Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:59

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 59
°°°°°°°°°
زیغم شاید کچھ دیر دانیہ کے پاس رک گیا تھا۔یا پھر ارمیزہ سے ملنے چلا گیا ہوگا یہ بات مہرو سوچ رہی تھی کیونکہ زیغم ابھی تک کمرے میں نہیں آیا تھا۔۔
اسی دوران، ملازمہ دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے مہرو کے روم میں داخل ہوئی۔
مہرو بے قراری سے اٹھ کھڑی ہوئی، دل کی دھڑکن تیز۔ اسے لگا شاید زیغم سلطان آ گئے ہیں، اس کی نظریں دروازے پر جم گئیں، مگر کھانے کا ٹرے دیکھ کر دل سے ایک بے اختیار ٹھنڈی سی آہ نکلی۔

ملازمہ نے کھانا ٹیبل پر رکھ کر چلی گئی، اور مہرو انگلیاں مروڑتے ہوئے دوبارہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ نظریں اب بھی دروازے پر مرکوز تھیں، ہر لمحہ انتظار میں گھری ہوئی۔ کچھ دیر بعد، بے قراری آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی۔

آخرکار، دروازہ کھلا۔ زیغم سلطان کمرے میں داخل ہوا۔ اسکے وجود کی خوشبو نے مہرو کو فوراً بتا دیا کہ اس کے سائیں آ چکے ہیں۔
مہرو نے آنکھیں بند کیں اور اس خوشبو کو گہرائی سے سانسوں میں کھینچتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ لیا ،
وہ ایسے سانسیں روک کر آنکھیں بند کیے ہوئے تھی، جیسے اگر اس نے آنکھیں کھولیں تو یہ خوبصورت خواب اس کی نظروں کے سامنے سے غائب ہو جائے گا۔

زیغم سلطان آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھتا ہوا قریب آیا۔ مہرو ….وہ رُخسار کے نیچے انگلی رکھتے ہوئے اس کا نام اس شدت اور محبت سے پکار رہا تھا کہ مہرو کو لگا، ایک لمحے کے لیے اس کا دل رک کر اور دوبارہ دھڑکنے لگا۔ یہ احساس کسی کو بتایا نہیں جا سکتا۔ بس محسوس کیا جا سکتا تھا۔
مہرو کا ہاتھ بے اختیار زیغم سلطان کے ہاتھ کو تھام چکا تھا، مگر آنکھیں بند رکھی ہوئی تھیں، جیسے کھولے تو گناہ ہو جائے۔ دل کی تیز دھڑکنیں اور سامنے اس شخص کو دیکھنے کی شدید چاہت جس سے وہ بے انتہا محبت کرتی تھی، اسے اتنا ایموشنل کر گئی کہ آنکھوں سے آنسو موسم کی برسات کی طرح برسنے لگے۔

خدارا، یہ ظلم نہ کرو… ترس کھاؤ، ان خوبصورت آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھنا میرے بس میں نہیں۔ زیغم کے لبوں سے یہ الفاظ نرمی سے مہرو کے دل میں اترے۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا، مہرو کنارے پر پاؤں لٹکائے اس کے ہاتھ تھامے بیٹھی تھی۔ زیغم نے سر اس کی گود میں رکھ دیا۔ دل کی دھڑکنیں، ہر لمس، ہر نظر،سب کچھ اتنا حقیقی، اتنا قریب، کہ الفاظ خاموش رہ گئے۔ یہ لمحہ بس جیا جا سکتا تھا، بس محسوس کیا جا سکتا تھا۔

” یہ جگہ آپ کی نہیں ہے… آپ تو آسمان ہیں اور میں صرف قدموں کی دھول۔
وہ ٹوٹتی ہوئی آواز تھی جس میں مہرو نے بامشکل یہ الفاظ کہے۔
زیغم نے اس کے ہاتھ تھامے، عقیدت بھری نظروں سے اس کی گود سے سر اٹھاتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔

“تم نے مجھے آسمان کہا، یہ تمہاری محبت کی ابتدا ہے… اور خود کو قدموں کی دھول کہا، یہ تمہاری محبت کی انتہا ہے۔ میرا آسمان تم بن ادھورا ہے، اور وہ دھول جسے تم نے چھوٹا سمجھا، میں نظروں میں عبادت کی طرح چھپا کر رکھوں۔یہ میری محبت کی انتہا ہے۔”

زیغم سلطان کی خوبصورت آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ کر سرخ ہو رہی تھیں، خوبصورتی کی آخری حدیں چھو رہی تھیں۔ آنکھوں کے کناروں تک پانی بھر آیا تھا، جسے وہ مشکل سے چھلکنے سے روک رہا تھا۔
“آپ رو رہے ہو، ؟”
مہرو نے تڑپتے ہوئے پوچھا ۔۔ دونوں ہاتھوں کی نازک ہتھیلیوں سے آنسو پونچھ دیے۔
زیغم نے اس کی دونوں نازک ہتھیلیاں پکڑیں، لبوں سے لگا کر سر ان پر ٹکا دیا۔ یہ کیسی عقیدت، یہ کیسی محبت تھی۔لفظوں سے پرے، کبھی نہ نگاہوں میں سمٹنے والی، بس محسوس کی جانے والی۔

“خوشی کے آنسو ہیں،
زیغم نے نم لہجے میں اس کی جانب محبت سے کہا۔

“کس چیز کی خوشی؟
مہرو کی آواز دھڑکتے دل کا بوجھ لیے ہوئے تھی۔

“سرکار سے ملنے کی۔
زیغم نے نرمی سے جواب دیا ۔
نگاہوں آنسو چھلک پڑے تھے بہت روکنے کے باوجود بھی۔

“میں اتنی خاص نہیں ہوں۔
وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی بے چینی کو چھپاتے ہوئے بول رہی تھی مگر آنکھیں سب بیاں کر رہی تھی ۔

“میرے دل سے پوچھو کہ تم کتنی خاص ہو ۔زیغم نے گہری سنجیدگی سے کہا،

“آپ کے دل سے نہیں، آپ کے دماغ سے پوچھوں گی۔
مہرو کے لہجے میں ایک سختی اور فیصلہ پن تھا۔
” محبت کے فیصلے ہمیشہ دل کرتا ہے، دماغ کا کوئی کام نہیں ہوتا۔
زیغم کی آواز میں خالی پن اور کڑواہٹ بسی تھی۔
“جب سچ سامنے آئے گا تو فیصلہ آپ کا دماغ کرے گا، دل نہیں۔
مہرو کی زبان سے نکلے الفاظ جیسے رات کی سنسان خاموشی میں گونج گئے۔

“تمہارے معاملے میں کبھی بھی دماغ کو فیصلہ کرنے کی اجازت ہی نہیں دوں گا۔
زیغم نے اس کے نازک ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگا لیے، اور نم پلکوں کے پیچھے اپنی محبت چھپا دی۔
اس کے الفاظ میں ایسی مضبوطی تھی کہ مہرو نے گہری نظروں سے زیغم کے مرجھائے چہرے کو دیکھا۔ وہ اس کی گود میں سر ٹکائے یوں بیٹھا تھا جیسے کوئی معصوم بچہ اپنی ماں کے آغوش میں سکون ڈھونڈ رہا ہو۔۔
“مت اتنا خاص درجہ دیں، مت اتنے اونچے مقام پر بٹھائیں سائیں… کہ حقیقت سامنے آنے پر جب آپ مجھے اس مقام سے نیچے دھکیلیں تو میں برداشت نہ کر سکوں۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب آپ کو حد سے زیادہ عزت اور محبت ملتی ہے تو پھر اس میں کمی برداشت نہیں ہوتی۔

مہرو کے لہجے کی سنجیدگی دیکھ کر زیغم کی نظریں اس پر جیسے جم سی گئیں۔ وہ حیران تھا یہ دیکھ کر کہ صرف چھ ماہ نے مہرونساء کو کتنا بدل دیا ہے۔ معصوم مہرو، جسے بولنا بھی مشکل لگتا تھا، آج اتنی گہری اور نپی تلی باتیں کر رہی تھی۔ سچ ہی کہتے ہیں، وقت سب سے بڑا استاد ہوتا ہے… جو زندگی کا مطلب ہمیں بہت باریکی سے سمجھا دیتا ہے۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟” زیغم کے چہرے پر حیرانی، تجسس اور خاموشی دیکھ کر مہرو نے سوال کیا۔
“دیکھ رہا ہوں سرکار… بہت سمجھداری والی باتیں کرنے لگی ہو۔” زیغم نے نرم لہجے میں کہا۔
“سمجھدار نہیں ہوں میں… بس ان چھ مہینوں میں جو دنیا میں نے دیکھی ہے، جو تلخ حقیقتیں جھیلی ہیں، انہی کو دیکھ کر جو سیکھا ہے، اسی کی بنا پر کچھ باتیں کر رہی ہوں۔ اب اسے آپ کچھ بھی نام دے سکتے ہیں۔” مہرو نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔
“اگر میں کہوں کہ تم نے جو بھی سیکھا ہے… اسے بھول جاؤ؟” زیغم نے اس کی نظروں میں چھپی گہرائی کو سمجھتے ہوئے کہا، دل کی گہرائی سے کوئی خواہش زبان پر آ گئی تھی۔
مہرو نے لمحہ بھر کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکھا، پھر مدھم مسکراہٹ کے ساتھ بولی”یادیں بھلائی جا سکتی ہیں، زخموں کا درد وقت کے ساتھ مدھم ہو جاتا ہے… لیکن جو سبق زندگی سکھا دے، وہ انسان کے وجود کا حصہ بن جاتا ہے سائیں… اسے بھلانا آسان نہیں ہوتا۔”

زیغم سلطان نے گہری سانس کھینچی، جیسے دل کے اندر اٹھتے طوفان کو قابو میں کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔ کچھ لمحے آنکھیں بند رکھی، پھر یکدم جھٹکے سے آنکھیں کھول کر سیدھا مہرو کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں تڑپ اور آواز میں کپکپاہٹ تھی۔
“کیوں… کیوں جذبات سے خالی باتیں کر رہی ہو؟” وہ مدھم مگر بھاری لہجے میں بولا۔ “تمہارے لبوں سے نکلا ہوا ہر لفظ مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ جیسے میری محبت کمزور ہے… جیسے تمہیں میری چاہت پر یقین ہی نہیں۔”

وہ لمحہ بھر رکا، آنکھوں کے کنارے لرزتے آنسوؤں کو تھام نہ سکا، جو بہتے ہوئے اس کے دل کے جلتے ہوئے داغوں کو اور بھڑکا گئے۔
“یہ درد… یہ آنسو میرا دل جلا رہے ہیں مہرو… کیوں کر رہی ہو ایسا؟”
زیغم کی آواز میں کپکپاہٹ تھی، جیسے ہر لفظ اس کے دل کی گہرائی سے ٹوٹ کر نکل رہا ہو۔
مہرو خاموش رہی، مگر اس کی آنکھوں میں وہ سب سوال تھے جنہیں زبان پر لانا ممکن نہیں تھا۔ زیغم نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا، جیسے وہ اس کی خاموشی کو توڑ دینا چاہتا ہو، اسے اپنی محبت پر یقین دلانے کے لیے وقت کو روکے ہوئے تھا ۔۔
“آپ مجھ سے محبت مت جتائیں، بس سوال کریں… میں ان کا جواب دینا چاہتی ہوں۔”
مہرو کے لہجے میں اجنبیت تھی، جیسے وہ زیغم کو جانتی ہی نہ ہو۔

“میں تو محبت جتاؤں گا، تم مجھے روک نہیں سکتی۔ اور کیسا سوال؟ کیا سوال کروں تم سے؟ کس کی امید تم مجھ سے لگائے بیٹھی ہو؟”
زیغم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔

“سائیں… آپ بہت سمجھدار ہیں۔ آپ کو سب پتہ ہے میں کیا بول رہی ہوں۔”
مہرو کے لہجے میں تھکن اور بےبسی تھی۔

“نہیں مہرو، میں سمجھدار نہیں ہوں۔ سمجھدار تو تم ہو… جسے لگتا ہے کہ مجھے کچھ سوال کرنے ہیں۔ تو لاؤ، زبان پر وہ الفاظ۔ میں جاننا چاہتا ہوں آخر تم نے کون سے جواب تیار کر رکھے ہیں، کون سے سوالوں کی امید لے کر تم میرے ساتھ آئی ہو۔”
زیغم زمین سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے سختی سے کھڑا تھا۔ کمرے کی فضا میں ایک تلخی سی پھیل گئی تھی،

مہرو خاموش تھی۔ اس کی پلکیں لرز رہی تھیں، جیسے کسی طوفان کو ضبط کر رہی ہوں۔ زیغم نے ایک قدم آگے بڑھایا، پھر رک گیا۔
“تمہاری یہ خاموشی مجھے مار ڈالے گی مہرو…”
زیغم کی آواز بھاری ہو گئی، گلے میں رندھک سا آ گیا۔ “اگر تمہیں میرے جواب نہیں چاہیے تو کم از کم اپنی آنکھوں سے سچ تو کہہ دو… تمہاری یہ نظریں کیوں مجھے یوں اجنبی بنا رہی ہیں؟”
مہرو نے سر جھکا لیا۔ آنکھوں سے بہتے قطرے زمین پر گر کر جیسے زیغم کے دل کو چیر گئے تھے۔
زیغم نے بےبسی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا ….”مہرو، میرے صبر کا امتحان مت لو۔ میری پوری زندگی امتحان دیتے گزری ہے۔ محبت کے معاملے میں میں کمزور ہوں… اور اگر یہ بھی امتحان ہوا تو میں فیل ہو جاؤں گا۔”
زیغم سلطان کا لہجہ حد سے زیادہ سخت ہو گیا تھا۔ آنکھوں میں غصے سے زیادہ درد تھا۔

وہ ایک لمحے کو رکا، پھر قدم آگے بڑھا اور مہرو کے قریب آ کر چہرے پر چہرہ جھکائے کھڑا تھا۔
“تم کہو، مجھے کیا سوال کرنا چاہیے؟ میں وہی سوال کروں گا۔ وہی سوال، جس کے جواب تم ذہن میں تیار کر کے لائی ہو۔”
فضا میں سناٹا چھا گیا۔ کمرے کی گھڑی کی ٹِک ٹِک بھی جیسے رک گئی تھی۔
مہرو کے لب کانپے مگر الفاظ نہ نکلے۔ آنکھوں میں آنسوں بھرے ہوئے جو بار بار چھلک رہے تھے۔۔

زیغم نے گہری سانس بھری،
“یہ خاموشی مجھے مار دے گی مہرو… یا تو مجھے دھتکار دو، یا اپنی آنکھوں سے ہی سچ کہہ دو۔ میں صرف تمہارا ایک جواب چاہتا ہوں،کہ آخر تم کیا سوچ رہے ہو۔۔”

“مہرو کون ہوتی ہے دھتکارنے والی؟ آپ میرے محسن بھی ہو اور شوہر بھی۔” وہ نظریں چراتے ہوئے بولی، جیسے دل میں کچھ اور ہو اور زبان پر کچھ اور۔

“محسن بھی ہوں اور شوہر بھی… پھر بھی تمہیں لگتا ہے کہ مجھے کچھ سوال کرنے چاہئیں؟” زیغم کا لہجہ گہرا ہوا۔ “مجھے لگتا ہے کہ تم اپنے آپ کو ہی نہیں سمجھا پا رہی ہو،کہ آخر تمہیں پوچھنا کیا ہے۔ اور اگر تمہارے دل میں کوئی سوال تھے… تو پھر تم میرے ساتھ کیوں آئیں؟”

“کیونکہ آپ کا حکم تھا جسے میں جھٹلا نہیں سکتی تھی۔”
زیغم کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔ “میرا حکم تھا… مطلب کہ تم میری غلام ہو؟”

“کہہ سکتے ہیں آپ۔” مہرو نے دھیرے سے کہا، اور نظریں مزید جھکا لیں۔

“افسوس…” زیغم کا لہجہ اب بوجھل سا ہو گیا تھا۔ “بہت افسوس ہے مجھے کہ تم میرے بارے میں یہ رائے رکھتی ہو۔”

“افسوس ہے مجھے خود پر… کہ میں تمہیں اپنی محبت دکھانے میں کامیاب ہی نہیں ہو سکا۔ افسوس مجھے صرف خود پر ہے، تم پر نہیں۔”

یہ کہہ کر وہ پیچھے ہٹ کر صوفے پر بیٹھ گیا، جیسے یکدم ٹوٹ کر بیٹھنے پر مجبور ہو گیا ہو۔ کمرے کی فضا ایک دم بھاری ہو گئی تھی، سانسیں بھی جیسے رک سی گئی تھیں۔

مہرو خاموش کھڑی تھی، آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی لیکن ہونٹوں پر قفل تھا۔ زیغم نے نظریں جھکا لیں، شکست اس کے وجود پر واضح دکھائی دے رہی تھی۔

“میری محبت ہار گئی مہرو…” اس کی آواز بمشکل نکلی، کمرہ کچھ دیر کے لیے سناٹے میں ڈوب گیا۔ زیغم کی خاموشی، مہرو کے آنسو اور دونوں کے بیچ کی فضا… سب کچھ چیخ چیخ کر ان کے دل کی حالت بیان کر رہا تھا۔
“کیوں آپ خود کو تکلیف دے رہے ہیں؟ آپ کا کوئی قصور نہیں ہے… قصور تو حالات کا ہے۔”

“حالات کا حوالہ مت دینا، مہرو!” زیغم نے اس کی بات حلق میں ہی روک دی، آواز اتنی بھاری ہو گئی کہ کمرے کی خاموشی لرز اٹھی۔ وہ اپنی جگہ سے یکدم اٹھا اور آگے بڑھ کر اسے دونوں کاندھوں سے جھنجھوڑ دیا۔
“میں نے تمہیں چاہا ہے،، اپنی سانسوں سے بھی زیادہ تمہیں اہمیت دی تھی… اور تم مجھے حالات کے پردے میں چھپانے پر تُل گئی ہو؟” اس کی آنکھوں میں شعلے جل رہے تھے، شدت اتنی کہ جیسے برسوں کا درد اب ایک لمحے میں باہر نکل آیا ہو۔
مہرو کانپ اٹھی، جیسے زیغم کی انگلیوں کی گرفت کے ساتھ ساتھ اس کے الفاظ بھی اس کے وجود کو جھنجھوڑ رہے ہوں۔

“کیا کریں گے ایسی بدنام محبت کا، ؟ لوگ آپ پر سوال اٹھائیں گے… اسی لیے کہہ رہی ہوں، مجھ سے سوال کریں تاکہ میں جواب دے سکوں… میرا دل ہلکا ہو جائے۔” مہرو کی آواز لرز رہی تھی ۔

زیغم سلطان کا لہجہ سرد بھاری ہونے لگا “زیغم سلطان لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا… مجھے صرف ان لوگوں کی پرواہ ہے جو میرے اپنے ہیں۔ اور تم… تم میری اپنی ہو، خاص ہو، میری محبت ہو۔ تم بتاؤ یہ سب کچھ تمہارے دماغ میں کہاں سے آیا؟ کیوں لگاؤں کہ میں تم سے سوال کروں گا؟”وہ ایک ایک لفظ کو چباتے ہوئے بول رہا تھا۔

“بیوی اگر چھ مہینے گھر سے دور رہے کر آئے تو شوہر کو حق ہے سوال کرنے کا۔ اگر آپ سوال کریں گے تو اس میں کوئی غلط بات نہیں!” اس بار مہرو کی آواز بلند تھی۔ پتہ نہیں کہاں سے اس میں ہمت آئی، لیکن اس لمحے وہ ٹوٹ کر بھی مضبوط لگ رہی تھی۔

زیغم کی آنکھیں سرخ ہوئیں، گرجدار مگر دبی ہوئی آواز گونجی۔
“بیوی پر اگر یقین ہو تو چھ مہینے کیا، چھ سال بھی بیوی گھر سے دور ہو… تب بھی سوال کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔”

“اگر بیوی ایسی بُری جگہ رہ کر آئی ہو، جہاں کا نام بھی عزت دار گھرانوں کی عورتیں نہیں لیتیں… تب بھی سوال نہیں کریں گے؟”

زیغم نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں، پھر دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی جانب دیکھا ، “نہیں، تب بھی سوال نہیں کروں گا۔ جانتی ہو کیوں؟ کیونکہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ میری مہرو… کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی۔”
مہرو کے ہونٹ کانپے، “اور اگر آپ کی مہرو کو مجبور کر دیا گیا ہو تو…؟”

“تو پھر میں اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کر لوں گا۔”زیغم نے اس کے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کیے ، لہجہ بھاری مگر مطمئن،
مہرو سسک پڑی، “کس مٹی سے بنے ہیں آپ، ؟ کیا فرشتہ ہیں آپ… سمجھ ہی نہیں آتی۔ ؟
“فرشتہ نہیں ہوں خدا کا ایک عام سا بندہ ہوں جسے ایک معصوم دل والی نیک لڑکی سے عشق ہو گیا ہے….”

“آپ مجھ پر اتنا یقین کیسے کرتے ہیں؟ میں تو کہیں سے بھی خود کو آپ کے لائق نہیں سمجھتی۔”

زیغم نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیے، “اس کا فیصلہ تم مجھ پر چھوڑ دو… کون کس کے لائق ہے، یہ مقابل بہتر جانتا ہے۔”

مہرو رو پڑی، آواز بھیگ گئی، “ایک بار… صرف ایک بار پوچھیں نا، کہاں تھی، کیوں تھی… میں آپ کے لائق بھی ہوں یا نہیں… ایک بار پوچھیں! میں سب بتانا چاہتی ہوں۔”

زیغم کی آنکھوں میں نمی پھر سے تیر گئی، مگر لہجہ مضبوط رہا۔
“اگر سوال پوچھ لیا تو محبت ختم ہو جائے گی۔ عشق کی بنیاد ہی ہل جائے گی۔ پھر محبت کا دعویٰ کرنا ہی غلط ہوگا۔ میری محبت اتنی کمزور نہیں کہ تمہیں دلائل دینے پڑیں۔ جس سے محبت کی جاتی ہے اسے ہر حال میں دل کے خاص حصے میں رکھا جاتا ہے… اور دل میں رہنے والوں سے سوال جواب نہیں کیے جاتے، سرکار۔”
دونوں کی آنکھوں سے بہتے آنسو مل گئے۔ وہ روتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ ماتھے سے ماتھا ٹکائے کھڑے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی تو لڑ رہے تھے… ایک، جو سوال کر کے اپنی محبوبہ کو اپنی نظروں میں گرانا نہیں چاہتا تھا، اور دوسری، جو نہیں چاہتی تھی کہ دنیا زیغم سلطان کی طرف انگلی اٹھائے کہ اس کی بیوی چھ مہینے تک گھر سے غائب تھی۔
مہرو کی سسکیاں اب بھی زیغم کے سینے میں دبی جا رہی تھیں اور زیغم کی مضبوط گرفت جیسے اسے یقین دلانے کی ضد پر اڑی تھی…اور فضاؤں میں اب بھی کئی ان کہے جذبات معلق تھے۔

°°°°°°°°°°°
زیغم اپنے روم میں جا چکا تھا۔ مائد بھی دانیہ کے ہمراہ کمرے میں آ گیا اور سیدھا فریش ہونے کی غرض سے واش روم میں چلا گیا۔ دن بھر کی تھکن کے باوجود، وہ عادت کے مطابق شاور لے کر سونے کے لیے تیار تھا، اور بھوک سے بھی برا حال محسوس کر رہا تھا۔
شاور لے کر فریش ہو کر جب وہ واش روم سے باہر نکلا، تو اس کی توقع کے مطابق، اس کی سلیقہ مند اور فرما بردار بیوی دانیا، روم میں ٹیبل پر اس طریقے سے کھانا رکھنے کے بعد شیشے کے گلاس میں جگ سے پانی انڈیل کر بھرتے ہوئے وہ پیچھے ہٹی تھی۔۔

مائد نے مسکراتی ہوئی نظر دانیا پر ڈالی اور صوفے پر بیٹھ گیا۔
دانیا بھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔ وہ وائٹ اور بلیو فلاورز والی ڈیسنٹ سی پلیٹ میں، باؤل سے چمچ بھر کر لذیز کورمے کو ڈال رہی تھی۔ ساتھ ہی سلاد ایک سائیڈ پر رکھ دیا اور چنے کی خشک بھنی ہوئی دال بھی پلیٹ میں ترتیب دے دی۔ چپاتی نکال کر پلیٹ میں رکھتے ہوئے، اس نے مائد کے چہرے پر نظروں کی تپش محسوس کی۔ نظریں اٹھا کر اس نے دیکھا کہ مائد بڑے غور سے، ایک گال پر انگلی رکھے، اسے دیکھ رہا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟”
دانیا کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جو نہ جانے کتنے دنوں نہیں، بلکہ کتنے مہینوں بعد دیکھنے کو ملی تھی۔

“دیکھ رہا ہوں کہ آج میری بیوی کے پیارے سے چہرے پر خوشی کی لالی جھلک رہی ہے۔”
مائد نے اپنے ہاتھ کو آگے بڑھاتے ہوئے دانیا کے رخسار کو نرمی سے چھوا اور محبت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
دانیا کے لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی، اور مائد کے یوں پیار سے چھونے پر وہ شرما کر، بلکہ تھوڑا سا جھک گئی۔

“بڑی مشکل سے یہ خوشیاں نصیب ہوئی ہیں، اس لیے مسکراہٹ خود بخود آ گئی۔”

“ہمم… مطلب آپ خوش ہیں، کہ اللہ کے کرم سے سب ٹھیک ہو گیا ہے؟”
مائد نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے، اسے اپنی کمر میں بازو حائل کیا اور بے حد قریب کر لیا۔
“خوش نہیں، بہت بہت زیادہ خوش ہوں!”
وہ کہتے ہوئے مائد کے سینے سے سر ٹکا گئی ۔ خوشی اس کے لہجے سے ٹپک رہی تھی۔
“اچھا، تو پھر اس خوشی کے موقع پر میرے لیے بھی کوئی انعام ہے؟”
مائد کا لہجہ شوخ اور شرارتی ہو گیا۔

“جی، بالکل، آپ کے لیے انعام ہے۔”
دانیا نے سینے سے ہلکا سا پیچھے ہٹ کر کہا۔
“کیا، کیا انعام ہے میرے لیے؟ جلدی سے بتاؤ!”
مائد نے شوخ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“یہ کھانا، جو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے، یہ آپ کے لیے انعام ہے۔”
دانیا نے سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے ٹیبل پر رکھے کھانے کی جانب اشارہ کیا۔
مائد نے مصنوعی گوری ڈال کر اس کی جانب دیکھا۔
“میرے خیال سے، میں انعام کی بات نہیں کر رہا۔”
“آپ چپ چاپ کھانا کھائیں….دانیہ شرما کر کھانے میں مشغول ہو گئی اور رخ ہلکا سا پھیر لیا۔
“کیوں؟ جی، اتنے مہینوں سے چپ کر کے رہ رہا ہوں۔ اب تو اللہ کے کرم سے سب ٹھیک ہونے لگا ہے، تو اب میں چپ کیوں رہوں؟”
مائد تھوڑا سا کھسکتے ہوئے اس کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔
دانیا صوفے کے اینڈ پر کھسک کر پہنچی،اگر تھوڑا سا اور کھسکتی تو نیچے گر جاتی۔ مگر مائد نے اس کی کمر میں ہاتھ رکھ کر اسے گرنے سے بچا لیا۔

“مسئلہ کیا ہے؟ کیوں بھاگ رہی ہو؟ کوئی اجنبی تو نہیں ہوں، تمہارا شوہر ہو جاناں۔”مائد کے لہجے میں محبت اور شوخی کے رنگ دیکھ کر دانیہ کو بھاگنے کے لیے راستہ نہیں مل رہا تھا۔

“آپ نے ٹائم دیکھا ہے؟” دانیا نے گھبراہٹ سے سوال کیا۔
“نہیں، مجھے کون سا اس وقت سکول جانا ہے؟”مائد نے اس کی سنجیدگی اور سوال کو ہوا میں اڑا دیا۔

“سکول نہیں جانا، مگر ہمیں سونا ہے۔ صبح فجر کے لیے بھی اٹھنا ہے اور اس وقت تقریباً رات کا ایک بجنے والا ہے۔ کھانا کھائیں، مجھے بھی بھوک لگی ہے،اس کے بعد ٹائم سے سونا بھی ہے۔”دانیہ باتوں سے اپنے دل کی گھبراہٹ کو چھپا رہی تھی۔جبکہ مائد کی نظروں سے اس کی گھبراہٹ بالکل بھی چھپی ہوئی نہیں تھی وہ اس کے گھبرائے ہوئے چہرے اور تیز تیز باتوں سے اچھی طرح سے سمجھ رہا تھا کہ وہ اس کی نظروں سے شرما رہی ہے۔

“سو جائیں گے، فجر کے لیے اٹھ بھی جائیں گے۔ آپ کو بھی بھوک لگی ہے، مجھے بھی بھوک لگی ہے۔ کھانا بھی کھا لیں گی، مگر انعام والی بات کو آپ رد نہیں کر سکتی۔ میرا فوکس انعام پر ہے۔”

“پلیز، تنگ مت کریں…”
دانیا نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔

“پلیز مجھے تنگ مت کریں…..بس، یہ ڈائیلاگ بہت اچھا ہے اور تم اسے بہت اچھے سے ادا بھی کر لیتی ہو۔”
مائد نے اس کی نقل اتارتے ہوئے، کمر پر رکھے ہاتھ کو دباتے ہوئے، اسے اور بھی گھبرانے اور شرمانے پر مجبور کیا۔مائد کے نقل اتارنے پر دانیہ کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔

“چلو، کھلاؤ اپنے ہاتھوں سے کھانا۔”
“کیوں؟میں کیوں کھلاؤں آپ کے ہاتھ نہیں ہے۔”
دانیا بھی خوش موڈ میں تھی اور مائد کو تنگ کرنے کا کوئی موقع خالی نہیں جانے دے رہی تھی۔
“نہیں، الحمدللہ، میرے ہاتھ ہیں، مگر میں اپنے ہاتھوں کا استعمال تمہیں کھانا کھلانے کے لیے کروں گا ۔؟”

مائد نے روٹی کا ٹکڑا توڑ کر سالن اور سلاد کے ساتھ دانیا کے منہ میں ڈال دیا۔
“چلو، جلدی کرو، مجھے بہت بھوک لگی ہے!”
دانیا نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے مائد کو کھانا کھلانا شروع کیا۔
مائد کی نظریں مسلسل اس پر تھیں، جس کی وجہ سے دانیا بہت کنفیوز ہو رہی تھی۔

“پلیز، ایسے مت دیکھیں، مجھ سے کھانا نہیں کھلایا جا رہا اور نہ ہی کھایا جا رہا ہے۔”
“تو یہ تمہارا مسئلہ ہے، میں تو ایزی فیل کر رہا ہوں، تم اپنا دیکھ لو۔”مائد کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔

دونوں پیار بھری چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کھانا کھلا رہے تھے کہ اچانک دانیا کے دماغ میں کوئی بات آئی، چہرہ سنجیدہ سا ہو گیا۔
مائد، جو اس کے چہرے پر نظر جمائے بیٹھا تھا، پوچھے بغیر نہیں رہ سکا۔۔
“اب کیا سوچ رہی ہیں آپ؟”
مائد ایک اور نوالہ اس کے منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھا۔

“میں سوچ رہی ہوں کہ مہرو بیچاری چھ مہینے تک کہاں رہی ہوگی اور کیسے رہی ہوگی۔ وہ تو اتنی معصوم ہیں کہ کمرے سے باہر نہیں آتی تھی۔ آپ کو پتہ ہے وہ کہاں تھی اور کس کے پاس تھی؟”
دانیا نے تجسس اور پریشانی کے ساتھ یہ سوال پوچھا۔

مائد خاموش رہا، کچھ دیر اس کی جانب دیکھتا رہا، پھر ایک اور نوالہ اس کے منہ میں ڈال دیا۔

“وہ جہاں بھی تھی، محفوظ تھی۔ ہمارے لیے یہ کافی ہونا چاہیے۔ اور باقی میں مزید کچھ نہیں جانتا، کیونکہ مہرو بھابھی کو زیغم نے خود ڈھونڈا ہے۔ اور میرے خیال سے ہمیں زیادہ ڈیٹیل میں جانا بھی نہیں چاہیے، کیونکہ تمہارے بھائی جان کو یہ بات اچھی نہیں لگے گی۔ اور کسی بھی چیز میں حد سے زیادہ دخل اندازی کرنا اخلاقیات کے دائرے سے بھی باہر ہے۔”
مائد کا لہجہ سنجیدہ تھا، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دانیہ سے گزارش کی جا رہی ہو کہ آگے کوئی سوال نہ کیا جائے۔
مائد کی بات دانیہ کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مائد کو یہ نہ پتہ ہو کہ مہرو کہاں تھی، اور یہ بھی ناممکن تھا کہ زیغم بھائی نے مائد سے کوئی سچائی چھپائی ہو۔
“دانیا، پلیز کھانا کھائیں۔ کچھ چیزوں سے دور رہنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ یہ آپ کے بھائی اور بھابھی کا پرسنل معاملہ ہے، میرے خیال میں اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اور جس چیز سے آپ کا لینا دینا نہیں ہوتا، ان باتوں سے دور رہنا چاہیے تاکہ رشتے تندرست اور صحت مند رہ سکیں۔”

دانیا کی نظروں میں تجسس اور حیرانی دیکھ کر، مائد نے خود ہی جواب دے دیا۔
پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے، کچھ دیر کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

“مطلب کہ آپ کو پتہ ہے کہ مہرو کہاں تھی، مگر آپ بتانا نہیں چاہتے؟”

“یہی سمجھ لو، کیونکہ دوستی کا تقاضا یہی ہے کہ جو چیز زیغم نہیں بتانا چاہتا، میں وہ کبھی اپنی زبان پر نہیں لاؤں گا۔ پھر چاہے تم ہو، یا آغا جان، یا مورے، میں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گا۔”

“مگر میں زیغم بھائی کی بہن ہوں، مجھے جاننے کا حق ہے۔”

“تو ٹھیک ہے، پھر اس حق کا استعمال کر کے یہ سوال زیغم سے کر لینا۔ اگر وہ جواب دے دیتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، مگر دوستی کے کچھ اصول ہوتے ہیں، اور میں اپنے اصولوں کو کبھی نہیں توڑوں گا۔ رات بہت ہو چکی ہے، کھانا ختم کرو تاکہ آرام کریں۔”

مائد شاید مزید اس ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے وہ خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف نظر آنے لگے۔
دانیا کے دل میں تجسس اور ہلکی سی بے چینی تھی، مگر مائد کی موجودگی میں سکون بھی محسوس ہو رہا تھا۔
مائد کی آنکھوں میں سنجیدگی اور محبت کا امتزاج جھلک رہا تھا، ہر نظر خاموش یقین اور اعتماد کا پیغام دے رہی تھی۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی، صرف ہلکی سانسیں اور کھانا چبانے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
یہ لمحہ، یہ سکون، دونوں کے درمیان خاموش سمجھ اور رشتے کی مضبوطی کو ظاہر کر رہا تھا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°
نہ جانے کتنی دیر تک وہ ایک دوسرے کی قربت میں کھڑے روتے رہے۔ صرف مہرو نہیں، زیغم سلطان بھی روتا رہا، مگر یہاں دیکھنے کے لیے وہ لوگ موجود نہیں تھے جو کہتے ہیں کہ “مرد رونے سے کمزور ہو جاتا ہے” یا “مرد روتا نہیں ہے”۔
مرد روتا ہے اس عورت کے لیے جس سے وہ دل سے محبت کرتا ہے۔ مرد روتا ہے اس عورت کے سامنے جس کے لیے اس نے سجدوں میں دعائیں مانگی ہوں۔ مرد ہر عورت کے سامنے نہیں روتا، کیونکہ مرد ہر عورت سے محبت نہیں کرتا۔
جو ہر عورت سے محبت کر لے، وہ محبت نہیں، صرف محبت کے نام پر کھیل ہوتا ہے، جو آج کل کے زمانے میں عام ہو چکا ہے۔
“بس اب چپ کر جاؤ اور نہیں رونا، دیکھو ان خوبصورت آنکھوں کا کیا حشر کر دیا ہے جن میں میں رہتا ہوں۔”
زیغم نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں محبت سے تھام لیا۔
اس کی بھیگی پلکوں پر کھڑے شبنمی قطرے دیکھتے ہوئے، وہ اسے رونے سے روک رہا تھا۔
اس کے چہرے پر زیغم کی گرم سانسیں پڑ رہی تھیں، اور ہر لمحہ اس کے دل میں گہرے احساسات کو جگا رہی تھیں۔
“آپ آنکھوں میں نہیں، میرے دل میں رہتے ہیں۔”
وہ کہتے ہوئے اس قدر شرما گئی کہ نظریں فرش پر گاڑھ لیں، مگر مقابل کی دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر دیا۔
زیغم کے لبوں پر گہری مسکراہٹ اُبھری، آخرکار مہرو نے اچانک دل سے محبت کا اظہار جو کر دیا تھا۔
“کہاں کہاں رہتا ہوں میں؟”
وہ اس کی نظروں میں جھانکتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔

دل میں، وہ نظریں جھکائے، پھر سے وضاحت دے گئی۔

“ہائے… سرکار، اب تو اگر روح پرواز بھی کر جائے تو غم نہ ہوگا۔”
وہ ٹھنڈی آه بھرتے ہوئے بیڈ پر پیچھے کی جانب بازو پھیلا کر گر گیا۔

مہرو نے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہنسی کو روکنے کی کوشش کی، مگر وہ رک نہ سکی کیونکہ زیغم سلطان آنکھیں بند کیے، بیڈ پر بازو پھیلا کر لیٹے تھے۔
مہرو کی کھلکھلاتی ہنسی کی گونج کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر پورے کمرے میں پھیل گئی۔
“ایسی باتیں منہ سے مت نکالا کریں، نہ جانے کون سی قبولیت کی گھڑی ہو۔ منہ سے اچھی بات نکالتے ہیں، اللہ تعالی آپ کی عمر دراز کرے، آپ ہزاروں سال جئیں۔”
مہرو نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے نرمی سے کہا اور اپنا ہاتھ جھجکتے ہوئے، مگر محبت سے اس کے سینے پر رکھ دیا۔

زیغم نے آنکھیں کھولتے ہی فوراً اس کے نازک ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام لیا، جیسے کہ ایک مضبوط قلعے میں قیمتی موتی کو محفوظ کر لیا گیا ہو، پورے حق کے ساتھ۔

“تم ہمیشہ میرے ساتھ رہنا، مجھے اچھی باتیں سکھانے کے لیے۔ مجھے بتانا کہ کب کیا کہنا ہے، ہمیشہ رہنمائی کرنا۔ اور ہزاروں سال… تو میں بھی جینا چاہتا ہوں، مگر تھوڑا زیادہ ہو جائے گا۔ ہم بوڑھے ہو جائیں گے، پھر ہم سے نہ تو چلا جائے گا،اور نہ ہی کوئی کام نہیں ہو پائے گا!”
(آنکھوں میں چمک اور ہلکی شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا)
“آپ کو بھلا رہنمائی کی کیا ضرورت ہے؟ آپ تو خود اتنے سمجھدار ہیں، پڑھے لکھے ہیں۔ مہرو کو تو کچھ بھی نہیں آتا!”
وہ منہ بسورتے ہوئے بولی تھی۔

“مہرو، ہر انسان پڑھ لکھ کر اچھا انسان نہیں بنتا، اور تمہیں کس نے کہا کہ صرف پڑھائی سے ہی عقلمندی اور دانشوری کا تعلق ہوتا ہے؟ آج ایک بات یاد رکھنا، تمہیں زندگی میں ہزاروں لوگ ملیں گے جو پڑھے لکھے ہوں گے، جنہیں علم تو مل جائے گا، شعور بھی آئے گا، مگر یہ نہیں جانیں گے کہ اس علم کو کب اور کہاں استعمال کرنا ہے۔

تم بہت سمجھدار ہو، اور دنیاوی پڑھائی تو یہی رہ جائے گی، اصل جو ساتھ جائے گی وہ اللہ کی محبت ہے۔ جو محبت تم اللہ سے کرتی ہو، وہ یقینی ہے۔ اللہ تعالی راہِ ہدایت پر جن لوگوں کو چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے، ایسے لوگ کبھی ڈگمگاتے نہیں۔

اور میں تو خوش قسمت ہوں کہ مجھے مہرو ملی، جس کے دل میں اللہ کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ میں رب سے دعا کرتا ہوں کہ دنیا میں، اخرت میں اور جنت میں تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں رہے۔”
زیغم اس کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے اس کے قریب اٹھ بیٹھا۔
آمین، ثم آمین! مہرو نے دل سے آمین کہا۔۔۔
“بہت شکریہ،” مہرو اچانک نے اچانک سے کہہ دیا ۔
“اب کس لیے میرا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے؟” زیغم نے تھوڑا حیرانی سے پوچھا۔

“مجھ پر اتنا یقین کرنے کے لیے شکریہ، اور آپ مجھے روک نہیں سکتے، اچھی بات کے لیے شکریہ کہنا اچھی عادت ہوتی ہے۔”
“آپ کے شکریہ کو میں دل سے قبول کرتا ہوں، مگر بار بار شکریہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جانتی ہو کیوں؟ کیونکہ مجھے شکریہ سے احسان کی خوشبو آتی ہے۔۔ اور میں نے کوئی احسان کیا ہی نہیں۔”
“وفا وہ عہد ہے جو وقت، فاصلے اور حالات کی سختیوں کے باوجود ٹوٹتا نہیں، اور میں نے صرف وہ وفا نبھائی ہے۔”
“اور وفا تو تم نے بھی نبھائی ہے، اپنی حفاظت کر کے، اپنے آپ کو میری امانت سمجھ کر۔ پھر مجھے بھی تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ تم نے خود کو میرے لیے اور اللہ کی رضا کے لیے سنبھالے رکھا۔”

وہ پیار بھری نظروں سے اسے شدت سے۔وہ ایک دم اٹھ کھڑا ہوا اور اسے اپنی شدت بھرے احساسات کے گہرے حصے میں لے گیا۔

خاموشی میں چھپی یہ قربت، الفاظ سے بھی گہری تھی۔
پل جیسے رک گیا ہو، دل کی دھڑکنیں ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں، اور وقت کی ہر رفتار انہی لمحوں کے تابع ہو گئی تھی۔
دنیا کے سارے شور و غل سے الگ، بس یہ لمحہ، یہ احساس اور یہ خاموشی، سب کچھ بس انہی کے لیے موجود تھا۔

پل جیسے رک گیا تھا۔
وہ ایک دوسرے کی باہوں میں گم، دنیا کے ہر شور سے الگ تھے۔
ٹیبل پر کھانا وہاں موجود تھا، مگر بھوک کی شدت بھی لمحے کی قربت کے سامنے بالکل ماند پڑ گئی تھی۔
بس یہ لمحہ، یہ خاموشی، اور یہ ایک دوسرے میں گم ہونا، سب کچھ ان کے لیے کافی تھا۔
چھ مہینوں کی دوری کے بعد یہ لمحہ، ہر انتظار اور کمی کو اپنے اندر سمائے، دلوں میں گہرائی سے اتر گیا تھا۔
خاموشی میں چھپی یہ قربت، شدت سے بھرے احساسات کی زبان بن گئی، جو صرف انہی کے لیے تھی۔
°°°°°°°°°°

پرسکون سی صبح تھی۔ کمرے میں ہلکی روشنی داخل ہو رہی تھی، کھڑکی کے پردوں سے چھن کر سورج کی کرنیں کمرے کے اندر ایک نرمی سی گھول رہی تھیں۔ خاموشی کے اس لمحے کو اچانک فون کی مسلسل بجتی ہوئی بیل نے توڑ دیا۔

زیغم، جو کئی دنوں بعد سکون کی گہری نیند سو رہا تھا، چونک سا گیا۔ اس کی یہ نیند قیمتی تھی، کیونکہ وہ اپنے مان، اپنی عزت کو بچا کر اپنے پاس لے آیا تھا۔

مہرو اس کے پہلو میں سکون سے سو رہی تھی، اس کی سانسوں کی مدھم آواز کمرے میں گھلی ہوئی تھی۔ زیغم نے آنکھیں ملتے ہوئے ذرا سا کروٹ بدلی اور مہرو کے معصوم چہرے پر نظر ڈالی۔ وہ لمحہ جیسے ساکت سا ہو گیا۔محبت اور شکرگزاری سے بھرپور۔
ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے ہاتھ بڑھایا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون اٹھایا۔ اسکرین پر جگمگاتا نمبر واضح تھا۔رفیق کی کال تھی۔
زیغم آہستہ سے اٹھ کر بیٹھ گیا، بیڈ کے کرؤن سے ٹیک لگائی، اور ایک گہری سانس لے کر فون کان سے لگا لیا۔ اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ صبح کے اس وقت رفیق کی کال یقیناً کسی ضروری خبر کے لیے ہی ہے۔
فون اٹھاتے ہی دوسری جانب سے نرم مگر تھکی ہوئی سی آواز ابھری،
“السلام علیکم سائیں۔”

زیغم کی بھنویں ذرا سا سکڑیں، مگر لہجہ نرم رہا۔
“وعلیکم السلام… کوئی خاص خبر؟” اس نے فوراً سوال داغا۔
دوسری جانب رفیق کی آواز میں سنجیدگی جھلک رہی تھی۔
“جی سائیں، خبر خاص بھی ہے اور نہیں بھی۔ خاص یہ کہ توقیر اور شہرام کا پتہ چل گیا ہے کہ وہ کس بل میں چھپے بیٹھے ہیں… اور بری خبر یہ ہے کہ دونوں نے قدسیہ بی بی اور نایاب بی بی کے فون کرنے کے باوجود حویلی آنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ شاید انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ ان کو کسی پلان کے تحت بلایا جا رہا ہے۔”
زیغم کے لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ ابھری۔ وہ دھیمے لہجے میں بولا، تاکہ قریب سوئی مہرو کی نیند نہ ٹوٹے۔
“ہممم… مطلب کہ کمینی فطرت اب بھی زندہ ہے۔ انہیں فرق نہیں پڑتا کہ ان کے گھر کی عورتوں کو بیزتی سہنی پڑے، نہ یہ پرواہ کہ میں ان کی جان لے لوں۔ اس سے بڑھ کر بے غیرتی اور کیا ہوگی۔”زیغم نے ایک نظر مہرو پر ڈالی کہیں اس کی نیند میں خلل تو نہیں پڑ رہا۔

مہرو پرسکون نیند میں، ایک ہاتھ زیغم کے بازو پر رکھے، گہری سانسیں لے رہی تھی۔ چھ ماہ بعد یہ لمحہ اسے میسر ہوا تھا، کہ نہ کوئی خوف، نہ کوئی ڈر۔محفوظ پناہ گاہ کی پرسکونی۔
ادھر رفیق کے لہجے میں بے چینی تھی۔
“حکم کریں سائیں، اب تو پتہ ہے کہاں چھپے ہیں، نکالنا مشکل نہیں۔ بس آپ کے حکم کا انتظار ہے۔”
زیغم کی آنکھوں میں ایک چمک لہرائی، وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“تو ٹھیک ہے… لے آؤ دونوں کو حویلی۔ فیصلہ وہیں ہوگا۔ جس حویلی نے میرے بابا کی آخری سانسیں دیکھیں، میری اماں کے زخموں کا بوجھ سہا، میری بہن کی سسکیاں سنیں… جس حویلی نے ہر ظلم کا بوجھ برداشت کیا، انصاف بھی وہی در و دیوار دیکھیں گے۔ وہی حویلی ہوگی، مگر اب فیصلہ ظالموں کے خلاف ہوگا۔ سلطان لغاری کا بیٹا اب انصاف کرنے جا رہا ہے۔کوئی بھی دشمن بچ نہیں سکے گا۔۔”
رفیق کی آواز میں ایک سکون، ایک خوشی گھل گئی۔
“جو حکم سائیں… آپ بس حویلی آنے کی تیاری کریں۔ وہ دونوں آپ کے پہنچنے سے پہلے وہاں ہوں گے۔ برسوں بعد دل کو سکون ملا ہے کہ آخر ظالموں کو سزا ملنے والی ہے۔”

“شاباش… یہی امید تھی تم سے۔” زیغم نے فون بند کیا، اور ایک گہری سانس لے کر سر پیچھے ٹکا دیا۔ دل پر جیسے بوجھ اترنے لگا ہو۔ آج وہ اپنے بابا، اپنی اماں، اپنی بہن، اپنی مہرو… اور اس معصوم ارمیزہ کا بدلہ لینے جا رہا تھا، جس سے ظالموں نے اس کا قیمتی رشتہ چھین لیا تھا۔

سوچوں کی لہر تھم گئی تو زیغم نے ایک نظر پہلو میں لیٹی مہرو پر ڈالی۔ سکون سے سوتی ہوئی، اس کے وجود کو اور مضبوطی سے اپنے قریب محسوس کر رہا تھا۔ زیغم جھکا، مہرو کے ماتھے پر ایک ہلکا سا لمس رکھا،محبت، عقیدت اور حفاظت سے بھرا لمس۔ پھر آہستگی سے اس کے پاس لیٹ گیا۔ نظر پھر بھی اسی پر ٹکی رہیں۔
یہ لمحہ اسے یاد دلا رہا تھا۔انصاف قریب ہے، اور محبت محفوظ۔
زیغم کی نظروں میں ایسا سکون تھا، جیسے برسوں ننگے پاؤں چلنے والے شخص کو اچانک دور سے ٹھنڈے پانی کا کنارہ دکھائی دے گیا ہو۔۔
°°°°°°°
زیغم مہرو کو پرسکون نیند میں چھوڑ کر مائد کے ساتھ تیار ہو کر حویلی کی جانب نکل پڑا۔ اس کے چہرے پر ایسی خوشی جھلک رہی تھی جیسے آج اس کے لیے عید کا دن ہو۔ دراصل یہ دن بھی تو عید ہی تھا
۔عید خوشیوں کی علامت ہے، اور زیغم کے لیے آج سب سے بڑی خوشی کا پیغام یہ تھا کہ اس کے دشمنوں کو انجام تک پہنچنا تھا، ایسی سزا جو زمانہ یاد رکھے گا۔

وہ کیا کرنے والا ہے، اس کا ذکر زیغم نے مائد تک سے نہیں کیا تھا۔ مگر اس کی آنکھوں میں ایک عزم تھا، ایسا راز جو صرف وہ جانتا تھا۔ مائد نے کبھی سوال کرنے کی جسارت نہیں کی، اسے لگتا تھا کہ اپنے دوست کے زخموں کو کریدنے سے بہتر ہے خاموش رہنا۔ اسی لیے راستہ تقریباً خاموشی میں کٹا۔ گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھتے زیغم کے چہرے پر کبھی سوچوں کی پرچھائیاں اترتیں اور کبھی ہلکی سی مسکراہٹ، جیسے وہ اندر ہی اندر کئی منظر ترتیب دے رہا ہو۔

مائد کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اس کا یار آج خوش ہے۔
گاڑی حویلی کے گیٹ پر رکی۔ محافظوں نے احترام سے دروازے کھول دیے۔ لمحہ لمحہ دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔حویلی کا وارث اپنی حویلی لوٹ آیا تھا۔حویلی کا اصل مالک آج ظالموں سے حساب لینے آ رہا تھا۔۔
رفیق نے یہ خبر فون پر پہلے ہی پہنچا دی تھی کہ شہرام اور توقیر کو حکم کے مطابق کچھ ہی دیر میں حویلی لایا جا رہا ہے۔ مگر زیغم نے چاہا تھا کہ وہ سب سے پہلے وہاں موجود ہو۔ اور وہ پہنچ چکا تھا۔
رفیق نے بہترین انتظام کیا ہوا تھا۔ پہلے اس نے سوچ سمجھ کر گھات لگائی، ہر راستہ جانچا کہ کس طرح انہیں قابو کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی موقع ملا، اس نے زیغم سلطان کو فون کر کے اطلاع دی۔ یہی وجہ تھی کہ پورے کام میں اسے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی۔ آخر وفاداروں کی کمی کہاں تھی۔زیغم کے لیے جان دینے والے بے شمار تھے، اور رفیق ان سب میں سب سے آگے کھڑا تھا۔۔

ٹھنڈی تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ ہلکی ہلکی بونداباندی فضا میں گھل رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے آسمان بھی آج مسرور ہے، جیسے ہوائیں برسوں کے بوجھ کے بعد خوشی میں جھوم رہی ہوں۔ یہی ہوائیں تو تھیں جنہوں نے کبھی بے گناہوں کے بہتے لہو کی باس سمیٹی تھی، یہی آسمان تھا جس نے سسکتی روحوں کی آہ سنی تھی۔ آج برسوں بعد انصاف ہونے جا رہا تھا۔

زیغم سلطان نے جیسے ہی حویلی کے اندرونی گیٹ میں قدم رکھا، خبر آگ کی طرح پورے گھر میں پھیل گئی۔ قدسیہ اور نایاب گھبراہٹ میں سامنے کھڑی تھیں، رومی ایک طرف خاموش موجود تھی جبکہ سلمہ کی حالت کسی ڈری سہمی بلی سی تھی۔ گھر پر ایک سنّاٹا چھایا ہوا تھا، کیونکہ فرمان پہنچ چکا تھا ۔ آج زیغم سلطان ایک اہم فیصلہ کرنے آیا ہے، کوئی بھی باہر نہیں جائے گا۔

زیغم کی نظریں ایک ایک چہرے پر پڑیں۔ رومی اور زرام کے سوا سب کے چہرے خوف سے اترے ہوئے تھے۔ نایاب اور قدسیہ کی تو حالت ہی خستہ تھی، جیسے زمین پیروں تلے سے کھسک گئی ہو۔ زیغم پرسکون مگر پرعزم قدموں سے آگے بڑھا اور سامنے رکھی قدیم لکڑی کی کرسی پر بیٹھ گیا۔

ایک لمحے کو ایسا لگا جیسے زیغم سلطان نہیں، خود سلطان لغاری کرسی پر آ بیٹھا ہو۔ وہی رعب دار قد و قامت، وہی گندمی رنگت، وہی پرُشکوہ وضع، وہی بھری ہوئی داڑھی۔ بس فرق صرف اتنا تھا کہ سلطان لغاری رحم دل انسان تھا، اور آج زیغم کے دل میں رحم کی گنجائش باقی نہ تھی۔ کیونکہ وہ جانتا تھا ۔رحم دلی کی قیمت وہ بہت پہلے ادا کر چکا ہے۔ ایک معافی نے اسے اور اس کے پیاروں کو ایسا زخم دیا جس نے اس کے دل کو نرم سے سخت، اور انسان کسے بے رحم انسان بنا دیا۔
کبھی کبھی انسان خود بے رحم نہیں ہوتا، حالات اسے بے رحم، سخت بنا دیتے ہیں۔
قدسیہ کی آواز کمرے کی خاموشی کو چیرتی ہوئی ابھری، لہجہ لرز رہا تھا مگر اس میں خوف اور التجا دونوں نمایاں تھے۔
“ہم نے کوشش کی تھی ان کو بلانے کی، مگر وہ نہیں آئے… تمہیں جو سزا دینی ہے ان کو دو۔ ہم عورتوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟”
اس کی بات ختم ہوئی تو لمحہ بھر کو ہال میں خاموشی چھا گئی۔ صرف بارش کی مدھم بوندیں اور باہر چلتی ٹھنڈی ہوا کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی۔

زیغم سلطان اپنی جگہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔ قدیم لکڑی کی کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے، ایک ہاتھ کی کہنی کرسی کے بازو پر ٹکی ہوئی تھی اور دوسرا ہاتھ سیدھا رکھے وہ کسی پتھر کے مجسمے کی مانند دکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں سنجیدہ اور چہرہ بے تاثر تھا، جیسے قدسیہ کی فریاد اس کے دل کو ذرا بھی نہ چھو سکی ہو۔
وہ لمحہ اتنا بوجھل تھا کہ سانس لینا بھی مشکل لگنے لگا۔
نایاب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ زیغم کی خاموشی نے جیسے اس کے اندر جلتی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔ وہ ایک دم چیخی۔اسے آج بھی لگا تھا کہ چیخنے سے بات بن جائے گی مگر ایسا ہرگز نہیں تھا اب حالات بدل چکے تھے۔
“تمہیں سنائی دے رہا ہے یا بہرے ہو کر آئے ہو، زیغم؟”
ہال کی فضا لمحہ بھر کو جیسے رک سی گئی۔ زیغم نے آہستگی سے اپنی نظریں اٹھائیں، اس کی آنکھوں کی سرخی اور چہرے پر تناؤ واضح تھا۔ وہ پرسکون لہجے میں بولا، مگر اس آواز کی گہرائی اور لرزش نے حویلی کے در و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔

“تمیز کے دائرے میں رہ کر مجھ سے بات کرو۔ دوبارہ اگر ایسی زبان استعمال کی، تو مجھ سے بُرا کوئی نہ ہوگا۔ لگتا ہے کل کا وہ تھپڑ بھول گئی ہو تم… جو تمہارے گال پر رسید کیا تھا۔”

زیغم کی آواز گونجی تو یوں لگا جیسے حویلی کی پرانی دیواروں نے بھی اس غصے کو محسوس کیا ہو۔ خوف کی ایک ہیبت ناک لہر کمرے میں دوڑ گئی، اور لمحہ بھر کو سب کے چہروں کا رنگ اُڑ گیا۔۔

نایاب فوراً خاموش ہو گئی۔ اس کے لب کانپے مگر آواز نہ نکلی، وہ اچھی طرح جان چکی تھی کہ زیغم کے سامنے اب اس کی ایک نہیں چلے گی۔ یہاں دال گلنے والی نہیں تھی۔
قدسیہ نے جلدی سے بات سنبھالنے کی کوشش کی، اس کی آواز میں گھبراہٹ اور بے بسی دونوں گھلی ہوئیں تھیں۔
“زیغم بیٹا… کیوں اتنا غصہ کر رہے ہو؟ تم دونوں کو سزا دو، کڑی سزا دو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ بس بیٹا، ہم سے جو انجانے میں خطائیں ہوئیں… ہمیں معاف کر دو۔ تم ہمارے بیٹے ہو۔ اصل مجرم تو وہ دونوں ہے… ہم نہیں۔ بس تم کسی بھی طرح ان کو حویلی لے آؤ۔ہمارے کہنے پر وہ نہیں آئے ہمارے کون سے سگے ہیں وہ۔۔”
یہ کہتے ہوئے قدسیہ کا لہجہ ایسا تھا جیسے وہ اپنی جان بچانے کے لیے دوسروں کو قربانی کے لیے پیش کر رہی ہو۔ وہ بندریا کی طرح لگ رہی تھی جس کے پاؤں جلیں تو اپنے بچوں کو نیچے دبا لے، مگر یہاں تو اس نے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کو بھی پیروں تلے لینے میں دیر نہ کی۔ اپنی حفاظت کے لیے وہ سب کو قربان کرنے پر تیار تھی۔۔۔

زرام خاموشی سے یہ سب منظر دیکھ رہا تھا۔ بڑے سے ہال کی فضا میں پھیلی گھبراہٹ اور خود غرضی نے اس کے دل کو جکڑ لیا تھا۔ وہ اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا، اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا۔۔۔اور دیکھ رہا تھا کہ یہ رشتے کس قدر کمزور، کس قدر مطلبی نکلے۔وہ تو اپنے پیدا ہونے پر ہی افسوس کیے جا رہا تھا کہ کیوں اس کا رشتہ ایسے مطلبی لوگوں سے ہے۔۔

زرام کے دل میں ایک بار پھر گہرا زخم لگا۔ یہ کیسے رشتے ہیں؟ یہ کیسی محبت ہے؟ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ اپنی ماں کی خود غرضی اور بہن کی زبان نے اسے اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔باپ اور بھائی ظالم بھی تھے بے غیرت بھی بے ایمان بھی۔۔۔
افسوس کی ایک بھاری لہر اس کے دل میں اتر گئی۔ وہ اپنی نظریں جھکائے زمین کو گھورتا رہا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین پھٹ جائے اور وہ کئی میل اندر تک دھنس جائے۔ شرم سے، بے بسی سے اس کی آنکھیں اوپر اٹھ ہی نہیں رہی تھیں۔۔۔
زیغم سلطان نے نفی میں سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں میں سامنے کھڑی دونوں عورتوں کے لیے نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا، نہ کوئی رشتے کا لحاظ، نہ کوئی ترس۔

اس نے گہری اور بھاری آواز میں کہا۔
“مجھے لگتا تھا کہ تم لوگ ہمارے سگے نہیں۔۔۔مگر مجھے افسوس ہے… تم لوگ تو ایک دوسرے کے بھی سگے نہیں ہو۔ تم لوگ کسی اور کا بھلا کیسے کر سکتے ہو؟ انسان میں ایک وقت میں اتنی ساری برائیاں کیسے جمع ہو سکتی ہیں؟ تم لوگ منافق بھی ہو، ظالم بھی… اور غدار بھی۔”
زیغم کے الفاظ دیواروں سے ٹکرا کر ایسے گونجے جیسے برسوں سے دبے کرب نے زبان پائی ہو۔ کمرے کی فضا مزید بوجھل ہو گئی، اور سب کے چہروں پر خوف اور شرمندگی کے سائے مزید گہرے ہو گئے۔

زیغم سلطان کے الفاظ آگ کی طرح جلتے ہوئے کمرے کی فضا کو اور بھاری بنا گئے۔ اس کی نظریں قدسیہ اور نایاب پر جمی رہیں، جیسے وہ ان کے پردے کے پیچھے چھپے اصل چہروں کو دیکھ رہا ہو۔

“اور تم دونوں یہ کیا کہہ رہی ہو کہ تم عورتیں ہو، اس لیے تمہارا کوئی قصور نہیں؟ کس نے کہا کہ اگر عورت جرم کرے، گناہ کرے، تو اس کا کوئی حساب نہیں ہوگا؟ آج کی عورت اگر مرد کے شانہ بشانہ چل کر خود کو اس کے برابر سمجھ سکتی ہے، تو پھر سزا کی حقدار بھی ہے۔ اور تم دونوں… عورتیں تو ہو ہی نہیں۔ عورت تو وفا کا پیکر ہوتی ہے، سکون کا سایہ، امن کا پیغام۔ عورت تو وہ ہے جو گھر کی چار دیواری میں رشتوں کو جوڑ کر رکھے۔ مگر تم دونوں نے تو رشتوں کو برباد کر دیا، خون سے رنگ دیا، اور پھر خود کو عورت کہتی ہو؟ افسوس… تمہیں تو شاید عورت کے نام کا بھی نہیں پتا۔ عورت کا مطلب ہی پردہ ہے… اور تم دونوں تو اتنی بے پردہ ہو کہ اگر تمہارے اصلی چہرے سب کے سامنے کھول دیے جائیں، تو تمہیں خود اپنے آپ پر نظر ڈالنے کی ہمت نہ ہو۔”

زیغم کے لہجے میں زہر گھلا ہوا تھا۔ قدسیہ اور نایاب سہم کر رہ گئیں، مگر جواب دینے کی جرأت نہ کر سکیں۔

اس سے پہلے کہ زیغم مزید کچھ کہتا، دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔ مائد خان دورانی رفیق کے ہمراہ اندر داخل ہوا۔ ان کے پیچھے وہ منظر تھا جس کا زیغم انتظار کر رہا تھا۔ شہرام اور توقیر کو گھسیٹ کر لایا جا رہا تھا، ہاتھ باندھے، چہروں پر خوف اور شرمندگی کی ملی جلی لکیریں۔

یہ وہ لمحہ تھا جس نے زیغم سلطان کے دل میں سکون کی ایک ٹھنڈی لہر دوڑا دی۔ برسوں کی بے قراری، برسوں کا زہر جیسے آج اترنے کو تھا۔ اس کے لبوں پر ایک ہلکی مسکراہٹ ابھری۔یہ وہ لمحہ تھا جس کے لیے وہ جی رہا تھا۔

بے شک… اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دیتا ہے، رسیاں ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ دوڑ لیں، گناہ کر لیں، اپنی حدیں پار کر لیں۔ مگر جب وہی رسی کھینچی جاتی ہے… تو ہڈیاں تک چرچا جاتی ہیں، کھال تک ادھڑ جاتی ہے۔
بے اختیار زرام کے دل میں ایسی ٹھنڈی آگ سلگی کہ اس کے وجود کا ہر ریشہ جلتا اور ساتھ ہی پگھلتا محسوس ہوا۔ باپ کو اس حال میں گھسیٹ کر آتا دیکھنا کسی بھی بیٹے کے لیے ناقابلِ برداشت ہو سکتا تھا۔

زرام نے دل ہی دل میں اس شخص سے، جسے باپ کہتے ہیں، ہر رشتہ توڑ دیا تھا، مگر فطرت کا یہ اصول اٹل ہے کہ خون کے رشتوں سے چاہ کر بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔
پانی کو چاہے ہزار بار ڈنڈے سے چیر دو، وہ پھر مل جاتا ہے۔ایسا ہی حال زرام کے دل کا تھا، جو ٹوٹ کر بھی جڑ رہا تھا، بچھڑ کر بھی جذبات کو جکڑ رہا تھا۔

جس شخص کو دیکھ کر زرام کی آنکھوں سے انسوؤں کے دھارے بہہ نکلے تھے، وہ کوئی اور نہیں، اس کا اپنا باپ تھا۔ وہی باپ جس نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، جس نے بچپن میں ماتھے کو چوما، پیار دیا، اور پھر دھیرے دھیرے خود گمراہی کی راہوں میں بھٹکتا چلا گیا۔ نہ خود سیدھے راستے پر چلا، نہ اپنی اولاد کو سیدھی راہ دکھائی۔ مگر باپ پھر بھی باپ ہوتا ہے، اور بیٹے کے دل میں اس کے لیے درد کا نہ ہونا ممکن نہیں۔
زرام کے آنسو اس کی داڑھی میں جذب ہو رہے تھے۔ وہ چاہ کر بھی اپنی کیفیت پر قابو نہ پا سکا۔ لب کانپ رہے تھے، دل چیخ رہا تھا، مگر زبان پر زبان سے اس نے ایک لفظ نہیں نکالا تھا۔

“کاش… کاش بابا، آپ نے یہ سب نہ کیا ہوتا۔ کاش میں آج یہ دن نہ دیکھتا۔ کاش یہ سب ایک خواب ہو، اور جب آنکھ کھلے تو سب کچھ ویسا ہو جیسا ہونا چاہیے تھا۔”
اس نے پلکیں موند لیں اور دل رب کے حضور جھک گیا۔
“اے اللہ، مجھے صبر عطا فرما۔ میں جانتا ہوں، یہ جو ہو رہا ہے، یہ حق ہے، یہی عدل ہے، ظالم کا انجام ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مگر میرا دل… میرا دل اپنے باپ کو اس حال میں دیکھ کر تڑپ رہا ہے۔ اے اللہ، مجھے حق پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ اے اللہ، مجھے انصاف کا ترازو تھامنے کی طاقت عطا فرما۔”
زرام کی دعاؤں کی سرگوشیاں اس کے بہتے آنسوؤں دل ہی دل میں ڈھل کر فضا میں گھلتی جا رہی تھیں۔کوئی اور نہیں صرف اس کا رب اس کی دعائیں سن رہا تھا۔ لمحہ بھر کو یوں لگا جیسے حویلی کی بھاری فضا پس منظر میں ڈھل گئی ہو اور ایک بیٹے کی سسکیاں براہِ راست رب تک پہنچ رہی ہوں۔
°°°°°°°°°°

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *