Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:19

صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ
قسط نمبر: 19
═══════❖═══════

ہوٹل کے بڑے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ایک منفرد ماحول محسوس ہوتا تھا۔ شام کی سنہری روشنی ہلکے بادلوں کے درمیان سے ٹپک رہی تھی اور باہر کی سرد، ہلکی بارش کی بوندیں کھڑکیوں سے اندر روشنی میں چھوٹے موتیوں کی طرح جھلک رہی تھیں۔ اندر کا فرش چمکدار اور لکڑی کی خوشبو سے معطر تھا، اور دیواروں پر قدیم سکاٹش قلعوں اور پہاڑوں کی پینٹنگز لگی تھیں، جو اس قدیم ملک کی تاریخ اور ثقافت کی داستانیں سناتی تھیں۔

ہال میں بلند چھتیں اور بھاری پردے تھے، جو ہلکی روشنی کو فلٹر کر کے ایک نرم اور آرام دہ ماحول پیدا کر رہے تھے۔ ہر میز پر سفید کپڑے، نرم موم بتیوں کی روشنی اور کرسیاں جمی ہوئی تھیں۔ ویٹرز روایتی سکاٹش یونیفارم میں، چمکتے ہوئے سروس ٹرے اٹھائے، ہال کے درمیان سے گزرتے ہوئے کھانے کی خوشبو پھیلا رہے تھے۔

لوگ مختلف انداز میں بیٹھے تھے…کچھ خاندان اور دوست حلقوں میں باتیں کر رہے تھے، کچھ رومانوی جوڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، اور کچھ لوگ خاموشی سے اپنے کھانے میں مگن تھے۔ ہال میں نرم موسیقی کے ساتھ کبھی کبھار ہلکی سکاٹش دھوپ (bagpipe) کی دھن سنائی دے رہی تھی، جو ماحول میں ایک تاریخی رنگ بھر رہی تھی۔

کھڑکیوں سے باہر کی وادیوں کا منظر دکھائی دے رہا تھا، ہرے بھرے پہاڑ اور چھوٹے جھیلیں (Lochs) جو بارش میں ہلکی دھند میں چھپی ہوئی تھیں، ایک پرسکون مگر دلفریب احساس دے رہی تھیں۔ باہر کی سرد ہوا اور اندرونی گرم ماحول کا تضاد ایک عجیب سکون پیدا کر رہا تھا، جس میں ہر انسان خود کو اس ملک کی خوبصورت فطرت اور تاریخی ماحول میں محسوس کر رہا تھا۔

ہال کے ایک کونے میں، شایان خان ایک میز پر بیٹھے تھے۔ وہ سیاہ تھری پیس سوٹ میں تھے، کریمی شرٹ اور باریک ٹائی کے ساتھ، جوتے چمکدار اور مکمل طور پر صاف ستھرے تھے۔ ان کی نشست میں ایک خاص اعتماد جھلک رہا تھا—ایک بازو آرام سے میز پر رکھے ہوئے، دوسرا ہاتھ ہلکا سا بازو پر ٹکا ہوا، اور پیروں کا ہلکا سا کراس جس سے ان کا آرام دہ مگر حاکمانہ انداز واضح تھا۔

ان کی نظریں ہال کے بیچ میں، کسی مخصوص نقطے پر مرکوز تھیں، اور ہر حرکت میں پرسنلٹی کی سنجیدگی اور نفاست جھلک رہی تھی۔ ان کے گرد لوگ آہستہ آہستہ اپنی باتیں کر رہے تھے، ہنسی کے نرم لہجے، اور کبھی کبھار سکاٹش موسیقی کی سرسراہٹ ان کے پرسکون ماحول کو چار چاند لگا رہی تھی۔

شایان کی نظر دور سے آتی ہوئی پریشے پر پڑی۔ بے شک پریشے کی پرسنلٹی اٹریکٹو تھی، مگر شایان کو اس کی پروفیشنل اور پر اعتماد بزنس وومن والی شخصیت میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، جو اس کے دیکھنے کے انداز سے ظاہر ہو رہا تھا۔
پریشے کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔

“السلام علیکم… پریشے نے سلام کیا۔

“وعلیکم السلام…شایان اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا ،اور ایک اچھے میزبان کی طرح ویلکم کیا۔

” بیٹھیں، مس پریشے۔”
ساتھ ہی کرسی کو ہلکا سا کھینچ کر بیٹھنے کا اشارہ بھی دیا۔

“تھینک یو، تھینک یو سو مچ،”
پریشے نے کہا اور اپنا ہینڈ بیگ آرام سے ٹیبل پر رکھ دیا، ساتھ ہی دوسرے ہاتھ میں پکڑا ہوا موبائل بھی ٹیبل پر رکھ دیا۔ وہ اپنی نشست پر آرام سے بیٹھ گئی، پروفیشنل انداز اور خوداعتمادی کے ساتھ۔

“مس پریشے خان، مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے وقت نکالا اور یہاں آئیں،”
شایان کی باڈی لینگویج سکون اور خود اعتمادی سے بھری ہوئی تھی۔ایسا لگ رہا تھا کہ اس وقت بھی بزنس کے بارے میں بات کر رہا ہو۔

“مجھے بھی خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنے اہم وقت میں مجھے شامل ہونے کا موقع دیا۔”
پریشے نے نرم مگر پروفیشنل انداز میں مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، آنکھیں شایان کی طرف ہلکی دلچسپی کے ساتھ مرکوز تھیں۔
ہال میں نرم موسیقی اور بیک گراؤنڈ چیٹر کے بیچ، دونوں کی گفتگو میں پروفیشنل انداز جھلک رہا تھا۔ شایان پریشے کے تاثرات پڑھ رہا تھا، اور پریشے اپنا آرام اور اعتماد برقرار رکھے ہوئے تھی۔
“میں تو ڈر رہا تھا کہ کنٹریکٹ ملنے کے بعد آپ میرے ساتھ کافی پینا پسند بھی کریں گی یا نہیں۔”

شایان کی آواز میں ہلکی سی مزاح اور مکمل پروفیشنل شائستگی تھی۔ وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا، جیسے اس کے ردعمل سے اگلی بات کا اندازہ لگانا چاہتا ہو۔ پریشے نے اعتماد سے ہلکی سی مسکراہٹ برقرار رکھی، جیسے اس جملے نے اسے حیران تو نہیں کیا، بس معمولی سا چونکا دیا ہو۔

“کیا آپ کو پہلی نظر میں میں اتنی کم ظرف لگی ہوں کہ آپ کی کامیابی دیکھ کر حسد کروں گی؟”
پریشے نے ہلکی سی بھنویں اٹھائیں، مگر لہجہ نرم ہی رکھا تھا۔

“مسٹر شایان، میرا ایک اصول ہے۔ میں رشتوں اور بزنس کو الگ الگ رکھتی ہوں۔ اور دوسری بات… میرا ماننا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی کامیابی پر خوش ہونا چاہیے۔”
اس نے سیدھے بیٹھتے ہوئے اپنا ہاتھ ٹیبل پر رکھا، جیسے ہر لفظ اس کی شخصیت کا حصہ ہو۔

“آپ نے محنت کی، اس کا پھل ملا۔”
اس کے چہرے پر وہی پرسکون، پروفیشنل سی مسکراہٹ تھی۔

“مجھے دکھ اس بات کا نہیں کہ یہ کنٹریکٹ آپ کو یا کسی اور کو ملا۔ دکھ اس بات کا ہے کہ مجھے میری قابلیت پرکھے بغیر ریجیکٹ کر دیا گیا۔”
اس نے ہلکا سا سانس چھوڑا، جیسے اس بات کا بوجھ دل میں دبائے بیٹھی ہو۔

“خیر… اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔ آپ اپنا دل خراب مت کیجیے۔”
پریشے کے لہجے میں شائستگی بھی تھی اور ایک مضبوط عورت کی صاف گوئی بھی۔

“تھینک یو سو مچ۔ کہ آپ نے ہمیں قصور وار نہیں سمجھا۔۔۔۔مجھے اچھا لگا آپ کا یہ انداز… اور آپ کی یہ سوچ کہ آپ پروفیشنل اور پرسنل لائف کو الگ رکھتی ہیں۔ ایسا ہی ہونا چاہیے،” شایان نے سراہا تھا۔

“کیا ہم اچھے دوست بن سکتے ہیں؟”
“آئی ہوپ کہ آپ کو میری دوستی ایکسیپٹ کرتے ہوئے کوئی مسئلہ نہیں…”
پریشے نے پرسکون انداز میں اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، جیسے دوستی اس کی طرف سے ایک صاف اور سچی آفر ہو۔
وہ کیسے بتاتی کہ پہلی نظر میں ہی وہ اس سے کتنی متاثر ہوئی تھی… یہ بات اس نے خود سے بھی چھپا رکھی تھی۔
“مس پریشے خان، مجھے آپ سے دوستی کرتے ہوئے مسئلہ کیوں ہوگا؟ ہم پاکستانی ہیں، ایک ہی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو بزنس میں اچھی گائیڈنس دے سکتے ہیں۔ اور… آپ کی سوچ تو سچ میں مجھےچھی لگی ہیں۔”

“مجھے وہ عورتیں پسند ہیں جو اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی ہیں، کسی کی محتاج نہیں ہوتیں۔”شایان خان نے خوش دلی کے ساتھ اس کا ہاتھ تھاما اور دوستی قبول کر لی۔
پریشہ کو یہ بات بہت اچھی لگی کہ اسے اپنے پیروں پر کھڑی ہونے والی عورتیں پسند ہیں۔
ایک لمحے کے لیے اس کے دماغ میں آریان خان آیا، جسے عورتوں کا اس طرح مردوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا بہت برا لگتا تھا۔
“تو بتائیں… کیا کھانا پسند کریں گی؟ ویسے بھی آپ نے آتے آتے ڈنر کا ٹائم کر ہی دیا ہے۔”
ہاتھ ملانے کے بعد شایان نے ہلکے سے شکوے کے انداز میں کہا۔
پریشہ، جو آریان خان کے بارے میں سوچ رہی تھی، جیسے ہوش میں آگئی۔

“سوری… بس کچھ ضروری کام نمٹا کر آتے ہوئے دیر ہو گئی۔ سوری آپ کو میری وجہ سے انتظار کرنا پڑا…”

“اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔ میں تو آپ سے صرف پانچ منٹ پہلے آیا تھا۔ اور دوسری بات… دوستی کے لیے آپ نے ہاتھ بڑھایا ہے تو دوستی میں ‘سوری’ اور ‘تھینک یو’ کی ضرورت نہیں۔ یہ فارمیلیٹی مت کریں۔” شایان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، لہجہ پروفیشنل مگر دوستانہ۔ “آپ بتائیں، کیا کھائیں گی؟”

“نو نو… اب میں لیٹ آئی ہوں، تو لنچ میری طرف سے ہوگا۔” پریشہ نے آرام سے کہا، مگر آنکھوں میں ہلکی چمک تھی۔

“نہیں، مس پریشہ۔ آپ کو میں نے انوائٹ کیا ہے۔ آج کا لنچ میری طرف سے ہوگا۔” شایان نے یقینی انداز سے کہا، جس میں زور بھی تھا اور آرام بھی۔

“ٹھیک ہے… مگر نیکسٹ لنچ یا ڈنر میری طرف سے ہوگا۔” پریشہ نے تھوڑا مسکرا کر کہا۔

“اوکے، ڈن۔ تو بتائیں، کیا کھائیں؟”

“یہاں کی فش مشہور ہے، تو فش ہی منگوا لیجیے۔”

“صرف فش؟”
“جی میں تو صرف فش کھاؤں گی اور بعد میں کافی پی “
تو ٹھیک ہے پھر ہم بھی آپ کی پسند سے فش ہی کھائیں گے…..شایان نے مسکرا کر مینیو کارڈ اس کے آگے رکھا۔ویٹر کو بلا کر آرڈر دیا گیا… ویٹر مسکرا کر آرڈر لیتے ہوئے چلا گیا…
ڈنر سرور ہوتے ہی میز کے اردگرد کا ماحول جیسے بدل گیا۔
ہال کی مدھم روشنی، نرم موسیقی اور لوگوں کی ہلکی گفتگو… سب مل کر سین کو آرام دہ بنا رہے تھے۔
شایان نے پہلا نوالہ لیا اور سر ہلایا۔
“اچھا ہے… واقعی اچھا ہے۔”

“مجھے بھی یہاں کی فش بہت پسند ہے پریشے نے بھی فش کی تعریف کرتے ہوئے چھوٹے سے ٹکڑے کو کانٹے کے ساتھ لگا کر منہ میں رکھا اور پھر ان دونوں کے درمیان بزنس کی باتیں شروع ہوئیں۔
پریشے جب کوئی پوائنٹ سمجھاتی تو اس کے ہاتھ ہلکے سے حرکت کرتے، جیسے ہر لفظ کو وزن دے رہی ہو۔
شایان ہر بات توجہ سے سنتا، کبھی سوال کرتا، کبھی بس سر ہلا دیتا۔

“آپ کی اپروچ اچھی ہے، پریشے۔ بہت کم لوگ بزنس کو اتنی کلیرٹی سے دیکھتے ہیں،”
شایان نے گلاس رکھتے ہوئے کہا۔

پریشے کی مسکراہٹ نرم ہوئی۔
“آپ بھی کم نہیں ہیں، مسٹر شایان۔ بات کرنے کا انداز… فیصلے… سب کافی امپریسیو ہیں۔”

شایان نے پہلی بار چند لمحے تک اس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھا۔
اس کی نظر میں وہ نرم سا احترام تھا جو وہ خود بھی شاید اب تک محسوس نہیں کر رہا تھا۔

ویٹر پلیٹس دیکھ کر قریب آیا، دونوں نے تھوڑی دیر کے لیے گفتگو روک دی، لیکن دونوں کے چہروں پر ہلکی سی مسکراہٹ برقرار رہی۔

وقت کب گزرا، انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوا۔
ڈنر کا ماحول بہت کمفرٹیبل تھا دونوں جیسے بہت عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔۔
جیسے پہلی ملاقات کی رسمی پن کہیں پیچھے رہ گیا تھا… اور پھر باتوں سے باتیں نکلتی ہوئی ایک بار پھر آریان خان پر آ رکی۔

“مس پریشے… سوال شاید تھوڑا پرسنل ہے، اگر مائنڈ نہ کریں تو میں پوچھ سکتا ہوں۔”

“جی جی، بالکل پوچھیں۔ مائنڈ کرنے والی کوئی بات نہیں۔”
پریشے کو کچھ حد تک اندازہ تھا کہ وہ کس بارے میں سوال کرنے والا ہے۔۔۔اس شخص کے بارے میں جس کے بارے میں وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ شایان خان اسی کے بارے میں سوال کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، اور اس کی نظروں میں تجسس صاف دکھائی دے رہا تھا۔
“میں جاننا چاہتا ہوں کہ جب آپ لوگوں کی سوچ نہیں ملتی، تو آپ اپنا ٹائم ویسٹ کیوں کر رہے ہیں؟ آپ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شادی نہیں کرنی چاہیے۔ شادی بہت بڑا فیصلہ ہوتا ہے، اور ابھی سے آپ کے رشتے میں اتنا تناؤ ہے کہ آپ لوگ لوگوں کے سامنے اسے کور نہیں کر سکتے۔ آگے چل کر حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔”

شایان کے چہرے پر سنجیدگی اور ہلکی سی تشویش جھلک رہی تھی۔ آنکھوں میں تجزیاتی روشنی تھی، بھنویں تھوڑی کشیدہ، اور ہاتھ میز پر آرام سے رکھے ہوئے تھے۔

مسٹر شایان اگر میرے بس میں ہو تو میں ایک سیکنڈ سے پہلے اس رشتے کو ختم کر دو۔
مگر کچھ چیزیں، کچھ رشتے انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے۔
میری فیملی میں میرا رشتہ طے ہوا ہے۔ آریان خان میری خالہ کا بیٹا ہے۔

ہم پختون ہے تو میرے گھر والوں کی سوچ کیسی ہو سکتی ہے،شاید آپ سمجھ سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار زبان سے اگر رشتہ کسی کو دے دیا جائے تو پھر موت کے ساتھ ہی وہ ٹوٹتا ہے۔ جانتی ہوں کہ بہت ہی اولڈ سوچ ہے مگر بد قسمتی سے میری فیملی میں یہ بہت گہرائی سے پائی جاتی ہے۔
پریشے کے چہرے پر ناگوار سے تاثرات تھے۔ آنکھوں میں گھبراہٹ اور بے بسی کی ملی جلی چمک تھی جو اس کے دل کا حال کھول رہی تھی۔

شایان نے گہری سانس لی۔ لمحہ بھر کو اس کے چہرے پر پرانے زخموں کی پرچھائیاں اُبھریں، جیسے یادیں ایک دم سامنے آ گئی ہوں۔
جانتا ہوں کہ پختون مرتے مر جاتے ہیں، مگر رشتے ایک بار زبان سے دیں تو توڑتے نہیں ہیں۔ پھر چاہے ان کے یہ فیصلے ان کے بچوں کے لیے قبر ہی کیوں نہ بن جائیں۔ہم جتنے بھی پڑھ لکھ جائیں مگر آج بھی ہمارے خاندان اور ہمارے بڑوں کی سوچ وہیں کی وہیں رکی ہوئی ہے۔۔۔”
شایان کے لہجے میں دبا ہوا درد تھا، وہ درد جسے وہ چھپانا چاہتا تھا مگر چھپا نہ سکا۔ پریشے نے وہ لرزش فوراً محسوس کر لی۔

اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ بھی پٹھان ہیں؟
پریشے نے محتاط سی لہجے میں سوال کیا، جیسے جواب سے پہلے ہی کچھ سمجھ چکی ہو۔

جی، میں بھی آپ کی ہی برادری کا ہوں۔
شایان کے لبوں پر زبردستی لائی گئی ہلکی سی مسکراہٹ بکھری، مگر آنکھوں میں وہی پرانی اداسی موجود تھی۔

“تو کیا آریان خان بھی پرانی سوچ کا مالک ہے یا وہ باقی فیملی سے مختلف ہے؟
ایک بار پھر شایان نے سوال داغا۔ اس کے لہجے میں اس بار بے چینی کم اور تجسس زیادہ تھا، جیسے وہ کسی اہم نتیجے پر پہنچنے کے لیے آخری کڑی تلاش کر رہا ہو۔
اس کی آنکھوں میں سوال کے ساتھ ساتھ ہلکی سی فکر بھی تھی… وہ فکر جو اسے خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں آ رہی تھی۔

“اگر آپ اس کی سوچ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو میں اس کی سوچ پر صرف اتنا بتا سکتی ہوں کہ جس شخص کی سوچ آج بھی یہ ہو کہ عورت کو باہر نکل کر کام نہیں کرنا چاہیے… مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چلنا چاہیے… تو ایسے انسان کی سوچ کتنی اچھی ہو سکتی ہے اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔
پریشے کے لہجے میں کھلی ہوئی کڑواہٹ تھی۔ لفظوں کے کنارے سخت تھے۔ بات ختم کرتے ہی اس نے نظریں ایک لمحے کو چرمی کاؤنٹر پر گاڑ دیں، جیسے دل میں اٹھنے والی کسک کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۔

شایان خان نے اس کے لہجے کا وزن فوراً محسوس کیا۔ اس کی آنکھوں میں ہلکی سنجیدگی ابھر آئی تھی، جیسے وہ پہلی بار اس رشتے کے زخم کی گہرائی دیکھ رہا ہو۔ اس نے کچھ نہ کہا… صرف ایک لمحے کو خاموشی میں سانس چھوڑا، جیسے خود بھی اس تلخی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

ہمم… مسئلہ تو واقعی سنگین ہے۔ آپ نے بالکل صحیح کہا کہ ہماری قبائلی سوچ آج بھی ہمیں بہت سی الجھنوں میں پھنسا دیتی ہے… مگر میں آریان خان کو تھوڑا مختلف سمجھتا تھا۔ وہ پڑھا لکھا ہے، ماڈرن ہے، دنیا دیکھی ہوئی ہے… مگر اس کی بھی ایسی سوچ ہے، اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا…

شایان کی آنکھوں میں گہرا غور و فکر تھا۔ بھنویں ہلکی سی جھکی ہوئی تھیں، جیسے کسی مشکل حساب کو دل ہی دل میں تول رہا ہو۔ لبوں پر خاموشی سے بندھی ہوئی سنجیدگی تھی۔ وہ لمحہ بہ لمحہ پریشے کے تاثرات پڑھ رہا تھا، جیسے ہر لفظ کو اپنے اندر جذب کر کے اس رشتے کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہو۔

اس کے انداز میں وہی کاروباری انسان کی ٹھہری ہوئی سنجیدگی تھی، شاید اس کے کاروباری فطرت ہی تھی کہ ہر بات کو گہرائی سے جاننے کی کوشش کرنا۔ورنہ اسے پریشر سے یا اس کی لائف سے کیا لینا دینا تھا۔

پلیز… اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کچھ دیر کے لیے کوئی اور بات کر لیں۔ مجھے اس وقت آریان کا نام نہیں سننا… زہر لگتا ہے وہ مجھے، اور آج تو کچھ ضرورت سے زیادہ ہی زہر لگ رہا ہے…

پریشے کی آواز میں تھکن بھی تھی اور تلخی بھی۔ اس کی آنکھیں لمحہ بھر کو جھپکیں جیسے کسی کڑوی یاد کو جھٹک رہی ہو۔ ہاتھ بے اختیار میز پر رکھے نیپکن سے کھیلنے لگے۔

اوکے، بالکل بھی ہمیں آریان خان کو ڈسکس کرنے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی وہ آپ کا پرسنل میٹر ہے… میری دعا ہے کہ اللہ آپ کے حق میں وہ کرے جو بہتر ہو۔
شایان کے چہرے پر ہلکی سی مسکان تھی، آنکھوں میں اطمینان، اور وہ پوری طرح سکون سے اس کی طرف جھکا بیٹھا تھا۔ نظریں مسلسل پریشے پر مرکوز تھیں۔
دونوں نے بات کا موضوع بدل لیا اور کافی دیر تک یونہی بیٹھ کر گفتگو کرتے رہے۔ شایان کی نظریں بار بار پریشے کے تاثرات پڑھ رہی تھیں۔ کبھی اس کی ہلکی سی مسکان، کبھی سوچ میں گم آنکھیں، کبھی ہاتھوں کی بے اختیار حرکت… سب اس کی توجہ میں تھا۔
پریشے کے چہرے پر کبھی ہلکی تشویش جھلکتی، کبھی نرمی، اور اس کی باڈی لینگویج میں اعتماد اور سکون دونوں ایک ساتھ نمایاں تھے۔

اب وہ شایان خان کی دوست بن چکی تھی، مگر اس کے ذہن میں بہت کچھ چل رہا تھا… ایسے سوال، ایسی الجھنیں، جنہیں وہ محسوس بھی کر رہی تھی اور خود سے چھپانے کی کوشش بھی۔

شایان کے تاثرات میں صرف دلچسپی اور احترام تھا۔ کوئی جلد بازی، کوئی جذباتی دباؤ نہیں۔

ڈنر اور کافی کے کپ ختم ہونے کے بعد شایان نے مسکراتے ہوئے کہا،
کافی واقعی خوشگوار رہی، شکریہ کہ آپ نے وقت نکالا۔
پریشے نے مختصر سی مسکان کے ساتھ جواب دیا۔ نظریں چند لمحے جھکیں، مگر اعتماد برقرار رہا۔

“تو چلو، ٹھیک ہے۔ ان شاء اللہ پھر ملتے ہیں۔” شایان نے کھڑے ہو کر کہا۔

“جی جی، بالکل۔” پریشے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

دونوں ٹیبل سے اٹھے اور قدم باہر کی طرف بڑھائے۔ شایان کے قدم پروفیشنل اور باوقار تھے۔ ان کے درمیان احترام اور فاصلے کا احساس واضح تھا، کوئی غیر ضروری گرمجوشی نہیں۔

لفٹ تک پہنچ کر، اپنی اپنی گاڑیوں کی جانب جاتے ہوئے، خاموشی سے الوداع کہا۔ ایک پرسکون سا احترام، اور آخر کے لمحے کا ہلکا سا لمس باقی رہ گیا۔

      ═══════❖═══════

سکاٹ لینڈ کے پرسکون ہوٹل کے کمرے میں نرم سفید لائٹ جل رہی تھی۔
باہر شیشے کے پار دھند اٹکی تھی، سردی کی وجہ سے کھڑکی بالکل بند تھی۔
پریشے نے کمبل اپنے پاس کھینچا ہوا تھا، اور فون کان سے لگائے بیڈ کے ٹیک سے ٹکی بیٹھی تھی۔
اس کے چہرے پر وہی چڑچڑاپن تھا جو ہمیشہ آریان کا نام سن کر اُبھرتا تھا۔

“اماں آپ میرے ساتھ کوئی اور بات کرنا چاہتی ہیں یا آپ کے پاس آریان نامی گھسا پٹا ٹاپک ہی ہے؟؟
مجھے آریان کے بارے میں نہ کچھ کہنا ہے نہ سننا ہے۔۔۔”

فون کے دوسری طرف اماں کی آواز بھاری، دبی دبی جھنجھلاہٹ کے ساتھ ابھری۔
“پریشے تمہاری اسی لمبی زبان اور اپنی منمانیوں کی وجہ سے آریان کو شے ملی ہے۔۔۔”

پریشے نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کیں۔
“میری منمانیوں کی وجہ سے شے ملی ہے یا اس کا دماغ ہی نفسیاتی ہے؟؟ میرے خیال سے آج میں نے کافی دنوں بعد گھر فون کیا ہے اور آپ کے پاس مجھے سنانے کیلئے صرف جلی اور کٹی باتیں ہیں۔۔۔”

اماں کی سانس بھاری تھی، جیسے ضبط کر کے بات کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
“پریشے اگر وہ نفسیاتی ہے….. تو تم بھی کم نہیں۔۔۔
اگر وہ تمہیں ایٹیٹیوڈ دکھاتا ہے ،تو تم بھی کہیں کوئی کسر نہیں چھوڑتی، تم بھی اتنا نہیں سوچتی کہ اگر وہ مرد ہے نہیں جھک رہا تو تم ہی اپنی اکڑ تھوڑی کم کر دو۔۔۔”

پریشے کی آنکھوں میں چبھن سی اتر آئی، وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
“مرد ہے تو کیا اسے سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے کہ وہ جب چاہے میری انسلٹ کر سکتا ہے؟؟
میٹنگ روم میں مجھے بےعزت کر سکتا ہے میری توہین کر سکتا ہے وہ بھی سب کے سامنے؟؟
کب تک آپ یہ پرانی سوچ رکھ کر میری توہین کرواتی رہیں گی؟؟”
دوسری جانب اماں بھی اچھے خاصے غصے میں ا چکی تھیں، آواز میں سختی آ گئی۔
“پریشے بات توہین کی نہیں ہے۔ جب وہ تمہارا شوہر بن جائے گا ،پھر تم ہر بات اس سے منوا سکتی ہو۔۔۔
شادی سے پہلے اگر چار دن اس کے سامنے جھک جاؤ گی تو چھوٹی نہیں پڑ جاؤ گی۔۔۔
تم میری بیٹی ہو …..میں تمہیں اچھی طرح سے جانتی ہوں، اکڑ کی تم میں بھی کوئی کمی نہیں ہے۔۔۔”
پریشے کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
“میں نہیں کر سکتی اپنی اکڑ کم۔۔۔
اگر اپنی ریسپیکٹ کرنا اکڑ ہے تو پھر اکڑ ہی صحیح، میں اس کے سامنے جھک نہیں سکتی۔ اس کے سامنے جھکنے سے بہتر ہے کہ میں مر جاؤں۔۔۔”

“پریشے بس کرو۔۔۔ بحث بند کرو۔ بحث میں کوئی تم سے جیت نہیں سکتا۔۔۔
میری بات دھیان سے سنو۔۔۔
آریان نے نکاح کر لیا ہے۔۔۔”

پریشے ایک دم سیدھی ہو گئی، آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔
“کیاااا۔۔۔”
“ہاں اس نے نکاح کر لیا ہے۔۔۔”

پریشے کے چہرے پر حیرت کے بعد فوراً ایک ہلکی سی چمک آئی، جیسے اندر سے کوئی بوجھ اتر گیا ہو۔
“ویری گڈ، یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ میری تو جان چھوٹی۔۔۔”

اماں نے فوراً سخت لہجے میں ٹوکا، جیسے فون کے پار سے اس کا منہ بند کر رہی ہوں۔
“تم اپنا منہ بند رکھو۔ تم اب بھی اس کی منگیتر ہو اس کی منگ ہو۔۔۔
اور ہم پٹھانوں میں منگ چھوڑنا بےغیرتی مانا جاتا ہے۔ شادی تو تمہارے ساتھ اسے ہر صورت کرنی پڑے گی اور وہ کرے گا۔۔۔
تم اس کی بچپن کی منگ ہو۔۔۔
اس لڑکی کی تمہارے سامنے کیا اوقات ہے، خاندانی بہو تو تم بنو گی۔ جب تمہاری اس کے ساتھ شادی ہو جائے گی تو اس دو ٹکے کی لڑکی کو اس کی زندگی سے نکال باہر پھینکنا۔۔۔”

پریشے نے طنزیہ اور ٹھنڈی ہنسی ہلکی سانس کے ساتھ چھوڑی۔
“اگر وہ لڑکی دو ٹکے کی ہے تو آریان خان بھی میری نظروں میں دو ٹکے کا ہے۔۔۔
مجھے تو پہلے ہی آریان سے شادی نہیں کرنی تھی اور اب تو بہت اچھا ہوا کہ اس نے اپنا راستہ چن لیا ہے۔۔۔
سوائے اس کے خوبصورت تھوبڑے کے اس شخص کے اندر کوئی چیز نہیں ہے۔۔۔”

“بکواس بند کرو۔۔۔
پریشے تم جانتی ہو ہمارے خاندان کے قاعدے قانون۔۔۔
شادی تو تمہیں آریان سے ہی کرنی پڑے گی۔۔۔
تم جانتی ہو کہ پٹھانوں میں دو شادیاں کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ پھر بھی میں اور تمہارے بابا اس لڑکی کو آریان کی زندگی سے نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔۔۔
باقی تمہیں بھی کچھ محنت کرنی پڑے گی۔ فضول سوچے مت سوچو اور اپنے رشتے پر توجہ دو۔۔۔”

پریشے نے بےاختیار تھکی ہوئی ہنسی ہلکی سی چھوڑی۔
“آپ کو مجھ پر ترس نہیں آتا؟؟
بچپن سے لے کر وہ مجھے ایسے دیکھتا ہے جیسے میں کوئی ردی کا مال ہوں۔۔۔
پھر بھی آپ لوگوں کو میری شادی اس سے کروانی ہے۔۔۔
ایسا کیا ہے اس میں جو وہ ہر وقت اتنا مغرور رہتا ہے؟”

اماں ہلکے طنز سے بولیں، جیسے اپنی ہنسی روک رہی ہوں۔
“چلو تم نے یہ تو مانا کہ اس کا تھوبڑا خوبصورت ہے۔ باقی خوبیاں جب بیوی بن جاؤ گی تو تمہیں نظر آنے لگیں گی۔۔۔
سوائے اکڑ کے اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔۔۔”

پریشے نے آنکھیں گھمائیں لیکن خاموش رہی۔پریشے کو ہمیشہ سے اس کی اکڑ سے ہی مسئلہ تھا۔

اماں نے بات جاری رکھی، اب لہجہ تھوڑا تھک چکا تھا۔
“میری باتوں کو غور سے سوچنا اور اسے فون کرنا۔۔۔
فلحال تو وہ پاکستان میں نہیں ہے، پتہ نہیں اس لڑکی کو لے کر کہاں غائب ہو گیا ہے۔ کسی کو اس کا نہیں پتہ۔۔۔
نمبر بھی بند ہے۔ جیسے ہی ہمیں پتہ چلے گا کہ وہ کہاں ہے تمہارے بابا اس کے گھر والوں پر پریشر ڈال کر تمہاری شادی اور رخصتی کی بات کریں گے۔ تم بھی اپنا کام سمیٹ کر پاکستان پہنچو۔۔۔”

پریشے نے حیرت سے آنکھیں اٹھائیں۔
“کیا مطلب کہ آپ کو نہیں پتہ کہ وہ کہاں گیا ہے؟؟”

“نہیں، ہمیں چھوڑ اس کے گھر والوں کو بھی نہیں پتہ کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔۔۔”

پریشے کے لبوں پر آہستہ آہستہ شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اسے معلوم تھا کہ آریان سکاٹ لینڈ میں ہے، مگر یہ نہیں پتا تھا کہ وہ اپنی نئی دلہن کے ساتھ آیا ہے۔
اس نے لب بھینچے تاکہ ہنسی باہر نہ نکل آئے۔

ایک لمحے کو جی چاہا کہ بتا دے۔۔۔ پھر رک گئی۔
اچھی خاصی جان چھوٹ رہی تھی، کیوں مصیبت کو آواز دینا؟
“ٹھیک ہے، جب آپ کو پتہ چلے کہ وہ پاکستان پہنچ گیا ہے یا اس کا کوئی پتہ چلے کہ وہ کہاں پہ ہے تو بتا دیجیے گا۔۔۔
فلحال میں آرام کرنا چاہتی ہوں، بہت تھک چکی ہوں۔۔۔”
وہ اپنے ہونٹ کاٹ کر ہنسی روک رہی تھی۔ کہیں ماں کو اس کی خوشی سمجھ نہ آ جائے۔
اس نے جلدی سے فون بند کیا اور تکیے پر سر رکھتے ہی ایک لمبی، ہلکی، خوشی بھری سانس لی۔
کمرے میں ہلکی سی وارم لائٹ جل رہی تھی، باہر برف میں ڈوبا سکاٹ لینڈ تھا مگر کھڑکیاں مکمل بند تھیں۔ فون بند کرنے کے بعد پریشے کے چہرے پر جو خوشی تھی وہ چھپ ہی نہیں رہی تھی۔ وہ بیڈ پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی، اس کے ہونٹوں پر وہ چمکتی ہوئی شرارتی مسکراہٹ پھیلی جسے وہ اب روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔

وہ ہلکی سی ہنسی کے ساتھ بڑبڑائی۔

“تھینک یو تھینک یو سو مچ آریان۔۔۔
زندگی میں پہلی بار مجھے تمہارا فیصلہ اچھا لگا ہے۔۔۔”
وہ ایک لمحہ رکی پھر آنکھیں گھما کر مسکرا دی۔

“اچھا ہوا تم نے شادی کر لی، میری جان چھوٹی۔ کتنی بدقسمت ہوگی وہ لڑکی جس کی شادی تم سے ہوئی ہے۔۔۔”
وہ بیڈ سے اٹھ کر قالین پر آہستہ آہستہ قدم رکھنے لگی، جیسے خوشی اس کے اندر ایک نئی لہر بنا کر گزر رہی ہو۔ اس نے ہاتھ ہوا میں اچھالا جیسے کوئی بوجھ کندھوں سے اتر گیا ہو۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پورے سکاٹ لینڈ میں سپیکر لگا کر سب کو بتائے کہ آریان خان سے اس کی جان چھوٹ گئی ہے۔
اس کے چہرے پر چھوٹی چھوٹی دلکش مسکراہٹوں کی بارش تھی۔
پہلے وہ بہت مجبور تھی، خاندان کے دباؤ اور اس منگ کے نام کے نیچے دبی ہوئی۔
مگر اب…
اب اس کے پاس ایک ٹھوس، پتھر جیسی مضبوط وجہ تھی کہ وہ آریان خان کی دوسری بیوی بن کر ہرگز نہیں رہے گی۔
اس کی آزادی کے چانس بڑھ چکے تھے، بلکہ وہ خود کو آدھا آزاد محسوس کر رہی تھی۔

پریشے نے لپ کاٹ کر ہلکی سی شرارت بھری مسکراہٹ دبائی۔
ایک پل سوچا… پھر فون اٹھایا۔

چند سکینڈ بعد اس نے اپنی سیکرٹری کا نمبر ملایا، آواز ہولے سے بھاری اور سنجیدہ رکھنے کی کوشش کی، مگر مسکراہٹ چھپ نہیں رہی تھی۔

“ہاں سنیے… مجھے آریان خان کا نمبر چاہیے۔ فوراً۔”

فون بند کرتے ہی اس نے ہاتھ کمر پر رکھ کر آئینے میں خود کو دیکھا، آنکھوں میں چمکتی ہوئی وہ ضد تھی جو صرف آریان کے نام پر ابھرتی تھی۔

اسے آریان سے پوچھنا تھا کہ وہ اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ کیسا محسوس کر رہا ہے۔
وہ اسے یہ بھی بتانا چاہتی تھی کہ اسے نکاح کی خبر مل چکی ہے۔
کیونکہ آریان خان اس کا عام دشمن نہیں تھا۔
وہ اس کا پکا دشمن تھا۔اور یہ دشمنی بچپن سے چلتی آ رہی تھی ۔

اور پکے دشمن کو زچ کرنے کا ایسا شاندار موقع؟
پریشے بھلا کیسے چھوڑتی۔
اس نے فون اپنے ہاتھ میں گھمایا، ہونٹوں پر وہی شرارتی مسکراہٹ ابھر آئی۔
“چلو آریان خان… اب ذرا کھیل برابر کریں۔تم مجھے زچ کرتے آئے ہو اب میری باری۔”
کمرے میں خاموشی پھیل گئی، مگر فضا میں ایک نئی چنگاری جل اٹھی تھی۔۔
═══════❖═══════
عبیرہ کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ آریان کی سانسوں کی رمق اس کے قریب محسوس ہوئی، جیسے ہوا میں کوئی بے آواز لمس پھسل گیا ہو۔

“آپ یہاں ….کک… کیا کر رہے ہیں؟” اس کی آواز میں حیرت اور تھوڑا سا خوف تھا۔

آریان نے سر ہلکا سا جھکایا اور مسکرا کر کہا،
“پیاس لگ رہی تھی… اور تم روم میں پانی رکھنا بھول گئی۔ کیوں بار بار بھول جاتی ہو کہ میرا ہر کام تم فرض کی طرح ہے…”

عبیرہ کے لب کچھ لمحے کے لیے تھم گئے۔ آنکھوں میں جو سوال تھا، وہ پوچھنے کی ہمت نہیں تھی۔ آریان نے اسے سمجھ لیا، اور اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکان بکھر گئی۔ پھر خود سے ہی جملہ پھینکا،
“اب اگر غلطیاں کرو گی تو خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا…”لہجہ سرسری مگر لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ تھی۔
“آپ مجھے اُٹھا سکتے تھے، میں آپ کے لیے پانی لا دیتی…”نظروں میں غصے کی اور نیند کی ملی جلی لالی نظر آرہی تھی۔۔
“اٹھانے کی کوشش ہی تو کر رہا تھا… وہ صرف سوچ رہا تھا زبان سے کچھ نہیں کہا۔آریان بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
عبیرہ کے چہرے پر چھائے حیا اور گھبراہٹ کے رنگ دیکھ کر وہ خاموشی سے مسکرا رہا تھا۔
اس کی موجودگی عبیرہ کے دل میں ایک خاموش سرگوشی بن گئی تھی، اور دل کے بے قابو شور پر اس کی سوچ نے خاموش سا پردہ ڈال دیا۔۔۔ ایک نرم اشارہ کہ بس تھم جا۔

“اگر سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے تو کچھ دیر ٹیرس پر ٹہلنے چلیں؟”
آریان نے دونوں بھنویں اٹھا کر اشارہ کیا، اور اس کی آنکھوں میں چھپی شرارت دیکھ کر عبیرہ کا چہرہ سرخ تھا ۔
عبیرہ نے غصے سے گھورتے ہوئے دیکھا
“میں نے آپ سے بڑا بے شرم انسان اپنی زندگی میں نہیں دیکھا…منہ میں بڑبڑاتے ہوئے،کمبل کو اوپر کھینچتے چہرہ دوسری جانب کر لیا۔ جیسے اس کی نظروں سے چھپ جانا چاہتی تھی۔
۔۔۔
“دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں، اب تو تمہاری زندگی میں آنے والا پہلا اور آخری مرد میں ہوں… اور میں ہی رہوں گا، تمہیں جینا بھی میرے ساتھ ہے، مرنا بھی میرے ساتھ…”
آریان خان آگے بڑھا تو فاصلہ لمحے میں سمٹ گیا۔ وہ پوری طرح عبیرہ پر جھک آیا، جیسے اس کی سمت آنا فیصلہ نہیں، فطرت ہو۔
عبیرہ کی سانس لرز گئی۔ اس کے دل میں ایک باریک سا خوف جاگا، وہی جو اچانک افتاد کی صورت ہولے سے سینے میں چبھتا ہے۔ آریان کے یوں پھر سے اتنے پاس آ جانے پر اس کے اندر جیسے کوئی دھاگہ ہلکی سی کپکپاہٹ کے ساتھ ٹوٹا۔۔۔
ہوا تھم گئی تھی۔ عبیرہ کی آنکھوں میں ایک سوال لرزا، اور آریان کی قربت میں وہی اختیار تھا جو انسان کو اپنی ہی دھڑکن سے بیگانہ کر دیتا ہے۔

“تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی، میرا نشہ بن کر۔۔۔
مرضی ہے تمہاری، اب تم محبت کا نشہ بن کر رہنا چاہتی ہو یا نفرت کا۔۔۔
یہ فیصلہ تم پر چھوڑا ہے۔۔۔”

وہ یہ کہہ کر عبیرہ کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ آنکھیں نہیں، جیسے اس کی گھبراہٹ کے اندر تک جھانک رہا ہو۔ لہجے میں وہی خماری، وہی دبی ہوئی گرمی، جو انسان کو فیصلہ نہیں لینے دیتی، خود میں ڈبو لیتی ہے۔

عبیرہ الجھ گئی۔ آریان کے ارادے آج پھر بدلتے دکھائی دے رہے تھے۔۔۔
وہ جان ہی نہیں پاتی تھی کہ کس روپ پر یقین کرے۔

جب سے وہ اس کی زندگی میں آیا تھا، کیسا کیسا رنگ دکھا چکا تھا۔۔۔
سفاک بن کر سامنے آیا، ظالم بن کر نکاح کر لیا، اور اب جو چہرہ اس کے سامنے تھا وہ عبیرہ کی سمجھ سے بالکل باہر تھا۔۔۔
جیسے اس کے اندر کئی شخصیتیں ایک ساتھ سانس لے رہی ہوں، اور عبیرہ یہ طے نہ کر پا رہی ہو کہ ان میں سے کون سی شخصیت اصل ہے۔

عبیرہ نے لرزتی آواز میں کہا
“آپ کو پتہ ہے آپ گرگٹ جیسے ہیں۔۔۔ پل پل بدل جاتے ہیں۔۔۔ آپ کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ پلیز پیچھے ہٹیں، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔

اس کے ہاتھ آریان کے سینے پر تھے، وہی لرزتے ہوئے ہاتھ جو فاصلہ چاہتے تھے، مگر آریان کی قربت کسی ضد کی طرح اس پر سایہ ڈالے کھڑی تھی۔

آریان خان جھکا تو نہیں، جیسے اس کے جھکنے سے پہلے ہی فضا اس کے نام پر مائل ہو چکی ہو۔ آنکھوں میں ایک ایسی خاموش شدت تھی جو چھوا تو نہیں، مگر دل کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔
وہ دھیرے سے بولا
“اور تم۔ تم تو وہ زہر ہو جو دل میں اُتر جائے تو جینے بھی نہ دے، اور چھوڑا جائے تو سانس بھی ادھوری لگے۔۔۔ اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟”

عبیرہ کی پلکیں تھرتھرا گئیں۔
«مجھے آپ کی باتیں سمجھ نہیں آ رہیں، پلیز پیچھے ہٹیں۔۔۔
مگر آریان کی موجودگی جیسے اس کے چاروں طرف ایک گرم دائرہ کھینچ رہی تھی۔
اس کی خوشبو عبیرہ کی سانسوں میں یوں اُتر رہی تھی جیسے کوئی دھیمی دیرینہ آہٹ دل کی دھڑکنوں کو اپنی طرف بلا رہی ہو۔
دل کی رفتار بے ترتیب ہو چکی تھی۔۔۔
وہ خوفزدہ بھی تھی اور عجیب طرح سے بندھی ہوئی بھی۔۔۔
جیسے کہیں اندر بہت گہری جگہ کوئی نادیدہ کشش دھڑکن کے اندر انگلی رکھ کر پوچھ رہی ہو
کیا واقعی ڈر ہے
یا کچھ اور۔۔۔

عبیرہ کے خوف اور بے ربط دھڑکنوں کے بیچ آریان خان کی آواز اور گہری ہو گئی۔ وہ اتنا قریب نہیں آیا کہ حد چھیڑے، مگر اتنا ضرور کہ اس کے الفاظ کی گرمی عبیرہ کے دل تک پہنچ جائے۔

آریان آہستہ، مگر بے حد یقین کے ساتھ بولا
“سمجھ تو تمہیں سب آ رہا ہے، صرف ماننا نہیں چاہتی ہو۔۔۔ خود پر غرور کر رہی ہو کہ تم آریان خان کو ہرانے میں کامیاب ہو چکی ہو۔۔۔ اور خوش فہمی ہے کہ ایک دن مجھ سے دور چلی جاؤ گی۔ مگر یہ بھول ہے تمہاری۔۔۔”
وہ رکا نہیں، جیسے اس لمحے اس کے الفاظ ہی اس کی گرفت تھے
“تمہیں تو ہمیشہ ہر حال میں میرے ساتھ رہنا تھا۔۔۔ پھر چاہے میں تمہیں محبت بنا کر رکھوں یا نفرت، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟”

عبیرہ نے پلکیں جھپکیں، جیسے اس کی آنکھوں میں کوئی نمی، کوئی انجانی کپکپاہٹ جاگ اٹھی ہو۔
آریان کا لہجہ سخت نہیں تھا، مگر اس میں ایک عجیب سا اعتماد تھا۔۔۔ وہ اعتماد جو انسان کو ڈرا بھی دیتا ہے اور ایک پل کو روک بھی لیتا ہے۔

آریان کی آنکھیں اس پر ٹکی تھیں، مگر نظر میں درشتی نہیں، ایک عجیب سی اٹوٹ گرفت تھی۔
عبیرہ نے اس کا چہرہ دیکھا تو خود کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کے الفاظ نے اسے تکیےسے نہیں، اپنے ہی دل کی دھڑکن سے ٹکا دیا ہو۔

کہیں دل کی تہہ میں ایک باریک سا سوال بھی سر اٹھا رہا تھا
اگر وہ اس سے اتنی نفرت کرتا تھا، تو اس کی آواز میں یہ سرگوشی جیسی تپش کہاں سے آتی ہے۔۔۔؟

“اتنا مت دیکھو میری آنکھوں میں عبیرہ… گم ہو جاؤ گی۔
اس نے یوں کہا جیسے نگاہوں ہی سے کوئی گرفت ڈال رہا ہو۔ لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ اُبھری تھی جو اس کی بات کو اور گہرا کر دیتی تھی۔

عبیرہ نے سخت لہجے میں جواب دیا
“میں آپ کے ساتھ نفرت بن کر ساری زندگی رہ سکتی ہوں… محبت بننے کا شوق نہیں ہے مجھے۔”
یہ الفاظ آریان کے جذبے پر ایک اور نشتر کی طرح چلے تھے۔

آریان نے بھنویں ذرا سی اٹھائیں
“خود پر غرور کر رہی ہو؟”

“ایسا ہی سمجھ لیں۔”
اس کے انداز میں نرمی نہیں تھی، مگر خوف بھی نہیں… صرف ٹھہری ہوئی ضد۔

آریان ہلکا سا ہنسا
“تمہیں خود پر ناز کرنا چاہیے کہ آریان خان تم پر فدا ہو رہا ہے… جس پر ہزاروں لڑکیاں مرتی ہیں… ہزاروں کی آنکھوں کا خواب ہوں میں… کتنے دل میرے انکار پر ٹوٹ چکے ہیں۔”

“آپ سے کس نے کہا کہ مجھے خود پر ناز نہیں ہے؟ میں اپنے کردار پر ناز کرتی ہوں… اپنے پاکیزہ ہونے پر… مجھے خود پر ناز کرنے کے لیے آپ کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے مسٹر آریان خان۔
اور جو آپ پر مرتی ہیں… آپ کو پورا حق ہے ان پر جا کر مرنے کا۔ بس مجھ ناچیز سے دور رہیں۔”عبیرہ نے اس کی بات کاٹ دی

آریان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک پیدا ہوئی… غصہ نہیں، ایک خماری بھری شدت

“عبیرہ آریان خان… جتنا غرور کر سکتی ہو کر لو۔ ایک دن تمہارے اسی غرور کو چور چور نہ کیا تو میرا نام آریان خان نہیں۔
تمہیں اپنی محبت میں جھکانا میری زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔
تم ایک دن مجھ سے محبت کرو گی… میں تمہیں مجبور کر دوں گا۔”

عبیرہ نے ایک پل کو اس کی آنکھوں کا رنگ دیکھا… پھر سنبھل کر بولی
“وہ دن کبھی نہیں آئے گا۔ اگر آپ دنیا کے آخری مرد بھی ہوئے تو بھی میں آپ سے محبت نہیں کروں گی۔”

آریان کی پلکیں ذرا سی سکڑیں…
«کیوں؟ اپنی محبت اے سی پی کے نام کر دی ہے؟”
اس کے لہجے میں سردی تھی… مگر اندر کہیں ایک خاموش سی تڑپ بھی چھپی ہوئی تھی۔

شرم کریں!!
اگر غیرت مند مرد ہیں تو آج کے بعد مجھے اس کے نام کا طعنہ مت دیجیے گا، غیرت مند مرد اپنی بیوی کو ایسے طعنے دیتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔۔۔
میں اپنے رب کی گناہ گار نہیں ہونا چاہتی، زبردستی ہی صحیح شوہر ہیں آپ میرے۔۔۔
جب تک آپ کے نکاح میں ہوں، کسی اور کو سوچنا گناہ سمجھتی ہوں۔۔۔

“خیالوں میں تو اسے سوچتی ہوگی…” آریان کا لہجہ ایسا تھا جیسے وہ عبیرہ کی اندرونی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو، اس کے دل کی دھڑکنیں اور سانسیں بے ترتیب محسوس کرنا چاہتاہو۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاموش کشش تھی، جو ہر لمحے عبیرہ کے دل کی دھڑکنیں بڑھا رہی تھی۔

“ضرور سوچتی اگر نکاح کا ٹیک مجھ پر نہ لگا ہوتا۔۔۔ اللہ مجھے شیطان مردود کے شر سے بچائے جو میرے دماغ میں نامحرم کے خیالات ڈالے۔۔۔
میرا اسلام نامحرم کی محبت کو حرام کہتا ہے، اور عبیرہ حرام کی طرف نہیں جانا چاہتی۔۔۔سنجیدہ سا لہجہ خالی سی نظریں جو آریان پر جمی ہوئی تھی۔

“اچھا تو پہلے کیوں سوچا تھا اس نام محرم کے بارے میں…. پھر سے بیچ میں ٹوکتے ہوئے پوچھا نہ جانے اس کے لفظوں میں کیا تلاش کرنا چاہتا تھا۔

“جب میں نے اس کے بارے میں سوچا تھا تو رب گواہ ہے کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔
خدا کو میرا اور اس کا رشتہ منظور نہیں تھا، میں اپنے رب کی رضا پر خوش ہوں،

“مطلب تم مجھ سے جڑے رشتے سے اب دلی طور پر خوش ہو…. آریان خان کی نظروں کی چمک بڑھنے لگی تھی۔
“نہیں…. اس میں اللہ کے فیصلے پر راضی ہوں..
مگر آپ سے محبت نہیں کر سکتی۔
اوردوبارہ کوئی صفائی نہیں دوں گی۔۔۔
اگلی بار مجھے اس شخص کے نام کا طعنہ مت دیجیے گا۔۔۔
میرے دل کے دماغ کے کسی کونے میں اس وقت وہ نہیں ہے، نکال دیا ہے میں نے اس شخص کو اپنے دل و دماغ سے۔۔۔
اب میرے دل و دماغ میں آپ ہیں، مگر محبت بن کر نہیں، نفرت بن کر۔۔۔
آپ کا اور میرا رشتہ نفرت سے شروع ہوا ہے، نفرت کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔۔۔

عبیرہ نے ایک ایک لفظ بڑے ٹھہراؤ کے ساتھ، آریان خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہیں، اور ہر لفظ کے ساتھ دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں، سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں، ہر بار اس کی نظریں آریان کی آنکھوں میں گم ہونے لگتی تھیں، اور اندرونی خوف اور جذبات کا طوفان اسے ہلا رہا تھا۔

آریان کی خاموش کشش اور ہر چھوٹی حرکت عبیرہ کے اندر ایک نرمی اور بے بسی پیدا کر رہی تھی۔
وہ خود کو اس کے سامنے مکمل طور پر بے بس محسوس کر رہی تھی، مگر دل کی ایک چھپی ہوئی خواہش بھی جاگ رہی تھی، جو اسے سمجھ سے باہر جذبات کے دھارے میں کھینچ رہی تھی۔
“خاموشی میں بھی ایک بات واضح تھی۔ آریان خان کی گرفت نے اسے جکڑ رکھا تھا، نہ صرف اس کے وجود میں بلکہ دل و دماغ میں بھی، اور وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتی تھی۔”

آریان خان خوابیدہ نگاہوں
سے عبیرہ کو دیکھ رہا تھا۔ اس بار اس نے عبیرہ کو بیچ میں ٹوکا نہیں، بلکہ پُرسکون ہو کر گہری نگاہوں سے اسے سن رہا تھا، ہر پل اس کے احساسات پڑھتا ہوا۔ عبیرہ کے دل کی دھڑکنیں اس کے ہر نظر کے ساتھ بے ترتیب ہو رہی تھیں، مگر وہ اسے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔

“خوشی ہوئی ہے جان کر کہ تمہارے دل و دماغ میں صرف میں ہوں۔۔۔
چلو، محبت بن کر نہ صحیح، نفرت بن کر ہی صحیح۔۔۔”

زندگی میں پہلی بار آریان خان نے چوٹ کھائی تھی وہ بھی دشمن سے۔ جس کے ساتھ نفرت کی انتہا کرنا چاہتا تھا، اس کے ساتھ محبت کی ابتدا کر بیٹھا ہوں۔ دل کے کسی گوشے میں یہ حقیقت اس کے لیے حیرت انگیز تھی، مگر اس کے غرور نے بھی اسے قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔عبیرہ کی نظروں میں حد سے زیادہ حیرانی تھی۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ آریان خان اتنی جلدی ہار مانتے ہوئے ہتھیار ڈال چکا ہے۔

“بہت دلچسپ ہوگی تمہاری اور میری لو اسٹوری!! محبت ہو گئی ہے تم سے۔۔۔۔چاہتا تو اس بات کو چھپا سکتا تھا، مگر میں آریان ہوں، جو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔
ہر بات کو پوری ایمانداری سے تسلیم کرنا میری فطرت میں شامل ہے۔۔۔
جانتی ہو؟بہت مشکل تھا تمہارے سامنے اعترافِ محبت کرنا۔
اچھی طرح جانتا ہوں کہ میرا اعتراف محبت تمہیں غرور میں مبتلا کر سکتا ہے، مگر پھر بھی میں پورے ہوش و حواس میں قبول کرتا ہوں کہ محبت ہو گئی ہے تم سے، تمہارے کردار سے!!”ہاتھ کی پشت گال پر رکھتے ہوئے، وہ عبیرہ کی آنکھوں میں ڈوبا رہا۔ لمحے رک گئے، وقت جیسے اپنی سانس تھام کر ٹھہر گیا ہو۔ اس کی نگاہوں میں مدہوشی کی نرم لالی تھی، اور چہرہ اس کے قریب آ کر جیسے خاموشی میں بات کرنے لگا۔ ہر لمس، ہر نظر ایک گہرے سکون اور عاجزی سے بھرپور تھا، اور عبیرہ ہر لمحے کو دل و دماغ میں محسوس کر رہی تھی۔

“میری زندگی میں خوبصورتی کی کمی نہیں تھی۔ میں نے ایک سے بڑھ کر ایک حسینہ دیکھی ہے، جو لمحوں میں اپنے آپ کو سجانے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں، مگر تم سے مل کر مجھے پتہ چلا کہ عورت اتنی باکردار اور مضبوط بھی ہو سکتی ہے۔۔۔اتنا مضبوط کردار میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔وہ ایک ایک لفظ ایمانداری سے بول رہا تھا جسے عبیرہ سننے پر مجبور تھی۔

“تم پر مر مٹنے کی وجہ تمہارا خوشبودار، مہکتا ہوا کردار ہے۔۔۔ تمہارے اس خوبصورت کردار سے مجھے عشق ہو گیا ہے۔”

عبیرہ کے دل میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی، مگر وہ جانتی تھی کہ آریان کی نگاہیں اس کی روح تک پہنچ رہی ہیں۔ دل کو روکنے کی کوشش کی، مگر ہر لمحے آریان کی موجودگی اس کے جذبات کو بیدار کر رہی تھی۔

“اتنا یقین کیسے ہے آپ کو کہ میں باکردار ہوں؟
نظر کا دھوکہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔”عبیرہ نے دبے سے لہجے میں پوچھا۔۔۔

“میں آریان خان ہوں۔۔۔
میں اپنی رکھی ہوئی چیزوں پر اتنی کڑی نظر رکھتا ہوں کہ ذرا سی بھی حرکت فوراً محسوس ہوتی ہے۔
تم تو ہمیشہ سے میری نفرت کا مرکز رہی ہو، تو کیسے میں تم سے بے خبر رہ سکتا ہوں؟
جب سے ہوش سنبھالا ہے، ہر پل میری نظروں نے تمہارا پیچھا کیا ہے۔”

عبیرہ نے دل کے دل کی دھڑکنیں تیز تھیں، مگر اس کے اندر ایک عجیب سکون بھی تھا، جیسے آریان کی موجودگی ہر خوف اور اضطراب کو نرم کر رہی ہو۔

“تمہارے کردار کی گواہی تم سے زیادہ میں دے سکتا ہوں،
صرف تم نے ایک ہی خطا کی، جس کا نام لینے کے لیے تم نے مجھے منع کیا۔”
آریان خان کا اشارہ یارم کی جانب تھا، مگر اس کے لہجے میں کوئی تلخظی نہیں تھی، صرف سنجیدگی اور جذبہ تھا۔

“اس ایک خطا کے سوا، تمہارا کردار ایک آئینہ ہے، جس کو میں ہر پل دیکھتا رہا ہوں۔
ہمیشہ سے غرور تھا کہ جب تم مجھ سے ملو گی تو میری وجاہت اور خوبصورتی کے سامنے تم ضرور کمزور پڑو گی، مگر زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی سے ہارا ہوں۔۔۔
پہلی بار میری سوچ غلط ثابت ہوئی، مگر خدا کی قسم، اس ہار میں جو سکون مجھے ملا ہے، بتا نہیں سکتا۔۔۔
اس ہار میں وہ سکون ہے جو آج تک مجھے جیت میں نہیں ملا۔۔۔”

عبیرہ نے سانس بھری، دل میں خوف اور خوشی کا عجیب سا امتزاج تھا۔ وہ محسوس کر رہی تھی کہ آریان کی باتیں صرف الفاظ نہیں، بلکہ اس کے دل اور دماغ میں اتر رہی ہیں۔

“آریان خان کا دل تم سے ہار کر خوش ہے، چوہیا۔۔۔
فدا ہوگیا ہوں تمہارے کردار پر۔۔۔
ہمیشہ ایسی ہی باکردار رہنا، باقی محبت کرنے پر تو میں تمہیں مجبور کر دوں گا۔۔۔”

وہ بہت خوبصورتی سے لفظوں کی مالا پروتے ہوئے، سرگوشیوں میں عبیرہ کو بتا رہا تھا۔ عبیرہ کے دل میں ایک عجیب سا اثر چھا گیا تھا، دل کی دھڑکنیں تیز، ہر سانس میں آریان کی موجودگی محسوس ہو رہی تھی۔

“تم سے ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا؟
آگے آگے دیکھ میری جان، ہوتا ہے۔۔۔
اگر اپنے عشق میں تمہیں توڑ کر، تمہیں اپنی آغوش میں نہ سمیٹا تو
خود سے مرد ہونے کا حق چھین لوں گا۔۔۔”

عبیرہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی، اس کے لفظوں میں جادو تھا جس میں وہ جکڑی ہوئی تھی۔ دل کے ایک گوشے میں خوف تھا، مگر اس کے ساتھ ایک نرمی اور کشش بھی جاگ رہی تھی۔

“چوہیا، اتنے غور سے مت دیکھو، عشق ہو جائے گا۔
اور اتنی جلدی میں نہیں چاہتا کہ تمہیں مجھ سے عشق ہو جائے۔
ابھی تو مجھے اپنے عشق میں تمہیں مجبور ہوتے دیکھنا ہے۔۔۔”

وہ آنکھ کو دبا کر، اپنے تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گیا، آنکھیں بند کیے ہوئے، پُرسکون لگ رہا تھا۔ عبیرہ ٹک ٹکی باندھے اسے دیکھ رہی تھی، دل کی دھڑکن تیز، سانسیں بے ترتیب، ہر لفظ پر غور کر رہی تھی۔ ہر حرکت، ہر سرگوشی اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر رہی تھی۔

“سو جاؤ چوہیا،
ورنہ تمہاری فجر کی نماز لیٹ ہو جائے گی، اس کا گنہگار بھی تم مجھے ہی ٹھہراو گی۔۔۔”
وہ بند آنکھوں سے بولا۔
عبیرہ اس کے سحر سے باہر آتی ہوئی، اپنے تکیے پر دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے سیدھی لیٹ گئی۔۔۔

اور ہاں،
“کل سے یاد سے پانی روم میں رکھ دینا، کیونکہ آج کل مجھے پیاس بہت زیادہ لگتی ہے۔۔۔”
وہ کروٹ لیتا ہوا، رخ دوسری جانب کرتے ہوئے بولا۔

“کل سے ایک کام کروں گی، آپ کو پانی کی ٹنکی میں چھوڑ آؤں گی تاکہ آپ کو دوبارہ پیاس نہ لگے۔۔۔”
عبیرہ آہستہ سے بڑبڑائی، دوسری جانب کروٹ لے کر آنکھیں بند کر گئی۔

” پیاس ٹنکی سے نہیں بجھے گی۔۔۔
صبح فرصت سے اُٹھ کر کوئی اور ترکیب سوچنا۔۔۔”

“آریان خان کی ایک بار پھر سے ہلکی سرگوشی پر، عبیرہ نے دانت پیستے ہوئے خاموش رہنا مناسب سمجھا۔”
دل کے اندر ایک نرمی اور کشش جاگ رہی تھی، مگر وہ آریان سے اس وقت زیادہ نہیں اُلجھنا چاہتی تھی۔ ہر سانس، ہر سرگوشی اس کے دل کی دھڑکن میں شامل ہو گئی تھی، اور وہ خاموشی میں بھی ہر لمحے اسے محسوس کر رہی تھی۔

نیند تو دونوں کو نہیں آ رہی تھی، مگر دونوں ہی سونے کی کوشش کر رہے تھے۔ دل کے جذبات مختلف سمتوں میں موجزن تھے۔آریان خان کے دل میں یقین اور قبولیت تھی کہ اسے عبیرہ سے محبت ہو گئی ہے، جبکہ عبیرہ اپنے اندر ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھی، یہ سوچتے ہوئے کہ یہ محبت ہے یا کوئی دھوکہ۔

ہر سانس، ہر خاموش لمحہ ان کے دل کی دھڑکنوں کو اور تیز کر رہا تھا، عبیرہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ آریان کی سچائی اور شدت میں کچھ ایسا ہے جو اسے خوفزدہ بھی کر رہا ہے اور بیک وقت اپنی طرف کھینچ بھی رہا ہے۔

═══════❖═══════

(دس دن بعد)

شادی کی تیاریاں پوری ہو چکی تھیں۔
یارم خان اس رشتے پر راضی تو نہیں تھا، مگر اپنے بابا کی خوشی کے آگے خاموش ہو گیا۔ شرط اس نے صرف ایک رکھی تھی کہ تقریب سادگی سے ہو۔ اسے اپنے ہی شادی کی خوشیاں بے ماہی نہیں لگ رہی تھی۔

دوسری جانب ،آریان کے گھر پر نہ ہونے کی وجہ سے افضل اور گلناز نے بھی یہی سوچا کہ زیادہ رش بلانا مناسب نہیں،بھائی شادی میں شامل کیوں نہیں ہے ،لوگ طرح طرح باتیں بنائیں گے۔

یوں دونوں خاندانوں نے سمجھداری سے فیصلہ کیا اور چند خاص لوگوں میں ایک چھوٹا سا فنکشن رکھا گیا۔
عجیب بات یہ تھی کہ ان دس دنوں میں یارم نے ابھی تک ایزل کو دیکھا تک نہیں تھا۔ نہ تصویر، نہ کال۔ ہر بار بہانہ… اور دن یوں ہی گزر گئے۔

یارم کے دل پر ابھی تک عبیرہ کا درد تازہ تھا۔ اس نے اپنے دل سے کہہ دیا تھا کہ اگر بیوی کے روپ میں وہ نہیں تو پھر کوئی بھی ہو، اس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

وہ ٹوٹے دل کے ساتھ دولہا بنا، بارات لے کر آیا، سب کچھ صرف بابا کے لیے برداشت کر رہا تھا۔ اگر کوئی اس کے دل کے اندر جھانکتا تو ایک دبا ہوا، الجھا ہوا طوفان دیکھ لیتا۔

بارات ایزل کے گھر جا پہنچی۔
یارم بلیک شیروانی اور میچنگ کُلہ لیے عربی شہزادہ لگ رہا تھا۔ رنگ اور وجاہت بلیک میں دوچند ہو گئے تھے، لیکن حقیقت میں وہ ایک ٹوٹا ہوا شہزادہ تھا۔ اس کی قسمت میں آنے والی لڑکی سچ مچ شہزادی تھی، نازک، باریک نقش والی، چہکتی ہوئی۔ بس اتنا فرق تھا کہ وہ اس کی من چاہی نہیں تھی۔

ایزل تو اپنی ہی دنیا میں گم تھی۔
اسے کیا خبر کہ جس شہزادے کے خواب وہ پلکوں میں سجا رہی ہے، اس کا دل تو کسی اور کے عشق میں ڈوبا پڑا ہے۔
وہ بے فکر، بے انداز، اپنے ہی خیالوں میں خوش تھی۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ شہزادے کی دنیا تو ویران پڑی ہے۔
جب اسے یہ سچ پتا چلے گا…
اس کے دل پر کیا گزرے گی؟
یہ کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔

نکاح پڑھایا گیا۔
ایزل یارم کے نام ہو گئی۔
گھونگٹ اوڑھے، پھولوں سے سجی سٹیج پر یارم کے ساتھ بیٹھی تھی۔ وہ ایزل افضل خان نہیں رہی تھی، ایزل یارم خان بن چکی تھی… اور اپنی آنکھوں میں اس خوبصورت شہزادے کے ساتھ زندگی کے روشن خواب سجا رہی تھی۔
ان کے ہاں ایک رسم تھی کہ جب تک دلہا نہ دیکھ لے، کوئی اور دلہن کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔
اسی گھونگٹ میں اسے گاڑی تک لے جایا گیا۔

رخصتی کے وقت ایزل کے والدین کی آنکھیں نم تھیں۔
افضل خان ضبط کیے کھڑے تھے، مگر ماں کی ہمت ٹوٹ گئی تھی۔
چہکتی ہوئی بیٹی جو ہر وقت گھر میں بھاگتی پھرتی تھی، آج کسی اور گھر کی ہو رہی تھی۔
روشانے بھی نم آنکھوں سے کھڑی تھی۔ ایزل اس کے ہاتھوں میں کھیل کر بڑی ہوئی تھی۔ اسے رخصت کرنا ماں جیسی تکلیف دے رہا تھا۔

صارم بھی چپ سا کھڑا تھا۔
اس نے بھی سارا بچپن ایزل کے ساتھ گزارا تھا۔
ایزل کی شرارتیں، ہنسی، ضدیں… سب یاد آ رہی تھیں۔
ایزل دنیا کی سب سے بے فکر دلہن تھی۔
نہ آنسو، نہ جھجک۔
صرف خوشی کہ اسے اس کا پسندیدہ شوہر مل رہا ہے۔
خدا میری بچی کو خوابوں کو نظرِ بد سے بچائے۔اس کی ماں کے دل سے دعائیں نکل رہی تھی۔

“محبت کے سمندر کی انتہا نہیں کوئی
یہ وہ درد ہے جس کی دوا نہیں کوئی”

محبت کا یہی درد نہ جانے کب ایزل کو چھو گیا تھا۔ وہ اسی جذبے میں ڈوب کر یارم خان کی زندگی میں داخل ہوئی تھی۔
اب یہ سفر کیسا رہے گا… یہ وقت بتائے گا۔

یارم اس کی محبت سے ناواقف تھا،
اور ایزل اس کی محبت کے زخم سے۔

دو لوگ… دو مختلف سوچیں… ایک ہی بندھن میں بندھ چکے تھے۔
ایک حد تک سنجیدہ، اور دوسری حد سے زیادہ چنچل۔
ایک سوچ سمجھ کر چلنے والا، دوسری بے فکری سے جذبات کہہ دینے والی۔
یارم کے نزدیک کردار سب کچھ تھا، چہرہ کچھ نہیں۔
اور ایزل کے نزدیک خوبصورتی کشش کا نام تھی۔
اسی کشش میں اس نے یارم سے محبت کی تھی۔

کہتے ہیں ہر فیصلے میں خدا کی مصلحت ہوتی ہے۔
تو دیکھیے… تقدیر ایزل اور یارم کو کہاں لے جاتی ہے۔

          ═══════❖═══════

بارات واپس پہنچی تو گھر میں پھولوں اور چند خاص مہمان خواتین کے ساتھ سادہ سا استقبال تھا۔ ہر چیز رسمی تھی، بس رسم پوری کی جا رہی تھی، اور یارم دل سے راضی نہیں تھا۔ وہ شادی اپنے دل کی خواہش سے نہیں کر رہا تھا، بس اپنے باباکی خوشی کے لیے مان گیا تھا۔

گھر کے بزرگ خواتین اب بھی اپنی پرانی روایات نبھا رہی تھیں، پھول ہلکے سے چھڑک رہی تھیں، کچھ رسم کی علامات خاموشی سے ادا کر رہی تھیں۔ یارم نے سب کچھ دیکھا، مگر دل اندر سے خالی تھا۔ زبان پر خاموشی رکھی ہوئی تھی، جیسے کوئی لفظ نکلا تو سب کچھ بکھر جائے گا۔
جب دل اداس اور ٹوٹا ہوا ہو، تو ارد گرد کی روشنیاں، ڈھول اور بینڈ باجے سب سنائی نہیں دیتے۔ سب کچھ خاموش سا لگ رہا تھا، جیسے دنیا کے سارے رنگ اور آوازیں رک گئی ہوں۔ دل چاہ رہا تھا کہ وہ یہاں سے کہیں دور چلا جائے، خود کو اس سب رسم و رواج سے الگ کر لے،

جیسے ہی رسمیں پوری ہوئی، یارم خاموشی سے وہاں سے کچھ دیر کے لیے ہٹ گیا۔ رسموں میں ویسے ہی کافی وقت لگ چکا تھا، اس لیے رتبہ نے زیادہ دیر تک ایزل کو نیچے حال میں بٹھائے رکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ اسے احساس تھا کہ ایزل تھک چکی ہوگی۔

“انشاء بیٹا، چلو بھابھی کو ان کے روم میں چھوڑ کر آؤ۔”
رتبہ نے بڑے پیار سے ایزل کے گھونگٹ پر ہاتھ رکھ کر ماتھا چومتے ہوئے کہا۔ ماں کے حکم پر فوری طور پر انشاء نے ایزل کو لے کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کے کمرے میں لے آئی۔

یہاں ریڈ روزز کی خوشبو باہر تک محسوس ہو رہی تھی اور یہ سب کچھ ایزل کے دل کی تاروں کو گدگدا رہا تھا۔ ہر دلہن کی طرح وہ بھی خوش تھی، مگر دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی تھیں، جو ایک نیچرل سا احساس تھا۔

یارم کے لاکھ منع کرنے کے باوجود، رتبہ نے یارم کا روم بہت خوبصورتی سے ڈیکوریٹ کروایا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ایزل کے ساتھ کسی بھی طرح کی نا انصافی ہو۔ اسے پورا حق تھا کہ وہ اپنی ہر خوشی کو مکمل طور پر محسوس کرے۔۔۔

ایزل کو گھونگٹ کے اندر سے ہلکا سا منظر دکھائی دے رہا تھا: فرش سے لے کر دروازے تک ریڈ پھولوں کا کارپیٹ بچھا ہوا تھا، بیڈ پر پھول بکھرے ہوئے، اور سرہانے اور بیڈ کے نیچے بھی پھولوں کی پتیاں پڑی ہوئی تھیں۔ خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی، جیسے وہ کسی پھولوں کے باغیچے ں میں کھڑی ہو۔

رتبہ بھی پیچھے پیچھے آگئی اور انشاء کے ساتھ مل کر ایزل کو آرام سے بیڈ پر بٹھایا۔
“بیٹا، یہ تمہارا کمرہ ہے۔ آرام کرو، انشاءاللہ صبح ملاقات ہوگی۔ میں ابھی یارم کو بھیجتی ہوں۔”

یہ بات سن کر ایزل کی دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں۔ ایک خوبصورت سا احساس تھا، جسے محسوس کرتے ہوئے وہ گھونگٹ میں شرما کر مسکرا رہی تھی۔

جس شخص کو وہ ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے قرار تھی، وہ یارم خان، اب ہمیشہ کے لیے اس کا ہو کر اس کے ساتھ رہنے والا تھا۔ روز صبح شام جب چاہے اسے دیکھ سکے گی، یہ سوچ کر ہی اس کا دل جھوم رہا تھا اور دھڑکنیں زور زور سے بڑھ رہی تھیں۔

انشاء نے ریڈ کلر کا لہنگا بیڈ پر گولائی میں پھیلاتے ہوئے ایزل کو درمیان میں آرام دہ انداز سے بٹھایا۔
“جی پیاری بھابھی جان، ہمارا کام ختم، ہم جا رہے ہیں۔ہم تو اپث کا چہرہ تب تک دیکھ نہیں سکتے جب تک لالا نہ دیکھ لیں۔عجیب سی رسم ہے ہماری تو اسی لیے اکثر ہمارے خاندان کی دلہنیں ہم ولیمے والے دن ہی دیکھتے ہیں۔۔۔انشاء نے افسردہ چہرہ بناتے ہوئے کہا۔

خیر اب کیا کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ بیسٹ آف لک۔ لالا کسی بھی وقت روم میں آ سکتے ہیں۔ اگر کچھ چاہیے ہو تو مجھے بتا دیں۔”انشاء نے شرارتی انداز میں مسکرا کر کہا۔
ایزل نے گھونگٹ کے اندر سے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور انشاء روم سے چلی گئ۔۔۔═══════❖═══════

ایزل تھکی ہوئی تھی۔ انتظار کرتے کرتے کمر اکڑ گئی، بیٹھی بیٹھی دل تھک گیا تھا۔ بیڈ پر بکھری گلاب کی پتیاں اس کے ہاتھوں میں آ گئیں، وہ انہیں نرم سے مسلتی ہوئی ہلکی سی مسکان بھی لے رہی تھی۔ خوشی بھی تھی، مگر تھکن کے ساتھ۔ دل چاہ رہا تھا، فوراً سے لیٹے اور سو جائے۔۔۔

تقریباً دس بجے کے بعد۔دروازہ کھلا اور یارم اندر آیا۔ فرش پر بکھرے گلاب کے پتوں سے ہلکی سی خشخشاہٹ سنائی دی، جوتوں کی نرم آواز بھی کانوں تک پہنچی۔ گھونگٹ کے پردے کے پیچھے اس کا دھندلا سا چہرہ جھانک کر دیکھا تو ایزل کے دل میں ایک چھوٹی سی خوشی جاگی۔وہ شہزادہ جو اس کے خوابوں میں تھا، اب حقیقت میں سامنے تھا۔

مگر یارم تو بے تاثرات خاموش چہرہ لیے اندر داخل ہوا جیسے کمرے میں کوئی موجود ہی نہ ہو۔ نہ سلام کیا، نہ بات کی۔ بس آگے بڑھ کر شوز اتارے، کلائی سے واچ ہٹائی، ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی اور شیروانی کے بٹن کھولنے لگا۔

ایزل نے گھونگٹ کے پیچھے سے اسے دیکھ رہی تھی۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، سانسیں بے ترتیب تھیں۔
لاپرواہ سی ایزل، یارم کی خاموشی پر جھنجھلا گئی تھی۔ یارم کا چہرہ خاموش تھا، اس پر کوئی خوشی نہیں تھی، اور یہ بات ابھی ایزل کی سمجھ سے دور تھی۔ وہ بس اتنا ہی سوچتی تھی جتنا اسے ٹھیک لگتا تھا، مگر یارم کا نظر انداز کرنا اسے بالکل اچھا نہیں لگا۔ دلہن ہونے کا لحاظ کیے بغیر، وہ بول پڑی۔

“حد ہے… آپ کو روم میں بیٹھی ہوئی اپنی دلہن نظر نہیں آرہی؟”

ایزل کے تاثرات: گھونگٹ کے پردے کے پیچھے بیٹھی، لبوں پر ہلکی مسکان اور آنکھوں میں چھوٹی سی شرارت تھی، مگر دل میں تھوڑی سی جھنجھلاہٹ بھی چھپی ہوئی تھی۔

جی آرہی ہے کیا آتے ہی آپ کو سر پر اُٹھا لوں؟؟
یارم مصروف سے انداز سے بولا۔۔۔

“نہیں سر پر اٹھانے کی ضرورت نہیں ۔ مگر پہلے آکر میرا گھونگٹ اُٹھائیں!!

“کیوں تمہارے ہاتھ کام نہیں کرتے؟؟
خود اٹھا لو!!

“ہاؤ روڈ!!
ایسے کون کہتا ہے اپنی پہلی رات کی دلہن کو؟؟
ایزل نے گھونگٹ کو اُٹھاتے ہوئے ناک سنگھوڑ کر کہا۔۔۔

یارم شیروانی اُتار کر الماری میں رکھتے ہوئے بغیر ایزل کی جانب دیکھے بول رہا تھا ۔۔۔مگر پھر کچھ سوچتے ہوئے یارم خان نے پلٹ کر دیکھا۔
اس لڑکی کی آواز جانی پہچانی سی لگی مگر جب ایزل کے چہرے پر نظر پڑی تو یارم کے تو قدموں تلے سے زمین کھسک گئی۔۔۔
سامنے وہی لڑکی تھی جس کے بارے میں وہ سوچتا تھا کہ وہ کتنا پٹ پٹ کرتی ہے کیسے مردوں سے زبان درازی کر رہی تھی،آج وہ لڑکی اس کی بیوی بن کر اس کی سیج پر بیٹھی تھی۔۔۔

“تم۔۔۔۔
یارم چلایا۔۔۔”

“او مائی گاڈ دل پر ہاتھ رکھیں کیا ہو گیا ہے؟؟
میں جانتی ہوں کہ میں بہت خوبصورت ہوں مگر آپ کا تو دل ہی حلق سے باہر آرہا ہے۔۔۔
ایزل نے مسکراتے ہوئے شرما کر کہا۔۔۔

“میری شادی تم سے ہوئی ہے؟؟
یارم نے حیران نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا وہ اپنی شیروانی کے بٹن کھولنا بھول چکا تھا،وہ چلتے ہوئے اس کے قریب آ کھڑا ہوا۔۔۔

“جی آپ کی شادی مجھ سے ہی ہوئی ہے اپنی قسمت پر یقین کریں اب اتنا بھی حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

“اُفف میرے اللہ مجھے صبر دینا۔۔۔
یارم اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے سوچ کر سر کو جھٹکتے ہوئے اسے واپس دیکھا۔۔
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی شادی اس لڑکی سے ہوئی ہے!! یارم کی شکل اس وقت ایسے تھی جیسے اسے کوئی سزا سنا دی گئی ہو۔
“یہ… یہ کیسے ممکن ہے؟”اسے یہ خواب کی طرح لگ رہا تھا۔۔۔
═══════❖═══════

یہ قسط ناول “صلیب سکوت” کی ایک قسط ہے، تخلیق حیات ارتضی، ایس۔اے کی۔اگلی قسط مطالعہ کرنے کے لیے اسی ناول کی category “صلیب سکوت” ملاحظہ کریں، جہاں تمام اقساط ترتیب وار اور باقاعدگی سے دستیاب ہیں۔💡 ہر نئی قسط ہر اتوار شام 8:00 بجے شائع کی جائے گی۔

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *