زرام نے مسکراتے ہوئے سٹیئرنگ گھماتے ہوئے کہا۔

“ہمم… مطلب آپ اپنی پیاری بیوی جان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ کرنا بھی چاہیے۔ بندی ہے ہی اتنی پیاری پلس بہادر!” رومی نے ملیحہ کی مضبوطی اور خوبصورتی کی تعریف کی۔
“مگر مجھے سمجھ نہیں آئی کل وہ بھیگی بلی بن کر سب کچھ کیوں برداشت کر رہی تھی رومی نے تجسس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا…
“ہاں، بہادر ہے۔ منہ توڑ جواب دینا جانتی ہے۔ بس کل میری محبت اور لحاظ کی خاطر خاموش رہی، ورنہ سب کو ناکوں چنے چبوا دیتی۔” زرام نے گاڑی ہسپتال کی پارکنگ ایریا میں لگا دی۔وہ لوگ ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔ہاسپٹل گھر سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا۔

“ویسے زرام بھائی، اگر برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں؟”

“کہو کہو، برا ماننے والی کوئی بات نہیں۔”

“اپنی بیوی کو دبا دینا صحیح نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں یہی ہوتا ہے کہ بیوی کو والدین کے احترام کے نام پر دبا دیا جاتا ہے، مگر بیوی کا بھی ایک مقام ہے۔ شوہر کو بیوی کے حق میں سٹینڈ لینا چاہیے، اگر ماں باپ کا رویہ غلط ہو تو۔ بیوی کا بھی وجود اور جذبات ہوتے ہیں، انہیں بھی سمجھنا چاہیے۔” رومی نے تحمل سے اپنی بات مکمل کی۔

“تمہاری کوئی بات بری نہیں لگی۔ تم نے بالکل ٹھیک کہا۔ ہم مرد واقعی یہ غلطی کرتے ہیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ملیحہ کے ساتھ اب کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ مجھے اپنی پیاری بہن کی سوچ پر فخر ہے۔” زرام نے محبت سے رومی کے سر پر ہاتھ رکھا۔

“چلیں اب، ڈاکٹر صاحبہ! آج آپ کا ہسپتال میں پہلا دن ہے۔ لیٹ ہو رہے ہیں!” زرام نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا۔

“جی بالکل، میں بھی بہت ایکسائیٹڈ ہوں! ہمیشہ سوچا تھا کہ کہیں دور جا کر جاب کرنی پڑے گی، مگر بھائیوں نے اپنے گاؤں میں اتنا خوبصورت ہسپتال بنا دیا۔ اب نہ صرف خدمت کر سکوں گی بلکہ اپنوں کے قریب بھی رہوں گی۔” رومی خوشی سے بولی۔
وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے ہسپتال کے اندر کی جانب بڑھ گئے۔
°°°°°°°°°
“مجھے سچ چاہیے، رفیق، سارا سچ۔ یہ جو اٹھارہ انیس سال پہلے کی رات ہے، اس میں کیا ہوا تھا، کون تھا اس سب کے پیچھے، اور کیوں ہوا؟ ایک بات یاد رکھو، میں اب خاموش نہیں بیٹھنے والا۔”
زیغم سلطان غصے سے رفیق کے بالکل قریب ہوا۔

“سائیں،آپ پر میری جان بھی قربان، مگر اتنی چھان بین کے باوجود کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا۔ ہر طرف اندھیرا ہے۔ پوری طرح مٹا دیے گئے تھے۔بہت کوشش کے باوجود کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا ۔”
رفیق نے نظریں جھکا لیں، لہجے میں بےبسی تھی۔

“یہ بات مجھے چند مہینے پہلے پتہ چلی ہے رفیق۔ تب سے ایک ایک پل میرا دم گھٹ رہا ہے۔ یہ راز میری سانسوں پر بوجھ بن چکا ہے۔تمہیں ایک بات سمجھ میں کیوں نہیں آرہی کہ اس راز کو جاننا میرے لیے بہت ضروری ہے۔ میں اب مزید اندھیرے میں نہیں رہ سکتا۔اگر میں راز کو نہیں جان سکا تو خود کی نظروں میں کبھی نہیں اٹھ سکتا۔”
زیغم سلطان کی آواز تھوڑی اور سخت ہو گئی۔چہرے کی نسیں ابھرنے لگی تھیں۔
“سائیں میں میں ایک بار اور پوری کوشش کروں گا۔۔رفیق نے مودبانہ انداز میں نظریں جھکائے کہا۔

“کوشش نہیں۔۔۔۔اگر اس بار بھی ناکام ہوئے، تو تم میرا وہ چہرہ دیکھو گے جو آج تک تم نے نہیں دیکھا۔ ابھی تک تم نے صرف میرے صبر کو جانا

قسط نمبر43
°°°°°°°° زیغم نے کمرے میں قدم رکھا تو مہرو کو بے چین سی حالت میں جائے نماز پر بیٹھے ہوئے دعا کرتے پایا۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، وہ ہاتھ چہرے پر پھیرتی ہوئی اٹھ کر تیزی سے اس کی جانب بڑھی۔ وہ دروازہ بند کر کے ابھی پلٹا ہی تھا کہ وہ اس کے سینے سے لگ گئی ۔

“کہاں گئے تھے؟ آپ سارا دن گزر گیا، آپ نے مجھے فون بھی نہیں کیا اور مجھے یاد بھی نہیں کیا۔ آپ کو پتہ ہے، مہرو،نے آپ کو کتنی شدت سے یاد کیا۔ میں صبح سے آپ کا انتظار کر رہی تھی!”

مہرو کے دل میں بے شمار برے خیالات آ رہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا کہ سائیں کو بالکل بھی اس کی فکر نہیں ہے۔ پہلی بار اتنے شکوے کر رہی تھی۔ وہ اتنا کچھ بولتی نہیں تھی، مگر آج وہ پورے حق سے تڑپ کر رو کر شکوہ کر رہی تھی۔

زیغم کے بھاری ہاتھ اس کے گرد محبت کے حصار کی طرح سخت ہوتے چلے گئے۔

“میری سرکار، خطا ہو گئی جو میں نے تمہیں یاد نہیں کیا۔ میں حقدار ہوں سزا کا، مگر تمہیں رونے نہیں دوں گا۔اس کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ باقی جو بھی سزا ہوگی، وہ مجھے قبول ہے،اس خطا کی جو بھی سزا دینا چاہو، دے سکتی ہو۔”

پیار سے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوئے، محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
میں آپ کو کیسے سزا دے سکتی ہوں؟ بس، آپ مجھے یہ بتائیں، آپ سارا دن کہاں تھے؟ آپ نے مجھے یاد کیوں نہیں کیا؟ آپ کو میری یاد کیوں نہیں آئی؟”

وہ شکوہ کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی،دل کی ہر بات وہ آنکھوں کے ذریعے اس تک پہنچا دینا چاہتی تھی۔

آج تمہارے کے سائیں کا دل درد سے اس قدر بھرا ہوا تھا کہ غلطی سے غلطی ہو گئی۔ پتہ نہیں کیسے میں اپنی مہرو کو یاد کرنا بھول گیا۔”

وہ اپنے دل میں چھپے درد کی شدت کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہ درد صاف جھلک رہا تھا۔ وہ زیادہ کچھ نہ کہہ سکا، بس وہ خود میں سمٹ کر مہرو کے سامنے بیٹھا۔
“آپ پریشان ہیں؟”
مہرو نے اس کی بے چینی اور دل کی حالت کو محسوس کیا۔ اس کی آواز میں نرمیت تھی، جیسے وہ اپنے سائیں کی تکلیف سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اپنے سائیں کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت سے پوچھا۔
“ہمم… بہت پریشان ہوں۔”
زیغم کا لہجہ اور بھی مدھم ہو گیا تھا، جیسے وہ درد کی شدت کو الفاظ میں ڈھال نہ پا رہا ہو۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی تھی، اور اس کے اندر کی گہری ٹوٹ پھوٹ صاف محسوس ہو رہی تھی، جیسے دل کی ہر دھڑکن میں درد کا راج تھا۔

“اگر آپ پریشان ہیں تو آپ مجھے بتا سکتے ہیں۔ جانتی ہوں کہ مجھ اتنی عقل نہیں ہے، پڑھی لکھی نہیں ہوں، سمجھدار بھی نہیں ہوں، آپ کی پریشانی کو ٹھیک بھی نہیں کر سکوں گی، مگر پھر مجھے اچھا لگے گا اگر آپ مجھے اپنا دکھ بتائیں گے۔”
“اماں کہتی تھی کہ دکھ بتانے سے ہلکا ہو جاتا ہے۔”
وہ اتنے پیار اور معصومیت سے یہ سب بول رہی تھی کہ زیغم کو اس کی معصومیت پر رشک آ رہا تھا۔ بے اختیار وہ سوچنے لگا تھا کہ زندگی ایسی ہی ہونی چاہیے، اتنی سادہ، اور اتنی معصوم۔ مہرو دنیا داری سے دور، نہ کوئی چالاکی، نہ مکاری، کچھ بھی نہیں آتا تھا۔ بس، وہ تھی اور اس کی سادگی۔

“کس نے کہا کہ میری محبوبہ سمجھدار نہیں ہے؟”
زیغم نے نرمی سے مہرو کی ٹھوڑی کو اپنے ہاتھ سے اٹھایا، تاکہ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بات مکمل کرے۔
“کس نے کہا کہ میری مہرو عقلمند نہیں ہے؟ اور سنو… پڑھے لکھے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج کے دور میں تمہیں بہت سے پڑھے لکھے لوگ ملیں گے، مگر اندر سے خالی، کھوکھلے، احساسات سے عاری۔”

اس کی پیشانی پر جھکتے ہوئے اپنی محبت کی مہر ثبت کرتے ہوئے بولا، جیسے دل کے اندر چھپے ہر جذبے کو لفظوں میں سمو رہا تھا۔

“آج کے وقت میں اچھا دل ہونا سب سے بڑی خوبی ہے، اور میری مہرو کے پاس ایک خوبصورت دل ہے…!”
مہرو حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی، آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے تھے، جیسے کسی نے اس کی چھوٹی سی دنیا کو چمکتا سورج دے دیا ہو۔

زیغم نے محبت سے اس کے گال پر ہاتھ رکھا ۔
“اور تمہیں پتہ ہے؟ تم میرے لیے سکون ہو۔ تمہارے پاس ہونے سے مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں ایک صاف، تازہ، پُر سکون سانس لے سکتا ہوں۔”
اس کی باتوں میں ایسا مان، ایسا سچ تھا کہ مہرو کا دل بھر آیا۔ وہ بس خاموشی سے اپنا ماتھا اس کے سینے پر ٹکا گئی، زیغم کے محبت بھرے سچے الفاظ اس کے پورے دن کی بے چینی کو چند منٹوں میں ختم کر گئے۔
“اب چپ کیوں ہو؟”
زیغم نے نرمی سے مہرو کی ٹھوڑی چھوئی، اس کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔اس کے درد سے بھرے ہوئے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بہت جچ رہی تھی۔
“میں نے تمہیں یاد نہیں کیا… یہ میری غلطی ہے۔ اور اب میں سزا کے لیے تیار ہوں، جو سزا دینا چاہو دے سکتی ہو۔”
اس کے لہجے میں مکمل ندامت تھی، آنکھوں میں سچائی جھلک رہی تھی۔

مہرو نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا، لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آئی۔
“مجھے کوئی سزا نہیں دینی… آپ پریشان تھے، اس لیے مجھے یاد نہیں کیا… کوئی بات نہیں۔”
وہ اپنے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے معصومیت اور محبت سے لبریز بول رہی تھی ۔۔
“میں آپ کے لیے کپڑے نکالتی ہوں۔”
اس کے لہجے میں خالص محبت اور بے لوثی کی چمک تھی۔

زیغم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی، وہ اس کی سادگی پر دل ہی دل میں قربان ہو گیا۔
“ہاں جی، نکال دو کپڑے۔ میں چینج کر کے فریش ہو کر آتا ہوں۔”
وہ شوخ نظروں سے کہتا ہوا اٹھنے لگا، مگر کچھ سوچتے ہوئے پھر رک گیا، دل کی گہرائی سے مہرو کی سچی محبت کو محسوس کرتے ہوئے گہری نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔۔
“مہرو!
‘جی!
“مجھے اچھا لگے گا اگر تم مجھے سزا دو۔ اور میرے خیال سے… تمہیں مجھے سزا دینی چاہیے۔ میری جرات کیسے ہوئی کہ میں تمہیں بھول گیا؟ اپنی مہرو کو بھول گیا؟”
اس کے لہجے میں محبت کی شدت تھی، جیسے وہ اپنی ہر خطا کا کفارہ مہرو کی مسکراہٹ سے ادا کرنا چاہتا ہو۔

مہرو نے نظریں جھکا لیں، دل محبت کے احساس سے بھر آیا تھا، اور کمرے میں ایک عجیب سا سکون بھر گیا تھا۔

“ٹھیک ہے، اگر سائیں آپ چاہتے ہیں کہ میں سزا دوں… تو پھر ٹھیک ہے، میں ضرور سزا دوں گی، مگر آپ کے فریش ہونے کے بعد۔”کیونکہ مہرو آپ کی کوئی بھی بات ٹال نہیں سکتی۔
مہرو کی آنکھوں میں شرارت کی چمک تھی، جسے زیغم نے صاف محسوس کیا۔
مگر اس کی مسکراہٹ میں جو محبت اور سکون چھپا تھا، وہ زیغم کے دل کو کسی نرم آہٹ کی طرح چھو گیا۔

زیغم نے ہنستے ہوئے سر جھٹکا، اور دل سے سرشار ہو کر اسے دیکھا۔
“ٹھیک ہے سرکار، بندے کو اپنی سزا کا انتظار رہے گا۔ میں دو منٹ میں آتا ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے شوخی سے انگلیوں کی چٹکی بجائی، اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

مہرو خوش دلی سے ہنستی ہوئی الماری کی جانب بڑھی، اور زیغم کے کپڑے نکالنے لگی۔
زیغم کے قدموں میں اب وہ بوجھل پن نہیں رہا تھا جو باہر کی دنیا سے آتے وقت اس کے وجود پر چھایا ہوا تھا۔
سچ کہتے ہیں، اگر محبت کرنے والی بیوی سچے دل کی مالک ہو تو وہ اپنے شوہر کے دن بھر کی تھکن کو لفظوں کے بغیر ہی اتار لیتی ہے۔
زیغم یہی سکون محسوس کر رہا تھا ،
جب وہ فریش ہو چکا مگر مہرو کی جانب سے کپڑے نہ ملے تو اسے مجبوراً دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔
“مہرو، جلدی سے کپڑے دے دو۔ کیا م ارادہ ہے کہ مجھے باتھ روم میں قید رکھا جائے؟”ہنستے ہوئے بولا۔

دروازے کے باہر سے مہرو کی شرارتی ہنسی سنائی دی، جو نرمی اور شوخی سے بھری ہوئی تھی۔
“یہی تو آپ کی سزا ہے سائیں۔ آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ سزا ملنی چاہیے!”
وہ دروازے کے قریب کھڑے ہو کر ہنسی دبا رہی تھی۔

“شرارتی لڑکی! یہ کیسی سزا ہے؟ اب میں یہاں کھڑا رہوں؟”زیغم نے بے ساختہ ہنستے ہوئے کہا۔

“جی سائیں، یہی سزا ہے۔ اب آپ کھڑے رہیں۔ کپڑے میں تب دوں گی جب میرا دل چاہے گا۔مہرو نے ہنسی دباتے ہوئے جواب دیا،
آپ ایک کام کریں ، بار بار کہیں ‘ مہرو، مجھے کپڑے دے دو’… جیسے آپ انگلش میں کہتے ہیں نا ‘پلیز پلیز مہرو’۔ویسے ہی کہیں۔جب دل کرے گا تو آپ کو معاف کر دوں گی اور کپڑے بھی دے دوں گی۔”
زیغم نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر دیکھا۔۔
مگرمہرو نے حیا اور شوخی کے حسین امتزاج کے ساتھ رخ دوسری سمت کیے ہنستی ہوئی کھڑی تھی ۔۔
اس کی معصومیت اور حیا کا عالم یہ تھا کہ وہ بند دروازے کے باوجود آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں کر رہی تھی۔

مگر مہرو شاید بھول گئی تھی کہ اس کے سامنے زیغم سلطان لغاری تھا ،اس شخص کو حالات سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے آتے تھے۔
زیغم نے خاموشی سے وہ ہنگامی لباس نکالا جو ہمیشہ باتھ روم میں ایمرجنسی کے لیے رکھا جاتا تھا۔
سادہ سا لباس پہنا، گلے میں تولیہ ڈالا اور دبے قدم سے دروازہ کھول کر باہر آ گیا۔

مہرو جو انتظار میں تھی کہ زیغم معافی کی منت سماجت کرے گا، حیران رہ گئی۔
پلکیں جھپکیں، مگر آواز نہیں آئی۔

“بتائیں سائیں، کیا آپ کو کپڑے چاہیے؟ منتیں کر رہے ہیں یا پھرمیں جا رہی ہوں؟”
آواز نہ آنے پر ،وہ گھبرا کر دھمکی دے رہی تھی۔۔
اچانک، زیغم بالکل قریب آ گیا تھا۔
نرمی سے، محبت بھری شوخی کے ساتھ وہ مہرو کے قریب آیا۔
اپنے وجود سے اس کی پشت کو ہلکے لمس سے چھوا اور دونوں ہاتھوں سے اس کے ہاتھوں کو اپنے لمس میں لے لیا۔

“کہاں جانے کا ارادہ ہے…؟”ہلکی آواز میں، دل سے اترتی محبت سے بولتے وہ قریب بے حد قریب ہو چکا تھا۔

مہرو کی سانسیں رک سی گئیں۔
اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
زیغم نے نرمی سے اس کے رخسار کو چھوا، جیسے کوئی محبت سے دعا مانگتے اس انداز سے قریب ہو جیسے ہاتھ اور چہرہ۔
مہرو کا چہرہ لال ہو گیا تھا، حیا کی شدت سے وہ نظریں تک نہ اٹھا سکی۔
زیغم ہنس دیا، ایک محبت بھرا، مدھم سا قہقہہ، جس میں جیت اور محبت دونوں چھپی تھیں۔
بتاؤ نا، کہاں جانے کا ارادہ ہے؟”
وہ نرمی سے سرگوشی کرتا ہوا ایک اور حسین گستاخی کر گیا تھا۔

“چھوڑیں… یہ تو بے ایمانی ہے۔ آپ نے خود کہا تھا کہ آپ کو سزا ملنی چاہیے۔”
مہرو زیغم کے اس قدر قریب ہونے سے سٹپٹا گئی تھی، محبت کے مضبوط حصار میں جکڑی ہوئی۔

“بالکل بھی بے ایمانی نہیں ہے۔ میں نے سوچا کہ جب سزا ملنی ہی ہے تو تمہارے سامنے مجرم بن کر کھڑا ہونا چاہیے۔”
“میں سزا کے لیے تیار ہوں۔جلدی سے سزا دو۔۔۔زیغم نے مسکرا کر کہا۔

ایسے کون سزا لیتا ہے… چھوڑیں مجھے سائیں۔”

“میں تو نہیں چھوڑوں گا ۔”
زیغم نے محبت سے کہا۔

“تنگ مت کریں نا…”
مہرو نے بمشکل سرگوشی کی۔

“میں تو تنگ کروں گا۔”
زیغم ہنسا۔
“سائیں، آپ ایسے نہ کیا کریں۔ آپ بہت اچھے ہیں، اچھے بن کر ہی رہا کریں۔”
وہ شرمائی تھی۔
“مجھے اچھا بننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ مجھے ایسا ہی رہنا ہے۔”
زیغم نے شرارت سے جواب دیا۔
“تمہیں کیا لگا، تم کپڑے نہیں دو گی تو میں باہر نہیں آ سکوں گا؟”

“ہائے اللہ، سائیں! آپ بغیر کپڑوں کے؟”
مہرو کی شرم سے جان نکلنے کو تھی، کپڑے ہاتھ میں پکڑے گھبرا کر قریب کی میز پر پھینک دیے اور دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ لیے۔

زیغم کا زوردار قہقہ کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج اٹھا تھا۔
مہرو شرم و حیا کے مارے کانپ رہی تھی، یہ سوچ کر کہ سائیں بغیر کپڑوں کے باہر آ گیا ہے۔
زیغم خاموشی سے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا، جبکہ مہرو نے اب بھی چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔

“مہرو… آنکھوں سے ہاتھ ہٹاؤ، میں نے کپڑے پہنے ہیں۔ اتنا بھی چھچورا اور چیپ نہیں ہوں میں۔”
وہ ہنستے ہنستے بمشکل بولا۔

“قسم کھائیں… پہلے قسم کھائیں کہ آپ نے کپڑے پہنے ہیں۔”
مہرو نے معصومیت سے کہا۔

“استغفراللہ! تمہیں مجھ پر اتنا بھی یقین نہیں؟”
زیغم نے مسکراتے ہوئے کہا،
“تمہاری قسم… میں نے کپڑے پہنے ہیں۔”
“اللہ میاں کی قسم کھائیں۔”
مہرو کی آواز میں بے ساختہ اصرار تھا۔

“اللہ کی قسم، میں نے کپڑے پہنے ہیں۔”
زیغم نے نرمی سے اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔
مہرو نے ہچکچاتے ہوئے آہستہ آہستہ پلکیں جھکائیں اور پلکوں کی اوٹ سے مدھم سی نظر زیغم پر ڈالی۔ جب واقعی اسے زیغم مکمل لباس میں نظر آیا تو جیسے اس کے دل کو تسکین ملی۔

“اففف… اللہ کا شکر ہے، آپ نے تو میری جان نکال لی تھی۔”
وہ بمشکل کہتے ہوئے اپنی دھڑکنیں سنبھالنے لگی۔
“پاگل لڑکی، تم مجھے ایسا سمجھتی ہو؟” اس کے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ ٹاول سے سر خشک کر رہا تھا۔ پانی کی بوندیں اڑتی ہوئی مہرو کے چہرے پر پڑی تھیں، اور وہ چند لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کر کے محسوس کرنے لگی۔
“اچھا سنو، تم نے کھانا کھایا؟”

“نہیں، آپ نہیں تھے تو میں نے کھانا کس کے ساتھ کھانا تھا؟”

“پاگل لڑکی، تم صبح سے بھوکی گھوم رہی ہو؟”
“کیوں؟ آپ نے کھانا کھا لیا؟”
“نہیں۔”
“تو پھر میں آپ کے بغیر کیسے کھانا کھا سکتی تھی؟”
زیغم نے مہرو کی طرف نرمی سے دیکھا۔ “جب میں گھر پر نہیں ہوتا، تم کھانا کھا لیا کرو، ایسے بھوکی مت رہا کرو۔ پہلے ہی تمہاری چڑیا کی جتنی جان ہے، اوپر سے بھوکی رہ کر تم نے ایک دن غائب ہو جانا ہے، میں ڈھونڈتا رہ جاؤں گا کہ مہرو کہاں گئی ۔”
“جی نہیں، ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ میں آپ کے بغیر کھانا نہیں کھاؤں گی۔” وہ اپنی ضد پر ڈٹی ہوئی تھی اور اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ کا احساس تھا، جو زیادہ تر بچوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔مگر وہ بھی بچوں کے جیسی سوچ کی مالک تھی ۔

“اچھا، چلو جلدی کرو، سکینہ سے کہو کہ جلدی سے کھانا لے کر آئے، مجھے بھی بھوک لگی ہے۔” وہ اپنے ٹاول کو سٹینڈ پر ڈالتے ہوئے،مسکراتی آنکھوں سے گھومتے ہوئے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔
“جی، ابھی کہتی ہوں۔” مہرو دروازے کی جانب بڑھی، “مہرو، کہاں جا رہی ہو؟”زیغم نے تجسس سے پوچھا۔

“سکینہ سے کھانے کے لیے کہنے جا رہی ہوں۔”
“سرکار روم میں انٹرکام اس لیے لگایا ہے، جب چاہیں آپ ملازموں سے بات کر سکیں، تو تمہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انٹرکام سے کہہ دو۔”

“اوہو۔ میں بھول گئی تھی۔” مہرو نے فوراً اپنی عقل پر ہنستے ہوئے سر پر ہاتھ مارا اور انٹرکام کی طرف بڑھ گئی۔ “سکینہ، جلدی سے سائیں کے لیے اور میرے لیے کھانا لا دیں، پلیز!” اس نے انٹرکام پر بات کی اور پھر فون بند کر دیا۔

زیغم نے اس کے عمل پر تجسس بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ مہرو میں آہستہ آہستہ ایک تبدیلی آ رہی تھی۔ اب وہ “پلیز” اور “سوری” جیسے لفظوں کو بھی قبول کر رہی تھی، جو پہلے اس سے بالکل نہ سمجھ میں آتے تھے اور نہ بولنے آتے۔۔
“مہرو۔”
“جی?”
“ادھر آؤ۔” زیغم نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بلا بلایا۔

مہرو قریب آئی۔

زیغم کی نظریں اس پر ٹکی ہوئیں تھیں، “تمہیں میں نے انگلش میں کچھ اور بھی بولنے کے لیے سکھایا تھا، وہ کب سیکھو گی؟”
“سائیں، مجھے نہیں سیکھنا۔ آپ مجھے صرف اچھی اچھی انگلش سکھایا کریں، گندی باتیں آپ خود ہی سیکھیں۔”مہرو کی مسکراہٹ چھپاتے شرم سے لال ہوتے جواب دیا۔۔۔
“حد ہے، اس میں گندی بات کون سی ہے؟ دنیا کی واحد لڑکی ہو جس کو ‘I love you’ جیسا لفظ گندا لگ رہا ہے، جبکہ اس کے تو معنی ہی اتنے پاک ہیں، محبت بھرے ہیں۔ ‘I love you’ کا مطلب ہے ‘میں تم سے پیار کرتا ہوں’ یا ‘میں تم سے پیار کرتی ہوں’، اس میں غلط کیا ہے؟”

“سائیں، چپ کر جائیں اور کھانا کھائیں۔” وہ دروازے کی طرف گئی، اور زیغم ہنستے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔

سکینہ کھانے کی ٹرالی لے کر آئی اور دروازے پر ہی روز کی طرح دے کر واپس چلی گئی۔”
مہرو نے دروازہ بند کیا اور کھانے کی ٹرالی سامنے کرتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی۔ زیغم بھی اس کے ساتھ آ کر بیٹھا، اور مہرو کے بلش کرتے ہوئے گالوں کو دیکھ کر مسکرایا۔
“مہرو، تمہیں پتہ ہے، آج کل تو لوگ چلتے پھرتے کہتے ہیں ‘I love you, I love you.’ اس لفظ کا لوگوں کی نظر میں کوئی مطلب ہی نہیں ہے، اور تم ہو کہ ‘I love you’ کو سن کر اتنا بلش کر رہی ہو کہ قسم سے مجھے بھی لگ رہا ہے میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے۔”

مہرو کی گالوں پر لالی چھا گئی تھی، اور زیغم کی مسکراہٹ میں شرارت کی جھلک تھی۔
“چلو، آؤ، کھانا کھاتے ہیں، اس سے پہلے کہ کوئی تمہیں اتنا بلش کرتا ہوا دیکھ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ زیغم نے ایسا کیا کہہ دیا کہ بیچاری مہرو شرم سے لال ہوئے جا رہی ہے۔…”اس کے قریب ہی بیٹھ چکا تھا جبکہ مہرو بڑی سمجھداری سے پلیٹ کے اندر کھانا نکال رہی تھی۔مہرو میں کافی بدلاؤ آنے لگا تھا۔
یہ بدلاؤ کچھ تو وقت کے ساتھ آنے لگا تھا اور کچھ حمائل کے آنے کے بعد مہرو خود سے اپنے اندر بدلاؤ لارہی تھی کیونکہ اسے اپنے سائیں کے ماحول میں خود کو ڈھالنا تھا اس جیسی بننے کی وہ کوشش کر رہی تھی کہ اس کے سائیں کو شرمندگی نہ ہو ،وہ خود کو زیغم کے سٹیٹس کے مطابق بنانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔
بے شک زیغم منہ سے کچھ نا کہے مگر اسے سب سمجھ میں آتا تھا کہ مہرو اپنے اندر یہ بدلاؤ کیوں لا رہی ہے۔مہرو پلیٹ میں کھانا نکال کر سیٹ کرتے ہوئے زیغم کے آگے ٹیبل پر رکھ چکی تھی زیغم نے نوالا بناتے ہوئے پہلے اس کے منہ میں ڈالا۔پھر خود کھانے لگا تھا وہ بھی تو صبح سے بھوکا تھا۔دونوں کھانا کھاتے ہوئے اپنی سوچوں میں گم سے ہونے لگے تھے وہ سوچ رہی تھی کہ اسے اپنے سائیں کے لیے باعث شرمندگی نہیں بننا۔اسےخود کو سدھارنا ہے سمجھدار بننا ہے۔جبکہ زیغم سوچ رہا تھا کہ یہ پاگل لڑکی کیوں بدلنا چاہتی ہے، یہ جیسی ہے مجھے ایسی ہی قبول ہے، مجھے ایسی ہی اچھی لگتی ہے۔۔

میاں بیوی کے رشتہ میں یہ ایک گہرا سفر ہوتا ہے، جس میں کبھی کبھار بیوی اپنے پہلو پر سوچتے ہوئے ایک الگ سمت چل پڑتی ہے، اور شوہر بھی اپنے خیالات میں ایک نئی راہ اختیار کرتا ہے۔ کبھی کبھی یہ الگ سمتیں ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں، اور کبھی کبھار یہ اختلافات رشتہ میں پیچیدگیوں کا باعث بن جاتے ہیں۔
°°°°°°°°°°°
“اماں ایسے کیا دیکھ رہی ہیں جیسے پہلی بار مجھے دیکھا ہو؟” رومی آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر تیار ہو رہی تھی۔ آج اس کا ہسپتال میں پہلا دن تھا۔وہ اپنے ہی گاؤں میں بنے ہوئے خوبصورت بڑے اور جدید ہاسپٹل میں جانے کے لیے کافی ایکسائٹڈ تھی۔یہ ہاسپٹل اس کے اپنے بھائیوں نے تعمیر کروایا تھا۔وہ دل ہی دل میں بہت خوش تھی۔
“میں تو تمہیں دیکھ کر خوش ہو رہی ہوں،آج تک یہ سب لوگ اس گھر میں شان سے جیتے تھے اور سلمہ ہمیشہ اکیلی رہی تمہارے روپ میں مجھے ایک مضبوط سہارا مل گیا ہے۔میں تو یہ سوچ سوچ کر خوش ہوئے جا رہی ہوں کہ میری بیٹی ڈاکٹر ہے۔ اور ۔۔۔کیسا منہ توڑ جواب دیا تم نے قدسیہ اور نایاب کو، ایمان سے دل خوش ہو گیا۔” سلمہ نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے چمکدار آواز میں چما دیا۔

“استغفراللہ! آپ کو لڑائیاں جھگڑے دیکھ کر اتنا مزہ کیوں آتا ہے؟ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آپ سچ میں میری ماں ہیں۔ میں تو ایسی نہیں ہوں، مجھے تو لڑائیوں سے کوفت ہوتی ہے۔” رومی نے منہ بناتے ہوئے بالوں میں برش کیا، انہیں جوڑے کی شکل دی اور کیچر لگا دیا۔

“ارے میں تھوڑی لڑائیاں کرواتی ہوں؟ یہاں تو حویلی میں ہر وقت دنگے تماشے ہوتے رہتے ہیں، تو اس میں میرا کیا قصور؟ بھئی فری کی شراب تو ملا بھی نہیں چھوڑتا، تو میں فری کے تماشے کیسے چھوڑ دوں؟” سلمہ دونوں ہاتھ جھاڑتے ہوئے بڑی شان سے صوفے پر پیر اٹھا کر اآلتی پالتی مار کر بیٹھ چکی تھی۔

“بری بات ہے۔ اگر کہیں جھگڑا ہو بھی جائے تو اسے سلجھانا چاہیے یا اس سے دور ہو جانا چاہیے۔” وہ ہونٹوں پر ہلکا سا گلوسی ٹچ دیتے ہوئے ماں کو گھور کر بولی۔

“اچھا چل، زیادہ اماں بننے کی ضرورت نہیں۔ جلدی سے تیار ہو جا، میں تیرے لیے ناشتہ لے کر آتی ہوں۔”

“ناشتہ نہیں کرنا مجھے۔ بس اورنج جوس کا ایک گلاس چاہیے۔ اور ویسے بھی آپ کو اتنی حیرت کس بات پر ہو رہی ہے کہ میں ڈاکٹر ہوں؟فون پہ ہزار بار تو بتایا ہے کہ میڈیکل کی پڑھائی کر رہی ہوں۔” رومی کو اپنی خوشی یاد آ گئی۔

“ہاں ہاں، تو میں نے کب کہا کہ مجھے نہیں پتا؟ پر میری بیٹی اتنی بڑی ڈاکٹر ہے، یہ مجھے نہیں پتہ تھا۔مجھے تو لگا کوئی عام سی میڈیکل کی پڑھائی کر رہی ہوگی۔!” سلمہ نے ہنستے ہوئے کہا۔

“چلو، آج آپ کو پتہ چل گیا۔ اب یاد رکھیے گا اور بھولیے گا مت! اور مجھے جلدی سے اورنج جوس کا گلاس دے دیں ” وہ ہنستی ہوئی آنکھوں پر مسکارا لگا رہی تھی۔۔
“ابھی لائی!” سلمہ سو کی سپیڈ سے باہر نکلی اور اگلے پانچ منٹ میں جوس کا گلاس لے کر چراغ سے نکلے جن کی طرح واپس آ گئی۔ رومی اپنے کاندھے پر ہینڈ بیگ رکھتے ہوئے موبائل دیکھ رہی تھی۔

“تھینک یو سو مچ!” رومی نے ماں کے ہاتھوں سے گلاس لیا اور تین ہی سانسوں میں جوس پی کر اللہ حافظ کہتی ہوئی دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔
زرام پہلے سے گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔

“اسلام علیکم زرام بھائی! میں لیٹ تو نہیں ہو گئی؟” رومی نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔

“نہیں، بالکل بھی دیر نہیں ہوئی، بالکل ٹھیک وقت پر ہو۔ اچھی بات ہے، کامیاب انسان بننے کے لیے ٹائم ٹیبل کا پابند ہونا چاہیے۔ ایسا زیغم بھائی فرماتے ہیں۔” زرام نے مسکرا کر گاڑی کو گیئر لگایا اور لکڑی کے خوبصورت بڑے گیٹ سے نکل کر ہسپتال کی طرف چل دیے۔

“ویسے زرام بھائی، کہنا پڑے گا کل کیا انٹری ماری تھی آپ نے!” رومی ہنستے ہوئے کل کا سین یاد کر رہی تھی۔

“کیا کرتا، مارنی پڑی۔ ورنہ میری بیچاری بیوی پر تمہاری مامی جان اور کزن نے دھاوا بول دیا تھا۔” زرام نے مسکراتے ہوئے سٹیئرنگ گھماتے ہوئے کہا۔

“ہمم… مطلب آپ اپنی پیاری بیوی جان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ کرنا بھی چاہیے۔ بندی ہے ہی اتنی پیاری پلس بہادر!” رومی نے ملیحہ کی مضبوطی اور خوبصورتی کی تعریف کی۔
“مگر مجھے سمجھ نہیں آئی کل وہ بھیگی بلی بن کر سب کچھ کیوں برداشت کر رہی تھی رومی نے تجسس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا…
“ہاں، بہادر ہے۔ منہ توڑ جواب دینا جانتی ہے۔ بس کل میری محبت اور لحاظ کی خاطر خاموش رہی، ورنہ سب کو ناکوں چنے چبوا دیتی۔” زرام نے گاڑی ہسپتال کی پارکنگ ایریا میں لگا دی۔وہ لوگ ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔ہاسپٹل گھر سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا۔

“ویسے زرام بھائی، اگر برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں؟”

“کہو کہو، برا ماننے والی کوئی بات نہیں۔”

“اپنی بیوی کو دبا دینا صحیح نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں یہی ہوتا ہے کہ بیوی کو والدین کے احترام کے نام پر دبا دیا جاتا ہے، مگر بیوی کا بھی ایک مقام ہے۔ شوہر کو بیوی کے حق میں سٹینڈ لینا چاہیے، اگر ماں باپ کا رویہ غلط ہو تو۔ بیوی کا بھی وجود اور جذبات ہوتے ہیں، انہیں بھی سمجھنا چاہیے۔” رومی نے تحمل سے اپنی بات مکمل کی۔

“تمہاری کوئی بات بری نہیں لگی۔ تم نے بالکل ٹھیک کہا۔ ہم مرد واقعی یہ غلطی کرتے ہیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ملیحہ کے ساتھ اب کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ مجھے اپنی پیاری بہن کی سوچ پر فخر ہے۔” زرام نے محبت سے رومی کے سر پر ہاتھ رکھا۔

“چلیں اب، ڈاکٹر صاحبہ! آج آپ کا ہسپتال میں پہلا دن ہے۔ لیٹ ہو رہے ہیں!” زرام نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا۔

“جی بالکل، میں بھی بہت ایکسائیٹڈ ہوں! ہمیشہ سوچا تھا کہ کہیں دور جا کر جاب کرنی پڑے گی، مگر بھائیوں نے اپنے گاؤں میں اتنا خوبصورت ہسپتال بنا دیا۔ اب نہ صرف خدمت کر سکوں گی بلکہ اپنوں کے قریب بھی رہوں گی۔” رومی خوشی سے بولی۔
وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے ہسپتال کے اندر کی جانب بڑھ گئے۔
°°°°°°°°°
“مجھے سچ چاہیے، رفیق، سارا سچ۔ یہ جو اٹھارہ انیس سال پہلے کی رات ہے، اس میں کیا ہوا تھا، کون تھا اس سب کے پیچھے، اور کیوں ہوا؟ ایک بات یاد رکھو، میں اب خاموش نہیں بیٹھنے والا۔”
زیغم سلطان غصے سے رفیق کے بالکل قریب ہوا۔

“سائیں،آپ پر میری جان بھی قربان، مگر اتنی چھان بین کے باوجود کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا۔ ہر طرف اندھیرا ہے۔ پوری طرح مٹا دیے گئے تھے۔بہت کوشش کے باوجود کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا ۔”
رفیق نے نظریں جھکا لیں، لہجے میں بےبسی تھی۔

“یہ بات مجھے چند مہینے پہلے پتہ چلی ہے رفیق۔ تب سے ایک ایک پل میرا دم گھٹ رہا ہے۔ یہ راز میری سانسوں پر بوجھ بن چکا ہے۔تمہیں ایک بات سمجھ میں کیوں نہیں آرہی کہ اس راز کو جاننا میرے لیے بہت ضروری ہے۔ میں اب مزید اندھیرے میں نہیں رہ سکتا۔اگر میں راز کو نہیں جان سکا تو خود کی نظروں میں کبھی نہیں اٹھ سکتا۔”
زیغم سلطان کی آواز تھوڑی اور سخت ہو گئی۔چہرے کی نسیں ابھرنے لگی تھیں۔
“سائیں میں میں ایک بار اور پوری کوشش کروں گا۔۔رفیق نے مودبانہ انداز میں نظریں جھکائے کہا۔

“کوشش نہیں۔۔۔۔اگر اس بار بھی ناکام ہوئے، تو تم میرا وہ چہرہ دیکھو گے جو آج تک تم نے نہیں دیکھا۔ ابھی تک تم نے صرف میرے صبر کو جانا ہے، میرے غضب کو نہیں۔”
زیغم سلطان نے قدم آگے بڑھا کر سرد لہجے میں کہا۔زیغم سلطان کی فطرت میں روایتی سرداروں کی طرح فضول میں اپنے خاص بندوں اور ملازمین پر گرجنا نہیں تھا۔مگر اس وقت زیغم سلطان کے اندر کا سردار واضح نظر آرہا تھا۔
رفیق نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔ اس کی خاموشی میں خوف بھی تھا اور بے پناہ وفاداری بھی۔
“ان شاء اللہ سائیں، اللہ سے امید ہے۔ میں اپنی جان لگا دوں گا۔ کوئی نہ کوئی سرا ضرور ڈھونڈ لوں گا، اور آپ کو خوشخبری دوں گا۔”
رفیق نے سر اٹھا کر یقین سے کہا۔

“ٹھیک ہے، جاؤ۔”
زیغم سلطان نے گہری سانس لی، لہجہ بھاری تھا۔

وہ اپنی زمینوں کے بیچ کھڑا تھا۔ چاروں طرف ہری بھری فصلیں لہرا رہی تھیں۔ دور تک پھیلے یہ کھیت، یہ زمینیں، سب زیغم سلطان کی ملکیت تھیں۔
مگر اتنے وسیع اختیار کے باوجود، اس کے دل میں اس وقت صرف ایک بےچینی کا راج تھا۔
ایسی بےچینی جو دن بدن اس کی روح کو تھکاتی جا رہی تھی۔
“کون ہے اس سب کے پیچھے؟ کس نے یہ سب کچھ کرنے پر مجبور کیا ہوگا؟”
زیغم سلطان خود سے بڑبڑایا۔

وہ گہری سوچ میں ڈوبا، نظریں دور لہراتے سبز کھیتوں پر جمائے کھڑا تھا۔
ہواؤں میں حدت گھلنے لگی تھی۔ گندم کی کٹائی کا وقت قریب آ چکا تھا۔ گرمی اپنا زور دکھا رہی تھی۔

اچانک فون کی رنگ ٹون نے اس کی توجہ بٹائی۔
زیغم نے ہاتھ میں پکڑے موبائل کی طرف دیکھا۔
سکرین پر مائد خان کا نام جگمگا رہا تھا۔
“السلام علیکم۔”
زیغم سلطان نے فون پر کہا۔

“وعلیکم السلام۔”
ماد خان نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔

“اتنا سڑا ہوا وعلیکم السلام کیوں کہا ہے تم نے؟”
زیغم سلطان نے جھنجھلا کر پوچھا۔

“مسلمان ہونے کے ناطے فرض بنتا ہے کہ سلام کا جواب دیا جائے،
ورنہ جس طرح کی تمہاری حرکتیں ہیں، دل تو یہ کرتا ہے کہ جواب بھی نہ دوں۔”مائد خان نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا ۔
“میں نے کون سی ایسی حرکت کر دی ہے جس کی وجہ سے اتنے کڑوے کریلے بنے بیٹھے ہو؟”
زیغم سلطان کے ماتھے پر بل پڑنے لگے تھے۔
فون کی دوسری طرف مائد خان کا غصے سے بھرا لہجہ بھرا ہوا تھا۔
“میرا ذرا سا اکھڑا ہوا لہجہ تم سے برداشت نہیں ہوا؟
اور خود تم فون نہ اٹھاؤ، کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔ مجھے یہاں بند کر رکھا ہے اور خود تم فون نہیں اٹھاتے، تم سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے!”
مائد خان اچھا خاصا بھڑک اٹھا تھا۔

“یار، کل تھوڑی دیر کے لیے فون بند کر دیا تھا، اس کے لیے معذرت۔ اور رات میں جب گھر پہنچا، تو مہرو بہت پریشان تھی۔ بس تمہیں فون کرنے کا وقت نہیں ملا۔”
زیغم نے پریشانی کے ساتھ کہا۔

“بھاڑ میں جاؤ تم، اور بھاڑ میں جائے تمہارا ٹائم!
میں یہاں ٹینشن سے مرا جا رہا تھا اور تمہارے پاس وقت نہیں ہے مجھ سے بات کرنے کے لیے!”
مائد خان نے غصے سے فون کے دوسرے طرف سے کہا، پھر اچانک اس کا غصہ اور بڑھا اور اس نے فون بند کر دیا۔

زیغم نے بے چین ہو کر کوئی 40 بار فون کیا، مگر مجال ہے کہ اس بندے نے فون اٹھایا ہو۔

“الٹی کھوپڑی کا پٹھان! جتنا مرضی سدھر جائے، کھوپڑی تو وہی پٹھانوں والی ہے، نا جب الٹ جائے تو پھر کسی کا سگا نہیں!”
زیغم نے غصے سے بڑبڑایا، پھر اس کے ذہن میں حل واضح ہوا۔
“اب اسے جا کر ہی منانا پڑے گا۔”
یہ کہہ کر زیغم اپنی گاڑی کی طرف بڑھا
کئی بار فون ملانے کے بعد بھی مائد خان نے فون نہیں اٹھایا،
تو مجبوراً زیغم نے گاڑی میں بیٹھ کر دانیہ کا نمبر ڈائل کیا تھا۔
گاڑی مائد خان کے گھر کی طرف جانے والے راستے پر رواں دواں تھی،
کھیتوں کی ہریالی کو چیرتے ہوئے گاڑی مائد خان کے گھر کی جانب بڑھ رہی تھی۔
دو رنگز کے بعد دوسری طرف سے دانیہ نے فون اٹھا لیا۔

“السلام علیکم زیغم بھائی، کیسے ہیں آپ؟”
دانیہ نے فون اٹھاتے ہی سوالوں کی لائن لگا دی۔
“آئے کیوں نہیں؟ میں آپ کو بہت مس کر رہی تھی۔ میں نے آپ کو کل فون بھی کیا تھا، مگر آپ کا فون بند جا رہا تھا۔”

“سانس لے لو میری بہن، سانس لے لو،
پاگل پٹھان کے ساتھ دو دن رہنے سے تمہارا دماغ بالکل اس جیسا ہو گیا ہے۔
ٹھنڈا پانی پیو، پھر سب کچھ بتا دوں گا۔”
زیغم ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولا۔

“اب جیسا بھی ہے، اس کے پلے آپ نے خود باندھا ہے،
مجھے مت شکوہ دیجیے۔ بس مجھے اتنا بتائیں، آپ نے مجھے مس نہیں کیا؟
آئے کیوں نہیں؟”
دانیہ نے مزید سوال کیا۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں یاد نہ کروں؟ تمہیں یاد کیا، بہت یاد کیا، اور اب تمہیں، تم سے ملنے آ رہا ہوں۔ ساتھ میں تمہارے اس پاگل شوہر کو بھی لا رہا ہوں۔”

“جی ٹھیک ہے، جلدی آئیے گا۔ میں آپ کا انتظار کر رہی ہوں، اور آپ کے لیے اپنے ہاتھوں سے آپ کی فیورٹ مٹن کڑاہی کے ساتھ آپ کی پسندیدہ ماش کی دال بھی بنائی ہے۔”

“میں تو آپ کو کہنے والی تھی کہ آپ جلدی سے آ جائیں، مگر اب آپ نے یہ خوشخبری مجھے خود دی ہے تو میں کیا بولوں، دانیہ؟”
یہ آواز میں جو کھنک تھی، جو خوشی تھی، چیچکاہٹ تھی، وہ زیگم کے جاننے کے لیے کافی تھی کہ اس کی بہن، مائد خان، کے ساتھ بہت خوش ہے۔
اس کی پرسکون خوشی سے چھلکتی آواز سن کر ایک بھائی ہونے کے ناطے زیغم سلطان کا دل جیسے کسی بہت بڑے بوجھ سے آزاد ہو گیا تھا۔
فون بند ہو چکا تھا، مگر دانیہ کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ کافی پرسکون محسوس کر رہا تھا۔۔۔

°°°°°°°°°°°°
فیصل کے چہرے پر خوشی کی ایک الگ ہی چمک تھی، جیسے کوئی بڑا انعام ملنے والا ہو۔جیسے اسے آج کوئی تمغہ امتیاز ملنے والا ہو۔”خوشی سے جھوم رہا تھا، ناچ رہا تھا۔”
“فائنلی آج وہ ہاسپٹل آ رہی تھی، یہ بات اسے زرام سے پتہ چلی تھی اور اب وہ بے چین سا ہو کر گیٹ کے قریب کھڑا ویٹ کر رہا تھا۔”
وہ بار بار مین راستے کی طرف دیکھتا، اپنی بےچینی کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
“مگر کافی ٹائم گزر گیا تھا یا انتظار کی گھڑیاں ختم نہیں ہو رہی تھیں، اسے ایسا لگ رہا تھا کہ بہت ٹائم گزر چکا ہے ، وہ تیز قدموں سے باہر کی جانب قدم بڑھاتا چلا جا رہا تھا۔۔
“بے چینی حد سے زیادہ بڑھنے لگی تھی، من چلے فیصل کے صبر کا دامن چھوٹنے کو تھا۔اس بندے میں صبر کی ویسے ہی بہت کمی تھی،اور لڑکیوں کے معاملے میں تو کچھ زیادہ ہی اتاولا ہو جاتا تھا۔اس لقب سے اسے ہمیشہ زرام نوازا کرتا تھا۔

“دیکھوں تو صحیح زرام کہاں پھنس گیا ہے، روز ٹائم سے منہ اٹھا کر آ جاتا ہے، اور آج انتظار کر رہا ہوں تو آہی نہیں رہا۔”
اپنے آپ سے بڑبڑاتا ہوا، وہ تیز تیز قدم اٹھاتے گیٹ کے قریب پہنچا۔
“وہ قدم بڑھاتے ہوئے ہاسپٹل کے مین دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے گیٹ کے کافی قریب پہنچا تو کسی شخصیت کے ساتھ ٹھا کر کے ٹکرا گیا۔۔۔

نتیجہ، زور دار ٹکر ہوئی۔ وہ خود بھی لڑکھڑا ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔

“غصے سے اس نے اوپر کی جانب دیکھا، مگر بگڑے ہوئے تیور فوراً سے فور سیدھے ہو گئے تھے۔”
چہرے پر آیا ہوا غصہ یک دم جھک سا گیا، جب نگاہ سامنے کھڑی نازک سی لڑکی پر پڑی۔
“چھوٹی سی ناک کے اوپر چشمہ لگائے ہوئے رومی نے اسے غصے سے دیکھا، اس کے ساتھ ہی ذرام بھی کھڑا تھا۔”
رومی کی بھنویں تن گئی تھیں اور آنکھوں میں ہلکی چنگاری سی جھلملا رہی تھی، جبکہ ذرام دبی دبی ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔

“میں نے آپ سے ایک بار پہلے بھی کہا تھا کہ اتنے موٹے موٹے چشمے لگانے کا کیا فائدہ ہے ،جب یہ آپ کے کسی کام کے نہیں ہیں۔”
رومی نے ناک چڑھاتے ہوئے تلخی سے کہا، انداز ایسا تھا جیسے فیصل کو ایک بار پھر سبق سکھانا ہو۔

“ذرام کی زوروں کی ہنسی چھوٹ گئی تھی صبح ہی صبح ٹھکائی ہوتے دیکھ۔”
وہ مزے لیتے ہوئے دونوں کو باری باری دیکھ رہا تھا۔
“سو سوری، میں نے آپ کو دیکھا نہیں۔”
فیصل نے فوراً معذرت خواہ لہجے میں کہتے نظریں جھکا لیں۔کم سے کم بےچارہ فیصل اس بندی کے ساتھ ایسی ملاقات دوبارہ نہیں چاہتا تھا۔
“جی کیسے دیکھیں گے کیونکہ آپ کا دماغ کہیں اور ہوتا ہے، نگاہیں کہیں اور۔”
مجھے لگتا ہے کہ آپ کو کسی اچھے ڈاکٹر کی شدیدضرورت ہے، آپ ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ آپ کی دماغی حالت ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔”
رومی نے بےرحمی سے اپنا فیصلہ سنایا اور فیصل کو و چپ کروا دیا۔

“ذرام کی تو ہنسی نہیں رک رہی تھی فیصل کی دھلائی ہوتے دیکھ کر۔”وہ ہنستے ہنستے دوہرا ہونے والا تھا۔جبکہ فیصل اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔
“ویسے تم نے یہ ڈاکٹر والا حلیہ کیوں اپنا رکھا ہے؟”
رومی نے فیصل کے سفید کوٹ اور گلے میں پڑے سٹیتھو اسکوپ کو غور سے دیکھتے ہوئے تجسس سے پوچھا۔

“رومی رومی رومی، میری پیاری بہنا۔ یہ ڈاکٹر ہے۔ (چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر فیصل صاحب)۔”
ذرام نے ہنستے ہوئے رومی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور شرارت بھرے انداز میں فیصل کا تعارف کروایا۔

“جبکہ فیصل کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ یہ پہلے کیوں نہیں بولا۔”
اس کی آنکھوں سے صاف ظاہر تھا کہ اگر موقع ملتا تو ذرام کو ابھی چٹکیوں میں غائب کر دیتا۔

“ریلی۔۔ یہ ڈاکٹر ہیں؟”
رومی نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں، جیسے یقین ہی نہ آیا ہو۔

“کیوں؟ نہیں لگ رہا؟”
فیصل نے بیچارگی سے پوچھا، شکل ایسے بنا رکھی تھی جیسے کسی بےگناہ پر الزام لگا ہو۔
“بالکل بھی نہیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز میں سب سے پہلے مینرز ہونے چاہیے اور آپ میں مجھے کہیں بھی مینرز نظر نہیں آ رہے۔”
رومی نے ناک سکیڑتے ہوئے فیصل کی مزید کلاس لی۔
فیصل کی حالت دیکھنے لائق تھی بچارے کی صبح ہی صبح ٹھیک ٹھاک جھاڑ پونچھ ہو گئی تھی وہ بھی بغیر کسی بڑی غلطی کے۔۔

“دوسری بار، ملاقات ہوئی ہے اور دوسری بار بھی آپ اندھوں کی طرح مجھ سے ٹکرا گئے ہیں۔یا تو آپ کے چشمے کا نمبر چینج ہونے والا ہے یا پھر سچ میں آپ کو کوئی دماغی مسئلہ ہے۔اور ایسے میں آپ کا ڈاکٹر ہونا خطرے سے خالی نہیں۔”
رومی نے انگلی اٹھاتے ہوئے بیچارے کی عزت کی دھجیاں اڑا دی تھیں زرام کا تو منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔

” فار یور کائنڈ یو انفارمیشن ڈاکٹر رومی، پہلے بار آپ مجھ سے آ کر ٹکرائی تھیں۔ میں تو شادی میں اپنی جگہ پر آرام سے کھڑا تھا۔”
فیصل نے مظلوم سی شکل بناتے ہوئے صفائی دی، مظلوم شکل بنائے ہوئے خود کو بچانے کی آخری کوشش کر رہا ہو۔

“ڈونٹ۔۔ کال می رومی۔۔۔ میرا نام رومیسہ ہے۔ تو آئندہ مجھے ڈاکٹر رومیسہ کہہ کر بلائیے گا۔ رومی صرف میں اپنی فیملی اور اپنے گھر والوں کے لیے ہوں، سمجھے۔۔۔”
رومی نے غرور سے گردن اکڑاتے ہوئے کہا۔چھوٹی سی ناک پر غصہ، اسے بہت سوٹ کر رہا تھا۔
“ویسے ڈاکٹر صاحبہ، رمیسہ پوچھنا تھا، آپ بچپن سے ہی اتنی غصے کی تیز ہیں یا بڑے ہو کر آپ پر کوئی ری ایکشن ہوا ہے؟” فیصل نے اپنی جوک مارنے والی فطرت سے مجبور ہو کر چٹکی لی۔

“میں بچپن سے ہی ایسی ہوں اور کبھی کبھی تو میرا بھیجا اتنا گرم ہو جاتا ہے کہ اگلے بندے کا سر بھی پھاڑ دیتی ہوں۔ آپ کہیں تو میں پریکٹیکل کر کے دکھا دوں؟” رومی نے غصے سے گھورتے ہوئے غرا کر جواب دیا۔

“نہیں نہیں رومی، ایسا مت کرنا۔ اس بیچارے کے فیوز پہلے ہی ڈھیلے ہیں۔ اگر تم نے اس پر اٹیک کر دیا تو بیچارہ کسی قابل نہیں رہے گا۔ اور ویسے بھی ہسپتال کو چائلڈ اسپیشلسٹ کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت سب سے اچھی کمائی اسی کی ہو رہی ہے، کیونکہ بچوں کا صرف یہی ایک ڈاکٹر ہمارے پاس موجود ہے۔”
زارم ہنستے ہوئے رومی کو کول ڈاؤن کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ساتھ ساتھ فیصل کی عزت کا بھی اچھا خاصا تجزیہ اڑا رہا تھا۔ فیصل نے غصے سے اسے گھور کر دیکھا۔

“بیٹا، تجھے بڑا مزہ آ رہا ہے میری خاطر تواضع ہوتے دیکھ کر؟ چل ذرا، تجھے تو بتاتا ہوں!”
فیصل نے زارم کو گھورتے ہوئے دانت پیس کر کہا۔

“کیا کہیں گے آپ میرے بھائی سے؟ یہ آنکھیں کسی اور کو دکھائیے گا!”
رومی روایتی بہنوں کی طرح اپنے بھائی کی حمایت میں فوراً کود پڑی۔

“میں کیا کہہ سکتا ہوں آپ کے بھائی کو؟ آپ کے بھائی تو خود بہت بڑی توپ چیز ہیں، میں نے ان سے کیا کہنا ہے۔ پلیز، آپ اتنا غصہ مت کریں، آج ہسپتال میں آپ کا پہلا دن ہے۔ آئیں، ہم آپ کا اچھی طرح سے ویلکم کرتے ہیں۔”
بیچارا فیصل اپنی بات سے پیچھے ہٹتے ہوئے خوش آمدید کہنے لگا۔

“نو تھینک یو! مجھے آپ کے ویلکم کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ میرے بھائیوں کا ہسپتال ہے، میرا ہسپتال ہے، تو میں اپنا ویلکم خود کر لوں گی۔”
رومی ایٹیٹیوڈ کے ساتھ کہتے ہوئے ہسپتال کے اندر کی طرف چل پڑی۔ زرام بھی تیز قدموں سے اس کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔ جاتے جاتے زرام نے پیچھے مڑ کر آنکھ ماری اور انگوٹھے کا اشارہ دیا، جس سے فیصل کو مزید تپ چڑھ گئی۔

“بڑا ہی لعنتی انسان ہے!”
فیصل بڑبڑاتا ہوا ان کے پیچھے پیچھے ہسپتال کے اندر داخل ہوا۔
رومی جیسے ہی ہاسپٹل کے اندر داخل ہوئی تو حیرانی سے رک گئی۔

پورا ہاسپٹل جیسے اس کا استقبال کرنے کے لیے کھڑا تھا۔
تمام ڈاکٹرز قطار میں کھڑے ویلکم بکے ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھے، اور ہاسپٹل کا تقریباً سارا عملہ وہاں موجود تھا۔

زیغم اور زارم، جو ہاسپٹل کے اونرز تھے، مگر اس وقت زیغم تو موجود نہیں تھا مگر،زرام نے آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے اپنی بہن کا بھرپور انداز سے استقبال کیا۔۔

“ویلکم ، ڈاکٹر رومی!”
زرام نے خوش دلی سے کہا اور ہال میں تالیوں کی گونج اٹھ گئی۔

رومی کا دل خوشی سے بھر گیا۔ آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی تھی۔
بچپن سے ہی وہ رشتوں کے لیے ترستی رہی تھی۔بھائیوں کی کمی کو ہمیشہ اس کے دل میں محسوس کیا تھا۔اور آج اللہ تعالی نے اسے ایک ساتھ دو دو بھائی عطا کیے تو وہ خوشی سے پھول نہیں سما پا رہے تھے۔ رومی کے لیے اس کی زندگی کا سب سے انمول لمحہ بن گیا تھا۔

“چلیں ڈاکٹر صاحبہ، آپ کو آپ کا میڈیکل روم دکھاتے ہیں!”زارم نے مسکراتے ہوئے کمرے کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

رومی ہنستی مسکراتی ان کے ساتھ چل پڑی۔
راستے میں سارا عملہ اسے مبارک باد دے رہا تھا، کوئی گلدستہ پیش کر رہا تھا، کوئی دعا دے رہا تھا۔
جب وہ اپنے مخصوص روم میں پہنچی تو حیرت کا ایک اور جھونکا اس کا استقبال کر رہا تھا۔
کمرہ نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ دیوار پر “ویلکم ڈاکٹر رومی” کا بڑا سا بورڈ لگا تھا، خوشبو دار پھولوں کی مہک پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی، اور ہر چیز سلیقے اور محبت سے ترتیب دی گئی تھی۔

رومی نے اپنے دل میں شکر ادا کیا اور ایک بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ چاروں اطراف میں نظریں دوڑائی۔۔

“یہ ہاسپٹل واقعی میرا ہے… میرے بھائیوں کی محبت کی خوشبو سے مہکتا ہوا، گلستان ہے یہ۔ اور میں پورے دل سے، پوری محنت سے اس ہاسپٹل میں آنے والے ہر مریض کی خدمت کروں گی۔”
رومی نے دل میں پورے سچائی کے ساتھ یہ عہد کیا تھا۔

“چلو رومی، اب تم اپنی ڈیوٹی سنبھالو۔ میں ذرا اپنی وارڈ کا راؤنڈ لگا کر آتا ہوں۔”
زارم نے نرمی سے کہتے ہوئے اسے کمرے میں چھوڑا اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔
باہر نکلا تو سامنے فیصل ناک پھلائے، دونوں ہاتھ کمر پر باندھے، وائٹ کوٹ پہنے کھڑا تھا۔

“ایسے مت دیکھو، پیار ہو جائے گا۔”
زارم پاس سے گزرتے ہوئے شرارتی انداز میں آنکھ دباکر بولا۔

“اتنے بھی برے دن نہیں آئے کہ مجھے تم جیسی منحوس شکل سے پیار ہو جائے۔ میرا بس چلے تو تمہیں کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دوں، شاید تمہارے جمی ہوئی دماغ کی نسیں کھل جائیں!”
فیصل نے طنزیہ لہجے میں دانت پیستے ہوئے جواب دیا۔

“استغفراللہ! صرف نام کے ڈاکٹر ہو، سوچ تو کلرز والی ہے!”
زارم نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے شرارت سے کہا۔

“جس کو دوستی کے نام پر تم جیسا بے وفا دوست ملا ہو، جو مشکل وقت میں اس کے ساتھ نہ کھڑا ہو سکے… اس کی سوچ کلرز والی ہی ہوتی ہے!”
فیصل نے دانت پیستے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا اور ساتھ ہی ایک زور دار مکہ زارم کی کمر میں جڑ دیا۔

بیچارے زارم کے منہ سے ایک تیز “آہ۔۔۔” کی آواز نکل گئی، اور وہ تکلیف سے دوہرا ہو کر فیصل کو گھورنے لگا۔
ڈاکٹر کا کام زندگی دینا ہوتا ہے، زندگی لینا نہیں!”
زارم اپنی پیٹھ کو مسلتے ہوئے دانت نکالتے ہوئے بولا۔

“تم اپنا منہ بند رکھو!” فیصل نے تیوری چڑھاتے ہوئے کہا۔
“تم نے ڈاکٹر رومی… نہیں سوری، ڈاکٹر رومیسہ کے سامنے اپنی زبان بند رکھ کر یہ تو ثابت کر دیا کہ تم مشکل وقت میں میرے ساتھ نہیں کھڑے ہو سکتے۔ کیا جاتا تمہارا اگر میری تعریف میں چار لفظ بول دیتے؟ میری تھوڑی سی ٹھاٹ بن جاتی!”
وہ خفگی سے کہتے ہوئے زارم کو گھورتے ہوئے بولا۔
“مجھے تمہاری نیت ٹھیک نہیں لگ رہی ڈاکٹر فیصل! مت بھولو کہ ڈاکٹر رومیسہ میری بہن ہے۔”
زارم نے اس کی آنکھوں میں کچھ خاص محسوس کرتے ہوئے اسے گھور کر کہا تھا۔

فیصل نے سنجیدگی سے جواب دیا، “مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں، خاص ہے… اور سچ کہوں تو پہلی بار میں ہی وہ مجھے اچھی لگی تھی۔ اُس وقت مجھے بالکل نہیں پتہ تھا کہ وہ تمہاری بہن ہے۔”

زارم نے طنزیہ ہنکارا بھرا، پھر سنجیدگی سے بولا، “دیکھ فیصل! اگر تو میری بہن کے ساتھ فلرٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے نا، تو سوچ لینا۔ میں تو تیرا منہ بعد میں توڑوں گا، پہلے رومی تیرا جبڑا توڑ دے گی! اور قسم سے ایسا توڑے گی کہ پوری دنیا کے ہسپتال گھوم لے، کوئی ڈاکٹر یہ نہیں کہے گا کہ تمہارے جبڑے کا دوبارہ جڑنا ممکن ہے!”
وہ رک کر سانس لیا، پھر مزید سنجیدگی سے بولا، “کیونکہ تم اس کا جھگڑالو روپ دیکھ چکے ہو… وہ ڈاکٹر کم اور فائٹر زیادہ لگتی ہے!”
زارم نے اپنی بہن کے فیچرز پوری دیانتداری سے واضح کرتے ہوئے اسے ہر شک دور کر دیا تھا۔

“بہت گھٹیا سوچ ہے تمہاری!” فیصل نے غصے سے کہا، “تم نے سوچا بھی کیسے کہ میں تمہاری بہن کے لیے فلرٹ والی نظر رکھوں گا؟”

وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر پورے دل کی سچائی سے بولا، “ہاں، پسند ہے مجھے تمہاری بہن! اور میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اسی لیے چاہتا تھا کہ تم تھوڑی سی میری تعریف میں چند لفظ کہہ دیتے… مگر تمہیں تو جیسے جان ہی جا رہی تھی میری تعریف کرتے ہوئے!”
فیصل نے صاف گوئی سے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی محبت کا اعلان زارم کے سامنے کر دیا تھا۔
“او ہو… تو فائنلی ڈاکٹر فیصل کو شادی کرنے کا خیال آ گیا ہے، اور وہ بھی میری بہن کے ساتھ!” زارم نے شرارتی انداز میں آنکھ مارتے ہوئے کہا۔

“بھئی، میں تو بہت خوش ہوں کہ اگر میرا دوست پلس بہنوئی بن جائے۔ مگر یاد رکھ، فیصلہ تو ڈاکٹر رومی کا ہوگا۔ کیونکہ امریکہ جیسے ماڈرن سوچ رکھنے والے ملک میں اس کی پرورش ہوئی ہے، تو اس کے اپنے آزاد خیالات ہیں۔”

وہ ہنستا ہوا قریب آیا اور محبت سے فیصل کے کندھے پر دھپ مارتے ہوئے بولا،
” اگر وہ تمہیں ایکسپٹ کر لیتی ہے نا، تو مجھ سے زیادہ خوشی کسی کو نہیں ہوگی… کمینے! تو تو جان ہے میری!”
زارم نے کھینچ کر ایک اور مکہ فیصل کی کمر پر جڑ دیا تھا۔

فیصل نے کراہتے ہوئے پیچھے ہٹ کر کہا، “بس کر بدبخت! زیادہ محبت نہ جتا، اگر کہیں تمہاری بہن نے دیکھ لیا تو اپنے غصے میں بے قابو ہو کر۔پرپوز کرنے سے پہلے ہی ہڈی پسلی توڑ کر ہسپتال میں نہ داخل کر دے!”

اور دونوں دوست ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے تھے، برسوں کی دوستی آج ایک نئے موڑ پر مسکرا رہی تھی ۔
“زندگی کے سفر میں کب کون سا موڑ آ جائے، کسی کو نہیں پتہ ہوتا، اور رشتوں کے معاملے میں تو اللہ کی ذات ہی جانتی ہے کہ کس کا نصیب کس کے ساتھ جڑا ہے۔ کہاں رومی، کہاں فیصل، کہ دل میں اس کی محبت جاگ اُٹھی۔””کس کا نصیب کس کے ساتھ لکھا ہے، یہ تیرے کام تو ہی جانے، مالک۔ بندے کی سوچ جہاں پر ختم ہوتی ہے، وہاں سے سوچ کا ایک نیا سفر شروع ہوتا ہے۔ جہاں تک پہنچنا عام انسان کے بس کی بات نہیں، کہ اس رب کی ذات کے بنائے ہوئے راز ہیں، جو صرف وہی جانتا ہے۔”

کافی دیر سے وہ اپنے فون میں مصروف تھا، لیکن پھر اُسے احساس ہوا کہ دانیہ کمرے میں نہیں ہے۔ وہ فون رکھ کر فوراً اُٹھا اور اُسے تلاش کرتا ہوا کمرے سے باہر نکلا۔ کچن کا دروازہ کھولتے ہی اُس کی نظر اُسی پر پڑی، جو سلاد کی پلیٹ میں ٹماٹر اور لیمن کے سلائس بڑے دھیان سے سجا رہی تھی۔ کچن میں تھوڑی سی ہلچل تھی، اور کھانے کی خوشبو کے ساتھ وہ زیادہ واضح ہو رہا تھا۔ اُس کا چہرہ تھوڑا سنجیدہ تھا، لیکن آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی۔تیزی سے چلتے ہوئے ہاتھ اس کے دل کی خوشی کو ظاہر کر رہے تھے۔

“خیریت؟ اتنی محنت کیوں کر رہی ہو؟ کھانا بنانے کے لیے ملازم موجود ہیں۔ویسے تھوڑی بہت کوکنگ تو میں بھی کر لیتا ہوں۔”مائد کے لبوں پر شرارتی سی مسکراہٹ تھی۔پلیٹ کے اندر سے ٹماٹر کا ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈالتے ہوئے وہ کہنی کو شیلف پر رکھتے ہوئے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا تھا۔محبت لٹاتی نظر دانیہ پر مرکوز تھی۔

دانیہ نے سلاد کی ڈش سے سر اُٹھایا، اور مسکراتے ہوئے بالوں کی لٹ پیچھے کرتے ہوئے سلاد میں مزید اجزاء ڈالے۔

“زیغم بھائی آ رہے ہیں۔میں تو خود سے انہیں انوائٹ کرنے والی تھی مگر جب فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ہماری طرف ہی آ رہے ہیں،ٹائم کم ہے تو سوچا، تھوڑی تیز چلوں، تاکہ سب کچھ وقت پر ہو جائے۔اور میں بھائی کے لیے کھانا خود بنانا چاہتی تھی۔”
اس کی مسکراہٹ میں ایک نرم سی دلکشی تھی، مگر مائد کی آنکھوں میں واضح طور پر کچھ غصہ تھا۔

“تو اس نے میری بیوی کو فون کیا۔اور احسان کیا یہ بتا کر کہ وہ یہاں آ رہا ہے۔؟ حالانکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ یہاں آئیں۔”
مائدہ کا دماغ اب زیغم کے بارے میں کچھ اچھا نہیں سوچ رہا تھا۔ اُس کی آواز میں غصہ تھا،اس سے زیغم پر اچھی خاصی تپ چڑھی ہوئی تھی جسے وہ چھپا نہیں سکا۔مگر بیچارہ بھول گیا تھا کہ وہ زیغم سلطان کی بہن سے ہی اس کا گلا کر رہا ہے۔۔۔
“یہ کیا بات ہوئی؟ وہ میرے بھائی ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ وہ میرے لیے کتنے اہم ہیں۔ آپ ان کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں۔؟”

اس کی آنکھوں میں نمی آئی۔ اُس نے رُک کر سلاد کی پلیٹ میں ہاتھ پھیرے، چہرے پر بکھری ہوئی خوشی ایک دم سے غائب ہو گئی تھی اس کی جگہ اداسی اور بیزاری نے لے لی تھی۔۔۔

“جان، وہ تمہارے بھائی ہونے سے پہلے میرا دوست ہے۔میں نے سب کچھ اپنے دوست کے لیے کہا ہے تمہارے بھائی کے لیے میں بھلا کیسے گستاخی کر سکتا ہوں۔۔دانیہ کے گال پر نرمی سے ہاتھ رکھا۔
“میں کبھی تمہیں تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا بس یہ ناراضگی تو میری زیغم کے ساتھ ہے اور اسی ناراضگی میں یہ بھول گیا کہ وہ آپ کے بھائی صاحب ہیں اور میرے منہ سے نکل گیا۔۔۔
مائدکی آنکھوں میں محبت کی جھلک تھی، مگر وہ اب بھی کچھ غمگین نظر آ رہی تھی۔ وہ چند لمحوں کے لیے خاموش رہی۔

“جو بھی ہو، آپ دوستی کا رشتہ اُن کے ساتھ نبھاؤ،میں بالکل نہیں منع کروں گی یا آپ کو ان کے بارے میں جو بھی برا بھلا بھی کہنا ہو ان کے منہ پر کہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔مگر دوبارہ ایسا کچھ کچھ بھی میرے سامنے مت کہیے گا۔ میں کتنی خوش تھی اُن کے لیے کھانا بنا رہی تھی، اور آپ نے میرا موڈ خراب کر دیا۔”شکوہ کرتی نظروں سے مائد کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔

اس نے اُس کے چہرے پر بکھری ہوئی لٹ کو پیچھے کرتے ہوئے اُسے نرمی سے گلے لگا لیا۔
“اوکے وعدہ آج کے بعد ایسی گستاخی کبھی نہیں۔۔۔آج کے لیے معاف کرنا، جان، میں نے تمہیں تکلیف دی۔ میں ہمیشہ تمہاری خوشی چاہتا ہوں، اور تمہارا موڈ خراب کرنے کے بارے میں تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔”پلیز آپ جلدی سے موڈ ٹھیک کر لو۔میں تمہاری مدد کروانے کے لیے بھی تیار ہوں۔حکم کرو میں کیا ہیلپ کروا سکتا ہوں۔مائد نے فرمانبردار شوہر کی طرح ہنستے ہوئے اس کا موڈ لائٹ کرنے کے لیے حکم مانگا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔

: “کچھ نہیں کرنا ہے، سب کچھ اوکے ہے، بس میں چینج کرنے جا رہی ہوں۔ آپ بھائی سے فون کر کے پوچھ لو کہ وہ کہاں پہنچ گئے ہیں۔”

“جی، جو حکم ہو، جناب۔” مائد نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مودبانہ انداز میں کہا۔

دانیہ مسکراتی ہوئی اپنے روم کی جانب بڑھ گئی۔
“ایک بار آ تو لینے دو، اگر میں نے اس کے ساتھ اگلے پچھلے حساب پورے نہ کیے تو پھر کہنا۔ پیاری بیوی، مانا تمہارے سامنے کچھ نہیں کہہ سکتا، کیونکہ وہ تمہارے بھائی ۔۔۔صاحب ہیں، تمہارے لیے وہ عظیم ہستی ہیں، مگر میرے لیے تو وہ صرف میرا دوست ہے۔ اور وہ جو حرکتیں کرتا پھر رہا ہے اس کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گا۔

جیسے میرا فون نہ اٹھانا، اور دشمنوں کو معاف کرنا، میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا۔ہمیشہ اس نے ایسے ہی فیصلے کیے ہیں کبھی جذبات سے اور کبھی نرمی سے۔لوگوں کی فطرت کو جان کر بھی یہ پتہ نہیں کیوں حقیقت سے دور بھاگتا ہے ۔” مائد دل میں غصے کے ساتھ یہ سب سوچتے ہوئے فون نکالتے ہوئے اس پر میسج ٹائپ کرنے لگا۔

اس کا دماغ غصے سے بھر چکا تھا ، دانت پیستے ہوئے ٹائپنگ کر رہا تھا۔۔کیونکہ کال کر کے۔ اس سے بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ وہ فون پر ایک سخت پیغام ٹائپ کرتا گیا۔

“گاڑی کو ہوائی جہاز بنا لو اور فوراً پہنچو، میری بیوی تمہارا انتظار کر رہی ہے، اور وہ تمہاری انتظار کی سولی پر لٹک رہی ہے۔ یہ مجھے برداشت نہیں، ورنہ اگر میرے بس میں ہوتا تو تمہاری شکل دیکھنا بھی مجھے گوارا نہ ہوتا۔”
مائد نے میسج چھوڑتے ہوئے فون کو بند کیا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔
جب ہم اپنے دوست سے ناراض ہوتے ہیں، تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم انہیں دور رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہمارے اندر کی الجھنیں اور تکالیف کم ہوں، مگر دل میں ایک نرمی ہوتی ہے، جو انہیں دوبارہ دیکھنے کی خواہش پیدا کرتی ہے۔ ایسے لمحے میں، ہم غصے کے باوجود ان کے آ جانے کا بے چین ہو کر انتظار کرتے ہیں۔

یہ وہ دوستی ہوتی ہے جو صرف لمحوں کی حالتوں پر نہیں، بلکہ گہرے رشتہ اور جذبات پر قائم ہوتی ہے۔ اگرچہ ہم دکھاوے میں کچھ اور ظاہر کریں، لیکن دل کے اندر وہ محبت اور تعلق اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے۔
°°°°°°°

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *