Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:49
راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 49
°°°°°°°°
گرد آلود، پرانی حویلی کی طرز پر بنا “حسن محل” شہر کے شور سے دور، مگر اپنے نام میں ایسا شور سمیٹے ہوئے کہ دن ہو یا رات، اس کے باہر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوتیں۔ وہ ایک ایسا مقام تھا جہاں در و دیوار بھی عورت کے استحصال کی گواہی دیتے تھے۔ اندر داخل ہوتے ہی ہر چیز پر ایک مصنوعی چمک طاری تھی…ریشم کے پردے، تیز خوشبو، اور مخملی فرش… مگر ان سب کے پیچھے چھپی کہانیاں بس وہی جانتے تھے جن کی روحیں ان دیواروں میں دفن ہو چکی تھیں۔
“حسن محل میں آج بھی روز کی طرح حسن کے طلبگاروں کی قطار لگی ہوئی تھی، اور حسینہ بائی اپنے معمول کے مطابق سودے بازیاں کرنے میں مصروف تھی۔”
وہ اپنی مخصوص گندھاری ساڑھی میں ملبوس، ایک ہاتھ میں پان کا بیڑا دبائے، دوسرے ہاتھ سے نرخ طے کرتی۔ چہرے پر گہرا میک اپ، مگر آنکھوں میں وہ تھکن تھی جو برسوں کی بےحسی سمیٹ لاتی ہے۔
“کون سی چاہیے آج؟ نئی لینی ہے یا پرانی؟ قیمت کا حساب میرے حساب سے ہوگا…!”
اس کا لہجہ سرد تھا، جذبات سے خالی، جیسے وہ خود کو ایک دکان دار سمجھتی ہو ۔ احساس بیچنے والی۔
پس منظر میں کہیں دور ایک ہارمونیم بج رہا تھا، کوئی لڑکی نیم دلی سے گنگنا رہی تھی، اور ایک بچی کی سسکیوں کی آواز تھی، جو شاید ابھی انسانیت کی قیمت سمجھنے لگی تھی۔
ماہ رخ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی… یا یوں کہیے کہ اب وہ باہر نکلنے کو دل ہی نہیں چاپتا تھا۔
جس کے لیے وہ روز وقت سے پہلے سج سنور کر انتظار میں بیٹھی رہتی تھی،جس نے اسے یہاں سے باہر نکلنے کے خواب دکھائے تھے، وہ تو کئی مہینوں سے آیا ہی نہیں تھا۔
مارخ نے اپنے طریقے سے کافی کھوج لگانے کی کوشش کی، لیکن کہیں سے کوئی خاص خبر نہ مل سکی۔ہر طرف سے بس یہی سننے کو ملتا تھا کہ شہرام اب حویلی میں نہیں ہے…
وہ کہاں گیا، کسی کو کچھ خبر نہیں تھی۔
یہی بات ماہ رخ کو اندر ہی اندر گھائے جا رہی تھی۔
ایک عجیب سی بےچینی، ایک انجانی تشویش ہر وقت اس کہ دماغ پر سوار پر رہتی تھی۔
وہ یوں بیڈ پر پاؤں لٹکائے بیٹھی تھی، جیسے تھک ہار کر چپ چاپ شام کی گود میں سمٹ آئی ہو۔
جس شخص کے ساتھ یہاں سے باہر نکلنے کا خواب تھا، وہ خواب تو ٹوٹ گیا،
مگر اس کے ٹوٹنے کی آواز نہیں آئی…
بس اس کی کرچیاں ، خاموشی سے دل میں گہرے نہ نظر آنے والے زخم چھوڑ گئیں۔
“اچانک دروازہ کھلا…”
نہیں، کھلا نہیں۔۔ جیسے کسی نے تمیز کو زور سے دھکا دے کر باہر پھینک دیا ہو۔ دروازے کی چٹراہٹ نے کمرے کی خاموشی کو چیر دیا۔ وہ لمحہ ایک تیز چیخ کی مانند تھا جو سنائی نہیں دیتی، مگر دل کی دھڑکنیں روک دیتی ہے۔
بیڈ پر پاؤں لٹکائے بیٹھی وہ چونکی نہیں… بس آنکھوں کی پتلیاں ایک جھٹکے سے دروازے کی طرف گھومیں، جیسے وہ پہلے سے اس لمحے کی منتظر ہو۔سکون کی گود میں سکڑتی اس کی خاموشی… اب ایک انجان آہٹ کے سامنے لرزنے لگی تھی۔
“دروازہ جس بدتمیزی سے کھولا گیا تھا، وہ گویا صبر کی آخری حد کو بھی روند چکا تھا۔”
وہ چونکی نہیں، جیسے اسے اس لمحے کی پیشگی اطلاع ہو، یا پھر وہ بےحس ہو چکی ہو۔
“اور بالکل اُس کی توقع کے عین مطابق…”
آوازوں سے بھرے کمرے میں ایک خالی سا لمحہ رکا…
“حسینہ بائی اندر داخل ہوئی۔۔۔ جیسے میلہ لوٹنے آئی ہو!”
انداز ایسا جیسے کسی فاتح نے شکست خوردہ بستی میں قدم رکھا ہو، آنکھوں میں تمکنت، چال میں بےباکی، اور ہونٹوں پر وہ مخصوص تمسخر جو صرف جیتنے والوں کے نصیب میں آتا ہے۔
منہ میں پان چباتے، گویا سرخ رنگ ہونٹوں سے نکل کر گالوں تک پھیل گیا ہو،
چہرے پر ایسا میک اپ جیسے میک اپ کے نام پر چہرے پر ظلم کیا گیا ہو۔
اونچا جوڑا، جیسے سر پر غرور کا تاج ہو،
اور ماتھے کی سائیڈ پر جھومر، گویا چمکتا ہوا طعنہ ہو… جو ہر قدم پر آنکھوں کو خیرہ کرتا چلا جائے۔
“میڈم… باہر تشریف لائیے! اس سے زیادہ تمہاری ادائیں دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں!”
وہ یوں بولی جیسے زبان میں شعلے لپک رہے ہوں۔
“باہر تیرے چاہنے والوں کی لائن لگی ہے… کیا تیرا باپ اُنہیں سنبھالے گا؟”
ایک ہاتھ دروازے کے پٹ پر ٹکائے، کمر اکڑائے، آواز میں طنز کی کڑواہٹ لیے،
وہ یوں کارتی چلی گئی جیسے لفظوں سے چہرہ نوچ رہی ہو۔
ماہ رخ (مدھم لہجے میں)
“میں نہیں آ سکتی… میری طبیعت ٹھیک نہیں… اور یہ بات آپ جانتی ہیں۔”
حسینہ بائی زبان میں زہر لیے، آنکھوں میں طنز لیے
“میں کچھ نہیں جانتی!
مجھے تو بس اتنا پتا ہے کہ میرا کوٹھا آباد رہنا چاہیے، چاہے کچھ بھی ہو۔
اور باہر… تیری موجودگی کتنی ضروری ہے، یہ تُو بھی اچھی طرح جانتی ہے۔
تیرے چاہنے والے، وہ جو تجھ پر نوٹ ایسے لٹاتے تھے جیسے ساون میں بادل،
اب بھی روز آتے ہیں، مگر تُو… تُو تو جیسے کنویں میں جا بیٹھی ہے۔
پہلے میں چپ ہو جاتی تھی، کیونکہ تیرا وہ اکیلا عاشق کافی تھا…تجھ پر محبت بھی نچھاور کرتا تھا، اور دولت بھی۔
مگر اب؟ اب تو وہ کئی مہینوں سے آیا ہی نہیں…شاید مر کھپ گیا ہو… یا کسی اور علی کا گاہک بن گیا ہو تجھ سے اس کا دل بھر چکا ہو ۔اس لیے میں تو مزید انتظار نہیں کر سکتی۔
باہر آ!
اور آگے کیا کرنا ہے، یہ تجھے خوب معلوم ہے۔یاد رکھ…فری میں تجھے تین وقت کا بہترین کھانا کھلانے کی مجمع ہمت نہیں۔!”
“میں نے جب کہہ دیا ہے کہ میں اس وقت نہیں آؤں گی… تو بس نہیں آؤں گی!میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
چاہے آپ سو باتیں بھی سنا لیں… میں تب بھی باہر نہیں جاؤں گی۔”
حسینہ بائی نے زہر آلود نظروں سے اسے گھورا۔ پھر تیز قدموں سے آگے بڑھتے ہوئے، جھٹ سے اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑا اور زور سے جھنجھوڑا۔
حسینہ غصے میں چیختے ہوئے بے دردی سے بالوں کو جھنجوڑ رہی تھی۔
“طبیعت خراب ہے؟ یا مرنے والی ہے؟
مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں!
یاد رکھ… تُو بہت چھوٹی تھی جب سے میں نے تجھے پالا ہے۔اسی لیے کبھی کبھی شفقت سے پیش آ جاتی ہوں…
مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر بار تیری من مانی چلتی رہے گی!
اُٹھ… اور فوراً تیار ہو جا!
دو منٹ میں تُو مجھے باہر نظر آنی چاہیے!”
ماہ رخ نے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے آنکھوں میں جمی آنسوؤں کی نمی چھپائے بغیر کڑوا لہجہ اپنایا۔ماہ رخ کپکپاتی آواز میں، مگر مضبوط لہجے میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔
“میں نہیں آؤں گی!
کیا کریں گی؟ ماریں گی؟
مار لیجیے…
یہ تو کوئی نئی بات نہیں…
اس سے پہلے بھی آپ کے ہاتھوں نہ جانے کتنی بار مار کھا چکی ہوں۔اب تو مار کھانے کی بھی عادت ہو گئی ہے۔اور … ‘شفقت’ کا نام مت لیجیے گا۔
جب آپ خاموش ہو جاتی ہیں نا…تو وہ خاموشی شفقت نہیں ہوتی…بلکہ نوٹوں کی گٹھیاں آپ کے منہ میں ٹھونس کر اواز بند کر دی جاتی ہیں۔چپ رہنا مجبوری بن جاتی ہے۔بس!اسی لیے آپ چپ ہو جاتی ہیں…”
حسینہ بائی کے لبوں پر زہر سے لبریز ہنسی بکھر گئی۔۔
“ہاں ہاں، بالکل سچ ہے!میں نے کب انکار کیا ہے؟تو اب بھی کوئی نوٹوں کی گٹھیاں دینے والا ڈھونڈ لا،حسینہ چپ ہو جائے گی…روز تیرے صدقے واری جائے گی!مجھے تو بس نوٹوں سے مطلب ہے
چاہے وہ ایک کے ذریعے آئیں یا دس گاہکوں کے ہاتھوں!اور سن…
جس کے عشق میں تُو مبتلا ہے نا،
وہ کبھی بھی تجھے اپنے گھر کی زینت نہیں بنائے گا۔۔۔فضول خواب دیکھنے بند کر ،تیری خوبصورتی صرف وقتی کشش تھی،جو اسے یہاں کھینچ لاتی تھی…مگر لگتا ہے اب اس کا دل بھر چکا ہے۔
ضد چھوڑ دے…
یہ ضد تجھے بہت مہنگی پڑے گی۔میں حسینہ بائی ہوں ۔تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گی اگر تُو نے میری توہین کروائی!
باہر گاہک بیٹھے ہیں…
اُٹھ… تیار ہو کر ان کے سامنے آ ،
مجھے ریٹ سیٹ کرنا ہے!”
“میں نہیں جاؤں گی!” مارغ اب بھی ضدی بنی ہوئی تھی۔
“نہیں جائے گی؟ تو رک!” حسینہ غصے سے باہر گئی، اور مارخ کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ یہ اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔
شہرام کی زندگی میں آنے سے پہلے بھی اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا تھا۔
چند ہی لمحوں میں، خونخوار چڑیل کی طرح حسینہ بائی دوبارہ اندر داخل ہوئی۔
اس کے ہاتھ میں وہی باریک، چمکدار لکڑی تھی ۔ وہی ہتھیار جس سے وہ ہمیشہ اسے مارا کرتی تھی۔
یہاں ایسی لڑکیوں کے لیے، جو حسینہ کی بات نہ مانتیں، سزا کا یہی طریقہ رائج تھا۔
پاگلوں کی طرح، ایک کے بعد ایک وار وہ معروف کی کمر پر کرتی چلی گئی، اور مارغ ہمیشہ کی طرح تڑپتی رہی۔
حسینہ نے دروازہ بند کر دیا تھا۔ آواز باہر نہیں جا سکتی تھی،
اور ویسے بھی، جب چیخ بلند ہوتی، تو اگلا وار اور بھی سخت ہوتا تھا۔
یہی حسینہ کا اندازِ ستم رہا تھا برسوں سے!
اکثر لڑکیاں مار کھا کر ہار مان لیتی تھیں،
اور مارغ بھی ہمیشہ مان جاتی تھی…
مگر آج ، نہ جانے کیوں وہ ضدی بنی ہوئی مار کھائے جا رہی تھی!
حسینہ بائی کے ہاتھ مارتے مارتے تھک چکے تھے۔مگر مجال ہے کہ ماہ رخ اپنی ضد سے ہٹی ہو۔مار کھا کھا کر وہ نیم بے ہوش ہونے لگی تھی،درد کی شدت سے آنکھیں بند تھیں اور چہرہ ایک طرف لٹکا ہوا تھا۔
اسی لمحے دروازہ زور سے کھٹکا۔
لالی، ہمیشہ کی طرح اپنی زنانہ ادا میں مچلتا ہوا اندر داخل ہوا۔
“ہائے میں مر گئی!”
اس نے سینے پر ہاتھ رکھا،
“حسینہ بائی! کیوں ظالم بن گئی ہو؟ بچی کو مار ہی ڈالے گی؟ اسے تو رات ہی سے بخار تھا۔”
لالی نے غصے اور دکھ کے ملے جلے جذبے سے آگے بڑھ کر حسینہ کے ہاتھ سے وہ باریک چمک چھین لی۔
“ہاں مار دوں گی اسے!”
حسینہ دھاڑی۔
“باہر گاہکوں کی لائن لگی ہے، سب کو یہی چاہیے۔اور یہ ہے کہ ضد ہی نہیں چھوڑ رہی۔۔اس کو پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی پیار سے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
اگر تجھے اتنی ہی ہمدردی چڑھی ہے، تو اسے تیار باہر آنے کے لیے کر،
ورنہ میں اس کے ٹکڑے کر دوں گی!”
حسینہ بائی تیز سانسیں پھونکتی ہوئی دروازہ زور سے بند کر کے نکل گئی۔
لالی تڑپ کر ماہ رخ کے قریب آئی،
“ہائے میری بچی! کیا حال کر دیا ہے ظالم نے۔”
وہ اسے سیدھا کر کے بستر پر لٹانے لگی،
آنسو پونچھتے ہوئے پانی کا گلاس منہ سے لگایا،
ماہ رخ نے بمشکل پانی پی لیا۔
“کیوں نہیں بات مان لیتی؟”
لالی نے اس کے بالوں کو آہستہ آہستہ سلجھاتے ہوئے کہا،
“جب تجھے پتہ ہے کہ ہم یہاں سے نکل نہیں سکتے،
تو پھر کیوں ضد کرتی ہے؟ کیوں خود کو تکلیف دیتی ہے؟”
ماہ رخ کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔
“نہیں کروں گی یہ کام! میں تھک چکی ہوں!”
وہ چیخی۔”میں انسان ہوں! ہر رات ایک نیا درندہ ، ایک نئی درندگی…تم جانتی ہو کچھ تو ایسے درندے ہوتے ہیں جن کے منہ سے مرے ہوئے کتے کے جیسی بدبو آتی ہے،
اور کتے کی طرح نوچتے ہیں…
ان میں انسانیت نہیں ہوتی، عورت نہیں لگتی میں انہیں…
ایک شے لگتی ہوں ۔ جسے جب چاہا جیسے چاہا استعمال کر لیا۔”اس کی چیخوں میں برسوں کی ٹوٹی ہڈیاں بول رہی تھیں۔
” ایک ہی بار مار دو مجھے!
وہ بھی تو واپس نہیں آیا … جوکہتا تھا مجھے یہاں سے لے جائے گا جو کہتا تھا وہ مجھ سے پیار کرتا ہے…
کہاں گیا؟
کچھ پتا نہیں…
اگر حسینہ نہیں مارے گی، تو میں خود اپنی جان لے لوں گی۔”لالی کی آنکھیں چھلکنے لگیں،”ہائے ہائے… ایسی باتیں منہ سے نہیں نکالتے۔
چھپ کر! تیری طبیعت ویسے ہی خراب ہے۔رک، دوا لا کر دیتی ہوں تاکہ درد سے کچھ آرام آ جائے۔ظالم نے کتنی بے دردی سے مارا ہے نشان ڈال دیا ہے۔”لالی اس کے جسم پر کرنے والے نیل دیکھ کر تڑپ اٹھی تھی۔
“مجھے نہیں چاہیے دوا!”
ماہ رخ کی آواز کٹی ہوئی سانسوں جیسی تھی،”دوا کھا کے کیا ہوگا؟
ٹھیک ہو جاؤں گی؟
پھر؟
پھر ریٹ فکس ہوگا، اور پھر… نوچی جاؤں گی…ہر سانس کے لیے تڑپتی ہوئی…
نہ جی سکوں گی، نہ مر سکوں گی۔ویسے میں تجھے کیوں بتا رہی ہوں ۔تُو تو خوش نصیب ہے، کہتو عورت نہیں ہے، یہ کیسے پتہ ہوگا وہ درد کیسا ہوتا ہے…”
مارخ کی آنکھوں سے بہتے آنسو اُس کے اندر کے طوفان کی ترجمانی کر رہے تھے۔
لالی نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے آہستہ سے کہا،
“چپ کر جا مارخ… دیکھ، میں ہوں نا تیرے پاس…”
مارخ نے بمشکل آنکھیں کھولیں مگر جواب نہ دے سکی، صرف سسکیوں کی گونج باقی رہ گئی۔
لالی کی نظریں اس کے زخموں پر گئیں اور وہ دبے لہجے میں بولی،
“کتنا ظلم کیا ہے ان لوگوں نے… یہ ہاتھ تو دیکھ، نیلا پڑ گیا ہے…”
وہ جانتی تھی وہ عورت نہیں جسے ماں بننے کی تکلیف، یا کسی مرد کے ہاتھوں بربادی کا درد سمجھ آئے۔ مگر پھر بھی،
وہ مارخ کے دل کا درد شاید اُس سے بہتر کوئی اور نہ سمجھ سکتا تھا۔
لالی نے احتیاط سے مرہم اٹھایا اور آہستگی سے اس کے زخم پر رکھنے لگی،
“بس ذرا سا لگے گا… برداشت کر، میری بہن…”
مارخ کا پورا جسم درد سے تڑپ اٹھا، لیکن زبان خاموش رہی۔وہ صبر کے آخری دائرے میں داخل ہو چکی تھی ۔ وہاں جہاں سسکیاں بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔
“لالی کیسا قانون ہے اس دنیا کا؟”
“اگر عورت کوٹھے پر موجود ہو تو طوائف، شوہر کے ہاتھوں ذلیل ہو کر کسی کی محبت میں گرفتار ہو جائے تو بدچلن،
اگر اپنی مرضی سے کسی کو پسند کر کے نکاح میں جانا چاہے… تو بغاوت اور غیرت کے نام پر قتل!”
آنسو پلکوں کی دہلیز سے چھلک کر، گالوں پر ایک بے آواز احتجاج چھوڑتے جا رہے تھے۔
“مگر ان مردوں کا کیا؟ جو روز کوٹھے کی زینت بنتے ہیں،
اپنی مردانگی کا ثبوت دینے کے لیے،
اپنے کردار کی گندگی چھپانے کے لیے!
ان کے لیے کوئی سوال نہیں، کوئی سزا نہیں؟”اس کی آواز تھرّا گئی تھی، پر سوال واضح تھا،
جیسے صدیوں کی گھٹن کو ایک لمحے میں لفظوں میں ڈھال دیا گیا ہو۔
“کتنے دوغلے ہیں یہاں کے اصول…
کتنے دولے ہیں یہاں کے ضمیر…”لالی خاموشی سے دوا لگا رہی تھی اس کے زخموں پر کیونکہ ایسے سوال اکثر مارخ سے کرتی مگر اس کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔
“کیا اس دنیا میں عورت ہونا جرم ہے؟
میرے اللہ نے تو عورت کا مقدر اتنا ذلیل نہیں لکھا…
میرے نبیؐ نے تو عورت کو عزت دی، پیار دیا، مقام دیا…
پھر یہ دنیا والے کس راہ پر چل رہے ہیں؟
کیا ان کے بنائے اصول اللہ اور رسول سے بڑ کر ہو گئے ہیں؟”
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر لہجہ شعلہ…
“چلوکوئی نہیں… پھر ان ‘ٹھیکے داروں’ سے بھی روزِ محشر سوال ہو گا۔
پوچھا جائے گا:
‘کس نے دی تھی تمہیں اجازت؟
آدم کی بیٹی کو یوں رسوا کرنے کی؟'”
فضا خاموش تھی… بس مارخ کی ہچکیوں کی مدھم آواز تھی، اور لالی کے دل میں اترتے مارخ کے الفاظ…
°°°°°°°
“السلام علیکم، ہیپی برتھ ڈے ٹو یو مائی ڈیئر سسٹر!”
زرام مسکراتے ہوئے دروازے پر آ کر خوشی سے بولا، جیسے کوئی بچہ اپنی پسندیدہ کھلونا ہاتھ میں لیے جھوم رہا ہو۔
رومی ہاسپٹل سے نائٹ شفٹ کے تھکن بھرے لمحوں کے ساتھ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی، زرام اور ملیحہ پہلے سے اس کے استقبال کو کھڑے تھے۔
“ہیپی برتھ ڈے رومی!”
ملیحہ نے نرمی سے کہا۔۔
“تھینک یو، تھینک یو سو مچ!”
رومی نے مسکرا کر جواب دیا، اس کی آنکھوں میں نیند اور خوشی دونوں کا عکس نمایاں تھا۔
“اچھا، رات کو ہماری طرف سے بھیجا گیا فلاور بُکے مل گیا تھا؟”
زارم نے رومی سے پوچھا۔ جبکہ رومی نے حیران نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔
“بُکے؟”
رومی نے پلکیں جھپکاتے ہوئے الجھن سے پوچھا۔
“ہاں بھائی، ہم دونوں نے رات کو تمہارے لیے برتھ ڈے اسپیشل بُکے تیار کروا کے بھیجا تھا۔ تم نے کارڈ نہیں پڑھا؟ اور اتنی کھڑوس ہو کہ تھینک یو بھی نہیں کہا۔ ہم نے سوچا کہ چلو جب گھر آؤ گی تو چھوٹی سی برتھ ڈے سیلیبریشن کر لیں گے، مگر پھول بھیج کر وش کر دیتے ہیں۔ ہم تو تمہارے فون کا انتظار کرتے رہ گئے!”
زارم نے خفگی سے شکوہ کیا، مگر لہجے میں محبت کا جھلک رہی تھی۔
رومی کو جیسے کوئی بھولی ہوئی بات یاد آ گئی تھی۔اس کے چہرے پر پریشانی اور حیرانی چھلک رہی تھی۔
” ہاں، میرے ٹیبل پر پھولوں کا بُکے تو رکھا تھا… مگر میں نے کارڈ دیکھا ہی نہیں!”
رومی نے پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے شرمندگی سے کہا۔
“اور نرسز جو باتیں کر رہی تھیں وہ سن کر سیدھی ڈاکٹر فیصل کے ساتھ جنگ کرنے جا پہنچی تھی…”
اس نے نظریں جھکاتے ہوئے آہستگی سے وضاحت دی، جیسے اعترافِ جرم کر رہی ہو۔مگر وہ اپنی سوچوں میں گم تھی۔
“او ہیلو! کس سوچ میں گم ہو، مس رومی؟”
زارم نے اس کے سامنے ہاتھ لہراتے ہوئے چھیڑا۔
“نہیں… کچھ نہیں… مجھے لگا وہ بُکے ڈاکٹر فیصل نے رکھا تھا… میں نے تو خوامخواہ اس بیچارے کو اتنی باتیں سنا دی… کتنی انسلٹ کر دی…”
رومی نے شرمندگی سے سر جھکا لیا، آواز میں ندامت گھلی ہوئی تھی۔
“کیااا؟ تم نے بیچارے فیصل کو کھری کھری سنا دی؟ ابے پاگل لڑکی! کم از کم اس پر لگا ہوا کارڈ تو کھول کر دیکھ لیتی… اس پر ہمارا نام لکھا ہوا تھا!”
زارم نے بے یقینی سے کہا، جیسے کسی نے اس کے سرپرائز پر پانی پھیر دیا ہو۔
“ویسے اگر اس بیچارے نے تمہیں بُکے بھیج بھی دیا ہوتا، تو اس میں انسلٹ کرنے والی بات تھی؟”
اس بار زارم کے لہجے میں سنجیدگی در آئی۔مگر اس سے پہلے کہ رومی کچھ بولتی، سلمہ بیگم بیچ میں کود پڑیں۔
“انسلٹ کرنے والی بات ہے! کیسے وہ میری بیٹی کو فضول میں پھولوں کے بُکے بھیج سکتا ہے؟ بے وقوف سا ڈاکٹر! مجھے تو بالکل ظاہر لگتا ہے…”
سلمہ بیگم کے لہجے میں شک اور سختی گھلی ہوئی تھی، جیسے زہر میں بجھی ہوئی چھری۔
“پلیز پھوپھو تھوڑا دھیان سے بات کیجئے! وہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے۔ اور جس طرح کا اس کا خاکہ آپ ذہن میں بنا رہی ہیں، وہ ویسا بالکل نہیں ہے۔ وہ رومی کی بہت ریسپیکٹ کرتا ہے۔”
زارم نے تحمل سے بات سنبھالتے ہوئے کہا، آواز میں فیصل کے لیے یقین اور اعتماد کی روشنی تھی۔
“ویسے بھی دونوں کولیگ ہیں، ایک ہاسپٹل میں جاب کرتے ہیں، تو اگر ایک دوسرے کو برتھ ڈے وش کر لیں تو اس میں میرا نہیں خیال کہ کوئی غلط بات ہے۔”زارم نے نرمی سے بات مکمل کی۔
ملیحہ یہ سارا تماشا خاموشی سے دیکھ رہی تھی،کیونکہ اس گھر میں تماشہ بننا روز کی کہانی تھی۔ اس کے چہرے پر ناگواری یا حیرت کے بجائے خاموشی تھی۔
“تم میری بیٹی کو الٹی سیدھی پٹیاں مت پڑھاؤ، سمجھے تم؟”
سلمہ بیگم نے تیز لہجے میں زارم کی بات کاٹ دی، “چلو رومی، میرے ساتھ کمرے میں آؤ۔ میں نے تمہارے لیے برتھ ڈے گفٹ خریدا ہے، آؤ دیکھو!”
انہوں نے رومی کا ہاتھ پکڑا اور زبردستی اپنے ساتھ لے جانے لگیں۔
رومی ابھی جانا نہیں چاہتی تھی، مگر سلمہ بیگم نے اس کا بازو زور سے کھینچا اور اسے کمرے میں لے گئیں۔
زارم نے نفی میں سر ہلایا، اس گھر میں کوئی کسی کی خوشی نہیں دیکھ سکتا۔
“اس گھر میں ہر کوئی ایک سے بڑھ کر ایک ہے… کسی کو خوشیاں اچھی ہی نہیں لگتیں۔”اس نے ملیحہ سے غصے اور بے بسی کے امتزاج میں کہا۔
“چلو چھوڑو، ہم نے رومی کو وش کیا ہے، وہ تو خوش تھی نا۔ اب آپ اپنا موڈ مت خراب کریں!”
ملیحہ نے ماحول ہلکا کرنے کی کوشش کی۔
“اچھا سنو! تم کچھ دن پہلے دن رومی کے ساتھ کہیں گئی ہوئی تھی…بتایا نہیں کہاں گئی تھی؟”
زارم کو ایک دم کچھ یاد آیا اور اس نے ملیحہ کی جانب دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“کیوں؟ آپ سے پوچھے بغیر میں کہیں نہیں جا سکتی؟”
ملیحہ نے ذرا سنجیدہ انداز میں سوال کیا،
“میں نے ایسا تو بالکل نہیں کہا… بالکل جا سکتی ہو، جہاں چاہو جا سکتی ہو… بس تمہارا شوہر ہونے کے ناطے پوچھنے کا حق تو مجھے ہے۔”
زارم نے نرمی سے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما، اس کے لہجے میں محبت کی نمی گھلی ہوئی تھی۔
“شاپنگ کرنے گئی تھی… مجھے کچھ چیزیں چاہیے تھیں، رومی کو بھی چاہیے تھیں… تو میں نے کہا کہ ہم ایک ساتھ شاپنگ کر لیتے ہیں۔ بس اسی کے لیے گئی تھی۔ اور آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے… وہ ابھی نہیں بتاؤں گی۔”
ملیحہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے رازدارانہ انداز میں کہا، جیسے دل میں چھپی خوشی ابھی بانٹنے کا وقت نہ ہو۔
“کیسا سرپرائز؟”
زارم نے تجسس سے پوچھا، جیسے کوئی بچہ بند ڈبے میں چھپا کھلونا دیکھنے کے لیے بے تاب ہو۔
“کہا تو ہے ابھی نہیں بتاؤں گی… جب بتانا ہوا بتا دوں گی۔ ابھی آپ مجھے اماں کے گھر چھوڑ آئیں، میں نے انہیں فون پر اطلاع دے دی ہے… وہ میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔”
ملیحہ نے نرمی سے درخواست کی،
“چلو جناب…جب جانے اجازت دے دی تو اب میں کیسے روک سکتا ہوں۔ مگر ملیحہ یار… تم رات رکنے والی بات مت کرنا، رات میں نہیں رکنے دوں گا۔ سارا دن ہے تمہارے پاس، میں ہاسپٹل جا رہا ہوں، تم سارا دن رہو، گپیں مارو، مگر رات کو نہیں۔ رات کو میں تمہیں واپس لے آؤں گا۔”
زارم نے بیچاری سی شکل بناتے ہوئے، ساتھ چلتے ہوئے کہا، جیسے اپنی ضد نرمی سے منوانے کی کوشش کر رہا ہو۔
زارم اور ملیحہ پہلے بھی اسی لیے نکلے تھے کہ رومی کو وش کرنے کے بعد وہ ملیحہ کو اس کی ماں کے گھر چھوڑ دے گا اور خود ہاسپٹل چلا جائے گا۔
“جی نہیں، مجھے رات رُکنا ہے۔”
ملیحہ نےضدی انداز میں کہا،
“یار ملیحہ، تنگ مت کرو۔ تمہیں اچھی طرح پتہ ہے… مجھے کمرہ تمہارے بغیر اچھا نہیں لگتا۔ اور ویسے بھی شادی کے بعد بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہیے، تم کوئی بچی تھوڑی ہو جو اپنے اماں ابا کے پاس رکنا ہے۔”
وہ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اسے نرمی سے گاڑی میں بٹھا کر دروازہ بند کرتے ہوئے بولا، پھر دوسری طرف سے آ کر خود بیٹھ گیا۔
“بیٹیاں بڑی ہوں یا چھوٹی، ان کا دل تو ہمیشہ ماں باپ کے پاس جانے کو کرتا ہے… ویسے بھی زارم، آپ کو تو پتہ ہے کہ میں اس معاملے میں کتنی بدقسمت رہی ہوں۔ ہمیشہ اماں ابا سے دور رہی، جب برسوں بعد ان کے پاس رہنا نصیب ہوا تو میری شادی ہو گئی… اور اس کے بعد آپ مجھے وہاں رکنے ہی نہیں دیتے۔ آج رکنے دو نا، پلیز… میرا دل چاہ رہا ہے۔”
ملیحہ نے زارم کا ہاتھ تھام کر التجا کی، اس کی آواز میں ایک ٹوٹا ہوا مان تھا۔
زارم اس کا انداز دیکھ کر نرمی سے مسکرا دیا۔”ٹھیک ہے یار، رک جانا… میں سمجھ سکتا ہوں۔ مگر میں اپنے دل کا کیا کروں… جو تمہارے بغیر نہیں رہنا چاہتا۔”
“دل کو ایک دن کے لیے سمجھا لیجیے گا۔”ملیحہ نے مسکرا کر نرمی سے کہا۔
“ٹھیک ہے، کوشش کروں گا سمجھانے کی۔ چلو ون کس دو پھر چھوڑ کر آتا ہوں۔”زرام کی نظروں سے شرارت چھلک رہی تھی۔۔
“چپ چاپ گاڑی چلائیں… اگر گاڑی میں کوئی ذرا سی بھی غیر ضروری حرکت کی نا، تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا! یہ کسنگ والا شوق تو آپ کا کبھی پورا نہیں ہوتا۔”
وہ بیچاری شرما کر لال ہو گئی، رخ دوسری جانب موڑگئی۔۔
“سنگ دل، ظالم، اللہ پوچھے گا تمہیں! شوہر کے جذباتوں سے کھیلتی ہو…”
وہ گاڑی چلاتے ہوئے خواتین کی طرح منہ بسورتے ہوئے بڑبڑایا، اور اس کی اس ادا پر ملیحہ کو بےاختیار ہنسی آ گئی۔
گاڑی میں خوشگوار ماحول بنا ہوا تھا۔ زارم نے پہلے اسے اس کے امی ابا کے گھر ڈراپ کیا۔ ملیحہ خوشی خوشی گاڑی سے نیچے اتری۔
“اندر نہیں آؤ گے؟”
اس نے گاڑی کے دروازے سے پلٹ کر پوچھا۔
“ابھی نہیں آؤں گا، ہاسپٹل سے لیٹ ہو رہا ہوں۔ مگر وعدہ، واپسی پر چکر لگا کر جاؤں گا… کیونکہ آپ کا دیدار کیے بغیر سکون تو مجھے بھی نہیں آتا۔ اب چپ کر کے، سامنے دروازہ ہے، چلی جاؤ… ورنہ میرا ارادہ بدلنے میں دیر نہیں لگے گی!”
زارم نے شرارت سے آنکھیں دکھائیں۔
“جانتی ہوں، آپ کے ارادے بہت کچے ہوتے ہیں۔ ٹھیک ہے، اپنا خیال رکھیے گا… اور کھانا ٹائم پر کھائیے گا۔ بائے!”
ملیحہ نے ہنستے ہوئے ہدایت دی۔
“بائے کی بچی! اتنی نصیحتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے… ہاسپٹل پہنچتے ہی فون کروں گا۔ باقی کی نصیحتیں فون پر کرنا!”
زارم نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھامے رکھا، جیسے لمحے کو روک لینا چاہتا ہو۔
“زارم! پلیز چھوڑیں، کوئی دیکھ لے گا،تو کیا سوچے گا ؟”ملیحہ شرما کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
“کیا سوچے گا؟ یہی سوچے گا کہ زارم سائیں اپنی بیگم کا ہاتھ پکڑ کے کھڑے ہیں، کیونکہ وہ بہت پیار کرتے ہیں!”
“بس! اب چپ چاپ ہاسپٹل جائیں… اور پیار واپسی پر جتا دیجیے گا!”
وہ مسکراتے ہوئے ہاتھ چھڑا کر دروازے کے اندر داخل ہو گئی۔
“ظالم لڑکی! چھوڑ کے چلی گئی…”
زارم زیرِلب مسکرا کر بڑبڑ ایا ، اور گاڑی کو ہاسپٹل کی جانب بڑھا دیا۔۔
°°°°°°°°
“کب تک منہ سوجا کر بیٹھنے کا ارادہ ہے میں نے اتنے پیار سے تمہارے لیے گفٹ پسند کیا اور منگوایا ہے ،اور ایک تم ہو کہ بتایا تک نہیں گفٹ کیسا لگا؟” سلمہ نے اپنے لائے ہوئے سونے کے ٹاپس کے بارے میں ایک بار پھر تجسس سے رومی سے پوچھا، جو بے دھیانی میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اُس کے دماغ میں ڈاکٹر فیصل کے ساتھ جان انجانے میں کی گئی گستاخی بار بار گونج رہی تھی۔
“آپ کا گفٹ بہت پیارا ہے، مگر آپ کا انداز بہت برا لگا۔ جس طرح سے آپ مجھے باہر سے اندر لائیں… میں زرام بھائی سے بات کرنا چاہتی تھی، اور آپ شاید جانے کیوں مجھے زبردستی کھینچ کر اندر لے آئیں۔ ہر بات کا ایک طریقہ ہوتا ہے!”
وہ کافی چڑھی ہوئی بول رہی تھی کیونکہ اس کا دھیان اب بھی فیصل پر تھا، جس کی کل اُس نے غلط فہمی کی بنیاد پر بلاوجہ اتنی بُری طرح سے بے عزتی کر دی تھی۔
“اچھا سن، تو ذرا اُس فیصل سے دور رہا کر، مجھے وہ بالکل پسند نہیں،” سلمہ نے اچانک کہا تو رومی نے حیرت سے اُسے دیکھا۔”کیوں؟ آپ کو وہ کیوں بُرا لگتا ہیں؟”
“اُس میں اچھا کیا ہے؟ مجھے نہیں پسند،تو مطلب نہیں پسند۔۔۔۔اور مجھے تو ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہیں تو اُس کے چکر میں آ جائے۔دھیان سے پھونک پھونک کر قدم رکھنا تجھے ضرورت نہیں ہے ایسے لڑکے کے پیچھے پڑنے کی۔ میں نے دل ہی دل میں تیرے لیے بہت کچھ سوچ رکھا ہے۔”
“پہلی بات، میں خود ڈیسائیڈ کروں گی کہ مجھے کیا کرنا ہے، اور میں اتنی بے وقوف نہیں ہوں کہ کسی کے چکر میں آ جاؤں۔ اور دوسری بات، آپ نے میرے لیے کیا سوچ رکھا ہے؟”
“مجھے پتہ ہے تو پتہ چلنا چاہیے۔۔
مجھے پتہ ہے کہ تو بڑی سمجھدار ہے، پر میں تیری ماں ہوں، تجھ سے بھی آگے کا سوچتی ہوں۔ میں نے تیرے لیے زرام کا سوچا ہے۔ ہر لحاظ سے تیرے لیے پرفیکٹ ہے۔ خوبصورت ہے، پڑھا لکھا ہے، ڈاکٹر ہے،اس کا اپنا ہاسپٹل ہے، اور آنے والے وقت میں سب کچھ اُسی کے ہاتھ میں ہوگا۔”قدسی اپنی بیٹی کو بہت اچھے انداز سے سہانے خواب دکھا رہی تھی۔
“استغفراللہ، استغفراللہ، اماں! آپ کتنا گندا سوچتی ہیں! آپ کو یہ بات کہتے ہوئے ذرا سی بھی شرم نہیں آئی؟ زرام بھائی میرے بھائی جیسے نہیں میرے بھائی ہیں۔ زیغم بھائی، زرام بھائی، شہرام بھائی سب کو میں ہمیشہ بھائیوں کی نظر سے دیکھتی آئی ہوں، اور آپ کے دماغ میں یہ سب چل رہا تھا؟ استغفراللہ!” رومی کو اپنی ماں کی بات پر شدید غصہ آیا تھا۔وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی ماں دماغ میں ایسی رنگ برنگی کھچڑی بنا رہی ہے۔۔۔
“تو چپ کر! باقی دونوں کو بھائی بنا لو، مگر مہربانی کر کے زرام کو بھائی بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
” اگرمیرے حساب سے چلے گی تو مجھے دعائیں دے گی۔ اُس کے ساتھ تیرا مستقبل بہت روشن ہے۔” سلمہ کو اب بھی اپنے الفاظ پر کوئی شرمندگی نہیں تھی۔
“آپ کہاں سے لاتی ہیں ایسے خرافاتی خیالات؟ اور آپ نے یہ بات کہتے ہوئے ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کہ ملیحہ اُس کی بیوی ہے؟ اور اُن کی لو میرج ہے؟ وہ بہت خوش ہیں ایک دوسرے کے ساتھ۔ مگر پھر بھی آپ نے اتنا گندا خیال اپنے ذہن میں آنے دیا؟ میں حیران ہوں آپ کی سوچ پر!”ملیحہ کو تو اپنی ماں کی سوچ پر حیرت اور غصہ دونوں ایک ساتھ ارہے تھے۔
“ملیحہ کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے،اسکا پتہ تو قدسیہ بہت جلد صاف کرنے والی ہے۔ اُس دن میں نے چپکے سے اُس کی باتیں سنی تھیں۔ وہ شرام اور توقیر سے رابطے میں ہے، اور یہ بات کسی کو نہیں پتہ۔ وہ کہہ رہی تھی کہ بہت جلد وہ اُس لڑکی کو زرام کی زندگی سے نکال دے گی۔۔۔
” تُو قدسیہ کو نہیں جانتی، جو بات وہ کہتی ہے، وہ کر کے دکھاتی ہے۔ اور دوسری طرف توقیر اور شہرام بھی کوئی بڑا کھیل کھیل رہے ہیں۔ لگتا ہے زیغم اور دانیا کا بھی جلد پتہ صاف ہونے والا ہے۔۔۔
اُس کے بعد گھر میں صرف شہرام اور زرام کا راج ہوگا۔ اور اگر تیری شادی زرام سے ہو گئی تو ہم عیش کی زندگی جییں گے۔۔۔
زرام میں ہمت ہے، وہ اپنی ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے۔ تو تھوڑا دور کا سوچ، بے وقوف نہ بن۔آج کل کے وقت میں صرف اپنے بارے میں سوچنا چاہیے۔” قدسیہ کی پوری پلاننگ سن کر رومی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“خدا کی قسم اماں، شیطان بھی آپ سے پناہ مانگتا ہوگا! پہلی بات، دوسروں کے کمروں میں کان لگا کر ان کی باتیں سننا گناہ ہے۔اللہ کا واسطہ ہے اللہ سے ڈرے یہ چغلیاں اور سازشیں چھوڑ دیں۔رومی نے اپنی ماں کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔۔
” آپ کی عمر اللہ اللہ کرنے کی ہے، نہ کہ شیطانی پلان بنانے کی۔ اور دوسری بات، زرام بھائی کے ساتھ شادی کے بارے میں، میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی! تیسری بات، اگر قدسیہ مامی، توقیر ماموں اور شہرام بھائی مل کر کوئی گندا کھیل کھیل رہے ہیں تو آپ کو زیغم بھائی کو فوراً اطلاع دینی چاہیے۔
“میں تو حیران ہوں کہ حقیقت جانتے ہوئے کیسے آپ چپ بیٹھ سکتی ہیں۔۔اور اس سے بھی زیادہ حیرانی کی بات ہے کہ آپ خوش ہو رہی ہیں؟ کیسی پھوپھو ہیں آپ؟
“پھوپھو تو بھائیوں کی اولادوں کے لیے جان دے دیتی ہیں! اور آپ ہیں کہ اپنے بھائیوں کے بچوں کو قتل و غارت کے منصوبے بناتے ہوئے دیکھ خوش ہیں۔”
“ساری زندگی بھائیوں نے صرف اپنے بارے میں سوچا ہے، تو پھر میں کیوں نہ اپنی بیٹی کے بارے میں سوچوں؟ اللہ جنت نصیب کرے سلطان بھائی کو، وہ اچھے تھے، مگر وہ تو کب کے چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد گھر میں قدسیہ کی سرداری تھی اور قدسیہ مجھے جوتے کے نوک پر نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔۔اور اب پھر سے وہ وقت دور نہیں ج۔ گھر میں قدسیہ کی سرداری پھر سے ہوگی ، اور قدسیہ اور توقیر نے ہمیشہ مجھے نیچا دکھایا ہے۔ میں ساری زندگی اُن کے قدموں تلے تو نہیں رہ سکتی۔اور نہ ہی گھر چھوڑ سکتی ہوں۔ اس لیے میں ایسی پلاننگ کر رہی ہوں جس سے ہمارا مستقبل بہتر ہو۔
“تُو ابھی سے ذرام پر ڈورے ڈالنے شروع کرو اسے اپنی قید میں کرنا شروع کرو۔ اور تمہارے لیے زیادہ مشکل کام نہیں ہے سارا دن تم اس کے ساتھ ہاسپٹل میں رہتی ہو۔اور فیصل سے دور رہ!”
“میں ایسا ویسا کچھ نہیں کرنے والی۔ آپ کے شیطانی خیالات آپ کو مبارک، اور پلیز مجھے ڈسٹرب نہ کریں۔ مجھے نیند آ رہی ہے۔” وہ غصے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کرتے ہوئے کمر پر ہاتھ رکھے ادھر سے ادھر جا رہی تھی۔۔۔۔وہ تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی ماں ایسی بھی پلیننگ کر سکتی ہے جسے وہ سادہ اور معصوم سمجھتی تھی اس کی ماں ایسی سوچ رکھتی ہوگی وہ حیران تھی۔۔۔۔
“اللہ تعالیٰ معاف کرے، اماں کتنا برا سوچتی ہیں۔”
“کیا واقعی توقیر ماموں اور اُن کی فیملی زیغم بھائی کی فیملی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں؟”
“مجھے کیا کرنا چاہیے؟”
رومی کا دماغ الجھ کر رہ گیا تھا، اور سوچ سوچ کر اُس کا سر پھٹنے لگا۔بچپن سے رشتوں کے لیے ترستی ہوئی لڑکی کو رشتوں کا بھنڈار ملا تھا وہ ان میں سے کسی کو بھی کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔
°°°°°°°°°°°
ملیحہ جیسے ہی مسکراتی ہوئی گھر کے اندر داخل ہوئی، سامنے ہی چارپائی پر، کمرے کی سامنے والی دیوار کے ساتھ، اس کی ماں لیٹی ہوئی تھی۔ چہرے سے صاف لگ رہا تھا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ پاس ہی اس کے بابا ویل چیئر پر بیٹھے تھے۔
“السلام علیکم، کیسے ہیں آپ؟”
وہ اپنے بابا سے لپٹتے ہوئے چہک کر بولی، مگر جیسے ہی اس کی نظر ماں پر دوبارہ پڑی، چہرے کی خوشی غائب ہو گئی۔
“اماں، آپ کو کیا ہوا ہے؟ طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔؟
“میری طبیعت ٹھیک ہے، بس ذرا سا بخار ہے۔ وہی اترنے کا نام نہیں لے رہا۔
“اور آپ نے مجھے بتایا تک نہیں؟”
کچھ زیادہ بڑی بات ہوتی، تو ضرور بتاتی۔”انہوں نے بیٹی کا ماتھا چومتے ہوئے کہا اور اٹھنے لگیں۔
“اماں، آرام سے لیٹی رہیں، اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ لوگوں نے مجھے اتنا پرایا کر دیا ہے کہ بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ کم از کم خبر تو کرتے، میں آ کر خیال رکھ لیتی۔”وہ ناراضگی سے بولی۔
“نہیں بیٹا تم اپنے گھر پر توجہ دو بخار ہے اتر جائے گا ملیحہ کے بابا نے کہا..”جی نہیں صرف میرا وہ گھر نہیں ہے یہ بھی میرا گھر ہے میری اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں میں کیسے سکون سے رہ سکتی ہوں۔
“اچھا، جلدی سے بتاؤ، کیا کھانا ہے میری بیٹی اتنے دنوں بعد آئی ہے۔؟”
اس کے بابا نے مسکرا کر بات کا رخ بدلا۔
“کچھ بھی نہیں کھانا، ۔ سب کچھ کھا پی کر آئی ہوں۔ آپ مجھے یہ بتائیں، اماں کو کتنے دن سے بخار ہے؟”ملیحہ اپنی ماں سے مخاطب تھی۔ملیحہ کے چہرے پر اپنی ماں کی حالت دیکھ کر پریشانی چھلک رہی تھی۔
“بیٹا، چھ سات دن ہو گئے ہیں۔”
اس کی اماں نے سنجیدگی سے جواب دیا۔مگر تم فکر نہ کرو میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔
“کیسے فکر نہ کروں اپنی حالت دیکھیں کیسی ہو گئی ہے ۔۔۔اور ان چھ سات دنوں میں ایک بار بھی خیال نہیں آیا کہ ملیحہ کو بتانا چاہیے؟ کم از کم میں آ جاتی، چند دن آپ دونوں کا خیال رکھ لیتی۔مگر آپ نے تو مجھے پرایا ہی کر دیا ہے خیر خبر دینا ضروری نہیں سمجھتے ۔”
“چلو خیر، اب جو ہونا تھا، ہو گیا۔ اب میں یہی رہوں گی کچھ دن، اور خود اماں کا خیال رکھوں گی۔آپ مجھے جلدی سے بتائیں کہ انہوں نے کچھ کھایا ہے؟”
“نہیں بیٹا، کچھ نہیں کھایا۔ بہت ضدی اور چڑچڑی ہو گئی ہیں۔ کھانے کا پوچھو تو ناراض ہو جاتی ہیں۔”
“کوئی بات نہیں، اب میں آ گئی ہوں۔ میری اماں میرے ہاتھ سے ضرور کھائیں گی۔ میں ابھی اماں کے لیے مزیدار کھچڑی بناتی ہوں۔ اماں! کھچڑی بناؤں؟ کھائیں گی نا؟ یہ نہ ہو کہ میں ابا کے سامنے مجھے شرمندہ کروا دیں !”ملیحہ مسکرا کر اپنی ماں کا موڈ خوشگوار کرنا چاہتی تھی۔
“میری بیٹی جو بھی بنائے گی، میں کھا لوں گی۔”ملیحہ کی اماں نے پیار سے کہا۔
“یہ کیا بات ہوئی؟ بیٹی کے کہنے پر کھانے کے لیے مان گئی ، اور میرے ہاتھ سے کچھ کھانے کو تیار نہیں تھیں!”
اس کے بابا نے مصنوعی ناراضگی جتائی۔
“کیونکہ میری اماں مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہیں ، آپ سے تھوڑا کم!”
ملیحہ نے ہنستے ہوئے چھیڑا۔ اس کے آنے سے گھر میں جیسے رونق سی لگ گئی تھی۔”
’’ہاں بھائی، پیار تو یہ تم سے ہی کرتی ہے… دن میں نہ جانے کتنی بار تمہیں یاد کرتی ہے… تمہاری باتیں ہی ختم نہیں ہوتیں۔‘‘
ملیحہ کے بابا نے اس کے چہرے پر ابھرتی مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا، لہجے میں محبت اور تھکن دونوں تھیں۔
جبکہ اس کی اماں چارپائی پر خاموش لیٹی تھیں، نقاہت سے چہرہ زرد اور آنکھیں بجھی ہوئی تھیں۔ کمزوری کی شدت ایسی تھی کہ وہ بولنا بھی چاہتی تھیں مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ ان کی خاموشی چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ وہ اندر سے کتنی ٹوٹ چکی ہیں۔عمر کا تقاضہ بھی تھا اور کچھ بیمار تھی ،اور اوپر سے کوئی خیال رکھنے والا بھی پاس نہیں تھا۔۔
ملیحا کا دل ایک بار پھر بھاری ہو گیا، وہ نظریں چرا کر ادھ کھلے دروازے کی سمت دیکھنے لگی… جیسے خود کو سنبھالنے کے لیے کوئی اور منظر ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔اس نے چاروں اطراف میں نظریں دوڑائیں۔ گھر کچھ زیادہ صاف ستھرا محسوس نہیں ہو رہا تھا، حالانکہ اس کی اماں ہمیشہ گھر کو چمکا کر رکھتی تھیں۔ گھر بے شک کچا اور بوسیدہ تھا، مگر صفائی ستھرائی میں کبھی کوئی کمی نہ رہتی تھی۔۔۔کئی بار ذرام نے ان کی ہیلپ کرنے کی کوشش کی مگر وہ خوددار لوگ تھے ہر بار منع کر دیتے۔۔
اپنی اماں کی حالت دیکھ کر اسےصاف اندازہ ہو رہا تھا کہ اُن میں اب وہ طاقت نہیں رہی کہ صفائی کر سکیں۔ اور بابا بیچارے تو ویسے بھی معذور تھے، اس لیے گھر میں اور کوئی نہ تھا جو خیال رکھتا۔ ملیحہ کا دل ایک عجیب سی بے چینی کا شکار ہو رہا تھا۔”
ملیحہ نے جلدی سے چادر اتاری، بیگ رکھا، اور گھر کی صفائی اور کھچڑی بنانے میں لگ گئی۔ کچھ ہی منٹوں میں اس نے گھر کو کافی حد تک سمیٹ لیا اور تقریباً آدھے گھنٹے میں کھچڑی بھی تیار کر دی۔
“ملیحہ کی اماں، بیٹی کتنی پیاری چیز ہے، اپنے گھر کی ہو کر بھی اُسے ہماری کتنی فکر ہے۔” ملیحہ کے بابا نے شفقت بھری نظروں سے اپنی بیٹی کی جانب دیکھتے ہوئے ملیحہ کی ماں سے کہا۔
ملیحہ کی ماں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
“چلیے اماں، اٹھ کر بیٹھیں۔ میں آپ کو کھچڑی کھلاتی ہوں۔”
وہ اپنی ماں کو سہارا دے کر بٹھا رہی تھی اور اپنے ہاتھوں سے کھچڑی کھلا رہی تھی۔
ساتھ ہی بابا کے لیے چائے بھی تیار کی،
“ملیحہ بیٹا، تمہارے ہاتھ کی چائے مجھے بہت پسند ہے۔ جیتی رہو، دل خوش کر دیا!”
بابا نے پہلا گھونٹ لیتے ہی پیار سے کہا۔
اس کی اماں مسکرا رہی تھی، کمزور سا چہرہ، مگر آنکھوں میں سکون تھا۔ وہ بیٹی کے ہاتھ سے کھچڑی کھا رہی تھی۔ گھر میں ایک بار پھر زندگی محسوس ہو رہی تھی۔
ملیحہ زرام کے ساتھ بہت خوش تھی، مگر ماں باپ کے گھر کی فضا میں ایک الگ سا سکون ہوتا ہے، وہی سکون اس وقت ملیحہ محسوس کر رہی تھی۔
اس کی ماں کے کمزور چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی، اور بابا تو چائے کی تعریف کرتے ہوئے تھک ہی نہیں رہے تھے۔ اسی لمحے اس کے موبائل کی رنگ ٹون نے اسے بتا دیا کہ اس کا پیارا شوہر اسے یاد کر رہا ہے۔
“اماں، میں دو منٹ، ذرام سے بات کر لوں؟”
“جی میرا پتر، جا کر کرو بات۔”
ملیحہ اپنا فون اٹھا کر سائیڈ پر آ گئی۔ اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ اپنے بابا کے سامنے بات کرے، کیونکہ اس کے پیارے شوہر محترم کی ٹون زیادہ تر رومینٹک ہی رہتی تھی، اور وہاں وہ بالکل بھی جواب نہ دے پاتی۔ اس لیے کمرے سے نکل کر صحن کے عقب میں لگے ہوئے جامن کے درخت کے نیچے رکھی ہوئی پرانی سی لکڑی کی دو کرسیوں میں سے ایک پر آ کر بیٹھ گئی۔
“تجھے نہ دیکھوں تو چین مجھے آتا نہیں
اک تیرے سوا مجھ کو کوئی بات نہیں
کہیں مجھے پیار ہوا تو نہیں…
جیسے ہی ملیحہ نے فون کان سے لگایا، زرام کی دلکش، رومینٹک سی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ وہ سونگ گنگنا رہا تھا۔ ایسی حرکتیں زرام کی عادت میں شامل تھیں، جو ملیحہ کے لیے نئی نہیں تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ زرام فطری طور پر چنچل مزاج ہے، بس اس کے گھر والے اسے کھل کر زندگی جینے ہی نہیں دیتے تھے۔
“نہیں، میرے خیال سے ڈاکٹر صاحب، آپ کو چیک اپ کی ضرورت ہے۔ آپ کو پیار نہیں، بخار ہوا ہے!” ملیحہ نے شرارتی انداز میں کہا، اور ساتھ ہی درخت پر بیٹھے خوبصورت پرندوں پر نظر ڈالی، جو دلکش آوازوں میں چہک رہے تھے۔
ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی، موسم جیسے ملیحہ کے دل کی کیفیت سے ہم آہنگ ہو رہا تھا۔
“دیکھ لو، جاتے ہی تم بدل گئیں۔ اسی لیے تمہیں خود سے دور نہیں کرتا۔ ابھی سے تمہیں میرا پیار بخار لگنے لگا؟ زرام نے میٹھی سی شکایت کی؟” زرام کے لہجے میں مصنوعی ناراضی تھی۔۔
“ویسے، آپ کو گئے صرف آدھا گھنٹہ ہوا ہے۔ ابھی فون کیوں کر لیا؟” ملیحہ نے جان بوجھ کر اسے چھیڑا۔
“کیا مطلب! بے حس لڑکی تمہیں اندازہ ہے آدھے گھنٹے میں کتنے منٹ اور کتنے سیکنڈ ہوتے ہیں، تمہیں پتا ہے؟”
“اچھا چلو، مجھے یہ بتاؤ کہ اماں اور ابا کیسے ہیں؟”
زارم، ایک بڑے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود، ملیحہ کے ماں باپ کو ماں باپ کا سا درجہ اور عزت دیتا تھا۔ وہ بھی “اماں” اور “ابا” کہہ کر ہی پکارتا، جو بات ملیحہ کے دل کو بہت بھاتی۔
“ذرام اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اماں کو پچھلے چھ سات دن سے بخار ہے۔ وہ کافی کمزور لگ رہی تھیں اور کچھ کھا پی بھی نہیں رہی تھیں۔ ابھی میں نے آ کر کھچڑی بنائی ہے اور زبردستی اپنے ہاتھ سے کھلا رہی تھی، کہ آپ کا فون آ گیا۔”
“اوہ! اللہ تعالیٰ شفا دے۔ تم نے بتایا نہیں، ورنہ میں خود آ کر ان کا چیک اپ کر لیتا، دوا بھی دے دیتا۔”
“خیر، اب طبیعت کیسی ہے؟”
“زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اور مجھے آپ سے کہنا تھا کہ میں کچھ دن یہاں رک جاؤں، کیونکہ اماں کو اس حالت میں کیسے چھوڑ کر آؤں؟”
دوسری جانب مکمل خاموشی چھا گئی۔
“ذرام، پلیز کچھ تو بولیں۔ مجھے معلوم ہے آپ کو میرا یہاں رکنا اچھا نہیں لگے گا، لیکن اماں کو چھوڑ کر کیسے آ جاؤں؟ وہ واقعی ٹھیک نہیں ہیں۔ ورنہ میں کبھی بھی ضد نہیں کرتی، نہ پہلے کبھی کی ہے۔”
ملیحہ سے زرام کی خاموشی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔
“ملیحہ، ایسا نہیں ہے یار۔ میں تمہیں وہاں چھوڑنا نہیں چاہتا، وہ تمہارے ماں باپ ہیں۔ مجھ سے پہلے ان کا حق ہے تم پر۔ لیکن یار، مجھے تمہارے بغیر کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔
ایسا کرو، ہم انہیں حویلی لے آتے ہیں۔ جب تک اماں ٹھیک نہیں ہوتیں، وہ وہیں رہیں۔ تم آرام سے ان کا خیال بھی رکھ سکو گی اور مجھ سے بھی دور نہیں رہو گی۔”
“نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں اماں اور ابا کبھی نہیں مانیں گے۔ وہ اپنی غربت میں بھی کسی کا احسان نہیں لینا چاہتے۔ اور اس گھر سے جو ان کا جذباتی تعلق ہے، اس سے دور جانا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اور آپ کو معلوم ہے، آپ کی اماں کبھی بھی کچھ بھی کہہ دیتی ہیں اور نایاب بھی کوئی لحاظ نہیں رکھتی، تو ایسے میں ان کو وہاں لے جانا مناسب نہیں ہوگا۔ پلیز، کچھ دن کی بات ہے، آپ برداشت کر لیں۔”
“ہاں، یہ بات ٹھیک ہے۔ وہاں رہنا واقعی مشکل ہو گا۔ اماں ابا کو بھی پریشانی ہوگی۔ ٹھیک ہے، تم رک جاؤ۔ذرا گہری سانس لی۔۔۔۔”میں بیچارہ کچھ دن جاگ کر گزار لوں گا۔”
“تھینک یو۔”
“کس لیے؟”
“اتنا پیار کرنے، اتنی سپورٹ کرنے کے لیے۔ آپ بہت اچھے ہیں، ذرام۔”
“ٹھیک ہے، میری اچھائی کو خراجِ تحسین آ کر پیش کر دینا، میں بالکل بھی انکار نہیں کروں گا!” زرام کے لہجے میں شرارت کھلنے لگی تھی۔
“میں جا رہی ہوں، ابھی اماں ابا کے پاس ، بعد میں بات کروں گی۔”
“چلو ٹھیک ہے، چلی جاؤ۔ میری طرف سے ان کو سلام کہنا۔ میں شام کو چکر لگاؤں گا۔ اور پلیز… ایک کس دے دو؟”
“آپ کو شرم نہیں آتی؟ ہر وقت ایک ہی بات کرتے رہتے ہیں۔ فون بند کریں، آپ کے پیشنٹس سن لیں گے تو آپ کے بارے میں پتا نہیں کیا سوچیں گے!”
“کچھ نہیں سوچیں گے۔ سوچیں گے کہ میں کتنا اچھا ڈاکٹر ہوں، اپنے کام میں بھی، اپنی مسز کو بھی یاد رکھتا ہوں، پیار کرتا ہوں!”
“اچھا ٹھیک ہے، اللہ حافظ!”
ملیحہ نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔
“فون بند کر دیا ظالم لڑکی قدر ہی نہیں ہے پیار کرنے والے شوہر کی دماغ میں سوچ کر مسکراتے ہوئے سر اپنے گھومنے والی کرسی کی پشت سے ٹکا گیا۔۔۔
ملیحہ شرماتا ہوا چہرہ لیے جب وہ اپنے اماں ابا کے پاس پہنچی تو اسے خوش دیکھ کر ان کے چہرے بھی کھل اٹھے۔بیٹی کا چہرہ دیکھ کر نظر آرہا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوشگوار زندگی گزار رہی ہے اور ماں باپ کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا تھا۔۔
“اماں ابا، آپ کو ذرام سلام کہہ رہے تھے۔ اور وہ کہہ رہے تھے کہ شام میں ائیں گے آپ کا حال چال پوچھنے۔”
“یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے ملیحہ کے ابا کچھ اچھا سا کھانے کا انتظام کرنا۔ ہمارا داماد کافی عرصے بعد ہمارے گھر آ رہا ہے!”
اس کی ماں کو بیماری میں بھی داماد کی خاطر تواضع کی فکر لگ گئی۔
“اماں، آرام کریں۔ میں ذرام سے کہہ دوں گی، آتے ہوئے کچھ لے آئیں گے۔”
“نہیں بیٹا، ہمیں اچھا نہیں لگے گا۔ ہم اپنے گھر سے، چاہے تھوڑا ہی سہی، اپنے گھر سے کھلائیں گے۔” اس کے ابا نے نرمی سے کہا۔
“ابا آپ کو تکلف کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ ایسے نہیں ہیں جیسا آپ سوچتے ہیں، وہ بہت اچھے ہیں۔ اپنے گھر والوں سے بالکل مختلف۔”
“پھر بھی بیٹا، تم ہمیں بتاؤ اسے کیا پسند ہے۔ میں سائیں کے حساب سے سب چیزیں لے آؤں گا، تم بنا لینا۔ یہ ہماری خواہش ہے کہ وہ ہمارے گھر کا کھانا کھائے۔”
“ٹھیک ہے ابا، آپ ایک کام کیجیے گا۔ بریانی کا سامان منگوا دیں، اور ساتھ میں رائتہ بھی بنا لیں گے۔ وہ بہت شوق سے کھاتے ہیں۔”
“ٹھیک ہے، میں لے آؤں گا۔”
“چلو اماں، اب جلدی سے آپ کھچڑی ختم کریں۔”
“نہیں، بس، میں اور نہیں کھاؤں گی۔”
“نہیں، تھوڑی سی اور کھانی پڑے گی!”
ملیحہ ضد کرتی ہوئی اپنی ماں کو کھانا کھلانے لگی۔ گھر میں رونق سی لگ گئی تھی۔بیٹیاں گھر کی رونق ہوتی ہیں یہ بات بالکل سچ تھی۔۔۔
°°°°°°°°
“فیصل نائٹ ڈیوٹی سے آنے کے بعد بھی پرسکون نیند نہ سو سکا تھا۔ وجہ رومی کی وہ باتیں تھیں، جو دل کو بےچین کر دینے کے لیے کافی تھیں۔
وہ بہت کچھ اہسا کہہ گئی تھی، جو اسے اپنی بے عزتی محسوس کروانے کے لیے کافی تھا۔
بےچینی سے وہ بیڈ پر کروٹیں بدل رہا تھا، دل سکون کی تلاش میں تھا۔آنکھیں بند کر کے پرسکون سونا چاہتا تھا مگر نیند آنکھوں سے کوسو دور تھی۔۔
پھر نہ جانے کیسے، ہمیشہ کی طرح زرام کو اس کی کیفیت کا احساس ہو گیا۔
زندگی میں جب بھی کبھی وہ پریشان ہوتا یا الجھتا تھا، زرام کا فون ضرور آتا تھا… اور آج بھی وہی ہوا۔فیصل کے موبائل پر زرام کی کال آرہی تھی۔۔
اسے آج تک اپنے اس کنکشن کی سمجھ نہیں آئی تھی کہ کیسے اس کے دل کی آواز اس کے دوست کے دل تک پہنچ جاتی تھی۔
فیصل نے نمبر دیکھے بغیر ہی دل کی گواہی سے جان لیا کہ یہ فون اسی کا ہے۔
دل میں اک خفیف سی خوشی ابھری، اور لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
کہتے ہیں، کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو دکھ کی گھڑی میں بھی چہرے پر مسکراہٹ لے آتے ہیں۔شاید انہی خوبصورت رشتوں میں سے ایک رشتہ دوستی کا ہوتا ہے،فیصل نے مسکراتے ہوئے فون کان سے لگا لیا۔
“کیا بات ہے جناب؟ ابھی تک جاگ رہے ہو؟ مجھے تو لگا تم نائٹ ڈیوٹی کے بعد گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہے ہو گے!”
زرام کی وہ کھنک دار اور مانوس آواز سماعت سے ٹکرائی تو فیصل کی بےچینی میں ٹھہراؤ آ گیا۔
“سونا تو چاہتا تھا… مگر اگر کسی کو نیند ہی نہ آئے تو بندہ کیا کرے ؟”
فیصل کا لہجہ تھکا ہوا تھا، جیسے جسم نہیں، دل تھک گیا تھا۔
“سوچ لو یار، نیند نہ آنا دو ہی باتوں کا اشارہ ہوتا ہے…”
ذرام کی آواز میں وہی چٹکی لیتا انداز تھا۔
“یا تو بندہ عشق میں گرفتار ہے… یا پھر کوئی خطرناک بیماری لے بیٹھا ہے!”
نہ کرے کہ مجھے کوئی بیماری ہو، میں بالکل فٹ ہوں!”
فیصل نے ذرا سا برا مان کر کہا،
“دوست ہو کر یار، کتنی منوس بات کرتا ہے تُو!”
“ویسے پوائنٹ نوٹ کرنے والا ہے…”
زرام نے معنی خیز انداز میں کہا،
“میں نے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا تھا، مگر تم نے صرف ایک کی صفائی دینا ضروری سمجھی۔”
“ہمم،مطلب… کہ دوسری بات تو موجود ہے تمہیں پیار ہو گیا ہے!”
وہ لمحہ بھر رکا، پھر مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا،فیصل کے دل میں چھپی بات کو زرام جیسے کھینچ کر باہر لانا چاہتا تھا۔
وہ اس کے دل کی جانتا تھا، مگر آج وہ وضاحت فیصل کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
“میرے خیال سے مجھے بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے…”
فیصل نے ہلکی سی جھنجلاہٹ سے کہا،
“میرے دل کی بات تو تُو مجھ سے بہتر جانتا ہے۔ پھر بھی تیری نا… چسکے لینے والی عادت جاتی نہیں!”
فیصل کا لہجہ بظاہر سخت تھا، مگر اندر چھپی بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔
زرام کے لبوں سے ایک بھرپور قہقہہ چھوٹا، فضا میں گونج گیا۔
“دانت مت نکال!”
فیصل نے خفگی سے کہا،
“ویسے بھی تیری بہن کل میری اچھی خاصی عزت افزا ئی کر کے گئی ہے۔ نہ جانے کیا کیا سنا گئی… وہ سب کچھ اب تک دل میں چبھ رہا ہے۔ اسی کا درد ہو رہا تھا، اس لیے نیند نہیں آ رہی۔”
آخرکار سچائی فیصل کی زبان پر آ ہی گئی۔
“جانتا ہوں… جانتا ہوں، بڑی اچھی طرح سے جانتا ہوں!”
“کل میری بہن نے تیری اچھی خاصی ‘ٹھکائی’ کی ہے، اور جس فلاور بکے کی وجہ سے تیری اتنی خاطر تواضع ہوئی ہے… وہ میں نے اور تیری بھابھی ملیحہ نے بھیجا تھا!”زرام نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا،
“کیاااا کہا تُو نے؟ وہ فلاور بکے تم نے بھیجے تھے؟”
فیصل کی آنکھیں حیرت اور غصے سے پھیل گئیں۔
“اور انہی فلاور بکوں کی وجہ سے مجھے اتنی باتیں سنا کر گئی ہے وہ! خدا کی قسم، مجھے تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ وہ کس بات سے چِڑ کر اتنی ساری باتیں سنا گئی!”
“اور تجھ پر تو اللہ کا عذاب نازل ہو! تُو نے تو میری عزت کا کباڑا خوامخواہ کروا دیا! اگر بہن کو بھوکے بھیجنے کا شوق تھا، تو کم از کم اطلاع ہی کر دیتا کہ فلاور تم نے بھیجے ہیں!”
“وہ تو میرے پاس ایسے دندناتی ہوئی آئی تھی کہ اگر ذرا سی بھی مجھ سے کوئی گستاخی ہو جاتی… تو یقین کرو، وہ وہیں مجھے شوٹ کر دیتی!”
فیصل کا انداز تلخ ضرور تھا، لیکن ہر جملے کے پیچھے سچائی چھپی تھی۔ وہ دوست پر برس تو رہا تھا، مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اس کی بہن کے رویے سے واقعی بُری طرح متاثر ہوا تھا۔
زرام کا بے خبری سے یہ حرکت کرنا، فیصل کے لیے شرمندگی کا باعث بن گہا تھا۔ اور وہی شرمندگی اب غصے کی شکل میں نکل رہی تھی۔
“سوری یار، میرا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا۔”
“میں تو صرف رومی کو برتھ ڈے وش کرنا چاہتا تھا۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ بکے پر لگا ہوا کارڈ کھول کر نہیں دیکھے گی، اور غلط فہمی کا شکار ہو کر تمہیں کھری کھری سنا دے گی۔”
“چلو خیر… اُس کی جانب سے میں معافی مانگتا ہوں۔”
“ویسے اگر میں سوری نہ بھی کہوں تو بھی بھی کام چل سکتا تھا۔ پتہ ہے کیوں؟”
“کیونکہ یار، آخر تم مجھ سے پیار تو کرتے ہو نا!”
“جب بندہ کسی سے پیار کرتا ہے، تو اُس کی باتوں کو دل پر نہیں لیتا۔ تم بھی دل پر مت لو۔”
“ویسے بھی تم دل پر لینے والی چیز ہو ہی نہیں، اور رومی کی باتوں کو تو تمہیں بالکل بھی سیریس نہیں لینا چاہیے!”
زرام شرمندہ بھی تھا اور فیصل کو منانے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔ وہ بات کو ہنسی میں بدل کر ماحول ہلکا رکھنا چاہتا تھا۔
“میں نے کب اُس کی باتوں کو دل پر لیا ہے؟ مگر یار، انسان کے دل میں ایک نرمی سی جگہ ہوتی ہے نا… جس پر تمہاری بہن نے ہتھوڑے نہیں، سیدھے وار کیے ہیں۔ تو اُس درد کو کچھ دیر محسوس کرنا تو بنتا ہے۔”
وہ کہہ تو رہا تھا عام سے لہجے میں، مگر آنکھوں میں اب بھی اداسی تھی جو ہر لفظ سے زیادہ بول رہی تھی۔
“سوچ لے یار، اب جس سے تُو محبت کا دعویٰ کر رہا ہے، جس کے ساتھ زندگی کے خواب بُن رہا ہے، یہ بات ذہن میں رکھنا کہ وہ جیسی ہے، ویسی ہی ہمیشہ رہے گی۔ ساری زندگی اسی کے ساتھ گزارنی ہے۔ پہلے اپنے دل سے پوچھ لے، کیا تُو واقعی اس کے ساتھ پوری زندگی گزار پائے گا؟
زرام بھائی ہونے کے ناتے جاننے کی کوشش کی تھی کہ فیصل واقعی اُس کی بہن کو ساری زندگی خوش رکھ سکتا ہے یا نہیں…”
“جو انسان میرے دل کی کیفیت میرے کچھ بولے بغیر سمجھ جاتا ہے، فون کر دیتا ہے یا مجھے ملنے آ جاتا ہے…
میرا نہیں خیال کہ اُسے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ میں رومیسہ کے لیے کتنا سنسئر ہوں،
اور اگر پھر بھی تمہارے بھائی والے جراثیم ایکٹو ہو گئے ہیں،
تو سن لو، ان شاء اللہ پوری زندگی، آخری دم تک تمہاری بہن کو خوش رکھوں گا۔
بڑے دل سے اُسے اپنی، جیون ساتھی بنانا چاہتا ہوں۔
“میں اسے دنیا کی ہر وہ خوشی لا کر دوں گا جو میرے اختیار میں ہوگی۔
اور اس سے زیادہ اپنے “بھائی والے جراثیم” ایکٹو مت کرنا،
ورنہ دوستی خراب ہو سکتی ہے… سمجھے؟”آخر میں فیصل نے ہمیشہ کی طرح دھمکی دینا ضروری سمجھا تھا اس سے بڑا مان تھااپنی دوستی پر۔
“میں جتنا رومی کا بھائی ہوں، اُتنا ہی تمہارا دوست بھی ہوں۔ میرے لیے تم دونوں عزیز ہو۔
مگر یار، بھائی ہونے کے ناطے میرا اتنا سا سوال تو بنتا ہے۔
ورنہ یقین کی بات کرو تو، اپنے دل سے کہیں زیادہ مجھے تم پر یقین ہے۔
مگر ایک بات ابھی سے ذہن نشین کر لو رومی اس رشتے کے لیے آسانی سے نہیں مانے گی۔
اور تمہارے دل کی کیفیت میں سمجھ رہا ہوں… بس صبر کا دامن مت چھوڑنا۔
باقی، اللہ تعالیٰ سب بہتر کرے گا۔
اگر تم دونوں کے نصیب ایک ساتھ لکھے گئے ہیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت تم دونوں کو جدا نہیں کر سکتی۔
اور اگر اللہ کی طرف سے تم لوگوں کی جوڑی نہیں بنی،
تو چاہے ہم ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں، یہ رشتہ بن نہیں پائے گا۔”
“بالکل زرام، میں تیری بات سے اتفاق کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمارے لیے بہتر سے بہترین چنتا ہے،
اور جو ہمارے حق میں بہتر ہوگا، وہی اللہ کرے گا۔
اور میں اللہ کی رضا پر راضی ہوں… مگر مجھے پورا یقین ہے کہ اللہ نے ہماری جوڑی بنائی ہے۔
ایسے ہی نہیں میرا دل پہلی نظر میں اسے پسند کر گیا تھا۔پہلی نظر میں ہی میرا دل اُس کی طرف کھنچتا چلا گیا۔
اللہ کی رضا شامل تھی، تبھی یہ سب کچھ ہوا۔” فیصل نے پرسکون انداز میں کہا۔
“بے شک، ہمیں اپنے رب پر یقین رکھنا چاہیے۔
پھر اللہ تعالیٰ مشکل سے مشکل حالات میں بھی جوڑیاں بنا دیتا ہے۔
میں تمہارے لیے دل سے دعاگو ہوں۔
اگر رومی کی قسمت تمہارے ساتھ جُڑی ہے،تو یقین کرو، مجھ سے زیادہ خوشی کسی کو نہیں ہوگی۔
خیر، اب بعد میں بات ہوگی… فی الحال مجھے کچھ پیشنٹس چیک کرنے ہیں،
پھر لنچ، اور اُس کے بعد تمہاری بھابھی کو ملنے جانا ہے۔
میکے جا کر بیٹھ گئی ہے…
نہ دل لگ رہا ہے، نہ پیشنٹ دیکھنے اس کو دل چاہ رہا ہے ۔!”
زارم اپنا دکھڑا سُنانے لگا۔
“واہ رے میرے عاشق ڈاکٹر… تیرا تو اللہ ہی حافظ ہے!”
فیصل کا قہقہ فضا میں گونجا،
“چل دانت مت نکال بعد میں بات کرتا ہوں زرام نے اللہ حافظ” کہتے کر کال کاٹ دی۔۔۔
°°°°°°°°°
“سرکار، ذرا جلدی آ جائیں، میں انتظار کر رہا ہوں۔”
زیغم سلطان فون پر ٹیکسٹ کرتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے اُتر رہا تھا۔زیغم سلطان کے لہجے سے مہر النساء کے لیے محبت چھلک رہی تھی۔اس کی آواز راہداری میں گونجی تو وہاں سے گزرتی نایاب، جو اپنی ماں کے کمرے کی طرف جا رہی تھی، پلٹ کر رک گئی۔
زیغم آج معمول سے ہٹ کر لگ رہا تھاجینز کے ساتھ بلیک ہاف سلیو ٹی شرٹ،
سادگی میں گہری شخصیت کا تاثر دے رہی تھی۔
وہ موبائل میں مصروف تھا، شاید کسی کو پیغام بھیج رہا تھا۔اس نے نایاب کو دیکھا یا نظر انداز کیا۔یہ بات واضح نہیں تھی،
مگر نایاب کے لیے وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا…جیسے وہ کوئی خاص شخصیت نہ ہو۔
نایاب ایک طرف رُک گئی۔زیغم سیڑھیوں کے آخری پائدان پر آ کر ٹھہرا،
تب ہی مہرو خوبصورت گاؤن میں، اوپر حجاب اور نقاب لگائے باہر نکلی۔
اس کی تیاری اور انداز نایاب کو لمحہ بھر کو چونکا گیا۔یہ تبدیلی معمولی نہیں تھی۔
یہ واضح ہو رہا تھا کہ زیغم نے اسے “اپنے ساتھ چلنے” کے قابل بنا لیا ہے۔
مہرو کی پرسنلٹی میں واضح نکھار آ چکا تھا،
اور اس کا کانفیڈنس لیول پہلے سے کہیں زیادہ تھا۔
“اللہ کرے تمہارا پاؤں پھسلے اور تم سیڑھیوں سے نیچے گر جاؤ!”
نایاب دل ہی دل میں مہرو کو ترپتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے بددعائیں دے رہی تھی۔
“جس شخص کو میں نے بچپن سے چاہا… کہا تک نہیں، بس چاہا… وہ کبھی میرا نہ ہو سکا۔ اور تم! تم نے چند چند مہینوں میں ہی اسے اپنا گرویدہ بنا لیا؟ پتہ نہیں تمہارے پاس ایسی کون سی چیز ہے جو زیغم کو تم سے دور نہیں ہونے دیتی۔۔” “اس خوبصورت جوڑے کو نظرِ بد سے بچانے کی دعا پڑھنی چاہیے تھی،
کیونکہ نایاب صرف نظروں سے نہیں، لہجے سے، دل سے، اور ہر جذبے سے انہیں بددعائیں دے رہی تھی۔
اس کی آنکھوں میں حسد کی چنگاریاں تھیں، اور دل میں وہ زہر جو وقت کے ساتھ پلتا ہے۔”
مگر نایاب کہ غصے اور صبر کا بان تو اس لمحے،جب مہرو ایک ہاتھ میں بیگ تھامے،
اور دوسرے ہاتھ سے ارمیزہ کا ہاتھ پکڑے،سیڑھیاں اُترتی ہوئی زیغم کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی۔
نایاب کو فوراً سمجھ آ گیا کہ جہاں بھی وہ لوگ جا رہے ہیں،ارمیزہ بھی ان کے ساتھ جا رہی ہے۔
کل کا غصہ نایاب کے دل میں ابھی بھی زندہ تھا،اور اب اس کے سامنے یہ منظر مزید آگ بھڑکا گیا۔
وہ جلدی سے آگے بڑھی، سیڑھیاں اترتی چلی گئی۔
زیغم، مہرو اور ارمیزہ کو ایک نظر دیکھ کر،
زیغم نے اشارے سے دونوں کو آگے چلنے کو کہا،اور خود ان کے پیچھے چلنے لگا۔
تب ہی نایاب آگے بڑھی،
غصے، بے بسی اور تکلیف سے بپھری ہوئی۔
“چھوڑو میری بیٹی کو! چھوڑو!
میری بیٹی تم لوگوں کے ساتھ کہیں نہیں جائے گی!”
اس نے جھٹکے سے ارمیزہ کا بازو کھینچا،
جاہلانہ انداز میں، شدید جھنجھلاہٹ کے ساتھ۔ارمیزہ رونے لگی
شاید جھٹکا لگنے سے تکلیف ہوئی تھی۔
زیغم سلطان کی نگاہوں میں جیسے آگ بھڑک اٹھی۔وہ غصے سے نایاب کی طرف پلٹا۔”بس کر دو نایاب!
تم پاگل ہو گئی ہو کیا؟ دماغ خراب ہے تمہارا؟۔زیغم سلطان کی اواز گرجدار اور لہجہ آگ کی لو میں لپٹا ہوا تھا۔۔
اور نایاب کے ہاتھ کو جھٹکا دیتے ہوئے معصوم ارمیزہ کو آزاد کروایا
اور نرمی سے اُسے اپنی گود میں اُٹھا لیا۔
“ہاں ہاں، پاگل ہو گئی ہوں میں! اور میرے خیال میں مجھے پاگل ہی ہونا چاہیے!”
وہ کے منہ پر چیخی تھی۔لہجہ انتہائی بدتمیزی سے لبریز تھا۔
“میری بیٹی مجھ سے چھین لی گئی ہے، اسے میری نظروں سے دور، اپ۔ے کمرے میں قید کر دیا گیا ہے۔ مجھے اُس سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی، اور اب تم پوچھ رہے ہو کہ میں پاگل کیوں ہو گئی ہوں؟”
مہرو یہ منظر دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی تھی اور فوراً زیغم کے پیچھے جا چھپی۔
“تمہاری بیٹی؟ سچ میں؟ تم ماں کہلانے کے لائق ہو؟”
زیغم نے سرخ آنکھوں سے گھورتے ہوئے چہرہ نایاب کے چہرے کے قریب کر لیا، آواز میں زہر بھرا طنز تھا۔
“تب تمہاری ممتا کہاں گئی تھی جب تم اس معصوم سی بچی کو بورڈنگ اسکول میں پھینک آئی تھیں؟ کئی کئی مہینوں تک اس کی خبر تک نہ لی… تب کہاں سویا ہوا تھا تمہارا یہ ماں والا جذبہ؟”
نایاب نے ایک لمحے کو نظریں چرائیں، لیکن زیغم کی آنکھوں کی تپش نے اسے دو قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ خوف کی جھلک واضح تھی اس کی حرکات میں۔
ارمیزہ زیغم سلطان کے گلے سے خوف زدہ ہو کر اور بھی چمٹ گئی تھی، اس کے آنسو زیغم کی شرٹ بھگونے لگے تھے۔
جبکہ مہرو کی حالت بھی کچھ کم نہ تھی، وہ زیغم کی پشت کے پیچھے چھپی، اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبائے کھڑی تھی۔
“ہاں، چھوڑ آئی تھی!”
نایاب نے آواز اونچی کی، اب کی بار لہجے میں ضد تھی، غرور تھا۔
“تو؟ تمہیں کس بات کی تکلیف ہے؟ مت بھولو، ارمیزہ میری بیٹی ہے، میری!”
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی۔
“تمہارا اس پر تب تک حق تھا جب تک تمہارا اور میرا رشتہ تھا۔ جب یہ رشتہ ختم ہوا، تو ارمیزہ کے ساتھ بھی تمھارا رشتہ ختم ہو گیا۔”
آس کے لفظوں میں خودغرضی کی انتہا تھی۔”اس لیے فضول میں مجھ پر چلانا بند کرو، بہت برداشت کر لیا میں نے! سمجھے تم؟ اور… میری بیٹی مجھے دو!”
اس نے دوبارہ ارمیزہ کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی، مگر…
زیغم سلطان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ارمیزہ اب بھی اس کے سینے سے لگی رو رہی تھی، اس کا رونا زیغم کے اندر دہکتا ہوا لاوا بن چکا تھا۔
اچانک زیغم کا بھاری ہاتھ فضا میں بلند ہوا، اور اگلے ہی لمحے ایک زوردار تھپڑ کی آواز گونجی۔نایاب لڑکھڑاتی ہوئی زمین پر جاگری تھی۔
زیغم سلطان کا تھپڑ برداشت کرنا آسان بات نہ تھی…
یہ اس کے غرور، اس کی خودغرضی، اور ایک ماں کے جھوٹے دعوے پر پڑا زناٹے دار طمانچہ چند لمحوں کی خاموشی کا باعث بن گیا۔بیچاری نایاب کو چند لمحوں میں دنیا گول گول گھومتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ کانوں میں سیٹیوں کی آوازیں گونجنے لگیں، جیسے کوئی بم پھٹا ہو، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ اس کی آنکھیں چندھیا گئیں، اور وہ وہیں زمین پر گرتے ہی اپنا توازن کھو بیٹھی۔ لمحہ بھر کو ایسا لگا جیسے اس کی انکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔ زیغم کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں اور مہرو کا رنگ اُڑ چکا تھا۔اچھی خاصی ہنستے کھیلتے جاتے ہوئے لوگوں کو روک کر نایاب نے گھر میں اچھا خاصا تماشہ بنا دیا تھا۔
شور سن کر قدسیہ اور سلمہ گھبرا کر باہر نکل آئیں، ملازمین بھی آواز کی سمت دوڑتے ہوئے وہاں جمع ہونے لگے۔ سب کی نظریں نایاب پر تھیں جو زمین پر بےسود پڑی تھی،
“تم نے میری بیٹی پر ہاتھ اٹھایا؟ تمہاری جرات کیسے ہوئی!” ۔ قدسیہ تیز قدموں سے سیڑھیاں اترتے ہوئے غصے سے بولیں۔
“آپ کی بیٹی مجھے مجبور کرتی ہے ایسی غیر اخلاقی حرکتوں پر!” زیغم سلطان کی دھاڑ پورے گھر میں گونج گئی، “اب یہ دماغی طور پر پاگل ہو چکی ہے… اسے زنجیر سے باندھ کر رکھا کریں!”
اس کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھی اور ہر سننے والے کے دل میں خوف اتار رہی تھی۔
البتہ اوپر کھڑی قدسیہ کی آنکھوں میں خوشی کی جھلک تھی۔ شاید اُسے کل کا وہ لمحہ یاد آ گیا تھا جب سلمہ نے اُس کی بےعزتی کی تھی۔ اب اُسی سلمہ کو نیچے بےبس کھڑا دیکھ کر، وہ دونوں ہاتھ باندھے سیڑھیوں پر خاموش کھڑی تھی، جیسے دل ہی دل میں بدلہ پورا ہوتے دیکھ رہی ہو۔
“خبردار! جو میری بیٹی کے لیے ایسے الفاظ بولے… زنجیر سے تم اپنی بیوی کو باندھ کر رکھا کرو!”
قدسیہ غصے سے مہرو کی طرف لپکی تھی۔
“خبردار! خبردار اگر میری بیوی کے قریب آنے کی کوشش بھی کی… جو ہاتھ اس کے پاس آیا، خدا کی قسم کاٹ کر رکھ دوں گا!”
زیغم سلطان کی آواز گرج دار تھی۔ “جتنی شرافت دکھانی تھی، دکھا دی۔ اب مجھ سے مزید شرافت کی امید نہ رکھیے گا… اور میں شرافت کے دائرے سے نکل کر کتنا خطرناک ہو سکتا ہوں، میرے خیال میں تم لوگوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت نہیں!”
زیغم نے انگلی کے ایک اشارے سے قدسیہ کے قدم وہیں روک دیے تھے… اس کا اشارہ قدسیہ اور نایاب دونوں کے لیے۔
“کیوں؟ تمہاری بیوی آسمان سے اتری ہے؟ مجھے تم نے تھپڑ مارا ہے، اب میں تمہاری بیوی کے منہ پر تھپڑ ماروں گی، تبھی تو حساب برابر ہوگا!”
نایاب زمین سے اٹھتے ہی مہرو کی طرف ایسے جھپٹی جیسے بھوکی بلی گوشت کو دیکھ کر لپکتی ہو۔
“اچھا؟ تم تھپڑ مارو گی زیغم سلطان کی بیوی کو؟ چلو ٹھیک ہے… مار کے دکھاؤ تھپڑ!”
زیغم نے مہرو کا بازو کھینچ کر اسے نایاب کے سامنے لا کھڑا کیا۔
“میں بھی دیکھتا ہوں، تم میرے ہوتے ہوئے اس پر کیسے ہاتھ اٹھاتی ہو!”
اس کے الفاظ، لہجے میں گرج، آنکھوں میں شعلے اور سینے میں بپھرتا ہوا غرور تھا۔
بیچاری مہرو کے پاؤں لرزنے لگے۔
ایک لمحے کو زیغم سلطان اسے بالکل اجنبی لگا… دل میں چبھن سی اٹھی،
“یہ شخص… مجھے اس پاگل بلی کے سامنے کیسے ڈال سکتا ہے؟”اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے۔
“مارو! مار کے دکھاؤ تھپڑ!”
زیغم سلطان کی گرجدار آواز سن کر نایاب کا ہاتھ، جو ہوا میں بلند تھا، غیر ارادی طور پر نیچے گر گیا۔
اس کے چہرے کی سختی لمحوں میں پھیکی پڑ گئی۔
زیغم کی نظریں جیسے آگ برسارہی تھیں، اور نایاب کی ہمت لمحہ بھر میں پگھل گئی۔
وہ صرف دھاڑ سکتی تھی…
مارنے کی ہمت؟وہ زیغم سلطان کے سامنے یہ جرات نہ کر سکی۔
“کیا ہوا؟ نکل گئی ساری ہوا؟ بڑی آئی تھی ہاتھ اٹھانے والی!”
زیغم سلطان کی گرجدار آواز میں غصہ ٹپک رہا تھا۔
“اس کی طرف نظریں تو اٹھا کر دیکھو۔ اگر وہی آنکھیں تم لوگوں کی ہتھیلیوں پر نہ رکھ دوں تو میرا نام بھی زیغم سلطان نہیں!
صرف زرام کے دل کی نرمی کی خاطر۔ اس کی خوشیوں کے لیے تم سب کو معاف کیا… اور یہ معافی روز میرے دل کو چھلنی کرتی ہے۔
رب کی رضا کے لیے تمہیں بخشا، مگر تم اس لائق نہیں۔ تم ہر لمحہ مجھے یہ احساس دلاتے ہو۔
ڈرو مجھ سے… اس سے پہلے کہ میں وہ کر گزروں جو میں نہیں کرنا چاہتا۔”
زیغمم سلطان کے لہجے میں ایسا لاوا اُبل رہا تھا کہ قدسیہ، سلمہ اور نایاب سب کی زبانیں بند ہو گئیں، جبکہ مہرو موقع پا کر دبے قدموں زیغم کے پیچھے آ کر چھپ گئی۔۔
اور آج کے بعد ارمیزہ پر حق جتانے سے پہلے سوچ لینا…
کہ تم نے ماضی میں کتنے گناہ کیے ہیں۔
میرا نہیں خیال کہ تمہیں یہ دوبارہ یاد دلانے کی ضرورت پیش آئے گی، کہ تم ماں کہلانے کے لائق نہیں۔
تم ممتا کے نام پر ایک بدنما داغ ہو!
اور یاد رکھو، ارمیزہ سے میرا رشتہ خون کا ہے۔تمہارے کسی بھی دعوے سے یہ رشتہ ٹوٹنے والا نہیں!
انگلی سے اشارہ کر کے اسے روک دیا گیا تھا، اور زیغم کی باڈی لینگویج میں واضح سختی جھلک رہی تھی۔
“ارمیزہ میری بیٹی ہے اور ہمیشہ رہے گی،” وہ دھیمے مگر تھرتھراتے لہجے میں گویا ہوا،
“اور میرے جیتے جی کوئی بھی میری بیٹی کو نقصان پہنچائے، میں اس شخص کو زندہ دفنا دوں گا!”
اس کے الفاظ میں ایسی گونج تھی جیسے پتھر پر ضرب لگے،
“یہ بات اپنے دماغ میں بیٹھا لو، دوبارہ سمجھاؤں گا نہیں … سیدھا دفناؤں گا!”
اس کی آنکھوں میں دہکتے الاؤ کی شدت صاف جھلک رہی تھی، اور لمحہ بھر کو فضا بھی ساکت ہو گئی۔
وہ ارمیزہ کو گلے لگائے، مہرو کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گیا۔
پیچھے صرف تین عورتیں خاموشی سے کھڑی تھیں، شکست خوردہ اور ماتم زدہ چہروں کے ساتھ۔
جبکہ ملازمین جنہوں نے سارا تماشہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، بغیر کچھ کہے اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے تھے۔
سب جانتے تھے… نایاب اور قدسیہ اسی انجام کی حقدار تھیں۔۔
°°°°°°°°°°
“گاڑی نے کچے راستے سے پکی سڑک پر قدم رکھا تو کھڑکی کے باہر ہریالی دوڑتی جا رہی تھی۔ کھیت، درخت، اور مٹی کی خوشبو جیسے گاؤں کا آخری لمس دے رہی ہو۔”زیغم سلطان کی بڑی سی گاڑی کے آگے اور پیچھے اس کے محافظ ادمیوں کی گاڑیاں تھیں۔۔
“ارمیزہ نے بھیگی پلکوں سے باہر نظر ڈالی، ہر گزرتا منظر اس کے دل میں اداسی بھرتا جا رہا تھا۔ مہرو خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھی تھی، دونوں کے درمیان خاموشی بول رہی تھی۔”
“آگے جا کر راستے تنگ ہوتے گئے، کھیتوں کی جگہ دکانیں آ گئیں، درختوں کی جگہ بورڈز اور سائن… اور پھر شور بڑھتا گیا، جیسے شہر اپنی موجودگی کا اعلان کر رہا ہو۔”
’’کب تک تم دونوں اس طرح خاموش بیٹھے رہو گی؟ بتا دو، پھر میں بھی تب تک انتظار کر لوں۔‘‘ زیغم نے گاڑی کے سنجیدہ ماحول کو ہلکا پھلکا بنانے کے لیے دونوں کی طرف دیکھ کر نرمی سے کہا، اور ساتھ ہی اپنے بازو مہرو اور ارمیزہ کے گرد پھیلا کر محبت سے دونوں کو اپنے قریب کر لیا۔
ارمیزہ تو فوراً بابا کے ساتھ لگ کر مسکرا دی، مگر مہرو ہلکی سی جھجک کے ساتھ تھوڑا سا پیچھے ہوئی، اسے ارمیزہ کے سامنے شرم آ رہی تھی۔ وہ نگاہیں جھکائے بیٹھی رہی، مگر زیغم کے نرم انداز نے اس کے چہرے پر بھی ایک ہلکی سی مسکراہٹ ضرور بکھیری۔
“سرکار، شرمانا چھوڑ دیں… مجھے لگتا ہے میرا دل کمزور ہوتا جا رہا ہے، آپ کی شرم و حیا کی جھلک اب برداشت نہیں ہوتی…”
وہ ہلکا سا جھک کر سرگوشی میں بولا، تو مہرو کے چہرے پر شرم و حیا کی لالی مزید بکھر گئی، مگر نقاب کے اندر چھپی ہوئی تھی۔
زیغم نے ایک ہاتھ سے نرمی سے اس کا نقاب دو انگلیوں کے بیچ پکڑ کر تھوڑا سا نیچے کیا، تاکہ اس کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ سکے۔ وہ لمحہ بے حد حسین تھا۔
پھر اس نے محبت سے پہلو میں بیٹھی اپنی بیٹی کی جانب دیکھا، جو اپنے بابا کے سینے سے لگی مطمئن سی مسکرا رہی تھی۔
“میرا بچہ بڑا مسکرا رہا ہے، کیا سوچ رہا ہے؟”
زیغم نے نرمی سے اس کے چہرے کے اوپر سے بال ہٹاتے ہوئے پیار سے پوچھا۔
“آپ نے نایاب ماما کے ساتھ بالکل ٹھیک کیا۔ اب جب بھی وہ مجھے اور مہرو ماما کو پریشان کریں گی، آپ ایسے ہی اُن کے ساتھ فائٹنگ کریں اور اُنہیں ہرا دیا کریں!”
ارمیزہ نے شوخی سے چہکتے ہوئے کہا، جیسے وہ اس منظر کو یاد کر کے دوبارہ لطف لے رہی ہو۔
زیغم مسکرا دیا، مگر اس کے دل میں ایک نرم سی کسک ابھری تھی۔اپنی بیٹی کی معصوم خواہش اور اس کی نایاب ماما کے خلاف یہ چھوٹی سی “جنگ” گویا اس کی چھوٹی سی دنیا کا بڑا فیصلہ تھی۔
“نہیں بیٹا، فائٹنگ کرنا کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔”
زیغم نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے ارمیزہ کے ننھے ہاتھوں کو تھام لیا۔
“وہ تو آپ کی نایاب ماما پر مجھے بہت زیادہ غصہ آ گیا تھا، اس لیے میں نے غصے میں ایسا کیا۔ ورنہ کسی پر چلّانا، لڑنا یا غصہ کرنا بہت بری بات ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ عمل پسندیدہ نہیں ہے۔”
وہ ایک پل کو رکا، پھر دھیرے سے اس کے بال سنوارتے ہوئے مزید بولا،
“ہمیں ہمیشہ ہر برائی سے بچنا چاہیے، اور دوسروں کے ساتھ نرمی، برداشت اور محبت سے پیش آنا چاہیے، جیسے ہمارے پیارے نبیﷺ نے سکھایا ہے۔”
ارمیزہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی،
“تو بابا، اگر نایاب ماما پھر بھی تنگ کریں تو ہم کیا کریں؟”
زیغم نے مسکراتے ہوئے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا،
“پھر ہم دعا کریں گے بیٹا، کہ اللہ انہیں ہدایت دے اور ہمیں صبر عطا کرے۔ کیونکہ اصل طاقت برداشت میں ہے، غصے میں نہیں۔”
“پاپا غصہ کیوں آتا ہے؟”
ارمیزہ نے معصومیت سے پوچھا اور اپنی چھوٹی سی انگلی زیغم کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے نظریں اس کے چہرے پر جما دیں۔
زیغم نے نرم سا مسکرا کر اس کے بالوں کو سہلایا،
“جب انسان کے دل میں کوئی بات چبھ جائے نا، بیٹا، یا وہ اپنے پیاروں کو پریشان ہوتا دیکھے… تو کبھی کبھی ضبط ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی، ہمیں سیکھنا چاہیے کہ غصے پر قابو کیسے پایا جائے۔”
“تو آپ نے غصے پر قابو کیوں نہیں پایا؟”
ارمیزہ کے لہجے میں شوق نہیں، خالص تجسس تھا۔ وہ جاننا چاہتی تھی، سیکھنا چاہتی تھی۔
زیغم کا دل ایک لمحے کو جیسے تھم سا گیا۔
“اسی لیے تو اب پچھتا رہا ہوں، میری جان۔ انسان کبھی کبھار غلطی کر جاتا ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی مانے اور کوشش کرے دوبارہ نہ کرے۔”
وہ لمحہ گہرا تھا… مہرو نے خاموشی سے زیغم کی گرفت کو اپنے کندھے پر محسوس کیا،
“ہم سب سیکھ رہے ہوتے ہیں، ارمیزہ۔ جب تم کسی کو معاف کرنا سیکھو گی نا، تو تم بہت بہادر بن جاؤ گی۔”
“اور فائٹنگ؟”
“نہیں، بیٹا۔ فائٹنگ بہادری نہیں ہوتی۔ اصل بہادری تو تب ہوتی ہے جب ہم دل بڑا کریں، معاف کر دیں، اور نرمی سے بات کریں۔”زیغم کے دل میں نایاب کے لیے شدید غصہ اور نفرت تھی مگر وہ اس کا بیج اپنی بیٹی کے دل میں بالکل نہیں بونا چاہتا تھا۔
گاڑی کے شیشے سے سورج کی نرم روشنی ارمیزہ کے چہرے پر پڑ رہی تھی، اس کے معصوم تاثرات جیسے کسی نئی روشنی کو جذب کر رہے تھے۔
“میں بھی نایاب ماما کو معاف کر دوں گی، کیونکہ میرے بابانے کہا ہے۔”
اس کی آواز میں اعتماد تھا، اور زیغم سلطان کے لبوں پر سکون بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ لمحہ نہ صرف باپ بیٹی کے رشتے کی گہرائی دکھا رہا تھا، بلکہ اس بات کی بھی یاد دلا رہا تھا کہ اولاد کے سامنے کی گئی ہر بات ایک سبق بن جاتی ہے ۔ یا تو سنوارنے والا، یا بگاڑنے والا۔۔
°°°°°°°