Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:11
🕯️ صلیبِ سکوت
قسط نمبر :11
حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════
,باہر آتے ہی آریان خان کی نظر سامنے فل یونیفارم میں غصے سے لال چہرہ لیے کھڑے ہوئے یارم پر پڑی,
,ہوا جیسے ایک لمحے کو ٹھہر گئی, آسمان کی دھوپ میں ان دونوں کے سائے زمین پر ایک دوسرے سے الجھے ہوئے دکھائی دیے,
,آج پہلی بار آریان خان اور یارم کا آمنا سامنا ہوا تھا,
,یارم خان ہمیشہ ہی اخبار اور نیوز کی خبروں پر چھایا رہتا تھا,
,اس کی بہادری کے چرچے ہونے کی وجہ سے ہر کوئی اسے جانتا تھا,
,اس لیے آریان خان بھی یارم خان کے نام سے ناواقف تو نہیں تھا,
,اور جب سے یارم کا تعلق عبیرہ سے بنا تھا,
,اس کے بعد سے تو یارم ایک ایسا نام بن گیا تھا جس کے بارے میں سوچ کر بھی آریان خان کے دماغ کی نسیں پھٹنے لگتی تھیں,
,آریان خان کو اس شخص سے نفرت تھی, شدید نفرت,
,اور مقابل کے بھی اس کے لیے تاثرات شاید آج کے بعد یہی ہونے والے تھے,
,آریان خان کا طنزیہ سا سلام کہنے پر یارم خان نے پلٹ کر دیکھا,
,چند لمحے خاموشی کی ریت میں گم رہے, جیسے وقت خود رک کر انہیں دیکھنے لگا ہو,
,دونوں آمنے سامنے کھڑے ایک سے بڑھ کر ایک حسین لگ رہے تھے,
,بے شک یارم بھی خوبصورتی میں آریان خان سے کم نہیں تھا,
,دونوں کی آنکھوں میں وہی سختی, وہی چمک, جیسے پہاڑوں کی برف میں چھپی ہوئی آگ ہو,
,اگر کہا جائے کہ دونوں ٹکر کے حسین تھے تو غلط نہ ہوگا,
,دونوں ہی گورے چٹے پٹھان, چھ فٹ کو ٹچ کرتی ہوئی ہائٹ, فرق اتنا تھا کہ آریان خان کے چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی اور مونچھیں تھیں,
,اور یارم خان کی صرف مونچھیں جو اس پر بہت جچتی تھیں,
,دونوں کی کثرتی چھاتیاں دونوں کی بہادری کی نشاندہی کر رہی تھیں,
,فضا میں ایک ان دیکھی جنگ چھڑ چکی تھی, مگر دونوں کے لب خاموش تھے, صرف آنکھیں بول رہی تھیں,
،،ہم جیسے بھی ہیں مسٹر آریان خان، مگر ہمیں پوری امید ہے کہ ہم سے ملنے کے بعد آپ بالکل ٹھیک محسوس نہیں کریں گے،،
یارم کے لہجے میں بھی کڑواہٹ اور طنز شامل تھا۔۔۔
ہوا میں وہ طنز ایک دھندلی سی دھواں بن کر پھیل گیا، نگاہیں چبھتی رہیں، ہر لفظ کے بعد ایک پرسکون چیلنج باقی رہ گیا۔۔۔۔
،،او مائی گاڈ اتنا ایٹیٹیوڈ،،
آریان خان نے آئی برو اٹھاکر دونوں ہاتھ پاکٹ میں ڈالتے ہوئے نظروں میں نظریں گاڑتے ہوئے دیکھ کر کہا۔۔۔
،،ڈی ایس پی، مجھے تو تمہارے ارادے نیک نہیں لگ رہے،،
،،اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں مسٹر آریان، جواب خود ہی مل جائے گا،،
،،مطلب،،
،،اتنے سیدھے نہیں کہ آپ کو مطلب سمجھانا پڑے،
مگر پھر بھی بتا دیتا ہوں،
آپ نے جرات کیسے کی ایک لڑکی کو اغوا کر کے اپنے ساتھ رکھنے کی،
جنگل کا قانون سمجھ رکھا ہے کہ کوئی آپ سے پوچھ تاچھ نہیں کرے گا،،
قہر آلود نظروں سے یارم خان نے آریان خان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
آریان خان تو دونوں ہاتھ کمر پر باندھے ہوئے یارم خان کے سامنے ایسے کھڑا تھا جیسے وہ بھی پولیس والا ہو۔۔۔
یارم خان اس کے چہرے پر نظریں گاڑے ہوئے کھڑا تھا۔۔۔
یارم خان کے ہاتھ قانون کی زنجیروں میں بندھے نہ ہوتے تو ابھی کے ابھی پسٹل کی ساری گولیاں آریان خان کے سینے میں اتار، سینہ گولیوں سے چھلنی کر دیتا۔۔۔
اس کی محبت کو اغوا کرنے والا یہ شخص تھا جو اس وقت اس کی نظروں کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
مگر مجال ہے جو آریان خان کی آنکھ میں رتی پر برابر بھی ڈر ہو، وہ تو ایسے کھڑا تھا جیسے وہ کچھ سن ہی نہ رہا ہو۔۔۔
،،میں آپ سے بات کر رہا ہوں مسٹر آریان،،
آریان خان کے جواب نہ آنے پر یارم خان نے غصے سے کہا۔۔۔
،،چلاؤ مت ڈی ایس پی، چلانا مجھے بھی آتا ہے،،
،،یوں گلا پھاڑ کر تم آریان خان کو دبانے کی کوشش کر رہے ہو،،
،،آریان خان کو دبانا اتنا آسان کام نہیں ہے،،
،،ڈی ایس پی، مت بھولو کہ اس وقت تم نے میرے گھر پر غیر قانونی طور پر ریٹ ڈالی ہے،،
،،مسٹر آریان تم مجھے قانون مجھے مت سکھاؤ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے، تم سے بہتر جانتا ہوں۔۔۔
اگر تم بھی صحیح اور غلط کے فرق کو سمجھتے تو ایک لڑکی کو اغوا کر کے لے کر لانے سے پہلے سو بار سوچتے۔۔۔،،
یارم نے اس کے منہ پر زور سے چلایا۔۔۔
فضا لمحے بھر کو ساکت ہو گئی، جیسے آواز پتھروں سے ٹکرا کر واپس پلٹی ہو۔
آریان کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا، مگر آنکھوں میں وہ خاموشی تھی جو کسی اندرونی طوفان کی نشانی ہوتی ہے۔۔۔
،،میں نے۔۔۔ کیا۔۔۔ کیا ہے اس کا جواب تو میں تمہیں دینا ضروری نہیں سمجھتا،،
ایک ایک لفظ کو اس نے دانتوں تلے چباتے ہوئے کہا۔۔۔
،،اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم کسی ان پڑھ جاہل دیہاتی کے سامنے کھڑے ہو،،
جس کو قانون کے بارے میں پتہ نہیں ہے، اپنی یہ دھوپ یہ پولیس گری یہ دبدبہ کسی اور کو دکھانا میرے جوتے کو پرواہ نہیں تمہارے اس ایٹیٹیوڈ کی،اور جو غیر قانونی ریٹ تم نے میرے گھر پر ماری ہے اس کے انجام بہت خطرناک ہو سکتے ہیں ہلکے میں مت لینا ،،
آریان خان یارم خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا بول رہا تھا۔۔۔
غصے سے دونوں کے چہرے کی نسیں تنی ہوئی تھیں۔۔۔
دونوں اکڑو شہزادوں کے چہرے غصے سے لال پڑ چکے تھے۔۔۔
دونوں کا بس چلتا تو آنکھوں سے نکلتے ہوئے انگاروں سے یہ ایک دوسرے کو جلا کر بھسم کر دیتے، ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر۔۔۔
(فضا میں ایک مختصر ادا گھل گئی؛ آنکھوں کے انگارے بول اٹھے، ہر سانس ایک چھپی ہوئی دھمکی بن کر رہ گئی۔)
،،تم ایک لڑکی کو غیر قانونی طور پر اغوا کر کے رکھ سکتے ہو اور ایک ڈی ایس پی کو یہ بتا رہے ہو کہ تمہارے گھر پر جو ریٹ پڑی ہے وہ غیر قانونی ہے؟،،
،،کیا بات ہے۔۔۔ پولیس والے کو قائدے قانون سکھا رہے ہو،،
یارم خان کی دھاڑ پورے گھر میں گونج رہی تھی۔۔۔
کوئی اور ہوتا تو اس کی دھاڑ سے گھبرا کر سامنے سے ہٹ جاتا،
مگر اس کے مقابل کوئی اور نہیں آریان خان تھا جس کا جگر شیر کا تھا،
ڈرنا تو اس کی فطرت میں ہی نہیں تھا۔۔۔
فضا میں ایک پل کو خاموشی چھا گئی،
ہوا جیسے تھم گئی ہو،
دونوں کے درمیان صرف نظروں کی چنگاریاں باقی رہ گئیں۔۔۔
،،اتنا گلا پھاڑ کر جو بات تم بول رہے ہو اس بات کا کوئی ثبوت ہے؟،،
آریان خان کے لہجے میں طنزیہ سی ہنسی بھی تھی اور جیت کا نشہ بھی۔
،،بولو جواب دو۔۔ کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس کہ میں نے اس لڑکی کو اغوا کیا ہے؟،،
یارم خان نے ایک قدم آگے بڑھایا،
چہرہ تناؤ سے بھرا، آنکھوں میں خون اترا ہوا،
اور اکڑو دبدبے والے انداز میں کہا،
،،ثبوت کی ضرورت صرف ان لوگوں کو ہوتی ہے جنہیں اپنے گناہ چھپانے ہوں آریان خان،،
،،اور اگر پھر بھی تمہیں ثبوت چاہیے، تو ثبوت تمہارے سامنے کھڑا ہے، میں جانتا ہوں کہ تم نے اسے اغوا کیا ہے،،
،،ہاہاہاہا۔۔۔،،
آریان خان کا طنزیہ قہقہہ دلفریبی سے فضا میں گونج اٹھا۔
یارم خان کا مذاق اڑاتے ہوئے آریان خان ہنستے ہوئے اپنا چہرہ دائیں بائیں کر رہا تھا،
دانتوں سے نچلے ہونٹ کے کنارے کو کاٹتے ہوئے
یارم خان کے غصے کو مزید بھڑکا رہا تھا۔۔۔
یارم کی مٹھیاں بھنچ گئیں، رگیں ابھر آئیں،
سانس تیز ہوئی مگر زبان خاموش رہی،
آنکھوں میں وہ آگ تھی جو بس بھڑکنے کو باقی تھی۔۔۔
“ڈی ایس پی، یہ بات تو تب ثابت ہوگی نا جب وہ لڑکی خود اپنے منہ سے کہے گی کہ میں نے اسے اغوا کیا ہے۔۔۔”
آریان خان نے ایک آنکھ سکیڑتے ہوئے، بھنویں چڑھائیں۔
لہجے میں غرور کی وہ کرخت چمک تھی جسے الفاظ چھپا نہیں سکتے تھے۔
اسے یقین تھا۔۔۔ابیرہ کبھی اس کے خلاف نہیں بولے گی۔
“اس لڑکی کو بتانے کی ضرورت نہیں، میں جانتا ہوں کہ تم اسے زبردستی اپنے ساتھ یہاں لائے ہو۔۔۔
تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ لڑکی کو باعزت ہمارے حوالے کر دو، ورنہ۔۔۔”
“ورنہ۔۔۔ کیا۔۔۔؟”
دونوں بھنویں چڑھاتے ہوئے آریان خان نے یارم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں، نگاہ میں نہ ڈر تھا نہ لحاظ۔
“دھمکی دے رہے ہو، ڈی ایس پی؟
یہ دھمکیاں جا کر کسی اور کو دینا، آریان خان تمہاری ان گیدڑ دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔۔۔
تم جیسے دو ٹکے کے پولیس والے میرے آگے پیچھے دم ہلاتے ہیں۔۔۔”
،ااااااے!!!،
اپنی حد میں رہ کر بات کر، آریان خان۔۔۔
یارم زور سے چلایا۔
اس کے لہجے میں وہی ایسی سختی تھی کہ دیواریں کانپنے لگیں۔
،تیرے آگے پیچھے جو دم ہلاتے ہیں، وہ حرام کھانے کے عادی ہیں۔ مجھے ان جیسا سمجھنے کی غلطی مت کرنا۔ حلال کی کمائی کھانے والے پولیس والے اور حرام کھانے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ دوبارہ میرے ساتھ اس طرح کی بکوس کرنے کی جرات کی تو۔۔۔،
یارم کی آواز میں سنجیدگی تھی، اور ہر لفظ ایک دھمکی بن کر گر رہا تھا۔
،میں ابھی دو منٹ کے اندر تمہیں ایک آن ڈیوٹی پولیس آفیسر کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے جرم میں اٹھوا کر سلاخوں کے پیچھے بند کروا سکتا ہوں۔،
،،اور تم نے ایک باعزت شہری کے گھر پر جو اس وقت ریٹ ڈالی ہے اس کے تحت تم پر کون سی دفعہ لاگو ہوتی ہے۔۔۔،،
،ذرا وہ بھی سوچ لینا۔۔۔ یہ مت بھولو کہ میں کیس تمہارے خلاف بھی درج کروا سکتا ہوں۔۔۔،
آریان خان کون سا ہار ماننے والا تھا؛ اس کے پاس بھی ہر بات کا کڑا جواب تھا۔
ہاہاہاہا۔۔۔
یارم طنزیہ قہقہہ لگا کر ہنسا۔
،باعزت اور تم۔۔۔،
یارم خان نے تنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
،آریان خان، تمہاری بہت لمبی چوڑی جنم پتری نکلوائی ہے میں نے۔۔۔،
،کم سے کم تم باعزت تو نہیں ہو۔۔۔،
تمہاری کرتوتوں کے چرچے بہت لمبے چوڑے ہیں۔
،خود کو باعزت کہہ کر عزت کی توہین مت کرو۔
،میں باعزت ہوں یا نہیں، اس کا ثبوت میں تمہیں دینے کا پابند نہیں ہوں۔۔۔،
،مگر تمہیں تڑپانے کے لیے میرے پاس ایک بریکنگ نیوز ہے۔۔۔،
آریان خان کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ جان لیوا حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔
مگر ڈی ایس پی یارم خان کے لیے وہی مسکراہٹ اس وقت زہر سے بھی زیادہ کڑوی تھی۔
اس کے ہاتھ اس وقت قانون کی زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، ورنہ وہ آریان خان کو شوٹ کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔
،پوچھو گے نہیں، کیا؟،
آریان خان نے آئی برو اٹھا کر کہا۔
یارم کو تڑپانے کے لیے اُس نے اب تک نہیں بتایا تھا کہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے۔
یارم نے بغیر جواب دیے اُسے گھورا۔۔۔
“چلو خیر میں خود ہی بتا دیتا ہوں۔۔۔ جس کے لیے تڑپتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہو۔۔۔ وہ اب میرے نکاح میں ہے۔۔۔ بیوی ہے میری اور اگر اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو تمہاری آنکھیں نوچ لوں گا۔۔۔ آریان کی آنکھوں میں جیت کی چمک بھی تھی اور اور عبیرہ کو حاصل کر لینے کا غرور بھی تھا ۔۔۔
“بکواس بند کرو، آریان خان! تم ایسا کبھی نہیں کر سکتے، تم کیسے ایک لڑکی کی رضامندی جانے بغیر نکاح کر سکتے ہو۔۔۔”
“یارم خان کے پورے وجود میں آگ لگ گئی تھی یہ سن کر کہ آریان خان نے اس کی محبت، عبیرہ، سے نکاح کر لیا ہے۔۔۔”
“یارم کا صبر کا پیمانہ ٹوٹا گیا۔۔۔ جھپٹ کر اس نے آریان خان کا گریبان پکڑ لیا۔۔۔
آنکھوں میں خون اتر آیا تھا، وہ کیسے برداشت کرتا کہ جس لڑکی سے اسے پہلی نظر میں محبت ہوئی، جس لڑکی کے ساتھ اس کا ایک خاص رشتہ تھا، وہ لڑکی اس طرح کسی اور کی بیوی بن چکی ہے۔۔۔”
“گریبان۔۔۔ چھوڑ۔۔۔ ورنہ اسی جگہ تیرے سینے میں گولیاں اتار دوں گا۔۔۔
تو ڈی ایس پی ہے اپنے گھر میں، مگر یاد رکھ، اس وقت تم غیر قانونی طور پر میرے گھر میں کھڑے ہو۔۔۔
ایک اشارے پر میرے گارڈز تیرے اندر بندوق کی ساری گولیاں اُتار دیں گے۔۔۔”
آریان خان نے شعلہ بار نگاہوں سے دیکھتے ہوئے، دھیمے مگر ٹھوس لہجے میں کہا۔۔۔
“اپنے گارڈز کی دھمکیاں کسی اور کو دینا۔۔۔
میں تیرے اُن پالتوں کو ایسا اُڑا دوں گا کہ نام و نشان مٹ جائے گا۔۔۔”
“میں نے کہا میرا۔۔۔ گریبان چھوڑ۔
تو تڑپنے کے سوا کچھ نہیں کر پائے گا۔۔۔ نہ تو میں اشتہاری ملزم ہوں، نہ ابھی تک تمہارے تھانے میں کوئی کیس درج ہے۔۔۔
تو پھر یہ جرات کیسے ہوئی کہ میرے گریبان پر ہاتھ ڈالا گیا۔۔۔
اس سے پہلے کہ کوئی سخت قدم اٹھاؤں، آریان کی آواز گونجی۔ ‘چھوڑ آریان!'”
یارم خان نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے گریبان چھوڑ دیا۔۔۔
یارم خان کے ہاتھ اس وقت وردی میں بندھے تھے، اسے جو کچھ کرنا تھا سب قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنا تھا۔۔۔ اس کی وردی اسے اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ کسی شہری کا اپنی ذاتی دشمنی یا غصے کی وجہ سے گریبان پکڑے۔۔۔
دوسری جانب، یارم سمجھ چکا تھا کہ آریان خان اس کی سوچ سے کہیں زیادہ شاطر انسان ہے۔۔۔ اسے قانون کی ہر باریکی کا پتہ تھا۔
وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عبیرہ کے گھر والوں نے ابھی تک عبیرہ کی گمشدگی کی کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی تھی۔۔۔ ایسے میں آریان خان کے ساتھ پنگا لینا یارم خان کے لیے خطرہ ہو سکتا تھا۔۔۔
اس نے آنکھیں دکھاتے ہوئے، نا چاہتے ہوئے، گریبان چھوڑ دیا۔۔۔
عبیرہ کے گھر والوں نے ابھی تک عبیرہ کی گمشدگی کی کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی تھی، اور نہ ہی اس وقت اس کے ساتھ عبیرہ کا کوئی فیملی ممبر موجود تھا۔۔۔
اور سامنے والا ضرورت سے زیادہ شاطر اور تیز دماغ تھا، جسے قانون کے بارے میں ہر چھوٹی بڑی بات کا پتہ تھا۔۔۔ ایسے میں یارم خان کو لینے کے دینے پڑ سکتے تھے۔
قانون کے کچھ دائرے مقرر ہوتے ہیں جنہیں ماننا سب پر لازم ہوتا ہے۔۔۔
قانون کے دائرے کو سمجھتے ہوئے، یارم نے اپنے حصے کو ضبط کیا۔۔۔ یارم نے آریان خان کا گریبان تو چھوڑ دیا، مگر غصہ اب بھی اس کے دل میں بھڑک رہا تھا۔
دوسری جانب، آریان بھی اپنے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی وجہ سے شدید غصے میں تھا، حالانکہ اگر گریبان یارم نے پکڑا تھا تو کسر اس نے بھی کوئی نہیں چھوڑی تھی۔۔۔
ڈی ایس پی، آج تو یہ جرات کر لی۔ یہ تمہاری پہلی اور آخری غلطی ہے۔ دوبارہ میرے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی جرات کی تو تمہارا ہاتھ توڑ کر دوسرے ہاتھ میں رکھ دوں گا۔ آریان خان نے سخت لہجے میں کہا۔
وقت آنے پر سود سمیت واپس کروں گا۔ آریان خان کبھی کچھ نہیں بھولتا۔
اپنے گریبان کو سیدھا کرتے ہوئے، اس نے قہرآلود نظروں سے یارم کو دیکھا اور کہا کہ جس کے لیے تم اتنے تڑپ رہے ہو، اس کے خواب دیکھنا چھوڑ دو۔ وہ اب آریان خان کی بیوی ہے۔ اور اگر یقین نہیں آ رہا تو تھوڑا سا انتظار کر، ابھی کچھ دیر میں یہ خوشخبری تیری کانسٹیبل آ کر تجھے سنائے گی۔اور جاتے ہوئے منہ میٹھا کر کے جانا۔۔
آریان جان بوجھ کر یارم کے دل پر چھریاں چلا رہا تھا۔ یارم کو تڑپتے ہوئے دیکھ اسے تسکین مل رہی تھی، مگر دل میں غصہ اور اضطراب دونوں برابر جاگ رہے تھے۔
“تم اس کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے… وہ تم جیسے گھٹیا شخص کے نام کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ نہیں، بالکل نہیں! عبیرہ جیسی پاک، معصوم لڑکی تم جیسے سفاک انسان کی حقدار نہیں ہو سکتی۔ تم نے یقیناً اس پر زور زبردستی کی ہوگی، کیونکہ ایسی روحیں اپنی رضا سے داغدار نہیں ہوتیں۔ اور یاد رکھو… زبردستی کا نکاح نکاح نہیں ہوتا، وہ تو ایک جبر ہے، ایک ظلم ہے۔
یارم کے دل میں عبیرہ کے لیے تڑپ انگاروں کی طرح دہک رہی تھی، اور یہ دہک اریان خان کی آنکھوں سے صاف جھلک رہی تھی۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ یارم کا درد، عبیرہ کی خاموش چیخ، اور اس جبر کی گونج جو ان تینوں کی تقدیر میں تحریر تھی۔”
“ہاں بالکل صحیح سوچ رہے ہو… زور زبردستی سے ہی نکاح کیا ہے۔
مگر ڈی ایس پی، تم تب تک کچھ نہیں کر سکتے سوائے تڑپنے کے جب تک یہ بات وہ اپنے منہ سے نہ کہے۔
اور اس کی اتنی اوقات نہیں کہ وہ میرے نکاح میں ہوتے ہوئے اپنا منہ کھول سکے۔”
آریان خان کے لہجے میں اس کا غرور بول رہا تھا
وہ غرور جو محبت کے شکستہ حصار میں جنم لیتا ہے،
جہاں احساس زخم بن جاتا ہے اور زخم، انا کی دیوار بن کر دل کو قید کر دیتا ہے۔
“اسے میرے سامنے لاؤ، وہ سب سچ کہے گی۔۔۔”
آریان خان کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی، جیسے اسے یقین ہو کہ سچ بھی اس کے حکم کا پابند ہے۔
“ایسا تو میں کبھی نہیں کروں گا… جتنا تڑپ سکتے ہو، تڑپو!”
اس کے لہجے میں ایسی سختی تھی جو گہری دشمنی کو جنم دیتی ہے۔
” تھوڑا صبر کرو ابھی تمہاری کانسٹیبل آکر تمہیں سب سچ بتا دے گی۔۔۔”
اس کے انداز میں تمسخر، آنکھوں میں حقارت تھی ۔
جیسے کسی کمزور وجود پر اپنی طاقت آزمانے کا نشہ سوار ہو۔
“گھٹیا انسان!”
یارم کا ضبط ٹوٹ چکا تھا ۔
“ایک معصوم، نازک لڑکی کو زبردستی قید کر کے تم خود کو مرد سمجھتے ہو؟ لعنت ہے تمہاری ایسی مردانگی پر،
جو جبر میں پنپتی ہے، اور عورت کو ساتھ رکھنے نہیں بلکہ قید رکھنے میں مردانگی ڈھونڈتی ہے!”
یارم کا دل چاہ رہا تھا کہ سامنے کھڑے شخص کا گلا دبا دے،
اسے آگ لگا دے ۔
کیونکہ وہ شخص، آریان خان، ایک معصوم لڑکی کو قید کیے ہوئے تھا ۔
وہی لڑکی… جو یارم کی محبت تھی،جسے وہ ہمیشہ اپنے قریب رکھنا چاہتا تھا مگر قسمت نے ملنے سے پہلے ہی جدا کر دیا۔
،،ہائے ہائے یہ تڑپ، یہ آگ، مجھے بہت اچھی لگ رہی ہے،،
،،تڑپو ڈی ایس پی، تڑپو، تمہیں پل پل مرتا ہوا دیکھنا مجھے سکون دے رہا ہے،
،،اور دوبارہ میری بیوی کا نام اپنی گندی زبان سے مت لینا،،
آریان دانت پیستے ہوئے غرا کر کہا۔
،،اور میری ہو چکی بیوی سے اپنی گندی نظریں ہٹا لو ، میں نے اس کو تب سے سوچا ہے جب سے مجھے محبت اور نفرت کے مطلب کا پتہ نہیں تھا،،
،،میں نے اس کے بارے میں تب سے سوچا ہے جب اسے ٹھیک سے اسکول بیگ اٹھانا نہیں آتا تھا،،
،،میں نے اس کے بارے میں تب سے سوچا ہے جب وہ جوانی کی دہلیز پر نہیں، بچپن کے کھلونوں کے ساتھ کھیلتی تھی،،
،،اور تم مجھے بتا رہے ہو کہ وہ معصوم ہے، وہ کمزور ہے؟،،
،،تو تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس کے بارے میں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے،
میں اسے تم سے کہیں زیادہ جانتا ہوں، سمجھے تم،،
یارم اس کا ایک ایک لفظ سن کر حیران تھا،کہ وہ عبیرہ کے بارے میں اتنا سب کچھ کیسے جانتا ہے،آخر کیا رشتہ ہے اس کا، اس کے ساتھ،،
،،شاید ابھی تلخ کلامی اور بڑھتی، مگر اسی وقت حویلی کے اندر عبیرہ کا بیان لینے گئی کانسٹیبل باہر آ چکی تھی،،
،،یہ لو، آگئی، پوچھو ان سے، میری پیاری بیوی نے میری محبت میں کیا بیان دیا ہے،،
آریان خان کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ تھی،
وہ جان بوجھ کر ایسے الفاظ اور جملے استعمال کر رہا تھا جن سے یارم کی تڑپ اسے صاف دکھائی دے۔
وہ بار بار اسے یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ عبیرہ اب اس کی بیوی ہے،
کہ اس پر اس کا حق ہے، کہ دسترس تو اب صرف اس کی ہو چکی ہے،،
،،یارم جو اس وقت غصے اور کشمکش سے گزر رہا تھا، سامنے کھڑا شخص اسے جان بوجھ کر اپنے جملوں کے وار سے تہہ و بالا کر رہا تھا،،
،،جبکہ یارم اپنی ذہانت اور سوجھ بوجھ کا استعمال کرتے ہوئے خود پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا، جو اس کے لیے نہایت مشکل ثابت ہو رہی تھی،،
اس نے آریان سے نظریں ہٹا کر اپنی کانسٹیبل کی جانب دیکھا۔
کانسٹیبل نے جلدی سے اندر کے حالات سے آگاہ کیا۔
،،سر… سر، وہ نہیں آنا چاہتیں،،
،،ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی رضامندی کے ساتھ ان سے نکاح کیا ہے، اور وہ ان سے بہت پیار کرتی ہیں… یہ ان کی لو میرج ہے،،
دونوں لیڈی کانسٹیبلز نظریں جھکائے ادب سے بول رہی تھیں،،
،،میں نے آپ لوگوں سے کہا تھا کہ انہیں جا کر بتائیں کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں… میں یہاں ہوں، میں سب سنبھال لوں گا۔
میرے ہوتے ہوئے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں،،
یارم نے نظریں اٹھا کر آریان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا،،
،،جی، سر، ہم نے بتایا تھا، مگر انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش ہیں…اور ان کا کہنا ہے کہ آپ ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت مت کریں،،
کانسٹیبل نے عبیرہ کے ساتھ ہوئی ساری بات آ کر یارم کو بتائی،،
یارم خان نے غصے سے پاس کھڑی ہوئی جیپ کے اوپر زور سے ہاتھ مارا،
،،اس کے اندر ضبط کا طوفان اب قید نہیں رہ سکا تھا،،
،،چچ… چچ…چچ… افسوس عاشق صاحب، ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی آریان خان کو ہرا نہیں سکے، میری بیوی کا پیغام مل گیا ہے، اب تم سکون سے تشریف لے جا سکتے ہو،، آریان خان کے چہرے پر جیت کی چمک اور تنزیہ مسکراہٹ دیکھ کر یارم خان کا دل چاہ رہا تھا کہ اسی وقت سارے قاعدے قانون توڑتے ہوئے اس شخص کے سینے میں اپنی پسٹل کی ساری گولیاں اتار دے، مگر وہ ڈی ایس پی یارم خان تھا، اپنے غصے پر قابو پانے والا، وردی کی قدر جاننے والا۔
وہ جانتا تھا کہ جذبات میں اٹھایا ہوا ایک قدم اس کی پوری عزت خاک میں ملا سکتا ہے۔
جتنا پیار وہ عبیرہ سے کرتا تھا، اتنا ہی پیار اپنی وردی اور اپنے فرض سے بھی کرتا تھا۔
ذاتی دشمنی میں وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا، مگر اپنے دماغ کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ کر سکتا تھا۔
،،باقی کا سوچ بچار میرے گھر سے باہر نکل کر کرو، دفع ہو جاؤ اور دوبارہ شکل مت دکھانا،،
جب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو، آریان خان نے انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
یارم نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔
آریان طنزیہ لہجے میں ہنسا،
،،ایسی نظروں سے گولہ باری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر اس کی کسٹڈی چاہیے تو پہلے جا کر اس کے کسی خونی رشتے کو لے آؤ۔ افسوس، تم تڑپنے کے بعد بھی یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ تمہارا اس کے ساتھ کوئی رشتہ ہے،،
آریان جان بوجھ کر ہر لفظ زہر میں بھگو کر بول رہا تھا، اور یارم کے اندر کا خون کھولنے لگا۔
،،میرے آرام کا وقت ہے، میری وائف میرا ویٹ کر رہی ہے، اپنی فورس کو لے کر دفع ہو جاؤ،،
،،شٹ اپ… مائنڈ یور لینگویج!،، یارم دھاڑا۔
آریان نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
،،میرا مائنڈ کافی خراب ہے، اور لینگویج میں سامنے والے کی حیثیت دیکھ کر استعمال کرتا ہوں۔ یہ رعب کسی اور پر جھاڑنا، میرے تو جوتے کو بھی پرواہ نہیں ہے۔ گارڈز، ان کو روانہ کر کے دروازہ بند کر دو… اور دوبارہ میرے آرام میں خلل ڈالنے کی کسی کو اجازت مت دینا۔ فضول میں لوگ منہ اٹھا کر آ جاتے ہیں،،
یہ کہہ کر وہ اندرونی راستے سے گھر کے اندر چلا گیا، مگر اس کے زہریلے الفاظ یارم کو اندر سے جلا گئے۔
وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتا تھا، مگر مجبور تھا صرف اپنی وردی کی وجہ سے۔
مقابل اس کی سوچ سے زیادہ تیز تھا، اور یارم کی ذرا سی غلطی اسے مہنگی پڑ سکتی تھی۔
اسی لیے اس نے فورس کے ساتھ واپس جانا ہی مناسب سمجھا، مگر وہ ہارا نہیں تھا…
اسے یقین تھا کہ یہ اختتام نہیں ۔
ابھی تو تقدیر کا کھیل شروع ہوا تھا۔
،،یارم نے ایک لمحے کو حویلی کی جانب دیکھا، ایسا محسوس ہوا جیسے دل وہیں کہیں دیواروں کے بیچ رہ گیا ہو،،
،،وہ چاہتے ہوئے بھی وہ عبیرا تک نہیں پہنچ سکتا تھا، مگر خود سے ایک خاموش وعدہ کر کے پلٹا ۔کہ بہت جلد وہ ان دیواروں کے پار پہنچ جائے گا،،
ٹوٹے دل سے گاڑی میں بیٹھتے دروازہ بند کر لیا،گاڑی کی رفتار سڑک پر بڑھ رہی تھی مگر یارم کے اندر سب کچھ ٹھہر چکا تھا۔
کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں راستے بے شمار ہوں اور دماغ فیصلہ نہ کر پائے کہ کس طرف جانا ہے۔
ہر راستہ اپنی طرف کھینچتا ہے، دل بے چین ہوتا ہے اور ہر طرف گھٹن محسوس ہوتی ہے۔
ایسے لمحوں میں اسے اللہ کی کتاب کی ایک خوبصورت دل کو تسکین دینے والی آیت یاد آئی ۔
سورۃ بقرہ کی آیت، جس کا مفہوم ہے۔
“کہہ دو میرے بندوں سے کہ میں ان کو ان کے صبر سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔”
یہ الفاظ یارم کے دل میں کسی ٹھنڈی ہوا کی طرح اترے۔
اس نے گہری سانس لی، اور خود سے کہا ۔
مشکل گھڑی میں صبر ہی سہارا ہے۔
ہر تاریکی عارضی ہے، اور جیسے جیسے صبر کے قدم آگے بڑھتے ہیں، اندھیرے میں روشنی کے چھوٹے چراغ نظر آنے لگتے ہیں۔
وہ جانتا تھا، یہ لمحہ، یہ گھٹن، یہ بے چینی سب اس کے نصیب کا حصہ ہیں،
مگر صبر ہی وہ رہنمائی ہے جو انسان کو آگے لے جاتی ہے۔
اسی صبر کے ساتھ ہر اندھیرا بالآخر روشنی میں بدل جاتا ہے۔
گاڑی کا شیشہ آدھا نیچے کرتے ہوئے اس نے آسمان کی جانب دیکھا،،
،،اے اللہ، اس کی عزت اور آبرو کی حفاظت فرما، ایک عورت کے پاس سب سے قیمتی چیز اس کی عزت ہوتی ہے،،
،،اے اللہ، میرے دل میں اس کے لیے جو جذبہ ہے، وہ پاک ہے، تو جانتا ہے، میں اس کے لیے محرم والا خواب سجائے بیٹھا ہوں،،
،،اے اللہ، تو اس آزمائش کو جلد از جلد ختم کر دے، اور اسے میرا مقدر بنا دے، آمین،،
یہ کہہ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں، سر پشت سے ٹکا دیا،
اور گاڑی کے اندر ایک لمحے کو سکوت چھا گیا ۔
جیسے دعا کے الفاظ فضا میں رک کر رب کے حضور پہنچنے کا راستہ تلاش کر رہے ہوں۔
═══════❖══════
خان! آجائیں، کھانا لگ گیا ہے،
رتبہ کی افسردہ سی آواز باسق خان کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’بس عشاء کی نماز ادا کر کے آتا ہوں۔۔۔‘‘
باسق خان جائے نماز بچھاتے ہوئے رتبہ سے پوچھا،
’’تمہارا شہزادہ آگیا ہے؟‘‘
فون کیا تھا، وہ کہہ رہا تھا کہ شاید اُسے آنے میں ابھی تھوڑا وقت لگ جائے۔
“تو پھر اس کا انتظار کر لیتے ہیں”، باسق خان نے رتبہ کے افسردہ لہجے کو محسوس کرتے ہوئے بھی نظر انداز کیا۔
“نہیں، اس کی ضرورت نہیں۔ وہ کہہ رہا تھا کہ آپ لوگ کھانا کھا لیجیے گا، میرا انتظار مت کیجیے گا…”
رتبہ کی آواز میں پریشانی صاف جھلک رہی تھی،
جسے باسق خان محسوس کرتے ہوئے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“چلو، انشاء کو بلاؤ… میں بس نماز ادا کر کے آتا ہوں۔”
“باسق، آپ کو میری پریشانی نظر نہیں آ رہی، یا آپ جان بوجھ کر مجھے نظر انداز کر رہے ہیں؟”
افسردہ دل نے بہت دیر تک خود کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ شاید باسق خان خود محسوس کر لیں،
مگر وہ تو سب محسوس کر کے بھی خاموش تھے…
اسی لیے مجبوراً اسے ہی کہنا پڑا۔
باسق خان نے گہری سانس بھرتے ہوئے، رتبہ کی طرف دیکھا ۔
ایک ایسا دیکھنا جس میں لفظ تو نہیں تھے، مگر احساس بہت کچھ کہہ رہا تھا۔
“رتبہ، جس بات کے لیے تم پریشان ہو… اُس کا کوئی حل نہیں۔
پہلی بار زندگی میں، میں تمہارے بیٹے کے خلاف کھڑا ہوں۔
اور مجھے تم سے یہی امید ہے… کہ تم میرے ساتھ کھڑی رہو گی۔”
خان کے لہجے میں ایک سنجیدہ وقار، ایک دباؤ اور درد چھپا تھا ۔
ایسا درد جو وہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔“میں کبھی آپ کے خلاف جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی…”
رتبہ کی آواز بھرا گئی،
“مگر باسق، وہ میرا بیٹا ہے…
میں اپنے بیٹے کو اس طرح ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔
عبیرہ اُس کی محبت ہے… وہ نہیں بھول پائے گا اسے…”
باسق خان نے خاموشی سے نظریں جھکائیں
رتبہ کے الفاظ اُس کے دل پر ہتھوڑوں کی طرح گرے تھے۔
ایک لمحے کو وہ خود بھی کمزور پڑ گیا، مگر چہرے پر وہی صبر اور ضبط کی دبیز تہہ برقرار تھی۔
رتبہ نے پہلی بار محسوس کیا… کہ کبھی کبھی سچائی کے ساتھ کھڑا ہونا، خود سے بھی لڑنا ہوتا ہے۔
“میں فضول کی بحث نہیں کرنا چاہتا، وہ بھولے یا نہ بھولے، مگر عروب کی بیٹی میرے بیٹے کے لیے مجھے ہرگز منظور نہیں۔”باسق خان کے لہجے میں وہی ٹھہراؤ تھا جو برسوں کی اختیار شدہ خاموشی کے بعد آتا ہے۔
“باسق، وہ بہن ہے آپ کی… جس سے آپ کبھی بے انتہا پیار کیا کرتے تھے!”
خان کے لبوں پر ایک کڑوی مسکراہٹ آئی۔
“تمہارے سوال میں ہی تمہارا جواب ہے۔ پیار کیا کرتا تھا، اب نہیں کرتا۔ نفرت ہے مجھے عروب سے!”
رتبہ کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہونے لگا۔
“اور اسی نفرت کی آگ میں آپ اپنے بیٹے کی محبت کو جلا رہے ہیں…”
کمرے میں لمحے بھر کو خاموشی چھا گئی۔
باسق کی نظریں پتھر کی طرح سخت تھیں۔
“رتبہ، تم میرے خلاف جا رہی ہو؟”
“معاف کیجیے گا… میں اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتی ہوں۔”
“اور مجھ سے؟”
اس کے لہجے میں تھکن تھی۔
“اگر بیٹے سے اتنی محبت ہے… تو باپ سے کس حد تک ہوگی؟
کیا اب اس کی بھی مجھے وضاحت پیش کرنی پڑے گی؟”
رتبہ کے ہاتھوں میں لرزش تھی۔
دل چاہا کہ کچھ کہے مگر الفاظ جیسے لبوں تک آ کر دم توڑ گئے۔
باسق خان نے گہری سانس لے کر کہا،
“یہ مقام تم خود لا رہی ہو، رتبہ…”
،،میں آپ کے مان کے خلاف نہیں جا رہی باسق،،
،،نہ کبھی جا سکتی ہوں،،
،،آپ کے احترام میں، عزت میں اور محبت میں میری طرف سے کبھی کوئی کمی نہیں آئی، نہ کبھی آ سکتی ہے،،
،،بس مجھے ڈر یہ ہے کہ وہ نوجوان خون ہے، کہیں ہماری ضد اور فیصلے کے بیچ وہ ہم سے باغی نہ ہو جائے،،
رتبہ کی آواز میں نرمی کے ساتھ خوف کی پرچھائیاں تھیں،
اس کے الفاظ میں محبت بھی تھی، ادب بھی اور ایک ماں کی بے بسی بھی،
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ شوہر سے نہیں، وقت سے گزارش کر رہی ہو،،
،،ہم نے اپنے بیٹے کی تربیت ایسی نہیں کی کہ وہ ایک لڑکی کی خاطر ہم سے باغی ہو جائے،،
باسق خان کا لہجہ اب مضبوط اور پُراعتماد تھا،
اس کی آنکھوں میں باپ کا یقین اور دل میں انا کی ہلکی سی چبھن صاف جھلک رہی تھی،،
،،مت بھولیں، جواں محبت پرجوش اور اندھی ہوتی ہے،،
رتبہ کے لہجے میں اب نرمی کم اور درد زیادہ تھا،
وہ آہستہ بولی مگر ہر لفظ جیسے برسوں کے تجربے کا نچوڑ تھا،
،،جب دل کسی کو مان لیتا ہے، تو پھر وہ عقل کی نہیں سنتا،
اور میں ڈرتی ہوں کہ کہیں ہمارا بیٹا بھی اسی راہ پر نہ چل نکلے، جہاں ضد، محبت سے بڑی ہو جاتی ہے،،
اس کے یہ الفاظ باسق خان کے سینے میں تیر کی طرح چبھ گئے،
لمحہ بھر کو وہ خاموش ہوا، جیسے دل نے جواب دیا ہو مگر زبان نے روک لیا ہو۔۔
،،ان شاءاللہ ایسا کبھی نہیں، اگر ماں باپ کی تربیت اور محبت میں دم ہو تو اندھی محبت کو بھی ماں باپ کی قربانیاں نظر آتی ہیں،،
باسق خان کے لہجے میں یقین کی ٹھوس گونج تھی، ایک ایسی وقار بھری مضبوطی جو برسوں کی تربیت، قربانی اور محبت سے جنم لیتی ہے۔
،،ہم نے اپنے بیٹے سے جتنی محبت کی ہے، اور اس کی آسائشوں کا خیال رکھنے کے لیے اپنوں کو چھوڑ کر جو قربانیاں دی ہیں… اگر ہمارا بیٹا وہ سب کچھ ایک لڑکی کی محبت میں بھول جاتا ہے تو ہم خوشی خوشی مان لیں گے کہ ہماری تربیت اور محبت میں دم ہی نہیں تھا،،
رتبہ نے خاموشی سے باسق خان کو دیکھا، جیسے ان کے لہجے کا بوجھ دل پر اتر رہا ہو ۔۔۔ وہ جانتی تھی، یہ الفاظ صرف دلیل نہیں، ایک باپ کے یقین کا اعلان تھے۔
،،مگر سب سمجھتے ہوئے بھی وہ ممتا کے ہاتھوں مجبور تھی، اپنے بیٹے کی خوشیاں دلانے کے لیے وہ پہلی بار اپنے شوہر کے خلاف جاتا ہوا خود کو محسوس کر رہی تھی،،
،،باسق، آپ اتنے ضدی تو کبھی نہیں تھے… کیوں نہیں چھوڑ دیتے، ہر بات کو انا کا مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں،،
رتبہ نے نم آنکھوں کو دوپٹے کے پلو سے صاف کیا، لہجے میں شکوہ بھی تھا اور ایک تھکن بھری نرمی بھی ۔۔۔جیسے برسوں کی رفاقت آج ایک دیوار کے سامنے آ کھڑی ہوئی ہو۔
،،جب کبھی ضد نہیں کی، آج کر رہا ہوں تو تم کیوں نہیں میرا ساتھ دے دیتی؟ کیوں اپنے بیٹے کی محبت میں شوہر کی نافرمانی کر رہی ہو،،
باسق خان کے لہجے میں سختی تو تھی مگر اس کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا سا احساس چھپا تھا ۔۔۔ جیسے وہ رتبہ سے نہیں، اپنے نصیب سے شکوہ کر رہا ہو۔
،،آپ جانتے ہیں کہ آخری فیصلہ بھی آپ ہی کا ہوگا، اور میرا ووٹ بھی ہمیشہ آپ ہی کے حق میں جائے گا۔۔۔ مگر آپ کے خلاف جا کر، چاہ کر بھی میں اپنے بیٹے کا ساتھ نہیں دے سکتی۔۔۔ خدا را، مت آزمائیں بیوی اور ماں کی محبت کو،،
رتبہ کی بھیگی ہوئی آواز فضا میں ٹھہر گئی، اس کی آنکھوں میں وفا، التجا اور بے بسی سب یکجا تھے۔۔۔
نم آنکھوں سے باسق خان کو دیکھتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ کمرے سے باہر چلی گئی،
اور دروازے کی ہلکی سی آواز، جیسے کسی رشتے کے اندر خاموش دراڑ ڈال گئی ہو۔۔۔
،،اے میرے رب، تو میرے بیٹے کو عروب کی بیٹی کی محبت سے آزاد کر دے۔۔۔ میں چاہ کر بھی اپنے بیٹے کی زندگی میں عروب کی بیٹی کو نہیں لا سکتا،،
ٹھنڈی سانس لے کر یہ الفاظ کہنے کے بعد باسق خان نے گہری نگاہوں سے چھت کی طرف دیکھا، جیسے اپنے رب کے حضور دل کا بوجھ اتار رہا ہو۔
پھر نرمی سے جائے نماز پر کھڑے ہوتے ہوئے، ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئے اس نے اپنے رب کے سامنے اپنا مقدمہ رکھ دیا۔
کبھی کبھی انسان اپنی عقل، اپنے فیصلوں اور اپنی محبتوں میں الجھ کر تھک جاتا ہے ۔
تب وہی ایک در، اللہ کا در، سکون کا سہارا بن جاتا ہے۔
جب بندہ دل سے ٹوٹ کر سجدے میں گرتا ہے،
تو خدا اسے کبھی بے سہارا نہیں چھوڑتا۔
کیا ہی عظیم ہے وہ ذات،
جو ہر دکھ، ہر اندھیرے، ہر آزمائش میں
خاموشی سے ہمارے ساتھ رہتی ہے۔۔۔
مگر افسوس، بندہ اکثر دنیا داری میں گم ہو کر اس ذات کو بھول جاتا ہے۔اور پھر وہ رب، جو بندوں کی لغزشوں پر بھی پردہ ڈال دیتا ہے،
اسی ٹوٹے، گناہگار دل کو اپنی رحمت سے گلے لگا لیتا ہے۔۔۔،،
═══════❖═══════
شام کی مدھم روشنی میں تبریز خان کے کمرے کی فضا میں ایک سنجیدہ سا سکوت پھیلا ہوا تھا،
ڈھلتا ہوا سورج پردوں کے درمیان سے اپنی مدھم کرنیں بکھیر رہا تھا،
اور وہ کرنیں اس کے چہرے پر پڑ کر اس کے اندر کے طوفان کا عکس دکھا رہی تھیں۔
تبریز خان کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے، گہری سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا۔
دماغ کے ایک گوشے میں اب بھی وہ باتیں گونج رہی تھیں جو عبیرہ کی دوست مائرہ نے کہیں تھیں،
ہر لفظ جیسے ذہن میں کسی خنجر کی طرح گڑ گیا تھا۔
اسی لمحے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ،
ملازم نے جھک کر مؤدب لہجے میں کہا،
،،سر، ڈی ایس پی یارم خان آپ سے ملنا چاہتے ہیں،،
تبریز خان نے چونک کر نظریں اٹھائیں،
پلکوں کے پیچھے جیسے ایک لمحے کو ساری سوچیں منجمد ہو گئیں۔
،،انھیں مہمان خانے میں بٹھاؤ… اور بیگم صاحبہ کو میرے کمرے میں بھیجو،،
اس کا لہجہ دھیما مگر باوقار تھا، جیسے کسی فیصلہ کن موڑ پر دل اور دماغ میں ایک ہی وقت میں جنگ چل رہی ہو۔
ملازم حکم بجا لا کر چلا گیا،
اور تبریز خان کی نظریں دوبارہ خلا میں جا ٹھہریں۔
اب اسے بخوبی علم تھا کہ ڈی ایس پی یارم خان، عروب کے بھائی کا بیٹا ہے،
اور یہ بھی کہ عروب کے اپنے گھر والوں سے رشتے کس تلخی میں جکڑے ہوئے ہیں۔مگر ان سب باتوں کے باوجود،
تبریز خان نے یہ ملاقات کسی دشمنی، کسی پرانی تلخی یا تجسس کے تحت نہیں،
بلکہ ایک ایسے سوال کے جواب کے لیے طے کی تھی جو اب اس کے دل کا بوجھ بن چکا تھا۔۔۔
ایسا سوال ،
جو شاید اس کی بیٹی کی تقدیر کا فیصلہ بدلنے والا تھا۔
کمرے میں خاموشی گہری تھی، جیسے دیواریں بھی کسی سوچ میں ڈوبی ہوں۔ تبریز خان دونوں ہاتھ کمر پر باندھے کھڑا تھا، نگاہیں فرش پر جمی تھیں، چہرے پر سنجیدگی کی چھاپ جیسے کوئی فیصلہ دل کے اندر اترتا جا رہا ہو۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، عروب اندر آئی۔
،،جی خان آپ نے مجھے بلایا۔۔۔،،
اس کی آواز میں احترام کے ساتھ ہلکی سی بےچینی بھی تھی۔
تبریز خان نے آہستگی سے رخ موڑا۔
،،خانم، آپ کے بھائی کا بیٹا ۔۔۔یارم خان ۔۔۔ ہم سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔،،
،،مون ہم سے ملنا چاہتا ہے؟؟،،
عروب کا چہرہ ایک دم روشن ہو اٹھا، جیسے برسوں بعد کسی امید نے دل کے دروازے پر دستک دی ہو۔
تبریز خان نے اس کی چمکتی آنکھوں کی طرف دیکھا مگر اپنی سنجیدگی کم نہ کی۔
،،آپ نے عبیرہ کی دوست مائرہ کی سب باتیں سنی تھیں؟،،
،،جی، سنی تھیں۔۔۔،،
عروب نے نظریں جھکائیں، آواز میں تھوڑا سا اضطراب اُتر آیا۔
تبریز نے گہری سانس لی۔
،،آپ کو بھی پتہ ہے کہ ہماری بیٹی آپ کے بھائی کے بیٹے میں انٹرسٹڈ تھی، نہ چاہتے ہوئے بھی شک کے دائرے میں وہ آ رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے طریقے سے اس سے پوچھیں کہ میری بیٹی کے اغوا میں اس کا ہاتھ تو نہیں۔۔۔،،
عروب کی آنکھوں میں دکھ اور حیرت ایک ساتھ اتر آئے۔
،،خان، کیسی بات کر رہے ہیں آپ؟ مون ایسا ہرگز نہیں کر سکتا، وہ ایسا نہیں ہے۔۔۔،،
اس کے لب کانپے، دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔
تبریز خان نے لمحہ بھر کے لیے نظریں بند کیں۔
،،میں چاہتا بھی نہیں کہ ایسا ہو، مگر سوال اٹھا ہے ۔۔۔ اور سوال جب خون کے رشتے پر آئے تو جواب ڈھونڈنا پڑتا ہے۔۔۔،،
عروب نے خاموشی سے تبریز خان کی بات سنی، مگر دل میں طوفان برپا تھا۔
’’جس مون کو آپ جانتی تھیں، وہ ایک معصوم بچہ تھا، مگر اب وہ اس دور سے بہت آگے آ چکا ہے،‘‘ تبریز خان کا لہجہ بھاری اور غیر متزلزل تھا۔ ’’یہ آپ کی محبت بول رہی ہے، عروب، مگر میں سچائی جاننا چاہتا ہوں۔‘‘
اس کے لہجے میں وہی سختی تھی جو ایک باپ کے دل میں تب جنم لیتی ہے جب بات اس کی بیٹی کی عزت اور حفاظت کی ہو۔
ہوا میں سناٹا پھیل گیا تھا، صرف خاموش دیواریں اس مکالمے کی شدت کو اپنے اندر جذب کر رہی تھیں۔
عروب کی آواز ہلکی مگر لرزتی ہوئی تھی، دل جیسے کسی انجانے اندیشے میں جکڑا جا چکا ہو۔
’’خان، میرا بھتیجا زندگی میں پہلی بار مجھ سے ملنے آیا ہے، اور میں جا کر اس سے یہ پوچھوں کہ میری بیٹی کے اغوا میں اس کا ہاتھ تو نہیں؟‘‘ وہ بولتے بولتے رُک گئی، جیسے الفاظ کے ساتھ سانس بھی بوجھل ہو گئی ہو۔ ’’کیا سوچے گا وہ میرے بارے میں۔۔۔‘‘
تبریز خان کے چہرے پر سختی کی لکیریں نمایاں تھیں، آنکھوں میں ایک باپ کا خوف اور غصہ دونوں جھلک رہے تھے۔
عروب نے ہمیشہ اپنے شوہر کو متوازن، صبر و ضبط والا انسان دیکھا تھا، مگر آج اس کی نگاہوں میں ایک طوفان تھا۔
وہ دل ہی دل میں کانپ اٹھی ۔۔۔ تبریز خان نے زندگی میں کبھی اس پر زور نہیں ڈالا تھا، مگر آج ان کے لہجے کی درشتی میں ایک فیصلہ چھپا تھا۔
پہلی بار، عروب کو محسوس ہوا جیسے محبت اور فرض کے درمیان کھڑی وہ عورت نہیں، بلکہ ایک کڑی آزمائش بن چکی ہے۔
‘‘آپ کا بھتیجہ آپ کے بارے میں کیا سوچے گا، اس وقت مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔’’
تبریز خان کا لہجہ پتھر جیسا سخت تھا۔
‘‘مجھے فرق پڑتا ہے تو بس اس بات سے کہ میری بیٹی کہاں ہے۔۔۔ مجھے ہر حال میں اپنی بیٹی صحیح سلامت چاہیے۔۔۔ آپ جا کر اپنے طریقے سے بات کریں، ورنہ میرا انداز آپ کے بھتیجے کو اور آپ کو ہرگز پسند نہیں آئے گا۔’’
‘‘خان! آپ مجھ سے کس طرح بات کر رہے ہیں؟ کس چیز کی سزا دے رہے ہیں؟’’
‘‘ابھی تو کوئی بات یارم پر ثابت نہیں ہوئی اور آپ کا رویہ مجھ سے بدلنا شروع ہو گیا ہے۔۔۔ خدا نہ کرے اگر یارم پر کچھ ثابت ہو گیا، تو پھر تو آپ مجھے خود سے دور کرنے میں بھی دیر نہیں لگائیں گے۔۔۔’’
عروب کے چہرے پر دکھ اور حیرت کے رنگ گھل گئے تھے۔
تبریز خان کی ناراضگی اسے سہنی مشکل لگ رہی تھی۔ اسے کہاں عادت تھی اپنے شوہر کے اس لہجے کی۔
تبریز خان نے گہری سانس لے کر رخ موڑا۔
‘‘کبھی دل سے دھڑکن الگ نہیں ہو سکتی، تم تبریز خان کے دھڑکتے دل میں بسی ہوئی دھڑکن ہو۔۔۔ مگر عبیرہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، میری بیٹی ہے۔۔۔ اگر تمہارے بھتیجے کا ذرا سا بھی ہاتھ اس کے اغوا میں ہوا تو عروب، مجھ سے نرمی کی امید مت رکھنا۔۔۔ اپنی بیٹی کی خاطر میں سر کٹوا بھی سکتا ہوں، اور سر کاٹ بھی سکتا ہوں۔۔۔’’
اس کے چہرے کی رگیں اُبھری ہوئی تھیں، آنکھوں میں چنگاریاں دہک رہی تھیں۔
‘‘مت بھولنا خانم! پختون جتنا مرضی پڑھا لکھا اور شریف ہو جائے، مگر غیرت کے نام پر وہ سر کاٹنے اور کٹوانے میں دیر نہیں لگاتا۔۔۔ میری رگوں میں بھی پختون خون ہی دوڑ رہا ہے۔۔۔’’
یہ کہتے ہوئے تبریز خان غصے سے تیز قدموں کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔
اس کی چال میں ایک آندھی تھی، ایک فیصلہ چھپا ہوا تھا۔
دروازہ ہلکا سا بند ہوا تو جیسے پورا کمرہ خاموش ہو گیا۔
عروب کے آنسو بہنے لگے،
ہتھیلیوں سے جلدی جلدی آنکھیں صاف کرتی ہوئی وہ تبریز خان کے پیچھے بھاگی۔۔۔
اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے مگر دل میں صرف ایک ہی خیال گونج رہا تھا ۔۔۔”کیوں ہر دور میں محبت سزا بن جاتی ہے، آخر کب محبت کرنے والے بے گناہ ٹھہرائے جائیں گے؟
“یا اللہ، اگر تو نے میرے اپنوں کو مجھ سے ملایا ہے تو اب کوئی آزمائش مت دینا، اب مجھ میں ہمت نہیں رہی کچھ بھی برداشت کرنے کی۔۔۔ روتی ہوئی، دل گرفتہ، وہ رب سے دعا کرتی تیز قدموں سے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔”
═══════❖═══════
یارم کے لیے اس گھر میں قدم رکھنا آسان نہیں تھا۔ ایک طرف، اگر اس کے والد کو معلوم ہوتا کہ وہ ان کی مرضی کے خلاف یہاں آیا ہے تو حالات بگڑ سکتے تھے۔ وہ والد کی نظروں میں ایک نافرمان بیٹے کے طور پر نظر آ سکتا تھا۔ پھر بھی، وہ اپنے فرض اور محبت کے درمیان جھولتے ہوئے حویلی میں داخل ہو چکا تھا۔
وہ،عروب اور تبریز خان کا انتظار کرتے ہوئے بے قراری سے ٹانگ پر ٹانگ رکھےہوئے بیٹھا تھا ۔
وہ ملازم کو آواز دینے ہی والا تھا کہ میزبان کیوں تاخیر کر رہا ہے، مگر اسی لمحے تیز قدموں کے ساتھ تبریز خان مہمان خانے میں داخل ہوئے۔
یارم اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے پیچھے، سلیقے سے سر پر دوپٹا رکھے پریشان اور گھبراہٹ زدہ انداز میں، عروب بھی مہمان خانے میں داخل ہوئی۔
“تشریف رکھیے، ڈی ایس پی صاحب۔”
تبریز خان نے جس انداز سے یارم کو بیٹھنے کا اشارہ دیا، اس سے واضح تھا کہ انہیں یارم کے یہاں آنے پر خوشی نہیں ہوئی۔
“میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا، آپ سے کچھ ضروری سوالات تھے، اس لیے آنا پڑا۔”
“سوال تو مجھے بھی آپ سے کرنے ہیں، اس کے لیے آپ بیٹھ جائیں۔ ہو سکتا ہے بات لمبی ہو جائے۔”
تبریز خان نے کہتے ہوئے قمیض کا پچھلا دامن ہٹا کر صوفے پر بیٹھ گئے۔
“کوئی بات نہیں، لمبی بات بھی میں کھڑے رہ کر سن لوں گا۔”
یارم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
تبریز خان کے ساتھ، تڑپتی نگاہوں سے یارم کو دیکھتے ہوئے عروب بھی بیٹھ گئی۔ وہ یارم کو اپنے گلے لگانا چاہتی تھی، اسے پیار دینا چاہتی تھی، مگر تبریز خان کی موجودگی نے قدم روک دیا۔ کیسے وہ تبریز خان کی قربانیوں کو بھلا کر یارم کی طرف بڑھ سکتی تھی؟
مگر عروب کے لیے یہ لمحے کسی کڑے امتحان سے کم نہ تھے۔ یارم، اس کا پیارا بھتیجہ، اس کا اپنا خون، اس کی نظروں کے سامنے بیٹھا تھا۔ اس کی جوانی اور خوبرو چہرہ دیکھ کر دل رشک سے بھر آیا، محبت سے لبریز ہوا۔ وہ چاہتی تھی کہ ہاتھ اس کے چہرے کو تھامے اور پیشانی کو نرمی سے چوم لے، مگر چاہ کر بھی یہ ممکن نہ تھا۔ مقابل میں بیٹھے شخص کے احسانات اور توقعات کے سامنے، عروب کو اپنی خواہشات اور دل کی ہر بات کو پس پشت ڈالنا پڑ رہی تھی۔
تو ٹھیک ہے، مجھے بتاؤ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟
تبریز خان کا لہجہ سنجیدہ اور روکھا تھا، ہر لفظ میں اصول کی سختی جھلک رہی تھی، اور انداز ایسا کہ سامنے والا فوراً محسوس کر لے کہ یہ شخص جذبات سے زیادہ حقیقت اور حقائق کو اہمیت دیتا ہے۔
یارم خان اس وقت عبیرہ کی محبت کی کشش سے یہاں آیا تھا، ورنہ سامنے بیٹھے شخص کا انداز اسے بالکل غیر مناسب محسوس ہو رہا تھا۔
اپنی انا اور غصے کو پیچھے رکھتے ہوئے، اس نے سیدھے مدے کی بات پر آتے ہوئے سوال کیا۔
“آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ آریان خان کون ہے اور آپ کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے؟”
یارم خان واپس صوفے پر نہیں بیٹھا تھا۔ وہ کھڑا رہ کر تبریز خان اور عروب کی جانب دیکھتے ہوئے سوال کر رہا تھا۔
آریان خان کے نام پر تبریز خان چونک کر یارم کی طرف دیکھ گیا، جبکہ عروب خالی خالی نظروں سے دونوں کے چہرے ٹٹول رہی تھی۔
“آپ آریان خان کے بارے میں کیسے جانتے ہیں؟”
تبریز خان نے گھبراہٹ میں پوچھا۔حیرانگی تبریز خان کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہی تھی۔
“آپ یہ چھوڑیں کہ میں اس کے بارے میں کیسے جانتا ہوں۔۔۔
یہ بتائیں کہ اس کا آپ کے ساتھ کیا رشتہ ہے اور کیوں وہ آپ کی بیٹی کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے؟
“کیا عبیرہ اس کے پاس ہے؟”
تبریز خان ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھ گیا، اور ساتھ ہی عروب بھی کھڑی ہو گئی۔
عروب سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر دونوں کس آریان خان کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
“جی، آپ کی بیٹی اس کے پاس ہے، اور اس کے کہنے کے مطابق اس نے آپ کی بیٹی سے نکاح کر لیا ہے۔”
اس وقت یارم کو سامنے کھڑے شخص سے کوئی ہمدردی نہیں تھی، مگر وہ عبیرہ کا والد تھا، اور یہ بات ایک بیٹی کے متعلق تھی، اس لیے یارم نے لہجہ نرم رکھا، تاکہ ان کو جھٹکا محسوس نہ ہو۔
کیااااا۔۔۔
عروب تو چیخ اُٹھی تھی۔۔۔
اپنی عروب آپی کو اتنی تکلیف میں دیکھ کر یارم کا کلیجہ ہل گیا تھا، مگر وہ چاہ کر بھی آگے نہیں بڑھا۔۔۔
اس کے پیر اس کے بابا کے لفظوں نے باندھ رکھے تھے۔
عروب رشتے میں تو اس کی پھوپھو لگتی تھی، مگر یارم ہمیشہ اسے آپی کہہ کر بلایا کرتا تھا۔۔۔
“نہیں ،میری بیٹی کے ساتھ ایسا ظلم کبھی نہیں ہو سکتا ہے؟
“اگر میری بیٹی کو کچھ ہوا تو میں مر جاؤں گی۔چکراتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے گرنے والی تھی کہ تبریز خان نے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تھام لیا۔۔۔
” خانم حوصلہ رکھو، ابھی میں زندہ ہوں،کچھ نہیں ہوگا ہماری بیٹی کو ۔”
“پہلے آپ مجھے یہ بتائیں، آریان خان کون ہے اور کیوں وہ ہماری بیٹی کے ساتھ یہ سب کر رہا ہے؟”
چکراتے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ سوال کر رہی تھی، تجسس بھری نظریں تبریز خان پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔
تبریز خان کچھ دیر خاموش رہا، اسے خود پر شرمندگی ہو رہی تھی کہ اس نے یارم سے بغیر حقیقت جانے کس انداز میں بات کی۔۔۔
وہ کتنا غلط سوچ رہا تھا اس کے بارے میں، جبکہ دشمن تو کوئی اور ہی نکلا جس کے بارے میں وہم و گمان بھی نہیں تھا۔۔۔
“چپ مت رہے….. میری بات کا جواب دیں….خدا کا نام ہے مجھے بتائیں کہ کون ہے آریان اور کیا دشمنی ہے اس کی ہمارے ساتھ کیوں وہ ہماری بیٹی کو نقصان پہنچا رہا ہے؟؟
عروب تبریز خان کی خاموشی پر اپنی بات پر زور دیتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔۔۔
“آریان، روشانے کے بھائی کا بیٹا ہے۔۔۔”تبریز خان کے لہجے میں عجیب سی شرمندگی تھی۔۔۔
“او میرے اللہ، تو یہ حقیقت ہے کہ مجھ سے بدلہ لینے کے لیے میری بیٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔۔۔”
عروب روتے روتے صوفے پر لڑکھڑاتے ہوئے بیٹھ گئی،وہ دل کی شدت سے تھر تھرا رہی تھی۔۔۔
یارم خان کے لیے لمحہ ٹھہر سا گیا، ان کی باتوں میں ایک تلخ حقیقت جھلک رہی تھی۔ آریان خان اور ان کی خاندان کے بیچ جو گہرا تعلق تھا، وہ اب دھندلا سا اسکے سامنے آیا، مگر مکمل حقیقت ابھی بھی اُس کی سمجھ سے پردہ پوش تھی۔۔۔
“پلیز، یہ وقت خود کو سنبھالنے کا ہے… نہ ٹوٹ کر کمزور ہونے کا…
اگر آپ لوگ سپورٹ کریں، اور میرے ساتھ چلیں… تو میں آپ بیٹی کو ابھی، اس گھٹیا انسان کے چنگل سے نکال سکتا ہوں…
عروب کے لیے وہ اور کچھ نہیں کر سکا… مگر اپنے الفاظ سے، اس نے یہ ظاہر کیا کہ اس کی بیٹی کو بچایا جا سکتا ہے،”
یارم کے الفاظ، عروب اور تبریز کے لیے امید کی روشنی کی طرح تھے…
“ہاں… ہاں… ہم چلنے کے لیے تیار ہیں…
تم ایک بار ہماری بیٹی تک ہمیں پہنچا دو…
اس کے آگے، اس کمینے کے ساتھ، میں خود نپٹ لوں گا،”
تبریز خان نے موقع ضائع کیے بغیر فوراً کہا…
تبریز خان… آریان کا نام سن کر…
اپنی بیٹی کے لیے بہت پریشان ہو چکا تھا…تبریز خان اچھی طرح سمجھ چکا تھا…
کہ اس کی بیٹی سے کس چیز کا بدلہ لیا جا رہا ہے…
مگر ابھی وہ اپنی سوچ کو…
صرف اپنے خیالات تک محدود کیے ہوئے تھا…
“آپ لوگ فوراً چلیں، میرے ساتھ…”
یارم، ان کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ دیتے ہوئے، ان کے آگے آگے چل پڑا تھا…
عروب کچھ بول نہیں رہی تھی…
مگر دونوں ہاتھ جوڑے، شاید اللہ تعالی کا شکر ادا کر رہی تھی، یا کوئی دعا پڑھ رہی تھی…
اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے…تبریز خان، سہارا دیتے ہوئے، اسے ساتھ لے کر آ رہا تھا۔یارم سے عروب کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی…
مگر بے بسی کہ اسے دلاسہ نہیں دے سکتا تھا…شاید غصہ اس کی اپنی ذات کا ہوتا تو اسے معاف کر دیتا…مگر یہاں بات اس کے بابا کی تھی…اور اس کے بابا کا فیصلہ، اس کے لیے سر آنکھوں پر تھا۔ابھی تو اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ اس نے عروب کے گھر آ کر صحیح کیا ہے یا غلط…
اور اس کا پتہ جب اس کے بابا کو چلے گا تو ان کا کیا رد عمل ہوگا…
وہ لوگ، آریان خان سے ملنے کے لیے، نکل پڑے تھے…تبریز خان، عروب کو لے کر، اپنی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا…
جبکہ یارم، اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے، عبیرہ کو ڈھونڈنے نکل چکا تھا…
گاڑیاں الگ تھیں…سوچ، جذبات الگ تھے…مگر منزل ایک ہی تھی…کہ عبیرہ کو بچا کر لانا ہے…سب کے دل میں ایک ہی دعا تھی…کہ خدا عبیرہ کی عزت کی
حفاظت کرے…عبیرہ کی عزت، اس وقت سب کے لیے ،بہت عزیز تھی،سب کی دعاؤں کا مرکز بھی ہے عبیرہ ہی تھی …═══════❖═══════
عبیرہ کا درد سے سر چکرا رہا تھا، اور ٹھنڈ سے برا حال تھا…
وہ تو امید بھی ہار چکی تھی کہ اب وہ اپنے گھر والوں سے مل سکے گی…
کیونکہ کانسٹیبل کو، اس نے جھوٹی تسلیاں دے کر بھیجا تھا…
جانتی تھی، کہ شاید آج کے بعد، یارم کبھی اسے ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرے گا…“کیوں میں نے تھوڑی سی ہمت نہیں کی…”
“اگر تھوڑی سی ہمت کر لیتی… تو شاید اس ظالم شخص سے میرا پیچھا چھوٹ جاتا…”
وہ اپنی سسکی کو گلے میں دبا گئی، اور آنسو تکیے میں چہرہ چھپاتے ہوئے جذب کر لیے…
اس ڈر سے کہ وہ ظالم، دیکھ نہ لے…
“تھینک یو… کہ آپ مجھے ڈھونڈنے آئے…
مگر میری بدقسمتی کہ میں آپ تک نہیں پہنچ سکی…”
دل ہی دل میں سوچتے ہوئے یارم کا شکریہ ادا رہی تھی کہ اتنے میں دروازہ بری طرح کھولا گیا…
ڈر مارے بیچاری عبیرہ کی جان نکل گئی…
“جلدی اُٹھو… اس سے پہلے کہ وہ دو ٹکے کا ڈی ایس پی تمہارے گھر والوں کو ساتھ لے کر پہنچے، ہمیں یہاں سے نکلنا ہے!”
روم کے اندر داخل ہوتے ہی، آریان خان نے گرجتے ہوئے کہا…
وہ ابھی پچھلے صدمے سے باہر نہیں نکلی تھی…کہ آریان خان نے آتے ہی، اس کے لیے ایک نیا فرمان جاری کر دیا…
“قق… وہاں… جا، جانا… ہے؟”
عبیرہ نے لرزتی ہوئی آواز میں، لفظوں کو ٹوٹتے ہوئے کہا…
سانسیں الجھی ہوئی تھیں، جیسے ہر حرف کے ساتھ ہمت بھی ٹوٹ رہی ہو…
آنکھوں میں خوف کا سایہ، اور دل میں ایک کمزور سی آس باقی تھی…
“تمہیں جاننے کی ضرورت نہیں ہے… کہ میں تمہیں کہاں لے جا رہا ہوں…”
آریان کی آواز سرد اور نوکیلی تھی،
“تم میرے حکم کی پابند ہو… میں نے کہا چلو، تو خاموشی سے اٹھ کر چلو…”
بیڈ پر لیٹی عبیرہ نے ہلنے کی کوشش کی…
مگر سر کی چوٹ نے اسے جیسے بستر سے جکڑ لیا ہو۔
درد کی ایک لہر ماتھے سے اٹھی اور آنکھوں تک جا ٹھہری۔
سانسیں بھاری تھیں، اور بدن بوجھل۔
وہ صرف آریان کی دھندلی صورت دیکھ پا رہی تھی،
جس کے چہرے پر رحم کی بجائے حکم کا سایہ تھا۔
کمرے میں خاموشی تھی…
بس ایک گھڑی کی ٹِک ٹِک،
جو ہر لمحے کے ساتھ عبیرہ کی کمزوری پر مہر لگا رہی تھی۔
“مجھ سے نہیں اٹھا جا رہا، میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔”
عبیرہ نے سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا، چہرے پر رو دینے والی شکل تھی۔ آنکھوں کے کنارے سرخ تھے اور سانسیں ٹوٹی ٹوٹی چل رہی تھیں۔
“میرے پاس تمہاری ایکٹنگ دیکھنے کا ٹائم نہیں ہے، دو سیکنڈ سے پہلے اٹھ کر کھڑی ہو جاؤ!”
آریان نے سرد لہجے میں کہا اور اس کی تکلیف کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے کپڑے اٹھائے اور واش روم میں چلا گیا۔
عبیرہ نے بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں۔”اللہ میاں، کہاں پھنس گئی…”
وہ آسمان کی جانب چہرہ اٹھائے سسک اٹھی۔
اسے اپنی حالت پر شدید غصہ آرہا تھا، جسم میں شدید درد تھا، سر چکرا رہا تھا اور مقابل اتنا سفاک کہ اس کی نازک سی جان پر ذرا بھی رحم نہیں آ رہا تھا۔ کمرے کی خاموشی میں صرف اس کی سانسوں اور دعا کے بیچ فاصلہ باقی رہ گیا تھا۔وہ اندھی کی طرح واش روم میں گیا تھا اور طوفان کی طرح باہر بھی آ گیا۔ عبیرہ ابھی بھی آنسو بہاتی بیڈ پر لیٹی تھی۔ سچ مچ اس کے جسم میں جان نہیں تھی، اس سے نہیں اٹھا جا رہا تھا، مگر یہ بات آریان کو کون سمجھاتا۔
“محترمہ، اٹھ جاؤ اس سے پہلے کہ سختی سے پیش آؤں۔ کپڑے چینج کرو، پانچ منٹ کے اندر یہاں سے نکلنا ہے۔”
وہ ٹاول سے سر اچھی طرح خشک کرتا ہوا باہر نکلا۔ بلو جینز کے اوپر مسٹرڈ کلر کی ٹی شرٹ پہنے وہ جگمگا رہا تھا۔ اس شخص کی خوبصورتی ایسی تھی کہ نظریں ہٹائے نہیں ہٹتی تھیں، اتنا خوبصورت کہ ہر لڑکی اسے اپنا کرش بنانے میں دیر نہ لگاتی، مگر کردار ایسا کہ کوئی بھی لڑکی اس پر تھوکنا نہ چاہےڈریسنگ روم میں جا کر مرر کے سامنے بالوں میں برش پھیرتے ہوئے وہ اسی لہجے میں آرڈر دے رہا تھا۔ شوقین مزاج انسان خود کو پرفیوم میں نہلا رہا تھا۔ اتنی جلدی میں نکلنے کے لیے بھی اسے ٹپ ٹاپ تیار ہونے کی پوری ضرورت تھی۔ عبیرہ حیران تھی کہ اس نے جو پرفیوم سوتے ہوئے خود پر انڈیلا تھا وہ چند گھنٹوں میں کہاں اڑ گیا کہ اب دوبارہ شاور لے رہا ہے۔
وہ دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہی تھی کہ کاش کوئی معجزہ ہو جائے، اور اس کے بابا، بھائی، اور ماما اسے ڈھونڈ لیں۔
“تمہیں سنائی نہیں دیتا، یا تمہیں عادت ہو گئی ہے بے عزتی کروانے کی؟”
وہ عبیرہ کو اپنی جگہ پر بیٹھے دیکھ کر غضب ناک نظروں سے گھورتا ہوا اس کی طرف آیا۔
“مم… م… مجھ سے نہیں اٹھا جا رہا، مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے اور سر بھی چکرا رہا ہے…”
آریان کے ڈر سے وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بات پوری کر سکی۔
آریان نے اسے گھور کر دیکھا، بیڈ کور ہٹایا اور دونوں بازوؤں سے پکڑ کر نیچے کھڑا کر دیا۔
وہ لڑکھڑائی، سر پر ہاتھ رکھا، مگر قدموں میں طاقت نہیں تھی۔
گرنے سے بچانے کے لیے آریان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور ساتھ ساتھ چلتا ہوا الماری کے قریب لے آیا۔
ایک سلم سمارٹ سی ٹراؤزر شرٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں دی اور اشارہ کیا کہ پہن لو۔ٹراؤزر شرٹ آریان کے حساب سے تو سلم سمارٹ تھا، مگر عبیرہ کے لیے کافی لمبا چوڑا۔پھر بھی وہ احسان سمجھ کر خاموش رہی اور بمشکل قدم واش روم کی طرف بڑھائے۔دل ہی دل میں بددعائیں دیتی ہوئی، وہ آریان کا سہارا لیے واش روم تک پہنچی۔اپنے سہارے وہ چل نہیں پا رہی تھی، تو اسے وہی سہارا لینا پڑا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے پرانی کہاوت سچ ہو گئی ہو کہ مجبوری میں گدھے کو بھی باپ بولنا پڑتا ہے۔
“پتہ نہیں یہ ظالم انسان مجھے کہاں لے کر جانے والا ہے…”وہ دروازے کا سہارا لے کر اندر گئی اور دل ہی دل میں سوچنے لگی۔آریان دروازے سے پلٹ گیا تو عبیرہ نے شکر کا کلمہ پڑھا۔
اس بے رحم بتمیز انسان سے کسی بھی چیز کی توقع رکھی جا سکتی تھی۔
“ڈی ایس پی، میں تجھے اچھی طرح جانتا ہوں۔ تیرے اگلے قدم کا بھی اندازہ ہے۔
اب تو اپنے ساتھ اس کے ماں باپ کو لے کر آئے گا، اور قانون کے دائرے میں مجھے گھسیٹنے کی کوشش کرے گا۔”
آریان خان دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے، کھڑکی کے سامنے کھڑا باہر دیکھ رہا تھا۔
آنکھوں میں وحشت، لبوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ۔
“مگر تُو ابھی تک مجھے نہیں جانتا، میں ہر جگہ تجھ سے چار قدم آگے ملوں گا۔”
وہ اپنی سوچ پر خود کو داد دیتے ہوئے سر کو ہلکا سا جھٹکا دے کر مسکرا دیا۔
عبیرہ واش روم سے خود کو گھسیٹتی ہوئی باہر آئی۔اس نے آریان کو یوں مسکراتے دیکھا تو حیران رہ گئی۔وہ جاننا چاہتی تھی کہ اس شیطانی دماغ میں کیا سازش پک رہی ہے۔اس کی مسکراہٹ صاف کہہ رہی تھی کہ وہ کسی کے لیے برا سوچ رہا ہے ۔اور عبیرہ کو یقین تھا کہ وہ “برا” صرف اسی کے لیے ہے۔
عبیرہ نے ہمت مجتمع کی، دل کی دھڑکنیں جیسے سینے سے باہر نکلنے کو تھیں۔
“پوچھ سکتی ہوں کہ تمہارے اس شیطانی دماغ میں اب کیا پلاننگ چل رہی ہے؟”
لفظوں میں خوف کی لرزش تھی، مگر نفرت اس سے کہیں زیادہ نمایاں۔
آریان نے آہستہ سے پلٹ کر اسے دیکھا۔
چہرے پر وہی مسکراہٹ، جو نہ مکمل طنز تھی نہ مکمل سکون۔
“پلاننگ؟” وہ ذرا سا ہنسا،
“تمہیں تو بس اتنا جاننے کی اجازت ہے کہ اب کھیل شروع ہوا ہے،
اور ہر چال میری مرضی سے چلے گی۔”
وہ پھر سے کھڑکی کی طرف مڑ گیا،
جیسے عبیرہ اس کے لیے صرف ایک کردار ہو،جس کی قسمت کا صفحہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھنے والا ہو۔عبیرہ کے دل میں خوف نے دوبارہ سر اُٹھایا،مگر نفرت اب بھی خاموشی سے سانس لے رہی تھی۔عبیرہ کا دل کانپ اٹھا تھا یہ سوچ کر کہ نہ جانے اب وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔
عبیرہ نے نظریں جھکائے مگر دل میں اب بھی سوال باقی تھا،
“ویسے تو جواب مجھے پتہ ہے، پھر بھی پوچھنا چاہتی ہوں… کیا تمہارے دل میں خوفِ خدا نہیں؟ تمہیں اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟”آہستہ سے بولی
آریان نے ایک لمحے کو اسے دیکھا،
پھر غصے سے اس کا جبڑا تھام لیا، انگلیوں کی گرفت اتنی سخت تھی کہ وہ کراہ اٹھی۔
“چپ کر کے میرے ساتھ چلو، ورنہ زبان کے اتنے ٹکڑے کر دوں گا کہ بولنے لائق نہیں رہو گی، سمجھی تم؟”
لفظوں سے زیادہ خطرناک اس کا لہجہ تھا،سرد، بےرحم، اور حکم سے بھرا۔
عبیرہ کے لب کپکپا گئے، سانس تیز ہو چکی تھی۔اسے لگا جیسے اس کی روح جسم سے نکلنے کو ہے،ڈر کی ایک لہر نے اسے اندر تک ہلا دیا۔وہ چاہ کر بھی خود کو مضبوط ظاہر نہیں کر سکی،کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ جب عورت تنہائی میں مرد کے غصے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے،تو چاہے کتنا بھی حوصلہ جمع کر لے، دل کہیں نہ کہیں لرز ہی جاتا ہے۔اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے، جسے آریان جیسے مرد اپنے اختیار کی فتح سمجھتے ہیں۔
═══════❖═════
“خان، ہماری بیٹی مل جائے گی نا؟ اپنے تڑپتے دل کے سکون کے لیے عروب نے تبریز خان سے پوچھا۔
,,ان شاء اللہ ضرور مل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔ ہماری دعائیں ہماری بیٹی کے ساتھ ہیں، کچھ نہیں ہوگا۔’ عروب کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مضبوطی سے رکھتے ہوئے تبریز خان نے تسلی بخشتے ہوئے کہا۔
مگر اس کے اپنے دل میں ایک عجیب سی بے چینی اور خوف برپا تھا، جیسے اس کی ابیرہ اس سے دور جا رہی ہو، ہمیشہ کے لیے۔ ایک انجانا سا خوف جسے وہ کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔ مگر مرد تھا، کمزور نہیں پڑ سکتا تھا، اس لیے عروب کو دلاسہ دے رہا تھا۔”
دوسری جانب یارم خان کی سوچوں کا مرکز بھی عبیرہ ہی تھی، اس کی دعاؤں میں، اس کی سوچ میں، اس کے دل میں وہی لڑکی سمائی ہوئی تھی۔ سفر بے چینی اور بے قراری میں کٹ گیا۔
وہ آریان خان کی حویلی کے مین دروازے پر کھڑے تھے۔ یارم خان اپنی گاڑی سے اتر کر تیزی سے گیٹ کی طرف بڑھا۔ یارم خان کی گاڑی کے پیچھے ہی تبریز خان کی گاڑی آ کر رکی، اور وہ عروب کے ہمراہ یارم خان کے قریب آ کھڑا ہوا۔
یارم خان کو دیکھتے ہی چوکیدار اور دیگر سیکیورٹی اہلکار فوراً الرٹ ہو کر کھڑے ہو گئے۔
“جا کر بتاؤ کہ اے سی پی یارم خان ملنا چاہتے ہیں۔” یارم خان نے چوکیدار سے کہا۔
“سر، گھر پر کوئی نہیں ہے، آپ کو کس سے ملنا ہے؟”
“کیا بکواس کر رہے ہو، آدھا گھنٹہ پہلے میں یہاں سے گیا ہوں۔۔۔ آریان خان اندر ہے، اس سے بولو کہ ڈی ایس پی یارم خان اس سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔”
“سر، جب اندر کوئی ہے ہی نہیں تو ہم کس سے جا کر کہیں؟ پندرہ منٹ پہلے سر اپنی وائف کے ساتھ یہاں سے جا چکے ہیں۔۔۔”
“کہاں کہاں گئے ہیں وہ؟” یارم خان جذباتی انداز میں پوچھا۔
“سر، وہ مالک ہیں اور ہم ملازم۔ ہم کون ہوتے ہیں یہ پوچھنے والے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، ہمیں نہیں پتہ کہ وہ کہاں گئے ہیں ۔۔۔ چوکیدار کے لہجے سے سچائی صاف چھلک رہی تھی ۔۔۔
“آریان خان، تم میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا ہو۔۔۔”
یارم خان دانت پیستے ہوئے سوچا۔
خان، اب ہم اپنی بیٹی کو کہاں سے ڈھونڈیں گے؟ عروب کے آنسوں پہلے ہی تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔ اور اب تو وہ دلِ برداشتہ ہو چکی تھی۔
تم فکر نا کرو۔ گھر جاؤ، مجھے پتہ ہے کہ ہمیں اُس تک کون پہنچا سکتا ہے؟
تبریز خان نے عروب کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
“آپ کہاں جا رہے ہیں؟ مجھے بھی ساتھ لے کر چلیں۔”
“نہیں۔ آپ کا وہاں جانا مسائل کو اور بڑھا سکتا ہے۔ جب کوئی بات نہیں تھی، تب اس عورت نے کتنا تماشہ لگایا تھا۔ اب تو آپ میری بیوی ہیں اور میرے دو بچوں کی ماں۔ تو اب وہ کیا کر سکتی ہے؟ آپ کو اچھی طرح سے پتہ ہونا چاہیے۔”
یارم تبریز کی باتیں غور سے سن رہا تھا۔ اس کے دماغ میں ہزاروں سوال تھے، مگر یہ صحیح وقت نہیں تھا۔
“پلیز خان، میں سب کچھ برداشت کر لوں گی۔ آپ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔”
“مگر میں برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی آپ پر انگلی اُٹھائے۔
خانم، تھوڑا یقین رکھو مجھ پر۔ باپ ہوں۔ اتنی آسانی سے اپنی بیٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچانے دوں گا۔ مجھے ایک بار جانے تو دو۔”
“پلیز، ایک احسان کرنا۔۔۔اگر ہو سکے تو ان کو گھر تک اپنے ساتھ ڈراپ کر دینا۔”
تبریز خان نے یارم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
یارم نے ایک نظر عروب کی حالت پر ڈالی۔ وہ اس وقت اپنی بیٹی کے غم میں پوری طرح ٹوٹ چکی تھی۔ یارم نے بغیر بولے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“تھینک یو سو مچ۔”
شکریہ ادا کرتے ہوئے تبریز خان اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا۔ اسے جلد از جلد اپنی بیٹی تک پہنچنا تھا۔ عروب اس وقت یارم کے ساتھ محفوظ تھی، اس بات کا اسے یقین تھا۔
یارم، عروب کو اپنے ساتھ لے کر اس کے گھر ڈراپ کرنے کے لیے اپنی جیپ میں بیٹھ چکا تھا۔ آریان خان کے بارے میں سوچتے ہوئے یارم کا خون کھول رہا تھا۔
اگر یارم کو ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ آریان کے دماغ میں ایسا کوئی پلان ہے، تو وہ یہاں فورس کھڑی کر کے جاتا۔
اتنا تو یارم سمجھ چکا تھا کہ اس کا دماغ پولیس والوں سے بھی زیادہ تیز چلتا ہے۔
عروب روتی رہی۔ یارم کے دل میں ایک عجیب درد اُبھرا، اسے اس طرح بے بس دیکھ کر خون کی ہر رگ کانپ رہی تھی۔
مگر اس وقت خاموشی ہی بہتر تھی۔ الفاظ اس کے پاس نہیں تھے جن سے وہ اسے دلاسہ دے پاتا۔
وہ خاموشی سے سٹیرنگ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہا، نظریں سامنے جمائے ہوئے، دل میں ایک بے نام خوف اور اضطراب کے ساتھ۔
گاڑی میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی،
═══════❖═══════
آج سالوں بعد تبریز خان کو اپنی بیٹی کی محبت اس در تک لے آئی تھی جہاں اس کی بے شمار یادیں دفن تھیں کچھ میٹھی کچھ زخموں سی چبھتی ہوئی
یہی جگہ اس کے ماضی کا مرکز تھی خوشبوؤں کی بھی اور راکھ کی بھی
اگر بات اس کی بیٹی کی نہ ہوتی تو شاید وہ کبھی یہاں قدم نہ رکھتا
کیونکہ یہاں اس کی انا سوائے تباہی کے کچھ نہیں چھوڑ گئی تھی۔۔۔
تبریز خان آج برسوں بعد روشانے کےسامنے کھڑا تھا۔۔۔
کبھی یہ عورت تبریز خان کی جان ہوا کرتی تھی، مگر آج اسے دیکھ کر تبریز کے دل نے ذرا سا بھی محبت کا اظہار نہیں کیا۔
سالوں پہلے، محبت کو جس انداز سے کچل کر روشانے اس گھر سے نکلی تھی، وہ زخم آج بھی تازہ تھے۔
روشانے اسے دیکھ رہی تھی، آج بھی نگاہوں میں وہی اکڑ، وہی غرور۔ ذرا سا بھی نہیں بدلا تھا اس عورت کا انداز۔
اسی کی یہ انا، یہی اکڑ اس رشتے کو کھا گئی تھی، مگر وہ نہیں بدلی تھی، نہ ہی اسے بدلنا تھا۔۔۔
“کیا ہوا تبریز خان؟ میں کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہی؟ کیا حویلی کا راستہ بھول گئے ہو جو آج یہاں آ بھٹکے ہو؟”
اس کے لہجے میں کڑک اور غرور کا نشتر چھپا تھا۔
وہ، بغیر تبریز خان کو بیٹھنے کا کہے، خود صوفے پر جا بیٹھی تھی۔
“راستے وہی یاد رکھے جاتے ہیں جن کی کوئی منزل ہو،
جب منزل ہی نہ رہے تو راستوں میں بھٹکنا بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔”
یہ کہتے ہوئے تبریز خان کی آواز میں ایک ٹھہراؤ تھا،ایسا ٹھہراؤ جو برسوں کے زخموں سے گزر کر آتا ہے۔
روشانے کے چہرے پر لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئی،جیسے ماضی نے اچانک اس کے دل کے دروازے پر دستک دی ہو۔
“شکوہ تو ایسے کر رہے ہو جیسے بے قصور ہو،منزلوں کو تباہ کرنے والا کوئی اور نہیں، خود تم تھے تبریز خان۔”
روشانے کا لہجہ زہر گھولے تیر کی مانند تھا،
کڑواہٹ اتنی گہری کہ ہر لفظ دل چیرتا چلا گیا۔
“غلط، مجھ پر الزام مت لگاؤ،”
تبریز خان کے لہجے میں درد اور ضبط کی لرزش تھی،
“نہ میں نے منزلوں کو تباہ کیا، نہ راستے تم سے الگ کیے،
منزلوں کو برباد کرنے والی بھی تم خود تھی،اور راستے جدا کرنے والی بھی تم ہی تھیں۔رشتوں میں یقین ہونا ضروری ہوتا ہے روشانے،تم نے تو برسوں کا رشتہ لمحوں میں توڑ دیا،
اور جو لوگ رشتوں پر یقین نہیں کرتے،
ان کے رشتے بھی یوں ہی ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں،
جیسے ہمارا رشتہ بکھر گیا۔”
“رشتے میں ہیرا پھیری کرنے والے تم،
میری جگہ کسی اور کو دینے والے بھی تم،
بے وفائی کرنے والے تم،
اور الزام وار مجھے ٹھہرا رہے ہو؟
واہ تبریز خان، واہ۔۔۔
کتنی خوبصورتی سے تم نے خود کو بے قصور ثابت کر دیا۔”
“میں آج بھی تمہارے اس الزام سے انکار کرتا ہوں،
میں نے تمہارے ساتھ بے وفائی نہیں کی،
مگر جانتا ہوں، تمہارا دل پتھر کا ہے،
تم آج بھی اس بات کو جھٹلا دو گی،
جیسے برسوں پہلے جھٹلا دیا تھا۔”
“کیا بات ہے، آج تبریز خان صفائی دینے کے موڑ میں ہے؟
کیا ہوا، وہ آوارہ جو چھوڑ کر چلی گئی تھی،
یا پھر اُس سے دل بھر گیا ہے؟”
یہ الفاظ روشانے کے لبوں سے زہر میں بجھے تیر کی طرح نکلے،
وہ صوفے سے اٹھ کر پورے وقار کے ساتھ کھڑی ہوئی،
اور تبریز خان کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ دیں،
جن میں نہ نرمی تھی، نہ پچھتاوا ۔
بس ایک جلا دینے والی تلخی تھی۔
تبریز خان نے ایک لمحے کو آنکھیں موند لیں، سانس اندر کھینچی، پھر ٹھہر کر آہستگی سے واپس چھوڑ دی۔ نگاہ اٹھائی تو سامنے غرور اور انا میں لپٹی روشانے کھڑی تھی۔ لبوں پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔
،دل دنیاوی چیزوں سے بھرتا ہے، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے نہیں، اور وہ عورت میرے لیے اللہ کی ایک نعمت ہے، جس سے کبھی دل نہیں بھر سکتا، جتنا اسے دیکھوں، اتنا اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں، اسے دیکھ کر تو یہ جانا کہ عورت صرف پتھر نہیں، موم بھی ہوتی ہے،
تبریز خان کے لہجے میں ایک ایسا ٹھہراؤ تھا جو لفظوں سے زیادہ چبھتا تھا۔ اس کے ہر جملے کی کاٹ روشانے کے وجود کو اندر تک جلا رہی تھی۔
“اگر تم یہاں دو کوڑی کی عورت کی تعریف کے پل باندھنے آئے ہو، تو تشریف یہاں سے لے جا سکتے ہو،
روشانے کا لہجہ شعلوں کی طرح بھڑک اٹھا،
آنکھوں میں غصے کی وہ چمک تھی جو ضبط کی آخری حد چھو رہی تھی۔
“چاند پر تھوکا جائے تو خدا گواہ ہے، وہ تھوک واپس اپنے ہی چہرے پر گرتی ہے،
سمجھنے والوں کے لیے ۔ یہ محض جملہ نہیں، آئینہ ہے۔
یہ تبریز خان کا جملہ نہیں تھا،
ایک تیر تھا ۔ سیدھا روشانے کے غرور کے دل پر لگا،
اور لمحہ بھر کو اس کے چہرے کی رنگت اڑ گئی۔
“میرا فیصلہ درست تھا، تم سے الگ ہونا میری خوش بختی تھی،
ورنہ تم جیسے بدکردار شخص کے ساتھ میری تمام عمر رائیگاں چلی جاتی،
روشانے کے لب کپکپا رہے تھے،
غصے کی تپش میں الفاظ اپنی حدیں بھول گئے تھے،
یہی تو فرق تھا تبریز خان اور روشانے میں،
تبریز کے غصے میں وقار کا سا سکوت تھا،
جب کہ روشانے اپنی انا کو تسکین دینے کے لیے
کاٹ دار جملے برسانے کی عادی تھی،
،بغیر سوچے، بغیر ٹھہراؤ کے، جیسے ہر لفظ انتقام بن کر نکل رہا تھا۔
تمہارا اس طرح چیخنا، بے تُکے الفاظ برسانا، اور بغیر سوچے سمجھے باتوں کی حد پار کر جانا، میرے لیے کوئی نئی بات نہیں، روشانے، تم ہمیشہ سے ایسی ہی تھیں، اپنے غصے کو زبان کا ہتھیار بنا لینے والی، ہر دکھ کا بدلہ لفظوں سے لینے والی۔
“تم کہتی ہو کہ مجھ سے الگ ہو کر خوش قسمت ہو، تو مان لو، میں بھی خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ تم سے الگ ہو گیا، خدا کی قسم، اگر یہ جدائی نہ ہوتی، تو آج میری زندگی بھی ایک ویران صحرا بن چکی ہوتی، جہاں شور تو ہوتا مگر سکون کہیں نہیں،
“میں وہ شخص ہوتا جس کے پاس سب کچھ ہوتا، دولت، عزت، عورت، مگر دل کے اندر خلا، جو کسی رشتے کی نرمی سے بھی نہ بھرتا،
روشانے، تم رشتوں کی نزاکت نہیں سمجھ سکیں، تمہیں ہمیشہ خود کو ثابت کرنے کی جلدی رہی، رشتے یقین سے جیتے ہیں، ضد سے نہیں، اور تم نے ہمیشہ ضد کو ترجیح دی، محبت کو نہیں،
تبریز خان کے لہجے میں وہی پرانا وقار جھلک رہا تھا، الفاظ کم مگر بھرپور، جیسے ہر جملہ آئینہ بن کر روشانے کے غرور کو دکھا رہا ہو۔
“ہاں، جانتی ہوں کہ میں تمہارے لیے کبھی بھی پرفیکٹ نہیں تھی، تمہارے نزدیک تو پرفیکٹ وہی عورت ہے جس کا نہ خاندان پہچانا پتہ ہے نہ حسب و نسب کا کوئی سراغ، تم اسی کے قابل ہو تبریز، بالکل اسی کے،
روشانے کے چہرے پر غصے کی لالی تھی، آنکھوں میں دہکتا ہوا شعلہ، جیسے برسوں بعد بھی عروب کا خیال اسے اندر تک جھلسا رہا ہو، الفاظ اس کے ہونٹوں سے نہیں، دل کے زخموں سے نکل رہے تھے۔
“عورت کا حسب، نسب یا نسل اُس کا معیار نہیں ہوتا، تبریز خان کا لہجہ پُرسکون مگر بھاری تھا،
،میری نظر میں عورت وہ ہے جو گھر کو سکون دے، جو اُس کو جنت بنائے، جو ہر لمحہ اپنے شوہر کی اطاعت میں راحت محسوس کرے،
،میں عورت کو غلام بنا کر رکھنے کا قائل نہیں، اور تم یہ بات اچھی طرح جانتی ہو،
،مگر شوہر کو جو عزت خدا نے بخشی ہے، اُس عزت کا پاس رکھنا عورت پر فرض ہے، اور یہی فرض تم نبھا نہ سکیں،
اسی لیے ہمارا رشتہ وقت سے پہلے ختم ہو گیا، تباہ ہوا، بکھر گیا،
تمہیں یہ تباہی مبارک ہو، روشانے،
تبریز خان لمحہ بھر کو رکا، پھر نگاہ جھکائے مدھم لہجے میں بولا،اور فلحال میں یہاں مرے ہوئے رشتوں کے زخم کریدنے نہیں آیا،
روشانے نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ نظریں اٹھائیں، آواز میں وہی پرانی تپش تھی جو کبھی محبت کے نام پر جلتی تھی۔
“اچھا تو اب برسوں بعد تمہیں اپنے بیٹے کی یاد آ ہی گئی،
،اور اگر تم اپنے بیٹے سے ملنے آئے ہو تو سن لو،
نہ وہ تم سے ملنا چاہتا ہے،
اور نہ میں چاہتی ہوں کہ وہ تمہیں دیکھے،
،تم جا سکتے ہو تبریز، تمہاری گنجائش اب اس در کی ہوا میں بھی نہیں رہی،
اس کے لفظ نرم نہیں تھے، مگر ان میں دکھ کی پرچھائی صاف جھلک رہی تھی،
جیسے وقت نے زخم بھرنے کے بجائے صرف اُن پر گرد ڈال دی ہو۔
روشانے اپنی انا کو اس حد تک اوڑھ چکی تھی کہ ٹوٹ کر بکھرنے کے باوجود بھی خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی، اندر سے زخم لہو لہان تھے، مگر چہرے پر وہی پرانی سختی، وہی وقار، جیسے شکست مان لینا اس کے شایانِ شان نہ ہو۔
“میرا بیٹا ہمیشہ میرا ہی رہے گا، ہمیشہ،
اور تبریز خان کے خون کا ہونا اُس کی پہچان رہے گا،
جب مجھے اُس سے ملنا ہوگا، دنیا کی کوئی طاقت مجھے روک نہیں سکے گی،
یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنا، روشانے،
،تم اس کی ماں ہو، میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تم لوگوں کے بیچ میں کوئی دراڑ پڑے،
فلحال میں بس کام کے لیے آیا ہوں،
میرا کام یہ ہے کہ اپنے اُس بددماغ آوارہ بھتیجے آریان سے کہو کہ میری بیٹی کو باعزت مجھ تک پہنچا دے،
ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا،
تبریز خان کی آنکھیں روشانے کی آنکھوں پر جم گئیں، نگاہ میں ایک ٹھہرا ہوا طوفان تھا،
الفاظ خاموشی میں گونج رہے تھے اور اس کے لہجے میں چٹانوں کے جیسی سختی مگر لہجے میں وقار تھا ۔
“آواز نیچی رکھو تبریز، یہ مت بھولو تم اس وقت میرے گھر میں کھڑے ہو۔
اور رہی تمہاری بیٹی… تو مجھے نہیں معلوم اُس کا اور آریان کا کیا چکر ہے،
پر حیرت تو یہ ہے کہ اس عورت اور اس کی بیٹی کو آنکھ مٹکوں کے لیے
ہماری ہی نسل کیوں بھاتی ہے۔ لگتا ہے ماں کی راہ بیٹی نے بھی پکڑ لی ہے۔
روشانے کو موقع ملا تھا، اور وہ موقع خالی جانے والی نہیں تھی۔
“تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کرو روشانے،
یہ مت بھولو تم میری بیٹی کے بارے میں بات کر رہی ہو۔،،
تبریز خان کی آواز غصے سے لرزنے لگی تھی،وہ چاہ کر بھی اپنے لہجے پر قابو نہ رکھ پا رہا تھا، مگر وہ جانتا تھا،کہ اگر اس نے حد پار کی تو بات دائرے سے نکل جائے گی۔روشانے نے یہ سب جیسے سوچ سمجھ کر ترتیب دیا تھا،الفاظ کا انتخاب، ان کی چبھن، سب کچھ،گویا وہ تبریز کو جان بوجھ کر اس دہانے تک کھینچ لائی تھی
جہاں غصہ عقل پر بھاری پڑ جائے۔
“تمہاری بیٹی… افسوس، تم آج بھی اپنے جھوٹ سے چمٹے ہو۔
پتہ نہیں کس کی گندگی کو اپنی عزت کا نام دے رکھا ہے۔”
“اپنی زبان کو لگام دو، روشانے! اگر دوبارہ میری بیٹی کے بارے میں ناپاک لفظ کہا تو یاد رکھنا، میں تمہاری زبان حلق سے کھینچ لوں گا،،
،تم کل بھی بدلحاظ تھی، آج بھی بدلحاظ ہو،
،اتنے برس بیت گئے، مگر تم میں ذرا سا بھی بدلاؤ نہ آیا،
“اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ تم کل بھی اس دو ٹکے کی لڑکی کو گھر میں لا کر اس کے عشق میں مبتلا تھے، اور آج بھی اسی کے عشق میں پاگل ہو۔ تم اس حد تک گر گئے کہ اس کی ناجائز اولاد کو اپنا نام دینے پر تُل گئے ہو۔
میں ہی پاگل تھی، جو یہ سمجھتی رہی کہ تمہارے اور اس عورت کے ناجائز تعلقات ہیں۔ کیا خبر تھی کہ وہ تو پہلے ہی کسی کے گناہ کا بوجھ اٹھائے پھر رہی تھی، اور تم بس اس بوجھ کو اپنی گود میں لے بیٹھے۔روشانے کے لہجے میں طوفان تھا۔ وہ لرزتی آواز میں بولی،
طلاق کے بعد ہی روشانے کو سچائی کا پتہ چلا۔ رپورٹیں اسی کلینک کی تھیں جنہوں نے وہ سب کہہ دیا جو زبان سے کہنے کی ہمت اس میں نہ تھی۔ مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
تبریز خان طلاق دے چکا تھا۔ روشانے کے تلخ رویے نے اس کے دل میں ایسی نفرت بھر دی تھی کہ اب واپسی کا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ روشانے چاہ کر بھی اس کے پاس لوٹ نہیں سکتی تھی۔ اس کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں بچا تھا۔آج برسوں بعد جب تبریز خان اپنی شاندار وجاہت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا، تو دل کے کسی گہرے کونے میں دبی ہوئی محبت نے سر اٹھایا۔ مگر وہ جھکنے کو تیار نہیں تھی۔ آخر روشانے بھی پٹھانی تھی۔ جھکنا اسے بھی نہیں آتا تھا۔ اگر جھک جاتی، تو آج تبریز خان کی بیوی بن کر اس کے ساتھ ہوتی۔
یہی وہ افسوس تھا جو برسوں سے اس کے سینے میں سلگتا رہا۔ تبریز خان کو چھوڑ کر اس نے کیا کھویا، یہ راز صرف اس کا دل جانتا تھا۔ مگر اس نے کبھی اپنے دل کی بات کسی پر ظاہر نہ ہونے دی۔
وہ برسوں سے اپنے اندر ہی گھٹ گھٹ کر جی رہی تھی۔ اور آج، تبریز خان کو اپنے سامنے دیکھ کر، وہ عورت جو دنیا کے سامنے پتھر بن گئی تھی، اندر سے ٹوٹ رہی تھی۔ تبریز خان اس کی محبت تھا، اس کے بیٹے کا باپ، جسے وہ آج تک بھلا نہیں پائی تھی۔
“تمہیں کہنے کے لیے میرے پاس بہت کچھ ہے، روشانے، مگر تمہارے معیار پر اتر کر میں خود کو گرانا نہیں چاہتا۔
اور مجھے تمہیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ عبیرہ خان میری بیٹی ہے، میرا خون ہے۔
کبھی زندگی رہی تو جب تمہارا عبیرہ سے آمنہ سامنا ہوا، اسے غور سے دیکھنا۔
اس کے ہر ادا، ہر نقش، ہر عکس میں تمہیں تبریز خان نظر آئے گا۔”
تبریز خان کی آواز میں ضبط چھلک رہا تھا۔ لفظ بھاری تھے، مگر وقار میں لپٹے ہوئے۔ اس کے چہرے پر درد بھی تھا اور انا کی سختی بھی۔
روشانے ہنسی ۔ ایک تلخ، خالی سی ہنسی۔
“آمنا سامنا تو تب ہوگا نا جب آریان اسے کبھی تم تک پہنچنے دے گا۔
مجھے تو لگتا ہے، تمہاری بیٹی کو صفحۂ ہستی سے مٹا کر ہی دم لے گا۔”
یہ جملے سنتے ہی تبریز کے چہرے کی رگیں تن گئیں۔
غصہ اس کے اندر لاوے کی طرح پھوٹ پڑا۔
“جان لے لوں گا اس کی، اگر میری بیٹی کو ایک خراش بھی آئی تو!” وہ دھاڑا۔
کمرے کی فضا لمحے بھر کو تھم گئی۔
تبریز کے ہاتھ بےاختیار مکے کی صورت میں بند ہو گئے۔
اس کا بس چلتا تو سامنے کھڑی عورت کے چہرے پر تھپڑ رسید کر دیتا،
کیونکہ اس لمحے وہ اسے اسی سزا کی مستحق سمجھ رہا تھا۔
“آرام سے بات کرو، تبریز خان! چلانا مجھے بھی آتا ہے!
اس بار میں بھی پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ اگر آریان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تو پہلے میرا سامنا کرنا ہوگا!”
روشانے آریان کے نام پر چیخ اٹھی۔
اس کی آواز غصے اور درد سے کانپ رہی تھی۔ آنکھوں میں آنسو تھے، مگر لہجہ فولاد کا تھا۔تبریز لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو گیا، جیسے اس چیخ نے اسے جَھنجھوڑ دیا ہو
“عبیرہ میری بیٹی ہے۔۔۔
تمہارے آریان نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے، میں یہ معاف نہیں کروں گا۔”
تبریز کی آواز کہر سی گہری تھی۔ الفاظ مختصر تھے مگر ہر لفظ میں دھواں سا اٹھ رہا تھا۔ اُس کے لہجے میں درد بھی تھا اور انتقام کی ٹھنڈی وسوسہ بھی
“بہت درد ہے اپنی بیٹی کی عزت خراب ہونے کا،” وہ بولی، آواز میں سردی اور اکڑ تھی،
“اور جب اسی بیٹی کی ماں نے میری زندگی خراب کی، تب تمہیں درد کیوں نہیں ہوا، تبریز خان؟”
لفظ ہر حرف میں تلخ غرور لیے ہوئے تھے، کوئی رقت یا نرمی نہیں۔
آنکھیں ساکت، ہونٹ مضبوط، اور لہجہ ایسا کہ ہر لفظ کی گونج سننے والے کے دل میں ٹکرا جائے۔
“جاہل عورت! وہ بات تمہارے اور میرے درمیان ہے، میری بیٹی کو بیچ میں مت گھسیٹو!”
تبریز خان کے چہرے کی رگیں تنی ہوئی تھیں، غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ پورا جسم کانپ رہا تھا، ہر سانس کے ساتھ جیسے آگ کی لہر اس کے اندر پھیل رہی ہو۔
،،اب تو تمہاری بیٹی بیچ میں آ چکی ہے، تبریز خان۔
برسوں پہلے جو ناانصافی تم نے میرے ساتھ کی، اس کا بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔
مت بھولنا کہ وہ آریان ہے؛ وہ بغیر بدلے تمہاری بیٹی کو واپس نہیں کرے گا۔
،روشنی کے چہرے پر غرور اور شیطانی مسکراہٹ چھلک گئی۔
“مطلب کہ تم خون خرابہ کیے بنا چین کی سانس نہیں لو گی،،
“خون بہتا ہے تو بہہ جائے، مگر اس بار میں اس عورت سکون سے نہیں جینے دوں گی، جس نے میری زندگی تباہ کی، میں اس کی بیٹی کی ہر خوشی چھین لوں گی۔
“کم ظرف عورت، کیوں بھول رہی ہو کہ وہ میری بھی بیٹی ہے؟
اپنی سینے میں لگی نفرت کی آگ بھڑکانے کے لیے تم سچ دیکھنا گوارا نہیں کرتیں۔
مگر ہمیشہ کی طرح جب تمہیں احساس ہوگا، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
اور اپنی بیٹی تک تو میں پہنچ ہی جاؤں گا۔
بس اتنا کہوں۔اگر تمہارے آریان نے عبیرہ کو نقصان پہنچایا تو میں اس کا کلیجہ نکال لوں گا۔“
تبریز خان کی آواز بھاری اور سخت تھی، چہرے کی نسیں تن گئی تھیں، غصے سے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں، اور پورا جسم کانپ رہا تھا۔ ہر لفظ کمرے میں گونج رہا تھا، جیسے ہوا میں آگ بھر دی گئی ہو۔
“یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کس کا کلیجہ نوچتا ہے، فلحال تو آریان خان تم پر بھاری پڑ چکا ہے۔“
روشانے آریان کی جیت پر خوش تھی، اس کی آنکھوں میں چھپی مسکان میں غرور اور خاموش خوشی جھلک رہی تھی۔
تبریز خان سمجھ چکا تھا کہ یہاں سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ وہ جان چکا تھے کہ اسکی بیٹی سچ میں آریان کے پاس ہے، اور وہ یہ بھی سمجھ چکے تھے کہ روشانے اس کے ساتھ یا تو ملوث ہے، یا پھر اتنی خوش ہے کہ بہت جلد اس کے ساتھ ملوث ہو جائے گی۔
„جب میری زندگی برباد ہوئی تھی تو تب کسی نے افسوس نہیں کیا۔ جب میرا گھر اجڑا تھا تو کسی کو افسوس نہ ہوا تھا، تو میں کیوں کروں کسی کی بربادی پر افسوس؟ آج دشمن برباد ہو رہے ہیں تو میں خوش ہوں ۔“
آواز میں انتقام کا ٹھہرا ہوا جذبہ تھا۔ پھر اچانک اس نے دعا کی طرح کہا، „میری دعا ہے کہ اس بدچلن عورت کی بدچلن بیٹی میرے آریان کے پاس ہو؛ آریان اس کا وہ حشر کرے کہ تم لوگوں کی روح کانپ جائے۔“روشانے نے یہ جملے سرد طنز کے ساتھ کہے۔ اس کے لہجے میں کوئی رقت نہ تھی؛ اکڑ اور غرور ہر حرف میں نمایاں تھے۔ تبریز قدم پیچھے ہٹاتا ہوا جانے لگا، دانت پیستے ہوئے؛ جاتے ہوئے بھی روشانے کے سخت الفاظ اس کے سینے میں ایک طرح کا چبھن چھوڑ گئے۔
تبریز خان نے غصے بھری نگاہ سے اسے دیکھا۔ لمحہ بھر کے لیے اس کے اندر کا لاوا باہر آنے کو تھا۔۔۔دل چاہا اس کے منہ پر ایک زور کا تھپڑ رسید کرے ۔۔۔پھر اس کی عزت نفس نے اسے روک دیا۔ بدزبانی کا جواب بدزبانی سے دینا اس کے اصولوں میں نہ تھا۔ وہ دانت پیستے ہوا، تیزی سے باہر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا اور وہاں سے روانہ ہو گیا۔۔
کمرے میں رہ جانے والی خاموشی دیر تک اسی تلخ خوشی اور بے چین ترس کے بیچ جھنجھلاتی رہی؛ روشانے کی مسکراہٹ میں اب بھی وہ شیطانی وقار تھا، اور تبریز کے دل میں اب بھی ایک غیر معلوم سا طوفان۔
„یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کس کا کلیجہ نوچتا ہے، فلحال تو میرا آریان خان تم پر بھاری پڑ چکا ہے۔“
اس نے جو منہ پر مصنوعی غرور اور اکڑ کا ماسک پہنا ہوا تھا، وہ تبریز خان کے جاتے ہی اتر گیا۔ روشانے کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کا دل بھی برسوں بعد تبریز خان کے ساتھ ہی جا رہا ہو۔
عمر کے اس موڑ پر بھی وہ آج بھی کتنا ہینڈسم لگ رہا تھا۔ روشانے کی نظر جب تک اس کی گاڑی پر تھی، وہ ٹیرس پر بھاگ گئی تھی۔ پیچھے نہیں ہٹی، دور تک اسے دیکھتی رہی۔ ہر لمحہ اس کی نگاہوں میں تبریز کی یاد، اس کی حرکات، اور وہ غصہ سب ایک ساتھ گونج رہے تھے۔
„کیسے۔۔۔ کیسے معاف کر دوں اس عورت اور اس عورت کی بیٹی کو، جس کی وجہ سے تم مجھ سے، میرے بیٹے سے دور ہو گئے؟
کبھی معاف نہیں کروں گی، مرتے دم تک معاف نہیں کروں گی۔ تبریز خان سن رہے ہو،،
وہ اپنے آنسوؤں کو بے دردی سے ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔ دل میں خوف تھا کہ کوئی اس کے آنسو نہ دیکھ لے۔ اس نے خود پر ایک مضبوط لبادہ اوڑھ رکھا تھا، جس سے وہ مضبوط اور سنگدل نظر آتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی اسے اس روپ میں دیکھے۔
اس نے دروازہ زور سے مارا اور کمرے میں بند ہو گئی، جیسے اپنی دنیا کے سارے راستے ایک دم سے بند ہو گئے ہوں۔
═══════❖═══════
Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.