Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:44

رازِ وفا
تازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 44
°°°°°°°°°°°

“بددماغ انسان! آ کر تیرا دماغ ٹھیک کرتا ہوں۔ سمجھ نہیں آ رہی، کیوں اتنا کڑوا بول رہا ہے؟ فون بند تھا، نہیں اٹھایا تو اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے؟”
زیغم نے مائد کا میسج پڑھ کر جھنجلا کر وائس ریپلائی دیا تھا۔ مائد کے غصے پر زیغم کو بھی شدید غصہ آیا تھا۔
ایک تو ذہنی طور پر وہ خود بھی ڈسٹرب تھا، اوپر سے جو اس کا سپورٹ سسٹم تھا، اس کا بھی موڈ بگڑا ہوا تھا۔
گاڑی کے اندر اے سی کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، مگر باہر گندم کی کٹائی ہوتی نظر آ رہی تھی، جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ دھوپ آگ برسا رہی ہے۔
گرمی کی شدت بڑھ چکی تھی، سورج بے رحمی سے تپ رہا تھا۔
گاڑی کے اندر بھی اب ماحول کچھ کچھ تپنے لگا تھا، دونوں دوستوں کے درمیان فون پر تناؤ اور غصے کی شدت بڑھنے لگی تھی۔
موبائل کی ہلکی سی ٹون نے اطلاع دی کہ زیغم کی بات کا ریپلائی آ چکا ہے۔
پلے کر کے فون کان سے لگایا۔

“تو اپنا منہ بند رکھ اور یہاں آ، پھر تجھے بتاتا ہوں کہ غصہ کرنے والی بات ہے یا نہیں۔ ہر بار اپنی مرضیاں نہیں چلا سکتا۔ شروع سے اب تک بس اپنی ہی چلاتا آیا ہے!”
مائد کی آواز میں بھرا ہوا غصہ صاف جھلک رہا تھا۔
“کس سے بات کر رہے ہیں؟”
دانیہ، جو تھوڑی دوری پر کھڑی تھی، خوبصورت سے لان کے ڈیزائنر سوٹ کے ساتھ بڑا سا دوپٹہ کاندھے پر لٹکائے تیار ہوتی ہوئی خود ہی سے دمک رہی تھی ۔ آخرکار، اس کے بھائی جان آ رہے تھے، وہ بھی نکاح کے بعد پہلی بار۔
روایتی بہنوں کی طرح دانیہ کی خوشی اس کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔

“کس سے بات کروں گا؟ آپ کے بھائی جان سے کر رہا ہوں، ان سے پوچھ رہا ہوں کہ ہم دونوں انتظار کر رہے ہیں، جلدی سے تشریف لے آئیں۔”
مائد نے فون تھوڑا سا چہرے سے دور کرتے ہوئے زبردستی مسکراہٹ سجا کر دانیہ کو جواب دیا تھا۔
اندر ہی اندر وہ شدید غصے میں تھا، مگر دانیہ سے حقیقت چھپا گیا۔
اور دوسری جانب اس کا خوبصورت الفاظ میں لپٹا، مگر اندر سے زہر بھرا جواب زیغم سلطان سن رہا تھا۔کیونکہ گھبراہٹ میں وائس پر کلک ہو کر وہ زیغم سلطان کو سینڈ ہو چکا تھا۔
“سیدھا کہہ دے کہ زہر اگل رہا ہے، انتظار نہیں کر رہا۔”زیغم نے دانت پیستے ہوئے فون پر ریپلائی دیا۔

مگر اس بار مائد کی جانب سے کوئی جواب نہ آیا۔کیونکہ
گاڑی اپنی منزل پر پہنچ چکی تھی۔
زیغم نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گیا۔
°°°°°°°°°
مائد نے فون سائیڈ پر رکھتے ہی دانیہ کی جانب قدم بڑھا دیے تھے، جو آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کو آخری بار سنوارتے ہوئے، خود کو آئینے میں دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
“میری خانم، اتنا پیارا تیار ہونے کے بعد کچھ ٹائم ہمیں بھی دے دیں۔”
مائد کی بھاری، دلکش آواز دانیہ کے کانوں میں گھلی تھی۔
وہ، اپنی بلند قامت، چوڑے شانے اور مردانہ وجاہت سمیت اس کے قریب چلا آیا تھا۔
دانیہ نے آئینے میں دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے پلٹ کر دیکھا۔
“سارا وقت آپ ہی کے لیے ہے، مگر اس وقت یہ تیاری زیغم بھائی کے لیے ہے۔ تو اپنے اس رومینٹک موڈ کو تھوڑا سا پوسٹ پون کر دیں۔”
وہ شرارتی انداز میں مائد کے سینے پر انگلی جماتے ہوئے، ادا سے مسکراتی پیچھے ہٹی تھی۔
مائد نے شوخی سے آنکھیں سکیڑتے ہوئے قدم اس کے قریب بڑھائے،
“جانا… زیادتی ہے۔ پہلا حق شوہر کا ہوتا ہے۔”وہ شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے اسے شرمانے پر مجبور کر رہا تھا۔
“جی نہیں! پہلا حق میرے بھائی کا ہے۔ “میں ان کے پاس بیٹھوں گی، بہت ساری باتیں کروں گی، اور اپنے ہاتھ کا بنایا کھانا کھلا کر، ڈھیروں تعریفیں سمیٹوں گی۔”
دانیہ نے شرمانے کے باوجود کافی کانفیڈنس سے جواب دیا۔
وہ ہنستی ہوئی دروازے کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ مائد نے تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا۔اسے دروازے کی پشت سے لگاتے ہوئے، دونوں اطراف میں اپنے مضبوط فولادی بازو رکھ کر، اسے نرمی سے گھیرے میں لیتے، اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کیا۔

“تو۔۔کیا۔۔میں یہ مان لو کے آپ مجھے اگنور کر رہی ہیں؟”
مائد نے سرگوشی میں پوچھا۔
دانیہ نے ہلکی سی مسکراہٹ دباتے ہوئے پلکیں جھپکائیں،
“ہمم… ہاں، میں آپ کو اگنور کر رہی ہوں۔آپ یہی سمجھیں “
مائد نے شرارتی انداز میں آنکھیں تنگ کیں،”سوچ لو، سزا ملے گی۔”

دانیہ نے ہنستی آنکھوں سے اسے دیکھا،
“سوچ لیا… آپ مجھے سزا دے ہی نہیں سکتے۔”
“اچھا جی؟ اتنا یقین کیسے؟”
مائد نے سوالیہ نظروں سے جھک کر اسے دیکھا۔دانیہ نے معصومیت سے پلکیں جھپکائیں،
“بس یقین ہے کہ آپ مجھے کبھی سزا نہیں دے سکتے۔”
“یقین کی کوئی وجہ بھی تو ہوگی، بتانا پڑے گا۔”مائد نے ضدی انداز میں اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
دانیہ شرما کر نظریں چرائ گئی ،
“پھر کبھی بتاؤں گی۔ ابھی بھائی آنے والے ہیں، پلیز جانے دیں مجھے۔”

مائد نے سر نفی میں ہلایا،
“نہیں خانم، جواب دیے بغیر آپ کو جانے نہیں دوں گا۔”

“کیوں۔۔۔بدمعاش ہے آپ کیا..؟
“میں بھائی کو بتاؤں گی۔”دانیہ نے مصنوئی غصے سے کہا،
مائد کی گہری، رعب دار مگر نرم آواز اب اور قریب ہونے لگی تھی ۔
“ہم دونوں کے بیچ میں تمہارے بھائی صاحب کا کوئی کام نہیں ہے۔۔۔گہری نظروں سے اسے خود میں کہیں قید کرتے ہوئے اس کے قریب ہوا۔۔۔۔مجھے بس یہ جاننا ہے کہ اتنا یقین کیوں۔؟”

دانیہ نے ایک پل کے لیے نظریں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔نظروں میں محبت کا جہاں آباد تھا جس میں صرف دانیہ کو پس منظر میں صرف اپنا چہرہ نظر آ رہا تھا۔۔۔
“کیونکہ آپ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں، اس لیے آپ مجھے کبھی سزا نہیں دے سکتے۔”مدھم لہجے میں بولی،
مائد کی آنکھوں میں محبت کی شدت اتر آئی تھی۔

“تمہارے اس یقین پر میں قربان…”وہ آہستگی سے جھکتے کان میں سرگوشی کی۔۔

دانیہ کی سانسیں اٹکنے لگیں، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی تھی۔
وہ گھبرا کر مائد کے سینے پر ہلکا سا دباؤ دے کر خود کو پیچھے کرتی،دروازہ کھول کر بھاگنے لگی۔
مگر دروازے باہر نکلتے ہی اچانک سامنے سے زیغم کو آتے دیکھ کر اس کی ہڑبڑا ہٹ اور شرم ہوا ہو گئیں۔

زیغم، اپنی بہن کی شرمائی صورت دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا تھا۔
چھوٹا سا بچہ نہیں تھا زیغم، جو ان معصوم نظروں کا مطلب نہ سمجھ پاتا۔
دانیہ نظریں جھکائے، بھاگتی ہوئی اپنے بھائی کے گلے لگ گئی۔
سرخ ہوتی رنگت، کپکپاتی پلکیں، اور دل سے نکلتی خوشی، سب کچھ چھلک رہا تھا۔

“بھائی کیسے ہیں آپ، ؟”
دانیہ نے سرگوشی میں پوچھا۔
زیغم نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا،
“پہلے تو ٹھیک نہیں تھا”… مگر تمہیں خوش دیکھ کر اب بالکل ٹھیک ہوں۔ تمہاری یہ ہنسی سلامت رہے، کبھی کوئی دکھ نہ آئے۔”
مائد دروازے پر کھڑا، ان دونوں کو محبت سے دیکھ رہا تھا۔
اس کی بلند قامت، چوڑے شانے، اور آنکھوں میں چھپی نرمی اسے اور دلکش بنا رہی تھی۔
زیغم نے ہنستے ہوئے مائد کو دیکھا،
“بہنوئی صاحب، بڑے خوش گوار موڈ میں لگ رہے ہیں؟”زیغم نے اسے شرارتی نظروں سے کہا۔۔

مائد نے لبوں پر زبردستی کی مسکراہٹ بکھیری تھی۔۔
” تمہاری بہن کے ساتھ کا اثر ہے ۔”مائد کی بات پر۔دانیہ کی پلکوں پر شرم کی نمی تیرنے لگی تھی۔۔۔

آپ لوگ بیٹھیں میں کھانا لگواتی ہوں،وہ جلدی سے کچن کی جانب بڑھ گئی تھی۔

“جب ۔۔مسکرانے کو دل نہیں کر رہا، تو اتنی زبردستی کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔”
زیغم نے آگے بڑھ کر اس کے قریب ہوتے ہوئے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
“میرا تو تمہاری شکل دیکھنے کو بھی دل نہیں چاہ رہا، ہنسنا تو بہت دور کی بات ہے،” مائد نے سخت لہجے میں کہا اور اسے گھور کر دیکھا۔

“منہ کھول کر وجہ بھی بتا دو کہ آخر اتنے غصے کی وجہ کیا ہے؟” زیغم نے نرمی سے پوچھا۔

“ماشاءاللّٰہ !دنیا کے ٹاپ کلاس وکیل بن گئے ہو، اور وجہ میں تمہیں بتاؤں کہ میرا دماغ کیوں خراب ہے؟” مائد کے لہجے اور نظروں میں ایک ساتھ غصہ اور شکایت تھی۔
“وکیل ہوں، نجومی نہیں، جو تمہارے کہے بغیر دل کی بات سمجھ جاؤں،” زیغم نے حقیقت سے نظریں چراتے جواب دیا۔

“اتنے معصوم تم نہیں کہ تمہیں اندازہ نہ ہو کہ مجھےکیا تکلیف ہے۔۔”چلو پھر بھی تمہاری سہولت کے لیے صاف صاف لفظوں میں بتا دیتا ہوں، فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے؟ ایک بار یہ نہیں سوچا کہ میں یہاں پریشان ہو جاؤں گا!”

“پریشان تھا، اس لیے فون کچھ دیر کے لیے بند کر دیا۔ اسی دوران تمہارا فون آیا تھا،تمہیں پریشانی ہوئی اس کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔” زیغم نے ہلکے لہجے میں کہا۔
“اپنی معذرت کا اچار ڈال مجھے نہیں چاہیے۔۔معذرت کہہ دینے سے اگلے بندے کا وقت جو سولی پر لٹکتے ہوئے گزرا ہے اس کا خمیازہ پورا نہیں ہوتا۔۔مائد نے تیکھے لہجے میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔۔
“پریشان ہونے کی وجہ؟” مائد اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔جبکہ حقیقت سے تو وہ خود اچھی طرح سے آگاہ تھا۔۔

“کچھ نہیں،” زیغم نے نظریں چرا لیں۔

“بتانا نہیں چاہتے، وہ الگ بات ہے۔ اور تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں جان چکا ہوں، وجہ کیا ہے،” مائد نے سخت لہجے میں کہا۔

“جب جان گئے ہو، تو پھر یہ بحث کس بات کی؟” زیغم نے بات ختم کرنے کے انداز میں کہتے ہوئے قدم لاؤنج میں رکھے ہوئے صوفے کی جانب بڑھا دیے۔
مائد بھی دوسرے صوفے پر آکر بیٹھ گیا تھا۔دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
“زیغم” یہ کوئی طریقہ نہیں ہے! ہر بار تم بات کو اپنے انداز سے ختم کر دیتے ہو۔ جب دل چاہتا ہے، سچ بتاتے ہو، اور جب نہیں چاہتا، تو سالوں تک خاموشی اختیار کر لیتے ہو!” مائد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ آواز دبی ہوئی تھی، مگر آنکھوں میں غصے کی شدت صاف جھلک رہی تھی۔۔۔اس کا شدید غصے والے رد عمل پر بھی زیغم خاموشی سے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔۔۔جس سے مائد خان کو شدید غصہ آرہا تھا۔۔

“میرے خیال سے… ایسی دوستی پر لعنت ڈالنی چاہیے!” وہ اپنے الفاظ پر زور دیتا، درد زدہ نظروں سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
مائد, کی نظروں میں شکوہ، دکھ، اور ٹوٹا ہوا اعتبار صاف دیکھائی دے رہا تھا۔آخری نظر مائد پر ڈالتے وہ اپنی جگہ سے جھٹکے سے اٹھتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان دونوں کی آپسی بحث کی آواز اور بحث کے مدے کی تپش، دانیہ کے کانوں تک پہنچے وہ اسے دکھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔

باہر دھوپ کی تپش کافی زیادہ ہو چکی تھی۔دوپہر ڈھلنے لگی تھی سورج آسمان کے بیچ میں پورے قہر سے چمک رہا تھا۔۔ مگر پھر بھی وہ چلتا ہوا باہر باغیچے کی جانب چلا گیا، جہاں آم کے درخت کے نیچے رکھے ہوئے دو لکڑی کی کرسیاں پڑی تھیں، جس پر وہ جا کر بیٹھ گیا۔ یہاں پر زیادہ تر ملازم آ کر بیٹھا کرتے تھے۔۔اس وقت وہاں پر کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔

زیغم بھی گہری سانس لیتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے باہر چلا آیا۔ مائد کرسی پر بیٹھ چکا تھا اور زیغم نے جا کر دوسری کرسی ب سنبھالتے ہوئے اس کے بالکل سامنے جگہ لے لی۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
مائد کی نظروں میں شکوہ تھا، دکھ تھا اور ٹوٹا بھروسہ تھا۔
زیغم کے تاثرات سپاٹ تھے، جیسے وہ اپنے اندر کی تڑپ کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔ صرف ہوا کی سرسراہٹ اور دور کہیں کسی پرندے کی مدھم سی آواز سنائی دیتی رہی۔

“اتنی خاموشی سے تو بندہ قبرستان میں بھی نہ بیٹھے،” مائد نے بوجھل لہجے میں نظریں سامنے گھاس پر جما رکھی تھیں ۔
مگر دوسری جانب پھر بھی خاموشی تھی۔

“جب کچھ کہنا ہی نہیں تھا تو پھر اے سی والے کمرے سے اٹھ کر اس کڑی دھوپ میں باہر آ کر بیٹھنے کی زحمت کیوں کی مائد نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔
زیغم نے پلکیں جھپکائیں، جیسے کوئی بھاری بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک چکا تھا۔

“مائد، کبھی کبھی انسان کے پاس بولنے کو الفاظ نہیں ہوتے۔۔۔ اگر جان سکتے ہو تو میری خاموشی سے سب جان لو۔”
زیغم کی آواز بھاری تھی، ہر لفظ درد میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔
“نہیں ہر بار میں نے ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا کہ میں سارے سوالوں کے جواب تمہاری خاموشی میں ڈھونڈوں۔ مجھے اس بار جواب تم خود دو گے کہ تم نے ان لوگوں کو معاف کرنے کا فیصلہ اکیلے کیسے اور کیوں کیا۔؟

“جانتا ہوں کہ میرے فیصلے سے تم خوش نہیں ہو۔۔۔ کوئی بھی خوش نہیں۔”
وہ وہ نظر جھکائے ہوئے تھا خود بھی اپنے فیصلے کی تپش میں جھلس رہا تھا۔۔۔”اگر سچ کہوں تو میں خود بھی خوش نہیں ہوں۔”
زیغم نے نظریں اٹھا کر مائد کو دیکھا،
“مگر ایک ہستی کے دل کو سکون پہنچانے کے لیے۔۔۔ میں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔”
الفاظ اس کے حلق میں اٹک رہے تھے، مگر پھر بھی کسی ضدی بچے کی طرح ضبط کرتے ہوئے خود کو سنبھالے کھڑا تھا۔مائد اس کی بات پوری توجہ سے سن رہا تھا۔

“جانتا ہوں۔۔۔میرے اس فیصلے نے ،ہزاروں لوگوں کے دل توڑ دیے ہیں۔ہزاروں ٹوٹے ہوئے دلوں کا بوجھ میرے دل پر درد کی گہری تہ بن کر جمع ہوا ہے۔” لہجے کی ٹھنڈک میں ایک عجیب سا کرب چھپا ہوا تھا۔

“کچھ دیر کے لیے خود کو میری جگہ پر رکھ کر سوچو۔۔۔میں اس وقت کتنی تکلیف میں ہوں۔”
اس کے لہجے میں درد تھا، اور ٹوٹے ہوئے دل کی کرچیوں کی آواز بہت صاف سنائی دے رہی تھی۔
مائد نے نظریں سیدھی زیغم کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے حقیقت سے بھرا سوال پوچھا۔
“جب تم ہزاروں لوگوں کے ٹوٹے ہوئے دلوں کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہے، جن کے ساتھ تمہارا صرف ہمدردی کا رشتہ ہے، خون کا نہیں، تو ایک بار سوچ کر دیکھو، اُس کے بارے میں جس کے ساتھ تمہارا خون کا رشتہ ہے۔”
زیغم کے چہرے پر لمحہ بھر کو کوئی جنبش پیدا نہ ہوئی، مگر آنکھوں کی نمی نے سب کچھ بیان کر دیا۔
“تصور میں اسے سوچ کر تو دیکھو،جو اس درد میں تمہارے برابر کی حصے دار ہے، جس نے تمہارے ساتھ اپنے قیمتی رشتے کھوئے ہیں، جس پر ظلم کی انتہا ہوئی ہے۔”مائد نے سختی سے الفاظ چباتے ہوئے کہا۔
“جب اسے پتہ چلے گا کہ تم نے خود سے اکیلے فیصلہ لے لیا اور دشمنوں کو آسانی سے معاف کر دیا ہے، تو کیا اُس کا سامنا کر پاؤ گے؟”
زیغم نے بے اختیار نظریں جھکا لیں۔اس کی سچائی سے بھری ہوئی ہر بات دل پر نشتر بن کر لگ رہی تھی۔
مائد اسے حقیقت کا سامنا ضرور کروا رہا تھا مگر نظریں زیغم کی آنکھوں میں چھپی تڑپ کو صاف دیکھ رہا تھا۔۔۔
زیغم نے جواب دینے کے لیے لب کھولے مگر خاموشی کے سوا کچھ نہ نکل سکا۔کبھی کبھی دل میں کہنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے مگر الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔زیغم بھی اس وقت اسی درد سے گزر رہا تھا۔
“بولو زیغم سلطان! جواب دو تمہیں جواب دینا پڑے گا، کیونکہ اب بات صرف تمہاری بہن کے دکھوں تک محدود نہیں رہی۔ بات میری بیوی کے ساتھ ہوئے ظلم کی بھی ہے۔ تمہارا ظرف بہت بڑا ہے تم ان کو اس طرح آسانی سے معاف کر سکتے ہو۔۔مگر میں ان لوگوں کو معاف نہیں کر سکتا۔”

زیغم نے لب بھینچ لیے، مگر مائد رکا نہیں، آنکھوں میں طوفان لیے بولتا چلا گیا ۔
“تم نے ایک بھائی بن کر دانیہ کے درد کو دیکھا اور تڑپ گئے، سوچو میں نے ایک شوہر بن کر جب نزدیک سے اس کے درد کو سمجھا، دیکھا، تو مجھ پر کیا بیتی ہوگی۔۔
“اس کے درد کو دیکھ کر اس کی سسکیوں کو سن کر مجھ میں اتنی برداشت نہیں کہ میں ان ظالموں کو معاف کر سکوں۔ میں ان کے ٹکڑے کر دوں گا جنہوں نے ایک بے بس لڑکی پر ظلم کی انتہا کر دی۔ خاص کر میں اس شہرام کو کبھی معاف نہیں کر سکتا۔”
مائد کے لہجے میں سے شدید لہریں ابلتے ہوئے لاوے کا منظر پیش کر رہی تھیں۔آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا ۔۔

زیغم نے سر اٹھا کر آنکھوں میں چھپی اذیت کے ساتھ اسے دیکھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ میرے لیے آسان ہے؟ میں نے ان لوگوں کو معاف کیا؟ کیا اس میں تمہیں میرے اس فیصلے میں ، میری خوشی نظر آ رہی ہے؟”
زیغم کے صبر کا بند ٹوٹ پڑا تھا۔وہ بھی تو اس فیصلے کے درد سے ہر پل تڑپ رہا تھا سب اپنی جگہ ٹھیک تھے تو غلط تو وہ بھی نہیں تھا۔کبھی کبھی کسی ایک کے دل کے سکون کی وجہ بننے کے لیے ہم بہت سے لوگوں کی بے چینی اور درد کی وجہ بھی بن جاتے ہیں۔۔۔

“اگر تم خود بھی پر سکون نہیں۔۔۔تو پھر ان کو کیوں معاف کیا؟”مائد نے سختی سے پوچھا۔مائد کی نظروں میں تجسس بھرا ہوا تھا وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر زیغم نے یہ فیصلہ کیوں لیا وہ بھی اچانک سوچے سمجھے بغیر۔۔
“مجبور ہوں، کیونکہ جس لڑکے نے اپنی چھوٹی سی عمر سے ہی مجھے اپنا بھائی سمجھا، بھائی مانا، میں اس کا رول ماڈل ہوں۔ ہمیشہ اس نے چھوٹا بھائی بن کر میرے ہر فیصلے کو مانا۔میں اس کو درد میں نہیں دیکھ سکا۔۔۔
“کس کی بات کر رہے ہو؟
“زرام کی بات کر رہا ہوں ۔اس نے ہمیشہ ابا سائیں کو باپ کا درجہ دیا اور اماں سائیں کو ہمیشہ اپنی ماں سمجھا ۔۔
دانیہ کے ساتھ اس نے کبھی ایسا رویہ نہیں رکھا جس سے پتہ چلے کہ وہ اس کا سگا بھائی نہیں بلکہ چچا کا بیٹا ہے۔”
زیغم کی آواز میں نمی گھل چکی تھی،

“اور اگر آج دانیہ صحیح سلامت ہے تو اس کے پیچھے بھی ذرام کا ہاتھ ہے۔اس رات اگر وہ مجھے فون کر کے آگاہ نہیں کرتا کہ حویلی میں کچھ غلط ہو رہا ہے تو شاید مجھے کبھی پتہ نہ چلتا۔۔۔یا پھر جب تک پتہ چلتا میں اپنا آخری قیمتی رشتہ بھی ہو چکا ہوتا۔۔اگر وہ چاہتا تو اپنے گھر والوں جیسا بے حس بن سکتا تھا مگر اس نے اچھائی اور سچائی کا ساتھ دیا۔۔میں ہمیشہ اس کا قرضدار ہوں کہ اس نے میرے قیمتی رشتے کو بچا لیا۔۔۔اس کی اس نیکی نے اس کے اپنے گھر والوں کو اس کے خلاف کھڑا کر دیا۔۔مگر اس لڑکے کی محبت میرے لیے ہمیشہ برقرار رہی۔۔۔یہ سب کچھ میں نے ذرام کی خوشی کے لیے کیا ہے۔”
وہ آنکھیں موندے ہوئے انگلیوں میں انگلیاں پھنسائے بیٹھا دل کے درد سے پردہ اٹھاتا جا رہا تھا۔۔
“وہ لڑکا قطرہ قطرہ کر کے اندر ہی اندر مر رہا تھا۔ اس کا وہ رشتہ، جسے اس نے بڑی محبت اور شدت سے بنایا تھا، وہ بھی سنبھال نہیں پا رہا۔ کشمکش میں پھنس چکا تھا۔ ایک طرف اس کی ماں، اس کا باپ، اس کی بہن، اس کا بھائی ہے اور ایک طرف میں ہوں، دانیہ ہے، اس کی بیوی ہے۔”
زیغم نے ٹھنڈی سانس چھوڑتے نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں،
“مائد ایک فطری عمل ہوتا ہے ہر انسان کے اندر کہ خون کے رشتے چاہے جتنے مرضی برے ہوں، مگر ان کی تکلیف سے تکلیف ہوتی ہے۔ یہ فطرت ہر انسان میں مجبور موجود ہوتی ہے۔”
“ذرام نے لبوں سے کچھ نہیں کہا، مگر وہ ٹوٹ رہا تھا۔ بس شاید وہ ایک جذباتی لمحہ تھا جس وقت میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ میں اس کے اپنوں کو ایک موقع دوں گا اور معاف کر دوں گا، تاکہ وہ اپنی زندگی میں سنبھل کر آگے چل سکے۔”
زیغم کی آواز میں درد کی ٹھنڈی لہر اتر آئی۔۔
“میرے لیے بھی آسان نہیں تھا اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو معاف کرنا۔مگر کبھی کسی اپنے کی خوشی اور سکون کے لیے ہمیں اپنے دل کے زخموں کو خود اپنے ہاتھوں سے سینہ پڑتا ہے ۔تمہیں تو اندازہ نہیں کہ اپنے ہاتھوں سے اپنے زخموں کو سینہ اتنا درد زدہ ہوتا ہے۔۔

“میں تو خود اتنی اذیت میں ہوں کہ جس دن سے یہ فیصلہ لیا ہے، میں اپنے آپ سے چہرہ چھپاتا پھر رہا ہوں۔ کبھی دل کہتا ہے کہ میں نے جو کیا، وہ ٹھیک کیا۔ ان کو سزا کے لیے اللہ کے حوالے کر دیا۔ اللہ دے گا ان کو سزا، اور ضرور ملے گی۔ دنیا مکافات عمل ہے، تو کیسے توقیر اور اس کی فیملی بچ جائے گی؟”

زیغم کی آواز بھرا گئی،اس نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپتے ہوئے چہرہ چھپا لیا۔
“مگر دوسری جانب دل رات کو اٹھ کر روتا ہے، تڑپتا ہے یہ سوچ کر کہ میں کیسا بیٹا ہوں؟ کیسا بے غیرت بیٹا ہوں جو اپنے ماں باپ کا بدلہ، خون کا بدلہ نہیں دے سکا؟ میں کیسا بے غیرت بھائی ہوں جو اپنی بہن کے ساتھ ہوئے ظلموں کا حساب نہیں لے سکا؟””اگر یہ غلط ہے، تو ہاں، میں نے غلط کیا ہے۔ اور میں سزا کا حقدار ہوں۔”
مائد، جو اب تک اسے قصوروار سمجھ رہا تھا، زیغم کی آنکھوں سے بہتے آنسو، اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر خود بھی کرب سے گزرنے لگا تھا۔اس کے درد کو سمجھتے ہوئے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا مگر اس سے پہلے کہ وہ اسے دلاسے کے لیے کچھ کہتا دانیہ کی آواز پر دونوں نے چونک کر دیکھا۔۔

آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں، بھائی۔۔۔؟
دانیہ کی آواز بہت قریب سے آئی تھی۔
نہ جانے وہ کب آئی، کب درختوں کی اوٹ سے قدم بہ قدم چلتی،
ان دونوں کے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔
اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے،
جو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ
وہ زیغم کے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ، ایک ایک فیصلہ،
خاموشی سے سن چکی تھی۔
ما‌ئد اور، زیغم، دونوں کا دل دانیہ کی آواز سن کر مٹھی میں آگیا تھا۔۔۔

دانیہ کی موجودگی، اس کے آنسو،
سب کچھ چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ
اسے ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا تھا۔اس کی نظروں میں شکوے ہی شکوے شکایتیں ہی شکایتیں نظر آرہی تھیں۔۔

دانیہ بیٹا، بیٹھو، ایک بار میری بات سنو۔۔۔
،زیغم، اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھا،
مگر دانیہ نے آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں کے ساتھ،ہاتھ کے اشارے سے اسے رکنے کو کہا۔
وہ نظریں چرا کر شدید غصے سے
اپنے آنسو صاف کر رہی تھی۔
“مجھے صرف میرے سوال کا جواب دے دیجیے، بھائی!
آپ نے ایسا کیوں کیا؟
کیا آپ کے نزدیک اماں سائیں اور ابا سائیں کا خون اتنا بے مول تھا
کہ آپ نے ان کے قاتلوں کو معاف کر دیا؟
کیا آپ کے نزدیک میری عزت کی کوئی قیمت نہیں؟
کیا میری وہ تڑپتی، روتی، چیختی راتیں،
آپ کے لیے کچھ بھی نہیں تھیں؟
کیوں بھائی، کیوں؟
آپ نے ان کو معاف کیسے کر دیا؟
آپ تو سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے ناں!
اگر آپ ایک منٹ لیٹ ہو جاتے تو وہ مجھے جلا دیتے!
آپ نے سب دیکھا تھا۔۔۔ پھر بھی معاف کر دیا۔۔۔؟”
وہ حیرت، درد اور تجسس بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی،
ہر لفظ کے ساتھ، اس کے لہجے میں چیخ تھی،آنسوؤں میں وہ تمام راتیں بہہ رہی تھیں جو اس نے اذیت میں گزاریں تھیں۔۔
،مائد، خاموش کھڑا تھا،
جس بات سے وہ ڈرتا تھا، وہی سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔
یہ لمحہ، صرف بھائی اور بہن کا تھا،
اور وہ ان کے بیچ کسی دیوار کی طرح نہیں آ سکتا تھا۔
“دانیہ۔۔۔ میں مجبور تھا۔۔۔
میری بات سنو،
میں سب سمجھاتا ہوں۔۔۔”

“بھائی۔۔۔ آپ مجبور تھے؟
کیا یہ کہنا کافی ہے؟
کہ آپ مجبور تھے؟
کیا اس لفظ کے پردے میں
سب کچھ معاف ہو جائے گا؟
ان ظالموں کا ظلم؟
میرے ساتھ جو ہوا سب کچھ؟
میرے ماں باپ کا خون؟
کیا وہ سب اس ایک لفظ میں چھپ جائے گا؟”
،زیغم، گڑبڑا گیا تھا۔۔۔اس وقت وہ وکیل نہیں بس بھائی تھا۔ اس کے سامنے سوال جواب کرنے والی اس کی بہن تھی۔ایسی بہن جس کا ایک ایک لفظ سچ تھا۔وہ اپنے تمام سوالوں کے جواب کی طلبگار تھی۔۔۔
اور وہ۔۔۔جو آج تک کسی مقدمے میں ہارا نہیں تھا۔۔۔اس لمحے ہار مان گیا تھا۔اس کے پاس دانیہ کے سوالوں کے جواب نہیں تھے۔۔کیا جواب دیتا کیسے جھٹلاتا سچ کو جو وہ اسے کسی آئینے کی طرح سامنے رکھ کر دکھا رہی تھی۔۔

“چپ کیوں ہیں بھائی۔۔۔ جواب دیں،
کیسے آپ نے ان حیوانوں کو معاف کر دیا؟”
دانیہ تڑپ کر چیختے ہوئے،وہیں آم کے درخت کے نیچے گھاس پر بیٹھ گئی،
تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔اس کی سسکیاں وہاں پر کھڑے ہوئے دونوں مضبوط دل والے مردوں کا سینہ چیر رہی تھیں۔دونوں کی جان تھی۔ایک کی بہن اور دوسرے کی محبت اس کی بیوی تھی۔دونوں کے لیے ہی اس کے آنسو برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔

اسے اس طرح تڑپتے ہوئے دیکھ کر،
زیغم… زیغم آنکھوں میں آنسو لیے،اپنی بہن کے قریب نیچے اس کے ساتھ گھاس پر ہی بیٹھ گیا تھا۔۔درد سے لبریز لمحہ تھا۔
اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامے،وہ اس کے پاس،کسی مجرم کی طرح بیٹھا تھا۔جب کہمائد خاموشی سےیہ درد زدہ لمحہ دیکھ رہا تھا۔وہ،
اس درد سے دانیہ کو بچانا چاہتا تھا،مگر انسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا۔جب جب جو جو ہونا ہوتا ہے،اللہ کی طرف سے،وہ ہو کر رہتا ہے۔اور یہ راز…
اس طرح سے دانیہ کے سامنے کھلنا تھا،
وہ کھل کر رہا تھا۔اس کے لاکھ چھپانے پر بھی یہ راز چھپ نہ سکا۔۔اس وقت،دانیہ کو سنبھالنا۔مشکل ہی نہیں،ناممکن لگ رہا تھا۔
دوپہر کی گرمی کی حدت بڑھنے لگی تھی۔سورج کی تپش بڑھنے لگی تھی۔سورج آسمان پر اپنا قہر دکھاتے ہوئے جلا دینے کا ارادہ رکھتا نظر آرہا تھا۔ فضاء میں گرمی کی شدت کو توڑنے والی درختوں کی ہوا چل رہی تھی۔ نرم گھاس پر دانیہ گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی۔
“چپ کیوں ہیں بھائی؟” اس کی آواز کانپ رہی تھی، “جواب دیں… کیسے آپ نے اُن سب کو معاف کر دیا؟” اس کی سسکیوں کی تیزیاں ہواؤں سےٹکرا کر فضا میں بکھر رہی تھیں۔
“کیسے بھول گئے آپ… اماں سائیں کی چیخیں، ابا سائیں کی گھٹتی ہوئی سانسیں۔ کیسے ۔۔کیسے معاف کردیا ۔؟”

زیغم کے حلق میں جیسے کوئی گرہ پڑ گئی تھی۔ مائد خان کچھ فاصلے پر کھڑا، اس لمحے کی بےبسی کو آنکھوں میں قید کیے، خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

زیغم دانیہ کو اس درد سے نکالنا چاہتا تھا، مگر تقدیر کے سامنے سب بےبس ہوتے ہیں۔اسے سسکتا ہوا دیکھ زیغم نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھنا چاہا تھا۔۔

“دور ہو جائیں، زیغم بھائی!” دانیہ نے یکدم ہاتھ چھڑا کر پیچھے کو ہٹتے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھیں سلگتے کوئلوں کی طرح تھیں۔
“اس وقت مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی… کوئی دلیل، کوئی صفائی، کچھ بھی نہیں!”زیغم جیسے لمحے بھر کو پتھر کا ہو گیا تھا ۔۔
“بتائیں، کیوں آئے تھے؟ جب کچھ کرنا ہی نہیں تھا؟ معاف ہی کرنا تھا اُن ظالموں کو… تو کیا ضرورت تھی واپس آنے کی؟ کیا ضرورت تھی مجھے بچانے کی؟ مرنے دیتے مجھے بھی…”
اس کی آواز اب تھرتھرا رہی تھی۔

“میں بھی اماں سائیں اور ابا سائیں کے پاس چلی جاتی… آپ کی جان چھوٹ جاتی… آپ وہیں امریکہ میں… آرام سے رہتے!”
زیغم نے نظریں جھکائیں۔ وہ جانتا تھا دانیہ سچ کہہ رہی ہے۔ مگر الفاظ تھے کہ اس کا سینا چیر رہے تھے۔

“بھائی کو صفائی کا موقع نہیں دو گی؟” زیغم کی آواز مدھم بوجھل تھی۔

“صفائی کا موقع؟” دانیہ کی آواز میں آگ بھر گئی تھی۔
“ایک باپ، جس کے بازوؤں میں اتنی طاقت تھی کہ ایک محفوظ بچپن ہم نے ان کی پناہ میں گزارا۔۔دنیا کی ہر خوشی ہمیں دی۔۔ ان کو بے دردی سے غلط دوائیاں دے کر مار دیا گیا۔”

” ایک ماں، جن کی زبان ہمیشہ ہمارے لیے دعا گو رہی زندگی کے آخری لمحات میں بھی انہوں نے اپنی اولاد کے لیے دعائیں مانگیں۔جو معصوم تھی،جس نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تھا،صرف اس کی اتنی غلطی تھی کہ اس کے شوہر کو غلط دوائیاں دے کر مار دیا گیا تھا اور وہ صرف یہ حقیقت جان چکی تھی اور اپنے بیٹے کو بتانا چاہتی تھی، اسے گاڑی کے نیچے روند کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ اور آپ… آپ اُن سب کو معاف کر کے مجھ سے صفائی کا موقع مانگتے ہیں؟”
فضاء میں خاموشی کی ایک لہر چھا گئی۔

“بس ایک لمحے کے لیے اپنے ضمیر سے سوال کیجیے، شاید آپ کو سارے جواب مل جائیں۔”
یہ وہ دانیہ نہ تھی جو خاموش رہتی، نظریں جھکاتی، آج وہ اپنے درد کی دھاڑ سے بول رہی تھی۔ یہ دانیہ، مائد کے لفظوں سے نکھری ہوئی ہمت کی پرچھائی تھی۔

زیغم کے سامنے آج ایک بہن نہیں، ایک زخمی بیٹی کھڑی تھی، جس کے سوالوں میں صرف غصہ نہیں، سالوں کا درد تھا… وہ ایک بیٹی بن کر اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو معاف کر دینے والے سے جواب مانگ رہی تھی۔۔

دوپہر تقریباً دو بجے کا وقت ہونے کو تھا۔ سورج سوا نیزے پر آ چکا تھا اور گرمی کی شدت بڑھنے لگی تھی۔ فرنچ بیچ کی تپتی فضا جیسے سانس روکنے لگی ہو۔ مائد جانتا تھا، اگر ان کے بیج کی باتیں اگر کسی ملازم تک پہنچی، تو برسوں کے راز لمحوں میں بکھر جائیں گے۔
اسی لیے وہ زبردستی دانیہ اور زیغم کو بازوؤں سے تھام کر کمرے تک لے آیا تھا۔ اندر کی فضا اے سی کی وجہ سے ٹھنڈی ضرور تھی، مگر وہاں بیٹھے تین وجودوں کے اندر جو طوفان تھا، وہ کسی اے سی سے تھمنے والا نہیں تھا۔

دانیہ اور زیغم صوفے پر بیٹھے تھے۔ مائد بھی خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا۔
کمرے میں سناٹا تھا، صرف اے سی کی ہلکی سی گونج سنائی دے رہی تھی۔

“بولیں بھائی…”
دانیہ کی آواز خاموش فضا کو چیرتی ہوئی گونجی،
“جواب دیے بغیر آپ یہاں سے نہیں جا سکتے۔
مجھے میرے ہر سوال کا جواب چاہیے…
کیوں کیا آپ نے ایسا؟”
اس بار اس کی آنکھوں میں نمی نہیں،
غصے کی تپش تھی۔۔

“دانیہ…”
اس کی آواز میں تھکن تھی، جو دل کے بوجھ سے جنمی تھی،
“میں جانتا ہوں میرے اس فیصلے نے تمہیں بہت تکلیف دی ہے… مگر میں بھی تکلیف میں ہوں۔”

وہ خاموش لمحہ بھر کو رکا،
پھر نظروں کو دانیہ پر جما کر سچ کہہ گیا۔

“یہ فیصلہ… میں نے صرف زرام کے لیے لیا ہے۔
تم اچھی طرح جانتی ہو،
وہی تھا جس نے وقت پر اطلاع دے کر مجھے پاکستان بلوایا۔
تمہارے ساتھ ہونے والی اس ہولناک حادثے کو روکنے والا، وہی تھا۔
اگر وہ نہ ہوتا تو شاید…”
الفاظ اس کے گلے میں اٹک گئے۔

“اسی لیے… میں نے اس کے درد کو سمجھا،
اور اسی لیے… میں نے اس کے اپنوں کو معاف کر دیا۔
وہ بھی بہت تکلیف میں تھا، دانیہ۔”

زیغم کی نظریں جھکی ہوئی تھیں،
وہ اپنے الفاظ میں ڈوب چکا تھا۔نہ جانے یہ چند الفاظ کہنے کے لیے اس نے کتنی ہمت جمع کی تھی۔ عدالت میں کھڑے ہو کر ہزاروں لوگوں کے سامنے فر فر بولنے والا اس وقت بڑی مشکل سے لفظوں کا چناؤ کر رہا تھا۔۔

مگر دانیہ..
دانیہ نے تپش زدہ نظروں سے اپنے بھائی کی جانب دیکھا،زیغم کے جواب سے وہ بالکل مطمئن نہیں تھی۔
اس کی خاموش نگاہیں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں۔
“یہی تھا اس کا انصاف؟
ہمارے ماں باپ ہمارے بھائی کا خون،اس کے سب اپنوں کا درد، صرف ایک احسان کے نیچے دفن کر دیے۔؟”اس کی آنکھوں میں ابلتے ہوئے سوال اسے صاف دکھائی دے رہے تھے۔۔

“دانیہ… اس طرح مت دیکھو، خدارا… مجھے خود سے نفرت ہو رہی ہے۔”
زیغم نے بے بسی سے کہا، جب اس نے اپنی بہن کی شعلہ بار نظروں کو خود پر محسوس کیا تو اسے لگا جیسے اس کے قدموں تلے سے زمین سرک رہی ہے وہ نیچے کسی گڑے میں گرتا جا رہا ہے۔۔

“بھائی، آپ تو میرے دیکھنے سے ہی گھبرا گئے،تھوڑی دیر کے لیے سوچ کر تو دیکھیں جب بروزِ محشر اماں سائیں اور ابا سائیں کے ساتھ سامنا ہوگا۔اس وقت ان کو کیا جواب دیں گے؟
” یہ کہیں گے کہ آپ ان کے خون کا بدلہ نہیں لے سکے؟
جبکہ آپ کے پاس طاقت بھی تھی، وسائل بھی، حق بھی…
اور سب سے بڑھ کر، ہمت بھی!”
دانیہ کا لہجہ اب کانپنے کے بجائے ٹھوس ہو چکا تھا،وہ اپنی باتوں پر، پر اعتماد انداز سے قائم کھڑی تھی۔

“کیا صرف ایک احسان کے نیچے دب گئے آپ؟
بھائی، اگر یہ احسان اتنا بھاری تھا
کہ آپ اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو معاف کرنے پر مجبور ہیں،
تو پھر ایک کام کریں
زرام بھائی سے جا کر کہیں، وہ مجھے مار دے!
کیونکہ میں…
میں اس کے گھر والوں کو معاف نہیں کر سکتی،
نہ آپ کو کرنے دوں گی۔
وہ قاتل ہیں میرے اماں سائیں، میرے ابا سائیں کے،
اور میرے بھائی کے۔
میں بدلہ لے کر رہوں گی!”

“مجھے ،ایسی زندگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے جس کی بدولت مجھے اپنوں کا خون معاف کرنا پڑے۔۔۔
یہ وہ دانیہ نہیں تھی جو کمزور تھی، جو اپنوں کے خون کو دیکھ کر رو کر خاموش ہوجاتی ہوئی۔
یہ وہ بیٹی، بہن، اور یتیم روح تھی جس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ اور اپنے بھائی کے خون کا بدلہ لے کر رہے گی۔۔زیغم سلطان دانیہ کے اس بدلے ہوئے روپ کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا تھا۔
“دانیہ، پلیز…
میں فیصلہ کر چکا ہوں…
اور یہ فیصلہ میں نے جرگے میں بیٹھ کر کیا ہے،
کیسے میں اپنے فیصلے سے ہٹ جاؤں؟
لوگ کیا سوچیں گے؟
کہ سردار خود اپنی زبان پر قائم نہیں رہ سکتا؟
تو پھر رعایا کا کیا بنے گا؟”
زیغم اپنی بہن کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے گڑگڑا رہا تھا۔
عجیب سی بے بسی اس کی آنکھوں سے صاف جھلک رہی تھی۔

“مجھے معاف کر دیجیے، بھائی…
اگر آپ کہیں تو میں ہنستے ہنستے آپ پر قربان ہو جاؤں گی،
مگر جو آپ چاہتے ہیں، وہ میں نہیں کر سکتی۔
جب آپ نے یہ فیصلہ اکیلے میں کیا تھا،
تب سوچنا چاہیے تھا…
کہ وہ صرف آپ کے ماں باپ ہی نہیں تھے جن کا خون ہوا تھا،
وہ میرے بھی ماں باپ تھے۔
بہرام بھائی میرے بھی بھائی تھے۔
میں ان کو معاف نہیں کر سکتی!”

“اور آپ کو اپنے ان لوگوں کی فکر ہے
جن کے لیے آپ صرف ایک سردار ہیں…
میری فکر نہیں؟
آپ میرے بھائی ہیں۔
کبھی سوچا ہے؟
میں نے کتنی راتیں تڑپتے ہوئے گزاری ہیں؟
کتنے زخم، کتنے طعنے،
کتنی بے عزتی،میں نے برداشت کی ہے۔جس توہین کو جس تکلیف کو میں نے برداشت کیا اس میں سے کچھ آپ پر ظاہر کی اور کچھ خاموشی سے اپنے اندر دفن کر لی۔کیونکہ بہن بھائی کے رشتے میں کچھ حدود ہوتی ہیں۔
کبھی میری تذلیل کو، میری تکلیف کو محسوس کریں…
چند لمحوں کے لیے ہی سہی…
آپ کی روح کانپ جائے گی!”

“مت جوڑیے میرے سامنے ہاتھ،
مجھے مجبور مت کریں،
ہمیشہ دانیہ ہی مجبور کیوں ہو؟
اور دانیہ کمزور ہو سکتی ہے مگر ایک بیٹی ایک بہن مجبور نہیں ہو سکتی۔؟
اس کے لہجے میں ایک ٹھہرا ہوا طوفان تھا۔۔
“صحیح فیصلہ کیا آپ نے…
جس کے ساتھ آپ نے میری شادی کی…
یہ… یہ احسان ہے آپ کا میرے اوپر؟”
دانیہ کا اشارہ مائد کی جانب تھا۔

“اگر آپ میرے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے،
تو اسے میرے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا…
چاہے دل سے ہو یا اپنی محبت ثابت کرنے کے لیے،
مجھے فرق نہیں پڑتا!
مجھے ہر صورت اپنے اپنوں کے خون کا بدلہ چاہیے!”

“یہ دیکھیے!”
اس نے اپنے بازو کی آستین اٹھائی،
جہاں سگریٹ سے جلائے ہوئے
بے دردی کے نشان موجود تھے۔

زیغم کی روح تڑپ گئی،
اس کی مٹھی نے سینہ جکڑ لیا،
سانس بند ہونے لگی…
ایک بھائی ہو کر وہ ایسے نشانات نہیں سہہ سکا۔
مائد نے بھی نظریں جھکا لیں،
حالانکہ وہ پہلے ہی یہ زخم دیکھ چکا تھا،
مگر برداشت آج بھی نہیں ہو پایا۔
“آنکھیں کھولیں،
دیکھیں…
اس طرح آنکھیں بند کر لینے سے
مصیبتیں ٹل نہیں جاتیں،
یہ ایک دن کی کہانی نہیں،
کئی سال… میں نے اذیت میں گزارے ہیں! جس تکلیف کو آپ کو دیکھنے میں اذیت محسوس ہو رہی ہے میں نے اس اذیت کو کئی سالوں برداشت کیا ہے۔”
“میں کیسے بھول جاؤں
اماں سائیں کا خون سے لتھڑا وجود؟
وہ مجھے کچھ کہنا چاہتی تھیں
مگر ان ظالموں نے مجھے ان سے بھی دور رکھا!”
“میں نہیں بھول سکتی اپنے ابا سائیں کی گھٹتی سانسیں،
نہ بہرام بھائی کی خاموش موت،
جسے انہوں نے پاگل بنا کر مار دیا…
میں نہیں بھول سکتی وہ الزام
جو میرے کردار پر انہوں نے لگایا،
پھر خود ہی مجھے سزا دی!”

“اور آپ…
آپ کا اور میرا رشتہ تب تک ختم ہے
جب تک آپ ان کو سزا نہ دیں!
ورنہ…
مجھے بھائی کی ضرورت نہیں۔
کیونکہ بھائی… محافظ ہوتا ہے!”

“میں نے تو یہ آس لگا لی تھی
کہ میرا بھائی… میرا بدلہ لے گا،
مگر آپ نے…
میرے ہر مان کو توڑ دیا ہے!”

“چلے جائیں یہاں سے!”
وہ چیختی ہوئی اٹھ کر باہر نکل گئی۔

زیغم کچھ نہ بول سکا،
بس وہیں ساکت بیٹھا اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔
دانیہ کی باتوں نے اسے اندر سے توڑ دیا۔

اور مائد خان…
اس کے لیے لمحہ عجیب تھا،
ایک معصوم سی لڑکی کا دل،
جو ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکا تھا،
اور ایک معافی جو کہ اچھی نیت سے دی گئی تھی .. نیت شاید اچھی تھی،
مگر وقت نے اسے ایک ایسا فیصلہ بنا دیا
جو ایک بہن اور بھائی کے رشتے میں دراڑ بن گیا۔
کمرے میں خاموش کی فضا بھرائی ہوئی تھی۔زیغم، نے مڑ کر مائد کی جانب دیکھا، لبوں پر ایک دُکھی مسکراہٹ تھی۔

“میں تمہارا شکر گزار ہوں، … تم نے میری بہن کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سکھا دیا۔دانیہ کو وہ بنا دیا، جو میں ہمیشہ سے چاہتا تھا۔مضبوط اپنی بات بہادری کے ساتھ سامنے رکھنے والی۔”
وہ کچھ لمحوں کو وہ خاموش ہو گیا۔ آنکھیں کہیں دور تک دیکھ رہی تھیں۔ وہ اپنی بہن کے لیے خوش تھا۔
“زیغم، وہ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔تمہاری نیت اچھی سہی، مگر فیصلہ غلط تھا۔
تم نے صرف زرام کی خوشی دیکھی،
ایک لمحہ اپنی بہن کی طرف دیکھنا تمہارا فرض تھا۔ایسے زخم اتنی آسانی سے نہیں بھرے جاتے۔اس کے تو جینے کا واحد سہارا تم ہو۔تم نے اسے اگنور کر کے اچھا نہیں کیا۔
مائد اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کے اس کے دوستانہ انداز سے اسے سمجھا رہا تھا۔
،زیغم، کی آنکھیں جھک گئیں، چہرے پر گہری خاموشی تھی۔

“جب فیصلہ کر رہے تھے، تب یاد رکھنا تھا… تم صرف زرام کے نہیں، دانیہ کے بھی بھائی ہو۔”
کمرے میں صرف مائد کی آواز گونج رہی تھی دوسری جانب مکمل خاموشی تھی۔۔

“دانیہ کا خیال رکھنا۔اور اس کا واحد سہارا میں نہیں تم بھی اس کا بہت مضبوط سہارا ہو۔مجھے خوشی ہے کہ میری بہن کی زندگی میں خوشی کے رنگ واپس آنے لگے ہیں۔”دکھ ہے مجھے کہ میں اس کے اعتماد پر پورا نہیں اتر سکا۔ہو سکے تو اسے کہنا کہ مجھے معاف کر دے۔”

یہ کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔دروازے کی قریب جا کر پلٹ کر مائد کی جانب دیکھا۔میں بہت خوش ہوں کہ میری بہن کے نصیب تمہارے ساتھ جڑ گئے اس کے لیے میرا رب کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہی ہوگا۔کہتے ہوئے تیزی سے وہ باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔

،مائد، نے تیزی سے قدم بڑھائے، روکنا چاہا۔”مگر وہ نہیں رکا تیزی سے چلتا جا رہا تھا جیسے اس کو مائد کی آواز سنائی ہی نہ دے رہی ہو۔۔

ڈائننگ ٹیبل پر پیار سے بنایا ہوا کھانا ویسے کا ویسا پڑا تھا۔۔جس میں ایک بہن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔مگر اسے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ کمرے میں، دانیہ سسک کا رو رہی تھی۔
،مائد، خاموشی سے زیغم کو جاتے دیکھ رہا تھا۔زیغم کے چہرے پر گہری الجھن، دل میں خاموش طوفان تھا۔۔
°°°°°°°°°°

“کیوں کیا بھائی، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ کیسے آپ اُن لوگوں کو معاف کر سکتے ہیں جنہوں نے ہم سے ہمارے ماں باپ، ہمارےبہرام بھائی کو چھین لیا؟ آپ بزدل تو نہیں ہیں، پھر کیوں کیا آپ نے یہ فیصلہ؟ صرف ذرام کی خوشی کو دیکھ کر؟ میں آپ کو کہیں نظر نہیں آئی؟”
دانیہ سسکتے ہوئے خود سے سوال کر رہی تھی۔
اس کے آنسوؤں سے تکیہ بھیگنے تھا۔

مائد آہستہ سے دروازہ کھولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔ پردے بند، لائٹس بند، اندھیرے نے ماحول کو مزید سنجیدہ کر دیا تھا۔
“دانیہ!”
مائد اس کے قریب بیٹھا، نرمی سے اس کے بال سہلاتے ہوئے اسے پکارا۔

دانیہ کا وجود رونے کی شدت سے ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا۔

“میری طرف دیکھو دانیہ، اس طرح رونے سے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ جو ہمیں نظر آئے، وہی سچ ہو۔
ذرا خود کو زیغم کی جگہ رکھ کر سوچو، شاید تمہیں سمجھ آ جائے کہ اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ بہت بڑا دل چاہیے ایسے فیصلے کے لیے، جو اس نے کیا۔”
مائد نے نرمی سے سمجھانے کی بھرپور کوشش کی۔
دونوں بہن بھائیوں کے بیچ بڑھتے فاصلے سے مائد کو گھبرا گیا تھا۔

“ریئلی؟ سچ میں آپ بھائی کے لیے دلیل لے کر میرے پاس آئے ہیں؟”
وہ غصے سے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے مائد کا ہاتھ اپنے سر سے ہٹا کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگی ۔
رونے کی شدت سے اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔

“بالکل نہیں۔ میں کوئی دلیل دینے نہیں آیا، مگر میں تم دونوں کو یوں ایک دوسرے سے دور ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ تم دونوں مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو۔”

“دور تو ہم ہو ہی چکے ہیں۔ جب تک بھائی اُنہیں سزا نہیں دیتے، میرا اور اُن کا رشتہ ختم!”

“تمہاری بات ٹھیک ہے، مگر انداز غلط ہے دانیہ۔ ایک غلط فیصلہ اس نے کیا، اب تم بھی ایک غلط فیصلہ ہی کر رہی ہو۔ بہن بھائیوں کے رشتے انمول ہوتے ہیں، یوں توڑے نہیں جاتے۔”

“ماں باپ کا رشتہ بھی انمول ہوتا ہے۔ جب اُنہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے، تو اُن کے قاتلوں کو بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔
جب زیغم بھائی اُنہیں چھوڑ سکتے ہیں، معاف کر سکتے ہیں، تو میں بھی یہ رشتہ توڑ کر جی لوں گی۔
جانتی ہوں گھٹ گھٹ کر جیوں گی، مگر دانیہ کو تو عادت ہے گھٹ گھٹ کر جینے کی۔
کوئی بڑی تکلیف نہیں ہوگی، کیونکہ جو برداشت کر چکی ہوں، اُس کے بعد دل پتھر ہو چکا ہے۔

مجھے بھائی سے شکوہ ہے، اور شکوہ ہمیشہ اپنوں سے کیا جاتا ہے۔
جس پر امیدیں زیادہ ہوں، اُن سے ٹوٹنے کا درد بھی زیادہ ہوتا ہے۔
میں نے کسی سے توقع نہیں کی، مگر زیغم بھائی سے امید باندھ لی تھی۔
سوچا تھا وہ اُنہیں سزا دیں گے، اُنہیں سولی تک لے جائیں گے،
مگر اُنہوں نے تو معاف کر دیا۔
واہ، کیا انصاف ہے!

میں بھائی کو معاف نہیں کر سکتی۔
اور اگر آپ نے بھی بھائی کی طرف داری کی،
تو ہمارے اس رشتے میں ابھی سے خلا آ جائے گا،
جو ابھی ٹھیک سے شروع بھی نہیں ہوا۔
پلیز، ایسا کچھ مت کیجئے گا!”

وہ بولتی چلی جا رہی تھی اور مائد خاموشی سے گہری سانس لیتا، کچھ دیر چپ ہو گیا۔

“میں ایسا کبھی نہیں چاہوں گا کہ ہمارے رشتے میں خلا یا دراڑ آئے۔
اللہ نہ کرے۔ بڑی مشکل سے یہ رشتہ ہمارا مقدر بنا ہے۔
مگر دانیہ، مجھے معاف کر دو،
میں زیغم کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا۔
اگر تم مجھے مجرم سمجھو، تو تمہاری مرضی۔

یہ اس پر مشکل گھڑی ہے،
اور اصل دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو۔
میں یہی کہوں گا، پلیز دل تھوڑا نرم کرو۔
کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔
اسے تھوڑا سنبھلنے کا موقع دو۔

کسی کو معاف کرنا ایک اچھا عمل ہے،
حالانکہ جانتا ہوں، تم لوگوں کا درد بہت گہرا ہے۔
ایسی معافی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے،
مگر اُس کا اجر بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔
میں پھر بھی نہیں کہوں گا کہ زیغم نے بالکل درست کیا،
مگر شاید یہی راستہ اس نے بہتر سمجھا۔”

“پلیز، آپ تھوڑی دیر کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔
میں اس موضوع پر اب مزید کچھ نہیں سننا چاہتی۔”

“اکیلے رہنے سے کیا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا؟”
“نہیں، حل تو نہیں ہوگا،
مگر مجھے کچھ وقت اپنے ساتھ گزارنے دو،
پلیز، میں ریکویسٹ کرتی ہوں۔”
دانیہ نے زور دے کر کہا۔

مائد خاموشی سے اٹھا،
اس کے گال پر نرمی سے تھپکی دی،”ٹھیک ہے آرام کرو مگر خدارا رو کر مجھ پر ظلم مت کرو۔نرم قدموں سے چلتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

وہ پھر سے تکیے میں منہ دے کر سسک سسک کر رونے لگی تھی۔
°°°°°°°°°°

“سکینہ، جلدی سے مجھے چار پانچ ٹماٹر کاٹ کر دے دو”
چکن کو ہلکی آنچ پر فرائی کرتے ہوئے۔ملیحہ نے جلدی میں کہا،
اس کے ہاتھ مصروف تھے، مگر نگاہیں یوٹیوب پر کھلی ہوئی ریسپی ویڈیو پر جمی ہوئی تھیں۔
چمچ کے ہلکے چھناکے، موبائل کی مدھم آواز اور چکن کے تیل میں تڑتڑاتے شور نے کچن کو ایک زندہ ماحول دیا ہوا تھا۔

یہ کچن کسی عام گھر کا حصہ نہیں لگتا تھا، بلکہ جدید سہولیات سے لیس، ہر طرح کی مشینری اور قیمتی برتنوں سے سجا، صاف ستھرا کچن تھا جہاں ہر چیز ترتیب سے رکھی ہوئی تھی۔اور یہ ساری مہارت سکینہ کی تھی کیونکہ زیادہ تر کچن کو سکینہ سنبھالتی تھی اور صفائی ستھرائی کا بہت زیادہ خیال رکھتی۔۔

ملیحہ کا انداز بدلا بدلا سا تھا،آج وہ دل سے سب کچھ کر رہی تھی، زرام کے لیے اس کا من پسند کھانا اپنے ہاتھوں سے بنا رہی تھی وہ بھی شادی کے بعد پہلی بار۔وہ زرام کو سرپرائز دینے کا پورا ارادہ رکھتی تھی۔چہرے کی خوشی بتا رہی تھی کہ یہ سب کچھ وہ دل سے کر رہی ہے۔

ابھی وہ مصالحہ ڈالنے ہی لگی تھی کہ کسی کی آمد نے کچن کی فضا کو پل میں بدل دیا تھا ۔ہوا میں گھٹن اور تناؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا۔

قدسیہ بیگم اور نایاب کچن کے دروازے پر اس طرح نمودار ہوئیں جیسے بوتل رگڑتے ہی جن بوتل سے باہر آ جائے۔
قدسیہ کی آنکھوں میں چھپی حیرت اور نایاب کے چہرے پر جمے ہوئے تاثر نے ماحول میں ایک دم گھٹن پیدا کر دی تھی۔دونوں ماں بیٹی ایک ساتھ نازل ہوں اور وہ سکون برباد نہ کریں ایسا تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔

“اماں دیکھو تو صحیح، کیسے مالک بن کر کچن میں حکم چلا رہی ہے!”
نایاب نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر طنز کی بوجھل تلوار چلا دی۔ آواز میں سناٹا بکھیر دینے والا زہر تھا۔
وہ نائٹی پہنے، بکھرے بالوں اور سوجھی ہوئی آنکھوں کے ساتھ کھڑی تھی۔شکل دیکھ کر ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ محترمہ ابھی ابھی خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں قدم رکھتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہے۔نہ جانے آج کل کون سی نیند کی دوائیاں کھا رہی تھی زیادہ تر دیر سے اٹھتی تھی۔۔۔۔
ملیحہ نے گردن موڑ کر ان دونوں کو دیکھا۔ ایک لمحہ کو چمچ رک گیا، یوٹیوب کی ویڈیو بغیر آواز کے چلتی رہی، اور کچن کی فضا جیسے ساکت ہو گئی۔

“اس طرح آنکھیں پھاڑ کر دیکھ کر کسے ڈرا رہی ہو؟” قدسیہ، ملیحہ کی طرف غصے سے بڑھتے ہوئے، تنک کر بولی۔

“پلیز، آپ زرام کی ماں ہیں، اسی لحاظ سے میں آپ کی عزت کرتی ہوں۔ آپ میرے ساتھ کوئی ایسی بات مت کیجیے گا جس سے تلخی پیدا ہو۔ میں آپ سے بدتمیزی نہیں کرنا چاہتی، اور پلیز، آپ سے گزارش ہے کہ مجھے اکسائیے گا مت۔”
وہ اپنا رخ موڑ کر سکینہ سے ٹماٹر لیتی ہے اور انہیں فرائی چکن میں ڈال کر ہلانے لگتی ہے۔ اُس کا دل نہیں چاہتا کہ کوئی تماشا بنے۔

“تم میری عزت نہ بھی کرو، مجھے تمہاری عزت کی کوئی پرواہ نہیں۔ تم اپنی عزت اپنے پاس رکھو، جس کی اپنی کوئی عزت نہ ہو وہ امیر لڑکے کو پھنسا کر اس گھر میں گھس آئی ہے۔ بڑی آئی مجھے عزت دینے والی!”
قدسیہ نے زہر میں بجھا جملہ اس کی طرف اچھالا، اور ساتھ ہی جھپٹ کر ملیحہ کے ہاتھ سے چمچ چھین لیا۔
“چھوڑ دو! کوئی ضرورت نہیں میرے بیٹے کو تعویزں والا کھانا کھلانے کی۔ تم جیسے چھوٹے گھروں کی لڑکیاں ایسے ہی تعویذ گنڈوں سے لڑکوں کو پھنساتی ہیں۔”

“پلیز، آپ اپنی حد میں رہیں۔ اگر میں نے زرام کو پھنسایا ہے، تو پھنسایا ہی سہی۔ اور اگر آپ کو مجھ سے کوئی شکایت ہے تو جا کر اپنے بیٹے سے کریں۔ مجھے اس گھر میں وہ خود لے کر آیا ہے۔ آپ بے وجہ مجھ سے نہ الجھیں۔”
ملیحہ نے بمشکل اپنے لہجے کو قابو میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔ قدسیہ کے ہاتھ سے چمچ چھیننے کی حرکت اسے ناگوار گزری تھی۔ نایاب نے طنزیہ انداز میں “چچ۔۔۔ چچچ۔۔۔” کی آواز نکالی اور آگے بڑھی۔ سکینہ یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی، وہ بیچاری ملازمہ بس افسوس ہی کر سکتی تھی۔

“تم یہ کس انداز میں میری ماں سے بات کر رہی ہو؟ خود کو کیا سمجھتی ہو؟”
نایاب نے آگے بڑھ کر ملیحہ کے بال مٹھی میں جکڑ لیے اور زور زور سے جھنجھوڑا۔

اب بات ملیحہ کے نفس پر آ چکی تھی، اور اب تو زرام کی طرف سے بھی اُسے مکمل اجازت تھی۔

“نایاب، میرے بال چھوڑو! ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا!”
وہ غراتے ہوئے بولی۔

“نہیں چھوڑوں گی! سب کی سب منحوسیں اس گھر میں ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئی ہیں!”
نایاب نے اور زور سے جھنجھوڑا، بدتمیزی کی انتہا ہو چکی تھی۔

ملیحہ نے قدسیہ کے ہاتھ میں پکڑا گرم چمچ چھپکے سے چھینا اور پوری قوت سے نایاب کی کمر پر دے مارا۔ نایاب کی چیخ پورے کچن میں گونج اٹھی۔ سکینہ ہنسی روکنے کی کوشش کرتی رہی، مگر اس کے چہرے پر چھپی خوشی صاف نمایاں تھی۔ جیسے ہی گرم چمچ لگا، نایاب کے ہاتھ از خود ملیحہ کے بالوں سے ہٹ گئے۔

“ہائے اماں! دیکھ کیا رہی ہیں؟ اس کے ہاتھ پکڑیں!”اور ڈالیں اس کے ہاتھوں پر کھولتا ہوا پانی وہ اپنی ماں کو جیسے حکم دے رہی تھی۔

”صحیح کہہ رہی ہو، اس کا بندوبست کرنا پڑے گا۔“
قدسیہ دانت پیس کر بولی،
”اس کے لیے نا گرم پانی رکھ! بہت تیز ہو گئی ہے، اب اسے میں اپنا اصلی روپ دکھاتی ہوں۔ اس کی تو روح بھی کانپ جائے گی۔ سنا نہیں تُو نے؟ گرم پانی رکھ!“

وہ چیخی تو بیچاری سکینہ کانپتے ہاتھوں سے پانی بھر کر چولہے پر رکھنے لگی۔ اصل میں نایاب اور قدسیہ اس وقت کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی تھیں۔ نہ زیغم گھر پر تھا، نہ زرام۔ اور آج دونوں وحشی درندیاں نہ جانے کیوں بن گئی تھیں۔

”تجھے تو میں سبق سکھاؤں گی!“
قدسیہ نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر تھپڑ مارنا چاہا، مگر اس بار ملیحہ نے فوراً ہاتھ پکڑ کر زور سے مروڑتے ہوئے جلتی کڑاہی سے لگا دیا، جس سے قدسیہ کے ہاتھ کی پشت جل گئی۔

قدسیہ کی چیخیں پورے کچن میں گونجنے لگیں۔

”روح تو تم لوگوں کی بھی کانپ جائے گی، جو سلوک آج میں تم لوگوں کے ساتھ کروں گی! تم لوگ سمجھتی کیا ہو خود کو؟ ظلم کرتی رہو گی اور میں دانیہ کی طرح سہتی رہوں گی؟ غلط فہمی ہے تم لوگوں کی!“

اس نے ہاتھ میں پکڑا چمچ چولہے پر رکھ کر گرم کرنا شروع کر دیا، اور نایاب کے تو طوطے اڑ گئے۔ کیونکہ کمر پر پڑے چمچ کا درد ابھی بھی یاد تھا۔ وہ شلف کے پاس سہمی کھڑی تھی۔

”پاگل ہو گئی ہو؟ اماں کے ساتھ یہ سلوک کرو گی؟ آنے دو ذرا زرام کو، تمہارا وہ حشر کرواؤں گی کہ یاد رکھو گی!“

”ہاں، دیکھا تھا نا اس دن کیسے اس نے مجھے کمرے سے نکالا تھا؟ مگر تم نے یہ نہیں دیکھا کہ بعد میں تم لوگوں کی بینڈ بجانے کے بعد وہ مجھے کمرے میں لے گیا تھا!“
ملیحہ نے منہ توڑ جواب دیا اور گرم چمچ لے کر قدسیہ کو چھوڑ نایاب کی جانب بڑھی۔

”پپپ۔۔پپ۔۔۔پیچھے رہنا! اگر میرے ساتھ کوئی بھی جانوروں والی حرکت کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا!“
وہ انگلی دکھا کر وارن کرتی ہوئی پیچھے ہٹی، آواز کٹ کٹ کر نکل رہی تھی۔

”کک۔۔ککک۔۔کیوں؟ صرف جانوروں والا سلوک کرنے کا حق تم لوگوں کو ہے؟ اب اپنی باری پر ڈر لگ رہا ہے؟“
وہ اس کی نقل اتارتے ہوئے نایاب کی جانب بڑھی، اور نایاب تو قدم پیچھے ہٹاتے ہوئے تیزی سے کچن سے باہر بھاگ نکلی۔ اپنی ماں کو بھی چھوڑ گئی تھی۔

وہ چمچ گھماتے ہوئے قدسیہ کی طرف بڑھی۔

”میرے ساتھ بدتمیزی مت کرنا، میں تمہاری ساس ہوں!“

”نہیں، ساس کے ساتھ میں بالکل بدتمیزی نہیں کر سکتی۔“
ملیحہ طنزیہ بولی،
”صحیح بول رہی ہو آپ۔ سکینہ! یہ کھولتا ہوا پانی جو میرے لیے رکھوایا گیا، لے آؤ۔ اسی سے ساسو ماں کو شنان کرواتے ہیں!“

ملیحہ کے کہنے پر سکینہ نے جیسے ہی کیتلی کی جانب ہاتھ بڑھایا، قدسیہ کو اپنی جان بچانا مشکل لگنے لگا۔

”پپ۔۔۔پاگل ہو گئی ہو تم؟ میں زرام کو بتاؤں گی!“
وہ کہتی ہوئی تیزی سے کچن سے باہر بھاگی۔
ماں بیٹی ملیحہ کا یہ جناتی روپ دیکھ کر بکھلا گئیں، اور سکینہ تو خوش ہو کر ہنسی روکنے میں ناکام ہو رہی تھی۔

”واہ واہ بھابھی جی! قسم سے، کیا سبق سکھایا ہے انہیں! مزہ آ گیا!“

“چلو، جلدی سے تم کھانا بنانے میں میری مدد کرو… ان کی حالت تو میں ایسی کر دوں گی کہ میرے نام سے بھی گھبرائیں گی۔ آج تک معصوم دانیہ سے ان کا واسطہ پڑا ہے، میں نے اگر ان کو سیدھا نہ کر دیا، تو میرا نام بھی ملیحہ نہیں!”

وہ غصے سے بالوں کو پیچھے کرتی، تیور چڑھائے ہوئے تھی۔
“یہ مجھے ذرام سے دور کرنا چاہتی ہیں؟ میں بھی دیکھتی ہوں کیسے یہ مجھے میرے شوہر سے دور کرتی ہیں… اتنا اسے اپنی محبت سے قریب رکھوں گی کہ ان جیسی دس بھی آ جائیں، تو مجھے کبھی دور نہیں کر سکیں گی!”

ملیحہ اپنے بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئے، دوبارہ کھانا بنانے میں جُت گئی۔ وہ اب کسی بھی صورت پیچھے ہٹنے والی نہیں تھی۔

اس کے لہجے میں وہ پختگی تھی جو کسی فیصلہ کر چکی عورت کے وجود سے پھوٹتی ہے۔
اور جب عورت مضبوطی سے ڈٹ جائے، تو کوئی مائی کا لال اُس کا گھر خراب نہیں کر سکتا۔پھر وہ قدسیہ ہو، نایاب یا اُس جیسی ہزاروں… کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔
“جی بی بی جی، سچ میں آپ کو ان کے ساتھ دو ہاتھ کرنے چاہیے… آپ کو نہیں پتا، ان لوگوں نے دانیہ بی بی کے ساتھ کتنا ظلم کیا ہے!”
سکینہ کا لہجہ غصے اور دکھ سے لرز رہا تھا۔

وہ پہلے بھی ملیحہ کو کچھ کچھ باتیں بتا چکی تھی، مگر اب جیسے جیسے وہ دانیہ کے بارے میں مزید بتا رہی تھی، ملیحہ کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔
اس کے دل میں ایک انجانی بےچینی، ایک عجیب سی ہلچل اٹھ رہی تھی۔

وہ سوچنے پر مجبور تھی… “کتنے گھٹیا لوگ ہیں یہ!”اب تو ان ماں بیٹی کو سبق سکھانے کا ارادہ وہ اور بھی پختہ کر چکی تھی۔۔۔۔
°°°°°°°°

توقیر کو جیسے ہی زیغم کی جانب سے معافی کی خبر ملی، وہ تو جیسے آسمان پر اڑنے لگا۔
بے شرم انسان سب کچھ بھول چکا تھا۔ گاڑی لے کر پورے گاؤں میں فخر سے گھوم رہا تھا، ہر ملازم پر رعب جھاڑتا، اپنی اصلیت پر واپس آ چکا تھا۔
اس کے دل میں نہ کوئی خوفِ خدا، نہ کوئی شرمندگی کہ زیغم نے اسے معاف کر کے کیسا نیک عمل کیا ہے۔وہ پوری طرح سے بھول چکا تھا کہ اگر اپنے ضمیر سے پوچھے تو اس معافی کے بالکل قابل نہیں تھا۔ایسے میں اگر زیغم نے اسے معاف کیا تو یہ اس کی اعلیٰ ظرفی تھی۔مگر کہتے ہیں کم ظرف کیا جانے کہ ظرف کس بلا کا نام ہے۔۔۔
اور دوسری جانب حویلی کے اندر،قدسیہ کے تیور بھی دوبارہ سے سردارنیوں والے ہونے لگے تھے، نایاب پھر سے اپنی اوقات سے باہر ہو رہی تھی۔
یہ تمام خبریں وقفے وقفے سے سکینہ اور رفیق کے ذریعے زیغم تک پہنچ رہی تھیں۔
زیغم اس وقت شدید پریشان تھا، اسی لیے گھر جانا مناسب نہ سمجھا۔
اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر مہرو پریشان ہو جاتی، اور وہ اسے کسی حال میں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس نے فارم ہاؤس کا رخ کیا، جہاں اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑا، دنیا و مافیہا سے بے خبر، سوچوں میں گم تھا۔

“اے اللہ! کیا مجھ سے سچ میں ایسی بڑی خطا ہو گئی ہے کہ میری بہن مجھ سے بات تک نہیں کرنا چاہتی؟”
“میں تو سب کچھ ٹھیک کرنا چاہتا تھا،مگر سب کچھ میرے ہاتھوں سے پھسلتا ہوا نظر آرہا ہے،مجھے راستہ دکھا، میرے اللہ، میں بہت تکلیف میں ہوں۔”
وہ کھڑکی کے لوہے کے سلاخوں کو پکڑے، دور تک پھیلے سبز کھیتوں کو دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اندھیرا چھا رہا تھا، دیکھنا مشکل ہو چکا تھا۔
چاندنی بکھر رہی تھی، گرمی کی تپش تھم رہی تھی، ٹھنڈی ہوائیں جسم و جاں کو راحت دے رہی تھیں۔
اے سی کی بند فضا سے گھبرا کر وہ کھڑکی کھول چکا تھا تاکہ تازہ ہوا لے سکے۔دانیہ کی ناراضگی نے اس پر بہت گہرا اثر ڈالا تھا وہ اندر کی گھبراہٹ سے سانسوں کو گھٹتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔کھڑکی کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے سینے پر مسلسل ہاتھ رگڑ رہا تھا۔جیسے کہ اپنی سانسوں کو بحال کر رہا ہو۔
تب ہی، اچانک اس کے پیچھے سے دو ہاتھ اس کے سینے پر آ رکے۔
وہ چونک اٹھا، جھٹ سے بازو جھٹک کر مڑا، اور سامنے حمائل کو دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
لہجہ سرد تھا۔
“تم سے ملنے آئی ہوں۔”
لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
بازو سہلاتے ہوئے بولی، جو دیوار سے جا لگا تھا۔

“تمہیں یہاں کا پتہ کس نے دیا؟ اور کیسے جانا کہ میں یہاں ہوں؟”

“جب کسی سے محبت ہوتی ہے، تو اُس کے بارے میں جاننا مشکل نہیں ہوتا۔ دیکھ لو، میں تم تک پہنچ گئی۔”
وہ نرمی سے آگے بڑھی، اس کے سینے پر ہاتھ رکھا، انگلیوں سے شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتی ہوئی، نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑ قریب ہوئی تھیں۔
گرم تپتے ہوئے دن کے بعد ٹھنڈی شام کا وقت فارم ہاؤس کی خاموش فضا میں درختوں کی سرسراہٹ اور دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
“تمہیں یہاں فارم ہاؤس پر بالکل نہیں آنا چاہیے تھا پہلی بات کہ گھر کی عورتیں اس طرح بغیر بتائے یہاں آئیں مجھے بالکل پسند نہیں اور دوسری بات کہ تمہارا مجھ سے اس طرح اکیلے میں ملنا ہی غلط ہے۔”
وہ بہت سنجیدہ تھا، اس کی نظریں حمائل کے چہرے پر جمی تھیں۔

“چلو شکر ہے کہ تم نے مجھے گھر کی عورت کہا پہلی بات کا جواب، اور دوسری بات کا جواب یہ کہ میں تم سے جب چاہوں، جہاں چاہوں مل سکتی ہوں، تمہارے پاس تو میرے لیے ٹائم نہیں ہوتا، سارا دن گھر سے باہر رہتے ہو اور رات کو آتے ہی اُس جاہل لڑکی کے پلو میں جا کر چھپ جاتے ہو،تو بتاؤ میں کس وقت تم سے ملوں؟”

حمائل کی آنکھوں میں نمی تھی، مگر لہجے میں شدید تلخی۔
وہ بے قرار ہو کر اس کے قریب آئی،
چہرے پر وہی پرانی چاہت تھی،
مگر زیغم پیچھے ہٹ گیا،
دل میں عزت کا خیال تھا،
اور رشتے کی حد کا پاس۔
“حمائل، تم میری بہت قریبی دوست ہو، اور اسی رشتے کا لحاظ کرتے ہوئے ہمیشہ خاموشی اختیار کی، مگر اب سن لو… دوبارہ میری بیوی کے لیے ایسی زبان استعمال مت کرنا۔ تمہارے اور میرے درمیان جو ایک پاکیزہ رشتہ ہے، اس کی لاج رکھو، اس کی قدر کرو۔”
زیغم نے انگلی اٹھا کر تنبیہ کی، لہجہ سخت تھا مگر آنکھوں میں پرانی دوستی کا نرم عکس ابھی باقی تھا۔
“نہیں، ہرگز نہیں… ایسی زبان تو دور کی بات، میں آئندہ اس کا ذکر بھی نہیں کروں گی۔ تم کہو تو، تمہارے کہنے پر میں خود کو مٹا دوں گی۔”
وہ بے قراری سے آگے بڑھی، لرزتے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

“ڈسکسنگ، حمائل! کیوں خود کو گرا رہی ہو یار؟ تم میری دوست ہو، بہت اچھی دوست، تمہیں یہ سب کچھ زیب نہیں دیتا، اپنا معیار مت گراو، میں تمہاری بہت رسپیکٹ کرتا ہوں۔”

“کیا کروں؟ رسپیکٹ کا اچار ڈالوں؟ اگر اپنے معیار سے گر کر بھی مجھے دوبارہ زیغم سلطان مل سکتا ہے تو پھر گرنے کو تیار ہوں۔”
وہ اب بھی اس کا ہاتھ تھامے کھڑی تھی، اس کی آنکھوں میں ضد تھی۔
“کاش تم نے یہ سب کچھ پہلے سوچا ہوتا۔
تو آج تمہیں یہ سب سننے کی ضرورت نہ پڑتی۔ مگر حمائل… وقت گزر چکا ہے، میں چاہوں تب بھی تمہاری جھولی میں کچھ نہیں ڈال سکتا۔ میرے اندر، میرا کچھ نہیں رہا، سب کچھ مہرو کا ہو چکا ہے۔”

وہ دھیمے لہجے میں کہتا، نرمی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے چھڑواتے ہوئے، دونوں ہاتھ کمر پر باندھ چکا تھا۔ کمرے کی روشنی میں حمائل کا درد سے لپٹا ہوا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا جہاں اداسی ہی اداسی چھائی ہوئی تھی۔۔۔

“پلیز،زیغم، ظالم مت بنو… جانتی ہوں، مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی۔ تمہیں کھو کر میں نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز کھو دی۔ آج تک پچھتاوے کی آگ میں جل رہی ہوں، مگر ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا… مرد ہو یار تم! ہمارے اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں، تو رکھ لو نا ایک مجھے بھی! جب مجھے اعتراض نہیں ہے تمہاری دوسری بیوی بننے میں تو پھر تم کیوں ضد کیے ہوئے ہو ۔”

اس کے لہجے کی لرزش اور آنکھوں کی نمی اس کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو ظاہر کر رہی تھی۔ جیسے برسوں کی بےچینی آج لبوں پر آ گئی تھی۔
“میں مہرو کے ساتھ دھوکہ نہیں کر سکتا بہت پیار کرتا ہوں ۔زیغم نے اس کی بے قراری کو دیکھ تھوڑا سخت لہجے میں کہا۔

“میں نے کب مناکیا ہے؟
“کرتے رہو پیار جتنا چاہتے ہو اتنا کر لینا مگر مجھے اپنا لو….. دیکھ لو، آج اپنی انا زمین پر رکھ کر تمہارے سامنے کھڑی ہوں۔تمہارے عشق نے مجھے کیا سے کیا بنا دیا، جو حمائل کبھی اس لڑکی کا وجود بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی، جو تمہاری زندگی میں کوئی حیثیت کوئی مقام نہیں رکھتی تھی، آج دیکھو میں اسے بھی برداشت کرنے کو تیار ہوں۔جس کے نام تم اپنی محبت کر چکے ہو۔جس کے ساتھ تمہیں محبت ہے اور اس بات کا تم بار بار اعلان کر رہے ہو۔”زیغم خالی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ بے قرار ہوتے ہوئے مزید قریب ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

“تھوڑی دیر کے لیے میری محبت کے مقام کو سمجھنے کی کوشش کرو… کیوں اتنے بے حس ہو گئے ہو؟”

وہ اس کے اور قریب آئی، جذبات سے بوجھل، جیسے دل کا سارا وزن آنکھوں میں لے کر چل رہی ہو۔ زیغم پیچھے ہٹتے ہٹتے دیوار سے جا لگا، اور حمائل اس کے بالکل سامنے آ چکی تھی۔

“حمائل، پلیز! دور ہو کر بات کرو… نامحرم ہیں ہم، ایسا کوئی رشتہ نہیں ہمارے درمیان جس کی آڑ میں ہم یوں قریب کھڑے ہو سکیں۔”

زیغم کی آواز میں ناپسندیدگی تھی، وہ اپنے ضبط کی آخری حد پر کھڑا تھا۔

“تمہاری اسی پاکیزگی پر تو حمائل مرتی ہے… مرد ہو کر، یار، کتنا خود کو بچا بچا کر رکھتے ہو!”
پیار سے اس کے کالر پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بے قراری سے اس کے سینے سے لگ گئی، مگر یہ صرف ایک سیکنڈ کے لیے ہوا۔ زیغم نے اگلے ہی لمحے اس کے کندھوں سے پکڑ کر اسے خود سے دور کر دیا۔
“حمائل، پلیز مت کرو یہ سب کچھ۔ یہ کر کے صرف تم خود کو تکلیف دے رہی ہو، اور اللہ کی نظر میں بھی گنہگار ہو رہی ہو۔ تمہیں یہ سب کچھ زیب نہیں دیتا۔ جو ہونا تھا، ہو چکا۔ میں گزرا ہوا وقت ہوں، جو کبھی پلٹ کر نہیں آ سکتا۔ آگے بڑھ جاؤ، تمہیں مجھ سے کہیں زیادہ اچھا ہمسفر ملے گا، خدا پر یقین تو رکھو۔”وہ سختی سے بولتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ حمائل رک ہی نہیں رہی تھی۔
“مجھے تم، صرف تم چاہیے ہو، اور کوئی نہیں۔۔۔ میری آنکھیں کسی اور کا خواب دیکھنا نہیں چاہتیں، میں کیا، کروں۔۔۔؟ “وہ جذبوں کی شدت لیے دیوانگی سے چلّا اُٹھی تھی۔”
اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤ، دل کے سکون کی دعا مانگو۔ میں بھی تمہارے لیے دعا کروں گا، مگر خود کو تمہارے نام نہیں کر سکتا۔”
“کیوں نہیں ہو سکتے؟ کون سی ضد ہے یہ، زیغم؟” وہ بے قراری سے چلّا اُٹھی تھی۔
“آہستہ بات کرو، باہر میرے ملازم موجود ہیں، اور میری ایک عزت ہے۔ تم نے یہاں آ کر ویسے ہی غلطی کی ہے، اب خدارا، چیخ چیخ کر اور کچھ غلط مت کرنا۔”

“کچھ بھی غلط نہیں کروں گی۔ جیسا کہو گے ویسی بن جاؤں گی، اور دنیا والوں کی فکر کرنا چھوڑ دو۔میں آج تم سے ہاں کروائے بغیر یہاں سے نہیں جاؤں گی۔”
وہ تو جیسے آج سارے فیصلے گھر سے کر کے آئی تھی۔
“کیا بات ہے، حمائل؟ کوئی نشہ کر کے آئی ہو جو تمہیں میری بات سمجھنے میں دقّت ہو رہی ہے؟ آج تم بالکل بے وقوفوں، احمقوں جیسی باتیں کر رہی ہو! ‘ہاں کروا کر جاؤں گی’؟ جیسے میں کوئی غیر شادی شدہ شخص ہوں، اور یوں آسانی سے تمہارے لیے مان جاؤں گا؟

ایک چھوٹی سی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آ رہی؟ میں نے کہا تھا کہ مجھے تم میں۔ایزا وائف، ایک پارٹنر۔کوئی دلچسپی نہیں، اور یہ بات تم پہلے سے جانتی ہو۔ مجھے تب بھی تم میں دلچسپی نہیں تھی۔ صرف تمہاری محبت، تمہارا بڑھایا ہوا قدم، تمہارا محبت سے آگے کیا ہوا ہاتھ… میں ہٹا نہیں سکا۔ اور اسی لیے، میں نے تمہیں اور خود کو ایک موقع دیا۔

بدقسمتی یہ تھی تمہاری، کہ تم نے اس موقع کو اپنی کم عقلی سے ٹھکرا دیا۔ مگر اب؟ اب میری زندگی میں تمہاری کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات جتنی جلدی تم سمجھ لو، تمہارے لیے بہتر ہے۔ نہ تو میں تمہیں آج اپناؤں گا، نہ کل، نہ پرسوں، نہ سو سال بعد۔خود کو اس طرح گرا کر جھکا کر رشتہ بنانے کی فضول بے جا کوشش مت کرو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔۔
اور جہاں تک چار شادیوں کی اجازت کا سوال ہے، تو یہ بات ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔ میں نے پہلے بھی تمہیں سمجھایا تھا کہ اللہ نے چار شادیوں کی اجازت ضرور دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انصاف رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اور جب میں جانتا ہوں کہ میں انصاف کر ہی نہیں سکتا، تو پھر کیوں اللہ کی نظر میں گناہگار بنوں؟
اور مجھے ایسی کون سی مصیبت پڑی ہے جو میں دوسری شادی کروں؟ میں مطمئن ہوں، خوش ہوں، اپنے رشتے سے۔مہرو کے ساتھ۔ اور آنے والی زندگی کے جتنے سال ہیں، میں وہ سب اس کے ساتھ راضی خوشی گزار سکتا ہوں۔

تمہاری مہربانی ہے، خود کو سنبھالو، مت بہکو… اور گناہ کے راستے پر نہ خود چلو اور نہ ہی مجھے مائل کرو۔”
“پلیز… میری بات تو سنو!”

,حمائل, کے لہجے میں بے بسی تھی، وہ ,زیغم, کے شدید غصے اور سخت لہجے کے باوجود، کچھ اور کہنے کو لب کھول ہی رہی تھی کہ ,زیغم, نے اپنے لبوں پر انگلی رکھتے ہوئے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

“مجھے نہ کچھ کہنا ہے نہ سننا ہے تم چلو میرے ساتھ!”
سرد لہجے میں کہتے ہوئے وہ پلٹا،
“اس وقت تمہارا یہاں میرے ساتھ ہونا، انتہائی غلط ہے۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے تیزی سے دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی، حمائل اپنے ٹوٹے ہوئے ارمانوں کو سمیٹے، بوجھل قدموں سے اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔
وہ اُسے واپس حویلی لے جا رہا تھا…

°°°°°°°°°
حمائل کے اندر تو پہلے ہی جلن اور غصے کی آگ بھڑک رہی تھی۔ زیغم کا انکار اس کے لیے کسی توہین سے کم نہ تھا۔ سارا راستہ زیغم نے ایک بار بھی اس کی طرف نہیں دیکھا، اور یہی بے رخی اسے اندر سے جلا گئی تھی۔

وہ کچھ دیر پہلے ہی اس کے جذباتوں کے منہ پر ایسا تماچہ مار چکا تھا، جس کی گونج ابھی تک حمائل کے پورے وجود میں سنائی دے رہی تھی۔ وہ جس شدت سے زیغم کے قریب آنا چاہتی تھی، زیغم اسی شدت سے اسے خود سے دور کر چکا تھا۔ آگ میں جلتے ہوئے فارم ہاؤس سے حویلی تک کا راستہ طے ہو چکا تھا۔

اور جب زیغم اسے ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوا، تو حمائل کے چہرے پر ایک مصنوعی سکون کھنچ آیا۔ وہ صرف ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ سب نارمل ہے… مگر اندر ایک ایسا طوفان چھپا تھا جو کسی بھی لمحے سب کچھ بہا سکتا تھا۔

حمائل کو اپنی انا بہت عزیز تھی۔ وہ کبھی کسی کے سامنے اپنی ناک نیچے کرنا گوارا نہ کرتی تھی۔ یہ تو اس کی محبت تھی جو اسے زیغم کے سامنے جھکنے پر مجبور کر رہی تھی، ورنہ حمائل کو کوئی جھکا سکے، اتنا کسی میں دم نہیں تھا۔ اور وہ خود کسی کے سامنے جھک جائے… اتنا ظرف بھی اس میں نہیں تھا۔ اگر اتنا ظرف دکھا دیتی تو آج زیغم سلطان اس کا ہوتا۔ اپنی انا کو مضبوط رکھتے ہوئے اس نے اپنے اتنے پیارے رشتے کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا تھا، جس کے پچھتاوے میں آج وہ پل پل جل رہی تھی۔

اور اُدھر مہرو… جسے ان سب باتوں کا اندازہ تک نہ تھا۔ وہ تو بس سائیں کا موڈ بہتر کرنے کے لیے تھوڑی سی تیاری کر رہی تھی۔

“کبھی کبھی ایک چھوٹی سی خوشی کسی کی پوری محبت بیان کر دیتی ہے۔”

معصوم سی مہرو، جو اس دنیا داری سے بہت دور تھی، اس نے اپنے دل سے محسوس کیا کہ وہ جب بھی تیار ہوتی ہے، اس کا سائیں بہت خوش ہوتا ہے، اور سائیں کا موڈ اچھا کرنے کے لیے اسے یہی ترکیب اچھی لگی۔

دوسری جانب حمائل کو اپنا غصہ اتارنے کا صرف ایک موقع چاہیے تھا۔ اسے بس ایک موقع چاہیے تھا… ایک ایسا لمحہ، جہاں وہ اپنے دل کا سارا غصہ، ساری جھنجھلاہٹ کسی پر نکال سکے۔
اور وہ موقع اُسے مل گیا۔

دوسری طرف مہرو سارا دن بس ایک ہی بات سوچتی رہی تھی کہ آج سائیں کا موڈ ٹھیک کرنا ہے۔ وہ جس طرح ہر بار مہرو کی تیاری دیکھ کر مسکرا دیتے تھے، تعریف کرتے تھے، وہ لمحے آج اسے پھر سے قیمتی لگنے لگے تھے۔ وہ چاہتی تھی کہ سائیں اسے ویسے ہی دیکھیں، جیسے وہ خوش ہو کر دیکھتے ہیں۔

اس نے سادگی کے ساتھ، دل سے تیاری کی تھی۔ ہلکا سا میک اپ، کھلے بال، پلین بالیاں، آنکھوں پر صرف مسکارا اور لائنر، سائیں کے پسندیدہ پرفیوم کی چند بوندیں، اور ہائی ہیل، جس کی وہ عادی نہ تھی، مگر صرف زیغم کے لیے پہنی تھیں۔ کمرے کو گلاب کی پتیوں اور چھوٹی کینڈلز سے مہکایا گیا تھا، اور ان سب میں اس کی مدد ملیحہ نے کی تھی۔ سب کچھ مکمل تھا، بس سائیں کا آنا باقی تھا۔

مگر جب وہ نہیں آئے، تو مہرو کی بےچینی بڑھ گئی۔ اس نے دوپٹے کا پلو سر پر ڈالا، خود کو کور کیا، اور آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی۔ سائیں کے انتظار میں بے قرار مہرو کے قدم، اپنے آپ باہر کے دروازے کی جانب سیڑھیاں اترنے لگے تھے۔

مگر… سیڑھیوں کے تیسرے زینے پر ہی وہ قدم ڈگمگا گئی۔ ہائی ہیل میں توازن نہ رکھ پائی۔ وہی ہیل، جو صرف زیغم کے لیے پہنی گئی تھی… اور وہ لڑکھڑا کر نیچے گرنے لگی۔

مگر زیغم نے فوراً اسے تھام لیا۔

اور اس لمحے… حمائل کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا۔ وہ یہ موقع خالی کیسے جانے دے سکتی تھی۔

“یہ ہے تمہاری پسند؟… اسے تمہارے ساتھ، تمہارے اسٹیٹس سے چلنے پھرنے تک کا ڈھنگ نہیں ہے۔”

حمائل کی آواز میں اپنی انسلٹ کا زہر تھا۔

مہرو کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ آنکھوں میں آنسو تھے، مگر سر پر دوپٹہ ابھی بھی جما ہوا تھا۔ سادگی کی وہ مثال، جو زیغم کے دل میں کہیں گہرا نقوش چھوڑ چکی تھی۔

زیغم نے ایک پل کو بھی حمائل کی طرف نہیں دیکھا۔ وہ جھکا، اور مہرو کو اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا۔

“سرکار، اتنی بے قراری دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟ تھوڑا سا لیٹ ہو گیا ہوں، فون کر لیتیں تو بتا دیتا۔ خوامخواہ اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں… تمہاری جان میں میری جان بستی ہے۔”

اس کی آواز میں وہی اپنائیت، وہی محبت، اور وہی یقین تھا، جس کی مہرو آج سچ میں پیاسی تھی۔

حمائل… سیڑھیوں کے سائے میں جلتی، اپنی مٹھیوں کو بھینچے، آنکھوں میں طوفان لیے کھڑی تھی۔

“ایسا کیا ہے اس میں جو مجھ میں نہیں؟”

وہ خود سے سوال کرتی رہی… اور زیغم، مہرو کو لے کر اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر چکا تھا۔ بغیر کچھ کہے وہ حمائل کے سب سوالوں کے جواب خاموشی سے دے گیا… یا پھر یہ کہیں کہ اس کے منہ پر سوالوں کے جواب مار کر گیا ہے، تو غلط نہ ہو گا۔

حمائل، اپنے غصے سے اور انسلٹ کی شدت سے جلتے ہوئے وجود کو لے کر اپنے کمرے میں جا کر دروازہ “ٹھاک” کی آواز سے بند کر چکی تھی۔ سارا غصہ بیچارے دروازے پر نکل گیا۔۔۔
°°°°°°°°

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *