Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:7

رازِ وفا
از قلم :حیات ارتضیٰ ✍️S.A
قسط نمبر 7
°°°°°°°°
“کپڑے دو چینج کرنے کے لیے، میرا دماغ مت خراب کرو!”
“توقیر” غصے سے بولا۔
“قدسیہ” جو صفائی کرتے کرتے پہلے ہی تھک چکی تھی، اس کی بات پر چڑ گئی۔

“کیا سائیں! ہر وقت آگ بگولا بنے گھومتے رہتے ہیں!”
“دیکھو میری حالت، اس “زیغم” نے تو مجھے ملازمہ بنا ہی دیا ہے، آپ بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے!”
“خود نکال لیں کپڑے، میں نہیں نکال کے دے سکتی!”
وہ غصے سے بڑبڑائی۔

“نہیں، نہیں! میں تو صبح سے جھولے میں بیٹھ کر جھول رہا ہوں!”
“توقیر” طنزیہ لہجے میں بولا۔
“مجھے تو تم آرام کرتا ہی دیکھ رہی ہو، نا۔ صبح سے ایک لمبی قطار گاڑیاں دھوتے دھوتے کمر تختہ بن گئی ہے، حالت دیکھو میری! گھر کے ملازموں سے بھی گیا گزرا لگ رہا ہوں، اور اب اس پر بھی صبر نہیں آیا، کہہ رہا ہے میرے ساتھ چلو اور پورے گاؤں میں اعلان کرو کہ میں اپنی خوشی سے اسے اپنی جگہ دے رہا ہوں!”
وہ جھنجھلا کر بولتے ہوئے کمر پر دونوں ہاتھ رکھے ہوا تھا۔ اس وقت سچ میں وہ گھر کا ملازم ہی لگ رہا تھا۔ اُجڑا ہوا چہرہ، گیلے کپڑے آستین اوپر کو فولڈ کی ہوئی تھیں۔ بہرحال جو بھی تھا گھر کے ملازمین کو بہت مزہ آرہا تھا اس سب کی حالت دیکھ کر کیونکہ یہ بھی تو سب کے ساتھ یہی سلوک کرتے تھے۔

“تو مطلب کیا اب وہ ہمیں روڈ پر بیٹھا کر سانس لے گا؟”
“قدسیہ” کی تو جیسے جان ہی نکل گئی تھی یہ سن کر کہ آج کے بعد اس کے شوہر کے پاس کوئی اختیارات باقی نہیں رہیں گے۔

“توقیر” نے تھکے ہوئے لہجے میں سر جھٹکا۔
“مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا، اگر ذرا سا انکار کرتا ہوں تو وہ “شہرام” کی زندگی ختم کر دے گا، اور میں اپنے جوان بیٹے کو کیسے کھو دوں؟”

“قدسیہ” نے طنزیہ انداز میں کہا،:
“کوئی تو طریقہ ہوگا! یا سالوں سے آپ ایسے ہی جھک مار رہے ہیں؟”
“آپ کی کوئی جان پہچان نہیں ہے؟”
“اتنی بڑی کرسی تھی آپ کے پاس!”
وہ اس وقت واقعی گھر کی خاص ملازمہ لگ رہی تھی، جسے اس کے مالک نے بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہو۔

“توقیر” نے گہری سانس لے کر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی۔
“جان پہچان ہے، مگر وہ جان پہچان کا استعمال کرنے دے تب نہ!”
“تم نے دیکھا نہیں کیسے اس کا وہ دوست “مائد” ہر وقت پسٹل ہاتھ پر گھماتا رہتا ہے اور تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہمارے فون ٹریک ہو رہے ہیں، میں کیسے رابطہ کروں؟”
“دروازے سے باہر جانے نہیں دیتا۔ گھر میں میرے جتنے وفادار ملازم تھے، سب کو نکال کر نجانے کہاں غائب کروا دیا ہے! کروں بھی تو کیا کروں؟”

“قدسیہ” نے امید بھری نظروں سے دیکھا۔
“آج آپ باہر جا رہے ہیں نا، باہر جا کر کوشش کیجیے گا کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے، ورنہ یہاں ساری زندگی غلامی کرنی پڑے گی۔ ہمیں تو گھر کی ملازمہ بنا کر رکھ دیا ہے!”
وہ رو دینے والی شکل بنائے ہوئے تھی۔

“توقیر” نے بے بسی سے قمیض کے بٹن کھولے۔
“قدسیہ”، تمہاری عقل کا گھاس چڑنے گئی ہے یا تم بہری ہو؟”
“تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آ رہی؟”
“میں کہہ رہا ہوں کہ وہ مجھے ایک منٹ کے لیے اکیلا نہیں چھوڑے گا!”
“اور وہ مجھے کس مقصد کے لیے لے جا رہا ہے، یہ تمہیں سمجھ میں کیوں نہیں آ رہا؟”
“اگر وہ مجھے لے جا رہا ہے تو اس نے سارا بندوبست بھی کیا ہوگا!”
“تمہیں کیا وہ بے وقوف نظر آتا ہے؟”
“وہ تو پدی بھر کا لڑکا تھا تب بھی میرے ہاتھ نہیں آیا تھا، تب بھی سینہ تان کر میرے سامنے کھڑا ہو جاتا تھا اور آج وہ کیا بن کر واپس لوٹا ہے، یہ سوچو!”
“مجھ سے کوئی امید مت رکھو۔ اس وقت میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لیے مجھے ہر وہ چیز، ہر وہ کام کرنا پڑے گا، جو وہ چاہتا ہے!”
“سوال و جواب چھوڑو اور بڑی مہربانی ہوگی، مجھے کپڑے دے دو، اس سے پہلے کہ وہ آ کر پسٹل کا منہ مجھ پر کھول دے!”
“توقیر” جلدی سے واش روم میں گھس گیا، چہرے پر پانی مار کر خود کو فریش کرنے کی کوشش کرنے لگا، جبکہ “قدسیہ” بڑبڑاتی ہوئی “زیغم” کو کوستی رہی۔ اس نے جھنجھلا کر “توقیر” کے کپڑے بیڈ پر ایسے پھینکے، جیسے کسی دشمن کی چیز ہو۔

“یہ کون سا طریقہ ہے کپڑے نکال کر رکھنے کا؟”
“توقیر” نے اپنے کپڑوں کو بیڈ پر اتنے ظالمانہ طریقے سے پھینکا دیکھا تو غصے سے کرسی پر بیٹھی “قدسیہ” کی طرف تیز نظروں سے دیکھا۔

“قدسیہ” نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا:
“تو کیا کروں؟ آپ کے کپڑوں کو چوموں؟”
“ویسے بھی، آپ کی حیثیت ایک گھر کے ملازم سے زیادہ رہی ہی کب ہے؟”
“مجھ سے یہ غلامی نہیں ہوتی یا تو پھر آپ کے بھتیجے کی غلامیاں کر لوں، یا پھر آپ کی!”

“توقیر” کا خون کھول اٹھا۔
“بڑی نافرمان عورت ہے!”
“کل تک ‘سائیں سائیں’ کہتے نہیں تھکتی تھی، آج ذرا سے حالات بدلے تو اپنی اوقات پر آ گئی! اور یہی ہے تیری اصل اوقات!”

“قدسیہ” نے تپ کر جواب دیا۔
“اور آپ کی اوقات کیا ہے ڈرائیور کی، گاڑیاں دھونے کی؟”
“منہ مت کھلوائیں میرا!”

“تو یہ سب تمہارا ہی تو کیا دھرا ہے!”
“اگر تم اور تمہاری بیٹی اتنے ظلم نہ کرتے تو وہ طوفان بن کر واپس نہ آتا!”
“اصل فساد کی جڑ تم، تمہاری بیٹی اور تمہارا بیٹا ہے!”
“توقیر” برس پڑا تھا۔

“قدسیہ” طنزیہ ہنسی۔
“واہ واہ! نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی!”
“اور جو سارے کارنامے آپ نے کیے ہیں؟ منہ کھولوں گی نا، تو سیدھا جیل میں جاؤ گے!”

“توقیر” کا پارہ مزید چڑھ گیا۔
“قدسیہ”، چپ کر جا! اس سے پہلے کہ میرا ہاتھ اٹھ جائے!”
اس نے ہوا میں ہاتھ لہرایا، جیسے کسی لمحے تھپڑ مار دے گا۔

“قدسیہ” نے آنکھیں تنگ کر کے جواب دیا:
“توقیر”، یہ غلطی مت کرنا! میں تمہاری بھتیجی کی طرح معصوم نہیں ہوں، جو مار کھا کر ڈر کر بیٹھ جاؤں گی!”
“جو سلوک کرو گے، وہی لوٹاؤں گی!”

“ٹپ… ٹپ… ٹپ…”
“قدسیہ” اور “توقیر” کی بک بک کے دوران اچانک کمرے میں تالیوں کی آواز گونجی۔ “زیغم”، جو کب کا دروازے پر کھڑا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا، تالی بجاتے ہوئے آگے بڑھا۔ دونوں نے بوکھلا کر اسے دیکھا، مگر اب دیر ہو چکی تھی۔

“زیغم” نے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“ابھی سے گھبرا گئے؟”
“ابھی سے ایک دوسرے کو چیرنے پھاڑنے پر تل گئے ہو؟”
“ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے!”
وہ آگے بڑھا، “توقیر” اور “قدسیہ” پر زہر بھری نظروں سے نظر ڈالی۔
“اور ہاں، سچ کہا! میری بہن معصوم تھی! اسی لیے تو تم لوگوں نے اس پر ظلم کی انتہا کر دی مگر مزہ تب ہے نا، جب اب میرے سامنے ٹک کر دکھاؤ!”
اس کی آنکھوں میں دہکتی چنگاریاں دیکھ کر “توقیر” اور “قدسیہ” کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ “زیغم” کی آواز گرج دار ہوئی:
“ایک بات یاد رکھنا، میں “دانیہ” کے ایک ایک آنسو کا بدلہ لیے بغیر تم لوگوں کو مرنے نہیں دوں گا!”
“تم لوگوں نے میرا گھر اجاڑ دیا، میری اماں سائیں، میرے ابا سائیں مجھ سے چھین لیے…!”
وہ حلق کے بل دھاڑا تو کمرے میں ایک پل کو سناٹا چھا گیا۔
نیچے سیڑھیوں کے قریب “نایاب” ڈسٹنگ کر رہی تھی، “زیغم” کی دھاڑ سن کر اس کے ہاتھوں میں پکڑا کپڑا سپیڈ پکڑ گیا۔ “سلمہ” پھوپھو جو پہلے ہی گھبرائی ہوئی تھی، جلدی جلدی ڈنڈا لے کر اس کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔

“یہ بھی صاف کرو، جلدی سے کرو، یہ بھی صاف کرو!”
ان کی جان نکلی جا رہی تھی کہ کہیں “زیغم” کا اگلا نشانہ وہ نہ بن جائیں۔
گھر کا ماحول عجیب سا ہو چکا تھا، ایک طرف ٹینشن، ایک طرف دہشت، اور ایک طرف غیر ارادی طور پر فنی صورتحال بن چکی تھی۔

“دو منٹ میں چینج کر کے باہر آؤ، مجھے انتظار کرنا بالکل پسند نہیں!”
“زیغم” کی گرجتی ہوئی آواز کمرے میں گونجی۔
“اور اگر جرگے میں بیٹھ کر کوئی ماسٹر مائنڈ پلان بنایا تو دماغ میں ایک بات بٹھا لو، تمہارے بیٹے کو اوپر پہنچانے میں مجھے زیادہ دیر نہیں لگے گی۔”
“قدسیہ” اور “توقیر” ساکت کھڑے تھے۔ کچھ دیر کے لیے وہ اپنی سانس کو بھی مدھم کیے ہوئے تھے کہ کہیں “زیغم” سانس کی آواز سن کر، بھڑک کر ان کی سانسیں بند نہ کردے مگر “زیغم” کا غصہ تھما نہیں تھا۔

“اور تم دونوں ماں بیٹی–––دھیان سے پورے گھر کا کام کرنا ورنہ گھر پر جو کیمرے تم لوگوں نے ملازموں کے لیے نصب کیے تھے ان کا صحیح استعمال ہوگا۔ ہر پل میری نظر تم لوگوں پر ہوگی اور ذرا سی اگر اونچ نیچ کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اور بطور سزا پتہ ہے کیا کروں گا؟”

اس نے انگلی اٹھا کر “توقیر” کی طرف اشارہ کیا۔
“تم، تمہاری بیوی اور تمہاری بیٹی کو ایسی کال کوٹھڑی میں پھینکواؤں گا کہ تم لوگوں کا سانس لینا مشکل ہو جائے گا!”
وہ دھاڑتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا اور غصے میں دروازے کو زور سے پاؤں مار کر باہر نکل گیا۔ دروازے کی دھمک نے “قدسیہ” کے چہرے کی ہوائیاں اڑا دیں۔

“یہ تو گلے کی ہڈی ہی بن گیا ہے!”
وہ دانت پیستے ہوئے منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔
“توقیر” نے ایک نظر “قدسیہ” پر ڈالی، پھر جلدی سے کپڑے اٹھائے اور تیزی سے چینج کرنے چلا گیا۔ وہ جانتا تھا کہ “زیغم” اس وقت کسی کو نہیں بخشے گا، اور وہ خود کو اس کے قہر کا نشانہ نہیں بنانا چاہتا تھا۔ کہتے ہیں جان ہے تو جہان ہے۔ اس وقت “توقیر” کو اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ اپنی جان کے بھی لالے پڑ چکے تھے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کل سب کو ڈرانے والے جلاد آج خود ڈرے اور سہمے ہوئے تھے۔
°°°°°°°°°
گاؤں کے بڑے چوراہے پر جرگہ لگا ہوا تھا۔ سرخ اینٹوں سے بنی بیٹھک، مٹی کی مخصوص خوشبو، اور سامنے قطار میں بیٹھے سندھ کے بڑے بزرگ، بااثر زمیندار، اور مقامی سرپنچ۔ سبھی کی نظریں آج “توقیر لغاری” پر تھیں، جو اس وقت اپنے ہی فیصلے کے بوجھ تلے دبا بیٹھا تھا۔ اس کی پیشانی پسینے سے ترتھی اور ہاتھوں میں ہلکی سی لرزش۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں دل چاہے کچھ بھی کہے، مگر الفاظ وہی نکلیں گے جو سامنے بیٹھا “زیغم” چاہے گا!
اور “زیغم…” وہ سکون سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا، چہرے پر ایک سختی، جو پورے جرگے پر حاوی ہو چکی تھی!

“تم خود کہو گے، سب کے سامنے!”
“زیغم” کا لہجہ دھیما مگر فیصلہ کن تھا۔
“توقیر” نے ایک نظر جرگے میں بیٹھے ان چہروں پر دوڑائی جو کبھی “سلطان” کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ پھر وہ چہرے، جو آج “زیغم” کے ساتھ تھے…”توقیر” کو اچھی طرح سے سمجھ میں آرہا تھا کہ یہاں پر بیٹھے ہوئے زیادہ تر لوگ “زیغم” کے ساتھ ہونے میں دیر نہیں لگائیں گے کیونکہ وہ لوگ آج بھی دل سے “سلطان” کو ہی جرگہ کا سرپنچ مانتے تھے یہ سب کیسے بدل گیا؟ یہی زمین، یہی کرسی، یہی طاقت جو کبھی اس کی تھی، آج اس کے ہاتھ سے نکل رہی تھی۔ وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا تھا۔ سب کچھ ریت کی طرح اس کے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا تھا۔ کل کا مالک آج کا نوکر تھا۔ کل لوگوں پر ظلم کرنے والا آج خود مجبور اور بے بس تھا مگر وہ جانتا تھا کہ “زیغم” کی بات نہ ماننے کا انجام اس کے بیٹے کی جان ہوگی۔ وہ جتنا سفاک بن کر لوٹا تھا اس کے بیٹے کی جان لینے میں دیر نہیں لگائے گا۔ اسے “شہرام” سے بہت امیدیں تھی مگر “شہرام” کو تو آتے ہی اس نے ڈھیر کر کے بیڈ پر لٹا دیا تھا۔ اس وقت وہ خود کو تنہا محسوس کر رہا تھا۔ جوان بیٹا جو ابھی بھی زخمی حالت میں حویلی کے ایک کمرے میں قید تھا اور “زیغم” کے ایک اشارے پر اس کی سانسوں کی ڈور ٹوٹ سکتی تھی یہ سب سوچتے ہوئے ہی “توقیر” بے بسی کی مورت بنا بیٹھا تھا۔ “توقیر” کا سانس بھاری ہو گیا، نظریں جھک گئیں، اور پھر بڑی مشکل سے اس نے وہ بولنا شروع کیا تھا جو “زیغم” نے اس سے کہا تھا۔

“میں، “توقیر لغاری”، اپنی رضا و خوشی سے آج سے گاؤں کے تمام معاملات اور سرپنچ کا اختیار “زیغم سلطان” کے حوالے کرتا ہوں۔ “سلطان” کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ سب لوگ بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ “زیغم” “سلطان لغاری” کا اکلوتا وارث ہے اور میں اپنی خوشی اور رضامندی سے سب کچھ اس کے حوالے کر رہا ہوں۔ آج کے بعد ہر فیصلہ لینے کا اسے پورا اختیار ہوگا اور اس میں میری دعائیں اور رضامندی شامل ہوگی۔”
جرگہ میں پوری طرح سے سناٹا چھایا تھا۔
“توقیر” کی آواز میں بڑی ہمت کے باوجود بھی لرزش تھی۔ آسان نہیں تھا سب کچھ “زیغم” کے ہاتھ میں دینا۔ “زیغم” نے ہاتھ کی پشت سے اپنی قمیض جھاڑی، آگے جھک کر گہری نظروں سے “توقیر” کو دیکھا لبوں پر فتح والی مسکراہٹ تھی۔

“میں بہت شکر گزار ہوں کہ “توقیر” سائیں نے سب کچھ رضامندی سے خوشی سے میرے حوالے کر دیا ان کی دعائیں ہیں میرے ساتھ انشاءاللہ میں آپ سب کی امیدوں پر پورا اتروں گا!”
“زیغم” کی بھاری آواز جرگہ میں گونج اٹھی تھی۔ جرگے میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ کوئی حیران، کوئی خاموش، کوئی نظریں چراتا ہوا، اور کچھ… پہلے سے ہی تیار!
مگر فیصلہ ہو چکا تھا۔ کچھ لوگ “زیغم سلطان” کے آنے سے خوش تھے اور کچھ لوگ ناخوش بھی تھے۔ ناخوش ہونے والے لوگ وہ تھے جو اچھی طرح سے جانتے تھے کہ “سلطان” کا بیٹا “سلطان” کے جیسا ہوگا۔ وہ یہاں پر کوئی گھپلا نہیں ہونے دے گا جبکہ خوش وہ لوگ تھے جو یہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ آج کے بعد گاؤں میں سکون اور امن قائم ہو جائے گا۔ جو “سلطان لغاری” کے زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ یہ صرف ایک اعلان نہیں تھا، یہ اقتدار کے نئے کھیل کا آغاز تھا! اور اس کھیل کی ترتیب “زیغم” کے ہاتھ میں تھی۔ جرگہ ختم ہو چکا تھا، مگر فیصلہ ابھی لوگوں کے دلوں میں سرسرانے لگا تھا۔ “زیغم” کی نظریں اب بھی “توقیر” پر جمی تھیں، جیسے اس کی ہار کو اپنی آنکھوں سے محفوظ کر رہا ہو۔ “توقیر” کی پیشانی پسینے میں بھیگی تھی، اس کے ہاتھ اب بھی لرز رہے تھے، مگر وہ جانتا تھا، اب پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں۔ وہ جو کل تک گاؤں کا سب سے بڑا سردار تھا، آج ایک اعلان کے بعد بے بس کھڑا تھا۔ “زیغم” نے آہستہ سے کرسی سے اٹھتے ہوئے اپنی قمیض کے کف سیدھے کیے، اور پھر ایک گہری نظر جرگے میں بیٹھے ہر شخص پر ڈالی۔

“اب یہ مت سوچنا کہ میں یہاں وقتی آیا ہوں… میں وہی ہوں جو “سلطان لغاری” کا خون ہے، اور جس زمین کو میرے باپ نے سنوارا تھا، اس پر اب کوئی اور راج نہیں کرے گا!”
اس کے لہجے میں ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے اسے اپنے ہر لفظ پر مکمل یقین ہو۔ “توقیر” کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو… اس نے ایک نظر “زیغم” پر ڈالی، جو اب جرگے کے بڑے دروازے سے باہر نکل رہا تھا، اور پھر آسمان پر بکھرتے سورج کے آخری سنہری رنگوں کو دیکھنے لگا۔ یہ شام اس کے اقتدار کے سورج کے ڈھلنے کی شام تھی، اور “زیغم” کی حکمرانی کی صبح کا آغاز!
وہاں جرگے میں بیٹھے کچھ لوگ “زیغم” کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے، ان کے چہروں پر جیسے اطمینان تھا۔ کچھ بوڑھے، جو کبھی “سلطان لغاری” کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، انہوں نے زیرِ لب “زیغم” کو دعائیں دیں۔

“اللہ تجھے تیرے باپ کی طرح گاؤں کے لیے رحمت بنائے!”

“سلطان” کی روح خوش ہوگی آج!”

“بیٹا، انصاف کرنا، جیسے تیرا باپ کرتا تھا!”
“زیغم” نے ایک گہری سانس لی، سر جھکایا، اور آگے بڑھ گیا۔
جرگے کے بڑے دروازے سے باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا، جیسے قدرت بھی اس کے نئے سفر میں اس کے ساتھ کھڑی ہو!
“زیغم” کا دل خوش تھا، وہ مطمئن تھا۔ “مائد خان” “توقیر” کو اپنے ساتھ لے کر باہر نکلا تھا۔ وہ اسے کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا کہ وہ یہاں رک کر کوئی نیا کارنامہ انجام دے۔ جرگے میں بیٹھے زیادہ تر لوگ “زیغم” کو پسند کرنے والے تھے، مگر “زیغم” اور “مائد” دونوں اس بات سے غافل نہیں تھے کہ انہی میں کچھ لوگ “توقیر” کے بھی حمایتی تھے۔ اسی لیے “مائد” نے بغیر کوئی موقع دیے “توقیر” کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا۔ “زیغم” فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا، “مائد” نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی، جبکہ “زیغم” کے باڈی گارڈز دوسری گاڑی میں ان کے پیچھے تھے۔ “توقیر لغاری” خاموشی سے کھڑکی کے پار دیکھ رہا تھا، جیسے کچھ کھو گیا ہو، جیسے برسوں کی محنت پل میں ختم ہوگئی ہو۔

“زیغم” نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر آہستہ سے بولا:
“کیا ہوا “توقیر” سائیں بہت تکلیف میں ہو؟”
“توقیر” نے کوئی جواب نہ دیا۔

“کسی کی امانت کسی کو واپس کرتے ہوئے اتنی تکلیف ہو رہی ہے تو سوچو، جن کا سب کچھ چھین کر تم سانپ بن کر بیٹھے تھے، ان پر کیا بیتی ہوگی؟”
“توقیر” کی انگلیاں سختی سے بند ہوئیں، مگر وہ خاموش رہا۔
“مائد” نے ایک نظر “زیغم” پر ڈالی، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، پھر گاڑی کی رفتار اور بڑھا دی۔ “توقیر” کی کہانی ختم ہو چکی تھی… اور “زیغم” کی کہانی ابھی شروع ہوئی تھی۔ دشمنوں کا برا وقت شروع ہو چکا تھا، اور “زیغم” اور “دانیہ” کے لیے اچھے وقت کا آغاز تھا۔
یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے، جو بویا جاتا ہے، وہی کاٹنا پڑتا ہے۔ آج جو لوگ دوسروں کا حق کھا کر طاقتور بنے بیٹھے تھے، وہی لوگ کمزور ہو کر “زیغم” کے سامنے بے بس تھے۔ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، اور آج وقت نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔ ظلم کرنے والے اگر سوچ لیں کہ کڑے امتحان سے انہیں بھی گزرنا پڑے گا، تو شاید وہ ظلم کرتے وقت ایک لمحے کو ٹھٹھک جائیں، مگر برائی کرنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے۔ جب اس کے بندے بے بسی سے رو کر اس کے سامنے گڑگڑاتے ہیں، تو وہ دعائیں رد نہیں ہوتیں، قبول ہوتی ہیں!
جیسے “دانیہ” کی دعائیں قبول ہوئی تھیں… وہ بھائی لوٹ آیا تھا جو یہاں سے عہد کرکے گیا تھا کہ وہ کبھی نہیں آئے گا… وہ بھائی جس نے کبھی نہ واپس آنے کی قسمیں کھا رکھی تھیں… مگر “دانیہ” کی رو کر آسمان پر جاتی ہوئی سسکیاں خدا نے سن لی تھیں۔ وقت نے پلٹا کھایا تھا… اور اب ہر چیز اپنی اصل جگہ پر لوٹ رہی تھی!
معصوم سی کانچ کی گڑیا پر بہت ظلم کیا گیا تھا… اس کی خوبصورتی، اس کی چمک، اس کا کھلکھلاتا حسن… سب چھین لیا گیا تھا۔ وہ جو روشنی کی کرن تھی، اسے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا تھا۔ ظالموں نے ایسی داستان لکھی تھی جسے جب بھی تاریخ کے پنوں میں یاد کیا جائے گا، جب بھی پڑھا جائے گا… لوگ روئیں گے ضرور۔ وہ اپنی ذات تک کو بھول چکی تھی، اپنے ہونے کا احساس کھو چکی تھی مگر مکافاتِ عمل تو ہوتا ہی ہے، وقت نے پلٹا کھایا، ظالموں کی رات ختم ہونے کو تھی، اور وہ جو صدیوں کے اندھیروں میں دفن کر دی گئی تھی، اب روشنی کی طرف لوٹ رہی تھی…
سچ کہتے ہیں، بھائی باپ کا دوسرا روپ ہوتے ہیں۔
وہ صرف رشتہ نہیں، ایک مضبوط حصار ہوتے ہیں۔
جن بہنوں کے سر پر بھائیوں کا سایہ ہو، وہ کبھی نہیں بکھرتیں۔
بھائی محرم بھی ہوتے ہیں اور محبت کا پیکر بھی۔
وہ خوشی میں پہلا ساتھی اور غم میں پہلی ڈھال ہوتے ہیں۔
دھوپ کتنی ہی تیز ہو، بھائی کا سایہ ٹھنڈک بن کر ساتھ رہتا ہے۔ خدا ہر بہن کے بھائی کو سلامت رکھے آمین!
°°°°°°°°°
کمرے میں ہلکی پیلی روشنی کے ساتھ مدھم نیلی روشنی بھی جل رہی تھی، جو چھت کے کناروں میں لگی تھی۔ دیوار پر ایک سادہ سا فریم آویزاں تھا، جس میں قدرتی مناظر کی پینٹنگ تھی۔ کمرے کی فضا میں ہلکی سی خوشبو تھی، شاید کسی پرفیوم یا گلاب کے پھولوں کی۔ “دانیہ” کے روم کو سونے سے کچھ دیر پہلے ہی فریش کروا دیا تھا۔ اس گھر میں آتے ہی “دانیہ” کا دل لگ گیا تھا کیونکہ مورے بہت پیار کرنے والی خاتون تھی اور “درخزائی” کی باتوں کو یاد کر کے تو “دانیہ” کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ اتنی دلچسپ باتیں کرتا تھا کہ “دانیہ” کو تھوڑی دیر میں اس نے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ آج تو سارا دن اس کا “درخزائی” کے ساتھ باتیں کرتے ہی گزرا تھا ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ روم میں آئی تھی۔ بیڈ کی ایک سائیڈ پر رکھا ٹیبل لیمپ روشن تھا، اور اس کے قریب ہی پانی کی بوتل اور کچھ دوائیوں کے پیکٹ پڑے تھے۔ سب دوائیاں “دانیہ” کے لیے تھی۔ “دانیہ” کا ابھی کھانے کو بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا مگر ہاتھوں میں اٹھتے ہوئے درد کی وجہ سے یہ دوائیاں کھانا اس کی مجبوری تھی۔ وہ ان دوائیوں کے بارے ہی میں سوچ رہی تھی کہ کھائے یا ابھی تھوڑی دیر رک جائے۔ “دانیہ” اپنے بیڈ پر بیٹھی تھی۔ بے اختیار اس کی نظریں روم میں گردش کر رہی تھی روم بہت خوبصورت تھا وہ سوچ رہی تھی کہ اپنے گھر کی مالک ہوتے ہوئے بھی اسے اس طرح کی سہولتیں میسر نہیں تھی جتنی سہولتیں اور سکون سے اس گھر میں دیا جا رہا تھا۔ وہ تکیے سے پشت لگائے ہوئے بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں لائٹ براؤن کلر کے کمبل کا کنارہ تھا، جو وہ لاشعوری طور پر وہ سوچتے ہوئے مروڑ رہی تھی۔ اچانک دروازہ ہلکی سی آواز کے ساتھ کھلا، اور “درخزائی” اندر آیا۔ اس کے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا، جو وہ بہت سنبھال کر تھامے ہوئے تھا۔

“خور جان”، آپ صبح روزہ رکھیں گی؟”
“درخزائی” نے دروازہ بند کرتے ہوئے آہستہ سے پوچھا۔
“دانیہ” نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور ہلکا سا مسکرا دی تھی۔ پتہ نہیں کیوں مگر اسے اس بچے کا آنا اچھا لگا تھا۔

“سوری آپ کو برا تو نہیں لگا، میں اس طرح اچانک آپ کے روم میں آ گیا؟”
“درخزائی” کو اپنے اچانک آنے پر خود ہی بیڈ فیل ہو رہا تھا۔

“دانیہ” مسکرا دی۔
“نہیں، بالکل نہیں۔ بڑی بہن کو اپنے بھائی کے آنے پر کیسے برا لگ سکتا ہے؟”
“آؤ، یہاں بیٹھو۔”
اس نے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔
“درخزائی” آہستہ سے صوفے پر بیٹھ گیا، مگر جوس کا گلاس بدستور اس کے ہاتھ میں تھا۔

“میں اس لیے پوچھ رہا تھا کیونکہ آپ کو میڈیسن بھی کھانی ہے نا، طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اگر آپ روزہ رکھیں گی اور میڈیسن نہیں لیں گی، تو آپ ٹھیک کیسے ہوں گی؟”
“مورے کہتی ہیں اگر طبیعت خراب ہو تو بعد میں روزہ رکھ سکتے ہیں، تو آپ ایک کام کریں، آپ بعد میں روزے رکھ لیجئے گا، ابھی مت رکھیں آپ کی صحت خراب ہو جائے گی۔”
“دانیہ” نے اس کی فکر مندی پر نرمی سے سر ہلایا۔ “دانیہ” کو اس کا فکر کرنا بہت پیارا لگ رہا تھا۔

“نہیں، مجھے روزہ رکھنا ہے، یہ مجھ پر فرض ہے۔ پہلے ہی ایک روزہ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے کم ہو گیا، کل روزہ ہونا تھا، نہیں ہوا اور آج ہوا ہے، تو اب چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”

“کم تھوڑی ہوا ہے وہ تو چاند نظر نہیں آیا۔ چاند نظر آتا تو روزہ رکھتے نا!”

“ہاں پتہ ہے کہ چاند نظر نہیں آیا مگر مجھے بچپن سے ہی جب کہا جاتا تھا نا کہ اس دن انشاءاللہ روزہ ہوگا اور اس دن نہیں ہوتا تھا تو مجھے ایسا لگتا تھا جیسے ایک روزہ کم ہو گیا ہے!”

” ہا۔۔ہا۔۔اچھا یہ تو بڑی عجیب بات ہے!”
“درخزائی” ہلکا سا قہقہہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
ہنستے ہوئے اچانک اسے یاد ایا کہ وہ تو جوس دینے کے لیے آیا تھا۔

“پلیز جلدی سے جوس پی لیں آپ کو انرجی کی ضرورت ہے۔”
“درخزائی” جوس کا گلاس آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔

“کیوں مجھے انرجی کی کیوں ضرورت ہے؟”
“دانیہ” نے حیرانی سے پوچھا۔

“کیونکہ کچھ ہی دیر میں “زیغم” بھائی اور “مائد” بھائی ڈاکٹر کو ساتھ لے کر آ رہے ہیں، آپ کی ڈریسنگ ہو گی۔ تو آپ جلدی سے یہ جوس پی لیں، اس سے آپ کو طاقت ملے گی۔”
“اب آپ پوچھیں گی مجھے یہ کیسے پتہ––––تو مجھے ایسے پتہ ہے کیونکہ میں خود بہت انٹیلیجنٹ ہوں!”
وہ اپنے کندھے تھپتھپاتے ہوئے خود کو داد دے رہا تھا۔

“مگر پھر بھی آپ کو سچ بتا دیتا ہوں!”
“مجھے یہ مورے نے آپ کو دینے کو کہا ہے اور مورے نے کہا ہے کہ جب تک آپ پیئیں گی نہیں، میں واپس نہیں جا سکتا––––تو اس لیے آپ جلدی سے پی لیں!”
“دانیہ” نے “درخزائی” کے ہاتھ سے گلاس لیتے تھوڑا سا حیرانی سے اس کی جانب دیکھا۔ اس کی توجہ “درخزائی” کی بات پر تھی۔

“زیغم” بھائی آ رہے ہیں؟”
وہ خوش ہو گئی تھی “زیغم” کا نام سن کر۔
“آپ جانتے ہیں “زیغم” بھائی کو؟”

“درخزائی” نے مسکرا کر سر ہلایا۔
“ہاں، بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ “زیغم” بھائی، “مائد” بھائی کے دوست ہیں۔ وہ پہلے بھی آتے تھے، میری ان سے زیادہ بات نہیں ہوتی تھی۔ میں تب چھوٹا تھا مگر میں انہیں جانتا ہوں، بہت اچھی طرح سے––––کیونکہ اکثر “مائد” بھائی اور مورے “زیغم” بھائی کے بارے میں بات کرتے تھے اس لیے مجھے پتہ ہے!”
“درخزائی” لاپرواہی سے بولتا چلا جا رہا تھا اور “دانیہ” اس کی باتیں غور سے سن رہی تھی اور ساتھ میں خوش تھی کہ اس کا بھائی آ رہا ہے۔ کل سے نہیں آیا تھا تو “دانیہ” اداس تھی جبکہ پتہ نہیں کتنی بار وہ فون پر “دانیہ” سے بات کر چکا تھا۔

“پلیز اب آپ جلدی سے یہ جوس فنش کریں مجھے گلاس لے کر جانا ہے!”

“اچھا جی پی رہی ہوں۔۔۔”
“دانیہ” نے “درخزائی” کی جانب دیکھ کر ہلکا سا مسکرا کر گلاس لبوں سے لگایا، اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ باہر رات کا سکون چھانے لگا تھا۔ باہر سے آتی ہوئی تلاوت کی گونج پرسکون کر رہی تھی۔ مساجد میں تلاوت کی آواز گونج رہی تھی کیونکہ کل پہلا روزہ تھا، اس لیے چاند کے نظر آنے کی خوشی سب کو تھی۔ ہر طرف رمضان کے استقبال کی خوشبو پھیلنے لگی تھی۔
°°°°°°°°°°°°
“سلطان” کی چمچماتی گاڑی حویلی کے سامنے آ کر رکی تو دروازہ فوراً کھولا گیا۔ گاڑی آہستہ سے حویلی کے خوبصورت لابی ایریا کے پاس آ کر رکی، جہاں سنگ مرمر کی روشنی میں چمکتی ہوئی سیڑھیاں ایک شان و شوکت کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ “توقیر” پچھلی نشست پر اس انداز میں بیٹھا تھا جیسے اس کے اگلے پچھلے سب مر چکے ہوں، جبکہ “زیغم” اور “مائد” بےحد پرسکون تھے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ملازمین فوراً آگے بڑھے اور “توقیر” اور “مائد” کے دروازے کھول دیے، مگر “توقیر” کے دروازے کی جانب کسی نے توجہ نہیں دی۔ وہ وہیں بیٹھا رہ گیا، جیسے اس کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو۔ یہ لمحہ اس کے لیے شدید توہین آمیز تھا۔ کبھی یہی ملازمین اس کے ایک اشارے پر بھاگے پھرتے تھے، مگر آج کسی نے اس کی جانب نظر بھر کر بھی نہ دیکھا۔ یہ لمحہ “توقیر” کے لیے اذیت ناک تھا، مگر حقیقت یہی تھی کہ جو کچھ اس نے بویا تھا، آج وہی کاٹ رہا تھا۔ کسی سے چھینی ہوئی عزت اور دولت زیادہ دیر تک ساتھ نہیں دیتی، یہ بات آج اسے خود پر بیتتے دیکھ کر سمجھ آ رہی تھی۔ “زیغم” اور “مائد” آہستہ قدموں سے آگے بڑھے، گھر کے اندرونی حصے کی جانب، جبکہ “توقیر” وہیں کھڑا رہ گیا۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے نوکروں کو گھورا، مگر کسی پر کوئی اثر نہ ہوا۔

“سائیں، اندر آ جاؤ۔ اب تمہاری ان گھوریوں سے کوئی ڈرنے والا نہیں!”
“زیغم” کی آواز گرج دار تھی، جیسے کوئی فیصلہ سنا رہا ہو۔
“ڈر کا وقت گیا، ہواؤں نے رخ بدل لیا ہے۔ اب ہواؤں میں ایمانداری کی خوشبو پھیلے گی، لوگوں پر رحم کیے جانے کے ترانے گونجیں گے۔ غریبوں کی صدائیں سنی جائیں گی، ہر کسی کو اس کا حق ملے گا۔ ہر خاص و عام کو کھل کر جینے کا حق ہوگا، کیونکہ اب “توقیر لغاری” کی حکومت ختم ہو چکی ہے۔ اب حکومت “سلطان” کے بیٹے، “زیغم سلطان” کی ہے۔ اب سے ہواؤں میں خوشیاں بھی ہوں گی، سکون بھی ہوگا، مگر سب کے لیے……… سوائے تم اور تمہاری فیملی کے!”
“زیغم” نے گردن موڑ کر “توقیر” کی طرف دیکھا۔ گلے میں اجرک ڈالے، ہلکے سکن ٹون سوٹ میں وہ بےحد وجیہہ لگ رہا تھا۔ اس کی گہری نیلی آنکھوں میں چمک اور سختی تھی۔ فولڈ شدہ آستینوں سے جھلکتے مضبوط ہاتھ اور ان پر ہلکے بھورے بال، اس کی مردانہ وجاہت کی گواہی دے رہے تھے۔ گلے کے دو کھلے بٹنوں سے جھلکتا ہوا سینہ، جس پر قدرتی بالوں کی تہہ تھی، اس کی شخصیت کو مزید دبنگ بنا رہی تھی۔ اس کے ساتھ کھڑا “مائد خان دورانی” بھی کم خوبصورت نہ تھا۔ “مائد” قد کاٹھ میں “زیغم” کے برابر تھا۔ مختلف تھے تو رنگ اور نین نقش۔ پٹھان ہونے کے ناطے “مائد” کا گورا رنگ قدرتی تھا، جبکہ “زیغم” گندمی رنگت کا مالک تھا۔ “زیغم” کی گندمی رنگت اس کے کھڑے کھڑے نین نقش پر جان لیوا حد تک خوبصورت لگتی تھی۔ رنگت میں فرق ہونے سے دونوں کی خوبصورتی میں رتی برابر بھی فرق نہیں پڑتا تھا۔ دونوں میں کوئی ایک دوسرے سے کم نہیں تھا، دونوں میں بہادری، دلیری اور بے خوفی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ دونوں کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ زیادہ خوبصورت کون ہے، مگر “توقیر” کو تو دونوں ہی بدصورت لگ رہے تھے۔

“چلو، اندر چل کر دیکھو تمہاری گھر والی اور تمہاری بیٹی نے کام مکمل کیا ہے یا نہیں!”
“زیغم” نے “توقیر” کی جانب زہر آلود نظروں سے دیکھا۔ اس کا لہجہ سخت اور چبھتا ہوا تھا۔

“تھوڑا شرم کر لو، چچا ہوں تمہارا! تم، تم کر کے بلاتے ہو۔ رشتے کا نہیں تو عمر کا ہی لحاظ کر لو!”
“توقیر” کا غصے سے برا حال تھا۔ اس کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا تھا، اور یہ حقیقت اسے اندر ہی اندر جلا رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سب اس کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ تھا، مگر خود کو تسلی دینا آسان نہیں تھا۔”زیغم” ہلکا سا ہنسا، مگر اس کی آنکھوں میں نفرت تھی۔

“اچھا، عمر کا لحاظ کروں؟”
“کاش تم نے بھی عمر کا لحاظ کیا ہوتا!”
وہ قدم بڑھاتے ہوئے دھاڑا:
“یہ میرے ماں باپ کی دی ہوئی تربیت ہے جو اب تک میں خاموش ہوں، ورنہ تم جیسے لوگوں کو تو آتے ہی کاٹ ڈالنا چاہیے تھا!”
“شکر مناؤ، “توقیر–––––” کہ جو کچھ میں سوچ رہا ہوں وہ اب تک کیا نہیں!”
“زیغم” کی آواز میں ایسی گرج تھی کہ “توقیر” کے قدموں تلے سے زمین کھسک گئی۔

“عزت دوں؟”
“تمہیں ‘آپ’ کہہ کر بلاؤں؟”
“عزت لینے کے لیے عزت کروانی پڑتی ہے، اور عزت کا مستحق وہ ہوتا ہے جو خود عزت کے قابل ہو!”
“زیغم” کی آنکھوں میں دھواں سا اٹھ رہا تھا۔

“ظلم، قتل، دھوکہ…… یہ تمہاری فطرت ہے، اور تم مجھ سے امید رکھتے ہو کہ میں تمہاری عزت کروں؟”
“میری جوتی کرتی ہے تمہاری عزت!”
وہ غرایا۔

“آئندہ زبان کھولنے سے پہلے سوچنا، مجھ سے رشتہ جوڑنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ میں کسی رشتے کو نہیں مانتا!”
“جنہوں نے رشتے نبھانے کی کوشش کی تھی، وہ میرے بابا سائیں تھے، اور وہ رشتوں کے نام پر دھوکہ کھا کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور تم چاہتے ہو کہ میں بھی وہی غلطی دہرا دوں؟”
“نہ سائیں، نہ! ایسی غلطی “زیغم” نہیں کرے گا!”

“زیغم” نے سختی سے کہا:
“میرا کسی پر سے ایک بار یقین اٹھ جائے، تو “زیغم” چاہ کر بھی کسی پر یقین نہیں کر سکتا۔ یہ میری فطرت ہے… اور مجھے اپنی فطرت پر ناز ہے!”

“چلو یار، اپنا دماغ خراب مت کیا کرو۔ ان کو لاتوں کی زبان سمجھ آتی ہے، تم انہیں اسی زبان میں سمجھایا کرو، مگر اس طرح اپنا بی پی شوٹ مت کیا کرو۔”
“مائد” نے “زیغم” کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ساتھ ہی “توقیر” پر زہر بھری نگاہ ڈالی۔ “توقیر” کے اندر ایک طوفان اٹھا، اگر اختیار ہوتا، تو سب سے پہلے “مائد” کو گولی مارتا۔ “زیغم” سے زیادہ زہر تو اسے “مائد” لگ رہا تھا، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ تختہ پلٹنے میں “زیغم” کے ساتھ ساتھ “مائد” کا بھی برابر کا ہاتھ ہے مگر قسمت کا مارا، بے بسی کی تصویر بنا ان دونوں کے پیچھے پیچھے حویلی میں داخل ہو گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی منظر کچھ اور ہی تھا۔ “قدسیہ” اور “نایاب” صوفے پر براجمان تھیں، جبکہ “سلمہ” پاس ہی نڈھال بیٹھی تھی۔ دن بھر صفائی کرتے کرتے وہ تینوں ہلکان ہو چکی تھیں، مگر ابھی سانس بھی درست نہ ہونے پائی تھی کہ “زیغم” طوفان کی طرح اندر آیا۔

“واہ! واہ! واہ! ہ لوگ آرام فرما رہے ہیں جبکہ میں کہہ کر گیا تھا کہ ہر کونا چمکنا چاہیے!”
“زیغم” کی گرجدار آواز سن کر تینوں اچھل کر کھڑی ہو گئیں۔

“میں…… میں تو کہہ رہی تھی کہ جلدی سے بچا ہوا کام مکمل کر لو، مگر یہ لوگ سنتے ہی کہاں ہیں؟”
“سلمہ” فوراً اپنی جان بچانے کے لیے “نایاب” اور “قدسیہ” پر سارا ملبہ ڈال چکی تھی۔

“اللہ کا خوف کرو “سلمہ!” تمہیں مرنا نہیں ہے؟”
“پورا دن ہم ہلکان ہوتے رہے، ایک پل نہیں بیٹھے، اور اب بھی الزام ہم پر؟”
“قدسیہ” نے آگے بڑھ کر غصے سے کہا۔
“مائد” ایک طرف کھڑا مسکرا رہا تھا، جبکہ “توقیر” چہرے پر ہزیمت لیے سب دیکھ رہا تھا۔ “زیغم” کے تیور مزید بگڑ رہے تھے، اور “نایاب” نے جلدی سے سامنے رکھی جھاڑو اٹھا لی، جیسے ابھی اسی وقت کام پر لگنے والی ہو۔

“اچھا، کام میں ہلکان ہوتے رہے ہو؟”
“اوہ مائی گاڈ! ترس آرہا ہے مجھے تم لوگوں پر!”
“چلو، لیٹو، بیٹھو، میں تمہارے پاؤں دبا دیتا ہوں!”
تیر برسانے والے لہجے میں کہا گیا۔

“ٹانگیں دباؤ گے؟”
“تم تو ہماری ٹانگیں توڑنے کے لیے آئے ہو!”
“قدسیہ” نے زیرِ لب بڑبڑانے کی کوشش کی، مگر “زیغم” سن چکا تھا۔

“بالکل، ٹانگیں توڑنے کے لیے ہی آیا ہوں، جیسے تمہارے بیٹے کی توڑی ہے!”
“اگر دوبارہ بڑبڑائی، تو زبان کاٹتے ہوئے میرے ہاتھ ذرا بھی نہیں کپکپائیں گے!”
“زیغم سلطان” کے لہجے میں ایک عجیب ٹھنڈک تھی، جو جسم میں سرسراہٹ دوڑا دے۔ “نایاب” نے جھاڑو اٹھا کر جلدی سے نو دو گیارہ ہونے کی کوشش کی، مگر اچانک “زیغم” کی دھاڑتی ہوئی اونچی آواز میں رکنے کا حکم ملا تو قدم وہیں زمین میں دھنس گئے۔

“رکو!”
آواز اتنی سخت تھی کہ “نایاب” کی سانس اٹک گئی۔

“صبح پہلا روزہ ہے، تو تم ماں بیٹی سحری کے وقت سب ملازمین کے لیے مل کر سحری بناؤ گی!”
“اور اگر تم لوگوں کی وجہ سے کسی کا روزہ رہ گیا، کسی کی ٹائم پر سحری نہیں ہوئی، تو تمہاری ایسی حالت کروں گا کہ آئینے میں اپنی ہی شکلیں دیکھ کر خوفزدہ ہو جاؤ گی!”
دھمکی بھرا لہجہ اتنا سخت تھا کہ ایک پل کو “قدسیہ” “توقیر” اور “نایاب” کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی۔

“ہم انسان ہیں، کوئی جن نہیں جو سب ملازمین کے لیے سحری بنا لیں!”
“ہم سے نہیں ہو پائے گا، پہلے ہی بتا رہے ہیں!”
ڈرے ڈرے انداز میں مگر ہمت جٹا کر کہہ دیا، اس سے پہلے کہ “نایاب” کچھ کہتی “قدسیہ” بیچ میں بول پڑی تھی۔

“تم لوگ انسان ہو یا نہیں، مگر میں جن ہوں! اور اگر میں نے اپنا جن والا روپ دکھایا، تو میرا نہیں خیال کہ تم لوگ مجھے ہضم کر پاؤ گے۔ اس سے پہلے کہ کسی اور زبان میں سمجھاؤں، چپ چاپ صبح اٹھ کر سب کی سحری کا انتظام کر دینا، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا! سب لوگ کان کھول کر سن لو!”
انگلی گھماتے ہوئے سختی سے تنبیہ دی، نظریں ایک ایک پر گاڑ دیں۔
“سلمہ” جو اب تک اطمینان سے بیٹھی تھی، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہ تو سمجھ رہی تھی کہ یہ حکم صرف “قدسیہ” اور “نایاب” کے لیے ہے، لیکن اب اسے احساس ہوا کہ وہ بھی اس لسٹ میں شامل ہے۔

“بیٹا…… میں تو رات کو نیند کی گولیاں کھا کر سوتی ہوں، مجھ سے نہیں اٹھا جائے گا۔”
نرم لہجے میں بیچارگی سے بولی، جیسے واقعی بہت مجبور ہو۔

“اگر تم سے نہ اٹھا گیا، تو پھر ذرا سوچ لینا کہ جو نیند کی ڈوز روز تھوڑی تھوڑی کر کے لیتی ہو، میں وہ ایک ہی بار کھانے میں ڈلوا کر دے دوں گا، تاکہ ہڈ حراموں کی لسٹ میں سے ایک بندہ کم ہو سکے!”
خطرناک حد تک سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے اسے گھورا۔

“نہیں، نہیں! میں تو اٹھ جاؤں گی!”
“میں نیند کی گولی نہیں کھاؤں گی، میں تہجد پڑھوں گی، اور فوراً بعد ان سب کو بھی الرٹ کر دوں گی۔ بلکہ خود بھی ان کے ساتھ ہیلپ کروں گی!”
“سحری بنانا ایک اچھا، بلکہ نیک اور پاکیزہ عمل ہے!”
“سلمہ” نے ایک دم اپنی سوچ بدلی، عقیدت بھرے انداز میں کہا اور فوراً ہی ہتھیار ڈال دیے۔ “مائد خان” چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے کھڑا تھا، آنکھوں میں شرارت تھی مگر انداز سنجیدہ۔ سامنے کھڑے لوگوں کی بے بسی اس کے لیے کسی تفریح سے کم نہ تھی۔”توقیر” خاموشی سے کھڑا سب سن رہا تھا، اچھی طرح جانتا تھا کہ “زیغم” جو کہہ چکا ہے، اس کے خلاف جانا سراسر بے وقوفی ہوگی۔ وہ چپ چاپ کمرے کی طرف بڑھنے لگا تاکہ فضول بحث سے بچ سکے۔

“رک جاؤ!”
“زیغم” کی بھاری آواز گونجی، جس میں کسی بھی نرمی کی گنجائش نہیں تھی۔ “توقیر” کے قدم وہیں جم گئے۔ “زیغم” نے سرد نگاہوں سے سب پر ایک بھرپور نظر ڈالی، پھر سخت لہجے میں بولا:
“جب تک میری بات ختم نہ ہو، آج کے بعد کوئی جانے کی جرات نہ کرے۔”
“زیغم” سخت لہجے میں بولتے ہوئے “توقیر” کو رکنے پر مجبور کر گیا۔

“میں اپنے بیٹے سے ملنا چاہتا ہوں اسی کو ملنے جا رہا ہوں!”
“توقیر” نے ذرا نرم لہجہ رکھتے ہوئے کہا تھا۔

“تمہیں کس نے کہا کہ میری اجازت کے بغیر، میری قید میں مجرم کو تم مل سکتے ہو؟”
“تمہارا بیٹا اس وقت میری کسٹڈی میں ہے۔ اس لیے ملاقات کا وقت بھی میں ہی طے کروں گا!”

“میرا بیٹا تکلیف میں ہے مجھے اس کے پاس جانے دو “زیغم” اتنے ظالم مت بنو!”

“میرے بھی بہت سے عزیز رشتے تکلیف میں مبتلا تھے، تم لوگوں کی مہربانیوں کی وجہ سے!”
“زیغم” نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“رمضان کے مہینے میں میں نے سختی کرنے سے خود کو بہت روک رکھا ہے۔ اس طرح اکڑ دیکھا کر مجھے اُکساؤ مت!”
“جاؤ جا کر سحر و افطار کے لیے ساری خریداری کر کے لاؤ!”

“میں جاؤں؟”
“توقیر لغاری” بازار سے پھل فروٹ اور سبزیاں لینے کے لیے جائے گا؟”
“توقیر” نے بے یقینی سے دہرایا، جیسے “زیغم” نے کوئی انہونی بات کہہ دی ہو۔

“کیوں؟ جو لوگ بازار میں جاتے ہیں، ان کے کیا سینگ نکلے ہوتے ہیں یا وہ کسی اور دنیا سے تعلق رکھتے ہیں؟ وہ ایلینز ہوتے ہیں؟”
“زیغم” نے طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اسے گھورا۔
“توقیر” نے ایک نظر اردگرد موجود لوگوں پر ڈالی، جو پہلے ہی “زیغم” کے غصے سے بچنے کے چکر میں دم سادھے کھڑے تھے۔ اس نے دل ہی دل میں لمبی سانس لی اور سر جھکا کر سر ہلایا۔

“ٹھیک ہے، میں جا رہا ہوں۔”
اس نے مدھم آواز میں کہا اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔

“اور ہاں!”
“زیغم” کی آواز ایک بار پھر گونجی۔
“واپسی پر کوئی بہانہ مت بنانا کہ رش تھا، چیزیں مہنگی تھیں یا کچھ نہیں ملا۔ جو کہا ہے، وہ لے کر آنا، ورنہ کل سحری تمہاری عقل ٹھکانے لگانے کے بعد ہوگی!”
“توقیر” نے جلدی سے سر ہلایا اور تیز قدموں سے باہر نکل گیا، جبکہ باقی لوگ “زیغم” کی موجودگی میں ساکت کھڑے رہے، جیسے کسی بھی لمحے کوئی نیا حکم ان پر بجلی بن کر گر سکتا ہو۔

“رفیق!”
“زیغم” کی آواز گونجی، تو دروازہ فوراً کھلا، اور وہ مؤدب انداز میں اندر آ کھڑا ہوا۔

“جی سائیں، حکم کریں؟”

“زیغم” نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر دھیرے سے مسکرایا۔
“تمہارے “توقیر” سائیں آج بازار جا رہے ہیں، سحری اور افطاری کا سامان لینے۔ تم ان کے ساتھ جاؤ گے۔”

“رفیق” نے سر ہلایا۔
“جی بہتر، سائیں۔”

“زیغم” نے میز پر انگلیاں بجائیں، جیسے کسی سوچ کو لفظوں میں ڈھال رہا ہو۔
“ہر چیز وہ خود چھانٹ کر لیں گے، تم بس ساتھ رہنا، اور ہاں……… اپنے ساتھ اچھی سی سیکیورٹی لے جانا تاکہ ہمارے پیارے “توقیر” سائیں کو کسی طرح کا کوئی خطرہ نہ ہو۔”

“رفیق” نے ایک لمحے کو نظر اٹھائی، مگر پھر سر جھکا لیا۔
“جی، سائیں۔”

“زیغم” نے ہلکا سا سانس لیا، اور نظریں سیدھی اس پر گاڑھ دیں۔
“اور اگر کہیں، کسی بھی لمحے، “توقیر” سائیں تھوڑی سی بھی عقل لڑانے کی کوشش کریں، تو وہیں پر گولی مار دینا۔”

“رفیق” کا چہرہ سپاٹ رہا، جیسے یہ حکم کوئی انوکھی بات نہ ہو۔
“جیسا آپ کہیں، سائیں۔”

“زیغم” کی نظریں مزید گہری ہو گئیں۔
“اور گولی ایسے مارنی ہے کہ دیکھنے والوں کو لگے جیسے کوئی حادثہ ہوا ہو۔ کوئی شک نہ کرے۔”

“رفیق” نے سر جھکا دیا:
“حکم بجا لاؤں گا، سائیں۔”

“زیغم” نے ہاتھ ہلکا سا گھمایا، جیسے کہانی یہیں ختم ہو گئی ہو۔
“جا سکتے ہو۔”
“رفیق” نے سر جھکایا اور دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھلا تھا، اور گیٹ کے پاس ہی، “توقیر” خاموش کھڑا تھا، سانسیں بے ترتیب تھیں، مگر چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ وہ سب کچھ سن چکا تھا۔ “رفیق” نے جیسے ہی قدم باہر رکھا، “توقیر” نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں، پھر آہستہ سے مٹھی کھولی اور گیٹ پار کر گیا۔

“چلو، تم سب بھی اپنے کام پر لگ جاؤ!”
“مجھے کوئی بیٹھا یا فارغ نظر آیا، تو پھر یاد رکھنا، کام کے بعد صبح تم سب کو بغیر کھلائے پلائے روزہ رکھوا دوں گا!”
“زیغم” کی بات سنتے ہی سب وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئے۔
“مائد” ابھی بھی مسکراتے ہوئے کھڑا تھا، جیسے کچھ کہنے ہی والا ہو، مگر اسی لمحے “نایاب” پلٹ آئی۔

“میں آپ دونوں کے لیے کافی لے کر آ رہی ہوں!”
اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔

“زیغم” نے ایک تلخ نظر نایاب پر ڈالی۔
“نہیں، مجھے تمہارے ہاتھ کی بنی کوئی چیز نہیں کھانی۔ پتہ ہے کیوں؟”
“کیونکہ مجھے تم پر بھروسہ نہیں۔ کیا پتہ کب زہر ڈال کر دے دو!”
“نایاب” کا چہرہ لمحے بھر کو ساکت ہوا، مگر “زیغم” مزید کچھ کہے بغیر وہاں سے ہٹ گیا جبکہ “مائد” تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ جو بھی تھا، “نایاب” “زیغم” کی بیوی تھی، اور اس وقت وہاں رکنا اسے مناسب نہیں لگ رہا تھا۔ وہ جا کر گاڑی کے پاس کھڑا ہو گیا کیونکہ کچھ ہی دیر میں اسے “زیغم” کے ساتھ ڈاکٹر کو لے کر، اپنی حویلی جانا تھا “دانیہ” کے ہاتھوں کی ڈریسنگ کیلئے۔

“زیغم”، تم کیسے سوچ سکتے ہو کہ میں تمہیں زہر دے سکتی ہوں؟”
“نایاب” تڑپ کر بولی، آنکھوں میں بے یقینی تھی، لہجے میں ایک کرب تھا۔

“جیسے تم لوگوں نے میرے بابا سائیں کو غلط دوائیاں دیں، بالکل ویسے ہی سوچ سکتا ہوں!”
“جیسے تم لوگوں نے میری اماں سائیں کی جان لی، بالکل ویسے ہی سوچ سکتا ہوں “نایاب توقیر لغاری!”
“جیسے تم لوگوں نے میری بہن کو اذیت دی، بالکل ویسے ہی سوچ سکتا ہوں!”
“زیغم” حلق کے بل دھاڑتے ہوئے اس کے مقابل کھڑا تھا، اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔

“میرا سب میں جتنا حصہ ہے، اتنے کی سزا کے لیے میں تیار ہوں…… مگر اس طرح سے مجھے دھتکارو مت،”زیغم!”
“بہت انتظار کیا ہے میں نے تمہارا، بہت تڑپی ہوں تمہارے لیے…… جو غلطیاں ہوئیں، وہ سب تم سے دور ہونے کی وجہ سے ہوئیں!”
“نایاب” نے بے اختیار “زیغم” کے سینے پر ہاتھ رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

“زیغم” کو اس کے لمس سے بھی نفرت تھی۔ اس نے تیزی سے دو قدم پیچھے لیے اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے سرد لہجے میں بولا:
“میرے قریب آنے کی جرات مت کرنا!”
“میں کچھ بھی بھولا نہیں ہوں، سب یاد ہے مجھے!”
“میں نے تمہارے وجود کو، تمہارے ساتھ بنے اس کاغذی کے رشتے کو کبھی قبول نہیں کیا تھا، اور یہ بات میں تمہیں بتا کر گیا تھا!”
“تم نے جو گھنونا کھیل کھیلا تھا، میں وہ نہیں بھولا، سمجھی؟”

“نایاب” وہیں کھڑی رہ گئی، اس کے پیروں تلے جیسے زمین نکل گئی ہو، آنکھیں نم ہوئیں مگر وہ اپنے اندر کی تکلیف چھپانے کی کوشش میں ہلکی سی مسکرائی۔
“ہر غلطی کی معافی ہوتی ہے، سزا ہوتی ہے، تو دو نا سزا!”
“میں سزا لینے کے لیے تیار ہوں۔ جب تمہاری سزا ختم ہو جائے گی، اس کے بعد تو میں معافی کی مستحق ہوں نا؟”

“زیغم” طنزیہ ہنسا۔
“گریٹ! تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں سزا دوں گا، پھر سزا کے بعد معاف کر دوں گا، اور پھر تمہیں اپنا لوں گا؟”
“واہ! تمہیں لگتا ہے کہ یہاں کوئی انڈین سیریل چل رہا ہے، جس میں ساتھ رہتے رہتے لڑکے کو ظلم کرتے کرتے محبت ہو جاتی ہے اور پھر وہ اس پر مر مٹتا ہے؟”
“واہ، “نایاب توقیر”، اگر تم ایسا سوچ رہی ہو تو اپنی سوچ کا علاج کروا لو!”

“نایاب” کی آنکھیں نمی سے بھری تھیں مگر وہ زبردستی مسکرائی۔
“میرا نام “نایاب زیغم” ہے،سر نیم تم میرے ساتھ سے نہیں ہٹا سکتے!”

“زیغم” کا چہرہ سخت ہو گیا، وہ ایک قدم اور قریب آیا، نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے بولا:
“غلط! میں اپنا سر نیم بھی تمہارے نام کے ساتھ جوڑنا گوارا نہیں کرتا!”
“میرا سر نیم اسی کے ساتھ لگے گا جو اس لائق ہوگی، جو لاکھوں میں ایک ہوگی!”
“زیغم” کے دل کے معیار پر تم تو کبھی پوری نہیں اترتی تھیں، اگر اترتیں تو آج اس جگہ نہ کھڑی ہوتیں!”
“زیغم” کی آواز میں تلخی تھی۔
“اور میرا فیصلہ کل بھی صحیح تھا اور آج بھی صحیح ہے۔ میں تمہیں جو سمجھتا تھا، تم اس سے بھی چار گنا زیادہ گھٹیا ترین عورت ہو!”
“کبھی آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر شرم محسوس نہیں ہوئی؟”

“نایاب” کے لب تھرتھرائے، آنکھوں میں درد ابھر آیا، مگر “زیغم” کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔ وہ اتنی بات پر نہیں رکا۔ ابھی “نایاب” کے زخموں پر مرچی ڈالنا باقی تھا۔

“ارے، تمہیں کیا شرم محسوس ہوگی تم تو اپنی اولاد کی سگی نہیں ہو!”
“اس معصوم پانچ سالہ بچی کو تم نے بورڈنگ سکول میں پھینکوا دیا، کیسی ماں ہو تم؟”
“لعنت ہے تم جیسی ماں پر!”

“تو وہ صرف میری بیٹی نہیں، تمہارا بھی خون ہے!”
“تم نے کون سی ذمہ داریاں نبھائی ہیں جو مجھے کوس رہے ہو؟”
وہ تڑپ کر بولی۔
“زیغم” کی آنکھوں میں برف سی جم گئی۔ اسے اندازہ تھا کہ “نایاب” ایسا ہی کچھ بکے گی۔ وہ اس جواب کے لیے پوری طرح سے تیار تھا اور حقیقت سے وہ بھاگ نہیں سکتا تھا کہ “ارمیزہ” اس کا خون تھی۔

“میری ذمہ داریوں میں جو کچھ آتا ہے، میں وہ نبھانے کو تیار ہوں!”
“اور آج سے پہلے بھی وہ سب ذمہ داریاں میرے نہ نبھانے کے باوجود بھی نبھائی جا رہی ہیں۔ اس کے اخراجات، اس کے رہن سہن کی ہر چیز میرے ہی باپ کے پیسوں سے ادا ہو رہی ہے!”

“کیا پیسے دے دینے سے باپ ہونے کا حق ادا ہو جاتا ہے؟”
“زیغم” کی آواز میں کرب تھا، آنکھیں نمی سے لبریز ہو گئیں۔
“اگر ایسا ہو جاتا ہے، تو پھر تو میں نے بھی اسے پیدا کر کے اپنا حق ادا کر دیا ہے!”
“سارے حقوق مجھے ہی مت بتاؤ، “زیغم!” تمہارے بھی اس کے لیے فرض ہیں، پہلے وہ نبھاؤ!”
“زیغم” کی مٹھیاں سختی سے بھینچ گئیں، اس کی آنکھوں میں غصے کی لہر ابھری، مگر “نایاب” کے لفظوں میں جو سچائی تھی، وہ بھی اسے چبھنے لگی تھی۔

“واپس آگیا ہوں تو یہ فرض بھی پوری ایمانداری کے ساتھ نبھاؤں گا!”
“زیغم سلطان” اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے والا انسان نہیں ہے!”
“اپنی بیٹی اپنے خون کے ساتھ میں رشتہ ایمانداری سے نبھاؤں گا اور فرض بھی نبھاؤں گا، اس کا جو حق ہے اس سے وہ کبھی محروم نہیں رہے گی مگر جو سپنے تم سجا رہی ہو وہ کبھی پورے نہیں ہوں گے!”
“نہ تو تمہیں بیوی ہونے والا کبھی حق مل سکتا ہے اور نہ محبت کیونکہ یہ کسی اور خوش نصیب کے لیے میں نے سنبھال کر رکھی ہیں جو یہ سب ڈیزرو کرتی ہو گی، سمجھی تم اور مجھے میری بیٹی کے نام پر بلیک میل کرنا چھوڑ دو!”
وہ گرجتے ہوئے تیز قدموں سے گھر سے باہر نکل گیا تھا جبکہ “نایاب” اپنے دل میں لگی ہوئی آگ کے ساتھ خود کو جلتا ہوا محسوس کرتے ہوئے، “زیغم” کو جاتا دیکھ رہی تھی۔ اس کا یہ وار بھی تو خالی گیا تھا۔

“زیغم” کس مٹی کے بنے ہوئے ہو؟”
“کیوں تم میرے ہو کر بھی میرے نہیں ہو؟”
“خوش نصیب مائی فٹ––––میرے سوا تمہاری زندگی میں آنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے!”
“جو کوئی بھی آنے کی کوشش کرے گی میں اسے جان سے مار دوں گی!”
“میں تمہیں–––––
“نایاب” پاگلوں کی طرح اپنے آپ سے ہی باتیں کیے جا رہی تھی جبکہ “زیغم” جا چکا تھا۔
°°°°°°°°
“دانیہ” کے ہاتھوں میں شدید جلن ہو رہی تھی، وہ تکلیف سے سسک رہی تھی، اور مورے مسلسل اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی مگر “دانیہ” کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ سچ میں، اس کے ہاتھ میں حد سے زیادہ جلن تھی۔ “قدسیہ” نے ظالمانہ طریقے سے اس کے نازک ہاتھوں پر کھولتی چائے انڈیلی تھی، جس کی اذیت اب پٹیوں کے اندر بھی محسوس ہو رہی تھی۔ جلن اور خارش کا احساس اسے بے چین کر رہا تھا، اور ڈریسنگ کا وقت آ چکا تھا، جو ناگزیر تھا۔”درخزائی” بے بسی سے اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا، مگر وہ خود بھی ایسا محسوس کر رہا تھا کہ کسی بھی لمحے رو دے گا۔

“دانیہ”، بیٹا چپ کر جاؤ، بس “زیغم” اور “مائد” ابھی ڈاکٹر کو لے کر آتے ہی ہوں گے۔”
مورے نے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے نرمی سے کہا۔
اسی لمحے “زیغم” اور “مائد” ڈاکٹر کے ہمراہ اندر داخل ہوئے، اور مورے نے سکون کا سانس لیا۔

“زیغم” تیزی سے آگے بڑھا اور پیار سے “دانیہ” کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
“سوری، میرا بچہ، ہمیں آنے میں تھوڑی دیر ہو گئی۔”
“زیغم” نے ڈاکٹر کو اشارہ کیا تو ڈاکٹر فوراً آگے بڑھا، اور ڈریسنگ کا سامان نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا۔ “زیغم” کرسی پر بیٹھ چکا تھا، جبکہ “دانیہ” صوفے پر بیٹھی تھی، مگر جیسے ہی “زیغم” اس کے قریب بیٹھا، “مائد” کی پریشان نظریں اس پر جم گئیں۔ وہ بے بسی سے “دانیہ” کو سسک سسک کر روتے دیکھ رہا تھا۔ وہ اس وقت بہت تکلیف میں تھی۔ ڈاکٹر نے جونہی پٹی کھولنے کی کوشش کی، “دانیہ” کے لبوں سے بے اختیار درد بھری سسکیاں نکلنے لگیں۔

“چھوڑ دیں! پلیز، پلیز، چھوڑ دیں! مجھے بہت درد ہو رہا ہے!”
وہ تڑپ کر ہاتھ پیچھے کھینچنے لگی۔
“زیغم” نے فوراً اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سختی سے اسے اپنے ساتھ لگا کر دونوں ہاتھ تھام لیے۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت “دانیہ” پر کیا بیت رہی ہے، مگر ڈریسنگ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

“بھائی، پلیز، چھوڑ دیں! مجھے بہت پین ہو رہا ہے!”
“مت اتاریے پٹی، میری جان نکل رہی ہے!”
وہ تڑپ تڑپ کر بچوں کی طرح روتے ہوئے چلائی، اور یہ منظر “مائد خان دورانی” جیسے سخت دل رکھنے والے کے لیے بھی ناقابلِ برداشت تھا۔ “زیغم” کے لیے تو یہ سب برداشت کرنا سب سے زیادہ مشکل تھا۔ اس کی بہن تکلیف میں تھی اور وہ اس وقت اس کو سسکتا ہوا دیکھنے پر بھی کچھ کر نہیں پا رہا تھا۔ مورے “دانیہ” کو یوں بلک بلک کر روتے دیکھ کر خود بھی رو رہی تھی، “درخزائی” کے آنسو بھی بہہ رہے تھے۔ “مائد” خاموش تھا، مگر اس کے چہرے پر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بے بسی گہری ہو رہی تھی۔ “زیغم” اپنی بہن کے دشمنوں کو دل ہی دل میں کوستے ہوئے بڑی مشکل سے اسے تھامے بیٹھا تھا، جبکہ ڈاکٹر نے ڈریسنگ شروع کر دی تھی۔ جیسے جیسے پٹیاں اتر رہی تھیں، “دانیہ” کی چیخیں گونج رہی تھیں۔

“بھائی، میں مر جاؤں گی!”
“مجھے بہت درد ہو رہا ہے!”
“زیغم” بھائی، پلیز، آپ بھی ظالم ہو گئے ہیں، روکیں نا اس ڈاکٹر کو!”
“چھوڑ دیں پلیز۔۔۔۔۔”
وہ چیختی رہی، مگر “زیغم” ضبط کیے اس کے ہاتھ تھامے بیٹھا رہا۔ جیسے جیسے پٹی ہٹ رہی تھی، جلد کے ساتھ چپکی ہوئی تھی اس لیے تکلیف بہت زیادہ ہو رہی تھی۔ “دانیہ” تکلیف سے پاؤں زمین پر مارتے ہوئے چلّانے لگی۔ “زیغم” اپنی بہن کے نازک وجود کو تھامے بیٹھا تھا، مگر یہ ضبط کرنا اس کے لیے آسان نہیں تھا۔ “دانیہ” لاکھ جھٹپٹانے کے باوجود “زیغم” کے مضبوط ہاتھوں سے آزاد نہیں ہو پا رہی تھی، جبکہ “مائد” اپنے لب بھینچے اس کی تکلیف کو محسوس کرتے خاموش کھڑا تھا۔ ڈاکٹر نے زخموں کی صفائی کرنا شروع کی، تو “دانیہ” کی چیخیں مزید بلند ہو گئیں۔ کچھ ہی دیر میں جب ڈریسنگ مکمل ہو گئی، تو اس کی سسکیاں بدستور فضا میں گونج رہی تھیں۔ جیسے ہی ڈاکٹر نے انجیکشن بھرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، “دانیہ” نے روتے روتے نفی میں سر ہلایا، مگر “زیغم” نے زبردستی اسے پکڑ کر انجیکشن لگوا دیا۔ “دانیہ” مسلسل رو رہی تھی، جبکہ ڈاکٹر نے دوائیاں دیں اور “مائد” کو ضروری ہدایات دیتے ہوئے اسی کے ساتھ باہر نکل گیا۔

“آپ بہت ظالم ہیں، بھائی!”
“چھوڑ دیں مجھے!”
وہ غصے سے روتی ہوئی “زیغم” سے دور ہو کر بیٹھ گئی۔
“زیغم” خاموش تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ “دانیہ” اس وقت بہت تکلیف میں ہے۔

“دانیہ” بیٹا، ڈریسنگ کروانا ضروری تھی، ورنہ تمہیں آرام کیسے آتا؟”
“زیغم” نے بے بسی سے اپنی بہن کی طرف دیکھا، مگر “دانیہ” نے رخ پھیر لیا۔

“چلو ٹھیک ہے، ان سے ناراض رہو، مگر اپنی مورے سے تو بات کرو گی نا؟”
مورے نے نرمی سے کہتے ہوئے آگے بڑھ کر دانیا کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی، جیسے سارا درد آنسوؤں کے ساتھ بہا دینا چاہتی ہو۔

“سوری “دانیہ”، میری طرف دیکھو تو سہی……”
“زیغم” کی آواز میں بے بسی تھی۔ اسے اپنی بہن کی ناراضگی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔
“دانیہ” نے سر جھٹک دیا، آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر تھا۔

“چھوڑ دیں! میں چیخ رہی تھی، پھر بھی آپ نہیں سن رہے تھے!”
“آپ بھی سب جیسے ہیں، ظالم! کسی کی چیخوں سے آپ کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا نا؟”
“کیونکہ آپ لوگوں کے پاس دل نہیں ہے…… پتھر ہے، بس پتھر!”
اس کی آواز میں درد تھا، وہ تکلیف میں تھی، اور اب ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ چکے تھے۔

“وہ بھی تو یہی کرتے تھے…… میں بچی تھی، روتی تھی، مگر انہیں بھی احساس نہیں ہوتا تھا…… تو آپ کو بھی نہیں ہوتا! کیا فرق ہے آپ میں اور ان میں؟”
وہ ہذیانی انداز میں بول رہی تھی، شاید خود بھی نہیں جانتی تھی کہ کیا کہہ رہی ہے۔ یہ اس کے اندر کا زخم تھا، جو لفظوں کی صورت باہر آ رہا تھا۔ دروازے کے قریب کھڑا “مائد”، جو ڈاکٹر کو باہر چھوڑنے گیا تھا، واپس آتے ہی یہ سب سن چکا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی تکلیف ابھری، وہ “دانیہ” کے درد کو محسوس کر رہا تھا۔ روتی ہوئی “دانیہ” کے قریب ہو کر مورے نے تڑپ کر اس کا چہرہ تھام لیا، آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں میں محبت اور نرمی تھی۔

“نہیں بیٹا، “زیغم” تمہارا بھائی ہے، وہ تمہارے لیے ایسا کیسے سوچ سکتا ہے؟”
“میرا بچہ، اتنا بدگمان مت ہو……”
مورے نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگا لیا، جیسے اپنی ممتا کے حصار میں اس کے سارے زخم سمیٹ لینا چاہتی ہو۔

“کوئی بات نہیں، غصہ نکال لینے دیجیے……”
وہ بے بسی سے کہتے ہوئے سر جھکائے خاموش ہو گیا تھا، جیسے خود کو بھی قصوروار ٹھہرا رہا ہو۔

“اس کے زخموں کی کہیں نہ کہیں وجہ میں بھی تو ہوں!”
“کیسے میں اپنوں کی کھال میں چھپے دشمنوں کو پہچان نہیں سکا؟”
“کیوں میں نے اپنی بہن کو ان دشمنوں اور درندوں کے گھیرے میں اکیلا رہنے دیا؟”
اس کے لہجے میں خود پر ملامت اور گہری تکلیف تھی۔
ہال میں ایک دم خاموشی چھا گئی، جیسے پریشانی اور درد کی چادر تن گئی ہو۔
°°°°°°°°°°°°

رازِ وفایہ صرف ایک کہانی نہیں، ایک فکری سفر ہےجہاں جاگیردار کے ظلم پر سے پردہ اٹھتا ہےاور انصاف اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ سامنے آتا ہے۔اگر یہ تحریر آپ کو سوچنے پر مجبور کرےتو آگے کے ابواب اسی احساس کا تسلسل ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *