Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode 30
صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ S.A
قسط نمبر: 30
═══════❖═══════
ماحد خاموشی سے عبیرہ کے کمرے میں داخل ہوا۔
کمرے کی ہلکی روشنی میں وہ رائٹنگ ٹیبل کے قریب کھڑا ہوا، ہاتھ کنارے سے سہارا لیے ہوئے۔
ایک آنسو بے اختیار ٹیبل پر گر گیا۔ فوراً ہاتھ کی پشت سے صاف کیا، جیسے خود سے بھی آنسوں چھپانا چاہتا ہو۔
مگر دل کے اندر کی تڑپ چھپنے کو تیار نہیں تھی۔
وہ کرسی کا سہارا لیتے ہوئے بیٹھ گیا۔
نظریں زمین پر جم گئیں، لیکن روشنی کی ایک چمک سامنے رکھی کتاب کے کنارے کو دیکھ کر رکی ،جیسے چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی عبیرہ کی یاد دلا رہی ہوں۔
ہر سانس بھاری تھا، دل کے اندر ایک خالی پن بیٹھا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
ٹیبل پر بکھرے کاغذ، کتابیں، اور ہوا کی ہلکی جنبش…
سب کچھ اسے عبیرہ کی غیر موجودگی یاد دلا رہی تھی۔
لب خاموش تھے، مگر ہاتھ، نظریں، اور چہرہ سب کچھ کہہ رہا تھا۔
ماحد رونا چاہتا تھا، مگر دماغ میں بابا کی آواز گونج رہی تھی۔
“کمزور لوگ روتے ہیں، ہم کمزور نہیں، ہم اسے ڈھونڈ لیں گے۔”
ماحد نے صرف سر ہلایا، آنکھیں جھکائیں، اور خاموش بیٹھا رہا۔
کچھ لمحے اسی خاموشی میں گزرے۔
پاؤں ہلکے ہلکے حرکت کر رہے تھے، اور نظریں ایک نقطے پر جم گئی تھیں۔
“آپی کہاں ہے؟ واپس آ جاؤ… کچھ اچھا نہیں لگتا آپ کے بغیر…”
ماحد یہ سوچتے سوچتے تڑپ کر رو رہا تھا۔
ایک معصوم بچے کی طرح، دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ لیے، آگے پیچھے ہل رہا تھا۔
اسی لمحے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھلا اور عروب نے اندر قدم رکھیں۔
ماحد کو اس طرح روتے دیکھ کر ماں کی آنکھوں سے بھی آنسو چھلک گئے۔
وہ آگے بڑھی اور ماحد کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔
ہاتھ کا لمس تھوڑا کانپ رہا تھا، مگر پھر بھی رکنے کو تیار نہیں تھا۔
ماحد نے چونک کر دیکھا، مگر اپنی ماں کی سوجی، لال آنکھیں دیکھ کر وہ مزید زور سے رو دیا۔
ماں کے ہاتھ کو تھام کر، لبوں سے اسے لگا کر ماتھے پر ٹکا دیا۔
جیسے ایک معصوم بچہ درد کے لمحے میں ماں کی آغوش میں چھپ جاتا ہے۔
سر ٹکائے، وہ ماں اور بیٹا کچھ لمحوں کے لیے خاموشی سے روتے رہے۔
کمرے میں صرف سانسوں کی ہلکی ہچکیاں، ہاتھوں کی لرزش، اور درد بھرے دلوں کی دھڑکنیں گونج رہی تھیں۔
“ماحد بیٹا… صبر سے کام لو۔”
عروب کے ہاتھ اس کی پیٹھ پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے، مگر آواز ساتھ نہیں دے پا رہی تھی۔
جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا۔
“اگر تم یوں… ٹوٹ جاؤ گے تو…”
آگے کے لفظ اس کے ہونٹوں پر آ کر رہ گئے۔
آنکھوں میں جمع آنسو بہنے لگے، اور آواز سسکی میں بدل گئی۔
ماحد نے سر نہیں اٹھایا۔
وہ ماں کے ہاتھ کی گرفت میں یوں ساکت تھا جیسے اب بس یہی لمس اسے درد کی گھڑی میں راحت دے سکتا ہو۔
عروب کی انگلیاں کبھی مضبوط ہو جاتیں، کبھی ڈھیلی پڑ جاتیں، جیسے وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہو۔
کمرے میں کوئی بات پوری نہیں ہو رہی تھی۔
لفظ ادھورے تھے، سانسیں بھاری، اور آنسو وہ سب کچھ کہہ رہے تھے جو کہا نہیں جا سکتا تھا۔
ماں اور بیٹا دونوں خاموش تھے…
اور اس خاموشی میں عبیرہ کی کمی سب سے زیادہ بول رہی تھی۔دوسری جانب تبریز خان روز کی طرح اپنی بیٹی کی تلاش کے بعد تھک ہار کر گھر واپس لوٹا تھا ۔
گھر میں داخل ہوا تو نہ ماحد نظر آیا، نہ عروب۔
ملازموں سے پوچھتے ہوئے اس کا رخ سیدھا عبیرہ کے کمرے کی طرف ہو گیا۔جیسے اس کا دل جانتا ہو کہ دونوں وہیں ملیں گے۔
دروازہ کھولا تو
اندر کا منظر دیکھ کر اس کے قدم وہیں رک گئے۔
ماحد کرسی پر بیٹھا تھا، سر جھکا ہوا۔
عروب اس کے قریب کھڑی تھی، ایک ہاتھ اس کی پیٹھ پر رکھا ہوا۔
کمرے میں سسکیوں کی ہلکی سی آواز اب بھی باقی تھی۔
تبریز خان کی آواز سخت تھی، اور نظریں اس سے بھی زیادہ سخت تھیں ۔
“افسوس ہے مجھے تم پر، ماحد۔
بجائے اس کے کہ تم اپنی ماں کو حوصلہ دو،
تم یہاں عورتوں کی طرح بیٹھ کر رو رہے ہو۔”
ماحد نے چونک کر سر اٹھایا۔
جلدی سے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے۔
عروب اب بھی رو رہی تھی، اس نے نظریں نہیں اٹھائیں۔
“بابا…”
ماحد کی آواز بھری ہوئی تھی، مگر اس نے بات پوری کی۔
“بابا، درد اگر سینے میں دبایا جائے تو ختم نہیں ہوتا، بڑھ جاتا ہے۔
اور آنسو صرف عورت بہا سکتی ہے… یہ کہاں لکھا ہے؟”اور یہ بھی بتا دیں جب مرد تکلیف میں ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے۔”؟ماحد اپنی بہن کی جدائی میں پوری طرح سے ٹوٹ چکا تھا ۔
تبریز خان نے گہری سانس لی۔اور نظریں اس پر جمائے رکھی،دو قدم بڑھ کر کمرے کے اندر میں آیا،
“مرد کو صبر کرنا چاہیے۔
اللہ نے مرد کو مضبوط بنایا ہے۔آواز میں سختی برقرار تھی۔”میں یہ نہیں کہتا کہ آنسو صرف عورتوں کے لیے ہیں،
مگر مشکل وقت میں اگر مرد ہی ٹوٹ جائیں
تو حالات کا مقابلہ پھر کون کرے گا؟”
کمرے میں خاموشی اتر آئی۔
ماحد نے نظریں جھکا لیں۔دل مطمئن نہیں تھا مگر باپ کے احترام میں جواب نہیں دے پایا۔۔
عروب کا ہاتھ اس کی پیٹھ پر اب بھی تھا، مگر اب وہ ہاتھ خود بھی کانپ رہا تھا۔کہنا چاہتی تھی مگر ہمیشہ کی طرح اپنے شوہر کی فرمانبردار بیوی فوراً سے نہیں بولی۔
عبیرہ کا کمرہ…
اور اس کے اندر تین لوگ،
ہر ایک اپنے اپنے انداز میں درد کو جھیل رہا تھا۔
“بابا، خدا کے لیے… آپی کو کہیں سے بھی ڈھونڈ کر لے آئیں۔
اب اور صبر نہیں ہوتا۔ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے…
اور جب وہ حد ٹوٹ جائے تو زندگی، موت سے زیادہ بدتر لگنے لگتی ہے۔”
یہ کہتے ہوئے ماحد تڑپ کر رونے لگا اور اپنے باپ کے قدموں میں جا بیٹھا۔
یہ لمحہ بے حد تکلیف دہ تھا۔
ایک جوان بیٹا، آنسوؤں میں ڈوبا ہوا، اپنے باپ کے قدموں میں بیٹھا تھا…
صرف اس امید پر کہ شاید وہ اس کی بہن کو واپس لے آئے۔
عروب کی سسکیاں اور تیز ہو گئیں۔
اس نے دوپٹے کا پلو منہ پر رکھ لیا،
جیسے اپنی آواز کو اندر ہی کہیں دفن کرنا چاہتی ہو…
مگر سسکیاں ماننے کو تیار نہیں تھیں۔
تبریز خان نے چھت کی طرف دیکھا اور گہری سانس لی۔جیسے یہ لمحہ اس پر حد سے زیادہ بھاری گزر رہا ہو۔
نیچے جھک کر ماحد کے کندھوں پر ہاتھ رکھا،
اسے اٹھایا اور کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ماحد لگ کر اور بھی پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔باپ کی شفقت اسے مزید کمزور کر گئی۔
“کیوں توڑ رہے ہو تم دونوں مجھے؟”
آواز بھاری تھی، دبی ہوئی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے، میں تکلیف میں نہیں ہوں؟
وہ میری بھی بیٹی ہے۔
ایک لمحہ… ایک سیکنڈ بھی سکون سے نہیں گزرتا۔
اگر میں رو نہیں رہا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں درد میں نہیں ہوں۔
تم لوگ مجھے کیوں توڑ کر رلانا چاہتے ہو؟”
یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک گئے۔
اس نے فوراً رخ موڑ لیا،
جیسے کسی کو آنسو دکھانا گوارا نہ ہو۔
عروب چلتے ہوئے باپ اور بیٹے کے پاس آکھڑی تھی،
دونوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔ٹوٹی ہوئی ماں اپنے شوہر اور بیٹے کو ہمت دینے کے لیے آگے بڑھی تھی۔
“مت روکیں خود کو…..آپ بھی رو لیجیے ، خان…”
عروب کی کپکپاتی آواز اس کے قریب آ کر ٹھہری۔
تبریز خان نے آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔
آنکھوں میں وہی ٹھہرا ہوا درد۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں…. صحیح کہہ رہی ہوں رو لیجیے غم ہلکا ہو جائے گا.. ..اس طرح اندر ہی اندر کب تک درد جھیلتے رہیں گے؟
درد کو زیادہ دیر تک دبایا جائے تو وہ ناسور بن جاتا ہے۔”
“میں چاہتا ہوں یہ درد ناسور ہی بنے،”
آواز دھیمی تھی، مگر فیصلہ اس میں صاف تھا۔
“تاکہ جب وہ شخص میرے سامنے آئے
جس نے مجھ سے میری بیٹی،
میرے گھر کی عزت،
میرے گھر کی لاج چھینی ہے…
تو میں اسے ایسا انجام دکھاؤں
کہ کوئی بدبخت دوبارہ کسی باپ سے اس کی بیٹی چھیننے کی جرأت نہ کرے۔”
تبریز خان کے لہجے میں غصہ اور تپش اس قدر واضح تھی کہ ماحد اور عروب دونوں خاموش ہو گئے۔
صرف ایک لمحہ، ایک جھلک…
باپ کے دل کے اندر بھٹکتی ہوئی آگ کی وہ ہلکی سی چمک دیکھ کر،
ان دونوں کو فوراً احساس ہو گیا کہ درد صرف وہیں نہیں جو وہ خود محسوس کر رہے تھے۔
اس سے زیادہ، ماحد اور عروب اب رو کر یا کچھ کہہ کر کسی امتحان کا سامنا نہیں کر سکتے تھے۔
اس لمحے، خاموشی ہی سب سے بڑی زبان تھی۔
کمرے میں خاموشی اتر گئی۔
جیسے ہر درد اپنی جگہ جم کر انتظار کر رہا ہو۔
═══════❖═══════
گاؤں کے پرانے حجرے میں جرگہ بیٹھ چکا تھا۔
فرش پر سفید چادریں بچھی تھیں، دیواروں کے ساتھ بزرگ قطار میں بیٹھے تھے۔
فضا میں ایک سنجیدہ خاموشی تھی، ایسی خاموشی جو بولنے سے پہلے ہی فیصلہ تھما دیتی ہے۔
کوئی اونچی آواز نہیں تھی، کوئی غیر ضروری جنبش نہیں۔
بس نظریں تھیں جو کبھی زمین پر جھکتی تھیں، کبھی ایک دوسرے کے چہروں پر رک جاتیں۔
تبریز خان ایک طرف بیٹھا تھا۔
کندھے تن گئے تھے، ہاتھ گھٹنوں پر جمی گرفت میں تھے۔
چہرہ سخت تھا، آنکھیں سامنے، جیسے وہ یہاں رحم مانگنے نہیں آیا ہو بلکہ برداشت کی آخری حد پر کھڑا ہو۔
وہ باپ تھا، جس کی بیٹی گھر سے گئی تھی، اور واپس نہیں آئی تھی۔
اس کے بالکل سامنے افضل خان بیٹھا تھا۔
نگاہیں بار بار ادھر اُدھر ہو رہی تھیں، بیٹھک میں وہ ٹھہراؤ نہیں تھا جو تبریز خان کے وجود سے ٹپک رہا تھا۔
چہرے پر ایک انجانی سی سختی تھی، جیسے وہ خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہو کہ وہ بے قصور ہے۔
درمیان میں شمشیر لالہ بیٹھا تھا۔
عمر، تجربہ اور وقار ایک ساتھ اس کے چہرے پر لکھے تھے۔
آنکھیں نیم وا تھیں مگر ہوش پوری طرح حاضر تھا۔
وہی اس جرگے کا محور تھا، اس شخص کے ایک جملے پر فیصلے بنتے اور بگڑتے تھے۔
یہ عام بیٹھک نہیں تھی۔
یہ وہ جگہ تھی جہاں بات گھمائی نہیں جاتی، اور سچ سے نظریں نہیں چرائی جاتیں۔
یہاں ہر لفظ سوچ کر بولا جاتا تھا، اور ہر خاموشی کچھ نہ کچھ کہہ جاتی تھی۔
جرگہ مکمل ہو چکا تھا۔
سب آ چکے تھے۔
شمشیر لالہ نے نظریں اٹھائیں۔
حجرے میں بیٹھے سب لوگ سیدھے ہو گئے۔
وہ لمحہ آ گیا تھا جس کا سب کو انتظار تھا۔
“اب بات شروع کرتے ہیں۔”
آواز اونچی نہیں تھی مگر وزن دار تھی۔
ایسی آواز جس میں ٹال مٹول کی گنجائش نہیں ہوتی۔
شمشیر لالہ کی نگاہ پہلے تبریز خان پر گئی۔
وہ خاموش تھا۔
آنکھوں میں دکھ تھا مگر زبان بند تھی۔
بیٹی کا باپ ہونے کے ناتے وہ اندر ہی اندر ٹوٹ چکا تھا، مگر چہرے پر ایسا ٹھہراؤ تھا جو رعب بھی رکھتا تھا اور وقار بھی۔
پھر شمشیر لالہ نے رخ افضل خان کی طرف کیا۔
چند لمحے اسے دیکھا۔
ایسے جیسے اس کے چہرے سے سچ نوچ لینا چاہتا ہو۔
“افضل خان۔”
“تبریز خان جو الزام لگا رہا ہے، کیا وہ سچ ہے؟”
شمشیر لالا کی آواز میں گرج شامل ہو چکی تھی۔
شمشیر لالہ کی آواز گونجی تو حجرے میں بیٹھے بزرگ خاموش ہو گئے۔
کسی نے سر نہیں ہلایا، کسی نے سرگوشی نہیں کی۔
افضل خان نے ہلکا سا پہلو بدلا، ہاتھ گھٹنوں پر جمی گرفت میں، جیسے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہو۔
تبریز خان کی نظریں سیدھی آگے جمی تھیں، کندھے تن، چہرہ سخت، مگر اندر سے ٹوٹا ہوا۔
حجرے میں خاموشی نے ہر سانس کو بھاری کر دیا تھا، اور دل کی دھڑکنیں جیسے ہر لمحہ محسوس کی جا سکتی تھیں۔
سب کے لیے یہ لمحہ صرف انتظار نہیں، بلکہ دباؤ اور سنجیدگی کا امتحان تھا۔
حجرے میں چند لمحے مکمل خاموشی چھا گئی۔
افضل خان کچھ بولے بغیر بیٹھا رہا، ہاتھ گھٹنوں پر جمی گرفت میں، نظریں نیچے جھکی ہوئی تھیں۔
تبریز خان کی انگلیاں آپس میں بھنچ گئیں، چہرہ سخت اور گہرا ہو گیا۔
شمشیر لالہ نے آہستہ مگر وزن دار آواز میں کہا۔
“افضل خان۔” میں نے پوچھا کیا تمہارا بیٹا آریان خان، تبریز خان کی بیٹی عبیرہ کو اغوا کر کے، زبردستی نکاح کر کے لے گیا ہے یا نہیں؟”
یہ سوال نہیں تھا، یہ ایک ضرب تھی۔
حجرے میں بیٹھے سب لوگ چونک گئے، سانسیں رک سی گئیں، ہر آنکھ افضل خان پر جم گئی۔اب اس کے جواب کے منتظر تھے۔
“جی، لالا… بدقسمتی سے یہ حرکت میرے بیٹے کی ہے، مگر خدا گواہ ہے کہ جب اس نے یہ سب کیا، مجھے اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا۔
اس حقیقت کو آپ جہاں سے چاہیں، جان سکتے ہیں۔”
افضل خان نظریں جھکائے، شرمندگی اور دباؤ کے ساتھ بول رہا تھا۔
شمشیر لالہ نے ایک لمحے کے لیے سکون سے ماحول کو ناپا، نگاہیں افضل خان پر جمائیں،
اور پھر آہستہ مگر وزن دار انداز میں کہا،“تم سے تمہارے بیٹے کا رابطہ ہے یا نہیں، یہ بات تبریز خان کی بیٹی کی عزت واپس نہیں لا سکتی۔
جرگے کے اصولوں کے مطابق ، تمہیں تبریز خان کی رکھی گئی ہر شرط ہر بات ماننی پڑے گی۔”
“جو حکم ہوگا، شمشیر لالہ… میں ماننے کو تیار ہوں۔”افضل خان نے نظریں جھکائے، بھاری لہجے میں کہا۔
شمشیر لالہ نے تبریز خان کی جانب نظریں جماتے ہوئے، ہاتھ کیا اشارہ کیا۔
“بولو، تبریز خان… تم کیا چاہتے ہو؟ کس طرح سے تم اپنا بدلہ لینا چاہتے ہو؟”
حجرے میں خاموشی چھا گئی، ہر سانس بھاری، ہر آنکھ دباؤ میں جم گئی۔
“شمشیر لالہ…
میں چاہتا ہوں کہ عزت کے بدلے عزت سے حساب ہو۔
میری بیٹی کی دوری نے ہمیں جو اذیت دی ہے،
وہ اذیت یہ بھی محسوس کرے۔”
تبریز خان کی آواز میں چیخ نہیں تھی۔
بس ایک ٹھہرا ہوا زہر تھا۔
آنکھوں کی سرخی، جبڑے کی سختی
اور الفاظ کی ٹھنڈی کاٹ
حجرے میں بیٹھے ہر شخص کو خاموش کر گئی۔
“ہاں، بولو افضل خان…”
شمشیر لالہ کی آواز میں نہ نرمی تھی نہ غصہ،
بس فیصلہ خیز ٹھہراؤ۔
“جو تبریز خان چاہتا ہے،
میرے خیال سے تم اچھی طرح سمجھ رہے ہو۔
منظور ہے،
میں اس کی یہ شرط تمہارے سامنے رکھتا ہوں…”
شمشیر لالہ کی شخصیت ایسی تھی کہ لوگ اس کے سامنے بیٹھتے تو عزت بھی کرتے، اور اس کی دبنگ موجودگی سے ڈرتے بھی تھے۔
پانچ وقت کا نمازی، بات میں دو ٹوک، اور فیصلے میں عدل پسند۔
بندوق چلانا بھی اسے خوب آتا تھا، مگر اس کا ہاتھ کبھی بے وجہ نہیں اٹھا۔
شمشیر لالہ کی بندوق سے نکلی گولی یہ نہیں دیکھتی تھی کہ سامنے امیر ہے یا غریب۔
وہ صرف یہ پہچانتی تھی کہ سامنے کھڑا شخص مجرم ہے یا نہیں۔
جرگے میں اس کا اصول سیدھا تھا۔
خون کے بدلے خون۔
عزت کے بدلے عزت۔
ہاتھ کے بدلے ہاتھ۔
اور پیسے کے بدلے پیسہ۔
جس کے ساتھ جس انداز کی ناانصافی ہوتی،
واپسی بھی اسی انداز سے ہوتی تھی۔
“شمشیر لالہ…
مجھے اس کی شرط ہی سمجھ میں نہیں آ رہی۔”
افضل خان نے قدرے آگے ہو کر کہا۔
آواز میں الجھن تھی، اور آنکھوں میں ابھرتا ہوا اضطراب۔
“عزت کے بدلے عزت…
میں یہ کیسے دے سکتا ہوں؟”
اس کی نظریں ایک لمحے کو تبریز خان پر ٹھہر گئیں۔
اس نظر میں حیرت بھی تھی،
اور ایک دبا ہوا سا غصہ بھی۔
تبریز خان نے اس جانب نہیں دیکھا۔اس کی نظر شمشیر لالا پر تھیں۔
وہ وہیں بیٹھا رہا،
چہرہ سخت،
آنکھوں میں سرخی جمی ہوئی،
جیسے جواب لفظوں میں نہیں،
بس اس کی خاموشی میں تھا۔
“کھل کر کہو تبریز خان، تاکہ اسے اچھی طرح سمجھ آ جائے کہ تم کیا چاہتے ہو۔”
شمشیر لالہ کے لہجے میں ہلکا سا طنز تھا، جو بات کو اور گہرا کر گیا۔
تبریز خان نے سرخ آنکھوں سے افضل خان کی طرف دیکھا،
“میری بیٹی کی عزت کو پامال کر کے تمہارے بیٹے نے اپنی مرضی اس پر مسلط کی، اگر وہ واپس بھی
آ جائے تو عزت واپس نہیں آئے گی، اس لیے میں کسی صلح یا رعایت کا طالب نہیں، میں چاہتا ہوں کہ عزت کے بدلے عزت سے حساب ہو، تاکہ جو اذیت اس کی دوری نے ہمیں دی ہے، وہ اذیت تم بھی محسوس کرو۔”
“میری شرط واضح ہے،
تمہاری بیٹی میرے بیٹے کے حصے میں آئے،
تبھی عزت کا حساب برابر ہوگا۔”
تبریز خان کی بات پر افضل خان کی سانس جیسے ایک لمحے کو رک گئی۔ آنکھوں میں حیرت اور غصہ اس شدت سے اُترا کہ وہ سب کچھ اس کے چہرے پر صاف دکھائی دینے لگا۔
تبریز خان کی بات پر حجرے میں بیٹھے بزرگوں کے چہروں پر ایک ساتھ سختی اُتر آئی۔
کسی نے نظریں جھکا لیں، کسی نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا، اور کسی نے بے اختیار گہری سانس لی۔
جرگے کی فضا اچانک بھاری ہو گئی، جیسے ہوا بھی فیصلہ سننے کے بوجھ تلے رک گئی ہو۔
شمشیر لالہ خاموش بیٹھا تھا، نظریں زمین پر جمی ہوئی، مگر انگلیوں کی ہلکی سی جنبش بتا رہی تھی کہ بات اب ایک نازک موڑ پر آ چکی ہے۔
تبریز خان کی آواز ایک بار پھر سے جرگے میں گونجی۔
“اور لالا میں چاہتا ہوں کہ آپ افضل خان پر ابھی سے واضح کر دیں …اس کا اپنی بیٹی کے ساتھ کوئی رشتہ کوئی ناطہ نہیں ہوگا…وہ ہمیشہ بطور سزا میرے بیٹے کے ساتھ رہے گی۔
یہی اس کے بیٹے کی سزا ہے، اور اس کے علاوہ کوئی بھی متبادل نہیں۔
شمشیر لالہ نے نظریں افضل خان پر جماتے ہوئے کہا،
“جواب دو، افضل خان…
تمہیں تبریز خان کی بات قبول ہے یا نہیں؟”
چرگےمیں خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔
تبریز خان سرخ آنکھوں اور سخت چہرے کے ساتھ بیٹھا تھا،
سب کی نظریں افضل خان پر جم گئیں۔
یہاں صرف دو باپ تھے، اور ان کے دل میں اپنی اولاد کی محبت ٹکرا رہی تھی۔
“میرا اس میں کوئی ہاتھ نہیں، کوئی لین دین نہیں ہے، پھر اتنی سخت شرط رکھنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔
افضل خان نے دلیل دینی چاہیے۔”
شمشیر لالہ نے غصے بھری نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔
“دلیل نہیں مانگی، جواب مانگا ہے۔
یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے۔
ایک بیٹی کی عزت کتنی قیمتی ہوتی ہے،
اگر یہ بات بیٹے کا باپ بھی سمجھ لے تو کبھی کسی بیٹی کے باپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں آئیں۔”
شمشیر لالہ کی آنکھوں میں لال ڈورے ابھرنے لگے تھے۔
“معذرت چاہتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ بیٹی کی عزت کیا ہوتی ہے۔”
افضل خان نے سر جھکاتے ہوئے آہستہ کہا۔
“جانتے ہو تو پھر دوبارہ دلیل نہیں سننا، جواب سننا ہے!”
شمشیر لالہ نے آواز میں دباؤ بھر کر کہا۔
“لالا، آپ کا فیصلہ سر آنکھوں پر ہوتا۔
اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں خوشی خوشی آپ کے فیصلے پر سر جھکا دیتا۔
مگر میری صرف ایک بیٹی ہے، جس کی شادی ہو چکی ہے، تو میں یہ شرط کیسے مان سکتا ہوں؟”
افضل خان نے مودبانہ انداز اپناتے ہوئے کہا۔
چرگے میں خاموشی چھا گئی۔
سب کی نظریں افضل خان پر جمی تھیں،
اور ہر سانس میں دباؤ محسوس ہو رہا تھا۔
“غلط بیانی مت کرو، افضل خان۔۔۔”
شمشیر لالہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی تبریز خان کی کڑک دار آواز چرگے میں گونج اُٹھی۔
“تبریز خان، میں غلط بیانی نہیں کر رہا۔
میری ایک ہی بیٹی تھی، ایزل۔۔۔
جس کی شادی میں ڈی ایس پی یارم خان کے ساتھ کر چکا ہوں۔
اب میں تمہاری شرط کیسے مانوں؟”
وہ نظریں جھکائے بولا۔
تبریز خان کی آنکھوں میں درد اور غصہ ساتھ تھا۔
خاموش لمحے گزرے، پھر اس نے دھیمی مگر پختہ آواز میں کہا۔
“افضل خان، ایک بات مت بھولو۔۔۔
تم لوگوں سے جھوٹ بول سکتے ہو،
چرگے میں بیٹھ کر شمشیر لالہ سے بھی جھوٹ بول سکتے ہو،
مگر مجھ سے نہیں۔۔۔”
“یہ بھی مت بھولو کہ ایک وقت میں میں تمہارا بہنوئی تھا،
اور بہت اچھا دوست بھی۔۔۔
میں تم لوگوں کی ہر باریک سے باریک اندرونی بات میں اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔” تبریز خان کے پاس کوئی تو ایسی بات تھی جس سے آج وہ پردہ اٹھانے کا ارادہ رکھے ہوئے تھا۔
افضل خان نے خونخوار نظروں سے تبریز خان کی جانب دیکھا۔
چرگے میں ہر سانس بھاری لگ رہا تھا، خاموشی میں صرف فیصلہ سننے کی شدت باقی تھی۔سب کچھ الجھا ہوا لگ رہا تھا۔
شمشیر لالہ کی آواز گونجی:
“افضل خان… جرگے میں بیٹھ کر جھوٹ بول کر خود کو مت اُلجھاؤ۔
کیا سچ ہے، کیا جھوٹ ہے، بتاؤ۔”
مگر افضل خان کے لب اب بھی خاموش تھے۔
نہ جانے وہ کس راز کا پردہ اٹھانے میں ہچکچا رہا تھا۔
“لالا، یہ نہیں بولے گا، میں بتاتا ہوں۔۔۔”
تبریز خان شاید اس راز کا پردہ اٹھانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
“اس کی ایک اور بیٹی ہے، نور،
جسے اس نے بچپن میں ہی اپنی بہن کی گود میں ڈال دیا تھا۔
مگر رشتے میں آج بھی وہ اس کی بیٹی ہے، اس کا خون ہے۔
مجھے اس کی بیٹی کا ہاتھ اپنے بیٹے ماحد کے لیے چاہیے۔۔۔”
“تبریز خان، میں بچپن میں ہی اپنی بہن کی گود میں ڈال چکا ہوں،
یہ بات تم اچھی طرح جانتے ہو۔۔۔”
افضل خان نے بلند آواز میں کہا، اور ایک دم سے اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا، پورا وجود جھنجھنا اٹھا، ہاتھ گھٹنوں پر جم گئے، گردن تھوڑی جھکی۔
افضل خان آواز نیچی رکھی، مت بھولو کہ شمشیر کی جرگے میں بیٹھے ہو۔۔۔
شمشیر لالہ نے غصے سے، لال ہوتی آنکھوں سے دھاڑتے ہوئے کہا۔۔۔
“معاف کیجیے گا، لالہ، مگر نور پر میرا کوئی حق نہیں ہے۔۔۔”
افضل خان کی آواز ہلکی تھی، لیکن اس کی نظریں زمین کی لکیر پر جم گئی تھیں، دل میں ایک عجیب سی کشمکش محسوس ہو رہی تھی۔
“افضل خان تمہیں تبریز خان کی بات ماننی پڑے گی،اگر خود اپنے ہاتھوں سے نکاح کر کے اس کے بیٹے کے ساتھ رخصت کر دو گے تو زیادہ بہتر ہوگا،اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو یہ بھی یاد رکھو کہ جس طرح تمہارا بیٹا اکیلا اپنے بل بوتے پر اس کی بیٹی کو لے گیا تھا،اب اس کے بیٹے کے ساتھ پوری جرگہ کھڑی ہے،تمہاری بیٹی کو اسی انداز سے اس کے بیٹے کے ساتھ منسوب کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہوگی،اب یہ تمہاری مرضی ہے،جو فیصلہ کرو گے وہی جرگے کا فیصلہ مانا جائے گا۔۔۔”
“لالہ، میری بہن بے اولاد ہے۔۔۔
وہ مر جائے گی۔۔۔”
افضل خان نے ہاتھ جوڑ دیے۔
آواز میں اب احتجاج نہیں تھا، بس خوف اور مجبوری کی گونج سنائی دے رہی تھی۔
“مر تو میری بیٹی کی ماں بھی رہی ہے۔۔۔”
تبریز خان کی آواز بھاری تھی۔
سرخ آنکھیں افضل خان پر جمی رہیں۔
“جب سے تمہارے بیٹے نے یہ حرکت کی ہے،
وہ چارپائی سے لگی ہوئی ہے،
کھانا پینا چھوڑ چکی ہے،
ہفتوں کا بخار نہیں اُترتا۔۔۔
یہاں تک کہ ہسپتال میں داخل کروانے کی نوبت آ گئی ہے۔۔۔”
لفظ پورے تھے،
آواز میں کوئی چیخ نہیں تھی،
بس ایسا درد تھا جو آنکھوں سے جھانک رہا تھا۔
“بولو، افضل خان، اس بات کا جواب ہے تمہارے پاس ۔؟ دوسری جانب خاموشی چھائی تھی شاید افضل خان کے پاس اب کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
شمشیر لالہ کی آواز فیصلہ کن تھی، ہر لفظ جرگے میں گونج رہا تھا۔
“تمہاری خاموشی بتا رہی ہے کہ اب تمہارے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔بس اتنا جان کہ تکلیف تو ہر ماں کو اپنی بیٹی کی ایک جیسی ہوتی ہے۔
اگر تمہارے بیٹے نے تکلیف دی ہے تو اب تم بھی اپنی بہن کے لیے تکلیف جھیلنے کی ہمت پیدا کرو۔۔۔”
کچھ لمحوں کی چرگے میں خاموشی چھا گئی، کوئی بول نہیں سکا۔
افضل خان نے سر جھکاتے ہوئے، خاموشی میں شاید حامی بھر چکا تھا۔
“تو ٹھیک ہے، طے ہو گیا۔۔۔
دو دن بعد تم اپنی بیٹی کو تبریز خان ب کے بیٹے، ماحد خان، کے نکاح میں دے کر رخصت کر دو گے۔۔۔اورجس طرح تبریز کی بیٹی کا ان لوگوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں،
اسی طرح تمہاری بیٹی کا بھی تم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔۔۔ہاں اگر کل کو تمہارا بیٹا تبریز خان کی بیٹی کو باعزت واپس لے آتا ہے اور باپ کے ساتھ بیٹھ کر تم لوگ بات سلجھا لیتے ہو تو یہ فیصلہ ضرور بدل سکتا ہے۔تب تک کے لیے یہی فیصلہ انجام پایا ہے۔”
“جی، لالا۔۔۔”
افضل خان سر جھکائے، بس اتنا کہا ۔
“اگر کسی کو اس فیصلے سے اعتراض ہے تو اپنا اعتراض رکھ سکتا ہے۔۔۔”
شمشیر لالہ نے جرگے میں بیٹھے بزرگوں، خاص طور پر چند اہم حضرات کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا۔
چرگے میں خاموشی چھا گئی، صرف ہوا کی ہلکی جنبش کے ساتھ کسی کے سانس کی ہلکی سی آواز سنائی دے رہی تھی۔
“کیسی بات کرتے ہیں، شمشیر لالا۔۔۔
آپ کا فیصلہ عدل اور انصاف پر ہوتا ہے، اعتراض کی گنجائش ہی نہیں ہے۔۔۔”
چند بزرگوں نے ایک ساتھ یہ جواب دیا، آواز میں احترام اور سنجیدگی، مگر دباؤ کی کوئی کمی نہیں۔
“تم مطمئن ہو اس فیصلے سے؟”شمشیر لالہ نے تبریز خان کی جانب نظر ڈال کر پوچھا،
“جی لالا، میں مطمئن ہوں۔۔۔”
تبریز خان کی آواز بھی اب دباؤ کے ساتھ سنجیدہ تھی،
جرگے میں ایک لمحے کے لیے سب خاموش رہے، پھر بزرگ آہستہ آہستہ اٹھنے لگے، ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے، سر جھکائے، ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے احترام کا اشارہ دیتے۔
سب کے چہروں پر فیصلہ قبول کرنے کی سنجیدگی اور جرگے کا وقار جھلک رہا تھا۔
═══════❖═══════
افضل خان آج پوری طرح اندر سے بکھرا ہوا تھا۔
اپنے بیٹے کی غلطی کی سزا اس کی معصوم بچی کو ملنے والی تھی،
جسے وہ برسوں پہلے اپنی بہن کی خالی گود میں ڈال چکا تھا۔
شرم سے وہ خود سے بھی آنکھیں نہیں ملا پا رہا تھا۔
قدم گاڑی کی جانب بڑھے،
اور اس نے گاڑی کا رخ اپنی بہن کے گھر کی طرف موڑ دیا۔
اگر اس کے بس میں ہوتا تو یہ سفر یہیں ختم کر دیتا،
مگر جانا ضروری تھا،
ہر صورت جانا تھا،
کیونکہ شمشیر لالہ کا کیا ہوا فیصلہ بدلا نہیں جا سکتا۔دو دن تو جیسے پلک جھپکتے گزرے جا رہے تھے۔
گاڑی نے دروازہ پار کیا تو دل سے ایک ہی دعا اٹھی کہ آنکھ کھل جائے اور یہ سب خواب ثابت ہو۔
وہ گاڑی سے اترا تو قدموں میں ٹھہراؤ نہیں تھا، جیسے جسم آگے بڑھ رہا ہو اور دل پیچھے رہ گیا ہو۔
غیر متوقع آمد پر چھوٹی بہن ایک دم خوشی سے کھل اٹھی۔
چہرے پر مسکراہٹ، آنکھوں میں چمک، اور قدم بے اختیار تیز ہو گئے۔
“السلام علیکم، بھائی جان، کیسے ہیں آپ؟
آنے سے پہلے بتا دیتے تو میں آپ کے لیے کچھ خاص انتظام کر لیتی۔۔۔”
وہ بات کرتے ہوئے قریب آ گئی،
آواز میں خوشی تھی،
لہجے میں اپنائیت،
اور ہاتھ آگے بڑھے ہوئے تھے۔
مگر افضل خان کا جسم جیسے بوجھل ہو گیا تھا۔
نگاہیں ایک لمحے کو جھک گئیں،
چہرے پر پھیلی شرمندگی چھپائے نہ چھپ سکی۔
اس نے بہن کو گلے تو لگا لیا،
مگر بازوؤں میں وہ گرمی نہیں تھی،
اور لب خاموش رہے،
جیسے دل میں جمع بوجھ زبان تک آنے کی ہمت ہی نہ کر پا رہا ہو۔
وہ بہن کے ساتھ اندر کی طرف بڑھا۔
صحن وہی تھا، دیواریں وہی، مگر اسے یوں لگا جیسے سب کچھ اجنبی ہو گیا ہو۔
بہن نے چلتے چلتے اس کی طرف دیکھا،
مسکراہٹ اب بھی لبوں پر تھی،
مگر نگاہ بار بار اس کے چہرے پر ٹھہر رہی تھی،
جیسے کسی ان کہی بات کو محسوس کر رہی ہو۔
“بھائی جان، طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟
آپ کچھ بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں۔۔۔”
افضل خان نے قدم روک لیے۔
ایک لمحے کو سانس بھاری ہو گئی۔
نگاہیں سامنے دیوار پر جم گئیں،
جیسے وہاں کوئی جواب لکھا ہو۔
“ہاں۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔”
آواز میں وہ یقین نہیں تھا جو لفظ مانگتے ہیں۔
بہن نے کچھ کہنا چاہا،
پھر رک گئی۔
اس کے چہرے پر اب خوشی کے ساتھ ہلکی سی الجھن بھی آ چکی تھی۔
افضل خان نے صحن کے بیچ کھڑے ہو کر اردگرد دیکھا،
یہی وہ گھر تھا
جہاں جہاں وہ اپنی بہن کی گود میں خوشیاں ڈال کر،اور آج اسی جگہ اسے سب سے مشکل بات کہنی تھی۔
“بھائی جان، آپ یوں چپ رہیں گے تو میرا دل گھبرانے لگے گا،
کچھ تو بتائیں، کیا بات ہے؟”
دونوں باغ میں رکھے مخملی صوفوں پر بیٹھ چکے تھے۔
سامنے لکڑی کی میز سجی ہوئی تھی،
فضا میں شام کی ہلکی سی ٹھنڈک اتر آئی تھی۔
افضل خان خاموش تھا۔
نگاہیں میز کے کنارے پر جمی ہوئی تھیں،
جیسے وہاں سے بات شروع کرنا چاہتا ہو۔
“مختیارہ، چائے کے ساتھ کچھ کھانے کو لے آؤ۔۔۔”
اس نے ملازمہ کو آواز دی،
شاید بات شروع کرنے سے پہلے لمحہ بھر کا سہارا چاہتی تھی۔
“جی بی بی جی ابھی لائی… ملازمہ حکم بجا لائی ۔
“نہیں۔۔۔”
افضل خان نے فوراً سے روک دیا۔
“مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے،
کچھ بھی نہیں کھانا چاہتا۔۔۔”
اس نے ہاتھ کے اشارے سے ملازمہ کو واپس بھیج دیا۔
وہ خاموشی سے پلٹ گئی۔
“خیریت ہے نا؟
گھر میں سب ٹھیک ہیں؟
کچھ تو بتائیں۔۔۔”
بہن کی آواز اب نرم نہیں رہی تھی،
اس میں فکر صاف سنائی دے رہی تھی۔
افضل خان نے ایک گہری سانس لی۔
پھر اچانک آگے بڑھا،
اور اپنی بہن کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
“پہلے یہ وعدہ کرو۔۔۔”
اس کی آواز بھاری ہو گئی۔
“کہ میری مجبوری کو سمجھو گی،
اور اپنے بھائی کے بارے میں دل میں کوئی بات نہیں رکھو گی۔۔۔”
وہ اس کے اور قریب ہو کر بیٹھ گیا،
جیسے اب پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش باقی نہ ہو۔
“میں۔۔۔ میں آپ کے بارے میں کیسے کچھ غلط سوچ سکتی ہوں؟
آپ جیسے بھائی ہر بہن کے نصیب میں نہیں ہوتے۔
آپ بے فکر ہو کر بتائیں، کیا بات ہے
جس کے لیے آپ کو پہلے مجھ سے وعدہ لینا پڑ رہا ہے؟”
وہ اپنے بھائی کے ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھی۔
اب اس کی گرفت میں صرف اپنائیت نہیں رہی تھی،
پریشانی بھی شامل ہو چکی تھی۔
آنکھوں میں تجسس صاف جھلک رہا تھا،
اور چہرہ آنے والی بات کے خوف سے سنجیدہ ہو گیا تھا۔
“نور کو واپس لینے آیا ہوں۔۔۔”
“کیا۔۔۔؟”
وہ آنکھیں بڑی کر کے، سانس تھمی ہوئی، اگلے لفظ کا انتظار کر رہی تھی۔
“خدا کے لیے مجھے معاف کر دینا۔۔۔”
افضل خان نے بات شروع کی تو آواز ساتھ نہ دے سکی۔
“کبھی سوچا نہیں تھا کہ زندگی میں یہ دن بھی آئے گا
کہ میں تمہارے سامنے یوں کھڑا ہوں گا۔۔۔”
اس نے نگاہیں جھکا لیں۔
“مگر کبھی کبھی انسان کے ہاتھ سے حالات نکل جاتے ہیں۔
آج میری بے بسی
مجھے تمہارے در تک لے آئی ہے۔۔۔”
“بھائی، میرا دل گھبرانے لگا ہے۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں،
اور کیوں کہہ رہے ہیں یہ سب؟”
وہ اس کی طرف اور جھکی،
اب ہاتھ تھامنا سہارا نہیں رہا تھا،
ضرورت بن چکا تھا۔
آنکھوں میں سوال تھے،
اور لہجے میں خوف،
جیسے اگلا لفظ کچھ توڑ دے گا۔
“بھائی، میرا دل گھبرانے لگا ہے۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں،
اور کیوں کہہ رہے ہیں یہ سب؟”
وہ اس کی طرف اور جھکی،
اب ہاتھ تھامنا سہارا نہیں رہا تھا،
ضرورت بن چکا تھا۔
آنکھوں میں سوال تھے،
اور لہجے میں خوف،
جیسے اگلا لفظ کچھ توڑ دے گا۔
“بس اتنا سمجھ لو۔۔۔
نور کے بدلے
ہم آریان کی زندگی بچا سکتے ہیں۔”
اس نے یہ کہتے ہوئے نگاہ اٹھائی،
اور پہلی بار اس کی آواز میں باپ ہونے کا خوف صاف سنائی دیا۔
“مطلب۔۔۔ آریان کو کیا ہوا ہے؟”
بہن نے حیرت اور خوف کے ملے جلے انداز میں پوچھا، سانس تھم سی گئی تھی۔
افضل خان کے سینے میں کچھ رُک گیا۔
چند لمحے وہ خاموش رہا، پھر دھیرے دھیرے ہر خبر بہن تک پہنچانے لگا۔
لفظ لفظ اس کے ہونٹوں سے نکلتے گئے، اور ہر بات کا بوجھ اس کے وجود پر محسوس ہو رہا تھا۔
وہ دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھے ہوئے آنکھوں میں حیرت اور تشویش لیے سن رہی تھی۔
آخر میں غصے اور درد سے پوچھا۔
“اور یہ سب کچھ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟” ایک بار بھی آپ کو مجھے بتانا ضروری نہیں لگا اتنا پرایا کر دیا آپ نے مجھے۔
اس کی آواز میں درد اور سوال دونوں تھے،
اور لمحے بھر کے لیے وہ اور افضل خان ایک دوسرے کی کیفیت کو آنکھوں سے پڑھتے رہے۔۔
“مجھے لگا تھا شاید سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔”
وہ ایک لمحہ رکا، جیسے لفظ آگے بڑھنے سے انکار کر رہے ہوں۔
“مگر افسوس… میں کچھ بھی ٹھیک نہ کر سکا۔”
نظریں خود ہی جھک گئیں، میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ آج رو شانے کی وجہ سے میرا اپنا بیٹا اس قدر گمراہ ہو چکا ہے۔کاش یہ بات روشانےکی سمجھ میں بھی آ جائے کہ یہ زہر اس کا ہی دیا ہوا ہے۔اگر اسے تو لگتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک ہے۔آخری جملہ کہتے ہوئے اس کی آواز بیٹھ گئی،
اردو گرد ایک ایسا سناٹا پھیل گیا
جس میں پچھتاوا صاف سنائی دے رہا تھا۔
═══════❖═══════
“اماں، آپ میری شادی کیسے کر سکتی ہیں؟
مجھے آپ کو چھوڑ کر نہیں جانا، ابھی تو میں پڑھ رہی ہوں۔۔۔”
نور کی آواز کانپ رہی تھی، آنکھوں میں خوف اور حیرت دونوں جھلک رہے تھے۔
“آپ تو کہتی تھیں کہ مجھے پڑھا کر ڈاکٹر بنائیں گی،
اور پھر شادی کریں گی۔
مگر اب اتنی جلدی کیوں کر رہی ہیں؟”
“اماں، پلیز، جواب دیں۔۔۔”
نور اپنی ماں کے سینے سے لپٹی ہوئی تڑپ رہی تھی،
آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں، لب کانپ رہے تھے۔
ماں خاموش تھی، دل پر ہاتھ رکھے،
صرف سانس کی ہلکی ہلکی آواز تھی جو سب کچھ کہہ رہی تھی۔
کیونکہ افضل خان، ہاتھ جوڑ کر کھڑا تھا،
آریان کی زندگی بچانے کے لیے دل پر پتھر رکھتے ہوئے
نور کو بدلے کے طور پر واپس دینا پڑ رہا تھا۔
ماں بن کر سوچتی تو فورا انکار کر دیتی۔مگر ایک بہن کے لیے یہ آسان نہیں تھا کہ وہ اپنے بھائی کو انکار کرے،
وہی بھائی جس نے اس کی خالی گود کو اپنی اولاد سے بھر کر رکھا تھا۔
مگر دوسری طرف، وہ اپنی بیٹی کو روتے اور تڑپتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔
نور، جسے ابھی پڑھنا تھا اور ڈاکٹر بننا تھا،
اب اس کے خواب چکنا چور کیے جا رہے تھے،
اور پڑھائی بیچ میں چھڑوا کر اسے شادی کے لیے کہا جا رہا تھا۔شادی جو کہ شادی کے نام پر سزا تھی۔
وہ سک کر ماں کے سینے سے لپٹی ہوئی روتی رہی،
جیسے ہر سانس میں درد گھل رہا ہو۔
یہ منظر کوئی بھی دیکھتا تو دل دہل جاتا۔
افضل خان اپنی بیٹی کو لینے آیا تھا،
نور کا نکاح وہ اپنے گھر سے کرنا چاہتا تھا،
شاید نور کی ماں کو اس تکلیف سے بچانے کے لیے،
جس سے وہ خود بھی گزر رہا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ نکاح کے وقت نور تڑپے گی، روئے گی،
تو شاید ماں برداشت نہ کر سکے۔
نور کو انہوں نے بہت پیار سے پالا تھا،
دنیا کی سختیوں سے بچا کر، کانچ کی گڑیا کی طرح۔
مگر آج وہ کانچ کی گڑیا
بدلے کی آڑ میں رخصت ہو کر جا رہی تھی۔
اس کی آنے والی زندگی میں کیا لکھا ہے، کوئی نہیں جانتا تھا۔
“اماں۔۔۔ کچھ تو بولیں، جواب دیں!
میں نہیں جاؤں گی… کہیں بھی نہیں جاؤں گی!”
نور کی آواز کانپ رہی تھی،
آنکھیں بھیگی اور جسم لرز رہا تھا۔
“نور، میری بچی،
وقت آنے پر تمہیں خود سب پتہ چل جائے گا۔”
ماں نے اپنے آنسو ضبط کیے،
اور زبردستی نور کا ہاتھ تھام کر
اس کے باپ کے ہاتھ میں دے دیا۔
خان نے اسے اپنے سینے سے لگانے کی کوشش کی،
مگر نور اپنی ماں کی جدائی میں تڑپ رہی تھی۔
کچھ لمحے بعد، بڑی مشکل سے اسے گاڑی میں بٹھایا گیا،
دروازہ بند ہو گیا۔
جب گاڑی گیٹ سے باہر نکلی،
نور کی ماں، دل پر جبر کیے کھڑی،
چہرہ سفید، ہونٹ کانپ رہے تھے،
آنکھوں میں درد اور خوف کے ملے جلے جذبات۔
لمحہ بھر بھی وہ حرکت نہ کر سکی،
پھر اچانک بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑی۔
نور گاڑی میں بیٹھ کر دور جا رہی تھی،
ہر سانس، ہر لمحہ ماں کے دل میں خالی جگہ چھوڑ رہا تھا۔
ماں کو فوراً اٹھا کر گھر کے اندر لے جایا گیا،
خاموشی اور آنکھوں کے آنسو اس درد کی شدت بڑھا رہے تھے۔
نور اب ہمیشہ کے لیے اس کے سامنے سے دور تھی،
اس کی رخصتی نے ماں کے دل میں ایک گہرا خندق چھوڑ دیا تھا۔
آج، ایک ماں کا دکھ اتنا شدید تھا کہ زمین لرزتی محسوس ہوئی،
آسمان کے بادل بھی اس کے آنسوؤں میں شامل لگے،
اور ہر خاموش لمحہ اس درد کو اور بھی جاندار بنا رہا تھا۔
═══════❖═══════
خان، وہ جب سے آئی ہے رو رو کر اپنا برا حال کر چکی ہے۔ ایک لمحہ بھی سکون سے نہیں بیٹھی، اس کی آنکھوں سے آنسو جیسے سوکھنے کا نام ہی نہیں لے رہے…
گلناز نے آہستہ مگر بوجھل لہجے میں یہ خبر افضل خان کو سنائی۔
افضل خان اپنے کمرے میں بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا، سر دیوار سے لگا ہوا، ایک ہاتھ ماتھے پر، جسے وہ بار بار مسل رہا تھا۔
اس کی خاموشی، جھکی گردن، اور آنکھوں کے گرد پھیلا تناؤ صاف بتا رہا تھا کہ وہ کس قدر گہری پریشانی میں ہے۔
گلناز کی بات سنتے ہی اس نے آہستہ سے سر اٹھایا اور خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا…
جیسے الفاظ سن تو لیے ہوں، مگر اندر کہیں وہ پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا۔
“اس کی زندگی میں رونا تو تمہارے بیٹے نے پوری عمر کے لیے لکھ دیا ہے،
اب رو لینے دو…”
یہ کہتے ہوئے اس نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا، ہونٹوں پر تلخ لکیر، اور لہجہ ایسا تھا جس میں طنز بھی، ضبط شدہ غصہ بھی تھا۔
گلناز کی نظریں چمک اٹھی، وہ دو قدم آگے بڑھ کر بیڈ کے قریب کھڑی ہو گئی۔
“یہ سب آپ مجھے کس لیے سنا رہے ہیں؟ کیا اس نے یہ سب کچھ مجھ سے پوچھ کر کیا تھا؟”
“دیکھو، تمہارے سامنے ہاتھ چھوڑتا ہوں، اللہ کا واسطہ ہے، بحث مت کرنا!”
افضل خان نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ایک گہری سانس کے ساتھ جان چھڑائی۔
“یہ اچھا ہے… پہلے خود طنز مار لیں، اور جب میں بات شروع کروں تو ہاتھ جوڑنا شروع کر دیتے ہیں۔”
وہ پاؤں پٹختے ہوئے صوفے پر جا کر بیٹھ گئی۔
افضل خان نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ایک لمحہ اسے دیکھا، پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
“افسوس ہے مجھے تمہاری سوچ پر… اس وقت بھی تمہیں جھگڑا ہی سوجھ رہا ہے۔
ایک بار تو یہ سمجھنے کی کوشش کرو کہ ہمارے بیٹے نے ہمیں کہاں لا کھڑا کیا ہے۔
آج اس کی وجہ سے اپنی بہن کو روتے، تڑپتے چھوڑ کر آیا ہوں۔”
افضل خان کا لہجہ نرم ہوا، جیسے وہ اپنی ٹوٹی ہوئی کیفیت اپنی بیوی کے سامنے ظاہر کرنا چاہتا ہو۔
گلناز کے چہرے کا تناؤ تھوڑا کم ہوا، جیسے اسے افضل خان کے درد کا احساس ہوگیا ہو۔
“مجھے بھی آپ کے دکھ کا احساس ہے، مگر اب جو ہو چکا ہے اس کا کیا کیا جائے؟ فیصلہ بھی تو آپ ہی نے لے کر آئے ہیں۔”
گلناز نے بھی اس بار ذرا سا تحمل دکھایا۔
“میں خوشی خوشی یہ موت کا فرمان لے کر نہیں آیا۔
کوئی باپ خوشی سے اپنی بیٹی کو جہنم کی آگ میں نہیں جھونکتا۔
تبریز خان اپنا فیصلہ تھانے یا کچہری تک نہیں لے جانا چاہتا تھا،
اسی لیے اس نے درج کروائی گئی رپورٹ بھی واپس لے لی۔
تم جانتی ہو، وہ ہمیشہ ذہانت سے کام لیتا ہے۔
اس نے شمشیر لالہ کی جرگہ میں اپنا مقدمہ رکھا…
اور تم اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہو کہ آج بھی شمشیر لالہ حق کی بات کرتے ہیں۔
ان کے نزدیک حق یہی تھا کہ جو درد تبریز خان اور اس کے گھر والوں نے سہا، وہی ہمیں بھی سہنا ہوگا۔
میرے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔”
“اللہ سے دعا کرو کہ ہماری بیٹی کو وہ لوگ زیادہ تکلیف نہ دیں… دعا کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔”
افضل خان کی آنکھیں نم تھیں، اور گلناز بھی بے اختیار رونے لگی۔
کمرہ درد سے بھرا ہوا تھا، لبوں پر خاموشی، دل میں بے بسی…
ایک دم سے دروازہ ہلکی کھٹکھٹ کے ساتھ کھلا، روشانے اندر قدم رکھا۔
اس کی آنکھوں میں سختی، لہجے میں غصہ… مگر وجود ایک مضبوط شخص کی طرح کھڑا تھا۔
“لالہ! آپ نور کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟”
اس کا لہجہ کٹا، ہر لفظ میں قہر اور سختی تھی۔
“بچی ہے وہ ابھی، اس کے پڑھنے کے، کھیلنے کے دن ہیں… میں یہ نکاح نہیں ہونے دوں گی! آپ نے تبریز خان کی بات مان کیسے لی؟”
تیزی سے، بغیر موقع دیے وہ بولتی چلی گئی۔
روشانے کی موجودگی سے کمرے کا ماحول ٹھنڈا سا ہو گیا۔
کوئی ہلکی حرکت نہیں، صرف غصہ اور فیصلہ کن انداز۔
ہاتھوں میں کسی قسم کی لرزش نہیں، لیکن مضبوطی واضح تھی۔
وہ اپنی پوزیشن میں کھڑی، قدم جمائے ہوئے، نگاہیں بہترین حد تک کنٹرول میں، مگر ہر لفظ میں طاقت اور الزام کا اثر موجود۔
افضل خان نے روشانے کی طرف دیکھا، ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ایک لمحے کے لیے خاموش رہا۔
دل میں اندر کی ٹوٹ پھوٹ، اور باہر سختی کے ساتھ۔
اس کی آنکھوں میں روشانے کے لیے شدید غصہ ظاہر ہوا، جسے شاید وہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“چپ کیوں ہیں؟ جواب دیں، لالا۔”
روشانے کا انداز ایسا تھا کہ وہ فیصلہ کیے بغیر جانے والی نہیں تھی۔
اس کا یہی انداز افضل خان کو مزید غصہ دلا گیا، جسے وہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“خبردار، اگر تم نے کوئی فساد کھڑا کیا…”
افضل خان کی آواز کمرے میں گونجی۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر بیڈ سے اتر کر اس کے مقابل آن کھڑا ہوا، اور روشانے گھبرا کر دو قدم پیچھے ہو گئی۔
غصے سے افضل خان کے کندھے تن گئے، نگاہیں سختی سے روشانے پر جمی ہوئی تھیں۔
اس بار لہجے میں نہ نرمی تھی، نہ گنجائش، صرف حکم تھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں اپنی بیٹی کو بڑی خوشی کے ساتھ بدلے کی بھینٹ چڑھا رہا ہوں؟”
اس نے ایک قدم آگے بڑھایا، آواز بھاری ہو گئی۔
ماتھے کی رگیں ابھری ہوئی تھیں، جیسے ضبط کی حد ٹوٹنے کو ہو۔
“یہ سب تمہاری اور تمہارے بھتیجے کی مہربانی ہے، جس کی وجہ سے آج میری پھول جیسی بیٹی بدلے کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔
“اور اب تم شور مچا کر سچی ثابت ہونا چاہتی ہو؟”
آخری جملہ اس نے ذرا جھک کر کہا، آواز میں طنز بھی تھا اور الزام بھی۔
الفاظ ایک ایک کر کے گرتے گئے، زہر آلود، کڑوے۔
اس کی نگاہوں میں وہ درد تھا جو برسوں چھپایا گیا تھا۔
روشانے ایسے کھڑی تھی جیسے سچ اس کے سامنے کھڑا ہو اور وہ اس سے نظریں چرا رہی ہو۔
روشانے کی خاموشی لمحہ بھر کی تھی۔
“آپ کو لگتا ہے کہ سارا قصور میرا اور آریان کا ہے؟
مگر میرے خیال سے آریان نے کچھ غلط نہیں کیا، تبریز خان اسی قابل ہے۔”
“خدا تمہیں عقل دے، تمہارے لیے یہی دعا کر سکتا ہوں…”افضل خان نے افسوس سے کہا۔
“روشانے، چپ کر جاؤ… پہلے ہی بہت پریشانی کا ماحول ہے، تمہیں نظر نہیں آ رہا؟ تمہارا لالا پریشان ہے، تم جاؤ اپنے کمرے میں۔”
گلناز نے ہمیشہ کی طرح بیچ میں پڑھتے ہوئے بات کو سلجھانے کی کوشش کی، مگر بری طرح ناکام ہوئی۔
“کیوں چپ کر جاؤں؟ ہمیشہ مجھے ہی چپ کیوں کروایا جاتا ہے؟
اس شخص کے ساتھ آج بھی لالا کو اتنی ہمدردی کیوں ہے؟
اس لیے کہ وہ آپ کا بہترین دوست ہے، آپ کا بیسٹ فرینڈ ہے،
جس کی دوستی کو آپ آج بھی چھوڑ نہیں سکتے…
یا پھر یوں کہہ لیں، صرف دنیا کو دکھانے کے لیے اس دوستی کو چھوڑ دیا،
مگر دل کے کسی گوشے میں آج بھی زندہ ہے۔”
“کون سی دوستی؟ دوستی کا گلا تو تم نے گھوٹ دیا!
تم نے اسے دشمن بنا کر میرے سامنے لا کھڑا کیا ہے،
اب بھی تمہیں سکون نہیں ہے… اب اور کیا چاہتی ہو؟”
افضل خان آج کھل کر اپنے دل کا درد دکھا رہا تھا،
مگر درد دکھانا فضول تھا۔
روشانے کو آج بھی اپنا آپ ہی ٹھیک لگ رہا تھا،
گلناز بے بسی سے ماتھا پیٹھ کر رہ گئی،
روشانے سے چپ ہونے کی امید لگانا، اسے اپنی بےوقوفی لگ رہی تھی۔
“لالا… کیسے بھائی ہیں آپ…؟”
چہرے پر ہلکی سی تلخی، سانس رکتی سی محسوس ہوئی۔
“آپ کو دوستی ٹوٹ جانے کا غم آج بھی ہے…
مگر اپنی بہن کے دکھ کا احساس نہیں۔”
نگاہیں جھکی رہیں، سر تھوڑا سا آگے۔
“اس شخص نے طلاق میرے منہ پر مار دی…
بے وفائی کی…”
خاموش افسوس، چہرے پر تھوڑی سی تلخی۔
“مگر افسوس… وہ آج بھی آپ کو ٹھیک لگ رہا ہے۔”
“روشانے، یہ بات تم آریان کو بتانا جو تمہاری حقیقت سے واقف نہیں۔
میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم نے کیسے تبریز خان کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ تمہیں طلاق دے دے…”
چہرہ سخت، آواز بھاری۔
“ایک مرد کے صبر کی جو آخری حد ہوتی ہے، تم نے وہ حد کتنی بار پار کی تھی؟
تب مجبور ہو کر تبریز خان نے تمہیں طلاق جیسا گندا لفظ بولا تھا…”
نگاہ جم گئی، سانس تھوڑی رک سی گئی۔
“تم نے اپنی خود سری سے اپنے گھر کو برباد کیا،
اور اپنے ساتھ ساتھ میرے بیٹے کو بھی برباد کیا،
اور اب تم لوگوں نے مل کر میری بیٹی کی زندگی برباد کر دی…”
چہرے پر غصہ، دل میں ٹوٹ پھوٹ۔
“روشانے، اب مجھ میں ہمت نہیں ہے کہ میں تمہیں اور اپنے گھر میں برداشت کر سکوں…
خدا کا واسطہ ہے، ہمارا پیچھا چھوڑ دو…”
افضل خان آج اپنے آپے سے باہر،
وہ الفاظ روشانے کے سامنے کہہ رہا تھا،
جنہیں کہنے سے وہ ہمیشہ خود کو روکے رکھا تھا۔
“لالہ… آپ مجھے گھر سے نکل جانے کو بول رہے ہیں؟”
روشانے بے یقینی سے دیکھتی رہی، نگاہوں میں حیرت صاف جھلک رہی تھی۔
“ہاں، بالکل ٹھیک سنا تم نے…
میں تمہیں گھر سے جانے کو ہی بول رہا ہوں،
اور اپنے گھر میں رکھ کر میں تباہی نہیں لانا چاہتا۔
اور ویسے بھی، تم کون سا میری پابند ہو؟
ایک مہینہ سکاٹ لینڈ میں گزار کر آگئی ہو، تمہیں میری اجازت درکار نہیں تھی…”
“اس لیے برائے مہربانی، ہمارے حال پر رحم کھاؤ اور چلی جاؤ یہاں سے…”
وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر روشانے کو دیکھ رہا تھا،
غصے بھری نگاہیں اس کے دل کی شدت کو بیان کر رہی تھیں،
اور ہر لفظ اس کے لبوں سے جیسے دبی ہوئی نفرت اور درد کے ساتھ نکل رہا تھا۔
گلناز خاموش کھڑی تھی،
اسے اس وقت اپنا شوہر ٹھیک لگ رہا تھا۔
روشانے اپنے بھائی کو اس مقام پر خود لے کر آئی تھی ،کہ آج اسے یہ سب کہنا پڑا۔
روشانے پھٹی پھٹی آنکھوں میں حیرت لیے افضل خان کو دیکھ رہی تھی، نگاہیں کھلی اور بڑی،
جیسے امید ہی نہ ہو کہ اس کا بھائی کبھی ایسا کہے گا۔
“واہ بھائی، آج میں آپ پر اس قدر بوجھ بن گئی ہوں
کہ مجھ سے گھر کی چھت چھیننے چلے ہیں۔”
وہ طنزیہ انداز میں بولی، حیرت اور دکھ ایک ساتھ لفظوں میں اتر آئے۔
“بہنیں بوجھ نہیں ہوتیں
اگر بھائیوں کے گھروں میں تباہی لانے کی وجہ نہ بنیں۔
اور تم بہت عقل مند ہو،
چھت کا انتظام تم خود کر سکتی ہو۔
باقی تمہیں تمہارے کسی حق سے محروم نہیں رکھوں گا۔”وہ جائیداد میں سے روشانےکے حصے کی بات کر رہا تھا۔
افضل خان کا لہجہ دو ٹوک تھا،
اس میں نہ نرمی تھی، نہ گنجائش،
بس ایک فیصلہ جو وہ سنا چکا تھا۔
“اور ایک بات کان کھول کر سن لو۔
کچھ دیر میں تبریز خان اپنے بیٹے کو نکاح کے لیے لے کر پہنچتا ہوگا،
ساتھ میں جرگہ میں بیٹھنے والے کئی معتبر لوگ بھی ہوں گے۔
میں نہیں چاہتا کہ تم ہماری عزت کا جنازہ نکالو،
اس لیے خدا کا واسطہ ہے…
ان لوگوں کے آنے سے پہلے یہاں سے چلی جاؤ،
یا اپنے کمرے میں دفع ہو جاؤ۔
میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا…”
افضل خان کے لہجے میں آج کوئی رشتہ باقی نہیں رہا تھا،
صرف حکم تھا… اور فیصلہ۔
آج اس نے بہن اور بھائی کے بیچ کھڑی احترام کی وہ دیوار
پورے اختیار کے ساتھ گرا دی تھی،
اور یہ مقام روشانے خود لے کر آئی تھی۔
“مجھے کیا ہے، میری بلا سے اپنی بیٹی کو جلتے تندور میں ڈال دیں۔
میں تو آپ کی بیٹی کی بھلائی کے لیے بول رہی تھی…”
لفظوں میں تلخی تھی، آواز میں زخمی انا۔
“میں چلی جاؤں گی یہاں سے،
دوبارہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی…”
افضل خان اسے جاتا ہوا غصے سے لال ہوتی نظروں سے دیکھتا رہا۔
اس کے دل میں صرف ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا،
کہ آج اسی بہن کے لیے اس کی بیٹی قربان ہونے جا رہی ہے،
جسے نہ تمیز ہے، نہ لحاظ۔
“میں جانتی ہوں کہ وہ غلط ہے…
مگر پھر بھی آپ کو اس طرح اسے گھر سے جانے کو نہیں کہنا چاہیے تھا۔
وہ بھی اس گھر کی بیٹی ہے، چاہے غلط ہی سہی۔”
افضل خان گہری سانس لیتے ہوئے بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گیا۔
دونوں ہاتھ سائیڈ پر جمے تھے، ایک ٹانگ بے ترتیبی سے ہل رہی تھی،
جیسے اندر کی بے چینی کو خاموش کروانا چاہتا ہو۔
گلناز اپنی جگہ سے اٹھی اور آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
کمرے میں کچھ لمحوں کے لیے بس خاموشی رہ گئی،
وہ خاموشی جو لفظوں سے زیادہ بھاری ہوتی ہے۔
“یہ قدم مجھے بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا…
برسوں تک اس کی ہر جائز، ناجائز بات مانتا رہا،
صرف اس لیے کہ یہ بہن ہے، اس کا دل نہ ٹوٹے…”
افضل خان کی آواز بھاری تھی، جیسے ہر لفظ سینے سے کھنچ کر نکل رہا ہو۔
“مگر آج اس کی وجہ سے میرا بیٹا مجھ سے بدظن ہو کر گھر سے دور ہے۔
اسی کی غلط پٹیاں اور غلط پرورش میرے بیٹے کو اس مقام تک لے آئی ہیں
جس کا انجام وہ خود نہیں جانتا…”
ایک لمحے کو رکا، سانس جیسے اندر ہی اندر ٹوٹ گئی ہو۔
“اور اب اسی کی وجہ سے میری بیٹی عذاب جیسی زندگی گزارے گی۔
اگر اس تکلیف میں مجھ سے چند لفظ غصے میں نکل گئے
تو تم نے اس کا انداز دیکھا؟
کیسے پاؤں پٹخ کر گئی…
ذرا سا بھی لحاظ نہیں کہ میں اس کا بھائی ہوں۔”
لہجہ سخت ہو گیا، درد تلخی میں بدل چکا تھا۔
“جب اسے لحاظ نہیں،
تو پھر میں کیوں لحاظ کروں ۔
“تم اسے چھوڑو…
اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بعد میں دیکھ لیں گے۔
فی الحال جا کر ہماری بیٹی کی فکر کرو،
جو شاید اب کبھی ہم سے مل نہ سکے گی…”
یہ کہتے ہوئے افضل خان کے آنسو بے اختیار چھلک پڑے۔
اسے یوں ٹوٹتا دیکھ کر گلناز بھی ضبط نہ کر سکی، سسکیاں اس کے لبوں سے پھوٹ پڑیں۔
اس لمحے دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے،
اپنی بیٹی کے دور چلے جانے اور ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے کے خوف میں،
خاموشی سے آنسو بہاتے ہوئے۔
═══════❖═══════
نکاح سے ذرا پہلے کا لمحہ تھا۔
وہ لمحہ جسے خوشی کا ہونا چاہیے تھا، مگر کمرے کی فضا میں گھٹن سی ٹھہری ہوئی تھی۔ مہمانوں کی آوازیں باہر تھیں، اندر خاموشی چیخ بن چکی تھی۔ دیواروں پر سجے پھول بے معنی لگ رہے تھے، اور وقت جیسے جان بوجھ کر آہستہ چل رہا تھا۔
“پلیز… مجھے کہیں مت بھیجیں۔ مجھے میری اماں کے پاس جانا ہے… مجھے شادی نہیں کرنی، مجھے پڑھنا ہے۔”
اس کی آواز روتے روتے ٹوٹ رہی تھی۔ ہاتھ ماں کی چادر میں الجھے تھے، جیسے وہ ایک کپڑے کے ٹکڑے سے اپنی زندگی باندھ لینا چاہتی ہو۔ آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، ضد نہیں تھی، خوف تھا… خالص، بے بس خوف۔
گلناز نے نظریں چرا لیں۔ ماں ہو کر بیٹی کے آنسو دیکھنا، اور انہیں پونچھنے کی اجازت نہ ہونا، اس سے بڑا عذاب کچھ نہیں تھا۔
افضل خان ساکت کھڑا تھا۔ بیٹی کے روتے ہوئے لفظ اس کے سینے میں اتر رہے تھے، ایک ایک کر کے، اور اندر کہیں سب کچھ توڑتے جا رہے تھے۔
وہ دونوں اپنی سگی اولاد کے آنسو دیکھ رہے تھے…
اور اس لمحے میں ان کے پاس سوائے خاموشی کے کچھ بھی نہیں تھا۔
“اگر آپ کا نکاح کر کے آپ کو ان کے ساتھ رخصت نہ کیا گیا۔تو وہ لوگ آپ کے بھائی آریان کو مار دیں گے۔”
“کیا آپ اپنے بھائی کو مرتا ہوا دیکھ سکتی ہیں؟”
نور کے آنسوؤں کو دیکھ کر گلناز مجبور ہو گئی۔
اس نے یہ لفظ کہا، جو ایک ماں کے لیے بہت مشکل تھا۔
بیٹے کے نام کے ساتھ ‘مرنے’ جیسا لفظ جوڑنا،
اس کے لیے آسان نہیں تھا، مگر مجبور تھی۔
نور کو سمجھانے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
گل ناز کے الفاظ پر نور نے چہرہ اٹھایا،
آنکھوں میں آنسو جمع تھے، نگاہ ماں کی طرف جمی ہوئی تھی۔
نور جانتی تھی کہ وہ افضل خان اور گلناز کی بیٹی ہے۔
پھوپھو سے اسے اتنا پیار ملا تھا کہ والدین سے کوئی شکوہ نہ تھا،
مگر یہ سچ بھی تھا کہ نور اپنے سگے بہن بھائیوں سے بے حد محبت کرتی تھی۔
ایزل اور آریان خان کو وہ دل و جان سے چاہتی تھی۔
آریان کی موت کا سن کر اس کا دل تڑپ گیا،
اور وہ لمحہ، درد کے ساتھ، اس کے ہر سانس میں گھل گیا۔
“بولو، نور… کیا تم اپنی آزادی کی قیمت اپنے بھائی کی جان دے کر ادا کر سکتی ہو؟”
نور کے ہاتھ کانپ رہے تھے، نگاہیں بڑی اور خوفزدہ۔
چہرہ پھوٹتے آنسوؤں سے نم تھا، مگر لب ہل نہیں رہے تھے۔ایک طرف بھائی کی جان تھی اور دوسری طرف اس کی آزادی،بہت مشکل تھا۔
“تو ٹھیک ہے، ہم یہ نکاح رکوا دیتے ہیں۔اسکی خاموشی پر ایک بار پھر گلناز کی آواز گونجی۔
میری جان تم اتنی چھوٹی بچی تو نہیں کہ خاندان کے قاعدے اور قانون سے واقف نہ ہو…”
“تم جانتی ہو کہ جرگہ میں ہوئے فیصلے کو،
ہم چاہیں یا نہ چاہیں، ہمیں ماننا پڑتا ہے…”
گلناز نے آہستہ سے نور کا ہاتھ پکڑا،نور نے سر جھکایا، سانس بے ترتیب سی تھی۔
ماں کی آواز میں آخری صبر، اور رسم و رواج کی طاقت،
نور کے دل پر وہ کیل ٹھوک رہی تھی جو اسے آزادی سے دور لے جا رہی تھی۔
“پلیز… آپ آریان لالہ کو فون کر کے کہہ دیں
کہ وہ ان کو واپس کر دیں…
اور معافی مانگ لیں…
اس طرح لالہ کی جان بھی بچ جائے گی،
اور میرا نکاح بھی نہیں ہوگا…”
نور کا پورا وجود کانپ رہا تھا ،
نگاہیں کبھی اٹھتی اور کبھی جھک جاتی،
لب بولتے ہوئے آنے والی زندگی کے ڈر سے کان رہے تھے، مگر وہ رک نہیں رہی تھی۔
ہر لفظ اس کے چھوٹے دل سے نکلا،
جیسے ایک پنچھی، پنجرے میں قید ہو اور پوری طاقت سے دہائی دے رہا ہو۔
گلناز نے گہری سانس لی۔
نور کی طرف دیکھا، دل مانتا بھرے جذبات سے بھرا ہوا تھا، مگر بے بسی کا عالم یہ کچھ کر نہیں سکتی تھی۔ سوائے سختی سے اپنی بیٹی کو سمجھانے کے۔
“پہلی بات… وہ لوگ اب تمہارے لالہ کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔
دوسری بات… اگر ان کی بیٹی واپس بھی چلی جائے، تو کیا ہم اس کی عزت لوٹا سکتے ہیں؟
تیسری بات… تمہارے لالہ نے ہم سے سارے رابطے توڑ رکھے ہیں، فون بند ہے، کہاں ہے، ہمیں معلوم نہیں…”
گلناز کی آواز لرز رہی تھی، مگر ہر لفظ میں وزن تھا۔
“تم آج اپنے لالہ کی زندگی بچانے کے لیے خود پھانسی پر لٹک جاؤ،
یا بچ کر آنے والے وقت میں اپنے لالہ کو پھانسی پر لٹکتا دیکھنے کی ہمت پیدا کر لو…
فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے، نور…”
گلناز جانتی تھی کہ وہ غصے میں اپنی بیٹی کے ساتھ سخت بول رہی ہے،
مگر اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
حقیقت سے پردہ اٹھائے بغیر، نور نکاح کے لیے تیار نہیں ہو رہی تھی۔
نور ایک دم خاموش ہو گئی۔
آنکھیں ماں کے چہرے پر جمی رہیں، جیسے ماں کے سختی میں چھپا ہوا درد سمجھ میں آگیا ہو۔ کچھ کہنے کے لیے
ہونٹ ہلے… مگرآواز نہ نکلی نظریں جھکا لیں۔
انگلیاں دوپٹے کے کنارے میں الجھ گئیں، گرفت سخت ہوتی چلی گئی۔
آریان کا چہرہ، اس کی ہنسی، اس کی آواز…
سب ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے آنے لگا۔
نور نے ایک بار پھر سر اٹھایا۔
اس بار آنسو نہیں گرے، بس آنکھوں میں ٹھہر گئے۔
“اماں…”
آواز بہت دھیمی تھی، ٹوٹی ہوئی۔
“آریان بھائی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے…
میں نکاح کے لیے تیار ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے نور نے جیسے دل پر پتھر رکھ لیا۔
آواز میں چیخ نہیں تھی، شور نہیں تھا،
مگر درد اتنا تھا کہ گلناز کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
افضل خان کے سیل پر کسی کا فون آ رہا تھا جسے سننے کے لیے وہ کمرے سے باہر جا چکا تھا۔
کمرے میں خاموش دیواروں اور انکھوں میں نمی کے سوا کچھ نہ تھا۔
═══════❖══════
جیسے ہی ایزل نے ہوٹل کے اندر قدم رکھا، اندر کے ماحول نے اسے فوراً چونکا دیا۔ نرم روشنیوں میں نہایا ہوا ہال، مدھم موسیقی اور ہوا میں بسی خوشبو… سب کچھ غیر معمولی سا لگ رہا تھا۔
وہ دونوں آ کر ٹیبل پر بیٹھے تو ایزل کی نظریں بے اختیار ساتھ والی ٹیبل پر جا ٹھہریں۔ کینڈلز کی نرم روشنی، میز کے عین درمیان رکھا ہوا کیک اور اردگرد کی سجاوٹ…
یہ عام ڈنر بالکل نہیں لگ رہا تھا۔
ایزل نے ہلکی آواز میں کہا، جیسے خود سے بات کر رہی ہو،
“لگتا ہے کسی کی برتھ ڈے ہے…؟”
پھر اس کی نظر دوبارہ اسی میز پر گئی،
“مگر وہ لوگ ابھی تک آئے کیوں نہیں…”
سجاوٹ اسے عجیب سی جستجو میں مبتلا کر رہی تھی۔
یارم دونوں ہاتھ میز پر جمائے بیٹھا تھا۔ اس کی بڑبڑاہٹ سن کر وہ خاموشی سے مسکرا دیا، جیسے پہلے سے سب جانتا ہو۔
ایزل تھوڑا سا کرسی سے جھکی اور ساتھ والی میز پر رکھے کیک کو غور سے دیکھنے لگی۔ کیک پر لکھا نام صاف دیکھنے کے لیے اس نے آنکھیں سکیڑیں، جیسے خود کو یقین دلانا چاہتی ہو کہ کہیں غلطی تو نہیں۔
اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں چونک اٹھیں، اور لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
ایزل… نام وہی تھا۔
اس نے خود سے کندھے اچکائے اور دل ہی دل میں سوچا،
“کیا حسین اتفاق ہے… کاش کبھی میری برتھ ڈے پر یارم بھی مجھے ایسے ہی سرپرائز دے دے…”
“کیا دیکھ رہی ہو…؟”
یارم نے اسے غافل نظروں سے گھورتے دیکھ کر پوچھا۔
“کچھ نہیں… بس کتنا عجیب اتفاق ہے۔ جس کا نام کیک پر لکھا ہے وہ آئی نہیں، اور میں آ گئی ہوں…”
وہ کیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی،
“دیکھیں، اس پر بھی ایزل لکھا ہے…”
یارم نے ہلکے سے اس کے سر پر چست لگائی۔
“بدھو، تمہاری ہی برتھ ڈے ہے۔ تم بھول گئی ہو؟”
ایزل کی آنکھوں میں یکدم حیرت پھیل گئی۔ چہرے پر وہ مسکراہٹ ابھری جس میں خوشی بھی تھی اور اچانک لگنے والے انکشاف کا جھٹکا بھی۔
“مطلب… میں اپنی برتھ ڈے بھول گئی… اور آپ کو یاد تھا؟ یہ سب… یہ سرپرائز میرے لیے ہے…؟”
وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے کرسی سے کھڑی ہو گئی۔
“بالکل، یہ سرپرائز تمہارے لیے ہی ہے۔ اور ہاں، ایزل آ چکی ہے۔”
اس کی خوشی دیکھ کر یارم خود بھی مسکراتے ہوئے بولا۔
“تھینک یو… تھینک یو سو مچ…”
ایزل کی آواز خوشی سے لرز رہی تھی۔
“آج تو میں اتنی خوش ہوں کہ مر بھی جاؤں تو مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا…”
یارم کی مسکراہٹ فوراً سنجیدہ ہو گئی۔
“ایسی بات دوبارہ مت کہنا۔ خوشی کے لمحے جینے کے لیے ہوتے ہیں، مرنے کی دعائیں مانگنے کے لیے نہیں۔”
“نہیں، نہیں… اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے…”
وہ فوراً بولی،
“میں دھیان رکھوں گی، ایسی بات دوبارہ نہیں کہوں گی۔ مگر اگر… اگر میں مر گئی تو… کیا آپ کو میرے مرنے سے فرق پڑے گا…؟”
“ایزل…”
یارم نے گہری سانس لی،
“یہ بے وقوفی کی باتیں کرنا ضروری ہے؟”
وہ ضدی سی ہو گئی۔
“پلیز… جواب دیں نا… فرق پڑے گا یا نہیں…؟”
یارم نے گہری سانس لی۔ نظریں اس کے چہرے پر جمائیں اور نرمی سے ہتھیلی میز پر پھیلا دی۔ ایزل نے اپنا نازک سا ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ پر رکھ دیا۔
“کیوں فرق نہیں پڑے گا… بیوی ہو میری…”
یارم نے آہستہ کہا۔ اس کی نظروں میں آج کچھ خاص تھا۔ ایزل نے وہ نظر محسوس کی تو شرما گئی اور نگاہیں جھکا لیں۔
“ویسے تم شرما لیتی ہو، دیکھ کر اچھا لگا۔”
“کیا مطلب ہے؟” وہ آنکھیں ذرا سی چھوٹی کر کے بولی۔
“مطلب یہ کہ مجھے تو لگتا تھا تم شرمانے والی بالکل نہیں ہو۔”
“ہاں، نہیں ہوں۔ مجھ سے اپنے ہی شوہر کے سامنے شرمانے والی ایکٹنگ نہیں ہوتی۔ فضول… اب نہیں شرمانا آتا تو کیا کروں۔” اس نے بالوں کو ہلکا سا جھٹکا۔
یارم مسکرایا۔
“اچھا… اور جو ایک منٹ پہلے تھا وہ کیا تھا؟ ایکٹنگ؟”
“جی نہیں، اوریجنل تھا۔ کبھی کبھی بندہ تھوڑا بہت شرما جاتا ہے، نیچرل ہے، مگر زیادہ شرمانے والی مجھ سے امید مت رکھنا۔”
“ہمم… نہیں رکھوں گا، جیسی ہو مجھے ویسی ہی پسند ہو۔”
“ہائے صدقے جاؤں، کتنا پیارا بولتے ہیں، بولتے رہا کریں، مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔”
“چلو، کیک کٹ کرتے ہیں۔” یارم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“جی جی، چلیں…” ایزل خوشی سے بولی اور کیک کٹ کرنے کے لیے ساتھ والی میز کی طرف بڑھ گئی۔ کینڈلز کی نرم روشنی میں رکھا کیک خاموشی سے ان کا انتظار کر رہا تھا۔
ایزل کا ہاتھ تھامے، یارم ساتھ والے ٹیبل کی طرف دیکھتے ہوئے آگے بڑھا ، جہاں ایک خوبصورت سا کیک انتظار کر رہا تھا۔ ایزل کے ہاتھ میں چھری تھی، جس پر ریڈ کلر کا چھوٹا سا ربن باندھا گیا تھا۔
ایزل خوشی سے یارم کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ پیاری سی خوشی، کو دل سے، محسوس کر رہی تھی،اسے سب کچھ کچھ خواب سا لگ رہا تھا۔
یارم نے اس کی نظروں کے سامنے اپنا ہاتھ لہرایا۔
“محترمہ، مجھے بعد میں دیکھ لینا۔ میں کہیں نہیں جاؤں گا، تمہارے پاس ہی ہوں۔ فلحال، کیک کاٹو!”
اس کے سامنے ہاتھ لہراتے ہوئے جیسے ایزل کو ہوش کی دنیا میں واپس آنے کی دعوت دے رہا تھا۔
ایزل نے حواسوں کو قابو لاتے ہوئے چھری مضبوتی پکڑی، کیک کٹ کیا۔۔۔
“ہیپی برتھ ڈے، مائی بیوٹی فل وائف!” اپنائیت سے کہا۔
“تھینک یو تھینک یو سو مچ…. ایزل میں مسکراتے ہوئے جواب دیا…
کیک کا ایک ٹکڑا اٹھاتے ہوئے ، ہاتھ کی مدد سے یارم کے سامنے کیک پیش کیا ….یارم نے اشارے سے کہا کہ پہلے وہ کھائیں۔
یارم نے کیک اس کی جانب بڑھایا۔
دونوں نے ایک دوسرے کا منہ میٹھا کروایا۔
“بیوٹی فل وائف کہا؟ آپ نے؟” ایزل ابھی تک اسی بات پر اٹکی ہوئی تھی۔
“نہیں، تمہیں لگا۔ میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا!” یارم ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا، ایک ٹشو اس کی جانب بڑھایا اور پھر واپس اسی ٹیبل پر آ کر بیٹھ گیا جہاں سے وہ اٹھ کر کیک کٹ کرنے کے لیے گئے تھے۔
“کنجوسی انسان… وہ بڑ بڑائی… یارم خاموش تھا…
ایزل نے مینیو کارڈ ہاتھ میں پکڑا اور غور سے دیکھنے لگی۔
یارم اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا، دل میں سکون، کیونکہ اب وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ اپنے دل کو سنبھال کر، اپنے رشتے کو حقیقت میں مضبوط بنانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔۔۔ایک مطمئن سی مسکراہٹ چہرے پر بکھر گئی۔
═══════❖═══════
یہ قسط ناول “صلیب سکوت” کی ایک قسط ہے، تخلیق حیات ارتضی، S.A کی۔اگلی قسط مطالعہ کرنے کے لیے، اسی ناول کی category “صلیب سکوت” ملاحظہ کریں،جہاں تمام اقساط ترتیب وار اور باقاعدگی سے دستیاب ہیں۔💡 نوٹ: ہر نئی قسط ہر اتوار شام 8:00 بجے Publish کی جائے گی۔📌 حیات ارتظی مینجمنٹ
boht kmal ka episode thaaaaa ❤❤ Aryan ko wapis aaajana chaiye taa k abheera k Ghr walon ko b skoon ho