Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:64
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 64
لاسٹ ایپیسوڈ
✦✦✦ ✦✦✦
نایاب دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی ٹھہر گئی۔ دونوں ہاتھ اس نے عاجزی سے جوڑ رکھے تھے، سر پر سفید چادر ایسے لپٹی تھی جیسے ابھی ابھی سجدے سے اٹھی ہو۔ اس کا وجود لرز رہا تھا، آنکھیں مسلسل آنسو بہانے سے سوجی ہوئی تھیں، اور ہونٹ کانپ رہے تھے۔
“مجھے… مجھے معاف کر دو…” وہ دھیرے سے بڑبڑائی، مگر اس کی آواز میں ایسا کرب چھپا تھا کہ کمرے کی فضا ایک دم بوجھل ہو گئی۔
وہ ہاتھ اب اور بھی مضبوطی سے جُڑ گئے تھے، جیسے وہ اپنی ندامت کے بوجھ کو تھام نہیں پا رہی ہو۔ سفید چادر کے نیچے سے ٹپکتے آنسو اس کے گالوں پر بہہ کر چہرے کو مزید اجڑا ہوا بنا رہے تھے۔
زارم اور ملیحہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔اس بے بس، ٹوٹے وجود کو دیکھ کر لمحے بھر کو ان کے دلوں پر بھی سکوت طاری ہو گیا۔ مگر وہ زخم جو نایاب نے ان کے دل میں چھوڑے تھے، اتنے آسانی سے مندمل ہونے والے نہ تھے۔
“معافی ان کو دی جاتی ہے جن سے انجانے میں کوئی غلطی ہو جائے،” ذرام کے لہجے میں سختی اور سرد مہری کی کاٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔
“مگر جو لوگ پوری ہوش و حواس میں، اپنے عروج پر، دوسروں کے دل توڑیں، ان کی زندگیاں برباد کریں… اور پھر اس بربادی پر فخر بھی کریں… ان کے لیے کوئی معافی نہیں ہوتی۔”
کمرے میں ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا۔ ملیحہ، جو اب تک خاموشی سے بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی، اپنی بھیگی آنکھوں سے نایاب کو دیکھتی رہی۔ اس کے ہونٹ کانپے مگر وہ کچھ نہ بولی۔ اس کی خاموشی، ذرام کے کٹھور الفاظ سے کہیں زیادہ نایاب کے دل کو کاٹ گئی۔
نایاب کے جوڑے ہوئے ہاتھ مزید کانپنے لگے، اور اس کی نظریں جھک گئیں۔ وہ جانتی تھی کہ یہ دیواریں اس کے لیے آسانی سے نہیں ٹوٹیں گی۔
“جتنے مرضی طعنے دے لو… جتنی چاہو باتیں سنا لو… مگر خدارا مجھے معاف کر دو!” نایاب کی آواز لرز رہی تھی، “تم مجھے اس سے معافی لے کر دو اور خود بھی معاف کر دو۔”
وہ اچانک تیز قدموں سے آگے بڑھی اور ملیحہ کے پیروں میں گر بیٹھی۔ یہ منظر اتنا غیر متوقع تھا کہ لمحہ بھر کو سب کے سانس تھم گئے۔
ملیحہ نے گھبرا کر فوراً اپنے پاؤں پیچھے کر لیے، جیسے اس لمس سے خود کو بچا رہی ہو۔ اس کے چہرے پر خوف، دکھ اور غصے کے ملے جلے رنگ تھے۔
ذرام ایک کٹھور خاموشی کے ساتھ نایاب کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں سخت مگر دل میں طوفان برپا تھا۔ “وہ جانتا تھا کہ یہ رونا دھونا اب بے فائدہ ہے… بہت دیر ہو چکی ہے۔”
“یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟ اب یہ سب کچھ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب وقت تھا، تب تو آپ فرعون بنی ہوئی تھیں، اور اب تو وقت گزر چکا ہے۔ اب بس اللہ سے معافی مانگیں، ہمارے پاس آپ کے لیے معافی نہیں ہے۔ اور یہ سب کر کے مجھے شرمندہ مت کریں۔” ملیحہ نے سخت لہجہ اپنانے کی کوشش کی، مگر نہ جانے کیوں نایاب کی حالت پر اس کا دل پگھلنے لگا تھا۔
“اتنے سخت دل مت بنو… اگر تم لوگ بھی پتھر دل ہو گئے، تو پھر کیا فرق رہ گیا تمہارے اور میرے درمیان؟” نایاب کی کانپتی ہوئی آواز میں ٹوٹے دل کی لرزش صاف جھلک رہی تھی۔
ملیحہ نے نظریں پھیر لیں، وہ چاہتی تھی کہ سخت رہے، مضبوط رہے، مگر دل کے کسی کونے میں نایاب کی یہ حالت اس پر بھاری پڑ رہی تھی۔ ایک لمحے کو اسے لگا جیسے اس کے سامنے کھڑی نایاب نہیں، بلکہ کوئی بچی ہے جو اپنے ٹوٹے کھلونے کے لیے ضد کر رہی ہو۔ دل کہہ رہا تھا کہ ہاتھ بڑھا کر اسے تھام لے، مگر عقل بار بار یاد دلا رہی تھی کہ یہ وہی عورت ہے جس نے ان کے لیے زمین تنگ کر دی تھی، جس کی وجہ سے اس کا بچہ دنیا میں آنے سے پہلے چھن گیا ۔اسی کی وجہ سے زرام کے ساتھ اس کا رشتہ ٹوٹنے پر آگیا ۔سب سوچتے ہوئے وہ پھر سے دل سخت کر چکی تھی ۔۔
زرام نے اسے کاندھوں سے تھام کر آہستگی سے کھڑا کر دیا۔ کہیں نہ کہیں اسے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ اس کی بڑی بہن اس طرح اس کی بیوی کے قدموں میں بیٹھی ہے۔
کہیں نہ کہیں زرام کے دل کو تکلیف پہنچی۔
جس کا مقام کبھی بہت بلند تھا، وہ آج اپنے ہی گناہوں کے بوجھ تلے قدموں میں بیٹھی تھی۔
“نایاب، آپی یہ سب مت کیجیے، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس طرح آپ ہمیں شرمندہ تو کر سکتی ہیں مگر خود کو درست ثابت نہیں کر سکتیں۔شرمندگی کی وجہ یہ نہیں کہ آپ ٹھیک ہیں،
وجہ یہ ہے کہ آپ عمر میں ہم سے بڑی ہیں۔ اگر آپ نے ماضی میں وہ سب کچھ نہ کیا ہوتا تو آج آپ کی جگہ یہ نہیں ہوتی۔ آپ کی جگہ ہمارے دلوں میں ہوتی۔
نایاب کی آنکھوں سے بہتے آنسو اس کے رخسار نہیں بھگو رہے تھے۔
“اگر ماضی میں میں نے گناہ نہ کیے ہوتے تو آج میرا مقام کچھ اور ہوتا۔ مجھے میرا مقام مت یاد دلاؤ، میں خوب جانتی ہوں کہ اپنے مقام سے گرنے والی میں خود ہوں۔میں اس کے لیے کسی کو قصوروار تو نہیں ٹھہرا رہی۔
مگر آج تمہارے سامنے ہاتھ باندھ کر معافی مانگ رہی ہوں، معاف کر دو۔ کیوں اتنے سخت دل ہو گئے ہو؟ تم لوگ تو نیک ہو، تمہارے دلوں میں تو خوفِ خدا ہے۔ ذرا میری طرف دیکھو، ملیحہ! میں اپنے گناہوں کی سزا بھگت رہی ہوں، کیا تمہیں یہ سب نظر نہیں آ رہا؟”
وہ دونوں کو اپنا چہرہ دکھا رہی تھی، سراپا معافی کی طلبگار بنی کھڑی تھی۔
“معافی نہیں دے سکتے نا؟ زیغم بھائی نے بھی تو معاف کیا تھا… اور اُس معافی کا تم سب نے ان کو کیا صلہ دیا؟ زَرام نے اُس پرانی معافی کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔
“چپ کیوں ہو گئی ہیں؟ بتائیے نا… زیغم بھائی نے بھی تو معاف کیا تھا، پھر اُس معافی کا آپ لوگوں نے کیا صلہ دیا؟” زَرام نے نایاب کی خاموشی پر اُس کی طرف نظریں گاڑھ کر سوال کیا۔
“جواب نہیں آ رہا نا؟ آئے گا بھی کیسے… کیونکہ زیغم بھائی کی نرمی اور اچھائی کے بدلے آپ لوگوں نے اُن کی زندگی اجیرن کر دی۔ اُن کی معافی کے بدلے آپ لوگوں نے اُن کی جان لینے کی کوشش کی، مہرو بھابھی کو اُن سے جدا کر دیا۔
آپ لوگوں کی نظر میں معافی کی اگر یہی اوقات ہے، تو پھر کیوں چاہتی ہیں کہ ہم ایک بار پھر سے معافی دیں… اور کیا یقین ہے کہ آپ اس بار ہمارے ساتھ وہی سلوک نہیں کریں گی؟”
زَرام نے آج ہر رشتے اور ہر پردے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، کڑوا سچ اُس کے سامنے رکھ دیا۔
نایاب خاموش کھڑی رہی۔ اُس کے کانپتے ہونٹ، جھکاؤ والے کندھے اور آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو، سب کچھ اس کی بے بسی اور دل کی شدت کو ظاہر کر رہے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ زرام کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ سچ ہے۔ایک ایسا سچ جسے وہ خود بھی جھٹلا نہیں سکتی تھی۔۔۔
“سب کچھ میں نے اکیلے تو نہیں کیا تھا۔ شہرام بھائی اور اماں بھی تو شامل تھے، ابا بھی تو ساتھ تھے۔”
“آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ دلیل کافی ہے؟ میں نے کب انکار کیا کہ وہ لوگ شامل نہیں تھے؟ لیکن آپ خود کو اس گناہوں کی فہرست سے باہر نہیں نکال سکتی۔ جانتی ہیں کیوں؟ کیونکہ آپ بے وقوف نہیں تھیں، آپ شاطر تھیں اور آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آپ کیا کر رہی ہیں۔ اگر اماں، ابا یا شہرام بھائی کی وجہ سے یہ سب ہوتا، تو پھر مجھے بھی اُن کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔ میں بھی تو انہی کا خون ہوں، مگر میں نے اُن کے بنائے ہوئے راستے پر قدم نہیں رکھا۔”
“آپ بھی شعور رکھتی تھیں، پھر آپ نے کیوں ان کا ساتھ دیا؟ کیوں گناہوں کا حصہ بنتی رہیں؟ کیونکہ آپ کا ضمیر بھی کالا تھا، آپ کے دل میں بھی خوفِ خدا نہیں تھا۔ آپ خود کو زمینی خدا سمجھتی تھیں۔ اور آج آپ معافی اس لیے مانگ رہی ہیں کہ آج آپ کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔آج گناہوں میں آپ کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر آج بھی آپ کے ساتھ دینے والے موجود ہوتے تو آپ وہی سب کرتیں جو برسوں سے کر رہی تھیں۔ اس لیے اب معافی کا ڈرامہ مت رچائیں!”
زرام کی آواز پورے کمرے میں گونج اٹھی۔
“پلیز… چلی جائیں ہمارے کمرے سے۔”
“میں نہیں جاؤں گی! جب تک مجھے معافی نہیں ملے گی، میں نہیں جاؤں گی!” نایاب روتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی۔شاید آج اس نے ٹھان لی تھی کہ وہ معافی لیے بغیر نہیں جائے گی۔
زرام نہ تو اسے اس حالت میں دیکھ سکتا تھا اور نہ معاف کر سکتا تھا۔
“ٹھیک ہے، پھر میں کمرے سے چلا جاتا ہوں، کیونکہ معافی تو نہیں مل سکتی۔” زرام نے کہا، اور ملیحہ کو اپنے ساتھ بلاتے ہوئے خود دروازے سے باہر نکل گیا۔ ملیحہ وحی کھڑی رہی، اور زرام دروازہ بند کر کے جا چکا تھا۔
“کیوں کر رہی ہیں آپ یہ سب؟” ملیحہ نے ٹوٹے سے لہجے میں پوچھا، کیونکہ وہ نایاب کی حالت دیکھ کر ہلکی سی لرزش محسوس کر رہی تھی۔
“معافی… صرف معافی چاہتی ہوں۔ تم مجھے معاف کر دو۔ ذرام ، وہ بھی مجھے معاف کر دے گا، کیونکہ وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے، تمہاری خاطر۔” نایاب عجیب بے بسی کی مورت بنی ہوئی تھی۔ ہاتھ جوڑے، چہرہ جھکائے بیٹھی، لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ وہی نایاب ہے جس میں کبھی اکڑ کی انتہا ہوا کرتی تھی۔
ملیحہ نے گہری سانس لی۔ دل نرم پڑ چکا تھا، اب وہ زیادہ سختی دکھا نہیں سکتی تھی۔
“جانتی ہوں کہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں، میرے لیے تمہیں معاف کر دیں گے۔ مگر کیا کسی کو اپنی محبت کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟” ملیحہ کے لہجے میں ٹھہراؤ تھا۔
وہ بیڈ کے کنارے پر پاؤں لٹکائے بیٹھی تھی، نظریں نایاب پر مرکوز۔
“نہیں، بالکل نہیں۔ تم کسی کے سکون یا معافی کے لیے اپنی محبت کا استعمال کرو گی، تو یہ گناہ نہیں ہوگا۔ تم بہت اچھی ہو، ملیحہ۔ آنے والے بچے کی خوشیاں تمہارے نصیب میں ہوں۔ اللہ تعالی تمہیں اولاد جیسی نعمت سے بار بار نوازے۔ اسی کے صدقے مجھے معاف کر دو۔ میں بڑی تکلیف میں ہوں، نیند نہیں آتی، رات کو جہنم کی آگ دکھائی دیتی ہے، خواب میں مجھے سب لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ ہر کوئی مجھ سے اپنا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ مجھے چیختے ہوئے شہرام بھائی اور اماں نظر آتے ہیں۔ میں بہت تکلیف میں ہوں، مجھے معاف کر دو۔”
نایاب زار و قطار رو رہی تھی۔ ملیحہ کے دل میں خوفِ خدا کا جوش بھر آیا۔ اس نے نایاب کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
“چپ ہو جائیں، مت روئیں۔” ملیحہ نے اٹھ کر جگ سے پانی کا گلاس بھرا اور اس کے سامنے رکھا، جسے نایاب تیزی سے پی گئی، جیسے حلق پوری طرح خشک ہو گیا ہو۔
“ٹھیک ہے، میں نے آپ کو معاف کیا، مگر خدارا اس معافی کو میری کمزوری مت سمجھیں، اور میرے ساتھ زیغم بھائی والا سلوک مت کرنا۔”
“نہیں، ملیحہ، کبھی نہیں، کبھی نہیں ایسا ہوگا۔ میں اب کسی کے لیے سازش نہیں کر رہی، میں تو خود اپنے گناہوں کی رب سے معافیاں مانگ رہی ہوں۔”وہ ملیحہ کے ہاتھوں کو تھامے ہوئے اپنی صفائی پیش کر رہی تھی۔۔
“آپ کا بہت شکریہ۔ اللہ آپ کو خوشیاں نصیب کرے۔”نایاب اس کا شکریہ ادا کر رہی تھی۔
“ٹھیک ہے، اب اٹھ کر اپنے کمرے میں جائیں۔ میں نے آپ کو معاف کیا، دنیا اور آخرت میں، ہمیشہ کے لیے۔”
ملیحہ آگے بڑھ کر نایاب کو گلے لگا لیا۔ نایاب پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی اور زرام سے معافی مانگنے کو کہہ رہی تھی۔
“کر دیں گے، وہ بھی معاف، مگر ابھی نہیں۔ آپ ان کی بہن ہیں اور آپ نے جو کچھ کیا، وہ ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ ابھی دباؤ ڈالنا صحیح نہیں ہے۔ مگر آپ پرسکون رہیں، ان شاء اللہ بہت جلد ان کا دل نرم ہو جائے گا اور وہ بھی آپ کو معاف کر دیں گا۔”
ملیحہ نے نایاب کے چہرے کو اپنے دوپٹے سے صاف کیا، کاندھوں سے پکڑ کر نرمی سے کھڑا کیا۔ نایاب دعائیں دیتی ہوئی، سر جھکائے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“بے شک، میرے اللہ! جب تو کسی ظالم سے اس کا سکون چھین لیتا ہے، تو اس کے لیے اس سے بڑی سزا نہیں ہوتی۔ بس، اللہ تو اسے اپنی رحمت کے صدقے معاف کر دے، اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانیاں عطا فرما۔ مجھے تو کسی سے اب کوئی گلہ نہیں۔ اے اللہ، ان کی پوری فیملی کو گناہوں کی سزا سے آزاد کر دے۔”
وہ گہری سانس لے کر کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کر گئی، کیونکہ نایاب کی حالت دیکھ کر اس کا دل تڑپ اٹھا تھا۔
✦✦ ✦✦✦
ذرام باغیچے میں تنہا کھڑا تھا۔ ہاتھ پیچھے باندھے، نظریں نیچے، اور دل کی دھڑکنیں خاموشی میں اپنے درد کو سن رہی تھیں۔ ہوا کے ہلکے جھونکے اس کے چہرے سے ٹکراتے، مگر وہ محسوس بھی نہ کر رہا تھا۔
“کیوں…؟” اس نے اپنے دل سے پوچھا ، “کیوں آپ نے یہ سب کیا؟ اگر یہ سب نہ ہوتا، تو میں آپ کو بے بس اور روتا ہوا نہ دیکھتا۔ مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے… اور میں یہ درد کسی کو بھی نہیں بتا سکتا۔”
اس کے اندر کا غم خاموشی میں لپٹا ہوا تھا، جیسے کوئی بے آواز چیخ، اور ہر سانس کے ساتھ زور پکڑ رہی ہو۔
ذرام نے نظریں اوپر اٹھائیں، باغیچے کی مدھم سی روشنی میں اسے نایاب کا روتا ہوا چہرہ ذہن میں آنے لگا۔
“اگر یہ سب صرف میری بات ہوتی، تو میں اب بھی آپ کو معاف کر دیتا۔ نہ اس لیے کہ آپ کا گناہ چھوٹا ہے، بلکہ اس لیے کہ آپ میری بہن ہیں، اور میرے ساتھ آپ کا رشتہ صرف خون کا نہیں، بلکہ دل کا بھی ہے۔”وہ درد زدہ لمحوں کی قید میں کھڑا تھا کہ اپنے کاندھے پر اس نے کسی کا ہاتھ محسوس کیا۔
ذرام نے بنا پلٹے محسوس کر لیا تھا کہ وہ ملیحہ ہے۔
“میں جانتی ہوں، زرام، تم بھی اس وقت بہت تکلیف میں ہو۔ وہ تمہاری بہن ہے، اور اسے ایسی حالت میں بے بس، ٹوٹا ہوا دیکھنا تمہیں بھی اچھا نہیں لگ رہا۔”
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ روئے، یا ہنسے ۔” زرام نے اس کی بات کو بیچ میں کاٹ دیا۔ وہ اب رخ دوسری جانب کر کے کھڑا تھا، لیکن جب ملیحہ نرمی سے اس کے سامنے آکر کھڑی ہوئی اور اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا،جہاں پر درد صاف دکھائی دے رہا تھا جسے چھپانے کی وہ ناکام کوشش کیے جا رہا تھا۔
” کس سے جھوٹ بول رہے ہو، نایاب؟ مجھ سے یا اپنے آپ سے؟”
“میں نہ جھوٹ بول رہا ہوں، نہ مجھے بولنے کی ضرورت ہے۔ تم خود سے اندازہ لگانا بند کرو،” زرام کا لہجہ کافی سخت تھا، مگر ہر لفظ میں درد چھپا ہوا تھا۔
“ذرام جھوٹ کو جتنے بھی اچھے انداز سے سامنے رکھا جائے، پھر بھی وہ جھوٹ ہی رہتا ہے۔ اور سچائی؟ تم بھی جانتے ہو، اورمیں بھی جانتی ہوں…”
ملیحہ نے نرمی سے اپنا ہاتھ زرام کے مضبوط ہاتھ پر رکھتے ہوئے اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔ باغیچے میں بنی ہوئی ماربل کی خوبصورت سیڑھیوں پر وہ بیٹھ گئی۔ ذرام بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ وہ اس کے ہاتھ کو تھامے ہوئے اپنے ہاتھ سے سہلا رہی تھی، شاید اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور اس درد کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو بھی تھا۔ ذرام ملیحہ کے آنے سے تھوڑا سا پرسکون تو ہو گیا تھا۔
ملیحہ نے خود کو پرسکون کرنے کے لیے سانس فضا میں چھوڑتے ہوئے نرمی سے بات شروع کی کیونکہ اس وقت ذرام بہت ٹوٹا ہوا تھا۔
“ذرام… دیکھیں، کچھ چیزیں نیچرل ہوتی ہیں۔ چاہے ہم جتنی بھی کوشش کریں، انہیں بدل نہیں سکتے۔ جیسے خون کے رشتوں کے ساتھ لگاؤ، جیسے محبت… یہ سب قدرتی ہے۔ اور اگر تم چاہ کر بھی نایاب سے اپنا دل کا رشتہ نہیں توڑ سکے، تو یہ تمہاری غلطی نہیں ہے۔ خود کو قصوروار سمجھنا بند کرو۔”
ذرام نے ایک گہری سانس لی اور کہا، “مجھے نایاب کے ساتھ کوئی لگاؤ نہیں ہے۔” لیکن اس کے لہجے میں سختی کے پیچھے چھپی ہوئی محبت اور درد صاف محسوس ہو رہا تھا۔
ملیحہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے کہا، ” میری طرف دیکھ کر کہو… میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو کہ تمہیں اپنی بہن سے کوئی لگاؤ نہیں۔ کہہ دو کہ اس کے رونے سے تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوئی، اسے اس طرح بے بس دیکھ کر تمہارے دل نے درد محسوس نہیں کیا…”
وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے، اور خاموشی میں ایک چھپی ہوئی محبت اور درد کی گہرائی محسوس کی جا سکتی تھی۔
بے اختیار ذرام کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ وہ اپنی آنکھوں کو چھلکنے سے روک نہیں سکا۔ دل کا غبار آنکھوں سے بہہ نکلا تھا۔ اپنا سر ملیحہ کے کاندھے سے ٹکا کر اس نے چہرہ چھپا لیا، شاید اس لیے کہ وہ اپنے آنسو دکھا کر اپنا دکھ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
ملیحہ اس کی بیوی تھی،اس سے بہت محبت کرتی تھی اور بن کہے اس کے دل کا درد سمجھ سکتی تھی۔ ذرام کو سمجھنے کے لیے ملیحہ کو اس کے الفاظ کی ضرورت نہیں تھی۔وہ صرف اس کے خاموش لمس اور لرزتے دل سے سب کچھ محسوس کر سکتی تھی۔
“ذرام، کیوں خود کو اتنی تکلیف پہنچا رہے ہو؟ معاف کر دو اسے، وہ بھی بہت تکلیف میں ہے،” ملیحہ کا لہجہ حد سے زیادہ نرم تھا۔ اس نے ذرام کے کمر پر ہاتھ سے سہلاتے ہوئے نرمی سے سمجھایا۔
“نہیں، معاف نہیں کر سکتا۔ اگر معاف کر دوں گا تو زیغم بھائی کے ساتھ اپنا رشتہ کمزور کر لوں گا۔ کہیں نہ کہیں ان کو یہی لگے گا کہ آخر میں نے انہیں سوتیلا ہی سمجھا، ان کو اپنا سگا بھائی نہیں سمجھا۔ اور میں زیغم بھائی کی نظروں میں گرنا نہیں چاہتا،”
ملیحہ کو اس کے دل کے اندر چھپا ہوا ڈر پتہ چل چکا تھا اب اس کے لیے راستہ آسان تھا وہ دو بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کے نزدیک کرنے میں کامیاب ہو سکتی تھی۔
“اس درد کو ذہن سے نکال دو۔ وہ زیغم بھائی ہیں جن کا دل بہت بڑا ہے، وہ ہماری تکلیف کو سمجھ لیں گے۔ میں مہرو سے بات کروں گی، اور مہرو کی بات کبھی رد نہیں کی جا سکتی۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تم ایک قدم آگے بڑھاؤ، میں تمہارے ساتھ کھڑی ہوں۔”
“نہیں، میں معاف نہیں کر سکتا۔”
“تم معاف کر سکتے ہو، اور تم معاف کر دو۔ وہ بہت تکلیف میں ہے۔ اپنی سزا اللہ تعالی سے وہ لے چکی ہے، اور جو بھی اللہ کو اس کے لیے بہتر لگے گا، اللہ تعالی وہی کرے گا۔ مگر تم اپنا دل وسیع کرو، تم پر یہ ذمہ داری ہے ذرام۔ کیونکہ وہ تمہاری بہن ہے، اس کا تمہارے سوا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ تمہاری بے رخی، تمہارا منہ موڑ لینا اسے بہت اذیت دے رہا ہے۔ تم اسے معاف کر دو۔”
ذرام نے کاندھے سے چہرہ اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا، “کیا تم اسے معاف کر سکو گی؟”
ملیحہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“نہیں، نہیں کر سکتی… معاف، کیونکہ اس نے جو کچھ کیا ہے، اس کے بعد تم اسے معاف نہیں کر سکتی۔ تو پھر تم مجھ سے کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں اسے معاف کر دوں؟”
“میں اسے معاف کر چکی ہوں، ذرام۔ میں نے اسے اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیا۔”
ملیحہ کی بات سن کر ذرام حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟ میں نے سچ میں اسے معاف کر دیا۔ دیکھو، گنہگار کی سزا ہوتی ہے، اور وہ سزا اسے مل رہی ہے۔ اس کی راتوں کی نیند چھن گئی ہے، دن کا سکون ختم ہو گیا ہے، اپنے تمام رشتے اس نے کھو دیے ہیں، سوائے تمہارے۔ اور جہاں تک یہ ڈر ہے کہ وہ دوبارہ معافی ملنے کے بعد وہی سب کرے گی جو انہوں نے زیغم بھائی کے ساتھ کیا…
تو ایسا نہیں ہوگا۔
وہ وقت اور تھا۔ اس وقت وہ بہت مضبوط تھی اور اس نے کبھی اس انداز سے توبہ نہیں کی تھی۔ اب اس کی توبہ، اس کی معافی، اس کا اللہ سے ڈر، سب اس کی نظروں میں دکھائی دیتا ہے۔ میرے خیال سے، اگر ہم اسے اب بھی معاف نہیں کریں گے، تو پھر ہم زیادتی کریں گے۔”
ملیحہ کی باتیں ذرام کے دل پر اثر کر رہی تھیں، کیونکہ وہ سب کچھ بول رہی تھی جو ذرام کا دل محسوس کر رہا تھا۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔ پھر گہری سانس لیتے ہوئے خود کو پرسکون کیا، ملیحہ کی جانب دیکھا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔ آنکھیں بند کر کے پھر سے کھولی۔
“اور اگر زیغم بھائی ناراض ہو گئے تو پھر میں کیا کروں گا؟” وہ اپنا ڈر زبان تک لے آیا۔
“وہ ناراض نہیں ہوں گے، میری گارنٹی ہے۔ بس تم یہ بتاؤ، تمہارا دل چاہتا ہے نا کہ تم نایاب کو معاف کر دو؟”
“ہمم… اس کی تکلیف دیکھ کر میرا دل چاہتا ہے میں اسے معاف کر دوں، ہمیشہ کے لیے۔”
“تو ٹھیک ہے، بس اسے معاف کر دو، باقی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اللہ سے اچھے کی امید رکھتے ہیں۔ میں کل ہی مہرو سے بات کروں گی۔”
“تھینک یو، تھینک یو سو مچ۔”
“کس لیے؟” ملیحہ نے پیار سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“میرا ساتھ دینے کے لیے، میرے دل کے درد کو سمجھنے کے لیے۔ میں بھی تو بہت تکلیف میں تھا۔ نایاب کو اس حالت میں دیکھنا مجھے بھی اچھا نہیں لگتا، مگر وعدوں کی زنجیروں نے مجھے جکڑ رکھا تھا۔”
“ہم دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے، یہی وعدہ کیا تھا ہم نے۔ پھر چاہے دکھ ہو یا سکھ، آپ کو مجھے ‘شکریہ’ کہنے کی ضرورت نہیں۔ چلیں، نئے آپ نایاب کو معاف کر دیں۔”ملیحہ کے لبوں پر مسکراہٹ صحیح ہوئی تھی خوش تھی۔
ملیحہ نے ذرام کا ہاتھ پکڑے ہوئے گھر کے اندر کی جانب قدم بڑھائے، جبکہ ذرام محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا انتخاب کتنا درست اور خوبصورت تھا۔ آج بھی ملیحہ آہستہ سے سب کچھ جوڑنا چاہتی تھی۔
ایک اچھی عورت ہمیشہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی رشتوں کو جوڑنے کی کوشش کرتی ہے، اور یہی اس کی حقیقی نیک دلی اور اچھائی کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔
✦✦✦ ✦✦✦
ذرام اور ملیحہ تو ایک اچھی نیت لے کر نایاب کے کمرے میں داخل ہوئے تھے، مگر سامنے کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ نایاب شاید چکر کھا کر زمین پر گری تھی۔ پہلی نظر میں انہیں کچھ سمجھ نہیں آیا، مگر اس کے سر سے بہت تیزی سے خون بہ رہا تھا اور وہ بے ہوش زمین پر پڑی تھی۔
“او میرے اللہ! یہ کیا ہوا ہے؟” ذرام تیزی سے آگے بڑھا، نایاب کو اٹھایا اور بیڈ پر لٹایا۔ “جلدی سے میڈیکل باکس لاؤ!” اس نے ملیحہ کو حکم دیا۔
ملیحہ بھی پریشان تھی، فوراً ب میڈیکل اکس نکالا اور لے آئی۔ ذرام نے جلدی سے ڈریسنگ شروع کی۔ خود ڈاکٹر تھا، اس لیے اچھی طرح اندازہ تھا کہ اس وقت کیا ضروری ہے۔ گھر میں دوائیاں بھی اکثر موجود ہوتی تھیں، تو ذرام نے فوراً انجکشن لگایا۔ شروعاتی ٹریٹمنٹ دینے کے بعد ذرام نایاب کے پاس ہی بیٹھ گیا، بار بار اس کے ہاتھوں کو سہلا رہا تھا۔ ایک بھائی کی تڑپ اور درد اس کی آنکھوں میں صاف نظر آ رہا تھا۔
ملیحہ نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر کہا، “پریشان نہ ہو، ان شاءاللہ ٹھیک ہو جائیں گی۔ آپ ایک کام کریں، چلیں ہم انہیں ہسپتال لے چلتے ہیں۔”
“نہیں، فی الحال ضرورت نہیں۔ ابھی کچھ دیر میں ہوش آ جائے گا۔ بے ہوشی شاید کمزوری کی وجہ سے ہوئی ہے۔ انہوں نے کچھ کھایا پیا نہیں ،
“ٹھیک ہے، میں ابھی ان کے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔ کب تک ہوش میں آ جائیں گی؟”
“جلد آ جائیں گی، شاید دس منٹ میں۔”
“چلو، ٹھیک ہے۔ آپ ان کے پاس بیٹھے، میں بھی جان بوجھ کر کچھ دیر کے لیے کمرے سے چلی گئی، تاکہ دونوں بہن بھائی اکیلے رہیں۔”
✦✦✦ ✦✦✦
“کیا بات ہے، جاناں؟”
“میں محسوس کر رہا ہوں کہ تم پریشان ہو، خیریت ہے؟” مائد نے دانیہ کے پاس بیٹھتے ہوئے اسے اپنے قریب کھینچ لیا ۔
“نہیں، کوئی پریشانی نہیں۔” دانیہ نے کمزور سے لہجے میں جواب دیا، اور مائد کے کاندھے سے سر ٹکائے ہاتھ سینے پر رکھ دیا۔
“پریشان تو آپ ہیں۔ اگر بتانا نہیں چاہتے تو وہ الگ بات ہے۔” مائد نے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے پیار جتایا۔
“میں آپ سے جھوٹ نہیں بول رہی، بس بتانے کو دل نہیں چاہ رہا۔”
“میرے خیال سے بتانا چاہیے؟ اگر بتا دیں گی تو ہو سکتا ہے آپ کی اداسی دور کر سکوں۔”
“نایاب کا فون آیا تھا، مجھ سے معافی مانگ رہی تھی۔”
“اچھا، اور پھر تم نے کیا کہا؟”
” میں نے کہا، دوبارہ فون مت کرنا، اورمیں اسے معاف نہیں کر سکتی۔”
“تو بس ٹھیک ہے، مت کرو۔ اس میں پریشان ہونے والی تو کوئی بات نہیں ہے۔” مائد نے نرمی سے اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب جھکایا اور اس کی آنکھوں میں جھانک کر اس کے دل کی بات جاننے کی کوشش کی۔
“مگر وہ جس طرح رو رہی تھی، پتہ نہیں کیوں، مجھے دکھ بھی ہو رہا تھا۔
“میں ایک مشورہ دوں؟” مائد نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“جی، دے۔”
“اسے معاف کر دو۔ اسے جتنی سزا مل چکی ہے، کافی ہے۔ اگر وہ اب بار بار معافی کے لیے فون کر رہی ہے یا کوشش کر رہی ہے، تو تمہیں اسے معاف کر دینا چاہیے۔ باقی اللہ پر چھوڑ دو۔ اللہ تعالی بہترین فیصلے کرنے والا ہے، اس ذات پر ہمیں بھروسہ رکھنا چاہیے۔”
دانیا خاموش ہو گئی۔ کہیں نہ کہیں اس کا دل بھی اب یہی چاہتا تھا کہ وہ نایاب کو معاف کر دے۔ نایاب نے ایک بار نہیں، کئی بار کوشش کی تھی، مگر ہر بار دانیہ نے انکار کر دیا۔ مگر اب، نہ جانے کیوں، اسے لگنے لگا تھا کہ نایاب کو معاف کر دینا چاہیے۔مائد کبھی اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کہتا تھا آج پہلی بار اس نے مشورہ دیا تھا۔
دانیہ خاموش ہو گئی تھی اور اس کی خاموشی ہی گواہی تھی کہ وہ دانیا کو معاف کرنے کے لیے شاید تیار ہو چکی ہے۔مگر اس کا چہرہ اب بھی اداس اور پریشان تھا۔مائد کو اچھی طرح سے پتہ تھا کہ اس کے چہرے پر خوشی کے رنگ کیسے بکھیرنے ہیں۔
مائد نرمی سے اپنی پوزیشن بدلتا ہوا دانیہ کے قریب ہوگیا۔ اس کی ہر حرکت میں احتیاط اور محبت چھپی ہوئی تھی، جیسے وہ ہر لمحے اس کے احساسات کا احترام کر رہا ہو۔
اس نے آہستہ آہستہ اپنی سانسیں اس کی سانسوں کے ساتھ ملائی، اور لبوں کو کچھ دیر کے لیے اس کے لبوں کے قریب رکھا، تاکہ گرم سانسیں اس کے گرد بکھر جائیں، ایک خاموش محبت کی گواہی بن کر۔ دانیہ کی آنکھیں آدھی بند ہو گئیں، دل کی دھڑکن تیز ہوئی، اور وہ لمحہ جیسے وقت کو تھم جانے پر مجبور کر رہا تھا۔
مائد نے اسے محسوس کیا، اور نرمی سے اس کے رخسار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، “پریشان مت ہو، ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی…” اس کی آواز میں اتنی نرمی اور قربت تھی کہ دانیہ کا دل اس کے لمس اور الفاظ میں خود بخود پگھل گیا۔
وہ دونوں خاموش ہو گئے، لیکن خاموشی میں بھی ایک محبت بھرا رشتہ، ایک رومانوی ہم آہنگی چھپی ہوئی تھی۔ ہر سانس، ہر لمس، اور ہر لمحہ ایک دوسرے کے قریب آنے کی خاموش خواہش کا اظہار کر رہا تھا، جیسے کہ یہ لمحہ صرف انہی کے لیے بنایا گیا ہو۔
✦✦✦ ✦✦✦
زرام سوچوں میں گم تھا، اور اس کی تمام سوچوں کا مرکز نایاب تھی۔ وہ مسلسل اپنی بہن کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھے جا رہا تھا۔ دل کی گہرائیوں سے بچپن کے وہ دن ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے جب وہ ہنستے تھے، کھیلتے تھے۔ اسے اپنی وہ نایاب آپی یاد آ رہی تھی جو کبھی معصوم ہوا کرتی تھی، جو بچپن میں اس کا خیال رکھتی تھی۔ وہ وقت جب اسے سازشوں کا پتہ نہیں تھا، غرور کا مطلب نہیں آتا تھا، حسد کے معنی نہیں پتا تھے۔ تب تو بہن بھائیوں میں صرف محبت اور بچپن کی نادانیاں ہوا کرتی تھیں۔ انہی لمحوں کو یاد کرتے کرتے زرام کے آنسو بہہ نکلے۔
اسی دوران نایاب آہستہ آہستہ ہوش میں آنے لگی۔ دھندلی سی آنکھوں نے جب زرام کا چہرہ دیکھا تو ہونٹوں پر کپکپاتے لفظ ٹوٹے۔
“مج… مجھے معاف کر دو…”
زر ام نے بھیگی نظروں سے اسے دیکھا اور لرزتی آواز میں کہا۔
“جلدی سے ٹھیک ہو جائیں… میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے، ہمیشہ کے لیے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ اللہ آپ کے لیے آسانیاں کرے… جلدی سے صحت مند ہو جائیں، ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔”
زرام کے یہ الفاظ سن کر جیسے نایاب کے اندر جینے کی تمنا پھر سے جاگ اٹھی۔ وہ سہارا لے کر بیٹھ گئی۔
“آپ لیٹ جائیں، آپ کو چوٹ لگی ہے…” زرام نے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے لٹانے کی کوشش کی، مگر نایاب نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر روک لیا۔
“میں ٹھیک ہوں!” وہ ضد کرتے ہوئے بیڈ سے اتر آئی اور بے اختیار اپنے بھائی کے گلے سے لگ گئی۔
“تم نے مجھے معاف کر دیا، اب میں واقعی ٹھیک ہوں… بس تم باقی سب سے بھی کہہ دو مجھے معاف کر دیں۔ میں اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوں۔”
“سب معاف کر دیں گے… اگر ابھی نہ بھی کریں تو تمہیں حوصلہ رکھنا ہوگا۔ جتنا آپ نے سب کا دل دکھایا ہے، وقت لگے گا۔ مگر اتنا کافی ہونا چاہیے کہ میں اور ملیحہ دل سے معاف کر چکے ہیں۔”
زر ام نے آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے کہا۔
زر ام نے اپنی بہن کے گرد بازو لپیٹ لیے۔ وہ دونوں رو رہے تھے، مگر یہ آنسو اب کڑواہٹ اور ناراضگی نہیں دھو رہے تھے بلکہ گناہ، خطائیں اور مکافات کو دھو کر رشتے کو نئے سرے سے جوڑ رہے تھے۔ اس لمحے کمرے میں صرف دو وجود نہیں تھے۔وہاں رب کی رحمت کی چادر بھی ان پر تنی ہوئی تھی۔
✦✦✦ ✦✦✦
(ڈیڑھ ماہ بعد )
شادی ہال خوشبوؤں اور روشنیوں سے بھرا ہوا تھا۔ سرخ و سنہری پردوں سے سجا سٹیج، جس پر گلاب اور گیندے کے پھولوں کی مالا لٹک رہی تھی۔
مہمانوں کا شور تھا، کہیں قہقہے گونج رہے تھے تو کہیں خواتین ایک دوسرے کے لباس کی تعریف میں سرگوشیاں کر رہی تھیں۔ بچے بھاگتے دوڑتے میزوں کے بیچ ہنسی خوشی کھیل رہے تھے۔ کچھ مرد حضرات ایک دوسرے کے ساتھ مصافحے میں مصروف تھے،
وقت گزر ہی جاتا ہے، اچھا ہو یا برا، کسی کے لیے رکتا نہیں۔ بس کچھ رشتے پیچھے رہ جاتے ہیں، کچھ ساتھ چلتے ہیں۔ کچھ لوگ خوشیوں کا باعث بنتے ہیں، اور کچھ صرف دکھ کا۔
وقت تیزی سے گزرا۔ زیغم اور مہرو کی بیٹی، جس کا نام انہوں نے عمل رکھا تھا۔ ڈیڑھ مہینے کی ہو گئی تھی۔
اسکا نام زیغم کی پسند سے رکھا گیا ، جیسا کہ پہلے سے طے تھا کہ مہرو کی ڈلیوری کے بعد رومی اور فیصل کی شادی کی ڈیٹ فکس کر دی جائے گی۔
فائنلی فیصل کی انتظار کی گھڑیاں ختم ہو گئی آج فائنل مائیوں اور مہندی کے بعد بارات کا گرینڈ فنکشن تھا۔
ہر طرف ہلچل تھی، سب لوگ شادی کی تیاری میں مصروف تھے۔سٹیج پر ،فیصل، بلیک رنگ کی نفیس شروانی میں اپنی دلہن کا انتظار کر رہا تھا ۔سجاوٹ، کھانے، مہندی کی خوشبو، اور خوشیوں کی گونج ہر طرف محسوس ہو رہی تھی۔جبکہ ہال کے انٹرسٹ پر فیصل کی فیملی آنے والوں کو خوش آمدید بول رہے تھے۔۔
دانیا اور مہرو رومی کو لے کر بیوٹی پارلر جا چکی تھیں۔
فیصل مین سلون میں تیار آیا تھا،فیصل اپنی تیاری کو لے کر کافی پوزیسو تھا اسٹائل کے ہر زاویے پر باریکی سے غور کرتے ہوئے تیاری کی تھی۔۔۔
بیچارے زیغم اور مائد اپنے بچوں کو سنبھال رہے تھے اور ساتھ ہی اپنی بیویوں کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔زیغم نے عمل کو اٹھا رکھا تھا جو زیادہ تنگ نہیں کر رہی تھی اور اس کی نینی بھی قریب ہی تھی اسے سنبھالنے کے لیے۔جبکہ مائد کا بیٹا حسن جو اب تھوڑا بڑا ہو چکا تھا وہ مائد کو کافی تنگ کر رہا تھا اور مائد اس کا تنگ کرنا خوشی خوشی برداشت کر رہا تھا۔
زیغم نے کچھ دیر پہلے مہرو کے نمبر کیا تھا تو مہرو نے کہا تھا کہ “بس تھوڑا سا ٹائم لگے گا”۔ اور اس بات کو ایک گھنٹہ گزر چکا تھا، اور بیچارے بچوں کو کھلاتے کھلاتے تھک چکے تھے، لیکن کوئی چارہ نہیں تھا۔
دونوں کی بیویاں بہت لاڈلی تھیں۔ زیغم اور مائد اپنی بیویوں کے ناراض چہرے دیکھ ہی نہیں سکتے تھے اور بیویاں اچھی طرح جانتی تھیں کہ ان کے شوہر ان سے بے حد محبت کرتے ہیں اور اسی محبت کو مہرہ بنا کا خوبصورتی سے اپنا فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر لیتی تھیں۔
مگر ان دونوں کو صبر کا پھل تب ملا جب دانیا اور مہرو، رومی کے ساتھ تیار ہو کر پارلر سے ہال پہنچی۔ فیصل بیچارا دولہا تھا، جس کی نظریں رومی سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں، اور مائد اور زیغم کی حالت بھی فیصل سے کم متاثر کن نہیں تھی۔
تینوں کی بیویاں بے شک آسمان سے اتری ہوئی پریاں لگ رہی تھیں، اور ان کے آگے آگے ایک ننھی سی پری بھی تھی۔ خوبصورت سی فراک پہنے ارمیزہ پارلر سے تیار ہو کر آئی تھی، ماتھے پر نفیس سی ماتھا پٹی سجائے ہوئے۔ زیغم کبھی اپنی شہزادی کو دیکھتا، کبھی اپنی پیاری بیوی کو، اور دوسری جانب مائد کی نظریں دانیہ پر جمی ہوئی تھیں، جو خوبصورت شرارہ پہنے اپنے دوپٹے کو سنبھالتی ہوئی چل رہی تھی۔ مائد دل پر قابو نہیں پا رہا تھا۔
مائد اور زیغم نے ایک ساتھ “ہائے” کہا، دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے۔
“شرم کر لو، آپ دونوں تھوڑی دیر کے لیے شرم کر لو۔ میں دلہا ہوں اور مجھے اپنی دلہن کے لیے ‘ہائے ہائے’ کرنا چاہیے، یہاں تو میرے بھائیوں کو ہی اپنی پڑی ہوئی ہے۔” فیصل نے مصنوعی اداکاری کے ساتھ غصے کا تاثر دیا۔شیروانی اس پر خوب جچ رہی تھی۔
“یار، اب ہماری بیویاں اتنی خوبصورت لگ رہی ہیں کہ ہمارے منہ سے ‘ہائے ہائے’ خود بخود نکل رہا ہے، تو ہم کیا کریں؟” مائد نے بیچاری سی شکل بنا کر کہا، جبکہ زیغم خاموش رہا۔ اس کی شخصیت ایسی نہیں تھی، یہ جو منہ سے ‘ہائے’ نکلی تھی، بے اختیار نکلی تھی۔ شاید کچھ دیر کے لیے اسے اردگرد کا ہوش نہیں رہا تھا، یہ کہنا بالکل مناسب تھا۔
جبکہ مائد کو تو اب بھی اردگرد کی کوئی فکر نہیں تھی۔وہ اب بھی مسکراتے ہوئے اپنی چاند سی بیوی کو دیکھے جا رہا تھا۔
دلہن کو جب فیصل کے ہمراہ اسٹیج پر بٹھایا گیا تو محفل کی ہر نگاہ پل بھر کو ٹھہر سی گئی۔ فیصل کی نظریں رومی پر ٹک کر رہ گئیں، جیسے اس کے سامنے وقت رک گیا ہو۔ وہ رومی، جو ہمیشہ سادگی میں رہتی تھی، آج دلہن کے روپ میں ایسی دلکشی اور وقار کے ساتھ جلوہ گر ہوئی کہ فیصل کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہو گئیں۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے خواب حقیقت کا روپ دھار کر اس کے سامنے بیٹھ گیا ہو۔
رومی کا جھکا ہوا سر، آنکھوں میں حیا کی جھلک، اور ہونٹوں پر ہلکی سی لرزش فیصل کے دل پر ایسے نقش ہو رہے تھے کہ جیسے کائنات کی سب سے حسین تصویر اس کے نصیب میں لکھ دی گئی ہو۔ فیصل کی نظر پلک جھپکنے کو بھی تیار نہ تھی۔وہ صرف دیکھنا چاہتا تھا، بار بار دیکھنا، اپنی دلہن کو، اپنے نصیب کو۔
“بس کر بے شرم! کوئی شرم و حیا بھی رکھ لے، سٹیج پر بیٹھا ہے!”
ذرام پیچھے کی طرف سے جھک کر فیصل کے کان کے قریب سرگوشی میں بولا تو فیصل کے چہرے کا رنگ یکدم بدل گیا۔ وہ جو اب تک رومی کو دیکھنے میں کھویا ہوا تھا، یوں چونکا جیسے کسی نے چوری کرتے پکڑ لیا ہو۔
فیصل نے نظریں جھکاتے ہوئے سنجیدہ سا حلیہ اپنانے کی کوشش کی، مگر ذرام کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔
زرام فیصل کو تیار کروا کر خود ہال میں چھوڑنے کہ بعد نایاب اور ملیحہ کو گھر سے لینے گیا تھا۔وہ ابھی ان کو لے کر حال پہنچا تھا کہ کہ اس کی نظر فیصل پر پڑی۔اب موقع ملتے ہی فیصل کی ٹانگ کھینچنے سے باز نہیں آ رہا تھا۔
“یا اللہ! ایسے کمینے دوست سے تو دشمن بہتر ہوتے ہیں ۔۔آج کا دن تو اپنی زبان بند رکھ فیصل نے زرام کے کان میں سرگوشی کی۔!”
ذرام کے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ پھیل گئی،
“میں تو کسی صورت آج کا دن کوئی بھی موقع خالی نہیں جانے دوں گا… آج تو بکرا میری چھری کے نیچے ہے، کٹنے سے کیسے بچے گا!”
ذرام نے شرارت سے لب بھینچ کر فیصل کی طرف دیکھا۔
فیصل نے اسے گھورا جیسے کہہ رہا ہو۔
“بھائی! شادی ہے قربانی نہیں!”
“بابا، میں کیسی لگ رہی ہوں؟”
ارمیزہ گول گھومتے ہوئے اپنے بابا سے پوچھ رہی تھی۔
“میری بیٹی ہمیشہ کی طرح پرنسز لگ رہی ہے، اور میری بیٹی تو ہے ہی پرنسز۔”
زیغم نے محبت سے جواب دیا۔
“بابا، میرے ساتھ ایک سیلفی بنوائیں۔”
“جی بیٹا، بالکل۔”
زیغم نے موبائل مہرو کو تھما دیا اور خود ارمیزہ کو گود میں اٹھا کر سیلفی بنا لی۔
یہ منظر دور کھڑی نایاب بھی دیکھ رہی تھی جو ملیحہ کے ساتھ کھڑی تھی۔وہ بہت ان کمفرٹیبل فیل کر رہی تھی۔اسی لیے ایک سائیڈ پر زبردستی ملیحہ کو اپنے ساتھ ہی روکے کھڑی تھی اس میں ہمت نہیں تھی سب کے بیچ میں آ کر کھڑے ہونے کی۔
ایک طرف وہ خوش تھی کہ اس کی بیٹی کو باپ اور ماں دونوں کی محبت مل رہی ہے، لیکن دوسری طرف دل کے کسی کونے میں ایک خالی پن تھا۔ وہ کونا جو ہر دن کے ساتھ ارمیزہ کی محبت سے بھر رہا تھا، مگر نایاب نے اس محبت کو اپنے دل میں دفن کر رکھا تھا۔زیغم کی نظر ابھی تک اس پر نہیں پڑی تھی۔وہ تو اپنی بیٹیوں اور اپنی سرکار کے ساتھ خوشیوں بھرے پلوں میں مصروف تھا۔
“اور میں کیسی لگ رہی ہوں؟”
عمل کے ساتھ کھیلتے ہوئے مہرو نے سرگوشی نما آواز میں پوچھا۔
زیغم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گہری نظروں سے اسے دیکھا اور تھوڑا قریب ہوتے ہوئے دبے لہجے میں بولا۔
“سرکار سب کے بیچ میں بتا نہیں سکتا… کمرے میں اکیلے میں کھل کر تعریف کروں گا۔ کیونکہ جتنی خوبصورت لگ رہی ہو، لفظوں سے اس کی تعریف ممکن ہی نہیں۔”
مہرو کے گال سرخی سے بھر گئے، نظریں جھکا لیں مگر دل میں ایک انوکھی سی طمانیت اتر آئی۔
زیغم نے لمحہ بھر کے لیے دیکھتے ہوئے ،نگاہوں ہی نگاہوں میں مہرو کو وہ سب کہہ دیا جو لفظوں سے ممکن نہ تھا۔
مہرو کے لبوں پر شرمائی ہوئی مسکراہٹ اسے اور بھی حسین بنا رہی تھی۔
نکاح کا وقت شروع ہوا تو ، ہال میں سناٹا سا چھا گیا، سب کی نظریں سٹیج پر مرکوز تھیں۔ قاری صاحب نے نکاح کے کلمات پڑھائے، اور جیسے ہی ،رومی، اور ،فیصل، کا نکاح مکمل ہوا تو ایک دم سب کے لبوں پر دعا جاری ہو گئی۔ ہاتھ اٹھے ہوئے تھے، دلوں میں خوشی اور دعاؤں کی روشنی اتر رہی تھی۔مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا۔
دعا کے بعد ماحول میں پھر سے زندگی لوٹ آئی۔ چھوٹے چھوٹے پیکٹوں میں بند چھوارے، پان مصالحہ اور دیگر میٹھی چیزیں تقسیم ہونے لگیں۔ بچے خوشی خوشی پیکٹ لیتے نظر آ رہے تھے اور بزرگ محبت بھرے انداز میں ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔
یہ لمحہ سادہ بھی تھا اور بابرکت بھی، ہر دل دعا گو ہو تھا کہ یہ رشتہ ہمیشہ خوشیوں سے جڑا رہے۔
دعا کے بعد محفل ایک بار پھر گہما گہمی سے بھر گئی۔ چھوارے اور میٹھے بانٹے جا چکے تھے، بزرگ اور رشتہ دار خوشی خوشی مصافحے کر رہے تھے۔ دلہا دلہن سٹیج پر خاموشی سے بیٹھے ایک دوسرے کے ہمراہ اس منظر کا حصہ تھے۔
کچھ ہی دیر بعد کھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ خوشبو سے ہال مہکنے لگا اور مہمانوں کی نظریں دسترخوان کی طرف اٹھنے لگیں۔ لوگ آہستہ آہستہ میزوں کی جانب بڑھنے لگے اور یوں محفل ایک نئے رنگ میں ڈھل گئی۔فائنلی رومی اور فیصل ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کے بندھن میں بن چکے تھے۔
شادی کی تمام رسمیں مکمل ہو چکی تھیں۔ دلہنیا اپنے دولہا کے ساتھ پھولوں سے سجی گاڑی میں بیٹھی تو ہر طرف دعاؤں اور نیک تمناؤں کی گونج سنائی دی۔ سلمہ کے دل میں چاہے اس شادی کو لے کر خوشی کم تھی مگر بیٹی کے رخصت ہونے کا دکھ اور محبت غالب آ گئی۔
بیٹی کے لیے دل کی نرمی آنکھوں کے راستے بہہ نکلی۔ قریبی خواتین اسے دلاسہ دیتی، اور اس فرض کی تکمیل پر مبارکباد دیتی رہیں۔
مگر دوسری جانب زیغم کے دل میں طوفان اٹھ رہا تھا۔ وہ خاموش تھا لیکن اس کی آنکھوں اور چہرے پر لکھا غصہ سب محسوس کر سکتے تھے۔ شادی کے موقع پر اس نے کچھ نہیں کہا کہ ماحول خراب نہ ہو، لیکن جیسے ہی رخصتی مکمل ہوئی، اس نے مہرو کو فوراً حکم دیا۔
“چلو، گھر چلتے ہیں۔”
زرام کے دل کی دھڑکنیں بے چین تھیں۔ اسے یہی خدشہ تھا کہ زیغم کو حقیقت معلوم ہوگی اور اس کا غصہ پہاڑ بن کر گرے گا۔ اور اب وہ وقت قریب آ چکا تھا۔زیغم اصل میں نایاب کو وہاں دیکھ چکا تھا۔
مہرو کے ساتھ ملیحہ کی بات پہلے ہو چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ نایاب کو دل سے معاف کر دیا گیا ہے، مگر یہ جگہ مناسب نہیں تھی کہ سب کے سامنے یہ موضوع چھیڑا جاتا۔ اس لیے وہ خاموش رہی اور زیغم کے ساتھ حویلی کی راہ لی۔
راستہ سوگوار خاموشی میں گزرا۔ ارمیزہ تھکن سے سو چکی تھی اور عمل ضدی ہو کر تھکن کی وجہ سے رو رہی تھی۔ مہرو خاموشی سے اپنی بیٹی کو بہلاتی رہی۔ ماحول پہلے ہی بوجھل تھا اور عمل کے رونے سے مزید بوجھل ہونے لگا۔۔
حویلی کے دروازے پر گاڑی رکی۔ زیغم جلدی سے اترا، ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اندر کی طرف بڑھ گیا۔ یہ اس کی فطرت کے خلاف تھا، کیونکہ وہ کبھی مہرو کو گاڑی میں یوں تنہا نہ چھوڑتا، مگر آج غصہ اس کے ضبط سے بڑا ثابت ہوا تھا۔
مہرو دروازے کے پاس گاڑی کے پاس کھڑی رہ گئی۔ ملازمائیں بچوں کو سنبھالتے اندر لے گئیں۔ وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اب یہ طوفان کیسے تھمے گا، کہ گیٹ دوبارہ کھلا۔ زرام اور مائد کی گاڑی اندر داخل ہوئی۔
جلد ہی دانیا، مائد، زیغم، ملیحہ اور نایاب سب ایک جگہ موجود تھے۔ نایاب نظریں جھکائے مجرموں کی طرح کھڑی تھی۔ فضا بوجھل تھی۔ دلوں پر شکوے، آنکھوں میں سوال اور ہونٹوں پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
آج ایک بار پھر نایاب اُسی حویلی میں کھڑی تھی…
جہاں کبھی اس نے بچپن کی شرارتیں کیں،
جہاں خواب دیکھے اور تمناؤں کے پھول کھلائے،
مگر وہیں… انہی دیواروں کے بیچ اُس کے گناہوں کی پرچھائیاں بھی بسی تھیں۔
یہ حویلی اب اس کے لیے سکون کی جگہ نہیں رہی تھی۔
یہیں اس نے غرور کے بیج بوئے تھے،
یہیں رشتوں کو توڑنے کی سازشیں کی تھیں،
یہیں محبتوں کو رُسوا کیا تھا۔
اسی لیے آج جب وہ پلٹ کر لوٹی تھی
تو در و دیوار بھی جیسے اُس پر سوالیہ نگاہیں ڈال رہے تھے۔
ہر کمرہ، ہر صحن، ہر دروازہ…
اسے اُس کے گناہوں کی یاد دلا رہا تھا۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی،
دل پر ندامت کا بوجھ تھا،
اور نگاہوں میں بس ایک ہی سوال…
کیا مجھے معاف کرے گا ۔؟
زیغم کو ابھی تک یہ بھی نہیں پتا تھا کہ دانیا نایاب کو معاف کر چکی ہے۔
یہ فیصلہ دانیا نے خاموشی سے کیا تھا، بیگم کو اس بارے میں کو کچھ نہیں بتایا۔
لیکن اس کے دل میں ڈر تھا…
کہ اگر بھائی کو یہ بات پتہ چل گئی تو کیا ہوگا؟
وہ پہلے ہی غصے میں ہیں، اور یہ خبر سن کر نہ جانے کیسے ردِعمل دیں گے۔
دانیا بس خاموش کھڑی تھی، نظریں نایاب پر جاتی تھیں،
جو خود مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔
“بھابھی، اب آپ ہی کا سہارا ہے… بھائی کو سنبھالنا آسان نہیں ہوگا۔”
زرام نے مہرو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، جو خود بھی ڈری ہوئی تھی۔
“اللہ تعالیٰ کرم کرے گا، سب ٹھیک ہو جائے گا… ڈر تو مجھے بھی لگ رہا ہے، وہ بہت غصے میں ہے۔”
مہرو کی آواز کمزور تھی۔
“اب قدم آگے بڑھاؤ… جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔”
مائد نے سب کو حوصلہ دیا، تو سب دل کو مضبوط کرتے ہوئے حویلی کے اندر جانے لگے۔
نایاب کے دل میں دعائیں مچل رہی تھیں کہ زیغم اسے معاف کر دے۔
کیونکہ یہ اس کا آخری ناراض رشتہ تھا۔
مہرو تو پہلے ہی کہہ چکی تھی کہ اگر زیغم معاف کر دے تو وہ بھی کر دے گی۔
سب کو اندازہ تھا کہ جب زیغم کو پتہ چلے گا تو وہ شدید غصے میں بھڑک اٹھے گا۔
سب دل ہی دل میں اس لمحے کے لیے تیار بھی تھے…
مگر جب وہ وقت آ پہنچا تو جیسے سب کے قدموں تلے سے زمین کھسک گئی۔
✦✦✦ ✦✦✦
زیغم سلطان طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوا۔ دروازہ اس کے ہاتھ کی دھکیل سے دیوار سے جا ٹکرایا۔ اس کی آنکھوں میں شعلے تھے، سانس پھولی ہوئی، رگیں ابھر آئی تھیں۔ ایک لمحہ بھی سوچے بغیر اُس نے سامنے رکھے نفیس گلدان کو پاؤں کی ایسی ٹھوکر ماری کہ وہ ہزاروں کرچیوں میں بکھر گیا۔
کرچیوں کی چھناچھن کمرے میں گونجی، جیسے اس کے دل کی چکناچور حالت کا شور ہو۔ ہر کرچی اُس کے اندر کے زخم، اُس کے ٹوٹے بھروسے اور دبی ہوئی محبت کی گواہی دے رہی تھی۔
وہ سلطان تھا، مگر آج اپنی ہی انا کا قیدی لگ رہا تھا۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے، مٹھیوں کو بھینچے، وہ گہری سانس لیتا رہا۔
باہر پورا خاندان سہمے کھڑا تھا، اندر ہر کرچی ایک کہانی سنا رہی تھی۔ یہ اختتام نہیں تھا… یہ ایک نئے امتحان کی شروعات تھی۔
“زیغم میری بات سنو…” مائد نے لرزتی ہمت کو سہارا دیتے ہوئے دروازہ کھٹکھٹایا۔
“اس طرح غصہ کر کے، خود کو نقصان دے کر کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ آؤ، ہم آرام سے بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں… دروازہ کھولو زیغم۔”
اس کی آواز میں نرمی تھی مگر اگلے ہی لمحے اندر سے زیغم کی دھاڑ سب کی رگوں میں سنسنی دوڑا گئی۔
“چلے جاؤ سب! ابھی کے ابھی یہاں سے نکل جاؤ! مجھے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی! تم سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہو۔ کیا تم لوگوں کو میں بیوقوف لگتا ہوں؟”
دروازے کے اس پار زیغم کا غصہ کسی آتش فشاں کی مانند پھٹ رہا تھا۔
“تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ایک بار پھر اُس کم ظرف عورت پر بھروسہ کر لوں گا؟ ہرگز نہیں! اگر ایسا سوچتے ہو تو تم سب احمق ہو… میں یہ کبھی نہیں کروں گا!”
کمرے کے اندر کرچیوں کا شور اب بھی گونج رہا تھا، اور باہر کھڑے سب لوگ سنّاٹے میں ڈوبے تھے۔ یہ لمحہ سب کے لیے فیصلہ کن تھا۔
ایک بار پھر زیغم نے غصے سے اپنا زخمی ہاتھ جھٹکا، خون کی چند بوندیں فرش پر ٹپک گئیں۔
کمرے کے اندر غصے، ٹوٹے شیشے اور زخمی سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔
باہر کھڑے سب کے دل دہل گئے۔
“زیغم بھائی! پلیز… خود کو نقصان نہ پہنچائیں!”
دانیہ کی سہمی ہوئی آواز کانپتے لبوں سے نکلی۔
مہرو کا دل تو جیسے بند ہونے کو تھا۔ آنکھوں میں آنسو اور دل میں خوف تھا۔
“یا اللہ… یہ کیا ہو رہا ہے…” وہ زیرِ لب بڑبڑائی۔
زارم بے بسی کے عالم میں دروازے کو گھورتا کھڑا تھا، سمجھ نہیں آ رہا تھا بھائی کو کیسے سنبھالے۔
نایاب شرمندگی کے بوجھ تلے سر جھکائے زمین کو دیکھ رہی تھی۔ دل چیخ رہا تھا مگر زبان سے کوئی لفظ نہ نکل رہا تھا۔
مائد کی انگلیاں کانپتے ہوئے بار بار دروازہ بجا رہی تھیں،
“زیغم…! خدا کے لیے دروازہ کھولو… دیکھو یہ سب ڈر گئے ہیں، بات کر لو… غصہ تھوڑی کم ہو جائے گا۔”
اندر سے زیغم کی گرجدار آواز دوبارہ ابھری، زخمی اور زہر بھری۔
“میں نے کہا تھا نا… مجھ سے کوئی بات مت کرے! تم لوگوں کو میری پرواہ نہیں، سب کے سب اس عورت کے ساتھ ملے ہوئے ہو۔ تم سمجھتے ہو میں پھر سے دھوکہ کھا لوں گا؟ نہیں! زیغم سلطان دوبارہ کسی کے جال میں نہیں پھنسے گا۔”
کمرے میں ایک اور دھماکے کی آواز آئی، جیسے کرسی الٹ گئی ہو۔
باہر کھڑے سب کے وجود لرز اٹھے۔
“مہرو بھابھی… یہ وقت ڈرنے کا نہیں ہے۔ پلیز، آپ کے علاوہ یہ دروازہ کوئی نہیں کھلوا سکتا۔ زیغم اس وقت غصے اور تکلیف میں ہے، اور اگر آپ نے قدم نہ بڑھایا تو وہ خود کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ آپ جانتی ہیں، اس وقت اس کے دل پر اگر کسی کی بات اثر کر سکتی ہے… تو وہ صرف آپ ہیں۔”مائد سنجیدگی اور مضبوطی کے ساتھ بولا، آواز میں کوئی لرزش نہیں تھی، صرف اعتماد تھا
مہرو کے پاؤں جیسے زمین سے جڑ گئے۔ دل دھڑک رہا تھا، مگر مائد کے پُرعزم لہجے نے اسے ہمت دی۔
وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھی۔ دروازے کے قریب پہنچ کر کچھ لمحے چپ کھڑی رہی۔ پھر ہمت کر کے ہلکی سی تھاپ دی۔
“زیغم…” اس کی آواز رکی رکی مگر مضبوط تھی۔
“دروازہ کھولیں… مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔”
کمرے کے اندر خاموشی چھا گئی۔
مہرو نے آنکھیں بند کر کے، دل تھام کر اگلے الفاظ کہے۔
“اگر آپ کو کچھ ہو گیا… تو میرا کیا ہوگا؟ کبھی سوچا ہے آپ نے؟”
اندر کھڑے غصے سے بھرے زیغم سلطان کے دل پر مہرو کی آواز نے پیار کی ضرب لگائی تھی۔ اس کے زخمی ہاتھ سے خون کے قطرے ٹپ ٹپ فرش پر گر رہے تھے، مگر نہ اسے اپنے درد کا احساس تھا نہ ہی بہتے خون کا۔
مہرو کی صدا سنتے ہی وہ جھٹکے سے آگے بڑھا، دروازہ کھولا اور لمحہ ضائع کیے بغیر مہرو کا بازو اندر کھینچ کر دروازہ بند کر دیا۔ یہ سب کچھ اتنی اچانک ہوا کہ باہر کھڑے کسی کو بھی اندر آنے کا موقع نہ ملا۔
جس شدت سے اس نے مہرو کو کھینچا تھا، اگر اپنے سینے سے نہ لگاتا تو وہ سیدھی زمین پر جا گرتی۔ مہرو کا نازک دل زور سے دھڑکنے لگا، وہ سہمی ہوئی دونوں ہاتھوں سے زیغم سلطان کے کرتے کو پکڑے اس کے سینے سے سہمی ہوئی لگی تھی۔
“کیسے کہا تم نے کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تمہارا کیا ہوگا؟ اور تمہیں لگتا ہے کہ میں خود کو نقصان پہنچا لوں گا؟ اتنا کمزور سمجھا ہے تم نے مجھے؟”
زیغم نے مہرو کو اپنے بازوؤں میں شدت سے جکڑتے ہوئے سینے سے لگایا اور بھرپور غصے میں بولا۔ اس کے بازو کی سختی اتنی تھی کہ مہرو کو اپنی سانس رکی ہوئی محسوس ہونے لگی۔
“آپ خود کو زخمی کر رہے تھے… تو میرا یہی سوچنا بنتا تھا۔”
مہرو کی لرزتی آواز نکلی، مگر اسی لمحے اس کی نظر نیچے فرش پر جا ٹھہری جہاں خون کے قطرے بکھرے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر اس کا دل کانپ اٹھا۔ وہ گھبرا کر زیغم کی قید سے نکلنے کی کوشش کرتی ہوئی اس کے ہاتھوں کو تھامنے لگی۔
“یہ کیا…؟ آپ کے ہاتھ سے تو خون نکل رہا ہے!”
مہرو کی کپکپاتی آواز میں خوف واضح تھا۔ وہ زیغم کے زخم کو دیکھتے ہوئے بے اختیار روہانسی ہو گئی۔
باہر کھڑے سب نے مہرو کی بلند آواز سنی تو دروازہ کھٹکھٹانے لگے۔ مہرو تیزی سے دروازہ کھولنے کے لیے آگے بڑھی تاکہ زیغم کو فوری مدد مل سکے۔
مگر زیغم نے غصے سے بھری سرخ آنکھوں سے گھورتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
“ایک قدم بھی آگے مت بڑھانا! کوئی باہر سے اندر نہیں آئے گا… ورنہ میں تمہیں بھی باہر بھیج دوں گا!”
اس کے لہجے کی سختی اتنی بھیانک تھی کہ مہرو اپنی جگہ پر جم سی گئی، جیسے سانسیں ہی رک گئی ہوں۔
“زیغم…! یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟”
مہرو کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ اس کے قریب آکر لرزتی آواز میں بولی،اتنا تو سمجھ چکی تھی کہ زیغم اس وقت خود اپنے لیے نقصان کی بہت بڑی وجہ بن سکتا ہے۔اسے صرف محبت سے سمیٹا جا سکتا ہے۔
“آپ کے زخم سے خون بہہ رہا ہے… اور آپ دوسروں کو روک رہے ہیں؟ آپ کو اپنی جان کی پرواہ ہی نہیں؟”
زیغم نے اس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں درد اور غصے کی آگ ایک ساتھ دہک رہی تھی۔
“میری جان کی پرواہ؟ مہرو…! جن پر میں نے اپنی جان نچھاور کی… جنہیں میں نے سب کچھ سمجھا… انہی نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا! مجھے اب اپنی جان کی نہیں… صرف اس دھوکے کی پرواہ ہے۔”
مہرو نے اس کے ہاتھوں کو اپنے نازک ہاتھوں میں لیتے ہوئے بے بسی سے کہا۔
“آپ کا غصہ بجا ہے، لیکن خود کو اذیت دے کر آپ کون سا انصاف کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو… تو میرا کیا ہوگا۔ہماری بیٹیوں کا کیا ہوگا۔؟”
زیغم نے ایک لمحہ کے لیے گہری سانس لی، جیسے یہ جملہ اس کے دل کے سب سے نرم گوشے کو چھو گیا ہو۔ اس نے مہرو کے آنسوؤں کو دیکھا، پھر خون میں بھیگے اپنے ہاتھ کو۔
“مہرو…” اس کی آواز بھاری اور زخمی تھی، “تمہیں کھونا میرے بس میں نہیں… مگر اپنے غصے کو روکنا بھی میرے بس میں نہیں۔ تم نہیں سمجھ سکتیں یہ آگ کیا ہے۔”
“میں سب سمجھتی ہوں زیغم… اس آگ میں میں آپ کے ساتھ جلنے کو تیار ہوں، بس آپ خود کو مت جلائیے۔”
مہرو نے اس کے سینے پر سر رکھ کر آہستگی سے کہا۔
زیغم کی آنکھیں بھیگ گئیں، مگر وہ مردانہ انا کے بوجھ تلے آنسوؤں کو ضبط کرتا رہا۔ اس نے مہرو کو اور سختی سے اپنے قریب کیا، جیسے ڈر ہو کہ اگر ڈھیلا چھوڑ دیا تو یہ سہارا بھی اس کے ہاتھ سے چھن جائے گا۔
“میں اسے معاف نہیں کروں گا، مہرو!”
زیغم کی آواز پتھر کی طرح سخت تھی۔ “میں اب کسی کو بھی معاف نہیں کروں گا۔ سب نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ اگر تمہیں میرا ساتھ دینا ہے تو تمہیں ان سب کا ساتھ چھوڑنا ہوگا۔”
زیغم کی آواز بہت صاف سنائی دے رہی تھی دروازہ کھٹکنا بند ہو چکا تھا سب خاموش ہو گئے تھے۔
مہرو نے اس کی بات سنی، مگر جواب دینے کے بجائے خاموش ہو گئی۔ اب وہ پہلے جیسی معصوم اور نادان نہیں رہی تھی، وہ جان چکی تھی کہ بعض اوقات خاموشی ہی سب سے بڑا جواب ہوتی ہے۔ اس نے نرمی سے زیغم کا زخمی ہاتھ تھاما اور اسے سہارا دے کر بیڈ پر بٹھایا۔
زیغم سلطان کا وہ مردانہ، بھاری ہاتھ خون میں لت پت تھا۔ مہرو نے کانپتے دل کے ساتھ لیکن مضبوطی سے اس کے ہاتھ میں پہنی نفیس سی چاندی کی انگوٹھی اتاری۔ وہ انگوٹھی جو ہمیشہ زیغم کی انگلی میں رہتی تھی،۔
مہرو نے روئی کے ساتھ اس کے زخم کو صاف کیا، دوا لگائی اور احتیاط سے پٹی باندھ دی۔ اس سارے وقت زیغم کی نظریں مسلسل مہرو پر جمی رہیں۔ اس کے چہرے اور گردن پر خون کے چھینٹے تھے، جو زیغم کے ہی زخم سے نکلے تھے۔
مہرو نے جب بینڈج کا سامان سمیٹا تو زیغم کی گہری نظریں اسے دیکھ رہی تھیں۔ وہ پیار سے اس کے گال کو چھو کر نرمی سے بولی۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟”
زیغم کی آنکھوں میں کرب کے ساتھ محبت بھی تھی۔ “دیکھ رہا ہوں… میری کون سی نیکی کا صلہ ہو تم؟ میں نے ایسا کیا کیا ہے، جس کے بدلے میرے رب نے میرے نصیب میں مہرونساء لکھ دی۔”
مہرو کی آنکھیں بھیگ گئیں،
“اس سوال کا جواب تو مجھے بھی نہیں ملا ۔ میں بھی تو ہر روز اللہ سے پوچھتی ہوں کہ میں نے ایسی کون سی نیکی کی ہے جس کے بدلے مجھے زیغم سلطان جیسا شوہر ملا۔ میری تقدیر کی لکیریں تو کمزور اور دھندلی تھیں، پھر ایسا خوبصورت، مضبوط، محبت کرنے والا اور رشتوں پر اپنا سب کچھ وار دینے والا شخص میرا مقدر کیسے بن گیا۔ نرمی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
“میری بات کا تم نے جواب نہیں دیا!”
زیغم کی بھاری آواز میں پھر سے سختی اتر آئی۔ “میں نے کہا تھا اگر میرا ساتھ دینا ہے تو ان سب کا ساتھ چھوڑنا پڑے گا۔”
“آپ حکم کریں، اگر کہیں تو میں آپ کی مرضی کے بغیر سانس بھی نہیں لوں گی۔ مگر صرف اتنا بتا دیں… کیا آپ نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ مجھے بھی فیصلے کرنے کا حق ہے؟ کہ میں بھی اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکتی ہوں؟”
زیغم نے پل بھر کو خاموش ہو کر اسے دیکھا، پھر سرد لہجے میں کہا۔
“ہاں کہا تھا، اور میں آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں۔ مگر اس بات کا اس وقت کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں!”
“تعلق ہے زیغم… یہ بھی تو فیصلہ ہے۔ ایک طرف آپ کا فیصلہ ہے کہ میں سب کو چھوڑ دوں، اور دوسری طرف میرا فیصلہ ہے کہ میں کسی کو چھوڑنا نہیں چاہتی۔ میں چاہتی ہوں آپ… صرف ایک بار، میری خاطر، سب کو معاف کر دیں۔”مہرو نے نرمی سے مگر مضبوطی سے کہا۔
زیغم کی آنکھوں میں بے یقینی اور غصہ دونوں تھے۔ “نہیں… معاف نہیں کر سکتا۔ یہ میرے لیے آسان نہیں۔ میرا دل پھر سے چھلنی ہو جائے گا۔”
مہرو نے اس کا زخمی ہاتھ تھام لیا۔
“میں آپ کے دل کے زخموں کی مرہم بن جاؤں گی ۔ بس آخری بار… میری خاطر معاف کر دیں۔ اور مجھے یہ یقین دے دیں کہ مجھے بھی فیصلے کرنے کا حق ہے۔”
زیغم کی نظریں مہرو پر جمی تھیں۔ “مطلب… تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے؟”
“مجھے آپ پر یقین ہے… خود سے بھی زیادہ۔”
مہرو کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ “لیکن اس یقین کو… شاید میں باہر کھڑے لوگوں کو دکھانا چاہتی ہوں۔ بس میرا وہ بھرم، وہ مان رکھ لیجیے… جسے لے کر میں اس کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ آپ میری بات مان لیں گے۔”
“غلط کر رہی ہو، مہرو… ان سب کے لیے مجھے تکلیف دے رہی ہو۔”
زیغم نے بھاری آواز میں کہا۔
“پلیز مان جائیے… ایک بار مان جائیں۔ قسم کھاتی ہوں، آج کے بعد کبھی کچھ نہیں مانگوں گی۔ آپ جو کہیں گے وہی کروں گی۔ صرف ایک بار میرا مان رکھ لیجیے۔”مہرو نے اس کا زخمی ہاتھ تھام کر آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
زیغم نے گہری سانس بھری،
“کوئی ضرورت نہیں ہے قسم کھانے کی۔ زندگی کے جس موڑ پر بھی تم چاہو گی، میں تمہارا بھرم اور تمہارا یقین کبھی نہیں توڑوں گا۔ چاہے اس کے لیے مجھے اپنے دل کے ٹکڑے کیوں نہ کرنے پڑیں… میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔ تمہیں پا کر میری زندگی مکمل ہو گئی ہے۔ تمہارے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں… کچھ بھی۔”
“جاؤ… کھول دو دروازہ۔ بلا لو سب کو۔ سنا دو خوشخبری کہ زیغم سلطان نے سب کو معاف کر دیا۔ اور… اس کم ظرف عورت کو بھی، جس کی وجہ سے میرے قیمتی رشتے برباد ہوئے۔”
یہ کہتے ہی مہرو نے آنسو بھری مسکراہٹ کے ساتھ زیغم کے گلے میں بازو ڈال دیے۔ اس لمحے، جیسے اس کے دل کا سارا بوجھ ہلکا ہو گیا تھا۔
“میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں… بہت زیادہ۔ آپ میری دنیا ہیں۔ میں آج کے بعد کبھی آپ کو تکلیف نہیں دوں گی… بہت شکریہ۔”
یہ کہتے ہی مہرو بے اختیار اس کے گال پر لبوں سے اپنی محبت جتا گئی۔
زیغم کی آنکھیں لمحہ بھر کے لیے پھیل گئیں۔حیرت، غصے اور دل کی بے قابو دھڑکن سب ایک ساتھ اس پر طاری ہو گئے۔
ایسی جرات تو مہرو نے کبھی نہیں دکھائی تھی۔
وہ اپنی حرکت پر خود ہی شرمندہ ہو گئی، رخسار سرخ پڑ گئے، نظریں جھک گئیں۔
مگر زیغم سلطان کا دل… دھک دھک کی تیز آواز میں اس کے اپنے کانوں میں سنائی دے رہا تھا۔
مہرو نے شرماتے ہوئے سر اس کے سینے سے لگا دیا۔ لمحہ بھاری تھا، ہوا میں ایک عجیب سا سکوت۔زیغم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
پھر اچانک اس نے جھٹکے سے خود کو پیچھے کیا، پلکوں پر نمی لرز رہی تھی مگر ہمت اس کے وجود سے جھلک رہی تھی۔
“میں سب سب کو بتا کر آتی کہ ہوں ، کہ آپ نے معاف کر دیا ہے!”
یہ کہہ کر مہرو نے تیزی سے دروازے کی کنڈی کھولی۔
دروازہ جیسے ہی کھلا، باہر کھڑے سب لوگ ایک ساتھ اندر کی طرف لپکے۔
فضا میں حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت پھیل گئی۔
زیغم سلطان کے چہرے پر اب بھی غصے کی کرچیاں بکھری تھیں، مگر مہرو کے قدموں نے کمرے کی فضا بدل دی تھی۔
گہری سانس لیتے ہوئے زیغم سلطان نے خود کو تھاما۔
آنکھوں میں جلتی آگ کو وہ ضبط کی راکھ میں چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔
پورے وجود کے زخم اور ٹوٹے بھروسے چیخ رہے تھے، مگر دل نے آج ایک اور فیصلہ لیا۔
ایک فیصلہ جس کا ہر رخ صرف مہرو کی محبت سے بندھا تھا۔
اس نے دل ہی دل میں خود کو سمجھایا۔
“میں مہرو کی خاطر ایک بار پھر… اس عورت کو بھی معاف کر دوں گا۔
ان سب کو بھی، جنہوں نے میرے خلاف جا کر معافی دی۔
کیونکہ اب بات میری انا یا غصے کی نہیں…
بات ہے مہرو کے یقین کی، اس کے بھرم کی۔
اور زیغم سلطان کبھی اپنی مہرو کا بھرم نہیں توڑ سکتا۔”
“تھینک یو بھائی… میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں، آپ نے ایک بار پھر معافی دے کر اپنا ظرف بڑا ہونے کا ثبوت دیا ہے۔”
زرام جلدی سے آگے بڑھا اور زیغم کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
“ضرورت نہیں اس کی۔ جو وقت گزر گیا، اسے بھول جاؤ۔ ہاں… میں نے تم سب کو دل سے معاف کیا ہے، لیکن اب میں نہیں چاہتا کہ کوئی پرانے زخم کریدے یا ان سے پردہ اٹھائے۔ گزرے وقت کو یاد کرنے سے گریز کریں، اب کوئی یاد نہ کرے۔”زیغم نے سخت لہجے میں کہا۔
زرام نے اس کے حکم فوراً سر جھکایا۔
“ٹھیک ہے بھائی، جیسا آپ کا حکم۔”
زیغم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور اپنے وسیع دل کا ثبوت دیتے ہوئے اسے گلے لگا لیا۔
اسی لمحے دانیا بھی آگے بڑھی۔ آنسوؤں سے کانپتی ہوئی آواز گلے سے بڑی مشکل سے نکلی۔
“بھائی… مجھے معاف کر دیں۔”
وہ کچھ اور کہنا چاہتی تھی کہ زیغم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بات کاٹ دی۔
“بس کہہ دیا ہے نا… میں نے سب کو معاف کر دیا۔ اب دوبارہ یہ بات مت دہراؤ۔ اگر پرانی باتیں یاد دلاؤ گے تو زخم پھر ہرے ہو جائیں گے، اور میں دوبارہ اسی مقام پر جا کھڑا ہوں گا جہاں سے بڑی مشکل سے نکلا ہوں۔”
مائد نے سب کی طرف دیکھ کر سختی سے کہا۔
“جب وہ کہہ رہا ہے کہ بات ختم کر دو تو میرے خیال سے ختم کر دینی چاہیے۔ اگر پرانی باتوں کو بار بار چھیڑا جائے تو زخم کبھی نہیں بھرتے۔”
ماحول تھوڑا پرسکون ہوا، مگر سب کی نظریں پیچھے کھڑی نایاب پر جا رکی تھیں۔ وہی، جو اصل میں اس معافی کی سب سے بڑی حقدار بن کر آئی تھی۔ زیغم کی نگاہ جب اس پر پڑی تو دل کی کڑواہٹ پھر جاگی، مگر اسی لمحے اس نے خود کو روک لیا۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ مہرو کا بھرم رکھے گا۔ بہت مشکل تھا، مگر زیغم سلطان نے اپنے ضبط کو تھاما۔
نایاب آہستہ آہستہ آگے بڑھی، نظریں جھکائے، دونوں ہاتھ جوڑے کھڑی ہو گئی۔ کچھ نہ کہا۔
زیغم کی بھاری آواز گونجی۔
“معاف کر دیا ہے تمہیں۔ ہر وہ گناہ جو تم نے جان بوجھ کر کیا، ہر وہ سازش جو تم نے رچائی، سب معاف کر دیا ہے۔ مگر یاد رکھو… تمہارے اور خدا کے درمیان جو حساب باقی ہے، وہ صرف وہی لے گا۔ میں نہ تو تمہارے لیے معافی مانگوں گا، نہ سزا۔ فیصلہ خدا کی بارگاہ میں ہوگا۔”
نایاب کے ہونٹ کانپے مگر کوئی لفظ نہ نکلا۔
آنکھوں سے بہتا شکریہ ہی اس کا جواب تھا۔
پھر وہ مہرو کے سامنے آ کر ہاتھ جوڑنے لگی۔
مہرو گھبرا کر فوراً اس کے ہاتھ تھام لیتی ہے۔
“اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے بھی معاف کیا۔ مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں۔ بس آئندہ کی زندگی میں اللہ سے سچی توبہ کرنا، اور کسی کا دل نہ دکھانا۔ اللہ آپ کے لیے آسانیاں کرے۔”
“آمین!” سوائے زیغم کے سب نے ایک آواز کہا۔
نایاب بھاری قدموں سے کمرے سے نکلنے کو تھی کہ زیغم کی آواز پھر گونجی۔
“اگر ارمیزہ تمہارے ساتھ رہنا چاہتی، تو میں اسے تمہارے حوالے کر دیتا،مگر وہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔۔”
“میں کبھی نہیں چاہوں گی کہ وہ میرے ساتھ رہے۔”نایاب پلٹے بغیر بولی۔
“کیوں؟”زیغم نے سپاٹ لہجے میں سوال کیا۔
“کیونکہ جتنی اچھی پرورش اور تربیت تم دونوں کر سکتے ہو، میں کبھی نہیں کر سکتی۔ میں نہیں چاہتی کہ میری کالی پرچھائی اس معصوم پر پڑے۔ جب تک زندہ ہوں، کبھی نہیں کہوں گی کہ اسے میرے پاس چھوڑ دو۔ ہاں… کبھی کبھار ملنے کی اجازت دے دینا، اور اگر ممکن ہو تو اس کے دل میں تھوڑی سی میری محبت بھر دینا۔ میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہوگا۔”نایاب کی آواز کانپ رہی تھی مگر لہجہ سچائی سے بھرا ہوا تھا۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔ پیچھے گہری خاموشی چھا گئی۔
وقت کافی گزر چکا تھا، سب ایک ایک کر کے زیغم اور مہرو سے اجازت لے کر رخصت ہوئے۔
یوں نایاب کو معافی تو مل گئی، مہرو کا بھرم بھی قائم رہا،
مگر زیغم سلطان کے دل میں وہ نفرت، وہ کڑواہٹ… کہیں نہ کہیں باقی رہ گئی،
جو چاہ کر بھی مکمل ختم نہ ہو سکی۔
دروازہ بند ہوا تو کمرے میں سناٹا پھیل گیا۔
زیغم بھاری دل کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔ مہرو آہستگی سے آگے آئی، اس کے سامنے بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“زیغم… آپ نے سب کو معاف کر کے سب سے بڑی جیت حاصل کی ہے۔”
“جیت کہاں مہرو؟ میں تو ہار گیا ہوں اپنے دل سے، اپنے درد سے… مگر تمہارا بھرم رکھ لیا۔”
مہرو کی آنکھوں میں آنسو آ گئے،
“یہی تو اصل طاقت ہے۔ آپ نے اپنے درد کو اوروں پر وار نہیں بننے دیا۔ میرے لیے بس اتنا کافی ہے۔”
زیغم نے اسے دیکھا، پیشانی پر بوسہ دیا۔
“مجھے نہیں پتہ میں نے صحیح کیا یا غلط۔میں نے یہ سب تمہارے لیے کیا۔میری زندگی کا مرہم صرف تم ہو۔”
مہرو نے اس کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگا لیا۔
“ آپ کا ہر درد، میرا ہے۔ اب آپ اکیلے نہیں ہیں۔آج کے بعد میں آپ کو کبھی تنگ نہیں کروں گی۔۔”
زیغم کچھ کہے بنا مہرو کو اپنی پناہوں میں تھامے بیٹھا رہا۔
مہرو کے لیے سب ٹھیک ہو چکا تھا، سب اپنے اپنے حصے کی سکونت پا گئے تھے۔
مگر زیغم کا دل اب بھی کہیں تنہائی میں قید تھا۔
یوں سب کو سکون نصیب ہوا، سوائے اس دل کے جو چپ رہ کر سب کچھ سہہ گیا۔
✦✦✦ ✦✦✦
(چھ سال )
چھ سال گزر گئے تھے۔
گراؤنڈ میں سہ پہر کی دھوپ نرم سا رنگ بکھیر رہی تھی۔ ارمیزہ اور عمل ہنستے کھیلتے کرکٹ کھیل رہی تھیں، گیند کبھی دور جا لگتی تو مہرو خود دوڑ کر اسے اٹھاتی اور بچیوں کے ساتھ کھیل میں شامل ہو جاتی۔ ان کے قہقہے ہوا میں گھل کر منظر کو مزید خوشگوار بنا رہے تھے۔
کچھ فاصلے پر کرسی پر بیٹھا زیغم سلطان، ہاتھ میں اورنج جوس کا گلاس تھامے، لبوں سے لگائے مسکراتا ہوا سب دیکھ رہا تھا۔ مگر اس کی آنکھوں کے اندر ایک الگ جہان آباد تھا۔
اس نے دل ہی دل میں ایک بار پھر سے سوچنا شروع کیا۔
“بے شک آج میں نے رازِ وفا کا حق ادا کر دیا۔ مہرو… تمہیں یہ نہیں بتایا کہ تم توقیر کی بیٹی ہو۔ تم جس نفرت کے ساتھ اس کا ذکر کرتی ہو، میں تمہیں زبردستی محبت پر مجبور نہیں کر سکتا تھا۔ اگر تمہیں یہ بتا دیتا تو تم اپنی ذات سے ہی نفرت کرنے لگتیں۔ اور پھر مجھے یہ بھی بتانا پڑتا کہ تمہاری اصل ماں سمرا تھی، نہ کہ وہ ہستی جسے آج بھی تم اماں کہہ کر دعاؤں میں یاد کرتی ہو۔ پھر ماہ رخ کے ساتھ رشتہ بھی کھل جاتا اور تمہارے سارے بھرم ٹوٹ جاتے۔ تمہارے چہرے پر جو خوشی ہے، یہ ہمیشہ کے لیے مٹ جاتی۔ اس لیے یہ راز ہمیشہ میرے دل میں دفن رہے گا۔”
وہ گہری سانس لیتا ہے۔ دل پر بوجھ تھا مگر سکون بھی، کیونکہ محبت کرنے والے اکثر اپنے دل کو سمندر بنا لیتے ہیں۔راز اپنے اندر سمو کر شریکِ حیات کے سکون کے لیے کبھی زبان پر نہیں لاتے۔
مہرو کے لیے آج بھی اس کا اپنا رشتہ صرف ایک اماں تھی، اور اس کے زیغم سلطان اور پھر اس کی اپنی بچیاں۔یہی اس کی پوری دنیا تھی۔ اس کے چہرے کی ہنسی اور بچیوں کی معصوم آوازیں ہی زیغم کی زندگی کا حاصل تھیں۔
نایاب نے واقعی کبھی ان کی زندگی میں مداخلت نہیں کی تھی۔ وہ ملیحہ اور زرام کے بیٹے کو اپنی جان بنا رکھتی۔اپنے جینے کا مقصد صرف اپنے بھائی کے بیٹے کو بنا لیا تھا۔دو سال پہلے توقیر بھی اس دنیا سے چل بسا۔۔۔۔
اب نایاب پوری طرح سے بدل چکی تھی بس نماز کے بعد اپنے بھائی کے بیٹے کے ساتھ کھیلنا اس کا دھیان رکھنا اس کی زندگی کا مقصد بن چکا تھا۔
کبھی کبھار، وہ بھی مہینوں میں ایک بار، جب زیغم کے ساتھ مہرو اور بچیاں جاتی تھیں، تو نایاب مل لیتی، ورنہ حویلی کی دہلیز پر اب اس کا سایہ بھی نہ پڑتا۔
فیصل اور ملیحہ کی زندگی بھی روشن تھی۔ اللہ نے انہیں ایک پیاری سی بیٹی عطا کی تھی۔ فیصل کا تبادلہ کراچی ہو گیا تھا، رومی نے بھی ساتھ ہی اپنا تبادلہ وہاں کروا لیا۔سلمہ کا ویسے بھی رومی کے علاوہ کوئی نہیں تھا تو سلمہ بھی اپنی بیٹی کے ساتھ ہی چلی گئی۔ سب اپنی اپنی جگہ پرسکون تھے، سب اپنی اپنی زندگی کے رنگوں میں مصروف۔
زیغم کرسی پر بیٹھے ان سب برسوں کے مناظر کو ایک ایک کر کے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا تھا۔ ماضی کی کڑوی یادیں، وقت کی آزمائشیں، مہرو کی آنکھوں کا یقین… سب ایک فلم کی طرح چل رہا تھا۔
اچانک پیچھے سے مہرو آ کر اس کے گلے میں بازو ڈالتی ہے، رخسار کو اس کے رخسار کے ساتھ لگا کر نرم آواز میں پوچھا۔۔۔۔
“کیا سوچ رہے ہیں؟ کس خیال میں کھوئے ہوئے ہیں؟”
زیغم کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔
“سرکار… ہماری اتنی جرات کہاں کہ ہم آپ کے سوا کسی اور کے خیالوں میں کھو جائیں یا کسی اور کا تصور کر سکیں۔”
مہرو نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔ زیغم نے اس کا ہاتھ اپنے سامنے کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔وہ آنکھیں جو بہت سال گزرنے بعد بھی پہلی ملاقات کی طرح محبت سے لبریز اور شرمائی ہوئی تھیں۔
اس لمحے زمین و آسمان بھی گویا گواہ تھے کہ کچھ کہانیاں یہاں ختم نہیں ہوتیں، وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔محبت، صبر اور بھرم کے استعارے بن کر۔
وقت کی کتاب کے اوراق پلٹتے گئے، رنج و غم کی سیاہیاں خوشی کی روشنی میں گم ہو گئیں۔ زیغم سلطان اور مہرو کی کہانی اس سچائی کی مہر بن گئی کہ اصل طاقت خون میں نہیں، بھروسے میں ہے، اور اصل رشتہ وہ ہے جسے دل اپنی رضا سے قبول کر لے۔ چھ برس بعد جب ارمیزہ اور عمل کے قہقہے ہوا میں گھل رہے تھے اور زیغم کے ہونٹوں پر اطمینان کی مسکراہٹ تھی، اس کے ہاتھوں میں مہرو کا ہاتھ تھا دونوں کے لبوں پر مسکراہٹ تھی دل میں شکر گزاری تھی۔ زندگی نے جیسے خاموشی سے کہا۔
محبت کے راز کبھی زبان پر نہیں لائے جاتے، وہ دل میں دفن رہ کر بھی روح کو چین بخشتے ہیں۔
یوں یہ داستان تمام ہوئی، مگر اس کی خوشبو ہمیشہ اُن دلوں میں مہکتی رہے گی جو محبت کو رب کا سب سے حسین تحفہ مانتے ہیں۔
اللہ تعالی ہر دل میں محبت اور صبر کے بیج بو دے، اور ہر رشتے کو وفا اور سکون سے بھر دے۔
جہاں عشق حقیقی ہو، وہاں الفاظ کم اور دل کی باتیں زیادہ بولتی ہیں۔
(اختتام )
زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نیکی ہمیشہ باقی رہتی ہے اور برائی اور سازشیں آخرکار بے نقاب ہو جاتی ہیں۔ سچے دل سے کیا گیا عمل کبھی ضائع نہیں ہوتا، اور دل سے دی گئی معافی ہمیشہ اثر رکھتی ہے۔
برے لوگوں کی پرواہ نہ کرو۔ بس اللہ پر بھروسہ رکھو اور سچائی کا دامن ہمیشہ مضبوطی سے تھامے رکھو۔
ازحیات ارتضیٰ .S.A