Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:63
رازِ وفا
ایپیسوڈ 63
ازحیات ارتضیٰ .S.A
✦✦✦✦✦✦
ملیحہ کے تقریباً چار سے پانچ لیکچر تھے اور اس وقت اس کا تیسرا لیکچر ختم چکا تھا۔ صبح سے ہی طبیعت کچھ بوجھل لگ رہی تھی، لیکن بچوں کے شور شرابے میں وہ اپنی کمزوری کو دبا گئی تھی۔فضول میں چھٹی کرنا اس کی عادت نہیں تھی۔کیونکہ اسے لگتا تھا کہ استاد کی ایک چھٹی سے بچوں کا بہت نقصان ہوتا ہے۔بریک کے لیے بیل بجی اور ابھی وہ اسٹاف روم کی طرف جا ہی رہی تھی کہ زرام کا فون
آ گیا۔سلام اور خیریت کے بعد زرام نے جو خبر اسے سنائی ملیحہ کو نہ جانے کیوں گھبراہٹ سی محسوس کی۔
“ملیحہ…زیغم بھائی اور دانیا مہرو بھابھی کو ہاسپٹل لے آئے ہیں، ڈلیوری کے لیے آپریشن ہو رہا ہے۔” زرام کی آواز میں بے چینی تھی۔
ملیحہ کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔ دل دھڑکنے لگا۔ “کیا… ابھی؟”
“ہاں، تم جلدی آ جاؤ۔”
“ان کی کنڈیشن تو ٹھیک ہے نا کوئی خطرے کی بات تو نہیں۔۔
“نہیں اللہ خیر کرے خطرے کی کوئی بات نہیں ہے مگر وہ ویک تھی نارمل ڈلیوری مشکل تھی اس لیے آپریشن کا فیصلہ لیا گیا۔۔تم جلدی سے پہنچ جاؤ۔
کال ختم ہوئی تو اس نے جلدی سے بیگ اٹھایا اور اسٹاف روم سے نکل گئی۔ مگر پارکنگ تک پہنچتے پہنچتے ہی بدن کی کمزوری بڑھ گئی۔
سر بھاری ہونے لگا، متلی کی کیفیت شدت اختیار کر گئی۔
وہ جانتی تھی کہ پچھلے کئی دنوں سے اس کی حالت معمولی نہیں تھی، مگر آج یہ سب کچھ زیادہ بڑھ گیا تھا۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور کو کہا، “ہاسپٹل چلیں۔”
لیکن چند منٹ بعد ہی اسے لگا کہ وہ سفر برداشت نہیں کر پائے گی۔ گھبراہٹ اور ٹھنڈے پسینے بڑھنے لگے۔
“گاڑی واپس گھر لے جاؤ…” اس نے آہستگی سے کہا۔اسے کچھ کچھ اندازہ تھا کہ اس کی طبیعت نڈھال کیوں ہے۔
گھر پہنچ کر جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی، قدم لڑکھڑانے لگے۔ سیدھی واش روم کی جانب بڑی چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے،پھر اس شک کو یقین میں بدلا جو اسے کافی دن سے ہو رہا تھا۔
واش روم سے نکلتے ہی وہ بیڈ پر گر گئی۔دل کو تو خوشی نے چھو لیا تھا کہ ایک نئی زندگی آنے والی ہے، مگر جسم اتنا نڈھال تھا کہ اب ہلنے کی سکت بھی باقی نہ تھی۔
✦✦✦ ✦✦✦
انتظار کی گھڑیاں ہمیشہ کڑی ہوتی ہیں، یہ تو سب جانتے ہیں۔ مگر جب وہ شخص جسے آپ عزیز رکھتے ہیں، آپ کی محبت ہو، ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں موجود ہو تو کیفیت لفظوں میں نہیں ڈھلتی۔ دل ہر لمحے کے ساتھ یوں ٹوٹتا ہے جیسے کٹ رہا ہو، سانس اٹک جاتی ہے، اور اردگرد کا شور پس منظر میں کھو جاتا ہے۔ بھوک پیاس کا احساس معدوم ہو جاتا ہے۔
زیغم سلطان بھی اسی کرب سے گزر رہا تھا۔ وہ جو ہمیشہ خود کو مضبوط سمجھتا تھا، آج کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ ایک طرف خوشی تھی کہ وہ باپ بننے جا رہا ہے، دوسری طرف دل میں عجیب سا خوف کہ کاش مہرو خیریت سے واپس آئے۔ اسے ہمت نہیں تھی کہ اپنی محبوب کو تکلیف میں دیکھ سکے۔
اگر بیوی کے ساتھ محبت ہو تو تبھی وہ درد محسوس کیا جا سکتا ہے جو عورت اولاد کو جنم دیتے وقت سہتی ہے۔ افسوس کہ بہت سے مرد اس اذیت کو معمولی جانتے ہیں، ان کے نزدیک یہ کوئی انوکھا کام نہیں بلکہ ایک قدرتی عمل ہے جو ہر عورت کرتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی عام درد نہیں، اگر مرد اس درد کی ایک لہر کو بھی محسوس کر سکے تو توبہ توبہ کر اٹھے۔
اللہ نے یہ ذمہ داری عورت پر رکھی ہے اور اس کے بدلے اسے وہ عظیم رتبہ دیا ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔ مگر آج کے دور کے کچھ مرد، جو خود کو باشعور سمجھتے ہیں، وہ بھی یہ سوچ رکھتے ہیں کہ بچہ پیدا کرنا عورت پر فرض ہے اور اس میں کوئی بڑی بات نہیں۔ حالانکہ ایسے وقت میں عورت کو سب سے بڑھ کر اپنے شوہر کی نظر میں محبت چاہیے، شوہر کے ہاتھ کا لمس، اس کی دلاسہ بھری بات، یہ سب عورت کو سکون اور حوصلہ دیتے ہیں۔
کاش ہر مرد یہ جان لے کہ اگر وہ نو مہینے اپنی بیوی کے ساتھ محبت اور درگزر کے ساتھ گزارے تو عورت کے لیے یہ کٹھن سفر سہل ہو سکتا ہے۔ وہ اذیت جس کے تصور ہی سے جان نکل جائے، عورت اسے جھیل کر بھی ماں بنتی ہے۔ ایسی قربانی پر عورت اور خصوصاً بچوں کی ماں بے حساب عزت کی مستحق ہے۔
مگر ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا، کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی بیوی کے درد کو دل سے محسوس کرتے ہیں۔ زیغم سلطان بھی انہی میں سے تھا، اپنی محبوبہ کے کرب کو وہ اپنے دل پر سہہ رہا تھا۔
زیغم کے قدم رکے نہیں۔ کوریڈور میں مسلسل آہٹ گونج رہی تھی۔ ماتھے پر پسینہ تھا جو بار بار اس کے ہاتھ کی پشت سے صاف ہوتا، مگر اگلے لمحے پھر چمک اٹھتا۔وہ تو اپنی گھبراہٹ کو صرف محسوس کر رہا تھا مگر ارد گرد کھڑے سب لوگ اس کی اس گھبراہٹ کو غور سے دیکھ رہے تھے۔
دانیا نے پہلے تو نارمل سمجھا اور اس کی حالت پر ہلکا سا بار بار مسکرا رہی تھی مگر بھائی کو مسلسل پریشان دیکھا تو دل بھر آیا۔ وہ آگے بڑھی اور نرمی سے بولی،
“بھائی، پریشان نہ ہوں۔ ان شاء اللہ بھابھی اور بچہ دونوں صحیح سلامت ہوں گے۔”
زیغم کا حلق رندھ گیا۔ آواز دھیمی تھی، مگر لرزتی ہوئی۔
Dania… pray for me. I feel like I can’t breathe. Everyone says this is normal, but for me these moments are anything but normal.
زیغم نے گھبرائے ہوئے لہجے میں دانیا سے دل کی بات کی ہی تھی کہ پیچھے سے ہنسی کی آواز آئی۔ زرام، فیصل اور مائد کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ تھی۔ زیغم نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں ٹھنڈک نہیں، غصے کی سختی تھی۔
“جاؤ یہاں سے… ابھی کے ابھی۔ میں تم لوگوں کو یہاں نہیں دیکھنا چاہتا۔”
زیغم کا غصہ دیکھ کر،ان کے ہونٹ خاموش ہو گئے۔ فضا میں سناٹا پھیل گیا۔
چند لمحے بعد اچانک اندر سے ایک آواز ابھری۔ باریک سی چیخ، پھر ایک نوزائیدہ کی رونے کی صدا۔ زیغم کے قدم ٹھٹھک گئے۔ دل کی دھڑکن تھمی، پھر تیز ہو گئی۔ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“اللہ تیرا شکر ہے…”
لیکن اگلے ہی لمحے دل پر ایک اور بوجھ آن بیٹھا۔ مہرو…؟ وہ کیسی ہے؟
زیغم نے پلکیں بند کر لیں۔ لبوں پر ایک ہی دعا بار بار آتی رہی۔
“یا اللہ، مہرو کو سلامت رکھ… مہرو کو جلدی سے میرے پاس لوٹا دے…”
اخر اللہ تعالی نے دعائیں سن لی اور امتحان کی گھڑیاں ختم ہو چکی تھیں۔ رومی خوشی سے روشن چہرہ لیے آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ اس کی مسکراہٹ سب کچھ کہہ گئی تھی کہ اللہ نے ماں اور بچے دونوں کو نئی زندگی عطا کی ہے۔
“زیغم بھائی بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ نے آپ کے گھر پیاری سی بیٹی دی ہے” رومی نے چہکتے ہوئے بتایا۔
زیغم کے لب کانپے۔ دل نے شکر کے نعرے بلند کیے۔
“الحمدللہ شکر ہے اس رب کا جس نے مجھے اس نعمت کے قابل سمجھا۔ لیکن رومی سچ بتاؤ مہرو ٹھیک ہے نا؟”
بھائی کی گھبراہٹ دیکھ کر رومی کے دل میں نرمی اتر آئی۔ اس نے مسکرا کر کہا
“جی بالکل دونوں الحمدللہ بالکل ٹھیک ہیں۔ آپریشن کامیاب رہا۔ آپ ابھی ان سے مل سکتے ہیں۔ مہرو ہوش میں ہیں”
زیغم کے ہونٹوں پر پہلی بار سکون بھری مسکراہٹ پھیلی۔
“اللہ تیرا شکر ہے۔ شکر ہے مولا”
اسی لمحے دانیا آگے بڑھی اور خوشی سے مبارکباد دی۔
“بہت بہت مبارک ہو بھائی”
“خیر مبارک۔ آپ کو بھی آپ سب کو بھی بہت مبارک ہو” زیغم نے سب کو مخاطب کیا۔
چہرے پر مسکراہٹ کے رنگ گہرے ہوتے گئے۔ فیصل مائد اور زرام بھی آگے بڑھے اور مبارکباد دی۔ زیغم نے مسکرا کر وصول کی مگر ساتھ ہی سخت نظر بھی ڈال دی۔ انہی تین کمینوں پر جو کچھ دیر پہلے ہنس رہے تھے۔
مائد نے جلدی سے وضاحت دی
“سوری یار ناراض مت ہو۔ اللہ نے اتنی بڑی خوشی دی ہے تو خوش تو ہونا ہی تھا۔ تمہاری شکل دیکھ کر بس ہنسی نکل گئی۔ ورنہ ہمارا کوئی برا ارادہ نہیں تھا”
زیغم نے بس سر جھٹک دیا۔ وہ جانتا تھا زرام اور فیصل تو دانت نکالتے ہی رہتے ہیں مگر بولنے کی ہمت مائد ہی کرتا ہے۔
“خیر تمہیں تو بعد میں دیکھ لوں گا ۔ پہلے مجھے اپنی بیٹی کے پاس جانا ہے” زیغم نے کہا اور آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھ گیا۔
پیچھے زرام نے ہنس کر دانیا کے کان میں کہا
“بیٹی کا تو بہانہ ہے اصل میں بھابھی کو دیکھنے جا رہا ہے”
زیغم کے جاتے ہی سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔ دانیا نے مسکراتے ہوئے زرام کے کندھے پر ہلکی تھپکی دی
“اتنی جرات تھی نا تو یہ بات بھائی کے سامنے کہہ کر دکھاتے”
“واہ جی واہ… تمہارے خیال میں میں یہ بات بھائی کے منہ پر کہتا تو الٹے ہاتھ کا تھپڑ میری گال پر نہ آ جاتا؟
بھئی مجھے اپنی بہت پیاری ہے۔ زیغم بھائی کی ٹون خراب ہو جائے تو پتہ ہی نہیں چلتا۔” وہ کانوں کو ہاتھ لگا رہا تھا اور سب کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ فضا میں خوشیاں بکھر چکی تھیں۔
ہر اندھیرے کے بعد جس طرح روشنی کی کرن آتی ہے، زیغم سلطان کی زندگی میں بھی اب خوشیوں کا بسیرا ہو چکا تھا۔ اندھیری رات کے فتنے کے بعد آخرکار خوشیوں کا سویرا ابھر آیا تھا۔
✦✦✦ ✦✦✦
زیغم نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے مبارکباد دی۔ زیغم سلطان کا اپنا ہاسپٹل تھا، یہاں کون تھا جو اسے نہ جانتا ہو۔ اس نے خوش دلی سے مبارکباد قبول کی اور سیدھا مہرو کی طرف بڑھا۔ وہ بیڈ پر نیم جان سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔ چہرے کی زردی بتا رہی تھی کہ کتنی بڑی اذیت سہہ کر وہ یہاں تک پہنچی ہے۔
کچھ دیر کے لیے دونوں کو اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ جاتے ہوئے ڈاکٹر نے اشارے سے سٹاف کو بھی کمرے سے باہر بھیج دیا۔ اب وہاں صرف زیغم اور مہرو تھے۔
“ہماری بیٹی…” مہرو نے ٹوٹی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا اور مسکراتی نظروں سے پاس رکھے بی بی کوٹ کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں ایک ننھی سی جان پنک ڈریس میں لپٹی ہوئی تھی۔ رنگ ایسے کھل رہا تھا جیسے گلابی کلی پر اوس کے قطرے جھلک رہے ہوں۔
زیغم نے پلٹ کر اسے دیکھا، لیکن بچی کو گود میں لینے سے پہلے آگے بڑھ کر مہرو کے قریب بیٹھ گیا۔ اس نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔ اس لمس میں صرف محبت تھی، عقیدت تھی اور بے شمار دعائیں تھیں۔
“پہلے تم بتاؤ، تم بالکل ٹھیک ہو نا؟” اس کا لہجہ نمی سے بھرا ہوا تھا۔
“جی، میں ٹھیک ہوں” مہرو نے کمزور آواز میں جواب دیا، اور آنکھوں کے کنارے بھیگی ہوئی چمک سے لبریز ہو گئے۔
“بہت شکریہ… مجھے اولاد جیسی نعمت دینے کے لیے بہت شکریہ۔ میری زندگی کو خوشیوں سے بھر دینے کے لیے شکریہ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کس کس بات پر شکر ادا کروں۔ تم نہ ہوتیں تو شاید یہ زندگی اتنی حسین نہ ہوتی۔ تم نہ ہوتیں تو مجھے کبھی یہ احساس نہ ہوتا کہ میرے دل میں بھی محبت جیسا خوبصورت جذبہ موجود ہے۔ اس احساس کے لیے، اس احسان کے لیے، میں تمہارا شکر گزار ہوں۔” زیغم کے لہجے میں محبت کی نمی جھلک رہی تھی۔ اس نے مہرو کے ہاتھوں کو تھام کر اپنے لبوں سے لگایا۔ اس کے انگ انگ سے خوشی چھلک رہی تھی۔
“اتنا پیار کرتے ہیں آپ مجھ سے کہ یہ سب کچھ آپ کو احسان لگ رہا ہے،مہرو نے نرمی سے کہا،
مجھے تو نہیں لگتا کہ میں نے کچھ خاص کیا ہے ، یہ تو ہر عورت کرتی ہے۔ مگر ہر مرد ہر عورت کے لیے اتنی تعریف نہیں کرتا۔” اس کی آنکھیں محبت سے لبریز تھیں۔
“مجھے ہر عورت اور ہر مرد سے سروکار نہیں۔ مجھے تو صرف اپنی مہرو کے لیے یہ سب جذبات محسوس ہوتے ہیں۔ دنیا کے ہر مرد کو اپنی عورت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جو اسے باپ جیسے بڑے رتبے پر فائز کرتی ہے۔ اور جو ایسا نہیں کرتا وہ بدبخت ہے۔”
بےاختیار مہرو کے دل میں وہ سب لمحے جاگ اُٹھے، جب وہ زیغم سے جدا ہو گئی تھی۔ جب اُس نے یہ یقین کر لیا تھا کہ اب کبھی اپنے سائیں کو آنکھوں کے سامنے نہ دیکھ سکے گی۔ جب وہ مایوس ہو کر یہ سوچ بیٹھی تھی کہ کسی بھی گھڑی اُس کی عزت پر داغ لگ سکتا ہے۔ ہر روز وہ اپنی عصمت کی حفاظت کے لیے رب کے حضور دعائیں کرتی رہی۔
مگر تقدیر کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ اُس کے رب نے لمحوں میں اُس کی قسمت کا ورق پلٹ دیا، اور اُسے ایک بار پھر زیغم کے پہلو سے وابستہ کر دیا۔ یوں اُس کے سارے اندیشے اور پریشانیاں رُو بہ زوال ہو گئیں، جیسے کبھی وجود ہی نہ رکھتی ہوں۔
بےشک!
شوہر وہ سائبان ہے، جو اپنی بیوی کی عزت کو اپنی غیرت کی چادر میں چھپا لیتا ہے۔
یہ سوچتے ہوئے مہرو کی نظریں بےساختہ زیغم کے چہرے پر جم گئیں، جہاں محبت کی روشنی دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔
”سرکار، کس خیال میں کھوئی بی ہیں؟“
اُس کی محبت بھری نگاہوں کا لمس خود پر محسوس کرتے ہوئے زیغم نے دستِ نازک کی پشت اُس کے رخسار سے آہستہ سے لگا کر نرمی سے دریافت کیا۔
”کچھ نہیں،“ اُس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر نفی میں جنبش دیا۔
“آپ خوش ہیں ہماری بیٹی ہوئی ہے؟” مہرو نے نیم مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
زیغم کی آنکھیں روشن ہو گئیں۔ “بہت خوش ہوں۔ اتنا خوش کہ دل چاہتا ہے بلندی پر کھڑا ہو کر چیخ کر پوری دنیا کو بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمت سے نوازا ہے۔ کون بدبخت ہوگا جو بیٹی کے پیدا ہونے پر خوش نہ ہوگا؟ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے دو دو بیٹیوں کا باپ بنایا۔ ارمیزہ میرے لیے اپنی سگی بیٹی سے کم نہیں۔”
ابھی تک ارمیزہ نہیں پہنچی تھی، وہ اسکول میں تھی۔ ارمیزہ کا نام آتے ہی مہرو کے لب اور چہرہ کھل،مہرو نے مسکرا کر کہا “جلدی سے ارمیزہ کو لے آئیں۔ آپ کو پتہ ہے وہ بیبی کو دیکھ کر کتنی خوش ہوگی۔”
“فون کر دیا ہے، ابھی کچھ ہی دیر میں رفیق لے آئے گا۔” پھر مسکراتے ہوئے پوچھا “اب اگر اجازت ہو تو ہم اپنی بیٹی سے مل سکتے ہیں؟”زیغم نے جواب دیا۔
مہرو نے مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔ “جی…”
“بہت شکریہ، سرکار!” زیغم نے نرمی سے کہا اور اٹھ کر قدم اپنی ننھی شہزادی کی طرف بڑھائے۔ اس نے بچی کو اپنی مضبوط بانہوں میں اٹھایا، محبت سے اسے دیکھا اور آنکھیں بے اختیار چھلک گئیں۔ وہ لمحہ بہت انمول تھا۔ اس نے ماتھے پر باپ کی شفقت بھرا لمس رکھا اور بچی کو لے کر مہرو کے پہلو میں لٹا دیا۔
“بہت پیاری ہے میری شہزادی… بالکل تمہاری جیسی۔” زیغم کے لیے دنیا کا سارا حسن مہرو کے وجود میں سمٹ آیا تھا۔ وہ خوش تھا کہ بچی کے نقوش زیادہ تر مہرو سے ملتے تھے، بس گہری آنکھیں زیغم جیسی تھیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی آنکھیں ابھی سے پرکشش لگ رہی تھیں۔
زیغم نے موبائل نکالا، خود بھی قریب آ کر ایک ہاتھ مہرو اور گڑیا کے اوپر سے گزار کر سیلفی لی۔ پھر اسے اپنی اسکرین پر لگا دیا۔ یہ لمحہ اس نے ہمیشہ کے لیے قید کر لیا۔
✦✦✦ ✦✦✦
“ویسے انسان اتنا بھی سیلفش نہ ہو، ہم بھی لائن میں کھڑے ہیں۔” مائد نے کھٹکھٹاتے ہوئے دروازہ کھولا اور اندر آ گیا۔باہر کھڑے بیچاروں نے کافی دیر صبر کیا تھا مگر اس سے زیادہ صبر نہیں ہوا تو وہ مائد کے ہمراہ اندر داخل۔
“بندہ اتنا بھی بے صبرا نہ ہو کہ چند سیکنڈ انتظار نہ کر سکے۔” زیغم نے منہ توڑ جواب دیا۔
مائد مسکرایا۔ “ہم تو ایسے ہی ہیں اور ایسے ہی رہیں گے۔ تمہیں برداشت کرنا پڑے گا۔ اور چند سیکنڈ نہیں ٹائم دیکھو آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے۔اور سنو، تم سے زیادہ ہمارا حق ہے۔ بھتیجی ہے ہماری، اس لیے زیادہ خود کو ہواؤں میں اڑانے کی ضرورت نہیں۔” یہ کہہ کر وہ بچی کی طرف بڑھا اور مہرو کو مبارکباد دی۔ “بھابی بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ آپ دونوں کو صحت اور تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائے۔”
آمین بہت شکریہ۔۔مہرو آہستہ۔۔
پھر مائد نے اس نے ننھی گڑیا کو نرمی سے گود میں لیا، دعائیں دیں اور دانیا کے ہاتھ میں تھما دیا۔جو پاس ہی کھڑی گڑیا کو دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہی تھی۔دونوں حسن کو مورے کے پاس چھوڑ کر آئے تھے۔
“ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! کتنی کیوٹ ہے۔” دانیا نے خوشی سے کہا۔ “مہرو بالکل آپ جیسی لگ رہی ہے، اور آنکھیں بھائی جیسی ہیں۔” وہ بچی کا معائنہ کرتے ہوئے کھلکھلا اٹھی۔دانیا کے چہرے پر خوشی کے رنگ دیکھنے لائق تھے۔
” ساری دنیا کی خوشیاں ایک طرف اور جب بھائی کی اولاد بہن کے ہاتھ میں ہو اس خوشی کو بھی لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔سب سے قیمتی اور مہنگی خوشی ہوتی ہے ، دانیا نے بی بی کو پیار کرتے ہوئے بلند آواز میں کہا۔زیغم اپنی بہن کو خوش دیکھ کر بے حد خوش تھا یہ وہ خوشیاں تھی جو بڑی آزمائشوں کے بعد ان کے حصے میں آئی تھی۔
پیچھے کھڑا زرام بھی صبر نہ کر سکا۔ فوراً گڑیا کو اپنی بانہوں میں لیا اور فیصل کے ساتھ مل کر بی بی کو دیکھ کر کمنٹ پاس کرنے لگے کہ وہ کس جیسی ہے۔
“بھابھی بہت بہت مبارک ہو زرام اور فیصل نے بلند آواز میں کہا مہرو مسکراتے اور شرماتے ہوئے آمین اور شکریہ کہتے جا رہی تھی۔۔
اسی دوران دانیا مہرو کے قریب آ گئی۔ اس نے نرمی سے کہا، “بہت بہت مبارک ہو آپ کو۔ اللہ یہ خوشیاں ہمیشہ قائم رکھے۔” وہ مہرو کے ساتھ ہلکے سے گلے ملی اور اسے دعائیں دیں۔
مہرو نے صدقِ دل سے “آمین” کہا۔ پاس کھڑے زیغم کے لبوں سے بھی دھیمے لہجے میں “آمین” نکلا
کمرے کی فضا خوشیوں سے بھری ہوئی تھی۔ سب کی نظریں گڑیا پر جمی تھیں کہ اچانک دروازہ کھلا اور ارمیزہ بھاگتی ہوئی اندر آئی۔ سیدھی اپنی ماں کے پاس پہنچی اور بیڈ کے قریب آ کر لپٹ گئی۔
مہرو کو ابھی زخم تازہ تھا، مگر اس نے بیٹی کو بانہوں میں لینے کے لیے درد کو دبا لیا۔ زیغم نے جلدی سے آگے بڑھ کر نرمی سے ارمیزہ کا ہاتھ مہرو کے پیٹ سے ہٹایا تاکہ مہرو کو تکلیف نہ ہو، اور ارمیزہ کو اپنے بازوؤں میں اٹھا کر مہرو کے قریب کر دیا۔
“کیسی ہیں ماما؟ آپ کو درد تو نہیں ہو رہا؟” ارمیزہ نے مہرو کے ہاتھوں پر لگی ڈرپ اور سوئیاں دیکھ کر گھبرا کر پوچھا۔
مہرو نے اس کی پیشانی پر بھوسہ دیا۔ “میں بالکل ٹھیک ہوں، بیٹا۔
“آپ کو کیا ہوا ہے آپ ہاسپٹل کیوں آئی ہیں۔ارمیزہ اس کے ہاتھوں پر لگی ہوئی ڈرپ کو دیکھ کر کافی ڈری ہوئی تھی۔۔
“آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم تمہارے لیے پیاری سی بہن لینے کے لیے آئے ہیں۔ اب تم دونوں مل کر رہنا، کھیلنا، ۔”
“میری بہن کہاں ہے؟” ارمیزہ نے خوشی اور تجسس سے چاروں طرف دیکھا۔
زیغم نے مسکرا کر اشارہ کیا۔ “وہ دیکھو، زرام چاچو اور فیصل چاچو کے پاس ہے۔”
“واہ! کتنی پیاری ہے!” ارمیزہ بے قرار ہو کر زیغم کے بازوؤں سے اتر گئی اور بھاگ کر گڑیا کے قریب پہنچ گئی۔ زرام نے جھک کر احتیاط سے ننھی کو ارمیزہ کے ہاتھوں میں تھمایا۔ سب ذرا چوکس بھی تھے کہ کہیں نازک سی گڑ گر نہ جائے۔ ارمیزہ کی نظریں اپنی بہن سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔ وہ بار بار اس کے ننھے ہاتھ چومتی اور مسکرا دیتی۔
“بابا، یہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی نا؟ کہیں جائیں گی تو نہیں؟” اس نے معصومیت سے زیغم کو دیکھا۔
زیغم نے بیٹی کے بال سہلائے۔ “نہیں بیٹا، یہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی، تمہارے کمرے میں، تمہارے پاس۔”
ارمیزہ کا چہرہ خوشی سے جگمگا اٹھا۔ “پھر تو میں اپنے سب فرینڈز کو بتاؤں گی کہ اب میں اکیلی نہیں ہوں۔ میری ایک بہن بھی ہے۔ وہ کتنے خوش ہوں گے نا سن کر؟ اور بابا، جب یہ تھوڑی بڑی ہو جائے گی، تو ہم اسے اپنے ساتھ اسکول لے جائیں گے!”
سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ زرام نے ہنستے ہوئے کہا، “جی جی بالکل، لیکن ذرا بڑی ہو جائے تو لے جانا، ورنہ بیچارے ٹیچرز اسے سنبھال نہیں پائیں گے۔”
اسی وقت دانیا نے آگے بڑھ کر دونوں بچیوں کو ایک ساتھ اپنے بازوؤں میں لیا۔ “ارے میری پیاری شہزادیاں! بے اختیار ایک بار کے لیے دانیا کے دل میں آیا کہ کاش آج اس کا بہرام بھائی بھی زندہ ہوتا اور ابا سائیں اور اماں بھی سلامت ہوتے ۔تو یہ خوشیاں مکمل ہو جاتی۔
مگر دوسرے ہی لمحے اس نے اپنے درد زدہ خیالات کو اندر دبا لیا وہ اس خوش کے ماحول کو غم میں نہیں بدلنا چاہتی تھی۔جتنا ملا وہ اس پر شکر الحمدللہ کہتی مسکراتے ہوئے ارمیزہ کے گال پر پیار کرنے لگی۔ “بس ایک وعدہ کرو، چھوٹی بہن کو تنگ نہیں کرنا، اس کا خیال رکھنا ہے۔”
ارمیزہ نے فوراً سر ہلایا۔ “پھوپھو، میں تو اس کی سب سے اچھی دوست بنوں گی!”
“شاباش ویری گڈ گرل۔۔
کمرے میں ہنسی اور روشنیوں کی فضا مزید گھل گئی۔
اسی لمحے زرام کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ “ملیحہ ابھی تک آئی کیوں نہیں؟” اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ وہ جانتا تھا کہ ملیحہ کتنی ایکسائیٹڈ تھی اس لمحے کے لیے۔ اتنی دیر خاموش رہنا اس کے بس کی بات نہیں۔اسے تو اب تک ہاسپٹل پہنچ جانا چاہیے تھا۔اسے یاد آیا کہ فون پر بھی اس کی آواز کافی نڈھال سی تھی۔ کچھ نہ کچھ بات ضرور ہے۔ وہ سب کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لیے چپ چاپ فون ملاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آیا۔۔
✦✦✦ ✦✦✦
ملیحہ نڈھال سی بیڈ پر گری تو شاید اس سے نیند آگئی تھی ۔اس کی انکھ فون کی بیل پر کھلی ۔ وہ جانتی تھی کہ زرام ہی ہوگا۔ چند لمحے آنکھیں بند رکھیں، پھر بڑی مشکل سے خود کو گھسیٹتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل تک گئی، فون کان سے لگایا۔
ملیحہ، تم ابھی تک نہیں پہنچی؟ خیریت ہے؟ تم ٹھیک ہو؟
ذرم نے فکر سے پوچھا۔
“ہاں، میں ٹھیک ہوں۔ پریشان نہ ہو، بس تھوڑا سا پی پی لو ہے اور سر میں درد تھا، اس لیے ہاسپٹل نہیں جا سکی۔ گھر آ گئی ہوں۔”
ملیحا کی آواز میں اس کی تھکن صاف محسوس ہو رہی تھی۔
“تم پاگل ہو! مجھے نہیں بتایا کہ تم گھر جا رہی ہو؟ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے!”
ذرام گھبراتے ہوئے، ناراض ہو کر بولا۔
“پریشان نہ ہوں۔ آپ کی اس وقت وہاں ضرورت ہے اور میری کوئی ایسی طبیعت خراب نہیں جس کی وجہ سے میں آپ کو پریشان کرتی۔ بس ہاسپٹل نہیں جا سکی کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ سب پریشان ہو جائیں۔ تھوڑا ریسٹ کروں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی۔”
آواز تمہاری نکل نہیں رہی اور تم مجھے سمجھا رہی ہو کہ تمہاری طبیعت زیادہ خراب نہیں ہے۔
“میں ابھی آ رہا ہوں۔ آرام سے بیڈ پر لیٹ جاؤ، میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔”
“ذرام میری بات تو سنیں۔ آرام سے آئیے گا، پریشانی کی کوئی بات نہیں، اگر اپ اس طرح آئے تو سب پریشان ہو جائیں گے۔”
“تم چپ کرو، مجھے مت سمجھاؤ کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ سب کو بتا کر آؤں گا کہ کوئی خاص مسئلہ نہیں، مگر تمہیں تو میں آ کر پوچھتا ہوں۔ لاپرواہ کہیں کی، فون مت بند کرنا، وہ حکم جاری کر چکا تھا۔” وہ تیز قدموں سے اس کمرے کی جانب واپس گیا جہاں سب جمع تھے۔
اس کی آواز فون سے آ رہی تھی۔ وہ دانیا لوگوں کو بتا رہا تھا کہ ملیحہ کی طبیعت تھوڑی سی خراب ہے،دانیا کی آواز آرہی تھی کہ طبیعت زیادہ خراب ہے ۔شاید وہ سب لوگ پریشان ہو گئے تھے۔
“نہیں نہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں ، بس سر میں درد ہے، میں تھوڑی دیر کے لیے گھر جا رہا ہوں۔ آپ لوگ جانتے تو ہیں میں اپنی بیوی کے لیے تھوڑا زیادہ فکر مند رہتا ہوں ، اسی لیے بھاگا بھاگا جا رہا ہوں۔ ہم لوگ کھانا لے کر جلدی حاضر ہو جائیں گے، اس نے بڑے نارمل انداز سے سب کو بتایا تاکہ کوئی پریشان نہ ہو، مگر وہ خود کتنا پریشان تھا، یہ تو صرف ملیحہ جانتی تھی۔
سب لوگ پہلے تو پریشان ہوئے، پھر اس کے سمجھانے پر سب نے اسے خوشی خوشی جانے کی اجازت دے دی۔اور ملیحہ کو ساتھ لے کر آنے کو کہا ۔ وہ اللہ حافظ کہہ کر باہر نکل آیا۔
“میں آ رہا ہوں اور فون بند کر رہا ہوں، آرام سے تم لیٹی رہو، ہلنا مت، اپنی جگہ سے۔”
“جی نہیں، ہلوں گی نہیں، مگر آپ آرام سے ڈرائیو کر کے آئیے گا۔”
“اتنی عزت مت دو جیسے تم مجھے بلاتی ہو، ویسے بلاؤ۔آپ جناب اور آئیے والی عزت مت دو ہضم نہیں ہو رہی۔”
وہ ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔مگر ملیحہ سے بات نہیں ہو رہی تھی اس کے سکون کا خیال کرتے ہوئے۔ اللہ حافظ کہتا فون بند کر چکا تھا ۔۔۔
✦✦✦ ✦✦✦
کمرے کا دروازہ کھلا تو ذرام اندر داخل ہوا۔
سامنے بیڈ پر ملیحہ نڈھال سی لیٹی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن اور زردی صاف جھلک رہی تھی۔
ذرام تیزی سے اس کے قریب آیا، بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
“کیا ہوا ہے تمہیں؟ طبیعت اتنی خراب ہے اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں؟” ملیحہ کے جواب کا انتظار کیے بغیر وہ خود ہی سوال اور خود ہی جواب دے گیا ملیحہ کی فکر اس کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔
ملیحہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے وہ اور بھی پریشان ہو گیا،ماتھا ٹھنڈا پڑ رہا تھا۔ ذرام کے چہرے پر تشویش گہری ہو گئی۔ فوراً الماری کی جانب بڑھتے ہوئے دروازہ کھولا اور نیچے والے حصے سے اپنا بی پی اپریٹر نکالا، بڑی مہارت سے ملیحہ کا بلڈ پریشر چیک کیا۔پروفیشنل ڈاکٹر تھا تو سٹائل بھی وہی تھا۔
“او ہو… بی پی تو بہت لو ہے!” اس نے پریشانی سے کہا اور فوراً ملازمہ کو آواز دی۔ملازمہ جن کی طرح حاضر ہو گئی۔جی سائیں مودبانہ انداز میں پوچھا۔
“فوراً جوس لے کر آؤ۔” ملازمہ ملیحہ کی حالت دیکھ کر تیزی سے واپس گئی۔
کچھ ہی لمحوں بعد جوس سامنے تھا۔ اس نے جلدی سے ملیحہ کو اپنا سہارا دے کر بٹھا پلایا،اور دوا دی، پھر اسے دوبارہ سے تکیے پر آرام سے لٹا دیا خود اس کے سر کے قریب بیٹھ گیا۔ نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے سر دبانے لگا۔زرام کے ہاتھوں کا لمس اسے سکون دے رہا تھا۔ملیحہ بہت اکسائیڈڈ تھی زرام کو خوشخبری سنانے کے لیے۔
مگر ابھی بی پی لو کی وجہ سے اس سے بات نہیں کی جا رہی تھی اور وہ اپنی گڈ نیوز کو ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی اپنی طبیعت بحال ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔تقریبا پندرہ بیس منٹ کے بعد وہ کافی بہتر محسوس کرنے لگی تھی۔
“اب کیسا لگ رہا ہے؟”
ملیحہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں کھولیں۔
“بہت بہتر محسوس کر رہی ہوں… ملیحہ نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا اور اس کے سامنے کیا۔
اسکرین پر ایک تصویر تھی۔ تین کارٹون۔ ایک مرد، ایک عورت اور ان کے ساتھ ایک ننھا سا بچہ۔
ذرام نے چونک کر تصویر دیکھی، پھر ملیحہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“یہ کیا ہے؟”
ملیحہ نے کچھ نہ کہا، بس مسکرا کر تصویر کی طرف دوبارہ سے اشارہ کیا اور اگلے ہی لمحے اپنا سر ذرام کے سینے سے ٹکا دیا۔
ذرام کا دل زور سے دھڑکا، آنکھوں میں چمک اتر آئی۔ لبوں پر مسکراہٹ چھا گئی۔
“کیا میں جو سوچ رہا ہوں… وہ سچ ہے؟”
ملیحہ خاموش رہی، بس شرما کر اس کے بازوؤں میں سمٹ گئی۔
ذرام کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔ وہ بے اختیار آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
“او مائی گاڈ… اللہ تیرا شکر ہے… تو نے ہمیں یہ خوشی پھر سے دی۔”
اس نے ملیحہ کو اپنے بازوؤں میں بھر لیا، اس کے ماتھے کو بوسہ دیا اور رخسار پر لب رکھ کر سرگوشی کی ۔
“مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟”
“مجھے خود کنفرم نہیں تھا… میں کنفرم کرنے کے بعد تمہیں بتانا چاہتی تھی۔”ملیحہ نے سینے میں سر چھپائے آہستہ سے جواب دیا،
ذرام نے ملیحہ کو اپنی باہوں کے حصار میں لیا، اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور آنکھیں بند کر کے گہری سانس بھری۔
ہونٹ کپکپائے، دل کی سچائی زبان پر آ گئی۔
“یا اللہ… اس بار ہمارے خواب کو سلامت رکھنا۔
ہم نے بہت کچھ کھویا ہے، بہت روئے ہیں… اب ہمیں یہ خوشی اپنی گود میں دیکھنی ہے۔
تو ہمیں اپنے رحم میں رکھ، اور اس بار ہمیں ادھورا نہ چھوڑنا۔”
ملیحہ نے آہستگی سے آنکھیں بند کیں اور زرام کے سینے سے سر ٹکائے آمین کہا۔ دونوں کے آنسو ایک دوسرے کے کندھوں پر بہہ رہے تھے، مگر ان آنسوؤں میں اب درد سے زیادہ سکون اور امید تھی۔
کمرے میں خاموشی تھی، بس دلوں کی دھڑکنیں اور شکر گزاری کی سرگوشیاں باقی رہ گئیں۔
ذرام نے ملیحہ کے نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے، آنکھوں میں ندامت کی نمی تیر رہی تھی۔
“ملیحہ… مجھے معاف کر دو۔ ہر اس لمحے کے لیے جس میں تمہیں اکیلا چھوڑ دیا، جب تمہیں سہارا چاہیے تھا اور میں تمہارے ساتھ نہیں تھا… خاص طور پر اُس وقت جب ہم نے اپنا بچہ کھو دیا۔ وہ لمحہ آج بھی میرے دل کو کاٹتا ہے۔ مجھے ہر گزرے وقت کے لیے معاف کر دو۔”
ملیحہ نے نرمی سے اس کے ہاتھوں کو تھاما اور اپنے لبوں سے لگا لیا۔ آنکھوں میں نمی اور چہرے پر سکون جھلک رہا تھا۔
“مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے، زرام۔”
وہ لمحہ بھر کو رکی، پھر دھیمی اور پُرسکون آواز میں بولی۔
“اللہ وہ سہارا ہے جو ٹوٹنے نہیں دیتا۔
جو اللہ پر بھروسہ کر لے، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔”
“میں نے اپنے رب سے وہی خوشی مانگی تھی… جو کبھی مجھ سے چھن گئی تھی۔ اور دیکھیں… اللہ نے وہ خوشی مجھے واپس عطا کر دی۔ اب میرے دل میں آپ کے لیے کوئی شکوہ باقی نہیں۔
خدارا… آپ خود کو اذیت نہ دیا کریں۔ گزرے ہوئے لمحے صرف ایک برا وقت تھے، جو گزر گیا۔ اللہ نے بھی آپ کو معاف کر دیا ہے، تب ہی تو وہی خوشی دوبارہ لوٹا دی… وہ خوشی جس کی کمی نے ہمارے بیچ فاصلے پیدا کیے تھے۔”
ذرام کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک آئے۔
ملیحہ نے نرمی سے اس کے سینے سے سر ٹکا دیا اور دھیمی آواز میں کہا۔
“میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے… اب ہمیں صرف آگے دیکھنا ہے۔ رب نے ہمیں نئی امید بخشی ہے، اور اس کے لیے ہمیں شکر گزار رہنا ہے۔” اس کی آنکھوں میں آئی نمی کو ملیحہ نے اپنی نرم ہتھیلیوں سے صاف کیا، وہ سچ میں ہر اس گزرے درد بھرے لمحے کو بھول چکی تھی۔
“ملیحہ… تم میری زندگی کی سب سے بڑی دعا کی قبولیت ہو۔”ذرام نے،جذبات سے بھری آواز میں کہا،
اس نے اسے اپنی باہوں کے حصار میں لے لیا، ماتھے پر عقیدت بھرا بوسہ ثبت کیا اور آنکھیں موند کر دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے لگا۔
“زرام…”
ہمم…”
اس کی آواز میں اتنی نرمی تھی کہ زرام نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری ۔
“یہ تم مجھے ‘آپ آپ’ کہہ کر کیوں بلا رہی ہو؟ جیسے پہلے بلاتی تھیں، ویسے ہی بُلا لیا کرو۔”
ملیحہ نے سر ذرا سا جھکا کر، ہنسی دباتے ہوئے جواب دیا۔
“نہیں… اب ہمیشہ آپ ہی کہہ کر بلاؤں گی۔”
“اور یہ نیا اصول کیوں بنا لیا تم نے؟”زرام نے حیرت سے پلکیں جھپکیں اور مسکرا کر پوچھا۔
“اس لیے کہ اب آپ بابا بننے والے ہیں۔ بچے سوچیں گے کہ ان کی ماں کتنی بدتمیز ہے جو ان کھ بابا کو تم کہہ کر بلاتی ہے۔”ملیحہ کی آنکھوں میں شرماہٹ کی لالی سی اتر آئی۔
زرام بےساختہ ہنس پڑا۔ اس نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام لیا اور شوخی سے لہجے میں بولا۔
“پاگل لڑکی… میں تو بچوں کو خود بتا دوں گا کہ ان کے بابا کو ان پیاری سی ماں کا یہی انداز سب سے زیادہ پسند ہے۔ اور پلیز، یہ ‘آپ جناب’ والی رسمی باتیں چھوڑ دو۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم کوئی اجنبی ہوں۔”
“سوچ لیں… اب آپ خود ہی مجھے منع کر رہے ہیں۔ کل کو میرے بچوں کے سامنے مجھے شرمندہ مت کروا دیجیے گا۔”
زرام ہلکا سا مسکرایا، اس کا ہاتھ تھام کر لہجے میں نرمی لے آیا۔
“نہیں نہیں… بچوں کی پیاری سی اماں جان، میں کبھی آپ کو شرمندہ نہیں کروں گا۔ اور جہاں تک بات ہے بیٹے یا بیٹی کی، تو مجھے جو بھی ملے، میری جان سے بڑھ کر ہوگا۔ لیکن سب سے زیادہ قیمتی ہمیشہ ان کی ماں رہے گی۔”
وہ آہستہ سے جھک کر اس کے اور قریب ہوا۔
“اوں… یہ کیا بات ہوئی؟ خواہش تو ہر دل میں چھپی ہوتی ہے۔ اب سچ سچ بتائیے، آپ کو بیٹا چاہیے یا بیٹی؟”
“تمہاری یہ ضد بھی نرالی ہے۔ خواہش اگر پوچھو تو میں صرف یہی چاہوں گا کہ وہ بالکل تمہاری طرح ہو… چاہے بیٹا ہو یا بیٹی۔”
ملیحہ نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔
“یہ تو جواب ہی نہیں ہوا۔”
زرام کی انگلیاں نرمی سے اس کے رخسار پر ٹھہریں۔
“ہوا کیوں نہیں؟ اگر بیٹی ہوئی تو اللہ تعالی کی رحمت ہوگی اور اگر بیٹا ہوا تو اللہ تعالی کی نعمت ہوگا۔ مجھے دونوں ہی اپنی خواہش لگتے ہیں۔”
زرام کے خوبصورت خیالات سن کر ملیحہ کہ لبوں پر گہری مسکراہٹ بکھر گئی۔۔
“پتہ ہے، آپ باتوں کو کس خوبصورتی سے لپیٹ لیتے ہیں۔” اس کی ناک کو پکڑ کر نرمی سے جھنجوڑ رہی تھی۔
زرام کی آنکھوں میں شوخی اتر آئی۔
“اور تم انہیں خوبصورتی سے مان بھی لیتی ہو۔” وہ بھی ذرا سا جھک کر اپنی محبت کو جتائے بھی نہ رہ نہ سکا۔جس پر ملیحہ شرماسی گئی۔
وہ شرما کر ہنستے ہنستے اس کے کندھے پر سر رکھ گئی۔ کمرے میں سکون سا اتر آیا۔ جیسے آنے والے دنوں کی خوشبو پہلے ہی فضا میں گھل گئی ہو۔
✦✦✦ ✦✦✦
رومی وارڈ کے کاؤنٹر پر مریضوں کی فائل دیکھ رہی تھی کہ پیچھے سے فیصل کی آواز آئی۔
“ڈاکٹر رومی… ذرا ادھر آئیے، کچھ ضروری بات کرنی ہے۔”
رومی نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ فیصل کی آنکھوں میں ایک الگ ہی سنجیدگی اور ساتھ ہی مسکراہٹ کی جھلک تھی۔رومی کو لگا شاید ہاسپٹل کے حوالے سے کوئی ضروری بات کرنی ہوگی اس لیے وہ اپنا کام چھوڑ کر اس کی بات سننے کے لیے اگئی۔
“کیا ہوا؟ سب خیریت تو ہے؟”
“جی بالکل، سب خیریت ہے… بات دراصل ضروری ہے اس لیے یہاں نہیں ہو سکتی ۔”
فیصل نے بڑے رازدار انداز سے کہا اور اشارے سے اسے ساتھ چلنے کا کہا۔رومی خاموشی سے اس کے ساتھ چل دی۔
چند لمحوں بعد دونوں ہاسپٹل کے اس حصے میں آ گئے جہاں عام طور پر رش نہیں ہوتا تھا ۔
چھت کے قریب ایک بالکونی نما ایریا، جہاں سے شام کا آسمان صاف دکھائی دیتا تھا۔ وہاں ہوا کی ہلکی خنکی تھی، ایک غیر معمولی سکون سا چھایا ہوا تھا۔
رومی نے پرسکون فضا کو محسوس کرتے ہوئے ،گہرا سانس لیا ہاسپٹل کی فضا سے نکل کر باہر کی تر و تازہ ہوا اس سے پرسکون کر رہی تھی۔اور زرام گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو۔
“کیا کہنا ہے۔؟رومی نے اچانک سے اس کی جانب دیکھا اور اس کی نظروں کو خود پر محسوس کرتے ہوئے سوال کیا۔۔
“کچھ بھی نہیں کہنا تو کچھ بھی نہیں تھا… اس نے کاندھے اچکا دیے۔۔
” تو پھر مجھے یہاں کیوں لے کر آئے ہو۔؟”
فیصل نے نظریں اس کے چہرے پر جمائیں رکھیں۔۔
“کیونکہ یہاں صرف ہم دونوں ہیں… اور مجھے تم سے وہ بات کرنی ہے جو دل سے نکل کر سیدھی دل تک پہنچے۔”
فیصل نے آگے بڑھ کر رومی کا ہاتھ تھام لیا۔ رومی چونکی، پلکیں جھک گئیں اور اس کے گالوں پر ہلکی سی لالی دوڑ گئی۔ لمحہ بھر کے لیے وہ خاموش ہوگئی۔
فیصل نے مسکرا کر سرگوشی کی۔
“بس ہاتھ پکڑنے پر ہی تمہاری زبان بند ہو جاتی ہے، ورنہ تو ہر وقت منہ میں آگ بھر کے چلتی ہو۔”
رومی نے ہچکچاتے ہوئے نظریں اٹھائیں، پھر آہستگی سے کہا۔
“زبان بند نہیں ہوتی… بس یہ سوچ کر کچھ دیر چپ ہو جاتی ہوں کہ شاید تم کبھی کچھ اچھا بول لو۔ مگر ہر بار میری یہ سوچ ضائع ہی جاتی ہے۔” رومی کے کاٹ دار جواب پر فیصل کھلکھلا کر کہکا لگا کر ہنس پڑا۔سے رومی کا یہی انداز بہت پسند تھا۔فیصل کے قہقہہ لگانے پر رومی مزید شرما کر نظریں جھکا گئی۔
“پلیز اب جلدی سے بتاؤ، کیا کہنا ہے؟ مجھے اپنی ڈیوٹی دینی ہے اور ویسے بھی مجھے مہرو بھابھی کے پاس جانا ہے بی بی کو دیکھنے کے لیے۔”
وہ اپنا ہاتھ آہستہ سے اس کی گرفت سے چھڑوا کر کمر کے پیچھے کر چکی تھی۔ پلکوں پر ہلکی سی جھجک اور لہجے میں بےقراری صاف جھلک رہی تھی۔
“یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں… اب چند دن کی ہی بات ہے، رومی۔ بہت جلد میں زیغم بھائی سے بات کرنے والا ہوں۔ اس کے بعد تم میری دلہنیا بن کر اس زندگی کے سفر میں ہمیشہ کے لیے میرے ساتھ شامل ہو جاؤ گی۔”
رومی کے گالوں پر شرم کی ہلکی سی لالی اتر آئی۔ وہ نظریں جھکا کر مسکرائی، دل کی دھڑکنوں کو چھپانے کی کوشش کرتی رہی، مگر ہر لمحہ فیصل کی باتوں کے اثر سے اس کے سینے میں خوشی کی ہلکی سی لہر دوڑ رہی تھی۔۔
“جواب تو دو، تم خوش ہو یا نہیں؟ یہاں میری خوشی کے مارے سانسیں رک رہی ہیں اور تم ہو کہ شرمائے جا رہی ہو۔ پلیز،رومی، شرمایا مت کرو، یہ شرمانا تم پر سوٹ نہیں کرتا!”
فیصل نے جان بوجھ کر ایسا جملہ کہا جس پر رومی چڑ جائے۔۔۔اور وہ یہی تو چاہتا تھا کہ وہ چڑ کر کوئی تیکھا جملہ کہے جھگڑا کرے رومی کے جھگڑے کی فیصل کو عادت ہو چکی تھی۔
“سوٹ نہیں کرتا؟ کیا مطلب ہے؟ تمہاری نظر میں میں بے شرم ہوں؟ بے شرم تو تم ہو جو کہیں بھی شروع ہو جاتے ہو، اور فضول میں مجھے یہاں لے آئے ہو۔۔۔ میرا ٹائم ضائع کرنے کے لیے کوئی ڈھنگ کی بات تو ہوتی نہیں ہے تمہارے پاس کرنے کے لیے۔
“پلیز ایسا مت کہو اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے لایا ہوں کہ میں ہماری شادی کی ڈیٹ فکس کی بات زیغم بھائی سے کرنے والا ہوں۔۔۔فیصل نے بیچاری سی شکل بنا لی۔۔
“تو جاؤ…. زیغم بھائی سے بات کرو جو کرنا ہے کرو، پتہ نہیں تمہارے ساتھ شادی کے بعد میں کیسے گزارا کروں گی..؟”
رومی تیزی سے چلتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف جا رہی تھی اور فیصل کو اتنی ہنسی آ رہی تھی کہ پیٹ میں درد ہونے لگا۔ وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
“سنو، بی بی، مذاق کر رہا تھا۔ تم تو ایسے بھڑک جاتی ہو۔”
“دور ہو کر کھڑے ہو جاؤ! بھڑک جاتی ہوں…؟میرا بھڑکنا ابھی تم نے دیکھا ہی کہاں ہے…؟ اگر میں واقعی بڑھ گئی تو سیڑھیوں سے اٹھا کر نیچے پھینک دوں گی!”
“او مائی گاڈ! قسم سے، کتنی قاتلانہ سوچ ہے تمہاری!”
“ہاں، میری سوچ تو ایسی ہے۔ تم ایک بار پھر سوچ لو کہ کہیں تم نے غلط فیصلہ تو نہیں کیا۔”
“نہیں نہیں، میرے خیال میں یہ صحیح فیصلہ ہے۔”
رومی نے پاؤں کی ہلکی سی کک دیتے ہوئے اس کی کمر پر دے ماری، اور بیچارے کی چیخ نکلنے سے بچی۔
“اللہ ظالم، لڑکی! ریڑھ کی ہڈی توڑنی ہے کیا؟”
“میرا بس چلے تو میں ریڑھ کی ہڈی… اور تمہارے جسم کی جتنی ہڈیاں ہیں، سب کی سب توڑ دوں!”
رومی سیڑھیوں سے ٹک ٹک کرتی ہوئی نیچے اتر رہی تھی، اور بیچارہ، کمر پر ہاتھ رکھے ہنستا ہوا، اس کے پیچھے جا رہا تھا۔
جیسے ہی وہ سیڑھیوں کے آخری سرے پر پہنچے، فیصل نے نرمی سے رومی کا ہاتھ تھام کر اسے روک لیا۔
“پلیز،ناراض مت ہونا، میں مذاق کر رہا تھا تمہیں تنگ کر رہا تھا،تمہارے ساتھ لڑنا مجھے بہت پسند ہے، اسی لیے تو تمہیں تنگ کرتا ہوں، تاکہ تم مجھے باتیں سناؤ۔۔۔ میری باتوں کو ذہن پر سوار مت کریا کرو۔
اگر تمہاری باتوں کو سر پر سوار کروں تو پھر مجھ سے بڑا پاگل کوئی نہیں ہوگا۔ اچھی طرح جانتی ہوں کہ تمہیں مجھے چڑھا کر ، میرا خون جلا کر تمہیں ب مزہ آتا ہے۔”
رومی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی اور پلکیں ہلکی سی جھکی رہیں۔
“ ہر بار تمہارے اس انداز سے زیادہ لطف اندوز ہوتا ہوں۔” وہ دانت نکالتے ہوئے ،فخر سے بتا رہا تھا ۔۔رومی نے نفی سر کو ہلایا ۔۔
“مجھے تنگ کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔۔۔؟
“قسم سے ذرا سی بھی نہیں آتی ، بلکہ بہت مزہ آتا ہے، جب تم مجھ سے چڑ کر مجھے بہت کچھ سنا جاتی ہو۔۔” وہ ایک دوسرے میں مگن تھے کہ وہاں سے گزرتے ہوئے کچھ مریض ہو اور ان کے لواحقین کو دیکھتے ہوئے ، فیصل نے نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
مگر باتیں اب ہلکی سرگوشی میں جاری تھیں، پیار بھرے لمحے کی خاموش خوشی دونوں کے بیچ گھل گئی۔
رومی کی شرارت، فیصل کی مسکان اور چھوٹی چھوٹی سرگوشیوں نے اس لمحے کو ایک خوبصورت اور یادگار اختتام دے دیا۔
کھڑکیوں سے ٹھنڈی ہوا کے جھونک کے اندر آرہے تھے۔
“دیکھ لو ،اب تو یہ ہوائیں بھی گواہ ہیں کہ تم میری ہو، اور ہمیشہ رہو گی۔”
رومی نے نظریں جھکائیں کھڑی تھی ،مگر چہرے پر خوشی کی لالی نمایاں تھی۔
اور فضا میں ایک سکون اور امید بھرا لمحہ ٹہر گیا، جیسے پوری کائنات ان کے خواب کو حقیقت بنتے دیکھنے کے لیے دعا کر رہی ہو۔۔
✦✦✦ ✦✦✦
ملیحہ کی طبیعت کچھ حد تک سنبھل گئی تھی،مگر زرام اسے ابھی ہاسپٹل میں لے جانے کے لیے انٹرسٹڈ نہیں تھا۔
اسے آرام کا کہتے ہوئے زرام گھر سے کھانا لے کر ہاسٹل پہنچ چکا تھا۔ اس نے مہرو کے لیے ہیلدی کھانا اور اسپیشل سوپ بنوایا تھا۔۔
زیغم اور مہرو نے سب سے پہلے ملیحہ کا پوچھا
“وہ کیوں نہیں آئی؟”
زرام مصنوعی ایکٹنگ کرتے ہوئے شرما رہا تھا۔
“بھائی، ہم بہت جلد پاپا بننے والے ہیں، ملیحہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ آنا چاہتی تھی، مگر اس کا بی پی ابھی نارمل نہیں تھا۔اس لیے میں نے اسے آرام کرنے کو کہا۔ انشاءاللہ کل تک چکر لگا لے گی۔”
“ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! ایک ساتھ دو خوشیاں!”زیغم نے خوشی سے زرام کو سینے سے لگا لیا۔مہرو کے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
“ذرام بھائی، بہت بہت مبارک ہو!”مہرو بھی فوراً سے بولی۔۔۔
زرام دونوں جانب سے مبارک باد سمیٹ رہا تھا، اور ارمیزہ حیرانی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔
“اب کیا ہو رہا ہے؟ کیوں سب مبارکباد دے رہے ہیں؟ مجھے بتاؤ۔”ارمیزہ نے معصومیت سے پوچھا۔زیغم سلطان نے پیار بھری نظروں سے اپنی شہزادی کی جانب دیکھا جو تجسس سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔
“بیٹا، زرام چاچو کے گھر بھی بہت جلد پیارا سا بھائی یا بہن آئے گی، جو تمہارے ساتھ کھیلے گی۔ پھر تم سب کی ٹیم مکمل ہوگی۔”
“او واؤ! یہ تو بہت اچھا ہوگا، ہم سب مل کر کھیلیں گے!”ارمیزہ خوشی سے چیخ اُٹھی۔وہ خوشی سے پورے کمرے میں گول گول گھوم رہی تھی اور سب اسے دیکھ کر ہنس رہے تھے۔
اسی لمحے فیصل اندر داخل ہوا،اس کے کانوں نے یہ خوشخبری داخل ہوتے ہوئے سن لی تھی۔ اب فیصل آئے اور کمرے میں کوئی مسکراہٹ بکھیرنے والا جملہ نہ ہو ایسا کیسے ہو سکتا تھا ۔
“یہ جو تم دانت نکال نکال کر خوشخبری سنا رہے ہو۔سب سے پہلے اس خوشی کا حق مجھے تھا! تمہارا بیسٹ فرینڈ تمہارا دوست ہوں،مگر پتہ نہیں میری عزت کیوں نہیں ہے، ہمیشہ میں لسٹ میں پیچھے کیسے رہ جاتا ہوں!”
فیصل نے مصنوعی ناراضگی دکھاتے ہوئے دیوار کے ساتھ مظلومانہ شکل بنائی۔
زیغم نے مسکرا کر دیکھا۔سب جانتے تھے کہ فیصل کو ایسے مذاق بہت اچھے لگتے ہیں کوئی بھی سیریس نہیں لیتا تھا اس کی باتوں کو۔۔وہ کب سیریس ہو جائے کب مذاق کر دے کسی کو کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔
“میری جان، تم کیسے پیچھے رہ سکتے ہو؟ میں تو ابھی بھائی اور بھابھی کو کھانا دینے کے بعد تمہارے پاس ہی آ رہا تھا ۔یہ خوشخبری سنانے۔”
زرام ، آگے بڑھا اور ایکٹنگ کرتے ہوئے فیصل کو زبردستی گلے لگا لیا۔
“میرا ناراضگی ختم کرنے کو دل تو نہیں چاہ رہا مگر اب تم اتنا مجبور کر رہے ہو تو… اتنی بڑی خوشخبری کے لیے معاف کر دیتا ہوں کیا یاد کرو گے۔
“جناب بہت شکریہ۔۔۔ زرام “نے ہاتھ جوڑتے ہوئے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس کا شکریہ ادا کیا….
“نہیں نہیں شکریہ کہ کوئی بات نہیں ۔۔۔۔تم نے مجھے اتنے پیارے عہدے سے نوازا ہے۔۔ میں چاچو بننے والا ہوں، اسی صدقے میں تمہیں معاف کرتا ہوں!”
“چاچو !نہیں! تم چاچو کس حساب سے بن گئے؟ تم مجھ سے چھوٹے تو نہیں ہو!”زرام نے جلدی سے کہا۔
“بھائی دیکھو، میری ابھی شادی نہیں ہوئی، اور تم باپ بننے والے ہو۔ اس لحاظ سے میں چاچو ہوا، اور تم میرے بچے کے تایا بنو گے۔”فیصل نے وضاحت دی۔۔
“کیوں زیغم بھائی ٹھیک کہہ رہا ہوں فیصل نے زیغم سے تصدیق کروائی۔۔۔
“بالکل درست، تمہیں چاچو بننا چاہیے!”
زیغم نے بھیک جلدی سے ہاں میں ہاں ملا دی۔۔۔
“دیکھو بھابھی یہ لوگ چیٹنگ کر رہے ہیں ایک پارٹی بن گئے ہیں ذرام نے مہرو کی جانب دیکھتے ہوئے کہا اسے امید تھی کہ مہرو اسکا ساتھ دے گی جبکہ ایسا بالکل نہیں ہوا۔۔
“بھائی اصول کے مطابق تو فیصل بھائی چاچو ہی بنتے ہیں، کیونکہ ان کی شادی نہیں ہوئی مہرو نے بھی مسکراتے ہوئے فیصل کا ساتھ دیا۔۔۔فیصل کے چہرے کی چمک دیکھنے لائق تھی۔۔
زرام نے مظلومانہ شکل بنائی۔
“دیکھ لیا، آج تو ہماری بھابھی بھی ان لوگوں کے ساتھ مل گئی، مخالف پارٹی کا ساتھ دے رہی ہیں۔ کوئی نہ جس کا کوئی نہیں ہوتا، اس کا خدا ہوتا ہے۔”
“کوئی نہ، تمہارے ساتھ ہے نا رومی؟ وہ تمہارا ساتھ دے گی، اس کو میرے علاوہ پوری دنیا کی باتیں ٹھیک لگتی ہیں۔” فیصل نے فوراً سے زرام کو اس کی پارٹی کے بندے کی نشاندہی کروائی۔۔
سب کی ہنسی نکل گئی، کیونکہ رومی واقعی کبھی بھی سب کے سامنے فیصل کا ساتھ تو دینے والی نہیں تھی۔
“ٹھیک ہے پھر تو اب اس کے ووٹ کا مجھے انتظار رہے گا زرام نہیں فیصل سے کہا۔۔۔
“اچھا بھائی جان، تم لوگ کھانا کھائیں، میں رومی کو بھی خوشخبری سناتا ہوں۔ مجھے ابھی ڈیوٹی پر جانا ہے۔”
“کوئی ضرورت نہیں، تمہارا اپنا ہاسپٹل ہے، آج کے دن کسی بھی ڈاکٹر کو اپنی جگہ رکنے کو کہہ دو۔ تمہیں یہاں رات گزارنے کی ضرورت نہیں، جاؤ اور ملیحہ کا خیال رکھو!”زیغم نے سختی سے کہا۔
فیصل نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
زرام کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا، کیونکہ وہ ملیحہ کو اکیلا چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔
کچھ دیر ارمیزہ اور ننھی سی گڑیا کے ساتھ کھیلنے کے بعد۔سب سے اجازت لیتے ہوئے ہمیشہ کی طرح ارمیزہ کو تنگ کرنے کے لیے ۔اسکی پونی کو کھینچا اور چیخ اُٹھی،
“گندیں چاچو… ارمیزہ نے چڑھتے ہوئے کہا ۔۔تھینک یو سو مچ پیاری گڑیا ذرام نے ہمیشہ کی طرح ہنستے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے زیغم بھائی میں چلتا ہوں ذرام نے اجازت مانگی۔۔
“ہاں بالکل تم ٹائم سے نکلو اور جاؤ ملیحہ کے پاس.. زیغم نے ہاتھ ملاتے ہوئے،تاکید کی ۔۔
“میری طرف سے ملیحہ کا حال پوچھیے گا ، اور اسے مبارکباد بھی دیجیے گا ” مہرو نے کہا۔۔
“جی انشاءاللہ جیسے ہی طبیعت بہتر ہوگی میں آپ سے بات بھی کروا دوں گا۔
اللہ حافظ کہتے۔زرام کمرے سے فیصل کے ساتھ ہی نکل آیا ،دونوں باتیں کرتے ہوئے، رومی کے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جارہے تھے۔
رومی حسبِ معمول مریضوں کے چیک اپ میں مصروف تھی۔ وہ سر جھکائے فائل کے اوراق دیکھ رہی تھی، اور اس کے سامنے چند فائلیں بکھری پڑی تھیں۔
زرام نے گلا کھنگارا تو رومی نے چونک کر سر اٹھایا۔ وہ فوراً فائلیں ایک طرف رکھ کر پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوگئی۔
“بھائی، آپ؟” اس کے لہجے میں خوشی گھل گئی تھی۔
“ہاں… میں تمہارے لیے ایک خوشخبری لایا ہوں۔”زرام نے نظریں ادھر اُدھر گھماتے ہوئے کہا،
“خوشخبری… کیسی خوشخبری؟” رومی کی آنکھیں پھیل گئیں، وہ پوری طرح متوجہ ہو چکی تھی، جیسے دل ہی دل میں بےقراری سے جواب سننے کو تیار ہو۔
فیصل نے ہلکی سی ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بتایا ۔
خوشخبری یہ ہے کہ یہ جناب باپ بننے والے ہیں… اور ایک ہم ہیں جن کی ابھی شادی تک نہیں ہوئی۔”
رومی کا منہ خوشی کے مارے کھلا رہ گیا۔
“کیا بھائی، یہ خبر سچ ہے؟” اُس نے زرام سے تصدیق چاہی۔
زرام نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔ فیصل نے بیچ میں چٹکی لی، “نہیں تو کیا؟ تمہارے خیال میں میں جھوٹ بول رہا ہوں؟”
رومی نے فوراً گھور کر کہا، “تم تو چپ کرو، بیچ میں مت بولو۔ اور ویسے بھی جس طرح تم خبر سنا رہے ہو، کہیں نظر نہ لگا دینا میرے بھائی کی خوشیوں کو!”
“استغفرُاللہ ! بس یہی الزام باقی رہ گیا تھا کہ میں تمہارے بھائی کی خوشیوں کو نظر لگا دوں گا!” فیصل نے ڈرامائی انداز میں کہا وہ ایکٹنگ کرتے ہوئے اور بھی پیارا لگنے لگا۔
رومی ہنس پڑی، مگر زرام نے موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ ، “نہیں نہیں، سچ میں… مجھے تو خود ڈر ہے کہیں میری خوشیوں کو یہ نظر نہ لگا دے۔”
زرام نے ہنستے ہنستے جان بوجھ کر فیصل کی ٹانگ کھینچی۔وہ بدلہ لینا چاہتا تھا، وہی بدلہ جو کمرے کے اندر سب نے فیصل کی سائیڈ لے کر اس پر پیار جتایا تھا۔
“چھوڑیں بھائی، اس کو… آپ کو اور ملیحہ کو بہت بہت مبارک ہو۔ ملیحہ کو میں خود جا کے مبارک باد دوں گی۔” رومی نے خوشی خوشی کہا۔
“خیر مبارک، خیر مبارک!” زرام نے مسکرا کر جواب دیا، پھر اچانک سنجیدگی سے بولا، “لیکن رومی، مجھے ایک بات بتاؤ۔یہ فیصل میرے بچوں کا چچا لگ سکتا ہے؟”
رومی نے فوراً قہقہہ لگایا، “بالکل بھی نہیں! بلکہ آپ کل کو اس کے بچوں کے چچا لگیں گے، کیونکہ میرا بھائی ہینڈسم ہے اور اس کا تو ابھی سے پیٹ نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ آنے والے چار سالوں میں یہ آپ سے بوڑھا لگے گا، تو یہ کسی حساب سے چاچا نہیں لگ سکتا۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے فیصل کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ فیصل نے شرمندگی میں فوراً اپنا پیٹ اندر کھینچ لیا، جو واقعی آج کل کچھ آگے نکل آیا تھا۔
“ویری گُڈ رومی، ویری گُڈ!” زرام نے خوش ہو کر کہا۔ “قسم سے دل خوش ہو گیا۔ میری پیاری بہن، بس تم اسی طرح اسے لگام ڈالے رکھنا، گھوڑے کو لگام ڈالنے کی طرح۔ مجھے بڑا مزہ آتا ہے!”
زرام کا کام ہو چکا تھا، اس نے مبارک باد سمیٹی اور “اللہ حافظ” کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ فیصل البتہ وہیں کھڑا رہا، رومی کو آنکھیں دکھاتے ہوئے۔
“شرم نہیں آتی؟ اپنے بھائی کے سامنے میری انسلٹ کرتے ہوئے!” اس نے مصنوعی غصے سے کہا۔
رومی ہنس کر بولی، “میں نے کون سی انسلٹ کی ہے؟ اب تمہاری توند نکلنا شروع ہو گئی تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ اور ویسے بھی زرام بھائی تم سے ینگ لگتے ہیں۔”
وہ مزید چھیڑتے ہوئے بولی، “میں نے تو صرف سچ بولا ہے۔ اگر تمہیں برا لگا تو اس میں میرا کیا قصور؟”
“اچھا ٹھیک ہے!” فیصل نے ہنستے ہوئے دانت نکالے۔ “تمہارا بھائی ہینڈسم ہے، مان لیا۔ اور میں چچا نہیں بن سکتا… لیکن تم نے خود کہا کہ وہ میرے بچوں کا چچا بن سکتا ہے۔ اس کے لیے تو مجھے تم سے شادی کرنی پڑے گی، نا؟ بچے ڈاؤن لوڈ تو نہیں ہوتے!”
یہ سن کر رومی کا چہرہ ایک دم سرخ پڑ گیا۔
“شٹ اپ! خبردار، کوئی بےہودہ مذاق کیا تو…” وہ تیزی سے اپنی فائلیں سمیٹ کر وہاں سے نکل گئی۔
فیصل کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ بکھر گئی۔
“میڈم، اب تو مجھے اچھی طرح پتہ چل گیا ہے کہ تمہیں چپ کیسے کرانا ہے…” دل میں سوچتے ہوئے وہ ہنستا ہنستا اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گیا۔
✦✦✦ ✦✦✦
نایاب کو گھر کی ملازمہ نے بتایا کہ ذرام اور ملیحہ کے گھر خوشخبری ہے۔ یہ سن کر اس کا دل خوشی سے بھر گیا۔ اس کے بھائی کی زندگی میں پھر سے خوشیاں آنے والی تھیں۔
مگر دل کے ایک کونے میں اداسی چھپی ہوئی تھی۔ وہ یہ سوچ کر رو رہی تھی کہ گھر میں ہوتے ہوئے بھی کسی نے اسے یہ خوشخبری نہیں بتائی۔ خود پر ملامت کے جذبات نے اسے گھیر لیا کہ آخر جرم کس کا ہے اور کیا وہ خود اس لائق بھی ہے کہ کوئی اسے خوشخبری دے۔
یہ سب کچھ وہ دل میں سوچتی رہی۔ نماز کے لیے جائے نماز پر بیٹھی روتے روتے اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب وہ سو گئی۔
خواب کے عالم میں اس کی آنکھوں کے سامنے دھند چھٹتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ آگ کے شعلے لپک رہے ہیں۔ اچانک دانیہ نمودار ہوتی ہے، جلا ہوا بدن، درد بھری آنکھیں۔
“یاد ہے نایاب؟ تو نے مجھے جلانے کی کوشش کی تھی۔ میرا قصور کیا تھا؟”
اس کی چیخ کے ساتھ شعلے بھڑک اٹھتے ہیں۔
پھر بہرام نمودار ہوتا ہے، نیلے ہونٹ، خالی آنکھیں۔
“زہر دیا تُو نے۔ اب رب سے رو کر گڑگڑا کر معافیاں مت مانگ۔ جن کا دل دکھایا ہے، ان سے معافی مانگے بغیر تجھے رب تجھے کیسے معاف کرے گا۔”
اس کے پیچھے نوکر چاکر کھڑے ہیں۔ کوئی زنجیروں میں، کوئی کوڑوں کے نشان لیے ہوئے۔
“ہم پر ظلم کیا، بے گناہوں کو سزائیں دیں۔ مکافات سے کہاں بھاگے گی؟”
دھند پھر پھٹتی ہے۔ سامنے ملیحہ کھڑی ہے۔ اجڑا ہوا گھر، روتا ہوا بچہ۔ انگاروں کی جیسی لال آنکھوں سے نایاب کو گھورتے ہوئے کہتی ہے:
“تو نے سازش کی، میرا گھر برباد کیا۔ جب تک میں معاف نہ کروں، تیرا حساب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔”
اسی لمحے قدسیہ نمودار ہوتی ہے۔ شعلوں میں جل رہی ہے، چیخ چیخ کر پکار رہی ہے:
“نایاب! مجھے بچا لے، آگ بجھا دے! میں نے ظلم کیے، سازشیں کیں۔ اب مجھے کوئی نہیں بچا سکتا۔”
نایاب خوف سے لرزتی ہے۔ زنجیروں کی کھنک گونجتی ہے۔ اس کا بھائی لوہے کی بھاری زنجیروں میں لپٹا ہوا تڑپ رہا ہے،
“ہم مر گئے، نایاب۔ اور اب سزا بھگت رہے ہیں۔ ہم نے گھروں کو جلایا، لوگوں کو رلایا۔ تیرا انجام بھی یہی ہے!”
ماں کی دہکتی فریاد، بھائی کی زنجیروں کی جھنکار، ظلم سہنے والوں کی صدائیں… سب ایک ساتھ گونجنے لگتی ہیں۔
“جب تک ان سب سے معافی نہ مانگے گی، اللہ تجھے بھی معاف نہیں کرے گا!” کانوں میں یہ آوازیں گونج رہی تھی ۔
اچانک سے تیز آگ کے شعلے اس کے قدموں سے بھی لپٹنے لگتے ہیں۔ وہ زور زور سے چیختی ہے۔
اور اسی عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی ۔
نایاب ہانپتی ہوئی جائے نماز سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ پسینے میں شرابور، آنکھوں میں آنسو بہہ رہے ہیں۔ کانپتے ہاتھوں سے قرآن تھام کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے قران پاک پر ماتھا ٹکائے سجدے میں گر گئی۔
“یا اللہ… مجھے معاف کر دے۔ میں نے ظلم کیے، لوگوں کو ستایا، سازشیں کیں۔میں نے بہرام کی جان لے لی میں نے اسے مجبور کر دیا کہ ہم مر جائے ۔مجھے اپنے تمام گناہ یاد ہیں میں تجھ سے معافی مانگتی ہوں۔ مجھے دکھائی دینے والی جہنم کی اگ سے بچا لے!”
وہ ہچکیوں سے رو رہی ہے۔ دھیمی صدا میں خود سے وعدے کر رہی تھی۔
“ان سب سے معافی مانگ لوں گی جن کا میں نے دل دکھایا۔میں سب سے معافی مانگوں گی، گڑگڑا کے مانگوں گی۔ چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔
میں پہلے بھی سب کے دروازے کھٹکھٹائے مگر کسی نے معاف نہیں کیا۔ مگر اب پھر جاؤں گی، ان سب کے قدموں میں گر جاؤں گی، کیونکہ رب کی معافی تب تک نہیں ملے گی جب تک وہ معاف نہ کریں۔” وہ خود کو سب بتا رہی تھی۔
آنسو اس کی گود میں گر رہے تھے۔ دل پچھتاوے کی آگ میں جل رہا تھا، اور باہر رات کی خاموشی اس کے عہد کی گواہ بن گئی۔
بہت تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے جب دل خوفِ خدا سے کانپ اٹھتا ہے۔ سچی ندامت کے ساتھ معافی مانگنا چاہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو معاف فرما دیتا ہے، مگر حقوق العباد میں یہ اصول ہے کہ جب تک ہم جس کا دل دکھائیں یا اس کا حق ماریں، اُس سے معافی نہ مانگیں اور وہ معاف نہ کرے، اُس وقت تک اللہ بھی معاف نہیں فرماتا۔
اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جب انسان دوسروں سے معافی مانگے مگر معافی نہ ملے۔ دل کو سکون نصیب نہ ہو، روح میں بےچینی بڑھتی جائے۔ ہر دھڑکن جیسے کسی انتظار میں تھم جائے۔ اور بندہ اپنی ندامت اور بے بسی کے ساتھ تنہا رہ جائے… یہ وہ مقام ہے جہاں سمجھ آتا ہے کہ بندوں کے حق ادا کرنا کتنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق معاف کر دیتا ہے، لیکن حقوق العباد اُس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک بندہ خود معاف نہ کرے۔
اس چند منٹوں خواب نے نایاب کی روح تک ہلا ڈالا تھا۔ چند لمحوں میں جو کچھ اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا، وہ کبھی بھلا نہیں سکتی تھی۔
یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ تھی، جیسے جہنم کی کوئی جھلک دکھا دی ہو،جہاں اس کے اپنے ہی لوگ جل رہے تھے۔ وہاں ہر وہ چہرہ موجود تھا جسے کبھی نایاب نے ایذا پہنچائی تھی۔
وہ کانپتے دل اور بہتے آنسوؤں کے ساتھ قرآنِ پاک پر جھکی ہوئی تھی ،نہ جانے وہ کتنی دیر تک روتی رہی اور اللہ سے معافی مانگتی رہی۔ اس لمحے اس کے پاس کوئی سہارا نہ تھا، سوائے اپنے رب کے۔
اسے اپنا کیا ہوا ایک ایک گناہ یاد آ رہا تھا، اور مرے ہوئے لوگوں کی چیخیں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔
اور وہ جان گئی کہ بندوں کے حق مارنے اور دل دکھانے کا انجام کتنا خوفناک ہے۔ انسان کے گناہ چھپ بھی جائیں، مگر اللہ کی پکڑ سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔
✦✦✦ ✦✦✦
“مہرو…”
“جی…”
“بیٹیاں کتنی پیاری ہوتی ہیں نا؟” زیغم اس کے پاس بیڈ پر پاؤں لٹکائے بیٹھا تھا۔ ایک ہاتھ تکیے سے گزارتے ہوئے وہ مہرو کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا، اور نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔ مہرو بھی تو اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی، جہاں محبت، سکون اور تحفظ سب اکٹھے دکھائی دے رہے تھے۔
“بیٹیاں واقعی بہت پیاری ہوتی ہیں… مگر بیٹیوں کو اس جملے کی خوبصورتی کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی انہیں رحمت کہنے والا، نعمت سمجھنے والا، اور پیارا کہنے والا باپ سر پر موجود ہو۔ ورنہ بیٹیاں جیسے بےمول ہو جاتی ہیں… نہ کوئی نام، نہ پہچان۔”
یہ سنتے ہی مہرو کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ نہیں جانتی تھی اچانک وہ اتنی جذباتی کیوں ہوگئی۔ شاید یہ وہ کمی تھی جو اس نے ہمیشہ محسوس کی تھی۔ جب سے ارمیزہ ان کے پاس رہنے لگی تھی، تب سے وہ ہر لمحہ باپ کی شفقت کو دیکھ کر سوچتی کہ یہ خوشی اس کے نصیب میں کیوں نہ لکھی گئی؟ اس نے کبھی اپنی ماں سے سوال نہیں کیا کہ اس کا بابا کہاں ہے۔ دل میں جو خلش تھی، وہ کبھی زبان پر نہ آئی۔مگر آج بے اختیار الفاظ میں ڈھل گئی۔
زیغم نے اس کے دل کا درد چند لمحوں میں محسوس کر لیا۔ وہ اس کی آنکھوں کی نمی کو اپنے انگلیوں کے پوروں سے نرمی سے صاف کرتا رہا، اور خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔
“مہرو… یہ آنسو کس لیے؟ کیا تم اپنے بابا کو یاد کر رہی ہو؟” زیغم نے نرمی سے پوچھا۔ وہ اس کے دل کی گہرائی، اس کے جذبات کو سمجھنا چاہتا تھا۔
“بابا کو یاد تو تب کروں گی نا… جب کبھی بابا کو دیکھا ہوتا، ان کا نام سنا ہوتا، یا ان کی تصویر دیکھی ہوتی۔ جب کبھی ان کے وجود کا احساس کیا ہوتا۔ مگر میں نے تو یہ سب کچھ کبھی نہیں جانا۔ پھر یاد کس چیز کو کروں؟ ایک ایسی شے کو کیسے یاد کیا جا سکتا ہے جس کا وجود ہی میری زندگی میں نہ رہا ہو؟”
اس کی باتوں میں جو درد تھا، وہ لفظ نہیں تھے۔وہ اس کے اندر کے زخم تھے، جو کسی بھی دل رکھنے والے انسان کے دل کو چیرنے کے لیے کافی تھے۔
“نہیں مہرو، یہ احساس تم نے ضرور محسوس کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تمہاری آنکھوں میں آنسو نہ آتے۔ جب تک کوئی جذبہ دل کو نہ چھوئے، آنکھوں میں پانی نہیں اترتا۔چاہے وہ خوشی کا ہو یا غم کا۔ اور تم نے باپ کی محبت کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا ہے۔”
“ہاں، اس محبت کو میں نے آپ میں محسوس کیا ہے… جب آپ ارمیزہ سے محبت کرتے ہیں، اسے پیار سے دیکھتے ہیں، اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتے ہیں، اور اس کی ہر خوشی پر مسکرا اٹھتے ہیں۔ آپ کو دیکھ کر جو چمک اس کی آنکھوں میں آتی ہے، وہ مجھے یہ احساس دلاتی ہے کہ باپ کتنی خوبصورت ہستی ہے۔ ایک ایسی ہستی جو میرے پاس نہیں ہے۔ میں تو محروم رہ گئی… اور شاید ہمیشہ محروم ہی رہوں گی۔”
وہ اس کے ہاتھ تھامے ہوئے بڑے درد کے ساتھ اپنا دکھ بیان کر رہی تھی۔
“میں کتنی بدنصیب ہوں نا… مجھے تو یہ تک نہیں معلوم کہ میرا بابا کون ہے، ان کا نام کیا تھا، وہ کیسے دکھتے تھے، کیسے چلتے تھے، کیسے مسکراتے تھے… کیا ان کے دل میں میری محبت تھی بھی یا نہیں؟ کچھ بھی تو نہیں جانتی۔ جب بھی باپ کے کردار کا کاغذ سامنے لاتی ہوں تو وہ دونوں طرف سے خالی اور صاف ملتا ہے۔ یہی چیز دل کو کاٹ کھاتی ہے۔ ورنہ ہزاروں لوگ ہیں جن کے باپ اس دنیا میں نہیں رہے، اماں اس دنیا میں نہیں رہی۔ میری اماں بھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں… لیکن ان کے بارے میں تو میں جانتی ہوں، وہ کیسی تھیں۔”
وہ روتے ہوئے زیغم کو اپنا دکھ سنا رہی تھی۔ زیغم کی آنکھیں بھی بوجھل ہو گئیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہ دکھ الفاظ سے زیادہ بڑا ہے۔ اندر ہی اندر اس کا دل چیخ رہا تھا۔ وہ کیسا بتاتا کہ جسے مہرو اپنی اماں سمجھتی ہے، وہ اس کی ماں نہیں ہے… اور جس باپ کی کمی پر وہ ہر لمحہ تڑپتی ہے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ توقیر ہے۔
“آپ کیوں پریشان ہو گئے ہیں؟ پتہ نہیں کیوں اچانک میرے دل میں یہ سب باتیں آگئیں اور میں نے آپ سے کہہ دیں۔ آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔”
مہرو نے زیغم کی آنکھوں میں اترتی نمی دیکھ لی تھی۔ تڑپ کر اس کی آنکھوں کو صاف کیا اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
“نہیں، تم کہو۔ میں تمہارے دل کی بات جاننا چاہتا ہوں۔”زیغم نے نرمی سے کہا۔ وہ جھک کر اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکا گیا تاکہ مہرو کی آنکھوں میں بسی ہوئی نمی کو نہ دیکھ سکے۔
مہرو نے مدھم آواز میں سرگوشی کی۔ “میرے دل میں کچھ نہیں ہے… میرے دل میں تو صرف آپ ہیں۔ کسی اور کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ اور اب تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی پیاری دو بیٹیاں دے دی ہیں۔ میری زندگی مکمل ہے، کہیں کوئی کمی نہیں۔ میں کچھ بھی یاد نہیں کرنا چاہتی۔”
“بہت اچھی بات ہے ایسا ہی اچھا سوچنا چاہیے اچھا سوچنے سے اچھا ہوتا ہے۔ مہرو کو ایک دم سے پوزیٹو ہوتا دیکھ زیغم خوش ہو گیا تھا۔
“اچھا تو پھر کیا تمہیں اپنی ماہ رُخ آپی سے بات کرنی ہے؟” اچانک ہی زیغم کے دماغ میں ماہ رُخ کا خیال آیا۔ اس نے اپنا چہرہ اوپر اٹھا کر مہرو سے پوچھا۔
“ہاں بالکل، کیوں نہیں؟ مجھے اُن سے بات کرنی ہے، اور یہ خوشخبری سنانی ہے کہ ہمارے گھر ایک پیاری سی بیٹی آئی ہے۔” مہرو کے چہرے پر لالی کھل گئی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ ماہ رُخ کے ساتھ اس کا خون کا رشتہ ہے، مگر اس کے دل نے شاید یہ رشتہ پہچان لیا تھا۔ اسی لیے تو وہ ماہ رُخ کے نام پر یوں خوش ہو جاتی تھی۔۔
زیغم اس کی خوشی کے لیے جلدی سے نمبر ملاتا ہے، اور توقع کے مطابق پہلی ہی بیل پر دوسری جانب سے فون اٹھا لیا گیا۔
زیغم نے فون مہرو کو تھما دیا۔
“السلام علیکم ماہ رُخ آپی، کیسی ہیں آپ؟” مہرو کی آواز خوشی سے بھیگی ہوئی تھی۔
دوسری جانب سے پیار سے بھرا جواب آیا۔”وعلیکم السلام، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تم کیسی ہو میری جان۔؟”
“میں بھی ٹھیک ہوں۔ آپ کو پتہ ہے، ہمارے گھر ایک ننھی شہزادی آئی ہے۔ اور اب آپ کو آنا ہوگا۔ کوئی بہانہ نہیں چلے گا، ہمیں آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔” مہرو نے ضدی انداز میں کہا۔
“ان شاءاللہ، میں پوری کوشش کروں گی۔ لیکن اس وقت پاکستان میں نہیں ہوں، تو وعدہ نہیں کر سکتی۔ میری طرف سے بہت سی دعائیں تمہارے اور اس چھوٹی سی گڑیا کے لیے۔”
“دعاؤں کا شکریہ، مگر آپ کو آنا ہوگا،ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ کر لیتی ہیں۔اس بار اگر آپ نہیں آئی تو۔ میں ناراض ہو جاؤں گی۔” مہرو نے منہ بسورتے ہوئے فون زیغم کو تھما دیا۔شاید بات نہ کر کے وہ اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا چاہتی تھی۔
زیغم نے فون مہرو کے ہاتھ سے پکڑ کر کان سے لگایا”اگر آپ آئیں گی تو ہمیں خوشی ہوگی۔
“میں نہیں آسکتی،اور نہ آنے کی وجہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔
“پلیز آجائیں۔۔۔ آپ یوں میری بیوی کو ناراض مت کریں۔”
“نہیں سائیں، معاف کیجیے گا۔ میں نہیں آ سکتی۔دوسری جانب سے ماہ رُخ کی آنسوؤں میں بھیگی نم آواز آئی۔
“آپ سمجھ کیوں نہیں رہی..اس کی خوشی آپ کے بغیر ادھوری ہے۔زیغم بات کرتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ سجائے ہوئے تھا، تاکہ مہرو کو اندازہ نہ ہو کہ دوسری جانب سے کیا جواب دیا جا رہاہے۔
” وہ نادان ہے، کچھ نہیں سمجھتی، مگر آپ سمجھدار ہیں۔ میرا آنا، اس کے کردار پر انگلیاں اٹھا سکتا ہے۔ میں کبھی یہ نہیں چاہوں گی،کہ میری وجہ سے اس پر سوال اٹھیں۔
میری دعائیں ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں، اس کی بیٹی کے ساتھ ہیں۔ آپ کا سایہ مہرو پر سلامت رہے،آپ کے ہوتے مجھے اسکی فکر کی نہیں ہے۔
میری بات کا برا محسوس نہ کیجئے گا اور نہ ہی اس کو میری گستاخی سمجھیے گا۔بہتر یہی ہے کہ آپ آئندہ مہرو کے ساتھ بات نہ کروائیں۔
وہ جتنا مجھ سے جڑے گی ،وہ ملنے کی ضد کرے گی، پھر تکلیف اٹھائے گی، اور جب وہ تکلیف میں ہوگی تو آپ کا دل دکھے گا۔ اسے اس راستے پر مت ڈالیں جس کی کوئی منزل نہیں۔”
زیغم خاموش تھا مگر ماہ رُخ کے الفاظ دل کو چب رہے تھے۔ دوسری جانب سے اس کی آواز رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
” میں کیسے اس سے روک سکتا ہوں وہ آپ سے بہت محبت کرتی ہے۔زیغم کے لہجے میں نرمی تھی۔
“کبھی کبھی انسان کو ایسے لوگوں سے محبت ہو جاتی ہے، جنہیں اگر قریب رکھا جائے تو دنیا کے طعنے اور شک آنے والی زندگی کو مشکل دیتے ہیں۔
عقل یہی کہتی ہے کہ ایسے رشتوں کو دور رکھنا ہی بہتر ہے۔ جتنے فاصلے ہوں گے، اتنی آسانی ہوگی۔ میں اس کی خیریت فون پر جان لوں گی، میرے لیے اتنا کافی ہے۔ میں وہ کالا سایہ ہوں جو اگر اس کے قریب آیا، تو اس کے لیے سوائے نقصان کے کچھ نہیں ہوگا۔”
ماہ رُخ کی آواز رندھ گئی۔ “میری پیاری سی شہزادی کے لیے بہت سی دعائیں۔ اللہ آپ دونوں کا سایہ ہمیشہ اس پر سلامت رکھے۔” کہتے کہتے وہ روتی ہوئی فون بند کر گئی۔
زیغم نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، گہری سانس لی اور مہرو کی طرف دیکھا۔ فون اب بند ہو چکا تھا۔
“کیا ہوا؟ انہوں نے کیا کہا؟ آنے کے لیے مان گئیں؟” مہرو نے بے قراری سے پوچھا۔
“نہیں… ابھی مانی تو نہیں۔ بس یہ کہا ہے کہ وہ پوری کوشش کریں گی۔”
“یہ کیا بات ہوئی؟ آپ کو فون اسی لیے دیا تھا کہ آپ انہیں منا لیں۔”
“مہرو، کسی کے لیے آزمائش نہیں بننا چاہیے۔ ان کی اپنی مجبوریاں بھی تو ہو سکتی ہیں، ان کے اپنے معاملات۔ میں پھر سے کوشش کروں گا۔” زیغم نے اس بار ذرا سخت لہجہ اختیار کیا۔ وہ جانتا تھا کہ مہرو نرمی سے نہ مانے گی۔ اور شاید یہی بہتر تھا… کیونکہ ماہ رخ نے جو بات کہی تھی، وہ بالکل درست تھی۔ بے شک
ماہ رخ بہت اچھی اور نیک تھی، لیکن جس ماحول اور مقام پر اس نے زندگی گزاری تھی، اس کے بعد اس کا مہرو کے قریب ہونا مہرو کے کردار پر انگلیاں اٹھا سکتا تھا۔
زیغم کے ذرا سے سخت لہجے پر مہرو خاموش ہو گئی، مگر اس کی ناراضگی چہرے پر صاف جھلک رہی تھی۔ وہ منہ بسورتے ہوئے تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئی اور چھت کو یوں گھورنے لگی جیسے سارا قصور اسی چھت کا ہو۔
بیچاری چھت کو اتنا مت دیکھو کہ وہ رونا شروع کر دے، زیغم نے قریب آ کر نرمی سے اس کا رخ اپنی جانب موڑتے ہوئے مذاق سے کہا۔
“آپ مجھے بلائیں مت، آپ نے ابھی مجھ پر غصہ کیا ہے۔” مہرو نے لاڈ بھرے انداز میں ناراضگی جتائی اور رخ دوبارہ دیوار کی طرف موڑ لیا۔
“اور نہ سرکار! میری اتنی مجال کہ میں آپ پر غصہ کروں؟ میں نے تو بس اتنا کہا تھا کہ کسی کو زبردستی اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتے۔ ضد سے حاصل کیا گیا رشتہ اکثر دوسرے کے لیے مشکل بن جاتا ہے، اور ہمیں ہر اس چیز سے بچنا چاہیے جو کسی کے لیے اذیت کا باعث ہو، چاہے وہ ہماری محبت ہی کیوں نہ ہو۔”
“بھلا محبت کسی کے لیے کیسے پریشانی بن سکتی ہے؟ میں ان سے محبت کرتی ہوں، انہوں نے میرے لیے اتنا کچھ کیا ہے، میں بھی ان کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔” مہرو نے ضدی لہجے میں کہا۔
“ٹھیک ہے، میں ایک بار پھر کوشش کروں گا۔ لیکن فی الحال یہ بات چھوڑو، اور آؤ کچھ اور باتیں کریں۔” زیغم نے موضوع بدلتے ہوئے نرمی سے کہا۔
“کیا باتیں؟ ہمارے پاس اور کیا ہے کہنے کو؟” مہرو نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“مثال کے طور پر… پیار، محبت، اپنی اپنی باتیں۔” زیغم نے شرارت سے قریب ہو کر سرگوشی کی۔
مہرو شرم سے لال ہو گئی۔ “یہ اسپتال ہے زیغم، یہاں اس طرح کی باتیں نہیں ہوتیں!” وہ غصہ اور حیا کے امتزاج سے بولی۔
“اچھا جی؟ یہ کس نے کہا؟ اسپتال بھی میرا، بیوی بھی میری… تو پھر باتیں کیوں نہ کروں؟” زیغم نے ہنستے ہوئے چھیڑا۔
اتنے میں ننھی گڑیا رونے لگی۔
“دیکھ لیں! میری بیٹی بھی کہہ رہی ہے کہ یہاں ایسی باتیں نہیں ہوتیں۔ اب جائیں، اسے اٹھائیں اور چپ کروائیں۔ ورنہ نرس کو بلوا لیں۔” مہرو نے ہنستے ہوئے کہا۔
“جو حکم، آپ کا۔” زیغم نے محبت سے اس کی ناک کو چھوتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھا اور شہزادی کی طرف بڑھ گیا۔
گڑیا کو بانہوں میں لیتے ہوئے اس نے دل میں سوچا۔ مہرو، تمہارے دل کے دکھ کا اندازہ مجھے ہے۔ مجھے پتا ہے اس وقت تم غصے میں ہو، یہ بھی جانتا ہوں کہ میری بات نے تمہارا دل دکھی کر دیا ہے ،لیکن کیا کروں؟ بعض اوقات اپنوں کے لیے سختی برتنا پڑتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں بد سے برا، بدنام ہوتا ہے… اور میں نہیں چاہتا کہ میری مہرو کو کبھی بدنامی کی چوٹ سہنی پڑے۔
✦✦✦ ✦✦✦
دانیا حسن کو سلا کر بیٹھی تھی اور مائد کا انتظار کر رہی تھی جو ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔
وہ اسے ہاسپٹل سے گھر چھوڑ کر کسی ضروری کام کے سلسلے میں چلا گیا تھا، اور ابھی تک واپس نہیں لوٹا۔ دانیا اور مائدہ ہاسپٹل سے اس لیے جلدی آ گئے تھے کہ حسن گھر پر مورے کے پاس تھا۔
اچانک دانیا کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ وہ چونکی اور سکرین کی طرف نظریں ڈالیں۔ کچھ لمحے کے لیے اس کی سانسیں رک سی گئیں۔وہ نمبر… یہ نام… وہ بھلا کیسے بھول سکتی تھی؟
یہ نایاب کا فون تھا۔
کچھ پل تو وہ تذبذب میں بیٹھی رہی۔ دل جیسے الجھ گیا ہو۔ مگر دوسری طرف سے فون مسلسل بجتا رہا۔ پانچویں مرتبہ کال آنے پر آخر کار اس نے فون اٹھا لیا۔
مگر… الفاظ اس کے لبوں تک آ کر بھی قید ہو گئے۔ وہ خاموش رہی، بس دل کی دھڑکن تیز ہوتی رہی۔
“دانیہ! تمہیں اللہ کا واسطہ ہے… کال مت کاٹو… ایک بار… بس ایک بار میری بات سن لو…”
فون کی دوسری جانب نایاب کی تڑپتی، روتی ہوئی آواز تھی۔ وہ اس قدر لرز رہی تھی کہ دانیا چاہ کر بھی فون بند نہ کر سکی۔
“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی! تم نے یہاں فون کیوں کیا؟” دانیا نے سختی سے کہا۔
“معافی مانگنے کے لیے… خدارا مجھے معاف کر دو! تم تو بہت اچھی ہو، نیک ہو، نرم دل ہو… اللہ کے واسطے مجھے معاف کر دو۔ میں بڑی اذیت میں ہوں۔ تم لوگوں کی معافی کے بغیر مجھے اللہ معاف نہیں کرے گا…”
وہ بلک بلک کر رو رہی تھی، ہچکیوں کی آواز فون سے باہر تک گونج رہی تھی۔
“نہیں! کبھی معاف نہیں کروں گی!” دانیا کی آواز چیخ میں ڈھل گئی۔ “میں چاہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے۔ تم نے ہمارے ساتھ جو کیا ہے، وہ نہ میں بھول سکتی ہوں نہ معاف کر سکتی!”
“سزا… مجھے سزا مل رہی ہے!” نایاب ہذیانی کیفیت میں بولی۔ “میری راتوں کی نیند، میرے دن کا سکون… سب چھن گیا ہے۔ میرے اپنے تباہ ہو گئے ہیں۔ دن رات میں اپنے باپ کی چیخوں کی آوازیں سنتی ہوں۔ اللہ نے مجھے سزا دے دی ہے۔ اب تم لوگوں سے معافی مانگ رہی ہوں۔ دانیا… مجھے معاف کر دو… اللہ کے لیے مجھے معاف کر دو!”
“نہیں! نہیں! کبھی نہیں معاف کر سکتی!” دانیا نے کانپتی آواز میں کہا۔ “اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے بھی زیادہ کڑی سزا دے، تم اسی کی حقدار ہو!”
یہ کہتے ہی اس نے غصے سے فون بند کر دیا۔ پھر موبائل آف کر کے بیڈ پر پھینک دیا۔
اس کا وجود کانپ رہا تھا۔ وہ لرزتے قدموں کے ساتھ بیڈ کے کنارے پر آ بیٹھی، اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ کو اٹھا کر گلاس میں ڈالے بغیر ہی لبوں سے لگا لیا۔
معافی، اب معافی مانگ رہی ہے… مگر میں کبھی معاف نہیں کروں گی! مجھ سے میرے اپنے چھین کر اب اسے معافی یاد آ رہی ہے؟ تب کہاں تھی جب بے دردی سے میرے سب رشتے چھین لیے گئے؟ دانیا کپکپاتے وجود کے ساتھ بڑبڑا رہی تھی، مگر اس وقت تنہائی اور کمرے کی سنسان خاموشی کے سوا کوئی ہمراز نہ تھا۔۔
✦✦✦✦✦✦
کیوں… کیوں تم لوگ مجھے معاف نہیں کرتے؟ نایاب فون بند ہونے کے بعد ہچکیوں سے روتی ہوئی بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر فرش پر بیٹھ گئی۔ دانیا کا فون بند ہو چکا تھا اور نایاب کی امیدیں ٹوٹ کر بکھر گئی تھیں۔ اسے لگا تھا کہ دانیا، جو ہمیشہ نرم دل رہی ہے، شاید اسے معاف کر دے گی۔ مگر آج کے جواب نے اس کے دل پر آخری مہر لگا دی۔اب اس کے لیے کوئی راستہ نہیں بچا تھا، سوائے آنسوؤں میں ڈوب جانے کے۔
“نہیں… نہیں میں ہار نہیں مانوں گی!” نایاب کپکپاتے لبوں سے بڑبڑاتے ہوئے خود کو یقین دلا رہی تھی۔ “مجھے معافی چاہیے… میں جہنم کی آگ میں نہیں جل سکتی… مجھے معافی مانگنی ہے… مانگنی ہی ہے!” وہ پاگلوں کی طرح کانپتے وجود کے ساتھ اپنی جگہ سے جھٹکے سے اٹھی اور تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
چند لمحوں بعد وہ ملیحہ کے کمرے کے دروازے پر کھڑی تھی۔ گھبراہٹ اور خوف کے باوجود اس نے ہمت باندھی اور دروازے پر دستک دی۔
اندر زرام، جو ہاسپٹل سے ابھی واپس آیا تھا، ملیحہ کے لیے فروٹ کاٹ رہا تھا۔ دروازہ کھٹکھٹنے پر اسے لگا شاید کوئی ملازم ہے۔ وہ عام سے لہجے میں بولا۔۔
“آجاؤ!” اور پھر دوبارہ چھری اٹھا کر سیب کاٹنے لگا۔
مگر جیسے ہی دروازہ کھلا اور اندر نایاب کو دیکھا، زرام کے ہاتھ میں پکڑی چھری اور پلیٹ لمحہ بھر کے لیے جم گئے۔ ملیحہ بھی حیرت سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ کمرے میں ایک عجیب سا سناٹا چھا گیا۔
زارم نے آہستگی سے چھری اور سیب پلیٹ میں رکھ دیے اور اٹھ کھڑا ہوا۔ ملیحہ کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔نایاب کبھی ان کے کمرے میں نہیں آئی تھی، نہ ہی ان سے کوئی بات چیت کرتی تھی۔ اور آج یوں اچانک ان کے کمرے میں قدم رکھ دینا، سب کو چونکا دینے کے لیے کافی تھا۔
زارم کی آواز بیزاری اور سرد مہری سے گونجی۔
“خیریت ہے؟ اس وقت ہمارے کمرے میں؟”
°°°°°°°