Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:14
🕯️ صلیبِ سکوت
از حیات ارتضیٰ S.A
قسط نمبر:14
═══════❖═══════
آریان خان بلیک تھری پیس سوٹ میں، سفید شرٹ اور اسی رنگ کی ٹائی لگائے، پوری طرح تیار کھڑا تھا۔
عبیرا ابھی تک ڈریسنگ روم سے باہر نہیں نکلی تھی۔
آریان نے لیپ ٹاپ کھولا، چند فائلیں دیکھیں، پھر شٹ ڈاؤن کر کے میز پر رکھا اور آہستہ قدموں سے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
“کتنی دیر ہے؟ فلائٹ کے لیے دیر ہو رہی ہے۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گیا۔۔۔
سامنے عبیرا کھڑی تھی … سکن کلر کے گاؤن میں، حجاب لپیٹے، خاموش، نرمی سے سانس لیتی ہوئی۔
وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
پاکیزہ اور معصوم سی ہستی۔۔۔ آریان خان ایک لمحے کو ساکت سا ہو گیا، جیسے وقت ٹھہر گیا ہو۔
حجاب میں لپٹا اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح دمک رہا تھا،
میک اَپ سے عاری، مگر سادگی میں بھی قہر ڈھا دینے والا۔
عبیرا کی رنگت گندمی تھی، مگر سکن کلر کے لباس میں وہ جیسے روشنی اوڑھے کھڑی ہو۔
اس کی شخصیت میں ایک الگ سا کشش تھی۔
موٹی موٹی آنکھیں، گہری پلکیں …. جب وہ پلکیں اٹھاتی، تو ان آنکھوں کی گہرائی دل کو چھو جاتی۔
آریان نے خود کے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے ڈریسنگ مرر کے قریب آ کر پرفیوم چھڑکا،
مگر نظر اب بھی آئینے کے اندر سے اس حجاب اوڑھی لڑکی پر ہی ٹھہری ہوئی تھی۔۔۔
احساس، جذبات، سوچ… ان پر پہرے لگانا مشکل ہی نہیں، ناممکن سا عمل ہے… جتنے پہرے لگاؤ، اتنا ہی دل بغاوت پر اُتر آتا ہے… مگر دل کو زبردست سمجھانے والے بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی عطیہ ہے جو رب نے ہمیں محسوس کرنے کے لیے دیا ہے، روکنے کے لیے نہیں…
پرفیوم کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے ،آریان خود کو مصروف دکھانے کی کوشش کر رہا تھا… مگر عبیرہ کو دیکھتے ہی اس کے دل کے اندر جیسے کوئی لمحہ رک گیا ہو۔
وہ غیر معمولی طور پر خاموش تھی… اتنی خاموش کہ جیسے ہر جذبہ، ہر لفظ، ہر احتجاج کہیں دفن ہو گیا ہو۔
نہ چہرے پر غصہ، نہ آنکھوں میں تاثر….صرف ایک بے رنگ سا سکون، جو شور سے زیادہ گونجتا تھا۔
آریان نے سوچا تھا، وہ اسے ٹوٹتے، بکھرتے، رو کر اپنی شکست مانتے دیکھے گا… مگر یہ خاموشی؟ یہ تو جیسے اسے آئینہ دکھا گئی تھی۔
اس خاموشی کا بوجھ وہ زیادہ دیر برداشت نہ کر سکا۔ڈریسنگ سے ٹیک لگا کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے سوال داغ۔۔
“کچھ کہنا چاہتی ہو؟”
آواز میں سختی کم تھی، تجسس زیادہ۔
“نہیں…”
ایک لفظ، مگر اتنا بھاری کہ جیسے کوئی دروازہ بند ہو گیا ہو۔
“اتنی خاموشی کی وجہ جان سکتا ہوں؟” اس نے ابرو چڑھاتے ہوئے پوچھا۔
عبیرہ کی نظریں کہیں دور تھیں۔ “آپ کو تو خوش ہونا چاہیے… میں اپنی ہار تسلیم کر چکی ہوں۔”
آریان کے ہونٹوں پر طنزیہ سی مسکراہٹ آئی۔
“احسان کرنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے وہ لوگ پسند ہیں جو آخری سانس تک لڑتے ہیں۔ ہارے ہوئے کو ہرانا تو بے معنی لگتا ہے…”
عبیرہ نے ہینڈ بیگ کی ڈوری سیدھی کی،اور اسے کاندھے پر لٹکا لیا۔۔
“میں تیار ہوں… چلیں۔ دیر ہو رہی ہے۔
ویسے بھی، بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔بابا کہتے تھے….جب قید سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہ آئے تو جھٹپٹانا فضول ہوتا ایسی جھٹپٹاہٹ سوائے تھکن کے کچھ نہیں دیتی…”
یہ کہہ کر اس نے پرس اٹھایا، آئینے میں دیکھتے ہوئے چہرہ مکمل ڈھانپا۔
آریان نے آئینے میں اس کی جھلک دیکھی۔۔۔۔اب وہ وہ عبیرہ نہیں تھی جسے وہ جانتا تھا۔
یہ عبیرہ… احساسات سے خالی نہیں تھی، بلکہ خاموشی کی ایک گہری دیوار تھی جس میں کہیں درد، کہیں رضا، اور کہیں صبر چھپا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
آریان کی نظریں لمحہ بھر کو نرم پڑیں، مگر فوراً واپس پتھر ہو گئیں۔
اس نے اپنے دل سے وعدہ کیا تھا…
“نہیں میں اس پر نرم دلی نہیں دکھا سکتا……رحم کمزور لوگوں کی لغت میں ہوتا ہے…… آریان خان کمزور نہیں ہے… میں اپنی روشانے کا حساب ہر حال میں برابر کروں گا۔
کبھی کبھی انسان بولتا نہیں، بس رک جاتا ہے۔۔۔
اور یہی رک جانا، کسی بھی طاقتور کے لیے سب سے بڑا جواب بن جاتا ہے۔۔۔
کیونکہ صبر ہمیشہ کمزور نہیں ہوتا، کبھی کبھی یہ رب کی عدالت میں دی گئی خاموش التجا بھی ہوتی ہے۔۔۔
دونوں ایک ساتھ ڈریسنگ روم سے باہر نکلے تھے، زندگی کے ایک نئے سفر کے لیے۔۔۔
قدموں کی چاپ میں نہ امید تھی نہ یقین، بس ایک خاموش آغاز تھا، جس کا انجام شاید رب کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
اب یہ سفر کیوں اور کس کے لیے تھا، کتنا تکلیف دہ ثابت ہوگا۔۔۔ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
بس وقت کے سینے پر ایک لمحہ ٹھہر گیا تھا… جیسے کہانی نے خود میں سانس روک لی ہو۔۔۔
═══════❖═══════
تم میرے خلاف جا کر اُس لڑکی سے مل کر آئے ہو۔۔۔
وہ بھی اُس کے گھر جا کر۔۔۔
یہ ہے میری بات کی وقعت۔۔۔ یہ ہے میری عزت۔۔۔؟
جب میں نے منع کیا تھا، تو پھر کیوں گئے تم۔۔۔؟
’’بابا… پلیز، ایک بار آپ بیٹھ کر آرام سے میری بات سن لیں۔۔۔
میں آپ کو سب بتادوں گا کہ میں عروب آپی سے ملنے اُس کے گھر کیوں گیا تھا۔۔۔‘‘
یارم کے لہجے میں محبت، احترام اور ایک خاموش التجا صاف سنائی دے رہی تھی۔۔۔
“یارم! تمہاری کوئی بھی دلیل تمہیں صحیح اور مجھے غلط ثابت نہیں کر سکتی۔‘‘
باسق خان کے لہجے میں وہ سختی تھی جو بہت کم موقعوں پر نظر آتی تھی۔۔۔
مگر آج، اُس کا غصہ آسمان چھو رہا تھا۔
کیونکہ باسق خان کو پتہ چل گیا تھا کہ یارم اُس کے سخت منع کرنے کے باوجود عروب کے گھر گیا تھا… اور اس سے مل کر آیا تھا۔
یہ بات وہ کسی طور برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔
“سوری بابا… میں جانتا ہوں آپ کا غصہ بالکل ٹھیک ہے۔
میں کبھی آپ کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا…
پلیز، ایک بار میری بات تو سن لیں۔”
یارم نے آگے بڑھ کر اپنے بابا کا ہاتھ تھامنا چاہا تھا، مگر انہوں نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔۔
’’یارم! مجھ سے دور رہو۔۔۔ ہاتھ مت لگانا مجھے… اس وقت نہیں جانتا کہ میں کیا کر جاؤں گا۔۔۔‘‘
جیسے ہی یارم ایک قدم اور آگے بڑھا، باسق خان نے ہاتھ اٹھا کر ہوا میں لہراتے ہوئے اُسے رک جانے کا اشارہ کیا۔
’’بابا پلیز، آپ اتنا غصہ مت کریں… آپ کا بی پی شوٹ کر جائے گا۔ ایک بار معاف کر دیں، غلطی ہو گئی۔۔۔‘‘
’’اگر یہ صرف غلطی ہوتی، تو میں معاف کر دیتا…مگر یہ غلطی نہیں، یارم… یہ تمہارے دل کی بغاوت تھی، اور تم نے اُسے پورا کر لیا۔
اب معافی مت مانگو۔‘‘
باسق خان کو غصہ بہت کم آتا تھا، مگر جب آتا… تو طوفان لے آتا۔ اُس کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھ جاتا تھا، یہاں تک کہ اسپتال میں داخل کرانا پڑتا۔
پہلی بار اُس کا بی پی تب شوٹ ہوا تھا، جب عروب گھر سے بھاگی تھی۔۔۔
اور آج، کافی عرصے بعد، یارم کو وہی پرانا خوف پھر سے گھیرنے لگا تھا…کہ کہیں بابا کی طبیعت بگڑ نہ جائے۔
اب تو عمر بھی ہو چکی تھی، دل کے دورے کا خطرہ الگ۔
جان بستی تھی یارم کی اپنے بابا میں…
وہ صرف اُس کا باپ نہیں، اُس کا سب سے اچھا دوست، اُس کا بیسٹ فرینڈ بھی تھا۔۔۔
یارم کی ماں نے باسق کو دیکھا تو دل جیسے بیٹھ گیا۔
چہرے پر گھبراہٹ صاف تھی، لبوں سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔
وہ جانتی تھی، جب باسق اس طرح غصے میں آتا ہے، تب کچھ کہنا آگ پر تیل ڈالنے کے برابر ہوتا ہے۔
’’مان توڑ دیا تم نے میرا… تو تو میرا غرور تھا یارم… تو نے اُسے ہی مٹی میں ملا دیا۔‘‘
باسق خان کی آنکھوں میں ایسا درد تھا جسے دیکھنا بھی یارم کے بس کی بات نہ تھی۔
’’پلیز بابا، ایسا مت کہیں… ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا… غلطی ہو گئی، معاف کر دیں۔‘‘
یارم کی آواز لرز گئی۔
’’یارم، غلطی نہیں ہوئی… آج تم نے مجھے میری اوقات دکھا دی ہے کہ میں کیا ہوں۔‘‘
’’بابا… ایسا نہیں ہے…‘‘
’’ایسا ہی ہے! تم اپنی محبت کی خاطر اپنے باپ کو ٹھکرا سکتے ہو۔ اب مجھے یقین ہو گیا ہے۔ میں نے تمہاری ماں سے بحث کی تھی کہ میرا بیٹا میرے خلاف نہیں جا سکتا، مگر میں ہار گیا۔ تم نے میرا مان توڑ دیا۔ تمہاری محبت مجھ سے بڑھ گئی۔‘‘
’’بابا، خدا نہ کرے آپ کبھی ہاریں۔ میری جان آپ پر قربان۔۔۔‘‘
’’جھوٹ مت بولو، یارم… تم اُس لڑکی سے محبت کرتے ہو، دل سے، سچائی سے، اور شاید اسی سچ نے ہمیں جدا کر دیا ہے۔‘‘
’’ہاں، بابا… میں عبیرہ سے محبت کرتا ہوں، اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔ مگر آپ کے خلاف جانے کا خیال بھی کبھی دل میں نہیں آیا۔‘‘
باسق خان نے رخ پھیرتے ہوئے ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں کہا۔
’’یارم، تمہیں آج فیصلہ کرنا ہوگا… وہ لڑکی یا میں۔
اگر تمہیں وہ چاہیے تو مجھے چھوڑنا پڑے گا۔ یہ میرا آخری اور حتمی فیصلہ ہے۔‘‘
’’بابا پلیز، ایسا نہ کہیں۔ آپ کے لیے میری محبت ثابت کرنے کے لیے ایسا امتحان مت لیں۔ وہ لڑکی مشکل میں ہے، میں بس اُس کا ساتھ دینا چاہتا ہوں… اُس کے گھر والوں کی لیے نہیں، اپنے ضمیر کے لیے،اپنی محبت کے لیے ۔‘‘
یارم اپنے باپ کے قدموں میں بیٹھ گیا، ہاتھ جوڑ دیے۔
’’مجھے ایسی آزمائش میں مت ڈالیں، بابا…‘‘
’’نہیں، یارم… آج اور ابھی فیصلہ کرو۔کہ تمہارے لیے اہم کون ہے میں یا وہ لڑکی۔۔۔۔ میں اپنی زندگی میں کبھی عروب کی بیٹی کو اپنے گھر کی بہو نہیں بنا سکتا۔‘‘
’’بابا، وہ قصوروار نہیں ہے، اُس کے ساتھ بہت کچھ غلط ہوا ہے… ایک بار بیٹھ کر میری بات سن لیں۔‘‘
’’میں سب جانتا ہوں۔ میں اندھا نہیں ہوں۔ تبریز خان کی بیٹی اغوا ہوئی ہے۔ اور ہاں، اب مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تبریز خان ہی عروب کا شوہر ہے۔ عبیرہ، اُس کی بیٹی۔اور اس لڑکی کے ساتھ سوائے نفرت کے میں کوئی رشتہ قائم نہیں قائم کر سکتا۔۔۔ اس کا کوئی قصور ہے یا نہیں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔یہ جن لوگوں کی اولاد ہے میں ان سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتا۔
“اور یہ لڑکی اغوا ہو گئی ہے ۔۔۔یہ خبر پورے شہر میں پھیل چکی ہے… اور میں یہ سب جاننے کے بعد کبھی نہیں سوچ سکتا کہ وہ لڑکی میرے اکلوتے بیٹے کی بیوی بنے۔‘‘
’’مگر بابا، وہ بےقصور ہے…‘‘
یارم کچھ اور کہنے ہی والا تھا کہ باسق خان نے اپنا سینہ پکڑ لیا، چہرہ زرد پڑ گیا، اور وہ درد سے کراہتے ہوئے زمین پر گرنے لگا۔
’’بابا… بابا! کیا ہو رہا ہے آپ کو؟‘‘
یارم نے گھبراتے ہوئے اپنے باپ کو سنبھال لیا، ورنہ وہ زمین پر گر جاتے۔یارم کی ماں گھبرا کر اپنا پلو سمیٹتے ہوئے نزدیک ہوئی ان کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے۔۔کیا ہو رہا ہے آپ کو ۔۔یارم جلدی سے کچھ کرو۔۔وہ چلائی تھی۔
فضا میں ایک لمحے کو سب کچھ رک گیا۔۔۔سب کچھ بدل گیا تھا…
یارم جانتا تھا کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے،
مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ اس قدر ہاتھوں سے نکل جائیں گے…
کہ اس کے بابا کے دل میں اتنا درد اٹھے گا کہ نوبت ہاسپٹل تک پہنچ جائے گی۔۔ یارم نے اپنے مضبوط بازوؤں میں بابا کو تھاما، اور اس کے قدم تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔
═══════❖═══════
“مورے پلیز مت روئیں… ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا، بابا کو کچھ نہیں ہوگا۔”
یارَم اپنی ماں کو سینے سے لگا کر آئی سی یو کے دروازے کے باہر کھڑا تھا۔
“اللہ کرے تمہارے بابا کو کچھ نہ ہو یارم… اگر انہیں کچھ ہوا نا، تو میں مر جاؤں گی…”
ماں کی آواز لرز رہی تھی، آنکھوں میں خوف اور دل میں بے بسی۔
“اللہ نہ کرے کہ بابا کو کچھ ہو… پلیز آپ دعا کریں… اللہ تعالی سب بہتر فرمائے گا۔”
یارَم نے دھیمی آواز میں کہتے ہوئے ماں کے ہاتھ تھام لیے۔
“میری ساری دعائیں ان کے لیے ہیں… اللہ انہیں میری زندگی میں سے زندگی دے دے…
ان پر آنے والی ہر مصیبت مجھ پر ڈال دے، مگر ان کو کچھ نہ ہو…”
ماں کی آنکھوں سے ٹوٹ کر اشک گرتے گئے۔
یارَم کی آنکھیں بھی نم تھیں، مگر اس نے ماں کی پیشانی پر آہستہ سے بوسہ دیا۔
“اللہ تعالی آپ دونوں کو صحت اور تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائے… ایسا کچھ مت کہیں…
پتہ نہیں مورے، کون سی قبولیت کی گھڑی چل رہی ہو…
آپ دونوں میرے لیے میری دنیا ہو… آپ دونوں کے بغیر یہ دنیا ویران ہے میرے لیے…”یارم کو اس وقت اپنا آپ ایک مجرم کی طرح لگ رہا تھا …نہ چاہتے ہوئے بھی ….اس کی وجہ سے اس کے بابا اس وقت زندگی اور موت کے بیچ جھول رہے تھے…
یارم کی ماں نے کچھ لمحے خاموش رہ کر اس کے چہرے کو دیکھا۔
آنکھیں نم تھیں، لہجہ بھاری سا۔
“یارم… ایک بات کہوں؟”
یارم نے آہستہ سے ماں کا ہاتھ تھام لیا۔
“جی مورے… بولیں۔”
ماں نے ہلکی سی سانس کھینچی۔
“دعا کرو تمہارے بابا ٹھیک ہو جائیں۔
اور جب وہ ٹھیک ہو جائیں… تو تم اپنی ضد چھوڑ دینا۔
میں نے انہیں کبھی اس طرح ضد کرتے نہیں دیکھا۔
وہ ضدی انسان نہیں ہیں… یہ تم جانتے ہو۔
اور میں بھی۔
مگر اس بار… یہ بات ان کے دل کا مسئلہ ہے۔”
یارم نے خاموشی سے ماں کو دیکھا۔
ماں نے نظریں جھکا کر بات جاری رکھی:
“اس بار وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اور اگر تم بھی نہیں ہٹے نا…
تو نقصان ہمارا ہی ہوگا۔
تمہارے بابا خود کو سنبھال نہیں پائیں گے۔”
“میں نے آج تک انہیں تمہارے خلاف کھڑے ہوتے نہیں دیکھا۔
وہ ہمیشہ تمہاری ضد کے آگے جھک جاتے تھے…
مگر عروب کی بیٹی کو وہ اپنی بہو کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔
یہ حقیقت ہے۔
مان لو۔
ورنہ یہ ضد… تمہارے بابا کی جان تک لے سکتی ہے۔”
یارم کا دل جیسے ایک دم بیٹھ گیا۔
اس نے ماں کے ہاتھ اور سختی سے تھام لیے۔
“پلیز مورے… ایسا مت کہیں…
خدا کرے میری عمر بھی بابا کو لگ جائے…”
وہ دونوں ویٹنگ ایریا کی ٹھنڈی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔
اور آس پاس بس خاموشی تھی۔
آئی سی یو کے دروازے کے پار اس کے
بابا کی سانسیں آہستہ آہستہ چل رہی تھیں۔ماں کی آنکھوں میں پرانی تھکن اتری ہوئی تھی۔
“اللہ تمہیں بھی لمبی زندگی دے… اور تمہارے بابا کو بھی۔”
اس کی ماں کی آواز بھاری تھی۔
آنکھیں نم تھیں۔
دل پر بوجھ۔
“تم دونوں میری دنیا ہو، یارم۔”
کچھ پل خاموشی رہی۔
“مگر بیٹا… تمہیں اپنے قدم پیچھے لینے ہوں گے۔”
یارم کی سانس بھاری ہوئی
ماں نے اپنے بیٹے کے افسردہ چہرے کو ایک نظر دیکھا۔۔۔
“جانتی ہوں تم اپنے بابا سے بہت پیار کرتے ہو۔
یہ وقت ہے یہ پیار ثابت کرنے کا۔”
اس نے یارم کا ہاتھ تھامے رکھا۔
“اگر تم نہیں رکے نا…
تو وہ ٹوٹ جائیں گے۔”
آواز مزید دھیمی پڑ گئی۔ “
یارم نے آنکھیں بند کر لیں۔
دل جیسے اندر ہی کہیں ڈوب گیا۔
مورے آپ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ مجھے صبر دے دے… یا میرے راستے آسان کر دے۔
میں عبیرا سے بہت پیار کرتا ہوں۔
عبیرا میری پہلی محبت ہے… اسے ادھورا مت چھوڑیں۔
پلیز… میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں۔
یارم کی نظروں میں التجا اور درد تھا۔
اس کی ماں کا دل تڑپ اٹھا۔
مگر وہ مجبور تھی۔
اس وقت اسے شوہر اور بیٹے کی محبت میں سے کسی ایک کو چننا تھا۔
“یارم… میں بھی تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں…”
“مورے یہ کیا کر رہی ہیں… مجھے جہنم کی آگ کا مستحق کیوں بنا رہی ہیں…”
یارم نے ماں کے جڑے ہوئے ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے چومے اور نیچے کر دیے۔
وہ تڑپ گیا تھا۔
وہ اپنے سامنے ماں کے ہاتھ جڑے ہوئے برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
یارم خان ایک نیک، فرمانبردار بیٹا تھا۔
“یارم… میں نے تمہارے بابا سے جس حد تک ممکن تھا بات کی۔
مگر وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اور نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔
تمہارے بابا ہاسپٹل کے بیڈ تک پہنچ چکے ہیں۔
ڈاکٹر کوئی اچھا رسپانس نہیں دے رہے۔”
ڈاکٹر نے صاف کہا تھا کہ ان کے ہارٹ اٹیک کی وجہ حد سے زیادہ سٹریس ہے۔
اور یہ سٹریس جان لیوا ہو سکتی ہے۔
“اس سے زیادہ دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔
میرے سامنے دو راستے ہیں:
یا میں تمہاری محبت کے لیے تمہارا ساتھ دوں…
یا اپنے شوہر کی زندگی بچاؤں۔”
ماں کی آواز آہستہ پڑ گئی۔
“تو مجھے معاف کر دینا یارم…
میں اپنے شوہر کا ساتھ دوں گی۔
جہاں تک ممکن تھا میں نے تمہارے لیے ان سے لڑائی کی۔
مگر اب بات ان کی زندگی کی ہے۔
میں ان کی زندگی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔”
یارم نظریں جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔
وہ جانتا تھا… مورے غلط نہیں تھی۔
مگر وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔
ہاں یا نہ کہنا اس کے بس میں نہیں تھا۔
اگر وہ اپنے بابا کی بات مان لیتا… تو اس کا دل ٹوٹ کر کرچیوں میں بکھر جاتا۔
عبیرہ اس کی رگوں میں اتر چکی تھی۔
تھوڑے سے عرصے میں اسے اس سے ایسی محبت ہو گئی تھی کہ عبیرہ کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں رہا تھا۔
اس کے خوابوں، خیالوں، سوچوں میں… سب میں عبیرہ ہی تھی۔محبت انسان کو ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں سے واپسی کے راستے مشکل ہو جاتے ہیں۔
جب کسی کو دل میں جگہ دے دی جائے، تو اسے چھوڑنے کا تصور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی چلتی ہوئی سانسوں کو زبردستی دل سے نوچ رہا ہو۔
انسان کا دل پر اپنا بس نہیں چلا پاتا۔
جیسے یارم خان خود پر قابو نہیں رکھ پا رہا تھا۔
دل عبیرہ کو پکارتا تھا
اور دماغ ماں باپ کے آگے جھک جانے کی روایت یاد دلاتا تھا۔
یارم ایک ایسی کشمکش میں بند تھا جہاں سے نکلنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی۔
ایک طرف عروب سے کیا گیا وعدہ تھا کہ وہ ہر حال میں عبیرہ کا ساتھ دے گا۔
اور دوسری طرف اس کے بابا…
جن کے لیے یہ رشتہ ایک ایسی دیوار تھا جو کبھی نہیں ٹوٹ سکتی تھی۔
یہی درد انہیں ہسپتال کے بستر تک لے آیا تھا۔
دل عشق میں کمزور پڑ جائے تو جسم کی طاقت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔
یارم خاموش بیٹھا سوچ رہا تھا۔
کیا کوئی فیصلہ ایسا ہو سکتا ہے جو کسی دل کو نہ توڑے؟
کیا محبت، فرض اور خاندان ایک ساتھ نہیں چل سکتے؟
═══════❖═══════
“انشاء میرا بچہ، رونا بند کرو… بابا بالکل ٹھیک ہیں۔ میری طرف دیکھو…”
انشاء اپنے بابا کے سینے پر سر رکھے ہوئے روئے جا رہی تھی۔
“بابا آپ نے کیوں سٹریس لیا؟
نہ آپ سٹریس لیتے، نہ آپ کو ہسپتال میں ایڈمٹ ہونا پڑتا…”
“سوری میرا بچہ… آئندہ نہیں لوں گا۔
ایک بار رونا بند کر دو، مجھے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں آنسو بالکل اچھے نہیں لگتے…”
باسق خان نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بہت دھیمے لہجے میں اسے چپ کرانا چاہا۔
اٹیک شدید تھا، اسی لیے وہ ابھی تک کمزور تھے۔
انشاء گھر پر تھی جب باسق کی طبیعت خراب ہوئی۔
یارم اسے ساتھ نہیں لایا تھا۔
وہ جانتا تھا انشاء بہت حساس ہے، بہت روئے گی، اسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
ہوش آنے کے بعد ہی اسے ہسپتال آنے کی اجازت دی گئی۔
اور اب جب آئی تھی، تو ایک لمحے کو بھی اس کا رونا نہیں تھم رہا تھا۔
“پتہ ہے بابا… جب مجھے خبر ملی، میں گھر میں کتنا روئی تھی…”
وہ بچوں کی طرح ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
انشاء بچپن سے لاڈلی تھی۔
گھر کی دہلیز سے ہی اس کی دنیا شروع ہوتی اور وہیں ختم۔
اسی لیے دل بہت جلد ٹوٹ جاتا تھا۔
اور یہاں تو بات اس کے بابا جان کی زندگی کی تھی۔
“اب تو میرا بچہ رونا بند کر دو… اب میں ٹھیک ہوں، خطرے سے باہر ہوں۔
اور میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ ٹینشن نہیں لوں گا۔
ایک بار چپ ہو جاؤ…”
اپنی بیٹی کے آنسووں کے سامنے باسق خان کی مضبوطی بھی ہار رہی تھی۔
“پرومس کریں کہ آپ آئندہ کبھی سٹریس نہیں لیں گے؟”
“پکا والا پرومس۔
اور تم اب رونا بند کرو۔
پھر ہی میں اپنا وعدہ نبھاؤں گا۔”
انشاء نے جلدی سے آنسو صاف کیے۔
“چلو اب مسکرا کر دکھاؤ… تاکہ میں جلد ٹھیک ہو جاؤں…”
باسق خان نے فیک سی مسکراہٹ پر منہ بناتے ہوئے کہا:
“اتنا کنجوسی سے نہیں، میری گڑیا… دل سے مسکراؤ۔”
“اس ڈرامہ کوئین کو اسی لیے نہیں لایا تھا ہاسپٹل۔
ورنہ اب تک تو ڈاکٹر مریضوں کو چھوڑ کر اسے چپ کرانے لگ جاتے!”
یارم روم میں داخل ہوتے ہی ہنستے ہوئے بولا۔
“جی نہیں! میں ایسی نہیں! میں اپنے بابا کی بہت سمجھدار بیٹی ہوں!”
“سمجھدار… اور تم؟
ماشاءاللہ، اگر سمجھدار لوگ تم جیسے ہوتے ہیں تو پھر تو دنیا میں سمجھداروں کی بہت قلت ہونے والی ہے…”
یارم نے چھیڑتے ہوئے کہا۔
رتبہ اور باسق دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی۔
ماحول جیسے لمحے بھر میں روشن ہو گیا۔
“بابا، آپ دوائی لے لیں اور زیادہ بات نہ کریں۔
ڈاکٹر نے زیادہ بولنے سے منع کیا ہے۔”
یارم نے ان کی کمر سہارا دے کر انہیں بیٹھایا اور دوا دی۔
“یارم… میں دوا ایک شرط پر کھاؤں گا…”
باسق خان نے منہ موڑ لیا۔
یارم سمجھ گیا کس موضوع کی طرف جا رہے ہیں۔
“بابا پلیز… ابھی اس بات پر نہ جائیں۔
آپ کی صحت سے بڑھ کر کچھ نہیں…”
“اگر میری صحت اتنی ضروری ہے
تو وعدہ کرو کہ آج کے بعد تم اس لڑکی کا ذکر بھی نہیں کرو گے۔
نکال دو اسے اپنے دل سے۔
خدا کی قسم… جس پر بھی ہاتھ رکھو گے
میں اسے تمہارا مقدر بنا دوں گا۔”
یارم نے تھکی ہوئی سانس بھری۔
“بابا… کچھ فیصلے وقت پر چھوڑ دینے چاہئیں۔
مت مجھے اتنا مجبور کریں…”
“میں مجبور نہیں کر رہا یارم۔
بس اپنے باپ اور اپنی محبت میں سے کسی ایک کو چن لو۔
جو بھی فیصلہ کرو گے… میں سر جھکا دوں گا۔”
“بابا… اسے بلیک میلنگ کہتے ہیں…”
“ٹھیک ہے، سمجھ لو یہ بھی۔
لیکن مجھے ہاں یا نہ میں جواب چاہیے۔”
یارم کی آواز بھر آئی۔
“بابا پلیز… عروب آپی کی بات ایک بار سن تو لیں…
سچائی وہ نہیں جو ہمیں دکھائی گئی۔
ہم نے سالوں کی غلط فہمی پر نفرت پالی ہے…”
باسق خاموش رہے
پھر آہستہ کہا۔
“یارم… تم عروب کی طرف داری کر کے میرے دل کو تکلیف دے رہے ہو…”
“سوری بابا…
سوری… میں آپ کو تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
بابا پلیز… تھوڑا سا دل نرم کر لیجئے۔
عبیرہ سے… بہت پیار کرتا ہوں اس سے…
اس کے بغیر جینے کا تصور کرتے ہی میرے اندر کچھ ٹوٹ جاتا ہے…”
“یارم مضبوط بنو۔ تم ایک مرد ہو۔
کوئی کسی کے لیے نہ ٹوٹتا ہے نہ مرتا ہے۔
وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔
جب ایک پیار کرنے والی بیوی تمہاری زندگی میں آئے گی
تو عبیرہ تمہیں یاد بھی نہیں رہے گی۔”
“بابا… ایسا کبھی نہیں ہوگا۔”
“ہوگا۔
جب ایک نیک دل بیوی تمہاری زندگی میں آئے گی،
تو تم عبیرہ کو بھول جاؤ گے۔
اور ایک بات ذہن نشین کر لو:
میں اس لڑکی کو اپنی بہو کے روپ میں کبھی قبول نہیں کر سکتا۔
مجھے اس سے اور کوئی دشمنی نہیں ہے
سوائے اس کے کہ وہ عروب کی بیٹی ہے۔”
“عروب نے جو ہماری عزت کی مٹی پلید کی تھی
میں وہ کبھی نہیں بھول سکتا، یارم۔
میں نے اسے سگی بہنوں سے بڑھ کر پیار دیا تھا۔
اگر اس کے ساتھ واقعی کچھ غلط تھا
تو ایک بار… صرف ایک بار…
وہ حق اور مان سے میرے پاس آ سکتی تھی۔
مگر نہیں۔
اس کے دل میں کھوٹ تھی۔”
“عروب کے غلط ہونے کے لیے بس اتنا ہی کافی تھا
کہ اسے محبت کرنے کے لیے ہمارے دشمن کا بیٹا ہی ملا۔
وہ جانتی تھی کہ سالوں سے ہماری شایان لوگوں سے دشمنی ہے۔
پھر بھی اس نے سوچا نہیں۔
گھر کی دہلیز، لاج، سب پیچھے چھوڑ دیا…
اور صرف اپنی محبت کو چنا۔”
“تو اب سالوں بعد
میں اس کے ماضی میں جھانک کر کیوں فیصلہ کروں؟
کیوں اس کی صفائی سنوں؟”
“میرے زخم آج بھی نہیں بھرے، یارم۔
میں نہیں بھولا وہ نظریں، وہ طعنے۔
لوگ کہتے تھے:
‘یہ عروب کا بھائی ہے… اس کی بہن بھاگ گئی تھی.’
میں کچھ بھی نہیں بھولا۔”
“اور اب تم مجھے اپنا فیصلہ دو۔
اگر تمہیں عبیرہ چاہیے
تو پھر تمہیں مجھے اور اس گھر کو چھوڑنا ہوگا۔
ہمیشہ کے لیے۔
یہ میرا فائنل فیصلہ ہے۔
اور میں اس فیصلے سے پلٹوں گا نہیں۔”
باسق خان کا لہجہ اٹل تھا۔
“بابا آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرا فیصلہ کیا ہوگا۔
مجھے نہیں لگتا کہ مجھے جواب دینے کی ضرورت ہے…”
یارم کا لہجہ بھاری تھا، آنکھوں کے اندر کہیں دور سے ٹوٹتی ہوئی خاموشی تھی۔
باسق خان یہ سب محسوس کر رہا تھا۔
مگر چاہ کر بھی اپنے بیٹے کی اس خواہش کے آگے جھک نہیں سکتا تھا۔
یارم کی ہر خواہش، ہر ضد، ہر پہلی آواز پر لبیک کہنے والا باسق خان
آج پہلی بار اپنے بیٹے کی سب سے بڑی خوشی کے سامنے رکاوٹ بن کر کھڑا تھا۔
“یارم، مجھے خاموشی نہیں، تمہارا جواب چاہیے۔”
کافی دیر کی خاموشی کے بعد باسق خان کی آواز پھر کمرے میں گونج اٹھی۔
“ٹھیک ہے بابا۔
اگر آپ کو اپنے بیٹے کی محبت کو رد کر کے آپ کے غصے کو سکون ملتا ہے
تو میں چاہ کر بھی آپ کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔
آج کے بعد زبان سے کبھی عبیرہ کا نام نہیں لوں گا…
مگر عبیرہ میرے دل میں ہمیشہ رہے گی۔
دل کو تو کبھی قید نہیں کیا جا سکا…”
یارم کی آنکھوں میں ٹھہرا ہوا درد واضح تھا۔
انشاء اور رتبہ ایک طرف صوفے پر بیٹھے،
سانس روکے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔
یہ تناؤ، یہ خاموش چوٹ…
انہوں نے کبھی اس گھر میں ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔
“یارم, اگر تم اس لڑکی کو دل میں رکھ کر ہمیں اذیت پہنچانا چاہتے ہو
تو پھر میرے فیصلے کے آگے سر جھکانے کی ضرورت نہیں۔
تمہیں حق ہے، تم ہمیں چھوڑ کر جا سکتے ہو۔”
“بابا…”
یارم کی آواز کانپ گئی۔
“محبت ہو جانا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
دل کو حکم نہیں دیا جا سکتا۔
میں نے عبیرہ سے محبت کے لیے ملاقاتیں طے نہیں کی تھیں۔
ایک نظر تھی… اور وہیں دل ہاتھ سے چلا گیا۔
مجھے لگا وہ میرے لیے بنائی گئی ہے…”
وہ ایک لمحہ رکا۔
سانس بھاری تھا۔
“مگر بابا… دکھ تو ہمیشہ رہے گا
کہ میری سب سے بڑی خوشی کے لیے
آپ کے دل میں نرم جگہ نہیں تھی۔
جس بابا نے میری ہر ضد پوری کی…
آج وہی بابا میری زندگی کی سب سے بڑی چاہت
مجھ سے چھین رہے ہیں۔”
“ٹھیک ہے بابا۔
آپ پر میری جان بھی قربان۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں عبیرہ کو چھوڑ دوں
تو میں چھوڑ دوں گا۔
مگر یہ وعدہ نہیں کر سکتا
کہ کسی اور کو اس کی جگہ دے سکوں گا…”
کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی گہری ہو گئی۔
“تو ٹھیک ہے پھر۔
ہم بہت جلد تمہارے لیے لڑکی ڈھونڈتے ہیں۔
میں نہیں چاہتا کہ تم سالوں مجلسوں میں مجنوں بن کر پھرتے رہو۔”
باسق خان کا لہجہ اٹل تھا۔
یارم نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
یارم کے دل میں اس وقت صرف اللہ سے دعا تھی کہ اس کے بابا کا دل نرم ہو جائے، اور وہ اپنی محبت کو حاصل کر سکے۔
چہرے پر درد صاف جھلک رہا تھا۔ٹھیک ہے، بابا، آپ جو کرنا چاہتے ہیں، کر لیں۔
میں آپ کو نہیں روکوں گا۔
مگر اس لڑکی کو عبیرہ جیسی محبت کبھی نہیں دے سکوں گا۔
یہ بات آج سے ذہن نشین کر لیں، کل کو مجھے بلیم مت کیجئے گا۔
یارم نے آہستہ سے کہا۔
“مطلب یہ کہ جس لڑکی سے ہم تمہاری شادی کریں گے…
اس لڑکی اور اس کے گھر والوں کے سامنے مجھے ذلیل کرواؤ گے؟”
باسق خان نے ناراض نگاہوں سے دیکھا، دل میں سختی اور درد دونوں چھپائے ہوئے۔
یارم نے پھر التجا بھری آواز میں کہا۔
“بابا، پلیز اس سے زیادہ مجھ پر بوجھ نہ ڈالیں۔
جہاں تک ممکن ہوگا، کوشش کروں گا کہ کہیں بھی آپ کا سر میری وجہ سے شرم سے نہ جھکے۔
پلیز، مجھے کچھ دیر کی اجازت چاہیے، ورنہ آپ کا مضبوط یارم شاید آج آپ کے سامنے رو پڑے۔
پلیز مورے، بابا کا خیال رکھیں اور دوا ٹائم سے دیں، میں دوبارہ حاضر ہوتا ہوں۔”
اور یارم تیزی سے وہاں سے روم سے باہر نکل گیا۔
باسق خان نے ہاتھ اُٹھا کر رتبہ کے الفاظ کو اس کے حلق کے اندر ہی دبا دیا۔
رتبہ اُٹھ کر خاموشی سے باسق خان کو دوا کھلانے لگی۔
باسق خان کا ہاتھ اُٹھانے کا انداز ہی ایسا تھا کہ دوبارہ رتبہ کی ہمت نہیں ہوئی کچھ کہنے کی۔
رتبہ نے خاموشی سے میڈیسن باسق خان کے آگے رکھی۔
انہوں نے گولی اٹھائی، منہ میں رکھی اور رتبہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر چند گھونٹ پانی پیے۔
پھر گلاس واپس کرتے ہوئے تکیے سے سر ٹکا لیا۔
رتبہ بغیر کچھ کہے آہستہ سے اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔
“بابا… لالہ اس لڑکی سے بہت پیار کرتے ہیں۔
انشاء کی مدھم سی آواز باسق خان کے کانوں سے ٹکرائی۔
انشاء بیٹا، میں امید کرتا ہوں کہ آپ دوبارہ اس موضوع پر مجھ سے بات نہیں کریں گی۔
مجھے بالکل پسند نہیں کہ آپ اس معاملے میں بولیں۔
باسق خان کی سرد نگاہوں اور سخت لہجے کو دیکھ کر انشاء نے چپ چاپ سر ہلا دیا۔
شاباش۔ ہمیں آپ سے یہی امید ہے۔
انشاء کی فرمانبرداری پر باسق خان نے سراہتے ہوئے کہا۔
کمرے میں اس وقت خاموشی گہری ہو چکی تھی۔
ہر طرف ایک بے نام سا تناؤ پھیل گیا تھا۔ جو دکھائی نہیں دے رہا تھا… مگر محسوس سب کر رہے تھے۔
═══════❖═══════
آریان خان کب سے عبیرہ کا ویٹ کر رہا تھا، جو پلین میں واش روم کا بول کر گئی تھی۔۔۔
آریان خان کا صبر لبریز ہونے لگا۔
وہ اپنی جگہ سے جھٹکے سے اُٹھا اور شاندار انداز سے واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
پلین کے بیچوں بیچ چلتے ہوئے، کتنی ہی لڑکیوں نے اسے دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھریں۔
ظالم چل رہا تھا، جیسے کوئی مغرور شہزادہ۔۔۔
وہ واقعی مغرور تھا، کیونکہ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ خوبصورت ہے۔
چلتے چلتے اس کے قدموں میں تھوڑا سا وقار تھا، اور نگاہوں میں وہ اعتماد، جو اپنی خوبصورتی کو جاننے والا ہر انسان رکھتا ہے۔
پلین کا ماحول جیسے رک گیا ہو، اور ہر نگاہ اس پر جم گئی تھی، مگر وہ اپنی ہی دنیا میں، اپنے انداز میں چل رہا تھا۔۔۔واش روم کے دروازے پر جا کر آریان نے دستک دی۔
کس قدر شاطر انسان تھا، اس نے بالکل اسی واش روم کے دروازے کو کھٹکھٹایا جس میں عبیرہ تھی، کیونکہ جب عبیرہ اُٹھ کر گئی، آریان کی نگاہیں اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔۔۔
“کک کون؟” عبیرہ نے تھوڑی حیرت اور ہلکی تذبذب کے ساتھ کہا۔
آریان خان کے علاوہ اور کس کی مجال تھی کہ وہ عبیرہ کو ڈسٹرب کرتا۔
اس کے لہجے میں وہی خفیف سی سرد مسکراہٹ تھی جو ہمیشہ عبیرہ کے حواس بکھير دیتی تھی۔
“آریان خان کے علاوہ اور کس کی اتنی اوقات ہو سکتی ہے کہ وہ میری بیوی کو ڈسٹرب کرے۔۔۔
اس کے لیے تو میں ہی کافی ہوں۔
دروازہ کھولو۔”
اندر سے عبیرہ کی چبھتی ہوئی جھنجھلاہٹ بھری آواز آئی۔
“کیوں؟ میں واش روم سے اُڑ کر غائب ہو جاؤں گی جو آپ میرے پیچھے پیچھے یہاں تک آگئے ہیں؟”
غصہ اس کے لہجے میں واضح تھا۔
کافی اس کے پیٹ پر گری تھی، جلنے کا درد اب تک شدید تھا۔
وہ کچھ دیر سے واش روم میں کھڑی پٹی اور مرہم لگا لینے کی ہمت جمع کر رہی تھی، مگر ہر بار ہاتھ زخم کے قریب جاتے ہی درد کی شدت اسے پیچھے دھکیل دیتی تھی۔
اسی کشمکش میں وقت نکل گیا تھا۔
اور اب آریان دروازے پر تھا۔
جیسے درد کے اوپر ایک نیا امتحان۔
باہر سے اس کی آواز آئی، دھیمی بھی نہیں، بلند بھی نہیں… بس بسے ہوئے یقین کے ساتھ:
“تمہاری اتنی اوقات نہیں کہ تم زمین پر رہتے ہوئے میری قید سے بھاگ سکو۔
اور میں تو تمہیں زمین سے کئی فٹ اوپر، ہوا میں لے آیا ہوں۔
اب مجھے کسی بھاگنے کا خطرہ نہیں۔
زیادہ زبان درازی مت کرو۔ دروازہ کھولو۔”
عبیرہ نے لب کاٹے، آواز بھاری تھی۔
“میں کچھ دیر میں آ جاؤں گی… میرے زخم پر بہت تکلیف ہے… دوا لگا رہی ہوں۔”
آریان کی ہنسی نہیں تھی، مگر ہلکی سی طنزیہ گرم سانس دروازے کے دوسری طرف محسوس ہوئی۔
“چوہیا جتنی جان اور اس سے بھی کم دل رکھنے والی تم…
تم خود اپنے زخم پر دوا لگا لو گی؟
دروازہ کھولو۔ میں لگاتا ہوں۔”
“نن… نہیں۔ میں خود لگا لوں گی۔”
عبیرہ کی گھبرائی ہوئی آواز میں درد بھی تھا اور… بے بسی بھی۔
اور اسی بے بسی نے آریان خان کی آنکھوں میں ایک دھیمی سی، فاتحانہ مسکراہٹ جگا دی تھی۔
“بے فکر رہو، فلحال میرا رومینس کرنے کا موڈ نہیں ہے، اور ویسے بھی تم کون سا بھاگی جا رہی ہو؟
ہر دن، ہر رات، ہر گھڑی تم آریان خان کے لیے دستیاب ہو۔۔۔
ویسے بھی، مجھے پلین میں رومینس کرنے کا کوئی شوق نہیں۔۔۔
“دروازہ کھولو۔۔۔”
سرگوشی میں کہتے ہوئے، آریان خان کے لب دلکش انداز سے مسکرا رہے تھے۔۔۔
عبیرا کو نہ چاہتے ہوئے بھی آریان خان کی بات اچھی لگی، کیونکہ اس میں حقیقت میں ہمت نہیں تھی کہ وہ خود کچھ کر سکے۔۔۔
آنکھیں بند کیے، اس نے آہستہ سے دروازے کی کنڈی کھول دی۔
آریان خان کی خوشبو، جو بند دروازے سے اندر محسوس ہو رہی تھی، جب وہ داخل ہوا، تیز پرفیوم کی خوشبو نے عبیرہ کی سانسوں میں ہلکی لہر پیدا کی۔
آریان خان نے گہری نظریں اس کے چہرے پر مرکوز کیں، عبیرہ آنکھیں سختی سے بند کیے، شرم سے سرخ چہرہ لیے کھڑی تھی۔
وہ شرم و لالی میں، آنکھیں بند کیے، بے حد معصوم اور خوبصورت لگ رہی تھی۔
نہ چاہتے ہوئے بھی، آریان خان کے دل میں ایک نرم کیفیت پیدا ہوئی۔
وہ لڑکی کے لیے کچھ بھی محسوس نہیں کرنا چاہتا تھا، مگر پتہ نہیں اس میں کیا تھا کہ وہ جب بھی اس کے سامنے آتی، ایک الگ سا احساس بار بار محسوس ہوتا۔
اسے معلوم تھا کہ دل اس سے بغاوت کر کے کیا محسوس کرنا چاہتا ہے، اور وہ احساس اسے ناپسند تھا۔
پھر بھی، اس احساس کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے، وہ خود کو دھوکہ دے رہا تھا۔
بہت مشکل تھا اپنے آپ سے جھوٹ بولنا۔
نرمی سے اس کے گاؤن کے کنارے کو اوپر کرتے ہوئے، مرر کے سامنے کھڑا ہوا۔
صرف اشارے کے طور پر، ایک ہلکی حرکت نے اس کی حالت واضح کی، باقی سب خاموشی اور اس کی موجودگی میں چھپا رہا۔
“آہ آہ آہ۔۔۔”
عبیرا درد کی آواز کے ساتھ پلٹی اور اپنا رخ آریان کی جانب کیا، سینے سے لگ کر سسکیاں لے رہی تھی۔
اس وقت وہ اتنی تکلیف میں تھی کہ بھول گئی کہ سامنے اس کا سب سے بڑا دشمن ہے، جس کی وجہ سے وہ یہاں ہے۔
“ریلیکس، ابھی آرام آجائے گا۔۔۔”
آریان نے اس کی پیٹھ کو سہلاتے ہوئے آہستہ کہا۔
پتہ نہیں کیوں، آریان کے منہ سے عبیرا کے لیے نرم الفاظ نکل رہے تھے، اور وہ خود بھی اپنے لہجے پر حیران اور تھوڑا سا پریشان تھا۔
“مجھے بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔”
وہ بچوں کی طرح روتی ہوئی، آریان کے مضبوط وسیع پرفیوم سے مہکتے سینے میں سر چھپائے سسکیاں لے رہی تھی۔
“تھوڑا سا برداشت کرو، جیسے ہی دوا اثر کرے گی تمہیں آرام ملے گا۔۔۔”
نرمی سے کہا، خود ہلکا سا دور ہوا اور واپس اس کا رخ مرر کی طرف موڑ دیا۔
وہ اب بھی آنکھیں بند کیے ہوئے تھی، آنسو پھسل کر اس کے رخساروں سے گردن کو چھو رہے تھے۔
اس کی گندمی رنگت پر بہتے ہوئے آنسو اس کے معصوم چہرے کو اور بھی نرماہٹ دے رہے تھے۔
نہ چاہتے ہوئے بھی، آریان خان کی نظریں اس کے معصوم چہرے سے گزرتی ہوئی نرمی سے لبوں کی جھلک پر ٹھہر گئیں۔آریان خان نے زبردستی نظروں کو ہٹاتے ہوئے، دائیں ہاتھ سے بیسن پر واش کرتے ہوئے خشک کیا۔ پاس رکھی ہوئی ٹیوب اُٹھا کر بڑی نرمی سے اس کے زخم پر لگانے کے لیے پیٹ سے کپڑا ہٹایا۔
عبیرا ایک بار پھر سسک اُٹھی، اس نے آریان کی کلائی پر ہاتھ رکھ کر سختی سے پکڑ لیا۔
اس کے ہاتھوں کی سختی آریان کے مضبوط بازوؤں میں محسوس ہوئی، عبیرہ کے ناخن کی ہلکی چبھن بتا رہی تھی کہ وہ کتنی تکلیف میں ہے۔
آریان نے نرمی سے مرہم لگایا، تو وہ زور زور سے رونے لگی، شاید مرہم زخم کو کچھ زیادہ محسوس کرا رہا تھا۔
بے اختیار، آریان خان نے اسے پرسکون کرنے کے لیے اپنے لب اس کی گال کے قریب رکھے، اور اپنا گال اس کی نرم جلد سے لگا کر اس کی راحت کی کوشش کی۔
وہ اپنی ٹھوڑی اس کے کندھے پر ٹکائے، سامنے مرر میں اس کے درد بھری تاثرات دیکھ رہا تھا۔
آریان کا محبت بھرا لمس عبیرہ کے چہرے پر درد کے اثرات کچھ کم کر رہا تھا۔ آریان خان کی نظریں اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں پر رک گئی تھیں۔
نرمی سے مرہم لگا کر اس کے گاؤن اور شرٹ کو درست انداز میں ترتیب دیا۔ عبیرہ نے حیران نظروں سے آریان کو دیکھا۔
وہ جھک کر اسے اپنی گود میں اُٹھا چکا تھا، پلین کے اندر اپنے باہوں میں لے کر سیٹ تک پہنچایا۔
عبیرہ کو شدید شرم آرہی تھی، مگر حلق خشک ہونے کی وجہ سے کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔
کافی سی مسکراتی نظریں ان کی خوبصورت جوڑی پر جم گئی تھیں۔ کچھ لڑکیاں آہیں بھرتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔
مگر آریان خان ایسے چل رہا تھا جیسے اپنے روم میں قدم رکھ رہا ہو، مجال ہے کہ اس کے چہرے کا زاویہ ذرا بھی بدلے۔
بہت نرمی سے اس نے عبیرہ کو سیٹ پر بٹھایا، مگر اس کے باوجود عبیرہ کا پیٹ شدید درد میں مبتلا تھا۔
آرام سے اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے، اس نے نظر بھر کر صرف آریان کی جانب دیکھا، باقی چہروں سے آنکھیں جھکی رہیں۔
نکاح… اللہ تعالی نے کتنی خوبصورت اور پاکیزہ چیز بنائی ہے۔
اللہ کی قدرت دیکھو، کبھی کبھی دو لوگ اس رشتے میں، مجبوری کے تحت بھی جڑ جاتے ہیں۔
مگر پھر بھی، مرد کے دل میں اللہ تعالی وہ احساس بھر دیتا ہے کہ وہ عورت کا محافظ ہے۔
اگر وہ کمزور ہو، تو اس کا سہارا بنتا ہے، اس کا محافظ بن جاتا ہے۔
اور یہ سب، اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے، ہر اس مرد میں جو واقعی مرد ہو۔
کیونکہ کچھ تو صرف نام کے مرد ہیں، جنہیں عورت کے لفظ کے عین معنی کا بھی ادراک نہیں…
وہ کیا تحفظ دے سکتے ہیں؟ اور کیا عزت؟
“یہ دوا کھا لو، اس سے درد سے آرام ملے گا۔۔۔”
آریان، عبیرہ کے ہینڈ بیگ سے دوا نکال کر، اس کے منہ میں ڈال رہا تھا۔
عبیرہ نے آہستہ سر ہلایا، اور آریان کے ہاتھوں میں درد سے سکون کی چھوٹی سی امید دیکھ کر، دوا کو نگل لیا۔چند گھونٹ پانی کے پی کر سر پیچھے سیٹ سے ٹکا دیا۔۔۔
ذرا ہی دیر میں… عبیرہ کو درد سے آرام آنے لگا… اور وہ غنودگی کی نرمی میں بہتی چلی گئی… کیونکہ اس کی دوا میں نیند کی دوا بھی شامل تھی…
آریان خان نے اس کے لڑکھڑاتے سر کو اپنے کندھے پر رکھتے ہوئے… آہستہ سے اس کی کمر کے پیچھے ہاتھ رکھتے… اسے اپنے قریب لگا لیا…
وہ یہ سب کیا کر رہا تھا… اور کیوں کر رہا تھا… یہ بات وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا… یا پھر سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہ رہا تھا…
جس وجود کو وہ اس وقت تکلیف سے بچا کر حفاظت سے لے جا رہا تھا… اسی لڑکی کو وہ نفرت کے لیے اپنی زندگی میں شامل کرنے آیا تھا… اور اس کے ساتھ ہمدردی کرنا اسے بالکل سمجھ میں نہیں آ رہا تھا…
وہ اس لڑکی کے واپسی کے تمام راستے بند کر چکا تھا… اور دل جانتا تھا کہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں…
مگر تبریز خان اور عروب کو سزا دینے کے لیے… اس لڑکی کو تکلیف دینا ضروری تھا…
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس لڑکی کے لیے اتنی جلدی نرم پڑ جائے گا…
سالوں تک… وہ اس لڑکی سے نفرت کے لیے خود کو آمادہ کرتا رہا … پھر یہ دل… اس کے ساتھ بغاوت کر کے… اسے کیا کچھ کرنے پر مجبور کر رہا تھا…
وہ اپنے آپ سے جھگڑتا… لڑتا… اور گہری سوچوں میں سفر کر رہا تھا…
═══════❖═══════
“اس طرح ماں سے منہ موڑ کر تم کیا ثابت کرنا چاہتے ہو صارم؟”
صارم جو تیزی سے سیڑھیاں اُتر کر ایزل کے روم کی جانب جا رہا تھا… اسے ایزل سے آریان کے بارے میں پوچھنا تھا کہ اس کے پاس آریان کا کوئی نمبر ہے جس سے رابطہ ہو سکے…
عبیرا اور آریان والی بات صارم تک بھی پہنچ چکی تھی…
روشانے… کب سے اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی تھی… وہ جانتی تھی کہ یہ بات جب صارم تک پہنچے گی تو صارم کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دے گا… اور صارم کا اپنی ماں کو دیکھ کر اجنبیوں کی طرح پاس سے گزرنا اس کے شک کو یقین میں بدل گیا…
“اگر ماں اپنی نفرت میں صحیح اور غلط کا فرق بھول جائے تو اس ماں سے رخ موڑ لینا ہی بہتر ہے…”
صارم نے بہت روکھے انداز سے جواب دیا…
“صارم… مجھے افسوس ہوتا ہے کہ تم میرے بیٹے ہو…”
روشانے نے نم آنکھوں سے کہا…
“افسوس تو مجھے بھی ہوتا ہے کہ آپ میری ماں ہیں جس طرح… میں ہمارے رشتے پر سوائے افسوس کے کچھ نہیں کرسکتا… اس طرح… آپ بھی افسوس کر کے زندگی گزارتی رہیں…”
“ایک طرف آریان ہے جو میری خاطر سب سے دشمنی لے رہا ہے… اور ایک طرف تم، میرے سگے بیٹے، جسے ہمیشہ میں ہی غلط لگتی ہوں…”
“جانا مت… میری بات سن کر جاؤ…”
“تم ہمیشہ مجھے نظر انداز کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟ ماں ہوں تمہاری… تمہیں پیدا کیا ہے میں نے…”
صارم نے جب اپنی ماں کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے قدم اُٹھایا تو…
روشانے نے غصے سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا…
“کیا سننا چاہتی ہیں آپ؟”
“اگر میں خاموش ہوں تو، پلیز خاموش رہنے دیں۔”
“اگر بولوں گا تو گنہگار کہلاؤں گا، اور جھوٹ کہنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔۔۔سچ آپ سن نہیں سکیں گی۔”سارم کا لہجہ دکھی اور سخت تھا۔
“تم آج مجھے سچ بتاؤ، میں سننا چاہتی ہوں کہ آخر سالوں سے تم اپنی ماں کے بارے میں ایسا کیا سوچ رہے ہو کہ نہ تو کبھی تم اپنی ماں کے پاس بیٹھنا چاہتے ہو، نہ بات کرنا چاہتے ہو، نہ دُکھ سُکھ میں شامل ہونا چاہتے ہو۔۔۔
تم نے خود کو مجھ سے، ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے الگ کر رکھا ہے۔ میں بھی تو جانوں کہ میں نے آخر ایسا کون سا گناہ کر دیا ہے؟”
روشانے سختی سے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکے کھڑی تھی۔
“گناہ تو مجھ سے ہوگیا ہے، آپ کے گھر پیدا ہو کر۔ کاش میں آپ کے گھر پیدا ہی نہ ہوا ہوتا، کاش ہمارا ماں بیٹے کا رشتہ نہ ہوتا۔۔۔”
صارم کے دل میں دبا ہوا، سالوں کا درد، اس کے چہرے پر نظر آ رہا تھا۔ وہ اپنی ماں کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑوا کر دور کھڑا ہوا بول رہا تھا۔
“صارم، اتنی نفرت کرتے ہو تم مجھ سے؟ اور تمہیں اپنے باپ کی کی ہوئی زیادتیاں کبھی نظر نہیں آئیں؟”
روشانے اپنے بیٹے کی سخت الفاظوں کی ضرب سے رو پڑی تھی۔
“مجھے اس بارے کچھ نہیں کہنا۔۔”
“مگر مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا—آپ نے جو فتوّر آریان کے دماغ میں بھرا ہے، اس کا نتیجہ آج ایک معصوم لڑکی بھگت رہی ہے۔ مجھے بہت دکھ ہے آپ لوگوں کی سوچ پر کہ، آج کے دور میں بھی آپ لوگ اپنے بدلے کے لیے کسی معصوم لڑکی کا استعمال کر رہے ہو۔ کیا فائدہ اتنا پڑھا لکھا ہونے کا، اگر سوچ جاہلوں والی رکھنی ہے تو۔۔۔”
“تمہیں اس لڑکی سے اتنی ہمدردی کیوں ہے؟”
روشانے چلائی۔
“شاید آپ بھول رہی ہیں کہ وہ لڑکی رشتے میں میری بہن ہے۔”
صارم نے اونچی آواز میں کہا۔
“وہ تمہاری بہن نہیں۔پتہ نہیں کس کا گندا غلیظ خون ہے جس کو تمہارا باپ سینے سے لگائے گھوم رہا ہے۔۔۔”
“آپ چاہیں جو بھی کہہ لیں، میں رشتوں کو اپنے طریقے سے نبھاتا ہوں۔ میری نظر میں وہ میری بہن ہے، اور میں مرتے دم تک اس لڑکی کو اسی نظریے اور اسی نظر سے دیکھوں گا۔۔۔”
آپ نے آریان کے دماغ میں فطور بھر دیا ہے… اس کی سوچ، اس کی زندگی… سب بگڑ گیا ہے۔
اب بھی وقت ہے، اگر آپ کے پاس آریان کا کوئی رابطہ نمبر ہے تو بتا دیں۔
، تاکہ جس نے آپ کی تربیت میں پرورش پائی ہے ۔اس کے نیگٹیو اثرات سے اس بے قصور لڑکی کو بچایا جا سکے۔
شاید آپ نہیں جانتیں، آپ نے اس کے ذہن میں کتنا اندھیرا بھردیا ہے…
خدارا، وقت رہتے سنبھل جائیں، اس سے پہلے کہ نقصان اتنا ہو جائے کہ آریان کی شخصیت ہی تباہ ہو جائے…اس کی لائف ابھی شروع ہوئی ہے مت کھیلیں اس کی لائف کے ساتھ۔۔۔خدا کا واستہ ہے ۔اس سے سمجھانا چاہتا ہوں اور اس کے لیے مجھے رابطہ کرنا پڑے گا اور رابطے کے لیے مجھے اس کا نمبر چاہی…امید تو نہیں ہے مگر پھر بھی ہاتھ جوڑ رہا ہوں دے دے نمبر۔۔۔سارم نے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے سخت لہجے میں اپنی ماں پر اپنی ناراضگی اپنی سوچ ظاہر کی تھی۔۔
“میرے پاس آریان کا کوئی کنٹیکٹ نمبر نہیں ہے…
مگر جانتی ہوں… تم اور لالہ میری بات پر کبھی یقین نہیں کرو گے۔
اور مجھے کسی کو یقین دلانا بھی نہیں ہے…
وہ رکی… سانس بھاری ہوا…
آنکھوں میں پرانی آگ اور بہت سارا درد تھا۔
“صارم… تم اپنے ماموں کی زبان مت بولو۔
خبردار… جو آج کے بعد میرے آریان کو نفسیاتی کہا تو۔
آریان نفسیاتی نہیں ہے…
وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے۔
اور اسے احساس ہے میرے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا۔”
اس کی آواز یقین سے بھری ہوئی تھی۔
“وہ لڑکی… اسی قابل ہے جو اس کے ساتھ ہو رہا ہے۔
جب وہ لڑکی تکلیف میں ہوگی…
تب ہی تبریز اور اس کی بیوی کو سزا مل سکے گی۔”
وہ ہلکی سا بےاختیار مسکراہٹ تھی… جو زخموں کے ساتھ مل کر عجیب لگتی ہے۔
“آج… سالوں بعد…
تبریز کیسے تڑپتا ہوا میرے دروازے تک پہنچا ہے…
ہاں… یہ سچ ہے…
میرے دل کو تسکین ملی…
جب وہ تڑپ کر میرے دروازے پر آیا…
سالوں کے بعد…
میرے جلتے ہوئے دل پر ٹھنڈک پہنچائی میرے آریان نے…”وہ ہاتھ سے آنسو صاف کرتی ہے… مگر آنکھیں اور بھاری ہو جاتی ہیں۔
“تم اور لالہ… صرف مجھ پر طنز کر سکتے ہو…
اس کے سوا تم دونوں کو آتا کیا ہے…”
“جتنا افسوس تمہیں ہے کہ میں تمہاری ماں ہوں…
اتنا ہی افسوس مجھے ہے…
کہ تم میرے بیٹے ہو…
اور افضل لالہ میرا بھائی…
جو میرے لیے… کچھ بھی نہیں کر سکتے…”
“اگر تمہاری نظروں میں کچھ کرنا کسی کی بیٹی کی تذلیل کرنا ہے، تو روشانے — ہمیں معاف کرنا؛ ہم تمہارے لیے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔۔۔
افضل خان کی بھاری آواز سن کر، صارم اور روشانے پلٹ کر دیکھے۔ افضل خان، جو ابھی ابھی اپنے کمرے سے نکل کر راہداری سے ہوتا ہوا جا رہا تھا، ان دونوں کی باتیں سن کر ان کی طرف آگیا۔۔۔
“تو میں بھی آپ کی بہن تھی۔
میرے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے تبریز نے یہ کیوں نہ سوچا کہ میری اور میرے بیٹے کی زندگی تباہ ہو جائے گی؟
آج اس لڑکی کے لیے آپ کی ہمدردی جاگ اُٹھی ہے، اور اپنی سگی بہن کے لیے کچھ نہیں؟”
“روشانے… حقیقت تم بھی جانتی ہو۔
نہ اس لڑکی نے تمہارا گھر برباد کیا، نہ تبریز نے۔
تمہارا گھر اُس دن ٹوٹا جب تمہاری ضد نے تمہاری عقل پر پردہ ڈال دیا۔
ہم نے تمہیں روکا تھا، سمجھایا تھا، تھامنے کی کوشش کی تھی…
مگر تم نے کسی کی ایک نہیں سنی۔
جب عورت اپنے ہی زخموں کو انا سمجھ کر سینے سے لگا لے،
تو پھر اسے نقصان کوئی نہیں دیتا…
وہ خود اپنے ہاتھوں خود کو برباد کرتی ہے۔”
“اب بھی تو سمجھا رہا ہوں روشانے۔۔۔
گزر چکا وقت واپس نہیں آتا، مگر آج کو برباد مت کرو۔
سالوں… تم نے زیادتی کی۔
عدالت کے حکم کے باوجود، تم نے تبریز کو اس کے بیٹے سے ملنے نہیں دیا۔
وہ شخص چاہتا تو تمہیں ذلیل و خوار کر دیتا۔۔۔
مگر اس نے نہیں کیا۔
یہ اس کا ظرف تھا، اس کی خاموشی تھی۔
تو کس بنیاد پر کہہ دوں کہ وہ شخص غلط تھا؟
طلاق دینے پر تم نے اسے خود مجبور کیا۔
یہ سب جانتے ہوئے… میں کیا قدم اٹھاتا؟
کس بات کا الزام اسے دیتا۔۔۔ اور کس بات پر تمہارا ۔۔۔ساتھ دیتا؟
روشانے، کبھی کبھی انسان خود اپنی آگ کا ایندھن خود بنتا ہے…”
افضل خان کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا تھا،
مگر آواز میں وہی برسوں کی تھکن،
وہی سچائی…
جو دلوں کو کاٹ دیتی ہے۔بھائی ہو کر وہ جو کچھ بول رہا تھا اس کے منہ سے نکلا ہر لفظ سچ ہی تو تھا۔مگر روشانے کو اس وقت اپنا بھائی اور بیٹا دونوں ہی اپنے خلاف کھڑے ہوئے دشمن نظر آرہے تھے۔۔
“بس کر دیں لالا!
آپ نے ایسی باتیں کر کے میرے بیٹے کو مجھ سے دور کر دیا ہے۔
آپ کو اپنی بہن پر ذرا سا ترس نہیں آتا؟
غیروں کی ہمدردیاں سمیٹتے سمیٹتے
آپ اپنی بہن سے ہی دور ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔
افضل خان نے گہری سانس لی،
غصہ نہیں تھا، بس تلخی تھی۔
“روشانے…
تمہارے یہ آنسو تمہیں سچا نہیں بنا سکتے۔
اور جہاں تک تمہارے بیٹے کی بات ہے…
میں نے کبھی اسے تمہارے خلاف کرنے کا سوچا بھی نہیں۔
سامنے کھڑا ہے…
اس سے پوچھ لو اگر میں نے ایک لفظ بھی بولا ہو۔۔۔”
اس نے صارم کی طرف اشارہ کیا۔
“تمہارا بیٹا بچہ نہیں، سلجھا ہوا نوجوان ہے۔
صحیح غلط پہچانتا ہے۔”
روشانے ایک تلخ ہنسی ہنسی۔
“ہاں… بہت سمجھدار ہے میرا بیٹا۔
اتنا کہ اسے کبھی اپنی ماں سچی نظر نہیں آئی۔
سالوں پہلے اس کے باپ نے مجھے ایک عورت کے لیے گھر سے نکالا،
مگر غلط صرف میں تھی… ہے نا؟
اور آج…
اسی عورت کی بیٹی کے لیے میرا بھائی اور میرا بیٹا میرے سامنے کھڑے ہیں۔
آج بھی غلط میں ہوں۔”
صارم کا دل بھاری ہو گیا تھا۔
وہ ماں کو ٹوٹتا دیکھ رہا تھا… لیکن سچ بھی سامنے تھا۔
“اماں…
کیا کروں؟
اپنے دل سے بابا کی محبت نکال دوں؟
ہاں، میں ان سے بہت پیار کرتا ہوں…
اور یہ بھی سچ ہے کہ میں آپ سے بھی کرتا ہوں۔
لیکن آپ ہمیشہ چاہتی تھیں کہ محبت صرف آپ کی ہو۔
یہ کیسے ہو سکتا تھا؟
وہ میرا باپ ہیں۔
میں نے آپ کے لیے خود کو ان سے دور رکھا،
آپ کی قسم نبھائی…
کتنی راتیں رو کر گزاری ہیں میں نے، آپ کو شاید یاد بھی نہیں۔
آپ کو بس اپنے درد کی آواز سنائی دیتی رہی…
میری نہیں۔”
صارم کی آواز بھرا گئی۔
“اور اب بھی آپ کو شکایت ہے کہ میں برا بیٹا ہوں۔
اگر میری ساری کوششوں کے بعد بھی آپ کو شکایت ہے…
تو شاید واقعی…
میں کبھی اچھا بیٹا بن ہی نہیں سکتا۔”
یہ کہہ کر صارم چلا گیا۔
کمرے میں ایک بھاری سناٹا رہ گیا۔
افضل خان نے بہن کو دیکھا۔
آنکھوں میں افسوس، اور تھکا ہوا سا غصہ۔
“خود کو نفرت اور حسد کی آگ سے نکال لو روشانے۔
ورنہ تم صرف خود نہیں…
آریان کو بھی جلا دو گی۔”
وہ بھی چلا گیا۔
روشانے وہیں کھڑی رہ گئی۔
آنسو نہیں بہہ رہے تھے،
کیونکہ جس دل کو اپنے سچ پر غرور ہو…
اس میں پچھتاوا نہیں رہتا۔
ایسا شخص سب سے خطرناک ہوتا ہے…
جو خود کو غلط سمجھنے کو تیار نہ ہو۔
وقت کے ساتھ ساتھ
وہ خود کو ہی ختم کر لیتا ہے۔
اور روشانے…
اسی راستے پر تھی۔۔۔جہاں وہ کھڑا تھا، صرف اپنی ذات کو صحیح سمجھ رہا تھا۔ اور جب انسان اس حد تک اپنے آپ کو ٹھیک مان لیتا ہے، تو ہر کوئی اسے اپنا دشمن نظر آنے لگتا ہے…
═══════❖═══════
عبیرہ اتنی گہری نیند میں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہوا کہ وہ کب سکاٹ لینڈ کے خوبصورت ایئرپورٹ پر اُتری۔ نہ یہ پتہ چلا کہ کب آریان خان کی چمکدار گاڑی، جو اسے لینے آئی تھی، وہاں پہنچ گئی۔ آریان خان نے اسے احتیاط سے اپنی باہوں میں اٹھایا اور گاڑی میں بٹھایا۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ وہ یہاں کیسے پہنچی، کتنے گھنٹے سوئی رہی، اور اس کے ذہن میں سوالوں کا طوفان چھا گیا۔ بھوک بھی اسے بے چین کر رہی تھی، شاید اسی لیے اس کی آنکھ اچانک کھل گئی۔
وہ سکاٹ لینڈ کے مہنگے اپارٹمنٹ کے خوبصورت کمرے کے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ کم روشنی کے باوجود، کمرے کی نرم روشنی نے ماحول کو دلکش بنا دیا تھا۔ آریان خان کے خاص پرفیوم کی مہکتی ہوئی خوشبو اس کے قریب ہونے کا احساس دلا رہی تھی، اور اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
یہ سوچنا بھی کافی تھا کہ عبیرہ گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔ وہ شخص، جس نے اسے اس کے اپنوں سے دور کر دیا تھا، اب اس کے قریب تھا۔ نیند میں بھی اسے احساس ہوا کہ وہ انسان، جو صرف اس کی نفرت کا مستحق تھا، اتنا قریب ہے کہ اس کے ہاتھ کی گرفت اس پر سے گزرتی ہوئی اتنی مضبوط تھی کہ عبیرہ ایک انچ بھی ہل نہ سکی۔
“کیا مصیبت ہے… مجھے بھوک لگی ہے اور میں اُٹھ بھی نہیں سکتی…”
عبیرہ نے بے بسی سے بڑبڑایا۔
قیدیوں کو مقررہ وقت پر کھانا دیا جاتا ہے، اور اپنی مرضی سے کھانے کی درخواست یا بڑبڑانا قیدی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عبیرہ کو تو لگا تھا کہ وہ سو رہاہے، لیکن جیسے ہی آریان خان نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی،اس کا بھرم ٹوٹ گیا۔ عبیرہ نے گھبرا کر آنکھیں پھر سے بند کر لی۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی دل باہر نکل کر گر جائے۔
آریان نے آہستہ سر اٹھایا اور اس کے چہرے پر نظریں گاڑیں۔ وہ جاگ رہی تھی، اس کی پلکوں کی خفیف حرکت سے آریان سمجھ گیا۔اس پر ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ نیند میں ہے۔مگر مقابل بے وقوف نہیں تھا۔
“ایسے نید کا ڈرامہ کر کے تم مجھے دھوکہ نہیں دے سکتی…آنکھیں کھولو اور یہ سونے کی ایکٹنگ بند کرو آریان خان کی آواز میں سختی تھی۔
مگر عبیرہ نے اپنی اداکاری جاری رکھی، حالانکہ دل میں اسے آریان سے واقعی خوف تھا۔ بھول گئی تھی کہ وہ کتنا ہوشیار اور محتاط ہے، اور کسی بھی لمحے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ جب عبیرہ نے اپنی اداکاری نہیں روکی، تو آریان نے اسے ہوش میں لانے کے لیے اپنا چہرہ آہستہ آہستہ اس کے قریب کیا اور لب نرمی سے اس کے گال کے پاس رکھ دیے۔ عبیرہ کی آنکھیں اچانک کھل گئیں، اور ایسا محسوس ہوا جیسے کسی مردے میں دوبارہ روح جاگ اُٹھی ہو۔
عبیرہ گھبراہٹ اور شرم کے بیچ سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ خفا نظروں میں اسے دیکھ کر بولی۔
“کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ کیسی… بدتمیزی ہے؟”
آریان کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ ابھری، جیسے وہ اس کے ردِ عمل سے پہلے ہی واقف تھا۔
“تم تو سو رہی تھیں… وہ بھی پوری گہری نیند میں۔ تو پھر کیا فرق پڑتا ہے محترمہ، میں کچھ بھی کروں؟”
وہ نرمی سے، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی بے باکی کے ساتھ بولا۔
عبیرہ اور بھی زیادہ سہم گئی۔
“میرے ساتھ اس طرح کی حرکت دوبارہ مت کیجئے۔ ورنہ…”
“ورنہ کیا؟”
آریان نے بات بیچ سے کاٹ دی، اس کی آنکھیں سیدھی اس کی آنکھوں میں پیوست تھیں۔
“کیا کرو گی؟ دھمکی؟ مجھے؟”
اس کی آواز میں ٹھہرا ہوا زہر نہیں تھا، لیکن ایک ایسا یقین تھا جس نے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کر دیں۔
“یہ دھمکیاں کسی اور کو دینا۔ اور ویسے بھی… تم اس وقت ایسی حالت میں نہیں ہو کہ میرے سامنے کوئی حد یا قانون کھینچ سکو۔”
وہ آہستہ بولا، لیکن جملوں کا وزن گھمبیر تھا۔
“تم ابھی مکمل طور پر میرے اختیار میں تھیں۔”
آریان کی نظروں میں ابھی بھی وہ لمحہ جھلک رہا تھا جو ابھی گزرا تھا۔
جیسے وہ قربت اب بھی اس کے سامنے موجود ہو، ختم ہی نہ ہوا تھا ۔۔
“اور میری دسترس… کتنی مضبوط ہے، یہ تو تم نے خود ابھی محسوس کیا ہے۔”
آریان تھوڑا سا پیچھے ہوا، مگر اس کی نگاہیں اب بھی اس کے چہرے پر مرکوز تھیں۔
“سوچ لو… کیا تم چاہتی ہو کہ میں مزید کوئی حد پار کروں؟
یا اتنا کافی ہے کہ تمہیں ہوش آ جائے۔۔۔یا پھر نیند سے اٹھانے کا مجھے اور کوئی انتظام کرنا پڑے گا ۔؟”
اس کی آواز میں نہ چیخ تھی، نہ سختی۔
صرف حقیقت تھی۔
اور حقیقت ہمیشہ سب سے زیادہ کاٹ دار ہوتی ہے۔
“جی نہیں، میں جاگ رہی ہوں۔ آپ کو اتنی محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
عبیرہ کا لہجہ بظاہر نرم تھا، مگر اس کے اندر کی تناؤ اور غصے کی جلتی ہوئی آگ صاف محسوس ہو رہی تھی۔
═══════❖═══════
Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.