Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:58
راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
ایپیسوڈ نمبر 58
°°°°°°°°°°°
مجھے نہیں معلوم کہ آپ پیار کو کس نظر سے دیکھتی ہیں، مگر میری نظر میں پیار ایک یقین ہے۔ یقین کا دوسرا نام محبت ہے۔ محبت نہ ہو تو یقین ممکن نہیں، اور اگر یقین نہ ہو تو محبت بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ یہ دونوں جب یکجا ہو جائیں تو ہی ایک مکمل احساس جنم لیتا ہے۔
“سائیں، اس کو میری گستاخی مت سمجھیے گا، بس ایک الجھن تھی جو آپ کے جواب سے سلجھ گئی۔ اور آج مجھے محبت کا صحیح مطلب بھی سمجھ میں آ گیا۔” ماہ رخ کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی۔ “اور میری محبت کے بارے میں کیا رائے ہوگی؟ جس کو یہ انمول تحفہ، یہ جذبات، کبھی میسر ہی نہ ہو سکے… وہ آپ کو محبت کا مفہوم کیسے سمجھا سکتی ہے؟” اس کے چہرے پر درد کے گہرے تاثرات تھے، جیسے وہ خود اعتراف کر رہی ہو کہ اس نے دل غلط جگہ لگا لیا تھا۔
“میرا سوال اب بھی وہی ہے… شہرام نے آخر کیا کیا تھا؟ گزارش ہے، اس کا جواب جلد دے دیں، لفظوں اور سوالوں کو الجھائیں مت۔” زیغم کی آواز بھاری ہو گئی۔ “یہ سوال میرے لیے پوچھنا ایسا ہے جیسے بار بار اپنے ہی دل کو چھری سے کاٹ کر ٹکڑوں میں تقسیم کرنا۔” اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے ایک بار پھر سوال دہرایا۔
“جس سوال کو پوچھتے ہوئے آپ کو اتنی تکلیف ہو رہی ہے… اس کا جواب سن کر تو آپ لہو لہان ہو جائیں گے۔ کہاں سے جواب شروع کروں… مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا۔
کیا آپ کو یہ بتاؤں کہ آپ کی محبت، آپ کی عزت کو اس ناپاک جگہ کے فرش پر مردوں سے بھری محفل میں پٹک دیا گیا تھا؟
یا یہ بتاؤں کہ آپ کی معصوم مہرو… جس نے کبھی اپنا چہرہ کسی کو نہیں دکھایا، اپنے بالوں کی ایک لٹ بھی کسی نامحرم کے سامنے نہیں آنے دی…جس کے لیے اپنا پردہ ہر چیز سے زیادہ اہم تھا۔ اسے مردوں نے سر سے پاؤں تک گھور گھور کر دیکھا؟
یا پھر یہ کہ شہر ام جیسے درندے نے اپنی حدیں توڑتے ہوئے مہرو پر گندی نظر ڈالی؟
یا سناؤں کہ حسینہ نے اسے مار مار کر زخمی کر دیا، کیونکہ وہ اپنے اللہ کے حکم کے خلاف نہیں جانا چاہتی تھی۔ اس نے صاف انکار کر دیا تھا کہ مرتے مر جائے گی، مگر اپنے سائیں کی ہو کر مرے گی۔چاہے اس کی چمڑی ادھیڑ دی جائے وہ گناہوں کے راستے پر نہیں چلے گی ۔
“یا پھر سناؤں اس رات کی کہانی، جب ہم دلدل سے کسی نہ کسی طرح سے بھاگ نکلے۔ میرے ساتھ ساتھ ننگے پاؤں دوڑتے ہوئے نازک سی مہرو کے پیر بھی زخمی ہو گئے… یا وہ داستان سناؤں جب ہم ایک بوسیدہ، ٹوٹے پھوٹے گھر میں کئی دن تک بھوکے رہے۔ نہ ہم خوف کے مارے باہر جاتے، نہ کسی کو اندر آنے دیتے، ڈر تھا کہ خبر حسینہ تک نہ پہنچ جائے۔
“یا پھر یہ بتاؤں کہ … آپ کی معصوم مہرو نے بھوکے پیاسے کئی دن صرف پانی پر گزارا کیا، مگر اس نے شکر ادا کرنا نہیں چھوڑا۔ جب بھی پانی پیتی بڑے یقین کے ساتھ کہتی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس کے صبر سے زیادہ دکھ نہیں دیتا۔ ہمارا اللہ دیکھ رہا ہے… جب ہمارا صبر ختم ہونے کو ہوگا، وہ ہمارا امتحان ختم کر دے گا۔ آپی آپ نے گھبرانا نہیں، ٹوٹنا نہیں۔ ہم نے اللہ کی رضا کے لیے غلط راستہ اختیار نہیں کیا، تو اللہ ہماری مدد ضرور کرے گا۔’
اس کی معصومیت نے مجھے اتنا مضبوط کر دیا کہ میں ڈگمگا نہیں سکتی تھی۔
اور پھر، تقریباً تین دن بعد، لالی ہمارے لیے راشن لے کر آئی… اور میرے دل نے گواہی دی کہ لالی کی صورت میں اللہ نے ہماری مدد بھیج دی ہے۔
یا پھر وہ ہر رات سناؤں… جب خوف کے سائے میں گزرتی تھی، کہ کہیں حسینہ چھاپا نہ ڈلوا دے، کہیں وہ مہرو کو مجھ سے چھین نہ لے۔ ہر رات، مہرو کی عزت کی حفاظت کرتے کرتے گزری۔
کہاں سے کہانی شروع کروں اور کہاں ختم… بہت مشکل ہے، سائیں… اپنے درد کو، ان لمحوں کو لفظوں میں ڈھالنا۔”
ماہ رخ کے لب خاموش ہوئے تو کمرے میں ایک بھاری سکوت چھا گیا۔ زیغم کی پلکیں جھپکنا بھول گئیں، جیسے ہر منظر اس کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہو اٹھا ہو۔ اس کی انگلیاں مٹھی میں جکڑ گئیں، اور چہرے پر ایسا کرب اتر آیا جیسے دل کے اندر کسی نے دہکتے انگارے رکھ دیے ہوں۔ وہ بس خاموشی سے بیٹھا تھا… مگر اس خاموشی میں طوفان چھپا تھا۔
زیغم سلطان نے ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا تھا، مگر اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ اس وقت اس کے اندر کیا طوفان برپا ہے۔ دماغ کی نسیں ابھر آئی تھیں۔ وہ اچانک اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“آپ جتنے دن چاہیں، آرام سے رہیں… اس کے بعد آپ کے لیے بہترین رہائش کا انتظام کر دیا جائے گا۔اپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔”
یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔
مگر اس کی محبت کا وہ مفہوم… جو اس نے بتایا تھا… اسے سوچ کر ماہ رخ، مہرو کی قسمت پر رشک کر رہی تھی۔ اسے ایسا شخص ملا تھا جو سچی محبت کرنا جانتا تھا، جس کے لیے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی تھی کہ مہرو اتنے دن اس بدنام محلے میں، بدکردار لوگوں کے بیچ رہی تھی۔ اس نے ایک سوال تک نہیں کیا تھا۔صرف وہی بات سنی ماہ رخ نے خود سے بتائی ایک بار نہیں پوچھا کہ کیا اس کی مہرو اب بھی پاک دامن ہے یا نہیں۔
اور جو محبت اور یقین کے بیچ جھولتی ہوئی بات اس نے کی تھی… اس کے بعد تو محبت عبادت کی طرح محسوس ہونے لگی۔
وہ حیران تھی… کہ آج کے وقت میں بھی ایسے لوگ ہیں ،جن کا محبت پر بھروسہ ایسے ہے جیسے اندھیری رات میں چراغ کی روشنی پر یقین، اور یقین میں محبت ایسے جیسے پیاسے کا پانی پر اعتماد۔
°°°°°°°°°°
“یہ کیا کر رہے ہو تم لوگ؟”
گھر میں ہلچل محسوس کرتے ہوئے زرام اپنے کمرے سے باہر آیا تھا، مگر جیسے ہی اس نے زیغم کے کمرے کے سامنے نایاب اور اس کے شوہر کے ساتھ قدسیہ کو کھڑا دیکھا، اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اسی لیے اس نے سوال کیا، مگر سامنے سے کوئی جواب نہ آیا۔
“میں نے پوچھا، تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟ یہ زیغم بھائی کا کمرہ ہے، یہاں تم لوگوں کا کیا کام ہے؟”
اب کی بار زرام نے بلند آواز میں کہا۔
“اُف… آگئے تم ہوش میں؟ شکر ہے مجنوں کو ہوش آ گیا! مجنوں کو پتا چلا کہ گھر میں کچھ اور بھی ہو رہا ہے تو مجنوں اپنے کمرے سے باہر نکل آیا۔”
یہ نایاب کی آواز تھی، جس میں نہ تمیز تھی نہ تہذیب۔ اپنے بھائی سے اس لہجے میں، وہ بھی اپنے شوہر کے سامنے بات کرنا… مگر نایاب سے تمیز کی توقع رکھنا احمقانہ ہی تھا۔
“میں مجنوں ہوں یا نہیں، یہ تشریح تم کرو یا نہ کرو، اس پر میرا کوئی سوال نہیں۔ میں نے صرف اتنا پوچھا ہے کہ تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟ یہ زیغم بھائی کا کمرہ ہے، تو یہاں تم لوگوں کا کیا کام ہے؟”
زرام کا لہجہ اب حد سے زیادہ سخت اور کٹیلا ہو گیا تھا۔
“زیغم، زیغم، زیغم… ہر وقت زیغم! اس سے آگے اور کوئی کام آتا ہے تمہیں؟ مر گیا ہے زیغم! اور اگر نہیں مرا تو کچھ دن میں مر جائے گا… تو کیا اس کمرے میں اس کی لاش رکھ کر قبر بناؤ گے؟ مقبرہ سجاؤ گے؟”
قدسیہ نے زہریلے لہجے میں کہا۔
“پھر بھی اگر تمہیں سچ جاننے کا اتنا شوق چڑھا ہے تو بتا دیتی ہوں کہ زیغم کے کمرے میں اب نایاب اور اس کا شوہر رہیں گے۔۔
اپنی ماں کی بات سن کر زرام کے دل میں جیسے آگ لگ گئی تھی ،مطلب یہ لوگ یہاں تک سوچے بیٹھے تھے کہ اس گھر پر پوری طرح سے قبضہ جما لیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زیغم اور اس کے خاندان کا نام و نشان مٹا دیں گے۔
“بہت بڑی خوش فہمی میں جی رہی ہیں آپ، اماں! کیا بات ہے، اپنے اس شیطانی دماغ والے بیٹے اور شوہر سے بات نہیں ہوئی؟ انہوں نے بتایا نہیں کہ ان کا باپ زندہ ہے… اور بالکل صحیح سلامت ہے!”
اب کی بار زرام نے بغیر لحاظ کے اپنی ماں کو جواب دیا۔ قدسیہ کے ساتھ ساتھ نایاب کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔ ان دونوں پر تو جیسے کسی نے کھولتا ہوا پانی ڈال دیا ہو، چہرے یکدم فق ہو گئے۔
“کیا… بکواس کر رہے ہو تم ؟” قدسیہ ہڑبڑا کر بولی۔
“کیوں؟ سنائی نہیں دیا یا یقین نہیں آیا؟ میں نے وہی کہا ہے جو آپ کے کانوں نے سنا ہے… اور بالکل صحیح سنا ہے! زیغم بھائی بالکل ٹھیک ٹھاک اور صحیح سلامت ہیں، اور آپ لوگوں کے لیے قیامت کی بن کر آئے ہیں۔ کیسے مر سکتے تھے وہ، جب آپ جیسے ظالم لوگ دنیا میں آزاد گھوم رہے ہیں؟ اتنا گند پھیلا ہوا ہے… اسے صاف کیے بغیر وہ کیسے جا سکتے تھے؟”
“زرام! زبان سنبھال کر بات کرو! تمہیں تمیز ہے کہ تم اپنی سگی بہن اور ماں سے بات کر رہے ہو؟” نایاب تلملائی۔
“اوہو… برا لگا؟ لگنا بھی چاہیے۔ اور کیا کہا … بہن؟ ماں؟ واہ! حیران ہوں میں تم لوگوں کی سوچ پر… کبھی تم لوگ میری ماں بہن بن جاتے ہو، خون کے رشتے جڑ جاتے ہیں… کبھی کہہ دیتے ہو کہ ہم تمہارے لیے مر گئے اور تم ہمارے لیے۔ اتنے لالچی لوگ میں نے زندگی میں نہیں دیکھے! یہ چند روپے، یہ پیسہ… اور ان سیمٹ اور پتھر سے بنی دیواروں نے تم لوگوں کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھ دی ہے کہ تمہیں کو صحیح اور غلط کی پہچان تک نہیں رہی۔ پیسے کے پیچھے بھاگتے بھاگتے تم اندھے ہو چکے ہو، اپنی آخرت بھول گئے ہو!
مجھے تم لوگوں سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا! ہمیشہ تم لوگ مجھ سے رشتہ توڑتے آئے ہو… آج میں توڑ رہا ہوں۔ ابھی سے، اسی وقت سے میرا تم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں! اس میں میری ماں، جو صرف نام کی ہے… میرا باپ، جو صرف نام کا ہے… میری بہن، جو صرف نام کی ہے… اور میرا بھائی، وہ بھی صرف نام کا! تم سب سے میں اپنا ہر رشتہ، ہر ناطہ ختم کرتا ہوں۔ آج کے بعد تم لوگ جیو یا مرو، مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا! اور خدا کی قسم، مجھے فرق نہیں پڑے گا… کیونکہ تم لوگوں کی وجہ سے میں زیغم بھائی کو کھو نہیں سکتا۔ تم لوگوں کا جو بھی انجام ہو…زیگم بھائی تم لوگوں کے ساتھ جو بھی سلوک کریں۔ میں اسے روکوں گا نہیں! بلکہ مجھے خوشی ہوگی اگر میں اپنی آنکھوں سے تم لوگوں کو سزا پاتا ہوں دیکھوں گا تو۔”
زرام کی بات سن کر قدسیہ اور نایاب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ زرام اتنا کڑوا بول سکتا ہے۔ مگر نایاب کا نیا دم چھلا شوہر منہ بند نہ رکھ سکا۔
” ڈسگسٹنگ! کس قسم کا انسان ہے !” کیا یہ تمہارا سوتیلا بھائی ہے؟ہمیشہ اس زیغم سلطان کی طرف داری کرتا رہتا ہے جبکہ اسے اپنی ماں اور بہن کا ساتھ دینا چاہیے۔۔بیچارا اپنی طرف سے بہت سمجھدار بننے کی کوشش کر رہا تھا مگر زرام نے تو اسے اس کی اوقات یاد دلا دی تھی۔
زرام نے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف دیکھا۔
“تم تھوڑا سا صبر کر۔ تمھاری ہر بات کا جواب وہی دے گا، جو اس گھر کا اصل مالک ہے… اور وہ دن دور نہیں، جب اس نے اس گھر میں قدم رکھا تو تجھے ایسے اٹھا کر باہر پھٹکے گا جیسے گھر کے فالتو کچرے کو گھر سے باہر پھینکا جاتا ہے۔
” میری بات سن، یہ زیغم سلطان کا ڈر کسی اور کو دکھانا۔ میں تو ڈرتا نہیں زیغم سلطان سے، برسوں سے جانتا ہوں اسے۔
اس سے پہلے کہ زرام کوئی جواب دیتا، دھڑ سے دروازہ ایسے کھلا جیسے کھولنے کا نہیں بلکہ توڑنے کا ارادہ ہو۔ سب کا دھیان ایک ساتھ دروازے کی طرف گیا اور آنکھیں پھٹی رہ گئیں جب اندر سے زیغم سلطان اور مائد خان داخل ہوئے۔
ماحول ایک دم سنجیدہ اور بھاری ہو گیا، جیسے شیر شکار پر جھپٹنے کو تیار ہو۔
جو ابھی پل بھر پہلے بڑے فخر سے کہہ رہا تھا کہ وہ زیغم سلطان سے نہیں ڈرتا، اب اس کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا۔ اگر ذرا سا حوصلہ نہ سنبھالتا… تو بات صرف چہرے کے رنگ تک محدود نہ رہتی۔😁
“غلط بول رہا ہے مسٹر تابش عدنان… تُوبرسوں سے مجھے جانتا ہے؟ تمھاری اتنی اوقات نہیں کہ زیغم سلطان کو جان سکو۔” زیغم نے ایک قدم آگے بڑھایا آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے شکار کو سامنے دیکھ کر شیر کی نظر ہوتی ہے ۔
“ہاں مگر اب تمھیں زیغم سلطان سے ضرور ملواؤں گا اور سنو قسم ہے مجھے تمھاری آنے والی سات نسلیں بھی یہ نام سن کر کانپیں گی”
یہ الفاظ گرج کی طرح حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج گئے۔ فضا میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی جیسے سب کی سانسیں رک گئی ہوں۔کسی کو بھی اس وقت زیغم کے آنے کی امید نہیں تھی اور کچھ لوگوں نے تو یہ امید ہی چھوڑ دی تھی کہ وہ کبھی صحیح سلامت زندہ واپس بھی
آسکتا ہے۔
زیغم بجلی کی رفتار سے سیڑھیاں چڑھتا جا رہا تھا اس کے قدموں کی دھمک سنگ مرمر پر تیز تیز پڑ رہی تھی۔ اس کے ساتھ مائد خان تھا جو قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا ۔بالکل ایسے جیسے دو جسم اور ایک جان جیسے ایک وجود ایک سایہ جو ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہو سکتے تھے۔۔
زیغم سلطان کو سامنے دیکھ کر تابش عدنان کی آنکھوں کے سامنے لمحہ بھر کو اندھیرا چھا گیا، مگر وہ خود کو سنبھالنے کا دکھاوا کرتا کھڑا رہا۔
مگر زیغم نے اسے سانس لینے کا موقع تک نہ دیا۔اچانک جھپٹ کر گریبان پکڑا، گردن دبا کر دیوار سے دے مارا۔ چند ہی سیکنڈ میں اس کے چہرے کے نقش بدل گئے۔
ہمت جمع کر کے تابش نے پستول زیغم کے سر پر تانی…
مگر اگلے ہی پل تابش کے اپنے خون کی روانی جیسے برف میں بدل گئی،کیونکہ اسی لمحے، سرد دھات کا لمس اس کے شانے کے پاس محسوس ہوا۔ پستول کی نالی بالکل سر پر جمی تھی۔ سب کچھ اتنا اچانک، اتنا بےرحمی سے ہوا جیسے کسی فلم کا سین پردے پر نہیں، بلکہ آنکھوں کے بالکل سامنے زندہ ہو کر اتر آیا۔
تابش نے پیچھے مڑتے ہی مائد خان کی آئی برو اٹھا مسکراہٹ نظر آئی۔
“اکیلا سمجھا تھا؟ پہلی بات، وہ اکیلا بھی شیر ہے۔ دوسری بات، جہاں زیغم ہوگا وہاں مائد ضرور ہوگا۔ تم جیسے کتوں کی مجال نہیں کہ شیر پر بھونک سکیں۔”
مائد اور زیغم نے ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہوئے۔دونوں نے ایک آنکھ کو وِنگ کیا اور اگلے لمحے تابش زمین پر تھا۔ مکے اور لاتیں برسیں، پھر اسے کھینچ کر ایسے کھڑا کیا جیسے مردے کو سہارا دے کر کھڑا کیا جائے۔
جس پستول سے ابھی وہ اکڑ دکھا رہا تھا، مائد نے بازو مروڑ کر چھین لی۔ اب وہ مکمل نہتہ تھا۔
زیغم سلطان کے کمرے کے سامنے پھیلی خاموشی صرف تابش کی بھاری سانسوں اور قدموں کی دھمک سے ٹوٹ رہی تھی۔
دیواروں پر پڑتے سائے ایسے لگ رہے تھے جیسے خود بھی زیغم کے غصے سے لرز رہے ہوں۔
“تم دونوں پاگل ہو گئے ہو؟ کیوں مار رہے ہو میرے شوہر کو؟ تمہاری جرأت کیسے ہوئی اس پر ہاتھ اٹھانے کی!”
قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ زیغم کا الٹا ہاتھ فضا میں لہرا کر چہرے پر جا ٹکا۔ دھڑک سی اٹھی،نایاب کی آنکھوں کے آگے سفیدی چھا گئی، قدم ڈگمگا گئے۔ گال کی جلد جلتی لوہے کی طرح دہک اٹھی۔ قدسیہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، جیسے یکدم سمجھ گئی ہو کہ اب وہ زیغم واپس نہیں آیا جو کبھی اس گھر سے گیا تھا۔یہ تو کوئی اور بلا ہے۔
“شوہر؟ یہ تمھارا شوہر ہے؟ قسم سے، بالکل تمھارے جیسا ہے، اور تم ایسا ہی شوہر ڈیزرو کرتی ہو۔ تمھارا پیٹ بھرتا ہی نہیں، شوہر بدل بدل کر کتنے بدلنے کا ارادہ ہے؟ تم نے تو شوہر کے رشتے کو تماشا بنا دیا۔ تم جیسی عورت کو دیکھ کر تو عورت بھی شرم سے زمین میں گڑ جائے اور سوچے کہ وہ عورت کیوں ہے۔”
لفظوں کی تپش دیواروں کو چھو کر پلٹتی رہی، کمرے کا ہر کونا دہکتے تنور میں ڈھل گیا۔
نایاب کے ہونٹ ہلے تک نہیں، جیسے قفل لگا ہو۔ گال کی جلن میں سے بھاپ اٹھتی محسوس ہو رہی تھی۔
“اور تو… ہمیشہ میری جھوٹی چیزوں پر نظر کیوں رکھتا ہے؟ ضمیر ہے یا مر گیا ہے؟ پہلے حمائل کے پیچھے بھاگا، اس نے منہ نہیں لگایا۔ پھر امریکہ سے یہاں آ کر میری چھوڑی ہوئی عورت سے شادی کر لی؟ تیری اوقات پر تو صرف لعنت ہی دی جا سکتی ہے۔”
حقارت کا وزن اتنا بھاری تھا کہ لگتا تھا زمین تک جھک گئی ہو۔زیغم سلطان کے لبوں سے نکلتے الفاظ نایاب کے لیے زہر کی مانند تھے، مگر یہ زہر پلانے سے پہلے خود اس کا دل سلگ اٹھتا۔ اس کی پرورش، اس کا ضمیر… یہ سب گواہی دیتے تھے کہ وہ کسی عورت پر کیچڑ اچھالنے والا نہیں، اور کسی کو یہ کہہ دینا کہ وہ اس کی “چھوڑی ہوئی” ہے، اس کے مزاج سے کوسوں دور تھا۔
مگر نایاب کے معاملے میں وہ اب اپنے ظرف کو دفنا چکا تھا۔ دل کی ہر نرم لہر کو کچل کر وہ زبان سے وہی زخم دے رہا تھا، جو نایاب جیسی عورت کے حصے میں آنے چاہئیں۔
“تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں کیا۔تم نے جو کیا ہے، اس کا جواب تمھیں بہت جلد دوں گا… جس گھر میں تم کھڑے ہو، وہ میں اپنے نام کر چکا ہوں۔میں چاہوں تو تمہیں ابھی اسی وقت اٹھا کر باہر پھینک سکتا ہوں مگر میں ایسا نہیں کروں گا۔بہت جلد تجھ سے کوٹ میں ملوں گا!”تابش نے زیغم کو دھمکی دی۔ جبکہ اپنی حالت اس قدر بری تھی کہ خود پیروں پر کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا۔
لمحہ بھر کو خاموشی ٹھہری، مگر نہ زیغم کے چہرے پر کوئی گھبراہٹ، نہ آنکھوں میں کوئی لرزش۔ بس ایک نظر مائد خان کی طرف ڈالی، ہونٹ ذرا سے کھنچے، اور دونوں کی ایک ساتھ ہنسی چھوٹ گئی۔ جو مذاق اڑانے کے لیے کافی تھی،دونوں ایسے ہنسے تھے جیسے کوئی نہایت پھیکا مذاق سنایا گیا ہو۔
“اچھا… تو تو مجھے میرے ہی گھر سے اٹھا کر باہر پھینکے گا؟ اتنی اوقات ہو گئی ہے تمھاری؟ آج تک تو مجھ سے کوئی کیس نہیں جیت سکا۔ پڑھائی میں ہمیشہ پیچھے رہا… مجھ سے سوال پوچھ پوچھ کر، نوٹس لے لے کر وکالت کی ڈگری لی۔ اور اب… میرے گھر سے مجھے نکالے گا؟ واہ!”
زیغم نے دونوں ہاتھوں سے تالی بجائی۔
نایاب اور قدسیہ ساکت تھیں۔یہ سوچ کر کہ زیغم تابش کو اتنی گہرائی سے کیسے جانتا ہے۔
“تم… تم اس کو کیسے جانتے ہو؟”
گال پر ہاتھ رکھے کھڑی نایاب، جس کی جلد سے اب بھی زیغم کے تھپڑ کی تپش پھوٹ رہی تھی، اٹکتی سانسوں اور حیرت میں ڈوبے لہجے میں سوال کر گئی۔
“میں اس کو کیسے جانتا ہوں؟ یہ چھوڑو… پوچھو، میں اسے کتنا جانتا ہوں۔ سوال صحیح کرو، جواب بھی صحیح ملے گا۔”
زیغم کی نظر نایاب پر جمی رہی۔ “تمہارا نیا نویلا شوہر… جس کے لیے تم اچھل رہی ہو، اور تمہاری ماں بھی اس کے دم پر خود کو دنیا کی پاورفل عورت سمجھ رہی ہے… سنو اس کی حقیقت۔”
اس کا لہجہ زہر سے بھرا تھا۔ “اس کے اپنے گھر والے منہ نہیں لگاتے۔ ساری زندگی باپ کی دولت پر عیاشی کی ہے۔ کچھ کمانے کے لائق نہیں۔ گھر والوں نے شرم کے مارے بے دخل کر دیا۔ پیسے بھی بے تحاشا لگائے، مگر نتیجہ؟ صفر۔ کیس لڑے تو ہمیشہ منہ کے بل گرا۔ ناکام وکیلوں میں اس کا نام آتا ہے،کوئی اس کے ہاتھ میں اپنا کیس دینا ہی نہیں چاہتا،۔”
زیغم نے لمحہ بھر کو رُک کر تابش کی طرف دیکھا، پھر ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ آ گئی۔
“اور سنو… یہ تمہاری مدد نہیں کر رہا، اپنی کر رہا ہے۔ دشمنی مجھ سے ہے۔ سوچا میری جائیداد ہڑپ لے گا۔ تو اس کا بدلہ پورا ہو جائے گا
اب تم پوچھو گی کہ یہ ایسا کیوں؟ چاہتا ہے، کیونکہ کبھی اس نے حمائل کو پروپوز کیا تھا اور حمائل نے اس کے منہ پر تھوک دیا تھا۔ آج تک اس تھپڑ کی جلن دل میں ہے، اور اسے لگتا ہے کہ وہ میری وجہ سے ہوا۔”
وہ ایک قدم قریب آیا، آنکھوں میں حقارت گہری ہو گئی۔
“اب تم سے شادی کر کے اسے لگا کہ مجھ سے جیت گیا۔ اس بیوقوف کو کیا پتا… مجھے تم میں کبھی دلچسپی تھی ہی نہیں۔”
نایاب کی نظریں جھک گئیں، قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔
زیغم نے سر اٹھا کر قدسیہ اور نایاب دونوں کو دیکھا۔
” اول درجے کا شرابی اور زنائی ہے۔ دین، ایمان، نماز۔کچھ نہیں۔ اور جو تمہیں بہلا رہا ہے کہ میری جائیداد تمہارے نام کرے گا، حقیقت یہ ہے کہ سب اپنے نام کر رہا ہے۔”
اس کی آواز پتھر کی طرح سخت تھی۔ “ابھی چند لمحے پہلے اس نے خود کہا کہ یہ میرا گھر اپنے نام کر چکا ہے۔ اگر تمہارے ساتھ سنجیدہ ہوتا تو تمہارے نام کرتا۔”
ہوا جیسے رک گئی۔ قدسیہ اور نایاب ساکت رہ گئیں، مگر زرام کے لبوں پر دبی مسکراہٹ تھی۔ تابش کی ٹوٹتی امیدیں دیکھ کر وہ بس دل ہی دل میں اپنے بھائی کا صدقہ اتارنے میں لگا رہا۔
“تم نے دھوکہ دیا… یہ گھر اپنے نام کر لیا،” نایاب تپتے قدموں سے تابش کی طرف بڑھی۔
“دھوکے کی بات تم مت کرو؟” زیغم کی نظر چمکی۔ “دھوکے باز کے منہ سے یہ لفظ اچھا نہیں لگتا۔”
نایاب زیغم کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے تابش پر نظر گاڑے کھڑی تھی گھبراہٹ سے اس کے چہرے کے رنگ بدل رہے تھے کیونکہ چال الٹی پڑ چکی تھی۔لفظ لڑکھڑا گئے۔ “صرف گھر… یا باقی سب بھی؟”
تابش عدنان کی خاموش مسکراہٹ اس کے شک کو یقین میں بدل رہی تھی۔
“کمینے… گھٹیا انسان!” نایاب کا لہجہ زہر آلود تھا۔ “میں نے تم سے نکاح اس لیے کیا کہ تم میری مدد کرو گے… کتنے دعوے کیے تھے تم نے! شرم نہیں آئی دھوکہ دیتے ہوئے؟”
وہ آگ بگولا تھی، لہجہ کانپ گیا، اس کا دل چاہ رہا تھا کہ تابش کی جان لے لے۔
“تم نے اپنی شکل دیکھی ہے؟ مجھے تم میں بھلا کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟” تابش کے لہجے میں زہر ٹپکا۔ “یہ سب میں نے اس سے دشمنی نبھانے کے لیے کیا… بہت دھوکے کھائے ہیں اس سے۔ ہمیشہ ہر میدان میں یہ مجھے ہراتا آیا ہے۔ یہ موقع ملا تو میں نے بھی خوب فائدہ اٹھایا۔”
اس نے ایک لمحے کو رُک کر زہر گھولا، “اور ہاں… اب سب کچھ میرے نام ہے۔”
تابش کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ہائے میرے اللہ… ہائے اللہ! ظالموں! سب کچھ اس کے حوالے کر دیا، اب کیا ہوگا؟” سلمہ دور کھڑی، سارا تماشہ دیکھتے ہوئے سینہ پیٹ رہی تھی۔ “اب سر چھپانے کو چھت بھی نہیں رہی… تمہارا بیڑا غرق ، تیری بیٹی کا بھی بیڑا غرق… خانہ خراب وہ تم لوگوں کا پتہ نہیں کہاں سے کہاں سے اس منوس کو اٹھا کر لے آئی ہو تم لوگ ! تم لوگوں نے یہ گھر دشمنوں کے حوالے کر دیا… اب رہنے کے لیے چھت بھی نہیں بچے گی، تو کہاں رہیں گے؟”سلمہ کو یہ فکر لاحق ہو گئی تھی ۔
“اچھا ہوا، زیغم بیٹا… اچھا ہوا تم واپس آ گئے! اللہ تیرا شکر ہے… میرے بھائی کی اولاد واپس آ گئی۔ میں دن رات تمھارے لیے دعا کرتی رہی، بڑا تڑپی تمھارے لیے…”
سلمہ اپنے جذبات اور ڈرامے کو زیادہ غم کے ساتھ ظاہر کرتی ہوئی آگے بڑھی تاکہ زیغم کے لیے دعائیں دے سکے۔ مگر زیغم نے فوراً قدم پیچھے کر لیے اور ہاتھ کا اشارہ دے کر اسے روک دیا۔
“براہِ مہربانی، دور رہیں۔ سب ڈرامے مجھے سمجھ آتے ہیں… پہلے بھی سمجھ آتے تھے، مگر میں نظر انداز کر دیتا تھا۔ اب نہیں۔ دور رہیں مجھ سے۔ نہ میں آپ کے ساتھ کوئی خونی رشتہ رکھنا چاہتا ہوں، نہ احساسات، نہ عزت و احترام کا۔ میری دنیا میں خونی رشتے صرف دو ہیں۔میری بہن دانیہ اور میری بیٹی ارمیزہ۔ تیسرا کوئی نہیں، اور نہ ہی میں کسی سے کسی بھی طرح کا رکھنا چاہتا ہوں۔”
زیغم سلطان کی یہ سخت اور صاف بات زرام کے دل کو چھلنی کر گئی، کیونکہ خون کے رشتوں میں اس کا نام بھی نہیں تھا۔
وہ لمحہ بھر کے لیے جیسے دنیا سے کٹ گیا۔ زرام نے اندر ہی اندر اپنا صدمہ چھپایا، مگر آنکھوں کی نمی خود بخود بول رہی تھی۔دوسری جانب قدسیہ اور نایاب تو جیسے شاک میں کھڑی تھی خاموش آنکھیں پھاڑ کر سب کو دیکھ رہی تھی۔۔
زیغم بیٹا، یہ کیا بول رہے ہو ؟ میں تو دن رات تمہارے ٹھیک ہونے کی دعائیں کرتی رہی اور تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو، سلمہ نے ایک بار پھر ڈرامائی انداز میں آنسو بہاتے ہوئے کہا۔
“مجھے مکاری سے بھری ہوئی مصنوعی، دعاؤں کی ضرورت نہیں، بڑی مہربانی، مجھ سے دور رہو۔ میں کچھ ایسا نہیں بولنا چاہتا جس سے میری تربیت شرمندہ ہو۔وہ دونوں ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔
خدا کا واسطہ، جان چھوڑو۔ تم لوگوں پر بھروسہ کر کے میں نے بہت کچھ گنوا دیا ہے۔ جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ تم لوگ انسانیت کے نام پر دھبہ ہو، لالچی، پیسوں کے بھوکے خون کے رشتے، تم لوگوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ میں اب اپنا مزید نقصان نہیں ہونے دوں گا۔سلمہ کو نظر انداز کرتے ہوئے،زیغم نے پلٹ کر تابش سے بات شروع کر دی، کیونکہ وہ اور بات کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔
“اچھا تو کیا بول رہا تھا کہ مجھ سے عدالت میں بات کرے گا؟ شوق سے کر، بس ایک بات یاد رکھ۔
میں اپنی صلاحیت پر بھروسہ کرتا ہوں۔ میں اپنی میری جرنی میں آج تک کوئی کیس نہیں ہارا۔ ہر پیچیدہ مسئلہ، ہر پچیدہ کیس۔میں منٹوں میں سمجھ لیتا ہوں اور نتیجہ ہمیشہ میرے کنٹرول میں ہوتا ہے۔
تم نے کیسے سوچا کہ تم جیسا کوئی بھی منہ اٹھا کر آئے گا اور میری حفاظت میں میرے حق کو چھین کر لے جائے گا۔
جس زیغم سلطان کو کورٹ میں ہرانا تمہارے تمہارے بس کی بات نہیں، تابش۔اس کی جائز پراپرٹی پر تم ناجائز حق جتا کر جیت جاؤ گے کیسے سوچ لیا۔۔زیغم کے لہجے میں سنجیدہ ٹھہراؤ چھلک رہا تھا جس نے وقت کو روک رکھا تھا۔
یہ پراپرٹی، جو میرے باپ کی محنت اور پسینے کی کمائی ہے، اس کے لیے میں نے کوئی حفاظتی اقدام نہیں کیا ہوگا ۔ایسے ہی چھوڑ دیا ہوگا کوئی بھی آئے اور اسے ہڑپ کر لے۔سچ میں تمہیں اتنا بے وقوف لگتا ہوں میں۔؟سوالیہ سے نظریں وہ تابش کے چہرے پر گاڑھے کھڑا تھا۔
دنیا کے بے وقوف ترین انسان ، وکالت صرف باتوں کا کھیل نہیں، عقل و ذہانت سے پیدا کی ہوئی طاقت اور قابو کا کھیل ہے،اور میرے ماں باپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ میرے پاس عقل و ذہانت کا ایک وسیع ذخیرہ ہے ۔ مجھے ہرانے والے یہ جان لے کہ آج بھی سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے۔”
تابش کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، خوف اور حیرت سے بھری ہوئی۔
“مم۔۔۔ مطلب؟” اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
“مطلب اب بھی میں تمہیں مطلب سمجھاؤں لعنت ہے تیری ذہانت پر تیری وکالت پر۔اتنا سب کچھ بتانے کے بعد پوچھ رہا ہے کہ مطلب۔۔تو ایک کام کر عدالت میں جا،یہ پراپرٹی تیری ہے چاکر ثابت کر،مگر ابھی کے لیے میرے گھر سے دفع ہو جاؤ۔”
زیغم نے اس کے گلے سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف دھکیل دیا۔ تابش لڑکھڑاتا ہوا نیچے گرا، اور سیڑھیوں سے گرتا چلا گیا اس کی دردناک آواز حویلی میں گونج رہی تھی۔
زیغم کی گرجدار آواز پورے حال میں گونجی۔
“رفیق۔۔۔!”
رفیق، جو اندونی گیٹ کے پاس کھڑا تھا، چراغ سے نکلتے ہوئے جن کی طرح بھاگتا ہوا آیا۔ زیغم سلطان کہ حویلی آنے پر ہر ملازم خوش تھا۔ تمام ملازمین کو ایسے لگ رہا تھا جیسے جنگل کا راجہ واپس اگیا ہو۔گھر کو قدسیہ لوگوں نے جنگل ہی تو بنا رکھا تھا جہاں پر وہ اپنا حکم چلا رہی تھی۔کچھ ملازمین کی چھٹی بھی کر دی گئی تھی صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے زیغم کے امریکہ سے واپس آنے پر زیغم کا ساتھ دیا تھا۔ رفیق تو زیغم کے ہوش میں آنے کے بعد سے لے کر ہر قدم پر ساتھ تھا۔۔
“جی سائیں حکم کریں کیا کرنا ہے اس کا،؟ رفیق نے زمین پر پڑے ہوئے تابش کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
اس کتے کو اٹھاؤ اور باہر پھینکو۔ خبردار، اگر اسے گاڑی لے کر جانے دیا۔
“گاڑی میری اپنی ہے تابش چلایا۔۔
“اور جو اتنے دن تو میرے گھر میں رہا اس کے رینٹ کے طور پر میں نے تیری گاڑی رکھ لی۔ جا جا کر عدالت میں کیس کر اس کے بعد جو فیصلہ ہوگا دیکھا جائے گا۔۔۔
” زیغم سلطان کے حکم پر رفیق تابش کو کھینچتے ہوئے حویلی سے باہر لے گیا۔ تابش، جو پہلے اکڑ رہا تھا، اب منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکال پا رہا تھا۔زیغم کی طاقت پہلے سے اس پر واضح تھی اچھی طرح سے جانتا تھا کہ عدالت میں کبھی بھی وہ زیغم سلطان سے جیت نہیں سکتا۔۔
دوسری جانب، ریت کا بنایا ہوا محل جیسے زمین پر گرا ہو، نایاب اور قدسیہ کے قدموں تلے سے زمین کھسک گئی۔ زیغم کی سخت نظروں نے دونوں کو کانپنے پر مجبور کر دیا۔
“اپنے بھگوڑے شوہر اور بیٹے کو فوراً بلاؤ، ورنہ دونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔
اور ایک بات ذہن میں رکھو۔لہاظ کی امید مت رکھنا۔ میں عورت یا عمر کا ذرا سا بھی لحاظ نہیں کروں گا۔اگر اپنی عزت اور جان پیاری ہے تو فوراً سے پہلے دونوں کو بلواؤ۔” زیغم نے انگلی اٹھا کر دھمکی دینے والے انداز سے کہا۔
قدسیہ نے فوراً سر ہلا کر کہا، “مم… میں بلاتی ہوں!”
زیغم نے ایک نظر اپنی پیاری سی حویلی کے چاروں اطراف پر ڈالی۔اسکی نظروں میں اپنے گھر کے لیے محبت چھلک رہی تھی۔
یہ حویلی اس کے باپ کی جاگیر تھی، اس کے بابا نے بڑی محبت اور محنت سے اس حویلی کو بنوایا تھا۔
وہ کبھی بھی کسی غیر محفوظ ہاتھوں میں جانے نہیں دے سکتا تھا۔ اس نے مضبوط انتظامات کیے ہوئے تھے، کوئی آسانی سے اس کی پراپرٹی ہڑپ نہیں کر سکتا تھا۔
تابش، جو نایاب کے ساتھ نکاح کر چکا تھا، اور نایاب، جو اپنے مقصد کے لیے اسے حویلی لے آئی تھی،مگر شاید وہ یہ بھول گئے تھے کہ مطلبی لوگ کبھی بھی کسی کا فائدہ نہیں کر سکتے۔زیغم سلطان تابش اور نایاب کے نکاح کے بارے میں سب کچھ جان چکا تھا اور تابش کو تو وہ برسوں پہلے سے جانتا تھا خاموش اس لیے تھا کیونکہ اسے پہلے مہرو کو ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔۔ صحیح وقت کے انتظار کے بعد زیغم سلطان یہاں پہنچا تھا،اسے کوئی ڈر یا خوف نہیں ۔ یقین تھا کہ اس کی پراپرٹی محفوظ ہے۔
شاید وہ آج بھی نہ آتا مگر ماہ رخ نے جو حقیقت بتائی تھی کہ شہرام نے اس کی عزت کو کس طرح تار تار کرنے کی کوشش کی کیسے اس نے مہرو کو پریشان کیا یہ بات زیغم سلطان کے دل میں آگ لگائے ہوئے تھی۔۔۔
مائد خان کے فارم ہاؤس سے وہ سیدھا حویلی پہنچاتا ابھی تک وہ مہرو سے دوبارہ ملا تک نہیں تھا پہلے وہ دشمنوں تک پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔
آج یہاں آنے کا مقصد تابش سے خوفزدہ ہونا نہیں تھا بلکہ توقیر اور شہرام کو واپس لانا تھا، جنہیں صرف اپنوں کی مدد سے واپس لایا جا سکتا تھا۔
“کب بلاؤ گی؟ مجھے ٹائم بتاؤ… میرا وقت قیمتی ہے، تم لوگوں پر ضائع نہیں کر سکتا۔” زیغم سیڑھیوں سے اترتے ہوئے بولا، اس کی آواز میں سختی اور رعب صاف جھلک رہا تھا۔
“ک…ک…کل… کل بلوا لوں گی۔” قدسیہ نے جھجکتے ہوئے جواب دیا، نظریں جھکائے، جیسے اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت ہی نہ ہو۔
“چالاکی دکھانے کی کوشش مت کرنا… اور نہ ہی تم لوگ یہاں سے باہر جا سکتی ہو۔ رفیق!” زیغم کی گرجدار آواز ایک بار پھر سے میں گونج اُٹھی۔ “ان کا ایسا بندوبست کرنا کہ اگر ذرا سی بھی چالاکی کریں، تو گولی سیدھی دماغ میں مارنا… تاکہ دوسری سانس بھی نہ لے سکیں۔”
“جی سائیں… جو آپ کا حکم۔” رفیق نے فوراً سر جھکاتے ہوئے کہا۔ وہ تابش کو ٹھکانے لگا کر واپس آچکا تھا۔
قدسیہ، نایاب اور سلمہ کے چہروں کی ہوائیاں اُڑ چکی تھیں، خوف ان کی آنکھوں میں جم سا گیا تھا۔ لیکن زرام… بس خاموشی سے دیکھتا رہا۔ اس پورے منظر میں ایک بار بھی زیغم نے اس کی طرف نگاہ نہ ڈالی۔جیسے اسے جانتا ہی نہ ہو۔
تیزی سے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے،دروازہ کھولتے ہی زیغم کی چال میں وہی پرانا سرد اعتماد جھلک رہا تھا۔ وہ اندرونی گیٹ سے باہر نکلا، اور زرام تیز قدموں سے اس کے پیچھے سیڑھیوں سے اُتر آیا۔ گیٹ بند ہوتے ہی گھر کا ماحول ایک دم سنّاٹے میں ڈوب گیا… بس زیغم کے قدموں کی دھمک دور جاتی سنائی دے رہی تھی۔۔
“اللہ غرق کرے ،کمبخت مارے کو، ہم تو اسے بڑا کامیاب انسان سمجھتے تھے، ہمیں لگا تھا یہ ہمارے سارے مسئلے حل کر دے گا… مگر یہ کمبخت تو خود ایک مسئلہ نکلا!” قدسیہ، تابش کو کوس رہی تھی۔
“بی بی، اب کوسنے کا کیا فائدہ؟ سب کچھ لٹا کر ہوش میں آئے تو کیا آئے! اب کیا فائدہ جب چڑیا کھیت چن گئی؟ تمہیں تو تو شوق چڑھا تھا اپنی اس ادھیڑ عمر بیٹی کو پھر سے بہانے کا … اب چکھ لیا مزہ۔
اب بلا لو اپنے شوہر نامراد اور بیٹے کو۔ پتہ نہیں وہ اب وہ کیا سلوک کرے گا!” سلمہ ایسے نیک پارسا بن رہی تھی جیسے اس نے زندگی میں کبھی کوئی غلطی نہ کی ہو، جیسے زیغم کے خلاف کسی سازش میں شامل ہی نہ رہی ہو۔
“سلمہ پھوپو! آپ ایک نمبر کی مطلبی اور مکار عورت ہیں! اتنی حاجن بننے کی ضرورت نہیں۔ زیغم پھولوں کی مالا پہنا کر نہیں گیا آپ کو… بلکہ آپ کے لیے بھی یہی لفظ استعمال کر کے گیا تھا کہ آپ مکار ہیں۔ تو برائے مہربانی، خود کو نیک عورتوں میں مت شامل کریں!” نایاب پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی، جیسے سارا غصہ سلمہ پر اتار دے گی۔
“چپ کر بی بی! میرے منہ نہ لگ… اور جا جا کر اپنے بھائی اور باپ کو فون کر اس سے پہلے کہ وہ واپس آکر تم لوگوں کی چمڑی ادھیڑ دے !” سلمہ جلدی پر تیل ڈالتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“ایک بات یاد رکھنا ،اگر ہمیں گھر سے نکال دے گا، تو تمہیں کون سا گھر میں رکھے گا جو اتنا اچھل رہی ہو!” قدسیہ نے پیچھے سے اونچی آواز میں کہا۔
سلمہ نے الٹے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے دفع ہونے کو کہا… مگر جواب میں کوئی بات پلٹ کر الفاظ میں نہیں ڈھالی تھی۔۔۔
°°°°°°°°°
“زیغم بھائی… میری بات سنیں!” زرام کی آواز پر، تیزی سے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے زیغم کے قدم یکدم رک گئے۔
“کیوں کر رہے ہیں آپ مجھے نظر انداز؟ کوئی خطا ہوئی ہے تو مجھے بتائیں تو سہی۔”
وہ بس بولا نہیں تھا، بلکہ جھکتے ہوئے زیغم کے قدموں میں بیٹھ گیا، اور دونوں ہاتھوں سے اس کی ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لیں۔ زیغم سلطان چاہ کر بھی قدم نہیں اٹھا پا رہا تھا۔
زیغم نے چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کر کے گہری خاموشی اختیار کی، مٹھیوں کو بھینچ رکھا تھا۔ مائد گاڑی کی دوسری جانب کھڑا، یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
“ذرام تماشہ مت بناؤ… ملازم دیکھ رہے ہیں، ہٹو… مجھے جانا ہے!” زیغم نے سخت لہجے میں کہا۔
“دیکھنے دیں ملازم… تماشہ دیکھ رہے ہیں تو دیکھیں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے اپنے بڑے بھائی کے پاؤں پکڑ رکھے ہیں، مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں!” زرام کے لہجے میں ضد اور بےبسی تھی۔
“مگر میں تمہیں اپنا بھائی نہیں مانتا۔” زیغم کی آواز میں نہ لچک تھی، نہ محبت۔
“رشتے ماننے سے نہیں… رشتے نبھانے سے ہوتے ہیں۔” زرام نے سر جھکائے نرمی سے کہا۔
“ماشاءاللہ… اور تم لوگوں نے تو رشتے بہت خوب نبھائے ہیں۔” زیغم کی جانب سے طنزیہ آواز آئی۔
“مجھے ان لوگوں میں شامل مت کریں، بھائی… اگر میں غلط گھر میں، غلط لوگوں کے بیچ پیدا ہوا ہوں، تو اس پر میرا کوئی اختیار نہیں تھا۔ جس کی سزا آپ مجھے دے رہے ہیں۔”
“اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ… جو بات ہے، وہ کھڑے ہو کر بھی ہو سکتی ہے!” زیغم نے دو ٹوک کہا۔
“کبھی نہیں… تب تک نہ آپ کے پاؤں چھوڑوں گا، نہ کھڑا ہوں گا، جب تک آپ مجھے اپنی زبان سے میرا گناہ نہیں بتا دیتے!” زرام کے لہجے میں ضد اور التجا تھی۔
“ہاں… تمہارا گناہ یہی ہے کہ تم توقیر کے بیٹے ہو، شہرام کے بھائی، نایاب کے بھائی، قدسیہ کے بیٹے ہو۔ یہ سب رشتے میرے لیے زہر ہیں… جنہوں نے میری زندگی کا سارا سکون چھین لیا۔ جن کے لیے میرے پاس معافی نہیں۔ اور تم سے رشتہ جوڑ کر پہلے ان ظالموں کو معاف کرنے کی غلطی کر چکا ہوں… اب نہیں کرنا چاہتا۔ اسی لیے تم سے بھی ہر رشتہ، ہر ناطہ توڑ لیا ہے!”
“میں نے نہ تب کہا تھا کہ آپ انہیں معاف کریں، نہ اب کہہ رہا ہوں…جو سلوک کرنا چاہتے ہیں کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مگر مجھ سے میرا بھائی مت چھینیں!” زرام کی آواز لرز گئی، آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
“مت چھینیں… مجھ سے میرا بھائی… بہت محبت کرتا ہوں آپ سے… اتنی جتنی ایک سگا بھائی اپنے سگے سے کرتا ہے۔ میرے لیے آپ میرے سگے بھائی سے بڑھ کر ہیں۔ صرف میرے پاس آپ کی طرح سلطان لگاری کی ولدیت والا سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ ورنہ دل چیر کر دکھا سکتا کہ اس میں آپ کے لیے کتنی محبت اور عزت ہے… جس میں کوئی جھوٹ، کوئی کھوٹ نہیں!”
“اگر میرے بس میں ہوتا تو میں آپ کا سگا بھائی بن کر اس دنیا میں آتا… اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میری ولدیت پر سلطان لغاری کا نام لکھا ہوتا۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں سب کچھ ٹھیک کر دیتا۔ اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ خدا معاف نہیں کرے گا… تو میں اپنی جان لے لیتا۔ آپ نہیں سمجھ سکتے کہ ہر گزرتا لمحہ میرے لیے کتنا تکلیف دہ ہے۔ آپ مجھے اس قصور کی سزا دے رہے ہیں جو میں نے کیا ہی نہیں۔ جیتے جی آپ سے دور رہنا میرے لیے ممکن نہیں… یہ میری مجبوری ہے، بے بسی ہے… آپ چاہیں تو اسے جو مرضی سمجھ لیں۔”
“دن رات رو رو کر دعائیں کیں کہ اللہ میرے بھائی کو مجھے واپس لوٹا دے۔ ہر سانس کے ساتھ آپ کے لیے دعا گو تھا۔ آپ پر کوئی احسان نہیں کر رہا تھا… میں تو اپنے لیے دعا کر رہا تھا، کیونکہ مجھے اپنے بھائی کی ضرورت تھی۔ لیکن بھائی ہوش میں آ کر مجھ سے ملنا ہی نہیں چاہتا… بھائی نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
کیوں کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا سلوک؟ مار دیں مجھے… ایک کام کریں، باقی ظالموں کو مارنے سے پہلے میری جان لے لیں، کیونکہ میں تو ویسے ہی ختم ہو چکا ہوں۔ میرے پاس دو رشتے تھے… اور دونوں ہی مجھ سے دور ہو گئے۔ جی کر بھی کیا کروں گا؟”
اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔ زیغم سلطان نے حیرانی سے دونوں رشتوں کے ٹوٹنے والی بات پر غور کیا۔ ایک تو اس نے زیغم کا نام لیا تھا… اور دوسرا؟ وہ کس کے بارے میں کہہ رہا تھا؟ زیغم کے دماغ میں فوراً ملیحہ کا نام آیا۔
“ملیحہ کہاں ہے؟ اور تم دونوں الگ کیسے ہوئے؟ کیا ہوا ہے تم دونوں کے بیچ میں؟” زیغم نے اس کے دونوں کاندھوں کو مضبوطی سے پکڑ کر جھٹکے سے کھینچا اور اسے اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔ چند لمحے پہلے وہی شخص کہہ رہا تھا کہ وہ زرام سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتا، مگر اب اس کے ٹوٹے رشتے کا درد سن کر زیغم کے لہجے میں شدت آ گئی تھی۔
“یہ کیسی محبت تھی تم دونوں کے بیچ… جو سگے بھائیوں سے بڑھ کر تھی؟”
زرام نے کوئی جواب نہیں دیا۔ زیغم کی کمر کے گرد ہاتھ باندھ کر اسے سینے سے لگا لیا۔ زیغم نے فوراً اسے دھکا دے کر الگ کرنے کی کوشش کی… مگر یہ فضول تھا۔ زرام ہٹنے کو تیار ہی نہیں تھا۔
“ہٹو مجھ سے دور ہو رہومجھے تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا نفرت ہے مجھے تم لوگوں سے زیغم دل پر جبر کرتے ہوئے سختی سے بول رہا تھا….
“جتنی نفرت کر سکتے ہیں کر لیں میں تو نہ دور رہوں گا نہ آپ سے محبت کرنا چھوڑوں گا ،میں بھی تو دیکھوں کب تک آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں، وہ زبردستی گلے سے لگا ہوا شدت سے بول رہا تھا۔۔۔
” کب تک ناراض رہتا…” زیغم نرم پڑنے لگا۔ بالآخر بڑے بھائی کا دل پگھل گیا۔ زیغم نے اپنی باہیں ڈھیلی کیں تو زرام نے خاموشی سے اپنے بازو اس کے گرد اور بھی مضبوطی سے لپیٹ لیے۔
دونوں ایک دوسرے کو گلے لگائے کھڑے تھے… ناراضگی، شکوے سب پیچھے رہ گئے تھے۔ جیسے برسوں کی خفا رتوں پر بارش کا پہلا قطرہ گرا ہو اور ساری کڑواہٹ بہا لے گیا ہو۔ وہ جڑے ایسے تھے جیسے طوفان میں پناہ پانے والے دو مسافر… جنہیں بس ایک دوسرے کا ساتھ کافی ہو۔۔۔
°°°°°°°°
اب منہ کھولو گے، بتاؤ گے کہ کیا ہوا ہے… یا منہ کھلوانے کے لیے تھپڑ رسید کرنا پڑے گا؟
زیغم کی آواز میں سختی تھی، مگر آنکھوں میں بے چینی صاف جھلک رہی تھی۔۔
زیغم اور زرام اس وقت مائد خان کے فارم ہاؤس پر موجود تھے۔ زیغم اسے سیدھا اپنے ساتھ یہاں لے آیا تھا تاکہ ملیحہ اور زرام کے رشتے میں آئی دراڑ کی اصل وجہ جان سکے۔
مائد کو یہ مناسب نہ لگا کہ وہ ان کے بیچ بیٹھا رہے، اس لیے وہ کسی بہانے سے کمرے سے نکل گیا۔
مگر زرام بدستور خاموش تھا۔ایسی خاموشی جیسے الفاظ اس کے لبوں سے روٹھ گئے ہوں۔
زیغم کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہونے لگا۔ اس کی یہ چپ، زیغم کے خیالات کو مزید الجھا رہی تھی اور چڑ چڑاہٹ بڑھا رہی تھی۔
“کیا بتاؤں… ہمت ہی نہیں ہے مجھ میں بتانے کی۔”
زرام کی آواز بھاری اور مدھم تھی، جیسے ہر لفظ سینے سے کھینچ کر نکال رہا ہو۔
“ایسا کیا ہوا ہے جو بتانے کی ہمت نہیں ہو رہی؟” زیغم نے تھوڑا جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا، لہجہ دھیما مگر پریشانی سے بھرا ہوا تھا۔ “خدا کا نام لے زرام، میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں،مجھے مزید مت الجھا ۔ کچھ تو بول! تبھی تو مجھے پتہ چلے گا کہ آخر ہوا کیا ہے۔”
زیغم نے گہری سانس لی، الفاظ میں تھکن اور فکر دونوں نمایاں تھیں۔
“کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہوتا جس کا کوئی حل نہ نکلے۔
تم دونوں کے بیچ میں اتنی محبت تھی… آخر ایسا کیا ہو گیا کہ تم دونوں الگ ہو گئے؟ میں سمجھ نہیں پا رہا۔”
زرام کی نظریں نیچی تھیں، ہاتھ آپس میں مڑوڑتے ہوئے وہ ایک پل کے لیے رک گیا، مگر پھر بھی لب نہ کھلے۔
“یا اللہ… مجھے صبر عطا فرما۔”
زیغم کے لب کپکپا اٹھے، پیشانی پر بل اور آنکھوں میں بے قراری صاف جھلک رہی تھی۔
“میرا دل بند ہو رہا ہے، زرام… اس سے پہلے کہ مجھے اٹیک آ جائے، مجھے بتا دو آخر کیا ہوا ہے!”
اس نے بے بسی سے زرام کے بازو کو تھام لیا، گرفت میں کپکپاہٹ واضح تھی۔
“ایسی کیا بات ہے جو تم زبان تک نہیں لا پا رہے؟”
زیغم کی آواز ٹوٹ کر بکھر گئی، جیسے ہر لفظ میں ایک فریاد چھپی ہو۔
زرام نے پلکیں جھپکیں، گہری سانس لی، مگر اب بھی اس کی خاموشی کمرے کی فضا کو اور بھاری کر رہی تھی۔
زیغم حیران تھا…
وہ اپنے سامنے بیٹھے ہوئے زرام کو دیکھ رہا تھا جو آنکھوں میں نمی لیے چپ چاپ بیٹھا تھا۔ آنسو اس کے رخسار پر بہہ رہے تھے مگر ہونٹوں سے ایک لفظ بھی نہ نکل رہا تھا۔
زیغم کے دل میں کھٹک اور بڑھ گئی۔ اتنی بات تو وہ سمجھ چکا تھا کہ معاملہ معمولی نہیں۔یہ کوئی ایسی بات ہے جو زرام کے دل کو چیر رہی ہے، اتنی گہری کہ وہ اسے زبان تک نہیں لا پا رہا۔
زرام کی آنکھوں میں جو درد جھلک رہا تھا، وہ زیغم کے لیے لفظوں سے کہیں زیادہ واضح تھا۔ اس کی خاموشی اور آنکھوں کی نمی… جیسے اس کے اندر کا حال چیخ چیخ کر بیان کر رہی ہو۔ کمرے کی فضا سنسان تھی، مگر اس سنسناہٹ میں بھی زیغم کو زرام کے ٹوٹے دل کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔
مطلب تم نہیں بتاؤ گے؟ تو پھر کیا ضرورت تھی بار بار یہ کہنے کی کہ میں تمہارا بھائی ہوں؟ اگر واقعی بھائی ہوتا، تو تم مجھے ضرور بتاتے۔
زیغم کی آواز میں شکوہ تھا، مگر ساتھ ہی بےچینی بھی صاف جھلک رہی تھی۔
“پلیز بھائی… یہ مت بھولیں آپ میرے بھائی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، مجھ سے یہ رشتہ مت چھینیں۔” زرام کی آواز بھرا گئی۔ “بات ایسی ہے کہ بولتے ہوئے میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے… زبان پر لانے کے لیے ہمت چاہیے… وہ ہمت جمع کر رہا ہوں۔”
یہ کہتے ہی وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو پڑا، جیسے اندر کا سارا دکھ ایک ساتھ بہہ نکلا ہو۔
“اچھا، حوصلہ رکھو… آرام سے سانس لو… پانی پیو۔”
زیغم نے فوراً جگ سے گلاس بھرا اور اس کے آگے رکھا۔ زرام نے فوراً گلاس تھام کر ایک ہی سانس میں پی لیا، جیسے دل میں لگی آگ بجھانی ہو۔
پانی پینے کے بعد وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا، پھر گہری سانس لے کر درد زدہ نظروں سے زیغم کی طرف دیکھنے لگا۔
“پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیں، اس کے بعد میں آپ کو ایک ایک بات بتا دوں گا۔ بس… اپنی نظروں میں مجھے گرائیے گا مت۔ مجھے نہیں پتہ میں صحیح ہوں یا غلط… بس مجھے گنہگار مت سمجھیے گا۔”
“نہیں سمجھوں گا… بس تم ریلیکس ہو جاؤ اور مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے۔ کیا سوال ہے تمہارا؟”
زیغم نے نرمی اور ذہانت سے اسے سنبھالنے کی کوشش کی، ہر لفظ کے ساتھ اسے حوصلہ دے رہا تھا۔
“آپ مہرو بھابھی سے کتنا پیار کرتے ہیں؟”
زرّام کی آواز دھیمی مگر بوجھل تھی۔
“یہ کیسا سوال ہے؟” زیغم نے تھوڑا چونک کر پوچھا۔
“آپ بس جواب دے دیں… پلیز۔”
زیغم کے چہرے پر نرمی سی آئی۔ “اپنے آپ سے زیادہ…”
زرام نے فوراً دوسرا سوال داغا، “اور کبھی سب ثبوت آپ کی محبت کے خلاف ہو جائیں تو آپ کیا کریں گے؟”
زیغم نے ہلکی سی سانس لی اور گہری سنجیدگی سے بولا، “سوال ہی غلط ہے۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں ثبوت کی تو ضرورت ہی نہیں پڑتی۔”
زرام نے سر جھکا کر کہا، “مگر ایک پل کے لیے سوچیں تو صحیح… اگر ایسا ہو جائے کہ تمام ثبوت مہرو بھابھی کے خلاف ہوں؟ اور آپ ان سے سوال کریں… مگر وہ جواب بھی نہ دیں، بتائیں بھی نہ کہ حقیقت کیا ہے… تو آپ کیا کریں گے؟”
زیغم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر آنکھوں میں عزم تھا۔
“تمام ثبوت چھوڑ کر… اگر پوری دنیا بھی مہرو کے خلاف کھڑی ہو جائے، تب بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور جواب تو وہ تب دے گی نا جب میں سوال کروں گا۔ میری محبت کا اپنا اصول ہے… جہاں محبت ہوتی ہے وہاں دلیلیں نہیں مانگی جاتیں۔ دلیل مانگنے کے بعد محبت کا دعویٰ کرنے والے جھوٹے ہوتے ہیں۔ میں کبھی بھی کوئی سوال کروں گا نہیں… کیونکہ اس کو سوال کرنے سے پہلے جواب میرا دل دے گا ۔۔
میرا دل خود گواہی دے گا کہ مہرو کیا کر سکتی ہے اور کیا نہیں۔ جب دل گواہی دے دے… تو پھر مقابل کے جواب کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔”
“اگر اب تمہارے سوال ختم ہو گئے ہوں…” زیغم کی آواز میں سختی نہیں مگر ایک وزنی سنجیدگی تھی، “ مجھے صرف اتنا بتا دو… جو میں سوچ رہا ہوں، وہ ٹھیک ہے؟”
وہ ذرا سا رکا، زرام کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دیکھا۔
“مطلب کہ… تم نے ملیحہ پر شک کیا؟ اور تمہارا یہ درد، تمہاری یہ گھبراہٹ… یہ بتا رہی ہے کہ تم نے اس کے کردار کی گواہی مانگی ہے۔”
زیغم کے لہجے میں اب ہلکا سا افسوس اتر آیا۔
“اگر ایسا ہے… تو مجھے افسوس ہے تم پر، زرام۔ کہ تم اتنی چھوٹی سوچ کے مالک ہو کہ اپنی محبت سے اس کے کردار کی معافی مانگ رہے ہو۔ کیا اس کے کردار کی گواہی… تمہارے دل نے تمہیں نہیں دی؟”
“بھائی… سب ثبوت اس کے خلاف تھے،” زرام کی آواز بھاری ہو گئی، سانس جیسے رکی رکی چل رہی ہو۔
“میں نے اس پر شک نہیں کیا… بار بار موقع دیا کہ وہ مجھے بتا دے… کہ سچ کیا ہے۔”مگر… وہ بتانے کو تیار ہی نہیں تھی۔”
زرام نے نظریں اور بھی نیچی کر لیں، چہرے پر شرمندگی صاف جھلک رہی تھی۔
“موقع دیا تھا؟” زیغم کی آواز گہری اور کٹ دار ہو گئی،
“سچ میں موقع؟ تم نے اسے اپنے کردار کی صفائی دینے کا موقع دیا؟”
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، آنکھوں میں شدید مایوسی تھی، “واہ… ذرام اپنے الفاظ پر خود غور کرو۔ جس سے محبت کرتے ہیں، اسے کردار کی گواہی کے لیے موقع دیتے ہیں؟ کیا اسے محبت کہتے ہیں؟”
زیغم نے کرسی کی پشت سے سیدھا ہوتے ہوئے سخت لہجے میں کہا، “کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ ذرا سوچو، تم ایسے تو نہیں تھے نا… مجھے تو افسوس ہو رہا ہے کہ جیسے میں نے تمہیں جاننے میں بہت کمی کر دی ہے۔”
اس نے گہری سانس لی، پھر نگاہیں زرام کے چہرے پر گاڑ دیں، “میں کبھی سمجھ ہی نہیں سکا کہ تم اتنے کمزور ہو جاؤ گے… اپنی بیوی سے، جسے تم محبت سے، ضد کے ساتھ اپنے گھر، اپنے ساتھ نکاح کر کے لائے تھے… اسی کے ساتھ تم ایسا سلوک کرو گے جیسا ایک پرائے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔”زیغم کے چہرے پر افسوس اور غصے کے گہرے رنگ نمایاں تھے۔
“بھائی… میں جانتا ہوں کہ مجھ سے کچھ غلطیاں ہو گئی ہیں،” وہ تھکے ہوئے لہجے میں بولا، “مگر آپ نہیں جانتے… رپورٹس، فون کالز، میسجز… اور سب سے بڑھ کر شہرام کا فون۔”
اس نے گہری سانس کھینچی، جیسے اس لمحے کی تلخی اب بھی گلے میں اٹکی ہو، “پیچھے اس نے وہ گندے الفاظ بولے تھے… کہ ‘میرے بچے کا خیال رکھنا، اور اسے پریشان مت کرنا۔ یہ رشتہ اس کے ساتھ رضامندی سے نہیں جڑا، مگر اب یہ بچہ ہمارے رشتے کو مضبوط کرے گا’… ایسے گندے الفاظ، بھائی، میں کیسے بھول جاؤں؟”
زرام کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، “اور میں نے ایک نہیں، کئی بار ملیحہ کے فون پر کالز آتی دیکھیں… جب پوچھتا تو کہتی ‘زونگ کال ہے’۔ ملیحہ نے اپنے منہ سے مجھے یہ تک نہیں بتایا کہ وہ پریگننٹ ہے… یہ بات مجھے شہرام سے پتہ چلی۔”
وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوا، جیسے اندر کے شور کو روکنے کی کوشش کر رہا ہو، “اس سب کا میں کیا مطلب نکالوں؟ ایک بار نہیں، کئی بار دل نے گواہی دی کہ وہ ایسی نہیں ہے، کہیں کچھ غلط ہے… مگر بار بار پوچھنے پر بھی وہ اپنی ضد پر اڑی رہی۔”
اس نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا، “کہاں سے جواب لاؤں؟ تھک گیا ہوں بھائی… خود سے لڑتے لڑتے۔ دل کہتا ہے کہ وہ ایسی نہیں ہے، مگر دماغ کہتا ہے کہ سب ثبوت اس کے خلاف ہیں۔ انسان ہوں بھائی… فرشتہ نہیں۔ اور نہ ہی آپ جیسا ہوں۔”
اس وقت مجھے تم پر بہت غصہ آ رہا ہے، اور میں نہیں چاہتا کہ غصے میں کوئی ایسا کہہ جاؤں جس کا بعد میں مجھے افسوس ہو۔ بہتر یہی ہے کہ تم ابھی واپس حویلی چلے جاؤ، بعد میں بات کریں گے۔ اور یہ دلیل مجھے مت دینا کہ تم میرے جیسے نہیں، تم فرشتہ نہیں ہو۔
اگر تم یقین نہیں کر سکتے تھے تو محبت کرنے کی غلطی بھی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ جب سینہ ٹھوک کر محبت کی تھی، اس کے بغیر جیا نہیں جا رہا تھا، اس کے لیے مرے جا رہے تھے، تب تمہیں سب سوچنا چاہیے تھا۔ تب تمہیں اپنے بھائی کی حقیقت بھی یاد رکھنی چاہیے تھی کہ وہ کتنا گھٹیا اور کمینہ انسان ہے۔ تم نے شہرام جیسے شخص کی باتوں پر یقین کر لیا، اور اس معصوم لڑکی پر نہیں، جو تم سے محبت کرتی تھی۔
معذرت کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے، توقیر اور شہرام کی رگوں میں خون نہیں، زہر دوڑتا ہے۔ یہ درندے ہیں، جنہیں عورتوں کی عزت کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا ہے۔ میں نہیں مانتا کہ ملیحہ تم سے کچھ چھپا سکتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو اس میں قصور تمہارے بھائی کا ہوگا، نہ کہ ملیحہ کا۔
میں اس بات کی تہ تک جاؤں گا، اور ثبوت لے کر آؤں گا کہ آخر ہوا کیا تھا۔ تم بس جا کر سجدے میں گر جاؤ، اور رب سے دعا کرو کہ وہ تمہیں معاف کر دے۔ اگر میرا پوچھو تو تم اس لائق بھی نہیں کہ تمہیں معاف کیا جائے۔ پاگل انسان! محبت تو وہ عبادت ہے جو دل سے کی جاتی ہے، اور محبوب کی گواہی محبوب سے نہیں، اپنے دل سے مانگی جاتی ہے۔
محبت اور اولاد جیسی نعمت پا کر تم اس کے کردار کی صفائی مانگ رہے ہو؟ ملیحہ جیسی لڑکی سے پوچھ رہے ہو کہ حقیقت کیا ہے؟ تمہیں لگتا ہے کہ وہ جواب دے گی؟ نہیں! وہ کبھی جواب نہیں دے گی، اور نہ ہی ایک عورت کو دینا چاہیے۔ جب مرد کی محبت کمزور پڑ جائے اور وہ سوال کرنے لگے کہ سچ کیا ہے، تو میں ایک مرد ہو کر عورت کو یہی کہوں گا کہ وہ کبھی اپنے کردار کی صفائی نہ دے۔
ابھی کے لیے تم چلے جاؤ حویلی۔ کل بات ہوگی۔
وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا، اور غصے سے باہر نکل گیا۔ غصے کی شدت سے زیغم کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اگر وہ یہاں کچھ دیر اور رکتا، تو شاید ایسی بات کہہ جاتا جس کا ازالہ بعد میں ممکن نہ ہوتا۔
پیچھے بیٹھا زرام بس شرمندہ نظروں سے دروازے کو گھورتا رہ گیا… یہ جانے بغیر کہ زیغم کا اگلا قدم کس طوفان کو جنم دینے والا ہے۔
°°°°°°°°°
“مہرو، کھانا کھا لو… بھائی آ جائیں گے، فکر نہ کرو۔” دانیا ایک بار پھر اسے دیکھنے اور کھانے کا کہنے کے لیے آئی تھی۔ مہرو ابھی تک جاگ رہی تھی۔رات بھی کافی ہو چکی تھی مگر زیغم اور مائد ابھی تک واپس نہیں آئے تھے۔۔
“نہیں… مجھے کھانا نہیں کھانا، جب سائیں آئیں گے، ان کے ساتھ کھا لوں گی۔”
“اتنا پیار کرتی ہو بھائی سے؟” دانیا نے رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“جو پیار کے لائق ہوں… ان سے پیار ہی کیا جاتا ہے۔ وہ ہیں ہی اتنے اچھے، اتنے پیارے، کہ ان سے پیار کیا جائے۔”مہرو کے لہجے سے زیغم کے لیے محبت احترام چھلک رہا تھا۔۔
“مہرو، تم کہاں تھیں؟ میرا مطلب ہے… اتنی دیر تک کہاں رہیں؟” بے اختیار یہ سوال دانیا کی زبان پر آ گیا۔
مہرو خاموش رہی۔ کیسے بتاتی کہ وہ کہاں تھی؟ ہمت جمع کر رہی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے ایک اور آزمائش سے بچا لیا۔ باہر سے آنے والی تیز گاڑی کے ہارن نے انہیں اپنی طرف متوجہ کر لیا اور دانیا کا دھیان اپنے سوال سے ہٹ گیا۔
“لو جی، آ گئے بھائی! اب تم جلدی سے کھانے کے لیے تیار ہو جاؤ، میں آپ لوگوں کے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔” دانیا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“دانیا آپی، کھانا تو آپ نے بھی نہیں کھایا، ہم سب مل کر کھا لیں گے۔” مہرو نے پیار سے کہا۔
“نہیں جی بالکل بھی نہیں! اتنے مہینوں بعد آپ لوگ ملے ہیں،میں کباب میں بالکل ہڈی نہیں بننا چاہتی۔ آپ اور بھائی آرام سے کھانا کھائیں، باتیں کریں۔ اور تھک چکے ہوں گے، آرام بھی کریں۔ میں مائد کے ساتھ کھا لوں گی، میری فکر مت کرو۔ آپ لوگ دل کھول کر باتیں کر سکو، دکھ سکھ شیئر کر سکو… اسی لیے تو میں نے ارمیزہ کو بھی اپنے کمرے میں سلا لیا ہے۔ پتا ہے، وہ کتنی ضد کر رہی تھی کہ آپ لوگوں کے ساتھ سونے آئے۔”
مہرو خاموش رہی۔ عجیب سی اداسی اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی، جسے دانیا نے محسوس تو کیا، مگر ابھی پوچھنے کا وقت نہیں تھا۔ کیونکہ مائد اور زیغم گھر کے اندر آ چکے تھے، اور دانیا کو کھانے کا انتظام کروانا تھا۔
وہ تیزی سے باہر نکل گئی۔
°°°°°°