Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:9

رازِ وفا
از قلم :حیات ارتضیٰ ✍️S.A
قسط نمبر 9
°°°°°°°°°°
“یہاں لے کر آنے کا مقصد؟”
“یہاں کیوں لے کر آئے ہو مجھے؟”
“اگر تم نے کوئی بھی گھٹیا حرکت کرنے کی کوشش کی تو میں تمہاری جان لے لوں گی، سمجھے تم؟”
جیسے ہی گاڑی ایک خوبصورت اپارٹمنٹ کے سامنے رکی، “ملیحہ” کو عجیب سے خدشات نے گھیر لیا۔ وہ گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی “زرام” پر برس پڑی۔

“اوئے عقل کی اندھی! روزہ ہے میرا، اور میں تمہیں ایسا گھٹیا انسان لگتا ہوں جو کسی گندی نیت سے تمہیں یہاں لے کر آیا ہوں گا؟”
“صرف تم سے بات کرنا چاہتا ہوں، دیٹس اِٹ!”
“اور یہاں لانے کا مطلب یہ ہے کہ آرام سے بیٹھ کر بات کی جا سکے۔”
“زرام” نے فرنٹ سیٹ سے پیچھے مڑ کر غصے سے ملیحہ کو دیکھا، پھر زچ ہو کر مزید بولا:
“ویسے بھی، جتنا تم بک بک کرتی ہو، تمہارا کیا بھروسہ کہ کسی ہوٹل میں بیٹھ کر بات کرتے ہوئے تم کوئی نیا تماشا نہ کھڑا کر دو!”

“تماشہ تو میں یہاں بھی کری ایٹ کر کے دکھا سکتی ہوں!”
“ملیحہ” نے غصے سے “زرام” کو گھورتے ہوئے کہا، اس کے تیور خطرناک ہو رہے تھے۔

“مجھے اس اپارٹمنٹ میں نہیں جانا، سمجھے؟”
“مجھے تم پر کوئی بھروسہ نہیں! تم جیسے لڑکے جب کسی لڑکی کو زبردستی لا سکتے ہیں، تو وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں!”
اس کے لہجے میں شدید بے اعتمادی تھی۔
“ملیحہ” نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی، مگر “زرام” نے واپس سے گاڑی لاک کر دی تھی۔

“گاڑی واپس موڑو، اور مجھے وہیں چھوڑ کر آؤ جہاں سے لے کر آئے تھے!”
وہ دانت پیستے ہوئے بولی، اس کی آنکھوں میں چنگاریاں تھیں۔

“کیا ہو گیا ہے یار؟”
“اچھے لوگ ہیں، تم فضول میں اتنا شک کر رہی ہو!”
“فاریہ” نے “زرام” کی طرفداری کرتے ہوئے کہا، جیسے موقع دیکھ رہی ہو کہ “ملیحہ” تھوڑی نرم پڑ جائے۔ سچ تو یہ تھا کہ “فاریہ” کو “زرام” پہلی نظر میں ہی “ملیحہ” کے لیے بہت اچھا لگا تھا۔ “ملیحہ” کے لیے “فاریہ” ہمیشہ بہت اچھا چاہتی تھی اور آج پتہ نہیں کیوں اسے لگ رہا تھا کہ اللہ تعالی نے اس کی دعائیں سن لی ہیں۔ “فاریہ” کے لیے “ملیحہ” سگی بہنوں سے بڑھ کر تھی۔

“فاریہ” کی بچی! تُو میرے ساتھ ہے یا ان کے ساتھ؟”
“ملیحہ” کی نظریں فوراً “فاریہ” پر جا ٹکی تھیں، لب بھینچے، آواز میں سختی در آئی تھی۔ اسے شاید “فاریہ” سے ایسی امید نہیں تھی جس طرح کی “فاریہ” حرکتیں کر رہی تھی۔

“یار میں تو بس……”
“فاریہ” نے لب کاٹا، مگر چہرے پر شرارت برقرار رہی۔ اپنے اپریشنز چھپا نہیں پا رہی تھی۔

“بس کیا؟”
“تُو گھر چل، میں تیری اچھی طرح خبر لوں گی!”
“دیکھ رہی ہوں، تُو ان کی طرفداری کچھ زیادہ ہی کر رہی ہے۔”
“ملیحہ” نے غصے میں انگلی اٹھائی تھی۔

“ارے نہیں بابا، میں تو قسم سے تمہاری طرف ہوں، ناراض کیوں ہوتی ہو؟”
“فاریہ” جلدی سے بولی، مگر اس کی آنکھوں میں شرارت کی چمک اب بھی تھی۔

“کیوں بیچاری پر فضول میں غصہ کر رہی ہو؟”
“غصہ نکالنا ہے تو مجھ پر نکالو، جو تمہیں زبردستی یہاں لے کر آیا ہے اور جو کچھ بھی تمہارے دماغ میں اچھا برا چل رہا ہے، وہ سوچتی رہو، مگر میں بات کیے بغیر تمہیں یہاں سے جانے نہیں دوں گا!”
“زرام” دو ٹوک کہتا ہوا گاڑی سے نیچے اتر کر دوسری طرف سے گھوم کر “ملیحہ” کی گاڑی کے گیٹ کی طرف دروازہ کھول کر کھڑا ہوا تھا مگر “ملیحہ” نیچے اترنے کو تیار ہی نہیں تھی۔

“دیکھو، مجھے زبردستی کرنے پر مجبور مت کرو،ورنہ پھر خود ہی کہو گی کہ میں نے کوئی باؤنڈری کراس کی ہے!”
“اگر اب بھی نہیں اترو گی، تو مجبوراً مجھے یہی کرنا پڑے گا کہ تمہیں اٹھا کر لے جاؤں!”
“زرام” کی نظریں سختی سے اس پر جمی ہوئی تھیں۔

“چھی………! آگئی نا گندی سوچ زبان پر، اٹھا کر لے جاؤں گا!”
“تمہارے باپ کا راج ہے نا، جو مجھے اٹھا کر لے جاؤ گے؟”
“ہاتھ لگا کر تو دیکھو، کاٹ کر رکھ دوں گی!”
“ملیحہ” کی آنکھیں غصے سے دہک رہی تھیں، لب سختی سے بھینچے ہوئے تھے۔

“مجھے ایک بات بتاؤ، تم کسی قصائی کے خاندان سے ہو؟”
“بات بات پر کاٹنے پر تل جاتی ہو!”
“کبھی ہاتھ کاٹ دوں گی، کبھی زبان کاٹ دوں گی!”
“نارمل شہریوں کی طرح بات نہیں کر سکتی؟”
“زرام” کے لہجے میں طنز تھا۔

“کر سکتی ہوں، مگر شرط یہ ہے کہ سامنے کوئی باعزت شہری کھڑا ہو!”
“ملیحہ” نے تڑاخ سے جواب دیا، نظریں چیلنج دیتی ہوئی “زرام” کے چہرے پر ٹکا رکھی تھی۔
“فاریہ” اور “فیصل” دونوں خاموشی سے یہ دلچسپ نوک جھونک دیکھ رہے تھے۔ ایسا بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ دونوں کی یہ دوسری ملاقات ہے۔ دونوں کے درمیان ایک الگ ہی کشمکش جاری تھی۔

“اب تم گاڑی سے اترو گی، یا میں دوسرا طریقہ اپناؤں؟”
“زرام” نے آخری وارننگ دی۔

“جو کر سکتے ہو، کر لو، میں گاڑی سے نہیں اتروں گی!”
“اور اگر تم نے ہاتھ لگانے کی کوشش کی، تو میں چیخنا شروع کر دوں گی!”
“ملیحہ” نے اسے کھلی دھمکی دی، ہاتھ فولڈ کرتے ہوئے زبردست اعتماد سے نظریں اس پر گاڑ دیں۔

“ٹھیک ہے، گُڈ! چیخو، میں کون سا کسی سے ڈرتا ہوں!”
“زرام” نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور ایک جھٹکے سے گاڑی سے باہر کھینچ لیا۔ “ملیحہ” ہوا کی طرح لہراتی ہوئی گاڑی سے باہر گری، مگر “زرام” نے اسے گرنے نہیں دیا۔ اس کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ وہ سیدھا اس کے قریب آ کر رک گئی، سانسیں بے ترتیب ہوئیں، آنکھوں میں حیرت ابھری، مگر “زرام” کے چہرے پر صرف سختی تھی۔

“جنگلی انسان! میری کلائی میں درد ہو رہا ہے، چھوڑو مجھے!”
“ملیحہ” نے غصے اور تکلیف سے “زرام” کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی۔

“شٹ اپ!”
“زرام” نے سختی سے کہا، قدموں کی رفتار ذرا بھی کم نہ کی۔

“یو شٹ اپ!”
“ملیحہ” نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، جھٹکے سے اپنی کلائی کھینچنے کی کوشش کی، مگر بے سود۔

“بہت تیکھی چیز ہو!”
“زرام” نے ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے کہا، جیسے اس کی ضد سے بیزار ہو۔

“تمہاری سوچ سے بھی کہیں زیادہ!”
“ملیحہ” کی آنکھوں میں چمک تھی، لہجہ زہر میں گوندا ہوا تھا۔

“اچھی بات ہے، مجھے تیکھا پسند ہے!”
“زرام” نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی، مگر گرفت ڈھیلی نہ کی۔

“بھاڑ میں گئے تم اور بھاڑ میں گئی تمہاری پسند! میرا ہاتھ چھوڑو!”
“ملیحہ” نے مسلسل خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے زور لگایا، مگر “زرام” کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت سے وہ چاہ کر بھی آزاد نہیں ہو پا رہی تھی۔ وہ تیز قدموں سے اسے اپنے ساتھ گھسیٹ رہا تھا، جبکہ “ملیحہ” غصے سے بے حال مسلسل مزاحمت کر رہی تھی۔

“تم لوگ وہاں منہ اٹھا کر کیوں کھڑے ہو؟”
“اندر آؤ! یا تم لوگوں کو کوئی خاص دعوت نامہ سینڈ کرنا پڑے گا؟”
“یوں باہر کھڑے رہ کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟”
“زرام” نے گاڑی کے پاس کھڑے “فاریہ” اور “فیصل” پر سخت نظر ڈالتے ہوئے کہا۔

“ہمیں لگا کہ تم دونوں کو کوئی پرائیویٹ بات کرنی ہوگی!”
“فیصل” نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔

“ہاں تو پرائیویٹ بات کرنے کے لیے بہت سے رومز ہیں یہاں پر، اندر چلو!”
“زرام” نے دو ٹوک لہجے میں کہتے ہوئے دروازہ کھولا اور زبردستی “ملیحہ” کا ہاتھ کھینچتے خود آگے بڑھ گیا۔ “فیصل” اور “فاریہ” نے ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھا اور پھر خاموشی سے اندر داخل ہو گئے، جبکہ “ملیحہ” بدستور غصے میں “زرام” کو کوس رہی تھی۔

“تمہیں شرم نہیں آ رہی نہ ہی کوئی احساس ہے کہ تم ایک لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کر رہے ہو؟”
“اگر تم نے میرے ساتھ کوئی بھی غیر اخلاقی حرکت کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا!”
“ملیحہ” کی آواز سخت تھی، آنکھوں میں اشتعال تھا، وہ اس قدر گھبرائی ہوئی تھی کسی بھی لمحے رو سکتی تھی۔

“مجھے ایک بات بتاؤ!”
“زرام” نے گہری سانس لی اور اسے اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے گھور کر دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا:
“تم مجھے بار بار ان غیر اخلاقی باتوں پر کیوں اکسا رہی ہو، جب میں کہہ رہا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ میری نظر میں تمہاری بہت عزت ہے، اور میں تم سے صرف ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔”
“ملیحہ” نے بے یقینی سے اسے دیکھا، مگر “زرام” کے لہجے میں آج پہلی بار سختی کی جگہ کچھ اور تھا۔

“رمضان کے مہینے کی پرنور ہواؤں میں تمہیں میں اتنا کمینہ لگتا ہوں کہ ایسی کوئی حرکت کروں گا؟”
“یار، صرف بات کرنی ہے، اور وہ بات بہت ضروری ہے۔ خدا کی قسم، تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ اس وقت میرا بھی روزہ ہے، تمہارا بھی، رمضان کا مہینہ ہے۔ مجھے اللہ کی قسم ہے، میں کوئی ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ بس خدا کا واسطہ ہے، چپ کر جاؤ اور آرام سے بیٹھ کر میری بات سن لو!”
“زرام” کے لہجے میں التجا تھی، مگر آنکھوں میں سچائی کی سختی تھی جو “ملیحہ” کو خاموش ہونے پر مجبور کرگئی۔

“ہاتھ چھوڑو میرا! یہ بھی ایک غیر اخلاقی حرکت ہے!”
“تم نہ میرے ماموں کے بیٹے ہو، نہ چاچا کے، تو اتنا بے تکلف ہونے کی ضرورت نہیں!”
“ملیحہ” کی آواز میں سختی تھی، آنکھوں میں غصہ، مگر رو دینے والی شکل کے باوجود اس کی اکڑ کم نہیں ہوئی تھی۔

“زرام” کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، اس نے نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
“لیجیے، اب اور کوئی حکم؟”

“کوئی حکم نہیں ہے، تم میرے رشتہ دار نہیں ہو جو میں تم پر حکم چلاتی پھروں!”
“ملیحہ” نے خفگی سے کہا۔

“تو رشتہ دار بنا لو…… رشتہ داری بنانے کے لیے ہی تو یہاں بات کرنے لایا ہوں۔”
“زرام” نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے، دلکش نگاہوں سے اسے دیکھا، جس سے “ملیحہ” مزید گھبرا گئی۔ “فیصل” اور “فاریہ” کے چہروں پر معنی خیز مسکراہٹ ابھر آئی، جیسے وہ زبردستی ہنسی دبانے کی کوشش کر رہے ہوں۔

“آگئے نا اپنی اوقات پر!”
“رشتے داری بنانے آئے ہو؟”
“بنا لو! بہن بنا لو مجھے! بن جاؤ میرے بھائی! میرے پاس بھائی نہیں ہے!”
“ملیحہ” نے غصے سے گھورتے ہوئے تڑاخ سے جواب دیا۔

“زرام” نے ابرو چڑھائے، لبوں پر وہی چمکدار مسکراہٹ تھی۔
“نہیں……رشتہ داری بنانے کے لیے صرف بھائی کا رشتہ ہی تو نہیں بچا۔ میں تو سیاں بننا چاہتا ہوں……بنا لو!”

“مائنڈ یور لینگویج!”
“ملیحہ” کا ضبط تقریباً جواب دے گیا تھا۔

“اگر کوئی واہیات بات کرنے کی کوشش بھی کی نا، تو زبان کھینچ لوں گی!”
“مجھے بے بس اور مجبور لڑکی مت سمجھنا! جبڑا توڑ کر رکھ دوں گی!”
اس کی آنکھیں غصے سے دہک رہی تھیں، آواز تیز، مگر انداز میں اب بھی ایک عجیب سی کپکپاہٹ تھی۔

“مجھے تو پہلے ہی تمہاری نیت پر شک تھا، مجھے پتہ تھا کہ تم گھٹیا ہو!”
“بڑی بڑی گاڑیوں سے اترنے والے لوگ اچھے ہو ہی نہیں سکتے!”
“گارنٹی ہے کہ ان کی سوچ بھی گندی ہوتی ہے، ذہن بھی اور دل تو بالکل سیاہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ اپنی عزت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں، دوسروں کی عزتوں پر بس گندی نظریں ہی ڈالتے ہیں!”

“زرام” نے گہری سانس لی، سینے پر ہاتھ باندھے، جیسے صبر کا امتحان لے رہا ہو۔
“ہو گیا تمہارا یا اور زہر ہے جو ابھی اگلنا باقی ہے؟”

“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی اور ویسے بھی، بات کرنے کے لیے کچھ ہے بھی نہیں۔ آتے ہی تم نے منہ کھول کر بتا دیا کہ تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے!”
“ملیحہ” کی آواز میں سختی تھی، آنکھوں میں غصے کی شدت اتنی تھی کہ اگر بس چلتا تو شاید “زرام” کو ایک اور تھپڑ رسید کر دیتی۔

“اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ اب تم مجھے کوئی اچھی سی آفر دو گے، پھر اپنی گرل فرینڈ بنانے کی کوشش کرو گے…… یہی ٹیکنیک ہوتی ہے تم جیسے بڑے لوگوں کے پاس! مگر معذرت! نہ تو میں تمہاری بڑی سی چمکدار گاڑی سے متاثر ہوئی ہوں، نہ تمہارے امیر ہونے سے، اور نہ ہی تمہاری خوبصورتی سے!”
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر تلخی سے مسکرائی۔
“مجھے زہر لگتی ہیں وہ لڑکیاں جو روپے پیسے پر مرتی ہیں اور اپنا مقام گرا دیتی ہیں!”
“ملیحہ” نے نگاہ اٹھا کر “فاریہ” کو دیکھا۔ اس کا طنز “فاریہ” کے لیے تھا۔ “فاریہ” نے جیسے ہی اس کی بندوق کا رخ اپنی جانب ہوتے دیکھا فوراً سے کھانسی کا بہانہ کیا اور فوراً رخ موڑ لیا۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ تیر کا نشانہ وہی ہے۔ مگر “فیصل”؟ “فیصل” تو مزے لے رہا تھا! اس کی آنکھوں میں شرارت تھی، ہونٹوں پر دبائی ہوئی مسکراہٹ روکے نہیں رک پا رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے جب “ملیحہ” نے گاڑی کے اندر اس کی عزت افزائی کی تھی تو اس وقت “فاریہ” خوب ہنسی تھی اور اب باری “فیصل” کی تھی! وہ مزے سے یہ منظر انجوائے کر رہا تھا، جیسے کوئی دلچسپ فلم چل رہی ہو!

“بائی دا وے، ایک بات بتاؤ…… کیا نام ہے تمہارا؟”
“زرام” نے نرم مگر سنجیدہ لہجے میں آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا:
“مس “ملیحہ”––––تم اتنی کڑوی کیوں ہو؟”
“میرے بارے میں جانے بغیر ہی اتنی بڑی رائے کیسے قائم کر سکتی ہو؟”
“ملیحہ” ایک لمحے کو ساکت ہوئی، مگر پھر دو قدم پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔

“جو بھی کہنا ہے، دور رہ کر کہیے!”
اس نے سپاٹ مگر سخت لہجے میں کہا۔
“اور رہی بات میری کڑواہٹ کی، تو میں نے تم جیسے امیر لوگوں کے اتنے بھیانک روپ دیکھے ہیں کہ اب مزید دیکھنے کی چاہت نہیں بچی۔ اچھی طرح جانتی ہوں کہ تم جیسے لوگوں کی نظروں میں ہم جیسی لڑکیوں کی عزت کی کیا قیمت ہوتی ہے۔ بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں!”
“ملیحہ” کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔ “فیصل”، جو ابھی کچھ دیر پہلے مزے سے مسکرا رہا تھا، اب ایموشنل سا ہو کر خاموش ہو گیا تھا۔

“ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا!”
“زرام” نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا:
“کسی کو جانے بغیر، اس کے بارے میں رائے قائم کر دینا بھی ناانصافی ہے۔ پہلے میری بات سنو، مجھے سمجھو، جانچو……… پھر فیصلہ کرنا کہ میں کیسا ہوں۔”
“زرام” کے لہجے میں نرمی اور محبت کے رنگ واضح تھے، مگر “ملیحہ” کے چہرے پر سختی برقرار رہی۔

“معاف کیجیے!”
وہ دو ٹوک انداز میں بولی:
“نہ مجھے آپ کو جاننے کا کوئی شوق ہے، نہ ہی آپ کے ساتھ وقت گزارنے میں دلچسپی ہے۔ ہمارے جیسے سفید پوش لوگوں کی زندگی میں بہت سے کام ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی محنت سے اپنی کالج فیسیں ادا کرنی پڑتی ہیں، گھر کے اخراجات سنبھالنے ہوتے ہیں۔ اس لیے، برائے مہربانی، کسی اپنے جیسی امیر گھر کی لڑکی کو اپنی گرل فرینڈ بنائیں، مجھے ان فضول کے کاموں میں مت گھسیٹیں!”
اس نے ایک پل کے لیے سانس لیا، پھر نظریں چراتے ہوئے بولی:
“ہاں، اس دن آپ نے میری مدد کی، اس کے لیے میں دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ اور اب پلیز، ہمیں جانے دیں۔ چلو، “فاریہ!”

وہ تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھی، مگر “زرام” نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“ملیحہ!!”
“ملیحہ” لمحے بھر کے لیے ساکت ہوئی، مگر پھر غصے میں مٹھی بھینچ کر ہاتھ گھمایا، “زرام” کے گال پر تھپڑ رسید کرنے کے لیے مگر اس بار “زرام” پہلے سے تیار تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما، اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے دھیمی مگر گہری آواز میں بولا:
“مس “ملیحہ”………دوبارہ ایسی جرات مت کرنا!”

“ملیحہ” کی آنکھوں میں الجھن در آئی، مگر “زرام” کی نظریں اٹل تھیں۔
“اس دن تم نے تھپڑ مارا، میں نے برداشت کیا کیونکہ وہ میری محبت تھی……… ورنہ میرے ہاتھوں سے وہ ہاتھ کبھی سلامت نہ بچتا، جو مجھ پر اٹھنے کی کوشش کرتا!”
فضا میں گہری خاموشی چھا گئی تھی۔”زرام” کے ہاتھ کی سختی “ملیحہ” کے اندر تک خوف بٹھا گئی تھی۔ بے شک وہ جتنی بھی خود کو مضبوط ظاہر کر لے، مگر اندر سے وہ ایک ڈری ہوئی لڑکی تھی، جو ہر حال میں اپنی عزت اور بقا کی جنگ لڑ رہی تھی۔ جیسے ہی “زرام” کی گرفت سخت ہوئی، اس کی آنکھوں میں لرزش ابھری اور اگلے ہی لمحے، آنسو اس کے رخساروں پر پھسلتے چلے گئے۔ “زرام” نے جیسے ہی اس کا بھیگا ہوا چہرہ دیکھا، اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ وہ ایسا کچھ نہیں چاہتا تھا۔

“سس……سوری! ، تم رو کیوں رہی ہو؟”
“زرام” کے لبوں سے الفاظ بےاختیار نکلے۔ اس نے جلدی سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا، وہ خود پر شرمندہ ہو رہا تھا۔

“ٹھیک ہے، تم ایک کام کرو، تھپڑ مار لو۔ اگر تمہیں اس سے ذہنی تسکین ملتی ہے تو پلیز، تم مجھے تھپڑ مار سکتی ہو۔”
“ملیحہ” نے اپنی کلائی کو سہلاتے ہوئے، سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا۔ وہ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی تھی، جیسے خود کو کسی نادیدہ خطرے سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہو۔

“پلیز…… مجھے جانے دیں۔”
اس کی آواز کانپ رہی تھی.
“میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں، پلیز پیچھے ہٹ جائیں!”

“ملیحہ”، آئی ایم سوری!”
“زرام” نے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے سنجیدگی سے کہا:
“ڈرانا دھمکانا میرا مقصد نہیں تھا، نہ ہی میں تمہیں اس نیت سے یہاں لایا ہوں۔”

“تو پھر اسے ایک اور تھپڑ مار لینے دیتے!”
“فیصل” نے موقع دیکھ کر چوٹ کی۔
“کم از کم بیچاری کا دل تو ہلکا ہو جاتا۔ دیکھ تو سہی، کتنا ڈر گئی ہے!”
“زرام” نے گہری سانس لی، مگر کچھ کہنے کے بجائے نظر جھکا لی۔ اس وقت اسے کچھ بھی کہنا فضول لگ رہا تھا۔

“فاریہ” فوراً “ملیحہ” کے قریب آئی اور نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
“ملیحہ” ریلیکس ہو جاؤ۔ سب ٹھیک ہے۔”
وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر اسے یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔”فاریہ” “ملیحہ” کی نسبت زیادہ مضبوط دل کی تھی، اور نجانے کیوں، اسے “زرام” سے کوئی خطرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس کی نیت میں کھوٹ نہیں لگ رہی تھی مگر یہ بات “ملیحہ” کو سمجھانا اس وقت مشکل تھا۔

“سس، اس کی عقل تھوڑی سی موٹی ہے، مگر یہ تمہیں ڈرانا یا دھمکانا نہیں چاہتا، نہ ہی یہ تمہیں نقصان پہنچائے گا!”
“فیصل” نے ملیحہ کو گھبرائے اور روتے دیکھ کر نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی۔
“زرام” نے جیسے ہی “موٹی عقل” سنا، ایک سخت نظر “فیصل” پر ڈالی، مگر خاموش رہا۔

“ایسے گھورنے کا کیا فائدہ؟”
“سچ ہی تو بول رہا ہوں!”
“فیصل” نے کندھے اچکائے۔
“موٹی عقل کے سانڈ! لڑکی کو اظہارِ محبت کے وقت پیار سے سمجھایا جاتا ہے اور اگر یہ ایک تھپڑ اور مار بھی لیتی تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا؟”
“تمہاری تو اتنی بڑی جان ہے، میری سسٹر کا ہاتھ تو نازک سا ہے، تمہیں تو کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔ ایسے لگتا جیسے کسی نے گدگدی کی ہے، کس کا نازک سا دل ہی خوش ہو جاتا!”
“فیصل” کی دلیلیں بالکل فیصل جیسی تھیں، اتنی فنی کہ سننے والا ہنسنے پر مجبور ہو جاتا۔ “فاریہ” کے لبوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی، مگر اس وقت ہنس کر وہ نہ تو “ملیحہ” کا قہر مول لے سکتی تھی، نہ ہی اس کے بہتے آنسو نظرانداز کر سکتی تھی۔ “فیصل” نے ابھی ابھی “ملیحہ” سے نیا رشتہ جوڑا تھا— “سسٹر” کا۔

“پلیز، آپ اپنا منہ بند رکھیں!”
“ملیحہ” نے روتے روتے تڑک کر جواب دیا۔
“آپ بھی انہی جیسے ہیں! ان کے ڈرائیور بن کے ساتھ ساتھ گھومتے ہیں، تاکہ یہ لوگوں کی بیٹیوں کو اس طرح ہراساں کریں!”

“فیصل” کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
“کیا؟ سس، تم تو میرا ہی بینڈ بجانے پر تلی ہوئی ہو! میں اس کا ڈرائیور نہیں ہوں، میں اس کا دوست ہوں، اور دوستی میں مجبوری کے تحت مجھے اس کے ساتھ آنا پڑا اور یہ تمہارے لیے کچھ بھی ایسا ویسا نہیں سوچتا، یہ تم سے۔۔۔”

“چپ کر جاؤ!”
“زرام” نے سخت لہجے میں بات کاٹ دی۔
“جو کہنا ہوگا، میں خود کہہ لوں گا۔ مجھے تمہاری سفارش کی ضرورت نہیں!”
“فیصل” نے بمشکل اپنی ہنسی روکی۔ “زرام” کا یہ انداز بتا رہا تھا کہ وہ خود “ملیحہ” کو اپنی محبت کے بارے میں بتانا چاہتا ہے، مگر وہ سننے کو تیار ہی نہیں تھی۔ “زرام” کی حالت سے “فیصل” محظوظ ہو رہا تھا۔ کمینے دوستوں کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ جب ایک دوست مشکل میں ہو تو دوسرے کو تسکین ضرور ملتی ہے۔ “زرام” نے ایک گہری سانس لی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو مگر الفاظ بکھر رہے ہوں۔ آہستہ آہستہ بھاری دو قدم آگے بڑھائے ، مگر پھر “ملیحہ” کی بھیگی آنکھوں کو دیکھ کر رک گیا۔ وہ اب بھی دیوار کے ساتھ جڑی کھڑی تھی، جیسے خود کو کسی انہونی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ آنکھوں میں بے یقینی اور چہرے پر گھبراہٹ کے رنگ بہت گہرے تھے۔

“پلیز، “ملیحہ!”
“زرام” کی آواز میں التجا تھی۔
“صرف ایک بار میری بات سن لو۔”

“ملیحہ” کی آنکھوں میں آنسو بہتے ہوئے اس کی آنکھوں کو بہت پرکشش بنا رہے تھے۔ جھیل کے جیسی گہری آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو کر سیدھا “زرام” کے دل پر وار کر رہی تھی۔ بہت خوبصورت احساس تھا جس کو “زرام” محسوس کر رہا تھا۔ آج سے پہلے اس نے کبھی ایسے احساس کو محسوس نہیں کیا تھا۔ “زرام” کی آنکھوں میں “ملیحہ” کے لیے محبت تھی مگر وہ اپنی محبت کا اسے یقین نہیں دلا پا رہا تھا الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ “ملیحہ” کے چہرے پر سختی اور گھبراہٹ برقرار تھی۔ ہمت جمع کرتے ہوئے “زرام” نے گہری سانس لی، جیسے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔

“میں تمہیں یہاں کسی بری نیت سے نہیں لایا––––میرا تمہیں خوفزدہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا!”
دھیمی مگر مضبوط آواز میں سنجیدگی سے بول رہا تھا۔
“ملیحہ” نے زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا۔ “زرام” کے انداز میں کچھ ایسا تھا جو اسے پل بھر کے لیے الجھا گیا۔ وہ اسی سختی سے کھڑی رہی، مگر “زرام” کی بات جاری تھی۔

“جب پہلی بار تمہیں دیکھا، تب شاید میں خود نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا ہے۔ بس ایک عجیب سا احساس تھا، ایک انجانی سی کشش، مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا، تمہارے بارے میں سوچنا بڑھتا گیا………تمہاری بے نیازی، تمہاری مضبوطی، تمہاری سچائی………سب کچھ دل میں نقش ہوتا چلا گیا۔”
“تمہاری وہ ایک اچانک ملاقات مجھے بھول نہیں سکی………جب بھی سوتا ہوں تمہارا گھبرایا ہوا معصوم چہرہ میری نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ میں ٹھیک سے سو نہیں پاتا، کسی کام میں میرا دل نہیں لگتا۔ تو میں سمجھ گیا کہ یہ ‘محبت’ ہے اور محبت کرنا کوئی گناہ نہیں ہے میں تمہاری جانب شادی کا ہاتھ بڑھا رہا ہوں، تمہارے ساتھ چکر چلانا، تمہیں اپنی گرل فرینڈ بنانا، ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا۔”
“مجھے نہیں معلوم محبت پہلی نظر میں ہوتی ہے یا نہیں، مگر ایک بات ضرور جانتا ہوں––––تم میرے دل میں ایسی جگہ بنا چکی ہو جہاں سے تمہیں نکالنا ممکن نہیں۔”
وہ نرمی سے بولتا چلا جا رہا تھا “ملیحہ” حیرانی سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔
“فیصل” اور “فاریہ” کی نظریں حیرانی سے کبھی “زرام”، کبھی “ملیحہ” پر جا ٹک رہی تھیں، مگر “زرام” کی نظریں صرف “ملیحہ” پر تھیں، جو سانس روکے کھڑی تھی۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اس پل اس کے دل میں کیا ہلچل مچی ہوئی تھی۔

“اللہ تیرا شکر ہے، فائنلی ہمارے مجنوں صاحب نے اظہارِ محبت کر ہی لیا!”
“فیصل” نے ہاتھ آسمان کی جانب اٹھاتے ہوئے ایسا انداز بنایا، جیسے ابھی بارش برسے گی اور وہ سجدہ شکر بجا لائے گا۔

“واہ بھائی واہ! کیا محبت بھرا سین تھا، دل خوش کر دیا۔”
“فیصل” نے جذباتی ہو کر “زرام” کی طرف دیکھا، پھر “ملیحہ” کی طرف اور آخر میں “فاریہ” کی طرف، جو ہنسی روکنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔

“یار یہ سین تو فلمی لگ رہا ہے، “زرام!” اگلی بار اگر اظہارِ محبت کرنا ہو تو ذرا گلاب کے پھول لے آنا، ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی عدالت میں گواہی دے رہا ہو۔”
“فیصل” نے کندھے اچکاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا، جس پر “زرام” نے گھور کر اسے دیکھا۔

“بند کر اپنی بکواس!”
“زرام” نے غصے سے کہا، مگر “فیصل” تو “فیصل” تھا۔اس پر “زرام” کے غصے کا کون سا اثر ہونے والا تھا اس نے تو جو بات کہنی ہے وہ کہہ کر رکنے والا بندہ تھا۔

“اوہو، بھائی غصہ کرنے کی کیا ضرورت ہے! میں تو بس کہہ رہا تھا کہ بندہ جب محبت کا اظہار کرے تو اس میں تھوڑا اسٹائل ہونا چاہیے، تھوڑا رومینس ہونا چاہیے، نا کہ ایسا لگے جیسے اسکول میں مضمون سنا رہے ہو!”
“فیصل” نے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
“فاریہ” نے “ملیحہ” کی طرف دیکھا، جو اب بھی دیوار کے ساتھ جڑی کھڑی تھی، مگر اس کے چہرے پر سرخیاں بڑھ گئی تھیں۔ اپنے احساسات کو وہ کوئی نام نہیں دے پا رہی تھی۔

“پلیز آپ چپ کر جائیں، ان دونوں کو آپس میں بات کرنے دیں!”
“فاریہ” نے “فیصل” کو خاموش رہنے کو کہا تھا کیونکہ اسے یہ رومینٹک موومنٹ بہت اچھے لگ رہے تھے۔ ایسے مومنٹ اس نے آج تک صرف فلموں ڈراموں میں دیکھے تھے اور آج حقیقت میں دیکھ کر تو اس کی نظر اش اش کر رہی تھی۔ اپنی خوشی کو چھپائے نہیں چھپا پا رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس نے جتنی دعائیں “ملیحہ” کے لیے کی ہیں شاید آج وہ سب قبول ہونے کا وقت آچکا تھا۔

“ارے بھئی آپس میں کریں جتنی باتیں کرنی ہیں، ویسے اب بات کرنے کو تو کچھ نہیں رہا مجنوں صاحب تو سب کچھ بیان کر چکے ہیں اب تو لیلیٰ کی باری ہے!”
“فیصل” بولتا ہی چلا جا رہا تھا مگر فوراً سے اپنی بات کا رخ پلٹنا بھی اسے خوب آتا تھا۔

“میں میرا مطلب ہے کہ اگر ہماری سس کو پیارے مجنوں صاحب پسند آئے تو “زرام” صاحب کو ایک عدد پھول پکڑا کر کہہ دے، ‘یہ لو، پاس ہوگئے تم، اب شادی کی تیاری کرو!”
“فیصل” کی شرارتیں عروج پر تھیں، اور “زرام” کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ اگر ابھی اس کے ہاتھ میں کچھ آ جاتا تو وہ “فیصل” کی درگت ضرور بنا دیتا۔ “ملیحہ” نے سرخ چہرے کے ساتھ “زرام” کی طرف دیکھا، جو اب بھی سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“بس اب اگلا سین یہ ہوگا کہ ہیروئن آنکھوں میں آنسو لیے بھاگتی ہوئی جائے گی اور ہیرو بے بسی سے دیکھتا رہ جائے گا––––پھر ہیرون کو گھر جا کر احساس ہوگا کہ اسے سچ میں ہیرو سے محبت ہو گئی پھر وہ شرماتے ہوئے دوپٹے کا پلو دانتوں تلے دبا کر ہیرو کو………کہہ دے گی ‘اے جی مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے’ اور ٹھک سے فون بند ہو جائے گا۔”

“فیصل!”
“زرام” نے دانت پیستے ہوئے گھورا، مگر “فیصل” کو کون روک سکتا تھا؟

“اب دیکھو نا، ہیروئن سوچ رہی ہوگی، ‘یہ بندہ اتنا امیر ہے، میں تو عام سی لڑکی ہوں، یہ محبت کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟’ اور پھر دو منٹ بعد بیچاری فیصلہ کر لے گی کہ اسے اس محبت کو قربان کر دینا چاہیے، کیونکہ…… ‘فیملی پریشر، سوسائٹی، عزت، غیرت، اور نجانے کیا کیا!’ اب ایسے میں وہ فوراً سے جواب کیسے دے سکتی ہے؟”
“فیصل” نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے ہاتھ جھاڑے، جیسے “ملیحہ” کی پوری سوچ وہ پہلے سے جانتا ہو۔

“ملیحہ” جو پہلے ہی گہری سوچ میں گم تھی، اب غصے سے “فیصل” کو دیکھنے لگی۔
“تمہیں کوئی کام نہیں ہے یا بس لوگوں کی زندگی کے ڈرامے بنانے میں ہی دلچسپی رکھتے ہو؟”

“بالکل صحیح پہچانا!”
“میں تو پیدا ہی لوگوں کی کہانیاں مزیدار بنانے کے لیے ہوا ہوں!”
“فیصل” نے فخریہ انداز سے کہا۔

“فیصل”، ایک منٹ چپ ہو جاؤ!”
“زرام” نے ضبط سے کہا اور “ملیحہ” کی طرف دیکھا، جو اب بھی الجھن میں تھی۔

“ملیحہ”، میں مذاق نہیں کر رہا۔ میں تمہیں دل سے چاہتا ہوں، اور یہ کوئی فلمی سین نہیں ہے۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
اب کی بار خاموشی چھا گئی۔ “فیصل” نے آنکھیں حیرت سے پھیلائیں کیونکہ “زرام” بہت سنجیدہ انداز سے بات کر رہا تھا۔ “فاریہ” نے “ملیحہ” کی طرف دیکھا، اور “ملیحہ……” وہ تو جیسے الفاظ کے سمندر میں ڈوب چکی تھی۔ بہتے ہوئے آنسو تھمنے لگے تھے مگر لبوں سے جواب دینے کی ہمت نہیں تھی نہ اقرار تھا، نہ انکار۔ بس خاموشی سے ہاتھوں کو مروڑے جا رہی تھی۔

“کیسے یقین کروں کہ تم جو کہہ رہے ہو وہ سچ ہے؟”
“کیسے یقین کر لوں کہ اپنے سٹیٹس کی لڑکیاں چھوڑ کر تمہیں محبت کرنے کے لیے صرف میں ملی ہوں؟”
“کیسے یقین کروں کہ تم یہ سب میرے ساتھ ٹائم پاس کرنے کے لیے نہیں کر رہے؟”
‘ہے کوئی جواب؟ اگر ہے تو بتاؤ!”
کچھ دیر اموشنل اور چپ کھڑی رہنے کے بعد ایک دم سے پتہ نہیں “ملیحہ” کے اندر کون سا جن جاگ گیا تھا، وہ تڑخ تڑخ کر جواب دیتی چلی گئی۔ “زرام” تو شاک میں تھا کہ ایک دم سہمی ہوئی، روتی ہوئی “ملیحہ” میں اچانک سے یہ طوفانی انرجی کہاں سے آ گئی جبکہ اس کے تڑخ تڑخ کر بولنے سے ہمیشہ کی طرح “فیصل” کو پھر سے بہت مزہ آ رہا تھا۔ وہ چہرے پر ہاتھ رکھ کر ہنسی ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر آنکھوں میں شرارت کی چمک واضح تھی۔ “فاریہ” تو پہلے سے ہی تیار تھی کہ خاموش “ملیحہ” کا مطلب ہوتا ہے کہ نیا طوفان آنے والا ہے! اور وہ طوفان آ چکا تھا! اب “فاریہ” تھوڑی ریلیکس ہو گئی تھی کیونکہ اس کی پیاری سی بہنا دوست کی آنکھوں سے بہنے والی گنگا جمنا رک چکی تھی، آنسو بہنا بند ہو گئے تھے، اور اب وہ پھر سے اپنے خونخوار روپ میں واپس آ چکی تھی۔

“دو جواب…… ہے کوئی جواب تمہارے پاس؟”
“ملیحہ” نے انگلی اٹھا کر غصے سے کہا۔ اس وقت لگ رہا تھا اس کے اندر کوئی خونی بھوتنی آ چکی ہے۔ “زرام” بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹ گیا، “ملیحہ” کا انداز دیکھ “زرام” نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

“ریلیکس…… ریلیکس! ڈرا کیوں رہی ہو یار؟”
“دیتا ہوں جواب…… دیتا ہوں!”
“زرام” نے جلدی سے کہتے دو قدم مزید پیچھے لے لیے۔
“صبر تو کرو یار ڈرا کر رکھ دیا۔ ایسے کون جوتوں سمیت سامنے والے پر چڑھ جاتا ہے؟”
“اپنی صفائی پیش کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔ ہر سوال کا جواب دوں گا، تم نے تو میری سانسیں ہی بند کر دی ہیں۔”
وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر گھبرانے کی ایکٹنگ بھی کر رہا تھا اور کچھ وہ “ملیحہ” کا اچانک سے بدلہ روپ دیکھ کر سچ میں گھبرا بھی گیا تھا۔

“ہائے ہائے! جو بندہ دنیا سے نہیں ڈرتا، وہ آج ایک لڑکی کے آگے سرنڈر کر رہا ہے؟”
“فیصل” نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قہقہہ لگایا۔ اب اتنا اچھا موقع “فیصل” ہاتھ سے کیسے جانے دے سکتا تھا۔ موقع پر چوکا مارنا تو “فیصل” کی ہمیشہ سے عادت تھی اور یہاں تو اسے چھکا لگانے کا موقع مل گیا تھا۔

“فیصل”، تمہاری زبان بند نہیں ہو سکتی؟”
“زرام” نے گھور کر “فیصل” کو دیکھا اور دانت پیستے ہوئے بولا۔
“فاریہ” نے ہنسی دبانے کی کوشش کی کیونکہ ماحول بہت فنی ہو رہا تھا۔ سچ میں ایک کامیڈی کا سین لگ رہا تھا جبکہ “ملیحہ” کی آنکھوں میں اب آنسوؤں کی جگہ غصہ اور بے یقینی تھی۔ وہ پوری طرح اپنے خونخوار موڈ میں واپس آ چکی تھی۔

“اوکے اوکے میں چپ ہو جاتا ہوں میری وجہ سے معاملات خراب نہیں ہونے چاہیے!”
“فیصل” زبردستی اپنے منہ پر انگلی جماتے ہوئے خاموش رہنے کی اچھی ایکٹنگ کر رہا تھا۔

“تم ایک کام کرو تھوڑی دیر کے لیے یہاں سے دفع ہو جاؤ، مجھے بات کرنے دو!”
“زرام” نے سختی سے کہا۔

“یار تم تو ابھی سے رنگ بدلنے لگے ہو، شادی کے بعد پتہ نہیں کیا کرو گے!”
“فیصل” نے آنکھیں سکیڑ کر “زرام” کو گھورا۔
“خیر، کوئی بات نہیں، میں خاموش ہو جاتا ہوں۔ میری وجہ سے کوئی معاملات خراب نہیں ہونے چاہیے!”
“فیصل” نے معصوم سی شکل بنائی اور اپنی ہنسی روکتے ہوئے چہرے پر انگلی جما لی، جیسے واقعی بہت شریف بن گیا ہو۔

“ڈرامے باز…”
“فیصل” نے منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا۔

“کوئی کہیں نہیں جائے گا!”
“ملیحہ” نے غصے سے ہاتھ اٹھا کر “فیصل” کو روکا۔ اس کے انداز میں سختی تھی۔

“ایسی کوئی پرائیویسی کی بات نہیں ہو رہی جو آپ ان کو یہاں سے بھیجیں!”
اس نے “زرام” کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

“جو بات کرنی ہے، ان کے سامنے کریں!”
وہ ایک قدم اور آگے بڑھی۔

“اور بتائیں، کیسے یقین کروں کہ آپ جو بول رہے ہیں وہ بالکل سچ ہے؟”
“مجھے آپ پر یقین نہیں ہے!”
“ملیحہ” کی آواز سخت تھی، آنکھیں شکوک سے بھری ہوئی تھیں۔

“اتنے امیر ترین انسان ہو کر آپ کو شادی کے لیے میں ملی ہی ہوں؟”
اس نے طنزیہ لہجے میں کہا، جیسے “زرام” کی بات اس کے گلے سے نیچے نہ اتر رہی ہو۔

“آپ کو کیا میں شکل سے پاگل لگتی ہوں؟”
اس بار اس کا انداز اور بھی تیکھا تھا، جیسے خود ہی اپنے سوال کا جواب جانتی ہو۔

“بالکل لگتی ہو! بدھو لگتی ہو!”
“زرام” نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے سختی سے کہا۔
“فیصل” نے ہنسی دبانے کے لیے زور سے ہونٹ بھینچ لیے، جبکہ “فاریہ” نے جلدی سے ہاتھوں میں منہ چھپا لیا تاکہ قہقہہ نہ نکل جائے کیونکہ کہانی کا رخ ایک بار پھر سے بدل چکا تھا۔ فن اور فن میں لڑائی، لڑائی میں محبت––––الگ ہی سین چل رہے تھے یہاں پر۔

“کیا کہا؟”
“ملیحہ” نے گھور کر “زرام” کو دیکھا۔

“میں نے کہا، تم بدھو ہو! بدھو!”
“زرام” نے دو ٹوک جواب دیا۔

“اگر عقل ہوتی تو یہ پتہ ہوتا کہ محبت پر زور نہیں چلتا!”
اس کی نظریں “ملیحہ” کے چہرے پر جمی تھیں۔

“تم سے کس نے کہہ دیا کہ محبت سوچ سمجھ کر ہوتی ہے؟”
“زرام” کے لہجے میں سختی آ گئی تھی۔

“کس نے کہا کہ محبت کے لیے سٹیٹس کی پہچان ضروری ہوتی ہے؟”
وہ ایک قدم آگے بڑھا۔

“وہ محبت ہی کیا مس “ملیحہ”! جس میں سٹیٹس دیکھا جائے اسے محبت نہیں، سودا کہتے ہیں!”
“زرام” نے سنجیدگی سے کہا۔
“سمجھی تم؟”
اس نے گہری سانس لی۔
“میری آنکھوں کو تم اچھی لگیں!”
“زرام” نے مضبوط لہجے میں کہا:
“میرے دل نے تمہیں سراہا!”
اس کی آواز میں سچائی تھی۔
“میرے دل نے مجھے تم سے محبت کرنے پر مجبور کیا!”
وہ تھوڑا جھکا جیسے وضاحت دینا چاہتا ہو۔
“ہو گئی محبت!”
“زرام” نے بے ساختہ کہا۔
“اب اس میں امیری، غریبی، اونچ نیچ کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا!”
وہ اعتماد سے بولا۔”ملیحہ” بے یقینی سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔ “زرام” کے الفاظوں میں جو سچائی کی شدت تھی اسے جھٹلانا ناممکن تھا۔

“محبت جب چاہے، جس سے چاہے، ہو جاتی ہے!”
“زرام” نے “ملیحہ” سے نظریں نہیں ہٹائیں۔

“میری محبت تمہارے لیے سو ٹکا خالص ہے!”
اس کے لہجے میں مضبوطی تھی۔

“یقین کرنا یا نہ کرنا، یہ اب تم پر ہے!”
“زرام” خاموش ہوا اور “ملیحہ” کے ردِعمل کا انتظار کرنے لگا تھا۔
ایسا تو نہیں ہو سکتا تھا کہ اس کے اتنا کچھ بولنے کے بعد اس کی تیکھی مرچی خاموش رہتی۔ “زرام” کو ابھی تک یہ نہیں پتہ چلا تھا کہ اس نے جس سے محبت کی ہے وہ اس کی سوچ سے کہیں زیادہ حاضر دماغ ہے۔ اس کی خاموشی کو خاموشی سمجھنے والا سب سے بڑا بے وقوف ہے کیونکہ جب وہ خاموش ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے دماغ میں کوئی نئی چیز کوئی نیا بم تیار ہو رہا ہے۔ “فیصل” نے ہنسی دباتے ہوئے “فاریہ” کی طرف دیکھا۔

“تمہارے خیال سے اب کیا جواب آئے گا؟”
“کیا مجنون صاحب کامیاب رہے؟”
وہ تجسس سے سرگوشی میں “فاریہ” سے پوچھ رہا تھا۔

“جواب آئے گا اور زوردار آئے گا۔ ایسا جواب آئے گا جو ہم نے سوچا بھی نہیں ہوگا!”
“فاریہ” نے آنکھیں سکیڑ کر “فیصل” کی جانب طرف دیکھا۔

“مطلب جواب تو ملے گا، اور ایسا ملے گا کہ “زرام” کی ساری فلسفیانہ تقریر دھری کی دھری رہ جائے گی!”
“فیصل” نے ہنستے ہوئے ایک نظر “زرام” اور “ملیحہ” پر ڈالتے ہوئے کہا۔

“ہاں اب دیکھنا! بس دو سیکنڈ میں طوفان اٹھنے والا ہے!”
“فاریہ” نے ہلکی آواز میں کہا اور “ملیحہ” کی طرف توجہ دی۔
“ملیحہ” کی آنکھیں انگارے برسا رہی تھیں، وہ چپ چاپ “زرام” کو گھور رہی تھی جیسے اگلا حملہ سوچ رہی ہو۔

“واہ مسٹر “زرام”، واہ! بہت اچھی سپیچ تیار کی ہے، مگر آئی ایم سوری، میں امپریس نہیں ہوئی!”
“ملیحہ” نے طنزیہ انداز میں کہا، آنکھوں میں واضح بے اعتنائی لیے۔

“یقین مانو، تمہاری اس طرح کی سپیچ میں روز کسی نہ کسی انڈین ڈرامے میں سنتی ہوں اور ہمیشہ سوچتی ہوں کہ کتنی چیپ لائنز ہیں، جس نے بھی لکھی ہیں!”
وہ ہنکارا بھرتے ہوئے بولی، جیسے “زرام” کی محبت اور جذباتوں کی دھجیاں اڑا رہی ہو۔ “زرام”، جو پہلے ہی بمشکل ضبط کر رہا تھا، اس کی بات سن کر غصے میں آ گیا۔

“تمہیں لگتا ہے کہ میں یہ سب ڈائیلاگ بول رہا ہوں؟”
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں روز لڑکیوں کے ساتھ گھومتے ہوئے ایسے ڈائیلاگ مارنے والا بندہ ہوں؟”
“سمجھتی کیا ہو تم خود کو؟”
وہ دانت پیس کر بولا، آنکھوں میں بے یقینی اور غصہ لیے۔

“میں خود کو جو بھی سمجھتی ہوں، تم خود کو انسان ہی سمجھو اور اپنی جگہ پر قائم کھڑے رہو!”
“ملیحہ” نے سختی سے انگلی اٹھائی اور تنبیہ کی۔
“تم نے کہا تھا کہ تمہارا روزہ ہے اور میرے ساتھ کوئی بھی بدتمیزی نہیں کرو گے۔ اپنے وعدے کو یاد رکھو!”
“زرام”، جو اس وقت شدید غصے میں تھا، اس کی بات سنتے ہی لمحہ بھر کو ٹھٹک گیا۔

“یاد ہے سب کچھ، یاد ہے مجھے!”
اس نے گہری سانس لی، مگر لہجے میں واضح اشتعال تھا۔
“اگر نقصان پہنچانا ہوتا تو ابھی تمہیں اسی بلڈنگ سے نیچے پھینک دیتا!”
“اگر نہیں پھینکا، تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے سب یاد ہے!”
اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تھا۔

“واہ واہ واہ! تم مجھے اٹھا کر بلڈنگ سے نیچے پھینک دو گے؟”
“بڑے آئے، تمہارے باپ کا راج ہے!”
“ملیحہ” نے طنزاً تالیاں بجاتے ہوئے کہا۔
“پھینک کر دکھاؤ، اگر میں نے بھی تمہیں دھکا دے کر نیچے نہ گرا دیا تو!”
“یہ دھمکیاں کسی اور کو جا کر دینا!”
“زرام” کی برداشت اب ختم ہونے کو تھی، وہ آگے بڑھا تو “ملیحہ” فوراً پیچھے ہوئی۔

“میرے خیال سے تمہیں نا، فلحال سچ میں چلے جانا چاہیے!”
“زرام” نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
“اس سے پہلے کہ تم مجھے اتنا اکسا دو کہ میں سچ میں اٹھا کر تمہیں نیچے پھینک دوں!”

“ہاں تو جانے دو! تم ہی ہو جو ہمیں جانے نہیں دے رہے۔ ہم تو کب سے جانا چاہتے ہیں!”
“ملیحہ” نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔
“زرام” نے “فاریہ” کی طرف دیکھا، جو خاموش تماشائی بنی کھڑی تھی۔

“پلیز، اپنی دوست کو لے کر اس وقت یہاں سے چلی جاؤ!”
“زرام” نے سخت لہجے میں کہا۔

“میں کیسے لے کے جاؤں؟”
“اب جیسے آپ لے کر آئے ہیں، ویسے ہی واپس چھوڑ کر آئیں!”
“فاریہ” نے روہانسی شکل بنائی۔
“ویسے بھی ہمیں اپنی جاب پر جانا ہے، کال سینٹر سے لیٹ ہو رہی ہوں، آج کی تنخواہ بھی کٹ جانی ہے!”
وہ اداس ہو کر بولی، کیونکہ اس نے تو افطاری کا بھی پلان بنا رکھا تھا، جو “ملیحہ” کی ضد کی وجہ سے چوپٹ ہو چکا تھا۔

“زرام” نے نظریں اٹھا کر “فاریہ” کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا:
“نہیں کٹے گی تمہاری سیلری، ٹینشن فری ہو کر جاؤ!”

“مطلب؟”
“فاریہ” نے حیرانی سے پوچھا۔

“تمہارے کال سینٹر والوں سے میری بات ہو چکی ہے، تمہاری تنخواہ نہیں کٹے گی!”

“واہ، میرا کھڑوس باس مان گیا!”
“فاریہ” خوشی سے بولی۔
“واہ بھائی واہ، “زرام” بھائی آپ تو کمال کی چیز ہیں!”

“بہت کمال کی چیز ہے! ایک دن کی تنخواہ ہمیں لے کر دے رہا ہے، وہ بھی بندوق کی نوک پر! تو یہ اچھا کیسے ہو سکتا ہے؟”
“ملیحہ” نے “زرام” کو پھر سے طعنہ مارا۔

“زرام” نے اس کی بات سنی اور طنزیہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔
“مجھے اچھا بننے کا کوئی شوق نہیں ہے!”
وہ مزید قریب ہوا۔
“اب تم انتظار کرنا! میں بہت جلد تمہارے گھر والوں کے پاس تمہارا رشتہ مانگنے آ رہا ہوں!”

“ملیحہ” کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، مگر “زرام” کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
“اور اگر تم نے انکار کیا تو پھر مجھے کوئی دقت نہیں!”
“زرام” نے قدم جمایا اور سنجیدگی سے کہا:
“تمہیں تمہارے گھر سے، تمہارے کالج سے، یا تمہارے کال سینٹر سے اٹھا کر لے جانے میں!”
“اور اتنا جگرا رکھتا ہوں کہ تمہیں اٹھا کر لے بھی جاؤں گا اور نکاح بھی کروں گا!”
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر نظریں گہری کرتے ہوئے بولا:
“اب تمہاری مرضی ہے کہ تم نے باعزت طریقے سے میرے ساتھ شادی کرنی ہے، یا پھر…… سمجھ تو گئی ہوگی؟”

“تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟”
“ملیحہ” نے آنکھیں سکیڑ کر “زرام” کو گھورا، جیسے اس کی بات پر یقین نہ آیا ہو۔

“ہاں، بالکل دھمکی دے رہا ہوں!”
“اور میں جو دھمکیاں دیتا ہوں، انہیں بہت جلد سچ بھی کر دیتا ہوں!”
“اس لیے، مس “ملیحہ”، مجھے ہلکے میں مت لینا!”
“زرام” نے ایک قدم آگے بڑھایا، اس کی نظروں میں نظریں گاڑھتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا مگر وہ اب کی بار گھبرائی نہیں تھی۔

“تم کیا مجھے اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہو جو تم بولو گے، میں وہ سنتی جاؤں گی، جو تم بولو گے، وہ میں کرتی جاؤں گی؟”
“ملیحہ” نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا، چہرے پر حیرت بھی تھی۔

“نہیں، تم میری جاگیر نہیں ہو… لیکن بہت جلد تم پر میرا حق ہوگا، اور وہ بھی پورے اختیار کے ساتھ!”
“زرام” کی گہری نظریں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں۔

“تمہارا مجھ پر کبھی حق—”
“ملیحہ” نے غصے سے کہنا چاہا، مگر وہ اپنی بات مکمل نہ کر سکی۔

“شششش… بیوٹی کوئین! تم پہلے ہی بہت کچھ بول چکی ہو، اب اور بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
“زرام” نے انگلی سختی سے اس کے لبوں پر رکھ کر اسے خاموش کروا دیا، اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی شدت تھی۔ “ملیحہ” کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا، جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بے تاب ہو۔ وہ اس شخص کے سامنے زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی تھی، نہ ہی مزید اپنا کانفیڈنس برقرار رکھ سکتی تھی۔ کچھ تھا “زرام” میں، کچھ ایسا جو “ملیحہ” کو اس کی گہری نظروں کا سامنا کرنے سے روک رہا تھا۔ وہ تیزی سے “فاریہ” کا ہاتھ تھام کر باہر کی جانب بھاگی۔ اس بار “زرام” نے اسے روکا نہیں، بلکہ “فیصل” اور “زرام” بھی تیز قدموں سے اس کے پیچھے بڑھ گئے۔

“ملیحہ”، گاڑی میں بیٹھو!”
“زرام” نے سختی سے کہا، کیونکہ “ملیحہ” “فاریہ” کا ہاتھ تھامے تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی، جیسے کسی بھی قیمت پر اس کی بات نہ ماننے کا ارادہ رکھتی ہو۔

“مجھے نہیں بیٹھنا تمہاری گاڑی میں!”
“ملیحہ” نے پلٹ کر تیز لہجے میں کہا۔

“کیا چاہتی ہو تم؟”
“تمہیں پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آتی؟”
“گاڑی میں بیٹھو!”
“زرام” دھاڑا، اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تھا۔
پتہ نہیں کیوں، مگر “ملیحہ” کو اس کی یہ شدت خوفزدہ کر گئی۔ اس کے قدم خودبخود رک گئے، اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور فیصلہ کر پاتی، “زرام” نے اس کا ہاتھ تھاما اور گاڑی کی طرف کھینچ لیا۔ “ملیحہ” پل بھر کے لیے بے بس ہو گئی، اور “فاریہ” بھی اس کے ساتھ ہی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ باقی سفر خاموشی میں کٹا۔ “ملیحہ” حیران رہ گئی جب گاڑی سیدھا ان کے کال سینٹر کے سامنے جا کر رکی۔ اس کا مطلب تھا کہ “زرام” نے پہلے ہی سب معلومات لے رکھی تھیں۔ جیسے ہی گاڑی رکی، “ملیحہ” بجلی کی تیزی سے اپنا بیگ سنبھالتی ہوئی باہر نکلی، فاریہ بھی اس کے ساتھ ہی اتری، اور “زرام” کی گاڑی لمحوں میں وہاں سے اڑتی چلی گئی۔دونوں اب بھی کالج کی یونیفارم میں تھیں، مگر یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اکثر وہ کالج سے سیدھا کال سینٹر آ جاتی تھیں، اور وقت کی بچت کے لیے اوپر پہنی ہوئی عبایا نہیں اتارتی تھیں۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا، بس فرق یہ تھا کہ آج کے دن کی شدت اور “زرام” کی الفاظ کی گونج ابھی تک “ملیحہ” کے ذہن میں باقی تھی۔
°°°°°°°°°°
سورج ڈھلنے کے قریب تھا، مگر میدان میں ابھی بھی روشنی کی کرن باقی تھی۔
کھلے آسمان تلے، ایک قدیم برگد کے درخت کے نیچے، چوڑے دائرے میں دری بچھائی گئی تھی۔ سامنے ایک اونچی لکڑی کی کرسی رکھی گئی تھی، جو اس بات کا نشان تھی کہ آج یہاں فیصلہ ہونے والا ہے۔ چاروں طرف گاؤں کے معتبر لوگ، بوڑھے، جوان اور عورتیں جمع تھیں۔ کچھ لوگ گھوڑوں پر سوار تھے، کچھ چارپائیوں پر بیٹھے تھے، جبکہ زیادہ تر لوگ زمین پر ہی براجمان تھے۔ یہ وہی مقام تھا جہاں کبھی “سلطان لغاری” انصاف کیا کرتا تھا، مگر برسوں سے یہ جگہ “توقیر لغاری” کے نام ہو چکی تھی۔ آج، پہلی بار، اس جرگے میں “زیغم سلطان” بیٹھنے والا تھا!
“زیغم” کو خاص طور پر جرگے میں بلایا گیا تھا، مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ آج کا مقدمہ کس کے بارے میں ہے مگر حادثاتی طور پر یہ جرگہ رکھا گیا تھا تو مطلب صاف تھا کہ کچھ نہ کچھ تو بہت اہم ہے۔ “مائد” کو “زیغم” نے منع بھی کیا تھا کہ وہ رہنے دے وہ آرام کرے اس کا روزہ ہے مگر “مائد” اس وقت کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتا تھا، اسے اپنے یار کی جان کی حفاظت کرنی تھی کیونکہ ابھی “زیغم” بہت سالوں بعد واپس آیا تھا تو اس کے ارد گرد اعتماد کے لوگوں کی تصدیق کیے بغیر “مائد” “زیغم” کو کسی بھی لمحے اکیلا چھوڑنے کے حق میں نہیں تھا اس لیے وہ بھی اس کے ساتھ ہی جرگہ میں آیا تھا۔ جیسے ہی “زیغم” “مائد” اور اپنے چند خاص لوگوں کے ساتھ وہاں پہنچا، سب کی نظریں اس پر جم گئیں۔ کچھ دیر کے لیے تصوف کو ایسا لگا جیسے “سلطان لغاری” کی جوانی کا روپ لوٹ آیا ہو۔ وہی قد کاٹھ، وہی چوڑا سینہ۔ “سلطان” جیسی گندمی جاذب نظر رنگت، وہی گہری نیلی آنکھیں جو کسی کو بھی میگنٹ کی طرح اپنی جانب کھینچنے کی کشش رکھتی تھی۔ سفید شلوار قمیض، کندھے پر اجرک، آنکھوں میں باپ جیسا دبدبہ۔ وہ شان سے چلتا ہوا آگے بڑھا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ لوگوں کی نظریں نہیں ہٹ رہی تھی “زیغم سلطان” سے۔ وہ سالوں بعد لوٹا تھا۔ کبھی وہ اپنے بابا سائیں کے ساتھ جرگہ میں کبھی کبھار آیا کرتا تھا مگر آج وہ اپنے بابا سائیں کی جگہ جرگہ میں فیصلہ کرنے کے لیے بیٹھا ہوا تھا۔ سالوں امریکہ میں رہنے کے بعد اپنے سندھی سٹائل کو اپناتے ہوئے اور شلوار قمیض میں آیا تھا۔

“السلام و علیکم!”

“وعلیکم السلام!”
سب نے بلند آواز میں ایک ساتھ کہا تھا۔”مائد” سائیڈ پر رکھی ہوئے کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔

“آج کا مقدمہ کیا ہے؟”
“زیغم” نے دو ٹوک الفاظ میں پوچھا۔

سامنے بیٹھے ایک بزرگ نے گہری سانس لی، پھر بولے:
“آج، یہ جرگہ انصاف کے لیے بیٹھا ہے، اور انصاف کرنے والا تُو ہے، “زیغم” پُت!”
بزرگ کے چہرے پر درد کی پرچھائیاں جھریوں کی لکیروں سے چھلک رہی تھی۔ “زیغم” نے سوالیہ نظروں سے بزرگ کی جانب دیکھا۔ اس سے پہلے کہ “زیغم” کچھ پوچھتا۔ بزرگ کے پیچھے سے ایک عورت کی آواز گونجی۔

“سائیں ہمیں انصاف چاہیے!”
سب کی نظریں اس عورت کی طرف اٹھ گئیں۔ اس کا چہرہ دھوپ سے جھلسا ہوا تھا، مگر آنکھوں میں درد کی کہانی تھی۔ جیسے برسوں کے انتظار کے بعد وہ پہلی بار بولنے جا رہی ہو۔

“جی بولیں میں سن رہا ہوں!”
“زیغم” نے عورت کو بات جاری رکھنے کو کہا تھا۔

“یہ جو تیرا چچا “توقیر” تھا، اس نے ہماری بہنوں، بیٹیوں، عورتوں کی عزتوں کے ساتھ جو کھیل کھیلا، ہمیں اس کا حساب چاہیے!”
“ہمیں انصاف چاہیے سائیں ہمیں انصاف چاہیے!”
فضا میں سناٹا چھا گیا۔ “زیغم” نے اردگرد بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھا، سب کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، جیسے وہ سب کچھ جانتے تھے مگر برسوں سے خاموشی کا بوجھ اٹھائے بیٹھے تھے۔”زیغم” نے اپنے ہاتھ سختی سے بھینچ لیے۔ وہ “توقیر” کی حرکتوں سے ناواقف نہیں تھا۔ ہمیشہ سے “توقیر” کوٹھوں پر آیا جایا کرتا تھا، یہ بات “زیغم” جانتا تھا مگر جو بات آج اس کے سامنے کھل کر آ رہی تھی، وہ اس کے صبر کی آخری حدوں کو توڑ کر گزر گئی تھی۔ کرتوتیں “توقیر” نے کی تھی مگر شرم سے پانی پانی “زیغم” ہو رہا تھا۔

“کس کس کو اس ظالم نے نقصان پہنچایا؟”
“زیغم” نے نظریں نیچے جھکائے دھیمے مگر خطرناک لہجے میں پوچھا۔
جرگہ میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی تھی۔ پھر ایک ایک کر کے عورتیں کھڑی ہونا شروع ہو گئیں۔ کسی کا بھائی مارا گیا تھا، کسی کا شوہر، کسی کی بہن کو زبردستی بیاہ دیا گیا تھا، اور کسی کو برسوں تک عزت پامال کرنے کے باوجود ڈر اور دبدبے سے خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

“اور آپ لوگ خاموش کیوں رہے؟”
“زیغم” کی آواز گرجدار تھی۔

سامنے بیٹھے ایک بوڑھے نے لمبی سانس لی۔
“ہماری خاموشی خوف کی وجہ سے تھی، پُت!”
“توقیر” کے پاس بندوقیں تھیں، طاقت تھی، اور حکومت کا ساتھ تھا۔ ہمارا منہ کھولنے سے پہلے وہ زبان بند کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔”
“اگر غلطی سے کسی کے منہ سے اس کا نام تک پھسل جاتا تو اس کی باقی کی عزت بھی کہاں محفوظ رہ جاتی تھی۔”
“رات کو بند دروازوں کو توڑ کر وہ گھر سے عزتوں کو باہر لا کر بے ابرو کر دیتا تھا اور ہماری آواز سننے والا کوئی نہیں تھا، جب آواز اٹھاتے تھے ہماری ہی زمینوں میں کاٹ کر ہمیں گاڑ دیا جاتا تھا۔ کیسے ہم منہ کھولتے؟”
“کیسے کچھ کرتے ہم کمزور اور بے بس تھے!”
بزرگ بتاتے ہوئے رو پڑا تھا۔

“مگر اب اس کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے!”
“ہمیں جب سے پتہ چلا کہ اب جرگہ کے فیصلے “سلطان” سائیں کا بیٹا کرے گا ہمیں لگا ہمارے لیے روشنی کی امیدیں آگئی ہیں، ہمیں لگا کہ کوئی آگیا ہے ہمارے سر پر ہاتھ رکھنے کے لیے!”
“زیغم” نے ایک نظر ان عورتوں پر ڈالی جو امید بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں
سب کی نظروں میں امید تھی کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

“آج، “زیغم سلطان” کا پہلا فیصلہ یہ ہے کہ اس زمین پر کسی بھی عورت پر ظلم نہیں ہوگا!”
“جو جرم ہوئے، ان سب کا حساب ہوگا۔ میں خود جا کر “توقیر” سے حساب لوں گا، اس نے جو ظلم کیے ہیں اسے ان کی قیمت چکانی پڑے گی!”
“زیغم” کا فیصلہ سنتے ہی لوگوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں، کچھ کے چہروں پر سکون آ گیا تھا، تو کچھ کے آنسو بہنے لگے۔ آج، برسوں بعد، اس برگد کے درخت کے نیچے، انصاف کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔ برسوں بعد کسی نے ان کی فریاد سن لی تھی۔ وہ عورت بے بسی سے رو رہی تھی، اور اس کے آنسوؤں میں برسوں کا درد جھلک رہا تھا۔ پتہ نہیں کیوں “زیغم” کے کہنے پر بھی اسے کچھ زیادہ سکون نہیں ملا تھا۔ “زیغم” کی نظریں اس کے شوہر پر گئیں، جس کی ایک ٹانگ نہیں تھی، مگر اس کی آنکھوں میں آج بھی غیرت اور عزت کی چمک باقی تھی۔ “زیغم” نے لب بھینچ لیے، اس کے اندر غصے کی ایک شدید لہر اٹھی۔ “زیغم” جاننا چاہتا تھا کہ وہ کیا چاہتی ہے کیونکہ اس کے آنسو بہتے ہوئے کچھ کہنا چاہتے تھے۔

“آپ روئیں مت، مجھے بتائیں کہ آپ کیا چاہتی ہیں؟”
“زیغم” نے بلند آواز میں پوچھا۔

“سائیں! ہمیں ایسا انصاف چاہیے جس سے ہمارے دل کو تسکین ملے!”
“سالوں تک ہماری بیٹیوں کی عزتوں کو پیروں تلے روندھا گیا!”
“نہ تو ہماری اپنی عزت کی کوئی قیمت تھی اور نہ ہی ہماری بیٹیوں کی عزت کی کوئی قیمت تھی!”
عورت دہائی دیتے ہوئے بولی، اور اس کی آواز میں ایسا درد تھا کہ وہاں موجود ہر شخص کے دل میں چبھنے لگا۔

“زیغم” نے اپنی جگہ سے اٹھ کر ایک گہری نظر سب پر ڈالی۔ وہ دھیمے مگر پُراثر لہجے میں بولا:
“اگر “زیغم سلطان” کے پاس تم لوگ انصاف کے لیے آئے ہو، تو یہ یقین رکھو کہ “زیغم سلطان”، “سلطان لغاری” کا بیٹا ہے!”
“زیغم” کبھی ناانصافی نہیں کرے گا۔ حقداروں کو حق ملے گا، مظلوموں کو انصاف ملے گا! یہ میرا وعدہ ہے تم سب سے!”

وہ ایک لمحے کو رکا، اپنے الفاظ کا وزن مزید بڑھا رہا تھا۔
“آج کے بعد اس گاؤں کی بہو بیٹیاں آزاد گھومیں گی، انہیں کسی خوف کا سامنا نہیں ہوگا۔ میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ اس گاؤں کی کسی بھی بیٹی کے سر سے دوپٹہ نہ اترے! اگر ایسا ہوا، تو یہ “زیغم سلطان” کی توہین ہوگی!”
“یہاں کی ہر بیٹی میری بیٹی ہے، ہر بہن میری بہن ہے، ہر ماں میری ماں ہے، اور میں ان سب کی حفاظت کو یقینی بناؤں گا!”
مضبوط لہجے میں یقین دہانی کروا رہا تھا۔
“زیغم” کی بات پر لوگوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ کچھ آنکھوں میں امید جاگی، تو کچھ کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ جو الفاظ وہ سن رہے ہیں، وہ حقیقت میں ممکن بھی ہوں گے یا نہیں کیونکہ “توقیر” کا ڈر اور دبدبہ اس قدر ان پر حاوی تھا کہ سب کچھ نظروں کے سامنے دیکھ کر بھی یقین کرنے کے لیے ان کو ہمت چاہیے تھی۔ “توقیر لغاری” نے برسوں تک ایسا ظلم کیا تھا کہ جس سے ابھی تک پردے اٹھنے باقی تھے۔

وہ عورت، جس کا شوہر اپاہج ہو چکا تھا، دوبارہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی:
“یہ میرے شوہر ہیں، ان کی ایک ٹانگ نہیں ہے۔ اور ان کی ٹانگ کاٹنے والا کوئی اور نہیں، بلکہ وہی “توقیر لغاری” ہے! ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کی عزت کا سودا نہیں کیا! بس یہی قصور تھا ان کا! میری عزت بچانے کے لیے یہ آگے بڑھے، میری عزت بھی نہیں بچ سکی،اور اب میرے شوہر کو زندگی بھر کے لیے اپاہج بھی کر دیا گیا!”
“بے دردی کے ساتھ کلہاڑی مار کر میرے شوہر کی ٹانگ کاٹ دی۔”
عورت کی بات پر “زیغم” کے ماتھے کی رگیں تن گئیں، مٹھی سختی سے بھینچ گئی، مگر اس نے اپنے غصے کو ضبط میں رکھا۔ یہ وقت ان لوگوں کو دلاسہ دینے کا تھا، یقین دلانے کے لیے تھا کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔ سالوں سے ظلم سہتے ہوئے لوگوں میں اعتماد جگانا ضروری تھا۔ “زیغم سلطان” گہری سانس لیتے ہوئے گہری سانس لیتے آگے بڑھ کر عورت کے قریب جا کھڑا ہوا۔

“میں تم سب کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں، مجھے معاف کر دو!”
“اگر مجھے ذرا سا بھی احساس ہوتا کہ بابا سائیں کے گزر جانے کے بعد گاؤں میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے، تو “زیغم” سب کچھ چھوڑ کر یہاں آتا!”
“میں مٹ جاتا، مگر کہیں اور نہ جاتا! تم سب کی تکلیفوں کا میں ازالہ کروں گا! یہ میرا وعدہ ہے!”

“زیغم” نے پورے گاؤں کی طرف دیکھا، پھر اپنی دھیمی مگر گرجدار آواز میں بولا:
“ہر مظلوم کو اس کا حق ملے گا! ہر عورت کو انصاف ملے گا! جو ظلم ہو چکا ہے، اس کا بدلہ ضرور لیا جائے گا!”
“توقیر لغاری” کو وہی سزا ملے گی جو تم سب مقرر کرو گے! یہ مت سوچو کہ وہ میرا خونی رشتہ دار ہے، انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے اور پرائے نہیں دیکھے جاتے! اور تم سب میرے اپنے ہو!”
لوگ حیرت سے “زیغم” کو دیکھ رہے تھے، کچھ کے آنسو بہہ رہے تھے، کچھ کے چہرے امید سے روشن ہو رہے تھے۔ “زیغم” کی باتوں نے برسوں سے دبے ہوئے دلوں میں روشنی کی ایک کرن پیدا کر دی تھی۔

“یہ گاؤں میرے باپ نے اپنی محبت سے سینچا تھا، میں وہی دور واپس لے کر آؤں گا! تم سب کو روزگار ملے گا، تمہارے گھروں میں پھر سے خوشیاں آئیں گی! جہاں جہاں ظلم ہوا ہے، وہاں وہاں میں روشنی لے کر آؤں گا! اور تم سب کو اس پر یقین رکھنا ہوگا، کیونکہ “زیغم سلطان” صرف وعدے نہیں کرتا، انہیں پورا بھی کرتا ہے!”
“اور مجھ پر یقین کرنے کی وجہ بابا سائیں ہیں۔ اگر بابا سائیں اپنے گاؤں والوں کے ساتھ کبھی ناانصافی نہیں کرتے تھے، تو یقین رکھو میں بھی ان کا ہی بیٹا ہوں، ان کا ہی خون ہوں، کبھی ناانصافی نہ کروں گا نہ ہونے دوں گا۔ ظلم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا!”
یہ کہتے ہی “زیغم” نے ایک قدم پیچھے ہٹا لیا۔ پورے جرگے میں خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں امید کی چمک تھی۔ آج، برسوں بعد، انصاف کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔ “زیغم سلطان” تو وہاں سے جا چکا تھا مگر اس کا دلایا ہوا یقین لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لے آیا تھا جرگہ سے لوگ “زیغم” کے لیے دعائیں کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
°°°°°°°°°
دن بھر کی بھاگ دوڑ، جرگے میں گھنٹوں بیٹھنے کی تھکن، لوگوں کے مسائل سننے اور ان کے دکھ درد بانٹنے کے بعد “زیغم” اور “مائد” کا برا حال تھا۔ “زیغم” ابھی تک مجبور لوگوں کی دکھی داستان سن کر پریشان تھا۔ وہ سچ میں دل سے ان لوگوں کا درد محسوس کر رہا تھا۔ باہر سے سخت نظر آنے والا “زیغم سلطان” اندر سے بہت نرم دل رکھنے والی شخصیت کا مالک تھا۔ سورج ڈھلنے کو تھا، گاؤں کی فضا میں ایک عجب سا سکون تھا، مگر دونوں کے اندر جیسے تھکن کی گہری لہر تھی۔ دونوں کا روزہ تھا اور پہلا روزہ ہی بہت زیادہ بھاگ دوڑ میں گزر چکا تھا۔

“مائد” نے گاڑی اسٹارٹ کی اور ایک لمبی سانس لیتے ہوئے بولا:
“یار، آج تو دن بہت طویل لگ رہا ہے۔ صبح سے ایک لمحے کی فرصت نہیں ملی۔”

“زیغم” نے گردن سیٹ سے ٹکائی اور آنکھیں موند لیں، جیسے کچھ لمحوں کے لیے دم لینا چاہتا ہو۔ وہ ذہنی طور پر بہت زیادہ کرب میں تھا۔ اس کے گاؤں والے اتنی تکلیف میں تھے اور اسے احساس تک نہیں ہوا، یہ تکلیف اس سے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ اسے خاموش دیکھ کر “مائد” بھی خاموش ہو گیا تھا۔ گاڑی کچے راستے پر دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھی۔ باہر کھیتوں میں ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی، کہیں دور کسی کنویں پر عورتیں گھڑے بھر رہی تھیں، اور کچھ چرواہے مویشیوں کو واپسی کے راستے پر لے جا رہے تھے۔ گاؤں کا یہ منظر ہمیشہ سے ہی ایسا تھا، مگر آج، آج سب کچھ تھوڑا مختلف لگ رہا تھا۔ افطاری کا وقت ہونے والا تھا، تو لوگ تیزی سے گھروں کی جانب جا رہے تھے۔راستے میں کچھ لوگ کھجوریں اور پانی وغیرہ لے کر کھڑے ہوئے تھے تاکہ آنے جانے والے لوگوں کے روزے کھلوا سکیں۔ “زیغم” کو فوراً سے خیال آیا تھا کہ کل سے سحر و افطاری کے دسترخوان گاؤں میں سپیشل لگوائے جائیں گے۔ جہاں پر ہر عام و خاص آکر روزہ رکھ سکے اور افطار کر سکے گا۔ اسی لمحے، “زیغم” کے فون کی ٹون بجی۔ ایک دم خاموشی میں یہ آواز کسی تیروں کی بوچھاڑ جیسی محسوس ہوئی تھی۔ “زیغم” نے تھوڑا چونک کر جیب سے موبائل نکالا اور اسکرین پر نظر ڈالی۔ میسج پر کافی لمبا چوڑا پیغام لکھا گیا تھا۔

“غلطی کی اتنی سزا مت دو کہ میں مر جاؤں… خدا کے لیے میرا فون اٹھاؤ! “زیغم”، مجھے تم سے بات کرنی ہے… میں شرمندہ ہوں! میں نے جو کیا اس کی اتنی سزا کافی ہے۔ تمہاری جدائی تمہاری ناراضگی مجھ سے اور برداشت نہیں ہو رہی۔ تم پر یقین نہ کرنا… یہ میری سب سے بڑی غلطی تھی! پلیز، ایک بار میرا فون اٹھا لو… آئی لو یو “زیغم…” لو یو!”
“زیغم” کی نظریں موبائل کی اسکرین پر جم گئیں۔ جیسے وقت تھم گیا ہو، جیسے کوئی پرانا زخم دوبارہ ہرا ہو گیا ہو۔ “مائد” نے بہت غور سے اس کے چہرے کی جانب دیکھا، “زیغم” کی گرفت موبائل پر سخت ہو چکی تھی، مگر چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ نہ غصہ، نہ حیرت، نہ بے چینی۔ بس ایک خاموشی، جو اندر کہیں گونج رہی تھی۔

“کیا ہوا؟ کس کا میسج ہے؟”
“مائد” نے پوچھا، مگر “زیغم” نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس کی انگلیاں ایک پل کے لیے اسکرین پر رکی رہیں، جیسے وہ کچھ لکھنے کا ارادہ کر رہا ہو، مگر پھر اس نے موبائل کی سکرین آف کر دی اور فون سائیڈ پر رکھ دیا۔ گاڑی ایک کچے راستے پر ہلکے ہچکولے کھاتی ہوئی چل رہی تھی۔ سامنے گاؤں کا بڑا درخت نظر آ رہا تھا، وہی درخت جس کے نیچے کبھی “سلطان لغاری” کے وقت میں انصاف کی جرگہ رکھی جاتی تھی مگر اب جرگہ کی جگہ بدلی جا چکی تھی۔

“مائد” نے گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے ایک نظر “زیغم” پر ڈالی۔
“یار، کچھ تو بول، سب ٹھیک ہے نا؟”

“زیغم” نے گہری سانس لی، جیسے کوئی بوجھ اپنے اندر اتار رہا ہو۔ آنکھیں بند کیں، پھر آہستہ سے بولا:
“کچھ چیزیں وقت پر چھوڑ دینی چاہییں، “مائد…” جو بیت گیا، وہ بیت گیا۔ کچھ چیزیں وقت کے ساتھ ساتھ بے قدر ہو جاتے ہیں۔”

“مطلب؟”
“مائد” نے حیرانی سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔

“وقت ملے گا تو ضرور تمہیں سب کچھ بتاؤں گا تم سے کچھ چھپا نہیں سکتا مگر کچھ چیزیں بتانے کے لیے خود کو پہلے کچھ تکلیفی وقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، جن کے لیے ابھی میں تیار نہیں ہوں!”
سپاٹ سے لہجے میں بولا تو “مائد” خاموش ہو گیا تھا اسے خود سے لگا کہ شاید یہ صحیح وقت نہیں ہے “زیغم” سے کچھ بھی پوچھنے کا مگر کچھ تو ایسا تھا جو اسے تکلیف دے رہا تھا مگر وہ چہرے سے ظاہر نہیں کر رہا تھا۔ گاڑی گاؤں کے مرکزی راستے پر داخل ہو رہی تھی، مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی، اور “زیغم” نے نظریں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا… جیسے کسی انجانے سوال کا جواب تلاش کر رہا ہو۔ سامنے رکھے ہوئے پانی سے دونوں نے گاڑی کے اندر ہی روزہ افطار کیا اور گاڑی حویلی کی جانب رواں دواں تھی۔
°°°°°°°°°

کہانی کا تسلسل اگلے ایپیسوڈ میں محفوظ ہے۔

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *