Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:55
راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 55
°°°°°°°°
چاروں طرف خاموشی جمی ہوئی تھی۔ کمرے میں دن کے وقت کھڑکی سے آتی ہوئی سورج کی روشنی سیدھی بکھرے کاغذات اور فائلوں پر پڑ رہی تھی۔ سامنے ٹیبل پر رکھے ایسٹری میں ادھ جلے سگریٹ کے ٹکڑے پڑے تھے، جو شہرام اور توقیر نے بکھلانے کے بعد پیے تھے۔
توقیر دیوار کے پاس کھڑا دونوں ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھا۔ اس کی شکل سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ شدید پریشان ہے۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے، بول، شہرام، یہ صاف کیسے ہو گیا؟”
سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ توقیر خود سے بات کر رہا تھا یا شہرام سے۔
شہرام کرسی سے اٹھا، قدم آگے بڑھائے۔ چہرے پر شدید غصہ، گھبراہٹ اور ناگواری تھی۔
“جو ہونا تھا ہو گیا، اب سر پیٹنے سے کچھ نہیں ملے گا۔ میں پہلے ہی کہہ چکا تھا، ہاسپٹل میں ہاتھ ڈالنا فضول ہے۔ مائد خان نے ایسی سکیورٹی رکھی تھی جیسے زیغم سلطان کوئی مریض نہیں، قیمتی خزانہ ہو۔ ان چھ مہینوں میں اس نے ہمیں کانوں کان خبر تک نہ ہونے دی کہ وہ ریکور ہو رہا ہے۔ اور اب اچانک سے خبر ملی ہے کہ وہ ہوش میں آ چکا ہے۔”
شہرام کی آواز میں جھنجھلاہٹ تھی۔
“اسی لیے میں نے کہا تھا، راستے میں کچھ کرنا پڑے گا۔ ہاسپٹل سے گھر لے جاتے وقت وہی ایک موقع تھا، مگر تم سے کچھ نہیں ہوا۔ تم نے وہ موقع ہاتھ سے گنوا دیا۔”توقیر کی بات پر شہرام بھڑک اٹھا تھا۔
“میں جن بن کر اپنے بندوں کو لے کر ایمبولینس میں گھس جاتا۔ آپ کو صرف باتیں آتی ہیں، اور باتیں کرنا آسان ہوتا ہے۔ اندازہ بھی ہے، اس نے حفاظت کے طور پر اتنی کڑی نگرانی کر رکھی تھی جیسے ملک کا وزیراعظم آ رہا ہو۔ اس نے تو گاڑی کے اندر بھی حفاظت کے لیے گارڈز تعینات کر رکھے تھے بلٹ پروف گاڑی کے ذریعے وہ اسے گھر تک لے کر گیا ہے،ایمبولنس کے آگے اور پیچھے اتنی گاڑیاں تھی اتنی تو ملک کے پی ایم کے گاڑی کے آگے اور پیچھے قافلے نہیں ہوتے۔ میرے بندے تو حیرانی سے دیکھتے رہ گئے۔”
شہرام کے کھری کھری سنانے پر توقیر نے غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔ ہاتھ میز پر رکھی شیشے کی بوتل سے ٹکرایا، ہلکی سی آواز کمرے میں گونجی۔
“اب میرے ساتھ زبان درازی بند کرو، کچھ کر سکتے ہو تو جلدی کرو۔ زیغم سلطان ہوش میں آ چکا ہے۔ یہ خبر ہمارے لیے موت کا پروانہ ہے۔ یاد رکھنا، اس بار وہ رحم دلی نہیں دکھائے گا۔ وہ خاموش تھا تو وہ ہمارے لیے بہتر تھا۔ یہ بات میں بھی جانتا ہوں اور تم بھی۔ اگر وہ بھڑک اٹھا ہوا تو ہم میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گا۔”بات کرتے ہوئے گھبرا کے توقیر کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔۔
توقیر کو جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ حالت تو شہرام کی بھی مختلف نہ تھی۔ اسےتو ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے۔
شہرام کی نظریں فرش پر جم گئیں۔ ہونٹوں کو گول کرتے ہوئے بامشکل سانس باہر پھینک رہا تھا۔
“م… میں کیا کر سکتا ہوں۔ آپ کے پاس پلان ہے تو بتائیں۔ ورنہ مجھے تو اب بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔”شہرام نے ہاتھ کھڑے کر دیے تھے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔
“بڑے بدمعاش بنتے ہو، کچھ کرو! ورنہ وہ ہمیں کچا چبا جائے گا۔”
“آپ کو تو صرف مجھے کوسنا آتا ہے۔ کیا کروں میں؟ میں تو اپنے کاغذات بنوا رہا ہوں، ملک سے باہر چلا جاؤں گا۔ میں اس کا سامنا نہیں کرنے والا۔ یاد ہے نا پچھلی بار اس کمینے نے میرے ساتھ کیا کیا تھا؟ اب تک میری ٹانگ پوری طرح ٹھیک نہیں ہو پائی۔”
شہرام نے اپنی ٹانگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بے بسی ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر اس شیطانی چہرے پر بے بسی کا رنگ بھی عجیب ہی لگ رہا تھا۔
“واہ، مجھے تجھ سے یہی امید تھی۔ ماں، باپ، بہن… سب کو چھوڑ کر خود بھاگنے کی سوچ رہا ہے۔ پیچھے سے چاہے وہ ہمیں کاٹ ڈالے، تجھے پروا نہیں۔ خود غرض انسان!” توقیر نے غصے سے شہرام کی طرف دیکھا۔
“اس میں خود غرضی والی کیا بات ہے؟ کیا میں اپنی جان نہ بچاؤں؟ اس کا کیا بھروسہ، کب وہ میری دونوں ٹانگیں توڑ دے۔ پھر میں لنگڑا ہو کر معذوروں جیسی زندگی گزاروں؟ اور رہی بات سیلفش ہونے کی، تو آپ ہمیں الزام نہ دیں۔ جیسے آپ ویسے ہم۔ خون اور پرورش میں ہی خود غرضی ملی ہے۔ تو اس میں ہمارا کیا قصور!”
“کوئی شرم و حیا نہیں، جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہو۔ پتہ نہیں کس گناہ کی سزا ہو تم۔” توقیر آدھی بات زبان سے بولا، آدھی دل میں رکھ کر خاموش ہو گیا۔ وہ جانتا تھا، شہرام سے الجھنے کا فائدہ نہیں۔ شہرام میں تمیز نام کی کوئی چیز نہیں، کچھ بھی بول سکتا تھا۔ اور اس وقت توقیر سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔ وہ بہت پریشان تھا۔
“ویسے، اپنے نئے داماد کو فون کیوں نہیں کرتے؟ اس نے ہمارے لیے کافی کچھ سوچ رکھا تھا۔ کچھ نہ کچھ تو بتائے گا کہ اب کیا کرنا ہے۔”
شہرام کے طوفانی دماغ میں ایک نیا خیال آ چکا تھا۔جس پر اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ بھی کھلنے لگی تھی۔جیسے حکم کا اکا ہاتھ آگیا ہو۔۔
“اس سے بات کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ان دونوں کو تو گھومنے سے فرصت نہیں ہے۔
“مگر اس نے دعوے تو بہت بڑے بڑے کیے تھے وہ زیغم سلطان کو ٹکر دے کر دکھائے گا یہ کر دے گا وہ کر دے گا…..
“باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوتا،جب کچھ کر کے دکھائے گا، تب پتا چلے گا نا۔”
توقیر نے دونوں ہاتھ کمر پر باندھے، کھڑکی کی طرف رخ کر کے گہری سوچ میں ڈوبا ہوا کہا۔ آنکھوں میں وہی شکست خوردہ روشنی، جیسے زندگی کی ہر بازی ہارتا جا رہا ہو۔
“کیا مطلب؟ ہم نے نایاب کا رشتہ ایسے ہی دے دیا؟ بغیر کسی فائدے کے؟ آپ تو کہتے تھے کہ وہ ہمارے بہت کام آئے گا۔”شہرام کو تو جیسے جھٹکا لگا تھا ۔
“تمہیں لگتا ہے نایاب کا رشتہ میں نے کیا ہے؟ ہاں، یہ ٹھیک ہے کہ میں رضامند ہو گیا تھا۔ اور مجھے اب بھی اس شخص سے امید ہے، کہ وہ ہمارے کام آئے گا۔ لیکن جب تک وہ کچھ کر کے نہ دکھائے، کیسے پتہ چلے گا وہ واقعی کارآمد ہے یا نہیں؟”
توقیر نے لمحے بھر کو خاموشی اختیار کی، پھر سرد لہجے میں بولا، “رہی بات نایاب کی، تو تم دونوں بہن بھائیوں نے ہمیشہ اپنی مرضی کی ہے۔ اور اب بھی وہی ہو رہا ہے۔ اس نے خود ڈھونڈا ہے اسے، کہاں ملی، کیسے ملی، مجھے کچھ نہیں پتا۔ مجھے تو تمہاری ماں نے بس اطلاع دی کہ بیٹی نے لڑکا پسند کر لیا ہے اور شادی کرنی ہے۔ میرے پاس تو کوئی اختیار تھا ہی نہیں۔”
“میں تو پہلے ہی گھر سے بے دخل ہوں۔ اور اوپر سے تمہاری ماں کی فضول دلیلیں سننے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس لیے ہاں کر دی۔”
“واہ جی واہ! مطلب محترمہ نے تیسری شادی بھی اپنی مرضی سے کر لی؟ ٹھیک ہے بھائی، ٹھیک ہے۔ ایک ہم ہیں جو یہاں ادھوری زندگی گزار رہے ہیں، اور کسی کو پرواہ ہی نہیں۔”
“اللہ کا واسطہ ہے، اب تم اپنی بے بسی کا راگ مت الاپو۔ اگر تم بیوی کے بغیر ہو، گھر نہیں ہے، تو کیا میں سکون سے جی رہا ہوں؟ میرے نصیب میں تو تمہاری ماں آئی ہے، جس نے میری پوری زندگی تباہ کر دی۔”
توقیر نے رخ پھیر کر طنزیہ نگاہ سے دیکھا، “اور رہی بات تمہارے برباد گھر کی، تو وہ تم نے خود برباد کیا۔ تم نے تو کبھی دانیہ کو پسند نہیں کیا تھا۔ شاید آج تم اس کے ساتھ خوش رہتے تو اس کا بھائی بھی ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیتا۔شاید اپنی بہن کے اجڑ جانے کے ڈر سے وہ ہمارے سب گناہ معاف کر دیتا۔”
شہرام کی آنکھوں میں غصے کی لہر جاگ اُٹھی تھی۔
“سبحان اللہ! اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے؟ جو کارنامے آپ نے سر انجام دیے، وہ سب پردے کے پیچھے، اور میری غلطی سب کے سامنے؟ واہ جی واہ، کیا انصاف ہے آپ کا!”
باپ بیٹا مزید کچھ کہنے ہی والے تھے کہ اچانک فون کی بیل نے کمرے کا سکوت توڑ دیا۔ دونوں کی نظریں ایک ساتھ فون کی طرف اٹھیں۔ لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئی۔
فون بجتے ہی شہرام نے لپک کر ریسیور اٹھایا… دوسری جانب جو بات سنی، اس کے چہرے کا رنگ پل بھر میں سفید پڑ گیا۔۔
°°°°°°°°°°
مہرو… مہرو… مہرو!
زیغم کی آواز کمرے کی خاموش فضا چیرتی چلی گئی۔ بند آنکھیں لرزیں، پیشانی پسینے سے بھیگ گئی، اور لب مہرو کا نام دہراتے ہوئے کپکپا اٹھے۔
رفیق جو ایک کونے میں رکھی ہوئی لکڑی کی کرسی پر بیٹھا ہوا ساکت سانسیں لے رہا تھا،زیگم کی آواز سن کر، اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔
“ڈاکٹر صاحب… وہ…”
رفیق نے گھبرا کر پیچھے دیکھا اور ڈاکٹر کو زیغم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دکھایا کیونکہ ڈاکٹر صاحب ہینڈ فری لگا کر موبائل میں مصروف تھے،ڈاکٹر ہینڈ فری اتارتے ہوئے زیغم کی جانب متوجہ ہوا۔ مگر اسی لمحے زیغم کی آنکھیں پوری شدت سے کھلیں۔
“مہرو!!”
اس نے جھٹکے سے اٹھنے کی کوشش کی، مگر بدن کی ناتوانی نے اسے جھکا دیا۔
ڈاکٹر عملہ قریب آیا، پر سب کے قدم تھم گئے۔
برائے مہربانی سب پیچھے رہیں اور اپنی سیفٹی کا خیال کریں ،یاد ہ نا…؟پہلے بھی ہوش میں آتے ہی جناب نے رفیق کے سر پر بوتل دے ماری تھی۔ڈاکٹر صاحب تاکید کرتے ہوئے مسکرائی بھی نہ نہیں رہ سکے تھے۔
“فون کرو مائد کو!”ڈاکٹر نے رفیق سے کہا۔رفیق نے جلدی سے موبائل نکالا،
“فوراً… زیغم ہوش میں آ گیا ہے!”
زیغم کا سانس گھبراہٹ سے تیز ہو رہا تھا، …”مہرو… کہاں ہو تم…”
مسٹر مائد ابھی کچھ ہی دیر میں آ جائیں گے، پلیز آپ آرام کریں… آپ کو ابھی سکون کی ضرورت ہے۔”
ڈاکٹر نے نرمی سے سمجھانا چاہا، مگر زیغم تو جیسے ہوش میں آ کر مزید بے چین ہو چکا تھا۔
“مہرو… مہرو!”
وہ جھٹکے سے اٹھنے لگا، لیکن دونوں میل اسٹاف نے فوراً بازو تھام لیے۔
اور…یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
“ہاتھ۔۔۔۔ چھوڑو میرے… ورنہ تم لوگوں کے ہاتھ دوبارہ پانی کا گلاس تک پکڑنے کے لائق نہیں رہیں گے!”
زیغم دھاڑا تو اسٹاف کے ہاتھ کانپ گئے، چہرے خوف سے پیلے پڑ گئے۔
کیونکہ کہ سامنے زیغم سلطان تھا…
کوئی عام مریض نہیں۔
چھ مہینے کومے میں رہنے کے باوجود،
نہ پرسنلٹی مدھم پڑی،
نہ چہرے کی دلکشی۔
بس رنگت میں زردی آ گئی تھی،
مگر آنکھوں کا غضب،
اور آواز کا دبدبہ…
آج بھی ویسا ہی تھا۔
“پلیز… پلیز، مسٹر زیغم، تھوڑا Cooperate کریں… آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، خود کو تکلیف مت دیں۔”
ڈاکٹر نے بے بسی سے کہا، مگر زیغم سلطان کا پارہ اب ساتویں آسمان پر تھا۔
“اوئے! ڈاکٹر کے بچے… مجھ سے دور رہنا!”
وہ دھاڑا،
“پہلے تو میری اجازت کے بغیر انجیکشن لگا دیا، اب اگر ایسی کوئی حرکت کی… تو ایسی جگہ انجیکشن لگاؤں گا کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے!”اس سے پہلے کے بیچارے ڈاکٹر کی اور بھی عزت افزائی ہوتی تب ہی…
دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔مائد خان، دانیہ، ارمیزہ، مورے، اور آغا جان… سب ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔
اور… زیغم کا آخری جملہ سب کے کانوں سے ٹکرا گیا۔
کچھ کی آنکھیں پھیل گئیں،
مائد کے لب بے ساختہ ہنس پڑے۔
آغا جان نے زیر لب مسکراہٹ دبائی،
مائد خان کی ہنسی نہ رکی،
مورے اور دانیا شرمندگی سے نظریں چرا گئیں۔اور زیغم کی اپنی شہزادی ارمیزہ ؟
اسے نہ شرمندگی کی پروا تھی، نہ لفظوں کی سمجھ…اس کی نظریں تو بس بابا کو دیکھ رہی تھیں،مگر…اس کا بابا، اس وقت، شدید غصے میں تھا۔ارمیزہ کے لبوں کی مسکراہٹ تھوڑی سی مدھم پڑ گئی تھی۔
زیغم! زیغم! یار، یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کیوں بیچارے ڈاکٹر پر بھڑک رہے ہو؟”
مائد نے فوراً بات سنبھالنے کی کوشش کی، وہ تیز قدموں سے آگے بڑھا اور زیغم کے قریب جا کھڑا ہوا۔
میل اسٹاف تب تک زیغم کا بازو چھوڑ چکے تھے،
سو، زیغم آزاد تھا۔
پتہ نہیں کہاں سے طاقت آئی،
بیڈ سے اٹھا اور سیدھا مائد پر جھپٹ پڑا۔
اگلے لمحے…
ماہد بیڈ پر تھا،
جہاں کچھ لمحے پہلے خود زیغم پڑا تھا۔
“آ جا! اچھا ہوا تو بھی آ گیا!”
زیغم کی آواز گرجی،
“تجھے کس نے حق دیا مجھے بے ہوشی کا انجیکشن لگوانے کا؟
کمینے! خود کو طاقتور سمجھنے لگا ہے؟
میں پاگل لگتا ہوں تجھے؟”
ایک کے بعد ایک مکا،
مائد کے چہرے پر پڑا…
ناک سے ہلکا سا خون بہہ نکلا۔
کمرہ… اکھاڑا بن چکا تھا۔
دانیا نے فوراً ارمیزہ کا ہاتھ چھوڑا،
تیز قدموں سے آگے بڑھی۔
ایک طرف بھائی تھا،
دوسری طرف… وہ شخص جس نے اس کی زندگی جہنم سے جنت بنائی تھی۔
“بھ۔۔بھائی! مت ماریں انہیں!”
دانیا نے زیغم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کپکپاتی آواز میں کہا۔
مگر سچ یہ تھا…
وہ خود بھی زیغم کا یہ روپ دیکھ کر گھبرا چکی تھی۔
آغا جان اور مورے کی آنکھوں میں واضح خوف تھا،مگر اس بات کا کہ کہیں زیغم کا غصہ دیکھ کر، دانیا کو پینک اٹیک نہ
آ جائے۔
ارمیزہ مورے سے چپک کر،
ڈر کے مارے ساکت کھڑی تھی۔
زیغم نے دانیا کا ہاتھ تو غصے سے جھٹک دیا،مگر دانیا کی آواز نے اسے پلٹنے پر مجبور کر دیا۔
“دانیا…”
اس نے جیسے ہی اس کا نام پکارا،
دانیا بے اختیار اپنے بھائی کے سینے سے لگ گئی۔
اسی لمحے،مائد کی جان چھوٹی۔
وہ بڑی معصومیت سے بیڈ پر لیٹا ہوا
خاموشی سے جان سے پیارے دوست کے مکے کھا چکا تھا۔
میڈیکل اسٹاف نے فوراً ٹشو باکس مائد کے آگے کیا،
مائد نے تین چار ٹشو کھینچے اور ناک صاف کیے۔۔
“سی… کمینہ انسان…”
مائد دبی آواز میں منہ ہی منہ میں بڑبڑایا،اس کی نظروں کے سامنے بھائی اور بہن کا ایموشنل سین چل رہا تھا۔۔
“میرا بچہ کیسا ہے؟ ٹھیک ہو تم؟”
زیغم نے دانیا کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے باپ جیسی شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
دانیا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،
“کیسے ٹھیک ہو سکتی ہوں آپ کے بغیر، ؟ آپ نہیں جانتے، میں نے آپ کے لیے کتنی دعائیں کیں، کتنی راتیں رو کر گزاریں…
لیکن شکر ہے اللہ کا، اس نے میری دعائیں سن لیں…
ورنہ آپ کے بغیر تو دانیہ… مر جاتی!”
“ششش… خبردار جو مرنے مارنے کی بات کی!”
زیغم کی آواز کمرے میں گونج گئی،
“مریں گے اب وہ… جنہوں نے ہم سے ہماری خوشیاں، سکون، اور ہمارے رشتے چھینے۔
اب تم اپنے بھائی کا ایک نیا روپ دیکھو گی!”اس کی آواز میں ایسا جلال تھا کہ کمرہ لرز اٹھا۔
مائد کا ہاتھ، جو ناک سے بہتے خون کو صاف کر رہا تھا، رک گیا۔
“نہیں… نہیں بھائی!”
دانیا نے تڑپ کر کہا،
“ہمیں کسی سے بدلہ نہیں چاہیے،
ہمیں بس یہاں سے بہت دور چلے جانا ہے،
جہاں زندگی ہو، سکون ہو…
جہاں میں ہر لمحہ یہ نہ سوچوں کہ کب آپ دونوں باہر نکلیں گے اور دشمن گھیرا ڈال دیں گے۔
مجھے آپ چاہیے بھائی، صرف آپ…
اور ایک پُرامن زندگی!”
دانیا کی آنکھوں میں خوف نہیں…
تڑپ ،اور… بے بسی کی نمی۔اس کی بات نے زیغم کو حیران کر دیا تھا۔۔
“کیوں…؟ ایسا کیا ہو گیا کہ تمہیں اب کسی سے بدلہ نہیں لینا؟”
زیغم کا لہجہ سخت ہو چکا تھا، آنکھوں میں سوال نہیں،شکوہ تھا۔
“تم ہی تو تھی، دانیا… جو دن رات مجھے کہتی تھی کہ دشمنوں کو معاف مت کرنا، انہیں سزا دینی ہے۔”
“تو اب کیا بدل گیا؟
اب کیوں اپنے قدم پیچھے ہٹا رہی ہو؟
یا پھر…
تمہیں اپنے بھائی پر اب کوئی امید نہیں رہی؟”دانیا کا دل زور زور سے دھڑکا۔
اس کی آنکھیں زیغم کی آنکھوں میں جھانکنے سے کترا رہی تھیں۔
وہ چپ رہی…اس نے دانیا کو اپنے سینے سے لگائے رکھا تھا ۔مگر لہجہ میں سختی لوٹ آئی تھی۔
“بتاؤ نا دانیا، اب تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے؟ کیونکہ دشمنوں کو معافی معافی دے میں نے یہ ثابت کر دیا کہ میں کمزور ہوں، میں اپنے ماں باپ کا بدلہ نہیں لے سکتا۔”
” بھائی ۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے، میں جانتی ہوں آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ہاں، وہ وقت ہی غصے کا تھا، اور غصہ بھی اسی بات پر تھا کہ آپ نے دشمنوں کو معاف کیوں کیا، جبکہ مجھے اپنے بھائی کی طاقت پر پورا یقین تھا، کہ میرا بھائی ایک مضبوط چٹان کی مانند ہے، جو ٹکرائے گا تو ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔ مگر وہ تب کی بات تھی، اب میں بدلہ نہیں چاہتی، میں چاہتی ہوں ہم پرسکون زندگی جئیں۔”
زیغم کی آنکھوں میں غصے کی چپ تھی ہوئی لہر تھی،
چہرے پر فیصلہ کن سختی…
“نہیں دانیہ…”
اس کی آواز میں گونج تھی،
“اب تو چاہے کوئی میرا ساتھ دے یا نہ دے،
میں انہیں سزا دے کر رہوں گا۔
ایسی سزا… جو عبرت بن جائے گی۔
کیونکہ اب اگر معاف کر دوں،
تو گویا یہ مان لوں کہ میں کمزور ہوں…”
وہ پل بھر کو رکا،
اور آسمان کی طرف دیکھا،
“جبکہ میرا رب گواہ ہے…
میں کمزور کبھی نہیں تھا۔نہ جانے میں نے کیسے سانپوں پر رحم دکھا دیا جو کہ میری سب سے بڑی خطا تھی۔”زیغم کے چہرے پر افسوس نظر آرہا تھا ۔۔
“اچھا بیٹا، یہ سب باتیں بعد میں کر لینا، ابھی تمہیں آرام کی ضرورت ہے… اور ہم سے ملو گے نہیں؟”
آغا جان اور مورے نے اپنے قدم آگے بڑھائے۔
ان کی آواز سن کر زیغم نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا،
اور مسکراتی نظروں کے ساتھ اپنی بیٹی، ارمیزہ، کو بھی دیکھا۔
آغا جان نے آگے بڑھ کر دعاؤں کے ساتھ زیغم کو گلے لگایا،
مورے نے بھی شفقت سے اسے سینے سے لگایا۔
“ابھی تم ٹھیک ہو جاؤ، ہمارے شیر، جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ۔
اس کے بعد جو کرنا ہے، کر لینا۔”
آغا جان نے باپ کی سی محبت سے اس کے پیٹ پر تھپکی دی۔
زیغم مسکرا دیا،
“بس آپ کی دعائیں چاہیے، میں اب ٹھیک ہوں۔”
وہ ارمیزہ کی طرف بڑھا،
جو ابھی تک اس کے غصے سے سہمی ہوئی تھی۔
زیغم گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، بازو پھیلائے،
اور سر کے اشارے سے اپنی بیٹی کو بلایا۔
ایک خوبصورت لمحہ…
باپ اور بیٹی کی محبت سے لبریز۔
سب کے لب مسکرا اٹھے۔
ارمیزہ بھاگ کر اپنے بابا کے گلے لگ گئی۔
“میری پرنسس، کیسی ہو؟”
“میں ٹھیک ہوں، مگر آپ ٹھیک نہیں ہیں،آپ اتنا غصہ کر رہے تھے، میں ڈر گئی تھی۔”
“اوہ میرا بچہ… ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اصل میں مجھے مائد انکل پر غصہ تھا،
باقی سب کے ساتھ میں ٹھیک ہوں۔
آپ لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں،
ڈرنا صرف اس کو چاہیے۔”
زیغم نے سرخ آنکھوں سے گھور کر مائد کی طرف اشارہ کیا۔۔
“نہیں، آپ غصہ نہیں کریں گے،
آپ غصہ کرتے ہیں تو مجھے ڈر لگتا ہے۔”
“ٹھیک ہے، میری جان، ڈن ہو گیا،
بابا غصہ نہیں کریں گے۔
مگر میں مائد انکل سے بات تو کر سکتا ہوں نا؟”
“جی… بات کر سکتے ہیں،
مگر مجھے بھی آپ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔
آپ کے لیے میں نے بہت دعائیں کی تھیں،
پھر آپ ٹھیک ہوئے،
اور مجھے آپ کو بتانا ہے کہ میں نے اللہ میاں سے کیا کیا مانگا تھا۔”
“جی میرا بچہ، سب بتانا،
بابا ضرور سنیں گے۔
بس بابا کو تھوڑا سا ٹائم دو،
بابا نے کچھ ضروری کام کرنے ہیں،
اس کے بعد… ٹھیک ہے؟
پکا پرومس،
پھر بابا آپ کی سب باتیں سنیں گے۔”
“ٹھیک ہے۔”
وہ مسکرائی۔
“مورے، پلیز… آغا جان، دانیا، ارمیزہ اور مورے کو لے جائیں،
مجھے مائدسے ضروری بات کرنی ہے۔”
زیغم نے صاف الفاظ میں سب کو معذرت کے ساتھ جانے کا کہا ۔
“بیٹا، پہلے تم ٹھیک ہو لو، پھر باتیں کرنا…”آغا جان نے نرمی سے سمجھانا چاہا۔
زیغم کی نظریں گہری ہو گئیں۔
“آغا جان،
کسی کا دل اس کے سینے میں موجود نہ ہو…
اور اس شخص سے کہا جائے کہ وہ سکون سے رہے،
پرسکون ہو کر سانس لے…
کیا وہ شخص سانس لے سکتا ہے؟”
زیغم کے ایک جملے نے کمرے میں خاموشی طاری کر دی۔
وہ ‘مہرو’ کی بات کر رہا تھا…
جو اس کا دل تھا۔
آغا جان اور مورے نے اس کی پشت تھپتھپائی،دانیا اور ارمیزہ کو لے کر خاموشی سے باہر نکل گئے۔
کیونکہ زیغم کی آنکھوں میں جو جنون تھا…وہ بتا رہا تھا کہ اب وہ رکنے والا نہیں۔
“دیکھ زیغم… ہاتھا پائی مت کرنا، یار… میری بات سنو، آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔”
مائد نے تھوڑا پیچھے ہوتے ہوئے نرم لہجے میں کہا۔
آغا جان اور باقی سب کے جاتے ہی کمرے کی فضا بدل گئی تھی،
مائد کو اپنا وجود خطرے میں محسوس ہونے لگا۔زیغم کی سرخ آنکھیں مسلسل اسے گھور رہی تھیں،
اور ان نگاہوں میں وہ خاموش طوفان صاف دکھائی دے رہا تھا۔
مائد بیچارہ بیڈ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا،
اپنے دفاع کے لیے کچھ کہنا چاہ رہا تھا،
مگر زیغم کی خاموشی…
کمرے میں گونجتی ہر آواز سے زیادہ خطرناک تھی۔
“بیٹھ کر بات کروں تمہارے ساتھ؟”
زیغم کا لہجہ طنزیہ تھا۔
“کیا سوچ کر مجھے انجیکشن لگوایا تھا؟ تب کیوں نہیں سوچا کہ بیٹھ کر بات ہو سکتی ہے؟”
یہ کہتے ہی وہ جھپٹ کر مائد کا گریبان پکڑ چکا تھا،
اور اسے دبوچے کھڑا تھا۔
مائد نے بوکھلا کر کہا،
“یار… تیری صحت کے لیے کیا تھا، تُو ہائپر ہو رہا تھا۔
ڈاکٹر نے کہا تھا تمہیں آرام کی ضرورت ہے، ضروری تھا، اس لیے کیا۔”
“تو اور تیرا ڈاکٹر دونوں کو زندہ گاڑ دوں گا اگر دوبارہ ایسی حرکت کی!”
زیغم کی آنکھوں میں پھر وہی شعلے دہکنے لگے۔
مائد نے ہار مانتے ہوئے مدھم آواز میں پوچھا،
“اچھا تو بتا… میری غلطی کا ازالہ کیسے ہو سکتا ہے؟
کیسے تُو مجھے معاف کرے گا؟”
زیغم تھوڑا سا جھکا، اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔
“جہاں میرے ٹیکا گھسوایا ہے، منگوا انجیکشن …
وہیں میں بھی لگاؤں گا، پھر حساب برابر ہوگا۔”بات ختم کرتے،سر پیچھے کیا تو مائد کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
“آنکھیں پھاڑ کر مت دیکھ…
دل تو کرتا ہے وہی کروں جو کہا،
مگر میں تیرے جیسا گھٹیا نہیں ہوں۔
بس اب اتنا بتادے کہ مہرو کہاں ہے …”یہ صرف مائد کے لیے ایک سوال نہیں تھا ایک ڈر تھا جو اسے خوفزدہ کر رہا تھا۔مگر اب جواب دیے بغیر کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔
مائد نے لب بھینچے، نظریں زیغم کے چہرے پر جمائے، آہستگی سے، جیسے الفاظ کا بوجھ دل پر پہلے سے ہی محسوس کر رہا ہو۔
“سچ وہی ہے، زیغم… جو میں تمہیں پہلے بتا چکا ہوں۔
قسم سے کچھ نہیں چھپا رہا۔
میں نے چپا چپا چھان مارا،
ہر دروازہ کھٹکھٹایا، ہر سایہ چھانا…
مگر وہ نہیں ملیں۔”
اس کی آواز میں وہ شکستہ پن جھلک رہا تھا جو کسی کے ہاتھ خالی رہ جانے پر اترتا ہے۔
“نہ مہرو بھابھی کا کوئی نشان ملا،
نہ شہرام کا کوئی اتا پتا،
اور توقیر…
وہ بھی جیسے ہوا میں تحلیل ہو گیا ہو۔
سب کچھ، ایک خاموشی میں دفن ہو گیا، زیغم۔میرے پاس اب صرف ندامت ہے… اور تمہارا سامنا میں اسی ندامت سے کر رہا ہوں جو بھی سزا دو گے منظور ہوگی۔”
“واہ واہ مائد خان درّانی، واہ…”
زیغم کی آواز میں زہر نہیں تھا، مگر زخم ضرور بول رہے تھے۔
” تم سزا کے لیے تیار ہو ؟”
“میں کون ہوتا ہوں کسی کو سزا دینے والا؟
تم نے تو مجھ پر احسان کر دیا…
میری جان بچا کر، میری بیٹی کو اپنے پاس رکھ کر۔بس، اب اور احسان کی ضرورت نہیں ہے۔”
زیغم نے قدم پیچھے ہٹائے، نظریں مائد کے چہرے سے نہ ہٹیں۔
“برائے مہربانی… اپنے ڈاکٹر اور اسٹاف کو کہہ دوکہ اب کوئی مجھے روکنے کی کوشش نہ کرے۔
میں خود ڈھونڈ لوں گا اپنی مہرو کو…
اور ان دونوں کو بھی،
جن کی وجہ سے آج میری مہرو نہ جانے کس حال میں ہے۔”
اس کا لہجہ تھما ہوا تھا،
مگر آنکھیں… جیسے سلگتے انگارے۔
“کیا تمہیں ذرا سا بھی احساس ہے
کہ وہ کس اذیت سے گزر رہی ہوگی؟
کیا تم جانتے ہو اُس کے ساتھ کیا ہوا ہوگا؟”زیغم کی آواز پُرسکون تھی،
مگر وہ سکون کسی طوفان سے پہلے والی خاموشی جیسا تھا۔
مائد کی نظریں شرمندگی سے جھکی ہوئی تھیں۔
زیغم کے الفاظ گویا کسی تیز دھار چاقو کی طرح اس کے دل پر اترے تھے۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اسے زمین میں زندہ دفن کر رہا ہو۔
حالانکہ مائد نے مہرو کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی،
ہر راستہ، ہر وسیلہ آزمایا تھا۔
مگر اس کے باوجود… زیغم کے چہرے پر نہ سکون تھا، نہ اطمینان۔
اور یہی احساس…
مائد کے لیے سب سے بڑی شرمندگی بن گیا تھا۔
تمہاری ایک ایک بات میرے دل کو آری کی طرح چیر رہی ہے، زیغم، مگر تم اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہو۔
میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں، مگر اس وقت تمہاری حالت ٹھیک نہیں، تم کہیں نہیں جا سکتے، مائد نے بہت ٹھہراؤ کے ساتھ کہا تھا، کیونکہ زیغم سے ذرا سا بھی تلخ یا سخت لہجہ اسے بھڑکا سکتا تھا۔
مائد خان، اگر میں تمیز کے دائرے میں تم سے بات کر رہا ہوں تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔
تمیز سے بات صرف اس لیے کر رہا ہوں کہ تم یہ نہ سمجھو کہ میں پاگل ہوں، اور تم اپنی طاقت کا سہارا لے کر مجھے پھر سے بستر پر ڈلوا دو۔ زیغم کے لہجے میں کڑوا طنز گھلا ہوا تھا۔
کیوں، مجھے اپنا دشمن سمجھ رہے ہو؟ تمہاری فکر ہے، اس لیے کہہ رہا ہوں، مائد نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں، بولتے ہوئے قریب آیا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
دوستی کی بات مت کرو۔ اگر واقعی دوست ہوتے، تو تم میرے دل کا حال جانتے۔ اور اگر دل کا حال جانتے، تو سمجھتے کہ میرے سینے میں اس وقت ایسی آگ بھڑک رہی ہے جسے پوری دنیا کا پانی بھی بجھا نہیں سکتا۔ ایک غیرت مند مرد کے گھر کی عورت چند لمحوں کے لیے نظروں سے اوجھل ہو جائے، تو ہر گزرتا سیکنڈ اسے ہزاروں بار مارتا ہے۔ اور میری بیوی… میری عزت… میری محبت… پچھلے چھ ماہ سے لاپتا ہے۔ کہاں ہے؟ کیسی ہے؟ زندہ بھی ہے یا نہیں؟ کوئی اتا پتا نہیں۔ اور اس وقت میں کیا محسوس کر رہا ہوں… تم نہیں سمجھ سکتے، کبھی بھی نہیں سمجھ سکتے۔
زیغم نے ایک ایک لفظ ایسے چبا کر ادا کیا جیسے غصے کی شدت سے وہ لفظوں ہی سے سامنے کھڑےہوئے مائد خان درانی کہ جسم سے جان نکال لے کو گا۔
ایسا نہیں ہے، زیغم… مجھے تمہارے درد کا احساس ہے۔ کیا کروں، دل چیر کر دکھا دوں؟ کیسے یقین آئے گا تمہیں؟ خدا کی قسم، میں نے کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، مگر میں ناکام رہا۔ مائد کے چہرے پر ہار اور درد کے رنگ واضح جھلک رہے تھے۔ زیغم نے غصے بھری نگاہوں سے ایک بار پھر اس کی طرف دیکھا۔
“اسی لیے تو کہہ رہا ہوں کہ تم ہار گئے وہ اب پیچھے ہٹ جاؤ … مگر میں نہیں ہاروں گا۔ جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ وہ میری عزت بھی ہے اور میری محبت بھی۔ میں اسے دنیا کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ نکالوں گا، اور جن لوگوں نے میری معصوم مہرو کو مجھ سے دور کیا ہے… ان کو میں ایسی عبرت ناک موت دوں گا کہ سننے والوں کی روح تک کانپ جائے۔”
زیغم کا جنون دیکھ کر مائد خود بھی گھبرا گیا تھا۔ ڈاکٹر نے اسے ٹینشن لینے سے منع کیا تھا، مگر یہاں تو زیغم ایک دہکتا ہوا لاوا بن چکا تھا۔
“تم نے خود کو غیرت مند کہا، اور اس جملے کے بیچ سے مطلب یہ نکل آیا کہ میں بے غیرت ہوں۔ مائد کا لہجہ ٹوٹا ہوا اور زخمی تھا۔”
“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا، اگر تم نے مطلب خود سے نکالا ہے تو اس کا میں کچھ نہیں کر سکتا۔” زیغم کا انداز صفاک شاید یہ وقت کے دیے ہوئے وہی زخم تھے جو اب ناسور بن کر اس کے لہجے میں بول رہے تھے۔
“کبھی کبھی کسی کو نظروں سے گرا دینے کے لیے، الفاظ میں چھپے وہ فقرے ہی کافی ہوتے ہیں جو دل کو چیر کر رکھ دیتے ہیں۔” مائد خان کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا، آنکھوں میں دکھ اور چہرے پر مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔
“جس کا دل خود زخمی ہو، وہ دوسروں کے لیے شہد میں ڈوبے ہوئے الفاظ نہیں بول سکتا۔ زیغم کا لہجہ اب بھی سفاک تھا، جیسے سرد ہوا کا جھونکا جو دل کو بے دردی سے چھید دیتا ہے۔”
“مائد زیغم کی نظروں میں نظریں جمائے کھڑا تھا، جبکہ زیغم اس سے نظریں نہیں ملا رہا تھا۔ شاید وہ اپنے غصے کی شدت کو اب اور ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔”
زیغم، تم کیوں اتنے سخت اور سنگدل ہو گئے ہو؟ مائد کی آواز میں بے بسی اور درد کا سمندر تھا، لیکن آنکھوں میں سوال کا طوفان بھی۔
“معاف کر دو، یار۔ تمہاری ناراضگی میں میرا دل نہیں مانتا۔ جان لو، مار ڈالو مجھے اگر گناہگار ہوں تمہارا، کیونکہ میں تمہاری محبت کو، تمہاری عزت کو، تمہاری بیوی کو نہیں ڈھونڈ سکا۔”
مائد کے لیے یہ وہ الفاظ تھے جو زبان تک لانے آسان نہیں تھے۔اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے تمہاری عزت کو تلاش نہیں کیا؟ مگر تم جانتے تھے کہ جب تم چلے گئے تو میرے حالات کیا تھے۔ درخزئی کی موت نے میرے گھر پر سایہ جما رکھا تھا، دشمن گھات لگائے ہوئے ہر لمحہ میرے آس پاس گھوم رہے تھے۔ اور تمہاری حالت؟ کوما میں پڑے، جہاں ہر لمحہ موت کا ڈر سر پر منڈلا رہا تھا۔ میرے دل اور دماغ میں صرف یہی خوف تھا کہ کہیں تم تک کوئی دشمن ہاتھ نہ پہنچائے۔”
مائد کی آنکھوں میں بےچینی کی لہر دوڑ گئی، اور اس کے ہونٹ ایک لمحے کے لیے کانپ اٹھے۔
“تانیہ کو سمجھانا بھی آسان نہیں تھا، اس کا بھائی زندگی اور موت کے بیچ جھول رہا تھا۔ میں اکیلا تھا، آغا جان مورے، جو درخت سہی کے جانے کے بعد جیسے درخزئی کہ جانے کے بعد جیسے بکھر گئے تھے۔۔ میں اکیلا، تمہارا سہارا بھی نہیں تھا میرے ساتھ۔”
زیغم خاموش تھا، مگر اس کے چہرے پر ایک تلخی اور پچھتاوے کی ملی جلی کیفیت تھی۔۔۔
“میں بھی انسان ہوں،جہاں تک لڑ سکتا تھا لڑا، مگر پھر بھی کم پڑ گیا۔ تمہیں ناراض ہونے کا پورا حق ہے، چاہو تو جان سے مار دو چاہو تو نفرت کر لو۔ مگر بس ایک درخواست ہے،مجھ سے منہ مڑ کر نہ جانا۔بڑی مشکل سے پایا ہے تمہیں دعاؤں میں۔دور جانے کی تمنا چھوڑ دو۔”
مائد ہاتھ جوڑتے ہوئے نیچے جھک کر زیغم کے پیروں میں بیٹھ گیا، ایک ایسی حالت میں جو الفاظ سے بیان نہ کی جا سکے۔
وہ منظر، دو دوستوں کی بے مثال محبت کا آئینہ تھا؛ وہ محبت جو خون کے رشتوں سے بھی گہری اور مضبوط تھی، جو دلوں کی بے قراروں اور کرب کو سمجھتی تھی۔ مائد اور زیغم کی دوستی کا وہ لمحہ، دلوں کے آخری سرحد کو چھو لینے والا احساس تھا۔
مائد، کھڑے ہو جاؤ! یہ سب کر کے مجھے شرمندہ کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ میں شرمندہ نہیں ہوں۔ میرا دل اس وقت رو رہا ہے، تڑپ رہا ہے، اور چاہتا ہے کہ پوری دنیا کو آگ لگا دوں۔ اور تم تو میرے چند الفاظ بھی برداشت نہیں کر پا رہے۔
زیغم نے مائد کے کاندھوں سے مضبوطی سے پکڑ کر اسے غصے اور حق کے ساتھ کھڑا کیا۔ زیغم کچھ اور کہنے لگا، مگرمائد نے زبردستی اسے گلے لگا لیا۔
ابتدائی لمحے میں زیغم دھکے دے کر دور ہونے کی کوشش کر رہا تھا، مگر آخرکار وہ خود بھی سمجھ گیا کہ کب تک دوری ممکن ہے؟ دوستی ان کے دلوں میں تھی، محبت دونوں کے دلوں میں تھی، اور ایک دوسرے کے لیے قربانی کا جذبہ بھی۔ تو پھر وہ کیسے ایک دوسرے سے دور رہ سکتے تھے؟
دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا، دل دل سے ملے، سینہ سینے سے ٹکرایا، اور ناراضگیاں آہستہ آہستہ ختم ہونے لگیں۔
آنکھوں سے بے ساختہ آنسو ٹوٹ کر بہنے لگے۔ وہ آنسو جو مضبوط شخصیات کے چھپائے ہوئے جذبات کا اظہار تھے۔ کمرے میں درد زدہ خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ نہ کوئی اسٹاف تھا، نہ ڈاکٹر، نہ گھر کے لوگ۔ بس دو یار، اور یاروں کی سچی یاری۔
دوستی وہ جیت ہے، جہاں ہر شکست ہے ہار،
دردِ دل کی گواہی ہے بس خالص پیار۔
دوستی سایہ ہے جو کبھی نہ جھکے،
دوستی وہ راز ہے جو دل میں بسے۔
دوستی وہ نغمہ ہے جو چپکے سے گونجے،
دوستی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں راہ دکھائے۔
( حیات ارتضیٰ)
°°°°°°°
زرام بھائی، اگر آپ ایسے ہی پریشان بیٹھے رہیں گے تو کیا سب ٹھیک ہو جائے گا؟ آخر کار آپ کو جا کر ملیحہ کا سامنا کرنا ہے۔ اٹھیں اور جا کر اس سے ملیں۔ وہ ہوش میں آ چکی ہے۔
جا کر اس کا سامنا کریں، وہ بالکل خاموش ہے، جیسے پتھر بن گئی ہو۔ اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اس کی حالت ایسی رہی تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ سمجھ رہے ہیں، کچھ بھی۔۔۔۔
ڈاکٹر رومی سخت غصے میں تھی،زرام ویٹنگ ایریا میں چہرہ نیچے کیے بے چینی کے عالم میں بیٹھا ہوا تھا۔وہ کب سے جانے کا بول رہی تھی، مگر وہ جا نہیں رہا تھا اس کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی ملیحہ کے روم میں جانے کی۔۔۔
زرام کی پریشانی اس کے چہرے پر صاف جھلک رہی تھی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کچھ دیر ویٹنگ ایریا میں بے ترتیب قدم اٹھا کر ادھر سے ادھر جا رہا تھا۔۔
ر پھر گہری سانس لیتے ہوئے رومی کے پاس آیا۔
“، کیا واقعی ملیحہ کی حالت اتنی نازک ہے؟” زرام کی آواز میں بے چینی اور خوف دونوں تھے۔
“زرام بھائی، ملیحہ کی حالت بہت حساس ہے۔ آپ کو اس کے پاس جا کر اسے سمجھانا ہوگا ہمت دینی ہوگی۔ لیکن دھیان رکھنا ہوگا کہ اس پر زیادہ دباؤ نہ پڑے۔ اس وقت اسکا دل اور بلڈ پریشر بہت کمزور ہے، کوئی بھی اچانک جھٹکا اس کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اور ویسے بھی سیزر کے بعد ایسی کنڈیشن کے بعد ایک عورت جی مینٹلی ہیلتھ کیسی ہوتی ہے یہ آپ بھی سمجھ سکتے ہیں آپ ڈاکٹر ہیں میرا نہیں خیال آپ کو ڈیٹیل میں سمجھانے کی ضرورت۔”رومی نے نرمی مگر سرد لہجے سے کہا۔۔
زرام نے اپنی بے بسی چھپانے کی کوشش کی، “میں جانتا ہوں،مگر اس کے پاس میں اس سے بات کیسے کروں گا؟ وہ مجھے مجرم سمجھے گی، اسے لگے گا کہ میری وجہ سے وہ یہاں پہنچی ہے۔”زرام کے لہجے سے بے بسی چھلک رہی تھی ایک ایسا جرم اس کے گلے پڑ گیا تھا جو اس نے کیا نہیں تھا۔۔۔
رومی، جو قریب ہی کھڑی تھی، اس کی حالت کو بے چینی کو بے بسی کو گہری سانس لے کر بولی، “زرام بھائی،اب تو جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے اللہ تعالی اس کو صحت دے، ہم سب اس کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ آپ کو ہمت کرنی ہوگی۔ ملیحہ کو آپ کی ضرورت ہے، چاہے وہ اس وقت آپ کو سمجھے یا نہ سمجھے۔ آپ کا پیار اور صبر ہی اسے سنبھال سکتا ہے۔”
زرام نے آہستہ سے سر ہلاتے ہوئے کہا، “کیا کروں؟ اس کے پاس جا کر کیا کہوں؟”زرام کی بے بسی دیکھ کر فیصل اور رومی دونوں کو اس پر ترس آرہا تھا۔اس کے دل میں ملیحہ کی محبت تھی ملیحا کو کھو دینے کا ڈر اس کے چہرے سے نظر آرہا تھا ۔
زرام بھائی، آپ بس اس کے پاس جائیں۔ آپ جائیں گے تو بات خود بخود شروع ہو جائے گی۔
جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں لفظوں کو ترتیب دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس اتنا دھیان رکھیں کہ اس وقت وہ بہت نازک حالت میں ہے۔ آپ کو سب کچھ برداشت کرنا ہوگا اور خاموش رہنا ہوگا۔
رومی نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے زرام کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
زرام نے سب کی بات مانتے ہوئے سر ہلایا۔
ایک نظر ڈاکٹر فیصل کی جانب دیکھا جو خاموشی سے قریب کھڑا تھا۔ زرام کی نگاہ پڑتے ہی فیصل نے آنکھیں بند کر کے کھولیں اور جانے کا اشارہ کیا۔
زرام نے مشکل سے قدم اٹھاتے ہوئے کمرے کے اندر قدم رکھا۔ ملیحہ سامنے بیٹھی تھی، ویران آنکھیں چھت کی جانب مرکوز تھیں۔ نرسز انجیکشن لگانے میں مصروف تھیں، مگر ملیحہ کی حالت کچھ بھی محسوس نہیں کر رہی تھی، جیسے درد کا نام و نشان نہ ہو۔
جب انجیکشن لگاتے ہوئے اسٹاف نے زرام کو دیکھا تو اپنا کام کرتے ہی وہ فوراً کمرے سے نکل گئی ۔۔ڈاکٹر زرام کا اپنا ہاسپٹل تھا یہاں کا پورا عملہ اسے جانتا تھا۔
زرام خاموشی سے ملیحہ کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا، مگر ملیحہ نے ایک بار بھی نظریں اٹھا کر اس کی طرف نہیں دیکھا، جیسے اسے اس کی موجودگی کا کوئی احساس ہی نہ ہو۔
یہ منظر زرام کے لیے بہت تکلیف دہ تھا اور دیکھ چکی تھی کہ زَرام آیا ہے مگر مکمل نظر انداز کر رہی تھی۔
کیسی ہو؟ زرام نے بڑی مشکل سے پوچھا۔
“زندہ ہوں۔”ملیحہ نے اسے دیکھے بغیر بے رخی سے جواب دیا،
“اللہ تعالی تمہیں سلامت رکھے۔” ذرام نے دعا دی۔
“ویسے مجھے زندگی کی کوئی ضرورت بھی نہیں رہی۔” ملیحہ نے کڑوی تلخی کے ساتھ کہا۔
“ایسا کیوں بول رہی ہو؟”زرام نے درد بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا،
“تم سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ میں ایسا کیوں بول رہی ہوں؟”ملیحہ نے سرخ آنکھوں سے غصے سے اس کی طرف دیکھا،
“قسم سے، ملیحہ، میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔”زرام نے نرمی سے اپنی گواہی دینے کی بے جان سی کوشش کی۔۔۔
“پلیز زرام، تم کیا چاہتے تھے؟ مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں، مگر ہوا وہی جو تم چاہتے تھے۔ میری گود اجڑ گئی، میرا بچہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی کسی اور دنیا میں چلا گیا۔ سب کچھ ختم ہو گیا، اور یہ سب تمہاری بددعاؤں کا نتیجہ ہے۔”
“خدا گواہ ہے، میں نے کبھی اس بچے کو بددعا نہیں دی، ملیحہ! یہ الزام مجھ پر نہ لگاؤ۔”
“ہمیشہ زبان سے بددعائیں نہیں دی جاتیں۔ کبھی کبھی دل کی ٹھنڈی آہیں بھی بددعا بن جاتی ہیں، اور وہ بددعا ایسے لگتی ہے جیسے مجھے لگ گئی ہو اور میری گود خالی ہو گئی ہو۔ اور تم یہی چاہتے تھے۔”
“میں ڈاکٹر ہوں، زندگی دیتا ہوں، زندگی چھینتا نہیں۔ جتنا بھی برا سمجھ لو مجھے، مگر اتنا برا نہیں کہ کسی کو اپنی حسد زدہ نظروں سے مار ڈالوں۔”
ملیحہ نے نفرت نفرت بھری نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔
“پلیز زرام یہاں سے چلے جاؤ۔ تمہیں کیا لگا کہ میں رونا شروع کر دوں گی؟ رو کر تم سے پوچھوں گی کہ میرے ساتھ یہ سب کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ تم نے یہ سب کیسے کیا؟ نہیں، میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والی۔
اگر تم ایسا سوچ کر آئے ہو تو میں ملیحہ ہوں، اپنے قدموں پر کھڑی رہنے والی۔ مجھے رونا گڑگڑانا، کمزور ہونا بالکل پسند نہیں۔ نہ ہی ایسی عورتیں پسند ہیں جو رونے کے ذریعے اپنا حق یا محبت مانگتی ہیں۔ کیونکہ میرا یقین ہے جو اپنا ہوتا ہے، وہ یقین بھی کرتا ہے، محبت بھی دیتا ہے، اور حق بھی دیتا ہے۔ اور جو نہ دے، وہ کبھی اپنا ہوتا ہی نہیں۔”
ملیحہ کے الفاظ میں ایسی تیزابیت تھی کہ زرام خود کو جلتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔زرام خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔کیونکہ رومی نے کہا تھا کہ کوئی جذباتی الفاظ نہیں کہنے اور اس کے پاس کہنے کو تھا بھی کچھ نہیں۔۔۔
“میں مزید اور کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ہم یہاں سے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔
“مگر میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں ایک بار میری بات سن تو لو زرام نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا مگر ملیحہ نے ہاتھ جھٹک کر اپنا ہاتھ دور کر لیا۔۔۔۔
“مجھے ہاتھ لگانے مجھ پر رحم کھانے کی… کی کوشش مت کرنا….. میں بے بس اور مجبور نہیں….میری زندگی کا ایک اصول ہے… جو شخص مجھ سے ایک قدم پیچھے ہٹ جائے اور یقین نہ کرے، میں اس کے لیے اپنے دل تک آنے کے ہر دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیتی ہوں۔ پھر کوئی دستک، میرے دل پر اثر انداز ہو کر بھی، اس شخص کے لیے یہ دروازے دوبارہ نہیں کھلوا سکتی۔
کیونکہ، مسٹر زرام، دل کوئی کھلونا نہیں کہ آؤ کھیلو، جی بھر جائے تو پسند نہ آئے اور چھوڑ کر پیچھے ہٹ جاؤ۔ محبت تو عبادت ہے، ایک پاکیزہ جذبہ، جسے جتنا پیار سے سنبھالو گے، سمجھو گے، اتنا ہی لمبا چلتی ہے۔ بدقسمتی سے تم نے تو اپنے ہاتھوں سے ہی دل کے رشتے کے ٹکڑے کر دیے، اور اب وہ ٹکڑے کبھی بھی سمیٹے نہیں جا سکتے۔ لاکھ دلیلیں دو، لاکھ محبت کے دعوے کرو، مگر ایک بے یقینی ہماری محبت کو نگل گئی، اور سب کچھ ختم ہو گیا۔ عرش سے فرش پر آ گری… خاک ہو گئی محبت، راکھ بن گئے ہمارے ساتھ جلنے کے سپنے۔۔۔میری بات ختم ہو گئی ہے تم جا سکتے ہو۔۔۔۔وہ اپنی بات کہہ کر آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے لیٹ گئی۔
وہ بات ہی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔اور اس وقت ذرام اس پر مزید دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔۔اس کی کنڈیشن ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔خاموش ٹوٹے ہوئے قدموں سے وہ باہر کی جانب بڑھنے لگا تھا۔۔
سچ کہتے ہیں کچھ لمحے ایسے جذباتی ہوتے ہیں کہ اگر زبان کو لگام نہ دی جائے، تو وہ زندگی بھر کا پچھتاوا بن جاتے ہیں۔ زبان چلانا آسان ہے، مگر انسان کو چاہیے کہ وقت دیکھ کر، جتنا ضروری ہو، اتنا ہی بولے۔بعد میں پچھتائے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔۔وقت رہتے یہ بات ذرام کو سمجھ میں نہیں آئی تھی جس کی وجہ سے آج رشتہ ٹوٹتے ہوئے آخری سانسیں لے رہا تھا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°