Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:50
راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 50
°°°°°°
ملیحہ کے بابا کھانے کا سارا سامان لے آئے تھے۔
ملیحہ نے اپنے ہاتھوں سے لذیذ بریانی تیار کی تھی، ساتھ میں پودینے والا رائتہ اور سلاد بھی۔
اس کے بابا نے کولڈ ڈرنک کا بھی انتظام کر لیا تھا، جو ان کے لحاظ سے ایک بڑا اہتمام تھا ۔
مگر چونکہ یہ ان کی خواہش تھی، اس لیے ملیحہ نے منع نہیں کیا۔
اب صرف ذرا آرام کا انتظار تھا۔
ملیحہ نے بڑے سلیقے سے جامن کے درخت کے ساتھ وہ پرانی لکڑی کی ٹیبل لا کر رکھی،
جو ان کے گھر میں برسوں سے پڑی تھی۔
ساتھ میں دو کرسیاں رکھیں ، اور چونکہ زیادہ کرسیاں نہیں تھیں،
اس لیے ایک طرف چارپائی بچھا دی۔
ٹیبل کے اوپر ایک خوبصورت سا کپڑا بچھایا،اور اپنے ہاتھوں سے تیار کیا گیا کھانا سجا کر رکھ دیا۔بریانی کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی اور اوپر سے شام کا سہانا وقت اور جامن کی ہلکی ہلکی ہوا ماحول کو خوشگوار بنا رہی تھی۔
ملیحہ کھانا بنانے کے بعد خود کو فریش کرنے چلی گئی۔ تازہ دم ہو کر جب آئینے کے سامنے آئی، تو ایک پل کو رک گئی۔ نظریں اپنے عکس پر ٹھہریں، پھر خود ہی شرما سی گئی۔ جیسے زرام کی نظریں آئینے کے اس پار سے اسے دیکھ رہی ہوں۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔ زرام کی موجودگی اب صرف خیالوں میں نہیں، دل کے اندر کہیں جا بسی تھی۔
“زارم… تم نے مجھے اپنی محبت میں اس طرح الجھا دیا ہے…” وہ دل ہی دل میں بولی، “اگر بتا دوں کہ اب تمہارے بغیر رہنا ممکن نہیں، تو تم تو خوشی سے دیوانہ ہو جاؤ گے۔”
نظریں جھکیں، ہونٹوں پر شرم بھری مسکراہٹ آئی، اور وہ دل پر ہاتھ رکھے آہستگی سے باہر اماں ابا کی طرف بڑھ گئی، وہ آکر اپنے اماں کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئی۔
“دیکھو ملیحہ تمہارے آنے سے تمہاری ماں کا چہرہ کھل گیا ہے…لگ بھی نہیں رہا کہ بخار تھا، ورنہ تو یہ سالوں کی بیمار لگنے لگی تھی۔”ملیحہ نے ماں کی جانب مسکرا کر دیکھا۔۔
سچ میں، ملیحہ کی ماں کے چہرے پر ایسی تازگی تھی کہ یقین کرنا مشکل تھا
کہ جب ملیحہ آئی تھی تو ان کی حالت کتنی بگڑی ہوئی تھی۔
“دیکھ لیں بابا… بیٹی کی محبت کا کمال ہے۔”وہ اپنی ماں کے گلے میں پیار سے ہاتھ ڈال گئی۔
“ہاں بھئی، یہ بات تو ہے… تمہارے پیار نے ہی اسے ٹھیک کر دیا ہے۔”
بابا نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
اسی وقت دروازہ کھٹکا ۔اور زرام اندر داخل ہوا۔”السلام علیکم!”زرام نے بلند آواز میں اندر داخل ہوتے ہی پرجوش انداز میں سلام کیا۔
“وعلیکم السلام!”سب نے مسکرا کر جواب دیا ۔لیکن ملیحہ کے چہرے کی خوشی، الگ ہی قابلِ دید تھی۔اس کا چہرہ زرام کو سامنے دیکھ کر یوں کھل اٹھا تھا، جیسے برسوں کی اداسی چھٹ گئی ہو۔زرام نے بھی آتے ہی سب سے پہلے چور نظروں سے اپنی پیاری بیوی کی جانب دیکھا تھا،
جبکہ بظاہر وہ بلکل نارمل تھا،
مگر اس کی نظریں آتے ہی ملیحہ کے چہرے پر ٹھرنے لگیں تھیں،
جیسے اسے ایک لمحہ بھی دیکھے بغیر رہا نہ جائے،مگر پھر بھی وہ سب کے سامنے اپنی چاہت کو چھپا گیا۔
زرام کے پیچھے اس کا ڈرائیور بھی تھا،
جس کے ہاتھوں میں مختلف پھلوں سے بھرے کئی تھیلے تھے۔
“سائیں ، اس سب کی ضرورت نہیں تھی…یہ آپ کو نہیں لانا چاہیے تھا۔”
ملیحہ کے بابا نے زرام سے ملتے ہوئے نرمی سے کہا۔ملیحہ کے بابا ایک خوددار انسان تھے،
اسی لیے وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ اپنے داماد سے کسی بھی قسم کی توقع رکھیں۔
ان کے نزدیک رشتے اعتماد سے بنتے ہیں، توقعات سے نہیں۔
وہ چاہتے تھے کہ تعلق مضبوط ہو، مگر بنا کسی تقاضے یا بوجھ کے۔
زرام نے ادب سے سر جھکا کر ملیحہ کے والدین کو سلام کیا ۔
نہ کوئی غرور تھا، نہ امیری کا تکبر…
بس ایک سادگی، ایک خلوص۔
“کیوں نہ لے کر آتا؟ بیٹا ہوں آپ کا… میرا فرض ہے۔آپ ہمیشہ مجھے اپنے’فرض’ سے دور رکھتے ہیں…مگر سن لے میں اب نہیں رکوں گا۔
نہیں بیٹا، سچ میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کا شکر ہے، اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ اگر کبھی ضرورت ہوئی، تو ہم خود آپ سے کہہ دیں گے۔
“مجھے لگتا ہے کہ آپ مجھے سچ میں اپنا بیٹا نہیں سمجھتے، صرف اسی لیے میرے ہر خلوص اور پیار کو نظر انداز کر کے ایک فاصلے پر رکھتے ہیں، جو کہ مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔ میں آپ کا بیٹا بننا چاہتا ہوں، اس گھر کا فرد بننا چاہتا ہوں۔ مگر آپ مجھے ہمیشہ داماد کی حیثیت دیتے ہیں۔ پلیز، ایسا مت کیا کریں۔”
زرام کے لہجے میں نرمی، محبت اور سچائی جھلک رہی تھی۔ اس کا انداز دل سے نکلا ہوا تھا۔ ملیحہ کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے لیے یہ خوشی کی بات تھی کہ اس کا شوہر نہ صرف اس سے محبت کرتا تھا، بلکہ اس کے ماں باپ کو بھی دل سے عزت دیتا تھا۔
بیٹیوں کے لیے یہ احساس کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا، جب ان کا شوہر ان کے والدین کو اپنوں جیسا مان دے۔ بدلے میں… قسم سے، عورت اتنی نرم اور پیاری مخلوق ہے کہ وہ اپنا سب کچھ، یہاں تک کہ جان بھی نچھاور کر دیتی ہے۔
“نہیں سائیں، ایسی کوئی بات نہیں…”
ملیحہ کی ماں نے دھیمے لہجے میں کہا، الفاظ میں نرمی اور وقار تھا، “…مگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ لوگ باتیں بنانے لگیں۔ کہنے لگیں کہ ہم نے امیر گھر میں بیٹی اس لیے بیاہی ہے تاکہ اس کے گھر سے کھانے پینے کا لالچ رکھا جائے۔”
زرام خاموشی سے ان کی بات سن رہا تھا، مگر چہرے پر دکھ نمایاں تھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر احتراماً چپ رہا۔
“ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، سائیں، جو ہمارے نصیب میں تھا، وہ ہمیں ملا ہے۔ باقی بیٹی کو عزت ملی، ہمیں اور کیا چاہیے؟”
ان کی آنکھوں میں شکریہ، مگر ساتھ ہی خودداری بھی تھی۔ ان کا ہر لفظ ان کی تربیت کا عکس تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جس میں زرام نے ان کے دل کی بات کو سمجھا، ملیحہ نے خاموشی سے دل ہی دل میں زرام کی محبت اور احترام کو سراہا تھا۔اسے فخر تھا کہ وہ ایسے شخص سے منسوب ہے جو رشتوں میں احترام اور محبت کا فرق جانتا ہے۔
“اگر آپ کا کوئی سگا بیٹا ہوتا، تو کیا اُس سے بھی منع کرتے؟”
زرام نے پورے حق سے، محبت بھرے لہجے میں کہا۔
“سائیں، آپ ہمارے بیٹے ہو… سگوں سے بڑھ کر!”ملیحہ کے بابا نے جذباتی انداز میں جواب دیا۔”تو بس پھر!
جب سگا بیٹا ہوں، تو مجھے حق سے فرض بھی نبھانے دیا کریں۔
’’میں آپ کی خودداری کی پوری دل سے عزت کرتا ہوں، مگر اگر آپ دنیا والوں کی نظر سے فیصلے کرنے لگیں گے تو زندگی بہت مشکل ہو جائے گی…‘‘
زرام کی آواز دھیمی مگر مضبوط تھی۔ وہ ملیحہ کے ماں باپ کے سامنے ادب سے بیٹھا تھا۔ڈرائیور فروٹ چارپائی پر رکھ کر جا چکا تھا۔زرام نے بات جاری۔
’’دنیا کبھی اپنی بات پر ٹکی نہیں رہتی۔ اگر ایک طرف دنیا یہ کہے گی کہ آپ نے لالچ میں آ کر اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، تو دوسری طرف دنیا یہ بھی کہے گی کہ داماد کے پاس اتنا روپیہ پیسہ کس کام کا، جو اپنے سسرال والوں کی غربت میں کفالت نہیں کر سکتا، ان کی مدد نہیں کر سکتا۔‘
’’تو پھر شرمندگی تو مجھے بھی ہوگی، ہمیں وہی کرنا چاہیے جس پر ہمارا دل مطمئن ہو۔ اور میرا نہیں خیال کہ میں آپ لوگوں کی مدد کر کے کوئی غلط کام کر رہا ہوں۔ کیا اس پر آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت ہے؟‘‘اس کی بات میں نہ کوئی رعونت تھی، نہ کسی قسم کی انا… بس خلوص اور احساس بول رہا تھا۔
اور ویسے بھی یہ سب کچھ میں اماں کے لیے لایا ہوں ۔تاکہ یہ جلدی سے کھا پی لیں، صحت مند ہو جائیں…
اور پھر، میری بیوی مجھے واپس مل جائے!” زرام نے شرارت سے ملیحہ کی طرف دیکھا ۔تو وہ شرما کر فوراً نظریں چراتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔زرام کے آخری جملے پر سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تھے۔
ملیحہ کو دیکھ کر یوں لگا، جیسے برسوں بعد دیکھا ہو…حالانکہ چند ہی گھنٹے پہلے دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوئے تھے۔
“خوش رہے سائیں۔”
ملیحہ کی ماں نے مسکرا کر دعا دی۔ٹھیک ہے اگر اپ کی اسی میں خوشی ہے تو اب ہم منع نہیں کریں گے۔
“اور ایک بات پلیز آپ لوگ مجھے سائیں مت بولا کریں… بیٹا ہوں آپ کا، نام لیا کریں… مجھے اچھا لگے گا۔”
“چلو ٹھیک ہے،اگر آپ ایسے ہی خوش ہیں آپ کی خوشی اسی میں ہے تو آج سے ہم آپ کو ذرام بیٹا، کہہ کر بلایا کریں گے،
سائیں نہیں بولیں گے۔ اب آپ جلدی سے ہاتھ دھو لیں، گرم گرم بریانی آپ کا انتظار کر رہی ہے۔”
ملیحہ کے بابا کے لہجے میں خلوص بھرا تھا۔
“جی بالکل! اور خوشبو سے تو میری بھوک اور بھی بھڑک اٹھی ہے!”
زرام نے خوش دلی سے کہا تو سب کے لبوں پر ہنسی آ گئی۔زرام کی اپنائیت ان کو بہت اچھی لگ رہی تھی۔
“زَرام کی اپنائیت سے ملیحہ کے ماں باپ کے چہروں پر خوشی پھیل گئی تھی۔ ملیحہ اور، زرام ایک ساتھ چلتے چلتے صحن کے وسط میں لگے ہینڈ پمپ کے قریب آ گئیں۔
“خیریت تو ہے؟ بہت شرمائی شرمائی گھوم رہی ہو! یہ فیچر بائی دا وے تم میں کب سے ڈاؤن لوڈ ہوا ہے۔”
وہ شرارت سے مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ اپنے چہرے کے بے حد قریب لے آیا۔
“ک۔۔۔ کیا کر رہے ہیں؟ اماں ابا دیکھ لیں گے!”
ملیحہ گھبرا کر سرگوشی میں بولی، نظریں جھک گئیں۔
“تو دیکھ لینے دیں۔۔۔ اپنی بیوی سے بات کرنا ، کوئی گناہ تو نہیں ہے”ملیحہ کی شرمائی ہوئی جھکی ہوئی نظریں اور بلش کرتے ہوئے کال دیکھ کر زرام کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔ اس کی پیشانی پر جھک گیا اس کی آواز میں شرارت کم اور محبت زیادہ تھی۔
ملیحہ نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں، دل کی دھڑکن جیسے کانوں میں سنائی دینے لگی۔
“پلیز… کوئی آ گیا نا تو…”
وہ مدھم آواز میں بولی، جیسے خود کو سنانا بھی مقصود نہ ہو۔
“آنے دو… ویسے بھی ان کو پتہ ہے کہ میں تمہیں کتنا پیار کرتا ہوں، چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ تو خوش ہوں گے کہ داماد اتنا پیار کرنے والا ملا ہے۔!”
اس نے نرمی سے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر چہرہ اوپر کیا، ملیحہ حق کی آنکھوں میں حیا کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔
“آپ چل کر منہ ہاتھ دھوئیں، اماں ابا کھانے پر ہمارا انتظار کر رہے ہیں، داماد صاحب!””پیار گھر جا کر جتائیے گا۔”
وہ نرمی سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کرنے کوشش کر رہی تھی ۔
“کیوں جی میں گھر جانے کا انتظار کیوں کروں۔۔؟میری بیوی ہے، جب چاہوں جہاں چاہوں، پیار جتا سکتا ہوں۔ یہ حق مجھے اللہ نے دیا ہے، تو کیوں نہ استعمال کروں؟”زرام کو شرمائی شرمائی سی ملیحہ پر بہت پیار آ رہا تھا۔۔
“ذرام۔۔۔پلیز “
“بولو، ذرام کی جان!”
آنکھوں میں شرارت چمکی۔
“پیچھے ہٹیں… سسرال میں آ کر اتنا
رومینٹک ہونا الاؤ نہیں ہے۔ !”
“کیوں جی، کیوں؟ الاؤ نہیں ہے سسرال میں رومینٹک ہونا؟ اور یہ کس ڈکشنری میں لکھا ہے؟”زارم نے حیرت اور چہرے پر شرارت سجائے ہوئے اس کی ناک کو اپنی ناک سے چھوا تھا۔
“یہ بزرگوں کا کہنا ہے کہ داماد کو سسرال میں آ کر اچھے بچوں کی طرح رہنا چاہیے، بلکہ اپنی گھر والی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔ اسے تہذیب کے دائرے کہتے ہیں۔”
ملیحہ نے مسکراتے ہوئے گاڑی کہا تو زرام کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔
“نہ جی، نہ مجھ سے ایسی امید رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ایسے کوئی بھی رول فالو کرنے والا نہیں ہوں۔ بڑی آئی تہذیب کے دائرے!”
زارم نے ملیحہ کی نقل اتارتے ہوئے صاف انکار کیا تھا کہ وہ کوئی ایسا رول فالو کرنے والا نہیں۔
“سوچ لیں، بے شرم کہلائیں گے!”
“کوئی بات نہیں، مجھے منظور ہے۔”
“ٹھیک ہے، مجھے کیا! میں نے تو بس سوچا تھا کہ اپنے شوہر کو گائیڈ کر دوں، تاکہ کل عظیم لوگوں میں میرے شوہر کا نام لکھا جائے۔”
“بڑی باتیں کرنے آ گئی ہیں… تمہیں زیادہ دن رہنے نہیں دوں گا۔”
وہ قریب آ کر گویا ہوا، “منہ ہاتھ دھلواؤ اس سے پہلے کہ…”
کہتے کہتے شوخ نظروں سے دیکھتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ گیا۔
ملیحہ نے نفی میں سر ہلایا،
“چلیں، آپ کا منہ دلواتی ہوں۔”
بلیحہ جلدی سے جا کر ہینڈ پمپ کے قریب کھڑی ہو گئی تھی۔زرام مسکراتا ہوا اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا آگیا۔
وہ ہینڈ پمپ پر ہاتھ رکھے ہوئے، ایک خاص ریتم میں ہیڈ پمپ چلا رہی تھی۔ پانی کی دھار بہہ رہی تھی اور زرام اپنے ہاتھ دھونے کے بعد اب منہ دھو رہا تھا۔
ملیحہ، ایک پل کے لیے تھم کر، محبت بھری نظروں سے زرام کو دیکھ رہی تھی۔ ولیحہ کو بہت اچھا لگا تھا کہ زرام اس کے ماں باپ کو عزت دیتا ہے، لیکن… زرام نے اس کی نظروں کی حدت کو محسوس کر لیا تھا۔
چہرے پر شرارت پھیل گئی، اور وہ پانی ہاتھ پر لیتے ہوئے اچانک چھینٹیں اس کے منہ پر مار بیٹھا۔
“کیا کر رہے ہیں آپ؟”
وہ چونکی، دبک کر پیچھے ہوئی۔
زرام نے ہنستے ہوئے اپنے ٹھنڈے، پانی سے دھلے ہاتھ اس کے رخسار پر رکھ دیے۔
“کیا کر رہا ہوں؟ کر تو تم رہی تھی… چوری چوری مجھے دیکھ رہی تھی!”
کان کے قریب سرگوشی کی،
“چوری چوری دیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ تمہاری اپنی چیز ہوں… کھلے عام دیکھو۔”
اپنی چوری پکڑی جانے پر ملیحہ نظریں چرا گئی۔
“چلیں… چل کر کھانا کھاتے ہیں، اماں ابا انتظار کر رہے ہیں۔”بات بدلتے ہوئے
وہ تیزی سے قدم صحن کے اس حصے کی طرف بڑھانے لگی، جہاں جامن کے پیڑ کے نیچے، اس کے اماں اور ابا کھانے پر ان کا انتظار کر رہے تھے۔
سب نے مل کر کھانا شروع کیا تھا۔
زارم نے بغیر کسی تکلف کے کھایا… اور خوب پیٹ بھر کر کھایا، کیونکہ ہسپتال میں وہ لنچ تک نہیں کر پایا تھا۔
لیکن جانے کیوں، ملیحہ کی موجودگی کے باوجود…
دل کسی انجانی بے چینی سے گھرا ہوا تھا۔
ایک اداسی سی تھی… بے نام سی، بے آواز سی ۔
جو شاید صرف ملیحہ سے جُڑی ہوئی تھی۔
ملیحہ نے زرام کی نظروں میں چھپی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے آنکھ کے اشارے سے پوچھا،
“کیا بات ہے؟”
مگر زرام صرف مسکرا کر نفی میں سر ہلا گیا اور کھانے کے دوران اُس کے بابا کے ساتھ باتیں کرنے لگا۔
لیکن دل کے اندر وہی عجیب سی بے چینی…
جس کی وجہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا، تو ملیحہ کو کیسے سمجھاتا؟
جیسے ہی سب کھانے سے فارغ ہوئے، زرام نے اجازت مانگی۔
“مجھے اب چلنا چاہیے۔”
“بیٹا، بیٹھو تھوڑی دیر… اتنی جلدی کیا ہے؟”
زارم کی ساس نے محبت سے کہا۔
“اماں، میں ضرور بیٹھتا، مگر مجھے ایک مریض کی رپورٹس چیک کرنی ہیں۔ اُس کی حالت کافی خراب ہے، اور یہ کام آج ہی کرنا ضروری ہے۔ میرے خیال میں کسی کی جان کے ساتھ رسک نہیں لینا چاہیے۔”
زارم نے ادب سے کہا۔
“جی جی بیٹا، بالکل… کسی کی جان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ آپ جائیں، خیریت سے۔”
“اچھا، کل آپ کوشش کیجیے، بلکہ میں ڈرائیور بھیج دوں گا۔ آپ ہسپتال آ کر چیک اپ کروا لیجیے، تاکہ میں خود دیکھ سکوں کہ بخار کیوں نہیں اتر رہا۔”
“نہیں بیٹا، اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میرا علاج اچھا چل رہا ہے۔”
“چلو ٹھیک ہے، مان لیا علاج اچھا چل رہا ہے… لیکن مجھے بھی تسلی کر لینے دیجیے۔ میں کل آپ کا انتظار کروں گا۔”
یہ کہہ کر وہ اُن سب سے سلام کرتا ہوا دروازے کی جانب بڑھا۔
ملیحہ بھی اس کے پیچھے الوداع کہنے کے لیے نکل آئی۔
گاڑی کے قریب جا کر زرام ٹھٹکا…
ملیحہ کے چہرے پر جانے کیوں اداسی سی چھا گئی تھی۔
“میڈم، مجھے تمہارا یوں مرجھایا ہوا چہرہ بالکل اچھا نہیں لگتا۔
اور یہ اداسی والی شکل مت بنایا کرو۔
کیونکہ یہاں رکنا تمہارا اپنا فیصلہ ہے ۔ میری خوشی نہیں۔
اور اب میں بڑے صبر سے تمہیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
بس مجھے جاتے وقت مسکراتا ہوا چہرہ دکھاؤ، تاکہ یہ دو چار دن کی دوری برداشت کر سکوں۔”
وہ اس کے دونوں ہاتھ تھامے کھڑا تھا۔
اتنے میں پاس سے گاؤں کی چند خواتین گزریں، جن کے سر پر پانی کے مٹکے رکھے ہوئے تھے۔
انہوں نے یہ رومینٹک سا لمحہ دیکھا… اور دوپٹے کے پلو منہ میں لیتے شرماتی ہوئی گزر گئیں۔
ملیحہ نے فوراً ہاتھ جھٹکتے ہوئے خود کو پیچھے کھینچا،
“آپ کہیں بھی نہیں دیکھتے؟ ایسے ہاتھ پکڑ لیتے ہیں؟
دیکھیں، وہ لڑکیاں دیکھ کر گئی ہیں، کیا سوچیں گی میرے بارے میں!”
زارم ہنسا،
“ایک تو تمہیں لوگوں کی بہت فکر ہوتی ہے… جو سوچتا ہے، سوچنے دو۔
اور ویسے بھی، وہ بیچاری شرما کر خود ہی چلی گئی ہے۔
ان کے پاس اتنا ٹائم نہیں تھا کہ وہ کچھ سوچیں۔
اس لیے تم بے فکر رہو۔
اور میں تو کہتا ہوں، لگے ہاتھ ایک کس۔۔۔”
“شششش! اللہ کی پناہ!”
ملیحہ جلدی سے بولی، “جائیں… اللہ حافظ!”
یہ کہتی ہوئی وہ تیزی سے اندر بھاگ گئی۔
زارم نے ہنستے ہوئے دانت نکالے،
“ظالم لڑکی! کس دینا تو دور کی بات ہے، کس کا نام بھی نہیں لینے دیا۔”
گاڑی حویلی کی جانب بڑھ گئی۔
°°°°°°°°°°
“دانیا، وہ لوگ اتنے پیار سے ناشتہ لے کر آئے ہیں… تو اس طرح ان کا دل مت توڑو۔تھوڑا سا کھا لو۔مہرو بھابھی اور ارمیزا کیا سوچتے ہوں گے۔”
مائد نے سرگوشی میں کہا۔
“مجھے بھوک نہیں ہے تو میں زبردستی کیسے کھا لوں اور ویسے بھی۔مجھے مہرو اور ارمیزہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، مجھے ان کے گھر سے آیا ہوا ناشتہ نہیں چاہیے۔
جب مجھے زیغم بھائی سے بات ہی نہیں کرنی،تو میں ان کا لایا ہوا ناشتہ بھی نہیں کروں گی!”
وہ ضدی انداز میں بولی۔
“دانیا وہ گھر تمہارا بھی اتنا ہے جتنا میرا، اور اگر تم اس وجہ سے ناشتہ نہیں کرنا چاہتی تو یہ ضد چھوڑ دو، تمہارے اپنے گھر سے یہ ناشتہ آیا ہے۔۔۔ پلیز، تھوڑا سا کھا لو۔۔۔” زیغم نے نرمی سے کہا۔
“سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں ناشتہ کر لوں! اور کون سے گھر کی بات کر رہے ہیں بھائی؟ وہ گھر میرا تب تک تھا جب تک ابا سائیں اور اماں زندہ تھے، اب میرا اُس گھر سے کوئی تعلق نہیں!”
“جس سے تعلق ہے، جب۔۔۔؟”
زیغم نے جملہ ادھورا چھوڑا، اس کے لہجے میں دکھ چھپا تھا۔
“بولو، بولو میں سن رہا ہوں۔۔۔ مطلب کہنا چاہتی ہو کہ ہمارا رشتہ ختم ہو گیا ہے؟”
دانیا کے آخری الفاظ ادا نہیں ہوئے، تو وہ خاموش ہو گئی۔
زیغم نے درد بھری نظروں سے اپنی بہن کی جانب دیکھتے ہوئے جملہ پورا کرنے کو کہا تھا۔
دانیا کے لب سلے رہے، آنکھیں جھک گئیں، مگر خاموشی چیخ چیخ کر سب کچھ کہہ گئی تھی۔سامنے صوفے پر مہرو اور زیغم خاموش بیٹھے ہوئے تھے،
جبکہ ارمیزہ بیڈ پر آ کر اپنی پھوپھو کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی۔
” بس کرو،معاف کر دو اسے، جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔
اب اس طرح آپس میں بہن بھائی ناراض رہ کر، تم دونوں ایک دوسرے کو ہی تکلیف دے رہے ہو۔”
مائد نے نرمی سے سمجھایا۔
“نہیں!
تکلیف تو مجھے اُس وقت ہوئی تھی جب مجھے پتا چلا کہ میرے بھائی نے اُن کو سزا دینے کے بجائے… معاف کر دیا۔
مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ایسا ضروری کیوں تھا!”
دانیا نے غصے بھری نظروں سے زیغم کو دیکھا،
مگر زیغم…
خاموش، نظریں جھکائے، بس بیٹھا رہا۔
“دانیا بیٹا تمہیں جتنا غصہ کرنا ہے تم کر لو، تمہیں حق ہے…”
زیغم نے جھکے سر، ٹوٹتی آواز میں کہا تھا، نظریں اس کی طرف اٹھاتے ہوئے بھی لرز رہی تھیں۔
دانیا کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا، مگر آنکھوں میں ایک الگ ہی چنگاری جل رہی تھی۔
“حق؟ حق؟ آپ نے رہنے کہاں دیا ہے؟ حق سے ہی تو کہا تھا کہ بھائی ان کو سزا دیں… جن کی وجہ سے میں نے اپنے سب پیارے رشتے کھو دیے… سزا دیں ان کو جنہوں نے میری راتوں کا سکون، دن کا آرام چھین لیا!”
اس کے لفظوں میں تھرتھراہٹ تھی، ہاتھ کانپ رہے تھے، وہ ایک ایک لفظ اپنے بھائی کو بولتے ہوئے سلگتے ہوئے کوئلوں پر چلنے والی لڑکی لگ رہی تھی۔ تڑپتے دل سےجیسے برسوں کا درد لفظوں کی شکل میں بہہ نکلا تھا ۔۔
“کیسے بھول برسوں…وہ مجھے چلتے کوئلوں پر روندتے رہے… میں چیختی رہی درد سے تڑپتی رہی مگر ظالموں نے میری فریاد نہیں سنی،مگر آپ نے ان کو ایک ہی جھٹکے میں معاف کر دیا!””اور سب سے بڑا دکھ جانتے ہو کیا ہے؟ نقصان ہم دونوں کا ہوا، مگر سزا اور معافی میں سے انتخاب کا حق آپ نے مجھے دیا ہی نہیں… خود ہی فیصلہ کیا… اور معاف کر دیا!”
“ان پڑھ لوگ بیٹیوں سے، بہنوں سے کسی بھی معاملے میں رائے نہیں لیتے، کیونکہ ان کے نزدیک ہماری بات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔
مگر زیغم بھائی… آپ تو پڑھے لکھے ہیں۔ باشعور ہیں۔
سالوں ایک ایسی سرزمین پر رہے ہیں جہاں عورت کو مرد کے برابر مانا جاتا ہے۔
ایک ذہین وکیل ہیں آپ…
پھر بھی آپ نے میری رائے کو کوئی اہمیت نہ دی!
نہ پوچھا…
کہ میں معاف بھی کرنا چاہتی ہوں یا نہیں۔”
زیغم کا دل ہول رہا تھا، مگر وہ چپ رہا، جیسے زبان نے قسم کھا رکھی تھی ۔
“آپ اتنے کمزور تھے؟ اتنے؟ کہ ان کو سزا نہ دے سکے؟ اور خود معافی کی چادر اوڑھ کر چھپ گئے۔؟” وہ زار و قطار رونے لگی، پھر گردن اٹھا کر آخری چوٹ مار گئی۔۔
“کیسے معاف کر دوں میں آپ کو؟ کیسے؟ کبھی نہیں… میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی!”
دیواروں سے سر ٹکراتی اس کی آواز نے کمرے میں سکوت کو نوچ ڈالا تھا۔
زیغم کی آنکھیں چھلکنے کو تھیں… مگر وہ ضبط کے مجسمے کی طرح بیٹھا رہا۔”کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد زیغم کی آواز ابھری،
ایسی جیسے اندر کہیں صدیوں کا طوفان قید اب لفظوں کی صورت باہر نکلنے لگا تھا۔”
زیغم نے گہرا سانس لیا، جیسے سینے میں دبی کوئی صدیوں پرانی پکار باہر آ رہی ہو۔
“ظلم پر خاموشی کمزوری نہیں، اس بات پر کامل یقین ہے کہ میرا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
تکلیف دینے والے بھول جاتے ہیں، مگر رب نہیں بھولتا۔
وہ سب دیکھتا ہے، اور بہترین انصاف کرتا ہے۔اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا،
درد ہو یا دوا، سب لوٹ کر آتا ہے۔
رب کی عدالت خاموش سہی، مگر کامل ہے۔زیغم ٹھہراؤ سے بولتا چلا گیا ۔وہ اسے سمجھانے کی آخری کوشش کر رہا تھا جو کہ بری طرح سے ناکام ہو گئی۔اس کی نظریں زیغم کے چہرے کے ساکت تاثرات پر ٹھہر سی گئی ، جہاں آنکھوں میں سکون تھا، مگر خاموشی میں کسی تھکن کا سایہ تھا۔
“کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ گھٹن سے بولی،آپ بار بار جب کہتے ہیں کہ آپ نے سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے…”
“تو پتہ ہے مجھے کیا لگتا ہے؟ جیسے میں مسلمان نہیں ہوں… جیسے میں اللہ پہ یقین نہیں رکھتی!”اس کے لہجے میں اذیت تھی، آنکھوں میں جھلملاتی نمی صاف دکھائی دے رہی تھی ،زیغم جو اب بھی خاموش تھا۔
“آپ کیوں مجھے اس گلٹ میں مبتلا کر رہے ہیں بھائی؟”
“میں کیوں تمہیں کسی گلڈ میں مبتلا کروں گا میرا تو اپنا دل مطمئن نہیں ہے..
“مجھے آپ صرف اتنا بتائیں میں اس دل کا کیا کروں… جس میں درد ہے۔ جو ہر لمحہ یہ چاہتا ہے کہ ان کو سزا ملے…”
“جن کی وجہ سے میرے اپنے مجھ سے دور چلے گئے… ہمیشہ کے لیے!”
“میں نہیں کر پا رہی ان کو معاف… کیا کروں؟ نہیں ہے مجھ میں وہ ظرف!”
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپتی ہے، آواز رندھ گئی۔
“یا پھر دعا کریں کہ دانیہ مر جائے…”
زیغم کے چہرے کا رنگ اڑ گیا،دکھی نظروں سے دانیا کو دیکھا، مگر وہ اب بھی چپ ہے۔
“نہ میں رہوں گی، نہ پھر میں آپ کو کچھ کہوں گی… نہ ہی کوئی سوال اٹھاؤں گی!”
مہرو آہستہ سے آنکھیں بند کرتی ہے، جیسے دل میں کچھ ٹوٹا ہو۔ مائد کی نظریں دیوار سے جا ٹکراتی ہیں، اور زیغم صرف سانس لے رہا ہے… ایک تھکی ہوئی، بوجھل سانس۔
کمرہ خاموش مگر درد کی آواز صاف سنائی دے رہی ہے۔۔زیغم آہستہ سے اٹھ کھڑا ہوا، چہرے پر صبر اور تھکن کی آمیزش تھی۔
“کیوں منہ سے بار بار موت کی بات نکال کر گناہگار ہو رہی ہو؟”
“تم جانتی ہو کہ اللہ کے نزدیک یہ کتنا سنگین عمل ہے، اپنے لیے موت مانگنا؟”
“مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے جب تم میرے سامنے ایسی بات کرتی ہو۔”
“میں وعدہ کرتا ہوں… اب زیغم تمہارے سامنے دوبارہ نہیں آئے گا۔”
اس کا لہجہ گمبھیر اور دل گرفتہ تھا۔
“تم خوش رہو… اپنے گھر،اگر مجھے معاف کر دینا میں مجبور ہوں، میں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، اور میرے خیال سے تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ سلطان لگاری کا خون کبھی بھی اپنے وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹتا پھر چاہے ان وعدوں کو نبھانوں کے لیے اپنوں کے دل ہی کیوں نہ توڑنے پڑے۔۔۔۔ اب تم چاہیں جتنا بھی مجھے کوسو، میرا فیصلہ نہیں بدلے گا۔”
دانیہ پوری بات سن کر غصے سے رخ دوسری جانب موڑ گئی،
جیسے لفظوں نے تیز دھار خنجر کی صورت دل کو چیر دیا ہو،
جیسے جذبات کی آگ میں بھڑکتا ہوا لاوا آنکھوں سے چھلکنے کو بے تاب ہو،
جیسے خاموشی بھی چیخنے لگی ہو اور پلکیں گواہی دینے سے انکاری ہوں۔
“میں نے ظالموں کو اپنے رب کے لیے معاف کردیاہے۔ اب دیکھتے ہیں، یہ نیت میرے لیے دعا بنتی ہے یا… بددعا۔”
زیغم کا لہجہ لرزنے لگا، برداشت کی حد پر تھا۔مائد نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“زیغم یار، بیٹھ جاؤ… وہ تو پاگل ہو رہی ہے، تم تو عقل سے کام لو۔”
زیغم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
“نہیں، مائد، یہی صحیح ہے۔
مجھے فِلاحال دانیہ کے سامنے نہیں آنا چاہیے۔جب بھی آتا ہوں، اسے تکلیف ہوتی ہے۔
شاید اسے اب یقین نہیں رہا، مگر میں آج بھی اسے بے حد پیار کرتا ہوں… اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا۔”
مائد خاموش ہو گیا۔ زیغم نے آخری نگاہ دانیہ پر ڈالی، اور آہستہ آہستہ دروازے کی جانب قدم بڑھا دیے۔
مہرو بھی اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔
“مہرو، ارمیزہ، چلو!”
زیغم کا حکم سنتے ہی دونوں لڑکیاں جلدی سے اس کے پیچھے روانہ ہو گئیں۔مہرو اور ارمیزہ دونوں ہی دانیا سے ملنا اس سے باتیں کرنا چاہتی تھی مگر ان کے دل کے ارماں ادھورے رہ گئے وہ اللہ حافظ بول کر باہر نکل گئی۔۔۔
دانیہ ساکت بیڈ پر لیٹی تھی،
جیسے کوئی مجسمہ ہو جس میں سانسیں تو ہوں مگر زندگی نہ ہو،
جیسے جسم یہاں ہو اور روح کہیں اور بھٹک رہی ہو،
جیسے سب کچھ سن کر بھی وہ کچھ نہ سننا چاہتی ہو،
مگر اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں،
جیسے آنسو برسنے سے پہلے اندر ہی اندر ہر کونا بھگو چکی ہوں،
جیسے دل کی چوٹ نے آنکھوں کے رنگ بدل دیے ہوں۔
مائد نے مایوسی سے سر جھٹکا، پھر ناراضی سے اس کی طرف مڑا۔
“دانیہ، یہ تم نے کیا کر دیا؟ وہ لوگ کتنی خوشی سے ناشتہ لے کر آئے تھے، اور تم نے بات کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔”
دانیہ کے لب تھرتھرا گئے، مگر لہجہ مضبوط رہا۔۔
“میں نے جو کہا، ٹھیک کہا۔ کچھ غلط نہیں کہا۔
مجھے دشمن کھلے عام آزاد زندگی گزارتے ہوئے قبول نہیں!
مجھے ان کی سزا چاہیے۔
اور اگر زیغم بھائی کو معاف کر دینے سے روکنا ہے، تو میرا ناراض ہونا ضروری ہے! اور مجھے نہیں لگتا کہ میں کچھ غلط کر رہی ہوں ۔اپنے ماں باپ کے خون کا بدلہ لینا میرا بھی حق ہے۔”اپنی جگہ پر ساکت لیٹے ہوئے وہ اپنی بات مکمل کر کے انکھوں پر ہاتھ رکھ گئی وہ مزید بات صحیح کرنا چاہتی تھی۔۔
مائد نے گہری سانس لی، اور کھڑکی کے پاس جا کر خاموش کھڑا ہو گیا،
جیسے الفاظ گلے میں پھنس کر رہ گئے ہوں،
جیسے وہ اپنی ٹوٹتی ہمت کو سنبھالنے کی آخری کوشش کر رہا تھا،
جیسے وہ منظر سے نظریں چرا کر جذبات کو آنکھوں کے راستے باہر آنے سے روک رہا ہو،
جیسے وہ ہوا کے دوش پر اپنی بےبسی بھیج دینا چاہتا تھا،
مگر اس کے شانے بوجھل ہو چکے تھے،
جیسے وہ ہر تعلق، ہر بات، ہر درد کو اپنے اندر دفن کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
°°°°°°°°°°
گاڑی میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
ایسی خاموشی جو کانوں میں شور کی طرح گونجتی ہے۔
زیغم کھڑکی سے باہر غصے میں گھور رہا تھا۔
اس کے ماتھے پر تناؤ کی شکنیں تھیں، جیسے دل میں طوفان برپا ہو، مگر زبان بند ہو۔
مہرو اور ارمیزہ اس کی حالت دیکھ کر چپ چاپ بیٹھی تھیں،
ان کی نظریں بار بار زیغم پر جا ٹکتیں، مگر لفظ لبوں تک آ کر رک جاتے۔”مہرو زیغم سلطان کے دل کا درد بانٹنا چاہتی تھی، اسے تسلی دینا چاہتی تھی مگر الفاظ ہی نہیں ساتھ دے رہے تھے۔”
(وہ بےبس سی چپ چاپ اس کے قریب بیٹھی تھی، جیسے دل کی آواز زبان تک آتے آتے کہیں گم ہو گئی ہو۔)
“اسی لیے خاموشی کا دامن تھامے ہوئے بیٹھی تھی۔”
(اس کی نظریں نیچی تھیں، ہاتھ آپس میں الجھے ہوئے، اور دل بےچین۔)
“مہرو کے ساتھ ہی ارمیزہ چپک کر بیٹھی ہوئی تھی۔”
وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی، “اس کی نظر بھی خوفزدہ تھی، پریشان تھی، وہ بھی۔”
وہ زیغم کی طرف دیکھتی اور فوراً نظریں چرا لیتی۔ارمیزہ اپنے بابا سے بھی بہت محبت کرتی تھی اور اپنی پھوپھو سے بھی اس لیے وہ کس کا ساتھ دے اس کے لیے یہ بات طے کرنا بہت مشکل تھا۔پیسے بھی اس کی معصوم سوچ ابھی ان کی باتیں سمجھنے سے قاصر تھی۔
مگر زیغم اس سب سے بے نیاز ہو کر بیٹھا تھا۔ دانیہ کا غصہ، اس کی دوری، اس کے طنزیہ جملے… کچھ بھی زیغم سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اپنی ہی سوچوں میں الجھا ہوا تھا۔اس کا جسم گاڑی میں تھا مگر دل اپنی جان سے عزیز بہن کے پاس ہی رہہ گیا تھا۔
“کیوں دانیا، کیوں میرا بچہ؟ کیوں تم اپنے بھائی سے اتنی ناراض ہو گئی ہو؟ اتنے کڑوے الفاظ… تم کیوں نہیں سوچ رہی کہ میرے دل کو کس قدر تکلیف ہو رہی تھی تمہارے ایسے جملے سن کر؟”
“گناہ گار تو میں تمہارا ہوں، اس بات کو جتنا بھی جھٹلا لوں، جھٹلا نہیں سکتا… کیونکہ میں اپنے ہی ضمیر کی عدالت سے بری نہیں ہو پا رہا۔ تو تمہیں کیسے ثابت کروں کہ میں نے جو کیا وہ ٹھیک تھا؟ آج سے پہلے مجھے بھی نہیں پتا تھا کہ معافی دینا اتنا دردناک بھی ہو سکتا ہے۔”
“میں نے تو آج تک یہی سنا تھا کہ معاف کرنے والا بڑا ہوتا ہے، معاف کرنے سے دلوں کو سکون مل جاتا ہے… مگر وہ سکون مجھے کیوں نہیں مل رہا؟ کیوں میرا دل بے چین ہے؟ کیوں میرا دل بے سکون ہے؟”
“دانیا، تم تو اپنا غصہ مجھ پر نکال لیتی ہو… مگر میں کیا کروں؟ میں تو اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہوں۔ خدا کی قسم، اس معافی کے بعد میں خود سے نظریں نہیں ملا پا رہا۔”
“مگر شاید زرام کے ساتھ بھائی والا اور انسانیت والا رشتہ نبھاتے ہوئے میرے باقی سب رشتے مجھ سے ناراض ہو گئے۔ کیا مجھے کبھی معافی ملے گی؟ دنیا میں تم مجھ سے ناراض ہو، تو اس کا مطلب روزِ محشر مجھے بابا سائیں، اماں، اور بہرام بھائی کا بھی سامنا کرنا ہوگا؟ وہ بھی تو مجھے غلط سمجھیں گے، وہ بھی تو اللہ کی بارگاہ میں مجھے گناہگار ٹھہرائیں گے… اُس وقت میں ان سے نظریں کیسے ملاؤں گا؟”
زیغم کی آنکھوں کے کناروں پر پانی جمع ہونے لگا تھا۔
ایک عجیب سا ڈر، ایک عجیب سا خوف اس کے اندر تھا…
اور یہ ساری سوچیں اس کے دماغ میں چل رہی تھیں،
جبکہ بظاہر وہ شانت، ساکت، ایک ہی جگہ، گاڑی کے شیشے کے اُس پار نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ راستہ اس کی آنکھوں کے سامنے دوڑ رہا تھا…
مگر دماغ کہیں اور، وجود کہیں اور تھا۔
بہت مشکل ہوتا ہے، اپنی سوچوں میں الجھ کر باہر نکلنا۔
مگر کہتے ہیں ناں…
جب اپنے ساتھ ہوں، لمحے قیمتی ہوتے ہیں،
کیونکہ وقت کی چادر کے نیچے کیا چھپا ہے، کوئی نہیں جانتا۔
کب، کون، کس موڑ پر بچھڑ جائے…کوئی نہیں جانتا،اپنوں کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے،اس وقت کو پورے دل سے جی لینا چاہیے،کیونکہ بعد میں صرف پچھتاوے رہ جاتے ہیں،
مہرو نے بہت دیر تک صبر کا دامن تھامے رکھا اور خاموشی سے اپنے پریشان بیٹھے ہوئے سائیں کو چور نظروں سے دیکھتی رہی۔
مگر کب تک؟
آخرکار، مہرو نے تھوڑی سی ہمت جمع کی اور نرمی سے زیغم کے بھاری ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ زیغم جیسے ہی خیالات کی دنیا سے باہر آیا، اس کی نظر پلٹ کر مہرو پر مرکوز ہو گئی۔
“سائیں آپ، پریشان نہ ہوں۔ ان شاء اللہ سب بہتر ہو جائے گا۔”
“بہت جلد دانیا… آپی سے ناراضگی دور ہو جائے گی ،اس وقت وہ بہت دکھی ہیں اس لیے آپ کی بات سمجھ نہیں پا رہیں۔۔”
“سائیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اس وقت آپ کو کیسے حوصلہ دوں یا کیا کہوں۔”
“آپ کو پتہ ہے نا کہ مہرو سمجھدار نہیں ہے…”مہرو نے معصومیت سے اپنا حوالہ دیا۔
زیغم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ اُس نے مہرو کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے اپنے قریب کر لیا، اور ارمیزہ کے سر پر بھی شفقت بھرا ہاتھ رکھ دیا۔
“سرکار، ایسا دوبارہ مت کہنا، کہ آپ سمجھدار نہیں۔ آپ بہت سمجھدار ہیں۔
حوصلے کے لیے ہمیشہ لفظوں کی ضرورت نہیں ہوتی،
آپ کا میرے ساتھ کھڑا ہونا ہی میرے لیے حوصلہ ہے، ہمت ہے، طاقت ہے۔
کیونکہ جہاں سچی محبت اور مضبوط رشتے ہوتے ہیں، وہاں لفظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔”
زیغم سلطان کی نرمی نے مہرو کے دل کو چھپکے سے چھو لیا تھا۔
گاڑی تیزی سے کچے راستے پر رواں تھی۔
آگے زیغم کی گاڑی، پیچھے حفاظتی قافلے کی گاڑیاں تھیں ۔
مگر یکدم،
“چرررررررک!!”
گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی۔
“کیا ہوا؟”
زیغم چونک کر ڈرائیور پر جھکا۔
ڈرائیور نے پسینہ پونچھتے ہوئے بمشکل کہا،
“سر… حملہ!”
زیغم نے فوراً موبائل نکالا اور رفیق کو کال ملائی۔دوسرے ہاتھ سے اپنی پسٹل سنبھالی۔
“رفیق! ہوشیار رہو۔ میرے ساتھ فیملی ہے۔اگر کسی کو نقصان پہنچا… تو تمہاری جان بھی نہیں بچے گی۔”
رفیق کی آواز بھی ہانپتی ہوئی تھی،
“سر! حملہ بہت پلاننگ سے کیا گیا ہے… ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔”
ٹھاہ! ٹھاہ! دھڑ دھڑ دھڑ دھڑ دھڑ !
باہر گولیوں کی بارش شروع ہو چکی تھی۔
“ب۔۔۔ا۔۔۔ب۔۔۔ااااا!”
ارمیزہ کی چیخ فضا میں گونجی تھی، جیسے کسی زخمی پرندے نے درد سے بھرپور پکار لگائی ہو۔ وہ لرزتے وجود کے ساتھ اپنے بابا سے جا لپٹی، جیسے ٹھنڈی بارش میں کوئی بچہ اچانک کسی سائبان کے نیچے آ جائے۔
مشکل وقت میں باپ… صرف رشتہ نہیں ہوتا، وہ ڈھال ہوتا ہے، دیوار ہوتا ہے، پتھر پر کھدی ہوئی وہ چھاؤں… جو ہر طوفان سے پہلے انسان کو تھام لیتی ہے۔
دوسری جانب مہرو کی بھی حالت کچھ کم نہ تھی۔
اس کے منہ سے چیخ تو نہیں نکلی،
مگر شاید آواز… کہیں حلق میں دب کر رہ گئی تھی۔
وہ بےجان سی ہو کر زیغم کے کندھے پر سر رکھے،
اپنی بھیگی پلکیں موند گئی ۔اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔
زیغم نے دونوں کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔
اسے اپنی جان کی کوئی پروا نہیں تھی…
مگر فیملی؟ کو تو ایک خراش بھی برداشت نہیں تھی۔
گولیاں چل رہی تھیں، مٹی اڑ رہی تھی، شیشہ ٹوٹنے کی آوازیں…
فضا جنگی میدان میں بدل چکی تھی۔
“مہرو… ریلیکس ہو جاؤ۔
میں باہر جا رہا ہوں۔ کچھ نہیں ہوگا۔
ارمیزہ کا خیال رکھنا۔”
زیغم نے دونوں کے ماتھے پر باری باری لب رکھے۔
“نن… نہیں بابا! آپ کو نہیں جانے دوں گی مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”
ارمیزہ سسک کر اس سے لپٹ گئی۔
“سائیں! آپ ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں ،!”مہرو بھی رو رہی تھی۔
مگرزیغم مضبوط رہا۔
“مجھے باہر جانا ہوگا…بزدل بن کر اندر نہیں بیٹھ سکتا مجھ پر یقین رکھو اللہ تعالی سب بہتر کرے گا مگر مجھے جانے دو۔”
اسی لمحے،
ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ!
ان کی گاڑی پر بھی فائرنگ شروع ہو گئی۔رفیق زخمی ہو چکا تھا، مگر مقابلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔حملہ بہت سوچ سمجھ کر پلاننگ کے تحت کیا ں تھا۔دشمن آپس میں مل چکے تھے دو طاقتیں مل کر زیغم سلطان کے خلاف بغاوت پر اتری تھی۔
شہرام اور سبحان خان کے بھائی آپس میں مل چکے تھے۔
زیغم کو جلد ہی نظر آ گیا تھا ،توقیر بھی ان کے ساتھ تھا۔بہت دنوں سے زیغم اس خطرے کو محسوس کر رہا تھا کیونکہ جب سے شہرام اور توقیر غائب ہوئے تھے زیغم کو لگ رہا تھا کہ یہ دونوں مل کر کوئی بہت بڑا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ مگر دانیا کی طبیعت خراب کی وجہ سے کچھ دنوں کے لیے شاید اس سب سے اس کا دھیان ہٹ گیا تھا۔
مگر اب فیصلہ کن لمحہ تھا۔جب گاڑی پر گولیوں کی بارش ہونے لگی تو،زیغم نے زبردستی ارمیزہ اور مہرو کو گاڑی کی سیٹ کے نیچے دھکیلا، پسٹل مضبوطی سے تھامی، اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
باہر نکلتے گولیوں کے بیچ میں سینہ چیرتے ہوئے دشمنوں پر شیر کی طرح جھپٹا
چند لمحوں میں کئی دشمن زخمی ہو چکے تھے۔مگر دشمن تعداد میں زیادہ تھے۔
“بابا!!!”
تبھی…مہرو کی چیخ گونجی۔
زیغم پلٹا
سبحان کا بھائی گاڑی کا دروازہ کھول کر ارمیزہ اور مہرو کو باہر گھسیٹ رہا تھا۔
“رک جا…خبردار اگر انہیں کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تمہاری دشمنی مجھ سے ہے اور تو اور بچوں کو بیچ میں مت لاؤ !!”
زیغم دھاڑا، مگر اسی لمحے،
ٹھاہ!!
گولی اس کے بازو میں آ لگی۔
شہرام نے پیچھے سے فائر کیا تھا۔
گولی کا ہدف دل تھا،
مگر بھاگتے وقت زیغم نے مہرو اور ارمیزہ کو بچانے کی کوشش کی،
اس لیے نشانہ چونک گیا گولی بازو میں لگی،اور گہرائی تک اتر گئی۔
اندھیرا آنکھوں کے سامنے چھانے لگا،
مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔
ایک طرف ارمیزہ کو اپنے ساتھ چمٹا لیا،
دوسری طرف مہرو کا ہاتھ تھامے اسے سبحان کے بھائی سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔
مگر پیچھے سے بار بار
بازو پر ضربیں،اس کے پورے وجود کو درد سے بھر رہی تھی،
بازو سے سرخ رنگ کا خون ٹپک رہا تھا۔
وہ بے ہوشی کی آغوش میں جانے سے پہلے بھی…
کانپتے ہاتھوں سے فائر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اب بھی وہ مہرو کو بچانا چاہتا تھا،
کسی بھی حال میں، کسی بھی قیمت پر…
مگر پیچھے سے اس کے سر پر ایسا وار کیا گیا،کہ جیسے سب کچھ تھم گیا تھا۔جیسے زندگی نے پلکیں موند لیں،
°°°°°°°°°
ہاسپٹل کے باہر، ایمرجنسی لائٹس کی بے نور سی روشنی ہر طرف بےچینی کا عالم تھا ۔ایمرجنسی وارڈ کے دروازے کھلے تھے… اندر سے آتی دوڑتی قدموں کی چاپ، طبی عملے کی بھاگ دوڑ، بیپ بیپ کرتی مشینوں کی آواز… سب کچھ جیسے ایک دردناک فلم کا منظر بن چکا تھا۔
یہ اسپتال کا ہنگامی وارڈ تھا۔
ہر طرف بھاگتی نرسیں، آلات کی آوازیں،
اور بیچ میں پڑا زیغم…
زندگی اور موت کے بیچ جھولتا ہوا۔
اس کے سر پر پٹی تھی، چہرہ زرد،
اور بدن پر کہیں انجکشن، کہیں خون کے دھبے۔زیغم سلطان کے چہرے پر آکسیجن ماسک لگا ہوا ےھا، جسم ہلکا سا کانپ رہا ہے، طبی مشینوں کی تیز ہوتی آوازیں اس کی نازک حالت کی گواہی دے رہی ہیں۔
بہن درِ فگار دل کے ساتھ جھک کر اس کے قریب آئی،
اور لرزتی آواز میں بولی،
“زیغم بھائی… یہ کیا ہو گیا؟”
اس کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
“بھائی… میں ایسا نہیں چاہتی تھی…
میں تو بس… بس اتنا چاہتی تھی کہ آپ میری ناراضگی سے گھبرا کر
دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیں…
پر بھائی… یہ کیا ہو گیا؟”
وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ چکی تھی،
زیغم کا ہاتھ تھام کر روتی جاتی، بولتی جاتی۔
“اللہ جی… اللہ جی!
ان کو میری بھی عمر لگا دیں…
اگر ان کو کچھ ہوا… تو میں مر جاؤں گی…
میرا تو کوئی نہیں ہے…
بس یہی ایک سایہ ہے جو دشمنوں کے بیچ بھی دیوار بن کے کھڑا ہوتا ہے۔
اللہ جی، پلیز… ان کو بچا لیں!”
زیغم کا چہرہ بےحس تھا،
مگر اس پر ایسا درد لکھا تھا کہ دیکھنے والوں کے دل پھٹ رہے تھے۔وہ زیغم…
جو اپنی بہن کے چہرے پر ایک شکن بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا…
جو اس کے آنسو دیکھ کر بے چین ہو جاتا تھا…
آج… اسی بہن کو تڑپتا دیکھ رہا تھا۔
لیکن وہ خاموش تھا۔
نہ آواز نکال سکا، نہ کوئی جنبش دے سکا۔
وہ شیر جیسا جوان،
جو دشمنوں کے بیچ اکیلا چٹان بن کر کھڑا ہوتا تھا،
آج بستر پر بے جان پڑا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وقت نے اسے جکڑ لیا ہو،
جیسے وہ تڑپتی ہوئی آوازیں سن رہا ہو،
مگر بولنے کی طاقت چھن چکی ہو۔
اس کی بہن چیخ چیخ کر رو رہی تھی،
اور وہ…
بس بےبس پڑا تھا۔
“بی بی جی پلیز پیچھے ہو جائیں، مریض کو آکسیجن دی جا رہی ہے۔”نرس نے آ کر کہا۔
لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلی بھی نہیں
بس زیغم کے ہاتھ کو تھامے،
اپنے رب سے جھولی پھیلائے،
اپنے بھائی کی سانسوں کی بھیک مانگتی رہی۔
” اللہ… میرے بھائی کو بچا لے… پلیز…پلیز میرے بھائی کو کچھ نہ ہو۔”
اس کی سانسیں بےترتیب تھیں، آنکھوں سے آنسو تھم نہیں رہے تھے۔
وہ بار بار صرف زیغم کا چہرہ دیکھ رہی تھی، اور ہاتھوں میں کانپتی تسبیح… وہ ہر دانے پر ایک فریاد تھی۔”پلیز میم، باہر چلی جائیں۔ مریض کی کنڈیشن ٹھیک نہیں ہے… آپ یہاں نہیں رک سکتیں!”
نرس نے پھر سے کہا، اس بار لہجے میں زبردستی تھی۔
ساتھ ہی اس نے دانیہ کا بازو تھاما اور نرمی سے سہارا دے کر دروازے کی طرف لے جانے لگی۔
“نہیں… میں نہیں جاؤں گی!”
دانیہ چیخی، آنکھوں سے آنسو بہتے ہوئے اس کے گالوں پر ٹپک رہے تھے۔
“میں زیغم بھائی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔ وہ میرے بھائی ہیں، میرا سہارا ہیں۔ آپ ان کا علاج کریں، میں یہی رہوں گی… میں کہیں نہیں جاؤں گی!”
وہ ضد کر رہی تھی، ہاتھ جھٹکاتی، قدم جماتی۔
“میم، پلیز… ایسا ممکن نہیں۔ ہمیں کام کرنے دیں۔”
نرس نے سختی سے اسے بازو سے تھاما ہی تھا کہ دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔
باہر ملیحہ اور زرام ہسپتال پہنچ چکے تھے۔
ملیحہ نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر دانیہ کا ہاتھ پکڑا اور مضبوطی سے اسے اپنے ساتھ باہر کھینچ لیا۔
“دانیہ آپی! چلو باہر، پلیز…”
دانیہ لڑکھڑاتی ہوئی اس کے ساتھ باہر نکلنے پر مجبور ہو گئی،
اور زرام بھی خاموشی سے ان کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے،
اور وہ آنسو… اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کی گواہی دے رہے تھے۔
اسے فون پر زیغم کی حالت کے بارے میں سب کچھ بتا دیا گیا تھا،
مگر جو منظر اب اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا…
وہ تصویر بن کر اس کے دل پر نقش ہو چکا تھا۔
ذرام نے صرف ایک جھلک دیکھی تھی…
بےسدھ، خون میں لت پت،
اکسیجن ماسک میں جکڑا ہوا زیغم…
ایسا لگا جیسے وقت وہیں تھم گیا ہو۔
ایک لمحے کو اس کا دل تڑپتے ہوئے…
جیسے بند ہونے لگا ہو۔
سانس حلق میں اٹک گئی تھی،
اور قدم زمین میں دھنس گئے تھے۔
وہ زیغم…
جو ہمیشہ سب کے لیے ڈھال بنا رہا،
آج خود بستر پر پڑا تھا،
بےجان، بےحرکت،
اور ذرام… بس بےبسی سے دیکھتا رہ گیا تھا۔
دوسری طرف…
مائد بےبس سا ایک کونے میں کھڑا تھا۔
اپنی انگلیاں بار بار آپس میں الجھاتا،
پھر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں سختی سے بند کر لیتا۔
چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں،
جیسے سانس لینا بھی مشکل ہو رہا ہو۔
اس کی حالت دیکھ کر صاف لگ رہا تھا کہ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو چکا ہے۔
اسے اس وقت نہ دانیہ کا ہوش تھا،
نہ اسپتال کی بھاگ دوڑ کا۔
بس ایک ہی منظر اس کے دل و دماغ پر چھایا تھا…
اندر…
بےسدھ، زندگی کی آخری سانسیں لیتا زیغم۔
وہ زیغم…
اس کا یار،
اس کا جگر،
اس کا بچپن کا ساتھی،
اس کا وہ دوست… جو بھائیوں سے بڑھ کر تھا۔
ان کا رشتہ صرف دوستی کا نہیں تھا،
جیسے روح کا ایک ٹکڑا ہو جو اب کٹنے کو ہو۔
اور اب جب زیغم زندگی اور موت کے بیچ لڑ رہا تھا،
تو مائد کو لگا…
جیسے اس کے اپنے سینے میں دل کی دھڑکن رُکنے لگی ہو۔
ایک لمحے کو تو اسے یوں محسوس ہوا
جیسے وہیں کھڑے کھڑے…
اسے ہارٹ اٹیک نہ آ جائے۔
“اے اللہ…
اسے میری بھی عمر عطا کر دے!
اللہ… یہ دکھ… میں برداشت نہیں کر پاؤں گا۔
ابھی تو میں درخزئی کے درد کو سمیٹ نہیں پایا…
تو ایک اور زخم نہ دینا۔؟
اے اللہ… اپنی رحمت کے سائے کر دے!
تو غفور ہے، رحیم ہے،
تو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے…
تو آج… اپنے رحم کے صدقے…
اسے زندگی بخش دے، یا رب!
اسے صحت عطا فرما… شفا دے…”
وہ دعا کرتے کرتے تڑپ گیا تھا،
سینے سے نکلتی ہچکیوں میں ساری دنیا چھپ گئی تھی۔
آنکھوں سے بہتے آنسو رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے،
اور جو لوگ اسے دیکھ رہے تھے…
وہ بھی بےساختہ اشکبار ہو گئے تھے۔
کسی سے بھی یہ منظر برداشت نہیں ہو پا رہا تھا۔
لیکن اسی لمحے…
اس کے دل میں ایک اور خیال نے جنم لیا ۔
ایک ایسا خیال جس نے اس کے اندر کی دنیا ہلا دی۔
اس کی نظریں ایک دم بکھل گئیں،
پریشان سی آنکھوں سے وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔
“اگر وہ ہوش میں آ گیا…”
اس کے لب لرزے۔
“تو میں کیا کروں گا؟
اسے کیا جواب دوں گا…؟
اور مہرو بھابھی …
وہ کہاں ہے؟”
یہ سوچ اس کے دل کو مزید دہلا گئی۔
دعا کرتے لب تھم گئے،
اور چہرے پر خوف، شرمندگی اور بےبسی کی پرچھائیاں پھیل گئیں۔
دوسری جانب ساتھ والے کمرے میں رفیق بیڈ پر پڑا ہوا تھا ۔۔۔اس کے کندھے پر سفید پٹی بندھی ہوئی تھی دیکھنے میں ، حالت بہتر تھی،مگر زرد رنگت اس کے جسمانی اور دل کے درد کا حال سنا رہی تھی۔
رفیق نے اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کی تھی، اور اسی کوشش کا نتیجہ تھا کہ وہ زیغم کو اسپتال تک لانے میں کامیاب ہوا۔ ورنہ دشمنوں نے ایسا جال بچھایا تھا، جہاں سے نکلنا ممکن ہی نہیں تھا۔ کسر تو زیغم اور رفیق کے ساتھ ان کے آدمیوں نے بھی نہیں چھوڑی تھی، مگر مقابل پورے منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے، جس کی وجہ سے قسمت بھی دھوکا دے گئی تھی۔ڈرائیور کی موقع پر موت ہو گئی تھی آج رفیق دوسری گاڑی میں تھا۔۔
رفیق کے چہرے پر درد نمایاں تھا کہ وہ اپنی مالکن کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ دوسری جانب، اس کے دل سے زیغم کے لیے مسلسل دعائیں نکل رہی تھیں، اور یہ ڈر بھی اسے گھیرے ہوئے تھا کہ جب وہ ہوش میں آئیں گی تو کیا قیامت برپا ہو گی۔ارمیزہ کو باحفاظت بچا لیا گیا تھا۔۔۔
مگر اس وقت ارمیزہ شدید خوفزدہ اور سہمی ہوئی تھی۔ کھینچا تانی کی حالت میں اسے چند خراشیں بھی آئی تھیں، جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے نیند کی دوا دے کر اسے اسپتال کے بیڈ پر ڈرِپ لگا کر لٹا دیا تھا۔مگر اس سب میں مہر النساء مسنگ تھی… کہاں تھی، کوئی نہیں جانتا تھا۔۔
“ملیحہ دانیہ کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی،جو مسلسل رو رہی تھی ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس کے آنسوں تھم نہیں رہے تھے۔ ذرام نے ہوش سنبھالتے ہی رفیق کے کمرے کا رخ کیا۔ وہ سامنے ہی درد سے چور بیڈ پر لیٹا تھا۔
‘کیسے ہوا یہ سب؟ اور تم سب لوگ کہاں تھے اُس وقت؟ کیسے زیغم بھائی پر حملہ ہونے دیا؟ کیسے تم لوگ مہرو کو بچا نہیں سکے؟’
ذرام کی آنکھوں میں شدت تھی، اور آواز میں وہ غصہ جو اندر کی بےبسی سے جنم لیتا ہے۔دوسری جانب رفیق خاموش تھا اس کے پاس لفظ نہیں تھے جن کا سہارا لیتے ہوئے وہ جواب دیتا۔
“یہ خاموشی میں بچا نہیں سکتی تو اچھی طرح جانتے ہو کہ زیغم بھائی اور اس کی فیملی کی سیکیورٹی کی ذمہ داری تم پر ہے…. پھر اتنی بڑی غفلت کیسے ہوگئی…ایک بار پھر سوچ لو، جب بھائی ہوش میں آئیں گے تو تم لوگوں کا کیا حشر ہوگا؟’
زرام اس کی حالت پر دل رحم کھا رہا تھا، مگر زیغم سلطان کی سیکیورٹی رفیق کے ذمے تھی، اور یہی ذمہ داری آج سوال بن کر رفیق پر برس رہی تھی۔
“ہم نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہ چھوڑی، لیکن وہ پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ گستاخی ہو تو معاف کر دیجیے، شہرام سائیں اور توقیر سائیں، سبحان خان کے بھائیوں کے ساتھ مل کر بے شمار لوگوں کے ساتھ حملہ آور ہوئے۔ کوئی راستہ نہ بچا تھا۔ بڑی مشکل سے میں زیغم سائیں اور ارمیزہ بد بی بی کو بچا پایا۔ دونوں طرف کئی لوگ جان سے گئے، کئی زخمی ہوئے، اور سبحان کا ایک بھائی بھی مارا گیا۔”
“جب رفیق نے سب کچھ بتایا، اور اس میں زرام کے باپ اور بھائی کا ذکر آیا… تو وہ سن کر زمین میں گڑ گیا۔ زبان خاموش ہو گئی، اور شرمندگی نے اس کے چہرے پر سناٹا طاری کر دیا۔”وہ خاموش نظروں سے باہر بڑھ گیا دوسری جانب بہر اب بھی وہی منظر تھا روتی ہوئی دانیہ اس کو خاموش کرواتی ہوئی ملیحہ اور ایک کونے میں کھڑا ہوا،مائد جیسے ہر سانس، ہر لمحہ نقصان کو شمار کر رہا تھا۔۔۔۔
دانیہ نے اپنا چہرہ ہاتوں سے چھپا رکھا تھا، مگر سسکیوں کی شدت سے اس کا وجود ہل رہا تھا۔
“زیغم بھائی… پلیز واپس آ جائیں… میں ٹوٹ جاؤں گی…”
اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔
مائد کو سب سے زیادہ خوف اسی بات کا تھا،
“اگر دانیہ کی طبیعت خراب ہو گئی تو؟
نہ وہ اسے یہاں سے لے جا سکتا تھا،
نہ یہاں چھوڑ سکتا تھا۔”مائد دانیہ کی جانب بڑھنے ہی لگا تھا۔کہ اتنے میں ائی سی یو کا دروازہ کھولتے ہوئے ڈاکٹر باہر آیا۔۔۔
مائد دانیہ زرام اور ملیحہ کی سانسیں جیسے وہیں تھم گئیں۔
“ڈاکٹر صاحب… سب ٹھیک ہیں نا؟ خدا کے لیے، کوئی بری خبر نہ دیجیے گا!”
مائد نے ڈاکٹر کے پریشانی والے تاثرات دیکھتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیے، آنکھوں میں بےبسی اور دل میں لرزتی امید باقی تھی۔
جبکہ زرام کے لب ساکت تھے، نظریں شرمندگی سے جھکی ہوئی، اور دل اندر ہی اندر تڑپ رہا تھا۔
ڈاکٹر نے ایک نظر سب پر ڈالی، پھر گہری سانس بھری۔
“دیکھیں، میں آپ کو جھوٹی تسلی نہیں دینا چاہتا۔ اس وقت انہیں سب سے زیادہ دعا کی ضرورت ہے۔”
“ان کے سر پر لگی چوٹ بہت گہری ہے، خون بہت زیادہ بہہ چکا ہے۔ بازو کی چوٹ سنگین نہیں، مگر سر کی چوٹ خطرناک ہے۔ نسیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اب یہ صرف اللہ کی رحمت ہے جو فیصلہ کرے گی کہ وہ ہوش میں آ کر کس حالت میں ہوں گے۔ ٹیسٹ جاری ہیں، ان کے بعد واضح صورتحال بتا سکوں گا۔ لیکن فی الحال… معاملہ سنجیدہ ہے۔”
ڈاکٹر کی زبان رکی، مگر خاموشی چیخ رہی تھی۔
“شروعاتی ٹیسٹ یہی ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نہیں بتا سکتے کہ وہ کب ہوش میں آئیں گے… یا آئیں گے بھی یا نہیں۔”
“خدا کے واسطے، ڈاکٹر صاحب… ایسا مت کہیں! ہمارا حوصلہ، ہماری امید مت توڑیں!”
ذرام کی آواز کانپ گئی، لہجہ درد سے چور تھا۔
“میں آپ کا حوصلہ نہیں توڑ رہا، مگر ڈاکٹر ہونے کے ناطے سچ بتانا میری ذمہ داری ہے۔ ان خون کا بہت ضائع ہوا ہے… ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ کوما میں نہ چلے جائیں۔
بس… دعائیں کریں۔ انہیں اس وقت صرف دعا کی ضرورت ہے۔
اور فوراً بلڈ کا بندوبست کریں۔ خون کی اشد ضرورت ہے۔”پیچھے کھڑی ہوئی دانیہ کی سسکیاں اور بھی تیز ہونے لگی تھی۔
“میرا اور زیغم کا بلڈ گروپ ایک ہے… آپ چاہیں تو ایک ایک قطرہ نچوڑ لیجیے، مگر اُسے بچا لیجیے، ڈاکٹر صاحب! خدا کے بعد ہماری ساری امیدیں اب آپ سے ہیں!”
مائد کے ہاتھ لرزتے ہوئے جُڑے ہوئے تھے۔ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ تھام لیے۔
“حوصلہ رکھیے۔ آپ کا حوصلہ ہی گھر والوں کا سہارا ہے۔ اگر آپ بکھر گئے، تو ان کا کون سنبھالے گا؟”
“باقی معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ دعا ہم بھی کر رہے ہیں، آپ بھی کرتے رہیں۔”
ڈاکٹر نے دونوں کے کندھوں پر تسلی آمیز ہاتھ رکھا، دھیمے لہجے میں کہا۔
“ان شاء اللہ، وہ ذات ضرور سنیں گی۔ وہی سب کچھ بہتر کرنے والی ہے۔”
یہ کہہ کر وہ واپس آئی سی یو کی طرف مڑ گئے۔
“بھائی… بھائی، ایسی سزا مت دیں… بھائی، میں ایسا نہیں چاہتی تھی… میں کیوں، کیوں آپ سے ناراض ہو گئی؟”
دانیا اپنے چہرے پر تھپڑ مارنے لگی۔ وہ ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی۔ بھائی کے غم میں وہ خود کو فراموش کر بیٹھی تھی۔ ملیحہ سے اسے سنبھالا نہیں جا رہا تھا۔ مائت تیزی سے آگے بڑھا اور اسے تھام کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ اس کے دونوں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں جکڑ لیے۔
“نہیں دانیا… ایسا مت کریں۔ اللہ تعالیٰ دکھ کی گھڑیوں میں اپنے بندوں کو آزماتا ہے، اور ہمیں ان لمحوں میں ثابت قدم رہنا ہوتا ہے۔”
اس نے نرمی سے کہا، “اللہ کی ذات پر یقین رکھیں، وہ سب بہتر کرے گا۔ زیغم ایک دن اپنے قدموں پر ضرور کھڑا ہوگا۔”
“رو کر، گڑگڑا کر، دعا ضرور کریں، لیکن خود کو یوں نہ توڑیں۔ صبر کا دامن مت چھوڑیں۔”
وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے اسے سینے سے لگا چکا تھا، جبکہ دانیا سسکیوں کے ساتھ اس کے وجود سے لپٹی، بلک بلک کر رو رہی تھی۔ اس کے آنسو مائد کے سینے کو بھگو رہے تھے۔ یہ ایک اذیت ناک لمحہ تھا۔
“خود کو سنبھالو، اللہ سب بہتر کرے گا،کچھ نہیں ہوگا اسے۔۔۔ملیحہ، اسے اس کے روم میں لے جاؤ، اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
ڈاکٹر اس کا ٹریٹمنٹ ابھی کر رہے ہیں۔
“مجھے نہیں جانا، میں ٹھیک ہوں۔
میں یہی رہوں گی۔
دانیا نے ضدی لہجے میں کہا۔
“پلیز۔۔۔اس وقت اپنا بہت خیال رکھو میں پہلے سے ہی بہت ٹوٹ چکا ہوں اب مزید سہنے کی ہمت نہیں ہے خدا کے لیے تم ٹھیک رہنا ۔اس مشکل وقت کو ہمیں مل کر پار کرنا ہے۔”میں بلڈ دے کر آتا ہوں۔”
نرمی سے سمجھاتے ہوئے وہ اٹھا، “
ملیحہ کو اشارہ کیا،کہ اسے سنبھالے۔ملیحہ نے ہاں میں سر کو ہلایا۔۔ مائدہ تیز قدموں سے زرام کے ہمراہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
“چلو دانیا آپی۔۔۔آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی اللہ تعالی سے دعا کر رہے ہیں اللہ تعالی ضرور دعائیں سنے گا۔۔۔۔جبکہ ملیحہ اسے سمجھاتے ہوئے اس کے روم میں لے کر چل دی ۔۔ دانیہ بے جان قدموں سے چل پڑی تھی کیونکہ وہ بھی مائد کو تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی مگر جو تکلیف دکھ اس کے اندر تھا شاید وہ لفظوں میں بیان کر کے نہیں بتا سکتی تھی۔۔
°°°°°°°°°°°
“چل اندر!”
وہ غرایا اور مہرو کے نازک بازو کو ایسی سختی سے پکڑ کر کھینچا کہ وہ توازن کھو بیٹھی۔
“نہیں… چھوڑو مجھے، میں نہیں جاؤں گی!”
وہ روتی، کپکپاتی، مزاحمت کرتی رہی مگر وہ شہرام کی آنکھوں میں حوس کی چمک اور لہجے میں زہر گھلا تھا، اسے گھسیٹتا ہوا حسن محل کی سرخ دیواروں کے بیچ لے آیا تھا۔۔دروازہ چرچراتی آواز سے بند ہوا، اور ایک لمحے کو باہر کی دنیا، وہ آسمان، وہ سڑک، سب اس لڑکی کے لیے بند ہو گیا۔
روشنی مدھم تھی، دیواروں پر جھاڑ فانوس کی زرد دھاریاں پھیل رہی تھیں۔ چاروں طرف عطر اور گلاب کی ملی جلی خوشبو، جیسے یہاں ہر سانس کے بدلے کوئی قیمت ادا کرنی ہو۔
سامنے حسینہ بائی اپنے تخت پر پان چباتے ہوئے، غرور سے بیٹھی تھی۔ ارد گرد کا منظر ایک بازارِ ہوس کی بھرپور تصویر پیش کر رہا تھا۔
مہرو کا دل دہل گیا تھا، جیسے کسی پاکیزہ شے کو کیچڑ میں پھینک دیا گیا ہو۔
شہرام نے کھینچ کر اس کے سر سے دوپٹہ چھین لیا۔وہی دوپٹہ، جو اس نے زیغم کے سوا کبھی کسی کے سامنے سرکنے نہ دیا تھا۔
شہرم نے مہرو کو ایک جھٹکے سے سامنے دھکیل دیا۔ وہ بمشکل گرتے گرتے بچی، اور لرزتی نظروں سے سامنے کھڑی حسینہ کو دیکھا ۔ جو مخملی کپڑوں میں لپٹی، سرخ لپ اسٹک میں لپکتی ہوئی ہنسی ہنسی جا رہی تھی۔
“”کون ہے یہ نازک کلی؟”
حسینہ بائی نے نظریں گھما کر مہرو کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
“ابھی تو تتلی کے پر بھی نہیں کھلے، ابھی تو حسن میں نرمی باقی ہے… یہ چمن تو ابھی کھلا ہی نہیں!”
وہ لبوں پہ خباثت بھرا تبسم سجا کر بولی۔۔
“حسینہ بائی،یہ تیرے لیے تحفہ ہے، اِسے ایسی جگہ نیلام کرنا کہ اس کا نام و نشان مٹ جائے… اسے اپنے چمن کی زینت بنا، اپنا کوٹھا سجا اور خوب مالا مال ہو جا!”
شہرام کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ سب مردوں کی گندی نظریں محروم پر تھیں۔۔غلیظ قہقہے، گندی نظریں، اور ہوس بھری سانسیں فضا کو آلودہ کر رہی تھیں۔ ماحول بازارِ ہوس کا مکمل عکس تھا۔مہرو کا دل مٹھی میں آگیا تھا۔۔۔
مہرو کی آنکھیں روتے روتے سوج چکی تھیں۔ دل زیغم کی یاد میں بکھرا ہوا تھا، اور جسم شہرام کے قہر سے لرز رہا تھا۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کا سائیں زندہ ہے یا نہیں کیونکہ جو منظر وہ دیکھ کر آئی تھی اس کے بعد کچھ بھی کہنا ممکن نہیں تھا۔۔
“مجھے سائیں کے پاس جانا ہے… پلیز، میرے ساتھ ایسا مت کریں!”
اس کی آواز میں لرزش تھی، آنکھوں میں شکست۔۔
“میں ہاتھ جوڑتی ہوں، میرے ساتھ ایسا ظلم مت کریں… مجھے سائیں کے پاس جانا ہے، مجھے جانے دیں…”
وہ دونوں ہاتھ جوڑے، لرزتی آواز میں التجا کر رہی تھی۔
مگر سامنے کھڑا شخص؟
درندہ تھا وہ…
جانور، جس کے اندر دل نام کی کوئی چیز نہ تھی۔
بے رحم… بے حس… ظالم…
اسے مہرو پر رحم کیسے آتا؟
شہرام کا قہقہہ زہر آلود تھا۔
“دوزخ میں لا کر پھینکا ہے تجھے! اب تو کبھی اس کے پاس نہیں جا سکے گی!”
ایک زور دار تھپڑ، بالوں سے جھنجھوڑا، اور مہرو زمین پر آ گری،جیسے کوئی بےجان گڑیا۔
شہرام کے تھپڑ سے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔
وہ بہت نازک تھی، اتنی نازک کہ کبھی کسی نے اس پر آواز بھی بلند نہیں کی تھی، انگلی اٹھانا تو دور کی بات تھی۔
پہلے اماں نے اسے اپنے پروں میں چھپا کر رکھا، ہر دکھ، ہر تکلیف سے دور۔
پھر جب وہ زیغم کے پاس آئی، تو زیغم نے بھی اسے تتلی کی طرح سنبھالا، ہر لمحہ ایسے اس کی فکر کرتا جیسے وہ کسی خزانے کی رکھوالی کر رہا ہو۔اس سے پہلے یہ تھپڑ والا ظلم نایاب نے ڈھایا تھا اور اب اسی کے گھٹیا بھائی نے۔۔۔معصوم گڑیا حفاظت سے نکل کر آج…
آج وہ درندوں کی دنیا میں آ گئی تھی۔
ایک ایسی دنیا، جہاں نہ احساس تھا، نہ رحم…
وہ بہت معصوم تھی،
بے حد نازک دل،
بے حد چھوئی موئی…
اسے دنیا کی برائیوں کا علم نہ تھا۔
یہ سب کچھ اس کے لیے نیا تھا ۔
عجیب، ڈراؤنا اور ناقابلِ فہم۔اس جگہ کا مطلب کیا ہے اور یہاں کس لیے لایا جاتا ہے وہ اس مقصد سے بھی ناواقف تھی۔
مگر یہاں پر اٹھتی ہوئی ہر نگاہ، ہر سانس،
ہر سایہ اسے خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔
اوپر سے اس کے سر پر دوپٹہ نہ ہونا،
اس کے وجود کو مزید عریاں کر رہا تھا۔
وہ اپنے اندر ہی کہیں مر رہی تھی…
رفتہ رفتہ، لمحہ بہ لمحہ،
خود کو گھٹتا، ختم ہوتا محسوس کر رہی تھی۔گھر سے وہ نقاب لے کر نکلی تھی اور اس وقت اس کے سر پر کچھ نہیں تھا۔۔جبکہ نیچے گاؤن پہن رکھا تھا۔
شور کی اواز سن کر اسی لمحے، مارخ کمرے سے باہر نکلی۔
اس کا دل کسی ان دیکھے کرب سے دہل اٹھا۔ مہرو کو وہ نہیں جانتی تھی، مگر لانے والے کو خوب پہچانتی تھی۔۔۔۔جو کبھی موم بن کر اس پر پگھلا کرتا تھا۔ آج وہ درندہ تھا۔
حسینہ بائی اٹھ کر مہرو کے قریب آئیں، آنکھوں میں لالچ اور چال میں نخوت۔
“ہائے کمال کی چیز ہے یہ نازک کلی؟”
اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا، جیسے کوئی قیمتی گڑیا چھو رہی ہو۔
“ابھی تو تتلی کے پر بھی نہیں کھلے… ابھی تو حسن میں نمی باقی ہے۔اسی کو میں پلکوں پر بٹھا کر رکھوں گی۔۔۔۔وہ پھر سے بکواس کرنا شروع ہو گئی تھی جبکہ مہرو کو اس سے گھنا رہی تھی۔عورت ہونے کے باوجود مہرو سے خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہی تھی۔۔”مہرو نے اس کا ہاتھ جھٹک کر خود سے دور کر دیا۔۔۔
پھر شہرام کی طرف مڑ کر بولیں،
“فکر نہ کرو، شہرام سائیں! ایسی چادر اوڑھاؤں گی کہ یہ تمہیں دوبارہ کبھی نظر نہ آئے۔ انمول تحفہ دیا ہے تم نے،صدقے جاؤں اس کے معصوم حسن پر!”
“نہیں حسینہ بھائی، اسے چادر اوڑھا کر نہیں، چادر اُتار کر چھپانا ہے… وقت بہت کم ہے، بہت سے کام ادھورے چھوڑ کر آیا ہوں۔ ورنہ، اُس کی چادر تو میں خود اتارتا۔ بہت زُعم ہے اُسے ۔۔۔ اُس زیغم سلطان کو۔۔۔ اپنی حیثیت، اپنی عزت پر۔ میں اُسے موت کے دہانے تک چھوڑ آیا ہوں… اور اب اُس کی نام نہاد عزت کو یہاں لا کر دفنانا ہے۔
اگر تھوڑا سا وقت اور ملتا، تو اس شبِ ستم کو اپنے ہاتھوں سے مکمل کرتا…”
حسینہ بائی نے بھنویں اچکائیں اور مسکراہٹ دبائے، بھرے مجمع میں مہرو کو یوں سہمی دیکھ کر چٹخارے لے رہی تھی۔عورت ہو کر عورت کا تماشہ دیکھ رہی تھی۔۔۔
اردگرد مردوں کا ہجوم تھا، ہر آنکھ بس مہرو کو گھور رہی تھی۔
جو لڑکی ابھی لمحہ بھر پہلے محفل میں ناچ رہی تھی، وہ بھی ایک طرف ہو گئی تھی۔ مہرو کی نظر زمین سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ اس کی پلکیں لرز رہی تھیں اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔
شہرام کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔
وہ نرمی سے آگے بڑھا اور جیسے ہی مہرو کے چہرے کو چھونا چاہا، مہرو نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ پیچھے کر دیا۔
یہ حرکت مجمع کے بیچ خاموشی کی چادر تان گئی۔ شہرام کا غرور جیسے پل بھر میں لرز اٹھا ہو۔
مگر وہ باز کہاں آنے والا تھا؟
ایک بار پھر وہ اکڑ کے کھڑا ہوا، اور اس بار ہاتھ بلند کیا، جیسے پوری محفل کو بتانا ہو کہ یہ لڑکی اس کی ملکیت ہے۔
لیکن ہاتھ…
ہوا میں ہی رک گیا۔
شہرام نے چونک کر پلٹ کر دیکھا، اور اگلے ہی لمحے اس کے لبوں پر عجب سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
کیونکہ…
ہاتھ تھامنے والی کوئی اور نہیں، ما رخ تھی۔مارخ حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔سوچنے پر مجبور تھی کہ کیا یہ
وہی شخص جو کبھی اس کے ساتھ پیار بھرا وقت گزارتا تھا ۔میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا۔۔موم بن کر بہتا، خوشبو بن کر مہکتا تھا۔
لیکن آج؟
آج وہ ایک وحشی کا روپ لیے، کسی معصوم کو دوزخ کے حوالے کر رہا تھا۔
حسینہ بائی نرمی سے مسکراتے ہوئے اٹھیں، اپنی چال میں غرور اور وحشت کا امتزاج لیے مارخ کے قریب آئیں۔
“بے فکر رہو، شہرام سائیں!”
ان کے لہجے میں زہر گھلا ہوا تھا،
“اس نہیں چڑیا کا ایسا بندوبست کروں گی کہ آپ کو یہ دوبارہ کبھی نظر نہ آئے! یہ تو آپ نے مجھے انمول تحفہ دے دیا ہے… صدقے جاؤں اس کے معصوم حسن پر!”غلیظ نظروں سے ایک بار پھر اس نے مہرو کو دیکھا تھا۔۔۔
“آپ اپنی اس پرانی چڑیا کا خیال رکھیے… طبیعت کچھ دنوں سے ٹھیک نہیں، جب سے آپ نے یہاں پر آنا چھوڑ دیا ہے راتیں کہیں اور گزارنی شروع کی ہیں، یہ تو ہر وقت جھگڑتی رہتی ہے۔ آپ دونوں جایئے، آرام کیجیے، میں کچھ کھانے کو بھجواتی ہوں۔ ہاں، ایک بات اور… دھندا ذرا ڈھلتا جا رہا ہے، کچھ عنایت ہو جائے تو…”
حسینہ کے چہرے پر لالچ کی چمک تھی۔ اس کی آنکھوں میں وہی پرانی حرص جھلک رہی تھی۔ اسے شب کی پرچھائیوں میں اپنا فائدہ نظر آیا تھا۔ جیسے ہی اس نے شہرام کو دروازے پر دیکھا، اس کے دل میں امید کی چنگاری بھڑک اٹھی۔نوٹوں کی گٹھیاں، جیسے پھر سے برسنے والی ہوں۔ اسی لیے وہ مارخ کو مجبور کر رہی تھی کہ شہرام کو ساتھ لے جائے۔
مارخ نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا، نفی میں سر ہلایا اور کڑوا لہجے میں بولی۔۔۔
“حد سے زیادہ لالچی ہو تم… یہ بتاؤ کہ مرنے کے بعد کہاں لے جاؤ گی اتنا مال و زر؟ قبر میں؟ یاد رکھو، کفن میں جیبیں نہیں ہوتیں!”
اس کے لہجے میں نفرت کی بجلیاں تھیں، اور آنکھوں میں ایک تھکا ہارا سچ، جو لالچ کے بازار میں بے قیمت تھا۔مارخ کے جسم پر اب بھی وہ نشان تھے جو حسینہ کی مار نے دیے تھے۔مگر اپنے سامنے دوبارہ سے خریدار کو دیکھ کر کیسی میٹھی زبان استعمال کر رہی تھی۔جبکہ حسینہ بھائی اصل میں ناگن تھی۔زہریلی ناگن۔
“تمہاری جگہ اگر یہ ہاتھ کسی اور نے تھاما ہوتا، تو اب تک وہ ہاتھ تن سے جدا ہو چکا ہوتا۔ مگر جانے کیوں… تمہارے سامنے آ کر میں خود کو کمزور سا محسوس کرنے لگتا ہوں۔”
شہرام نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا اور نرمی سے اپنی پشتِ دست اس کے رخسار پر رکھ دی۔ اس کی آواز میں عجیب سی بےبسی، غصہ، اور دل کی شکستگی گھلی ہوئی تھی۔
پھر، جیسے لمحہ بھر میں منظر بدل گیا۔
شہرام نے اپنے آدمی کی جانب ایک ہلکی سی جنبش کی، اور لمحوں میں نوٹوں کی گٹھیاں پسینے میں تر حسینہ کے قدموں میں پھینک دی گئیں۔
“لے جا اپنی بھوک کی قیمت…!”شہرام نے حسینہ سے کہا۔۔
وہ بھوکی بھیڑئیے کی طرح ان پر جھپٹ پڑی تھی حریص نگاہوں میں چمک اور ہاتھوں میں لرزش تھی۔
جبکہ پیچھے کھڑی مہرو کی آنکھوں میں صرف حیرت تھی، الجھن تھی… اور ایک گہری، خاموش تکلیف۔
اسے کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا کہ شہرام کے لہجے میں چھپی وہ کمزوری… آخر کس کے لیے تھی۔؟
مہرو کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
ایک طرف اس کا دل زیغم کی یاد میں بکھرا پڑا تھا، جسے مرتے ہوئے اس نے خود دیکھا تھا… اور دوسری طرف یہ شیطانی درندہ، جو اسے کوٹھے پر نیلام کرنے لے آیا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے… مہرو اور شہرام کمرے کے اندر بند ہو چکے تھے۔
جبکہ باہر، مہرو… سہمی ہوئی نظریں لیے، دروازے کو دیکھتی رہ گئی۔
اس کی آنکھوں میں الجھن، ڈر اور انجان سا خوف تیر رہا تھا۔
اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے، کیوں ہو رہا ہے، اور اب کیا ہونے والا ہے۔
°°°°°°°°°°
“اتنے دنوں بعد کیوں آئے ہیں؟”
مارخ نے کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی سوال کیا۔
“مصروف تھا۔”
شہرام نے مختصر، سرد لہجے میں جواب دیا۔
“اور ویسے بھی، یہ سوال و جواب کا وقت نہیں ہے…” شہرام کی آواز میں سرد مہری تھی،
“میرے پاس زیادہ مہلت نہیں… اگر کچھ محبت جتانی ہے، تو جتا دو وقت رکتا نہیں۔”
“”کیا خوب… آج میرے لیے وقت نہیں؟
کتنی جلدی بدل گئے آپ، جیسے کبھی تھے ہی نہیں ،وہ تو کوئی اور تھا۔!”
“آپ تو بڑے بڑے دعوے کرتے تھے… مجھ سے پیار کے، عشق کے، مجھے یہاں سے لے جانے کے۔
اب وہ وعدے مصروفیات میں کہاں دفن ہو گئے، سائیں؟””مارخ کے لبوں پر تنقیدی سی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی،
جو اس کے دل کے درد سے اور بھی کربناک لگ رہی تھی۔”
شہرام کی نگاہیں اس سے نظریں چرا رہی تھیں،
مگر لبوں پر ہلکی سی خفگی صاف جھلک رہی تھی۔
“ان خوبصورت لبوں سے شکوے کم کیا کرو… شہرام لغاری کو شکایتیں اچھی نہیں لگتیں۔”
ماہ رخ تلخی سے مسکرائی،
“اچھا؟صرف شکایتیں اچھی نہیں لگتی یا پھر اب ماہ رخ بھی اچھی نہیں لگتی۔لگتا ہے مجھ میں بھی اب وہ کشش نہیں رہی ،جو کبھی آپ کو بےاختیار یہاں کھینچ لایا کرتی تھی… چپ کیوں ہے بتائیں نا سائیں وہ بھی ختم ہو گئی؟”
شہرام کی آنکھوں میں ایک لمحے کو سچ کی جھلک آیا،
“ہاں… کہہ سکتی ہو۔
شہرام کو کسی چیز سے زیادہ دیر تک دلچسپی نہیں رہتی۔
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ تم سے بھی دل بھر سکتا ہے،
مگر یہ درمیانی خلا… شاید سب کچھ بدل گیا۔”
مارخ کی پلکوں پر نمی اُتر آئی، آواز لرز گئی،
“اسی لیے؟ آپ اُس بیچاری معصوم لڑکی کو یہاں گھسیٹ لائے؟
تاکہ آپ کی اپنی خواہشیں بھی مطمئن ہوں اور حسینہ بائی کا کوٹھا بھی چلتا رہے؟”
شہرام نے لمحہ بھر کو نظریں چُرائیں،
مگر جواب دینے کے بجائے…
وہ تھپڑ جو اس نے باہر ضبط کیا تھا،
وہ اندر ماہ رخ کے رخسار پر پوری شدت سے آ لگا۔
مہرو نے ساکت نگاہوں سے دیکھا۔
مارخ تھپڑ کی شدت سے بیڈ پر گر چکی تھی۔
“یہ جواب ہے تمہارے سوال کا۔
اور تمہیں یہ حق کس نے دیا کہ مجھ سے سوال کرو؟
اگر یہاں آتا تھا، تو منہ مانگی قیمت ادا کرتا تھا۔
تمہاری اوقات کب سے بڑھ گئی کہ زبان چلنے لگی؟
شاید میرا فیصلہ بالکل درست تھا،
تم یہی رہنے کے لائق ہو۔
روز کسی نہ کسی مرد کی خواہش کو پورا کرو، اور بدلے میں کوڑیوں کی ملکہ بنو۔
جرات کیسے ہوئی مجھ سے سوال کرو گی؟”شہرام کی آواز زہر گھولتی گئی،
وہ اس کے بالوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہا تھا،
مگر ماہ رخ… جیسے پتھر کی ہو گئی تھی۔
نہ چیخ، نہ آہ۔بس خاموشی کا ایک مجسمہ۔
جاتے وقت، وہ اپنی دی ہوئی قیمت کا مکمل حساب کر گیا۔
کہیں نہ کہیں… تھوڑی بہت رغبت شاید باقی تھی۔
مگر جس طرح ماہ ر خ نے سوال کیے، آج وہ تمام حدیں پار کر گیا تھا۔مارخ کا دل توڑ کر وہ جا چکا تھا۔
اور وہ، وہیں بکھری ہوئی، نم آنکھوں کے ساتھ،
ساکت، زخمی،
کسی بےجان گڑیا کی مانند پڑی تھی۔
“یہ کیا تھا؟ محبت کے منہ پر تماچہ؟ یا میری ذات کا وہ آئینہ جسے تم نے آج میری آنکھوں کے سامنے چکناچور کر دیا؟”
اس کی آواز بھرا گئی تھی، مگر وہ بولتی رہی، جیسے اندر کے سناٹے کو الفاظ کا سہارا چاہیے تھا۔
“یہی تھی میری پہچان؟ یہی وہ مقام تھا جو میں نے تمہارے دل میں پایا تھا؟
آج تم نے دکھا دیا… بتا دیا کہ یہاں آنے والی لڑکیاں، یہاں پناہ لینے والی لڑکیاں صرف لمحاتی کشش کا نشانہ بنتی ہیں۔
اور جیسے ہی وہ اپنے دل کے دروازے کھولنے کی غلطی کر بیٹھیں…
عزت کی چار دیواری کا ہر دروازہ، ہر کھڑکی ان پر بند ہو جاتی ہے۔”
اس نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں، سانس اندر کھینچی، جیسے ٹوٹے ہوئے لفظوں کو اندر سمیٹنا چاہتی ہو،
پھر سرگوشی سی کی۔
“میں تو صرف عزت چاہتی تھی، محبت نہیں…
لیکن تم نے تو دونوں چھین لیے۔”
وہ تنہا تھی… مگر اس کی ٹوٹی ہوئی آواز، یوں گونج رہی تھی جیسے خالی کمرے میں کسی شکستہ ساز کی آخری دھن بج رہی ہو۔
“آج… آج وہ مجھے آئینہ دکھا گیا… یہ بتا گیا کہ یہاں محبت مانگنے والی لڑکیوں کے لیے عزت کی دیواریں نہیں ہوتیں۔ وہ دروازے جو خواب میں کھلتے تھے، حقیقت میں ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔”
وہ مسلسل بول رہی تھی، اور اس کی سسکیاں، جیسے لفظوں کی لوری میں لپٹے ہوئے نوحے، دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہے تھے۔
گوٹی گوٹی سسکیاں یوں لگ رہا تھا جیسے کسی چپ چاپ قبرستان میں کوئی پکار رہا ہو، بار بار، ہارے ہوئے لہجے میں…
وہ روم کی خاموشی میں چھپی سچائی سے باتیں کر رہی تھی۔
خاموشی سن رہی تھی… اور شاید، اسے سمجھ بھی رہی تھی۔
°°°°°°°°°°