Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:13

🕯️ صلیبِ سکوت
از حیات ارتضی S.A
قسط نمبر:13
═══════❖═══════
کچھ ہی دیر بعد، آریان خان ترتیب سے سجی ہوئی ٹرے اٹھائے
کمرے میں داخل ہوا۔
چہرے پر وہی سختی،
مگر آنکھوں کے کسی کونے میں ایک ان کہی نرمی چھپی ہوئی تھی۔

“ڈش کو میز پر رکھتے ہوئے نرمی سے جھک کر عبیرہ کو سہارا دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تاکہ اسے تھوڑا سا تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بٹھا کر کچھ کھلاکر دوا دے سے۔ مگر جیسے ہی وہ قریب ہوا عبیرہ گھبرا گئی اور فوراً خود میں سمٹ گئی۔ آریان نے گہری سانس لی اور ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر لیں، کیونکہ عبیرہ کی اس حرکت سے اسے غصّہ آیا، جسے اس نے اس وقت ضبط کر لیا، شاید عبیرہ کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے یا پھر کسی اور وجہ سے۔”

“میڈم، زیادہ خوش فہمی میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمہاری حالت کا فائدہ نہیں اٹھا رہا؛ محض اس لیے اٹھا کر بیٹھایا ہوں تاکہ تمہیں کچھ ٹھنسا کر دوا دے سکوں اور تم ٹھیک ہو جاؤ۔ کیونکہ اگر تم مر گئیں تو میرا انتقام ادھورا رہ جائے گا، اورمیں ایسا ہرگز ہونے نہیں دوں گا۔”
،،…نہیں… مجھے کچھ نہیں کھانا ہے… پلیز… آپ مجھے پین کلر دے دیں…،، عبیرہ نے مدہم سی آواز میں کہا…
،،شاید تم بھول رہی ہو… اس وقت تم اپنے باپ کی حویلی میں نہیں ہو… اور نہ ہی میں تمہارے باپ کی تنخواہ پر تعینات تمہارا کوئی ملازم ہوں… تو اس لیے یہ فرمائشیں اور یہ ایکٹنگ بند کرو… اور چپ چاپ کھاؤ…،، ۔۔۔ آریان خان نے سختی سے کہا…
تو مجبورا عبیرہ کو خود کو کھانے کے لیے تیار کرنا پڑا… ورنہ اس کے سر اور جسم میں اس وقت اتنی تکلیف تھی کہ وہ کبھی نہ اٹھتی… مگر مقابل کی سختی پر وہ آنسو بہاتی ہوئی اٹھ بیٹھی…

وہ آریان کا سہارا لیے بنا اٹھنا چاہتی تھی… مگر ایسا ممکن نہیں تھا… کیونکہ اس کے جسم میں جان نہیں تھی… آریان نے ایک ہاتھ اس کے آگے بڑھایا اور دوسرا اس کے سر کے پیچھے رکھا… تو وہ بڑی مشکل سےہلکا سا سرکتے ہوئے پیچھے کو ہوئی اور بیڈ سے ٹیک لگا گئی…
آریان نے پاس رکھی ہوئی ڈش سے کٹنگ کیے ہوئے ایپل کا ٹکڑا اٹھایا… اور کانٹے کی مدد سے اس کے منہ میں ڈال دیا…
عبیرہ نے بڑی مشکل سے سیب کے دو ٹکڑے تو کھا لیے… اس سے آگے اس کا دل نہیں کر رہا تھا… متلی جیسی کیفیت ہو رہی تھی… اور سر میں چبانے سے شدید درد ہو رہا تھا…
،،بس… پلیز… مجھے اور نہیں کھانا،، اس نے ہاتھ کے اشارے سے اور کھانے سے منع کر دیا…
،،تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا… پین کلر کھانے سے پہلے پورا ایپل کھانا پڑے گا… جلدی سے کھا لو…،،
،،مجھ سے خدمت گزاریاں نہیں ہوتیں،،…
،،مجھ سے نہیں کھایا جا رہا… پلیز، سمجھنے کی کوشش کریں… بعد میں کھا لوں گی…،،
اس نے اتنے درد اور عاجزی سے کہا کہ آریان کو مجبوراً اس پر رحم کھانا پڑا…

،،ٹھیک ہے… ایک کام کرو، دودھ پی لو، پھر پین کلر دے دوں گا…،،
اس کی رو دینے والی شکل کو دیکھ کر آریان خان نے دودھ کا گلاس اس کے آگے کیا…
عبیرہ کیسے بتاتی… اسے دودھ کا ٹیسٹ پسند نہیں… مگر پین کلر حاصل کرنے کے لیے اسے ناک بند کر کے دودھ کے سپ لینے پڑے…
،،بس… اور نہیں…،، وہ ابکائیاں لیتے ہوئے ہاتھ ہلا کر اور پینے سے انکار کر رہی تھی…،،اگر کچھ کھانے کی زحمت کر لیا کرو… تو اس ہڈیوں کے ڈھانچے پر تھوڑا سا گوشت آنا شروع ہو جائے گا…،،
اس کی نازک سی جان کو پوائنٹ کرتے ہوئے آریان نے گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا…
پین کلر نکال کر اس کے منہ میں ڈالتے ہوئے پانی کے گلاس کو اس کے ہونٹوں سے لگا دیا…
اس کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھتے ہوئے پانی کے گھونٹ پلا کر گلاس واپس رکھ دیا…
،،لیٹ جاؤ… کچھ دیر میں فیور اتر جائے گا…،،آریان خان کے لہجے میں تھوڑی نرمی تھی… یا عبیرہ کو ایسا محسوس ہوا… وہ سمجھ نہیں پائی…
مگر اس کے لیے تو یہ غنیمت تھا کہ اسے لیٹنے کی اجازت مل گئی تھی…

عبیرہ کو اس کے انداز پر تھوڑی حیرانی ہو رہی تھی… وہ اسے سہارا دیتے ہوئے آہستہ سے واپس لٹا گیا…

،،آہ…،، اس کے لبوں سے ایک دبی سی آواز نکلی، جیسے درد نے اس کے وجود کے اندر تک لرزہ دوڑا دیا ہو…

آریان نے اس کے اوپر کمبل ڈالا، تو غیر ارادی طور پر اس کے ہاتھ کا لمس عبیرہ کے پیٹ کو چھو گیا…
وہ سسک اٹھی… سانس جیسے حلق میں اٹک گئی ہو…
،،یہاں کیا ہوا ہے؟،، آریان نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بلینکٹ ذرا سا ہٹایا، اور اس کے گلے میں پہنی ہوئی ٹی شرٹ کو اوپر کرنا چاہا… تاکہ وہ جان سکے آخر معاملہ کیا ہے…
عبیرہ نے گھبرا کر اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ لیا…
شرم و حیا کے رنگوں میں گھل کر اس کا چہرہ کانوں کی لو تک سرخ ہو چکا تھا…

،،اس وقت میرا رومینس کرنے کا کوئی موڈ نہیں… اور ویسے بھی آریان خان ہر ایری غیری چیز کو ایسے ہی منہ نہیں لگا لیتا… تو ایکٹنگ بند کرو… مجھے دیکھنے دو کہ کیا ہوا ہے…،،
،،نن… نہیں… میں خود دیکھ لوں گی…،،
وہ اس کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی، جیسے اپنی عزت کی آخری لکیر بچانے کی کوشش کر رہی ہو…تکلیف تو اسے سچ میں بہت تھی… مگر کیسے گوارا کرتی کہ وہ اسے دیکھتا…
کبھی کبھی درد سے زیادہ کسی کی نگاہ کا لمس تکلیف دے جاتا ہے۔عبیرہ کے لیے وہ نگاہ آریان خان کی تھی ۔

،،تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آئی؟ مجھے دیکھنے دو… شوہر ہوں تمہارا… اس اتھارٹی کے ہوتے ہوئے تمہارے وجود پر کسی بھی زخم کو دیکھنے کا حق ہے مجھے…،،
آریان خان نے نرمی مگر ٹھہراؤ کے ساتھ اس کے ہاتھ کو سائیڈ پر کیا…

اس کے دونوں ہاتھ جل چکے تھے… سرخی بڑھتی جا رہی تھی…
آریان نے جیسے ہی دامن سے پکڑ کر شرٹ کو اوپر کرنا شروع کیا…
عبیرہ نے اپنی آنکھوں کو سختی سے بند کر لیا…
،،آہ… ہ… ااااااا… پلیز… مجھے بہت درد ہو رہا ہے…،،
اس کی دردناک چیخ جیسے دیواروں سے ٹکرا کر واپس پلٹی ہو…
کمرے کی ہوا ساکت ہو گئی تھی…
وہ آریان کے ہاتھ کو زور سے تھامے، درد سے لرز رہی تھی…
آریان خان نے جب اس کے پیٹ کا زخم دیکھا… تو یکدم اس کے چہرے کی رنگت اڑ گئی…
شرٹ کے ساتھ اس کی جلد چپک چکی تھی…
آریان کو یاد آیا…کہ کافی اس کے پیٹ پر بھی گری تھی…
مگر ڈریسنگ کرتے ہوئے گھبراہٹ میں وہ یہ بات بھول گیا تھا…
کافی کا مگ بڑا تھا، اور وہ کافی بہت زیادہ گرم…
نقصان بھی اتنا ہی گہرا…
تقریباً چار سے پانچ آنچ کی جگہ سے جلد جل کر شرٹ کے ساتھ چپک گئی تھی…

جب اس نے شرٹ اوپر کی…
جلد بھی ساتھ ہی ادھڑنے لگی…
،،او مائی گاڈ…،،
بے اختیار آریان کے لبوں سے نکلا…
،،عقل کی اندھی… اتنا کام نہیں کیا، جتنا خود کو جلا لیا ہے ایڈیٹ…،،
وہ عبیرہ کی بے وقوفی پر غصے سے بڑبڑایا، مگر اس کی آنکھوں میں خوف، اور درد کا ایک سایہ سا تھا…
عبیرہ کو بہت درد اور جلن ہو رہی تھی…. مگر اسی درد میں وہ اپنی شرم و حیا کو نہیں بھولی تھی…. اپنی شرٹ کو واپس سے نیچے کرتے ہوئے خود کو ڈھانپ چکی تھی…. اور سسکیوں سے تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی….
آریان خان نے جلدی سے فون اٹھاتے ہوئے کسی کو آرڈر دیا….
،،دو منٹ کے اندر لیڈی ڈاکٹر کو بلواؤ،،
حکم دیتے ہی فون کو بیڈ پر پھینک دیا…. اور عبیرہ کی سسکیاں سن کر اس کے چہرے پر نظریں مرکوز کیے…. درد بھری نگاہوں سے دیکھتا رہا….
اس وقت اس سنگ دل شخص کو احساس تھا…. کہ گرم کافی سے وہ واقعی جل چکی تھی….
،،کچھ دیر کے لیے صبر رکھو…. کچھ دیر میں ڈاکٹر آ جائے گی،،
پہلی بار آریان کے لب دلاسہ دینے کے لیے کھلے تھے….

،،مجھ سے صبر نہیں ہو رہا…. بہت پین ہو رہا ہے…. جلن بھی بہت زیادہ ہو رہی ہے،،
اس کی لرزتی ہوئی آواز…. اور آنسوؤں کے ساتھ کہے گئے جملے نے…. آریان کے دل کے کسی گوشے میں نرم درد سا جگا دیا….
،،آئی نو، مجھے اندازہ ہے کہ تمہیں بہت پین ہو رہا ہے…. مگر میرا ایک سوال ہے…. تمہیں کافی کے مگ سے نہانے کی کیا ضرورت تھی….‘‘

عبیرہ نے غصے سے اس کی جانب دیکھا تھا…. جو اس وقت درد سے تڑپ رہی تھی…. اور وہ اتنا بےہودہ سوال کر رہا تھا….
مگر اپنے لفظوں کی سختی کا اندازہ ہوتے ہی آریان خاموش ہو گیا تھا….

آریان کی نظریں اس کے جلے ہوئے زخم پر مرکوز تھیں….
اس کے نرم و نازک وجود پر جلے کے نشانات دیکھ کر آریان کو خود پر غصہ آ رہا تھا….
اسے کٹ اور زخموں کے نشان جتنے برے لگتے تھے…. یہ لڑکی اس کی زندگی میں شامل ہوتے ہی اپنی شخصیت پر نشانوں کی بھرمار کر رہی تھی….

آریان خان کے پورے جسم پر کہیں کوئی زخم یا کھروچ کا نشان نہیں تھا….
ایک دو بار حادثاتی طور پر اس کے کٹ لگ گئے تھے….
جب تک اس نے سرجری کروا کر ان نشانات کو ختم نہیں کیا…. اسے سکون نہیں ملا تھا….
کچھ دیر میں ہی ڈاکٹر پہنچ گئی….
کمرے میں ہلکی ہلکی دوا کی خوشبو پھیل گئی تھی….
اپنا میڈیکل بیگ رکھتے ہوئے ڈاکٹر نے زخم کو دیکھا…. اور نفی میں سر کو ہلایا….

،،میں پوچھ سکتی ہوں کہ یہ کیسے جلی ہیں؟‘‘

،،کیوں…. آپ انسپیکٹر ہیں جو ہم آپ کو بتائیں؟‘‘

ڈاکٹر نے چونک کر آریان کو دیکھا…. اس کے تیور ایسے تھے جیسے کسی نے حد سے آگے قدم رکھ دیا ہو….

،،نہیں…. میرا مطلب یہ تھا کہ مجھے میڈیسن دینے میں آسانی ہو جائے….‘‘
آواز لرز گئی تھی….

آریان خان کے تیور دیکھ کر ڈاکٹر بیچاری گھبرا گئی….
اس کے پسینے کی بوندیں ماتھے سے لڑھک کر ماسک کے کنارے پر رک گئیں….
اپنے کیے گئے سوال کو چھپانے کے لیے بہانہ بھی کچھ خاص نہیں بنا سکی….

،،کیا میڈیسن دینے میں آسانی ہوگی جب سامنے نظر آ رہا ہے کہ جلے کے نشان ہیں….
تو ظاہر سی بات ہے میڈیسن تو اسی کی دی جائے گی…. پھر بھی بتا دیتا ہوں….
کچن میں کافی بناتے ہوئے فیور سے سر چکرا گیا…. کافی اس کے اوپر گر گئی….
مہربانی کر کے سوال جواب میں وقت ضائع مت کریں…. جلدی سے ٹریٹمنٹ شروع کریں….‘‘

آریان سختی سے کہتے ہوئے خود بھی جیسے ڈاکٹر صاحب بن کر سر پر سوار کھڑا تھا….
کمرے میں اس کے لہجے کی سختی اور عبیرہ کی سسکیاں آپس میں گڈمڈ ہو رہی تھیں….

،،ٹھیک ہے…. آپ باہر جائیں….‘‘

،،وجہ؟‘‘ آریان خان نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا….

،،مجھے ان کی ڈریسنگ کرنی ہے….‘‘

،،تو کیجئے…. ایسے کیا دیکھ رہی ہیں…. میری بیوی ہے….‘‘
ڈاکٹر کے دیکھنے پر آریان نے کہا….

ڈاکٹر شاید اور بھی کچھ کہنا چاہتی تھی…. مگر مقابل کی آنکھوں میں تپش دیکھ کر وہ خاموش ہو گئی….
سامان نکالنے لگی…. دھات کے آلات کی ٹن ٹن خاموشی میں گونجنے لگی….

جیسے ہی اس نے ڈریسنگ شروع کی…. عبیرہ کی چیخیں نکلنا شروع ہو گئیں….
کمرے میں ایک لمحے کو خاموشی ٹوٹ گئی تھی….
وہ درد سے تڑپ رہی تھی….
اسے شاید بہت زیادہ جلن ہو رہی تھی….
وہ تکیے پر سر ادھر سے اُدھر مار کر…. ڈاکٹر کے ہاتھوں کو پکڑ کر ڈریسنگ سے منع کر رہی تھی….

آریان خان نے تیزی سے آگے بڑھ کر عبیرہ کے دونوں ہاتھ تھام لیے….
،،پلیز…. یہ ظلم مت کریں…. میرے ہاتھ چھوڑ دیں…. مجھے بہت پین ہو رہا ہے….‘‘
عبیرہ نے التجائی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا….

،،کچھ نہیں ہوگا…. ڈاکٹر کو ڈریسنگ کرنے دو…. ورنہ زخم خراب ہو جائے گا….‘‘
آریان کا لہجہ اس بار نرم تھا…. شاید پہلی بار….

،،نہیں…. نہیں…. نہیں….!!!‘‘
وہ روتی رہی مگر آریان نے اس کے ہاتھ نہیں چھوڑے….

ڈاکٹر نے جب ڈریسنگ شروع کی تو عبیرہ نے تکلیف سے آریان کی کلائی پر زور سے کاٹ لیا….

،،اَففف….‘‘
ایک لمحے کو اس کی سانس رکی….
اسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ایسا بھی حادثہ ہو سکتا ہے….

بس ایک بار اس کے منہ سے ہلکی سی اَفف کی آواز نکلی….
اس کے بعد وہ خاموشی سے اس کے ہاتھوں کو تھامے…. ڈریسنگ کروا رہا تھا….
جبکہ عبیرہ نے اپنے دانت پوری شدت سے اس کی کلائی میں گاڑ رکھے تھے….

اب تک کی اپنی سب تکلیفوں کا جیسے بہت اچھا بدلہ لے رہی تھی….
کمرے میں دوا کی خوشبو، سسکیوں کی گونج، اور خاموش غصے کی بو محسوس ہو رہی تھی….
مقابل بھی آریان خان تھا….
جس کے چہرے سے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ اس وقت وہ خود کتنی اذیت میں ہے….اللہ میاں… مجھے موت دے دے…
مجھ سے یہ درد برداشت نہیں ہو رہا، اللہ جی۔۔۔

عبیرہ تڑپ رہی تھی۔ اس کے لبوں سے نکلنے والی ہر چیخ، ہر فریاد، اس خاموش کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی تھی۔
وہ اپنے رب سے موت مانگ رہی تھی، جیسے زندگی سے اس کا اعتبار ٹوٹ چکا ہو۔

یہ سچ ہے… جب انسان تکلیف کی انتہا پر پہنچتا ہے تو اسے یا تو ماں یاد آتی ہے… یا خدا۔
عبیرہ کو دونوں یاد آرہے تھے۔
دل کی زمین پر دو ہی پناہیں ہوتی ہیں … ایک ماں کا دامن، دوسری خدا کی رحمت … اور اس لمحے وہ دونوں کو ایک ساتھ پکار رہی تھی۔

جب انسان درد کی انتہا پر پہنچتا ہے، تب اس کے اور خدا کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہیں رہتا۔
خدا، بندے کے آنسوؤں میں اتر آتا ہے۔۔۔
اور بندہ، خدا کی خاموشی میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔
عبیرہ کا جسم کانپ رہا تھا، مگر اس کی روح جیسے تھک کر ساکت ہو گئی تھی۔
اس کے ہونٹ ابھی بھی ہل رہے تھے “اللہ میاں… پلیز…”
اور آریان، اس کے قریب بیٹھا، پہلی بار اسے دیکھتے ہوئے خود کو کمزور محسوس کر رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں وہی اضطراب تھا جو ایک انسان کو دوسرے کی تکلیف کے سامنے لاچار کر دیتا ہے۔

وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر کہہ نہ سکا۔
بس اتنا ہی کہا ۔
“صبربس تھوڑا سا اور کرو عبیرہ ..”

بس… بس… بس… بس… ریلیکس ہو جائیں، ڈریسنگ ہو گئی ہے۔
اب دوا دوں گی، آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔
ڈاکٹر نے نرمی سے کہا۔
عبیرہ کے ماتھے پر اور چہرے پر شدتِ درد اور رونے کے باعث پسینہ چمک رہا تھا۔
آریان نے پاس پڑے ٹشو باکس سے ایک ٹشو نکالا،
اور نہ جانے کیوں… بڑی نرمی سے اس کے ماتھے پر بہتے پسینے کو صاف کرنے لگا۔
وہ خود بھی حیران تھا ۔
یہ کیا کر رہا ہے؟ کیوں کر رہا ہے؟
اس کے پاس ان سوالوں کے کوئی جواب نہیں تھے،
مگر احساس… احساس بہت واضح تھا۔

،،نہیں… نہیں، بس کرے… رحم کرے مجھ پر… مجھے پہلے ہی بہت درد ہو رہا ہے… انجکشن نہیں لگانا،،

عبیرہ کی نظریں جیسے ہی ڈاکٹر پر پڑیں، جو انجکشن تیار کیے کھڑی تھی،
اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا… جان جیسے لبوں تک آ گئی۔۔۔

،،مگر انجیکشن تو لگانا پڑے گا… کیونکہ جتنا اس وقت آپ کو درد ہے،
آپ کو انجکشن سے ہی آرام آئے گا… تھوڑی سی جلن ہوگی، اس کے بعد سکون آ جائے گا… پھر آپ سو جائیں گی،،
ڈاکٹر نے نرمی اور ہمدردی سے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔

مگر عبیرہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی، آنکھوں میں آنسو لیے۔۔۔
،،مجھے نہیں لگانا پلیز… آپ مجھے میڈیسن دے دیں،،
،،جب وہ کہہ رہی ہیں کہ لگانا ضروری ہے تو پلیز، لگوا لو عبیرہ۔۔۔،،آریان نے نرمی سے کہا،

عبیرہ کی آنکھوں میں بےبسی تیر گئی۔۔۔
،،آپ میں خوفِ خدا نہیں ہے؟ رحم کریں مجھ پر…
جب ٹھیک ہو جاؤں گی تو سزا دے لیجیے گا…
اس وقت رحم کر لیجیے… نہیں لگوانا مجھے انجکشن… میرے ساتھ زبردستی مت کریں،،
وہ چلا اٹھی تھی… اور اس کا یہ انداز آریان کو اندر تک چب گیا۔۔۔

،،شٹ اپ!،،
آریان کی آواز اب سخت تھی۔۔۔
،،نرمی کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ…
یہ انجکشن تمہاری سزا نہیں ہے، علاج ہے…
زبان بند کرو… انجیکشن لگاؤ، ڈاکٹر،،

اس نے عبیرہ کا بازو اس کے مضبوط ہاتھوں میں تھا،
وہ چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہی تھی… مگر آریان نے اسے مضبوطی سے تھام رکھا۔۔۔
ڈاکٹر نے جیسے ہی انجکشن لگایا، عبیرہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔۔۔
وہ تڑپ اٹھی… آنکھوں سے آنسو نکل کر تکیے پر گرنے لگے۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اس کی چیخیں مدھم ہونے لگیں…
آریان نے دیکھا کہ انجکشن لگ چکا ہے،
مگر وہ اب بھی سسکیاں لے رہی تھی۔۔۔

،،اب اپنا لاؤڈ اسپیکر بند کرو… انجکشن لگ گیا ہے،،
آریان نے کہا، مگر اس کے لہجے میں غصے کے ساتھ ساتھ ایک انکہی نرمی بھی چھپی تھی۔۔۔

ڈاکٹر نے آریان کی سمت دیکھا، پیشانی پر عینک تھوڑی سی کھسکی ہوئی تھی، چہرے پر سنجیدگی کے ساتھ ایک نرم سا تاثر۔کیونکہ سامنے بیٹھا ہوا بندہ اس کی سمجھ سے باہر تھا کبھی لہجہ میٹھا ہو جاتا اور کبھی کڑوا۔

،،آپ کو ان کا بہت دھیان رکھنا پڑے گا۔۔۔ جلا ہوا زخم جلدی ٹھیک نہیں ہوتا، بہت کیئر کرنی پڑتی ہے،،ڈاکٹر نے جاتے ہوئے تفصیل بتائی۔

آریان خاموش بیٹھا تھا، اس کے بازو کی رگیں تنیں ہوئیں، جیسے ضبط کا بوجھ ان میں دوڑ رہا ہو۔

،،کل ان کو میرے کلینک پر لے آئیے گا۔۔۔ میں نے انجکشن لگا دیا ہے، کچھ دیر میں ان کو جلن سے اور درد سے راحت مل جائے گی،،
ڈاکٹر نے سٹیتھو رکھ کر ہاتھ جھاڑے، میڈیکل بیگ کے پاس جا کر میڈیسن لسٹ پر لکھی اور ۔وہ پرچی آریان کے سامنے رکھتے ہوئے نرمی سے بولی،
،،یہ دوائیں وقت پر دے دیجیے گا۔۔۔‘‘

آریان نے کاغذ پر سرسری نظر ڈالی، آنکھ اٹھائے بغیر جواب دیا۔
،،ہمیں میڈیسن لکھ دیں، آج رات کو ہم آؤٹ آف کنٹری جا رہے ہیں۔۔۔ وہاں جا کر میں اپنی وائف کا بہترین ٹریٹمنٹ کروا لوں گا۔۔۔ کلینک پر نہیں آ سکتے،،وہ ایسے بول رہا تھا جیسے ڈاکٹر پر احسان کر رہا ہو۔

ڈاکٹر اس بندے کی عقل پر حیران تھی جس کی بیوی اتنی زیادہ زخمی تھی اور وہ باہر جانے کی بات کر رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے ڈاکٹر نے سوچا، یا تو یہ بندہ پاگل ہے یا عقل سے پیدل۔ مگر بیچاری کچھ بول نہیں سکتی تھی، صرف سوچ سکتی تھی۔مگر پھر بھی سمجھانا اپنا فرض سمجھا۔

،،مگر سر ان کی ایسی حالت نہیں کہ ان کو کنٹری سے باہر لے جایا جا سکے،،

آریان نے ذرا سا جھک کر اپنی گھڑی دیکھی، پھر نگاہ اٹھائی۔۔۔ آنکھوں میں وہی سرد یقین تھا جو بحث کی گنجائش نہیں دیتا۔
،تو پھر ایک کام کریں، آپ چلیں ہمارے ساتھ،،
“جی۔۔۔”
ڈاکٹر نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا، جیسے اس نے اپنی سماعت پر شک کیا ہو۔ ایک لمحے کے لیے وہ ساکت کھڑی رہ گئی۔۔۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس شخص نے واقعی یہی کہا ہے۔
آریان نے سرخ نظریں اٹھا کر دیکھا ،
،،آپ تشریف لے جا سکتی ہیں۔۔۔ باہر میرا پی اے کھڑا ہے، آپ کی فیس اور ٹپ آپ کو مل جائے گی،،بیچاری ڈاکٹر کی فضول میں انسلٹ ہو گئی تھی۔۔
کمرے میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
ڈاکٹر نے جھک کر بیگ اٹھا لیا۔
دروازے کی سمت جاتے ہوئے اس کے قدموں کی چاپ خاموش کمرے میں گونجتی رہی۔۔۔
اور آریان کی نظریں اب بھی اسی بند دروازے پر جمی تھیں،
جہاں سے ابھی ابھی ڈاکٹر نکل کر گئی تھی۔
آریان کی بالوں سے بھری کلائی پر عبیرہ کے دانتوں کا گول نشان بن چکا تھا، جس سے ہلکا سا خون رسنے لگا تھا۔
آریان نے ایک نظر اپنے ہاتھ پر ڈالی، پھر نگاہ اٹھا کر عبیرہ کو گھورا۔

،،کافی زہریلی ہو۔۔۔ مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا،،

اپنے ہاتھ کے زخم کو ٹشو سے صاف کرتے ہوئے بڑے آرام سے بولا۔
کسی اور کے ساتھ ہوتا تو شاید درد سے چیخیں مارتا، مگر آریان خان کے چہرے پر معمولی سا تاثر بھی نہ تھا۔

،،سوری،،
عبیرہ نے زخم کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا۔
،،اس کی ضرورت نہیں ہے،،
اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔
،،اس کا حساب خود برابر کر لوں گا۔۔۔ تم کچھ دیر آرام کرو تاکہ تمہارا فیور اتر جائے۔ ہمیں نکلنا ہے،،

،،میں کہیں نہیں جاؤں گی،،
عبیرہ نے لرزتی آواز میں کہا۔

،،اگر تمیز سے پیش آ رہا ہوں تو زیادہ چہکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں لگتا ہے کہ تم ایسی حالت میں ہو کہ مجھے کسی بات سے انکار کر سکو؟،،

آریان خان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
اس نے بلینکٹ اس کے اوپر ڈالتے ہوئے سخت نگاہوں سے دیکھا، جیسے اس کی ایک اور ضد پر سب کچھ تہس نہس کر دے گا۔
عبیرہ کا دل اس کے تیور دیکھ کر کانپ گیا۔
اسے اب یقین ہو چکا تھا کہ وہ اسے اس کے اپنوں سے بہت دور لے جانے والا ہے۔۔۔
اور اس کی بے بسی ۔۔۔ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی،
سوائے آنسو بہانے کے۔۔۔

کمرے میں خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں بہت کچھ بول رہا تھا۔
آریان دروازے تک گیا۔ ایک پل کو رکا ۔پھر بنا پیچھے دیکھے باہر نکل گیا۔
دروازہ آہستگی سے بند ہوا،
اور عبیرہ چھت کو تکتے تکتے رونے لگی۔

آنکھوں کے کناروں سے بہتے آنسو تکیے کے غلاف میں جذب ہو رہے تھے۔
کمرے میں خاموشی تھی مگر اس کے دل میں خوف کا شور گونج رہا تھا۔
،،اللہ جی۔۔۔ میرے اپنوں کو مجھ تک بھیج دے،
مجھے اس سے بچا لے۔۔۔ جیسے شیطان مردود سے ہم تیری پناہ مانگتے ہیں،
اسی طرح اس ظالم شخص سے ملتے ہوئے تیری ہی پناہ مانگتی ہوں۔۔۔،،

وہ لبوں ہی لبوں میں کہہ رہی تھی،
یوں جیسے اس کی سسکیاں بھی دعا بن گئی ہوں،
اور اس کے آنسو، سجدے۔ عبیرہ کو شاید ڈاکٹر نے پین کِلر کے ساتھ نیند کی ڈوز شامل کر کے دی تھی اسی لیے وہ کچھ ہی دیر میں گہری نیند میں چلی گئی۔۔نیند کی وادیوں میں جاتے ہی اسے ہر دکھ سے رہائی مل گئی تھی۔۔اللہ تعالیٰ نے نیند جیسی نعمت ہمیں بخشی ہے۔ اگر ہم دل سے اس نعمت پر غور کریں تو قسم سے ہم سجدے میں جھک جائیں، اور بس شکر ادا کرتے رہیں کہ جب دل دکھ یا پریشانی میں بوجھل ہو اور ہم سو جائیں، تو ہر غم سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
اے اللہ، ہم تیری کس کس نعمت کا شکر ادا کریں؟ بے شک تو نے ہمیں رحمتوں کا ایک ایسا خزانہ دیا ہے، جس پر جتنا بھی شکر ادا کریں، کم ہے۔۔
═══════❖══════
عبیرہ کو کمرے چھوڑ کر ، آریان کچھ دیر کے لیے ٹیرس پر آ گیا…
کھلی ہوا میں کھڑا، جیسے خود کو وقت کے شور سے الگ کرنے کی کوشش کررہا ہو…
سامنے پھیلی سوسائٹی جیسے کسی خواب کا منظر ہو، چاروں طرف سبزہ، تازہ ہوا میں پھولوں کی مہک،اونچی اونچی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتیں تھیں…

مگر آریان کے دل کا موسم اس سب سے یکسر مختلف تھا…دل جیسے کسی ویران بستی میں اکیلا رہ گیا ہو…
جہاں ہریالی کے بیچ بھی ویرانی کی سیاہی چھائی ہو…جیب سے نکالتے ہوئے اس نے سگریٹ سلگائی…
وہ ہر کش کے ساتھ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر سکون جیسے ضد پر اتر آیا ہو…دھوئیں کی لکیر آسمان کی طرف اٹھی جیسے اس کے دل کا بوجھ اوپر جا رہا ہو مگر ہلکا نہ ہو سکا…
آخر تنگ آ کر اس نے سگریٹ کو نیچے پھینکا، جوتے تلے مسل دیا…
شاید غصہ سگرٹ پر نہیں، خود پر اتارا جا رہا تھا…واپسی کے قدم خود بخود کمرے کی سمت بڑھ گئے…تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے،دروازہ کھولا تو نظر عبیرہ پر جا ٹھہری…وہ نیند میں تھی، چہرے پر سکون کی ایک ہلکی سی تہہ تھی مگر رنگت…زرد پتّے کی مانند مرجھائی ہوئی…آریان کچھ لمحے یونہی کھڑا رہا…
اسے دیکھتا رہا جیسے اس کے زخموں کا درد خود اپنے اندر محسوس کر رہا ہو…مگر اس کی آنکھوں میں جو نرمی تھی، مگر لمحہ بھر کی مہمان تھی…
پھر چہرے پر وہی اجنبی سا سکوت، وہی خموشی جو اس کے اندر برسوں سے قید تھی…
پتہ نہیں کیوں… مگر عبیرہ کا یوں زخمی حالت میں بیڈ پر پڑا وجود، آریان کو بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا…
جیسے کسی نے اس کے اندر کہیں چپ چاپ کوئی طناب ہلا دی ہو…
وہ خود کو سمجھا رہا تھا کہ اسے عبیرہ سے کوئی ہمدردی نہیں، مگر پھر دل کے کسی کونے سے ایک انجان سا درد سر اُٹھاتا…
یہ احساس کہاں سے آیا؟ کیوں آیا؟
وہ خود بھی نہیں جانتا تھا…
یہ سوال جیسے اس کے اپنے وجود سے تھا …
“میں کیوں محسوس کر رہا ہوں… جب میں محسوس کرنا ہی نہیں چاہتا؟”
نظریں ایک لمحے کو عبیرہ کے چہرے پر ٹکیں…
پیلے چہرے پر معصومیت کی لکیریں جیسے کسی بچے کی نیند سے قبل کی دعا ہوں….آریان نے ایک لمحہ بھر کے لیے سانس روکی، اور پھر جیسے خود سے بھاگنے لگا…
نظریں چراتا ہوا کھڑکی تک گیا، پردہ ہٹایا…
رات کی ٹھنڈی ہوا اندر آئی…
اس نے آنکھیں بند کر لیں …شاید اس لیے نہیں کہ روشنی چبھ رہی تھی، بلکہ اس لیے کہ کوئی احساس اندر تک اترنے لگا تھا…
آریان خان نے کھڑکی کے پار پھیلے اندھیرے کو گھورا…
خود سے کہا…
،،آریان… تم اس لڑکی پر رحم نہیں کر سکتے… کیونکہ روشانے پر بھی تو کسی نے رحم نہیں کھایا تھا…،،
ہونٹوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ ابھری…
،،روشانے کا گھر اجاڑ دیا گیا تھا… اس کی خوشیاں چھین لی گئی تھیں… میرے دل کی زمین بھی اسی دن بنجر ہوئی تھی…،،
آنکھوں میں لمحہ بھر کو وہ تمام زخم چمکے جنہیں وقت بھی مندمل نہ کر سکا…
،،تو پھر کیسے… کیسے میں اس لڑکی پر رحم کر سکتا ہوں…،،
ایک لمحے کو وہ خاموش ہوا… نگاہیں عبیرہ کے زخموں پر جا ٹھہریں…
،،ہاں… شاید یہ رحم دلی ہے… یا شاید صرف ایک لمحاتی کمزوری…،،
نظریں جھکاتے ہوئے دل کو تسلی دی…
،،یہ صرف رحم ہے… اور کچھ نہیں…,,

آریان نے کھڑکی سے نگاہ ہٹائی… پردہ واپس گرایا اور ایک بھاری سانس لی…
کمرے کی فضا میں ہلکی سی ٹھنڈک پھیلی ہوئی تھی… مگر اس کے اندر کا شور ابھی بھی بے چین تھا۔
اس نے مڑ کر دیکھا…
عبیرہ بیڈ پر نیم بے ہوش سی لیٹی تھی… سانسوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ اس کا چہرہ ہلکا سا حرکت کر رہا تھا…
آریان کے قدم رک گئے۔
ایک لمحے کے لیے دل چاہا کہ وہ قریب جائے… مگر اگلے ہی پل نظریں پھیر لیں۔
کیا پتہ… کہیں وہ کمزوری پھر سے سر نہ اٹھا لے…وہ آہستگی سے چلتا ہوا میز کے پاس گیا، سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا، مگر فوراً واپس رکھ دیا…
آریان نے مٹھیاں بھینچ لیں…اس پر رحم نہیں کر سکتا وہ خود کو سمجھا رہا تھا…,,

آریان خان اس لڑکی سے نفرت کرتا تھا… شدید نفرت… مگر اس نے کبھی ایسا کچھ سوچا نہیں تھا جو اس کی انسانیت کے دائرے سے باہر ہو۔
نہ اس نے عبیرہ کو ہاتھ لگایا، نہ ہی اسے جسمانی اذیت دی… لیکن تقدیر جیسے ضد پر اتر آئی تھی، حادثے پر حادثہ ہوتا چلا گیا… اور ہر بار وہ خود کو بے بس محسوس کرتا رہا۔
آریان خان کو ایک الگ طرح کا سکون ملتا تھا جب لڑکیاں اس پر فدا ہو کر خود اس کے پیچھے بھاگتی تھیں…
اسے اچھا لگتا تھا جب ان کی آنکھوں میں اپنے لیے وہ خاص سا جذبہ دیکھتا… جیسے وہ ان کے خوابوں کا محور ہو۔
اس کی شخصیت، اس کی وجاہت، اس کی خوداعتمادی … سب کچھ ایک مقناطیس کی طرح دیکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔
خوبصورتی اسے خدا کی طرف سے انمول تحفے کے طور پر ملی تھی… وہ بچپن سے ہی سب سے الگ دکھائی دیتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ وہ مزید نکھرتا چلا گیا… جیسے قسمت نے خود اس کے خدوخال تراشے ہوں۔

مگر آریان خان کی ایک خاص بات تھی ..
اسے ان مردوں سے سخت نفرت تھی جو عورتوں پر ہاتھ اٹھاتے تھے۔
اس کے نزدیک وہ شخص مرد کہلانے کے قابل ہی نہیں جو کسی عورت کو تکلیف دے۔
اور شاید یہی وجہ تھی کہ عبیرہ سے نفرت کے باوجود، اس نے کبھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔
وہ جانتا تھا کہ تکلیف دینے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں …. جیسے کہ اس سے نکاح کر کے اسے تکلیف پہنچائی یہ اس کے نزدیک ایک جائز طریقہ تھا۔

عبیرہ سے اس کی نفرت کی جڑ اس کے ماضی میں تھی…
روشانے وہ عورت تھی جو اس کی زندگی کی روشنی تھی ۔
اور جس کی زندگی، عبیرہ کے ماں باپ کی وجہ سے برباد ہو گئی۔
اسی دن سے آریان کے دل میں ایک فیصلہ ٹھہر گیا تھا۔
وہ صرف سات برس کا تھا جب اس نے خود سے وعدہ کیا تھا ۔
کہ ایک دن وہ عبیرہ سے نکاح کرے گا، تاکہ دنیا دیکھے کہ انصاف بھی کبھی کبھی انتقام کی صورت میں اترتا ہے۔
وہ ہمیشہ سے اپنے ارادوں کا پکا تھا…
جو سوچتا، کر دکھاتا۔
اب وہ عبیرہ کو اس کے ماں باپ سے دور لے جا رہا تھا… تاکہ وہ تڑپیں، اپنی بیٹی کے لیے بلکیں، اور وہ دیکھے کہ طاقت کی زمین پر انصاف کتنا تلخ ذائقہ رکھتا ہے۔
وہ جتنا خوبصورت تھا… اتنا ہی ذہین، اور اتنا ہی خطرناک بھی۔
اس کے اندر ایک ایسا سکوت آباد تھا جس کے نیچے طوفان سوتے تھے… اور وہ طوفان صرف ایک نام سے جاگ اٹھتے تھے …روشنے…
عبیرہ نیند میں بھی بے چین تھی…
اس کا جسم بار بار کروٹ بدل رہا تھا… جیسے تکلیف اب بھی اس کے اندر کسی آہ کی صورت میں جاگ رہی ہو۔
سر کبھی دائیں، کبھی بائیں جھٹکتا… اور پھر وہ لمحہ آیا جب آریان کے قدم، جیسے اپنے ہی حکم کے خلاف، اس کی طرف بڑھ گئے۔

کبھی کبھی انسان کے جذبات، انسان کے قابو میں نہیں رہتے…
دل پر انسان کا اپنا اختیار نہیں ہوتا…
کچھ احساسات، کچھ حرکات، وقت کی مرضی سے سرزد ہو جاتی ہیں۔
اور اُس لمحے وہ بھی کچھ ایسا ہی کر رہا تھا… جیسے کسی انجانے کھچاؤ نے اس کے دل کے اندر سے ایک راستہ نکال لیا ہو۔

کیوں ہوتا ہے ایسا…؟
ہم نہیں جان پاتے۔
وقتی طور پر ہر جذبہ ایک سوال بن کر دل میں ٹھہر جاتا ہے…
مگر وقت گزرنے کے ساتھ، سب کچھ ایک روز…
بالکل ایک روز، ہماری آنکھوں کے سامنے روشن ہو جاتا ہے۔
وہ آہستہ سے اس کے قریب آیا… ہاتھ عبیرہ کے ماتھے پر رکھا… بخار اترنے لگا تھا، مطلب دوائی اثر کر رہی تھی۔
اس کے پیٹ پر بلینکٹ نرمی سے ڈالا تاکہ زخم کے ساتھ نہ لگے۔
کچھ دیر وہ اسی طرح کھڑا رہا، جیسے اس کے اندر کا شور کسی لمحے میں خاموش ہو گیا ہو۔
عبیرہ کے چہرے پر اب سکون تھا… آنکھیں بند تھیں، سانسیں ہلکی اور نرم تھیں…
وہ گہری نیند میں چلی گئی۔

آریان خان نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی، پھر صوفے پر جا بیٹھا۔
سامنے رکھی شیشے کی میز سے لیپ ٹاپ اٹھایا، آن کیا، اور فائلیں کھول کر تیزی سے ٹائپ کرنے لگا…
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے دل کی ساری الجھنیں الفاظ میں بدل رہا ہو۔

آریان خان جتنا اچھا بزنس مین تھا، اس سے کہیں زیادہ ماہر ہیکر بھی تھا۔
اس وقت وہ لیپ ٹاپ پر بیٹھا وہ تمام راستے بند کر رہا تھا جن کے ذریعے ڈی ایس پی یارم خان یا عبیرہ کی فیملی اس تک پہنچ سکتی تھی۔

لوگوں کی سوچ جہاں ختم ہوتی ہے… آریان خان کی سوچ وہاں سے شروع ہوتی تھی۔
وہ یہاں سے جانے سے پہلے ہر وہ در بند کرنا چاہتا تھا جس پر چل کر کوئی اس تک پہنچ پائے۔
عبیرہ کی فیملی ہی نہیں، بلکہ اپنی فیملی کے راستے بھی وہ خود ہی کاٹ رہا تھا۔
اس کا مقصد صاف تھا ۔ عبیرہ کے گھر والوں کو تڑپتے دیکھنا۔
وہ جانتا تھا، جب عبیرہ ان سب سے دور ہو گی… تو ان کے دل کیسے بے قرار ہوں گے۔
لیپ ٹاپ کی چمک میں اس کی آنکھوں کا عکس عجیب لگ رہا تھا۔
تیزی سے انگلیاں کی بورڈ پر چل رہی تھیں، جیسے ہر حرف کے ساتھ وہ کسی دروازے کو بند کر رہا ہو۔
ایک میسج ٹائپ کر کے اس نے اپنے تمام خاص آدمیوں کو بھیج دیا ۔
رابطے کے محفوظ طریقے صرف انہی کے ہاتھ میں تھے۔

گہری سانس لے کر اس نے لیپ ٹاپ بند کیا۔
سوائے اس کے خاص مینجر کے، کوئی نہیں جانتا تھا کہ آریان خان کہاں جا رہا ہے۔

سامنے دیوار پر لگی گھڑی پر نظر ڈالی… فلائٹ کا وقت ابھی باقی تھا۔
تھکن نے بدن پر قبضہ جما رکھا تھا،
وہ بیڈ کی دوسری جانب آ کر تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گیا… اور پل بھر میں نیند نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔

مگر کچھ دیر بعد ہی اچانک وہ چونک کر جاگ گیا۔
آنکھیں کھولتے ہی دیکھا … عبیرہ بیڈ پر نہیں تھی۔
نگاہ کمرے میں دوڑائی… واش روم کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا۔
مطلب، وہ وہاں بھی نہیں۔

آریان خان نے حرکت نہیں کی۔
اس کے لبوں پر ایک خفیف مسکراہٹ ابھری۔وہ جانتا تھا، عبیرہ کہاں ہے اور کیا کرنے گئی ہے۔
“عبیرہ خان… تمہاری سوچ وہاں تک کبھی نہیں پہنچ سکتی… جتنی دور تک کا میں نے سوچا ہے…”
اس کے دل میں ایک سرد لہر اٹھی،
اور وہ تنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ چھت کو گھورتا رہا…عبیرہ کو گئے پندرہ منٹ سے زیادہ ہو چکے تھے…
آریان خان کی نظریں اب بھی چھت پر جمی تھیں…
چہرے پر وہی پُراسرار خاموشی، جیسے سب کچھ جان کر بھی انجان ہو۔
نیند اب کوسوں دور جا چکی تھی… مگر وہ پلک نہیں جھپکا رہا تھا۔
کمرے میں خاموشی گہری تھی، جیسے دیواریں بھی سانس روکے کھڑی ہوں۔
اور اس کے دل میں وہی جلتی ہوئی ضد ۔
جو انتقام کے شعلے سے بھی زیادہ خطرناک تھی۔
دروازے کے باہر ہلکی سی آہٹ ہوئی…
مگر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
ایک سرد مسکراہٹ اس کے لبوں پر رینگ گئی۔
“جاؤ، عبیرہ خان…”
“دیکھتے ہیں… یہ کھیل تم کب تک کھیل سکتی ہو…”
کمرے کی خاموشی میں صرف گھڑی کی ٹِک ٹِک سنائی دے رہی تھی ۔
جیسے وقت خود گواہ بن گیا ہو
کہ اب کہانی کا رخ بدلنے والا ہے۔
═══════❖═══════
عبیرہ کی آنکھ اچانک کھلی۔
کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی جو کھڑکی کے پردے سے چھن کر آ رہی تھی۔
اس نے چند لمحے آنکھیں جھپکیں، جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ وہ کہاں ہے۔
گردن ذرا سی موڑ کر دیکھا تو آریان خان بیڈ کے دوسری جانب کروٹ لیے لیٹا ہوا تھا، سانسوں کی رفتار متوازن تھی، جیسے وہ گہری نیند میں ہو۔
عبیرہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
کچھ پل وہ یوں ہی لیٹی رہی، پھر آہستہ سے کمبل ہٹایا۔
اس کے قدم فرش پر پڑے تو ٹھنڈک نے جیسے پاؤں سے اوپر دل تک سرک کر خوف کی ایک لہر دوڑا دی۔
وہ دبے دبے قدموں سے چلتی ہوئی آریان کے فون تک پہنچی۔
کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھایا اور ایک نظر آریان پر ڈالی۔
وہ اب بھی ویسے ہی لیٹا تھا۔
عبیرہ نے سانس روکی، دروازے کی طرف بڑھی، ہینڈل کو آہستہ سے دبایا اور ذرا سا دروازہ کھولا۔
قدم دروازے سے پار رکھتے ہی اس نے دھیرے سے سانس لیا ۔ جیسے قید خانے کی دیوار کے پار نکل آئی ہو۔
وہ دبے قدموں کچن کی طرف بڑھ گئی،
اور اس کے دل کی دھڑکن اب بھی اتنی اونچی تھی کہ لگتا تھا آریان کے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔
مگر حیران ہوئی دیکھ کر کہ آریان خان کا فون آف تھا…
آن بٹن کو پریس کیا تو فون آن ہو گیا، مطلب کہ فون اس نے خود آف کر کے رکھا ہوا تھا۔
وہ جلدی سے فون کو اوپن کر کے یارم خان کا نمبر ملانے لگی… پہلے اپنے بابا کا نمبر ملا رہی تھی، پھر یہ سوچ کر ارادہ ترک کر دیا کہ اگر وہ اپنے بابا کو فون ملائے گی تب بھی اس کے بابا پولیس کی مدد لیے بنا اسے یہاں سے رہائی نہیں دلا سکتے۔
اگر یارم کو فون کرے گی تو وہ جلدی اس تک پہنچ بھی جائے گا، اور اس کے گھر والوں کو بھی خبر پہنچا دے گا۔

اپنے آپ کو بچانے کا یہ اس کے پاس آخری چانس تھا… وہ کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔
وہ تیزی سے یارم کا نمبر ڈائل کر رہی تھی کہ اچانک اس کے دماغ میں ایک خیال آیا کہ اتنے چالاک شخص کے موبائل پر کوئی پاسورڈ نہیں لگا ہوا؟
آج کے دور میں تو چھوٹے چھوٹے بچے اپنے موبائل کو پاسورڈ لگا کر رکھتے ہیں، تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا آریان خان جیسا شخص، جس کا کریکٹر ہی مشکوک ہے، وہ اپنے فون پر پاسورڈ نہ لگاتا ہو؟
وہ حیران تو ہوئی، مگر یہ سب سوچنے کا اس کے پاس ابھی وقت نہیں تھا۔

وہ یارم کا نمبر ڈائل کر کے اپنے کان سے لگائے اس کے فون اٹھانے کا انتظار کر رہی تھی…
مگر کئی بار نمبر ڈائل کرنے پر بھی نہ تو کسی نے فون اٹھایا اور نہ ہی یارم سے بات ہو سکی۔

“پلیز… پلیز… پلیز یارم فون اٹھائیں…”
وہ بے قراری سے اِدھر سے اُدھر چلتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہی تھی…
اس بات سے بے خبر کہ کوئی اسے گہری اور کٹیلی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔

عبیرہ اپنی بے قراری اور پریشانی میں یہ نہیں دیکھ پائی کہ کب سے کچن کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے آریان کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔

“جتنی شدت سے عاشق کا نام لے رہی ہو… کاش کبھی اتنی شدت سے مجھے پکارا ہوتا… تو قسم سے تمہاری سانس لینے سے پہلے تمہارے قریب کھڑا ہوتا…”
اچانک بہت قریب سے آریان خان کی آواز آنے پر عبیرہ گھبرا کر پلٹی، اور گھبراہٹ سے اس کے ہاتھ سے فون زمین پر گر گیا۔

عبیرہ کے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا بنانے کو…
وہ اپنی انگلیوں کو مروڑتی ہوئی، گھبرائی نظروں سے آریان خان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
ڈر سے عبیرہ کا پورا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا، کنٹرول کرنے کے باوجود اس کا جسم کانپ رہا تھا… تھوک حلق سے اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

آریان دونوں بازو سینے پر باندھے، ایک ٹانگ کو دوسری پر کراس کیے کھڑا اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“کیا ہوا؟ تمہارے یارم نے فون نہیں اٹھایا؟”
آئی برو اچکاتے ہوئے طنزیہ انداز میں پوچھا۔
“پپ… پپ… پلیز… مجھے مارئیے گا مت…”
وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ کپکپاتے ہونٹوں سے رونے لگی۔

“اچھا… اتنا ڈر لگتا ہے تمہیں مجھ سے؟ پھر بھی شوہر کو سوتا ہوا دیکھ کر چالاکی سے میرے پاس سے فون اٹھا کر تم اپنے عاشق کو فون کر رہی تھی…”
آریان خان ایک ایک قدم بڑھاتا ہوا اس کے قریب آ رہا تھا… لہجے میں سختی بھی تھی اور ایک عجب ٹھہراؤ بھی، جو خوف کو اور گہرا کر رہا تھا۔

عبیرہ خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی، نفی میں سر ہلاتی ہوئی قدم پیچھے پیچھے لے جا رہی تھی… دل کی دھڑکن جیسے سینے سے باہر نکلنے کو تھی۔

“مم… مم… معاف کر دیں… آئندہ نہیں کروں گی…”
لب کپکپا رہے تھے، آواز گلے میں کہیں اٹک گئی تھی۔
آریان خان کے چہرے پر غصے کی ایک لہر سی ابھری، مگر آنکھوں میں وہی سرد سکون تھا ۔ جیسے طوفان سے پہلے کی خاموشی۔
اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی مگر خطرناک مسکراہٹ تھی، جو بتا رہی تھی کہ وہ خاموش ضرور ہے، مگر اندر کچھ بھڑک چکا ہے۔
وہ چند لمحے بس اسے دیکھتا رہا… جیسے فیصلہ اس کے چہرے پر لکھا جا رہا ہو۔
“تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے… میں نے تو منع نہیں کیا…”
آریان کی آواز میں ٹھہراؤ تھا مگر وہی ٹھہراؤ جو طوفان کے مرکز میں ہوتا ہے۔
“میں تو کہتا ہوں روز فون کرنا… دن میں جتنی بار دل چاہے فون کرنا…”

وہ اب اتنا قریب آ چکا تھا کہ عبیرہ کے لیے پیچھے ہونے کی کوئی گنجائش نہ رہی۔
پیچھے شیلف کے ساتھ جا کر اس کی کمر ٹکرائی تو وہ پلٹ کر دیکھنے لگی جیسے کوئی قید پرندہ پنجرے کی آخری سلاخ تلاش کر رہا ہو۔
آریان خان نے دونوں ہاتھ اس کے اطراف میں رکھ کر اس کی راہ فرار بند کر دی۔
اس کی نظریں عبیرہ کے چہرے پر ٹکی تھیں گہری چبھتی ہوئی اس کی خاموشی میں بھی کئی سوال چھپے ہوئے تھے۔

ڈر سے عبیرہ کی سانسیں بند ہونے لگیں۔
اس نے دونوں آنکھیں سختی سے بند کر لیں۔
کبوتر کی طرح وہ بھی یہی سمجھ رہی تھی کہ آنکھیں بند کر لینے سے شاید خطرہ ٹل جائے گا۔
مگر آریان خان کوئی عام خطرہ نہیں تھا، وہ تو تقدیر کی طرح اس کے اتنا قریب تھا کہ سانس لینا بھی مشکل لگ رہا تھا۔

“عبیرا ڈارلنگ…”
آریان کی آواز میں ایک سرد مسکراہٹ گھلی ہوئی تھی۔
“جب بہادری سے فون اٹھا کر لائی ہو تو اب آنکھیں کھول کر آریان خان کو محسوس کرنے کی ہمت بھی جمع کرو…”
وہ جھکا اس کے قریب آ کر جیسے اس کے خوف کی دھڑکنیں سن رہا ہو۔
“اور کیا کہا تم نے کہ میں تمہیں ماروں نا؟”
وہ ذرا سا ہنسا مگر ہنسی میں چنگاریاں تھیں۔
“تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے آریان خان ایک مرد ہے۔
میرے نزدیک تم جیسی بے بس عورت پر ہاتھ اٹھانا میری مردانگی کی توہین ہے۔”

وہ لمحہ بھر کے لیے رکا اس کی آنکھوں میں روشنی بدل گئی۔
“مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمہیں سزا نہیں ملے گی۔
تمہیں سزا ملے گی عبیرہ۔
وہی سزا جس کی تم لائق ہو۔”
،،عبیرا کے کان کے قریب جھکتے ہوئے آریان خان کی سرگوشی نے ہوا میں ایک انجان لرزش پیدا کی…
گرم سانسوں کی حدت نے اس کے وجود میں بے چینی سی دوڑا دی تھی…
دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے سینے کی قید سے نکل کر بھاگ جانا چاہتا ہو…
وہ اپنے حواسوں پر چھاتی ہوئی اس کی خوشبو کو محسوس کر رہی تھی، جو رفتہ رفتہ اس کی سانسوں میں اترتی جا رہی تھی۔‘‘

،،آریان خان نے نظریں اٹھا کر بند پلکوں کے نیچے جھکے ہوئے چہرے کو دیکھا…
اس کی نگاہوں کا لمس عبیرہ کے چہرے پر پڑا تو وقت لمحہ بھر کو ٹھہر سا گیا…
نگاہوں کی شدت ایسی تھی کہ ہوا میں بھی سنسناہٹ پھیل گئی تھی…‘‘

،،زندگی میں پہلی بار آریان خان کے احساس نے کسی کے لمس کو اس طرح محسوس کیا تھا…
وہ لمحہ اس کے اختیار سے باہر تھا، نہ ارادہ، نہ کوئی سوچ،
بس ایک جذبہ جو بے ساختہ بہہ نکلا تھا…‘‘
،،عبیرا کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر، اس کی سانسوں کی نرمی محسوس کرتے ہوئے
آریان خان چند لمحوں کے لیے اپنی دشمنی بھول چکا تھا…
یہ سب غیر ارادی تھا، جیسے دل نے ضد کی ہو اور عقل خاموش کھڑی رہ گئی ہو…‘‘
،،ایک لمحے کے لیے وقت تھم گیا…
اور پھر وہ خود سے بہت دور نکل گیا تھا…سانسوں کے درمیان گہری خاموشی چھا گئی،پھر جیسے وہ لمحہ خود اپنی تفسیر بن گیا…‘‘
،،نرمی سے وہ پیچھے ہٹا…
لبوں پر ایک دھیمی مسکراہٹ اور آنکھوں میں ایک ان کہی بات تھی…
یہ احساس بہت نشہ آور ہے…
وہ مدھم سی آواز میں بولا،
پھر اس کی نگاہوں میں ایک اور رنگ ابھرا، ایک ایسی دھیمی تپش جو الفاظ سے زیادہ کہہ رہی تھی…‘‘
،،اگر تم میری دشمن کی بیٹی نہ ہوتیں تو شاید زندگی واقعی حسین ہو سکتی تھی…‘‘
عبیرا نے حیران نظروں سے اسے دیکھا،
یقین اور بے یقینی کے درمیان جھولتی ہوئی نگاہوں سے۔
،،ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟
تمہاری اور میری دشمنی تمہاری ماں کی وجہ سے ہے…
جس نے میرے اپنے سے سب کچھ چھین لیا، میری روشانے کو مجھ سے جدا کر دیا…
ورنہ شاید میں تمہارے لیے نفرت کے سوا کچھ اور بھی محسوس کر سکتا تھا…‘‘

،،تم کمال ہو، مگر افسوس… میرے لیے تم وہی ہو جو گھر کے کونے میں پڑی بےکار چیز لگتی ہے…
خوبصورت ضرور، مگر بے معنی…‘‘

عبیرا کے دل پر وہ جملے ایسے گرے جیسے کسی نے روشنی پر بوجھل اندھیرا ڈال دیا ہو…
وہ خاموش کھڑی تھی، مگر اندر کچھ ٹوٹتا جا رہا تھا…
نفرت، دکھ، اور خود سے بےزاری کا ایک طوفان اٹھ رہا تھا… “اپنی توہین محسوس کرتے ہوئے، عبیرا کی آنکھوں سے آنسو کناروں تک بھر آئے اور پھر خاموشی سے گالوں پر پھسلنے لگے۔”
“برا لگا؟ چچ چچ چچ… آنسو آگئے؟”
آریان خان نے انگلی کے پورے سے عبیرا کے گال پر بہتا آنسو چھوا، پھر ہونٹوں کو ذرا سا باہر نکالتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا…
اس کے چہرے پر نہ نرمی تھی نہ ہمدردی، صرف وہی پرانا غرور، جیسے کسی کمزور وجود کی ٹوٹتی ہمت پر اسے افسوس نہیں، تفریح ہو۔

عبیرا نے نظریں ہٹا لیں، رخ موڑ لیا۔
دل چاہ رہا تھا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں چھپ جائے۔

“ایسی گستاخی دوبارہ مت کرنا… جب تک میں چاہوں، جتنی دیر چاہوں، میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا پڑے گا… یہ آریان خان کا حکم ہے…”
اس نے اس کا چہرہ اپنی مضبوط گرفت میں لیتے ہوئے زبردستی اپنی طرف کیا۔

آریان خان کی آنکھوں میں سرد لو تھی، ایسی جو انسان کو جلا نہ دے مگر راکھ ضرور کر دے…عبیرا کی پلکیں لرزیں، دل تیزی سے دھڑکنے لگا، مگر وہ خاموش رہی۔
آریان کے لبوں پر ایک ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ ابھری، جیسے وہ اپنے حکم کے اثر سے پوری طرح واقف ہو۔
کسی اکیلی لڑکی کو قید کر کے اپنوں سے دور رکھنا، اسے مجبور کر کے اپنی بات منوانا بہادری نہیں، کمزوری ہے۔اس کے آنسوؤں کی لرزش میں اس کا غصہ، اس کا دکھ، سب صاف جھلک رہا تھا۔

“اچھا … اور کسی کا گھر توڑ کر، کسی کے شوہر پر اپنا حق جمانا، کسی کا گھر چھین کر اپنی حکومت قائم کرنا… کیا یہ بہادری ہے؟
آریان کے لہجے میں ایسی سختی تھی کہ محسوس ہوتا تھا وہ اپنے الفاظوں کی آگ سے مجھے جلا کر خاک کر دے گا۔ آنکھیں تیز سرخی مائل ہونے لگیں،
میں خدا کی قسم نہیں جانتی کہ آپ مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہیں۔۔
میں نہیں جانتی کہ آخر میرے ماں باپ نے کیا کیا تھا۔۔ میں نہیں جانتی کہ آپ کی ان سے کیا دشمنی ہے۔۔
آواز میں بے بسی تھی، سچائی کی تھرتھراہٹ تھی۔
اسے واقعی کچھ معلوم نہیں تھا ۔ مگر یہ بات آریان کو کون سمجھاتا۔

“اتنی بچی تو نہیں کہ سب بتانے پر بھی تمہیں سمجھ نہیں آئی۔۔۔”
آواز میں طنز اور ٹھہراؤ کا زہر گھلا ہوا تھا۔
“اچھی طرح سے سمجھا چکا ہوں کہ تم اپنے ماں باپ کی غلطی کی سزا بھگت رہی ہو۔۔۔”
وہ اس کے دونوں اطراف میں ہاتھ رکھے چہرہ قریب جھکائے کھڑا تھا۔
خوف کے مارے عبیرا کی جان لبوں تک آ گئی تھی، سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔وہ اتنا قریب تھا کہ اس کی سانسوں کی حرارت بھی عبیرہ کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔
آریان خان نے اس کے آنسوؤں کو دیکھ کر ایک لمحے کو نظریں چرائیں۔۔۔
مگر اگلے ہی پل وہی سرد لہجہ، وہی سختی واپس آگئی۔۔۔
عبیرہ کے لرزتے ہوئے ہونٹ، کپکپاتے ہاتھ، اور آنکھوں کی نمی جیسے خاموشی سے فریاد کر رہی تھی۔۔۔
مگر آریان خان کا دل، جیسے پتھر پر ضرب لگانے سے بھی نہ پگھلے۔۔۔
“رو لو عبیرہ… جتنا دل چاہے رو لو… لیکن یاد رکھنا، تمہارے آنسو میرے فیصلے کو نہیں بدل سکتے۔سزا تو اب تمہیں پوری زندگی ملے گی ۔”
آریان خان کے لبوں سے نکلے یہ الفاظ سرد تھے، مگر لہجے میں کہیں نہ کہیں دبی ہوئی وہ چنگاری تھی…
جو دکھ سے زیادہ اپنے اندر کے طوفان کو چھپانے کے لیے بھڑک رہی تھی۔۔۔
عبیرہ… تھکے ہوئے لہجے میں کہہ رہی تھی،

“جانتی ہوں آپ میرا یقین نہیں کریں گے، مگر میں سچ کہہ رہی ہوں، مجھے نہیں پتا بابا نے ماما سے دوسری شادی کیوں کی… میں نہیں جانتی کہ غلطی کس کی تھی، مگر اتنا جانتی ہوں کہ کچھ بھی کہہ دوں… آپ میرا یقین کبھی نہیں کریں گے۔۔۔”
رونے سے عبیرہ کی آنکھیں اور بھی حسین لگ رہی تھیں، گھنی پلکوں میں اٹکے شبنمی قطرے جیسے کسی نایاب گوہر کی طرح چمک رہے تھے…
لمحہ بھر کے لیے آریان خان کی نظریں اُس کی پلکوں پر جا ٹھہریں۔۔۔
جیسے وہ اپنے اندر کے طوفان کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو…
چہرے پر ضبط کی لکیر اور آنکھوں میں وہی الجھا ہوا سا سکوت تھا۔۔۔

آریان خان … نگاہوں میں وہی جلتی ہوئی آگ، آواز میں بھاری ٹھہراؤ لیے بولا۔۔۔

“کیوں… کیوں میں یقین نہیں کروں گا؟
میں کوئی اتنا سنگ دل تو نہیں کہ سچ کو جھٹلا دوں… مجھے معلوم ہے کہ تم اپنے ماں باپ کے ماضی سے بے خبر ہو۔۔۔
آخر کون ماں باپ اپنی اولاد کو اپنے گناہوں کی داستان سناتے ہیں…”
وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آتا گیا، لہجہ نرم ہوا مگر آنکھوں میں طوفان مچل رہا تھا۔
“میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس سب میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے… مگر پھر بھی تم سزا کی مستحق ہو، کیونکہ تم ان عورت اور مرد کی اولاد ہو جن کی وجہ سے میری روشانے نے… میری بے قصور روشانے نے… کتنی راتیں رو رو کر گزاریں۔۔۔
میں نے اپنی روشانے کو تڑپتے، سسکتے، بکھرتے دیکھا ہے…”
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، سانس بھاری ہو گئی، آنکھوں کے کنارے سرخ پڑ گئے۔

“تم ان دو لوگوں کی جان ہو جو سزا کے لائق ہیں…
جب تک ان کی جان کو اذیت نہیں پہنچے گی، وہ تڑپیں گے نہیں…
اور جب تک وہ تڑپیں گے نہیں، میری روشانے کا بدلہ پورا نہیں ہو سکتا۔۔۔
اور جب تک میری روشانے کو سکون نہیں ملے گا…”
وہ گہری سانس لے کر لمحہ بھر کو آنکھیں بند کرتا ہے، پھر سرد لہجے میں بولا۔۔۔

“تب تک آریان خان اپنی زندگی میں خوش نہیں رہ سکتا۔۔۔
اور خوشی حاصل کرنے کے لیے… آریان خان کسی بھی حد تک جا سکتا ہے…”
آخری جملہ کچن کی در و دیوار میں بارود کی طرح پھیلا،
عبیرہ کی سانس رُک گئی… ہر لفظ میں دہشت تھی دھمکی تھی، آریان خان کی آواز کی بات کچھ لمحوں کا ، فضا میں ایک بھیانک سکوت چھا گیا۔۔۔

“پلیز… سمجھنے کی کوشش کریں، میری تو کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔عبیرہ ، روتی ہوئی، کپکپاتے لہجے میں بولی…
میں نے تو کچھ نہیں کیا… آپ مجھے جانے دیں، میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔
مجھے اپنوں سے دور نہیں جانا، پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔
میں جانتی ہوں، آپ… آپ مجھے کہیں دور لے جانے والے ہیں…”
اس کے الفاظ لرزتے ہوئے فضا میں بکھر گئے۔۔۔
چہرہ آنسوؤں سے تر، پلکیں بوجھل،
دل کی ہر دھڑکن جیسے کسی ان دیکھے عذاب کا اعلان کر رہی تھی۔۔۔ خاموشی میں صرف اس کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔۔۔
اور آریان خان… وہ بس اسے دیکھ رہا تھا، جیسے اس کی بے بسی بھی سزا کا حصہ تھا۔
آریان خان نے اپنے لبوں پر ایک سرد مسکراہٹ سجائی،
چہرے پر وہی سنجیدگی، آنکھوں میں ٹھہرا ہوا غرور۔
“تمہارا نصیب تو اب میں ہوں… قبول کر لو تو سزا بھگتنے میں آسانی ہوگی۔
اور رہی بات تمہارے جاننے کی، تو بہت اچھا ہے،
میں کوئی ایسا مرد نہیں جو تمہیں بے ہوش کر کے لے جائے۔

نہیں، عبیرا… میں تمہیں پورے ہوش و حواس کے ساتھ
اپنے ساتھ ملک سے باہر لے کر جاؤں گا۔
اور اگر کسی چالاکی کی کوشش کی، تو یاد رکھنا…
مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا، نظروں میں خطرناک چمک ابھری،
لہجے میں زہر گھلا ہوا وقار تھا۔

“اور جہاں تک جانے کی بات ہے…
تو وہ سوچ دل سے نکال دو۔
اب تم میری قید سے صرف ایک صورت میں رہائی پا سکتی ہو…”
وہ ذرا سا اور جھکا،
لہجہ سرگوشی میں بدل گیا۔

“مرنے کے بعد۔”
عبیرا کے لب لرزے، سانس رک گئی،
اور آریان خان کے چہرے پر
ایک ناقابلِ فہم اطمینان تیر گیا۔

،، میں بھاگ جاؤں گی…
وہ بچوں جیسی دھمکی دے رہی تھی…
آریان خان کے ہونٹوں پر تنزیہ سی مسکراہٹ پھیل گئی…

،، کوشش کر کے دیکھ لینا… منہ کے بل گر جاؤ گی…،،

،، آپ زیادہ دنوں تک مجھے قید نہیں رکھ سکیں گے… میرے بابا مجھے ڈھونڈتے ہوئے پہنچ جائیں گے… اس کے بعد آپ کا وہ حشر ہوگا جو آپ زندگی بھر یاد رکھیں گے…،،
،، او مائی گاڈ… میں تو ڈر گیا…،،
وہ ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا ہوا،اس کا مذاق اڑاتے ہوئے، دور ہو گیا…

“ویسے کس باپ کی دھمکی دے رہی ہو… وہ جو… تمہارا سگا باپ ہے ہی نہیں۔
آریان نے سیدھا اس کے دل پر چوٹ کی تھی… وہ جانتا تھا اب عبیرہ تڑپے گی کیونکہ عبیرہ اس سچائی سے بالکل انجان تھی۔
“آریان خان… خبردار… اگر کوئی گھٹیا مذاق کیا تو… وہ میرے بابا ہیں، سمجھے؟

“اوئے ہوئے ہوئے… کیسے تڑپ اٹھی ہو…وہ شیطانی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اسے دیکھ رہا تھا…مگر ڈارلنگ، تمہارے تڑپنے سے سچائی بدل نہیں سکتی…وہ تمہارا سگا باپ نہیں ہے… اب تمہاری مرضی کہ… تم اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کتنی دیر لگاتی ہو۔
” جھوٹ مت بولو! وہ میرے سگے بابا ہیں، اپنا بدلہ نکالنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہو ۔ اور میں کبھی بھی اس بکواس پر یقین نہیں کروں گی جس میں رتی برابر بھی سچائی نہیں ہے۔
میرا سارا بچپن اپنے بابا کی گود میں کھیلتی گزرا تھا… کیسے مان لوں کہ وہ مجھ سے بے حد پیار کرنے والا میرا سگا باپ نہیں۔
وہ اتنے غصے سے بول رہی تھی کہ اگر اس کے بس میں ہوتا تو اس وقت وہ سامنے کھڑے شخص کی جان لے لیتی، مگر بس اس کے بس میں نہیں تھا۔کیونکہ وہ اس شخص کے رحم و کرم پر تھی… مگر اس وقت وہ نہ ڈر ہو کر یہ سب بول رہی تھی کیونکہ بات اس کے بابا اور اس کی محبت پر آن پہنچی تھی۔

وہ جانتا تھا، وہ بغیر ثبوت کے نہیں مانے گی۔
آریان نے ایک نظر اس پر ڈالی…
“چلو، دکھاتا ہوں تمہیں ثبوت۔”

وہ کچھ سمجھتی، اس سے پہلے اس کا ہاتھ اس کی کمر پر تھا۔
عبیرہ چونکی۔
“دور رہیں مجھ سے، یہ کیا بےہودگی ہے؟”
آریان کے چہرے پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی، مگر آنکھوں میں سردی تھی۔
“شٹ اپ… یہ بےہودگی نہیں ہے۔ تم خود کہتی ہو نا، تمہیں یقین نہیں آتا؟
تو آؤ، یقین دلا دیتا ہوں۔”

وہ صوفے پر بٹھائی گئی تھی… جیسے قیدی کرسی پر۔
لیپ ٹاپ آن ہوا۔
سکرین پر چند فائلیں کھلیں…جن کو دیکھنا اس وقت اس کی مجبوری تھی کیونکہ زبردستی اسے لیپ ٹاپ کے سامنے بٹھایا گیا تھا۔
“یہ دیکھو، یہ تمہاری ماں کی اکیس سال پرانی رپورٹ ہے۔۔۔”
آریان خان نے فائل میز پر پھینکی، لہجے میں وہی بےرحم سکون تھا۔
“صاف صاف لکھا ہے کہ وہ پریگننٹ تھی۔۔۔ اور یہ رہا تمہارے ماں باپ کا نکاح نامہ۔۔۔ دونوں کو مِلا کر دیکھ لو، سب سچ خود سامنے آ جائے گا۔۔۔”

وہ نظر جمائے اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔
“پریگنینسی رپورٹ کے مطابق نکاح ایک سال بعد ہوا تھا۔۔۔ اب یا تو تمہاری ماں اور باپ کے پہلے سے ناجائز تعلقات تھے، یا پھر۔۔۔ تم کسی اور کی ناجائز یا جائز اولاد ہو۔۔۔ میں اس پر کوئی فیصلہ نہیں دیتا، فیصلہ تم خود کر لو۔۔۔”

رپورٹ اور نکاح نامے کو دیکھتے ہی عبیرہ کے اندر جیسے کسی نے سانس روک دی ہو۔
دل ٹوٹنے کی آواز اگر سنائی دیتی تو شاید کمرے میں گونج اٹھتی۔۔۔
وہ تبریز خان کی بیٹی نہیں؟
جس کی گود میں اس نے بچپن گزارا، جس کی ہنسی پہ وہ پلتی رہی، جس کے لمس سے محفوظ تھی۔۔۔
اچانک یہ جاننا کہ وہ اس کا باپ ہی نہیں۔۔۔ بیٹی کے لیے موت سے کم نہیں تھا۔
آریان ایک کے بعد ایک ثبوت رکھتا جا رہا تھا۔۔۔ہر فائل، ہر کاغذ، ہر لائن میں وہ زہر گھلا ہوا تھا جسے جھٹلانا اب ناممکن تھا۔
برَتھ سرٹیفیکیٹ سے لے کر نکاح نامے تک، ہر نشان یہی کہہ رہا تھا کہ عبیرہ تبریز خان کی سگّی بیٹی نہیں۔

عبیرہ کی آنکھوں سے بہتے آنسو دامن میں گرنے لگے۔ دنیا میں سب کچھ رک گیا تھا، بس ایک سچ چل رہا تھا۔۔۔جو اس کے وجود کو مٹا رہا تھا۔۔۔

“عبیرا ڈارلنگ، رونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ میں ہوں تمہارے ساتھ،”
آریان خان کے لبوں پر ایک سرد مسکراہٹ تھی،
“تمہارا شوہر ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا… سزا بن کر۔۔۔”
اس کے الفاظ میں نرمی نہیں بلکہ زہر میں گھلاتی ہوئی تسکین تھی۔
عبیرا کی ٹوٹی ہوئی سانسوں، لرزتی پلکوں اور بکھرے وجود کو دیکھ کر
آریان خان کے دل میں سالوں سے سلگتی ہوئی آگ کو جیسے سکون مل گیا ہو۔۔۔
ایک سفاک سا اطمینان، جیسے اب اس کا بدلہ پورا ہونے جارہا تھا۔۔۔
کمرے کی فضا میں صرف اس کی مدھم سسکیاں
اور آریان کے دل کی خاموش، فاتح دھڑکن باقی تھی۔۔۔
“اگر اب یقین آ گیا ہے تو پھر یہ ماتم ختم کرو” وہ سفاکی سے بولا تھا۔۔۔

“ایک ہی بار مار دیں، آپ کے دل کو تسکین مل جائے گی اور میری جان چھوٹ جائے گی… میں جینا ہی نہیں چاہتی۔۔۔”

“نہ عبیرا ڈارلنگ، کیسے ایک ہی بار مار دوں گا؟ تو پھر میرا بدلہ کیسے پورا ہوگا؟ جبکہ میری روشانے ہر دن، ہر رات اپنے گھر کے ٹوٹنے پر تڑپتی رہی ہے، رو رو کر جاگتی رہی ہے۔ تو کیا تمہاری سزا اتنی آسانی سے ختم کر دوں؟”

اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے تنز زدہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ “میری طرف سے ایک فری مشورہ ہے، رونا دھونا بند کرو، اور تیار ہو جاؤ… ہمیشہ کے لیے میرے ساتھ درد کے سفر میں ہمسفر بننے کے لیے۔۔۔”

“تمہارے ڈریسز آ چکے ہیں، جلدی سے ریڈی ہو جاؤ، فلائٹ کا وقت ہونے والا ہے۔”
وہ اس کی بے بسی، اس کے رونے کا مذاق اڑا رہا تھا۔ مگر وہ… خاموش تھی۔ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ نہ الفاظ، نہ ہمت، نہ احساس۔ وہ جیسے لمحہ بھر کو پتھر کی مورت بن گئی تھی۔

“پتھر بننے سے کچھ نہیں ہوگا…”
اس نے اس کے سامنے ہاتھ لہرا کر چٹکی بجائی۔
“جلدی سے تیار ہو جاؤ، مجھے نہیں لگتا کہ اب تم ایسی پوزیشن میں ہو کہ میرے ساتھ بحث کر سکو۔ اور ویسے بھی… مجھے بحث کرنے والی عورتیں پسند نہیں۔ تم تو بغیر بحث کے بھی ناپسند ہو، بحث کرو گی تو اور بری لگو گی…”

وہ تھوڑا رکا، پھر زہر میں بجھے لہجے میں بولا،
“اور اگر اس سے بھی زیادہ بری لگو گی تو سزا دوں گا۔ اور تم برداشت نہیں کر سکو گی، کیونکہ تم تو پہلے ہی اپنی حالت کافی خراب کر چکی ہو۔ تم پہلے ہی قابلِ رحم لگ رہی ہو، مگر افسوس… پھر بھی مجھے تم پر رحم نہیں آ رہا۔ بہتر ہے اٹھو اور تیار ہو جاؤ۔۔۔”

وہ ایک ساتھ سب کچھ کہہ گیا، جیسے دل میں سالوں سے جمع غصہ الفاظ کی صورت نکل رہا ہو۔

عبیرا خاموش رہی… کچھ کہنے کو نہیں تھا۔ خالی نظریں، خالی دماغ، زخمی دل لیے وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر پلکیں جھپک گئی۔

“ڈریسنگ روم میں تمہاری ضرورت کا سامان رکھوا دیا ہے۔ اچھے سے تیار ہو جاؤ۔ بے حال حالت میں میرے ساتھ مت چلنا۔ نام کی صحیح مگر بیوی ہو میری…”
اس نے تیز لہجے میں آخری حکم دیا،
“اور ہاں، گاؤن پہن کر حجاب اور نقاب لگا لینا۔۔۔”
پہلے تو وہ خاموش رہی…
مگر پھر دل میں اٹھتا سوال زبان کے رستے نکل ہی آیا۔

“ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
ویران نظروں سے خلا میں دیکھتے ہوئے اس نے مدھم آواز میں پوچھا۔

آریان خان کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔
“ویسے تو میں تمہیں بتانے کا پابند نہیں ہوں، مگر چلو، تمہاری معصومیت پر ترس آ ہی گیا۔ بتا دیتا ہوں تاکہ یاد رکھو… ڈارلنگ، تمہیں ہنی مون کے لیے سکاٹ لینڈ لے کر جا رہا ہوں۔”

وہ اپنی بات پر خود ہی ہنسا، آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔
“دیکھو نا، کتنا رومینٹک ملک ہے… ایسا دشمن کہاں ملے گا جو تمہیں سزا دینے کے لیے اتنے حسین مقام پر لے جائے؟ آخر آریان خان ہوں میں، میری سزائیں بھی قیمتی ہوتی ہیں اور مہنگی بھی… سستی چیزیں اور سستے شوق مجھے کبھی پسند نہیں رہے۔۔۔”

عبیرا کے ہونٹ ہلے، مگر لفظوں نے اس کا ساتھ نہ دیا۔ وہ خاموشی سے اٹھی، قدم جیسے زمین پر نہیں دل پر رکھ رہی ہو، اور ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔

آریان خان نے ایک نظر اس کے کمزور اور ڈگمگاتے قدموں پر ڈالی، پھر نظریں اٹھا کر ہلکا سا زیرِ لب تبسم کیا۔
“بیچاری… ابھی تو سفر شروع ہوا ہے۔”

آریان خان کے لیے سکاٹ لینڈ جانا کوئی نئی بات نہیں تھی۔
اس کے بزنس کا بڑا حصہ وہیں تھا، مگر اس بار وہ محض بزنس کے لیے نہیں جا رہا تھا۔
اب کی بار اس کے ساتھ ایک سزا تھی، ایک کہانی تھی، ایک قیدی تھی۔۔۔

عبیرا کے کاغذات اس نے راتوں رات تیار کروائے تھے۔ وہ تو خود وہاں برسوں سے آتا جاتا تھا، مگر اس کے لیے… یہ سب کچھ پل بھر میں ممکن کر دیا۔
آریان خان چاہتا تو یہی تھا، کہ سب کچھ اسی کی مرضی سے ہو، اسی کے ہاتھوں میں رہے۔

سچ تو یہ تھا کہ آریان خان کے ارادے صرف ایک بدلے تک محدود نہیں تھے۔
وہ خود نہیں جانتا تھا کہ آگے وقت کیا رنگ دکھائے گا…
مگر اتنا ضرور طے تھا کہ اس سفر کے بعد کسی کی زندگی ویسی نہیں رہے گی جیسی تھی۔۔۔کمرے میں پھیلی ہوا میں ایک عجب سا بوجھ تھا… جیسے قسمت خود اپنا فیصلہ لکھنے جا رہی ہو۔
═══════❖═══════
پولیس اسٹیشن کی مدھم روشنی میں، فائلوں کا بوجھ لیے ہوا رک سی گئی تھی۔
ڈی ایس پی یارم خان کی کرسی چرچرائی، جیسے وہ بھی ان کے غصے سے خائف ہو۔

“مجھے نہیں پتا، بس ہر حال میں آریان خان کا بائیو ڈیٹا چاہیے…”
یارم کی آواز میں ایسا جلال تھا کہ دیواروں پر ٹنگی گھڑیاں بھی پل بھر کو رک گئیں۔

کمرے میں بیٹھا ہر اہلکار سہم کر ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگا۔
یارم خان اپنے عملے کے لیے نرم دل افسر تھا، مگر جب وہ دھاڑتا تو اس کی گونج کسی شیر کے حملے سے کم نہ ہوتی۔

“سر…” ایک جونئیر نے ہچکچاتے ہوئے کہا،
“ہم کیا کریں… وہ شخص عام مجرم نہیں ہے، بہت چالاک… بہت شاطر۔
ہر اکاؤنٹ، ہر فائل، ہر لنک پر خفیہ پاسورڈ لگا رکھا ہے،
اور وہ پاسورڈ، سر، کسی عام دماغ کا بنایا ہوا نہیں۔”
یارم خان نے بھنویں سکیڑیں،
“تم لوگ کیا کہنا چاہتے ہو، کہ ایک مجرم تم سب سے زیادہ ذہین ہے؟”
اس کی آواز برف میں ڈوبا ہوا فولاد لگ رہی تھی۔
کمپیوٹر اسکرین کی روشنی یارم کے چہرے پر پڑی،
اور اس کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا ۔
ایک ایسا سایہ جو انتقام نہیں، کسی بڑے راز کی خوشبو دے رہا تھا۔

,,تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک شخص ہمارے پورے پولیس ڈیپارٹمنٹ پر بھاری پڑ رہا ہے… تو لعنت ہے ہماری کوشش پر، ہماری ٹریننگ پر کہ ہم سب یکجا ہو کر بھی اس ایک شخص کو ہرا نہیں پا رہے۔۔۔

,, سر، ایسا نہیں ہے… آپ ہمیں تھوڑا سا ٹائم دیں، انشاءاللہ ہم اس تک پہنچ جائیں گے۔
,, کتنا ٹائم؟ بولو کتنا ٹائم چاہیے میری ہونہار ٹیم کو؟
(یارم غصے سے، لال چہرہ لیے، دونوں ہاتھ کمر پر باندھے، پاؤں ایک دوسرے سے دوری پر رکھے، رعب دار انداز سے کھڑس تھا)
,, سر… ہم شرمندہ ہیں…
(آفیسر نے نظر جھکائی، شرمندگی سے کہا)

“مجھے شرمندگی نہیں چاہیے، مجھے آریان خان کے بارے میں سب ثبوت چاہیے… وہ کہاں ہے، کیا کر رہا ہے، پل پل کی مجھے رپورٹ ہونی چاہیے…جلد از جلد وہ ہماری کسٹڈی میں ہونا چاہیے۔۔۔

,, جی سر… انشاءاللہ بہت جلد آپ کو آریان خان کے بارے میں ساری تفصیل پیش کر دوں گا۔ دیری کے لیے معذرت خواہ ہوں۔۔۔
“ہمم… ٹھیک ہے، آپ جا سکتے ہیں۔۔۔

اشارہ ملتے ہی انسپکٹر نے فائلیں سمیٹیں، باقی ٹیم نظریں جھکائے سلام کر کے باہر نکل گئی۔
کمرے میں اب صرف وہ رہ گیا تھا، خاموشی اتنی گہری تھی کہ گھڑی کی ٹک ٹک بھی تیز سنائی دینے لگی۔
میز پر بکھری فائلوں پر ایک نگاہ ڈالی، پھر کرسی سے ٹیک لگا کر گہرا سانس لیا۔
آنکھوں میں عجیب سی سختی تھی، جیسے فیصلہ کر چکا ہو کہ اب کھیل بس ہونا ہی چاہیے۔۔۔
اے اللہ… اس عزت کی حفاظت کرنا۔۔۔
کاش اُس دن راستے بند نہ ہوتے، کاش میں ٹریفک میں یوں نہ پھنستا۔۔۔
اگر میں وقت پر پہنچ جاتا، تو آج یہ سب کچھ نہ ہوتا، وہ میرے پاس ہوتی، میرے حصے کا سکون بن کر۔۔۔

کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے، آنکھیں موندے، وہ دونوں انگلیوں سے کنپٹیاں سہلا رہا تھا۔
آنکھوں کے پیچھے دھندلے مناظر تھے، چیختی آوازیں، بکھرتے خواب۔۔۔
اور ان سب کے بیچ صرف ایک خیال ۔
“اگر میں وقت پر پہنچ جاتا۔۔۔”

کمرے کی خاموشی میں گھڑی کی ہر ٹِک دل پر چوٹ کی طرح لگ رہی تھی۔
تقدیر جیسے طنزیہ انداز میں کہہ رہی تھی تمہاری تھوڑی سی دیر نے تمہاری محبت کو تم سے اتنا دور کر دیا۔۔۔

“وہ گھٹیا انسان، نہ جانے کیسی بری نظریں اس پر ڈالے ہوئے ہوگا۔
یہ سوچتے ہی دل میں ایک تڑپ اٹھی، سانسیں بھاری ہو گئیں، اور سینہ جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔

بہت مشکل ہوتا ہے…
اپنی محبت کو، اپنی پہلی محبت کو کسی اور کی قید میں دیکھنا۔۔۔بہت تکلیف دہ ہوتی ہے… ایسی محبت جو لفظوں کے بغیر ہو،
جس میں فریاد نہ ہو، شکایت نہ ہو،
بس خاموشی ہو… اور خاموشی کے پیچھے ایک چیخ جو صرف دل سن سکے۔۔
═══════❖═══════
” ہمیشہ اس لڑکے کے دماغ اس کی منفی سوچ سے مجھے ڈر لگتا تھا۔افضل خان کی آواز غصے سے گرج رہی تھی۔ اپنے بیٹے کی کرتیں پہنچی تو ان کا غصہ آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔اور اس وقت وہ اپنی بہن پر بھی بہت زیادہ غصہ تھے۔
“روشانے… تمہیں میری سمجھ نہیں آئی؟”
افضل خان کی آواز غصے سے لرز رہی تھی، جیسے ہر لفظ کے ساتھ برسوں کا ضبط پگھلتا جا رہا ہو۔
“اس کو فون ملاؤ… میں جانتا ہوں وہ تمہارا فون ضرور اٹھائے گا۔ میری بات کرواؤ اس سے۔ ہماری بھی سوسائٹی میں کوئی عزت ہے… اور اس لڑکے کی وجہ سے وہ عزت مٹی میں مل رہی ہے!”

روشانے کے چہرے کا رنگ اڑ گیا،ٹھیک ویسے جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو، آنکھوں میں خوف اور بےبسی تھی۔ وہ ہچکچاتے ہوئے بولی،
“لالا… آپ فضول میں مجھ پر غصہ کر رہے ہیں…”
“میں اس سے کیسے بات کروں؟ اس کا نمبر بند ہے، اور بند نمبر پر کال کیسے کروں؟”
اس کی آواز تھرتھرا رہی تھی، جیسے الفاظ بھی اس کے ساتھ کانپ رہے ہوں۔انسان جتنا بھی شاطر ہو،
اپنے کسی گہرے رشتے سے جھوٹ بولتے ہوئے، کہیں نہ کہیں دل کی گہرائی میں ایک گھبراہٹ ضرور جاگ اٹھتی ہے…
ایسی گھبراہٹ جو لفظوں کے پیچھے چھپ کر بھی چپ نہیں رہتی۔

اسی لمحے، روشانے کے لہجے کی لرزش، اس کے اندر کے راز کو بےنقاب کرنے پر تُلی ہوئی تھی۔
افضل خان کے تجربہ کار کانوں نے وہ لرزش فوراً محسوس کر لی… جیسے دل کے اندر بجنے والی ایک ایسی ہلکی سی دستک، جو چھپائے نہیں چھپتی۔
کمرے میں لمحہ بھر کے لیے خاموشی چھا گئی… صرف افضل خان کے بھاری سانسوں کی آواز گونج رہی تھی، اور روشانے کی نظریں فرش پر جمی تھیں۔

،،روشانے میں بڑی اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم دونوں اس گیم میں شامل ہو۔
وہ تمہاری بات سنتا ہے اور تمہیں اس کی ہر بات کا پتہ ہوتا ہے۔تو میں کیسے مان لوں کہ تمہیں نہیں پتہ کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔
خدا کا واسطہ ہے، اس آگ کو اب بجھ جانے دو… اس سے پہلے کہ کوئی ایسا نقصان ہو جائے جس کا کوئی ازالہ نہ ہو سکے۔
افضل خان غصے سے اپنی بہن سے بول رہا تھا، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ روشانے سب کچھ جان بوجھ کر انجان بننے کا ڈرامہ کر رہی ہے۔

،،لالا بس کردیں…،، جب میں آپ سے کہہ رہی ہوں کہ مجھے نہیں پتا آریان کہاں ہے، اس کا نمبر بند ہے، تو آپ مجھ پر یقین کیوں نہیں کر رہے…؟
اور آپ کو اس لڑکی کی اتنی فکر کیوں ہے…؟
شاید آپ بھول رہے ہیں کہ اسی لڑکی کی ماں کی وجہ سے آپ کی بہن کی زندگی تباہ ہو گئی…
آپ کی بہن کا ہنستا بستا گھر اجڑ گیا…
میرے بیٹے سے باپ کا سایہ چھین لیا اس عورت نے…
آپ شاید سب کچھ بھول چکے ہیں مگر میں کچھ بھی نہیں بھولی…
اور نہ ہی آریان نے کچھ بھلایا ہے…اصل میں تو بھائی ہونے کا حق وہ ادا کر رہا ہے…
آپ کو تو شاید اپنی بہن کے زخم نظر آنا بند ہو گئے ہیں…روشانے رو رہی تھی…،،چپ کر جاؤ روشانے، ایسا کچھ نہیں ہے…،،
آریان فون نہیں اٹھا رہا، اس لیے تمہارا لالہ غصے میں ہے… تم اپنا دل میلا مت کرو…
روشانے کی بھابھی گلناز اس کے آنسو صاف کرتی ہوئی، صوفے پر اس کے پاس بیٹھی تھی، نرمی سے اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی…

“مجھے سمجھ نہیں آ رہی لالا کو… آخر آریان پر اتنا غصہ کیوں ہے…
روشانے نے آنسوؤں میں بھیگی نگاہوں سے لالا کی سمت دیکھا، جبکہ افضل خان خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔
“سالوں بعد وہ اپنی پھوپھو کے ساتھ ہوئی ناانصافی کا بدلہ لے رہا ہے… اور لالا اسی بات پر اس سے خفا ہیں…
افسوس ہے، جو کام لالا کو خود کرنا چاہیے تھا وہ آج لالا کا بیٹا کر رہا ہے…

“سالوں پہلے تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی نے تمہارا گھر برباد کر دیا تھا۔
میں نے کتنی بار سمجھایا مگر تم نے اپنا غرور اور ضد چھوڑا نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تمہارا گھر ٹوٹ گیا۔
اب سارے الزام دوسروں پر ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم نے اپنے غصے میں اپنا ہی گھر تباہ کیا۔
اور اگر اسی راستے پر چلتی رہو تو تمہارا یہی غصہ اور ضد تمہارے بھتیجے کی زندگی بھی برباد کر دے گی۔
اس کی زندگی ابھی شروع ہوئی ہے… خدا کے واسطے اسے غلط ٹریک پر مت ڈالو۔تبریز خان کے لہجے میں برسوں کا دبا ہوا غصہ صاف جھلک رہا تھا، آنکھوں میں وہی پرانی چبھن، جو آج پھر سے جاگ اٹھی تھی۔افضل خان کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بہن کا گھر اجڑے، مگر روشانے ہمیشہ سے ضدی تھی، اپنی انا کی تسکین کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتی تھی، اور یہی سرکشی افضل خان کو ہمیشہ کھٹکتی تھی۔۔۔
“لالا، آپ ہمیشہ غصے میں دل کی بات زبان پر لے آتے ہیں… آپ کو آج بھی میں ہی غلط لگتی ہوں اور برسوں پہلے بھی میں ہی غلط لگتی تھی… یہ بات میرے لیے نئی تو نہیں مگر تکلیف دہ ضرور ہے… اور جہاں تک بات رہی کہ میرا بھتیجا میری سنتا ہے… تو یہ بات تو میں بھی کہہ سکتی ہوں کہ آپ کا بھانجا بھی تو آپ کی ہی سوچ پر چلتا ہے… آپ کے مطابق چلتا ہے… میں نے تو کبھی شکوہ نہیں کیا…”

(یہاں روشانے کے لہجے میں ایک پرانی کسک تھی، جیسے برسوں کی چپ کہ بعد لفظوں میں ڈھل رہی تھی…)
“تم اچھی طرح جانتی ہو… میں نے کبھی سارم کو غلط مشورہ نہیں دیا۔ ہمیشہ اس کو زندگی کے بہترین اصول سکھائے ہیں… تم فرق محسوس کرو، اپنی تربیت اور میری تربیت میں…”

“سارم سلجھا ہوا نیک بچہ ہے، بڑوں کا ادب کرنے والا، ہر بات کو باریکی سے سمجھنے والا، عقلمند، رشتوں کو جوڑ کر رکھنے والا… اسے صحیح اور غلط کا فرق سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی…”

“اور دوسری جانب تم نے آریان کی ایسی تربیت کی ہے کہ وہ باغی ہے… خود سر، ضدی، بالکل تمہاری طرح… اس کے لیے صرف اس کی شخصیت معنی رکھتی ہے… اسے کسی سے کوئی لینا دینا نہیں، اس نے خود کو سخت خول میں بند کر رکھا ہے، جس سے نکلنا نہیں چاہتا…”

“میں تمہاری محبت پر شک نہیں کر رہا… مگر شک ہے مجھے تمہاری تربیت پر، تم کہیں نہ کہیں کم پڑ گئی ہو آریان کی تربیت کرنے میں… وقت رہتے اگر اس کو سنبھال لیتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا…”
افضل خان کے ہر لفظ کے پیچھے ایک بھاری سوچ اور سالوں کی تلخی چھپی ہوئی تھی۔
اس کی آنکھوں میں ماضی کی سچائیاں اور حال کی سخت حقیقتیں جھلک رہی تھیں۔روشانے سے اس وقت اپنے بھائی کے سچے مگر سرد الفاظ برداشت نہیں ہو رہے تھے کیونکہ اس کے لیے تو صرف اس کی اپنی ذات ہی ٹھیک تھی باقی سب غلط۔اور اب اس بات کا وہ جواب نہ دیتی ایسا تو ہوگی نہیں سکتا تھا۔۔۔

“واہ لالا… واہ! کتنی آسانی سے آپ نے میری تربیت پر انگلی اٹھا دی… آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں آریان کو کسی غلط راستے پر لے جا سکتی ہوں؟ بیٹا ہے وہ میرا… میں اس سے سارم سے بھی زیادہ پیار کرتی ہوں…”

“اگر وہ میرے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے اس کی تربیت غلط کی… یا اس کے دماغ میں خناس بھرا ہے… بلکہ اس نے برسوں میری تکلیف دیکھی، وہی تکلیف جو آپ کو کبھی نظر نہیں آئی…”
“اس کے معصوم دماغ میں جو کچھ بچپن سے محفوظ ہوا، آج وہی اسے اپنے فیصلے کرنے پر مجبور کر رہا ہے… میں نے آریان کو کبھی نہیں کہا کہ جا کر تبریز کی ناجائز بیٹی کو اغوا کرے… یہ اس کا اپنا فیصلہ تھا…”روشانے کے لہجے میں برسوں کی قید، حسد اور جلن سب ایک ساتھ باہر آ رہے تھے۔
اس کی آواز میں آج بھی اکڑ اور انا موجود تھی، مگر وقار بھی برقرار تھا۔ وہ سب سے الگ، تھلگ اور مضبوط لگ رہی تھی، ہر لفظ اس کی صدیوں پر محیط فطرت کی جھلک دے رہا تھا۔ آج بھی وہ اپنے لیے کہیں بھی ڈٹ کر کھڑے ہونے کی ہمت رکھتی تھی۔
“خدا کے لیے روشانے… بولنے سے پہلے کبھی سوچ لیا کرو، کسی کی بیٹی کے بارے میں ایسے الفاظ نہیں بولتے۔”

تبریز خان کا لہجہ سرد تھا۔
خوفِ خدا تھا اس کے دل میں…
چاہے دشمن کی ہی کیوں نہ ہو، بیٹی بہرحال بیٹی ہوتی ہے۔
“آپ کو بھی خدا کا واسطہ ہے خان… چپ کر جائیں!”

افضل خان کی بیوی نے سرد مگر مضبوط لہجے میں کہا۔
“کیوں دونوں بہن بھائی بات کو اتنا بڑھاوا دے رہے ہیں؟ ہمیں آریان سے رابطہ کر کے اُس لڑکی کو اُس کے ماں باپ تک پہنچانا ہے، نہ کہ یہاں بیٹھ کر جھگڑا کرنا ہے…”
بات کو بڑھتا دیکھ کر وہ بے بسی سے دونوں کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوئی بولی،
“بس کریں خدا کے لیے، اب مزید شور کی نہیں، سمجھداری کی ضرورت ہے…”

“مجھے مت سمجھاؤ…”
افضل خان نے غصے سے بھرے لہجے میں ہاتھ کا اشارہ روشانے کی جانب کرتے ہوئے کہا،
“جس کو سمجھانے کی ضرورت ہے، اُس کو سمجھاؤ… اسے کہو اپنے لاڈلے سے رابطہ کرے، ہوش کے ناخن لے اور تبریز خان کی بیٹی کو واپس کرے۔”

اُس کی آواز میں لرزتی ہوئی سختی تھی۔
“مت بھولو، وہ تبریز خان ہے… بیٹی کے لیے وہ جان دے دے گا مگر پیچھے نہیں ہٹے گا۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
“سوسائٹی میں ہمارا کوئی مقام ہے یا نہیں؟” وہ بھڑکتے ہوئے بولا۔
“بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہے کہ افضل خان کے بیٹے نے ایک معصوم لڑکی کو اغوا کر لیا ہے… اب میں کس کس کو جا کر جواب دوں؟”

افضل خان کا چہرہ غصے سے سرخ تھا، رگیں ابھر آئی تھیں۔
سالوں سے وہ اپنی بہن کے اجڑے ہوئے گھر کا بوجھ دل میں دبائے خاموش تھا…
مگر آج …. آج اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔
اس کے دل کی ساری بھڑاس برسوں کی تپش روشانے کے سامنے صاف ظاہر ہو گئی تھی….

“مجھے سمجھ نہیں آتی، کیوں آپ کو دشمن داروں سے ہمدردی ہو رہی ہے۔ تڑپنے دیں تبریز خان کو، میں خود دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہ تڑپتا ہوا کیسا لگتا ہے۔

سالوں پہلے اُس نے مرد ہونے کے غرور میں مجھے گھر سے نکال دیا تھا، میرے بیٹے کے سر سے باپ کا سایہ چھین لیا تھا۔ آج وقت نے پلٹا کھایا ہے۔

آج اُس کی بیٹی میرے آریان کے پاس ہے۔ اب میں دیکھتی ہوں، کیسے آزاد کرواتا ہے وہ اپنی بیٹی کو۔

روشانے کی آواز میں غصہ بھی تھا، ضد بھی، اور وہ پرانی چبھن بھی جو وقت گزرنے کے بعد بھی کم نہیں ہوئی تھی۔
افضل خان نے روشانے کی طرف دیکھا، نگاہوں میں بے یقینی اور لہجے میں کرب تھا۔

،،روشانے،، افسوس ہے مجھے تمہاری سوچ پر…
مجھے یقین نہیں آتا تم میری بہن ہو…

میں خود ایک بیٹی کا باپ ہوں، میں کیسے کسی کی بیٹی کے ساتھ یہ سب ہوتے دیکھ سکتا ہوں…
بیٹی دشمن کی ہو یا اپنوں کی… بیٹی صرف بیٹی ہوتی ہے، عزت کی نشانی، کسی کے انتقام کا ہتھیار نہیں۔
،،یہ بات ان لوگوں نے کیوں نہیں سوچی کہ میں بھی کسی کی بیٹی ہوں، اور اب وقت ہمارا ہے، اب ہم بھی نہیں سوچیں گے… اپ بھی تھوڑا سمجھنے کی کوشش کریں ،، روشانے کے لہجے میں برسوں کی جلن اور ضد بول رہی تھی۔

،،میں تم پھوپھی بھتیجے کی طرح کم ظرف نہیں ہوں، کیا کروں۔۔۔،، افضل خان کے لہجے میں بے بسی تھی مگر آنکھوں میں غصہ بھڑک رہا تھا… آج اسے روشانے اور آریان، دونوں پر سخت غصہ تھا۔
،،ہمیں کم ظرفی کے طعنےبعد میں دیجیے گا …لالہ….پہلے یہ تو بتائیں، یہ خبر آپ تک پہنچی کیسے؟،، روشانے کے چہرے پر حیرت کے ساتھ چالاکی بھی تھی… شاطر دماغ نے فوراً رخ بدلنے کی کوشش کی، اسے اچانک احساس ہوا کہ آخر افضل خان تک یہ بات پہنچی ہی کیسے؟،،جب تم کسی کی بات نہیں سنو گی تو خبر مجھ تک تو ضرور پہنچے گی۔۔۔ آج تم سے بات کرنے کے بعد تبریز خان سیدھا میرے آفس آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ میرے بیٹے نے یہ عظیم کارنامہ سر انجام دیا ہے… قسم سے، زمین تنگ لگ رہی تھی مجھے۔۔۔،،

،،واہ… کیا بات ہے لالا، حیران کر دیا آپ نے۔۔۔ وہ آیا، آپ کے کان بھرے اور چلا گیا، اور آپ نے اپنے ہی بیٹے کے خلاف اُس شخص کی باتیں سُن لیں… واہ، کیا انصاف ہے آپ کا۔۔۔ آپ کو کل بھی وہ شخص عزیز تھا، آج بھی ہے۔۔۔ مگر مجھ سے اور آریان سے کسی نرمی کی امید مت رکھیے گا…‘‘ روشانے نے تلخ لہجے میں کہا۔

،،فی الحال تو مجھے نہیں معلوم کہ آریان کہاں ہے، اور اُس کی بیٹی کو کہاں لے کر گیا ہے۔۔۔ اور اگر معلوم بھی ہوتا نا، تب بھی نہیں بتاتی۔۔۔‘‘

یہ کہہ کر روشانے غصے میں مڑ گئی۔ قدم بھاری تھے مگر لہجہ ابھی تک تیز تھا۔ وہ بددلی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

افضل خان نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے گہرا سانس لیا۔۔۔ اس کی بیوی جلدی سے پانی کا گلاس بھر کر لائی،
افضل خان نے ایک ہی سانس میں پانی پی لیا۔۔۔ مگر اُس کا سر اب بھی جھکا ہوا تھا۔۔۔ جیسے برسوں کا بوجھ کندھوں پر اُتر آیا تھا۔
،،جب آپ کو معلوم ہے کہ وہ اپنے گھر ٹوٹنے کے بعد سخت دل ہو چکی ہے تو پھر کیوں الجھتے ہیں آپ اس سے؟‘‘ گلناس نے افضل خان کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہوئے دھیما سا کہا۔

افضل خان نے آہستہ سے سر اُٹھایا، آنکھوں میں تھکن اور دل میں بھاری پن لیے۔
،،یہ بات الجھنے کی نہیں ہے، گلناس… یہاں کسی کی بیٹی کی عزت کا سوال ہے۔ میں خود ایک بیٹی کا باپ ہوں، جانتا ہوں کہ ایک لڑکی کی عزت کتنی نازک ہوتی ہے۔۔۔‘‘
اس کے لہجے میں دکھ بھی تھا، غیرت بھی۔
،،مگر افسوس… میری اپنی بہن، ایک عورت ہو کر بھی، یہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ دشمنی نکالنے کے لیے کسی کی بیٹی کی عزت اچھالنے کی ضرورت نہیں ہوتی… سمجھاؤ جا کر اس بددماغ لڑکی کو۔۔۔‘‘
افضل خان نے سختی سے کہا اور بے بسی سے دونوں ہاتھ جوڑ لیے۔

گلناس نے آہ بھری،
،،میرے سمجھانے سے وہ کیا سمجھے گی؟ اور آپ بھی تو اس سے سخت لہجے میں بات کر رہے تھے… یہ تو سچ ہے نا، کہ اُس کا ہنستا بستا گھر جس عورت کی وجہ سے اجڑا… اُس کی بیٹی کے لیے وہ نرم گوشہ کیسے رکھ سکتی ہے…‘‘

افضل خان خاموش رہا۔
کمرے میں جیسے ایک بوجھل ہوا ٹھہر گئی تھی۔
گلناس کے الفاظ درست تھے مگر زخم پر مرہم بننے کے بجائے، وہ زخم کو مزید تازہ کر گئے تھے…
افضل خان ایک سمجھدار اور گہرے شعور رکھنے والا شخص تھا…
کچھ لمحوں کے لیے وہ خاموش ضرور ہو گیا، مگر یہ خاموشی رضامندی نہیں تھی۔
نہ وہ اپنی بیوی کی بات سے متفق تھا، نہ اپنی بہن کے اندازِ فکر سے…

وہ خود ایک بیٹی کا باپ تھا، اس لیے وہ تبریز خان کے دکھ کو دل سے محسوس کر رہا تھا۔
آخر وہ جانتا تھا کہ ایک باپ کے لیے بیٹی کی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔

کبھی وقت تھا کہ افضل خان اور تبریز خان نہ صرف رشتے دار بلکہ بہت اچھے دوست بھی تھے۔
زندگی کے کسی موڑ پر قسمت نے ایسا رخ موڑا کہ دوستی دراڑوں میں بدل گئی، رشتے کمزور پڑ گئے،
اور انا، ضد اور حالات نے ان کے درمیان ایسی دیوار کھڑی کر دی جس کے پار اب صرف پچھتاوا تھا۔

افضل خان جانتا تھا کہ روشانے کے گھر ٹوٹنے میں سب سے بڑا ہاتھ خود روشانے کا ہی تھا۔
مگر بھائی…
بھائی ہونے کی مجبوری بھی عجیب ہوتی ہے…
بہن چاہے غلط ہو، بھائی پھر بھی اس کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔
دنیا کے سامنے ڈھال بن کر، دل کے اندر سلگتے دکھ کے ساتھ۔
ایسا ہی دکھ، ایسی ہی مجبوری، آج افضل خان کے چہرے پر بھی لکھی تھی۔

سالوں پرانے زخم جیسے کسی نے پھر سے کھرچ دیے ہوں۔
آج تبریز خان کے سامنے بیٹھ کر اسے اپنے بیٹے کی حرکت پر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔
ایسی شرمندگی جو انسان کے وجود تک کو جلا دیتی ہے۔

اس نے وعدہ کیا تھا…
کہ وہ آریان سے بات کرے گا، اور تبریز خان کی بیٹی کو باعزت گھر واپس بھیج دے گا۔
مگر گھر آ کر تو معاملہ ہی بدل چکا تھا…
آریان جیسے زمین سے غائب ہو گیا تھا۔

نہ فون، نہ پیغام، نہ کوئی نشان…
سب راستے بند کر دیے تھے اس نے…
اور اب صرف خاموشی باقی تھی ۔
ایسی خاموشی جو چیخ رہی تھی۔وہکس ملک گیا ہے، یہ کوئی نہیں جانتا تھا…

آریان خان اکثر اپنے بزنس کے سلسلے میں مہینوں تک ملک سے باہر رہتا تھا…
پاکستان میں اس کے بھروسے کے لوگ اس کا کاروبار سنبھال لیتے، ہر چیز قابو میں رہتی تھی…اسی لیے آریان خان کے لیے یہاں سے نکلنا کوئی بڑی مشکل نہیں تھی۔
افضل خان کے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ وہ تبریز خان سے کیا ہوا اپنا وعدہ کیسے پورا کرے گا…
اس کی پہلی اور آخری امید روشانے تھی، مگر وہ اپنا منہ کھولنے کو تیار نہیں تھی۔

افضل خان جانتا تھا کہ اس کی بہن بہت ضدی ہے…
اور اس کا بیٹا بھی اپنی ضد میں کم نہیں…
اب وہ بیچ میں پھنس چکا تھا، راستہ نظر نہیں آ رہا تھا…وہ کیسے تبریز خان کی بیٹی کو باعزت واپس لائے …تبریز خان گہری سوچ میں ڈوبے، آنکھیں بند کیے، صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔

پاس ہی بیٹھی ہوئی گلناز فکر مند نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
وہ اپنے شوہر کو اس طرح پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی۔
نہ چاہتی تھی کہ دونوں بہن بھائی آپس میں الجھ کر ایک دوسرے سے دور ہو جائیں۔
کچھ دیر خاموش رہی، پھر نرمی سے بولی،
“خان، اگر آپ اس طرح پریشان ہو کر خود کو اذیت دیں گے تو آپ کی طبیعت خراب ہونے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ بجائے کے ہم اپس میں جھگڑا کر کے دل جلائیں، ہمیں حل ڈھونڈنا چاہیے۔ آپ آریان کے آفس یا اس کے اسٹاف سے بات کریں، مینیجر سے پوچھیں وہ کہاں گیا ہے۔”
افضل خان نے گہرا سانس لیا، ہلکی سی خفگی سے بولا،
“تمہیں کیا لگتا ہے میں نے یہ کام نہیں کیا ہوگا؟ سب سے پہلے میں نے آفس سے ہی پتہ کروایا۔ مینیجر نے بتایا سر نے کہا ہے کہ کام ہینڈ اوور کر لو، وہ کچھ دن کے لیے ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ اس کے بعد کسی کو کچھ نہیں پتا۔
اور تم اپنے بیٹے کی دماغی چالاکی سے واقف ہو، اسے ہمیشہ سب سے آگے سوچنے کی عادت ہے۔ لوگ جہاں سوچنے کا ارادہ بھی نہیں کرتے، وہ وہاں جا کر کام دکھا دیتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی میرا بیٹا اتنا شاطر کیسے ہے۔”

گلناز نے نظریں جھکا لیں۔
آخر ماں تھی، بیٹے کے بارے میں سن کر دل دکھا۔
مگر سچ تو یہی تھا۔ آریان واقعی تیز دماغ اور حاضر جواب تھا۔

“بس دعا کرو کہ کسی طرح اس کمبخت کا پتہ چل جائے کہ وہ کہاں ہے۔”
افضل خان کی آواز بھرا گئی۔
“تبریز خان جاتے ہوئے دھمکی دے گیا ہے کہ اگر اس کی بیٹی کو ایک خراش بھی آئی تو وہ قانونی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔”
افضل خان نے سوالیہ نظروں سے بیوی کو دیکھا،
“سمجھ رہی ہو نا، اگر تبریز خان کی بیٹی نہ ملی تو معاملہ کتنا بگڑ سکتا ہے؟”

گلناز نے آہستہ سے افسردہ لہجے میں نظریں پھیرتے ہوئے جواب دیا،
“سمجھ رہی ہوں سب، مگر مجھے بتائیں، مجھے غصے سے دیکھنے یا کوسنے سے کیا وہ واپس آ جائے گا؟ آپ تو ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے یہ سب میں نے کیا ہو۔ میں تو آپ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے بیٹھی ہوں، آپ تو مجھے ہی طعنے دے رہے ہیں۔”

افضل خان نے سر جھکایا،
“میں کوئی تانا نہیں دے رہا، جانتا ہوں تمہارا کوئی قصور نہیں۔ مگر روشانے کو سمجھانا ہوگا کہ آریان کا مستقبل خطرے میں ہے۔ اگر یہ بات سوشل میڈیا پر پھیل گئی تو ہمارا نام بھی بدنام ہوگا۔ نیوز والے تو ویسے ہی ایک چنگاری سے آگ بھڑکا دیتے ہیں۔ کیوں خود سے اپنی عزت ان کے ہاتھوں میں دیں؟”

“ٹھیک ہے، میں کوشش کرتی ہوں اسے سمجھانے کی۔”گلناز نے تھکی ہوئی آواز میں کہا،
پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
ابھی بات کرنا بےکار تھا۔ وقت مناسب نہیں تھا۔اسی سوچ نے گلناز کے قدم روشانے کے کمرے کی جانب نہیں جانے دیے۔۔
دوسری جانب…افضل خان نے گہری سانس لی اور سر پھر سے صوفے سے ٹکا لیا۔
کمرے میں خاموشی اتر آئی تھی۔
مگر افضل خان کے دماغ میں لمحہ بھر کے لیے گزری ہوئی دوستی اور رشتہ داری کے کچھ لمحے گردش کرنے لگے۔
انہیں سوچتے ہوئے اس نے بند آنکھوں سے بند گہری سانس لی۔
دوستی اور رشتہ داری میں ایک بات ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے…
ہم جب ان کے ٹوٹنے پر کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا،
تو دراصل خود کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔
فرق پڑتا ہے، بہت گہرا فرق…
مگر انسان مانتا نہیں، بس اندر ہی اندر ٹوٹ جاتا ہے۔مگر انسانی فطرت بھی عجب ہے…
انسان ٹوٹ کر بھی اپنی شکست ظاہر کرنے میں شرمندگی محسوس کرتا ہے۔
وہ درد سہہ لیتا ہے مگر اقرار نہیں کرتا،
زخم سینے میں رکھتا ہے مگر دنیا کے سامنے مسکرا دیتا ہے۔کتناعجیب ہے انسان۔۔۔؟
═══════❖═══════

یہ قسط ناول “صلیب سکوت” کی ایک قسط ہے، تخلیق حیات ارتضی، S.A کی۔اگلی قسط مطالعہ کرنے کے لیے، اسی ناول کی category “صلیب سکوت” ملاحظہ کریں،جہاں تمام اقساط ترتیب وار اور باقاعدگی سے دستیاب ہیں۔💡 نوٹ: ہر نئی قسط ہر اتوار شام 8:00 بجے Publish کی جائے گی۔📌 حیات ارتظی مینجمنٹ

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *