Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:57

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
ایپیسوڈ نمبر 57
°°°°°°°°°
“اتنی رات کو آپ بغیر اجازت ہمارے گھر میں کیسے گھس سکتے ہیں؟ میں پولیس کو اطلاع دوں گی!” ماہ رخ نے مسلح افراد کو کڑی آواز میں دھمکی دی۔ایک عورت ایسے حالات میں پولیس کی دھمکی دینے کے سوا اور کر بھی کہہ سکتی ہے۔ماہ رخ کے چہرے پر گھبراہٹ کے رنگ واضح دیکھ کر لالی کو اس کی فکر ہونے لگی۔

“ماہ رخ، بات تو سنو… تم خواہ مخواہ ڈر گئی ہو!” لالی تیزی سے آگے بڑھی، کیونکہ ماہ رخ کا چہرہ خوف سے پیلا پڑ چکا تھا۔

“لالی، پیچھے رہ… اور دفع ہو جاؤ! تم پر تو مجھے پہلے بھی بھروسہ نہیں تھا، اور اب تو رتی برابر بھی نہیں رہا!” ماہ رخ نے غصے سے اسے دھکا دے کر خود سے دور کر دیا۔کیونکہ ماہ رخ کو لگ رہا تھا کہ یہاں پر چھاپہ ڈلوانے والی لالی ہے اس وقت لالی اسے غدار لگ رہی تھی۔۔

اس سے پہلے کہ ماہ رخ دوبارہ ان بندوق تھامے آدمیوں سے کچھ کہہ پاتی، دروازے سے داخل ہوتی شخصیت کو دیکھ کر لمحہ بھر کو فضا بدل گئی، جیسے ہوا بھی تھم گئی تھی۔بے شک ان شخصیت ایسی تھی جنہیں دیکھ کر نظریں تھم جائیں۔
ماہ رخ کے سامنے ایک ایسا مرد کھڑا تھا جس کے وجود سے رعب اور وقار جھلک رہا تھا۔ گندمی چمکدار رنگ، چوڑے شانے، تیز تراشے ہوئے خدوخال اور گہری آنکھوں میں غیرت اور بے باکی کی چمک۔ سادہ مگر منفرد لباس ، لائٹ گرے سوٹ کے اوپر گلے میں ڈالی ہوئی اجرک، کاٹن کے کپڑے پر ہلکی سی پڑی سلوٹیں ۔ مگر انداز ایسا کہ لگتا تھا کپڑے نہیں، شخصیت اس کی پہچان ہیں۔ چہرے پر شدید غصہ اور آنکھوں میں سرخی، جیسے ہر نگاہ میں ایک حکم پوشیدہ ہو۔

اس کے ساتھ کھڑا دوسرا مرد بھی کسی لحاظ سے کم نہ تھا۔ قد اور شانے پہلے جتنے مضبوط، مگر چہرے کے نقوش میں پہاڑوں کی سختی اور مٹی کی خوشبو کا امتزاج۔ آنکھوں میں ایک خاموش اعتماد، جیسے بولے بغیر بھی اپنی بات منوا سکتا ہو۔ وجود میں وہ ٹھہراؤ اور طاقت جو فطرت سے جڑی زندگی میں پروان چڑھتی ہے۔ ایسا شخص جس کی موجودگی ہی بتا دے کہ وہ نہ صرف جسم سے، بلکہ حوصلے اور ارادے سے بھی بڑا ہے۔

دونوں کی ہائٹ تقریباً ایک جیسی، شخصیت اتنی اثر انگیز کہ کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا ممکن نہ تھا۔

“اے لڑکی، یہ پولیس کی دھمکی کسی اور کو دینا!” آواز میں وہ ٹھہراؤ اور گونج تھی جو خاموشی کو چیر دے۔ “یہاں پولیس بھی ہم ہیں، عدالت بھی ہم… مدعی بھی ہم، اور مجرم بھی ہم!”

وہ ایک لمحے کو رکا، پھر قدم آہستہ آہستہ آگے بڑھائے۔ “اس لیے کسی کا بھی ڈر دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔
ہم تمہیں کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ بس تھوڑی سی معلومات چاہیے۔ اگر تم آرام سے منہ کھول دو، تو تمہیں کوئی تکلیف نہیں دی جائے گی۔”

یہ مائد خان دورانی کی بھاری اور گہری آواز تھی، جو دھمکی اور یقین دہانی کا امتزاج لیے ہوئے تھی۔رات کا تیسرا پہر گزر رہا تھا ، ویران کالونی کے سنسان صحن میں ہوا بھی ڈر کے مارے جیسے ساکت تھی۔
“کیسی تفصیل؟” ماہ رخ نے گہری سانس لیتے ہوئے، حیرانی سے پوچھا۔

“مائد وقت کیوں ضائع کر رہیں ہو؟ جب اس نے بتا دیا ہے کہ مہرو یہاں ہے تو اس لڑکی سے سیدھا کہو کہ مہرو کو لے کر آئے! فضول میں ٹائم ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” ساتھ کھڑے زیغم سلطان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اس کے لہجے میں کاٹ اور آنکھوں میں بے زاری کی سرخی تھی۔ اسے فضول باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اسے فوراً سے پہلے مہرو کو دیکھنا تھا جس کے لیے وہ رات کے اس پہر آن پہنچا تھا صبح ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا۔
زیغم کا اشارہ صاف طور پر لالی کی جانب تھا، کیونکہ یہاں تک انہیں لالی ہی لے کر آیا تھا۔
زیغم کے چہرے پر ابال کھاتے غصے کو دیکھ کر ماہ رخ کے لب جیسے سل گئے۔ مگر اس کی گہری اور بھاری آواز نے کسی اور کے دل میں طوفان برپا کر دیا۔ وہ آواز… پہچاننے میں مہرو کو ایک لمحہ بھی نہیں لگا۔ یہ اس کے سائیں کی آواز تھی۔

اس وقت وہ دروازے کے ساتھ، سٹور روم کی اوٹ میں چھپی ہوئی تھی، لیکن جیسے ہی وہ آواز کانوں میں پڑی، اس کے قدموں میں جنبش آ گئی۔

وہ ایسے دوڑی جیسے کوئی ڈرا ہوا پرندہ اپنا گھونسلا چھوڑ کر کھلے آسمان کی طرف اڑتا ہے۔ اندھی کی طرح بھاگتی ہوئی، بنا کچھ دیکھے، بنا کسی کو پرکھے… وہ آ کر سیدھی زیغم سلطان کے سینے سے ٹکرا گئی۔

سب کچھ اتنی تیزی اور طوفانی انداز میں ہوا کہ بندوق تھامے آدمیوں نے فوراً خطرہ بھانپ کر اس کی طرف ہتھیار تان دیے۔ مگر جس وجود سے وہ پناہ گاہ سمجھ کر لپٹ گئی تھی، اس کا بس ہاتھ اٹھانا اور ایک نظر ان آدمیوں پر ڈال دینا ہی کافی تھا۔ اس ایک نگاہ میں ایسا حکم تھا کہ کسی کی جرات نہ ہوئی آنکھ تک اٹھانے کی۔بندوق تھام کر کھڑے آدمیوں نے چہرے کا رخ موڑ لیا تھا سمجھ چکے تھے کہ نگاہوں سے کیا حکم دیا گیا ہے۔

زیغم سلطان کی مضبوط بازوؤں کا دائرہ اب اس کے گرد بند چکا تھا۔ایک ایسا حصار، جس کے اندر دنیا کا کوئی خوف، کوئی خطرہ قدم رکھنے کی ہمت نہ کر سکے۔ اور زیغم نے بغیر اس کا چہرہ دیکھے، صرف اس کے وجود کے لمس سے پہچان لیا… یہ اس کی مہرو تھی۔
مائدہ خان نے نظریں جھکا لی تھیں، مگر اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ اس کا جان سے پیارا دوست… اس کی بیوی، اس کی عزت، اس کی محبت… سب اس کے پاس آگئی تھی۔ اس لمحے مائد کے دل سے ایک ساتھ بے شمار دعائیں نکلی تھیں، جن میں اس نے بس ان دونوں کا ساتھ مانگا تھا۔

ماہ رخ حیران تھی۔ مہرو تو حد سے زیادہ خوفزدہ رہنے والی لڑکی تھی، جو کسی کا سامنا تک نہیں کر پاتی تھی، مگر یہاں… وہ اس کے گلے لگی ہوئی تھی۔ اسےسمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہی اس کا سائیں ہے۔ بے اختیار ماہ رخ کے لبوں پر بھی مسکراہٹ دعا کی طرح پھیل گئی۔

دوسری جانب لالی ہاتھوں کو گھماتے ہوئے، ماتھے کے دونوں طرف لگاتی، بلائیں اتار رہی تھی۔ منظر کچھ ایسا تھا جیسے برسوں بعد شہزادہ اپنی شہزادی سے ملا ہو اور پوری رعایا ان کی خوشی میں شریک ہو۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پوری کائنات مسکرا رہی ہو، اور ہواؤں میں خوشیوں کی کلکاریاں بکھر گئی ہوں۔

چند سیکنڈ پہلے کا منظر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ ویران کالونی میں جیسے بہار آ گئی ہو۔ رات کے تیسرے پہر کی بیزاری اور خوفناکی میں خوشی کے رنگ بکھر گئے تھے۔ محبت کی بھی ایک ادا ہوتی ہے۔اگر وہ ویرانے سے گزرے تو ویرانے کو گلشن بننے میں دیر نہیں لگتی۔

کچھ لمحات بے اختیار ہوتے ہیں… اور یہ لمحہ انہی میں سے ایک تھا۔جذبات سے لبریز، احساسات سے چور۔

مہرو اب بھی زیغم کے سینے سے لگی ہوئی تھی، اس کی دھڑکنوں کا شور اپنی کانپتی سانسوں میں سمیٹے ہوئے۔ زیغم نے آہستگی سے اپنے مضبوط بازو ڈھیلے کیے، اور دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام لیا۔ اسے اپنے قریب کیا۔۔اتنا قریب کہ سانسوں کی حدت ایک دوسرے کو چھونے لگی۔

اس کی نظریں بے اختیار اس معصوم چہرے پر جمی رہیں… وہ چہرہ، جسے دیکھنے کے لیے وہ جانے کتنی راتیں تڑپا، اور کتنے دن لمحہ لمحہ جیا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سا امتزاج تھا۔سکون بھی اور بے قراری بھی۔
مگر مہرو کی آنکھیں… وہ تو اشکوں سے لبریز تھیں۔ کالی گھنی پلکوں کی باڑ پر شبنم کی مانند موٹے موٹے قطرے ٹھہرے ہوئے تھے، اور گالوں پر بہتے آنسو گویا برسوں کا درد بہا لے جا رہے تھے۔ زیغم کا دل یہ منظر سہہ نہ سکا۔ ایک گہری، بھاری سانس اس کے لبوں سے نکلی، اور وہ جھکا کر اس کے ماتھے پر اپنے عقیدت بھرے لب رکھ گیا ۔

یہ بوسہ صرف محبت نہیں تھا… یہ ایک عہد تھا، ایک پناہ کا اعلان، ایک یقین کہ اب کوئی طوفان اسے اس سے جدا نہیں کر سکتا۔
چند لمحوں کے لیے ارد گرد کا سب منظر دھندلا گیا۔ صحن کی خاموشی، تیسرے پہر کی ٹھنڈی ہوا، اور باقی سب لوگ گویا وقت کے کنارے پر جم گئے تھے۔ اس لمحے میں صرف دو دھڑکنیں تھیں۔ایک زیغم کی، ایک مہرو کی۔اور دونوں ایک دوسرے کی آغوش میں مکمل ہوچکے تھے ۔مگر یہ صرف چند لمحوں کے لیے تھا۔۔۔
“زیغم…”
مہرو نے اس کا نام ایسے پکارا جیسے ٹھنڈی آہ کسی گہرے زخم سے نکل کر ہوا میں گھل گئی ہو۔

“کہاں تھے آپ؟ کہاں تھے آپ، زیب؟ آپ کو میری فکر نہیں تھی؟ آپ کو نہیں پتہ تھا کہ مہرو کو اکیلے رہنا نہیں آتا؟ کہاں تھے آپ اتنے دن؟”
اس کی آواز رندھ گئی، آنکھوں میں اشکوں کا طوفان تھا۔
“میں آپ سے کوئی بات نہیں کروں گی… آپ نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا، اتنے مہینوں کے لیے!”

وہ روتے روتے زیغم کا نام لے کر جھٹکے سے اس کے حصار سے نکل گئی۔

زیغم کے لیے اس لمحے میں اس کی باقی باتیں جیسے ہوا میں تحلیل ہو گئیں۔ اس کی سماعت میں صرف ایک لفظ گونج رہا تھا… “زیغم”۔
یہ پہلا موقع تھا جب مہرو نے اسے اس کے نام سے پکارا تھا۔ وہ تو ہمیشہ اسے “سائیں” کہہ کر بلاتی تھی۔ لیکن آج، غصے، ہجر اور تڑپ کی شدت میں، اس کے لبوں سے بے اختیار اس کا نام نکل آیا تھا۔

زیغم کے دل میں اس ایک لفظ نے ایسی گونج پیدا کی کہ لمحہ بھر کو وہ سب کچھ بھول گیا۔اس کا غصہ، اس کے آنسو، اس کی شکایت… بس اس کے لبوں کی مٹھاس، جو اس کے نام میں گھل کر آئی تھی، اس کے وجود میں اترتی جا رہی تھی۔۔
مہرو کے جھٹکے سے دور ہونے پر زیغم کی مضبوط بازوؤں کا حصار لمحہ بھر کے لیے خالی ہو گیا۔
وہ چند قدم کے فاصلے پر کھڑی تھی، مگر زیغم کو ایسا لگا جیسے صدیوں کا فاصلہ ان دونوں کے درمیان آ گیا ہو۔

اس کے آنسو اب بھی بہہ رہے تھے، مگر زیغم کی نظریں ان آنکھوں سے نہیں ہٹ رہی تھیں۔وہی آنکھیں جن میں کبھی اس کے لیے شرم اور حیاء چھپی رہتی تھی، آج شکوہ اور جدائی کی تپش سے بھری ہوئی تھیں۔

وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا۔
“مہرو…” اس کی آواز میں ٹھہراؤ بھی تھا اور بے قراری بھی، جیسے ہر لفظ میں برسوں کی مسافت سمٹی ہو۔
” مہرو۔۔۔۔تم جانتی کہ یہ جدائی میری مرضی سے نہیں ،دشمنوں کی چال تھی… تم نہیں جانتی کہ تمہاری سانسوں کی خبر نہ ملنا میرے لیے کیسا عذاب تھا…”

مہرو نے نظریں جھکا لیں، مگر دل کی دھڑکن اس کی سماعت میں گونج رہی تھی۔ زیغم نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اس کی ٹھوڑی کو اوپر کیا، تاکہ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ سکے۔

“میں تمہیں اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہوں، مہرو؟” اس کے لہجے میں ایک عہد کی مضبوطی تھی۔
وہ ایک قدم اور قریب آیا، اور مہرو کا دل جیسے اس کی سمت کھنچتا چلا گیا۔
زیغم نے آہستگی سے اس کے آنسو اپنے انگوٹھے کی پشت سے صاف کیے، جیسے برسوں کا غبار مٹا رہا ہو۔
“اب نہ شکوہ رہے گا، نہ فاصلہ…” اس نے نرمی سے کہا، اور اس کی نظریں یقین کی مہر ثبت کر رہی تھیں۔
مہرو نے ہلکی سی لرزتی سانس لی۔ اردگرد کا صحن، ٹھنڈی ہوا، اور رات کا سناٹا… سب اس لمحے میں تحلیل ہو گئے۔
وقت ایک بار پھر ٹھہر گیا، اور دو دھڑکنیں ایک ساتھ چلنے لگیں۔

وہ دونوں اس لمحے میں اس قدر محو تھے کہ اردگرد کا ہوش ہی نہیں تھا۔
مہرو کی آنکھوں کے آنسو زیغم کی انگلیوں کے لمس سے مٹتے جا رہے تھے، اور ان کے درمیان ایک خاموش عہد جنم لے رہا تھا۔
وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ چاروں طرف کھڑے لوگ اس منظر کے گواہ بن چکے ہیں۔
سب کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، جیسے کسی مقدس لمحے کا احترام کر رہے ہوں، مگر دل میں ان کی محبت کی روشنی کو محسوس کر رہے تھے۔
مسلح افراد کو تو کب کا مائد خان دورانی ایک اشارے میں دروازے سے باہر بھجوا چکا تھا۔
مائد خود بھی رخ پھیرے کھڑا تھا، مگر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر تھی۔وہ مسکراہٹ جو خوشیوں بھرے لمحے کی خوشی اور اطمینان سے پھوٹتی ہے۔

لالی تو شرما کر چور نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی، جیسے کسی کہانی کی شہزادی اپنے خوابوں کے شہزادے سے ملتی ہو اور وہ اس منظر کا حصہ بننے پر فخر محسوس کر رہی ہو۔
اور ماہ رخ… وہ بھی ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ نظریں جھکائے کھڑی تھی، دل میں بے اختیار دعائیں لیے ہوئے۔
وہ لمحہ اتنا خوبصورت تھا کہ جو دیکھ رہا تھا، کوئی بھی اس میں کھوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔جیسے محبت کی ایک نرم سی لہر سب کے دلوں میں بہہ رہی تھی۔

“آپ کو نہیں پتہ… میں کتنا روئی ہوں۔” مہرو کی آواز مسلسل رونے اور ہچکیوں کی وجہ سے ٹوٹتی جا رہی تھی، آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کی روانی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ “اگر ماہ رخ آپی میرے پاس نہ ہوتی تو… مہرو تو مر جاتی…” اس نے ہچکیوں میں اپنا شکوہ دہرا دیا۔

“شششش…” زیغم نے آہستگی سے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی، جیسے ان تلخ لفظوں کو ہوا میں بکھرنے سے روک رہا ہو۔ ” مرنے کی باتیں مت کرو۔ مرنے کے لیے ہم ہی رہ گئے ہیں؟
مریں گے تو اب ہمارے دشمن۔وہ دشمن جس نے ہم سے جینے کا حق چھین لیا۔”
اس کی آنکھوں میں ایک عزم کی آگ بھڑک رہی تھی، مگر لہجہ مہرو کے لیے محبت لبریز تھا۔ “تمہارا ہر شکوہ، ہر شکایت، ہر غصہ، ہر ناراضگی… سب سر آنکھوں پر۔ تمہاری راہوں میں زیغم سلطان اپنی پلکیں بچھا دے گا۔کسی دکھ کو تم تک نہیں آنے دوں گا ایک آخری بار یقین کر لو۔۔۔ مگر اب… میرے ساتھ چلو۔ میرے ساتھ اپنے گھر ۔”

“میں ادھورا ہوں… نا مکمل۔ایک ایسا انسان ہوں جس کے پاس وجودہے مگر دل نہیں۔ مہرو… میرا دل مجھے واپس دے دو… تاکہ میں پھر سے زندہ محسوس کر سکوں۔ تاکہ دشمنوں پر کہر بن کر ٹوٹ سکوں۔”
وہ آہستگی سے ایک گھٹنا زمین پر ٹیک کر بیٹھ گیا۔ سر جھکا ہوا تھا، اور دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اس کے سامنے پھیلی ہوئی تھیں۔بالکل ویسے جیسے کوئی فقیر اپنی سب سے قیمتی چیز مانگتا ہے۔
اگر اس لمحے کو کینوس پر اتارا جاتا تو لوگ صدیوں تک اسے دیکھ کر محوِ حیرت رہتے۔”

“مہرو کبھی اپ کا حکم نہیں ٹال سکتی،گھر جاؤں گی… “مگر سب کچھ بتانے کے بعد… بہت کچھ ہے جو آپ نہیں جانتے، سائیں۔”مہرو نے ہلکی لرزتی آواز میں کہا،

مہرو نے زیغم کے دونوں ہاتھ تھامے اور خود بھی اس کے قریب زمین پر بیٹھ گئی۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے میں گم تھیں۔
“اگر میں کہوں کہ سب کچھ جانتا ہوں… بس تم میرے ساتھ چلو تو؟”

“زیغم کا لہجہ نرم اور التجا سے لبریز تھا، جس میں محبت بھی تھی اور ایسا احساسِ جرم بھی کہ وہ مہرو کی حفاظت نہ کر سکا۔ جو بات زیغم کی زبان نہ کہہ سکی، وہ اس کی نگاہ اور لہجہ بیان کر رہے تھے۔”

“نہیں! “میں پھر بھی کہوں گی کہ مجھے آپ کو سب کچھ بتانا ہے… آپ جانتے ہیں میرے ساتھ کیا کیا ہوا؟” کہتے ہوئے وہ تڑپ اٹھی، جیسے ہر زخم اور ہر درد ایک پل میں آنکھوں کے سامنے آ گیا ہو۔
“نہیں، مجھے نہیں سننا… بار بار سننے کی مجھ میں ہمت نہیں۔ تم میری مہرو ہو، اور میں تمہارا زیغم سائیں… بس یہ یاد رکھو، باقی سب بھول جاؤ۔”
“زیغم سلطان حسینہ بائی کے کوٹھے سے بہت کچھ سن کر آیا تھا، اور اب مزید سننے کی ہمت اس میں نہ تھی۔ اس کی غیرت یہ ہرگز گوارا نہیں کرتی تھی کہ اس ناپاک جگہ کا ذکر بار بار مہرو کے ساتھ جوڑا جائے۔”

“کیا آپ بھول سکیں گے؟”مہرو نے تجسس بھری نظروں سے دیکھا اور کچھ پوچھنا چاہا تھا۔

“مہرو… یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔ میں تمہیں پورے حق سے ساتھ لے جانے آیا ہوں اور جانتا ہوں، میری مہرو مجھے انکار نہیں کر سکتی۔”
اس کی آنکھوں میں ایسا حق اور یقین تھا کہ مہرو کے لبوں پر انکار آ ہی نہ سکا۔
“کیسے زیغم سلطان اپنی شریکِ حیات، اپنی محبت، اپنے معصوم عشق پر ناز نہ کرتا، جو آج کی بے باک دنیا میں بھی معصوم تھی۔ وہ آج بھی شوہر کو حکم دینے کا حق دیتی تھی۔ جہاں آج کی لڑکی کہتی ہے کہ میں مرد کے برابر ہوں، وہیں مہرو ایسی عورت تھی جو اللہ سے لگن رکھنے والی، قرآن کی آیتوں کو سینے میں محبت کی طرح سنبھال کر رکھنے والی تھی۔ اسے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت سے مضبوط بنایا ہے تاکہ وہ اس کی حفاظت کر سکے۔”

زیغم نے اس کا ہاتھ تھاما اور نرمی سے اسے اپنے ساتھ کھڑا کر دیا۔ وہ خاموشی سے اس کے حکم پر عمل کرتے ہو گئی کھڑی ہوئی۔
“چلیں…” مہرو نے نم آنکھوں سے آہستہ کہا۔
“بہت شکریہ… مجھے میری زندگی لوٹانے کے لیے۔”وہ سرگوشی جیسی مدھم آواز میں کہہ کر پلٹا تو جیسے ہوش میں آیا کہ باقی سب بھی موجود تھے۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھ کر لمحہ بھر کے لیے زیغم سلطان کا چہرہ حیا سے سرخ ہوا، مگر فوراً سنبھل گیا۔

“مائد، رفیق سے کہو، ان کو بھی ساتھ لے آئے۔”مائد کا اشارہ ماہ رخ کی طرف تھا۔

“نہیں سائیں، مجھے نہیں جانا۔ جس کے لیے دن رات فکر مند تھی، وہ صحیح اور محفوظ ہاتھوں میں پہنچ گئی ہے۔ مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔”ماہ رخ نے جانے سے صاف انکار کر دیا۔

“ہم کسی کا احسان نہیں رکھتے، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ تم نے ہمیں ہماری زندگی واپس دی، مشکل وقت میں میری بیوی کی حفاظت کی اور اس کا خیال رکھا۔” اس کی آواز میں وقار اور اعتماد تھا۔
“تم نے کیسے سوچا کہ اس عظیم احسان کے بدلے ہم شکریہ کیے بغیر جانے دیں۔؟”زیغم کا لہجہ پختہ اور لہجے سے وقار چھلک رہا تھا۔
اس نے مڑ کر ماہ رخ کو دیکھا اور دوبارہ حکم دیا، “ان کو ساتھ لے کر آؤ۔”
پھر مہرو کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے، مائد کے ہمراہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

گاڑی کا دروازہ فوراً کھولا گیا۔ مائد ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا، جبکہ زیغم اور مہرو پچھلی سیٹ پر آ کر بیٹھ گئے۔ مائد کی نظریں سڑک پر جم گئیں، جیسے سامنے سے نگاہ ہٹانا کوئی گناہ ہو۔مگر حقیقت تو یہ تھی کہ وہ نظر بھر کر بھی اس لمحے کو سامنے لگے آئینے میں۔ نہیں دیکھنا چاہتا تھا ڈر تھا کہ کہیں اسی کی نظر نہ لگ جائے۔۔

پچھلی سیٹ پر زیغم نے ایک بازو پیچھے سے گھما کر مہرو کو اپنے کندھے سے لگا لیا۔ کوئی لفظ، کوئی جملہ، دونوں کے درمیان نہیں تھ….بس خاموشی… اور اس خاموشی میں محبت کا شور تھا۔ گاڑی ہلکے ہلکے جھٹکوں کے ساتھ سنسان سڑک پر دوڑ رہی تھی، مگر ان کے دلوں میں وقت تھم چکا تھا۔

مہرو کی سانسوں کی ہلکی سی لرزش زیغم کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہی تھی۔ کھڑکی سے آنے والی رات کی ٹھنڈی ہوا اس کے بالوں کو ہلکا سا بکھیر رہی تھی، اور زیغم کی انگلیاں بے اختیار اس کے بالوں کی لٹوں کو سہلا رہی تھیں…جیسے برسوں کی تڑپ اپنے لمس سے مٹا رہا ہو۔

ان کی آنکھوں میں کوئی سوال نہ تھا، کوئی جواب نہ تھا، بس ایک عہد کی گہرائی تھی… کہ اب نہ جدائی ہوگی نہ تنہائی۔ شہر کی خاموش سڑکیں پیچھے چھوٹتی گئیں، اور گاڑی کے اندر ایک نیا سفر جنم لے رہا تھا۔ایسا سفر جو ہمیشہ کے لیے تھا۔

مائد ان دونوں کے محبت بھرے لمحات کو ذرا بھی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا، مگر ایک سوال ایسا تھا جو پوچھنا ضروری تھا۔ ورنہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ زیغم کو بھڑکانے کے لیے اس سوال میں کافی وجہ چھپی ہوئی ہے۔

مائدنے گاڑی کی سٹیرنگ گھماتے ہوئے ہلکا سا ہنکارا بھرا۔

زیغم اور مہرو دونوں فوراً مائد کی طرف متوجہ ہو گئے۔ مہرو شرماتے ہوئے جلدی سے زیغم کے کندھے سے سر ہٹا کر باہر شیشے سے کھیتوں کی طرف دیکھنے لگی۔ اذان کی نرم آوازیں گونجنے لگیں، فجر کا وقت ہو چکا تھا۔

رات کی تاریکی کو چیرتے ہوئے سویرا ہونے لگا تھا۔
“خیریت ہے؟” زیغم نے سرد لہجے میں پوچھا،
“جناب، صرف اتنا بتا دو گاڑی کس طرف گھمانی ہے۔”مائد نے پوچھا ۔

“حویلی چلیں گے۔ دانیہ کو خوشخبری دینی ہے کہ اس کی بھابھی مل گئی ہے۔ یہ پوچھنے والی بات تو بالکل نہیں تھی۔” اس کا لہجہ پھر سے سرد ہو گیا۔

مائد مسکرا دیا “جناب، اگر تم دیکھ سکو تو گاڑی واقعی حویلی کی جانب جا رہی ہے۔ پوچھا اس لیے ہے کہ تمہیں بھڑکتے ہوئے وقت نہیں لگتا… کیا پتہ جناب بول دے کہ کس کی اجازت سے گاڑی حویلی کی جانب گھمائی ہے ۔”

زیغم نے کھڑکی سے باہر منظر دیکھا، اور یقین کیا کہ مائد درست کہہ رہا تھا۔ گاڑی واقعی حویلی کی طرف جا رہی تھی۔ بے اختیار زیغم کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھرنے لگی۔ یہ سوچ کر کہ وہ مہرو کی محبت میں اتنا کھویا تھا کہ راستے کا بھی خیال نہیں رکھا۔ مگر پھر بھی بولا، “کچھ نہیں۔”

ایک نظر مہرو پر ڈالی، جو اس سے دور ہو کر کھڑکی کے پار دیکھ رہی تھی، حالانکہ کھیتوں میں اسے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر بھی وہ باہر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ اس کا شرمایا ہوا چہرہ زیغم نہ دیکھ سکے۔

مگر اس کے دل کی دھڑکنیں لمحے بہ لمحے تیز ہو رہی تھیں، جب خاموشی سے اس کے کمر پر ہاتھ حائل ہوتا ہوا واپس اسے اپنے قریب کر چکا تھا۔ مہرو نے پلکیں اٹھا کر زیگم کی جانب ایک بار بھی دیکھا نہیں، مگر وہ بے حد قریب تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ زیغم سلطان کے مضبوط ہاتھوں کی قید میں تھے۔ بے آواز محبت کے نغمے فضاؤں میں بکھرے ہوئے تھے۔
گاڑی مائد خان کی حویلی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔ امید کے مطابق دانیا، ارمیزہ، آغا جان اور مورے سب لوگ گھر کے اندر گارڈن ایریا میں ان کے انتظار میں کھڑے تھے۔ان کو فون پر پہلے ہی اطلاع دے دی گئی تھی کہ مہرو مل گئی ہے۔
جیسے ہی گاڑی رکی اور دروازہ کھلا، ارمیزہ ہوا کی طرح اڑتی ہوئی مہرو سے لپٹ گئی۔

“مہرو ماما، آپ کہاں چلی گئی تھیں؟” اس کے لہجے میں تڑپ اور بے قراری تھی، ماں کے لیے محبت حد سے زیادہ چھلک رہی تھی۔
“میں نے آپ کو بہت مس کیا تھا۔”
اس کی پیار بھری آواز سن کر مہرو نیچے بیٹھ گئی اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ بے اختیار دونوں ماں بیٹی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، جو سچی محبت کی واضح علامت تھے۔ اس دوران مائد، زیغم، آغا جان اور دانیہ سب اس ممتا بھرے منظر کو دیکھ رہے تھے۔

“مہرو ماما، آپ کہاں چلی گئی تھیں؟” اس کے لہجے میں تڑپ اور بے قراری تھی، ماں کے لیے محبت حد سے زیادہ چھلک رہی تھی۔”میں نے آپ کو بہت مس کیا تھا۔”
“میں نے بھی آپ کو بہت یاد کیا۔
“مہرو ماما، راستہ بھول گئی تھی، مجھے گھر نہیں مل رہا تھا، میں نے بہت ڈھونڈا۔” وہ کہتے ہوئے رو رہی تھی، اور اس کے الفاظ میں چھپا درد محسوس کر کے زیغم کا دل تڑپ اٹھا۔ باقی سب کے لیے یہ محض ایک لفظ تھا کہ وہ راستہ بھول گئی تھی، مگر اس لفظ میں اس کی معصومیت، اس کا درد اور تڑپ چھپی ہوئی تھی۔

“اب آپ گھر سے باہر مت جانا، گندے لوگ آپ کو ہم سے دور کر دیتے ہیں، پھر آپ راستہ بھول جاتے ہو۔ اب آپ کہیں مت جانا ۔۔ مت روئیے۔” وہ مہرو کے آنسو صاف کرتے ہوئے محبت جتا رہی تھی، ارمیزہ کی آنکھوں کے سامنے وہی منظر گھوم سا گیا تھا جب ان پر حملہ کیا گیا اور مہرو کو ان سے چھین کر دور کر دیا گیا اس لیے وہ باہر جانے سے اسے روک رہی تھی۔ دانیا جلدی سے آگے بڑھی۔
“بھئی، ہماری باری بھی آنے دو، ہم بھی اپنی بھابی سے ملنا چاہتے ہیں۔”

مہرو نے کھڑے ہوتے ہوئے دانیہ کی طرف روتی نظروں سے دیکھا، اور دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئیں۔ دونوں میں بہنوں جیسی محبت نظر آ رہی تھی۔ آغا جان اور مورے نے آگے بڑھ کر مہرو کے سر پر ہاتھ رکھا اور بہت دعائیں دیں۔۔۔دانیا نے ماحول کو تھوڑا ہلکا کرنے کے لیے آگے بڑھ کر زیغم کے گلے لگتے ہوئے مبارکباد دی۔
“چلیں اندر، مورے نے بہت زبردست ناشتے کا انتظام کیا ہے۔”

“نہیں، تم اپنی بھابی کو لے کر جاؤ، مجھے تھوڑا سا ضروری کام ہے، میں ابھی آتا ہوں۔”زیغم نے ت
دانیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہا ۔
“ایسا کیا کام ہے جو گھر کے اندر نہیں آ سکتے۔کم سے کم ناشتہ تو کر لو پھر چلے جانا جہاں بھی جانا ہے ؟” سب نے حیرت سے پوچھا۔مورے نے فکر مندی اور حیرانی سے پوچھا۔۔

“مورے کو کچھ لوگوں کو انجام تک پہنچانا ہے، بس کچھ ہی دیر میں آ جائیں گے، بے فکر رہیں۔”زیغم سے پہلے مائد خان نے جواب دے دیا۔۔
مائدہ کے جواب سے سب کو یہ سمجھ آ گیا کہ دونوں کو جانا ہے۔
بیٹا، ناشتہ تو کر لو، پھر چلے جانا،” آغا جان نے اصرار کیا۔

“نہیں، ہمیں جانا ہے، بہت ضروری ہے، اور تفصیل سے بات کرتے ہیں۔ آپ دانیہ کا خیال رکھیے گا۔”
زیغم نے فیصلہ کن انداز سے کہا اور گاڑی کی جانب پلٹنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ گاڑی کے قریب جاتا، مہرو جلدی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

زیغم نے پلٹ کر دیکھا، مہرو نفی میں سر ہلا رہی تھی۔

“پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے، تھوڑی دیر میں آ جاؤں گا۔ کام بہت ضروری ہے، ورنہ جانے کا میرا بھی دل نہیں چاہ رہا۔” زیغم نے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے، اپنے ہاتھ کو نرمی سے اس کے گال پر رکھا، جیسے ہر لمس میں سکون اور یقین کا پیغام ہو۔

مگر مہرو جیسے سن ہی نہیں رہی تھی۔ وہ زیغم کا ہاتھ سختی سے تھامے کھڑی تھی، چھوڑنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں تڑپ، بے بسی اور شدت چھپی ہوئی تھی، اور ہر لمحے میں یہ واضح تھا کہ وہ جانے نہیں دینا چاہتی۔

“سرکار، آجاؤں گا۔ اگر آپ ہاتھ پکڑ کر رکھیں گی تو میں تو نہیں جا سکوں گا۔” زیغم کی آواز میں محبت اور ہلکی سی عاجزی جھلک رہی تھی۔

“ریکویسٹ کر رہا ہوں، پلیز جلد از جلد آ جاؤں۔ اگر چاہو تو قسم بھی دے سکتی ہو۔” مہرو خاموش رہی، بس جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس کی خاموشی میں بھی محبت اور شدت کے اتنے احساسات تھے کہ زیغم کے دل کی دھڑکنوں کو بےتاب کرنے کے لیے کافی تھے۔
“سرکار حکم دیں تاکہ میں جا سکوں ایسے خاموشی سے سامنے والے کے صبر کا امتحان نہیں لیتے… زیغم کے لب سرگوشی کی طرح ہلے آواز با مشکل مہرو تک پہنچی تھی…” ماہ رخ آپی کہاں ہے۔۔۔۔مہرو نے کسی راز کی طرح آہستہ سے اس سے پوچھا۔۔مہرو کی انکھوں میں ماہ رخ کے لیے محبت اور فکر زیغم کو صاف نظر آ رہی تھی۔
“وہ بالکل ٹھیک ہیں پریشان مت ہو ..واپس آکر اس سے ملوا دوں گا ۔وہ بالکل محفوظ ہے زیغم نے پھر سے سرگوشی نما آواز میں اسے تسلی دی.. وہ دونوں آپس میں بات کر رہے ہیں سب کو صرف یہی نظر آرہا تھا کیا بات کر رہے ہیں یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کیونکہ آواز بہت کم تھی۔۔

مہرو کی تڑپ اور بھائی کی بے بسی دیکھ کر،دانیا آگے بڑھی اور مہرو کا ہاتھ تھام لیا۔
“میری پیاری بھابھی جی، جانے دے۔ اب یہ چاہ کر بھی کہیں نہیں جائیں گے۔ ہم نے دیکھا ہے بھائی کو آپ کے لیے تڑپتے ہوئے۔۔۔ آپ بھائی جان کا دل ہیں، آپ کو چھوڑ کر یہ کہاں جائیں گے؟ آپ کی محبت کی زنجیر اتنی مضبوط ہے کہ آزاد ہونا اب ناممکن ہے۔” دانیا نے مسکراتے چہرے اور محبت بھرے لہجے سے کہا۔۔۔
مجبوراً مہرو نے زیغم کا ہاتھ چھوڑا، مگر اس کی تڑپ واضح تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ وہ قریب رہے، لیکن وقت اور ضرورت نے اسے جانے پر مجبور کیا۔

دانیا مہرو کو گھر کے اندر لے گئی، جبکہ مہرو بار بار پلٹ کر زیغم کی جانب دیکھ رہی تھی۔
مائد اور زیغم دونوں گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے، اور گاڑی ایک بار پھر مائد خان کی حویلی کے گیٹ کو پار کرتے ہوئے سڑک پر رواں دواں تھی، جیسے ہر لمحے میں نئے سفر اور نئے آغاز کی نوید لے کر جا رہی ہو۔۔
°°°°°°°°

تھانے کے تنگ، بوسیدہ دیواروں پر نمی کے دھبے اور فرش پر پھیلی باسی بُو کے بیچ حسینہ کی چیخیں بار بار گونجتیں، اور ہر بار لیڈی کانسٹیبل کی ہتھیلی اس کے گال پر ایسے آتی جیسے برسوں کے گناہوں کا حساب برابر کر رہی ہو۔جو چہرہ ہمیشہ رنگ برنگے مصنوعی میک اپ سے رنگا رہتا تھا اس وقت اسے نیچرل میک آپ کیا جا رہا تھا۔

“ہائے ہائے… کمبختو! کھال ادھیڑنے کا ارادہ ہے کیا؟” حسینہ کی کراہتی ہوئی آواز میں اب خوف کی ہلکی لرزش شامل ہو چکی تھی، مگر جواب میں ایک اور بھرپور تھپڑ پڑا، اتنا کہ کمرے کی فضا میں وہ آواز دیر تک معلق رہی۔۔
“جب تو بے بس، مجبور لڑکیوں پر ظلم کرتی تھی، انہیں اپنے کوٹھے پر لاتی تھی اور زبردستی دھندا کرواتی تھی، تب تجھے درد نہیں ہوتا تھا۔ اب تجھے درد ہو رہا ہے؟”

کانسٹیبل نے ایک کے بعد ایک تھپڑ اس کی گال پر رسید کرتے ہوئے غصے بھری آواز میں کہا۔ ہر تھپڑ کے ساتھ حسینہ کو اپنی چمڑی پر درد محسوس ہو رہا تھا۔

کمرے کے دوسرے کونے میں اس کے طبلے والے بھی سپاہیوں کے ڈنڈوں کے نیچے سسک رہے تھے۔ پسینے اور مٹی میں لتھڑے چہرے، ہر ضرب پر مچلتے جسم… ڈنڈے کی “تھپ” اور ان کی کراہیں مل کر ایک ایسا مکروہ ساز بنا رہی تھیں جو اس گندے کاروبار کے خاتمے کا اعلان کر رہا تھا۔۔
“سانس لینے دو، میں بلڈ پریشر کی مریض ہوں… مر جاؤں گی!” حسینہ نے توبہ، توبہ کرتے ہوئے دہراتے ہوئے کہا۔
لیڈی کانسٹیبل کے چہرے پر سختی تھی، اور لہجہ سپاٹ۔
“جب تک زیغم سلطان کا حکم نہیں آتا… تم سب کی یہ دھلائی جاری رہے گی۔”

حسینہ نے ہانپتے ہوئے غصے اور بے بسی میں کہا،
“تب تک تو ہم مر جائیں گے… ہم کوئی گدھے تھوڑی ہیں جو اتنا مار کھا لیں!”حسینہ کی آواز میں اب بھی اکڑ باقی تھی۔
کانسٹیبل کے ہونٹوں پر ایک تیکھی مسکراہٹ ابھری،
“اکڑ اپنے پاس رکھ، حسینہ۔تیری اکڑ کا یہاں کوئی فائدہ نہیں ہے۔میں تو تیرے پیچھے بہت دیر سے پڑی ہوئی تھی۔ بہت سے ثبوت میں نے اکٹھے کر لیے تھے ،مگر مجبوری یہ تھی کہ ہر بار تو اپنی دلالی پاور کا صحیح استعمال کرتی اور تیرے دلال مجھے تجھ تک پہنچنے نہیں دیتے تھے۔۔مگر اس بار تیرا بچنا ناممکن ہے۔

جانتی ہیں کیوں کیونکہ۔ اس بار جس نے تیرے کوٹھے پر ریڈ ڈلوائی ہے، وہ کوئی عام آدمی نہیں… زیغم سلطان ہے۔ مر کے قبر میں بھی پہنچے گی نا، تو بھی وہ تجھے آزاد نہیں ہونے دے گا۔ اور سن… خوشخبری یہ ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر تیرے اس گند خانے پر مہر لگنے والی ہے۔ وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔گند خانے کو صفحہ ہستی کے مٹا دیا جائے گا۔”
یہ سنتے ہی حسینہ کی آنکھوں کی چمک بجھ گئی۔ اب آواز میں غصہ نہیں، ایک لرزتا ہوا خوف تھا۔۔
اور اس کی آنکھوں میں ڈر دیکھ کر کانسٹیبل سمیت دیگر پولیس کے لوگوں کو بہت اچھا لگ رہا تھا کیونکہ حسینہ کے چہرے پر آج تک کسی نے ڈر نہیں دیکھا تھا۔حسینہ کئی بار تھانے آ چکی تھی مگر ہمیشہ اس کہ چہرے پر ایک ککڑ ایک غرور ہوتا تھا۔۔۔ وہ آئے دن کسی نہ کسی کو یہاں سے چھڑوانے آیا کرتی تھی مگر آج وہ مجرم خود تھی۔۔

کانسٹیبل نے آخری وار بولتے ہوئے کہا،
“اور سن ایک خوشخبری اور بھی سن۔جن لڑکیوں کے گھر والے انہیں قبول کریں گے، وہ واپس جائیں گی۔ باقی سیدھی دارالامان… اور تو؟ تو ساری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتی رہے گی۔”کیونکہ تیرے خریدار تجھ پر اپنے پیسے نہیں لوٹائیں گے۔ تم تو ان معصوم بچیوں کی قیمت وصول کرتی تھی، جنہیں تو زبردستی اٹھا کر اس گندی دلدل میں لے آتی۔”

اس بار حسینہ کے لب کپکپائے، سانس اٹک گئی، اور کانسٹیبل کے اگلے تھپڑ کا بھی احساس نہ ہو سکا۔ خوف اور بے بسی نے اس کے اندر کی آواز کو نوچ ڈالا۔
“میرے برسوں کی محنت پر… وہ ایسے پانی نہیں پھیر سکتا!”وہ ذہن میں سوچتے ہوئے بلند آواز میں بڑبڑائی تھی جس کا اندازہ اسے خود بھی نہ ہوا۔۔
“محنت؟ سچ میں تمہیں لگتا ہے کہ تم نے محنت کی ہے؟”
حسینہ کی بڑبڑاہٹ تھانے کے اندر قدم رکھتے ہی زیغم سلطان کے کانوں تک پہنچ گئی۔ اگلے ہی لمحے اس کی گرجدار آواز گونجی۔اتنی بلند کہ جیسے دیواروں سے ٹکرا کر پورے تھانے میں گونج اٹھی ہو۔ لمحہ بھر میں تھانے پر سناٹا چھا گیا۔

جن پر ڈنڈے برس رہے تھے، ان پر بھی ہاتھ رک گئے۔ سپاہیوں اور کانسٹیبل سب کے سب جیسے ساکت ہو گئے، اور نظریں یک دم زیغم سلطان کی طرف اٹھ گئیں۔
زیغم سلطان کے ہمراہ مائد خان بھی تھا۔ دونوں تیز قدموں سے بڑھتے ہوئے حسینہ کے قریب جا پہنچے، جو سلاخوں کے پیچھے ایک کرسی پر بیٹھی تھی لیڈیز کانسٹیبل کے ہاتھوں اپنی خوب درگت بنوا رہی تھی۔

جیسے ہی خبر ملی کہ تھانے میں زیغم سلطان اور مائد خان آئے ہیں، تھانے کا انچارج تیز قدموں سے اپنے دفتر سے نکلتا ہوا آیا۔

“سر، آپ کو یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ حکم دیتے، وہ فوراً پورا ہو جاتا۔” کانسٹیبل نے احترام سے کہا۔

“حکم تو میں دے چکا ہوں،اب تو بس عمل باقی ہے۔” زیغم سلطان کی آواز میں گرج اور سچ کی کاٹ تھی، “اور حکم یہ ہے کہ اس عورت کو ایسی دردناک سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی حسینہ بائی معصوم لڑکیوں پر ظلم کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ کوئی ایسی حسینہ پیدا ہی نہ ہو جو یہ گندا دھندا شروع کرے۔”

زیغم سلطان کی دھاڑ گونجتے ہی تھانے کا انچارج ایک قدم آگے بڑھا، آنکھوں میں سختی اور لہجے میں عزم لیے بولا۔
“یقین رکھیے سر، اس عورت کو ایسا انجام ملے گا کہ اس کی چیخیں گلی گلی سنائی دیں گی۔ لوگ اس کی شکل دیکھ کر نفرت کریں گے، اور اس کا نام سن کر ماں باپ اپنی بیٹیوں کو سینے سے لگا لیں گے۔جو اس کم ذات کی وجہ سے اس دلدل میں پھنس گئی۔۔”

اس کے اشارے پر کانسٹیبل فوراً حرکت میں آئے، سلاخوں کے پیچھے حسینہ کی آنکھوں میں خوف اترنے لگا، جیسے اسے پہلی بار اپنے انجام کا یقین ہو گیا ہو۔

زیغم سلطان تھانے کے انچارج سے دو ٹوک الفاظ میں بات مکمل کر کے واپس پلٹا۔ اس کی نظریں سیدھی حسینہ پر جمی تھیں۔ قدموں کی دھمک فرش پر گونجتی جا رہی تھی۔
وہ حسینہ کے قریب آیا اور پرسکون مگر زہر میں بجھے لہجے میں بولا،
“تو کیا کہہ رہی تھی… کہ تم نے محنت کی ہے؟ اور تیری یہ محنت… میں برباد نہیں کر سکتا؟”

ایک لمحے کو تھانے کا ماحول مزید ساکت ہو گیا۔ زیغم کی آنکھوں میں وہی آگ بھڑک رہی تھی جو کسی مجرم کو زندہ جلا تینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔حسینہ کی بات نے زیغم کے دل میں مزید غصے کی آگ بھڑکا دی تھی جو اپنے گندے کھیل کو اپنی محنت سمجھ رہی تھی۔حسینہ کی خاموشی اس سے مزید غصہ دلا رہی تھی۔۔

“کیا محنت کی تھی ،کس چیز کی محنت؟” اس کی آواز یک دم بلند ہوئی۔ “ان معصوم بچیوں کو… بے سہارا لڑکیوں کو زبردستی اٹھوا کر اس گندی دلدل میں دھکیل دینا؟ ان کی زندگی برباد کرنا؟ یہ ہے تیری محنت؟”
حسینہ نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں، مگر زیغم کا وار رکا نہیں۔

“چند گندے نوٹوں کے لیے بدبخت عورت… ایک لمحے کو بھی نہیں سوچا کہ تو خود بھی عورت ہے؟ پیسے لے کر کہاں جائے گی؟ کفن میں جیبیں نہیں ہوتیں، تیرے ساتھ تیرے اعمال جائیں گے! اور مجھے نہیں لگتا کہ تیرے پاس ایسے اعمال ہیں جن سے تو بخش دی جائے۔”

وہ ایک قدم اور آگے بڑھا، اتنا قریب کہ حسینہ کو اس کی سانس تک سنائی دینے لگی۔
“اگر تو عورت نہ ہوتی… تو میں تجھے اپنے ہاتھوں سے ایسی سزا دیتا جو تو عمر بھر یاد رکھتی۔ مگر میری تربیت مجھے ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتی۔تب بھی جبکہ تو عورت کہلانے کے لائق نہیں ہے۔”

یہ الفاظ گونج دار طمانچوں سے زیادہ کاری ضرب تھے۔ حسینہ کا سر جھک گیا، ہاتھ لرزنے لگے اور کمرے میں سناٹا چھا گیا۔

حسینہ کے چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔ پسینے کی بوندیں اس کی پیشانی پر موتیوں کی طرح لرز رہی تھیں۔ اب اسے اپنے گناہوں کا بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔لیکن یہ احساس ندامت نہیں تھا، بلکہ اس خوف کا نتیجہ تھا جو اس پر اپنی موت، اپنی آخرت اور اپنے انجام کی بھیانک تصویر دیکھ کر طاری ہو گیا تھا۔
ورنہ یہ وہی حسینہ تھی جو برسوں سے ظلم اور گناہ کی راہ پر چلتی آ رہی تھی، اور کبھی پلٹ کر دیکھنے کا نام بھی نہیں لیتی تھی۔۔
مگر حسینہ کہاں باز آنے والی تھی۔ ایک لمحے کو خوف نے اس کی زبان کو باندھا ضرور، مگر برسوں کا تراشہ ہوا شیطانی دماغ پھر حرکت میں آ گیا۔۔

کہتے ہیں، چور چوری سے جائے مگر ہیرا پھیری سے نہیں…اور حسینہ تو اس گھناؤنے کھیل کی پرانی کھلاڑی تھی۔
لوگوں کو استعمال کرنا، ان کے دماغ سے کھیلنا، اپنی باتوں کے جال میں الجھانا… یہ سب اس کی فطرت کا حصہ بن چکا تھا۔
اور اسی پرانی عادت کے زیرِ اثر، اس نے زیغم سلطان پر بھی اپنا مکروہ حربہ آزمانے کی حماقت کر ڈالی۔
“دیکھیں، زیغم سائیں… مانتی ہوں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ میرا رب جانتا ہے، میں جتنی بھی گھٹیا عورت سہی، مگر مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ
آپ کی….. بی…..”

“حلق سے زبان کھینچ کر کتوں کے آگے ڈال دوں گا اگر یہ الفاظ مکمل کیے تو!”
زیغم سلطان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے حلق کے بل دھاڑ ماری، اس کا لہجہ ایسا گونجا کہ تھانے کی دیواریں تک لرز اٹھیں اور حاضرین کے پیروں سے جان نکل گئی۔
زیغم نہیں چاہتا تھا کہ وہ مہرو کا نام اپنی گندی زبان سے ادا کرے، اس لیے اسے وہیں خاموش کروا دیا۔

“معافی، سائیں… معافی! نہیں کہوں گی، بس اتنی گزارش ہے مجھے معاف کر دیں۔ پرانا رشتہ ہے آپ کے خاندان سے… آپ کو مجھ سے اب کبھی کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ یہاں سے کہیں دور چلی جاؤں گی، یا پھر۔” حسینہ نے سانس بھرتے ہوئے لہجہ بدل کر کہا، “اگر چاہیں تو ایسی ایسی خوبصورت مورتی آپ کو فراہم کروں گی، وہ بھی بغیر کسی روپیہ پیسے کے۔”
پھر اس کی آنکھوں میں ایک مکار سی چمک اتر آئی، “سائیں، آپ جتنے بھی اچھے بن جائیں، مگر آپ کا تعلق جس خاندان سے ہے… وہ تو سب جانتے ہیں۔ وہاں تو سب حسن کے پجاری تھے۔”

یہ اس کا آخری پتہ تھا۔مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ وار الٹا پڑنے والا ہے… اور اس کا انجام اب پہلے سے بھی زیادہ بھیانک ہوگا۔

“کیا کہا تونے…؟ تو مجھے وہ ذات فراہم کرے گی جس کی عزت کا حکم خود ربِ کائنات نے دیا ہے؟ اے بدذات عورت! ڈر اُس سے جس نے تجھے پیدا کیا، ڈر اُس سے جس کے قبضے میں تیری جان ہے! اور سن۔میرے خاندان کا ہر فرد تیرے گندے معیار جیسا نہیں۔ میری رگوں میں ایک نیک انسان کا خون دوڑ رہا ہے۔

اگر تو تقیر لغاری اور شہرام کی بات کر رہی ہے تو یاد رکھ… میرا ان سے کوئی رشتہ نہیں۔
اور تو… تو سدھرنے والی بھی نہیں۔ اس لیے تیری سزا… میں خود مقرر کروں گا۔”
اس سے پہلے کہ کوئی سمجھ پاتا کہ زیغم کیا کہنا چاہتا ہے، یا کیا کرنے والا ہے، اُس نے اپنی جیب کی سائیڈ سے پسٹل نکالی۔
دھڑ! دھڑ! دھڑ!
گولیاں چلنے کی آواز تھانے کی فضا چیرتی چلی گئی۔ حسینہ بائی کی زبان ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی تھی۔ وہ تڑپتی ہوئی کرسی سے نیچے گری۔
کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ زیغم کا قریبی دوست مائد خان دورانی بھی دم بخود رہ گیا۔
پورے تھانے میں خوف کی ایک لرزتی لہر دوڑ گئی۔
پورے تھانے میں موت کا سا سناٹا چھا گیا۔
پسٹل کی گونج اب بھی دیواروں سے ٹکرا رہی تھی، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ سپاہیوں کی نظریں زمین پر جھک گئیں، کوئی ہلنے کی جرات نہ کر سکا۔

زیغم سلطان کی آنکھوں میں ایسی سختی تھی کہ سانس لینا بھی گناہ محسوس ہونے لگا۔ مائد خان نے آہستہ سے زیغم کا بازو چھوا، مگر زیغم نے پلٹ کر ایسی نگاہ ڈالی کہ جیسے چھونے والا خود بھی موت کے دہانے پر کھڑا ہو۔
حسینہ کا جسم فرش پر بے جان پڑا تھا… مگر اس کے چہرے پر جانے کیوں ایک پراسرار سی مسکراہٹ ابھری ہوئی تھی۔جیسے وہ مر کر بھی کوئی راز زندہ چھوڑ گئی ہو…ایک ایسا راز… جو سب کچھ بدل دینے والا تھا۔
یا پھر یہ اس کے چہرے پر مرتے دم تک جمی ہوئی وہ شیطانی مسکراہٹ تھی… جو اپنی گندگی دھو نہ سکی۔
زبان سے معافی نہ مانگ سکی۔

“بدبخت ہیں وہ لوگ…” زیغم سلطان کی آواز تھانے کی فضا میں گونج اٹھی، “…جو مرتے ہوئے بھی گنہگار ہی مرتے ہیں۔ جبکہ میرا رب ہمیشہ توبہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔ مگر غافل انسان… بھٹکتے بھٹکتے اتنا دور نکل جاتا ہے کہ اپنے رب کی طرف لوٹ کر آ ہی نہیں پاتا۔”

اس کی نظریں حسینہ کے بے جان چہرے پر ٹک گئیں۔
“اس سے پہلے کہ تیری نماز پڑھی جائے… بندے، نماز کی طرف لوٹ آ۔”
پورے تھانے میں ایک خوفناک سناٹا چھا گیا۔
سلطان… وہ شخص جس نے اپنوں کے جنازے کندھوں پر اٹھائے، اپنی بہن پر ہونے والا ظلم دیکھا، اپنے قیمتی رشتے کھو دیے… مگر پھر بھی ظرف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
لیکن انسان کی ایک فطرت ہے۔۔کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں، وہ اپنے ہی اصولوں سے ٹکرا جاتا ہے۔

زیغم سلطان بھی جب شرافت چھوڑنے پر آیا… تو ایسا آیا کہ اس نے وہ کر ڈالا جس کا اس نے کبھی تصور تک نہیں کیا تھا۔ آج اس کے ہاتھوں نے ایک جان لی تھی۔ یہ وہ آدمی نہیں تھا جو معاف کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو… بلکہ وہ تھا جس نے معافی کے لیے ہمیشہ بھاری قیمت چکائی تھی۔ مگر اس بار… قیمت اس کے ظرف سے بھی زیادہ بڑی تھی۔۔

“سر… سر پلیز! آپ کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا، ہم انہیں قانون کے دائرے میں رہ کر بھی سزا دے سکتے تھے۔”
انچارج کی لرزتی ہوئی آواز گونجی۔

زیغم سلطان نے اسے غصے سے گھورا۔
“قانون کے دائرے مجھے مت سکھاؤ! اگر قانون میں اتنا دم ہوتا تو یہ کب کی سلاخوں کے پیچھے ہوتی اور اپنے انجام کو پہنچ چکی ہوتی۔ اب میں نے اسے انجام تک پہنچا دیا ہے۔ قانون کو بھی دیکھ لیں گے اور دائروں کو بھی۔ جا، کمشنر صاحب کو اطلاع دے دینا… کہ زیغم سلطان لغاری نے حسینہ بائی کا نام صفحۂ ہستی سے مٹا دیا ہے۔”

یہ کہتے ہوئے وہ ایسے پلٹا جیسے محض ایک چیونٹی مسلی ہو۔
یہ وہ زیغم سلطان نہیں تھا جسے مائد خان درانی جانتا تھا۔
مائد کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ مائد نے کبھی خون خرابہ نہیں دیکھا تھا۔۔۔مائد خان دورانی نے تو پہلے بھی بہت سے دشمنوں پر اپنے ہاتھ صاف کیے تھے۔۔۔
مگر اس نے زیغم کو پہلے بھی دشمنوں پر ہاتھ صاف کرتے دیکھا تھا،… آج یہ شہزادہ اپنی پہلی ہی گولی سے کسی کو موت دے کر تھانے کی حدود سے نکل رہا تھا۔۔بلا خوف، بلا جھجک۔نہ ڈر انداز جو اس کے چہرے اس کے انداز اور پرسنلٹی پر سوٹ کر رہا تھا۔۔۔۔

لائٹ گرے کرتا، جس پر حسینہ بائی کے خون کے چند چھینٹے اب بھی ثبت تھے، گلے میں روایتی اجرک، اور ہاتھ میں تھامی ہوئی پسٹل… وہ تھانے کے مین گیٹ سے یوں نکلا جیسے عدالت کا آخری فیصلہ سنا کر جا رہا ہو۔۔
گارڈز نے فوراً گاڑی کا دروازہ کھولا، مائد اس کے شانہ بشانہ چل رہا تھا۔اس کی نظروں میں زیغم کے لیے فخر تھا۔مائد خان کے حساب سے حسینہ کا انجام یہی ہونا چاہیے تھا۔

آج حسینہ اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی۔ برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔اچھا کبھی نہیں۔ میرا رب بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، اور اس کا فیصلہ یہی تھا۔بے شک ہمارا یقین ہے کہ اس کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔زیغم کے ہاتھ سے حسینہ کا مارا جانا خدا کا حکم تھا۔

زیغم سلطان نے ایک گناہ کی جڑ کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا تھا۔ اگر اسے مہلت ملتی تو شاید اور زندگیاں تباہ کر جاتی… مگر آج یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

گاڑی دھیمی رفتار سے تھانے کے گیٹ سے باہر نکلی۔
سڑک پر اندھیرا اور خاموشی چھائی تھی، مگر زیغم سلطان کے دل میں طوفان برپا تھا۔
آج ایک باب ختم ہوا تھا… اور ایک نیا شروع ہونے والا تھا۔
°°°°°°°°°

ماہ رخ کب سے انتظار کر رہی تھی زیغم اور مائد کا، نہ جانے وہ کہاں چلے گئے تھے۔ اس وقت وہ مائد خان دورانی کے فارم ہاؤس میں تھی اور لالی بھی اس کے ساتھ تھی۔۔
ماہ رخ کو رفیق کے ساتھ زیغم نے فارم ہاؤس بھیج دیا تھا، اور خود مہرو کو لے کر سیدھا مائد خان کی حویلی چلا گیا۔
اس کا فیصلہ سوچ سمجھ کر تھا۔مہرو کی ذات پر کوئی سوال نہ اٹھے، یہ زیغم کے لیے سب سے اہم تھا۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ مورے یا آغا جان کے کان تک ذرا سا بھی شک کا سایہ پہنچے۔ مہرو کی عزت اس کے لیے دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر تھی۔
اگر لالی اور ماہ رخ کو ساتھ لے جاتا تو ان کے منفرد انداز، بول چال اور برتاؤ کو دیکھ کر آغا جان یا مورے سوال ضرور کرتے، اور وہ سوال سیدھا مہرو کے وجود پر ایک ان مٹ چھاپ چھوڑ جاتے۔

لالی کب سے دیکھ رہی تھی کہ ماہ رخ بے چینی سے ادھر اُدھر پھر رہی ہے، آخر اس سے رہا نہ گیا۔

“ہائے ہائے، کیوں اتنی پریشان ہو؟ آ جائیں گے وہ لوگ، آ جائیں گے۔ دیکھ تو سہی، کتنا بڑا محل نما فارم ہاؤس ہے۔ قسم سے، ایسا تو ہم نے خواب میں بھی نہیں دیکھا۔” لالی نے اپنی زنانہ سی آواز میں ہاتھ نچاتے اور آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا۔

ماہ رخ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا، “کبھی اپنی لالچی سوچ سے باہر بھی آ جایا کر لالی، پریشانی بھی کسی چیز کا نام ہے۔”

“ہائے اللہ، اب دیکھو پریشان ہو کے کیا مل جانا ہے؟ خوشی کا موقع ہے اور تُو ہے کہ منہ بنا کے بیٹھی ہے۔” لالی نے سینہ پھلا کر کہا، “ویسے پتہ نہیں میں کتنی خوش ہوں یا کتنا خوش ہوں… یہ بات تو آج تک مجھے خود سمجھ نہیں آئی!”

ماہ رخ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی، “چل جو تجھے ٹھیک لگتا ہے، وہ اپنے جینڈر میں فٹ کر لے۔”

لالی نے شان سے کہا، “مجھے لگتا ہے میں لڑکیوں والے جینڈر میں ہی زیادہ فٹ بیٹھتی ہوں۔ میرا دل کرتا ہے چوڑیاں پہنوں، مہندی لگاؤں، شادیانے بجاؤں، ساون کے مہینے میں جھولے لوں… ارے، عورتوں والی زندگی جی کے دکھاؤں! لوگ کہتے ہیں مرد بن، پر میرا تو دل ہی عورت ہے، کیوں اس کو مار دوں؟”

ماہ رخ نے ماتھا پکڑ لیا، “لالی، تُو رہنے دے، بہتر ہے مردوں والے جینڈر میں ہی فٹ ہو جا۔ اگر عورتوں والی ادائیں دکھائے گی نا تو لڑکیاں بھی تجھے جوتے ماریں گی!”

لالی نے آنکھیں نچاتے کہا، “تو لڑکیوں کو جینے کا حق ہے، مجھے نہیں؟ اللہ نے مجھے بھی بنایا ہے۔ میں تو سب کروں گی، اب تو ہم آزاد ہو گئے ہیں۔ کیا جیدار بندہ ہے یار زیغم سلطان، اور اس کا دوست بھی کم نہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک… قسم سے، میرا تو دل ہی لے گئے!”

یہ سن کر ماہ رخ کی ہنسی چھوٹ گئی۔ نہ جانے کتنے مہینوں بعد اس نے کھل کر ہنسا تھا۔ “پاگل ہے تُو! ان بیچاروں کا ٹیسٹ اتنا خراب نہیں کہ تیرے عشق میں فنا ہو جائیں۔ دوبارہ کہنا مت، ورنہ حسینہ سے پہلے ہمیں کاٹ کے دفنا دیں گے۔”

لالی نے قہقہہ مارا، “عزت ملی ہے تو ہضم کر لے، ورنہ معدے کا سیرپ پی لے۔”
ماہ رخ ہنستے ہنستے بولی،

“اچھا، سچ سچ بتا… دونوں ہے تو خوبصورت ۔؟”
لالی نے چمکتی آنکھوں سے کہا،اسے زیغم سلطان اور مائد کی خوبصورتی بہت بھائی تھی وہ خوبصورتی کے حصار سے نکل ہی نہیں رہی تھی۔۔۔جبکہ ماہ رخ چپ کر کے اس کی باتیں سنے جا رہی تھی۔۔

“ویسے ایک بات کہوں؟ ہماری پیاری مہرو کہتی تو سچ ہی تھی۔۔۔ کہتی تھی میرا سائیں بہت پیارا ہے… سچ میں ہے! نہ خوبصورت،وہ ماہ رخ سے گواہی مانگ رہی تھی زیغم کی خوبصورتی کی۔

“لالی تم اسکی خوبصورتی کو چھوڑو صرف یہ دیکھو کہ اس کا دل کتنا خوبصورت ہے
،ایسا آدمی جس نے ہمیں حقارت سے نہیں دیکھا
پیروں کی دھول نہیں سمجھا۔۔ہمیں عزت دی یہ اس کی اچھائی ہے جو آج کے زمانے میں نہیں ملتی۔۔ماہ رخ کو زیغم کی نرم دلی بہت اچھی لگی تھی۔

“ہاں، یہ بات تو ٹھیک ہے… کہاں ہم جیسے لوگوں کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔” لالی نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر بات ختم کی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھلا۔

ماہ رخ کی نظریں دروازے کی سمت اٹھیں، دل میں خیال آیا کہ شاید زیغم سلطان اور مائد خان ہوں گے، مگر جو شخص اندر آیا… اسے دیکھ کر وقت جیسے تھم گیا۔

وہ زیغم یا مائد نہیں تھے۔یہ تو وہ ہستی تھی جس کا چہرہ ماہ رخ کی یادوں میں گہرا نقش تھا۔ وقت نے چہرے پر جھریوں کی لکیریں کھینچ دی تھیں، مگر پہچان… وہ تو لمحے بھر میں ہو گئی۔

ماہ رخ کی پلکیں جھپکنا بھول گئیں، سانس رُک سا گیا۔ دل سے ایک ٹھنڈی آہ نکلی جیسے ابھی دھڑکن بھی رک جائے گی۔
وہ بے اختیار، لرزتے قدموں سے آگے بڑھی۔
“پروفیسر انکل…!”
آواز بھرا گئی، اور آنکھوں سے سیلاب بہہ نکلا۔
پروفیسر انکل نے اس کے قریب آ کر پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ان کی آنکھیں بھی نمی سے بھری ہوئی تھیں۔
“ماہ رخ بیٹا… کیسی ہو تم؟”
اس پل، دونوں کے آنسو ایک ہی درد کی گواہی دے رہے تھے۔وہ درد جو سالوں کی جدائی اور دل میں دفن کہانیوں سے جنم لیتا ہے۔۔
“انکل… کیسی ہو سکتی ہوں میں؟” ماہ رخ کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔ “ایک بے جان چیز… جس کی کوئی قیمت نہیں۔”

آنکھوں میں آنسو لرزے، مگر وہ رکی نہیں۔
“میری اماں… وہ ٹھیک ہیں؟ اور سمرا آپی کی بیٹی… ملی یا نہیں؟”

سوال ایک کے بعد ایک، تیز بارش کی بوندوں کی طرح برس رہے تھے۔
“پلیز انکل، بتائیں… مجھے سب جاننا ہے۔”

اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں، جیسے ایک لمحہ بھی ضائع ہوا تو سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔
“میں نے تو امید ہی چھوڑ دی تھی کہ کبھی مجھے بچھڑے ہوئے اپنے ملیں گے… آنٹی ٹھیک ہیں نا؟ اور آپ کی بیٹی… وہ ٹھیک ہے؟”

پھر ایک لمحے کو اس کے لب کانپے۔
“وہ تو اب بڑی ہو گئی ہو گی نا…؟ اس کی شادی ہو گئی…؟”
ماہ رخ پاگلوں کی طرح سوال پر سوال کیے جا رہی تھی۔ اس کی بے تابی، اس کے چہرے پر لکھے ہر حرف میں جھلک رہی تھی۔جیسے برسوں کا جمع ہوا درد ایک ہی پل میں باہر نکل رہا ہو۔

پروفیسر انکل خاموش تھے۔
ماہ رخ کے سوالوں کی یلغار سن کر ان کی آنکھوں میں وہی پرانا درد لوٹ آیا تھا۔وہ درد جو وقت کے دھاگوں میں الجھ کر بھی کبھی مٹتا نہیں۔

انہوں نے کانپتے ہاتھوں کو ماہ رخ کے سر پر رکھ دیا۔
“بیٹا…” ان کی آواز رُک رُک کر نکل رہی تھی، “کاش… میں تمہیں ہر سوال کا وہ جواب دے سکتا، جو تم سننا چاہتی ہو۔”
ان کی پلکوں پر نمی کا بوجھ بڑھ گیا، اور نگاہیں جھک گئیں۔
“تمہاری اماں… اب اس دنیا میں نہیں ان کو تو گزرے برسوں ہو گئے ، مگر…” وہ ایک گہری سانس لے کر خاموش ہو گئے، جیسے لفظ گلے میں اٹک گئے ہوں۔
“سمرا کی بیٹی… ملی تھی، مگر…اب وہ نہ جانے کہاں ہے زندہ ہے یا نہیں میں اس بارے میں نہیں جانتا۔”
ان کے ہونٹ کانپے، اور وہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
ماہ رخ کے دل پر جیسے کسی نے برف رکھ دی ہو۔
“انکل…؟” اس کی آواز میں خوف سرایت کر گیا۔پروفیسر نے سر اٹھایا، آنکھوں میں برسوں کا بوجھ لیے ہوئے تھا ۔۔

ماہ رخ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اس کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ روتے روتے وہ وہیں قریب پڑے صوفے پر گر سی گئی، جیسے ساری ہمت ختم ہو گئی ہو۔ قسمت نے ایک پل میں اسے خوشی کی جھلک بھی دکھائی اور پھر اتنی تیزی سے چھین لی کہ سانس لینا بھی بھاری لگنے لگا۔

ٹوٹ تو برسوں پہلے ہی چکی تھی، مگر دل کے ایک کونے میں دبی ہوئی امید باقی تھی۔کہ کبھی کوئی اپنا اسے ڈھونڈ لے گا، کبھی وہ اپنے بچھڑوں سے مل سکے گی۔ مگر آج… آج تو وہ آخری ڈور بھی ٹوٹ گئی تھی۔ یہ سوچ کر اس کی روح تک کانپ اٹھی کہ اس کی ماں اب اس دنیا میں نہیں، اور بہن کی اکلوتی نشانی… اس کا بھی کوئی پتہ نہیں۔

پروفیسر کے پیچھے، زیغم سلطان اور مائد خان خاموش کھڑے سب سن رہے تھے۔ لالی کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے تھے۔ اس درد بھری کہانی نے سب کو کچھ دیر کے لیے ساکت کر دیا تھا۔

اسی لمحے، ایک ملازم چائے اور سنیکس ٹرے میں رکھے ہال میں داخل ہوا۔
کپوں کی ہلکی کھنک اس خاموشی میں کسی اجنبی آواز کی طرح گونجی۔

سب ہال نما کمرے میں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے، جیسے کوئی بولنے کی ہمت نہ پا رہا ہو۔ پھر زیغم نے دھیرے سے ہاتھ کے اشارے سے کہا،
“پلیز… کچھ کھا لیں۔ آپ لوگوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔”

کھانے کو تو کسی کا دل نہیں تھا، مگر زیغم اور مائد کے بار بار اصرار پر سب نے بس ذرا سا لے لیا۔
ماہ رخ خاموش بیٹھی تھی، بس روتی جا رہی تھی۔ اس کا دل جیسے ریزہ ریزہ ہو چکا تھا، اور ان کرچیوں کو کوئی جوڑنے والا نہ تھا۔

مگر کہتے ہیں… جب انسان کا درد آخری حدوں کو چھونے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ درد کے دروازے بند کر کے سکون کے دروازے کھول دیتا ہے۔
شاید اللہ تعالیٰ کو ماہ رخ کے زخموں پر رحم آگیا تھا۔
زیغم سلطان، جو ایک راز دل میں دبائے بیٹھا تھا، زینب نے جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے موبائل نکالا۔۔ اس کی نظریں کچھ لمحوں کے لیے سکرین پر رخ سی گئی تھی۔
وہ ایک تصویر دیکھ رہا تھا۔یہ وہی تصویر تھی جو اسے تھانے سے واپسی پر رفیق نے بھیجی تھی۔اور اسی تصویر کی بنیاد پر ہی زیغم نے پروفیسر کو یہاں بلایا تھا۔
کیونکہ پروفیسر… وہ واحد انسان تھا جو اس تصویر کے پیچھے چھپے باقی پردے ہٹا سکتا تھا۔۔
موبائل پروفیسر کے سامنے رکھتے ہوئے زیغم نے ہاتھ کے اشارے سے تصویر دیکھنے کو کہا۔
پروفیسر نے ایک نظر تصویر پر ڈالی، پھر چشمہ لگا کر غور سے دیکھنے لگا۔ اس کے چہرے کے بدلتے رنگ صاف بتا رہے تھے کہ وہ عورت اسے پہچان چکا ہے۔

“کیا یہی وہ ملازمہ ہے جس کے پاس سمرا کی بیٹی تھی؟”
زیغم کی مدھم سی آواز کمرے میں گونجی۔

ماہ رخ نے بھی چونک کر چہرہ اٹھایا، جیسے اچانک امید کی کرن دکھائی دے گئی ہو۔

“جی… جی یہی ہے،” پروفیسر نے ہلکی لرزتی آواز میں کہا۔
“یہ ہمارے کالج میں آئی تھی اور اس نے اپنی زبان سے کہا تھا کہ بچی اس کے پاس ہے۔ مگر جب اسے پتہ چلا کہ سمرا کی ماں اب اس دنیا میں نہیں، تو وہ خالی ہاتھ لوٹ گئی۔ ہم نے اسے جانے سے نہیں روکا کیونکہ اُس وقت ہمیں اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔”

پروفیسر کی سچائی سن کر زیغم نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں زور سے بند کیں اور مٹھیاں بھینچ لیں۔ اب تو سارا سچ اس کے سامنے تھا۔

تصویر میں دکھائی دینے والی عورت اگرچہ جوان ن تھی، مگر زیغم کے لیے اسے پہچاننا مشکل نہیں تھا۔ اس نے برسوں اس عورت کی کفالت کی تھی، اور دل میں ایک عجیب سا لگاؤ بھی تھا۔ وقت نے اس کے چہرے پر جھریاں ڈال دی تھیں، لیکن یہ وہی عورت تھی جو اکثر فٹ پاتھ پر بیٹھی ملتی تھی۔جس کی آنکھوں میں زیغم کو ہمیشہ ایک ڈر دکھائی دیتا تھا۔

یہ وہی عورت تھی… جس نے جاتے وقت مہرو کا ہاتھ زیغم کے ہاتھ میں دیا تھا۔ جاتے ہوئے اس نے کچھ باتیں بھی کہی تھیں، جو آج پروفیسر، ماہ رخ، اور سمرا کی کہانیوں سے جڑ کر ایک ہی تصویر بنا رہی تھیں۔
اس ضعیف عورت نے بھی تو بتایا تھا کہ ایک با اثر زمیندار کی وجہ سے وہ اس حال کو پہنچی۔زیغم نے پوچھنے کی کوشش بھی کی تھی ۔
مگر سب کچھ اس نے بتا دیا تھا مگر جب تک وہ توقیر اور شہرام کا نام لیتی خدا کی طرف سے مقرر کیا ہوا وقت ختم ہو گیا تھا اور اس ضعیف عورت کی سانسیں تھم چکی تھی۔اس طرح یہ ادھوری رہ گئی تھی۔
مگر اب سب کچھ صاف تھا۔اب زیغم کو یہ سمجھ آگیا تھا کہ کیوں وہ ضعیف عورت ہمیشہ سمرا کو گھر میں بند کر کے قید رکھنے پر مجبور تھی کیوں وہ کسی پر یقین نہیں کرتی تھی۔
ماہ رخ، سمرا کی بہن تھی۔
سمرا… مہرو کی ماں۔
اور مہرو کو پالنے والی ملازمہ… وہی ضعیف عورت تھی۔جس کی کفالت سے زیادہ سلطان کرتا تھا۔
زیغم کا دل ایک لمحے کو جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا۔۔۔

“اگر کسی کو… تھوڑا سا بھی پتہ ہے تو… مجھے بتا دیں، کہاں ہے سمرا آپی کی بیٹی؟”
ماہ رخ کے ہاتھ لرزتے ہوئے جوڑ گئے۔
“خدا کا واسطہ… بتا دیں… شاید میرے تڑپتے دل کو سکون آ جائے…”

اس کی آنکھوں سے بے قابو آنسو بہہ رہے تھے، وہ پروفیسر اور زیغم سلطان کے سامنے یوں کھڑی تھی جیسے اپنی ساری دنیا کا فیصلہ انہی کے ہاتھ میں دے دیا ہو۔
پروفیسر خاموش تھا۔اس کے پاس اس لمحے کے بعد کی کوئی خبر نہ تھی۔ وہ بس اتنا جانتا تھا کہ وہ بچی ایک ملازمہ کے پاس تھی، مگر پھر کہاں گئی، کس کے پاس ہے… یہ سب اس کی پہنچ سے باہر تھا۔
اور یہ وہ کہانی تھی جس کا اگلا باب… صرف زیغم جانتا تھا۔

ماہ رخ بیٹا تم رونا بند کرو مجھے سچ میں نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے مگر اگر انہوں نے یہاں تک کھوج لگا لی ہے تو انشاءاللہ یہ ملازمہ کو ڈھونڈ لیں گے اور ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ سمرہ کی بیٹی مل جائے گی پروفیسر نے روتی ہوئی ماہ رخ کے سر پر ہاتھ رکھا۔اور زیغم کی جانب اشارہ دیا تھا کہ وہ ڈھونڈ لیں گے۔

جبکہ زیغم اب بھی خاموش تھا۔

کم سے کم ماہ رخ کو تھوڑا سا سکون ملا یہ امید ملی کہ شاید اس کی بہن کی بیٹی مل جائے سب کے کہنے پر ماہ رخ نے بھی دو گھونٹ صرف چائے کے پی لی باقی اس نے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔۔

پروفیسر صاحب ماہ رخ کو حوصلہ دیتے ہوئے کھڑے ہو گئے۔۔ماہ رخ کے سر پر پیار دیتے پھر آنے کا وعدہ کیا اور اجازت طلب کرتا ہوا چلا گیا۔۔۔

مائد کو دانیا کا فون آ رہا تھا اس لیے وہ معذرت کرتا ہوا اٹھ کر چلا گیا پروفیسر بھی جا چکا تھا زیغم نے لالی کی جانب دیکھے بغیر کہا کہ میں کچھ دیر ان سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں لالی خاموشی سے اٹھ کر چلی گئی۔۔
اب کمرے میں صرف ماہ رخ اور زیغم تھے لالی جاتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کر گئی تھی۔۔کچھ دیر کی خاموشی کے بعد زیغم سلطان کی آواز نے خاموشی کو توڑ دیا۔
زیغم سلطان نے بغیر بات کو کھینچے اور بغیر سسپنس پیدا کیے، جو حقیقت تھی وہ ایک کے بعد ایک بیان کرتے ہوئے ہر پردہ ہٹا دیا۔
ماہرخ کی آنکھیں حیرت، خوشی اور شوق سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ جسے وہ اتنے دنوں سے باحفاظت اپنے پاس رکھے ہوئے تھی، جس کی طرف اس کا دل خودبخود کھنچتا تھا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کی سمرا آپی کی بیٹی، اس کا اپنا خون کا رشتہ تھی۔

“اتنی پیاری، اتنی معصوم مہرو… میری سمرا آپی کی بیٹی تھی!” ماہ رخ خوشی سے ہاتھ چہرے پر رکھے، حیرت اور محبت کے ملے جلے جذبات سے ہونکوں کی طرح بولے جا رہی تھی۔ “کاش مجھے پہلے پتہ ہوتا… میں اس سے اور پیار کرتی۔میں کیوں سمجھ نہیں سکی کیوں مجھے اس پر اتنا پیار آتا تھا ۔ اسی لیے تو میرا دل خودبخود اس کی طرف کھچا چلا جاتا تھا۔ کتنی پیاری باتیں کرتی ہے، کتنی معصوم ہے وہ…”

ماہ رخ تو جیسے خود سے ہی باتیں کر رہی تھی۔ خوشی میں اکثر انسان آس پاس کے منظر کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے، اور وہ بھی اس وقت ایسے ہی بیٹھی تھی جیسے اردگرد کی کوئی فکر نہ ہو… جیسے کمرے میں کوئی اور موجود ہی نہ ہو۔

“دیکھیں… میں آپ کے درد اور تکلیف کو بہت اچھی طرح سمجھ رہا ہوں۔ چاہتا تو یہ سچ آپ سے چھپا سکتا تھا، مگر چھپایا نہیں… کیونکہ آپ کا درد مجھے صاف نظر آ رہا تھا۔ ہزاروں ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی میرے دل نے آپ کے دل کے درد کو محسوس کیا۔صرف اتنا ہی نہیں میں آپ کے لیے کچھ کرنا بھی چاہتا ہوں۔
اب آگے بتائیں، آپ کیا چاہتی ہیں؟ جو کہیں گی… وہ ہو جائے گا۔” زیغم کے سوالوں میں ایسی گہرائی چھپی تھی جو ما رخ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی۔ اور اسے زیغم کی بات ذرا بھی غلط نہ لگی۔وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔اس بات کی گواہی اس کے اپنے دل نے دے دی تھی۔۔

“میں سمجھ رہی ہوں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں…” ماہ رخ کی آواز میں ایک عجیب سا سکوت تھا، جیسے ہر لفظ کے پیچھے صدیوں کا تھکن چھپا ہو۔ “میں جس دنیا میں رہہ کر آئی ہوں، وہاں کی ہوا سے بھی لوگ کتراتے ہیں… بدنام محلہ، بدنام عمارت، بدنام لوگ…” وہ لمحہ بھر کو رکی، گہری سانس لی، مگر آنکھوں میں ٹھہرے آنسو مزید بھاری ہو گئے۔
“فرق نہیں پڑتا… کہ میں وہاں اپنی مرضی سے گئی تھی یا کسی نے ظلم کر کے میری معصومیت کو وہاں پھینک دیا تھا۔ قصور میرا نہ تھا… مگر قصور وار میں ہی ٹھہری۔”
اس کے ہاتھ مٹھی کی صورت میں سکڑ گئے، پھر ڈھیلے پڑ گئے۔ “جب دنیا فیصلہ سنا چکے، تو پھر تڑپنے کا فائدہ کیا؟”
اس نے اپنی نگاہیں جھکالیں، جیسے کسی ان دیکھے گڑھے میں دیکھ رہی ہو۔ “میں جانتی ہوں، اگر میں سمرا آپی کی بیٹی کے قریب رہی… تو بدنامی اس کے ماتھے کا داغ بن جائے گی۔ اور میں… میں ایسا کبھی نہیں چاہوں گی۔”
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔ کمرے میں صرف اس کے دل کی دھڑکن اور زیغم کی ٹکی ہوئی نظریں باقی رہ گئیں۔نظریں جو اس کی ہر ٹوٹی رگ کو محسوس کر رہی تھیں، مگر خاموش تھیں۔

“میں آپ کے جذبات کی دل سے قدر کرتا ہوں… آپ کے دکھ کا مجھے پورا احساس ہے۔” زیغم کی آواز میں نرمی اور گہرائی یکجا ہو گئی۔ “میری نگاہ آپ کو عزت سے دیکھ رہی ہے… میرے لیے آپ مہرو کی خالہ ہیں، اور یہ رشتہ میرے دل میں ایک بلند مقام رکھتا ہے۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا، جیسے الفاظ چن رہا ہو۔ “میں جانتا ہوں… آپ اس بدنام جگہ پر کیسے پہنچیں۔ ایک ایک حقیقت سے واقف ہوں۔ اس لیے آپ کو میرے سامنے شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔”

زیغم نے گہری سانس لی اور اپنی نظریں سیدھی ماہ رخ پر مرکوز کر دیں۔ “ہاں… مگر یہ بھی سچ ہے کہ میں دنیا کا نظریہ نہیں بدل سکتا۔دنیا کیا سوچے گی یہ مجھ سے بہتر آپ جانتی ہیں۔

” اور نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ آپ اپنی بہن کی بیٹی سے دور رہیں۔وہ آپ کے خون کا اکلوتا رشتہ ہے آپ کا پورا حق ہے اس کے ساتھ ملنے کا۔”پوری بات کہتی ہے زیغم نے نظریں اور سر جھکا رکھا تھا۔
“فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں… اور وعدہ کرتا ہوں کہ جو فیصلہ آپ کریں گی، میں اس پر پوری طرح قائم رہوں گا۔”
اس کے لہجے کا ٹھہراؤ، کمرے کی خاموشی میں ایک مضبوط عہد کی مانند گونج رہا تھا۔
زیغم کی باتوں نے ماہ رخ کے دل میں جیسے ایک ہلچل سی مچا دی۔
اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، مگر یہ آنسو کمزوری کے نہیں تھے۔یہ برسوں کا دبایا ہوا درد اور ایک غیر متوقع احترام پا لینے کی حیرت کے تھے۔

اس نے محسوس کیا کہ زندگی میں پہلی بار کوئی شخص اسے اس کی گندگی میں نہیں، اس کے رشتے میں پہچان رہا ہے۔ اس کے وجود کا وہ پہلو دیکھ رہا ہے جسے دنیا نے ہمیشہ نظرانداز کیا۔

اس کے ذہن میں وہ ساری تصویریں ابھر آئیں۔تنگ و تاریک گلیاں، بند کمروں کے سائے، بدنام محلے کی دھندلی روشنی، وہ آوازیں جو چاقو کی دھار کی طرح دل کو چیرتی تھیں۔
اور آج… انہی تصویروں کے بیچ زیغم کے الفاظ ایک چراغ کی طرح روشن ہو گئے تھے۔
ماہ رخ کے ہونٹ ہولے سے کانپے، جیسے خود سے کہہ رہی ہو۔
“کیا سچ میں میں اتنی عزت کے لائق ہوں؟
اس نے نظریں جھکا لیں، مگر دل کے کسی کونے میں پہلی بار سکون نے ہولے سے دستک دی۔

“سائیں، اتنی عزت مت بخشیں… عادت نہیں ہے۔”
ماہ رخ کی آواز مدھم تھی، مگر اس کے لہجے میں برسوں کی محرومی کا بوجھ چھپا تھا۔
“تو عادت ڈال لیں۔ میں آپ کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھوں گا، اور عزت و احترام سے پکاروں گا۔ کیونکہ آپ کے پاس جو رتبہ ہے، اس کا خیال رکھنا میرا فرض ہے۔ جس ذات سے آپ کا رشتہ جڑا ہے… وہ مجھے بہت عزیز ہے۔ اس کی معصومیت سے تو مجھے عشق ہے۔”
مہرو کا ذکر کرتے ہوئے زیغم کے لبوں سے الفاظ یوں نکل رہے تھے جیسے ہر لفظ پھول بن کر گرتا ہے۔

ماہ رخ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ “مجھے خوشی ہے یہ جان کر کہ آپ مہرو سے اتنا پیار کرتے ہیں۔”

“آپ کو پتا ہے… وہ بھی آپ سے بہت محبت کرتی ہے۔ چھ مہینے وہ میرے ساتھ رہی اور دن رات آپ کا نام لیتی تھی۔ کئی بار کہا کہ کسی بھی طرح آپ کی حویلی پہنچ جائیں۔ مگر میں ڈرتی تھی… نہیں جانتی تھی کہ آپ زندہ ہیں یا نہیں۔ اور میں اسے شہرام کی حویلی میں نہیں لے جانا چاہتی تھی۔ اس انسان کی حقیقت مجھ پر کھل چکی تھی، اس کے بعد میں کیسے اس کے سامنے مہرو کو لے کر جاتی؟”

ماہ رخ کے لہجے میں ایک بھرپور سکون اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کی جھلک ساتھ ساتھ بہہ رہی تھی۔
“اس وقت مجھے نہیں پتا تھا کہ میرا اور مہرو کا کوئی خون کا رشتہ ہے، مگر اس کی معصومیت، اس کی اچھائی، اس کی نیک دلی نے مجھے اس سے محبت کرنے پر مجبور کر دیا۔ آپ کو پتا ہے… اس نے مجھے قرآن پاک کی سورتوں کا حوالہ دیا، اور بار بار سمجھایا کہ اللہ نے ہم پر پردہ اور اپنی عزت کی حفاظت فرض کی ہے۔ اس کے لہجے میں ایسی مٹھاس تھی کہ وہ آیتیں میرے دل میں اتر گئیں۔”

ماہ رخ نے ہلکی سی سانس بھری، جیسے کسی بھاری یاد کو سینے سے آزاد کر رہی ہو۔
“پتا نہیں کہاں سے میرے اندر وہ ہمت آ گئی، جو برسوں میں نہ تھی۔ میں نے لالی کو اعتماد میں لیا، اور ہم وہاں سے نکل بھاگے۔ یہ سب اللہ کا کرم تھا۔ لالی نے ہمارا بہت ساتھ دیا… ہمیں ویران سی کالونی میں گھر لے کر دے دیا، اور خود واپس چلی گئی تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ حسینہ کے ہاتھوں مار کھاتی رہی، مگر ہمارا نام زبان پر نہ لائی۔”

زیغم خاموش سنتا رہا، اس کی آنکھوں میں احترام کی روشنی اور بھی گہری ہو گئی تھی۔ایک طرف اسے یہ جان کر خوشی ہو رہی تھی کہ اس کی مہرو بھی اسے محبت کرتی ہے اور دوسری طرف یہ جان کر خوشی ہو رہی تھی کہ اس کی مہرو دوسروں کو قران کا حوالہ اتنا پیارا دیتی ہے کہ لوگوں کے دل میں اتر جاتا ہے۔۔

“اچھا، ایک بات بتائیں، آپ شہرام کو کب سے جانتی ہیں؟” اچانک زیغم نے سوال کیا، مگر اس سوال نے ماہ رخ کے ذہن میں کئی سوالات جنم دے دیے۔

“بہت لمبے عرصے سے جانتی ہوں، مگر جتنا جانا، غلط جانا۔ مجھے ایسے خواب دکھائے گئے جن کی کبھی کوئی تعبیر نہیں تھی۔ مگر ایک دن، جب اس کا اصلی روپ میرے سامنے آیا، تو مجھے افسوس ہوا کہ میں تو برسوں تک اس کے جھوٹ پر یقین کرتی رہی۔ اسے کبھی معاف مت کیجئے گا۔ حد سے زیادہ گندا انسان ہے۔ میرے ساتھ جو اس نے کیا، وہ آپ نہیں جانتے، اور مہرو کے ساتھ جو کچھ ہوا، مہرو کا تو نام لیتے ہی زیغم سلطان کے دماغ کی دھڑکن تیز ہو گئی۔”

کک… ک… زیغم کے الفاظ اٹکنے لگے تھے۔ دل زوروں سے دھڑک رہا تھا، سپیڈ ایسی محسوس ہو رہی تھی جیسے پسلیاں ٹوٹ کر دل باہر آ جائے گا۔ سانس اکھڑنے لگی تھی، دماغ کی نسیں پھول رہی تھیں، ہر لمحہ ایک کشمکش میں لپٹا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔

مگر زیغم کی حالت ماہ رخ کے دماغ میں ایک اور سوال چھوڑ گئی۔

وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئی،

مگر زیغم صبر نہ کر سکا۔

“خدارا، چپ مت رہیں… بولیں، کیا کیا شہرام نے؟” زیغم نے بے تابی سے سوال دہرایا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں اُتر رہی تھیں، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، بے اختیار وہ اپنے ایک پاؤں کو مسلسل ہلا رہا تھا۔اس کا یہ انداز اس کے اندر کے طوفان کا پتہ بتا رہا تھا۔۔

“سائی، غلطی معاف، میری اوقات نہیں، مگر ایک سوال ضرور پوچھنا چاہوں گی۔ کیونکہ اب آپ کی محبت کے ساتھ میرا بھی محبت کا رشتہ جڑا ہوا ہے… وہ میری بھی کچھ لگتی ہیں۔ بس سوال اتنا ہے… اگر کچھ ہوا ہے تو، آپ کی محبت ختم ہو جائے گی؟”

خاموشی نے ماحول پر اپنا قبضہ جما لیا، ہر لفظ دل پر بھاری لگ رہا تھا، اور ہر سانس میں ایک ان کہی کشمکش کی شدت محسوس ہو رہی تھی۔
ماہ رخ کی آنکھیں خوف اور حیرت سے پُر تھیں، زیگم کے سوال کے اثرات ابھی تک دل و دماغ میں گونج رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی راز پردہ اٹھانے کو تیار ہو،
°°°°°°°°°°°

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *