|

Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:17

صلیب سکوت
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر:17

═══════❖═══════

سڑک پر اس وقت وہی ہلچل تھی جو صبح کے اٹھ سوا آٹھ بجے کے بعد ہوتی ہے
گاڑیاں لائنوں میں پھنسی کھڑی تھیں… کہیں کہیں جھنجھلاہٹ میں ہارن بجتے… موٹر سائیکل والے ذرا سی جگہ دیکھ کر فوراً نکلنے کی کوشش میں… اسکول وینیںں بچوں کو لے کر جا رہی تھ ۔
لوگوں کے چہروں پر دن کی بھاگ دوڑ پوری طرح نظر آ رہی تھی۔
کچھ لوگ دفتر جانے والے تیز قدموں سے فٹ پاتھ پر چلتے… کچھ موبائل کان سے لگائے ہوئے… کچھ گھڑی دیکھتے ہوئے

ان سب کے بیچ آریان خان کی پولیس جیپ ٹریفک میں سست رفتار آگے بڑھ رہی تھی
شیشہ بند تھا مگر اندر ہوا پھر بھی بوجھل لگ رہی تھی
آریان کے ہاتھ سٹیئرنگ پر جمی ہوئی گرفت کے ساتھ سخت دکھائی دے رہے تھے۔
یوں لگتا تھا جیسے ساری ٹریفک، سارا شور، ساری حرکت اپنے راستے میں ہے
اور آریان خان اپنے اندر کے بوجھ میں پھنس گیا ہو
چہرے پر پریشانی کی لکیر نمایا تھی ، وہ گھر سے لے کر اب تک اپنے بابا کی کہی ہوئی باتوں کو سوچ رہا تھا اور وہ باتیں اسے سکون نہیں لینے دے رہی تھی۔

اچانک پیچھے سے کسی گاڑی نے ہارن بجایا، یارم خان جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آگیا۔ اپنی جیپ کو رائٹ سائیڈ کی طرف کیا اور پیچھے والی گاڑی کو راستہ دیا۔اور ایک بار پھر سے وہ اپنے خیالات میں گم ہو گیا۔
لبوں پر ایک بے اختیار الفاظ آئے
“بابا… کیوں آپ اتنے سخت دل ہو گئے ہیں؟ کیوں میری محبت، میرا درد، کچھ بھی آپ کو دکھائی نہیں دے رہا؟” گاڑی میں اونچی آواز میں، یہ بات دہرائی۔دل کے اندر تڑپتے ہوئے جذبات خود سے زبان پر آگئے تھے۔
“کیوں بابا… آپ نہیں سمجھ پا رہے کہ محبت پر اختیار نہیں ہوتا؟ اور جب یہ ہو جاتی ہے، تو اس کو کھو دینے کا ڈر کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے،!”

یارم کے دل کی بے چینی بڑھتی گئی، وہ کچھ بول رہا تھا اور کچھ سوچ رہا تھا۔اور گاڑی سڑک پر اپنی منزل کی طرف جا رہی تھی۔
“بابا… میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں آپ سے اپنی اتنی بڑی خوشی مانگوں گا، اور آپ مجھے انکار کریں گے۔ آپ تو میری ہر چھوٹی خوشی کا اتنا خیال رکھتے تھے۔پھر آج کیوں آپ تک میرے دل کا درد سمجھ کر بھی نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔

یہ زندگی میں یہ دوسری بار ہے کہ آپ میرے درد کو نہیں سمجھ رہے۔ برسوں پہلے بھی، میں آپ کی محبت میں مجبور تھا اور آج بھی مجبور ہوں…

یارم عروب کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ وہ بچپن کی وہ بات یاد کر رہا تھا جب اس کے بابا نے کہا تھا کہ وہ کبھی عروب کو یاد نہیں کرے گا، گھر میں اس کا ذکر تک بھی نہیں کرے گا۔ اور بچپن سے لے کر جوانی تک اس دل میں ایک گہرا درد جو ہمیشہ ساتھ رہتا رہا ۔اس درد سے وہ آج تک پیچھا نہیں چھڑا سکا اور آج ایک نیا درد اس کا مقدر بننے جا رہا تھا۔۔۔

یارم نے گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھا، لوگ آ ،جا رہے تھے، ٹریفک چل رہی تھی، ہر کوئی اپنی زندگی میں مطمئن نظر آرہا تھا،مگر اسے یہ سب کچھ دھندلا اور بے معنی لگ رہا تھا۔۔

اتنے میں ٹریفک کا سگنل سرخ ہو گیا۔ گاڑی رکتے ہی یارم نے سر کو سیٹ کے ساتھ لگا لیا، سر میں درد ہو رہا تھا ،دل کی دھڑکن تیز تھی، دماغ میں سوچو کا بھنڈار تھا۔بند ہوئی آنکھوں میں عبیرہ کا چہرہ اس کے سامنے آیا تو اور اس کی بے چینیاں مزید بڑھ گئیں۔

“ عبیرہ ۔۔۔۔کہاں ہو تم۔۔۔۔کیا تم بھی میرے لیے اتنی بے چین ہو….یا پھر یہ تڑپ صرف میرے حصے میں آئی ہے ؟ وہ عبیرہ کے بارے میں سوچ کر خیالوں میں پوچ رہا تھا۔

اے اللّٰہ…وہ جہاں بھی ہو، اس کی عزت آبرو کی حفاظت کرنا …اس ذلیل شخص سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے۔”

آریان کے بارے میں سوچتے ہوئے،یارم کے چہرے کی رگیں غصے کی شدت سے ابھرنے لگی تھی۔۔۔اپنے رب سے دعا کرتے ہوئے وہ کچھ سوچ رہا تھا تبھی۔
سگنل کھلا اور پیچھے والی گاڑیوں نے ہارن بجانا شروع کر دیا۔
یارم ہوش کی دنیا میں واپس آیا، سٹیرنگ گھماتے ہوئے گاڑی کو آگے بڑھایا، شور اور دھندلی صبح کی ہوا اسے حقیقت میں لے آئی، مگر دل کی تڑپ ابھی بھی ساتھ چل رہی تھی۔۔۔

         پولیس اسٹیشن پہنچتے ہی یارم خان سب سے پہلے کڑک چائے کا کپ پینے کا ارادہ رکھتا تھا۔ ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اور سر میں شدید درد تھا۔ لیکن اسٹیشن سے پہلے ہی سڑک پر بنے پارکنگ ایریا پر بھیڑ دیکھ کر اسے رکنا پڑا۔ یہ اس کی عادت تھی کہ سڑک پر چاہے کوئی مسئلہ ہو، اسے سلجھانا ضروری لگتا تھا۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ یہ بھی اس کی ڈیوٹی میں شامل  ہے۔۔۔ 

“میڈم پلیز سمجھنے کی کوش کریں آپ اپنی گاڑی یہاں سے ہٹائیں۔ گاڑی آپ نے غلط جگہ لگائی ہے سکیورٹی گارڈ کسی لڑکی سے منت کرتے ہوئے بول رہا تھا۔

“کیوں؟ یہاں کا پارکنگ ایریا اس کے باپ نے بنوایا ہے۔ اس کے باپ کی حکومت چلتی ہے یہاں پر۔ یا پھر اس کا باپ تمہیں اس کی چمچہ گیری کرنے کے ایکسٹرا پیسے دیتا ہے۔۔۔لڑکی باقاعدہ انگلی دکھاتے ہوئے سکیورٹی گارڈ کو وارن کر رہی تھی۔

“اور اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر تم اپنا منہ بند رکھو۔۔۔ میں اپنی گاڑی نہیں ہٹاؤں گی۔میں نے صحیح جگہ پر گاڑی کھڑی کی ہے، تم اس سے کہو کہ اپنی گاڑی کہیں اور پارک کر لیں!” وہ گاڑی والے آدمی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ بیچارا مرد ہو کر ڈر رہا تھا۔

یارم نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، دل میں غصے کی لہر اٹھی تھی، لیکن ضبط کرتے ہوئے خاموشی سے گاڑی سے نیچے اتر آیا۔

پارکنگ میں ایک لڑکی کھڑی تھی، گاڑی غلط جگہ پر، اور سیکیورٹی گارڈ سے بحث کر رہی تھی۔
یارم خان کو ایسی لڑکیوں سے سخت چڑھ آتی تھی جو ٹریفک قوانین کے کسی بھی اصول کو ماننے کو تیار نہ ہوتیں اور پھر بعد میں فضول کی بحث کر کے دوسروں کا وقت ضائع کر دیتیں۔

اس کی نظر ایزل پر پڑی، اور دل میں چھوٹی سی چڑچڑاہٹ سی اٹھ گئی۔ لیکن ساتھ ہی اس کے اندر ایک نظم و ضبط اور ذمہ داری کا جذبہ تھا۔۔۔وہ جانتا تھا کہ ایسے معاملات میں تحمل سے سمجھانا ضروری ہوتا ہے۔
“میڈم، آپ نے گاڑی غلط جگہ کھڑی کی ہے، براہ کرم سمجھیں۔اور جب تک آپ گاڑی نہیں ہٹائیں گی وہ اپنی گاڑی یہاں سے کیسے لے جا سکتے ہیں۔” بیچارا سکیورٹی گارڈ بیچ بچاؤ کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔

“ایزل کبھی کچھ نہیں سمجھتی …. اگر سمجھانا ہے تواس کو سمجھائیں کہ اپنی گاڑی ہٹائے یہاں سے…. اب گاڑی اڑا کر لے جانی ہے یا چلا کر یہ اس کا مسئلہ ہے میرا نہیں میں اپنی گاڑی نہیں ہٹاؤں گی۔

لڑکی کا بدتمیزی والا لہجہ اور لڑاکا انداز دیکھ کر یارم کو غصہ آیا، لیکن وہ خود پر قابو پاتے ہوئے گاڑی سے نیچے اترا تھا ۔

“لڑکی، تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟ ایک تو گاڑی غلط جگہ، اوپر سے فضول بحث کیے جا رہی ہو تمہاری وجہ سے لوگ لیٹ ہو رہے ہیں…” لڑکی غصے سے پلٹ کر اس کی جانب دیکھا۔ مگر جب اس کی نظر یارم خان پر پڑی، تو وہ جیسے پتھر ہو گئی تھی۔اور چہرے سے غصہ تو جیسے غائب ہو گیا۔

“اوہ، ہیلو مس… میں آپ سے بات کر رہا ہوں…” یارم نے ہاتھ لہراتے ہوئے کہا۔ایزل آج یارم کو یونیفارم میں دیکھ رہی تھی۔ اس کی پرسنیلٹی اور وقار نے اسے پہلی نظر میں ہی اپنا گرویدہ کر لیا تھا۔اور آج پھر سے وہ پرکشش شخصیت لیے اس کے سامنے تھا ۔ یارم کی شخصیت تو پہلی نظر میں ہی اس کے لیے بھولنا مشکل ہو گئی۔اور یہ ان کی دوسری ملاقات تھی۔
“ہیلو مس… میں آپ سے بات کر رہا ہوں…” یارم نے دوبارہ ہاتھ ہلایا۔
“جی جی… کس نے منع کیا ہے بات کرنے سے؟”ایزل نے بڑے اعتماد سے کہا۔لبوں پر شرمیلی سے مسکراہٹ دیکھ کر وہاں کھڑے کئی لوگوں کو ہنسی ا رہی تھی۔

یارم نے اس کے انداز کو دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔

“مس… آپ کا کوئی سکرو ڈھیلا ہے۔؟ یا مجھے ایسا لگ رہا ہے؟” یارم کو اس کا انداز عجیب لگ رہا تھا۔

“سر، سکرو تو میرے بہت سے ڈھیلے ہیں، مگر اللّٰہ کا شکر ہے میں غرور نہیں کرتی۔”ایزل نے مسکرا کر جواب دیا۔انداز شوخ اور بچکانہ تھا۔اور یارم کو اس کا انداز بالکل اچھا نہیں لگا۔۔۔

ایزل، جو آج پہلی بار یارم کو یونیفارم میں دیکھ رہی تھی، اس کی وجاہت اور پرسنیلٹی سے متاثر ہو گئی تھی۔ اس کے لیے یہ حیرت کی بات تھی کہ جس شخص کے ساتھ اس نے سڑک کے بیچ و بیچ اتنی منہ ماری کی تھی، وہ پولیس والا تھا۔ یونیفارم میں یارم اتنا پرکشش لگ رہا تھا کہ ایزل، پارکنگ ایریا میں کھڑی، ارد گرد جمی سب نظروں کو بھول گئی۔

پورے کالج میں ایزل نے اپنی تمام فرینڈز کو بتایا تھا کہ وہ اتنا ہینڈسم اور خوبصورت لڑکا دیکھ کر آئی ہے کہ جو حقیقت میں ہو نہیں سکتا، ایسا لڑکا جو صرف ہم تصور کی دنیا میں دیکھتے ہیں، اتنا خوبصورت کہ ہمارے رومینٹک ناولز میں ہوتا ہے۔

ایزل نے اپنے ساتھ ساتھ اپنی فرینڈز کا بھی دماغ خراب کر رکھا تھا، یارم کی وجاہت کی تعریفیں کر کر کے۔ اس کے منہ سے یارم کی پرسنیلٹی کی تعریفیں سن کر، ایزل کی تمام فرینڈز میں بھی جستجو پیدا ہو گئی تھی کہ یہ یارم خان کون ہے، کیونکہ اگر ایزل کسی کی تعریف کر رہی تھی تو وہ شخص واقعی قابل تعریف ہوگا۔

ایزل کی ناک پر تو کبھی کوئی لڑکا بیٹھتا ہی نہیں تھا، ہر لڑکے میں اسے خامیاں نظر آتی تھیں۔ زندگی میں پہلی بار اس نے کسی لڑکے کی اتنی تعریف کی کہ اس کی دوستیں بھی حیران رہ گئیں—کیا واقعی کوئی اتنا خوبصورت ہو سکتا ہے، یا ایزل دماغی طور پر کھسک چکی ہے؟

ایزل کو یقین نہیں تھا کہ اس کی ملاقات دوبارہ اس شخص سے کبھی ہو سکتی ہے، جسے پہلی نظر میں دیکھ کر وہ اش اش کر اُٹھی تھی۔

وہ فل یونیفارم میں،دونوں ہاتھ کمر پر باندھے شاندار انداز سے کھڑا تھا۔ ایزل کے لیے یارم کی باوقار پرسنیلٹی سے بچنا مشکل ہی نہیں، ناممکن تھا۔ وہ اسے دیکھے جا رہی تھی، جبکہ یارم کو اس طرح اس کا دیکھنا عجیب سا لگ رہا تھا۔وہاں کھڑے ہوئے لوگ ایزل کی بچگانہ حرکتوں پر ہنس رہے تھے۔

“دیکھیں، مردوں کے ساتھ زبان درازی کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے، اور ویسے بھی آپ نے گاڑی غلط جگہ پارک کی ہے۔ آپ اپنی گاڑی ہٹا دیں تاکہ وہ اپنی گاڑی لے جا سکیں…”

یارم نے اپنے لہجے کو سنبھالتے ہوئے اسے سمجھایا، جبکہ اسے یاد تھا کہ اس لڑکی کے ساتھ بیچ سڑک میں اس نے کس لہجے میں بات کی تھی۔

“جی سر، جیسے آپ کہیں…”

ایزل اسے دیکھتے ہوئے ہاں میں سر ہلا رہی تھی، جو بالکل اس کے نیچر کے خلاف تھا… دیکھنے والے بھی حیران تھے کہ ایک دم اس کا رویہ کیسے بدل گیا۔

یارم کو بھی حیرانی ہوئی کہ وہ اتنی آسانی سے مان گئی، مگر اسے اچھا لگا کہ لڑکی نے کوئی بحث نہیں کی۔

“گڈ ویری گڈ… کسی کے لیے تکلیف کا باعث بننا بہت غلط چیز ہے، اچھے شہری بنیے، ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں…”

“جی سر، جیسے آپ کا حکم!”

یارم خان کو واقعی لگ رہا تھا کہ یہ لڑکی تھوڑی سی کھسکی ہوئی ہے… وہ سوچتی ہوئی نظریں اس پر ڈال کر اپنی جیب میں جا بیٹھا۔

مگر ایزل ٹھنڈی سی آہیں بھرتی ہوئی، جیپ کو وہاں سے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی…

یارم کے جانے کے بعد اس نے گھور کر اس گاڑی والے شخص کو دیکھا، مگر اس بار وہ کچھ نہیں بولی… بیچارا صرف ایزل کی گھوری سے ہی ڈر چکا تھا۔

اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہی ایزل کے دماغ میں یارم کا نام گھومنے لگا…
بات کرتے ہوئے اس کی نظر بے اختیار سینے پر لگے ہوئے بیچ پر گئی تھی، جہاں چھوٹے حروف میں اس کا نام لکھا تھا جتنا خوبصورت چہرہ، اتنا ہی خوبصورت نام…
جو بھی ہے، بندہ ہے، توڈیشنگ …
اسی لمحے یارم خان کی شخصیت، یونیفارم، اور بیچ کا نام، سب ایک ساتھ اس کے دل میں اترا…لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔

═══════❖═══════

اُفف اللّٰه… میٹنگ شروع ہونے میں صرف پانچ منٹ رہ گئے ہیں…
راہداری کی لمبی روشنیوں کے نیچے پریشے کی ایڑیاں بے چینی سے ٹک ٹک کرتی جا رہی تھیں۔ سانس تیز، پیشانی پر ہلکی نمی، اور دل اس طرح دھڑک رہا تھا جیسے وقت اسے پیچھے سے دھکا دے رہا ہو۔

’’پریشے… پریشے… تم کب سدھرو گی؟ پتہ نہیں میں ہمیشہ لیٹ ہی کیوں ہو جاتی ہوں… تنگ آ گئی ہوں اپنی اس لیٹ لطیف عادت سے…‘‘
وہ خود سے الجھتی ہوئی، قدموں کو اور تیز کرتی گئی۔ سفید روشنی میں اس کا چہرہ ایک پل کو اور پریشان دکھائی دیا۔ اچانک سامنے سے آنے والی سخت سی ٹکر نے اسے جھنجھلاہٹ کے ساتھ جھٹکا دیا۔ ہاتھ میں پکڑی فائل پھسل کر فرش پر بکھر گئی… کاغذ ہوا میں ذرا سا اچھلے اور پھر سرسراہٹ کے ساتھ نیچے اتر گئے۔

پریشے کے اندر غصہ ایک دم بھڑکا۔ ایسے جیسے دیر کی گھٹن میں کسی نے مزید پھندا کس دیا ہو۔ ابھی وہ کچھ کہتی کہ سامنے کھڑا شخص فوراً ایڑیوں کے بل بیٹھ گیا۔
خاموشی اور تہذیب کے ساتھ اس کے ہاتھ فائل سمیٹنے لگے۔ انگلیوں کی حرکت میں عجلت تھی مگر لہجے میں نہیں۔

’’سوری… میں نے آپ کو دیکھا نہیں…‘‘
وہ اب بھی نیچے جھکا ہوا تھا۔ مکالمہ بس ضرورت کے مطابق، رکھ رکھاؤ میں لپٹا ہوا۔

پریشے نے بے اختیار ایک نظر اسے دیکھا… اور چند لمحوں کے لیے رکی۔ سانس جیسے آہستہ پڑ گیا۔
سامنے کھڑا شخص عمر میں اس سے بیس بائیس سال بڑا ضرور لگ رہا تھا، مگر اس کی موجودگی میں ایک کشش تھی۔ چہرے پر ہلکی داڑھی، جس میں کہیں کہیں چاندی چمک رہی تھی… جیسے دھوپ میں بجھتے سلگتے انگارے۔
لائٹ چاکلیٹ براؤن تھری پیس سوٹ میں وہ حیرت انگیز طور پر پراعتماد لگ رہا تھا۔ اسی رنگ کی شرٹ، اور گلے میں لائننگ والی ٹائی… سب کچھ اس کے قد و قامت، اس کے وقار کے ساتھ پوری طرح جچ رہا تھا۔

’’یہ لیجیے… آپ کی فائل۔ سوری میری وجہ سے پریشانی ہوئی۔‘‘
وہ سیدھا کھڑا ہوا تو اس کی اطراف میں ہلکی سی مہنگے پرفیوم کی خوشبو پھیل گئی۔

’’نو نو… غلطی میری تھی۔ میں ہی بے خیالی میں ٹکرا گئی تھی۔ پلیز آپ سوری مت کہیں…‘‘
پریشے نے فائل لیتے ہوئے اپنے لہجے کو نرم کیا۔ اس کی انگلیاں فائل پر ٹکی رہیں جیسے غصہ تھام رہی ہوں۔

’’آئی تھنک آپ میٹنگ روم کی طرف جا رہی ہیں؟‘‘

’’جی… میری میٹنگ ہے اور میں لیٹ ہو گئی ہوں۔‘‘
اس کی آواز میں وہی گھبراہٹ، مگر اب ایک عجیب سا سکون بھی۔ جیسے سامنے والے شخص کی سنجیدگی نے اسے خود بخود سنبھال لیا ہو۔

’’نہیں نہیں، آپ گھبرائیں نہیں۔ آپ ٹائم پر ہیں۔ میٹنگ آدھا گھنٹہ پوسٹ پون ہو چکی ہے۔‘‘

’’آپ کو کیسے پتہ؟‘‘
پریشےنے حیرت بھری مسکراہٹ سے پوچھا؛ آنکھوں میں ایک چھوٹی سی چمک آ گئی تھی۔

’’کیونکہ میں بھی اسی میٹنگ کے لیے آیا ہوں۔‘‘

’’اچھا… یہ تو زبردست ہو گیا۔ مطلب ہم ایک ہی میٹنگ کے لیے افرا تفری میں جا رہے تھے!‘‘
پریشے بےاختیار ہنس پڑی۔ ہنسی میں اس کی ساری گھبراہٹ پگھل گئی۔

’’جی بالکل…‘‘
اس کے لہجے میں نرمی کا ایک وزن تھا۔ بات کرنے کا انداز پختگی سے بھرا ہوا۔ چہرے کے خطوط میں وہی مخصوص وقار… جیسے پشتون روایات کی گہرائی اس کے اندر سانس لیتی ہو۔

’’Myself Parishay Khan… I’m owner of Parishay Fabric Organization.‘‘

’’Oh good! I’m Shayan Khan… owner of Shayan Enterprise.‘‘
دونوں نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ملایا۔ اس ایک ہینڈ شیک میں عجیب سا مانوس پن تھا، جیسے دونوں پہلے بھی کہیں مل چکے ہوں۔

’’چلیں… جب منزل ایک ہی ہے تو پھر ساتھ ہی چلتے ہیں۔‘‘
شایان نے میٹنگ روم کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا۔

’’جی چلیے…‘‘
دونوں سکاٹ لینڈ کے مشہور ہوٹل کی چمکتی ہوئی گیلری میں قدم بہ قدم بڑھنے لگے۔ باہر کی ٹھنڈی ہوا شیشوں سے ٹکرا کر اندر ایک صاف شفاف روشنی بکھیر رہی تھی۔ قالین پر ان کے قدموں کی آواز آہستہ مگر باوقار تھی۔

’’آپ یہاں رہتی ہیں یا صرف میٹنگ کے لیے آئی ہیں؟‘‘

’’نہیں، میں میٹنگ کے لیے آئی ہوں۔ زیادہ تر تو اپنے ملک میں ہی رہتی ہوں۔ آئی لو مائی پاکستان… بس کبھی کبھی یہاں آنا جانا رہتا ہے۔‘‘

’’ویری گڈ… پاکستان تو اپنا ملک ہے۔ وہاں کا احساس دنیا میں کہیں نہیں ملتا…‘‘
شایان خان نے گہری سانس لی۔ اس سانس میں بے نام سی تھکن تھی، جیسے بہت کچھ دل میں دبا رکھا ہو۔

پریشے نے فوراً اس کے لہجے کی اداسی محسوس کر لی۔ اس نے شایان کی طرف دیکھا۔ چہرے پر ایک لمحے کے لیے بہت پرانا درد ابھرا… وہ درد جو ہنستے ہوئے بھی چھپ نہیں پاتا۔

’’اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ کو پاکستان چھوڑے کافی عرصہ ہو گیا ہے… اور آپ کو اپنا ملک یاد بھی آتا ہے۔‘‘

’’جی… وقت کی ایک بے رحم آندھی مجھے وطن سے دور لے آئی۔ کچھ یادیں ایسی ہیں جو واپس جانے نہیں دیتیں۔ وطن میں قدم رکھتے ہی سب سامنے آ جاتا ہے… اور شاید وہ سب سہنا میرے بس میں نہیں۔‘‘

اس کے الفاظ پریشے کے دل میں اترتے گئے۔ جیسے ہر جملے کے ساتھ اس کی آنکھوں کے گرد پھیلا ہوا دکھ واضح ہو رہا ہو۔

’’کیا میٹنگ کے بعد ہم کافی پی سکتے ہیں؟‘‘
پریشے نے نرمی سے پوچھا۔ اس کی مسکراہٹ میں اپنائیت تھی، جیسے وہ اس کی تھکن بانٹنا چاہتی ہو۔یا پھر اس کے ساتھ کچھ ٹائم گزار کر اسے سمجھانا چاہتی تھی۔پہلی ہی نظر میں پریشے کو وہ بہت خاص لگا ۔

’’جی جی… ضرور۔‘‘آپ ہماری مہمان ہیں تو مہمان نوازی تو ہماری طرف سے ہوگی ۔

’’چلیں… میٹنگ روم آ گیا۔ ان شاء اللّٰه یہ میٹنگ ہم سب کے لیے اچھی ثابت ہو گی۔‘‘

’’جی ان شاء اللّٰه…‘‘
شایان نے دروازہ کھولا۔ دروازہ کھلتے ہی ایک ہلکی سی خنکی اور سرگوشیوں کی آواز باہر بہہ نکلی۔

اندر قدم رکھتے ہی لوگ ادھر ادھر جھک کر باتیں کر رہے تھے:
’’سنا ہے ملیشا فیبرک کا اونر چینج ہو گیا ہے…‘‘
’’کوئی بڑا نام ہے…‘‘
’’پتہ نہیں آج کس کے ساتھ میٹنگ ہے…‘‘

ہر میز پر قیاس آرائیاں تھیں۔ چہروں پر تجسس کی لکیریں۔
پریشے اور شایان بھی اپنی سیٹوں پر بیٹھے اسی موضوع پر بات کرنے لگے… جیسے ایک ہی کہانی کے دو کردار اپنی اپنی سمت سے ایک ہی منظر کو دیکھ رہے ہوں۔۔۔
سب میٹنگ میں ایک ہی خاص ہستی کا انتظار کر رہے تھے…
ہال کی فضا میں ایک بےنام سی کھنک تھی، جیسے ہوا خود بھی انتظار میں تھم گئی ہو۔ میزوں پر رکھی فائلیں پل بھر کو ہلتی تھیں اور پھر خاموش پڑ جاتیں۔ حاضرین کی نظریں بار بار دروازے کی سمت اٹھتیں، پھر آہستہ سے واپس آ کر ایک دوسرے کے چہروں پر ٹک جاتیں۔
چائے کے کپوں سے اٹھتی بھاپ بھی جیسے سست ہو گئی تھی۔ ہر شخص کی نشست میں ایک بےچینی، ایک تجسس تھا۔ چند لوگ دھیمی آواز میں سرگوشی کرتے، چند بس اپنی گھڑی دیکھ کر ادھر ادھر نگاہ دوڑاتے۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ’’خاص ہستی‘‘ داخل نہیں ہو رہی بلکہ پورے کمرے کی فضا کو بدلنے والی تھی… گویا اس کے قدموں کی آہٹ کے ساتھ ہی اس میٹنگ کا اصل رنگ شروع ہونا تھا۔۔۔۔
═══════❖═══════

ہیلو ایوری ون!!!
ایک رعب دار آواز کی گونج ابھی پوری طرح منتشر بھی نہیں ہوئی تھی کہ سب کے بولنے کی چیاؤں میاؤں یک دم دب گئی… ہال خاموشی کے بوجھ سے بھاری ہو گیا۔

تھری پیس گرے کلر کے پینٹ کوٹ کے اندر لائٹ شیڈ کی شرٹ… گردن کے پاس سلیقے سے بندھی ہوئی ٹائی…
اس کی شخصیت میں ایک ایسا وقار تھا جو دروازے سے داخل ہوتے ہی پورے کمرے کی ہوا بدل دے۔
چلتے ہوئے اس کے جوتوں کی ہلکی سی آواز بھی وزن رکھتی تھی۔ پی اے اس کے پیچھے فائلیں سنبھالے چل رہا تھا، مگر اصل توجہ صرف اسی ایک شخصیت کی طرف کھنچتی چلی گئی۔
وہ آ کر ہیڈ سیٹ پر بیٹھا تو محسوس ہوا جیسے اس کرسی نے بھی سکھ کا سانس لیا ہو۔

لمبی میٹنگ ٹیبل پر ہر کرسی بھری ہوئی تھی، مگر کسی ایک کی موجودگی سب پر حاوی تھی۔
ہر مرد و عورت نے اس کی جانب ایسی نگاہ سے دیکھا جس میں تعریف، حیرت اور تھوڑا سا رعب سب شامل تھا۔
چہرے کی تراش، انداز، قد… سب میں ایک خاص کشش تھی۔
آنکھوں پر لگے سفید فریم کے چشمے نے اس کی شخصیت میں وہ نفاست بھر دی تھی جو دیکھنے والے کو پہلی نظر میں ہی متاثر کر دے۔

Myself Aryan Khan!!
Owner of Aryan group of companies…
I’m a new owner of Malaysia fabrics…
Now it’s name is also Aryan group of companies….

یہ جملے صرف اعلان نہیں تھے… طاقت اور اعتماد کا ایک بے صدا اظہار تھے۔
ہال میں موجود لوگ ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر سر ہلاتے، جیسے سب پہلے ہی سمجھ چکے ہوں کہ نئی حکومت کس ہاتھ میں آئی ہے۔

آریان خان ایسا نام تھا جسے پہچان کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
کاروباری دنیا میں اس کی شہرت ایک معیار تھی۔ شہرت ایسی… جس کے پیچھے لوگ چلتے نہیں، بھاگتے ہیں۔

پریشے کے دل میں جیسے اچانک آگ بھڑک اٹھی۔
یہ چہرہ… یہ نام… یہ شخص…
اس سے بہتر کون جانتا تھا کہ آریان خان سے اس کا رشتہ کیا ہے۔
دوسروں کے لیے وہ محض ایک بزنس ٹائیکون تھا، مگر پریشے کے لیے وہ ایک ایسی مجبوری، ایک ایسا بندھن تھا جسے وہ نبھانا ہی نہیں چاہتی تھی۔
منگیتر… مگر دشمنوں جیسا رویہ۔
بچپن میں طے ہوا رشتہ، جس میں نہ محبت تھی نہ خواہش… صرف ضدیں، انا اور بےلطف بحثیں۔

نہ پریشے اسے پسند کرتی، نہ آریان اسے۔
پریشے کو اپنی آزادی پیاری تھی، اپنی محنت سے بنائی ہوئی شناخت عزیز تھی۔
آریان کو کاروباری دنیا میں عورتوں کا آگے آنا پسند نہیں تھا… یہی سب سے بڑا اختلاف تھا۔
یہی وجہ تھی کہ دونوں کا ساتھ نبھانا ایسا ہی تھا جیسے ایک دھاگے کو دو مختلف سمتوں میں کھینچا جائے۔

پریشے کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ جس میٹنگ کے لیے وہ پاکستان سے سکاٹ لینڈ آئی ہے… وہاں آریان خان سربراہ کی کرسی پر بیٹھا ملے گا۔
یہ جھٹکا سب کے لیے تھا، مگر سب سے بڑا صدمہ وہی سہہ رہی تھی۔
دل میں تیز چبھتی ہوئی ناگواری کے باوجود وہ جانتی تھی کہ اس ڈیل کے بغیر اس کی کمپنی آگے نہیں بڑھ سکتی۔
یہاں بیٹھنا اس کی مجبوری بھی تھا اور امتحان بھی۔

ہر شخص کی نظریں ڈیل کے اس معاہدے پر تھیں جس کے لیے سب دور دور سے آئے تھے۔
اب فیصلہ صرف ایک انسان نے کرنا تھا… اور وہ شخص تھا آریان خان۔

’’آپ لوگ اپنی اپنی پریزنٹیشن دینا شروع کیجئے…‘‘
اس کی آواز میں حکم تھا، بحث کی گنجائش نہیں۔

ایک کے بعد ایک لوگ کھڑے ہوتے گئے۔
بلا جھجک، پورا دھیان، پوری کوشش…
شایان نے بھی اپنی پریزنٹیشن پیش کی۔ واضح، مضبوط، بااعتماد… اور پھر وہ بیٹھ گیا۔

اب باری پریشے کی تھی۔
دل میں ضد، انا، دکھ… سب اکٹھے تھے۔
اپنی پوری ہمت سمیٹ کر وہ کھڑی ہوئی، فائل کھولی، اور بولنا شروع کیا۔
الفاظ صاف تھے، مواد مضبوط…
مگر جوں جوں وہ آگے بڑھتی گئی، آریان کی آنکھوں میں وہی پرانی سرد مہری گہری ہوتی گئی۔

آدھے راستے میں آریان نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
جیسے کسی نے بات نہیں، اس کی محنت کا گلا دبا دیا ہو۔
پریشے کے اندر غصے کی لہر دوڑ گئی۔
یہ جان بوجھ کر کر رہا تھا…
اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کی پریزنٹیشن بہترین ہے۔
دوسروں کی کمزور باتیں سن کر بھی اس نے سر ہلایا تھا، مگر پریشے کی باتیں آدھی سن کر ہی انکار کر دیا۔

مسٹر آریان… آپ میری انسلٹ کر رہے ہیں…
میری پریزنٹیشن بہت اچھی ہے… آپ پوری سن کر فیصلہ کیجئے گا…

اپنے ضبط کو تھامتے ہوئے وہ بولی، مگر آواز کے اندر دبا ہوا طوفان صاف سنائی دے رہا تھا۔

’’مس پریشے… یہ تو میں ڈیسائڈ کروں گا کہ آپ کی پریزنٹیشن اچھی ہے یا نہیں۔ مجھے بالکل اچھی نہیں لگی۔
نو انٹرسٹڈ۔ اگر چاہیں تو بیٹھ سکتی ہیں، مگر مجھے آپ کی پریزنٹیشن میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔‘‘

یہ جملے پریشے کے سینے میں خنجر کی طرح پیوست ہوئے۔
اس نے غصے میں آریان کو دیکھا… ایسا دیکھنا جیسے آنکھوں سے سب کچھ کہہ دیا جائے۔
مگر میٹنگ روم حدود کا قیدی تھا۔
وہ چاہ کر بھی کوئی حد پار نہیں کر سکتی تھی۔

اپنی فائل اٹھائی اور ضبط کے آخری کنارے پر چلتی ہوئی میٹنگ روم سے باہر نکل گئی۔
سانس بھاری… قدم تیز… دل میں جلتا ہوا لاوا۔

شایان بھی حیران تھا۔
وہ جانتا تھا کہ پریشے کی پریزنٹیشن بہترین تھی… پھر آریان نے کیوں رد کر دیا؟

آریان Khan نے پورا ہال ایک نظر دیکھا، کرسی سیدھی کی، اور پورے اعتماد سے اعلان شروع کیا..

’’میں یہ کنٹریکٹ مسٹر شایان خان کے ساتھ قائم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

Thank you so much…
In Sha Allah we will be more succeed together…
In Sha Allah…
Meeting is over…

آریان خان کھڑا ہوا، ہاتھ ملایا، اور باہر چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی یوں لگا جیسے پورے کمرے کا محور نکل گیا ہو۔

کنٹریکٹ ایک تھا…
خواہش مند درجنوں…
مگر جیت شایان کی ہوئی۔

اور فیصلہ…
ہمیشہ کی طرح…
آریان خان نے عقل، منصوبہ بندی اور اپنی مخصوص حکمت عملی کے ساتھ کیا تھا۔وہ سوچے سمجھے بغیر فیصلہ کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔

شایان کو میٹنگ روم میں سب نے مبارکباد دی کہ کانٹریکٹ اسے مل گیا ہے، مگر وہ جانتا تھا کہ سب کی یہ مبارکباد صرف دکھاوے کے لیے تھی۔

ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی، لیکن آنکھوں میں چھپی حسد کی چنگاری واضح تھی۔

ہر کوئی یہی چاہتا تھا کہ ڈیل ان کے ساتھ سائن ہوتی، مگر سب سے زیادہ دکھ اسے پریشے کا تھا، جس سے ابھی ابھی اس کی ملاقات ہوئی تھی۔

اور اس کانٹریکٹ کی وجہ سے دونوں کے بیچ میں عجیب ساتھ دشمنی اور جلن والا رشتہ بن گیا تھا۔ اور یہ وجہ اسے پریشے کے قریب جانے سے روک رہی تھی۔
وہ پریشے سے بات کرنا چاہتا تھا، لیکن… پریشے…تو میٹنگ روم سے ایسے نکلی جیسے تیز رفتار گھوڑا ہوا میں اڑتا ہوا جا رہا ہو۔۔
اس کی ہر قدم کی رفتار میں عزم اور ناپسندیدگی جھلک رہی تھی، اور شایان کو احساس ہوا کہ اسے ابھی اس کی شدت اور جذبات کو سمجھنا ہوگا۔

شایان گہری سانس لیتے ہوئے خاموشی سے میٹنگ روم سے باہر نکلا، اپنی گاڑی کی طرف بڑھتا ہوا آیا، لیکن پریشے وہاں نہیں تھی۔۔۔۔وہ جا چکی تھی۔

═══════❖═══════

“آج تیاری رکھنا، گھر میں کچھ مہمان آرہے ہیں ایزل کو دیکھنے کے لیے…”
افضل خان کی آواز میں ایک خاص سنجیدگی اور سختی تھی، جیسے ہر لفظ کے ساتھ ذمہ داری کا بوجھ محسوس ہو رہا تھا ۔

روشانے نے نظریں اُٹھا کر اپنے لالہ کی جانب دیکھا، جو پاس ہی موبائل پر کچھ دیکھنے میں مصروف تھا۔
اس کی انگلیاں اسکرین پر حرکت کر رہی تھیں، چہرے پر تھکن اور معمولی بے رخی صاف نظر آ رہی تھی، جیسے گھر کی اس فضاء میں اس کا وجود اس وقت کوئی معنی نہ رکھتا ہو۔

“لیکن لالہ، بغیر آریان کی موجودگی کے، ہم کیسے اس کی اکلوتی بہن کا رشتہ طے کر سکتے ہیں؟
روشانے کے دل میں دھچکا سا لگا، اس کے منہ سے خود بخود یہ الفاظ نکل گئے۔
آنکھوں میں بے چینی، ال اس کے اندر کے اضطراب کو ظاہر کر رہی تھی۔

جب کہ آج کل اس کا بھائی اس سے ناراض ہی نظر آتا تھا، اس وقت بھی اس نے نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنی بیوی سے بات کی، ایسے جیسے روشانے منظر عام پر ہی نہیں تھی۔بات آریان سے تعلق رکھتی ہو، تو وہ بھلا کیسے چپ رہ سکتی تھی۔

افضل خان نے سخت نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
موبائل کی سکرین پر سکرول کرتے ہوئے لالہ کے ہاتھ رک گئے، جیسے لمحہ بھر کے لیے اس کی دنیا رک گئی ہو۔

“کیوں نہیں کر سکتا میں اپنی بیٹی کا رشتہ طے؟”
افضل خان کے چہرے پر شدید غصے سے ماتھے پر سلوٹیں پڑنے لگی تھیں، آنکھوں میں آگ بھڑک رہی تھی، اور آواز میں فیصلہ کن سختی تھی،

“بھائی کو اگر اتنی فکر ہوتی تو اپنے تک پہنچنے والے تمام راستے بند کر کے نہیں جاتا…”
“گھٹیا انسان کا نام بھی مت لینا میرے سامنے… مجھے سب کے سامنے شرمندہ کروا کے رکھ دیا ہے… جو کارنامہ اس نے سر انجام دیا ہے اور جس دن میرے سامنے آئے گا پھر بہت برا پیش آؤں گا اس کے ساتھ… ویسے بھی ایسے بھائی کی میری بیٹی کو ضرورت نہیں ہے… صارم جیسا بھائی ہے، اس کے پاس وہ بھائی ہونے کے سارے فرض نبھا لے گا…”

افضل خان کا غصہ آریان کا نام سنتے ہی اوپر کو جا رہا تھا۔
موبائل اس کے ہاتھ میں تھا مگر انگلیاں ساکت ہو گئی تھیں، گردن میں ہلکی سی سختی تھی، اور آنکھوں میں وہ خالی سی سخت جھلک جو دل میں جمع تلخی کو ظاہر کر رہی تھی۔
اس کے لہجے میں وہ جھنجھلاہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی، جیسے دل میں جمع تکلیف اور تحفظ کا امتزاج ہو، شور نہیں بلکہ ایک خاموش تناؤ سا تھا جو ہر لفظ کے ساتھ محسوس ہوتا تھا۔

“مگر لالہ، آپ آریان سے اس کا بھائی ہونے کا حق نہیں چھین سکتے، یہ آپ اس کے ساتھ غلط کر رہے ہیں…”
روشانے نے ، اور نظریں سیدھی افضل خان کی جانب جمائے رکھی۔
اس کی آواز میں ہلکی سختی اور فکر تھی، جیسے بس وہ اپنے الفاظ کے ذریعے حقائق بتا رہی ہو۔
چہرے پر ہلکی سنجیدگی تھی، لب تھوڑے سے جکڑے ہوئے، اور آنکھوں میں چھوٹا سا اشارہ تھا کہ بچے سے کوئی غلطی ہو جائے تو اتنی بڑی سزا دینا مناسب نہیں۔
“میں کر سکتا ہوں…”

“جب تم دونوں پھوپھی-بھتیجہ مل کر اپنی مرضیاں چلا سکتے ہو تو پھر میں اپنے گھر کا مالک ہوتے ہوئے اپنی مرضی کیوں نہیں کر سکتا؟”

“ایزل کے لیے جو لوگ آرہے ہیں وہ میرے بہت خاص ہیں…”

“میں کسی بھی طرح کا کوئی تماشہ نہیں چاہتا، میری طرف سے تو رشتہ ڈن ہے، بس ان کی ہاں باقی ہے…”

“اگر روشانے کوئی تماشہ ہوا اور اس کی وجہ سے ایزل کے رشتے میں رکاوٹ آئی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا…”

“تمہیں اور آریان کو میں نے چھوٹ دے دی…”

“میری آزادی کو تم لوگوں نے بہت غلط استعمال کیا ہے… اب اس سے زیادہ میں برداشت نہیں کروں گا…”

“روشانے، تمہارے کہنے کا جو بھی مطلب تھا، مجھے نہیں جاننا…”
“تم دونوں نے مل کر جتنا ذلیل کروانا تھا کروا دیا، اب اس سے زیادہ کی مجھ میں ہمت نہیں ہے…”
“اس سے پہلے کہ تم دونوں کے کیے کی سزا میری بیٹی کو بھگتنا پڑے، میں اپنی بیٹی کو محفوظ ہاتھوں میں پہنچانا چاہتا ہوں…”

مت بھولو کہ آریان جس لڑکی کو اغوا کر کے لے گیا ہے وہ تبریز خان کی بیٹی ہے اور اس کی عزت پر وار کیا گیا ہے تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔
اور میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی کسی مصیبت میں پڑے۔۔

“لڑکا پولیس میں اچھی پوسٹ پر ہے۔ بہت اچھا، سلجھا ہوا، لڑکا ہے، اس کی جوڑی ایزل کے ساتھ ہر لحاظ سے اچھی لگے گی…”
الفاظ میں خوشی اور اطمینان کی مٹھاس تھی، لیکن آنکھوں میں ایک چھپی ہوئی تشویش بھی جھلک رہی تھی۔
“میں نہیں چاہتا کہ ہمارے گھر میں ہوئے تماشے کی خبر ان کے کانوں تک پہنچے…”

“تو برائے مہربانی آریان کے بارے میں گھر میں مہمانوں کے سامنے زیادہ چرچہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے…”
“لفنگے بھائی کے بارے میں وہ پوچھیں تو کہہ دینا کہ وہ ملک سے باہر رہتا ہے…”
تبریز خان نے صرف بات نہیں کی تھی، اپنا فیصلہ سنایا تھا۔

“مگر لالہ، ہم ان سے سچ کتنی دیر چھپا سکتے ہیں؟ ایک نہ ایک دن تو حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے…”

روشانے نے ایک بار پھر سے اس کی بات کو ٹوکتے ہوئے کہا، جب کہ اسے تکلیف تھی اس بات کی کہ آریان کو کیوں کسی کی نظروں سے چھپایا جائے۔
۔۔۔۔۔

“روشانے چپ ہو جاؤ، کیوں بات کو بڑھائے جا رہی ہو؟”میں سب کچھ سنبھال لوں گی… تم خاموش ہو جاؤ…”مجبوراً افضل خان کی بیوی کو بیچ میں پڑھ کر بات کو ختم کروانا پڑا۔

آپ جائیں، آپ کو دیر ہو رہی ہے… انشاءاللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا …”
روشانے کی بھابھی بیچ میں نہ پڑتی تو دونوں بہن بھائیوں میں مزید بحث ہونے کے امکانات تھے…

“یہی چاہتا ہوں کہ تم سب کچھ سنبھال لینا۔ تمہارے نمبر پر میں نے لڑکے کی تصویر سینڈ کر دی ہے، ایزل کو دکھا کر کنفرم کر لینا کہ وہ اس رشتے کے لیے خوش ہے…”

“کیوں لڑکا ساتھ نہیں آئے گا…؟”
افضل خان کی بیوی نے تجسس سے پوچھا۔

“نہیں۔ لڑکا فلحال نہیں آ سکے گا، وہ مصروف ہے…”

“ٹھیک ہے، جیسے آپ کو مناسب لگے… آپ بے فکر رہیں، میں ایزل سے پوچھ لوں گی…”

“ٹھیک ہے، میں چلتا ہوں…”
افضل خان کہہ کر آفس کے لیے نکل گیا۔رک کر وہ اپنی بہن سے اور بحث نہیں سننا چاہتا تھا۔

“بھابھی، آپ لوگ آریان کے ساتھ غلط کر رہے ہیں، آخر وہ بھائی ہے، اسے حق ہے اپنی بہن کے رشتے میں موجود ہونے کا…”اپنے لالا کے جاتے ہی روشانے پھر سے اسی بات پر آگئی۔

“روشانے، تم اور آریان کیوں گھر میں سکون نہیں آنے دیتے؟”ایسا کون سا اچھا کارنامہ سر انجام دے کر گیا ہے جو اس کا باپ اس کا انتظار کرے۔
“جب اس کا باپ خوشی سے اپنی بیٹی کا رشتہ کہیں طے کرنا چاہتا ہے تو کرنے دو…”
“ابھی رشتے والے آئے نہیں اور تم اپنے بھائی کے ساتھ بحث کیے جا رہے تھی… رشتے والوں کو آنے دو بات آگے بڑھنے دو… آریان انشاءاللہ گھر ہی آئے گا ابھی شادی نہیں ہو گئی جو تم نے رونا دھونا ڈال دیا ہے….تھوڑا صبر سے کام لو۔”
“خاک صبر رکھوں جس سپیڈ سے لالا جا رہے ہیں مجھے تو لگتا ہے کہ شادی بھی آریان کے بغیر ہی کر دیں گے … اور آپ اسی طرح دیکھتی رہیے گا۔”

“تو تمہارے خیال سے مجھے کیا کرنا چاہیے..؟تمہاری طرح فضول میں گھر کا ماحول خراب کرنا شروع کر دوں…تم بھی جانتی ہو کہ وہ تمہارا ہی لالا ہے، ضد سے پیچھے نہیں ہٹے گا…”
“اس نے سوچ لیا ہے کہ ایزل کی شادی کرنی ہے، تو مطلب کرنی ہے…”
“فضول باتوں میں دماغ مت لڑایا کرو…اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا اگر وہ لڑکا فون اٹھا لے ہماری بات سن لے تو شاید معاملات ٹھیک ہو جائیں۔”

“اور تم اٹھو ان باتوں کو چھوڑو فی الحال میرے ساتھ کچن میں چلو اور مجھے بتاؤ کہ مہمانوں کے کھانے میں کیا کیا چیزیں تیار کروانی ہے…”گلناز کہ چہرے پر ممتا بھری فکر نظر آرہی تھی۔

“ٹھیک ہے، آپ چلیں، میں آتی ہوں…”روشانے نے کچھ سوچتے ہوئے کہا وہ کسی گہری سوچ میں لگ رہی تھی۔

“جلدی آنا…”گلناز کہتے ہوئے وہاں سے جا چکی تھی۔

“آریان، کہاں ہو تم؟”
“خود تو ذلیل ہو رہے ہو، ساتھ میں مجھے بھی کروا رہے ہو…”
“کم از کم مجھے ہی بتا دیتے کہ تم کہاں جا رہے ہو…”
“فون تم نے بند کر رکھا ہے، میں تم سے رابطہ کروں بھی تو کیسے کروں؟
کیسے سب کو یقین دلاؤں کہ مجھے بھی نہیں پتہ کہ تم کہاں ہو…” وہ سوچتے ہوئے پریشان بیٹھی تھی۔

═══════❖═══════

پریشے کمرے میں ٹہل رہی تھی، قدم بے ترتیب اور سانس بھاری، جیسے ہر سانس کے ساتھ اس کا غصہ مزید بھڑک رہا ہو۔

’’پتہ نہیں خود کو سمجھتا کیا ہے…‘‘ وہ الجھ کر خود سے بڑبڑائی۔ ’’مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی میرے گھر والوں نے کیا سوچ کر اس شخص کے ساتھ میرا رشتہ طے کیا تھا… ایٹیٹیوڈ کی دکان… خود کو زمینی خدا سمجھتا ہے…‘‘

وہ ہاتھوں کو مٹھیاں بنا لیتی، پھر کھول دیتی جیسے اپنے ہی ضبط سے لڑ رہی ہو۔

’’سب سے زیادہ بدقسمت وہ لڑکی ہوگی جو اس کی بیوی بنے گی… اور میں؟ میں کیسے گزاروں گی اپنی پوری زندگی اس کے ساتھ؟‘‘

وہ قدم روک کر دیوار سے ٹیک لگاتی، سر پیچھے مار کر آنکھیں بند کر لیتی۔
میٹنگ روم کا ہر لمحہ، ہر تیز لفظ، ہر تحقیر اس کی سماعت میں پھر سے گونج اٹھتی تھی۔

’’مر جاؤں گی مگر اس شخص سے شادی نہیں کروں گی… نہیں کر سکتی…‘‘ اس کی آواز رندھ گئی مگر غصہ قائم رہا۔
’’اس کے ساتھ چند منٹ برداشت نہیں ہوتے… پوری زندگی کیا خاک گزاروں گی؟‘‘

وہ صوفے پر گر سی گئی، دونوں ہاتھ ماتھے پر رکھتے ہوئے۔
’’میں انکار کر دوں گی… چاہے کچھ بھی ہو…‘‘
اس نے خود کو سمجھایا، مگر فوراً ہی خود کو جھوٹا بھی قرار دے دیا۔
’’جانتی ہوں آسان نہیں۔ میرا اور اس کا رشتہ اتنے آسانی سے گھر والے نہیں ٹوٹنے دیں گے۔‘‘

پھر اچانک وہ زہر خندہ ہنسی ہنستی ہے۔
’’کیا کریں گے؟ مار ڈالیں گے؟ تو مار ڈالیں! اس گھٹیا انسان کے ساتھ زندگی سے بہتر کہ…‘‘
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا مگر اس کا دماغ مکمل کر چکا تھا۔

فون کی بیل نے اس کی سوچ کا دھاگہ توڑ دیا۔
اس نے چڑ کر فون اٹھایا، اسکرین پر جگمگاتا نمبر نہیں دیکھا شاید اسے یقین تھا کہ آریان خان کا ہی فون ہوگا۔۔۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ فون دیوار پر دے مارے۔

’’ضرور طنز کرنے کو فون کر رہا ہے…‘‘ وہ بھنّا کر بڑبڑائی۔

فون بار بار بجا۔ تین مرتبہ۔ چار مرتبہ۔ وہ غصے میں کانپ گئی۔
بالآخر اس نے زبردستی ضبط کرتے ہوئے فون اٹھایا ۔

’’کیا تکلیف ہے؟ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ پہلے میٹنگ میں جان بوجھ کر مجھے ذلیل کیا… میری پریزنٹیشن ہاف میں کاٹ دی… اور اب چسکے لینے کے لیے فون کیا ہے؟‘‘
وہ چیخ ہی پڑی تھی۔

’’ہیلو مس پریشے، میں شایان خان۔‘‘
سامنے سے بھاری، نرم آواز گونجی۔
’’آج ہی میٹنگ روم کے باہر آپ سے ٹکرائی ہوئی تھی…‘‘ وہ ہلکا ہنس بھی رہا تھا۔

پریشے کا دل دھڑک کر رک سا گیا۔
اوف… یہ آریان نہیں تھا۔

’’سو سوری…‘‘ وہ فوراً شرمندہ ہو گئی۔ ’’مجھے لگا مسٹر آریان ہیں۔‘‘

’’نہیں جی، میں ہوں شایان خان۔‘‘ اس نے ہلکا سا ہنستے ہوئے کہا۔
’’آپ میں تو بہت غصہ ہے۔ اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں۔‘‘

پریشے نے بےاختیار ہونٹوں کے کنارے بھینچے اور پہلی بار اس کی ہنسی سن کر خود بھی مسکرا دی۔

’’پتہ ہے غصہ ٹھیک نہیں ہوتا… مگر کچھ لوگ مجبور کر دیتے ہیں۔‘‘

’’ہمم… یعنی آپ آریان خان کی بات کر رہی ہیں؟‘‘

’’جی اور کس کی؟‘‘ وہ جھٹ سے بولی۔
’’پریزنٹیشن سب سے بہتر تھی مگر جناب کو جیسے میرا چہرہ برداشت نہیں… ہاف میں ہی روک دیا… زہر لگتا ہے مجھے اس کی یہ حرکتیں۔‘‘

’’مس پریشے…‘‘ شایان کی آواز میں ہلکی سی حیرت تھی۔ ’’مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ آپ آریان خان کو بہت نزدیک سے جانتی ہیں؟‘‘

’’جی… بدقسمتی سے… وہ میرے منگیتر ہیں۔‘‘

’’Really?!‘‘ وہ صاف شاک میں آ گیا۔

’’بدقسمتی ہے، جھوٹ ہوتا تو خوشی ہوتی…‘‘
وہ آہستہ بولی مگر لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔

کچھ توقف کے بعد شایان نے آہستہ پوچھا،
’’اگر برا نہ مانیں تو… اتنا تناؤ رشتے میں ہونے کے باوجود آپ دونوں زندگی کیسے…‘‘
پھر خود ہی رک گیا۔
’’سوری، شاید زیادہ پرسنل ہو گیا۔‘‘

’’نہیں، کوئی بات نہیں۔ جب اسے میرے رشتے کی عزت نہیں تو مجھے بھی بتانے میں کیا مسئلہ؟‘‘
پریشے نے سانس لیا۔
’’پہلے یہ بتائیں آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا؟‘‘

’’آپ کی پی اے سے۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اور پلیز یہ مت پوچھیں کہ پی اے کا نمبر کہاں سے ملا۔ بڑی کمپنی کی مالکن کی پی اے تک پہنچنا مشکل نہیں۔‘‘

پریشے کے لبوں پر پہلی بار آج مسکراہٹ سچی ابھری۔
’’نہیں پوچھوں گی۔ اچھا لگا آپ نے رابطہ کیا۔ ویسے بھی ہمارا کافی کا پلان تو رہ گیا تھا۔‘‘

’’جی، اسی لیے فون کیا ہے۔‘‘ شایان کی آواز میں چمک تھی۔
’’آپ کو اپنی خوشی بتانی تھی… آپ سے مل کر Celebrate کرنا تھا۔‘‘

’’جی جی بتائیں۔‘‘ وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔

’’آریان خان نے ہمارے ساتھ Contract sign کر لیا ہے۔‘‘

پریشے چند لمحے خاموش رہی، پھر دھیرے سے بولی،
’’آپ کو مبارک ہو۔ خوشی ہے کانٹریکٹ آپ کو ملا۔ آریان نے مجھے چھوڑ کر دنیا میں کسی کو بھی دے دینا تھا۔ اسے تو بس مجھ سے الرجی ہے۔‘‘

وہ ہنس دی، مگر اس ہنسی میں کڑواہٹ چھپی تھی۔
’’سچ میں، مجھے بہت خوشی ہوئی۔ آپ نے محنت سے حاصل کیا ہے۔‘‘

’’Thank you so much.‘‘
’’اسی خوشی میں Marmalade Cafe میں آپ کا انتظار کروں گا۔ کافی میری طرف سے۔‘‘

’’میں ضرور آؤں گی۔‘‘ پریشے نے نرم لہجے میں کہا۔
’’Take care, اللہ حافظ۔‘‘

فون بند ہو گیا۔
کمرے میں پھر خاموشی پھیل گئی۔

پریشے نے دانت بھینچ کر سر اٹھایا۔
’’آریان خان، تم سے زیادہ کمینہ شخص نہیں دیکھا میں نے۔‘‘

وہ اٹھ کر واپس ٹہلنے لگی۔
ہر قدم کے ساتھ غصہ پھر سے جاگنے لگا۔

’’شایان کو کانٹریکٹ ملنے کا دکھ نہیں… اس نے اپنی محنت سے حاصل کیا ہے… مگر تم نے جو کیا کبھی نہیں بھولوں گی… صرف جلن مٹانے کے لیے میری پریزنٹیشن ریجیکٹ کی…‘‘

اس نے انگلی اٹھا کر جیسے ہوا میں آریان کی طرف اشارہ کیا ہو۔
’’قسم سے آریان خان… دنیا کا آخری مرد بھی ہوئے نا… تب بھی میں تم سے شادی نہیں کروں گی۔‘‘

’’تمہیں بیوی نہیں غلام چاہیے… تم عورت کی ترقی برداشت نہیں کر سکتے… تمہاری سوچ پرانے زمانے کے مردوں جیسی ہے… زنگ آلود…‘‘

وہ بیٹھ گئی، سر ہاتھوں میں تھام کر۔
’’اور میں… ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔‘‘

کمرے میں صرف اس کی بھاری سانسیں اور بڑھتا ہوا سکوت رہ گیا۔۔۔

═══════❖═══════
مورے کیا ہو گیا ہے، مجھے بھی شادی نہیں کرنی۔ یہ کیسی سزا ہے۔ غلطی آریان بھائی نے کی ہے، لڑکی بھگا کر آریان بھائی ہی لے کر گئے ہیں…
لڑکی کو کڈنیپ آریان بھائی نے کیا ہے، مگر سزا مجھے مل رہی ہے…
آپ لوگ کس صدی میں جی رہے ہیں کہ آج بھی اگر غلطی بھائی کرے تو سزا بہن کو ملتی ہے…
ایزل کو جب سے پتہ چلا کہ لڑکے والے اسے دیکھنے آرہے ہیں، ایزل نے پورا گھر سر پر اٹھا رکھا تھا…

خدا کا واسطہ ہے ایزل، تھوڑی دیر کے لیے چپ تو ہو جاؤ۔۔۔
تمہاری ہر آواز میرے سر میں درد بھرتی ہے، تم لڑکی نہیں، تم تو طوفان ہو، ایسا طوفان جو سب کچھ اڑا دے۔۔۔
مجھے صرف ان لوگوں کی فکر ہے، جن کے گھر تم بہو بن کر جاؤ گی، وہ اس طوفان کے سامنے کیا کریں گے۔۔۔
ایزل کی ماں، اپنے سر پر دونوں ہاتھ دباتے ہوئے، آنکھیں زور سے بند کیے، صوفے کی پشت سے جھک کر بیٹھی تھی۔

تو ان لوگوں کو کون بول رہا ہے کہ وہ آئیں اور اس طوفان کو اپنی بہو بنا کر لے جائیں۔۔۔
آپ ان لوگوں کو پہلے سے آگاہ کر دیں کہ ہماری بیٹی برداشت کرنے والی نہیں ہے! اور میں نے، اگر کچھ غلط کہا بھی، تو کس جرم کی سزا مجھے دی جا رہی ہے؟؟
مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔۔۔

ایزل، دونوں ہاتھ کمر پر رکھے، پوری لڑاکا عورت کی طرح اپنی ماں کے سر کے قریب کھڑی تھی۔۔۔
اس کی آواز میں ایک کڑواہٹ تھی، جس میں غصہ اور غرور کا ملغوبہ ایک ساتھ تھا۔ جب وہ چیختی، تو ہر لفظ کانوں میں چبھتا، جیسے پرانی کاغذ کی پُھٹی ہوئی گونج ہوا میں گھل گئی ہو۔ ایزل کے ہر انداز میں ایک بے باک شدت تھی، جو دل کے اندر بیٹھے خوف اور بے بسی کو لرزا دینے پر مجبور کر دیتی تھی۔۔۔

روشانے، خدا کے لیے… اس لڑکی کو یہاں سے لے جاؤ، ورنہ میرا دماغ پھٹ جائے گا۔۔۔
اسے کہو، جو بھی کہنا ہے اپنے باپ کو فون کر کے کہے۔۔۔

پتہ نہیں میں نے کون سا گناہ کیا ہے… جو اس کے بدلے مجھے ایسے دو نمونے ملے ہیں، جو ماں کو ایک لمحہ سکون نہیں لینے دیتے۔۔۔

ایزل کی ماں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر روشانے سے کہا، چہرے پر وہی تھکن جو رات بھر نہ سو پانے والوں کی آنکھوں میں ہوتی ہے…
لیکن ایزل کہاں رکنے والی تھی۔
اس کے چہرے پر صاف لکھا تھا کہ ابھی بات ختم نہیں ہوئی۔
شادی کا لفظ اس کے کان میں پڑتے ہی جیسے چنگاری بھڑک گئی ہو۔

ایزل نے ہونٹ دبا کر ایک گہری سانس لی، دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کھڑی تھی، جیسے کسی بھی وقت پھر سے بھڑک اٹھے گی…
غصے میں اس کی آواز کا تیور مزید سخت ہو گئے، اور کمرے کا ماحول زیادہ تنگ محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔

میں نمونہ نہیں ہوں… نمونہ تو صرف بھائی ہے، جو اپنی پسند کی لڑکی کو اغوا کر کے غائب ہو گیا ہے۔۔۔
اس کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور سر کڑاہی میں پڑا ہے۔۔۔

ماشاءاللہ بچپن سے ایک اچھی خاصی منگیتر بھی اپنے ساتھ چپکائی ہوئی ہے، گھر میں اپنی مرضی چلاتا پھرتا ہے۔۔۔
ایک میں بیچاری ہوں، جس کی کوئی غلطی نہیں… پھر بھی اس معصوم کو شادی کی سزا سنا دی گئی ہے۔۔۔

ایزل کی آواز میں وہی خفگی تھی جو دل میں اَٹکی ہوئے ناانصافی کو بیان کرتی ہے۔ بات کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی تو نہیں تھی، مگر چمک وہی والی تھی جو شدت سے جنم لیتی ہے۔

معصوم اور تم۔۔۔
اللہ کی پناہ ہو۔۔۔

مورے نے اسے گھورتے ہوئے دیکھا، آنکھوں میں ایک ایسا ملا جلا سا غصہ اور بے بسی تھا، جو لمحے بھر میں ہوا کے جھونکے کی طرح دل کو جکڑ لیتا تھا۔۔۔

═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *