Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:15
صلیب سکوت
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر:15
═══════❖═══════
”نہیں میری محنت کی تم فکر نہ کرو۔“
آریان کی آواز دھیمی تھی، مگر اس دھیمے پن کے نیچے عجیب سا کرب اور جارحیت چھپی ہوئی تھی۔
”اگر محنت نہیں کروں گا تو تمہیں اذیت کیسے دوں گا؟ اور اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو آریان خان کے دل کو سکون کیسے ملے گا؟“
کہتے ہوئے اس نے ہاتھ کی پشت آہستہ سے عبیرہ کے گال پر پھیری۔
کسی اور کے لیے یہ چھوٹا سا لمس شاید بے معنی ہوتا، مگر عبیرہ کے لیے یہ جبر تھا۔
وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ جان بوجھ کر اسے چھوتا ہے…
وہ جانتا ہے کہ اسے یہی ناگوار لگتا ہے…
اور وہ اسی بات سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔
عبیرہ نے سانس روکتے ہوئے اس کے ہاتھ کو جھٹک دیا، جیسے کوئی جلتے انگارے کو دور پھینکتا ہے۔
آریان کے چہرے پر ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
پھر وہ آہستہ سا جھکا، اور اس کی گرفت اچانک سخت ہو گئی۔
دونوں کلائیاں اس کے ہاتھوں میں تھیں، جیسے لوہے میں جکڑ دی گئی ہوں، مگر اس کی نگاہوں میں دہکتی ہوئی دھمکی تھی۔
”عبیرہ… آریان خان۔“
اسکےنام کو دانتوں تلے پیستے ہوئے پکارا تھا ۔
”یہ نام بھولنے کی غلطی مت کرنا۔ اور میرا ہاتھ جھٹکنے کی جرات بھی دوبارہ نہ کرنا۔“
وہ ہر لفظ کے ساتھ تھوڑا اور نزدیک آیا۔
عبیرہ نے گھبراہٹ زدہ نظروں سے چند لمحے اسے دیکھا۔
اور سوچا کہ وہ ہر بار اس کا نام سر نیم سے ہی کیوں ؟لیتا ہے۔
عبیرہ آریان خان۔جیسے یہ لفظ کوئی یاد دہانی کے لیے ہی بنا ہو۔
مگر عبیرہ کے لیے یہ لفظ زخم کی طرح چبھنے والا تھا۔ایک ایک پہچان جو زبردستی اس کے ساتھ جڑ چکی تھی۔
کبھی لگتا تھا وہ اسے یاد دلا رہا ہے
کہ اس کے نام کے ساتھ جڑ جانا کوئی معمولی بات نہیں۔اور کبھی ایسا لگتا۔جیسے وہ خود اپنے دل کو سمجھا رہا ہو۔کہ یہ رشتہ ٹوٹنے والا نہیں۔
نہ بھولنے والا۔
نہ مٹنے والا۔
مگر جو بھی تھا،یہ سر نیم…اب اس کی زندگی پر مہر کی طرح ثبت ہو چکا تھا۔وہ کیا سوچتا ہے کیا کرتا ہے یہ سمجھنا عبیرہ کے بس کی بات نہیں تھی وہ بہت گہری شخصیت کا مالک تھا۔۔وہ جتنا سمجھنے کی کوشش کرتی اتنی ہی الجھ جاتی۔
آریان کے ہاتھوں کی سختی سے عبیرہ کی کلائیوں میں درد ہونے لگا۔
“پلیز ہاتھ چھوڑیں مجھے….مجھے درد ہو رہا ہے…
٫٫تو ہونے دو، تم ایسی قابل ہو… جبڑے کو میچتے ہوئے ہاتھوں کی سختی کلائیوں پر مزید کس لی۔
“مم… مجھے بھوک لگی ہے۔”
وہ ڈری ہوئی آواز میں بولی۔۔۔عبیرہ کو اس وقت سر پھرے انسان سے بحث نہیں کرنی تھی ، جانتی تھی کہ بحث سے نقصان اس اپنا ہی ہوگا۔ اسی لیے جلدی سے بہنا بنایا کہ بھوک لگی ہے۔۔۔
مگر آریان خان کاجواب سن کر تو وہ جیسے، سن کو گئی ۔
“بھوک تو مجھے بھی لگی ہے۔”
آریان کی نظریں اس کی آنکھوں سے جمی رہیں۔
اس نے اپنا انگوٹھا اس کے گال پر آہستہ سے پھیرا۔
یہ لمس بہت ہلکا تھا، مگر اتنا واضح کہ دل کی دھڑکن ایک دم تیز محسوس ہونے لگے۔
عبیرہ نے نظریں ہٹا لیں۔وہ دیوار کی جانب دیکھتے ہوئے آنکھیں سختی سے بند کر گئی۔
آریان خان اسے پسند نہیں تھا ۔اس شخص سے وہ حد سے زیادہ نفرت کرتی تھی ، مگر یہ بات بھی سچ تھی
کہ آریان کی خوبصورتی کو نظر انداز کر نا مشکل تھا۔انسانی فطرت ہے کہ اسے خوبصورتی متاثر ضرور کرتی ہے۔اس پر انسان کا قابو نہیں ہوتا۔یہ ایک نیچرل احساس ہے ۔
آریان خان کےصاف تراشے ہوئے نین نقش۔
چوڑے کندھے۔کھلتی ہوئی سفید رنگت۔
اور وہ نظروں کا سیدھا، بےخوف انداز۔
بالکل ایسے جیسے اسے یقین ہو
کہ سامنے والا اس کی گرفت سے نکل ہی نہیں سکتا۔اس کی پر کشش آنکھوں میں زیادہ دیر تک دیکھا نہیں جاسکتا تھا۔
وہ جھکا ہوا تھا۔ بہت قریب۔
اتنا قریب کہ اس کی سانسیں عبیرہ کے چہرے سے ٹکرا رہی تھیں۔
اور تب اسے اندازہ ہوا۔
وہ نشے میں ہے۔
مگر پھر بھی وہ اپنے ہوش کو قابو میں رکھے ہوئے تھا۔اپنی حد کے بارے میں اچھی طرح سے جانتا تھا۔
اس کی سانسوں میں صرف ٹھنڈی منٹ کی خوشبو تھی۔کوئی بدبو نہیں۔ کوئی گندگی نہیں۔اتنا تو اب تک جان چکی تھی کہ سامنے بیٹھے شخص کو اپنی نفاست بہت عزیز تھی۔
بس ایک عجیب سی نشیلی قربت۔
اور یہی چیز عبیرہ کو اور بھی زیادہ گھبرانے پر مجبور کر رہی تھی۔اور مقابل اس کی گھبراہٹ سے اچھی طرح واقف تھا۔
”چلو، فیصلہ تم پر چھوڑتا ہوں۔ جلدی سے بتاؤ، پہلے اپنی بھوک کا انتظام کروں یاتمہاری بھوک کا؟“
اسے قریب رکھتے ہوئے سرگوشی میں کہا۔
عبیرہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
اس لمحے آریان کی موجودگی اور اس کا قریب ہونا عبیرہ کے لیے ایک چیلنج بن گیا، جسے نے اسے اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔اپنے آپ کو کھو دینے ڈر جیسے بہت قریب آتا ہوا نظر آرہا رہا ہو۔
مگرمقابل اس کی اڑی ہوئی رنگت کو دیکھ مطمئن تھا کہ وہ وہی راستے پر جا رہا ہے ۔وہ یہی تو چاہتا ہے کہ وہ ڈری سہمی ہوئی رہے۔۔
“خیر چھوڑو۔ تمہارا دماغ بہت چھوٹا ہے، اتنا زور مت ڈالو۔ میں خود فیصلہ کر لوں گا۔”
عبیرہ کی خاموشی کو بھانپتے ہوئے وہ دوبارہ سرگوشی میں بولنے لگا۔
اس کی آواز نے عبیرہ کی دھڑکنیں بے ترتیب کر دیں۔
آریان کی قربت دل میں عجیب سی سنسنی دوڑ گئی۔یہ سب بہت الگ تھا ،آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں ہوا۔۔جیسے دل نیچے کی طرف جاتے ہوئے بند ہونے لگاہو۔۔۔
جیسے سمندر کی ریتلی زمین پر، پاؤں رکھے ہوئے واپس جاتی لہروں میں ریت کے ساتھ دل بھی جارہا ہو ۔کچھ ایسا ہی عبیرہ کو لگا۔زبان پرقفل لگ گیا ہو جیسے۔
“ویسے انسان پہلے اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ دوسرے کی بھوک کے بارے میں یہ تو انسانی فطرت ہے۔”
“میرے خیال سے پہلے تم میری بھوک مٹاؤ۔ پھر میں تمہاری بھوک کا انتظام کروں گا۔”
وہ عبیرہ کی گھبراہٹ کو دیکھتے خود سے ہی فیصلہ کر چکا تھا ۔ آہستہ سے اس کے قریب جھکنے لگا۔جیسے اس کے صبر کا امتحان لینا چاہتا ہو۔۔۔
“پلیز…. پلیز ایک بار میری بات سنو۔”
عبیرہ گھبرا گئی۔ اس کی پلکیں لرز رہی تھیں۔
اس کے لہجے اور نظروں میں پہلے جیسی سکون نہیں تھا۔۔
عبیرہ کی گھبراہٹ کو محسوس کرتے ہوئے آریان نے خود کو تھوڑا ساکت کیا۔
نظریں اٹھائیں اور اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔
“ہمم… بولو…”
اس نے کہا جیسے کہ وہ عبیرہ کو بولنے کی اجازت دے کر احسان کر رہا ہو۔
“میں۔۔میں جانتی ہوں میں آپ کے سامنے بہت کمزور ہوں۔ آپ مجھ پر قابض ہونے کی طاقت رکھتے ہیں، ہر لحاظ سے میں آپ کے سامنے بے بس ہوں۔
پلیز، ایک بار میری ساری بات دھیان سے سنیں۔ اس کے بعد جو فیصلہ ہوگا، میں خدا کی رضا سمجھ کر قبول کر لوں گی۔”
وہ گھبراہٹ سے بولتی گئی، جبکہ آریان نے گہری سانس لیتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
“یہ اردو ادب کی لیکچرار مت بنو، مدّے کی بات پر آؤ۔ کہنا کیا چاہتی ہو؟”
آریان خان نے ناگواری سے کہا تھا۔
جن لمحوں کی قید میں وہ خود کو محسوس کر رہا تھا، ان لمحوں میں عبیرہ کی مداخلت اسے زہر لگ رہی تھی۔
عجیب تھا یہ شخص۔
نہ اس وقت اس کا اپنی زبان پر کنٹرول تھا، نہ دماغ پر، نہ دل پر۔
اور چلا تھا دشمنی نبھانے۔
“میں جانتی ہوں آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں!”
وہ جھجھکی، نظریں اس کے چہرے سے ہٹا لیں۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔”
آریان کی آواز میں ہلکی سی سختی اتر آئی۔
“اور میں نے کب کہا کہ تم کوئی ننھی بچی ہو، جسے میرے تقاضے سمجھ نہیں آتے؟”
“مگر میں اس سب کے لیے تیار نہیں ہوں!”
عبیرہ کے لہجے میں غیر معمولی ٹھہراؤ تھا۔
ورنہ تو وہ ذرا سی بات پر گھبرا جانے والی لڑکی تھی۔
مگر ہمیشہ سے وہ اپنے حق کے لیے بولنا جانتی تھی۔
آج بھی شاید وہی ہمت، وہی جنون اس کے اندر سے سر اٹھا رہا تھا۔
گویا خدا نے لمحہ بھر کے لیے اس کے دل میں ایک مضبوطی اتار دی ہو۔
“سچ میں تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارا پابند ہوں؟
یا تمہاری بات میرے لیے اتنی اہمیت رکھتی ہے کہ تمہارے کہنے پر میں رک جاؤں گا؟
اس کے لبوں پر ایک ہلکی، طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔
“میں نے تم سے نکاح کیا ہے۔ تم میری بیوی ہو۔
جائز حقوق لینا کب سے غلط ٹھہرا…؟
وہ ایسے بول رہا تھا جیسے واقعی حق اس کے پاس ہو۔
جیسے وہ جو کر رہا ہے، وہی ٹھیک ہے۔
کہیں کوئی غلطی نہیں۔
بات کہتے ہوئے اس نے جان بوجھ کر عبیرہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
ہاتھ کی وہ گرفت نرم نہیں تھی۔
وہ احساس نہیں، ایک یاد دہانی تھی
کہ وہ اس پر قابض ہے
اور چاہتا ہے کہ عبیرہ یہ بات ہر پل محسوس کرے۔
اسے عبیرہ کی وہ مضبوط نظریں پسند نہیں تھیں۔
وہ ضبط، وہ سکون، وہ حوصلہ
جو اس کے احتجاج کے باوجود بھی ٹوٹ نہیں رہا تھا۔
آریان اسے توڑنا چاہتا تھا۔
ایسا توڑنا کہ وہ لڑکی پھر سے خود کو سنبھال نہ سکے۔
اس کے لیے اسے جو بھی کرنا پڑے، وہ تیار تھا۔
“صحیح اور غلط کے بارے میں اگر آپ اسلام کے دائرے میں رہ کر پوچھ رہے ہیں تو اسلام میں عورت کی رضا کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔“
عبیرہ نے تھوڑے لڑکھڑاتے ہوئے بولنا شروع کیا، مگر اپنی ہمت نہیں چھوڑی۔ تھوک نگلتے ہوئے بات جاری رکھی ۔
”کہیں نہیں لکھا کہ آپ نکاح کر کے زبردستی کو حقوق کا نام دے سکتی ہیں اور وہ جائز ہو جائے گا۔“
اس نے بات پوری کی، ہر لفظ میں عزم اور اعتماد صاف محسوس ہو رہا تھا۔
“زبردستی سے بنائی ہوئی بیوی سے حق لینے سے پہلے انسان ہونے کا حق تو ادا کر لیں۔“
ابھی بھی اس کی نظریں ڈھیلی نہیں پڑیں، وہ اپنے موقف پر قائم تھی۔
“تمہیں بہت اسلام کے بارے میں نالج ہے۔۔۔“
آریان خان کے لہجے میں سختی اترنے لگی تھی.
۔
”الحمدللہ، میں ایک مسلمان ہوں اور اسلام میں عورت اور مرد کے حقوق کے بارے میں سب جانتی ہوں۔۔۔“
”دائرہ اسلام میں رہ کر کیا صحیح ہے اور کیا غلط، اللہ اور کے رسول نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میاں بیوی کے رشتے کے بارے میں کیا فرمایا، سب بتا سکتی ہوں۔۔۔“
عبیرہ کے لہجے میں سختی تھی، الفاظ تھوڑے ٹوٹ رہے تھے مگر سختی برقرار تھی۔
آریان کا قریب ہو کر جھکنا اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہا تھا۔
اس کا بس چلتا تو اسی وقت اسے دھکیل کر کمرے سے باہر پھینک دیتی، مگر بعض اوقات انسان بے بس اور مجبور بھی ہوتا ہے۔
“تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اور میں کسی غیر مذہب سے تعلق رکھتا ہوں؟“
آریان خان عبیرہ کے لہجے میں چھپے ہوئے تنزوں کو سمجھ گیا۔
اچانک وہ پیچھے ہٹا کر بیٹھ گیا، اس کی نظروں میں شعلے بھڑک اٹھے تھے۔
اس کے دل میں ایک عجیب سا غصہ اور الجھن ایک ساتھ اُبھرا، جیسے کسی نے آئینہ دکھا دیا ہو اور اپنا ہی چہرہ دیکھ کر روح کسی نے جھنجوڑ دی ہو۔۔
دونوں کے درمیان فاصلہ اب بھی زیادہ نہیں تھا، مگر عبیرہ کے لیے سانس لینا ذرا سہل ہو گیا تھا۔ ہلکی سی دوری بنتے ہی اس کے دل سے بےاختیار شکر کے کلمات نکلے، اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے اپنے منتشر حواس یکجا کیا۔ ماتھے پر چمک آنے والے پسینے کے قطرے اُس نے زخمی ہاتھوں سے آہستگی سے صاف کیے، مگر ماتھا تو پہلے ہی زخموں سے چور تھا۔ایسے میں اپنا ہاتھ بھی اسے ہتھوڑے کی مانند محسوس ہو رہا تھا۔
وہ بیڈ کے کنارے بیٹھا تھا، سرخ چہرہ لیے بیٹھا تھا پاؤں۔ بیڈ سے نیچے لٹکے ہوئے؛ غصے کی شدت سے رگیں ابھری ہوئی تھیں اور جبڑا مضبوطی سے بیچ رکھا تھا۔ شاید سارا غصہ اسی پر نکالا جا رہا تھا۔ مگر عبیرہ کے دل کو تھوڑا سا اطمینان ہوا کہ اس کی باتوں نے واقعی اثر دکھایا ہے۔
عبیرہ تکیے پر سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ فضا میں ایک کڑوا سا سناٹا چھایا تھا، اور اس کی سانسیں زور زور سے سنائی دے رہی تھیں۔عبیرہ نے ایک نظر اس کے غصے والے چہرے کی جانب دیکھا۔۔
“اگر آپ مسلمان ہیں تو پھر آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ اسلام میں شراب پینا حرام ہے اور آپ نے حرام کو پی کر خود کو سیراب کر رکھا ہے، میرا نہیں خیال کہ آپ کو مسلمان کہلانے کا حق ہے۔۔۔
عبیرہ نے ہمت باندھتے ہوئے ایک اور ضرب اس کے سخت ایمان سے بھٹکے ہوئے دل پر لگائی، آریان نے کھا جانے والی نظروں سے اس کی جانب دیکھا، جیسے ابھی اسے جان سے مار ڈالے گا۔
“شٹ اپ۔۔۔”
آریان خان نے غصے سے کہا۔
”میرے سامنے زیادہ مولانا صاحب بننے کی ضرورت نہیں۔ میں مسلمان ہوں یا نہیں، یہ مجھے بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔“
”اور اب اگر میرے ساتھ زبان درازی کرنے کی کوشش کی تو زبان کاٹ کر ہتھیلی پر رکھ دوں گا۔آریان نے اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا،
مگر ارادہ کچھ ایسا ہی تھا۔
ناجانے، کس وجہ سے خود کو قابو میں رکھ لیا۔
“کیوں، مسٹر آریان خان، سچائی برداشت نہیں ہوئی جو ایک کمزور عورت پر ہاتھ اُٹھانے کے بارے میں سوچ رہے ہو۔۔۔“
عبیرہ کی آنکھوں میں دھڑکنے والا غصہ صاف محسوس ہو رہا تھا۔
”آپ نے کہا تھا کہ کسی بے بس عورت پر ہاتھ اُٹھانا آپ اپنی مردانگی کی توہین سمجھتے ہیں، تو میں کیا سمجھوں آج آپ اپنی توہین کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟“
آریان نے کچھ نہیں کیا تھا، مگر اس کے دماغ میں آنے والی سوچ کو محسوس کرتے ہوئے، عبیرہ کے لہجے کی شدت نے اسے اندر سے جھنجھلا دیا۔ دل چاہا کہ وہ اس لڑکی کو ایک الٹے ہاتھ کی لگا دے، مگر یہ سوچ صرف دماغ تک محدود رہی۔ عمل کرنے کا ارادہ اس کے اندر کبھی پیدا نہیں ہوا۔
“اٹھ کر میری نظروں سے دور ہو جاؤ! تمہیں عزت دینا میری سب سے بڑی غلطی تھی۔ تم عزت کے لائق نہیں، تم میری جوتی بننے کے لائق ہو، وہی بن کر رہو!“
اس کے ہاتھ کے اشارے سے عبیرہ سمجھ گئی اور بیڈ سے اُترنے کی کوشش کرنے لگی۔
آریان خان کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ غصے سے چہرہ سرخ تھا اور جبڑے کے کنارے تن کر رگیں ابھری ہوئی تھیں۔ عبیرہ کی نظریں اس کے چہرے پر جم گئیں، اس کے اندر چھپی ہوئی شدت کو دیکھ کر دل میں تھوڑی سی سنسنی سی دوڑ گئی۔
زبردستی آپ کی قربت میں شامل ہونے سے بہتر ہے
کہ میں اپنی رضا سے آپ کے قدموں کی خاک بن جاؤں۔۔۔
اگر شراب پی کر میری بے حرمتی کر کے آپ مجھے عزت دینا چاہتے ہیں تو میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں، مجھے آپ کی عزت کی ضرورت نہیں آپ مجھے سے جوتے صاف کروا کر ذلت دیں مجھے وہی منظور ہے۔۔۔”
وہ بیڈ سے اٹھی، چپل پہنتی ہوئی۔ پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کھڑی ہوئی تو جھٹکے سے اٹھنے پر اس کے پیٹ کے زخم پر ایک دردناک جھٹکا محسوس ہوا۔بے اختیار اس کے منہ سے ایک آہ نکل گئی۔
“ویل ڈن، عبیرہ۔ اپنا یہی ایٹیٹیوڈ رکھو۔
تمہیں خون کے آنسوں نہ رلائے تو میرا نام آریان خان نہیں۔
آریان غصے سے اپنی ایک ٹانگ مسلسل ہلا رہا تھا۔
پتہ نہیں ایک لمحے کی کمزوری کیسے اس کے اندر عبیرہ کی نظروں کے سامنے ظاہر ہو گئی۔
پچھتاوا نہیں، صرف شدید غصہ اپنی ذات پر تھا،
مگر وہ اپنا غصہ اب عبیرہ پر ظاہر کر رہا تھا۔جیسے اس کمزور لمحے کی قصور وار وہ ہو۔۔
“الحمدللہ، میرا ایٹیٹیوڈ ہمیشہ یہی رہے گا۔
میں جانتی ہوں، میں حق پر ہوں۔
عبیرہ کی آنکھوں میں اعتماد جھلک رہا تھا، لبوں پر خاموشی کی ہلکی سی مسکان۔
بس ایک بات یاد رکھیں، مرد کی فطرت میں چھپے بھیڑیے کو کبھی آزاد مت کرنا۔
آج بھی عورت اکثر ایسے بھیڑیے کے سامنے کمزور ہو جاتی ہے۔
ورنہ، انشاءاللہ ، عبیرہ ہر آزمائش پر ثابت قدم رہے گی۔نہ گھبراؤں گی، نہ بھاگوں گی، نہ پیچھے ہٹوں گی۔
“یہ تمہاری بھول ہے، عبیرہ…”
آریان خان کے لہجے میں غرور بھی تھا اور زہر بھی۔
“تم یہ سوچ بھی کیسے سکتی ہو کہ آریان خان کے دیے گئے امتحانوں پر پوری اُتر سکو گی؟”
وہ تلخی سے مسکرایا، جیسے کسی نادان کو حقیقت کا سبق پڑھا رہا ہو۔
“تھوڑی سی عزت کیا دے دی، تمہارے لہجے میں خودداری آنے لگی ہے۔ تم خود کو کوئی نایاب ہیرے کی طرح خاص سمجھنے لگی ہو، ہے نا؟”
وہ قدرے جھک کر بولا، آواز میں سختی بھی تھی اور تمسخر بھی۔
“میرے سامنے تم ایک عام سی لڑکی ہو، بہت عام…”
وہ لمحہ بھر کے لیے رکا، نظروں میں غرور اور چہرے پر بے نیازی تھی۔
“لڑکیاں میری ایک نظر کے لیے ترستی ہیں ،دعائیں مانگتی ہیں ، میرے وقت کے لیے، میری توجہ کے لیے۔۔۔ اور تم”
وہ آخری لفظ پر رُک گیا، پیشانی پر تیور مزید گہرے ہو گئے۔”تم خود کو اُن سب سے الگ سمجھتی ہو؟”لہجے میں ایسی تلخی تھی جیسے عبیرہ کواس کی اوقات دکھا رہا ہو۔۔
“میں تھوکتی ہوں اُن لڑکیوں پر جو تمہارے حسن، دولت اور تمہاری جھوٹی شان سے متاثر ہو کر اپنی عزت بیچ دیتی ہیں،
لعنت ہے اُن پر جو تم جیسے خوبصورت مگر درندہ صفت مردوں کے سامنے خود کو کمزور کر دیتی ہیں،لعنت ہے اُن پر جو اپنے ماں باپ کے بھروسے کو روند کر
اپنی خواہشات کے پیچھے اُن کی عزت تک داؤ پر لگا دیتے ہیں۔۔۔
بدبخت ہیں وہ لڑکیاں جن کے دلوں میں ماں باپ کی عزت کی کوئی قدر نہیں رہتی۔
مسٹر آریان خان، ہر عورت کو ایک ہی ترازو میں مت تولو، میں اُن میں سے نہیں جو دولت کی چمک دمک یا حسن کے پیچھے بھاگتی ہیں،
میں نے ہمیشہ اپنے رب سے یوسفؑ جیسا شوہر مانگا تھا ۔ جو اپنی عزت کی حفاظت ایک پاک دامن عورت کی طرح کرے،
مگر شاید میری دعائیں اتنی سچی نہیں تھیں، تبھی تم میری زندگی میں آئے ۔ میری آزمائش بن کر، میرے گناہوں کی سزا بن کر۔”
کمرے میں جیسے سناٹا اتر آیا تھا۔ آریان کی آنکھوں میں غصے کی سرخی اور گہری ہو گئی تھی، چہرے کی رگیں تن چکی تھیں، مگر ضبط اب بھی کسی حد پر قائم تھا۔
عبیرہ اپنی بات پوری کرتے ہوئے دل کا سارا غبار نکال کر اب خاموشی سے کھڑی تھی، انگلیاں ایک دوسرے میں الجھی ہوئی تھیں، جیسے اپنے ہی اندر سکون تلاش کر رہی ہو۔ وہ بار بار اپنا ہاتھ اٹھا کر ماتھے پر رکھتی، جہاں زخم کی گہری چوٹ سے درد کی تیز لہر اُٹھتی تھی۔ لب کپکپاتے مگر آنکھوں میں ایک ضد، ایک وقار باقی تھا۔
وہ کمزور نہیں دکھنا چاہتی تھی
اور شاید یہی بات آریان کے اندر مزید طوفان اٹھا رہی تھی۔کچھ دیر کی خاموشی کے بعد طوفان کی ایک نئی لہر اٹھی تھی۔اور وہ جانتی تھی کہ وہ لہر کسی بھی حد تک خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ سامنے بیٹھا شخص برداشت کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔
آریان لمحہ بھر کو ساکت رہ گیا۔
اس کی آنکھوں میں غصے کا لاوا ابل رہا تھا، مگر اندر کہیں وہ شعلے جیسے کسی طوفان سے ٹکرا کر کمزور پڑ گئے ہوں۔
وہ عبیرہ کے لفظوں کو جھٹلا دینا چاہتا تھا، مگر ہر جملہ جا کر اس کے ضمیر پر دستک دینے لگا۔
چہرے پر سختی بدستور تھی، مگر اندر کہیں بہت کچھ ٹوٹنے لگا تھا …. شاید وہ غرور تھا… یا وہ زخم کہ وہ سب پر حاوی ہے … سب سے اعلیٰ، سب سے خوبصورت، سب سے ذہین۔
آج اُس زخم کو جیسے کسی نے ٹھوکر مار دی تھی۔
“تم خود کو سمجھتی کیا ہو؟ معمولی شکل و صورت رکھنے والی تم مجھے اتنے لمبے چوڑے گیان دے رہی ہو… کیا ہو تم اوقات کیا ہے تمہاری جو خود پر اترا رہی ہو۔؟”
آریان خان کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا۔ وہ سخت لہجے میں گرجتے ہوئےبیڈ سے اُٹھا اور کھا جانے والی نظروں سے عبیرہ کی طرف بڑھا۔انداز ایسا تھا جیسے چیل مردہ گوشت کی طرف چپٹتی ہے۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی اپنی نظروں سے اسے جلا ڈالے گا…
عبیرہ اس کے یوں اچانک قریب آنے سے خوفزدہ ضرور ہوئی، مگر آج اس نے اپنے دل میں ہمت کا چراغ اپنے رب کے نام پر جلایا تھا۔اپنی جگہ پر قائم کھڑی رہی تھی ۔۔
اس نے دل ہی دل میں عہد کیا تھا کہ جو کچھ اس کے دل میں ہے، وہ ضرور کہے گی۔
اور اس کے رب نے واقعی ہمت دی تھی۔۔۔ اس کے لبوں سے وہ سب کچھ نکل گیا جو کبھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
رب سے بڑی کوئی طاقت نہیں ہوتی۔
جب انسان آنکھیں بند کر کے اسی طاقت پر یقین کر لے، تو پھر خوف اُس سے خود ہی رخصت ہو جاتا ہے۔
“آپ مجھے کیا میری اصلیت دکھائیں گے؟”
عبیرہ کی آواز میں ٹھہراؤ تھا، مگر لہجے میں وہی زہر گھلا ہوا اعتماد۔
“میں خود جانتی ہوں، اور بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ آپ بہت خوبصورت ہیں… اور میں آپ کے مقابل کچھ نہیں۔ مگر میرا کردار۔۔۔ وہ آپ سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔ مجھے فخر ہے اپنے کردار پر۔”جس شکل پر تم اتنا غرور کر رہے ہو، وہ تو رب کی عنایت ہے۔
حسن ملا ہے تو اللہ کا دیا ہوا تحفہ ہے، اس پر شکر کیا کرو ،غرور نہیں،ل۔۔۔۔۔غرور کرنے کے لیے،کاش اپنے ہاتھوں سے کردار بھی سنوار لیتے۔”
اس کے لبوں پر ہلکی سی، مگر مغرور سی مسکراہٹ اُبھری….ایک ایسی مسکراہٹ جو آریان خان کے وجود میں بھڑکتے شعلوں پر تیل کا کام کر گئی۔
شاید آریان خان نے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ عبیرہ اس کے سامنے یوں ڈٹ کر کھڑی ہو جائے گی۔
اُس لمحے، جیسے کسی نے اُس کے غرور کی بنیاد پر کاری ضرب لگائی ہو۔اس کے سینے میں کچھ ٹوٹا، مگر چہرے پر صرف سختی اُتری۔
وہ لمحہ بھر کے لیے خاموش رہا… جیسے خود سے جنگ لڑ رہا ہو۔
غرور، غصہ، تکلیف… سب کچھ ایک ساتھ اس کے اندر سُلگنے لگا۔
اور وہ سُلگن، کسی اعتراف سے کہیں زیادہ اذیت ناک تھی۔۔”
“تم اپنی زبان بند کرو، ورنہ میں کچھ ایسا کر دوں گا کہ تمہاری زبان اپنے آپ میرے سامنے خاموش ہو جائے۔۔۔”
آریان اس کے اتنے قریب تھا کہ ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے پر آریان کی گرم سانس کی ہوا محسوس ہوئی، اور دل نے ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔
مگر عبیرہ نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔ وہ بس آئینہ دکھانا چاہتی تھی، اور وہ تیر بالکل نشانے پر لگ چکا تھا۔
“کیوں، مسٹر آریان؟ سچائی برداشت نہیں ہو رہی؟
آپ مجھے یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو بھی…. غرور ہے… اپنے کردار پر۔
میں خاموش ہو جاؤں گی، لیکن ایک بار جِگرے کے ساتھ بولیں تو صحیح۔”
عبیرہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ اس کے لہجے میں ٹھہراؤ تھا، مگر ہر لفظ میں تناؤ اور جرات جھلک رہی تھی۔
آریان خاموش تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جواب دینا آسان نہیں، مگر اس کی نظریں اور چہرے کی کیفیت اس کے اندرونی اضطراب کو چھپانے میں ناکام تھیں۔
“کیا ہوا…. نہیں بول سکتے….عبیرہ نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے افسوس سے کہا…”کیونکہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کا کردار بہت میلا ہے…
لڑکیوں کو اپنی خواہشوں کی خلوت کا حصہ بنانا
لڑکیوں کے دلوں اور اُن کے بھروسے کے ساتھ کھیلنا
یہ پاک دامن مردوں کا چلن نہیں
اور نہ ہی ہمارا دین ایسی پستی کی اجازت دیتا ہے۔۔۔
اور پھر بھی آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ حیران ہوں میں آپ کی دیدہ دلیری پر…”
“تم دفع ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ میں کچھ ایسا کروں کہ تمہیں اپنے کردار کے ٹکڑے سمیٹنے پڑیں…”
وہ جو بول رہا تھا، عبیرہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔
“ایک مرد کے پاس عورت کو نیچا دکھانے کے لیے یہ دھمکی دینے کے سوا اور کچھ نہیں رہتا، اور یہی دھمکی اس کی طاقت پر وار کر جاتی ہے۔”
عبیرہ، جیسے کہ اندر سے ڈری ہوئی تھی مگر ظاہر کچھ نہیں ہو رہا تھا، شائد اس نے دل میں قید ہر بات کہہ دینے کا عہد کر لیا تھا۔”
“سنا ہے یا نہیں؟ جاؤ…؟ میں تمہاری شکل بھی دیکھنا چاہتا ہوں…”
وہ غصے سے آپے سے باہر ہو کر چلایا تھا۔۔عبیرہ کہ لفظ اس کو شائد آئینہ دکھا رہے تھے۔ غصے سے جھپٹ کر عبیرہ کہ کے بازو سے کھینچتے ہوئے، دروازہ کھول کر اسے باہر دھکا دیا۔۔۔۔ اور دروازے کو سختی سے بند کر دیا ۔”دروازہ، پوری شدت سے مارا گیا تھا، اتنا زور سے بند ہوا کہ اس کی آواز سے در و دیوار تک ہل گئے۔”
عبیرہ کے زخمی وجود کو جس طرح دھکیل کر باہر کیا گیا، پورے جسم میں درد کی لہر دوڑ گئی۔
سر پہلے ہی درد سے پھٹنے کو تھا،
پورا وجود درد کی لپیٹ میں تھا۔ مگر جو تکلیف اس وقت محسوس ہو رہی تھی، وہ زخموں پر مرہم کی طرح آرام دے رہی تھی۔وہ اپنی آبرو کو بچا کر زخموں کے بیچ خود کو پر سکون محسوس کر رہے تھے۔
دروازے کی دوسری جانب۔
آریان نے دروازہ زور سے بند کیا۔ سارا غصہ دروازے پر نکالا گیا تھا۔پیچھے ہٹ کر دروازے کی سائیڈ والی دیوار سے ٹیک لگائی۔ آنکھیں بند تھیں، مگر ہر سانس کے ساتھ عبیرہ کی موجودگی محسوس ہو رہی تھی۔
عبیرہ نے بند دروازے کی جانب دیکھا۔ مسکراہٹ میں ایک عجیب سی فتح تھی، مگر آنکھیں نم تھیں۔
“میری شکل دیکھنے کی ہمت اس لیے نہیں ہے، کیونکہ آئینے میں آپ کو اپنا بد کردار عکس نظر آ رہا ہے…
مسٹر آریان خان، اپنا بد کردار چہرہ دیکھ کر آپ خوفزدہ کیوں ہو گئے ہیں؟”
اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ہر لفظ میں درد اور جرات کا مرکب جھلک رہا تھا۔
باہر سے آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔۔۔جسے سن کر بھی۔۔۔آریان خاموش رہا۔ آنکھیں بند، دیوار سے ٹیک لگائے، مگر دل و دماغ میں عبیرہ کہی ہوئی کڑوی باتوں کو شدت محسوس کر رہا تھا۔ اندرونی اضطراب چھپا نہ تھا۔
عبیرہ نم آنکھوں کے ساتھ قدم اُٹھا کر گھر کے میں پڑے مہنگے صوفوں میں سے ایک پر بیٹھی۔گھر کی ہر قیمتی بے جان سی پڑی ہوئی چیز جیسے اس کے تنہائی کے احساس کو بڑھا رہی ہو۔ وہ رونے لگی۔ خوف اور حیا کی لڑائی آنکھوں میں صاف تھی۔اپنی آبرو کو بچانے کے لیے وہ جتنی مرضی خود کو بہادر ثابت کر آئی تھی مگر اندر سے وہ ایک کمزور لڑکی تھی۔
اس وقت خدا کے سوا کوئی آسرا نہ تھا۔ کوئی اپنا نہیں تھا جس کے ساتھ وہ اپنا دُکھ بانٹ سکتی۔ ہر سانس میں درد اور جرات تھی،گزرتا ہوا خاموش لمحہ عبیرہ کی طاقت اور اندرونی کمزوری دونوں کو ظاہر کر رہا تھا۔
وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے ہوئے تھے۔۔۔ یارم خان کو سوچ کر وہ بے اختیار رو پڑی۔ اس نے ہمیشہ یارم خان جیسا شخص اپنے شوہر کے روپ میں تصور کیا تھا، مگر آریان اور یارم کی شخصیت کہیں بھی میل نہیں کھاتی تھی۔۔۔
“کیوں۔۔۔ کیوں نہیں آئے اس دن ؟ اگر آپ آ جاتے تو آج میں یہاں نہ ہوتی۔۔۔” وہ روتے ہوئے دل ہی دل میں یارم خان سے پوچھ رہی تھی، جیسے وہ بالکل اس کے سامنے ہو اور اس کی بات سن سکتا ہو۔
“مگر میں اس شخص سے شکوہ کیسے کر سکتی ہو؟ وہ تو آیا تھا، مجھے ڈھونڈنے… اور میں ہی ڈر گئی تھی۔ کاش! جو ہمت میں نے اب دکھائی، وہ اس وقت دکھا دیتی… عبیرہ تنہائی میں خود سے ہی سوال کرتی، خود ہی جواب دیتی، اور خود سے ہی یارم کو قصوروار کہتی، خود ہی اسے بے قصور ٹھہرا دیتی۔۔۔
اے اللہ! مجھے کس آزمائش میں ڈال دیا ہے؟ اللہ تو دلوں کا حال جانتا ہے… میں نے کبھی تنہائی میں بھی کسی ایسے شخص کے بارے میں نہیں سوچا تھا جسے تو نے میرا مقدر بنایا۔ کیا واقعی یہ ہمیشہ کے لیے میرا مقدر بن چکا ہے؟کیا کبھی مجھے اس سے آزادی نہیں ملے گی۔؟
سسکیوں کے درمیان، روتی ہوئی عبیرہ نے اوپر دیکھا، مگر اس کی نظر میں آسمان نہیں بلکہ اس جدید اپارٹمنٹ کی چھت تھی۔ سب کچھ سادہ مگر مہنگا، نفیس اور سنجیدہ لگ رہا تھا۔ فرنیچر سیدھا، صاف لکڑی اور ہلکے رنگوں کے مخمل کے صوفے، قالین نرم اور کم نقش و نگار والے، دیواریں ہلکی رنگت کی اور کم سے کم آرٹ ورک سے مزین، چھت پر چھوٹے کرسٹل لیمپ کی نرم روشنی پورے کمرے میں پھیل رہی تھی۔۔
۔ ہر شے میں آریان خان کی نفاست اور سنجیدگی جھلک رہی تھی، کچھ زیادہ نہیں، مگر ہر چیز اپنی جگہ مکمل اور پراثر تھی۔بالکل اس کی ظاہری شخصیت کی طرح۔
مگر یہ سب عبیرہ کے لیے قید کی علامت تھی۔ وہ انہی سادہ، مگر مہنگے اور نفیس ماحول کے بوجھ تلے اپنی سانسیں گھٹتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔ ہر شے اسے آزادانہ پرواز سے روک رہی تھی۔اس سے نفرت تھی یہاں کی ہر قیمتی چیز سے اور ان ساری چیزوں کے مالک سے۔
“آج تو خدا نے اس شخص کے پیر پیچھے موڑ لیے اور میری عزت بچا لی، مجھ پر اپنی رحمت کا سایہ کر دیا… ورنہ شراب کے اثر میں گرا ہوا شخص، میرے ساتھ کہنے کو جائز رشتہ قائم کر لیتا، مگر میرے نزدیک تو وہ رشتہ ہمیشہ ناجائز اور غلط رہتا۔”
“میرے دل نے آریان خان کو اپنے شوہر کے روپ میں تسلیم نہیں کیا، تو پھر آریان خان کی قربت کو کیسے قبول کر سکتی تھی؟
یا اللہ، مجھے اسی طرح مضبوط اور ثابت قدم رکھ… وہ اپنے دل میں خاموشی سے دعا کر رہی تھی۔
آسان نہیں ہوتا کہ اپنی عزت کسی کے ہاتھ میں دے دی جائے۔
آج، آریان خان کی خاموش نظروں کی مانگ کو سمجھ کر وہ بے اختیار لرز اُٹھی، اور اس کی روح تک چھلنی ہو گئی۔”
“اس کے صبر کی حد ختم ہو چکی تھی… نہ تو اس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ تھا اور نہ ہی اس کا دل اس وقت اس شخص کو شوہر کے روپ میں تسلیم کر رہا تھا۔
لیکن اس کے صبر کا پیمانہ اُس وقت لبریز ہوا جب اس نے آریان خان کو نشے کے عالم میں پایا، اور دیکھا کہ وہ نکاح کے دائرے میں اپنے حقوق پورے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔”
“کیا میرا نصیب اتنا بے رحم ہے کہ یہ خوبصورت رات… شروعات نشے کے عالم میں موجود اس ناپسند شخص کے ساتھ ہوگی؟
میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتی کہ یہ میرا محرم ہے، مگر دل اسے محرم کے روپ میں بھی تسلیم نہیں کر پا رہا۔
اس رشتے کو سوچ کر بے اختیار آنسوؤں اور سسکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔”
“اس وقت میں یارم کی یادوں سے خود کو آزاد کرنا چاہ رہی تھی، کیونکہ کچھ دیر پہلے ہی میں نے آریان کو اسلام کے دائرے میں رہنے کے بہت سے اصول سمجھائے تھے… اور اب، آریان خان کے نکاح میں ہوتے ہوئے یارم کے بارے میں سوچ کر، میں خود اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں سے باہر جا رہی ہوں۔عبیرہ خود کو ملامت کر رہی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ کسی کے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی نامحرم کے بارے میں سوچنا بھی گناہ ہے، اور وہ خود کو گناہ کی مرتکب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ زندگی عجیب سی کشمکش میں پڑ چکی تھی، اسے کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔
جب انسان لاچار ہو جاتا ہے، اسے کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ جب انسان نہیں جانتا کہ اس کی منزل کیا ہے، جب انسان پوری طرح ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے، اس وقت ایک ذات ہے جس کی یاد انسان کو شدت سے آتی ہے۔ اور انسان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ ذات اسے اپنے در سے خالی نہیں موڑے گی۔ وہ ذات ہے رب کائنات کی۔
اور جب بندہ ٹوٹ کر اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے، اس وقت جو سکون، جو محفوظ ہونے کا احساس ہوتا ہے، وہ انسان لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔
وہ اُلجھی ہوئی سوچوں کے ساتھ اُٹھ کر سامنے بنے روم کا دروازہ کھولتی ہوئی بے خیال نظروں سے چاروں طرف دیکھتی گئی، پھر روم کے واش روم میں جا کر وضو کیا اور باہر آ گئی۔ وضو کرتے ہی دل میں ایک سکون سا اترنے لگا تھا۔ یہ وہ سکون ہے جو دنیا کی ساری دولت دے کر بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
وضو کر کے روم میں آ کر اس نے جائے نماز ڈھونڈنا چاہا، مگر اسے کہیں کوئی جگہ نظر نہیں آئی۔ روم سے نکل کر گھر کے ان حصوں میں گئی جہاں روشنی تھی، وہاں چلتی رہی، مگر نہ تو کہیں جائے نماز دکھائی دیا، اور نہ ہی نماز کے لیے کوئی جگہ۔
کتنے افسوس کی بات تھی کہ اتنے خوبصورت، لگژری اپارٹمنٹ کے اندر، جو کہنے کو ایک مسلمان کا گھر تھا، ہر آسائش موجود تھی، سوائے جائے نماز اور قرآن پاک کے۔ ایسا شخص خود کو مسلمان بول رہا تھا، اور اس بات پر جتنا بھی افسوس کیا جائے، کم ہے۔
عبیرہ نے اپنے دل میں سوچا اور افسوس کیا۔اس شخص کی شان و شوکت، اس کی شخصیت… ہر چیز اسے بے معنی لگ رہی تھی۔
وہ آریان خان کو دل ہی دل میں کوستے ہوئے واپس اسی روم میں آگئی جس میں وُوہ وضو کرکے گئی تھی۔۔۔ پتہ نہیں کس طرف منہ کر کے نماز پڑھنی ہے، کس طرف قبلہ ہے، کس سے پوچھو۔ اس نے دل میں سوچا، اللہ کو یاد کرتے ہیں۔
کمرے کے ایک کونے جس طرف اس کا دل مطمئن تھا، اُس رخ کو اپنا قبلہ مانتے ہوئے اُس نے اللہ اکبر کہہ کر شانوں تک ہاتھ اُٹھا کر اللہ کی بارگاہ میں خود کو حاضر کر لیا۔۔۔
کیونکہ اس کے بابا نے ایک بار اُسے بتایا تھا کہ اللہ کے محبوب نے اللہ کے حکم کو کچھ اس طرح سے بیان کیا کہ جب انسان کسی ایسی جگہ پر ہو جہاں اُسے سمجھ نہ آئے کہ اُس کا قبلہ کس طرف ہے تو جس جانب اُس کا دل مطمئن ہو، اُس جانب رخ کر کے وہ اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو سکتا ہے۔۔۔
کون سی نماز کا وقت تھا وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی۔ بس دل نے کہا کہ شاید یہ عشاء کا وقت ہے۔ وُوہ عشاء کی نماز ادا کرتے ہوئے، دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے ہوئے، دعا مانگنے سے پہلے رو رہی تھی، اُس کے شدت سے بہتے ہوئے آنسو اُس کی گود کو بھگو رہے تھے۔۔۔
اے میرے اللہ!!
تو ہر کسی کے دل کی بات سے واقف ہے، تو میرے دل کی بات بھی جانتا ہے۔ میں نے تجھ سے ہمیشہ ایک پاک دامن شخص کی دعا کی، ہمیشہ تیرے راستے پر چلنے والا، پانچ وقت کا نمازی، نیک شخص مانگا تھا۔۔۔
اے میرے اللہ!!
میں تیرے سامنے شکوہ نہیں کر رہی ہوں، نہ ہی میری اوقات ہے کہ میں تیرے سامنے شکایت کر سکوں۔۔۔
تو میرا رب ہے، تو نے جو کچھ میرے نصیب میں لکھا ہے، میں اس پر سر جھکاتی ہوں۔
مگر میرے حصے میں جو شخص آیا ہے وہ تیرے راستے پر نہیں چلتا، وہ تیرا نافرمان بندہ ہے۔۔۔
وہ زنا کا عادی ہے، زنا کو وہ اپنی ٹھاٹ سمجھتا ہے، اپنی خوبصورتی پر اس کو غرور ہے، کاش یہ غرور اسے اپنے کردار پر ہوتا تو میں بھی شاید اس کے کردار پر فخر کرتی۔۔۔
تیرے حکم کو نہ مانتے ہوئے وہ شراب پیتا ہے، جسے اسلام میں حرام کہا گیا ہے، اسے پینا اس کا شوق ہے۔۔۔
اسے اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی، اے اللہ! یہ شخص کھلے عام دو کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہے، جس کی تیرے دین میں معافی نہیں۔۔۔
اے میرے اللہ!!
بتا، میں اس شخص کے ساتھ کیسے رہوں؟ شاید میں اپنی قسمت سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کرتی کیونکہ اس شخص نے مجھ پر ایک احسان کیا ہے۔۔۔
وہ چاہتا تو مجھے بدلے کی آگ میں جھونکنے کے لیے، مجھے اغوا کر کے ویسے بھی اپنے ساتھ رکھ سکتا تھا، مگر اس نے مجھ سے نکاح کیا۔ اس کا یہ احسان ساری زندگی مجھ پر رہے گا۔۔۔
میرے اللہ، میں اس کو شوہر کے روپ میں تسلیم نہیں کر پا رہی۔۔۔
مجھے راستہ دکھا دے یا مجھے صبر دے۔۔۔
“صبر کا سلیقہ نہیں مجھ میں، یا رب العالمین، میرا دل اپنی رضا میں راضی کر دے”۔
نماز کے بعد، رو رو کے دعا کرنے پر وہ خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔۔۔
اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے سارے دُکھ خدا کو سنا کر پُر سکون ہو گئی ہو۔۔۔
وہ کب سجدے میں سر رکھے ہوئے سو گئی، اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔”پتہ نہیں کتنی دیر تک وہ سوتی رہی… اس کی آنکھ تب کھلی جب اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا۔
═══════❖═══════
کمرے کی فضا میں عجیب سی ثقل بھری ہوئی تھی… ایسا بوجھ جو نہ صرف کمر پر، بلکہ دل کے ہر گوشے پر گرا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ ہر لمحہ، ہر سانس اس بوجھ کو اور گہرا کر رہا تھا۔
کھڑکی کے پردے بند تھے، پھر بھی روشنی کی ہلکی سی لکیر اندر آ کر فرش پر ایک پتلی، خاموش سی امید بن کر پھیل رہی تھی… جیسے رب کی طرف سے بھیجا گیا خاموش پیغام، کہ ہر اندھیرا کبھی دائمی نہیں ہوتا۔
اللہ چاہتا تو ہمیشہ کی رات بنا دیتا… یا ہمیشہ کا دن رکھ دیتا… زندگی ایک ہی رنگ میں گزر جاتی… مگر اس نے رات بھی دی، دن بھی دیا، تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ ہر حال بدلتا ہے… اور ہر امتحان کے بعد روشنی ضرور آتی ہے، چاہے اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو…
بس یہی اصل سبق ہے… کہ انسان پل بھر کی حالت پر نہ گھبرائے، نہ غرور کرے… رب اپنی حکمت سے ہر رنگ بدل کر یاد دلاتا ہے کہ اختیار اُسی کے ہاتھ میں ہے۔
تبریز خان صوفے پر بیٹھا تھا۔
ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں اس شدت سے جڑی ہوئی تھیں، جیسے وہ خود کو گرنے سے بچا رہا ہو۔
آنکھیں خالی تھیں، مگر دل ہر سانس کے ساتھ دھڑک رہا تھا، ایک خاموش کشمکش اور بے بسی کے ساتھ، جو ہر لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔
اس کے ذہن میں بس ایک ہی خیال گھوم رہا تھا۔۔۔اس کی بیٹی کہاں ہے؟ کیا وہ محفوظ ہے؟ ہر لمحہ اس کی تنہائی اور صدمے کی شدت کو اور بڑھا رہا تھا۔
ہر سانس کے ساتھ، ہر ہلکی روشنی کی لکیر اسے یاد دلاتی تھی کہ وہ کتنا بے بس ہے،
وہ اپنے سر کو ہاتھوں میں چھپا کر بیٹھ گیا، دل دھڑک رہا تھا، ذہن میں ایک ہی سوال گھوم رہا تھا۔ “میری بیٹی کہاں ہے؟”
خاموشی اس کے ارد گرد چھائی ہوئی تھی، مگر اس خاموشی میں ہر لمحہ اس کی اندرونی چیخ سنائی دے رہی تھی۔
اور وہ بس صوفے پر بیٹھا، اپنی بیٹی کی یاد، رب کی حکمت، اور اپنی بے بسی کے درمیان… خاموشی سے دعا کر رہا تھا کہ یہ اندھیرا جلد ختم ہو جائے، اور روشنی پھر سے لوٹ آئے۔
ایک ہفتہ گزر چکا تھا… پورا ایک ہفتہ… اور اُس ہفتے نے تبریز خان کے اندر کی عمر کئی سال بڑھا دی تھی۔
گھر کے ہر کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔
وہ خاموشی جس میں کبھی ہنسی کی گونج ہوا کرتی تھی… مگر اب صرف ایک خلا تھا۔
اور اس خلا کے سب سے قریب ماحد تھا…
ایک جوان لڑکا، مگر دل کا وہ حصہ جو بہن سے بندھا تھا، ٹوٹ کر بکھر چکا تھا۔
تبریز خان کو پتہ تھا کہ وہ اسے سنبھال نہیں پا رہا۔
اور شاید خود کو بھی نہیں۔
اسی ٹوٹے ہوئے لمحے میں ماحد کمرے میں داخل ہوا…اس نے دروازہ بند نہیں کیا ۔چہرے پر بے چینی اور غصہ تھا۔
“بابا… جب آپ جانتے ہیں کہ عبیرہ آپی کہاں اور کس کے پاس ہیں… تو آپ کچھ کر کیوں نہیں رہے؟ آخر کس بات کا انتظار ہے آپ کو؟”
ماحد کی آواز کمرے کی خاموشی کو چیرتی ہوئی نکلی۔
وہ صبر جو ایک ہفتے سے گرتی ہوئی ریت کی طرح اس کے ہاتھوں سے پھسل رہا تھا،
تبریز خان نے آنکھیں اوپر اٹھائیں۔
یوں جیسے کسی نے اندر کے سمندر میں پتھر پھینک کر لہریں جگا دی ہوں۔
ماحد مزید ضبط نہ کر سکا۔
وہ وہی بھائی تھا جو اپنی بہن کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہتا تھا…
اور آج پورا ہفتہ گزر چکا تھا۔
کھانا… بات چیت… زندگی۔۔۔۔سب جیسے بےمعنی الفاظ بن گئے تھے۔
پورا گھر عبیرہ کے بغیر سنسان، خالی، اور بےجان لگ رہا تھا۔
“بابا… پلیز… کچھ تو کہیں۔ کچھ تو کریں۔”
تبریز خان نے گہری سانس لی، جیسے جواب دینا بھی کسی زخمی حصے کو چُھونے کے برابر ہو۔
“ماحد بیٹا… تمہیں کیا لگتا ہے، میں کوشش نہیں کر رہا؟تو پلیز خان نے ٹھہراؤ کے ساتھ جواب دیا لہجے میں درد واضح تھا۔
بیٹی ہے میری… میری گھر کی روشنی… ہر لمحہ اس کی فکر میرے ساتھ چلتی ہے۔”
مگر بریز خان کے جواب سے ماحد کی آنکھوں میں بھڑکتے ہوئے سوال کی آگ کم نہ ہوئی۔
“بابا، ہم پولیس اسٹیشن چلتے ہیں… ایف آئی آر درج کروا دیتے ہے… جب اُن کی فیملی پکڑی جائے گی تو آریان خان خود عبیرہ کو لے کر واپس آئے گا۔”
تبریز خان کا ضبط ایک لمحے کو ڈگمگایا۔
اس نے بیٹے کی طرف دیکھا…
وہ بیٹا جس کی روح اپنی بہن کی یاد میں تڑپتی ہوئی کر رہی ہوتی جا رہی تھی۔مگر جو کچھ اس نے کہا وہ تبریز خان کبھی چاہ کر بھی نہیں کر سکتا تھا۔
“کس کو تھانے لے جاؤں، بیٹا؟
آریان خان کے باپ کو؟ جس کا کوئی قصور نہیں؟
جو خود میرے ساتھ کھڑا ہے عبیرہ کو ڈھونڈنے میں میری مدد کر رہا ہے ؟
یا صارم کو پکڑوا دوں؟
وہ صارم… جو تمہارا بھائی ہے…
جو عبیراٹ کو اپنی بہن سمجھ کر پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈ رہا ہے؟
یا پھر اُس عورت کو…؟
جس کا دماغ نفرت سے سڑا ہوا ہے،
جس کے جھوٹ نے آریان کے دل میں زہر بھر دیا ہے…؟”
تبریز خان کی آواز تھکی ہوئی تھی۔
دھیمی… مگر سچائی سے بھری ہوئی۔
“بتاؤ مجھے، بیٹا… کس کو قید کرا دوں میں؟
“اور بیٹا کسی کے ساتھ کتنی بھی گہری دشمنی کیوں نہ ہو۔ مگر کسی کی عزت پر وار کرنا انسانیت سے گرا ہوا عمل ہے۔
“یہ بات انہوں نے کیوں نہیں سوچی…. لہجہ ماحد کا لہجہ شعلوں سے لپٹا ہوا تھا۔
“اگر میں بھی بالکل آریان کی طرح سوچوں تو پھر کیا فرق ہے اس میں اور مجھ میں…
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ… آریان کا سراغ کسی کے پاس نہیں۔”ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
بھاری… ناقابلِ برداشت۔لمحہ بھر کے رکتے ہوئے تبریز خان نے بات کو پھر سے جوڑ دیا۔
“آریان بچپن سے تیز دماغ تھا… گھر کی فون لائنیں جوڑ کر سب کی باتیں سن لیا کرتا تھا۔۔۔یہ سب اس وقت صرف ایک کھیل تھا۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ بڑا ہو کر اس کھیل سے لوگوں کی زندگیاں تباہ کرے گا۔۔تبریز خان کی آنکھوں میں ماضی کے کچھ پڑنے پلٹ گئے ۔گہری سانس لی اور پھر سے اپنے بیٹے ماحد کی جانب دیکھا۔۔
“اس کے گھر والوں کو اس کے بارے میں کچھ نہیں پتہ… وہ کسی کے ہاتھ نہیں آ رہا۔
اس نے خود تک آنے والا ہر راستہ بند کر دیا ہے۔
کوئی نشان… کوئی سراغ… کچھ بھی پیچھے نہیں چھوڑا۔”
ماحد کی نظریں زمین میں گڑتی چلی گئیں۔
اس کی بے بسی جیسے لفظوں سے باہر نکل کر کمرے میں پھیل گئی تھی۔
“بابا سب ٹھیک ہے ….مگر میں اب بھی یہی کہوں گا کہ….ہمیں پولیس کا سہارا لینا چاہیے.
“پولیس والے بھی انسان ہوتے ہیں، بیٹا…
جب ہاتھ میں کوئی سرا ہی نہ ہو… تو وہ کس طرف سے اسے پکڑ لائیں…؟”تبریز خان نے آہستہ سے کہا
ماحد کچھ دیر کے لیے چپ ضرور تھا
مگر اس کی آنکھوں میں جلتا ہوا انگارہ اب بھی پوری شدت سے دہک رہا تھا۔
جیسے درد نے اس کے سینے میں مستقل ٹھکانا بنا لیا ہو۔
تبریز خان جو پہلے عروب کی خراب طبیعت کی وجہ سے بہت پریشان تھا، عبیرہ کی ٹینشن لینے کی وجہ سے عروب کی طبیعت سنبھل نہیں پا رہی تھی، کھانا پینا چھوڑ کر بستر سے لگ کر رہ گئی تھی۔۔۔
عروب کی گرتی ہوئی صحت کو لے کر تبریز خان بہت پریشان تھا، دوسری طرف اس کی جان سے پیاری بیٹی، ماضی میں ہوئی ایک غلط فہمی کی وجہ سے ٹوٹ جانے واےرشتے کی سزا بھگت رہی تھی، جبکہ اس معصوم کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔
اسے ایسے گناہ کی سزا دی جا رہی تھی جس کے بارے میں وہ جانتی تک نہیں تھی۔۔۔
وہ تو اس بات سے بھی انجان تھی کہ اس کے باپ کی پہلے کہیں شادی ہوئی تھی، وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی ماں کا ماضی کیا بھی تھا ۔کچھ بھی تو نہیں جانتی تھی۔
تبریز خان کوئی سی بات کا ڈر تھا کہ سب کچھ جان کر اس کے دل پر کیا گزرے گی؟ وہ اپنے باپ کے بارے میں کیا سوچے گی؟ یہ سب باتیں تبریز خان کے دماغ میں کہرام مچائے ہوئے تھیں۔۔۔
خاموشی کے لمحات کو تبریز خان کی ایک اٹھنے والی نظر نے توڑا، جو اس نے ماحد کے چہرے پر ڈالی۔۔۔
ماحد کی آنکھوں میں چھپے ہوئے درد اور بے بسی کے آنسو نمایاں تھے، جیسے کوئی لمبا عرصہ رکھی ہوئی تڑپ، اب ان آنکھوں کے دریچوں سے باہر نکلی ہو۔۔۔
تبریز خان کی نظریں، جو سالوں کے تجربے اور بے شمار فکر کی لپیٹ میں ڈوبی تھیں، بس ایک لمحے کے لیے ماحد کی آنکھوں میں جا بسی، اور وہ جان گئے کہ بیٹے کا دل کس قدر جل رہا ہے، کس قدر اپنی بہن کی یاد میں بے چین ہے۔۔۔
مگر اسے ماحد کا رونا ناگوار گزرا تھا۔۔۔
تبریز خان کے نزدیک مرد کا کمزور پڑنا ایک جرم تھا، ایک ایسا جرم جو طاقت اور حوصلے کی تعریف کے خلاف تھا، اور یہ جرم، وہ بھی ان کی نظروں کے سامنے، ان کا بیٹا کر رہا تھا۔۔۔
تو وہ چپ کیسے رہ سکتے تھے؟ کیسے خاموش بیٹھ سکتے تھے، جب دل کے اندر ایک طوفان دوڑ رہا تھا، اور ہر سانس میں بیٹے کی بے بسی اور درد کی گونج سنائی دے رہی تھی؟
“ماحد… تم مرد ہو کر رو رہے ہو۔۔۔”
“رونا مردوں کا شیوہ نہیں ہے۔۔۔”
تبریز خان نے ماحد کی آنکھوں میں چھپے ہوئے آنسوں کو دیکھ کر، اپنی آواز میں وہ گرج پیدا کی جو کمرے کی خاموشی کو چیر دے، اور ہر لفظ میں سالوں کی فکر، درد اور بے بسی کی تہہ جھلک رہی تھی۔۔۔
“کہاں لکھا ہے کہ مرد رو نہیں سکتا، یہ کیسا قانون ہے؟ چاہے جتنی مرضی تکلیف میں ہو رونا نہیں ہے ۔۔۔”
“آپ سمجھ رہے ہیں اس وقت میرے دل پر کیا گزر رہی ہے؟؟”
“بابا، اگر آپ کا اور ماما کا کوئی ماضی تھا تو آپ کو ہمیں بتانا چاہیے تھا۔۔۔”
“شاید ہم آپ کے ماضی کے بارے میں کچھ جانتے تو آج میری بہن، آپ کے ماضی کی وجہ سے، سزا نہ بھگت رہی ہوتی، وقت رہتے میں اپنی بہن کی سکیورٹی کا انتظام کر سکتا تھا۔۔۔”
“آپ نے اپنا ماضی چھپا کر، میری بہن کی زندگی مصیبت میں ڈال دی۔۔۔”
ماحد، جو ہمیشہ شریف اور سلجھا ہوا انسان تھا، جس نے کبھی زبان درازی نہیں کی، آج اپنی بہن کو کھو دینے کے ڈر میں، مجبور ہو کر اونچی آواز میں بول رہا تھا۔۔۔
ورنہ وہ کبھی اپنے بابا سے بلند آواز میں بات کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ شاید یہ ایک بھائی کی محبت تھی، جو بے لگام ہو کر اسے اونچا بولنے پر مجبور کر گئی۔۔۔
مگر اسی لمحے ایک آواز گونجی، جس میں حیرانی بھی تھی، شفقت بھی اور غصہ بھی۔۔۔
“ماحد بیٹا… یہ تم کس انداز سے اپنے بابا سے بات کر رہے ہو۔۔۔”
ماحد کی اونچی آواز سن کر عروب کی آنکھ کھل گئی تھی۔ وہ چلتی ہوئی اس کمرے میں آگئی، جہاں تبریز خان تنہائی میں بیٹھنا پسند کرتا تھا، اکثر اپنی خاص کتابوں کا مطالعہ کرنے کے لیے وہ یہاں بیٹھتا۔
جس جگہ دونوں، باپ اور بیٹا، الجھے ہوئے نظر آرہے تھے، وہاں اب عروب کی موجودگی نے ایک اور تہہ ڈال دی تھی، ایک خاموش تناؤ اور غیر یقینی سکون کی آمیزش۔۔۔
ماحد اور تبریز خان دونوں نے ایک ساتھ عروب کی سمت دیکھا۔۔۔
عروب اندر قدم رکھتی ہے۔ اس کی نظروں میں خفا پن چھپا ہوا تھا، وہ ایک نظر شرمندہ سے تبریز خان کے چہرے کی جانب دیکھتی ہے، پھر اپنے بیٹے کی جانب اپنی نگاہیں مرکوز کر کے اس کی سوچ اور باتوں کو پڑھنے کی کوشش کرتی ہے۔
ماحد، شرمندہ سا نظریں جھکا گیا،
“پلیز ماما، معاف کیجیے گا، میں اپنے لہجے کے لیے شرمندہ ہوں، مگر میری بات غلط نہیں ہے۔۔۔”
“آپ دونوں کے ماضی نے میری بہن کا مستقبل خراب کر دیا ہے۔۔۔”
ماحد کا لہجہ اب بھی کافی سخت اور روڈ تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں دکھ اور بے بسی کی چمک بھی واضح تھی، جیسے وہ جانتا ہو کہ اس کی بات سچ ہے، اور یہی سچ اسے بولنے پر مجبور کر رہا ہے، چاہے دل کے اندر کتنا ہی خوف کیوں نہ ہو۔۔۔
ماحد، ماضی میں جو کچھ ہوا… اس میں تمہارے بابا کی کوئی خطا نہیں۔ اپنے بابا سے اُس لہجے میں دوبارہ بات مت کرنا، میں نے تمہیں ایسی تربیت نہیں دی…‘‘
عروب کے لہجے میں ٹھنڈک نہیں، ایک زخمی ماں کی کپکپاتی ہوئی ناراضی تھی۔
وہ بیٹا، جو کبھی والدین کے سامنے آواز بلند نہیں کرتا تھا—آج جب اس کی آواز بلند ہوئی تو دونوں دلوں پر جیسے کسی نے نوکدار پتھر رکھ دیا ہو۔
ماں باپ کے لیے اولاد کی اونچی آواز ہمیشہ تیر کی طرح لگتی ہے… اور اسی تیر کی چبھن سے اس وقت عروب اور تبریز، دونوں گزر رہے تھے۔
“خانم… آپ خاموش ہو جائیں۔ آپ کسی کی جواب دہ نہیں ہیں۔ اگر ہمارے اپنے بیٹے کو یہ لگتا ہے کہ ہم قصوروار ہیں تو ٹھیک ہے… آپ ایک لفظ بھی اپنی صفائی میں نہیں کہیں گی۔‘‘
تبریز خان کی بھاری، رُوبدار آواز کمرے میں یوں گونجی جیسے کسی نے تیز ہوا کے آگے دروازہ بند کر دیا ہو۔
اس ایک جملے نے ماحد اور عروب۔۔۔دونوں کو لمحہ بھر کے لیے خاموش کر دیا تھا۔
ان کے درمیان پھیلی فضا میں باپ کے رعب، دکھ اور ضبط… تینوں کی خوشبو واضح محسوس ہو رہی تھی۔۔۔تبریز خان نے نظریں چرائیں… مگر اُس لمحے اُن کی آنکھوں میں وہی پرانی سی نمی تیر گئی تھی، جو ہر باپ اپنے بچوں کے سامنے چھپا کر رکھتا ہے۔۔۔اپنے رعب کی حفاظت کے لیے، اپنی کمزوریوں پر خاموش رہنے کے لیے۔۔
عروب نے ماحد کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں وہ نمی تیر رہی تھی جو کسی تھکے ہوئے چراغ کی لو میں لرزتی روشنی جیسی ہوتی ہے
آواز میں ناراضی بھی تھی مگر وہ ماں کی بے بسی کے نرم چرکے میں لپٹی ہوئی تھی
لفظ یوں بہہ رہے تھے جیسے دل کی دیوار پر رکھا بوجھ قطرہ قطرہ پگھل کر لبوں تک آ رہا ہو
“نہیں خان میں یہ برداشت ہی نہیں کر سکتی کہ ہمارا اپنا بیٹا آپ کو غلط سمجھے
اگر کسی کو گہرے میں کھڑا کرنا ہے تو وہ اپنی ماں کو کرے
میرے بیٹے کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ اس کی ماں کی عزت بچانے کے لئے اس کے باپ نے کیا کچھ قربان کیا تھا۔۔۔ان قربانیوں کا صلہ ایسا تو ہرگزی نہیں ہونا چاہیے۔اس کو پتہ ہونا چاہیے۔ اس کی ماں کی حفاظت کرتے ہوئے۔
اس کے باپ کا گھر اجڑ گیا تھا
اس کا بیٹا اس سے دور ہو گیا تھا
ایک ہنستا بستا گھر لمحوں میں راکھ ہو گیا تھا
یہ سب اس کو پتہ ہونا چاہیے ،
تاکہ اگلی بار وہ اپنے باپ پر انگلی اٹھانے سے پہلے ایک لمحہ ضرور رکے
سوچے
اور پھر سمجھے
کہ اس کے باپ نے ماضی میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا جس پر انگلی اٹھائی جا سکے۔عروب اپنے بیٹے کی جانب دیکھتے ہوئے دکھ بھرے لہجے میں بولتی چلی جا رہی تھی۔
“خانم… میں نے کہا تھا خاموش ہو جائیں۔
ڈاکٹر نے منع کیا ہے سٹریس سے،
اور میں نہیں چاہتا کہ ماضی کی بے فائدہ باتیں
آپ کے دل پر نیا بوجھ ڈالیں۔۔۔”
“اور رہی یہ بات کہ میری ہستی بستی گھرستی میں آگ لگ گئی
تو اس آگ کی وجہ آپ نہیں تھیں،
گھر وہی بچتے ہیں
جن کے اپنے مکین انہیں بچانا جانتے ہوں۔۔۔
میرے اپنے ہونے کا دعویٰ کرنے والےلوگ نہ سمجھ سکے،
بس بات اتنی سی ہے۔۔۔”
تبریز خان کے لہجے میں
روشانے کے نام پر وہی ٹھنڈا سا سکوت تھا،
وہی برسوں کا دبایا ہوا گلہ
جو لفظوں میں کم
اور خاموشی میں زیادہ دکھتا ہے۔۔۔
“خانم… میں نے کہا تھا خاموش ہو جائیں۔
ڈاکٹر نے منع کیا ہے سٹریس سے،
اور میں نہیں چاہتا کہ ماضی کی بے فائدہ باتیں
آپ کے دل پر نیا بوجھ ڈالیں۔۔۔”
٫٫اور رہی یہ بات کہ میری ہستی بستی گھرستی میں آگ لگ گئی
تو اس آگ کی وجہ آپ نہیں تھیں،
گھر وہی بچتے ہیں
جن کے اپنے لوگ انہیں بچانا جانتے ہوں۔۔۔
میرے ساتھ رہنے والے لوگ مجھے نہ سمجھ سکے،
بس بات اتنی سی ہے۔۔۔،،
تبریز خان کے لہجے میں
روشانے کے نام پر وہی ٹھنڈا سا سکوت تھا،
وہی برسوں کا دبایا ہوا گلہ
جو لفظوں میں کم
اور خاموشی میں زیادہ دکھتا ہے۔۔۔
ماحد بے حد الجھا ہوا اپنے ماں باپ کو دیکھ رہا تھا
بدتمیز وہ کبھی تھا ہی نہیں
بد تہذیب بھی نہیں
مگر آج اس کے لہجے کی تیزی
اپنے ہی ماں باپ کی آنکھوں میں وہ نمی بھر گئی
جو شاید اسی کے لفظوں کی چوٹ سے ٹپکی تھی۔۔۔
“پلیز مجھے معاف کر دیں، میں نہیں جانتا کہ ماضی میں ایسا کیا تھا جس کی وجہ سے بابا کی سابقہ زندگی میں اتنی زیادہ اُلجھنے پیدا ہو گئیں۔۔۔” مائد کی آواز میں تھوڑی نرمی تھی، ہونٹوں کے کنارے پر چھوٹی سی لرزش، اور آنکھوں میں چھپی فکر اسے ایک نازک مگر پختہ فترت نوجوان کی جھلک دے رہی تھی۔
٫٫میں نہیں جانتا کہ بابا کا کوئی بیٹا بھی تھا مگر ماما ہمیں یہ سب کچھ جاننے کا حق تھا، آپ اس بات کو رد نہیں کر سکتے۔۔٫٫ اس کی باتوں میں حوصلہ اور عاجزی ایک ساتھ جھلک رہی تھی، ہر لفظ سوچ کر اور دل کی شدت کے ساتھ نکل رہا تھا۔
٫٫شاید ہمیں آپ کے ماضی کے بارے میں سب پتہ ہوتا تو آج عبیرہ آپی کی زندگی میں اتنی مشکلات پیدا نہ ہوتیں۔۔۔،،مائد کی ہلکی جھکاؤ والی ادا، اور نظریں نیچی ہونے کے باوجود دل میں چھپی سچائی کی شدت، یہ سب اس کے اندر کے درد کو ظاہر کر رہی تھیں۔
٫٫اگر مجھے حقیقت پتہ ہوتی تو شاید آج میں غلط فہمی کی بنا پر بابا کے لیے کچھ سخت جملے، بول نہ بولتا جس سے آپ کی دل آزاری ہوتی۔۔۔،،اس نے ایک لمحہ کے لیے رک کر الفاظ کو جیسے محسوس کیا، اور ہونٹوں پر ہلکی سی لچک، آنکھوں میں اندرونی سوچ کی جھلک تھی۔
٫٫میں جانتا ہوں مجھے آپ کے ماضی کے بارے میں بغیر سوچے سمجھے بولنے کا حق نہیں تھا۔۔۔،، نظریں زمین کی طرف جھکی ہوئی، مگر لہجے میں سمجھداری کی روشنی واضح تھی۔
٫٫ماحد کو شاید اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا کہ اسے کوئی حق نہیں کہ وہ اپنے ماں باپ پر انگلی اُٹھائے، آخر وہ اندر سے ایک بہت سمجھدار، سلجھا ہوا انسان تھا۔۔۔،،
٫٫اپنے بیٹے کا یوں سمجھداری سے بات کو سنبھالنا اور ٹھہراؤ سے بات کرنا تبریز خان کو اچھا لگا تھا۔ ماحد کا لہجہ بالکل ویسا ہی تھا جس طرح کی وہ امید رکھتا تھا۔ گہری سانس لی اور اپنے بیٹے کی جانب دیکھا۔٫٫
٫٫بیٹا، کچھ چیزیں انسان جان بوجھ کر اپنے پیاروں سے نہیں چھپاتا، بس کبھی بتانے کی ہمت نہیں ہوتی یا یہ کہہ لو کہ یہ مان ہوتا ہے کہ اپنے کبھی ان کو غلط نہیں سمجھیں گے۔۔۔” ان کے لہجے میں مٹھاس کھلی ہوئی تھی، اور ہر لفظ میں ایک خاموش سکون اور محبت کی جھلک محسوس ہو رہی تھی۔٫٫
٫٫آپ دونوں بچوں سے ہمارا ماضی چھپانے کا کوئی ایسا خاص نظریہ یا ارادہ نہیں تھا، اور نہ ہی ہمارا ماضی ایسا دھندلا اور بیکار تھا کہ جسے دکھاتے ہوئے یا بتاتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔۔۔٫٫
٫٫مگر بابا۔۔۔”
“پلیز بیٹا، اب مزید بحث نہیں۔۔۔اور آئندہ کوشش کرنا کہ کبھی بھی ماضی میں اُلجھ کر حال کے رشتوں کو تنقید کا نشانہ مت بنانا۔۔۔
باقی انشاءاللہ تمہاری بہن کو میں باحفاظت واپس لے آؤں گا۔۔۔ تمہیں اپنے باپ پر اتنا یقین ہونا چاہیے۔”
ماحد کچھ کہنا چاہتا تھا مگر تبریز خان نے ایک نرم، مگر اندر تک اتر جانے والی مضبوطی سے اسے روکا۔ ان کے لہجے میں ضبط بھی تھا، دکھ بھی، اور ایک باپ کا وہ مان بھی جو کبھی خالی نہیں گیا۔
٫٫“ماحد، اس وقت جتنی تکلیف میں تم ہو، اتنی ہی تکلیف میں ہم دونوں بھی ہیں۔ عبیرہ اگر تمہاری بہن ہے تو وہ ہماری بیٹی بھی ہے۔۔۔
اپنے جگر کے ٹکڑے کو دور سوچنا، اس شخص کی قید میں جو صرف اذیت دینے کے لیے، صرف بدلے کی آگ بجھانے کے لیے اسے ساتھ لے گیا۔۔۔
بیٹا، تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ یہ سوچ دل کو کتنی تکلیف دیتی ہے۔۔۔”٫٫
تبریز خان کی آنکھوں میں ایک تھکن بھرا دکھ تیر گیا تھا۔
٫٫“ماحد، اس وقت ہمیں تمہارے سہارے کی ضرورت ہے۔۔۔”٫٫
انہوں نے بیٹے کو یوں دیکھا جیسے وہی ان کی بکھرتی ہمت کا آخری ستون ہو۔
٫٫“آریان کو ڈھونڈنا آسان نہیں ہے، وہ ہماری سوچ سے زیادہ شاطر ہے۔ اسی لیے اس نے اپنے گھر والوں سے رابطہ پوری طرح ختم کر دیا ہے۔۔۔ جانتا تھا کہ اگر گھر سے جڑا رہا تو ہم اسے پکڑ ہی لیں گے۔۔۔
سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ اس وقت وہ ملک میں نہیں ہے۔۔۔ کہاں گیا، کوئی نہیں جانتا۔
تو بیٹا بتاؤ… ہم تمہاری بہن تک کیسے پہنچیں؟”٫٫
تبریز خان نے بڑی تحمل، بڑی دردمندی سے ماحد کے دل کی تمام الجھنیں کھول کر رکھ دیں، جیسے ایک باپ اپنی تھکی ہوئی ہمت کے باوجود بیٹے کے دل کو مطمئن کرنا چاہتا ہے۔
اپنے بابا کے سمجھانے کے بعد ہمیشہ کی طرح ماحد پوری بات سمجھ گیا تھا۔ اسے اپنے لہجے پر بھی شرمندگی تھی جو اس نے کچھ دیر پہلے استعمال کیا تھا۔
“سوری بابا، آپ کو ہرٹ کرنا میرا مقصد نہیں تھا، ٹھیک ہے جیسا آپ کو مناسب لگے۔۔۔”
ماحد کی آواز میں درد تھا، ہر لفظ میں نرمی اور احترام کی جھلک تھی۔
آگے ہو کر اپنے بابا کے قریب بیٹھتے ہوئے، ماحد نے اپنے بابا کے دونوں ہاتھ تھام لیے اور نظر جھکا لی۔ وہ سچ میں شرمندہ تھا۔ عروب یہ سب خاموشی سے دیکھ رہے تھے، مگر مائد کو اپنے بابا سے معافی مانگتے دیکھ کر دل میں سکون اتر آیا۔
نہیں بیٹا۔۔۔ آپ کو سوری بولنے کی ضرورت نہیں، بس نماز پڑھ کر خدا سے دعا کرو کہ ہمارے گھر کی رونق، ہمارے گھر کی عزت، اللہ تعالیٰ اپنے حفظ و ایمان میں رکھے۔۔۔ کیونکہ جہاں تک ہماری سوچ نہیں جاتی، وہاں تک رب کائنات کی ذات کو رسائی حاصل ہے۔ جب بندہ ہار مان لیتا ہے، ٹوٹ جاتا ہے، تو خدا اپنے بندے کو سمیٹ لیتا ہے۔ ہمیں بھی اس کی رحمت کی اُمید ہے۔۔۔
خدا ہماری بیٹی کو اپنے حفظ و ایمان میں رکھے۔ وہ ہم سے دور ہے، مگر رب سے دور نہیں۔ میرا رب اس کی حفاظت کرے گا، اور جس کی حفاظت رب کرے، اس کا بُرا چاہے لاکھ آریان خان جیسے چاہیں، کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔۔۔
شفقت سے اپنے بیٹے کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے، اس کی آنکھوں میں چھپی بے چینی اور دل کی بے قراری کو محسوس کرتے ہوئے تبریز خان نے دل ہی دل میں دعا کی کہ رب اس کے بیٹے کے حوصلے کو مضبوط کرے اور اس کے دل کو سکون عطا فرمائے۔۔۔
٫٫ میں آپ سے بھی معافی مانگتا ہوں، معاف کر دیجیے۔۔۔ میری وجہ سے آپ کا دل دُکھا۔”
ماحد نے آہستگی سے اپنی ماں کے ہاتھوں کو آگے بڑھ کر تھاما تو اس کی انگلیوں میں لرزش سی تھی۔
شرم سے نظریں جھکا کر وہ یوں خاموش کھڑا تھا جیسے اپنی ہی گستاخی کے وزن تلے دب گیا ہو۔
عروب نے اپنے بیٹے کے جھکے سر کو دیکھا تو دل میں ایک نمی سی اُتری، ماجد کے لہجے میں وہی بچپن والی معصومیت لوٹ آئی تھی جو ہر ماں کا دل ایک لمحے میں پگھلا دیتی ہے۔
„معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا، میں جانتی ہوں تم اس وقت بہت تکلیف میں ہو۔۔۔ مگر تکلیف کے وقت صبر کرنا اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔
میں نہیں چاہتی کہ ہم اس دکھ بھرے لمحے میں ایسی کوئی بات کہہ جائیں، ایسا کوئی شکوہ زبان سے نکل جائے جو ہمیں اُس کی بارگاہ میں ہمیشہ کے لیے شرمندہ کر دے۔
اور جب تمہارے بابا نے تمہیں معاف کر دیا تو میں بھلا تم سے کیسے ناراض رہ سکتی ہوں۔۔۔ جاؤ، جا کر کچھ دیر آرام کر لو۔”
شفقت سے اپنے بیٹے کی گال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، محبت اور ممتا سے لبریز نگاہوں سے اسے دیکھا۔
ماحد نے گہری سانس بھری، جیسے دل کا بوجھ آہستگی سے اتار رہا ہو۔۔۔ پھر نرم قدم اٹھاتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا۔بے آواز دروازہ بند کر کے وہ باہر چلا گیا۔
اب کمرے میں صرف عروب اور تبریز خان رہ گئے تھے، دونوں کے چہروں پر تھکن بھی تھی، فکر بھی، اور ایک ان کہی دعا کی نمی بھی۔تبریز خان نے نظر بھر کر اس چہرے کو دیکھا تھا جو اس کے لیے بہت خاص ہے۔
„جو امید آپ نے ماحد کو دی ہے… اسی اُمید پر ہمیں بھی قائم رہنا ہے۔ ان شاءاللہ بہت جلد ہماری بیٹی… صحیح سلامت… رب کی امان میں ہمارے پاس ہوگی۔
مایوسی ربِ کائنات کو پسند نہیں ہوتی خانم۔۔۔”
تبریز خان نے اس کی خالی نظروں کو دیکھتے ہوئے نرمی سے ہاتھ بڑھایا۔ وہ ہاتھ… جس میں ساری عمر کی تھکن بھی تھی اور ساری عمر کا سہارا بھی۔
عروب نے جب اپنا لرزتا ہوا ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھا… تو جیسے اس کمزور سے لمس نے دونوں کے بیچ کی پوری کہانی ایک لمحے میں تازہ کر دی۔
اُسی لمحے اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹا… بنا آواز کے، مگر بہت کچھ کہتا ہوا۔
تبریز خان کے دل میں جیسے وہ آنسو جا کر گرا…
اور دل کی مضبوط اینٹیں ایک پل کو ڈول گئیں۔
„خانم… مت کیا کریں ایسا۔ آپ کے آنسو… مجھے اندر تک توڑ دیتے ہیں۔ جب آپ روتی ہیں… میں خود کو کمزور محسوس کرنےلگتا ہوں۔۔۔”
اس کی آواز میں ،بےبسی بول رہی تھی۔
وہ بےبسی جو صرف اپنے سے زیادہ عزیز کے لیے ہوتی ہے۔
عروب نے آہستگی سے سر اس کے کندھے سے ٹکا دیا… جیسے برسوں پرانی عقیدت پھر جاگ اٹھی ہو۔
„آپ کمزور نہیں… آپ بہت مضبوط ہیں، بہت سچے… اور بہت ایماندار بھی۔”
تبریز خان نے ایک آہ بھری…
„پہلی باتیں تو مان بھی لوں ایک لمحے کو… مگر آخری لفظ… میرے لیے نہیں ہے خانم۔۔۔”
اُس کے لہجے میں ٹوٹا ہوا یقین تھا… اور اپنوں کی کہی ہوئی باتوں کی کڑواہٹ آج تک اس کے دل سے یہ یقین مضبوط نہیں کر سکی کہ وہ واقعی ایک سچا اور مخلص انسان ہے۔۔۔
„اگر میں اتنا ایماندار ہوتا…
تو مجھ پر روشانے ، نے بھی اعتبار کیا ہوتا،
یوں جیسے چراغ اپنے محافظ ہوا پر بھروسہ کرتا ہے۔
وہ یہ یقین رکھتی کہ میں کبھی بے وفائی نہیں کر سکتا۔
اور اگر وہ یقین کر لیتی…
تو آج میری بیٹی جس تکلیف سے گزر رہی ہے…
یہ تکلیف اس کا مقدر نہ بنتی۔۔۔۔”
تبریز خان کی آواز…
پہاڑ کی طرح مضبوط مگر اندر سے برف کے ٹکڑے کی طرح پگھلتی ہوئی۔
جیسے کسی نے زمانوں پرانی راکھ کو اچانک پھونک مار کر پھر سے دہکا دیا ہو۔
عروب نے اسے ایک نظر غور سے دیکھا…
وہ مرد جو دنیا کے سامنے فولاد تھا، مگر اس کے سامنے مٹی کی طرح نرم…
جس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کھڑکی کے شیشے پر پڑی پہلی بارش کی بوندوں جیسی تھی،
خاموش مگر سب کچھ کہتی ہوئی۔
„آپ کتنے ایماندار ہیں…
یہ تو کوئی مجھ سے پوچھے۔
آپ نے ہر رشتے سے وفاداری ایسے نبھائی ہے
جیسے درخت اپنی جڑوں سے نبھاتا ہے۔
چاہے موسم کیسے بھی بدل جائیں۔درخت اپنی جڑوں سے کبھی بے وفائی نہیں کرتا وہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔
بس شاید قسمت نے…آپ کی سچائی آپ کی وفاداری آپ کے اپنے لوگوں کو دکھانا گوارا نہ کیا۔
شاید کوئی پردہ تھا بیچ میں…
دھند کی وہ چادر جو سورج ہونے کے باوجود روشنی کو چھپا دیتی ہے۔۔۔
اس کے لہجے میں وہی ٹھہراؤ تھا۔
پانی کے اوپر تیرتی کشتی کی طرح… ہلکی، پرسکون، مگر گہری۔اس عورت نے زخموں کی چادر اوڑھ کر بھی زبان کو تلخی سے بچا رکھا تھا…
اور طنز؟
وہ تو اس نے کبھی کسی پر نہیں کیا تھا۔ تقدیر سے ملے ہر دکھ کو برداشت کرتے ہوئے وہ خاموش سی ہو گئی تھی۔
„برے لمحات میں زبان کو ناپ تول کر چلانا…
یہی دانشمندی ہے۔
اور یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔۔۔”
آپ خود کو قصور بار مت سمجھا کریں۔۔۔اگر دھند کی وہ چادر حاوی نہ ہوتی تو شاید وہ سب آپ کے اپنے آپ کے ساتھ ہوتے۔رشتے کبھی برے نہیں ہوتے بس وہ حالات برے ہوتے ہیں جن میں ہم اپنوں سے بچھڑ جاتے ہیں غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں۔روشانے کے لیے اپنا دل میلا مت رکھیں۔اس وقت میں اس کو جو صحیح لگا اس نے وہ کیا۔”
لفظوں نے جیسے فضا میں کوئی پرانا زخم کھول دیا
تبریز خان نے آہستہ سے پلکیں بند کیں،
جیسے وہ دھند اس کے اندر اتر کر
پرانی تصویروں کو مٹاتی بھی ہو
اور دکھاتی بھی…پھر نرمی سی انکھیں کھول کر
اس نے عروب کی طرف دیکھا،
وہی نظر…
جس میں عزت کا نور بھی تھا
اور گہری تھکن بھی۔وہ چاہتی تو روشانے کے لیے بہت کچھ کہہ سکتی تھی، اور اس وقت تو وہ کچھ بھی کہہ سکتی تھی، کیونکہ یہاں اس کی بیٹی کی عزت کا سوال تھا۔اس وقت وہ چاہتی تو دشمنی نبھا سکتی تھی۔
مگر اس عورت نے آج بھی کوئی سخت لفظ زبان پر نہ آنے دیا۔
تبریز خان حیران تھا… اس کے صبر پر، اس کے ظرف پر۔
وہ بولا نہیں… بس چپ چاپ سوچتا رہ گیا۔
’’خانم‘‘
وہ دھیمے سے بولا،
’’کچھ دھندیں… اوپر سے نہیں آتیں۔
کچھ ہم خود اوڑھ لیتے ہیں…
کہ کہیں ہمارے اندر کے آسیب سب کے سامنے نہ آ جائیں۔۔۔۔۔ وہ آج بھی مجھے قصوروار سمجھتی ہے، اور ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچتی کہ قصور اس کا بھی تھا۔ اس نے مجھ پر کبھی اعتبار کیوں نہیں کیا، یہ وہ نہیں سمجھتی۔ اگر ایک بار اعتبار کر لیتی، تو میں کبھی اپنے بیٹے اور اسے خود سے دور نہ کرتا۔ رب جانتا ہے، مگر اس نے مجھے وہ سب کرنے پر مجبور کر دیا جو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
خانم۔مرد اور عورت کا رشتہ خون کا نہیں ہوتا، مگر خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔۔ مگر بدقسمتی سے جتنا مضبوط، اتنا ہی نازک بھی ہے۔ مرد ہو یا عورت، اس نازک لکیر پر قدم نہیں رکھنا چاہیے، ورنہ گھر اسی طرح اجڑ جاتے ہیں جیسے روشانے نے گھر اجاڑنے میں دیر نہیں لگائی۔
اور آج بھی اسے پچھتاوا نہیں ہے بلکہ وہ غلط فہمیوں کی نفرت کی آگ میں جلتے ہوئے نہ جانے …آریان کے دماغ میں کچھ ڈال چکی ہے، جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا۔
تبریز خان کی آواز ابھی تک کمرے کی فضا میں نمی کی طرح لرز رہی تھی۔اس کا ایک ایک لفظ درد سے لپٹا ہوا ، ماضی کے ٹوٹے رشتوں کا اور آج بھی اس کے لہجے سے چھلک رہا تھا۔۔اس لیے خانم، آپ یہ نہ کہیں کہ میں ایماندار ہوں، جو بے ایمانی کی مہر مجھ پر لگائی گئی ہے، اسے میں چاہ کر بھی دھو نہیں سکتا۔
عروب نے ہمیشہ کی طرح پوری بات سنجیدگی اور خاموشی سے سنی۔ یہی اس کی خوبی تھی کہ جب تبریز خان بولتا، وہ عقیدت سے ہر لفظ سنتی، جیسے عبادت میں مشغول ہو۔ ایسی فرمانبردار بیوی ہونے پر تبریز خان بار بار خدا کا شکر گزار ہوتا۔ روشانے میں وہ ہر خوبی رکھتی تھی جو ایک مرد کو پسند آئے، جو شوہر کے دل کو بھائے۔
مرد جتنا بھی جدید سوچ کا مالک کیوں نہ ہو، وہ ہمیشہ چاہتا ہے کہ بیوی اس کی عزت کرے۔ اللہ تعالی نے مرد کو عزت دی، اور عورت کو حکم دیا کہ وہ شوہر کو احترام دے۔ بدلے میں رب نے عورت کو انعام دیا، مرد کو بیوی کی حفاظت کرنے، اس کے اخراجات اٹھانے پر فائز کیا، اور اولاد جیسی نعمت دیکھ کر قدموں تلے جنت رکھ دی۔
مگر بدقسمتی سے یہ ہر عورت دیکھ اور سمجھ نہیں پاتی، مگر عروب نے عورت کی شخصیت کو سچ میں بدل دیا تھا۔
تبریز خان کی زندگی میں دو عورتیں آئیں، اور وہ دونوں ایک دوسرے سے سوچ اور احساس میں بہت الگ تھیں۔
ایک مشرق کی طرح نرم اور ٹھنڈی محبت کی نمائندہ تھی، تو دوسری مغرب کی طرح تیز اور کڑکتی دھوپ جیسی محبت لیے ہوئی تھی۔ ایک چاند کی مانند سکون بخش، ایک سورج کی مانند جلانے والی۔ محبت کے بھی مختلف روپ ہوتے ہیں، اور یہ دونوں اس کی زندگی میں اپنی الگ شناخت رکھتی تھیں۔
روشانے کے نزدیک محبت ضد کے جیسی تھی،ہمیشہ محبت جتانے کے لیے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ضد کرتی، ناراض ہو جاتی،ہر چھوٹی چیز کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لینا اور پھر ہمیشہ یہ توقع کرنا کہ تبریز خان اس کے سامنے جھکے اس کو منائے کیونکہ اس کے نزدیک یہ ہی محبت تھی ۔
اور تبریز خان اسے ہمیشہ محبت سے مناتا رہا۔ ہمیشہ بچوں کی طرح اس کی کیئر کی۔اس نے ایک اچھا شوہر ہونے کا ہر حق ادا کیا۔
وہ کبھی اس کی ضد کے مقابل نہیں اترا۔
وہ سمجھدار آدمی تھا، جانتا تھا کہ اگر ایک بار بھی وہ ضد پر آ گیا تو یہ رشتہ ٹوٹ جائے گا۔
اور پھر… وہی ہوا جس سے وہ ہمیشہ ڈرتا رہا۔
جبکہ تبریز خان نے کبھی شکوہ نہیں کیا وہ خوش تھا اپنی زندگی میں۔۔۔اس نے روشنے کو اس کی ضد اس کی انا یہاں تک کہ اس کی خود غرضی کے ساتھ اپنایا تھا ۔۔ وہ اپنی محبت، وقت اور پیسہ روشانے پر نچھاور کرتا، مگر ایک نازک موڑ پر روشانے نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا، جو تبریز خان کی شخصیت کو توڑ کر رکھ گیا۔۔
ہر رشتے میں ایک ایسا موڑ آتا ہے، جہاں آپ کو اپنے پارٹنر کی وفا پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔
ہر چیز ویسی نہیں ہوتی جیسی آپ کی نظر میں دکھائی دیتی ہے۔
یہ لمحہ بیوی پر بھی آ سکتا ہے، شوہر پر بھی۔
ایسے وقت میں پارٹنر کا اعتبار اتنا ضروری اور خاص ہو جاتا ہے، جیسے جینے کے لیے سانس لینا۔
یہ وہ کمزور لمحہ ہوتا ہے، جب کچھ لوگ ساتھی پر یقین نہیں رکھتے تو بکھر جاتے ہیں۔
ہزاروں گھر ایک گرم ہوا کے جھونکے سے ٹوٹ جاتے ہیں، اور یہی ہوا تھا تبریز خان اور روشانے کے ساتھ،
مگر یہ تو قدرت کا اپنا نظام ہے۔
کہیں دیے بجھتے ہیں… تو کہیں نیا چراغ جل اٹھتا ہے۔
کہیں ایک گھر بکھرتا ہے… تو کہیں دوسرا جڑ جاتا ہے۔
زندگی سے کوئی خاص رخصت ہو جائے تو رب اس کے بدلے کچھ بہتر، کچھ سنبھال لینے والا عطا کر دیتا ہے۔
تبریز خان کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔عروب… جسے کو اس کی بدقسمتی لے آئی تھی تبریز خان کے در تک، وہی عورت آہستہ آہستہ اس کی زندگی بن گئی۔ اور تبریز خان بھی بتدریج اپنا ہر غم بھولتا چلا گیا۔
انسانی فطرت ہے، سکون کی طلب ختم نہیں ہوتی۔ جب سکون ملتا ہے تو ماضی دھندلا پڑنے لگتا ہے… مٹتا نہیں، بس اس کے زخموں کی چبھن کم ہو جاتی ہے۔
اللہ نے عورت کو مرد کے سکون، اس کی راحت اور اس کی محبت کا سہارا بنا کر بھیجا ہے۔ اور مرد پھر بدلے میں اپنی محبتیں اس پر نچھاور کرتا ہے۔
سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے… اور تبریز خان تو ویسے بھی اس قابل تھا کہ اس سے محبت کی جائے۔اس طرح دونوں ایک دوسرے کا نصیب بن گئے۔
عروب نے اپنا ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھا تھا۔ تبریز خان کے چہرے کی طرف دیکھا… عروب کی نگاہوں میں احترام بسا ہوا تھا۔
“خانم… کیا دیکھ رہی ہیں؟” تبریز خان نے گہری سانس لے کر، ذرا افسردہ لہجے میں پوچھا۔
عروب نے آہستہ سے نظریں جھکائیں… جیسے لفظ تلاش کر رہی ہو، مگر دل پہلے ہی سب کہہ چکا ہو۔
“آپ کو دیکھ رہی ہوں… تبریز خان کے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے عروب نے زبردستی لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لانے کی کوشش کی… مگر مسکراہٹ نے ساتھ نہیں دیا، وہ بیچ راہ میں ہی بجھ گئی۔
“آپ ایک بات ہمیشہ کہتے ہیں… کہ خانم اپنی قدروں کی قیمت مجھ سے پوچھا کرو۔
…آج میں بھی آپ سے یہی کہنا چاہتی ہوں۔
آپ کیا ہیں… آپ کی عزت، آپ کا وقار، آپ کے دل کی سچائی کیا ہے… یہ سب آپ مجھ سے پوچھیں۔
خود کو اذیت مت دیں… خود پر اعتبار کرنا سیکھیں۔
ایک بار… صرف ایک بار… اپنی ذات کو میری نظر سے دیکھیں گے تو جان جائیں گے کہ تبریز خان کس نایاب ہیرے کا نام ہے۔
آپ میں وہ ہر خوبی ہے جو ایک عورت اپنے شوہر میں ڈھونڈتی ہے۔
آپ وفا بھی ہیں، سایہ بھی… محبت بھی، شفقت بھی… محافظ بھی ہیں اور دوست بھی۔
اس سے زیادہ ایک عورت اور کیا مانگ سکتی ہے۔
جو آپ کو سمجھ نہ سکے… میں ان کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتی۔
یہ صرف ان کی بدقسمتی تھی… کہ وہ اپنی قسمت کی ٹھنڈی روشنی خود ضائع بیٹھے۔”**
عروب کے لہجے میں وقار تھا… سادگی تھی… اور وہ خاموش ٹھہراؤ جس میں کسی شور کی نہیں، صرف سچ کی آواز ہوتی ہے۔
اس کے چند جملوں نے ہمیشہ کی طرح تبریز خان کو وہی سہارا دیا… جو ٹوٹے دل کو تھام لیتا ہے۔
عروب کہ آخری جملے ایسے تھے… جیسے تھکن زدہ شام میں اذان کی آواز،
بہت نرم…
بہت سچی…
اور بہت گہری۔
اور وہ آنسو… وہ ایک قطرہ…
جس نے تبریز خان کے اندر کے سارے زخموں کو پھر سے جاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ ابھی تک عروب کی پلکوں پر نمی بن کر ٹھہرا ہوا تھا۔
جیسے بادل تھک کر پہاڑ کی چوٹی پر رک جائیں۔
تبریز خان نے اس ایک آنسو کو دیکھا
اور دل میں وہی پرانی ٹوٹ پھوٹ جاگ اٹھی۔
اس نے ہاتھ کی پشت سے اس نمی کو اپنے اندر جذب کر لیا تھا۔
اُسی بوجھل لمحے میں…
ہمیشہ کی طرح آج بھی،
تبریز خان کی نظر عروب کے چہرے پر ایسی ٹھہری
جیسے کوئی زخمی پرندہ اپنی آخری امید آسمان میں ڈھونڈ لے۔
کوئی لفظ نہیں تھا،
مگر اس مرد کی نگاہوں میں جو عزت تھی
وہ لفظوں کے سجدوں سے بھی زیادہ گہراحساس تھا
جیسے شام کی ٹھنڈی ہوا گھاؤ پر ہاتھ رکھ کر چپ چاپ مرہم رکھ دے۔
عروب نے اس نظر کی تہہ کو محسوس کیا،
اور ایک لمحے کے لیے اسے یوں لگا
جیسے تبریز خان کی خاموشی
اس کا ہاتھ تھام کر کہہ رہی ہو۔
’’خانم… تم ہی میرا مضبوط سہارا ہو
اور تم ہی میری کمزوری بھی…‘‘
اور تبریز خان…
وہ بس اسے یوں دیکھتا رہا
جیسے کوئی شخص ساری دنیا کے شور کے بعد
اپنی پناہ صرف ایک چہرے میں ڈھونڈ لے۔بیوی اگر مزاج کے مطابق ہو تو مرد کے لیے اس سے بڑا سکون اور کہیں نہیں۔ ماں کی گود کے بعد، اگر کوئی پرسکون ہستی ہو جو دل کو سکون دے، وہ بیوی ہی ہوتی ہے۔
اور عروب…
خاموشی کے ساتھ تبریز خان کی جانب دیکھتی رہی،
جیسے اس کی موجودگی ہر لمحے کو سکون دینے والی روشنی ہو۔
═══════❖═══════
وہ آنکھیں بند کیے دیوار کے ساتھ سر ٹکائے کھڑا رہا، نہ جانے کتنی دیر تک۔ عبیرہ کو وہ کمرے سے باہر تو نکال چکا تھا، مگر اس کی باتیں اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں، اور دل میں وہ الفاظ چھوٹی چھوٹی چنگاریوں کی مانند اٹھ رہے تھے۔
آنکھیں کھول کر گہری سانس لی، آہستہ آہستہ قدم بڑھایا اور بیڈ کے کنارے جا کر بیٹھ گیا۔ عبیرہ کی باتوں نے اسے جھنجوڑ دیا تھا، مگر غرور اسے تسلیم کرنے نہیں دے رہا تھا کہ وہ باتیں سچ ہیں۔
ہمیشہ کی طرح غصے پر قابو پانے کے لیے اس نے سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کا ڈبیہ اٹھایا، ایک سگریٹ نکالی اور اسے غور سے دیکھا، جیسے اس پر کوئی تحریر لکھی ہو۔ خوشی ہو یا غم، پریشانی ہو یا سکون، ہر لمحے سگریٹ اس کا ساتھ دیتی تھی۔
سگریٹ ہونٹوں میں دبا کر، لیٹر ٹیبل پر رکھتے ہوئے، وہ ونڈو کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔
ونڈو فلور ٹو سیلنگ گلاس کی تھی، جو باہر سکاٹ لینڈ کے شہر کی رات کی فضا کے ساتھ کھل رہی تھی۔ شہر کے چراغ مدھم سنہری اور نیلے نقطوں کی مانند چمک رہے تھے، اور ہلکی دھند میں پہاڑوں کی خاکی شاخیں اور درخت چھاؤں کی طرح نظر آ رہے تھے۔
پردے بھاری، نیم شفاف، نفیس کپڑے کے تھے، جو نرم ہوا کے جھونکے سے آہستہ لہرا رہے تھے۔ روشنی کے ٹکراؤ سے فرش اور بیڈ کے کنارے ہلکی چمک پیدا ہو رہی تھی، جس نے کمرے میں سکوت اور پراسرار احساس قائم کر دیا تھا۔
وہ ونڈو کے سامنے کھڑا رہا، ہلکی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، اور شیشے میں اس کا عکس شہر کے چراغوں اور پہاڑوں کی چھایا کے ساتھ مدھم جھلک رہا تھا۔ ہر لمحہ، ہر جھلک اس کے دل کی کشمکش اور اندرونی اضطراب کو آئینے میں واضح کر رہی تھی۔
“کیوں… کیوں میں اس کے بارے میں سوچ رہا ہوں؟ وہ میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، تو پھر اس کی باتوں کا کیا مطلب؟ عبیرہ کی کہی گئی باتوں کو سوچتے سوچتے وہ خود سے ہی اور الجھ گیا۔
جو کچھ وہ بول کر گئی ہے، وہ سب میرے لیے فضول ہے۔ بڑی آئی… مجھے تبلیغ دینے والی… اور اپنے ماں باپ نے ماضی میں جو گل کھلائے ہیں، پہلے ان کا حساب برابر کر لینے دو، پھر مجھے بھی تبلیغ کر لیتی۔ مجھے نہیں سوچنا اس کی باتوں کے بارے میں… شاید وہ اپنی سوچ سے ہی خود کو مطمئن کر رہا تھا۔نظریں اب بھی شیشے کے پار دیکھ رہی تھیں، مگر اچانک جیسے اندر کہیں ایک جھماکا ہوا ہو… ایک نئی سوچ نے سر اٹھایا… اور وہ خود ہی خود سے سوال کرنے لگا۔
اور جو تم کر رہے تھے… وہ کیا تھا؟
یہ سوال اس کے ضمیر نے کیا۔
وہ خاموش رہا۔
مگر ضمیر پھر بول اٹھا، تیز، چبھتی ہوئی آواز میں۔
مسٹر آریان افضل خان… اور جو تم کر رہے تھے، کیا وہ ٹھیک تھا؟
تم تو اسے روشانے کی سزا کے طور پر لائے تھے… نہ؟
تم… تو اسے سزا دینی تھی… مگر تم تو کسی اور راہ پر چل نکلے…
آریان اب بھی خاموش تھا۔
زمیر سے بڑھ کر عدالت کوئی نہیں ہوتی… اسی لیے وہ چپ کھڑا رہا، مگر ضمیر مسلسل اسے جھنجوڑ تا رہا۔
کیا تمہارے نزدیک یہ سزا ہے؟
یا پھر تمہاری اپنی کمزوری ہے…
کب سے تم اتنے کمزور ہو گئے کہ ایک عورت کا وجود تم پر اثر انداز ہونے لگا؟
آریان کو گھٹن سی محسوس ہوئی، ماتھے پر آئے پسینے کو اس نے ہاتھ کی پشت سے صاف کیا۔
میں… میں صرف اسے ٹارچر کر رہا تھا… میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
جھوٹ!
وہ صرف ٹارچر کی حد تک نہیں تھا۔
کیا تم اسے پسند کرتے ہو؟
محبت کرنے لگے ہو؟
“کبھی نہیں… کبھی بھی نہیں!
وہ میری محبت کے لائق نہیں ہے… میں نہیں کرتا اسے پسند!
وہ اپنے ہی سوالات اور جوابات میں الجھتا جا رہا تھا، مگر پھر ایک لمحے میں جیسے اس نے خود کو جھٹک کر خیالات کو دور پھینک دیا۔
میں کمزور نہیں ہوں…
اور اس لڑکی کا وجود میرے لیے نفرت ہے …سرف… نفرت!
کیسے بھول سکتا ہوں کہ وہ کس شخص… کس عورت کی بیٹی ہے۔خود کو سمجھاتے ہوئے وہ بڑی حد تک مطمئن بھی ہو چکا تھا۔
یہی تو اس کی خاصیت تھی۔
خود کو کبھی کمزور نہ پڑنے دینا،
اور ہر لمحہ… اپنے آپ کو درست مان لینا۔
اس نے کش لگاتے لگاتے سگریٹ مکمل سلگا لی، پھر واش روم کی طرف بڑھا۔ ہمیشہ کی طرح، منہ سے آنے والی بدبو اسے برداشت نہیں ہوتی تھی۔ عجیب بات تھی کہ بدبو سے تنگ ہونے کے باوجود، سگریٹ کے بغیر وہ نہیں رہ سکتا تھا۔
واش روم میں جا کر ماؤتھ فریش سے منہ صاف کیا، واپس کمرے میں آتے ہی منٹ والی ببل اپنے منہ میں ڈال لی،رات اس نے بے چینی سے گزاری تھی۔اسے نیند نہیں آرہی تھی۔۔رات تو جیسے تیسے کٹ گئی صبح ہونے لگی تھی۔۔۔۔اپنی جگہ سے اٹھا
اور دروازے کی جانب بڑھا۔ ہینڈل گھماتے ہوئے، وہ تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکل آیا۔
نشانہ واضح تھا… عبیرہ ۔
وہ اپنے ہی سوالات اور جوابات کی الجھن سے نکل کر، دل کے اندر اٹھتی ہر سوچ کو جھٹک کر وہ خود کو یقین دلا چکا تھا کہ وہ کمزور نہیں… کہ عبیرہ کے وجود سے اسے کوئی فرق پڑتا…خود کو یقین دلایا کہ وہ اس لڑکی کو صرف سزا دینے آیا ہے، اور وہی سزا دے رہا ہے۔۔۔خود کو یقین دلایا کہ اس نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔کمرے سے باہر نکلتے ہی اس کی نظریں بار بار ادھر اُدھر بھٹک رہی تھیں… جیسے کسی انجانی گھبراہٹ میں وہ عبیرہ کو تلاش کر رہا ہو۔ قدموں میں بھی ایک ایسی ہی بے چینی تھی، ہر جنبش اس کی اندرونی ہلچل ظاہر کر رہی تھی۔”
═══════❖═══════
گہری نیند کے جھونکے میں کاندھے پر آنے والے بوجھ کو محسوس کرتے ہوئے وہ گھبرا گئی تھی سجدے میں سر رکھے ہوئے وہ سو تو گئی۔۔۔مگر صبح تک وہ جائیں نماز پر ہی سوتی رہی اسے پتہ تک نہیں چلا تھا۔شاید یہاں پر خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی ۔کچھ تو تھا جو پوری رات گزرنے کے بعد اسے کسی کے اٹھانے پر جاگ گئی تھی۔۔۔۔
کاندھے پر آنے والے بوجھ سے وہ ہڑ بڑا کر اٹھ گئی۔۔۔کک۔۔کون۔۔۔
اپنے کندھے پر بھاری ہاتھ محسوس کر کے وہ نیند میں ڈر گئی تھی ۔۔۔
‘‘میں ہوں جسے تم اسلام اور مسلمان ہونے کا اتنا لمبا چوڑا لیکچر دے کر آئی تھی…’’
آریان خان کی بھاری آواز اچانک اس سناٹے میں گونجی تھی۔
آواز میں وہی سختی، وہی کڑواہٹ… جیسے کسی پتھر پر لوہے کا وار ہو۔
عبیرہ کا دل ایک لمحے کو جیسے سمٹ کر رہ گیا۔
وہ آہستہ سے پلٹی…
ایک نظر اس پر ڈالی…
وہ ایسے کھڑا تھاجیسے جیلر قیدی کے سر پر آن کھڑا ہوتا ہے…..
چہرے پر سنجیدگی کی تیز لکیر… آنکھوں میں ایسی گہری پرچھائیاں جیسے رات اپنا رنگ اس کے اندر انڈیَل چکی ہو۔
عبیرہ کے دل سے بے اختیار نکلا….
’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ‘‘
مگر لب نہیں ہلے۔
وہ جانتی تھی، اگر ایک لفظ بھی ادا ہوا تو وہی بحث… وہی الجھن… وہی ذہنی تھکن اس کے پیچھے لپک آئے گی، اور آج دن وہ کسی بھی قیمت پر دوبارہ اس کھینچا تانی میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
آریان کی نگاہیں جیسے اس سے جواب کھینچ لینا چاہتی تھیں…
لیکن عبیرہ خاموش رہی، اس کے لب تک نہ ہلے۔
کمرے کی فضاء میں ایک خاموش سی لرزش تھی ۔اور آریان کی بھاری سانسیں اس سکون کو کاٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
اس کے اندر کچھ جل رہا تھا…
عبیرہ کی باتیں، اس کا لہجہ، اس کا یقین….وہ سب اب بھی اس کے دل میں سلگ رہا تھا، مگر زبان پر وہی ضد، وہی انا، وہی انکار قائم تھا۔
عبیرہ نے پلکیں جھکا لیں…
اور آریان ایک قدم آگے بڑھا…
جیسے اس خاموشی کا جواب اب خود اس نے دینا ہو۔۔۔
“تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ جواب کیوں نہیں دیتی… زبان paralyzed ہو گئی ہے یا سننے سمجھنے کی طاقت ہی ختم ہو گئی ہے؟”
آریان خان نے عبیرہ کے بازو سے پکڑ کر اسے جھنجھوڑا، جیسے ابھی کے ابھی بازو کو جڑ سے کھینچ کر الگ کر دے گا۔ عبیرہ کے منہ سے درد کے مارے ایک سی کی آواز نکلی، اور چہرے کے تاثرات خود بخود بگڑ گئے۔
“یہ اکڑ، یہ تیور کسی اور کو دکھانا!”
عبیرہ کے جبڑے کو پکڑ کر زور سے جھنجھوڑ دیا۔
عبیرہ کے جسم میں ہر رگ میں درد دوڑ رہا تھا، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، اور ہر سانس ایک چھپی ہوئی چیخ کی طرح کمرے کی خاموشی میں گونج رہی تھی۔
درد کے مارے اس کی آنکھوں سے آنسو خود بخود پھسل کر رخسار تک پہنچ گئے، اور اس نے فوراً اپنے ہاتھوں سے انہیں صاف کر دیا۔ شاید وہ نہیں چاہتی تھی کہ آریان اس کے خوف اور کمزوری دیکھے۔
آریان خان کے قریب چہرہ ہونے کی وجہ سے ہر سانس میں گرم ہوا، ہر جھنجھوڑ میں دل کی دھڑکن اور خوف، عبیرہ کے دل میں ایک بے قابو لہر پیدا کر رہی تھی۔۔
“کیا بولوں…؟ کیا سننا چاہتے ہیں…؟”
اس کی آواز بیزاری، بے بسی اور تھکن کے بوجھ میں ڈوبی ہوئی تھی، ہر لفظ سانس کے ساتھ لرز رہا تھا۔
جسم کا ہر زخم… ہاتھ، سر، بازو… سب اپنی اپنی چیخیں مار رہے تھے۔ سانسیں بھاری، طبیعت بوجھل… اور اوپر سے وہ جلاد، آریان خان، عبیرہ کے سر پر سایہ بن کر کھڑا تھا۔
گھر کے اندر ہیٹر کی ہلکی گرمی تھی، مگر عبیرہ کے اندر صرف درد کی برف جم کر ٹھہری ہوئی تھی۔
“اگر ہماری باتوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں… تو میں نے غلط بات نہیں کہی… وہی کہا جس کا حکم میرا خدا دیتا ہے…”
عبیرہ نے اپنا لہجہ نرم رکھنے کی آخری کوشش کی… وہ اس وقت آریان خان سے الجھنا نہیں چاہتی تھی… مگر اس کے چاہنے سے کیا ہوتا؟
سامنے والا تو خود ہی بھڑکنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔
“میں اس وقت تمہارا لیکچر سننے کے موڈ میں نہیں ہوں…”
آریان خان نے ماتھے پر سخت بل ڈالتے ہوئے، ایک ایک لفظ احتیاط سے چبا کر کہا۔
“تو پھر کیوں آئے ہیں…؟ سکون سے اپنے کمرے میں رہیں… اور مجھے بھی رہنے دیں…”
عبیرہ نے نظریں جھکا کر آہستگی سے کہا، دل دھڑک رہا تھا… سانسیں بے ترتیب، ہر لفظ لرز رہا تھا۔
“مجھے آرڈر مت دو… یہ میرا گھر ہے… یہاں میری مرضی چلے گی…”
آریان خان اس کے بالکل قریب آیا… اتنا قریب کہ عبیرہ کی سانسیں گھبراہٹ میں الجھنے لگیں۔
وہ اس آدمی کا ایک اور رنگ دیکھ چکی تھی… اور یہی رنگ اسے خوف میں لپیٹ لیتا تھا۔
عبیرہ نے گھبرا کر قدم پیچھے لیے، مگر اگلے ہی لمحے آریان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اسے واپس اپنی طرف کھینچ لیا۔
“کس بات کی اکڑ ہے تم میں…؟ کیا ہو تم…؟ یہ ادائیں مجھے مت دکھاؤ…!!”
“پلیز… ہاتھ چھوڑیں… میرا ہاتھ درد کر رہا ہے… میں خود کو کوئی چیز نہیں سمجھتی… میں تو اللہ کی حقیر سی بندی ہوں… اور خود کو وہی سمجھتی ہوں…”
اس کے جلے ہوئے ہاتھ پر آریان کی سخت گرفت نے ایک نئی تڑپ پیدا کی… اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔۔
آریان خان کی آنکھوں میں غصے کی تیز چنگاری لپکی…
“میرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا گلا دبا دوں… مار دوں تمہیں…”
وہ چڑ کر بولا… جیسے اس کی سسکیاں اسے برداشت نہیں ہو رہیں… یا شاید خود سے کوئی جنگ لڑ رہا ہو۔
“تو پھر کس نے روکا ہے…؟ دبا دیں گلا… میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے مار دیں… مجھے مزید اذیت مت دیں… ایک ہی بار بدلہ لے لیں…”
وہ ہاتھ جوڑ کر، سسکیوں کے بیچ التجا کر رہی تھی… جیسے موت میں ہی آرام ڈھونڈ رہی ہو۔
آریان نے اسے گھورا… لب ہلکے سے کجے ہوئے۔
“نہیں … اتنی آسانی سے مار نہیں سکتا…نا… چاہوں تب بھی نہیں… کیونکہ پل پل تمہارے ماں باپ تڑپیں گے تمہارے لیے… اور تم تمہاری ماں کے بغیر… باپ تو تمہارا سگا ہے ہی نہیں…پھر کہیں جا کر میرے دل کو سکون ملے گا….”
═══════❖═══════
یہ قسط ناول “صلیب سکوت” کی ایک قسط ہے، تخلیق حیات ارتضی، ایس۔اے کی۔اگلی قسط مطالعہ کرنے کے لیے اسی ناول کی category “صلیب سکوت” ملاحظہ کریں، جہاں تمام اقساط ترتیب وار اور باقاعدگی سے دستیاب ہیں۔💡 ہر نئی قسط ہر اتوار شام 8:00 بجے شائع کی جائے گی۔