Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:54

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
ایپیسوڈ نمبر :54
°°°°°°°°°
“چھوڑو مجھے، مجھے یہاں نہیں رہنا۔مجھے گھر جانا ہے۔!”
“نہیں نہیں سر ابھی آپ نہیں جا سکتے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے رفیق میں زبردستی اس کے جانے کا راستہ روک لیا….
“تمہاری، تمہاری جرات کیسے ہوئی مجھے روکنے کی؟”زیغم سلطان غرایا،

اس کی آواز میں وہی شدت تھی جو کبھی اس کے فیصلوں میں ہوا کرتی تھی۔ چھ مہینے سے جو خاموشی چھائی تھی، اب وہ ایک شیر کی دھاڑ میں بدل چکی تھی۔
جیسے ہی ہوش آیا، زیغم کی بے قابو چیخوں نے آئی سی یو کے در و دیوار ہلا ڈالے تھے۔
ڈاکٹرز اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ ان کے قابو میں نہیں آ رہا تھا۔ نیند کا انجیکشن بھی خطرناک تھا، اس لیے کوئی رسک نہیں لیا جا رہا تھا۔

یہ لمحہ قدرت کا کرشمہ تھا۔
چھ مہینے بعد زیغم سلطان کا ہوش میں آنا… ایک ایسا لمحہ جس کا سب کو انتظار تھا۔
آئی سی یو روم کے اندر بھاگ دوڑ مچی ہوئی تھی۔
ڈاکٹر، نرسز، سب دیواروں سے لگے کھڑے تھے۔ رفیق بےبس، زیغم کے غصے کا نشانہ بن چکا تھا۔
اور رفیق کے روکنے والی حرکت بالکل اچھی نہیں لگی تھی وہ غصے سے۔اس کا گریبان پکڑے، آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔
آواز میں کپکپاہٹ تھی، الفاظ لڑکھڑا رہے تھے، مگر اس کی موجودگی کسی طوفان سے کم نہ تھی۔بیچارا رفیق تو نظر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔
مائد خان دورانی کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ کیونکہ اگر دنیا میں کوئی زیغم کو سنبھال سکتا تھا، تو وہ صرف وہی تھا۔
اسی لمحے مائد خان نے دروازہ کھولا۔
اندر کا منظر دیکھ کر ایک پل کو اس کا دل لرز گیا، مگر زیغم کو اپنے پیروں پر کھڑا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں روشنی بھر گئی۔چہرے پر خوشی اور سکون کی ہلکی سی لالی پھیل گئی۔
قدم وہیں جم گئے۔
یہ خوشی، یہ حیرت… اس کی سوچ سے بھی بڑی تھی۔
زیغم مکمل طور پر کھڑا تو نہیں ہو سکا تھا، مگر جیسے ہی اس نے قدم جمائے، پوری فضا میں ایک شیر کی واپسی کا اعلان گونج اٹھا۔وہ ہلکا سا بیڈ کا سہارا لیے کھڑا تھا۔

“س… سر… پ… پلیز… میری بات سنیں…”
رفیق کی آواز کانپ رہی تھی۔
“میں… میں آپ کو جانے سے نہیں روک رہا، میری… میری کیا مجال… کیا جرات کہ آپ کو روک سکوں…”
زیگم سے ڈر کے مارے رفیق کے الفاظ ٹوٹ رہے تھے، سانس اٹک رہی تھی۔
مگر زیغم سلطان کا غصہ طوفان بن چکا تھا۔۔
اچانک اس نے کانچ کی ڈرِپ کو سٹینڈ سے کھینچا… اور رفیق کے سر پر دے ماری۔
ایک کرچیوں بھری آواز پورے کمرے میں گونجی۔
خون پھوٹ نکلا۔

مائد خان دورانی کا اگے بڑھنا اب ناگزیر تھا۔
وہ دوڑتا ہوا زیغم کی طرف لپکا اور اسے اپنی باہوں میں بھر لیا۔
اسی لمحے ڈاکٹرز نے زخمی رفیق کو سنبھالا اور فوراً سائیڈ پر لے گئے۔

رفیق کا سر پھٹ چکا تھا… مگر پھر بھی رفیق اپنے مالک کے ٹھیک ہونے پر خوش تھا اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
اور زیغم سلطان کے چہرے پر اب بھی غصے کی روشنی جھلک صاف دکھائی دے رہی تھی۔
“آااااااہ۔۔۔!”
زیغم سلطان کی دھاڑ نے کمرے کی دیواریں ہلا دیں۔
ڈاکٹرز ٹھٹک کر رک گئے۔
رفیق کی سانس اٹک گئی۔

“چھوڑو مجھے!”
وہ پھر سے دھاڑا۔
“کیسے چھوڑ دوں؟”
مائد خان کی آواز میں لرزش تھی۔
“پہلے گلے سے تو لگا لینے دو… چھوڑ نہیں سکتا میں، میرے جنگلی شیر!”
وہ بےاختیار اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا۔
مائد کے چہرے پر وہ خوشی تھی جو شاید لفظوں میں قید نہیں کی جا سکتی۔
وہ اسے اپنے بازوؤں میں بھرے،
محبت، دوستی، دیوانگی کے جنون میں اس طرح چور تھا،جیسے اردگرد کی دنیا مٹ چکی ہو۔اس کی خالص محبت ایسے تھی ،جیسے کوئی باپ برسوں بعد اپنے بیٹے کو سینے سے لگاتا ہے،
جیسے کوئی ماں اپنے بچے کے چہرے پر بوسہ دیتی ہے
جیسے کوئی بھائی، اپنے بھائی کی پیشانی کو چوم کر،ساری دوری مٹا دیتا ہے۔
مائد خان دورانی پیارے دوست زیغم کے چہرے، اس کے بازو، اس کے سر،
اس کے سینے پر جھکتا، چومتا، تھپتھپاتا،
بس خوشی میں اتنا گم ہو چکا تھا
کہ اُسے خود یہ نہیں معلوم تھا وہ کہاں کہاں اپنے جذبات کا اظہار کر رہا ہے۔

آئی سی یو روم کا ماحول تھم چکا تھا۔
ڈاکٹرز، نرسز، اور وہ رفیق…
جس کے ماتھے سے اب بھی خون بہہ رہا تھا،سب کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔
یہ لمحہ عام نہ تھا…
یہ محبت تھی… ایک دوست کی اپنے بچھڑے دوست کے لیے دیوانگی۔

“میری بیٹی کہاں ہے؟”
زیغم نے مائد کو خود سے تھوڑا سا پرے کرتے ہوئے بےچینی سے پوچھا۔
آنکھیں سرخ تھیں،
چہرے پر عجیب سی تھرتھراہٹ اور سوال کی تیزی صاف جھلک رہی تھی۔

“ارمیزہ بالکل ٹھیک ہے،”
مائد نے نرمی سے تسلی دی،
“ہمارے گھر پر ہے، دانیا کے پاس… مکمل محفوظ ہے۔”

مگر زیغم کا اگلا سوال…
اس کی آہٹ بھی مائد خان دورانی کے چہرے پر نظر آنے لگی تھی۔

اس کی پیشانی پر الجھن اور آنکھوں میں ایک خاموش ڈر سا آ چکا تھا۔

“او۔۔۔ اور۔۔۔ مہرو…؟ وہ کیسی ہے؟”
زیغم کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
چھ مہینے کی بے ہوشی بھی وہ محبت چھین نہ سکی تھی۔
اس کی آنکھوں میں صرف فکر تھی،
اور ایک نام… مہرو۔
“خاموش کیوں ہو؟!”
زیغم سلطان دھاڑا۔
“میں نے پوچھا ہے، مہرو کہاں ہے؟! وہ ٹھیک ہے نا؟”
الفاظ ٹوٹ رہے تھے،
سانسیں لرز رہی تھیں،
مگر وہ بولے جا رہا تھا۔
” جواب دو کیا سانپ کیوں سونگ گیا ہے ؟”
اس کی آواز میں ایک خالی پن تھا، جیسے اندر کہیں کچھ ٹوٹ رہا ہو،غلط ہونے کا اندیشہ ہو رہا تھا ۔
چیخیں… غصہ… اور درد…
سب مل کر اسے بے قابو کر رہے تھے۔
اس کے سینے سے اٹھنے والی آواز،
اب کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھی۔

“زیغم… آرام کرو،”
مائد نے نرمی سے اس کے کندھوں کو تھام کر بیڈ پر لٹانے کی کوشش کی،
“اتنا غصہ ،تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے، پلیز لیٹ جاؤ۔”

مگر زیغم سلطان کی آنکھوں میں آگ دہک رہی تھی۔”دور ہٹو مجھ سے!”
اس نے دونوں ہاتھوں سے مائد کو پیچھے دھکیل دیا۔
“اور یہ بہلاوا تم کسے دے رہے ہو؟ بچہ نہیں ہوں میں!میں نے پوچھا ہے، مہرو کہاں ہے؟ مجھے صرف… صرف اسی سوال کا جواب چاہیے!”
وہ غرایا، دھاڑا، اور لڑکھڑاتا ہوا خود ہی گرنے لگا۔
مائد تیزی سے آگے بڑھا اور اسے سنبھالا۔
“مجھ پر رحم کھانے کی ضرورت نہیں ہے!”
اس کی آواز کانپ رہی تھی،
“جانتا ہوں ان لوگوں نے میرے سر پر وار کیا… مگر اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔”
“زخم بھرنے میں تھوڑا وقت لگے گا،”
“مگر جو زخم میرے دل پر لگے ہیں… وہ کبھی نہیں مٹیں گے۔”
وہ ہانپ رہا تھا،
آنکھوں میں جلتی ہوئی قسمیں،
لبوں پر لرزتی دھمکی تھی۔

“اب توقیر اور شہرام کو ایسی سزا دوں گا…
کہ ان کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی!”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
مائد نے چونک کر زیغم کی طرف دیکھا۔
ڈاکٹر بھی ششدر کر رہ گئے۔

“زخم بھرنے میں تھوڑا وقت لگے گا؟”
یہ سن کر دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔

زیغم سلطان ابھی تک اسی دن میں جی رہا تھا،جب اس پر حملہ ہوا تھا۔جب وہ گرا تھا۔جب وہ بے ہوش ہوا تھا۔
حالانکہ…
چھ مہینے گزر چکے تھے۔
مگر اس کے اندر وقت وہیں تھما ہوا تھا ،
اس کے لیے زخم آج کے تھے،
دھوکہ تازہ تھا،
اور بدلہ… ادھورا۔اس سے تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ چھ مہینے تک وہ زندگی اور موت کے بیچ میں جھولتا رہا ہے۔

“زیغم، تم آرام کرو…”
مائد نے آہستگی سے کہا،
“جب تم مکمل ٹھیک ہو جاؤ گے، تب اس موضوع پر بات کریں گے۔”
اس کے پاس اور کچھ کہنے کو نہیں تھا۔

مگر زیغم کے اندر طوفان مچ چکا تھا۔
اس کی آواز میں دکھ، طیش اور مایوسی ایک ساتھ تھی۔
“مرا نہیں ہوں میں!”
“زندہ ہوں… اور ہوش میں بھی ہوں۔”
“مجھے بچہ سمجھ کر بہلانا بند کرو، مائد!”

اس کی آنکھوں میں سرخی اتر آئی تھی،
“شریف تھا… کمزور نہیں!”
“مگر لوگوں نے میری شرافت کو میری کمزوری بنا دیا۔”
“میں نے معاف کیا، اور بدلے میں کیا ملا؟””میری ہی معافی میرے گلے کا طوق بن گئی!”
“آج… آج مجھے یقین نہیں رہا کہ معاف کرنے والا واقعی اعلیٰ ظرف ہوتا ہے۔”
“انہوں نے مجھے… مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا، مائد!”
وہ لرزتی سانسوں کے ساتھ چلا رہا تھا،
” میں پہلے ہی بہت تکلیف میں ہوں خدا کا واسطہ ہے ،اب تم مجھ پر ترس کھانا اور مجھے بہلانا بند کرو…
جو پوچھ رہا ہوں… صرف اُس کا جواب دو!”
مائد خاموش رہا، چند لمحے…
پھر جیسے ضبط کی دیوار گر گئی۔

“اللہ نہ کرے… اللہ نہ کرے کہ تمہیں کچھ ہو!”
“منہ سے اچھے الفاظ نکالو، زیغم!”
“ان چھ مہینوں میں… مر تو ہم گئے تھے!”
“مرد تو تمہاری بہن گئی تھی… لمحہ لمحہ، یہی سوچ کر جیتی رہی کہ پتہ نہیں تم کبھی ہوش میں آؤ گے یا نہیں۔”
اس کی آواز بھر آئی تھی۔

“تم تو سوچ بھی نہیں سکتے، زیغم…
کیسا وقت تھا وہ… کیسا خوفناک لمحہ!”
زیغم کی آنکھیں پھیل گئیں، جیسے وقت تھم گیا ہو۔

“کیا… اااااا…”
“میں… میں چھ مہینے تک بے ہوش تھا؟”
“مطلب… اس حادثے کو چھ مہینے ہو گئے…؟!”
اس کے چہرے پر صدمہ پھیلتا گیا،
ایسا صدمہ… جو دل سے شروع ہو کر آنکھوں تک پھیل رہا تھا۔

“ہاں، زیغم… تم چھ مہینے بعد ہوش میں آئے ہو…”مائد نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
آواز میں محبت بھی تھی، نرمی بھی…
اور تھکن… جو لفظوں کے بیچ جھلک رہی تھی۔
“یہ چھ مہینے کیسے گزرے ہیں ۔ صرف ہم جانتے ہیں۔””خدارا، خود پر رحم کرو… خود کو سکون دو…””تم ہماری جان ہو، زیغم… بہت قیمتی ہو!”
مگر زیغم سلطان کے دل میں جیسے کسی نے خنجر رکھ دیا تھا وہ تو کچھ اور ہی سوچے جا رہا تھا ۔۔۔
“مائد…”
“بس ایک بات بتا دو…”
“مہرو کہاں ہے؟”
اس کی آنکھوں میں نمی ابھر آئی۔
“کیا وہ… ٹھیک ہے؟”
“بس یہ بتا دو!”
وہ تھوڑا آگے جھکا، مائد کے ہاتھوں کو تھام لیا،”اگر وہ ٹھیک ہے… تو تمہاری قسم، میں ایک لفظ نہیں بولوں گا…”
“خاموشی سے بیٹھ جاؤں گا… تم جو کہو گے، وہی کروں گا…”
اس کا گلا رندھ گیا۔
“بس… مہرو کے بارے میں بتا دو…”
“میرے دل میں عجیب سے وسوسے آ رہے ہیں… دل… ڈر رہا ہے، مائد!”

کمرے کی فضا بوجھل ہو گئی تھی۔
اب مائد کے لیے سچ چھپانا ممکن نہیں رہا تھا۔
اس کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
زیغم کے ہوش میں آنے کے بعد…
یہ سوال،
اور اس کا جواب…
ٹل نہیں سکتا تھا۔
زیغم کو اس لمحے سے گزارنا…
یہ وہ وقت تھا، جس کے لیے مائد خود کو روز تیار کرتا آیا تھا۔
وہ گہری سانس لے کر زیغم کے قریب آیا۔آہستہ سے ایک ہاتھ زیغم کے کندھے پر رکھا۔
“زیغم…”

زیغم کی پلکیں لرزنے لگیں۔
جیسے دل کو پہلے ہی جواب کا اندازہ ہو چکا ہو۔
“میں نے مہرو بھابی کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی زیغم… مگر… مگر میں ناکام رہا…”
مائد کے الفاظ رک رک کر نکل رہے تھے۔
“ان کا… کوئی سراغ نہیں ملا… نہ ہی توقیر اور شہرام کا کوئی پتہ…”
وہ آہستہ آہستہ دونوں ہاتھ جوڑتا، زیغم کے سامنے جھک گیا۔
“معاف کر دینا زیغم…”
زیغم جیسے لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو گیا ہو ،پھر اچانک…اس کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا۔”کیا مطلب ہے کہ تم… ڈھونڈ نہیں سکے؟”
“مطلب… کہ مہرو… محفوظ نہیں ہے؟”
“مطلب کہ… وہ تمہارے پاس نہیں ہے؟”
اس کے لہجے میں زلزلہ تھا،
سانسیں پھولی ہوئی،
آواز ٹوٹتی ہوئی ۔ لیکن زہر میں بجھی۔
“وہ کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟”
“پچھلے… چھ مہینے… تمہیں اس کی کوئی خبر نہیں!”
زیغم کے الفاظ ٹوٹتے جا رہے تھے،مائد نے نظریں جھکائے نفی میں سر کو ہلایا۔۔

“اوہ مائی گاڈ!”زیغم سلطان نے دونوں ہاتھی سے اپنا سر تھام لیا۔۔
مائد نے بےقراری سے اس کا بازو تھامنا چاہا،
“زیغم… میری بات سنو…”
“مجھ سے دور رہو!”
زیغم دھاڑا ،،،”پیچھے ہٹو… اور مجھے جانے دو!”
“اگر کسی نے بھی مجھے روکا، میں… جان لے لوں گا! مجھے مہرو کو ڈھونڈنا ہے۔”

وہ پاگلوں کی طرح دروازے کی طرف بھاگا ۔نہ پاؤں میں چپل،نہ جسم میں طاقت،صرف ایک جنون تھا۔

مائد نے لپک کر اسے روکا
زیغم نے زور سے اسے دھکا دے دیا
دونوں گتھم گتھا ہو گئے
مگر… زیغم کا جسم اتنا کمزور تھا
کہ خود ہی لڑکھڑاتا ہوا زمین پر گرنے ہی والا تھا۔مائد نے فوراً ڈاکٹر کو اشارہ کیا،
دوسرے لمحے ہی ۔
زیغم کو نیند کا انجیکشن لگا دیا گیا۔

وہ… مائد کی باہوں میں ہی جھول گیا تھا،
اور مائد نے ٹوٹتے ہوئے دل کے ساتھ
اسے آہستہ سے ہیڈ پر لٹا دیا۔

“مسٹر مائد…”
ڈاکٹر کی آواز سنجیدہ تھی،
“یہ نیند کا انجیکشن ان کے لیے خطرناک ہے۔ ان کا ہوش میں آ جانا ایک کرشمہ ہے۔ ہزار میں دو مریض ایسے ہوتے ہیں۔ ہمیں تو امید بھی نہیں تھی…”

“ہمیں احتیاط کرنی ہو گی، بار بار یہ انجیکشن دینا ان کے لیے جان لیوا ہو سکتا ہے۔”
“اور یاد رکھیے… سر کی چوٹ کے اثرات ابھی مکمل ختم نہیں ہوئے۔ ماضی کی تلخ یادیں، دھوکہ، غصہ… یہ سب کچھ اب بھی ان کے دماغ پر سوار ہے۔ یہ کسی بھی وقت خود پر قابو کھو سکتے ہیں۔”

مائد خاموشی سے سنتا رہا،
چہرے پر اداسی اور تھکن کا رنگ گہرا ہوتا جا رہا تھا۔
“ڈاکٹر، فکر نہ کریں۔ میں سب سنبھال لوں گا۔”
“بس آپ تھوڑا تعاون کریں، میں زیغم کو اپنے گھر لے جانا چاہتا ہوں۔”

“ہم اجازت دے سکتے ہیں…”
ڈاکٹر نے لمبی سانس لی،
“مگر یاد رکھیے، انہیں مکمل نگرانی کی ضرورت ہے،ایک ٹرینڈ نرس، اور ایک ڈاکٹر 24 گھنٹے کے لیے۔”

“جی جی، جو بھی آپ ریکمنڈ کریں گے میں سب کا بندوبست کر لوں گا۔”
ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلایا۔

“آپ بےشک ابھی لے جائیں… مگر یہ مت بھولیے گا کہ ان کا دماغ… اب بھی جنگ کی حالت میں ہے۔”

مائد نے ڈاکٹر کی اجازت لے کر جلدی سے انتظام کیا اور زیغم کو ایمبولینس میں شفٹ کروایا۔
سپیشل ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف کے ساتھ،
وہ گھر کی جانب روانہ ہو گئے۔
زیغم بے ہوش تھا،مگر مائد جانتا تھا
کہ اصل جنگ تو زیغم کے ہوش میں آنے کے بعد اب شروع ہوگی۔۔۔

ایمبولینس شہر کی سڑکوں پر رفتار سے بھاگ رہی تھی،
مگر اندر وقت جیسے ٹھہرا ہوا تھا۔

زیغم بے ہوش،ایک چپ سا سکوت،
اور اس کے پہلو میں بیٹھا مائد ،
آنکھیں بند، پیشانی پر شکنیں،
دل کسی انجانی آندھی کے خوف میں لرزتا ہوا۔ دل میں سوالوں، اندیشوں، اور ان کہے خوف کا ریلا تھا۔
چھ مہینے بعد،
دوست نے آنکھیں تو کھول دیں ،
مگر اس کے زیغم کے لیے وقت جیسے وہیں اٹکا رہ گیا تھا۔
اس کی آنکھوں میں جو طوفان تھا،
وہ صرف آنے والے طوفان کی دستک تھی۔مائد کو زیغم کے جنون سے اس کے غصے سے خوف آ رہا تھا۔۔۔کیونکہ جس طرح سے وہ ہاسپٹل میں بے قابو ہوا آگے کیا کرے گا اس کا جواب بہت مشکل تھا۔
مگر اس سب کے باوجود مائد اس کے ساتھ ایمبولنس کے اندر صرف اس لیے بیٹھا تھا کیونکہ مائد کو کسی پر بھروسہ نہیں رہا تھا ۔
نہ ڈاکٹروں پر،
نہ حالات پر،
اور شاید… خود پر بھی نہیں۔
“مجھے ہر حال میں زیغم کو سنبھالنا ہے…
چاہے خود بکھر کیوں نہ جاؤں۔
وہ خود سے وعدہ کر رہا تھا۔۔
°°°°°°°°°°

دانیہ جائے نماز پر بیٹھی، دعائیں مانگتے ہوئے اپنے رب کے آگے سجدہ ریز تھی۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس کی آنکھوں میں نیند نہیں آئی۔ زبان پر صرف اپنے بھائی کے لیے دعائیں تھیں۔ اس کے کانوں میں یہ الفاظ گونج رہے تھے کہ آج کی رات، فیصلے کی رات ہے۔ وہ اپنے رب سے صرف زیغم کی زندگی مانگ رہی تھی۔ ستر ماؤں جتنا پیار کرنے والا رب، اس کی دعائیں سن چکا تھا، مگر اس بات سے وہ ابھی تک بے خبر تھی۔

فجر کی نماز سے تو وہ کب سے فارغ ہو چکی تھی،مگر جائے نماز سے اٹھنے کا اس کا دل نہیں کر رہا تھا۔مائد کے فون کا انتظار کیے جا رہی تھی۔۔۔
“اے اللہ کوئی اچھی خبر سننے کو ملے۔مائد نے ابھی تک فون کیوں نہیں کیا کیا ہوا ہوگا وہاں۔۔ وہ دل میں سوچے جارہی تھی… دعاؤں کی تسبیح جاری تھی…

جائے نماز پر بیٹھی سوچوں کی کشمکش تھی کہ باہر مین گیٹ سے کچھ آوازیں آنے لگیں۔ وہ بے اختیار کھڑکی کی طرف بھاگی اور جا کر پردہ ہٹایا۔ لیکن جیسے ہی نظر ایمبولینس پر پڑی، جو گیٹ سے اندر آ رہی تھی… لمحہ دل چیر دینے والا تھا۔

دانیہ کی سانس رکنے لگی، آنکھوں کے سامنے اندھیرا جانے لگا تھا۔

“ننن… نئی… نہیں! نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا… اللہ میاں، ایسا نہیں ہو سکتا! میں مر جاؤں گی اللہ میاں!”
“زیغم بھائی کو کچھ نہیں ہو سکتا… اللہ جی، میں نے اتنی دعائیں مانگیں، کیا آپ کو میری ایک بھی دعا پسند نہیں آئی؟”
“کیا آپ نے ایک بھی دعا بارگاہ میں قبول نہیں کی؟ اللہ میاں، میرے پاس کچھ بھی تو نہیں ہے… سوائے زیغم بھائی کے! یہ کیا ہو گیا… ایسا نہیں ہو سکتا… ایسا نہیں ہو سکتا!”

وہ روئے جا رہی تھی۔ اس کا وجود کانپ رہا تھا۔ وہ خود سے باتیں کر رہی تھی،
کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ ایمبولینس میں زیغم کی لاش لائی گئی ہے۔ کب وہ لڑکھڑائی اور کب لڑکھڑائی اور زمین پر گر گئی پتہ ہی نہیں چلا۔
اور دوسری جانب، مائد یہ خوشخبری دانیہ کو سنانا چاہتا تھا کہ اس کا بھائی ہوش میں آ چکا ہے۔ صرف ہوش میں نہیں آیا، بلکہ شیر کی دھاڑ نے پل بھر میں ہاسپٹل کے اندر خوف کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ وہ تو اُسے سرپرائز دینا چاہتا تھا۔

مائد زیغم کو عملے اور ڈاکٹر کے ہمراہ اُس کمرے میں لے جا رہا تھا جو گھر کے پچھلے حصے میں بطور گیسٹ ہاؤس بنایا گیا تھا۔ یہ سب زیغم کی سیکیورٹی کے لیے کیا جا رہا تھا تاکہ نہ وہ کسی کو نقصان پہنچائے، نہ خود کو، اور اُسے بالکل ہاسپٹل جیسا ماحول بھی ملے۔
آغا جان اور مورے کو پہلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا، اس لیے روم تیار کروا دیا گیا تھا۔ زیغم ابھی تک بے ہوش تھا۔ مورے اور آغا جان بھی گیسٹ ہاؤس کے گیٹ پر ہی کھڑے تھے۔ زیغم کو بیڈ پر لٹا دیا گیا اور ڈاکٹر اور میل سٹاف کو اس کے پاس چھوڑ کر مائد آغا جان اور مورے کی جانب بڑھا۔
“بہت مبارک ہو، … بہت بہت مبارک ہو! اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ زیغم ہوش میں آ گیا!”
مورے نے مائد کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔ آغا جان نے بھی مبارکباد دیتے ہوئے اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔
“خیر مبارک! آپ کو بھی بہت بہت مبارک ہو… بس اللہ تعالیٰ نے ہم سب کی دعائیں سن لیں، خاص کر اُس کی بیٹی کی…اور بہن کی۔
“خوش دلی سے مبارک باد وصول کرتے ہوئے،
مائد نے ارد گرد نظریں دوڑا کر پوچھا، ” دانیہ… اور ارمیزہ … زانیہ کہاں ہیں؟”

“بیٹا، تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ تم دانیہ کو سرپرائز دینا چاہتے ہو، اس لیے ہم نے دانیہ کو کچھ نہیں بتایا۔اور ارمیزہ کو ابھی تک سو رہی تھی ہم نے جگایا نہیں۔”
مورے نے بھی بات مکمل کی،
“آپ نے بہت اچھا کیا… اب میں خود اُنہیں یہ سرپرائز دوں گا، اور اُن کے چہرے پر آنے والی خوشی کو دیکھنا چاہوں گا۔”
مائد مسکراتے ہوئے گھر کے اندرونی حصے کی جانب آغا جان اور مورے کے ساتھ آگے بڑھ گیا تھا۔

“بیٹا، تم جاؤ دانیہ کے پاس۔پہلے اس کو خوشخبری سناؤ بہت روئی ہے وہ اپنے بھائی کے لیے۔ارمیزہ کو ابھی کچھ دیر سونے دو۔ جب وہ خود سے اُٹھے گی، تب اُسے یہ خوشخبری سُنانا۔”
آغا جان نے نرمی سے کہا۔
“جی ٹھیک ہے ..”مائد نے با ادب بیٹے کی طرح حکم مان لیا..”

“ہم ذرا شکرانے کے نفل ادا کر کے آتے ہیں….. آغا جان کہتے ہوئے مورے کے ہمراہ شکرانے کے نفل ادا کرنے کے لیے اپنے کمرے میں چلے گئے۔
زیغم اُن کے لیے صرف بیٹا نہیں، بلکہ بیٹے سے بڑھ کر تھا۔ اسی لیے اُس کی جان کی سلامتی پر اللہ کے حضور شکر ادا کرنا اُن کو خود پر فرض لگ رہا تھا۔

مائد خوشی خوشی اپنے کمرے کے اندر داخل ہوا تھا، مگر جیسے ہی اس کی نظر دانیہ پر پڑی، قدم جیسے زمین سے چمٹ گئے۔
کھڑکی کے پاس… زمین پر…
دانیہ… بے سدھ پڑی تھی۔

“دانیہااااا۔۔۔!!”
اس کے حلق سے نکلنے والی چیخ کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر آسمان تک پہنچی۔

آغا جان اور مورے، جو اپنے کمرے کی طرف جا رہے تھے، یہ چیخ سنتے ہی تیزی سے واپس پلٹے۔

“دانیہ! دانیہ ہوش میں آؤ… دانیہ!”
مائد گھٹنوں کے بل بیٹھا، اس کے گال تھپتھپا رہا تھا۔
“کیا ہوا تمہیں؟ دانیہ، آنکھیں کھولو…!”
آواز میں بے بسی تھی، آنکھوں میں ہلچل۔
وہ جلدی سے اسے باہوں میں اٹھاتا ہے، بیڈ پر لٹاتا ہے، اور سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھا کر ٹھنڈا پانی اس کے چہرے پر چھینٹنے لگتا ہے۔

ایک ہلکی سی جنبش…
دانیہ کی پلکیں لرزیں…
سانس گہری…
اور نگاہیں مائد پر ٹھہر گئیں۔

مورے اور آغا جان دروازہ پھلانگتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔

“کیا ہوا بیٹا؟ دانیہ کو کیا ہوا ہے؟”
آغا جان کا لہجہ لرز رہا تھا۔
“پتا نہیں… میں آیا تو یہ ایسے ہی بے ہوش پڑی تھی!”
مائد نے ایک ہی سانس میں کہا، سانس جیسے اٹک گیا ہو۔
“اللہ خیر… اللہ خیر کرے… یا اللہ رحم فرما!”
مورے نے دوپٹے سے آنکھیں پونچھتے ہوئے، دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے اور تیزی سے دانیہ کے قریب ہوئیں۔

دانیہ اب بھی مائد کو حیرانی، کمزوری اور بے یقینی سے دیکھ رہی تھی… جیسے کچھ پوچھنا چاہتی تھی،مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہی ہو، دانیہ؟”
مائد اس کی نظریں دیکھ کر ساکت رہ گیا۔
“کیا ہوا؟ تم بے ہوش کیسے ہو گئی تھی؟ میری طبیعت تو ٹھیک ہے…”
دانیہ کی آنکھوں میں بس خاموش چیخیں تھیں… وہ سوال جو زبان پر آنے سے پہلے ہی آنسوؤں میں بہہ رہے تھے۔۔

مگر سب کو جھٹکا تب لگا، جب وہ زور زور سے رونے لگی۔
وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور مائد کے گریبان کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا، جیسے اس کے الفاظ بھی گریبان سے لپٹے ہوں۔
“ز۔۔ز۔۔زیغم بھائی کو… ک۔۔کیا ہوا ہے؟”
“میں نے ایسے تو نہیں کہا تھا کہ بھائی کو اس حالت میں لے کر آؤ!”
“میں پوری رات سجدوں میں گری رہی، دعائیں کرتی رہی… اور آپ…؟”
“ایسے کیسے لے آئے بھائی کو…؟”
وہ سسکیوں میں ٹوٹتی جا رہی تھی۔
آغا جان، مورے، اور مائد تینوں ہکا بکا تھے۔
کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ دانیہ کیا کہہ رہی ہے۔
“دانیہ بیٹا، ہوش میں آؤ… کیا بولے جا رہی ہو؟”
مورے نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر وہ تو کسی اور ہی کرب میں تھی۔

“ایک منٹ…” مائد نے دونوں ہاتھ اٹھا کر سب کو چپ کروایا،
“میرے خیال سے دانیہ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔”
وہ دانیہ کے سامنے جھکا،
“دانیہ… تم نے کیا دیکھا؟ کس سے بات ہوئی؟ کسی کا فون آیا تھا؟”نرمی سے پوچھا ۔

“فون؟ فون نہیں آیا!”
“کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں تھی میں نے، میں نے خود دیکھا!”
“آپ زیغم بھائی کو ایمبولینس میں لے کر آئے تھے!”
“اور آپ سب… مجھ سے چھپا رہے ہو!”
وہ ہچکیوں کے ساتھ چلّا رہی تھی،
“اب کیا رہ گیا ہے کہنے کو؟ میں سب سمجھ گئی ہوں!”

“اوہ میرے خدا…”
مائد نے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ آغا جان اور مورے کی آنکھوں میں بھی حیرت تیر گئی۔
“دانیہ… تم بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہو گئی ہو۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔”مائدنے نرمی سے کہا ۔۔

“مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی!”
“اور خبردار جو مجھ سے کچھ چھپانے کی کوشش کی!”
“میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے!”
اس کے ہاتھ اب بھی مائد کے گریبان پر تھے، اور وہ اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وہی مجرم ہو۔۔۔
مائد نے دانیہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے،
” جاناں ،زیغم بالکل ٹھیک ہے۔!”
“تمہاری قسم کھا کر کہتا ہوں، وہ بالکل محفوظ ہے۔”
دانیہ کی آنکھوں میں امید کی ہلکی سی رمق چمکی۔
“س۔۔سچ بول رہے ہو؟”
آواز لرز رہی تھی۔
“بالکل سچ۔”
مائد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“میں تم سے کبھی بھی جھوٹ نہیں بول سکتا…۔”

“پھر… ایمبولنس؟”دانیا کی نظروں میں اب بھی تجسس تھا۔
“کیونکہ تمہارا بھائی ہے…”
“ابھی بھی انجیکشن کی اثر میں ہے،غصے کی شدت میں اس کا ں خود پر قابو نہیں رہتا، دماغ کی چوٹ کی وجہ سے ڈاکٹر نے بہت سخت ہدایت دی ہے کہ ہمیں ان کا بہت خیال رکھنا ہے اور ہاسپٹل سے بہترین ماحول دینا ہے۔۔ میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔”
“گاڑی میں آکسیجن، ڈاکٹر، سب کچھ موجود تھا… بس حفاظت کے لیے یہ کیا۔ اور تم نے سمجھا…”
“سوری… سوری… مجھے معاف کر دو!”
دانیہ نے چہرے پر ہاتھ رکھ لیے۔اسے خود پر شرمندگی بھی تھی اور اپنے بھائی کے ٹھیک ہونے پر بے تحاشہ خوشی ہوئی۔۔
“اللہ تیرا شکر ہے… تیرا ہزار بار شکر!”
“تو نے میری دعائیں سن لیں… میرے زیغم بھائی کو سلامت رکھا…”
وہ آنکھوں سے بہتے آنسو، چہرے پر ہاتھ ہتھیلیاں رکھے ہوئے چھپائے تھی۔
ہر لفظ میں شکر، ہر سانس میں زیغم کے لیے مزید دعائیں تھی۔۔
“بس بیٹا، اب رونے کا وقت نہیں۔”
آغا جان نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“اب شکرانے کے نفل پڑھو، ہم بھی پڑھ کر آتے ہیں۔ اللہ نے یہ کڑا وقت ہمارے صبر سے بدل دیا ہے۔”
مورے نے بھی نم آنکھوں سے دانیہ کو دیکھا، اور دونوں واپس پلٹ گئے… شکر ادا کرنے رب کے حضور۔وہ دانیا اور مائد کے کمرے کا دروازہ بند کر کے جا چکے تھے۔۔
“اب بس… رونا بند کرو جانا…”
مائد نے نرمی سے اُس کی ہتھیلیوں کو چہرے سے ہٹایا،
اور ہونٹوں سے لگا کر ایک خاموش سا بوسہ دے دیا۔
“ویسے… تم نے جو میرے ساتھ جو کیا، وہ ٹھیک نہیں تھا…”
اس کے لہجے میں شکوہ نہیں، بس ایک ٹوٹا سا مان تھا۔
“سوری… پلیز سوری، آپ ناراض مت ہونا۔ بس… غلطی ہو گئی، مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی۔ میں پاگل ہوں نا، مجھے سوچنا چاہیے تھا کہ خبر اچھی بھی ہو سکتی ہے۔”
دانیہ کی آواز نرمی سے لرز رہی تھی، اور آنکھوں میں شرمندگی تھی۔
مائد نے نظریں موڑ لیں، جیسے روٹھا ہو۔
“نہیں جانا، اب میں نہیں مانوں گا۔ میں تو ناراض ہو چکا ہوں۔”
“پلیز…”
دانیہ نے لجاجت سے ہاتھ تھام لیا۔
“کیا پلیز؟”
وہ مصنوعی خفگی سے بولا، پھر مسکراہٹ دباتے ہوئے اس کے قریب ہوا۔ماتھے سے ماتھا ٹکا لیا۔،
“اب چلو… پہلے تمہیں تمہارے بھائی سے ملواتا ہوں۔ سزا تو بعد میں سناؤں گا، اور معافی؟ وہ بالکل نہیں ملے گی۔”

اُس کے لہجے میں شرارت تھی، لیکن آنکھوں میں بے پناہ محبت۔پچھلے چھ مہینوں سے ان کی زندگی میں کوئی خوشی کے لمحات نہیں تھے۔پانچ چھ مہینے بعد ان کے چہروں پر لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔
وہ دانیہ کو اپنی باہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کچھ دیر محبت کے پر سکون لمحوں کی قید میں خاموش کھڑے رہے۔

“چلو میں تمہیں تمہارے پیارے بھائی جان کے پاس لے کر چلتا ہوں وہ اس کا ہاتھ تھامتے کمرے سے باہر نکلنے لگا ۔ ایک اطمینان، ایک سکون، ایک مسکراہٹ دونوں کے چہرے پر بکھری ہوئی تھی۔

جیسے ہی دانیہ کی نظر اپنے بھائی پر پڑی، اُس کے قدم ایک دم لڑکھڑا گئے۔ آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے، اور دل جیسے قابو سے باہر ہونے لگا۔
مائد کا ہاتھ تھامے، وہ دھیرے دھیرے کمرے میں داخل ہوئی ، قدم بوجھل ہو گئے تھے۔
“بھائی۔۔۔”
ایک ٹوٹتی ہوئی سرگوشی، جو پورے کمرے میں گونجی۔مائد نے ہاتھ کے اشارے سے ڈاکٹر اور میل سٹاف کو دوسرے روم میں جانے کا اشارہ کیا تھا وہ فوراً سے اٹھ کر چل دیا ہے۔۔۔
دانیہ نے زیغم کے قریب جا کر نرمی سے اپنے کانپتے ہاتھوں سے اس کے ہاتھوں کو تھام لیا۔۔۔
پھر پل بھر میں اُس کا سر زیغم کے سینے پر تھا، اور وہ بے قابو ہو کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔
“میں نے… میں نے اللہ سے مانگا تھا… ہر رات، ہر نماز میں… بھائی آپ کو شدت سے واپس مانگا … شکر ہے میرے اللہ نے آپ کو مجھے واپس لوٹا دیا ورنہ میں مر جاتی۔۔!”اس کی سسکیاں کمرے کی خاموشی کو چیر رہی تھیں۔

زیغم بے ہوش تھا، ورنہ وہ ضرور اپنی بہن کی نم آنکھوں کو دیکھ کر افسردہ ہوتا ، اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دیتا ،

مائد پیچھے خاموش کھڑا تھا۔ اُس کے لیے یہ منظر صرف ایک لمحہ نہیں، بلکہ ایک نعمت کا احساس تھا۔
آغا جان اور مورے دروازے کے قریب کھڑے، آنکھوں میں نمی اور لبوں پر شکر کا ورد لیے، صرف یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
یہ وہ لمحہ تھا جس کا سب نے خواب دیکھا تھا ، دانیہ کے آنسو، اور دعاؤیں اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو چکی تھی۔

بلاشبہ دعا محض التجا نہیں،
یہ ایک یقینِ کامل کا نام ہے ۔
ایسا یقین جو دل سے نکل کر ربِ کائنات کے حضور پیش ہو،
اور رحمتِ الٰہی کو متوجہ کر لے۔

جب بندہ دل شکستہ، مگر یقینِ محکم کے ساتھ مانگتا ہے،
تو رب کریم، جو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے،
کب انکار کرتا ہے؟
دانیہ کی سجدہ ریز آنکھوں سے بہتے آنسو،
اور مائد کی دل سے اٹھتی دعائیں ۔
شاید عرش کو ہلا گئیں۔
اور آج… زیغم اُن کے درمیان،
زندگی کی نوید بن کر واپس آ چکا تھا۔

یہ لمحہ ایک پیغام ہے،
جب اپنے رب سے مانگو، تو اس یقین کے ساتھ مانگو کہ وہ ضرور عطا فرمائے گا۔
اور جب عطا فرمائے، تو شکر اور ادب سے سجدے میں جھک جاؤ،
کہ وہی رب ہے جو دلوں کے حال خوب جانتا ہے،”اور وہی رب ہے جو دل کی بے زبان فریاد کو بھی شرفِ قبولیت بخشتا ہے۔”
°°°°°°°°°°
قدسیہ، اُس کا نیا داماد، اور نایاب… نہ جانے کمرے کے اندر کیا راز بُن رہے تھے۔ باہر، دروازے سے کان لگائے سلمیٰ کا دل سو کی رفتار سے آگے نکل چکا تھا۔ جب سے اُسے پتا چلا تھا کہ نایاب کسی امیر شخص سے تیسری شادی کر کے لوٹی ہے، اُس کا اندر جیسے سلگتے انگاروں پر تھا۔

اسے یہ خیال کھائے جا رہا تھا کہ اس کی بیٹی تو ابھی تک بیاہی نہیں گئی اور یہ… یہ نایاب چپ چاپ کسی بڑے کھیل میں قدم رکھ چکی ہے۔ اور کیا واقعی؟… قدسیہ، نایاب، اور ان کا نیا داماد کوئی بڑا کھیل کھیل رہے ہیں؟وہ سوچنے پر مجبور تھی۔۔۔
کمرےسے آوازیں آ رہی تھیں، مگر جملے ٹوٹے پھوٹے، دھندلے جیسے خواب ہوں۔ پھر ایک کرسی کے سرکنے کی آواز آئی اور اگلے ہی لمحے قدسیہ کی آواز اُبھری ۔
“بس بیٹا… تم جو کر رہے ہو، بالکل ٹھیک کر رہے ہو۔ سارا کھیل اگر ہاتھ میں رکھنا ہے تو قدم اسی ترتیب سے رکھنے ہوں گے۔ توقیر سائیں نے یوں ہی تو تمہیں منتخب نہیں کیا… کچھ تو خاص ہے تم میں، جو اپنی بیٹی تمہارے حوالے کر دی!”
آواز میں غرور تھا۔ فتح کا غرور۔

پھر اگلا وار اُس مرد کی آواز نے کیا، جس کا لہجہ کسی سازش کی گونج جیسا تھا،بے شک وہ قدسیہ کے داماد کی آواز تھی۔
“فکر نہ کریں… زیغم سلطان؟ کے ساتھ تو میرے پرانے حساب باقی ہیں۔ اب وہ ہوش میں آئے گا بھی یا نہیں، کہنا مشکل ہے… اور اگر آ بھی گیا، تو جو کچھ میں کر چکا ہوں، وہی اس کے ہوش اُڑا دینے کو کافی ہے۔”
سلمیٰ کے ہاتھ پسینے سے بھیگنے لگے۔ وہ زبان دانتوں تلے دبائے سوچ رہی تھی کہ اندر آخر کیا ہو رہا ہے؟ کوئی کاروباری سازش؟ کوئی وراثتی کھیل؟ یا کچھ اور…؟

مگر اُس کی سوچ کی کڑی ٹوٹی جب کسی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔

وہ ہڑبڑا کر مڑی۔ دل جیسے حلق میں آ گیا۔ مگر سامنے اس کی اپنی بیٹی رومی کھڑی تھی۔ چہرے پر الجھن، لیے۔

“پاگل ہو گئی ہو کیا؟ جاؤ اپنے کمرے میں۔ ڈرا دیا تم نے!”سلمہ نے اس پر خفگی ظاہر کی۔
“تو ایسی حرکتیں کیوں کرتی ہیں، جن سے ڈرنا پڑے؟ دوسروں کے کمروں میں کان لگا کر سننا، یہ حرکتیں چھوڑ دیں، پلیز!”رومی نے سپاٹ لہجے میں کہا،

قدسیہ نے اسے گھورتے ہوئے انگلی ہونٹوں پر رکھ دی، “شششش! تمہیں اندازہ بھی نہیں… اندر کیا کچھ پک رہا ہے۔”
رومی نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، “تو میں کیا کر سکتی ہوں؟”
سلمہ اس پر پھٹ پڑی، “اگر تم ایسے ہی لاپرواہ رہی تو سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا، اور ہم روڈ پر آ جائیں گے!”

رومی نے پُرسکون انداز میں کہا، “الحمدللہ، میں اتنا کما لیتی ہوں کہ ہم اپنا گزارا آرام سے کر سکتے ہیں۔
یہ بات سلمہ کو اندر تک لگا گئی۔

“کیا مطلب؟ یہ جائیداد ایسے ہی چھوڑ دوں؟ کیوں؟ یہ سب کچھ میرے بھی باپ کا ہے… میرا پورا حق ہے! اور میں، میں مر کر بھی اپنا حصہ لیے بغیر نہیں چھوڑوں گی!”سلمہ نے بھڑکتے لہجے میں کہا۔اس کے چہرے کے زاویے ایسے تھے جیسے سچ میں اس کا حصہ چھن چکا تھا۔۔

“اماں … میں بہت تھکی ہوں، اور اس وقت نہ لڑائی کر سکتی ہوں، نہ سازش۔ پلیز کچھ کھانے کو دے دیں، سونا ہے۔”

“ہاں، تم تو بس ہاسپٹل سے آ کر سوتی ہی رہتی ہو۔نہ اپنی فکر ہے نہ میری۔ چلو دیتی ہوں کچھ کھانے کو…”سلمہ نے اس کی لاپرواہی سے چڑھتے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ چل پڑی۔۔۔

مگر سچ تو یہ تھا کہ سلمہ کے اندر ایک آتش فشاں دہک رہا تھا… غصہ، بے بسی اور تجسّس کی آنچ میں۔
یہ غصہ رومی کی لاپرواہی پر نہیں تھا ۔ بلکہ اس بات پر تھا کہ وہ پوری بات سن نہ سکی۔
ہر ادھوری سرگوشی، ہر ٹوٹا ہوا جملہ، اس کے دل میں وسوسوں کی ایک بھیانک دیوار اٹھا رہا تھا۔
کچھ تو چل رہا تھا… کوئی بڑی بساط بچھائی جا چکی تھی…
اور جو باتیں اس نے سنی تھیں، اُن سے اتنا تو واضح ہو گیا تھا کہ نایاب، شہرام، قدسیہ…توقیر یہ سب ایک ہی دھاگے سے بندھے ہیں۔
مگر اس دھاگے کا سرا کہاں ہے… یہ جاننے کے لیے وہ اب کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھی۔

“دل میں اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے ارادے لیے، اور نگاہوں میں کسی ان دیکھے مقصد کی گہرائی لیے، سلمہ کچن کی سمت بڑھ گئی۔ ہر قدم پر جیسے کوئی نیا منصوبہ تشکیل پا رہا ہو۔ جبکہ رومی، دنیا کے جھمیلوں سے بے نیاز، فریش ہونے کی غرض سے خاموشی سے اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔”
°°°°°°°°°
رات بھر، فیصل، ڈاکٹر زرام کا نمبر ٹرائی کرتا رہا،
مگر فون مسلسل بند جا رہا تھا۔
یہ پہلی بار تھا کہ ،زرام، اس طرح غائب تھے۔ اسپتال کی راہداری میں،
،فیصل، بےچینی سے بیٹھا تھا،
آنکھیں بار بار دروازے کی سمت اٹھتیں۔
دروازہ کھلا،،ڈاکٹر رومی، اندر داخل ہوئیں،
،فیصل، کی نظریں فوراً ان پر جا رکیں۔وہ تیز قدموں سے اٹھ کر اس کے قریب جا کھڑا ہوا اس کی بے چینی اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی۔
“السلام علیکم۔
وعلیکم السلام، ڈاکٹر رومی۔ آپ بتا سکتی ہیں کہ آج ڈاکٹر زرام اسپتال کیوں نہیں آئے؟”
ڈاکٹر رومی، نے گہرا سانس لیا،
آنکھیں ایک لمحے کو بند کیں ۔چہرے پر الجھن تھی، اور لبوں پر خاموشی کی مہر۔
“بتانے کو بہت کچھ ہے،
مگر سمجھ نہیں آ رہا… کیسے بتاؤں۔”
آواز مدھم تھی،
،فیصل، کا دل جیسے سینے میں دھڑکنا بھول گیا ہو،وہ ایک قدم آگے بڑھا،
آواز میں بے بسی چھلک رہی تھی۔ایک سیکنڈ میں اس کے دل میں نہ جانے کتنے برے خیالات سوچ لیے تھے۔۔

“پلیز… آپ مجھے پہیلیاں مت سنائیں،
میں رات سے بہت پریشان ہوں۔
،زارم، کا فون مسلسل بند جا رہا ہے،
اور وہ ایسا کبھی نہیں کرتا۔
آپ کو جو بھی پتہ ہے،
براہِ کرم مجھے بتا دیں…
تاکہ میں سکون کا سانس لے سکوں۔”

،فیصل، کی آنکھوں میں امید اور دل میں بےچینی تھی،
اور سامنے کھڑی، ڈاکٹر رومی، کی خاموشی…
اس امید کو مزید کمزور کر رہی تھی۔
ڈاکٹر رومی، نے ،فیصل، کی بگڑتی حالت دیکھی تو جلدی سے بولی۔۔
“آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،
وہ بالکل ٹھیک ہیں۔
جیسا آپ سوچ رہے ہیں، ویسا کچھ نہیں۔
ریلیکس ہو جائیں۔”
،رومی، کے تسلی بخش لہجے نے جیسے ،فیصل، کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔
اس نے دل پر ہاتھ رکھا، گہری سانس لی، اور وہیں قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔

“اللہ تیرا شکر ہے…
پتہ نہیں میرے دماغ میں کیا کیا خدشے آ رہے تھے۔”چند لمحے خاموش رہ کر وہ دوبارہ مخاطب ہوا،
لہجہ اب بھی فکرمند تھا،
“مگر آپ کو یہ تو پتہ ہوگا،
کہ وہ فون کیوں نہیں اٹھا رہا۔؟
ان کا فون بند کیوں ہے؟”
“فون اس لیے بند ہے کیونکہ وہ ،ملیحہ، کو گھر واپس لے آئے ہیں۔
رات سے کمرے میں بند ہیں۔
ظاہر سی بات ہے، جھگڑا ہو رہا ہوگا…
اور جھگڑے میں کوئی تیسرا خلل نہ ڈالے،
اس لیے موبائل بند کرنا شاید ضروری ہو گیا ہوگا۔”
،رومی، نے جو کچھ کہا، وہ عام لوگوں کو کبھی نہ بتاتی…مگر سامنے ،فیصل، تھا۔
،ذرام، کا سب سے قریبی دوست۔
وہ دونوں ایک دوسرے کے راز دار تھے،
جن کی زندگی کی کوئی بھی پرت ایک دوسرے سے چھپی ہوئی نہ تھی۔
یہی وجہ تھی کہ ،رومی، نے حقیقت چھپانے کے بجائے بتانا بہتر سمجھا۔
ورنہ گھر کی بات باہر لے جانا…
،رومی، کی نظر میں یہ ہمیشہ ایک غیر اخلاقی حرکت سمجھی جاتی تھی۔

“کب ختم کریں گے یہ دونوں جھگڑا؟”
فیصل نے پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے بے بسی سے کہا۔
“دونوں کے دل میں محبت ہے،
دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے۔
پتہ نہیں کس بات کو انا کی دیوار بنا رکھا ہے…”
اس کی آواز میں اپنے دوست کے لیے تڑپ فکر شامل تھی۔
“مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی
کہ ان دونوں کے درمیان ایسی کیا وجہ ہے،جو زرام مجھے بھی نہیں بتاتا۔
آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس نے کبھی مجھ سے کوئی بات چھپائی ہو۔”
وہ ایک لمحے کو رکا،
آنکھیں جیسے کہیں دور گم ہو گئیں۔
“کیا ہے ایسا…
جسے وہ چھوڑ نہیں سکتا…
مگر تڑپ ضرور رہا ہے؟”یہ سوال فیصل خود سے کر رہا تھا جبکہ رومی خاموش نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

“خیر، آپ پریشان نہ ہوں، وہ ٹھیک ہیں…اور ہم ان کے لیے دعا گو ہیں۔
اِن انشاءاللہ ، تعالیٰ سب بہتر کرے گا۔”
رومی کے پاس اسے دلاسہ دینے کے لیے اس وقت اور کچھ نہ تھا۔

“اِن انشاءاللہ ۔۔۔بس اللہ تعالیٰ ان دونوں کو عقل دے
اور یہ اپنے رشتے کو بچا لیں،
ہماری تو یہی دعا ہے۔”
فیصل کہتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ چلتا جا رہا تھا۔رومی کے ساتھ والا کمرہ ہی اس کا کمرہ تھا۔
اسپتال کی راہداری سے مریض، نرسز اور دیگر اسٹاف گزر رہے تھے۔
چلتے چلتے، فیصل نے ذرا جھجکتے ہوئے پوچھا،
“ویسے ڈاکٹر رومی، ایک بات پوچھوں اگر مائنڈ نہ کریں؟
خیریت ہے؟ آپ آج اس وقت؟
جبکہ آپ تو نائٹ ڈیوٹی کر کے گئی تھیں۔”
اس کے لہجے میں جھجک نمایاں تھی۔
رومی سے بات کرتے ہوئے وہ ہمیشہ محتاط رہتا،
کیونکہ کوئی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کب اس کا میٹر گھوم جائے۔
“جی، اصل میں ایک پیشنٹ ہیں جو کافی دور سے آتے ہیں۔
انہیں مجھ پر بہت ٹرسٹ ہے۔
ایک دوست کی وہ امی ہیں،تو انہوں نے خاص طور ریکویسٹ کی تھی۔
کہ انہیں میں خود ہی دیکھوں۔”ہے رومی نے سنجیدہ مگر تمیزدار لہجے میں جواب دیا،

فیصل نے مسکرا کر سر ہلایا،
“ویری گڈ، یہی ہوتی ہے ایک اچھے ڈاکٹر کی پہچان،جو اپنے پیشنٹ کے ساتھ کیئرنگ کا رشتہ قائم رکھتا ہے۔”
وہ تعریف کرتے ہوئے انگوٹھا دکھاتا،
اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
جبکہ رومی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ
اپنے روم کی جانب جا رہی تھی،
مگر اس کے ذہن میں بےشمار سوچیں الجھی ہوئی تھیں۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ سیدھی اُس ٹیبل کی طرف بڑھی
جہاں پیشنٹس کی فائلیں رکھی تھیں۔
ایک ایک کر کے تمام لسٹ پر نظر دوڑائی،
پھر آہستگی سے اپنی گھومنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
جیسے ہی وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھی،
سوچوں کا شور ذہن میں گونجنے لگا۔

“پلیز، مالیحہ … اپنا رشتہ ٹھیک کر لو۔
ایک معمولی غلط فہمی کی بنیاد پر
تم لوگ ایک خوبصورت رشتہ برباد کر رہے ہو۔
میں کیسے بتاؤں کہ مجھے کتنا گلٹ ہے…
کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کسی کو بتا نہیں سکتی۔
تم نے قسم ہی ایسی دی ہے
کہ میں چاہ کر بھی کسی کو کچھ نہیں بتا سکتی۔”یہ سب کچھ وہ صرف اپنے ذہن میں کہہ رہی تھی…
درد بھرے دل کی آواز تھی جو لبوں تک آ نہیں پا رہی تھی۔…رومی نے آنکھیں بند کیں،اور کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا،

وہ قسم جو ،ملیحہ، نے زبردستی دلوائی تھی،
آج اس کے لبوں کو قفل لگائے ہوئے تھی۔نہ وہ قسم کھانا چاہتی تھی،
نہ وہ سچ چھپانا چاہتی تھی…
مگر اب وہ ایک ایسی خاموشی میں بند تھی،
جس کا دروازہ صرف وہی کھول سکتی تھی…
جس نے یہ زنجیر پہنی تھی۔
اسلام نے تو قسم کو دل کی نیت اور سچائی سے جوڑا ہے،
نہ کہ دباؤ اور جذباتی قید سے۔
مگر یہاں، رومی صرف ایک نیت کی مار بنی بیٹھی تھی…
اور وہ نیت اس کی اپنی نہیں تھی۔
کبھی کبھی زبردستی دی گئی قسمیں
کسی کے لیے خاموشی کا قفل بن جاتی ہیں،اور یہی خاموشی دوسروں کے لیے اذیت کا سبب بنتی ہے۔

قسم لینا یا دلوانا…
اسلام میں کہیں مشروع نہیں،مگر افسوس!
لوگوں نے اسے ایک رسم بنا لیا ہے،
ایک ایسی رسم…جو وقت کے ساتھ پھیلتی جا رہی ہے۔حقیقی قسم وہ ہوتی ہے
جو دل سے اٹھائی جائے،
جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات،
نبی پاک ﷺ کی حرمت،
اور قرآنِ پاک شامل ہے۔
ان تینوں کے سوا
کسی بھی اور چیز کی قسم نہ شرعی ہے نہ ضروری۔
قسم صرف وہ ہے
جو انسان اپنے رب کے نام پر خود اٹھاتا ہے،نہ کہ دوسروں کے کہنے پر مجبور ہو کر۔خدارا!
اپنے آپ کو اصل دین کی طرف موڑیں،
کیونکہ دنیا ہمیں ویسا ہی سمجھتی ہے
جیسا ہم خود کو دکھاتے ہیں۔
چاہے وہ ڈرامے ہوں، روایات ہوں یا اندازِ گفتگو…
غیر مسلم ہماری لبیک سے،
ہماری چال ڈھال سے،
ہمارے کردار سے اسلام کو جانتے ہیں۔
اور یاد رکھیے…
قیامت کے دن ہمیں
اپنے ہر عمل کا حساب
اللہ تعالیٰ کو دینا ہے۔
تب کوئی رسم، کوئی زبردستی، کوئی خاموشی
ہمارا دفاع نہیں کرے گی۔کسی انسان کو کہنا “تمہیں میری قسم” یا “تمہیں فلاں کی قسم” دینا نہ صرف غیر شرعی ہے بلکہ بدعت کے زُمرے میں آتا ہے۔
قسم صرف وہی معتبر ہے جو بندہ اللہ کی قسم اپنے دل سے صدقِ نیت سے خود اٹھائے،نہ کہ زبردستی کسی سے منوائی جائے۔
°°°°°°
کمرے کی مدھم روشنی میں،
ملیحہ گہری نیند میں تھی ۔
ایسی نیند، جو شاید بےخبری کی پناہ تھی۔
مگر زرام کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہ تھا۔
وہ چپ چاپ بیڈ کے کنارے بیٹھا،
ملیحہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا…
ایسا چہرہ، جو ایک راز چھپائے ہوئے تھا…
ایسا سچ…جسے نہ جاننے کی تڑپ،
اسے اندر ہی اندر جلا رہی تھی۔

وہ قریب ہو کر بھی بہت دور تھی ۔
اور یہی فاصلہ اسے سب سے زیادہ چبھ رہا تھا۔وہ اتنا قریب تھا،
کہ اگر ہاتھ بڑھاتا تو لمس چھو لیتا ۔

“کیا چیز ہے جو تمہیں روک رہی ہے؟”
اس کے دل نے بےآواز پکارا،
“کیا تم مجھ پر اعتماد نہیں کرتی؟
یا تمہیں میری محبت کا یقین نہیں؟”
یہ وہ سوالات تھے،
جو ہر رات اس کی روح کے اندر شور کرتے تھے ۔
“تمہیں لگتا ہے کہ میں تم پر شک کرتا ہوں؟”
وہ آہستہ سے بڑبڑایا، جیسے خود سے الجھ رہا ہو۔
“مگر میں شک نہیں کرتا… اگر تمام ثبوت تمہارے خلاف نہ ہوتے۔پھر بھی شک نہ کرتا اگر تم صحیح سے جواب دے دیتی۔۔زرام کے لبوں پر زہر گھلا دکھ تھا،
آنکھوں میں ایک نہ بجھنے والی پیاس۔
دل کو چیرتی ہوئی سانسیں،
اور الفاظ جو وہ ملیحہ سے نہیں، خود سے کہہ رہا تھا۔
“شوہر تھا تمہارا حق تھا مجھے سچ جاننے کا۔۔اگر میں نے تم سے سوال کر ہی لیا تھا…تو کیا تم جواب نہیں دے سکتی تھیں؟
تم نے انا کا مسئلہ کیوں بنا لیا؟
یہ میرا حق تھا،کہ میں سچ جان سکوں،
کیونکہ تمام ثبوت تمہارے خلاف تھے۔”

“تمہیں شاید کبھی احساس نہ ہو سکے
کہ میں کن لمحوں سے گزرا ہوں۔
نہ تمہیں خود سے دور کر سکتا ہوں،
نہ اپنے قریب لا سکتا ہوں…”
“اگر دور کرتا ہوں تو… میری سانسیں رکنے لگتی ہیں۔
اور اگر نزدیک کرتا ہوں تو…
خود سے کراہت آنے لگتی ہے!”

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے زمین پر بیٹھ گیا،
نگاہ خلا میں گم،
“اور اگر تم… صرف ایک سچ بتا دو…
تو شاید سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔
مگر تم… تم توملیحہ ہو،
جو کبھی ہار نہیں مانتی۔ضدی اتنی ہو کہ چاہے کوئی مرتا مر جائے تم اپنی ضد چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتی۔”
وہ خود سے لپٹا،
دل کی گہرائی میں دبی ہر چیخ کو دبائے،
ایک گہری، خالی سانس بھرتا ہوا اور اس سے اٹھا اور ٹائم دیکھنے کے لیے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا اپنا موبائل اٹھایا ۔سکرین پر نظر جمع کر دیکھا۔
ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔
وہ گہری سانس لیتا ہوا ایک نظر ملیحہ کے چہرے پر ڈالتا۔آہستگی سے اٹھ کر،
واش روم کا دروازہ کھولتا ہوا
اندر چلا گیا…
جیسے کمرے سے نہیں،اس اذیت سے باہر نکلنا چاہتا ہو،جو ایک “ان کہی” کی شکل میں روز اس کے دل کو توڑتی تھی۔
کمرے میں ہلکی سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔
صبح کے 12 بج چکے تھے، مگر سورج کی روشنی کھڑکی کے پردوں سے چھن کر اندر محض ایک مدھم سی لکیروں کی صورت بکھری ہوئی تھی۔بارش تھم چکی تھی۔

زرام اب بھی واش روم میں تھا،
شاور کھلا ہوا تھا اور پانی اس کے وجود پر بے سمت بہتا جا رہا تھا۔
وہ دیوار کے سامنے دونوں ہاتھ ٹکائے آنکھیں بند کیے کھڑا تھا،
جیسے اندر کے شور کو پانی کے شور میں دفن کرنا چاہتا ہو۔
پانی ٹپ ٹپ گرتا رہا… مگر اس کی بے حسی ویسے ہی جمی رہی۔
کمرے میں اچانک ایک ہلکی سی سسکی گونجی۔
ملیحہ، جو بیڈ پر لیٹی تھی، اچانک تیز درد سے تڑپ کر جاگ گئی۔
وہ کراہتے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دوہری ہو گئی۔
“آہ…!”
لبوں سے نکلی گھٹی گھٹی آواز اور چہرے پر ابھر آنے والے پسینے کے قطرے اس کی تکلیف کی شدت بتا رہے تھے۔

وہ بامشکل بیڈ سے پاؤں نیچے لٹکا کر بیٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔
درد اتنا شدید تھا کہ وہ سنبھلنے کی بجائے جھک کر بیٹھ گئی،
پیٹ پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے، جیسے کچھ اندر سے ٹوٹ رہا ہو۔
اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔
چہرہ زرد پڑ گیا، اور ہونٹ خشک ہو کر سفید ہونے لگے۔
“ز…رام…”
بامشکل آواز اس کے گلے سے نکلی،
مگر شاور کے شور میں وہ صدا کہیں دب کر رہ گئی۔
ملیحہ نے دیوار کا سہارا لیتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی،مگر جسم نے جیسے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
وہ وہیں بیڈ کے کنارے نیم دراز ہو کر پھر سے بیٹھ گئی،اور تیز سانسوں کے درمیان پیٹ پر ہاتھ رکھے کراہتی رہی۔
دوسری طرف،
زرام کی آنکھیں اب بھی بند تھیں،
شاور کا پانی بند ہو چکا تھا،
مگر اس کا دل اندر سے اب تک جل رہا تھا…دوسری جانب ملیحہ کا درد اب ناقابلِ برداشت ہو چکا تھا۔
قدموں کو گھسیٹتی ہوئی بیڈ سے اٹھی۔
وہ جھکی جھکی، دیوار کا سہارا لیتی ہوئی واش روم کی طرف بڑھی ،
جہاں سے اب پانی کی بوندوں کی آواز آنا بند ہوگئی تھی۔اس نے کانپتے ہاتھ سے دروازے پر دستک دی،
“ز… زرام…”
ٹوٹے ہوئے الفاظ اور بےربط سانسوں کے درمیانوہ بار بار اس کا نام پکارنے لگی۔
“زرام… پلیز… دروازہ… کھولو…”
آواز مدھم ہو رہی تھی، اور جسم پسینے میں بھیگ چکا تھا۔
ملیحہ کی کراہتی ہوئی آواز سن کر
ذرام نے فوراً باتھ روب لپیٹا
اور دروازہ کھولتا ہوا تیزی سے باہر نکلا۔
سامنے کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔
ملیحہ فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھی،
ایک ہاتھ پیٹ پر، دوسرا دیوار سے ٹکا ہوا۔چہرہ زرد پڑ چکا تھا اور آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔

“ک۔۔۔ کیا ہوا؟”
ذرام اس کے قریب زمین پر بیٹھ گیا،
آواز میں گھبراہٹ نمایاں تھی۔
“مجھے… بہت درد ہو رہا ہے…”
اس کے الفاظ کمزور اور سانسوں میں گم تھے۔چہرہ درد کی شدت سے زرد پتوں کی مانند ہو رہا تھا۔
ذرام نے تیزی سے اُسے سنبھالا اور بیڈ پر بٹھایا۔
پانی کا گلاس بھر کر اُس کے قریب لایا تو ملیحہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔

“نہیں… نہیں پینا… بہت درد ہو رہا ہے۔ میں اس درد سے مر جاؤں گی۔۔۔”
وہ تکلیف سے دوہری ہو رہی تھی۔

ذرام کا دل جیسے مٹھی میں آ گیا ہو۔
“اوکے… بس دو منٹ دو، میں چینج کرتا ہوں، پھر تمہیں ہاسپٹل لے کر چلتا ہوں۔”وہ فوراً الماری کی طرف بڑھا، کپڑے نکالے،
اور لمحوں میں خود کو تیار کر کے واپس آیا۔
ملیحہ کے گرد شال لپیٹتے ہوئے
اس نے ایک لمحے کے لیے بھی نہ
اپنی انا کو یاد رکھا، نہ غصے کو۔
محض ایک انسان… ایک شوہر… ایک چاہنے والا بن کراُسے بازوؤں میں اُٹھایا، دروازہ کھولا اور باہر لپکا۔

خوش قسمتی سے راہداری خالی تھی۔ورنہ قدسیہ، نایاب،اور سلمہ ،کے بہت سے سوالوں کے جواب دینے پڑتے جب کہ وہ ایک بھی سوال دینے کی حالت میں نہیں تھا۔۔
نیچے پہنچتے ہی چوکیدار نے گاڑی کا دروازہ کھولا،ذرام نے ملیحہ کو آہستگی سے پچھلی سیٹ پر لٹایااور خود اُس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ملیحہ کا سر اس کی گود میں تھا اور وہ درد سے سانس نہیں لے پا رہی تھی۔مگر اس کی حالت دیکھ کر سانس تو زرام کو بھی نہیں آ رہا تھا۔۔
“فوراً اسپتال لے چلو!”
اُس نے ڈرائیور کو تیزی سے حکم دیا۔
ملیحہ کا چہرہ پیلا پڑ چکا تھا، ہتھیلیاں سرد تھیں،
اور آنکھیں درد سے بوجھل۔
ذرام کے چہرے سے پسینے کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔یہ منظر واضح کر رہا تھا
کہ وہ محبت جو شاید الفاظ سے چھپ گئی تھی،دل کی دھڑکنوں میں اب بھی زندہ تھی۔
انا، ضد، بدگمانی۔۔۔ یہ سب وقتی پردے تھے۔محبت… دل کی حقیقت ہے
جو نہ چھپتی ہے، نہ روکی جا سکتی ہے۔

“بس… بس دو منٹ، ہم ہاسپٹل پہنچنے والے ہیں… سب ٹھیک ہو جائے گا، ملیحہ!”
ذرام مسلسل اُس کے ماتھے سے ٹھنڈے پسینے کو صاف کر رہا تھا۔
ایک ہاتھ اس کے ہاتھ پر، اور دوسرا دل پر تھا۔
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ ملیحہ کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر چکا ہے،
اس کے جسم کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر کم ہو رہا تھا،
اور وہ نقاہت سے نیم بیہوشی کی کیفیت میں جا رہی تھی۔
ذرام کا دل بے قابو ہو رہا تھا،
مگر چہرے پر مضبوطی کا نقاب تھا ۔
وہ اُسے سہارا دے رہا تھا جیسے زندگی کو تھامے ہوئے ہو۔ہر لمحہ اس کی زبان ملیحہ کی زندگی مانگ رہی تھی۔
سچی محبت…
چاہے جتنی بھی غلط فہمیوں کی دھند میں چھپ جائے،
چاہے انا کی دیواریں آسمان چھو لیں،
زبان جتنی بھی نفرت کے لفظ بول لے،
مگر محبت… محبت اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔
اس کا نہ کوئی موسم ہوتا ہے،
نہ کوئی وقت،
نہ یہ کسی کے روکنے سے رُکتی ہے،
نہ کہنے سے شروع ہوتی ہے۔

ذرام کو ملیحہ سے اور ملیحہ کو ذرام سے محبت تھی۔
ایسی محبت جسے وقت، فاصلے، اور خاموشیاں مٹا نہ سکیں۔
نفرتوں کی دھول نے اگرچہ اسے کچھ دیر کے لیے دھندلا دیا تھا،
مگر مٹا نہ سکی…
اور یہ بات اُس وقت سچ ثابت ہوئی،
جب درد سے تڑپتی ہوئی ملیحہ سسک رہی تھی،
اور زرام کی آنکھوں کے کنارے خاموشی سے بھیگ رہے تھے۔

یہ اگر محبت نہیں تھی،
تو پھر اور کیا تھا؟
اللہ کا شکر تھا کہ ہاسپٹل کا راستہ دھوپ میں لپٹا ہوا نہیں تھا،
ورنہ یہ پانچ منٹ، پانچ صدیاں بن جاتے۔رات کو ہوئی بارش نے موسم بہت خوشگوار اور ٹھنڈا کر دیا تھا۔

گاڑی جیسے ہی ہاسپٹل کے سامنے رکی،
ذرام کے فون پر دی گئی کال کے مطابق
عملہ پہلے سے دروازے پر تیار تھا۔

رومی اور فیصل نے ایمرجنسی ٹیم کو الرٹ کر دیا تھا۔ہاسپٹل ان کا اپنا تھا، تو رسمی کارروائیوں کا کوئی جھنجھٹ نہ تھا۔
اسٹریچر فوراً لایا گیا۔
ملیحہ کو احتیاط سے گاڑی سے اتارا گیا۔
ڈاکٹر رومی اور ایک نرسنگ ٹیم اُسے فوراً چیکنگ روم کی طرف لے گئے۔اندر گانے کی بہترین نیو ڈاکٹر ریڈی کھڑی تھی۔

ذرام اُن کے ساتھ ساتھ دوڑ رہا تھا،
مگر اندر داخلے سے پہلے دروازے پر رکنا پڑا۔یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک شوہر، ایک ڈاکٹر نہیں بن سکتا تھا۔۔۔
صرف ایک بے بس انسان بن کر دروازے کو تک سکتا تھا۔
°°°°°°°°°

“کیا ہوا ہے ملیحہ بھابھی کو؟”
ڈاکٹر فیصل تیزی سے زرام کے قریب آیا،
اور سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے سوال کیا۔

“مجھے… مجھے نہیں پتہ فیصل…
میں تو واش روم میں تھا، اور یہ سو رہی تھی…
اچانک اس نے مجھے آواز دی،
جب میں باہر نکلا تو اس کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی…”
ذرام نے پریشانی میں گھبراہٹ سے لرزتی آواز میں جواب دیا۔

“تمہیں پتہ نہیں تھا؟”
فیصل کی نگاہ میں غصے کی چمک اب اور نمایاں ہو چکی تھی۔
“سچ میں تمہیں پتہ نہیں تھا؟”

“فیصل، یہ کیسا انداز ہے بات کرنے کا؟
کہہ تو رہا ہوں، مجھے واقعی کچھ معلوم نہیں تھا…”
ذرام نے نرمی سے، مگر الجھن بھرے انداز میں جواب دیا،
جیسے وہ فیصل کے لہجے کی شدت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“حد ہے زرام! تم خود ایک ڈاکٹر ہو،
تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ایسی حالت میں
کسی بھی عورت کے ہارمونز عام نہیں ہوتے۔
ذہنی دباؤ، جذباتی تناؤ…
یہ سب کسی سانحے سے کم نہیں ہوتے اس کے لیے۔
اور تم نے… یقیناً اس سے جھگڑا کیا ہوگا۔
اسے ٹینشن دی ہوگی، اور اسی تناؤ میں وہ یہاں تک پہنچ گئی!”

فیصل کا لہجہ تلخ اور بے رحمانہ تھا،
وہ ملیحہ کی حالت سے لرز چکا تھا۔
ذرام خاموش تھا۔
اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔
کیونکہ… فیصل غلط نہیں تھا۔

ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ خود جانتا تھا
کہ جذباتی دباؤ حاملہ عورت کے لیے زہر ہوتا ہے۔
اور اسے بھی علم تھا…
کہ ملیحہ کی یہ حالت کسی معمولی درد کا نتیجہ نہیں۔
اس کی خاموشی ہی اس کا اعتراف تھا۔
جبکہ… حقیقت یہ بھی تھی کہ ذرام ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ ملیحہ کو کوئی بھی تکلیف پہنچے۔
نہ اس کی تکلیف کا وہ ذمہ دار تھا،
نہ ہی اس نے دانستہ کوئی ایسا قدم اٹھایا تھا
جس سے ملیحہ کا جسم تڑپنے لگتا۔
لیکن پھر بھی…
نہ چاہتے ہوئے بھی، وہ مجرم ٹھہرایا جا چکا تھا۔
شاید حالات کی عدالت میں بعض اوقات
نیت کی صفائی بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
صرف نتیجہ دیکھا جاتا ہے۔
اور یہاں نتیجہ… ملیحہ کی بگڑتی ہوئی حالت تھی،
جس کا گواہ ہر وہ شخص بن بن سکتا تھا جس نے ملیحہ کی خراب حالت دیکھی ہو۔۔ ذرام… خود اپنی ہی نظروں میں شرمندہ تھا۔کیونکہ وہ ایک ڈاکٹر تھا اور اس بات کا طعنہ اسے سب سے پہلے دیا جا رہا تھا۔۔
“خاموش ہو گئے ہو؟ کوئی جواب نہیں دو گے؟”
فیصل کی آواز میں بےبسی بھی تھی اور ناراضی بھی۔
“بس یہی تمہاری بری عادت ہے، زرام!”
وہ قدم کے فاصلے پر کھڑا، دل سے بول رہا تھا۔
“اگر وقت پر سب کچھ بتا دو، اگر تھوڑا سا دل کھول دو…
تو شاید میں تمہاری تکلیف کا بوجھ بانٹ سکوں۔
مگر پچھلے کچھ مہینوں سے تم نے مجھے بھی پرایا کر دیا ہے۔
کچھ نہیں کہتے… کچھ بھی نہیں!”
ذرام اب بھی خاموش کھڑا رہا۔
نہ پلکیں جھپکیں، نہ لب ہلے۔

فیصل نے گہرا سانس لیا،ایک نظر اس کے خاموش جھکی ہوئی نظروں کی جانب دیکھا۔
“بس اتنا کہوں گا، اللہ سے دعا کرو کہ ملیحہ بھابھی ٹھیک ہو جائیں…
ورنہ تم خود کو کبھی معاف نہیں کر سکو گے، زرام۔فیصل نے تلخ لہجے میں کہا،
میں نے ان کی حالت دیکھی ہے…
اور سچ کہوں؟
میرا دل بری طرح ڈر رہا ہے…”

فیصل کی صاف گوئی نے ماحول میں اور بھی خاموشی بھر دی تھی۔
یہاں جھوٹ بولنے کی گنجائش نہ تھی،
نہ ہی تسلی دینے کا وقت۔
ذرام کا دل خوف سے اندر تک لرز گیا تھا،مگر پھر بھی لب… خاموش تھے۔
اور نظریں…
نظریں اس بند دروازے پر جمی تھیں،
جس کے پار ملیحہ…
زندگی اور موت کی کشمکش میں تڑپ رہی تھی۔

کچھ لمحوں بعد…
ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کا دروازہ کھلا۔ ڈاکٹر رومی باہر نکلی تو چہرے پر وہ سختی تھی جو کسی بہت ہی سنجیدہ خبر کا پتہ دیتی ہے۔
” زرام بھائی…”
رومی نے دھیمے مگر بھاری لہجے میں پکارا۔
“ہمیں فوراً ڈیسیجن لینا ہوگا۔ ملیحہ کی حالت نازک ہے۔”

ذرام نے بے قراری سے قدم بڑھایا۔
“کیا ہوا ہے؟”

رومی نے گہری سانس لی۔
“بچہ… بچ نہیں سکا۔”
یہ الفاظ زرام کے وجود پر ہتھوڑے بن کر گرے۔
“سانس، دھڑکن… سب کچھ بند ہو چکا ہے۔ اندر انفیکشن پھیلنے لگا ہے۔ اگر فوراً آپریٹ نہ کیا گیا تو ملیحہ بھی…”
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا،
مگر زرام کا دل جیسے سن ہو گیا تھا۔

قدموں تلے زمین کھسک چکی تھی۔
ایک ڈاکٹر ہونے کے باوجود،
وہ ایک بےبس شوہر کی طرح دیوار کا سہارا لینے پر مجبور ہو چکا تھا۔

فیصل نے فوراً بڑھ کر اسے تھام لیا۔
نظریں نظروں سے بولیں،
“صبر کرو، وقت نہیں ہے۔”

رومی نے فائل آگے کی،
“سائن کریں، زرام بھائی!
یہ سائن صرف کاغذ پر نہیں،
ملیحہ کی زندگی پر ہیں۔
اگر خاموش رہے تو… شاید بہت دیر ہو جائے۔”
ذرام نے نفی میں سر ہلایا،
“نہیں… میں سائن نہیں کروں گا۔
وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔
میں اس کے بچے کا قاتل بن جاؤں گا۔”

رومی کا لہجہ سخت ہوا،
“جی! شاید وہ آپ کو کبھی معاف نہ کرے،
لیکن اگر سائن نہیں کیے…
تو وہ خود آپ کو معاف کرنے کے لیے زندہ بھی نہیں رہے گی!”

ذرام کا دل بری طرح دھڑکنے لگا،
“کیا تم سب مجھے ہی قصوروار سمجھتے ہو؟
میں مجرم نہیں ہوں! میں نہیں چاہتا تھا ایسا کچھ…”
فیصل نے آنکھوں میں آنسو چھپاتے ہوئے کہا،
“یہ وقت صحیح اور غلط کا نہیں…
فیصلے کا ہے، زرام!
ورنہ وہ مر جائے گی،
اور تم… باقی عمر خود کو مجرم سمجھ کر جیتے رہو گے۔”

رومی نے فائل فیصل کو دی،
فیصل نے زبردستی زرام کا ہاتھ تھاما،
پین پکڑایا…
“سائن کرو، پلیز!
تمہارے دستخط… اس کی زندگی کو بچا سکتے ہیں!”
ذرام کے ہاتھ لرز رہے تھے،
دل جیسے کسی طوفان میں پھنسا ہو۔
رومی پلٹ گئی، فیصل کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑا رہا۔
سائن ہو چکے تھے…
مگر ایک بوجھ تھا جو کمر توڑ رہا تھا۔
کبھی کبھی زندگی ایسے مقام پر لے آتی ہے
جہاں ہر فیصلہ،
دل توڑتا ہےسائن نہ کرتا… تو بھی گناہگار تھا،
اور اب سائن کر دیے… تب بھی مجرم ٹھہرا۔
آج زرام، زرام نہیں رہا تھا،
صرف ایک بےبس انسان تھا…
جس کا دل تڑپ رہا تھا،
جس کا ضمیر چیخ رہا تھا،
اور جس کی آنکھوں میں
ایک ماں کی ممتا کو بکھرتا دیکھنے کا خوف تھا۔
وہ قدم گھسیٹتا ہوا پیچھے آیا
دیوار کے ساتھ لگ کر آنکھیں موند لیں،
اور اندر سے ایک چیخ دبا لی۔
“یا اللہ! یہ کیسا امتحان ہے؟
میں کیسے اسےبتاؤں گا
کہ اس کا بچہ… نہیں بچا سکے۔کیسے کہوں گا کہ میں نے اس کی کوکھ خالی کرنے کی اجازت دی…
اپنے ہاتھوں سے!”
دل میں ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی…
ضمیر، احساس، محبت،
سب ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے۔
اور ان سب کے بیچ
بیٹھا تھا وہ…
ڈاکٹر زرام،جو محبت میں ہار گیا تھا،
اور تقدیر کے فیصلے میں مجرم بن گیا تھا۔
°°°°°°°°°°°

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *