Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:51

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 51
°°°°°°°°°
“سائیں کہاں ہیں آپ… بچا لیں مجھے… میں صرف آپ کی ہوں!”
مہرو کے لب بے اختیار لرزے، اور آنکھوں سے بہتے آنسو لفظوں کو بھگو گئے۔
“کوئی اور مجھے ایسے دیکھے اس سے پہلے، اے اللہ! مجھے موت دے دے!”
وہ جیسے بدحواسی میں خود سے کچھ بولے جا رہی تھی،
ہونٹ کانپتے تھے، نظریں بار بار ہجوم کی سمت اٹھتیں، پھر جھک جاتیں۔
مردوں کا ایک جھوم تھا، کوئی پان چبا رہا تھا، کوئی ہنسی ہنسی میں باتیں کر رہا تھا ،مرد تو مرد یہاں کی تو عورتیں بھی عجیب تھی مہرو نے آج سے پہلے اس طرح کا ماحول اس طرح کے لوگ کبھی نہیں دیکھے تھے۔۔
ہر نظر کا مرکز صرف مہرو تھی۔
ہر جملے میں اس کا ذکر، ہر نگاہ میں اس کا تمسخر، اور ہر خاموشی میں اس کے وجود کی بے قدری تھی۔
جس مہرو نے ہمیشہ پردے کو حرمت مانا، جس نے حیا کو اپنی سانسوں سے باندھ رکھا تھا ۔
آج وہ درندوں کے بیچ گھری تھی۔
معصوم، خوفزدہ، تنہا۔
دل کے اندر جو خواب پلتے تھے،
وہ خواب جو صرف زیغم سلطان سے جڑے تھے،
جن میں محبت، سچائی، وفا، اور ایک پاکیزہ رشتہ تھا ،
آج وہ خواب بے دردی سے روندے جا رہے تھے ۔
“یہ کون سی جگہ ہے… یہ کیسے لوگ ہیں؟ یا اللہ! مجھے نکال لے یہاں سے…
کہیں مجھ سے حیا کی چادر چھوٹ نہ جائے،
. “کہیں میری شرم کی عزت ٹوٹ نہ جائے”میں بے شرمی کی موت مرنا نہیں چاہتی ،
مجھے عزت کی زندگی اور عزت کی موت چاہیے… اے اللہ! میری دعائیں سن لے۔۔۔ میرے سائیں کو بھیج دے…”

وہ دل ہی دل میں دعا مانگتی جا رہی تھی۔
جیسے برسات کی طوفانی رات میں کوئی بچی اپنا جلتا ہوا گھر دیکھ کر چیخے ، ویسا ہی حال تھا مہرو کا۔اس کی آواز نہیں تھی مگر اس کی چیخوں سے اس کا اپنا دم گھٹ رہا تھا۔۔
اس کی روح چیخ رہی تھی۔
ظالم دنیا نے ایک محبت بھرے جوڑے کو الگ کر دیا تھا۔
سامنے درندے بیٹھے تھے، اس کے وجود کی بولی لگانے کو بے تاب۔
چہرے تو انسانوں جیسے تھے، مگر دلوں میں درندگی چھپی تھی۔
شہرام، مارخ کے کمرے سے باہر نکلا تو اس کی بھری بھری نظریں سامنے کھڑی مہرو پر جمی تھیں۔
جیسے تمام گناہ، تمام بربادی، بس اسی بے قصور لڑکی کے سر تھی۔
“حسینہ، اس کی ایک ایک سانس کو بیچنا… اسے ایسی دلدل میں پھینکنا، جہاں سے یہ کبھی باہر نہ آسکے…”
شہرام کا لہجہ نفرت سے لبریز تھا،
“میری بہن کا گھر برباد ہو گیا… اور یہ؟ یہ اب بھی جینا چاہتی ہے؟
ہم نے اس کو اس کی زندگی بخش دی، جینے کا حق ہے… مگر عزت کے ساتھ نہیں!”
وہ آگے بڑھا اور مہرو کے نازک سے جبڑے پر ایسا تھپڑ مارا کہ جیسے پوری دنیا کا غصہ اس کے ہاتھ میں بند ہو۔
درد کی تیز لہر مہرو کے چہرے سے ہوتی ہوئی آنکھوں میں آنسو بن کر بہہ نکلی۔
پہلے سے ہی روتی مہرو کی چیخ دل چیر گئی
مگر شہرام کی آنکھوں میں نہ رحم تھا، نہ ترس۔
پاس کھڑی حسینہ بائی، جو تماشے سے لطف اندوز ہو رہی تھی، شہرام کی طرف دیکھ کر بولی۔
“فکر نہ کریں شہرام سائیں، آپ سے وعدہ ہے… اس کا ایسا حشر کروں گی کہ آپ کی روح تک خوش ہو جائے گی۔
آپ کا بدلہ بھی پورا ہوگا… اور میرے کوٹھے کا نام بھی چمک جائے گا!”

اس کے چہرے پر نحوست زدہ، شیطانی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔
شہرام نے ایک آخری نظر مہرو پر ڈالی، جیسے کہہ رہا ہو ۔ یہی انجام ہے تم جیسی لڑکیوں کا، پھر رخ موڑ کر جانے لگا۔
لیکن مہرو لپک کر اس کے پیروں میں بیٹھ گئی۔
“بھائی… مجھے یہاں چھوڑ کر مت جائیں، بھائی!
مجھے گھر لے چلیں… میں ساری زندگی آپ لوگوں کی نوکر بن کر رہ لوں گی۔
میں نے نایاب بی بی کا گھر خراب نہیں کیا… اللہ گواہ ہے، میں نے کچھ نہیں کیا۔
اگر مجھ سے کچھ غلطی ہوئی ہو… تو معاف کر دیں۔
مجھے یہاں چھوڑ کر مت جائیں، میں آپ کے پاؤں پڑتی ہوں!”

وہ پیروں پر بیٹھ کر، آنکھوں میں شدت سے بھرے آنسو لیے، ٹوٹے ہوئے لہجے میں فریاد کر رہی تھی۔
الفاظ نہیں، فریادیں تھیں۔
اتنی بے بسی کہ اگر کوئی دل رکھنے والا ہوتا تو فوراً ٹوٹ جاتا۔

مگر… شہرام دل والا نہیں تھا،
وہ صرف نام کا انسان تھا،
درحقیقت وہ درندہ تھا ،
ایسا درندہ، جو انسانیت کو جانتا ہی نہیں تھا۔

“اچھا؟ تجھے یہاں سے لے چلوں؟”
شہرام کے لہجے میں زہر گھلا ہوا تھا۔
“اور دوبارہ مجھے بھائی کہنے کی جرات مت کرنا میں تم جیسی دو ٹکے کی لڑکی کا بھائی نہیں ہو سکتا سمجھی تم۔۔۔۔وہ زور سے چلایا۔۔۔۔اس کے چلانے سے مہرو بیچاری کی سانسیں تک رکنے لگی تھی۔”چل ٹھیک ہے… تو ایک کام کر، میرے پیروں کو لبوں سے چوم کے دکھا۔اس کے بعد کچھ سوچوں گا۔”
مہرو کی چیخ اندر ہی کہیں دب گئی۔
آنسوؤں سے تر چہرہ اور کپکپاتے ہونٹوں نے یہ جملہ سنا تو جیسے روح میں کانٹے چبھ گئے۔
اسے کیسے چومنا تھا ان قدموں کو…
جنہوں نے اسے روند ڈالا تھا۔ارد گرد اتنے سارے لوگ بیٹھے تھے۔

مگر اسے ابھی اسی وقت فیصلہ لینا تھا، ایک طرف اس کی معصومیت تھی
جسے وہ دنیا کی نظر سے چھپا کر جیتی آئی،
اور دوسری طرف عزت کا جنازہ نکلنے کا وہ کرب،
جسے اس جگہ چھوڑنے کا مطلب…
خود کو زندہ درگور کرنا تھا۔
یہ وہ دنیا نہیں تھی جس میں مہرو پروان چڑھی،
یہاں تو ہر نظر حوس کا تیر لیے گھات میں تھی،
ہر زبان اس کے جسم کی نیلامی کو تیار تھی،
اور وہ…
وہ ان درندوں کے بیچ میں اپنے سائیں کی پکار کو دل میں دبائے،
بس ایک راستہ ڈھونڈ رہی تھی،بچ نکلنے کا، عزت بچانے کا۔
اس نے ہچکیوں کے ساتھ خود کو نیچے جھکایا،آہستہ سے شہرام کے پیروں کی طرف بڑھی،
آنکھوں میں آخری امید کی جھلک،
لبوں پر کپکپاتی دعا۔
“شاید… شاید یہ ذلت ہی مجھے اس دوزخ سے نکال دے…”
مگر وہ بھول گئی تھی ، شہرام کوئی انسان نہیں، وہ تو درندہ بھی نہیں تھا… وہ شیطان تھا۔
جیسے ہی مہرو کے لب اس کے قدموں سے چھوئے،
شہرام نے قہقہہ لگایا،
اور ایک زوردار ٹھوکر مار کر اسے دور پھینک دیا۔
مہرو کی نازک سی جان،
زمین پر یوں گری جیسے خزاں میں پیلا پتہ درخت سے ٹوٹ کر خاک میں مل جائے۔
ہوا میں اس کی سسکیاں تیرنے لگیں۔

شہرام کی آواز گونجی ،بے رحم، سرد، کاٹ دار۔
“تمہاری یہی اوقات ہے کہ ہمارے قدموں میں پڑی رہو…
مگر یاد رکھو، میں تمہیں کبھی یہاں سے نہیں لے جاؤں گا۔
اگر تم زیغم سلطان کی بیوی نہ ہوتیں…
تو شاید، صرف شاید،
میں تمہارے بارے میں کچھ سوچتا۔
لیکن اب… اب جو میں سوچ رہا ہوں،
اس کا وقت ابھی نہیں آیا۔”

اس نے آخری بار نگاہ ڈالی ،
ایک نظر… ایسی جیسے کسی زندہ لاش کو دیکھا ہو،
ایسی نظر جس میں بے رخی کی آگ اور انتقام کا دھواں تھا۔
مہرو خاموش ہو گئی تھی۔
بالکل خاموش۔
اس کے اندر کی آواز بھی شاید تھک کر خاموش ہو گئی تھی۔
اب صرف رب کی ذات تھی ،
جو اسے اس اندھیرے سے نکال سکتی تھی۔شہرام پلٹا،
اپنے درندوں کے جُھنڈ کے ساتھ وہاں سے چلا گیا،
اور پیچھے رہ گئی…
ایک مہرو، جو اب وہ مہرو نہ رہی تھی۔

“جس نے اپنے بالوں پر آج تک کسی غیر مرد کی نظر نہ پڑی دی، اس کے حسن کی پہلی جھلک دیکھنے والا پہلا شخص اس کا سائیں، زیغم سلطان تھا… اس کا محرم، اس کی عزت کا رکھوالا تھا۔اور آج… وہی مہرو، بھری محفل میں کھلے بالوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔”
“وقت بڑی ظالم چیز ہے… یہ آپ کو کبھی انمول بنا دیتا ہے، اور کبھی بے مول!”
°°°°°°°°°°°
“مہرو… مہرو…”
زیغم سلطان بے ہوشی کے غلبے میں بھی مسلسل مہرو کا نام پکار رہا تھا۔
ڈاکٹرز اس کے ارد گرد علاج میں مصروف تھے۔ مگر چند لمحوں کی جھٹپٹاہٹ، کپاہٹ اور بے ترتیب سانسوں کے بعد… وہ پھر سے آنکھیں موند گیا۔
ڈاکٹر نے فوراً میڈیکل آلات کی طرف بڑھتے ہوئے، اس کا مکمل چیک اپ شروع کر دیا۔
اسٹیتھو اسکوپ سے دل کی دھڑکن سنی گئی، چلتی مشین پر سانسوں کی رفتار دیکھی گئی۔مگر کافی ہلچل کے بعد ،
ایک لمحے کو کمرے کی فضا جیسے ساکت ہو گئی۔
ڈاکٹر نے سر اٹھا کر جونیئرز کی طرف دیکھا۔ آواز مدھم مگر صاف تھی،
“پیشنٹ کوما میں جا چکا ہے!”اس کے گھر والوں کو جا کر اطلاع کرو۔۔
“جی ابھی کرتی ہوں … جونیئر ڈاکٹر کہتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔”زیغم سلطان کا جسم ایک بار پھر ساکت ہو چکا تھا، جو چند لمحے پہلے، 48 گھنٹے بعد، جھٹپٹا کر ہلا تھا۔
وہ چاہے چند منٹوں کے لیے ہی ہوش میں آیا ہو، مگر اس کے ذہن پر صرف مہرو کا نقش تھا۔
نیم بیہوشی کی کیفیت میں بھی اُس نے بار بار صرف ایک ہی نام پکارا… مہرو۔”

“زیغم سلطان کا جسم ساکت ہو چکا تھا، وہی جسم جو چند لمحے پہلے 48 گھنٹے کی طویل بے ہوشی کے بعد اچانک جھٹپٹایا تھا۔ وہ لمحہ بھر کو ہوش میں آیا ضرور تھا، مگر اُس کے لبوں پر صرف ایک ہی نام تھا… ‘مہرو’۔
نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی اس کا دل، دماغ اور وجود مہرو کی پکار سے لبریز تھا۔”
“زیغم سلطان نے پہلی بار کسی کو ٹوٹ کر چاہا تھا، وہ محبت جو ابھی کھلا زبان تک نہیں آئی، جو کبھی دل سے باہر نکل کر پوری طرح سے اقرار کی صورت میں نہیں ڈھلی۔کیونکہ اس کی شریک حیات شرمیلی اور شرم و حیا والی۔ٹکڑوں میں جتنی محبت کا اظہار وہ مہرو سے کر سکا وہ تو صرف آغاز تھا۔
وہ جذبہ جسے وہ شاید مکمل طور پر مہرو کو سمجھا بھی نہ سکا تھا، اس سے کھل کر اقرار کرنے کا حق ظالموں نے چھین لیا۔
زیغم سلطان کو سزا کس بات کی ملی؟ اُس معافی کی… جو اس نے ظالموں کو دی۔”

“اس کی موجودہ حالت پیچھے بہت سے سوال چھوڑ گئی تھی… کچھ ان کہے الفاظ، کچھ ادھوری دعائیں، اور وہ ایک عشق… جو کبھی مکمل نہ ہو سکا۔”
°°°°°°°°
دانیا پلیز خود کو سنبھالو، اس طرح تمہاری طبیعت بگڑ جائے گی… اتنی سی بات تمہیں کیوں سمجھ میں نہیں آ رہی…
مائد نرمی سے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام چکا تھا۔
“میں جانتا ہوں تم اس وقت بہت تکلیف میں ہو، مگر ہمارے پاس سوائے صبر اور دعا کے کوئی دوسرا راستہ نہیں…”
وہ اس کے ساتھ ویٹنگ ایریا کی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔
خاموشی سے بیٹھا، اس کا ہاتھ تھامے…اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو اس وقت اسے خود میسر نہیں تھا۔

“کیا لگتا ہے آپ کو؟ کہ میں صبر کرنے کی کوشش نہیں کر رہی؟ مگر مجھے صبر نہیں آ رہا… کیسے صبر کروں؟ آپ جانتے ہیں زیغم بھائی کی ہستی میرے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔
میں ناراض نہیں تھی… میں تو صرف یہ چاہتی تھی کہ وہ میری ناراضگی، میرے غصے سے گھبرا کر دشمنوں کو ایسی سزا دیں کہ ان کی روحیں کانپ اٹھیں… مگر یہاں تو زیغم بھائی نے میری دنیا ہی ہلا دی ہے۔
میں صبر کرنا چاہتی ہوں، مگر صبر نہیں ہو رہا… اور دعائیں… میری ہر سانس ان کے لیے دعا بن چکی ہے۔”

دانیا کی آنکھوں سے گرتے آنسو مائدہ خان کے دل پر گر رہے تھے، مگر اس لمحے وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ زندگی، موت، صحت، تندرستی ، یہ سب کچھ تو صرف اللہ کے ہاتھ میں تھا۔
پاس ہی ذرام کھڑا تھا…دونوں ہاتھ سینے پر باندھے نظریں خاموشی سے فرش کو گھور رہی تھی۔وہ دانیا کو بھائی بن کر ہمت دینا چاہتا تھا مگر اس کے پاس صبر دلانے کے لیے کوئی الفاظ نہیں تھے۔
کیونکہ اس کے ہی اپنوں نے، اسے بے قصور ہونے کے باوجود شرمندگی کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
کبھی کبھی، اپنے ہی ایسا گھناؤنا کھیل کھیلتے ہیں… کہ انسان بے گناہ ہو کر بھی خود کو گناہگار سمجھنے لگتا ہے۔

“ایسے بے یقینی سے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ آپ کو لگتا ہے نا کہ میں اپنے بھائی سے پیار نہیں کرتی؟ میں نے ان سے جھگڑا کیا، ان سے بات نہیں کرتی تھی… اور اب میں یہ سب باتیں یوں ہی فضول میں بول رہی ہوں۔جانتی ہوں آپ کو لگ رہا ہے میں یہ سب ڈرامہ کر رہی ہوں۔؟”
مائد کی خاموشی پر دانیا نے خود سے اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔
مائد کی خاموشی اُسے تکلیف دے رہی تھی۔
“کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ کیوں اتنا نیگٹیو سوچ رہی ہو؟ میں کیسے سوچ سکتا ہوں کہ ایک بہن اپنے بھائی سے محبت نہیں کرتی؟ کیسے یہ مان لوں کہ زیغم کو اس حالت میں دیکھ کر تم یہ سب صرف ڈرامہ کر رہی ہو؟”
مائد کے لہجے میں ضبط کی شدت تھی۔
“کیوں خود کو یوں تکلیف دے رہی ہو؟ میں خاموش اس لیے ہوں کہ میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں ہیں جن سے تمہیں سکون دے سکوں۔”
“میں بھی تڑپ رہا ہوں، دانیا! ابھی تو ایک بھائی کے چلے جانے کا دکھ جھیل بھی نہیں پایا تھا کہ دوسرا بھائی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ میرا اس سے خون کا رشتہ نہیں ہے… مگر تم لوگ نہیں جانتے کہ میرے لیے زیغم خون کے رشتوں سے بڑھ کر ہے!”

مائد کی آنکھیں نم تھیں، اور دانیا کو زیغم کے لیے اس کی تڑپ صاف نظر آ رہی تھی۔ زیغم کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر دانیا نے اپنی نرم انگلیوں سے اس کی پلکوں سے آنسو صاف کیے۔

“میں کیا کروں؟
زیغم بھائی ٹھیک نہیں ہو رہے۔ ڈاکٹر کوئی امید نہیں دے رہے… کوئی اچھی خبر نہیں دے رہے۔”
وہ بات کرتے کرتے رو دی، “اگر میں کچھ غلط بول گئی ہوں تو معاف کر دیجیے…”
وہ ہاتھ جوڑنے لگی، مگر مائد نے فوراً اس کے ہاتھ تھام لیے اور نفی میں سر ہلا دیا۔

اسی لمحے ICU کا دروازہ کھلا۔
کچھ جونیئر ڈاکٹرز اور پھر سینئر ڈاکٹر باہر آئے تو مائد اور زرام فوراً ان کی جانب لپکے۔
“ڈاکٹر، سب ٹھیک ہے؟ زیغم کو ہوش آ گیا؟”
مائد کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔

ڈاکٹر نے چند لمحے خاموشی کے بعد کہا،
“سوری… پیشنٹ کوما میں جا چکا ہے۔”

یہ خبر نہیں، پگھلتا ہوا سیسہ تھا جو زیغم کے اپنے سن کر ساکت رہ گئے۔ لمحہ بھر کو سب کچھ تھم گیا تھا۔

“نہیں! نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا!” دانیا چیخ پڑی۔
“بھائی کوما میں نہیں جا سکتے۔ آپ لوگ ٹھیک سے علاج کیوں نہیں کر رہے؟ کریں نا! وہ ٹھیک ہو جائیں گے، وہ بہت بہادر ہیں!”

وہ ڈاکٹر کی طرف لپکی، مگر مائد نے فوراً اسے سنبھالا اور اپنے قریب کر لیا۔ دانیا پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ زرام اور مائد خاموشی سے صبر کیے کھڑے تھے ، اور کر بھی کیا سکتے تھے؟

“ڈاکٹر… کب تک ہوش میں آنے کا امکان ہے؟ خدارا کچھ امید بھرا جملہ بولیں۔”
زارم نے سخت مگر تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
ڈاکٹر نے گہرا سانس لیا،
“ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں، مگر پیشنٹ کی باڈی اب ریسپانس نہیں دے رہی۔ کب ہوش میں آئیں گے، ہم نہیں کہہ سکتے ، ایک دن، دو دن، ایک ہفتہ، ایک مہینہ، ایک سال… یا پھر،”
“یا پھر؟!”
مائد جھنجھلا اٹھا، ڈاکٹر کا گریبان پکڑ کر چیخ پڑا، “یا پھر کیا؟”

ڈاکٹر نے تحمل سے کہا،
“پلیز حوصلہ رکھیں۔ میں صرف حقیقت بتا رہا ہوں۔اور حقیقت یہی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ کبھی ہوش میں نہ آئے۔آپ کو حقیقت سے اگاہ کرنا میرا فرض ہے۔”
مائد کی آنکھوں میں چنگاریاں تھیں،
“خبردار! دوبارہ اگر زیغم کے بارے میں ایسے الفاظ بولے تو میں اسے دنیا کے کسی بھی کونے میں لے جاؤں گا، وہ ٹھیک ہو گا… اسے کچھ نہیں ہو سکتا!”
وہ چیخا تو زرام نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔
“مائد… پلیز، حوصلہ رکھو۔ اگر تم ہی بکھر گئے، تو ہمیں کون سنبھلیں گا؟ زیغم بھائی نہیں ہیں ہمیں سنبھالنے کے لیے، اور ہمیں خود سنبھلنا بھی نہیں آتا…”
یہ جملہ مائد کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گیا۔
دوسری جانب ارمیزہ کو ہوش آ چکا تھا۔اس کی نرس اس کی بہت ضد پر اسے آئی سی یو کے سامنے لے آئی گئی تھی۔
یہ منظر اُس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔

“کچھ نہیں ہوگا میرے بابا کو!”
وہ بلک بلک کر رو رہی تھی،
“کہاں ہیں میرے بابا؟ مجھے اُن کے پاس جانا ہے!”
تم کہیں نہیں جا رہے ہو، تمہیں ہم گھر لے جانے آئے ہیں، تم ہمارے ساتھ چلو۔
یہ قدسیہ کی آواز تھی… قدسیہ کی آواز۔
ذرام، دانیا، مائد اورا،رمیزہ نے ایک ساتھ پلٹ کر دیکھا۔
جبکہ ملیحہ اپنی اماں کے پاس جا چکی تھی۔
اس کی اماں کی طبیعت کافی خراب تھی، اسی لیے ذرام نے اسے زبردستی بھیج دیا تھا۔
“میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی، مجھے بابا کے پاس جانا ہے… میں نہیں جاؤں گی!”
ارمیزہ بھاگ کر دانیا سے چمٹ گئی تھی۔
دانیا نے اسے اپنی باہوں میں سمیٹ لیا اور غصے بھری نظروں سے قدسیہ کی طرف دیکھا۔
قدسیہ، نایاب، سلمہ اور رومی ایک ساتھ آئی تھیں۔
“کوئی نہیں تمہیں یہاں سے لے کر جا سکتا… ہاتھ تو لگا کر دکھائیں اگر میں ہاتھ نہ توڑ دوں تو!”
دانیا کا لہجہ کسی شیرنی ماں کا تھا، جو اپنے بچے کی حفاظت کے لیے دنیا سے بھی لڑ جائے۔
وہ قدسیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی،
سخت، پرعزم اور بےخوف۔
فضا میں سناٹا چھا گیا تھا۔
قدسیہ نے ایک لمحے کو نظریں چرائیں،
جبکہ نایاب،کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھی۔۔ سلمہ اور رومی، خاموش تھی۔ان کو شاید خود اندازہ نہیں تھا کہ قدسیہ کچھ ایسا کہنے والی ہے۔
ارمیزہ نے پہلی بار اپنی دانیا پھوپھوکو اس روپ کو دیکھا تھا…
اور اس کی نظریں ستائش سے بھر گئیں۔اس کہ دل کو یقین آگیا تھا کہ اس کے بابا کے علاوہ بھی کوئی شیر کا جگرا رکھنے والا ہے جو اسے نایاب جیسی ظالم ماں سے بچا سکتا ہے۔۔
“تم… تم مجھے روکو گی؟ میری بیٹی کو لے جانے سے؟ بڑی اوقات بڑھ گئی ہے تمہاری!” نایاب نے آگے بڑھ کر حقارت سے کہا، جیسے دانیا کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو۔
مگر وہ یہ بھول گئی تھی کہ دانیا اب مائد خان دورانی کی بیوی ہے۔

وہ، جو خود الفاظ سے آگ برساتا تھا، اسے جواب تو بہت خوب دے سکتا تھا… مگر وہ خاموش تھا۔کیونکہ اس کی شیرنی خود اس کے سامنے کھڑی، آنکھوں میں شعلے لیے، دشمن کو بھسم کرنے کو تیار تھی۔

“ہاں، میں روکوں گی تمہیں ارمیزہ کو لے جانے سے!”
دانیا نے ارمیزہ کو مائد کے ہاتھ میں تھمایا اور نایاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایسے کھڑی ہوئی اس کے اندر خوفنام کی کوئی چیز باقی نہیں تھی۔
نہ آواز لرز رہی تھی، نہ دل ڈول رہا تھا… بس ایک شیرنی کی طرح ڈٹ کر کھڑی تھی۔

“او مائی گاڈ! میں تو ڈر گئی!”
نایاب نے مصنوعی لرزتی آواز میں کہا، اور جان بوجھ کر پورے ہاسپٹل کا لحاظ بالائے طاق رکھ کر اداکاری کرنے لگی،
“مجھے تم سے ڈر لگ رہا ہے، میں کپکپا رہی ہوں۔”

“ڈرنا بھی چاہیے تمہیں، اور خوب ڈرنا چاہیے!”
دانیا کی آواز میں نہ غصہ تھا نہ چیخ،بلکہ ایک ایسی ٹھنڈی آگ، جو سُن کر بھی جلا دے۔
“اس دن سے ڈرو… جس دن میرے زیغم بھائی ہوش میں آئیں گے، اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے،
خدا کی قسم، اس دن تم سب کو کھڑا رہنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے!”
“اچھا، تمہارے زیغم بھائی اب تک ہوش میں تھے؟ بتاؤ، کیا کیا انہوں نے؟ چپ چاپ معافی دے دی؟”
نایاب طنزیہ انداز میں اس کے قریب جھکتے ہوئے بولی، “سچ تو یہ ہے کہ تمہارے خاندان کی رگوں میں جو خون ہے نا، وہ بزدل ہے۔ دشمنی نبھانے کے قابل ہی نہیں۔ اگر ہوتا… تو لے لیتا بدلہ اپنے باپ کا، ماں کا، بھائی کا!”

نایاب، دانیا کے بالکل قریب ہو کر، اس کے اپنوں کی موت کا مذاق اڑا رہی تھی۔

دانیا نے غصے سے اپنی آنکھیں زور سے بند کیں، اور مٹھیاں بھینچ لیں۔
کیونکہ نایاب تو ہسپتال کا لحاظ بھول سکتی تھی… مگر دانیا نہیں۔
کیونکہ اس کی رگوں میں ایک باوقار نیک باپ کا خون دوڑ رہا تھا۔

“تمہیں کس نے کہا کہ ہماری رگوں میں دوڑتا ہوا خون بزدل ہے؟
تھوڑا انتظار کرو یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ بہادری کسے کہتے ہیں۔تم بہادری کا مطلب کیا جانو ،
پیچھے سے وار کرنے والے بہادر نہیں غدار ہوتے ہیں اور غداروں کے منہ سے بہادری کی باتیں اچھی نہیں لگتی۔۔

“میرے بھائی نے، اللہ کی رضا کے لیے، اپنوں کی خوشی کے لیے تم جیسے ظالموں کو معاف کیا۔جو کہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی،
ان کی معافی پر ندامت سے نظریں جھکانے کے بجائے، تم لوگوں نے کیا، کیا؟
اسی کے صبر کو، اسی کی نرمی کو، خنجر بنا کر اس کی پیٹھ میں گھونپ دیا۔اور یہ سب کر کے تم لوگوں کو لگتا ہے کہ تم لوگوں نے پڑھی بہادری کا کام کیا ہے۔

نہیں۔۔۔۔۔تم لوگ بزدل تھے پیٹھ پر وار کیا۔۔۔۔مگر میرا بھائی بہادر ہے،یاد رکھنا،جب پیروں پر کھڑا ہوگا تو تم لوگوں کا جینا مشکل کر دے گا۔ !
سزا تمہیں ضرور ملے گی،
دنیا میں ، میرے بھائی کے ہاتھ سے،
اور آخرت میں بھی، اُس رب کے ہاتھ سے۔۔۔۔۔میرے رب نے خود کہا ہے،
“تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اس سے غافل نہیں۔”
یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔
“جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی، وہ اسے دیکھ لے گا۔”
اور صبر؟
صبر کرنے والے کمزور نہیں ہوتے،
کیونکہ وہ لوگ اپنے رب پر یقین رکھتے ہیں انہیں یقین ہوتا ہے کہ رب بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔۔۔مگر تم جیسے خود کو زمینی خدا سمجھنے والے کیا جانے صبر کیا ہوتا ہے۔میرا رب کہتا ہے کہ رحم دل نیک لوگ کبھی خسارے میں نہیں رہتے۔

تو اب ڈرو اُس دن سے
جب تمہاری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی،
اور دل خالی ہو جائیں گے۔
اللہ کی عدالت میں، نہ جھوٹ چلے گا نہ طاقت،صرف اعمال بولیں گے۔”

“او مائی گاڈ! قسم سے، مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی عالمِ دین بیان دے رہا ہو! اتنا ہی شوق ہے تو کیوں نہ گھر گھر جا کر تبلیغ کا کام شروع کر لو؟” نایاب کے دل پر سخت مہریں لگی ہوئی تھیں، اس لیے اُسے دانیا کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑا، بلکہ وہ تو مذاق اُڑا رہی تھی۔

جب کہ زرام، غصے بھری نظروں سے اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے، نفی میں سر ہلا رہا تھا۔ رومی اور سلمیٰ خاموش کھڑی تھیں، اور قدسیہ کو اندر سے بہت اچھا لگ رہا تھا کہ اس کی بیٹی منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ آخر یہ اس کی تربیت کا ہی تو نتیجہ تھا۔
“بس! بس کر دیں یہ سارا تماشہ… اور چلی جائیں ہاسپٹل سے! ابھی کچھ تماشہ باقی رہ گیا تھا جوآپلوگ یہاں تک پہنچ آئی ہیں؟”
زرام کچھ قدم آگے بڑھا کر قریب آگیا۔ مگر لہجہ جان بوجھ کر مدھم رکھا… کیونکہ یہ جگہ ہاسپٹل تھی۔

“تو چپ کر! ہر بات کے بیچ میں مت بول، ٹانگ مت اڑایا کر!”
قدسیہ نے دانت پیستے ہوئے اپنے بیٹے کو جھاڑ دیا۔
“بات ہو رہی ہے تو ہونے دے… نہیں دیکھا تُو نے، اس عورت نے کتنا کچھ بکا ہے میری بیٹی کو! اور اب تُو آیا ہے اپنی ہی بہن پر دھونس جمانے؟ کیا یہ ٹھیک ہے؟
جس کو کوئی نہ ملے، وہ نایاب پر چڑھ دوڑتا ہے!”
قدسیہ نے فوراً سے پہلے اپنی بیٹی کی طرف داری کی، اور بیٹے کے منہ پر چپ کا قفل ڈالنے کی کوشش کی۔

“آپ کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟ کیا آپ کے دل سے خوفِ خدا نکل گیا ہے؟ اگر نکل گیا ہے تو جا کر سجدے میں گریں، اللہ سے توبہ کریں، معافی مانگیں۔
ڈریں اُس دن سے جس دن آپ کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا!

بس کر دیں! ظلم کی انتہا ہو چکی ہے!
آپ کے شوہر نے، آپ کے بیٹے نے جو کچھ کیا، وہ سب کے سامنے ہے۔
اور آپ یہاں آ کر ان کے دکھ بانٹنے کے بجائے اُن پر طنز اور طعنے برسا رہی ہیں؟

دانیا نے کچھ بھی غلط نہیں کہا!
جو کہا ہے، بالکل ٹھیک کہا ہے!
میں تو خود چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ زیغم بھائی کو صحت و تندرستی دے…
اور خود چاہتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں سے اپنے اوپر کیے گئے ظلم کا حساب لے۔

اب کی بار، میں خود کہوں گا زیغم بھائی سے کہ وہ اپنی دی ہوئی معافی واپس لے لیں!
معافی… ان لوگوں کو دی جاتی ہے، جو معافی کے لائق ہوں۔
آپ لوگ نہیں ہیں اس کے لائق!

آپ لوگ کیا جانیں کسی کو معاف کر دینا کسے کہتے ہیں؟
وہ اعلیٰ ظرف انسان… جس نے اپنا سب کچھ قربان کر کے آپ لوگوں کو معاف کیا،
اور آپ لوگوں نے؟
آپ لوگوں نے اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا!
جبکہ وہ جگہ… دراصل آپ کی تھی!!”

زارام کی برداشت کی حد ختم ہو چکی تھی…
الفاظ اس کے اندر کے لاوے کی مانند اُبل رہے تھے،
مگر مائد نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
کیونکہ یہ ہسپتال تھا… چپ کرانا ضروری تھا۔
ورنہ تاثرات تو مائد کے بھی کچھ کم نہ تھے…
دل تو اُس کا بھی چاہ رہا تھا کہ خوب سنائے ان سب کو۔
“ذرام… پلیز! چپ کر جاؤ۔ یہ ہسپتال ہے… یہاں ہمارا یہ رویہ مناسب نہیں۔
اور ان لوگوں سے کہو… یہاں سے چلی جائیں۔
مجھے اِن کی شکل نہیں دیکھنی!”
مائد کا لہجہ اب بھی نرم تھا، مگر الفاظ سخت۔
“اس سے پہلے کہ میں یہ لحاظ بھی چھوڑ دوں کہ یہ تمہاری ماں اور بہن ہیں…
یا یہ عورتیں ہیں… ان کو یہاں سے جانے کا کہہ دو۔
کیونکہ یہ لوگ سب ملے ہوئے ہیں… اور یہ بات کنفرم ہے۔”
“تم خود رفیق کے منہ سے سب کچھ سن کر آئے ہو۔”
مائد خان دورانی کی آنکھوں میں حد سے زیادہ غصہ تھا…
چہرے پر سرخی، لہجے میں سختی…
مگر جسم کانپ رہا تھا ،ضبط سے، غصے سے، تکلیف سے۔
وہ بس اس لیے چپ تھا کیونکہ وہ دونوں خواتین تھیں،
اور دوسری بات ، وہ ذرام کی ماں اور بہن تھیں۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ کھلے عام کوئی تماشہ بنے۔
جبکہ رومی…
یہ سب کچھ دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی۔
وہ سوچ رہی تھی کہ وہ آخر کیوں ان کے ساتھ آئی؟
اور سلمہ؟
سلمہ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔
یہاں جو کچھ بھی ہو رہا تھا، وہ اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔
وہ تو بس اپنی ذات کے دائرے میں بند عورت تھی،
اور باقی سب کے لیے ہمیشہ سے سیلفش تھی۔
اور اس وقت بھی وہ بےحسی سے چپ کھڑی تھی۔
“ارے! ہمیں بھی کوئی شوق نہیں یہاں کھڑے ہونے کا۔
میں تو صرف اپنی نواسی کو لینے آئی ہوں۔
بھائی مرنے کے قریب ہے، اور اب بھی اَکڑ دیکھو!”
قدسیہ نے بغیر کسی لحاظ کے ایک بار پھر منہ کھولا،
اور ناگن کی طرح زہر اُگلا۔

“موت آئے تم لوگوں کو!
تم لوگ مرو!
اللہ کرے تم لوگوں کا نام و نشان صفحۂ ہستی سے مٹ جائے!
تم لوگ مرو… اور تمہیں قبر بھی نصیب نہ ہو!”
دانیا کا ضبط جواب دے چکا تھا۔

“میرے بھائی کے لیے دوبارہ ایسا لفظ بولنے سے پہلے
سو بار سوچنا!
میں اب کوئی لحاظ نہیں رکھوں گی!
کوئی عمر کا لحاظ بھی نہیں رکھوں گی ؟
بھاڑ میں جاؤ سب ،!
بہت لحاظ کر لیا میں نے!”
دانیا کا صبر لبریز ہو چکا تھا،
وہ بولتے ہوئے کانپنے لگی۔

رومی فوراً آگے بڑھی،
اسے اپنے ساتھ لگالیا۔۔

“پلیز… پلیز دانیا آپی! چپ ہو جائیں…
اللہ تعالیٰ زیغم بھائی کو صحت اور تندرستی عطا کرے گا۔
وہ ان شاء اللہ اپنے پیروں پر خود کھڑے ہوں گے۔
کسی کے بددعا دینے سے کچھ نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے…
اور وہ بہت اچھے انسان ہیں،
اللہ ان کے ساتھ کبھی برا نہیں کرے گا۔پلیز… آپ اس طرح خود کو تکلیف نہ دیں…
ارمیزہ ڈری ہوئی ہے…
اور یہ ہسپتال ہے، آپ ہی کو اس بات کا دھیان رکھنا ہوگا۔ان لوگوں سے تو کوئی امید نہیں ہے رومی نے غصے بھری نظروں سے قدسیہ اور نایاب کی جانب دیکھا۔”

“ماشاءاللّٰہ، اب یہ چُوزی بھی بولے گی!”
نایاب نے حقارت سے رومی کو دیکھا۔
“چلو ٹھیک ہے، میں چلی جاتی ہوں، کوئی تماشہ نہیں کرتی…
نہ مجھے کرنے کی ضرورت ہے۔
میری بیٹی مجھے تو وہ مائد کی جانب بڑھی جتنے ارمیزہ کو اٹھا رکھا تھا ۔”

مگر اگلے ہی لمحے وہ پیچھے ہٹ گئی،
کیونکہ مائد نے کمر پر رکھی ہوئی پسٹل کو
کسی ایکشن فلم کے ہیرو کی طرح نکال لیا تھا۔
نایاب کے ساتھ ساتھ قدسیہ نے بھی
دو قدم پیچھے ہٹا لیے تھے،
کیونکہ مائد خان دورانی کی بہادری کے قصے
وہ بھی سن چکے تھے۔
کہ وہ مارنے سے پہلے سوچتا نہیں ہے۔

“ارے! یہ کیا بدتمیزی ہے؟
میں اپنی بیٹی کو لے جانے کی بات کر رہی ہوں
اور تم ہو کہ غنڈہ گردی پر اُتر آئے ہو!”
قدسیہ نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غصے سے کہا۔
” غنڈہ گردی ابھی کی نہیں ہے۔
اگر انسانوں کی طرح یہاں سے چلی جائیں،
تو میرے خیال میں مجھے یہ سب کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔
ورنہ، یہی کھڑے کھڑے دفنا دوں گا…
اور میں کسی کا جواب دہ بھی نہیں ہوں۔”
مائد کی آنکھوں میں جو سرخی تھی،
اسے دیکھ کر قدسیہ اور نایاب کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔

“میں اپنی بیٹی کو لیے بغیر نہیں جاؤں گی!”
نایاب تھوڑا پیچھے ہو کر بولی۔

“جانا پڑے گا!
کیونکہ یہ بیٹی زیغم سلطان کی ہے،
اور اس کی اجازت کے بغیر اسے کوئی
مائی کا لال یہاں سے لے جائے،
تو مان جاؤں گا کہ اس نے خالص اپنی ماں کا دودھ پیا ہے!
اگر یہاں، زندہ کھڑے کھڑے نہ دفنا دیا،
تو میرا نام مائد خان دورانی نہیں!”

“آخری بار کہہ رہا ہوں…
چلی جاؤ یہاں سے…
ورنہ میں شوٹ کر دوں گا!”
مائد کے چہرے پر جو سفاکی نظر آ رہی تھی،
قدسیہ اور نایاب کو یقین ہو چلا تھا کہ
وہ واقعی یہ سب کر سکتا ہے۔

ذرام خاموشی سے اپنی جگہ پر کھڑا تھا،
جیسے وہ ان کو جانتا ہی نہ ہو۔

“بڑی اکڑ دکھا رہے ہو!
چوبیس گھنٹوں کے اندر
اپنی بیٹی کو اگر میں لے کر نہ گئی،
تو پھر دیکھنا!”

“چلیں، اماں!”
نایاب نے غصے سے قدم پیچھے لیے،
اور ماں بیٹی دونوں شکلیں بگاڑتی، مائد
کو، کوستی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔
“چل رومی، ہم بھی چلیں!”
سلمہ نے کہا۔

“آپ کو جانا ہے تو جائیں…
میں کہیں نہیں جا رہی!
ویسے بھی آپ انہی کی پارٹی کی ہیں،
انہی کو پسند کرتی ہیں، آپ جائیں!”
رومی نے سارا غصہ اپنی ماں پر نکال دیا۔

“استغفراللہ!
میں نے کب کہا کہ میں ان کی پارٹی کی ہوں؟
خوامخواہ ماں پر الزام لگا رہی ہو!
وہ میرا بھتیجا ہے، میرے بھائی کا بیٹا ہے۔۔میں تو اس کے لیے آئی ہوں۔!
میں تو اس کے لیے ساری رات تہجد میں دعائیں کرتی رہی ہوں!”
سلمہ نے فوراً رنگ بدلا۔

“بس کر دیں، اماں!
قسم سے آپ کو دیکھ کر تو گرگٹ بھی سوچتا ہوگا
کہ اتنے رنگ تو میں بھی نہیں بدلتا!
اور کون سی آپ نے تہجد میں دعائیں کی ہیں؟
ساری رات آپ کے خراٹوں نے مجھے سونے نہیں دیا!”

رومی نے جب اپنی ماں کا چٹھا کھولا،
تو سلمہ کبھی اِدھر دیکھتی، کبھی اُدھر،
مگر بیچاری کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔
“ہاں تو… بیچ میں کہیں آنکھ لگ گئی ہو گی!”سلمہ نے ہٹ دھرمی سے جھوٹ بولا کیونکہ سچ وہی تھا جو رومی بول رہی تھی پوری رات وہ خراٹے مار کر سوتی رہی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ زیغم جیے یا مرے۔۔

رومی نے نفی میں سر ہلایا۔
سلمہ بے شرمی سے بیٹھ گئی تھی،
کوئی اسے منہ نہیں لگا رہا تھا۔

باقی سب پریشان کھڑے تھے،
جبکہ ارمیزہ سہمی ہوئی تھی۔
سب اس کو بہلانے میں لگ گئے تھے۔
“مجھے بابا کے پاس جانا ہے…”
ارمیزہ روتے ہوئے بولی۔

“جی، بابا کے پاس ضرور جائیں گے۔
مگر ابھی بابا کا علاج چل رہا ہے۔
ہمیں ان کے لیے بہت سی دعائیں کرنی ہیں
تاکہ وہ ٹھیک ہو جائیں۔
جب بابا ٹھیک ہو جائیں گے،
تو ہم ان کے پاس بھی جائیں گے…
اور بہت سی باتیں بھی کریں گے، ٹھیک ہے؟”
دانیا نے اُسے پیار سے سمجھایا
تو ارمیزہ تھوڑی سی پرسکون ہو گئی تھی۔
“جبکہ باقی سب کو نہیں پتا تھا
کہ زیغم کی زندگی کا اختتام ہے یا شروعات۔ زندگی میں آگے کیا موڑ آنے والا ہے، یہ بات صرف اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔”
°°°°°°°°
کھڑکی سے آتی گلابی نیون لائٹ کمرے میں عجب سا ہالہ بکھیر رہی تھی۔ در و دیوار پر پھیلتی نیم تاریکی میں ہر چیز کا عکس بگڑا ہوا لگ رہا تھا ،باہر گلی میں مدھم قہقہوں کی گونج تھی، جیسے کسی کا تماشہ بننے کو ہو۔ اندر، چارپائی پر بیٹھی مہرو خاموشی سے اپنے پیروں کی انگلیاں مسل رہی تھی۔ اس کے چہرے پر پھیلی بےبسی، دروازے کے باہر ہوتی سرگوشیوں سے زیادہ تیز چیخ رہی تھی۔زور ہو کر اس کی آنکھیں سوجھ چکی تھی۔

“چرچراتا دروازہ یوں کھلا جیسے کسی طوفان نے دھکیلا ہو، اور اگلے ہی پل حسینہ بھائی اندر داخل ہوئی تھی۔”

“کب تک روتی رہے گی؟ کب تک ماتم کا ماحول بنائے رکھو گی ۔؟ اٹھ جا، پیار سے بول رہی ہوں، ورنہ حسینہ بائی کے لیے تجھے سیدھا کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ حسینہ بائی کے کوٹھے پر تو بہت ٹیڑھی چیزیں آئی ہیں، جنہیں میں نے سیدھا کر دیا ہے۔
حسینہ کی جب چمک جسم پر پڑتی ہے تو کلیجے ہل جاتے ہیں۔
حسینہ… شیطان کا دوسرا نام ہے…تو یہی سمجھ لے۔”

وہ نہ جانے اپنی تعریف کر رہی تھی یا اپنا شیطانی چہرہ دکھا رہی تھی، کچھ کہنا مشکل تھا۔ اس وقت وہ مہرو کے سامنے کھڑی تھی۔
مہرو پچھلے دو دن سے کچھ نہیں کھا رہی تھی۔ مسلسل رونے سے آنکھیں سوج چکی تھیں، مگر حسینہ کو اس پر رحم نہیں آ رہا تھا۔ وہ تو اپنی “ڈیمانڈ” لے کر آئی تھی۔جو ڈیمانڈ اس سے پہلے نہ جانے وہ کتنی بار کر چکی تھی۔مگر اب کی بار وہ زیادہ سختی سے بول رہی تھی۔

“میں نہیں جاؤں گی… مہرو کا جواب اب بھی وہی تھا۔۔۔
“جانا تو پڑے گا پھر چاہے تمہاری ٹانگیں توڑ کر اپاہج کر کے کیوں نہ بھیجنا پڑے حسینہ کو انکار سننے کی عادت نہیں ہے…

‘میں آپ کے سارے کام کر دوں گی۔ یہاں کی لڑکیوں کے بھی سب کام کردیا کروں گی۔ خالہ… آپ مجھے کہیں مت بھیجیں۔”
معصوم مہرو نے اس اندھی، دلدل جیسی دنیا میں “خالہ” کہہ کر ایک نیا رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔
خالہ… ماں کا دوسرا روپ۔
مگر حسینہ کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ بیٹی کس کو کہتے ہیں۔
سالوں کوٹھے پر گزارنے کے بعد اس میں انسانیت کی رمق بھی باقی نہ رہی تھی۔
وہ دل سے نہیں، پتھر سے بنی تھی ، ایسا پتھر جس پر آنسو بھی اثر نہیں کرتے۔

مہرو کے “خالہ” کہنے پر وہاں موجود دوسری لڑکیاں بھی ہنسنے لگیں، اور پھر حسینہ کی بھی قہقہہ نما ہنسی گونجی۔
مہرو شرمندہ ہو گئی۔ شاید اس نے کچھ بہت غلط کہہ دیا تھا۔

“خالہ!چل ٹھیک ہے… بن جاتی ہوں تیری خالہ، کیا یاد کرے گی۔
آج تک کسی سے یہ رشتہ نہیں جوڑا، تیرے ساتھ جوڑ لیتی ہوں۔
بتا، خالہ کی بھانجی!
“میں نے کہا میں آپ کے سارے کام کر دوں گی یہاں کی تمام لڑکیوں کے بھی سارے کام کر دیا کروں گی،
بس آپ مجھے کہیں مت بھیجیں مہرو کو لگا کہ شاید حسینہ کو سچ میں اس کی بات سمجھ میں آگئی ہے مگر یہ اس کی غلط فہمی تھی جسے اس نے چند منٹوں میں ہی دور کر دیا۔۔۔
“اچھا! تُو میرے کام کرے گی اور میں تجھے کہیں نہ بھیجوں؟
پاگل لگتی ہوں کیا تجھے؟ عقل کی اندھی… حسن دیکھ اپنا!
کبھی غور سے شیشہ نہیں دیکھا کیا؟
تجھے اگر ہوٹل کی ایک رات کی پارٹی میں بھیجوں نا، تو تُو لاکھوں نہیں، کروڑوں کی سامی ہے۔
اور میں پاگل ہوں، جو تیرے نازک ہاتھوں سے یہ کوٹھا سنواروں؟”

“اس کام کے لیے لالی ہے نا…”
وہ سرد لہجے میں بولی، جیسے کسی بے جان چیز کا ذکر ہو رہا ہو۔
“اور لالی جیسی نہ جانے کتنی چیزیں پال رکھی ہیں میں نے…”
اس کی نظریں چھت کی طرف گئیں، جیسے حساب لگا رہی ہو۔
“جو نہ مرد ہیں، نہ عورت… بس، ایک جسم ہیں۔”
ایک ہلکی سی ہنسی اس کے ہونٹوں سے نکلی، زہر سے لبریز۔
“تین وقت کی روٹی ٹھونستی ہیں یہاں… مجھے نوکروں کی ضرورت نہیں۔”
وہ کرسی پر ٹیک لگا کر سنجیدہ ہوئی۔
“مجھے تو اپنا کوٹا چلانے کے لیے… تیرے جیسے انمول ہیرے چاہئیں!”

“تُو اپنی قیمت سمجھ!
تو نوٹوں کی گٹھّیوں میں تولی جائے گی، پاگل لڑکی!”
“جلدی اٹھ! یہ ڈریس پہن۔
دیکھ کتنی خوبصورت چیز لائی ہوں۔”

ساتھ کھڑی لڑکی کے ہاتھ سے لباس لے کر حسینہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے اس کے سامنے کیا ۔
مگر مہرو کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
جسے وہ “ڈریس” کہہ رہی تھی، وہ ایک بےہودہ لباس تھا ،
ایسا جسے کوئی خاندانی بہو بیٹی پہننے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
“مم۔۔۔م۔۔۔میں یہ نہیں پہنوں گی، کبھی نہیں پہنوں گی! مہرو مر جائے گی، مگر یہ نہیں پہنے گی!”
مہرو تڑپ اٹھی تھی اتنے گندے لباس کو دیکھ کر۔ نظریں تک اٹھا نہیں پا رہی تھی، شرم و حیا سے زمین میں گڑتی جا رہی تھی، جیسے ہر دھاگہ اس کی روح کو نوچنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہو وہ ایسے خود کو چھپا رہی تھی۔۔
“مجھے انکار کرے گی تُو؟… تُو مجھے انکار کرے گی؟”
حسینہ کا چہرہ غصے سے لال تھا، آنکھوں میں شعلے بھڑک رہے تھے۔
“تیری اتنی جُرأت؟… تُو حسینہ بھائی کو جانتی نہیں ہے! مجھے انکار کرنے والوں کو میں ایسی سزا دیتی ہوں کہ سزا کی بھی روح کانپ جائے!”
وہ چیخ کر بولی، اور اگلے ہی لمحے، غصے سے بپھری ہوئی حسینہ نے پاؤں کی ایک ایسی ٹھوکر ماری کہ بیچاری مہرو چارپائی سے نیچے جا گری۔
اس کا نازک، کانچ جیسا وجود درد سے تڑپ اٹھا تھا، جیسے پورے جسم میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو گیا تھا۔

لیکن وہ سہمی نہیں…
دھڑکتے دل، کانپتے لبوں اور آنسوؤں میں بھیگے چہرے کے ساتھ اس نے ہمت جمع کی۔
“مار دیں آپ… مار دیں! مگر میں وہ کبھی نہیں کروں گی، جو آپ مجھ سے کروانا چاہتی ہیں!”

وہ معصوم سی مہرو، جو ہمیشہ خاموشی اور نرمی کا مجسمہ رہی، نہ جانے کہاں سے یہ حوصلہ لے آئی تھی۔
وہ خود بھی حیران تھی۔
یہ ہمت؟ یہ جُرأت؟ یہ تو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
شاید… یہ زیغم سلطان کی محبت تھی، جو اُسے طاقت دے رہی تھی…
یا پھر… اس کا پردہ، جسے اُس نے ہمیشہ وفاداری سے نبھایا تھا۔
نہیں… اسے اللہ سے محبت ہمیشہ سے تھی…
قرآن پاک کی آیات اس کے دل کو چھو جایا کرتی تھیں…
مگر جب اس نے ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنا شروع کیا…
تو جیسے دل کی آنکھیں کھل گئیں۔

تب اسے پہلی بار یہ سمجھ آیا کہ
سورۃ النور صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں…
یہ تو عورت کے وقار، اس کی عزت اور حیاء کا
رب کی طرف سے اترا ہوا ایک مکمل پیغام ہے۔

اسی سورۃ میں تو اللہ تعالیٰ نے
پردے کے بارے میں صاف صاف فرمایا ہے…
اور جب مہرو نے ان الفاظ کا مفہوم سمجھا…
تو جیسے اندر کچھ بدل سا گیا۔

اب پردہ صرف کپڑے کا نہیں رہا…
اب وہ دل کی دیواروں تک حیاء کی چادر اوڑھ چکی تھی۔”
“مرنے کا شوق ہے تمہیں؟ بہت شوق ہے مرنے کا؟”
حسینہ کا چہرہ زہر اگل رہا تھا، آنکھوں میں پاگل پن جھلک رہا تھا۔ وہ مہرو کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر، اسے اپنی طرف جھٹکا دے کر غرائی۔

“تو سن! اب مرے گی… مگر ایسے نہیں۔ تجھے بے آبرو کر کے ماروں گی۔ اس کوٹھے پر… جہاں نہ کوئی عزت ہے نہ رحمت۔ اب تیری قسمت یہیں لکھی جائے گی۔ تو چاہے یا نہ چاہے، بکنا پڑے گا تجھے!”
الفاظ زہر تھے، اور لہجہ خنجر۔ مہرو کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں، مگر زبان پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔

اسی لمحے حسینہ نے ہاتھ بلند کیا، اور ساتھ کھڑی لڑکی نے فوراً اس کے ہاتھ میں وہ باریک، لچکدار چھڑی تھما دی۔
وہ چھڑی، جو جسم سے ٹکراتے ہی چمڑی ادھیڑ دیتی تھی۔

پھر وہی ہوا ،
چٹاخ!
چیخ!
چٹاخ!
چیخ!!

ہر وار کے ساتھ مہرو کی سسکیاں بلند ہوئیں، جسم کی لرزش بڑھتی گئی۔ آنسوؤں سے چہرہ تر، ہونٹوں سے آہ بھی پوری طرح نہ نکل پاتی تھی۔

“چھوڑ دو… اللہ کا واسطہ…”
مہرو کی آواز رندھ چکی تھی، مگر حسینہ کی سماعت پر جیسے قفل لگ چکا تھا۔ وہ کسی کی نہ سنتی تھی، نہ جانتی تھی رحم کیا ہوتا ہے۔

وہ ایک ظالم عورت تھی۔
ایسی ظالم، جس کے اندر کی انسانیت مر چکی تھی۔
اس کی فطرت، سوچ، ہر جذبہ… ہر احساس گندگی میں ڈوب چکا تھا۔
کوٹھے کی وہ ملکہ، صرف جسم کی بولی لگانا جانتی تھی… دلوں کی چیخیں اس کے لیے بے معنی تھیں۔
“کیا ہو گیا ہے؟ پاگل ہو گئی ہو؟ مر جائے گی وہ! اتنی جان نہیں ہے اس میں!”
چیخوں کی آواز گونجتے ہی ساتھ والے کمرے سے ماہ رخ بھاگتی ہوئی آئی تھی۔ ماہ رخ کو ہمیشہ یہاں آئی ہوئی لڑکیوں پر رحم آتا تھا، کیونکہ وہ خود بھی یہاں زبردستی، اپنی مرضی کے خلاف لائی گئی تھی۔ اسی لیے اسے ان لڑکیوں کے درد کا شدت سے احساس تھا۔
وہ ان کا بچاؤ تو نہیں کر سکتی تھی، مگر اس کا دل ہمیشہ تڑپ جاتا تھا۔
مگر یہ لڑکی… یہ اس کے لیے کچھ الگ تھی۔
مہرو کے لیے اس کے دل میں پہلی نظر میں ہی ایک خاص سا جذبہ پیدا ہوا تھا، ایک الگ سی محبت۔جسے وہ کوئی نام نہیں دے سکی تھی۔۔

ماہ رخ نے آگے بڑھ کر حسینہ کے ہاتھ سے چھڑی زور سے کھینچی اور دور پھینک دی۔ایسی جرأت اس نے آج پہلی بار کی تھی۔اور یہ جرات اس کے اندر کیسے آ ئی وہ نہیں جانتی تھی یہ سب کچھ غیر ارادی طور پر اس سے ہو گیا تھا۔۔
حسینہ نے زہریلی نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔
“تمہاری جرأت کیسے ہوئی میرے ہاتھ سے چھڑی پکڑنے کی؟ بہت اوقات بڑھ گئی ہے تمہاری!”
حسینہ نے آگے بڑھ کر ماہ رخ کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کیا۔ اور یہ ما ہ رخ کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ یہ تھپڑ تو وہ برسوں سے اپنے چہرے پر سہتی آئی تھی۔
“بات جرأت کی نہیں ہے! آپ اس طرح اسے مارتی جا رہی ہیں، مارتی جا رہی ہیں… وہ مر جائے گی۔ زندہ رہے گی تو آپ کے کام آئے گی نا؟ تھوڑا صبر رکھیں، ٹھنڈا رہیں، پیسوں کے پیچھے اتنا پاگل کیوں ہو جاتی ہیں؟ کچھ دن دے دیں، سنبھل جائے گی، تو سب کچھ کرے گی۔ میں بھی تو کر رہی ہوں نا؟
جب اسے سمجھ آ جائے گا کہ یہ درندوں کی دنیا ہے، اندھی دنیا… یہاں سے نکلنا صرف مشکل نہیں، ناممکن ہے۔ تب وہ خود ہی ٹوٹ جائے گی۔”
ماہ رخ نے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے تلخی سے کہا۔
حسینہ شاید اس کی بات سمجھ گئی تھی۔ آخر ماہ رخ کے ساتھ اس کا بہت پرانا رشتہ تھا۔ وہ محض نو یا دس سال کی بچی تھی جب سے اس کوٹھے پہ آئی تھی، اس لیے حسینہ کو اس سے کچھ نہ کچھ لگاؤ تو تھا،جس کو وہ تسلیم کبھی نہیں کرتی تھی ۔

“ٹھیک ہے… مان لی تیری بات۔ لے جا اسے، دے دیے دن، جتنے تو کہتی ہے۔
لیکن اس کے بعد مجھے یہ لڑکی ہنستی کھیلتی، کام پر لگی دکھائی دینی چاہیے! جا، تیرے لیے میں نے اسے کھلا ٹائم دیا۔ لے جا اپنے کمرے میں، تیار کر اسے۔ یہاں کی ادائیں بھی سکھا، رسم و رواج بھی۔
کسٹمر سے کیسے ڈیل کرنا ہے، وہ بھی سمجھا۔ اور میرے سامنے بک بک نہیں کرنی، یہ بھی بتا دینا!”

حسینہ کی اجازت پر ماہ رخ نے مہرو کا ہاتھ تھاما اور باہر جانے کو مڑی، مگر حسینہ کی آواز پر رکنا پڑا۔
“رک ماہ رخ! ایک بات کان کھول کر سن۔ جتنے دن تُو اسے تیار کر رہی ہے، ان دنوں تُو بغیر اکڑ کے، چپ چاپ اس کی جگہ کام کرے گی۔ ورنہ میں نہیں دیکھوں گی کہ اس لڑکی کی مرضی ہے یا نہیں۔تیری اکڑ کا خمیازہ میں اس سے وصول کروں گی۔

ہاں جب تیرا کا عاشق آئے گا، تب تجھے چھٹی ملا کرے گی۔
مگر اس کی ٹریننگ کے دوران تو باہر کی ڈیلیں بھی قبول کر… جو آج تک تُو نے نہیں کیں۔۔

“ماہ رخ بھول گئی تھی کہ حسینہ کوئی کام اپنے مطلب اپنے مفاد کے بغیر نہیں کرتی اس نے کچھ دن کی مہرو کی آزادی کی قیمت اس سے وصول کرنے کا سوچ رکھا تھا۔۔۔
مارخ وہ کرنے کو کہا جا رہا تھا ، جو اُس نے اب تک نہ کیا تھا۔
مگر وہ خاموش رہی…
کیونکہ آج اُسے خود اپنی بھی پروا نہیں تھی۔ اس نے سوچا، کیوں نہ ایک معصوم کی جان بچا لی جائے؟

وہ برسوں سے صرف شہرام سے ہی جڑی رہی تھی۔ حسینہ کے لاکھ طعنے سہنے کے باوجود، اُس نے شہرام کے ساتھ کبھی بے وفائی نہیں کی۔
ہاں، یہ سچ تھا کہ شہرام نے اس پر بے پناہ پیسہ لٹایا، جس سے حسینہ اکثر خاموش ہو جاتی تھی۔اور اسے کہیں بھیجنے کی زیادہ ضد نہیں کرتی تھی۔۔مگر حسینہ کی یہ خواہش ہمیشہ سے رہی تھی کہ ماہ رخ باہر کی پارٹیاں ڈیل کیا کریں۔۔
مگر اُس دن… آخری بار، شہرام نے جو رویہ اپنایا،ماہ رخ نے جو اس کا روپ دیکھا اس کے بعد اس کے بعد ماہ رخ کو نہ صرف اُس کی بلکہ اپنے وجود کی حقیقت بھی سمجھ آ گئی تھی۔سارے خواب چکنا چور ہو گئے تھے وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ صرف اس کوٹھے کی زینت بننے کے لائق ہے، اس کا جینا اور مرنا یہیں پر طے ہے۔۔۔اسی لیے اس نے حسینہ کی بات مانتے ہوئے ہاں میں سر کو ہلایا اور خاموشی سے، قدموں کی چاپ کے ساتھ، وہ مہرو کو ساتھ لے کر کمرے کی طرف چل پڑی۔کوئی کیا جانے اس کو اٹھے پر رہنے والوں کے درد کیا ہوتے ہیں…ماہ رخ نے دل ہی دل میں سوچا اور زبردستی لبوں پر مسکراہٹ سجا لی۔۔

کوٹھے پر بیٹھنے والی لڑکی کا درد صرف وہی سمجھ سکتی ہے جو اس اندھیرے کو خود جھیل چکی ہو… وہ درد، جسے دنیا صرف تماشہ سمجھتی ہے۔
یہاں رہنے والی ہر لڑکی پر باہر کی دنیا کی نظریں گندے زاویے سے پڑتی ہیں۔ کوئی انہیں بیٹی، بہن یا انسان کے رشتے سے نہیں دیکھتا۔
لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا؟
کہ ان کی کہانی کیا ہے؟
ان کی مجبوری، ان کی بےبسی، ان کا وہ زخم جو چیخ تو سکتا ہے، مگر سنا نہیں جاتا۔

اکثر وہ لڑکیاں اپنی خوشی سے نہیں آتیں… بلکہ کسی اور کی ہوس، کسی اور کی حرص، کسی اور کی تجارت انہیں اس دہلیز پر لا پھینکتی ہے۔
ان کا جرم؟
صرف اتنا کہ وہ معصوم تھیں… مجبور تھیں…
اور سوداگر؟
وہ جو انسان نہیں، منڈی کے سوداگر ہوتے ہیں۔
جو جیبیں بھرتے ہیں… اور جسم بیچتے ہیں…
وہ اصل مجرم ہوتے ہیں… مگر زمانہ الزام صرف ان لڑکیوں پر دھرتا ہے۔وہ دل میں سوچتے ہوئے راہداری سے مہر النساء کے ہمراہ گزرتے اپنے کمرے کا دروازہ بند کر چکی تھی۔۔
°°°°°°°°
بہت دیر تک مہرو کمرے میں آ کر سسکیوں کے ساتھ روتی رہی، جبکہ ماہ رخ خاموشی سے اسے یوں بلکتے ہوئے دیکھتی رہی۔
وہ چاہتی تھی کہ مہرو تھوڑی دیر اور رو لے، تاکہ اس کا دل ہلکا ہو جائے۔
اس کے دل میں اس وقت کتنا غبار اور کتنا درد ہے، یہ بات ماہ رخ سے زیادہ اور کون جان سکتا تھا؟
ماہ رخ نے بھی تو ایسی کئی راتیں سسکیوں میں گزاری تھیں۔
کئی لوگوں سے فریاد کی، مگر کسی نے نہیں سنی۔
وہ تنہا آنسو بہاتی، خود ہی چپ ہو جاتی، تھک کر سو جاتی۔
مگر صبح کی روشنی بھی اس کے لیے ہمیشہ کالے سائے لے کر آتی تھی۔
اسی لیے وہ مہرو کی کیفیت کو بخوبی سمجھ رہی تھی۔
تب ہی تو وہ اس کے سامنے صوفے پر خاموش بیٹھی رہی۔
جبکہ مہرو بیڈ پر پاؤں لٹکائے، اپنی گود میں نظر جمائے بیٹھی تھی۔
ہاتھوں کو مروڑتی، سسکیوں سے روتی جا رہی تھی…
آخرکار کمرے کی خاموشی کا سینہ چیرتے ہوئے ماں رخ کی آواز گونجی۔
مہرو نے نم آنکھوں سے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔

“دیکھو، جتنا رونا ہے رو لو، مگر رونے سے تقدیریں نہیں بدلتیں۔ خود کو جتنا مرضی ہلکان کر لو، جتنے مرضی ہاتھ جوڑ لو، ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان کے سینے میں دل نہیں، پتھر ہے… اور پتھروں پر فریاد کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

اتنی سی بات جتنی جلدی تم سمجھ لو، تمہارے لیے بہتر ہے۔
اگر نہیں سمجھو گی، تو صرف خود کو اذیت دو گی… تکلیف دو گی۔

یہاں پر کوئی کسی کا نہیں ہوتا، یہاں صرف پیسوں کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ جس کا دام زیادہ لگے، جس کے خریدار زیادہ ہوں، اُسے حسینہ پلکوں پر بٹھاتی ہے… وہ بھی تب، جب ہم خوشی خوشی اُس کی بات مان لیں۔

دو چیزوں میں سے ایک تو ضرور ہونی ہے۔۔۔۔ ہر رات یا تو درندوں کی وحشت کو سہنا پڑتا ہے، یا پھر حسینہ کی چھڑی کو۔

ان دونوں میں سے ایک چیز تو ہمارا مقدر بن ہی جاتی ہے… اور تمہاری نازک جان حسینہ کی مار سہنے کے قابل نہیں ہے۔

اس لیے… آرام سے مان جاؤ۔ اور سچ یہ ہے کہ… تمہارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔”
ماہ رخ نرمی سے، جیسے کسی چھوٹی بہن کو سمجھا رہی ہو، لہجے میں شائستگی اور نرمی بھرپور تھی۔

“اور کوئی نہیں مگر آپ تو ہیں نا… آپ نے مجھے حسینہ خالہ کی مار سے بچا لیا ہے، تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہاں پر رہنے والوں کے پاس دل نہیں ہوتا؟ آپ کے پاس دل ہے… تبھی تو آپ نے میری مدد کی…”
وہ جس محبت سے یہ الفاظ ادا کر رہی تھی، ماہ رخ کی آنکھیں بھر آئیں۔
اس نے گہری سانس لی، اور چند لمحوں کے لیے نظریں جھکا کر خاموشی سے بیٹھ گیا…
دل جیسے درد کی برسات میں بھیگ گیا تھا… احساس کی ایک لہر نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

مارخ ،نم آواز میں نظریں چرا کر بولی،
“اگر میں کسی کو بچا سکتی… تو کیا خود کو نہ بچا لیتی؟
میں تو خود سالوں سے قید ہوں یہاں…
میرے اپنے پر کاٹ دیے گئے ہیں۔
بس سانس چل رہی ہے، باقی سب تو کب کا مر چکا ہے۔
میں… میں کیسے کسی کو بچا سکتی ہوں؟”

“مجھے بچا لیں… میں اپنے سائیں سے بہت پیار کرتی ہوں… میرے سائیں بہت اچھے ہیں… دعا کریں وہ ٹھیک ہوں، ان کو کچھ نہ ہوا ہو…”
وہ دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے ماہ رخ کے قدموں میں بیٹھ گئی، آنکھوں سے بہتے آنسو ہر لفظ میں بے بسی کا عکس بن گئے۔
“وہ میرے ساتھ آپ کو بھی بچا لیں گے، بس… بس مجھے وہ سب کچھ نہیں کرنا جو حسینہ مجھے کرنے کو بول رہی ہے…”
اس کی آواز میں التجا تھی، دل میں ڈر، اور لفظوں میں معصوم امید۔ ماہ رخ نے نم آنکھوں سے جھک کر اسے دیکھا، جیسے لمحہ بھر کو خود کو بھی اس لڑکی میں محسوس کر لیا ہو۔۔
اس کے لہجے میں خوف سے زیادہ سچائی بول رہی تھی،
بے اختیار، پس منظر میں ماہ رخ نے کچھ لمحوں کے لیے اس معصوم ماہ رخ کو دیکھا جو نو دس سال کی ایک سادہ سی، معصوم بچی۔
وہ بچی جسے اُس کم ظرف عورت نے یہاں لا کر چھوڑ دیا تھا۔
ایسی عورت، جس نے کسی گناہ کے بغیر ماہ رخ کو سزا دلوائی تھی۔مہرو میں ماہ رخ اپنے آپ کو محسوس کر رہی تھی بے شک مہرو کی عمر اس سے کچھ زیادہ تھی مگر معصومیت بالکل وہی تھی۔۔۔
ماہ رخ نے خاموشی سے مہرو کے ہاتھوں کو چوم کر اُسے زمین سے اٹھا کر اپنے پاس بیٹھا لیا۔
یہ سب کچھ غیر ارادی طور پر ہو رہا تھا۔
نہ ماہ رخ نے کچھ سوچا، نہ کوئی منصوبہ بنایا۔
“دیکھو مہرو…”
“میں تمہیں کوئی جھوٹا دلاسا نہیں دینا چاہتی، نہ کوئی بے معنی تسلی، کیونکہ میرے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، ہم حسینہ کے ہاتھ کی کٹھ پتلیاں ہیں۔”

“وہ بہت ظالم ہے۔ کئی کئی دن بھوکا رکھے گی، مارے گی، سزائیں دے گی، سونے نہیں دے گی۔ ایسی اذیتوں کے بعد انسان ٹوٹ جاتا ہے، اور وہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جو اس کے ضمیر کے خلاف ہوتا ہے۔”

“ہم انسان ہیں مہرو، گوشت پوست سے بنے ہوئے… نہ لوہا ہیں، نہ پتھر، کہ درد ہم پر اثر نہ کرے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ درد بڑے بڑوں کو توڑ دیتا ہے۔ تو پھر ہم کیا ہیں؟ ہماری کیا اوقات ہے؟”

“اسی لیے کہتی ہوں… جو کہتی ہے، مان لو۔ تم یہاں سے نہیں نکل سکتی، اور میں تمہیں یہاں سے نکال نہیں سکتی۔ یہی سچ ہے۔”
“سالوں کوشش کی میں نے یہاں سے نکلنے کی، مگر انجام وہی ہوا جو ہر اس لڑکی کا ہوتا ہے ۔خواب چکنا چور ہو گئے آسمان سے زمین پر پٹک دی گئی سالوں بعد مجھے میری اوقات دکھا دی گئی۔ماہ رخ کے لہجے میں سچائی ہی سچائی تھی وہ آہستہ آہستہ بولتی چلی جا رہی تھی اور مہرو خاموشی سے سن رہی تھی۔کیونکہ اس کے لہجے میں اتنی مٹھاس تھی کہ مہرو کو وہ اپنی سی لگنے لگی تھی ۔

“یہاں ہمیں کوئی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ ہم یہاں جیتے ہیں، اور یہیں دفن کر دیے جاتے ہیں۔”

“تمہیں معلوم ہے؟ یہاں جو لڑکی ایک رات بھی گزار لے، پھر چاہے وہ پاک دامن ہو، دنیا اس پر یقین نہیں کرتی۔”

“یہ جگہ… یہ کوٹھا… یہ ایسا دوزخ ہے، جو دنیا میں انسانوں نے خود قائم کیا ہے۔ اور یہ ایسی دلدل ہے کہ جو ایک بار اس میں اتر جائے، اس کی سچائی بھی بے قیمت ہو جاتی ہے۔”

“مان لو… مان لو کہ اگر تم واپس بھی چلی جاؤ، تو بھی کوئی یقین نہیں کرے گا کہ تم ویسی نہیں ہو… یہاں سے واپس گئی ہوئی عورت کی عزت نہیں بچتی۔”

ماہ رخ کی باتوں میں ایک تلخ سچائی تھی، ایک کڑوا زہر جو حقیقت کے نام پر پلایا جا رہا تھا۔ مگر مہرو… وہ کیسے مان لیتی؟ وہ کیسے مان لیتی کہ اس کا زیغم سائیں ایسا ہو سکتا ہے؟ اس کی محبت اتنی کمزور ہو سکتی ہے؟
“نہیں میرے سائیں ایسے نہیں ہیں… وہ میری سچائی پر یقین بھی کریں گے اور مجھے قبول بھی کریں گے… بس اللہ تعالیٰ ان کو زندگی دے دے، اور وہ ٹھیک ہو جائیں… ان کو کچھ نہ ہوا ہو… اگر ان کی زندگی کے لمحے اتنے ہی تھے تو اللہ کرے ان کو میری عمر لگ جائے… اللہ ان کی عمر دراز کرے اور وہ صحیح سلامت ہوں… وہ مجھے ڈھونڈ بھی لیں گے… یہاں تک پہنچ بھی جائیں گے… مجھے قبول بھی کریں گے… آپ اپنی آنکھوں سے دیکھنا!”

مہرو کا یقین اتنا پختہ تھا کہ ماہ رخ کچھ لمحوں کے لیے حیران رہ گئی۔ وہ اس کے چہرے پر نظریں جمائے، اس بےلوث، بےخوف اور بےمثال محبت کو محسوس کر رہی تھی، جو سچائی کے کٹھن راستے پر بھی ڈگمگائی نہیں تھی۔

“اتنا یقین ہے تمہیں اپنے سائیں پر؟” مارخ نے حیرانی سے پوچھا۔

“خود سے بھی کہیں زیادہ!” مہرو نے پورے یقین سے جواب دیا۔

“اگر میں کہوں کہ مجھے بھی اپنے سائیں پر ایسا ہی یقین تھا، مگر انہوں نے چند منٹوں میں مجھے دو کوڑی کا کر دیا، تو بھی تم اپنے سائیں پر یقین برقرار رکھنا چاہو گی؟”

“ہاں!” وہ فوراً بولی، “مجھے نہیں پتہ آپ کے سائیں نے آپ کے ساتھ ایسا کیوں کیا، مگر میرے سائیں ویسے نہیں ہیں۔”

“وہ ہیرا ہیں، ایک ایسے انسان جن کا دل سونے کا ہے۔ جو اپنے دشمنوں کو بھی معاف کرنا جانتے ہیں، تو مجھ سے تو وہ محبت کرتے ہیں۔”

“انہوں نے خود کہا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں… تو پھر وہ مجھے اس دلدل میں کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ وہ میرا یقین کیسے نہیں کریں گے؟”
ارے پاگل لڑکی، یہاں آئی ہوئی لڑکیوں کے لیے مردوں کی محبت…
صرف جسم کی حد تک محدود رہ جاتی ہے۔

اور محبت؟
پاگل، محبت ایک دھوکہ ہے ۔ ایسا دھوکہ جو جسے لگ جائے،
وہ ڈوبتا ہی چلا جاتا ہے۔
نہ اسے ساحل نصیب ہوتا ہے،
نہ کوئی کشتی اسے بچانے آتی ہے۔ماہ رخ کے لبوں پر درد زدہ مسکراہٹ تھی کیونکہ وہ اپنی محبت کے زخم محسوس کر رہی تھی۔
“میں آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتی۔ جانتی ہیں کیوں؟
کیونکہ مجھے اپنے سائیں کی محبت پر یقین ہے…
اور جب یقین پختہ ہو،
تو دنیا کی کوئی طاقت اُسے ہلا نہیں سکتی۔

میں اپنے یقین پر قائم ہوں، مضبوطی سے۔
اور اگر… صرف ایک لمحے کے لیے…
میں اپنے اس یقین کو سائیڈ پر رکھ بھی دوں،
تو کیا آپ مجھے بتائیں گی کہ…
کیا میں اس برائی کو قبول کر کے،
حسینہ کی بات مان کر،
اس گندے راستے پر چل کر…
اپنے رب کو منہ دکھا سکوں گی؟

کیا آپ نے کبھی سورۃ النور کا ترجمہ پڑھا ہے؟
“نہیں میں نے سورۃ النور کا ترجمہ نہیں پڑھا کیا تم مجھے سناؤ بھی کہ اللہ نے سورۃ النور میں کیا لکھا ہے ۔ماہ رخ مہرو کی نظروں میں اپنے رب کی محبت دیکھ کر عجیب سی بے چینی کا شکار ہو رہی تھی، کیونکہ ایسی محبت قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے، یہ گواہی ما ہ رخ کے دل نے دی تھی۔۔

“مارخ آپی میں آپ کو سناتی ہوں کیا میں آپ کو آپی بول سکتی ہوں وہ ایک لمحے کے لیے رکی تھی۔۔۔۔ہاں بول سکتی ہو مارخ نے فوراً سے حامی بھر لی۔۔

“سورۃ النور میں ..میرے رب نے… ہاں، اسی رب نے جس نے ہمیں زندگی دی،
ہمیں عورت بنایا، ہمیں حیادار بنا کر دنیا میں بھیجا …
اسی رب نے اپنی پیاری کتاب کی پیاری صورت النور میں فرمایا کہ،
“مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اللہ کو ان کے اعمال کی خبر ہے۔”

اور فرمایا،
“مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں،
اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں
سوائے اس کے جو خودبخود ظاہر ہو جائے،
اور وہ اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں۔”
یہ میرے رب کا حکم ہے …
اور جس کے دل میں قرآن ہو،
وہ گناہوں کے شور میں بھی…
حیا کی خاموشی سن لیتا ہے۔

ماہ رخ خاموشی سے اس معصوم سی لڑکی کی باتیں سنتی جا رہی تھی اس کی باتیں اتنی سچائی بھری اور ایمانداری والی تھی کہ مارخ کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ اسے بیچ میں بات کر کے تسلسل توڑ تی۔۔

“چاہے حسینہ جتنی مرضی کوشش کر لے …. میں آخری سانس تک بھی لڑتی رہوں گی… ہار نہیں مانوں گی!
کبھی بھی اس گناہ کی دنیا کو اپنے دل سے قبول نہیں کروں گی۔
اگر میرے سو ٹکڑے بھی کر دیے جائیں،
تب بھی میں یہی کہوں گی کہ میں اپنے سائیں کی ہوں…
اور ہمیشہ رہوں گی۔

مجھے ڈر ہے… اپنے رب کا جو زمین و آسمان کا مالک ہے ،بروز قیامت اپنی مرضی سے جسم فروش کرنے والیوں کو بے شک میرا رب دوزخ کی آگ میں جھونک دے گا۔اللہ کا عذاب بہت ہولناک ہے۔میں اپنی مرضی سے کبھی بھی ایسا گندا کام نہیں کروں گی… کبھی بھی نہیں!
مہرو… عمر میں ماہ رخ سے کہی چھوٹی تھی،
معصوم تھی…
مگر میرے لہجے میں سچائی ہے، مضبوطی
رب کی محبت ہے…اور شوہر کی محبت کے ساتھ ساتھ شوہر سے ایمانداری بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔

ماہ رخ تو خاموشی سے اس معصوم سی لڑکی کی رب سے لگن اور سچائی بھری باتیں سنتی جا رہی تھی۔وہ ایسے بیٹھی تھی جیسے سکتے کا عالم ہو۔۔۔

کہتے ہیں کہ کبھی کبھی کوئی اچانک سے مسیحا بن کر آپ کی زندگی میں آتا ہے… اور یہاں تو یہ بات حرف بہ حرف سچ لگ رہی تھی…
مہرو جیسے ماہ رخ کی ٹوٹی بکھری دنیا میں نہ صرف ایک امید بن کر آئی تھی، بلکہ جیسے اندھیروں میں جلتی ہوئی وہ واحد روشنی تھی جو راستہ دکھاتی ہے۔
مارخ کی زندگی، جو برسوں سے اندھیروں کی اسیر تھی، مہرو کی سچائی، رب سے لگن رب سے محبت اور مضبوط لہجے سے یوں جگمگانے لگی تھی جیسے جلتا دیا، ٹھنڈی رات میں کسی کو راستہ دکھا دے۔
جس دل میں خدا کی سچی محبت جاگ اٹھے، اُسے پھر دنیا کا کوئی ڈر باقی نہیں رہتا۔ برائی کا راستہ دکھانے والے چاہے جتنے بھی طاقتور کیوں نہ ہوں، ستون ہلنے لگتے ہیں، گناہوں سے بنی عمارتیں ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں۔

جب دل ایمان سے بھر جائے، جب وہ ایمان سے جگمگا اُٹھے، تو قسم سے… ایک نہیں، ہزاروں راستے روشن ہو جاتے ہیں۔

کبھی رب کا خوف اپنے دل میں پیدا تو کر، سجدے میں جھک کر دیکھ تو سہی… کیا لذت ہے اُس کے سامنے جھک کر، دعا مانگنے کی۔

آج مہرالنساء جیسی چھوٹی، معصوم سی لڑکی نے مارخ کے دل میں ایمان کی روشنی پھیلا دی تھی… اور اب یہ روشنی کا دیا اُسے کس طرف لے کر جائے گا یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔؟
یقین کی روشنی جب دل میں اترتی ہے، تو اندھیرے خود بخود راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔
اور سجدے میں جھکا ہوا دل ایسا ہوتا ہے جیسے صحرا میں بہتا ہوا چشمہ ، خاموش، مگر زندگی سے بھرپور۔۔۔

حسینہ بائی نے تو بڑی امید کے ساتھ مہر النساء کو ماہ رخ کے پاس بھیجا تھا … ادائیں سیکھنے کے لیے… مداحوں کو لبھانے کی چالیں سیکھنے کے لیے۔فیشن کا ڈھنگ سیکھنے کے لیے کوٹھے کے رنگ سیکھنے کے لیے۔
مگر یہاں تو … ایک معصوم لڑکی نے سب کچھ الٹ کر رکھ دیا تھا۔

اس نے ماہ رخ کو رب کے قریب کر دیا تھا…
جہاں دنیا والے محبت کی بات کرتے ہیں، وہاں اس لڑکی نے قیامت کا خوف دلا کر، دوزخ کی آگ یاد دلا کر، اللہ کی محبت کا راستہ دکھا دیا تھا۔
اس نے پردے کا حکم سمجھایا، اس نے بتایا کہ پیار محرم سے ہوتا ہے…
عشق وہی ہوتا ہے جو نکاح میں عزت کے ساتھ بندھا ہو۔
بغیر نکاح کے محبت… صرف جسموں کا کھیل بن جاتی ہے، جو رب کی ناراضگی کا باعث بنتی ہے۔
اس لڑکی نے یہ سکھایا… کہ جو محبت کرتا ہے، وہ نکاح کرتا ہے…
حرام رشتے نہیں بناتا… حلال رشتہ بناتا ہے، رب کی رضا کے ساتھ۔۔۔

محبت جب رب کی ہو، تو اس میں حدود کا حسن ہوتا ہے،
وہ جذبات کو عبادت کا درجہ دیتا ہے، بےحیائی کا نہیں۔
جس نے رسول سے محبت کی، اس نے پہلے فرمان مانے،
محبت وہی معتبر ہے جو شریعت کی چادر میں چھپی ہو۔
°°°°°°°°°°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *