Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:20

صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ
قسط نمبر:20
═══════❖═══════
مگر یہ یارم کے لیے ایک بھیانک خواب تھا، کیا ہو گیا ہے ڈی ایس پی صاحب؟ آپ تو سکتے میں آگئے ہیں، کیا اپنی نظروں پر یقین نہیں آ رہا۔۔۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر دلہن بنی کھڑی ہو گئی تھی، ایک طرف دیکھا جائے تو لگ تو وہ بہت کیوٹ رہی تھی، چھوٹی سی نازک سی خوبصورت دلہن… جس میں بچپنا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔۔۔ مگر وہ خود کو بہت سمجھدار اور عقلمند سمجھتی تھی۔۔۔

پلیز اتنا حیران ہو کر دیکھنے کی ضرورت نہیں، اپنی قسمت پر یقین کر لیں کہ میں آپ کی قسمت میں لکھ دی گئی ہوں۔۔۔ وہ خود پر اتراتے ہوئے آنکھوں کو ٹمٹما رہی تھی، دونوں ہاتھوں سے اپنا گھونگٹ اوپر اٹھائے ہوئے اس وقت وہ دلہن کم اور بچی زیادہ لگ رہی تھی۔۔۔
“سچ میں۔۔۔ خدا کی قسم مجھے یقین نہیں آرہا کہ میری قسمت میں تم لکھی ہوئی تھی۔۔۔
وہ حیران نظروں سے ایزل کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔یارم کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو چکی تھی، آنکھوں میں حیرت جمی ہوئی تھی اور ذہن ابھی تک حقیقت قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا کہ یہ آفت سچ میں اس کے گلے پڑ چکی ہے اس کے لیے ایزل افت سے کم نہیں تھی۔

“پلیز،اب اتنی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے شرم آ رہی ہے۔۔۔وہ شرما کر دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ گئی تو ہاتھ میں پکڑا ہوا گھونگٹ نیچے پر گر گیا۔اس لمحے وہ دلہن کم اور شرارتی بچی زیادہ لگ رہی تھی۔
یارم تو چند لمحے اسے بس دیکھتا رہ گیا
ایزل کی یہ بے وقوف سی حرکت، معصوم سی شرارت،اس کے لیے اتنی اچانک تھی کہ اس کے انداز میں حیرت ٹھہر گئی،اسے یقین ہی نہ آ رہا تھا
کہ واقعی یہ سب کچھ اس کے سامنے ہو رہا ہے۔۔۔

“اے اللہ… یہ ماسٹر پیس آپ نے میرے لیے بچا کر رکھا تھا۔ میں اس کے ساتھ زندگی کیسے گزاروں گا؟”
یارم خان نے دونوں مٹھیوں کو بند کیا اور خود پر قابو پانے کی کوشش کی…

“اب کیا سوچ رہے ہیں آپ…؟ جلدی سے میرا گھونگٹ اُٹھائیں، تاکہ آپ میرے حسن کی پوری جھلک دیکھ سکیں…”
وہ بیڈ پر بیٹھ کر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ حکم دے رہی تھی۔دوسری طرف، بیچارہ یارم ہر ادا پر حیرت کے سمندر میں غرق تھا…

“نہیں پلیز… اس سے زیادہ میں تمہارے حسن کی جھلک نہیں دیکھ سکوں گا۔ میرا دل بہت کمزور ہے، ڈاکٹر نے مجھے زیادہ حسن والی چیزوں سے دور رہنے کی تاکید کی ہے…”
یارم خان اس وقت صبر کے گھونٹ پی رہا تھا اور محترمہ اسے گھونگھٹ اٹھا کر اپنا حسن دیکھنے کی دعوت دے رہی تھیں۔۔۔

وہ تو صدمے کی کیفیت میں کھڑا تھا۔
اس کے سامنے جو لڑکی دلہن بن کر موجود تھی، وہ کہیں سے بھی اس کی سوچ کے کسی گوشے سے میل نہیں کھاتی تھی۔
اور اب اسے اسی لڑکی کے ساتھ زندگی گزارنی تھی۔
یہ خیال آتے ہی یارم کے پیروں تلے سے زمین جیسے کھسکنے لگی۔۔۔

“پلیز، مذاق بند کریں…اور میرا گھونگھٹ اُٹھائیں۔ مجھے عادت نہیں اتنی دیر، اتنے بڑے دوپٹے میں رہنے کی…
اور ایک تو آپ پہلے ہی اتنے لیٹ آئے ہیں، کون اپنی خوبصورت، نازک سی دلہن کو اتنا انتظار کرواتا ہے؟”
وہ گھونگھٹ سے ہلکی جھنجھلاہٹ کے ساتھ بول رہی تھی۔
“تو پلیز، تم تکلف مت کرو…
گھونگھٹ اُتار دو، میری طرف سے اجازت ہے…”
یارم خان کا لہجہ جیسے جان چھڑانے والا تھا۔

“ایسے کیسے میں خود گھونگھٹ اُٹھا لوں؟
گھونگھٹ اُٹھانا دولہے کا فرض ہوتا ہے، اور آپ اپنے فرائض سے بھاگ نہیں سکتے۔
اور میں ایزل ہوں… آپ کو بھاگنے دوں گی بھی نہیں۔”

ایزل کے اس اعتماد بھرے انداز پر یارم حیران رہ گیا۔
کہیں سے بھی وہ پہلی دن کی دلہن نہیں لگ رہی تھی۔
“پلیز، ایک بات بتاؤ… تم ہمیشہ اتنی باتیں کرتی ہو، یا آج کوئی خاص ٹریٹمنٹ کروائی ہے؟”
یارم اس کی بلند آواز اور بکثرت بات کرنے پر واقعی حیرت و اضطراب میں مبتلا ہو گیا تھا… اسے یہ لب و لہجہ، خاص طور پر دلہن کے روپ میں، بالکل ناگوار محسوس ہوا۔
“نہیں، میں تو ہمیشہ اس سے بھی زیادہ بولتی ہوں… آج کم بول رہی ہوں کیونکہ میں دلہن ہوں نا، تو دلہن زیادہ بولتی ہوئی اچھی نہیں لگتی۔”
یارم کے تنزیہ بھرے الفاظ وہ ابھی ہوا میں اڑا رہی گئی…
وہ ٹھہری ایزل جسے صرف اپنی مرضی کی بات سمجھ آتی تھی، باقی سب کچھ، جو اگلے بندے نے کہا، اسے بالکل پرواہ نہیں تھی، اور یارم کے ساتھ بھی وہ یہی کر رہی تھی۔

“مطلب کہ تم اس سے بھی زیادہ بولتی ہو؟”
یارم نے حیرانی سے پوچھا۔

“جی الحمدللہ، میں تو ہمیشہ اس سے بھی زیادہ بولتی ہوں…
آج کم بول رہی ہوں کیونکہ میں دلہن ہوں نا، تو دلہن زیادہ بولتی ہوئی اچھی نہیں لگتی۔”
وہ بڑے فخر اور نرمی کے ساتھ بتا رہی تھی۔

یارم تو بس حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا…
جو گھونگٹ میں پٹ پٹ پٹ بولے جا رہی تھی۔

“مجھے لگتا ہے آپ کو زیادہ بولنا اچھا نہیں لگتا…
تو فکر کی ضرورت نہیں، آپ کی فرمانبردار بیوی آپ کے حصے کا بھی بول لیا کرے گی…”
وہ یارم کی بات سننے کا انتظار کیے بغیر خود ہی بول رہی تھی۔

“کھڑے کیوں ہیں؟ پلیز، اب میرا گھونگٹ اُٹھا دیں،
ورنہ میرا دم گھٹ جائے گا… اور میں نے چلانا شروع کر دینا ہے!”

What???
یارم کے چہرے پر حیرت اور بے بسی ایک ساتھ چھا گئی تھی۔

“محترمہ، جب کسی کا دم گھٹتا ہے تو بندہ بے ہوش ہو جاتا ہے، چکرا کر گر جاتا ہے…
یہ چلانے والا ٹیلنٹ تو میں نے پہلی بار سنا ہے۔”

“ڈی ایس پی صاحب، آپ کی شادی ایزل خان سے ہوئی ہے…
تو آپ کو ایسے بہت سے ٹیلنٹ دیکھنے کو ملیں گے، جو آج سے پہلے نہ کبھی سنے ہوں گے، نہ دیکھیں ہوں گے۔”
“پلیز، اپنے ٹیلنٹ آہستہ آہستہ مجھ پر ظاہر کریں…
میں سب ایک ساتھ برداشت نہیں کر سکوں گا۔”
یارم افسوس زدہ چہرہ بنا کر بول رہا تھا۔

“پلیز، میرا گھونگٹ اُٹھائیں… کہاں جا رہے ہیں آپ؟”
یارم اُلٹے قدموں روم سے باہر جانے لگا،
ایزل نے اونچی آواز میں کرارا انداز اختیار کرتے ہوئے کہا۔
یارم نے گہری سانس لی، مٹھییں جوڑیں، غصے اور اضطراب کو ضبط کیا…
پھر پلٹ کر دیکھا اور تیز قدموں سے واپس بیڈ کے پاس آیا۔
گھونگٹ دونوں طرف سے اُٹھا کر پیچھے پھینک دیا۔

“گڈ… ہو گیا، اُٹھا دیا میں نے گھونگٹ۔
اب روم میں تمہاری اونچی آواز نہیں آنی چاہیے…
مجھے چڑ ہے اونچا بولنے والے لوگوں سے، اور عورتوں کا اونچا بولنا تو مجھے زہر لگتا ہے۔
چپ چاپ چینج کر کے سو جاؤ، میں ضروری کام کر کے روم میں آجاؤں گا…
اور یہ بات روم سے باہر نہیں جانی چاہیے۔”
وہ انگلی اُٹھا کر، ایک ایک لفظ چبا چبا کر بول رہا تھا…
“او مائی گاڈ… غصے میں تو آپ اور بھی ہاٹ لگتے ہیں…”
ایزل نے دونوں ہاتھ اپنے گالوں پر رکھ دیے۔ آنکھوں میں ایک عجب سی چمک تھی، جیسے ابھی ابھی کوئی نیا خزانہ دریافت کیا ہو۔

“آپ ایک کام کیا کیجیے… آپ میرے ساتھ ہمیشہ ایسے ہی غصے سے بات کیا کریں۔ قسم سے بہت اچھے لگتے ہیں آپ، جب ایٹیٹیوڈ سے اپنی بیوی سے بات کرتے ہیں…”
وہ تو خوشی سے جیسے پھولے نہیں سما رہی تھی۔ یارم کا غصہ اپنی جگہ، مگر اس کے سامنے ایزل کی یہ دلی خوشی… منظر خود ہی سانس لیتا ہوا سا لگ رہا تھا۔

“اے میرے اللہ… مجھے صبر دینا، یہ کیا چیز میرے پلے پڑ گئی ہے…”
وہ ایزل کو گھورتے ہوئے نفی میں سر ہلاتا ہوا، تیزی سے قدم اٹھاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔

ہائے… کتنے ڈیشنگ ہیں یار!
ایزل نے ٹھنڈی آہ بھری۔

“مگر بھلا، ایسے کون اپنی دلہن کو چھوڑ کر کمرے سے جاتا ہے؟”
وہ بچوں کے جیسا سردہ چہرہ بنا کر خود سے بولی…

ایزل… ایزل…
“تجھے تو اپنی قسمت پر رشک کرنا چاہیے…
یار، اس بندے کو دیکھنے کے لیے تو تم تڑپ رہی تھی۔
وہ تو ہمیشہ کے لیے تمہارا ہو چکا ہے…
اب تو اس کے دن بھی تمہارے، اور راتیں بھی…”
کیا ہوا اگر ابھی کے لیے باہر چلا گیا، لوٹ کر تو یہاں ہی آئے گا۔
وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے شرما گئی، اپنے بیڈ پر پیچھے کو گرتی اور آنکھیں بند کر لی۔
کون کہہ سکتا تھا کہ یہ محترمہ پہلے دن کی دلہن ہے؟
مگر وہ ایزل تھی، جس سے کوئی بھی توقع کی جا سکتی تھی…
سنجیدہ یارم اور چنچل ایزل کی زندگی میں کیا کیا ہنگامے لگیں گے، دیکھنے کے قابل ہوں گے۔

یارم کا دل محبت میں ٹوٹا ہوا تھا…
اب ایسے میں ایزل اس کے لیے مرہم بن کر آئی ہے یا درد، یہ تو کہنا مشکل تھا،
مگر دونوں کی جوڑی ، جیسے نرم ہوا میں لہراتے دو پھول، واقعی بہت پیاری لگ رہی تھی۔

          ═══════❖═══════

انشاء نے ایزل کو روم میں چھوڑا اور ابھی اپنے روم میں داخل ہی ہوئی تھی کہ فون بج اُٹھا…
کسی انجان نمبر سے میسج آیا تھا۔

یارم نے انشاء کو ان نون نمبر اُٹھانے کی اجازت نہیں دی تھی،
اس لیے تین چار بار فون بجنے کے باوجود انشاء نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔
فون کو سائلنٹ پر رکھتے ہوئے وہ چینج کرنے چلی گئی،
میک اپ ریموو کیا، بالوں کو برش کیا، ہاتھوں پر موسچرائزر لگایا،
پھر فون اُٹھا کر بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔

مگر فون کی سکرین پر میسج نوٹیفکیشن دیکھ کر وہ دوبارہ فون کی جانب متوجہ ہو گئی…
نہ چاہتے ہوئے بھی، انشاء نے واٹس ایپ پر آئے ہوئے میسج کو سین کر لیا۔

“اسلام علیکم مس انشاء خان، بہت روڈ ہیں آپ!!
اب تو ہم آپ کے لیے انجان نہیں، رشتہ دار بن چکے ہیں، پھر بھی آپ نے پورے فنکشن میں ہمیں بہت اچھی طرح سے اگنور کیا…
جان سکتا ہوں کیوں؟?”

انشاء گھبرا گئی…
آج تک اسے کبھی اس طرح کا میسج نہیں ملا تھا،
اور اس پر جان چھڑکتا یارم ایسے معاملات میں بہت سخت تھا۔

ایک پل کے لیے تو گھبراہٹ کے مارے فون اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا…
پھر گھبراہٹ میں اٹھ کر بیٹھتے ہوئے اس نے فون اٹھایا اور میسج غور سے پڑھا، جیسے یقین کرنا چاہتی ہو کہ کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہو گئی۔

دوبارہ دیکھنے پر بھی وہی سب کچھ تھا،
مگر وہ جان چکی تھی کہ میسج کس کا ہے…
صارم خان کی نظریں پورے فنکشن میں اس پر مرکوز رہی تھیں،
تو وہ کیسے بھول سکتی تھی کہ یہ میسج کس نے بھیجا ہے۔

پھر بھی، تسلی کرنے کے لیے اس نے رپلائی کیا…
اور یہ اس کی جانب سے بڑی ہمت کا کام تھا۔

“میں کسی سے بات ہی نہیں کرتی!!”
انشاء نے فون پر دو ٹوک اور سخت لہجے میں ٹائپ کیا۔

“…مگر مجھ سے تو کرنی پڑے گی!!”
سارم نے فون پر تحمل سے جواب دیا۔

“وجہ؟ میں نے آپ کا کوئی قرضہ دینا ہے؟
میری کوئی مجبوری نہیں آپ سے بات کرنا!!”
انشاء کے ہاتھ کانپ رہے تھے، لب ہلکے لرزاے…

“آپ کی مجبوری نہیں ہے مجھ سے بات کرنا،
مگر کسی کا دل رکھنے کے لیے اگر تھوڑی دیر بات کر لیں گی تو آپ کو ثوابِ دارین حاصل ہوگا!!”
سارم نے فون پر لکھا، ٹائپنگ میں ہلکی سختی اور ایمانداری تھی۔
“میرے پاس فضول باتوں کے لیے ٹائم نہیں ہے،
اور اب میں آپ کو بلاک لسٹ میں ڈالنے والی ہوں…
آپ کو آپ کے کسی میسج کا جواب نہیں ملے گا!!”
انشاء نے میسج بھیجتے ہی سارم کو بلاک کر دیا…
اسے اپنے لالہ کی عزت بہت عزیز تھی، اور اس کے لیے یہ سب کچھ سب سے پہلے تھا۔

یارم اس پر جان چھڑکتا تھا،
انشاء کے لیے اس کے لالہکی عزت سب سے اہم تھی۔
اگر دل کی سنتی، تو نہ تو صارم سے اتنا روڈلی بات کرتی اور نہ ہی اسے بلاک کرتی…
کیونکہ پہلی نظر میں صارم بھی اسے اچھا لگا تھا۔
صارم وہ پہلا مرد تھا جو پہلی ملاقات میں ہی انشاء کی دھڑکنیں چھو گیا۔

مگر صارم کے ساتھ بے تکلف ہو کر بھی وہ اپنے لالہ کی بنائی ہوئی ریڈ لائن پار نہیں کرنا چاہتی تھی۔
فون رکھ کر وہ گہری سانس لیتی ہوئی سونے لگی… کہ فون پھر بجا۔
سکرین پر میسج نوٹیفکیشن…

“پلیز مجھے بلاک مت کیجئے گا، ورنہ آپ کے بھائی کی جو ابھی ابھی شادی ہوئی ہے، اس میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔”

یہ میسج پڑھ کر انشاء گھبرا گئی…
یہ نیو نمبر تھا، اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ نمبر بھی سارم کا ہے۔بلکہ میسج کے انداز سے کنفرم تھا کہ یہ سارم کا ہی نمبر ہے۔

“کون؟؟شاہ نے ٹائپنگ میسج کیا۔

“پلیز، ابھی کچھ دیر پہلے تعارف کروایا ہے، دوبارہ نہیں کروا سکتا…مجھے اس نمبر سے ان بلاک کریں، اور یہ نمبر بھی میرا ہے…اور اگر پہچان میں نہیں آرہا تو دوبارہ بتا دیتا ہوں۔

“مائی سیلف صارم خان…سمگلر، چور یا ڈاکو نہیں ہوں،
جو آپ میرے ساتھ ایسا بیہیویئر کر رہی ہیں!!”

سارم کے ٹیکسٹ کے ساتھ ہی وائس میسج بھی آیا،
اس کا لہجہ سخت تھا، شاید اسے انشاء کا روح بیہیویئر اور بلاک کر دینا برا لگتا ہے۔۔

“آپ مجھے کیوں فون کر رہے ہیں؟ پلیز، مجھے آپ سے بات نہیں کرنی!!”
ٹائپنگ کرتے ہوئے….انشاء کے ہاتھ کانپ رہے تھے…مگر اصل گھبراہٹ کا شکار وہ تب ہوئی جب اسی نمبر سے کال آنے لگی۔۔
سارم کی کال کو دیکھ کر…تھوک جیسے گلے میں اٹک گئی تھی، سانس جیسے رکنے لگا۔
اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ کال پر کسی مرد سے بات کر سکے۔
وہ بہت شائے سی لڑکی تھی،
اوپر سے یارم کے رولز اور پابندیوں نے اسے اور بھی ڈرپوک بنا دیا تھا۔
فون پر مسلسل بیل بج رہی تھی
مگر انشاء نے فون سائلنٹ پر رکھ کر نہیں اٹھایا

“پلیز… مس ….انشاء فون اُٹھائیں فون سے نکل کر آپ کو کھا نہیں جاؤں گا
برائے مہربانی ایک بار فون اُٹھا کر میری بات سنیں”

فون نہ اُٹھانے پر صارم خان کا وائس میسج آیا

انشاء نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے بڑی مشکل سے کال ریسیو کی اور فون کان سے لگایا

“تھینک یو سو مچ کہ آپ نے میری کال اُٹھائی میں بہت شکر گزار ہوں اس کے لیے”

“آآ آپ آپ نے مجھے کال کیوں کی؟”
انشاء نے بڑی ہمت سے پوچھا

“آپ سے بات کرنے کے لیے کال کی ہے مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے”
“اگر مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی… تو کافی گھبرائی ہوئی تھی…

“پلیز ریلیکس ہو جائیں، میں کوئی آوارہ نہیں ہوں جس سے آپ کو کسی بھی طرح کا خطرہ لاحق ہوگا
آپ بے فکر رہیں”
صارم نے فون پر انشاء کی گھبراہٹ بھانپتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا، اور ہر لفظ میں یقین دہانی کروائی کہ وہ محفوظ ہے۔

“آپ کیسے ہیں… اس بات سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔
اگر لالہ کو پتہ چل گیا کہ مجھے کسی لڑکے نے کال کی ہے ….اور میں نے وہ کال رسیو….بھی کی ہے تو لالہ میری جان لے لیں گے۔
پلیز دوبارہ مجھے فون مت کیجئے گا۔”
انشاء کی آواز میں کپکپاہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔ گھبراہٹ اس کے ہر لفظ پر لرز رہی تھی اور صارم خان اس لرزش کو پوری شدت سے محسوس کر رہا تھا۔
“استغفراللہ… تمہارے لالہ کیا کوئی جلاد ہیں جو تمہاری جان لے لیں گے؟
وہ بھی صرف ایک فون کال سننے کی وجہ سے؟
دیکھنے میں تو تمہارے لالہ اتنے بُرے نہیں لگتے…”

صارم کے لہجے میں حیرت بھی تھی اور ہلکی سی خفگی بھی، جیسے اسے واقعی سمجھ نہ آرہی ہو کہ ایک فون کال پر اتنا خوف کیوں۔

“خبردار… جو ہمارے لالہ کو بُرا کہا!!
میرے لالا ورلڈ کے بیسٹ لالا ہیں۔۔
بس ان کو اچھا نہیں لگتا کہ ان کی بہن کسی غیر مرد، غیر محرم سے بات کرے
اپنی بہن کی حفاظت کرنا غلط ہے… ایسا کہاں لکھا ہے؟!”
انشاء نے غصے سے فون پر بولتے ہوئے اپنے بھائی کا دفاع کیا۔

“او مائی گاڈ…
سوری پلیز معاف کر دیجئے، میں نے آپ کے لالہ کی شان میں گستاخی کی…
آئندہ ایسی گستاخی کبھی نہیں ہوگی، اس بات کا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔۔”

صارم خان نے مسکراتے ہوئے کہا، کیونکہ جس انداز سے انشاء نے اپنے بھائی کا دفاع کیا تھا، کوئی نہیں جانتا تھا کہ اگلے ہی پل وہ پھر سے اسے بلاک کر دے گی۔

“ہمیں آپ کے وعدے کی کوئی ضرورت نہیں
آئندہ ہم آپ سے بات ہی نہیں کریں گے…
بات کریں گے تبھی تو آپ ہمارے لالہ کے بارے میں کچھ غلط بولیں گے نا۔۔”
انشاء نے دو ٹوک اور ختم کرنے والے انداز میں کہا۔

“نہیں مس انشاء، باسق خان، بات تو آپ کو ہم سے کرنی پڑے گی۔۔”
صارم خان نے بہت ٹھہراؤ اور سنجیدگی سے کہا۔

“کیوں، ہم نے آپ کا قرضہ دینا ہے جو ہمیں اپنی مرضی کے بغیر آپ سے بات کرنی پڑے گی؟”

“نہیں، قرضہ نہیں دینا
مگر آپ نے جو میری قیمتی چیز چرائی ہے، یا تو اسے ایمانداری کے ساتھ واپس کریں
یا پھر مجھ سے بات کریں
یہ فیصلہ آپ کا ہوگا۔۔”

“استغفراللہ… لا حول ولاقوۃ…
ہم آپ کو ایسے لگتے ہیں جو آپ کی کوئی چیز چرائیں گے؟
ہم تو سیدھے واش روم میں گئے تھے، وہاں اپنا ڈریس واش کیا اور سیدھے واپس روم سے باہر نکل آئے
قسم سے ہم نے وہاں رکھی ہوئی کسی چیز کو ہاتھ تک نہیں لگایا
ہم بھلا آپ کی کوئی چیز کیوں چورائیں گے؟
اللہ کا دیا ہمارے پاس سب کچھ ہے، یہ چوریاں کرنا ہمارے ماں باپ نے ہمیں نہیں سکھایا۔۔۔”

انشاء نے غصے سے چہرہ لال کرتے ہوئے، آنکھوں میں آگ لیے، ہر لفظ زور سے ادا کیا، تاکہ صارم پر اس کی ناراضگی اور دفاع کا اثر صاف محسوس ہو۔

“چوری تو آپ نے کی ہے،
وہ بھی میری بہت قیمتی چیز…
اگر نہیں مانیں گی تو میں آپ کو منوا کر چھوڑوں گا۔۔”
صارم کی آواز میں نرمی تھی، مگر ہر لفظ میں وقار اور ایک ہلکی سی عاشقانہ شدت چھپی ہوئی تھی، جو اس کے دل کی گہرائی سے نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔

“آپ کو شرم نہیں آتی بہن کے سسرال والوں پر ایسی تہمت لگاتے ہوئے؟
میں نے آپ کی کوئی چیز نہیں چرائی، اس لیے مجھ پر جھوٹا الزام مت لگائیں۔
اگر یہ بات میں نے اپنے لالہ کو بتا دی تو وہ آپ کو اُٹھا کر تھانے لے جائیں گے اور اچھی خاصی درگت بنا دیں گے!”

انشاء واقعی نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ صارم کس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
اس کا ذہن سادہ تھا، بالکل ویسا جیسے گھر کی چار دیواری میں پل کر بڑی ہونے والی لڑکیوں کا ہوتا ہے۔
دنیا داری، اشارے، نازک جملوں کے مطلب… یہ سب اس کے مزاج میں شامل ہی نہیں تھا۔
صارم جو کہہ رہا تھا، وہ اس کے معصوم ذہن کے دائرے میں آ ہی نہیں رہا تھا۔

“اچھا… جی… کیا جنگل کا قانون ہے؟ جو تمہارا لالہ مجھے بغیر کسی قصور کے اُٹھا کر لے جائیں گا اور، میری درگت بھی بنا دے گا؟
چوری پولیس والے کی بہن نے کی اور سزا مجھے کیوں ملے گی؟”

صارم کو انشاء کے غصے پر بے حد مزہ آرہا تھا۔
انشاء کی آنکھوں میں تپش تھی، مگر لہجے میں وہی سادگی، وہی بھولپن…
اور یہ سب وہ صرف اس کی آواز سے ہی محسوس کر رہا تھا… فون کے دوسری طرف بیٹھ کر، جیسے انشاء کی معصومیت اس تک پورے رنگوں کے ساتھ پہنچ رہی تھی۔
اور وہ اس بات سے بالکل انجان تھی کہ صارم خان کو وہ پہلی ہی نظر میں دل سے اچھی لگی تھی۔

صارم اس کی ہر بات، ہر ردِعمل ایسے سن رہا تھا جیسے کوئی نایاب موسیقی کی دھن فون کے دوسری طرف ر سے آرہی ہو۔
نہ اس کی ناراضی اس پر بھاری تھی، نہ اس کی دھمکیاں… بلکہ وہ تو اس کے غصے کے پیچھے چھپی معصومیت میں ہی کھویا ہوا تھا۔

“بتائیں تو صحیح… آخر کیا چوری کیا ہے میں نے آپ کا؟ فضول میں مجھ پر الزام مت لگائیں۔”انشاء کو عجیب گھبراہٹ اور الجھن سی ہونے لگی تھی۔

“اپنے دل سے پوچھو… کیا تم نے میری کوئی قیمتی چیز چرائی ہے؟”

صارم کا لہجہ اتنا نرم اور گہرا تھا کہ کوئی بھی سمجھ جاتا کہ اس کا اشارہ دل کی طرف ہے۔ لیکن یہ شاعرانہ باتیں انشاء کی سمجھ سے بالکل باہر تھیں۔ وہ تو ایسے الفاظ کے مطلب جاننے کی عادی ہی نہیں تھی…
“میرا دل کچھ نہیں بولتا” انشاء نےبات ہی ختم کر دی۔
“کیوں… گونگا ہے؟”
صارم کی دبی دبی ہنسی کی آواز اس کے لہجے میں صاف چھلک رہی تھی، اور انشاء وہ ہلکی سی مسکراہٹ بھی محسوس کر چکی تھی۔

“آپ کو جو بھی بات کرنی ہے، میرے لالہ سے کیجئے گا۔ وہی آپ کو منہ توڑ جواب دیں گے!”

انشاء سچ میں غصے سے بھر چکی تھی، اس کے لہجے میں اب وہی سختی تھی جو وہ عام طور پر بہت کم دکھاتی تھی۔

“پلیز اس وقت آپ اپنے لالہ کو اس بات میں انوالو مت کریں
ورنہ ہماری تازی تازی بنی ہوئی رشتہ داری میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کل ولیمے کے فنکشن پر آپ تھوڑی دیر کے لیے مجھ سے مل لیجئے گا
میں آپ کو بتا دوں گا کہ آپ نے میری کیا قیمتی چیز چرائی ہے
آپ مجھے وہ واپس دے دیں، بات ختم ہو جائے گی۔
اگر بات گھر والوں کے بیچ میں آئی تو دونوں فیملیز میں تناؤ پیدا ہو جائے گا۔
میرے خیال سے آپ اتنی تو سمجھدار ہیں کہ اپنے بھائی کی نئی نئی ہوئی شادی شدہ زندگی میں مسائل پیدا نہیں کریں گی۔۔۔”

صارم کی آواز فون میں ہلکی سنجیدگی اور وقار کے ساتھ آ رہی تھی،
ہر لفظ میں ہلکی سی محبت اور تھوڑی سی پریشانی چھپی ہوئی تھی۔
وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کہیں انشاء اپنی معصومیت میں جا کر واقعی اپنے بھائی کو نہ کچھ بتا دے،
یہ خیال اسے تھوڑا بے چین کر رہا تھا۔

انشاء نے فون کان سے لگایا، ہاتھ تھوڑے لرز رہے تھے،
دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، سانس آہستہ آہستہ چھوٹے وقفوں میں جا رہی تھی۔
وہ سمجھ رہی تھی کہ صارم واقعی سنجیدہ ہے،
مگر اس کے ذہن میں سب کچھ ابھی بھی تھوڑا پیچیدہ لگ رہا تھا۔
مگر وہ فون تھامے خاموش بیٹھی رہی،
ہر لفظ پر کان لگا کر سنتی، دل کی دھڑکن میں چھپی گھبراہٹ محسوس کر رہی تھی۔
انشاء کو یارم کی بات صحیح لگی،
کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کا لالہ پہلے ہی اس شادی سے خوش نہیں تھا۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ اپنی وجہ سے مسائل بڑھیں یا اس کے بھائی کا رشتہ خراب ہو۔
اس خیال سے اس کے دل میں ہلکی سی فکر اور محتاطی چھائی ہوئی تھی،
اور وہ خاموشی سے فون پر صارم کی بات سنتی رہی،
اپنے اندرونی خوف اور ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے۔آخر فیصلے پر پہنچ گئی ۔

“ٹھیک ہے، ڈن ہو گیا
آپ کل مجھ سے ملیں اور بتائیں میں نے آپ کا کیا چوری کیا ہے اور بات ختم
اور اللہ کے حکم سے آپ مجھے چور ثابت نہیں کر سکیں گے
جب میں نے کوئی چوری کی ہی نہیں تو پھر یہ فضول کا الزام آپ کے منہ ہی پڑے گا۔
اور کل کے بعد دوبارہ آپ کبھی مجھ سے بات مت کیجئے گا۔۔۔“

انشاء غصے سے بولتے ہوئے، بغیر صارم کا جواب سنے، فون ٹھک سے بند کر دیا۔

“عجیب انسان ہے… دو منٹ روم میں کیا چلی گئی، الزام لگا دیا کہ میں نے چوری کر لی…
عجیب پاگل انسان ہے، کل اس سے مل کے پوچھوں گی کیا چرایا ہے میں نے…”

وہ غصے سے بڑبڑاتے ہوئے فون سائیڈ پر رکھ چکی تھی۔
انشاء کے پلے بالکل نہیں پڑا تھا کہ صارم کیا کہنا چاہتا تھا،
مگر اس کے دل میں ایک عزم جڑ گیا تھا: کل جا کر وہ ہر بات صاف کرے گی،
اپنی بے گناہی ثابت کرے گی اور صارم کی غلط فہمی دور کرے گی۔
وہ اپنے اندر چھپی ناراضگی اور تحفظ کے جذبے کے ساتھ،
گہری سانس لے کر اپنے غصے کو سانسوں میں چھپاتے ہوئے سو گئی۔
═══════❖═══════

باسق خان کےکمرے میں ہلکی سنہری روشنی تھی، رات کے تقریبا ساڑھے دس بج رہے تھے۔گھر کے باہر اندھیرا پوری طرح سے پھیل کر راج کر رہا تھا۔شادی کی تھکن کے بعد اپنا کمرہ باسق خان اور رتبہ جیسے جنت لگ رہا تھا۔
باسق خان کپڑے تبدیل کر کے آئے اور آ کر بیڈ پر بیٹھ گئے۔ تھکن اب جیسے پورے وجود میں اتر چکی تھی۔ انہوں نے سر بیڈ کے سرہانے سے ٹکا لیا اور ایک گہری سانس لی۔

“یہ دوائی کھا لیں، باسک… آپ نے دوپہر والی خوراک بھی نہیں لی۔” رتبہ نے دوا تشتری میں رکھ کر ان کے آگے رکھی اور ساتھ ہی سائیڈ ٹیبل سے احتیاط سے ڈھکا ہوا پانی کا گلاس اٹھا کر سامنے رکھ دیا۔

باسق خان نے مسکراتی نظروں سے رتبہ کی طرف دیکھا، پھر پانی لے کر دوا منہ میں ڈال لی۔ اولاد جوان ہو گئی تھی، مگر رتبہ آج بھی وہی فرمانبردار اور احترام کرنے والی بیوی تھی، جو شوہر کی ہر چھوٹی بات کا خیال رکھتی تھی۔

“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟” رتبہ نے پوچھا اور پاس پیڈ پر بیٹھ گئی۔
باسق خان نے اس کا ہاتھ تھام لیا، پانی کا گلاس رکھ دیا، اور نرمی سے بولا، “تمہیں دیکھ کر مجھے مسکرانے کی کوئی وجہ نہیں چاہیے۔ بس سوچ رہا تھا… اولاد جوان ہو چکی ہے، ہم نے زندگی کا ایک اچھا وقت ساتھ گزار لیا ہے، مگر میری رتبہ کو آج بھی میری ہر چھوٹے بڑے کام کی فکر ہوتی ہے۔ بس اپنی اسی خوش قسمتی پر مسکرا دیا تھا۔”
باسق کی آنکھوں میں آج بھی وہی پرانا، جوانی والا پیار جھلک رہا تھا۔

رتبہ نے نظریں جھکا کر مسکراہٹ چھپائی، “آپ کی خدمت کرنا، آپ کا خیال رکھنا میرا فرض ہے۔ اس میں اتنا لمبا چوڑا سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے، باسق خان صاحب…”

باسق خان ہنس دیا، “اچھا جی، نہیں دیتا۔ ورنہ سرٹیفکیٹ تمہاری شرم و حیا ہی کو دینا پڑے گا، جو اتنے سالوں میں بدلی نہیں۔”

دونوں مسکرا اٹھے۔

“میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ ایزل اور آریان کی جوڑی بھی ہماری طرح محبت سے قائم رہے۔ وہ بھی سالوں بعد اپنے گزرے وقت کو ایسے ہی خوشی اور پیار سے دیکھیں۔”

“انشاءاللہ ایسا ہی ہوگا۔ ایزل بہت پیاری اور خوش مزاج بچی ہے، وہ ہمارے سنجیدہ بیٹے کی زندگی میں اپنی محبت کے رنگ بھر دے گی۔ اس نے جو اپنے دل میں عبیرہ نام کا روگ پال لیا ہے ،وہ بھی جلد ہی مٹ جائے گا ۔”عبیرہ کے نام پر باسق خان کا لہجہ کڑوا سا ہو گیا۔
“انشاءاللہ، اللہ کرے ایسا ہو…میری دعا ہے کہ جلد ہی ایزل یارم کا دل جیتنے میں کامیاب ہو جائے۔” رتبہ نے پورے دل دعا دی۔ مگر دونوں بے خبر تھے کہ اسی وقت یارم طوفان بن کر ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔

═══════❖═══════

یارم خاموشی سے قدم بڑھا رہا تھا، رات کے ساڑھے 10 سے بھی سوئی آگے کو بڑھ چکی تھی۔زیادہ مہمانوں کو انوائٹ بھی نہیں کیا گیا تھا اور جو آئے تھے وہ بھی اپنے گھروں کو جا چکے تھے کوئی خاص ایک آدھا مہمان تھا وہ بھی اپنے کمروں تک محدود ہو گیا تھا راہداری میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔یارم خان تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اپنے کمرے سے نکل کر اپنے ماں باپ کی کمرے کی جانب جا رہا تھا۔
ہر قدم کے ساتھ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی، اور اندر ایک آگ جل رہی تھی جسے دبانا ناممکن لگ رہا تھا ۔
یارم کو اس وقت بالکل مناسب نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کے آرام میں خلل ڈالے،اس نے آج سے پہلے ایسی حرکت کبھی نہیں کی تھی مگر اپنے سامنے ایزل کو بیوی کے روپ میں دیکھ کر جو غصہ اسے چڑھا ہوا تھا وہ اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
وہ اپنے بابا اور مورے سے مل کر اس بات کا جواب لینا چاہتا تھا کہ پوری دنیا میں ان کو صرف ایزل ہی ملی تھی اپنی بہو بنانے کے لیے۔۔۔
ٹھک ٹھک ٹھک!!
ہاتھ کی پشت رکھتے ہوئے، دو انگلیوں سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
اپنی طرف سے پوری کوشش کی گئی تھی کہ ادب اور احترام کا دائرہ برقرار رہے اور ایسی گستاخی نہ ہو جس سے ماں باپ کا سکون خراب ہو،
مگر پھر بھی کھٹکھٹتی آواز اس کے اندر کی تپش کو چھپانے میں ناکام رہی۔

“کون؟”باسق خان مدھم سی آواز دروازے سے باہر آئی شاید نیند کا پہلا جھونکا ہی ابھی محسوس کیا تھا۔

“بابا، میں یارم!”

“سوری بابا، آپ کو اس وقت پریشان کیا… مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے…”

“جی جی بیٹا، آجاؤ۔ تمہیں اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے…”

باسق خان جو ابھی نیند کے پہلے جھونکے میں ہی گئے تھے، یارم کے اچانک آنے پر پریشان ہو گئے اور اُٹھ کر بیٹھ گئے۔
رتبہ خان بھی ‘اللہ خیر کرے’ کہتی ہوئی اُٹھ کر بیٹھ گئیں۔
یارم دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا۔

“سوری، میں نے آپ کو اس وقت ڈسٹرب کیا…”

دروازہ کھول کر اندر آتے ہی یارم نے شرمندہ لہجے میں کہا، اس کے لہجے میں وہ شرمندگی تھی جو اپنے ماں باپ کے آرام کو بے سکون کرنے پر فطری طور پر پیدا ہوتی ہے۔
اس کے قدم دروازے میں تھوڑے جھکے ہوئے، محتاط اور ادب سے بھرے ہوئے تھے، ہر قدم میں اس کا دل دھڑک رہا تھا۔
آنکھیں نیچی، ہونٹ دبائے، اور ہاتھ دروازے کی پشت پر رکھی ہوئی دو انگلیوں سے تھامے ہوئے، وہ اپنی اندرونی اضطراب اور احترام کو ظاہر کر رہا تھا۔

باسق خان کی نظریں اس پر جم گئی تھیں، حیرت اور فکر دونوں میں، اور رتبہ خان کی آنکھیں نرمی اور دعا سے بھری ہوئی تھیں۔

یہ لمحہ خاموشی اور کشمکش سے بھرا تھا، یارم کے ادب، احترام اور اندرونی احساسات ہر حرکت میں واضح تھے۔

وہ کمرے کے اندر آہستہ آہستہ بڑھا، ہر پل میں شرمندگی اور ذمہ داری کا احساس لیے ہوئے، دل میں اپنے ماں باپ کی عزت اور سکون کی فکر لیے ہوئے۔ان کے قریب آکھڑا ہوا تھا۔

“کوئی بات نہیں بیٹا، تمہارے ماں باپ کا کمرہ ہے، تم جب چاہو آ سکتے ہو، مگر سب خیریت تو ہے؟”

رتبہ نے اپنے بیٹے کو شرمندہ سا دیکھا اور محبت بھری نظروں سے کہا۔
“تمہاری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے، یار جب چاہو تم آ سکتے ہو… سب خیریت تو ہے؟”
باسق خان نے اپنے بیٹے کے اترے ہوئے، غصے والے چہرے کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

“بابا، مجھے ایک بات کا جواب چاہیے… آپ کو میرے لیے یہی لڑکی ملی تھی؟”

یارم کی نظریں اپنے ماں باپ پر جمی ہوئی تھیں، جیسے وہ فوراً اپنے سوال کا جواب جاننا چاہتا ہو۔ دل میں بے صبری اور اور چہرے پر اندرونی اضطراب صاف محسوس ہو رہا تھا۔
باسق خان اور رتبہ خان حیرت اور فکر کے ساتھ اسے دیکھ رہے تھے، کمرے میں خاموشی اور سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔

کیوں بیٹا، ایزل میں کیا خرابی ہے؟ اتنی پیاری، خوبصورت، چنچل سی بچی ہے… ایسا کیا کہہ دیا اس نے کہ تم پہلے دن ہی اتنا آگے بگولا ہو کر بول رہے ہو؟”

باسک خان سے پہلے رتبہ بول اُٹھی، آنکھوں میں فکر تھی ۔

“ماشاءاللہ اماں، میں نے آپ کو کس دن کہا کہ مجھے چنچل سی بیوی چاہیے؟ کم سے کم مجھے میری محبت نہیں دلا سکتے تھے، تو میرے مزاج کی بیوی تو میرے لیے لے کر آتے…”

یارم اس وقت فل غصے میں تھا، ورنہ وہ نہ تو اپنے ماں باپ سے اونچی آواز میں بات کرتا، اور نہ ہی اس کی فطرت تھی کہ ہر چھوٹی چھوٹی باتوں کو طول دیتا۔

اس کے چہرے پر سختی اور آنکھوں میں بھڑکتی آگ واضح تھی، ہر لفظ اس کے اندرونی اضطراب اور انا کو ظاہر کر رہا تھا۔

باسک اور رتبہ حیرت اور تھوڑی فکر کے ساتھ اسے سن رہے تھے، کمرے میں ایک سنجیدہ اور دباؤ والا سکوت چھایا ہوا تھا۔اور سکوت میں یارم کی آواز گونج رہی تھی۔

“یارم، لہجہ دھیما رکھو…”رات کا وقت ہے تم کس طرح سے بات کر رہے ہو۔باسق خان کی روعبدار اواز آہستہ سے گونجی۔

“سوری با با۔۔۔
یارم ‘سوری’ کہتے ہوئے نظر جھکا گیا۔
یہی تو خوبصورتی تھی یارم کی شخصیت میں کہ وہ اپنے ماں باپ کا حد سے زیادہ فرمانبردار بیٹھا تھا۔

آج کے دور میں، جہاں اولاد ماں باپ کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتی، اس دور میں یارم خان جیسا بیٹا ہونا اللہ کی طرف سے انمول تحفہ تھا۔ یارم کے لیے آج بھی ماں باپ کے حکم سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔

“یارم شاید تم بھول رہے ہو… ہم نے تم سے کہا تھا کہ ایک بار جا کر ایزل سے مل لو۔
بار بار کہا تھا، مگر تم نے خود انکار کیا تھا۔
اب آ کر ہمیں الزام دینے کی کیا ضرورت ہے؟”

باسق خان کو یارم کا یوں اچانک آ کر اس لڑکی پر بات چھیڑ دینا اسے ناگوار گزرا تھا۔
اس کے چہرے کے تاثرات سخت ہو گئے تھے۔

“اور بیٹا، اپنی بیوی کے بارے میں ایسے ایک دم سے باہر آ کر کچھ بھی بولنا اچھی بات نہیں ہے۔
ایزل اپنے گھر کی لاڈلی بیٹی ہے اور آنکھوں میں ہزاروں خواب لے کر اپنے گھر کو چھوڑ کر تمہارے لیے تمہارے بھروسے آئی ہے۔
اگر کوئی کمی پیشی ہے بھی تو وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
رتبہ کا لہجہ سنجیدہ اور نرم تھا، اور مقصد صرف اپنے بیٹے کو سمجھانا تھا۔
ٹھیک ہو گیا…
آپ کے پاس تو ہر سوال کا جواب موجود ہے۔
میں سمجھ گیا کہ اس میں بھی میری ہی غلطی ہے۔۔۔”

یارم نے اپنے ماں باپ کے دلائل اور ناراضگی کو محسوس کرتے ہوئے،
سخت اور ٹوٹے ہوئے لہجے میں یہ کہا،
اس کے الفاظ میں غصے اور بے چینی صاف سنائی دے رہی تھی۔

“یارم، تمہارا بیہیویئر مجھے بالکل سمجھ میں نہیں آرہا۔۔۔”
باسق خان نے سرد نگاہوں سے اپنے بیٹے کو دیکھا، ہر لفظ میں مایوسی اور سنجیدگی تھی۔

“بابا، مجھے تو لگتا ہے کہ آپ کو یارم ہی سمجھ میں نہیں آرہا۔۔۔
کم از کم شادی سے پہلے آپ لڑکی کا مزاج دیکھ لیتے، کہ لڑکی کا مزاج مجھ سے میل کھاتا ہے یا نہیں۔
آپ واقف تھے کہ میں سنجیدہ پرسنلٹی کا بندہ ہوں،
اور وہ لڑکی بالکل میرے اوپوزٹ ہے…بولنے سے پہلے کچھ نہیں سوچتی، مردوں سے بحث کرتی ہے۔۔۔”

“ابھی بچی ہے، تم سے چھوٹی… وقت دو، وہ تمہیں سمجھ بھی لے گی اور تمہارے مطابق ڈھل بھی جائے گی۔”باسق خان نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

“بچی تھی تو شادی کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آرام سے اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیلتی ماں باپ کے گھر رہتی…” یارم نے تنزیہ لہجے میں کہا۔

“یارم، اتنا اوور ری ایکٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس عمر میں زیادہ تر لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔
سات سال چھوٹی ہے تم سے… تھوڑا صبر کرو، وہ تمہیں مایوس نہیں کرے گی۔”

باسق خان نے سنجیدگی اور ٹھہراؤ کے ساتھ کہا۔

“اور باقی جہاں تک سلیقے کی بات ہے، تمہاری ماں اسے پیار سے سمجھا دے گی، آہستہ آہستہ تمہارے مطابق ڈھل جائے گی۔
لیکن جس لہجے میں تم آ کر ہم سے بات کر رہے ہو… خبردار، اگر اس انداز سے اس بچی سے بات کی تو۔
اس کے باپ نے میری بہت عزت رکھی ہے۔ بڑی ذمہ داری سے اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دیا ہے۔ مجھے شرمندہ مت کرنا۔

میرے لیے جیسی انشاء ہے، ویسی ہی ایزل ہے۔ میں کوئی لاپرواہی یا اس کے ساتھ ذرا سی بھی ناانصافی برداشت نہیں کروں گا۔
اس کے باپ تک بات بعد میں جائے گی، پہلے میرے پاس آئے گی… اور میں ہر حال میں اس بچی کا ساتھ دوں گا، جسے ہم عزت اور مان سے اپنی بہو بنا کر لائے ہیں۔”

“ویل ڈن… بہت اچھا ہو گیا۔
مطلب مجھے اس کے سامنے جھک کر دب کر رہنا ہے… وہ جیسی ہے اسے قبول کرنا ہے…”
یارم نے تلخی سے کہا۔ اس کے چہرے پر شدید ناگواری اور دبے ہوئے غصے کی لکیریں صاف تھیں۔

“ٹھیک ہے بابا… آپ کا حکم سر آنکھوں پر…”
وہ طنز بھری ہنسی کے ساتھ بولا، جیسے دل میں کھولتا ہوا اعتراض لفظوں میں ڈھل رہا ہو۔

“یارم کی کیا اوقات ہے کہ یارم آپ کے حکم کے خلاف جائے…”
اس کے لہجے میں شکست بھی تھی اور ضد بھی۔ ہاتھ بے اختیار مٹھی کی شکل میں بند ہوتے جا رہے تھے۔

یارم اس وقت بری طرح غصے میں تھا۔ سمجھنے سنبھلنے کی حالت میں نہیں تھا۔ اس کی سانسیں بھاری تھیں اور کندھے سختی سے تن گئے تھے۔

“یارم… میری بات سنو…”
باسق خان نے روکتے ہوئے کہا، لہجہ مضبوط مگر اندر سے تھکا ہوا، جیسے وہ اسے مزید پھسلنے سے بچانا چاہتے ہوں۔

“نہیں بابا… بس بات ختم ہو گئی۔ مجھے کوئی بات نہیں سننی۔
بس ٹھیک ہے… آپ نے جو کہنا تھا کہہ دیا…”
یارم نے تیزی سے جواب دیا، آواز میں لرزش نہیں تھی مگر غصہ پوری طرح بول رہا تھا۔

اس نے ایک سخت نظر ڈالی، جیسے دل پر کوئی دروازہ اندر سے بند کر رہا ہو۔

یارم بات ادھوری چھوڑ کر روم سے باہر چلا گیا۔
دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز بھی اس کے غصے کی طرح تیز اور بے ضبط تھی، جیسے پوری فضا میں اس کی ناراضی تیر گئی ہو۔

“اللہ اکبر… اے اللہ، مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ ایک بار پھر ہماری آزمائش شروع ہو گئی ہے…”
رتبہ نے گہری سانس کے ساتھ کہا۔ اس کی پیشانی پر فکر کی لکیریں صاف دکھ رہی تھیں۔

“ریلیکس ہو جاؤ، انشاءاللہ سب بہتر ہو جائے گا۔
اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے، آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا۔
اتنی پیاری بچی… اور اسے اس کے ساتھ رہنے میں تکلیف ہو رہی ہے…”
باسق نے تھکے ہوئے مگر مضبوط لہجے میں کہا، جیسے وہ خود کو بھی سمجھا رہا ہو۔

“تم پریشان مت ہو، طبیعت خراب ہو جائے گی۔
میں سنبھال لوں گا۔ میرے ہوتے ہوئے ہر چیز کو سر پر مت سوار کیا کرو…”
باسق کے قدرے سخت مگر فکر والے انداز پر رتبہ نے سانس ہولے سے چھوڑا۔
چہرہ تھوڑا نرم پڑا، جیسے کچھ بوجھ کم ہوا ہو۔

مگر دل کے اندر وہ اب بھی بے چین تھی۔
وہ مسلسل دعا کر رہی تھی کہ اللہ اس کے بیٹے کے دل میں اس بچی کی محبت ڈال دے…

ایزل چنچل تھی، شوخ تھی،دونوں ہی جانتے تھے کہ یارم کی سوچ سے مختلف مزاج کی ہے، مگر دل کی بہت پیاری۔
رتبہ اور باسق دونوں اسے بہو نہیں بیٹی کی طرح چاہتے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ یہ رشتہ مشکلوں میں گھِر جائے۔۔
═══════❖═══════

ہائے اللہ… پلیز، ڈی ایس پی صاحب آجائیں اور کتنا انتظار کروائیں گے؟؟ایزل بلند آواز میں بڑ بڑا رہی تھی۔

ایزل یارم کا انتظار کرتے کرتے تھک چکی تھی۔
بھاری لہنگا اور جیولری کے بوجھ کے ساتھ اس کا صبر جواب دینے لگا تھا، مگر یارم تھا کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

آخرکار ایزل بیڈ سے پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئی۔
بچوں کی طرح اپنے پیروں کو ہلاتے ہوئے وقت گزار رہی تھی۔
دونوں ہاتھ پیچھے میٹرس پر رکھے ہوئے، جسم کو سہارا دے کر بیٹھی ہوئی تھی۔
بیٹھی ہوئی شکل کے زاویے بدلتی رہی اور مسلسل دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی۔اس بات سے بالکل بے فکر کہ وہ دلہن ہے۔

اپنے ماں باپ کے کمرے سے آگ بگولا ہو کر جب واپس اپنے کمرے آیا۔ تو دروازہ کھولتے ہی یارم کی نظر ایزل پر پڑی۔نظروں کے سامنے اسے پچکانا حرکتیں کرتے ہوئے دیکھ غصے کو مزید چنگاری مل گئی۔۔۔۔

“ڈسکسٹنگ ۔”
ایزل کے بچکانہ انداز پر وہ زچ ہو گیا، نفی میں سر ہلاتے ہوئے دروازہ بند کیا اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔
ایزل اس وقت بیٹھی ہوئی دلہن کم اور شرارتی بچی زیادہ لگ رہی تھی۔
بھاری لہنگا اوڑھے، دلہے کے انتظار میں صبر کیے بیٹھی تھی، مگر اس کی چنچل آنکھیں، بے فکری اور ہلکی سی شرارت پھر بھی کمرے میں جیسے روشنی بن کر پھیل رہی تھی۔
وہ الگ بات تھی کہ اس کی شرارت، مسکراہٹ، چمکتی ہوئی آنکھیں اور بچگانہ معصوم سی حرکتیں… سب ہی کسی اور کے لیے الجھن بن رہی تھیں۔
بغیر یہ سمجھے کہ یارم کے دل میں اسکے لیے کیا چل رہا ہے… یارم کو دیکھتے ہی اسکی نظریں چمک اٹھیں، اس کی آنکھوں میں خوشی کی وہی نرم سی چمک اُبھری جو چاند رات میں چاند کو دیکھ کر دل میں اُترتی ہے۔

“آپ کہاں گئے تھے؟؟ ایزل نے محبت اور معصومیت سے پوچھا۔
یارم بے نیازی سے پلٹا…آنکھوں میں ہلکی سی جھنجھلاہٹ تھی۔
“جہنم میں… اس نے بھاری لہجے میں جواب دیا۔

“اتنی پیاری جنت کو چھوڑ کر جہنم میں کون جاتا ہے؟؟وہ ہنستے ہوئے، دانت نکال کر خود کو ہی جنت کہہ رہی تھی…
“اگر جنت تم جیسی ہوتی، تو مجھے جنت کی کوئی ضرورت نہ ہوتی…”یارم نے واش روم کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا

“ہائے… اگر آپ جیسی دوزخ بھی ہو، تو مجھے قبول ہے!”
ایزل بیڈ پر پاؤں لٹکائے، ہاتھ گود میں رکھے، بچوں کی طرح ہل رہی تھی۔ اس کے کاندھے بھی نرم حرکت کر رہے تھے اور لبوں پر ایک شرارتی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی، جو یارم دروازے کے پار دیکھ نہ سکتا تھا، مگر اس کی آواز سے محسوس کر رہا تھا۔

“مجھے تو تمہارا سکرو ڈھیلا لگتا ہے، اسی لیے تم پر میری باتوں کا اثر نہیں ہو رہا۔
اگر تمہارا دماغ نارمل سوچنے کے لائق ہوتا، تو اب تک سمجھ چکی ہوتی کہ مجھے تمہارا بولنے کا انداز بالکل پسند نہیں۔
مجھے زیادہ بولنے والی لڑکیاں ہی پسند نہیں، اور تم تو چابی والے بندر کی طرح رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہو!”

یارم خان نے غصے سے واش روم سے اونچی آواز میں کہا، یقین رکھتے ہوئے کہ اب ایزل چپ ہو جائے گی۔
مگر یہ اس کی غلط فہمی تھی۔

ایزل بیڈ باہر بیٹھی تھی، ہاتھ گود میں رکھے، تھوڑی سی شرارت کے ساتھ،لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی اور یارم کی سخت باتیں اس پر رتی برابر بھی اثر نہیں کر رہی تھی۔

“اچھا ہے نا… آپ کا چابی والا بندر خود ہی بولتا رہا کرے گا، کیونکہ آپ کو تو زیادہ بولنا پسند نہیں اور آپ کو زحمت بھی نہیں کرنی پڑے گی…”

یارم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ حیران تھا کہ اتنے سخت جملے کے باوجود ایزل کا ردِ عمل کتنا پرسکون اور نارمل تھا۔

چینج کر کے فریش ہوتا ہوا باہر آیا، تو ایزل اب بھی بیڈ پر وہی آرام دہ انداز اپنائے بیٹھی ہوئی تھی، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری ہوئی۔

“اُٹھ کر چینج کر کے سو جاؤ…” یارم نے سنجیدہ، تھوڑا سرد لہجے میں کہا۔
رائل بلو کلر کا کارڈ ٹراؤزر اور شرٹ پہنے وہ باہر آیا۔ ایزل کی نظر اس پر پڑی، اور دل کی دھڑکن پہلی ہی نظر میں بڑھ گئی۔ اس کے لیے یارم بالکل اس کے خوابوں کا شہزادہ لگ رہا تھا، جبکہ یارم کے لیے ایزل محض ایک عام لڑکی تھی۔

“کیوں… سو جاؤں؟؟؟”
ایزل بیڈ پر بیٹھی، پاؤں لٹکائے، حیرانی اور تھوڑی سی شرارت کے ساتھ بولی۔ آنکھوں میں چمک تھی اور لبوں پر ہلکی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔

“کیوں کا کیا مطلب ہے، اتنا ٹائم ہو گیا ہے، سو جاؤ…”
یارم تھوڑا سنجیدہ لہجے میں بولا، مگر اس کی آواز میں نرمگی بھی تھی، جیسے حقیقت تسلیم کرانے کی کوشش کر رہا ہو۔

ایزل نے پاؤں ہلاتے ہوئے کہا، “ہاؤ روڈ! ایسے کیسے سو جاؤں؟ مجھے میرا گفٹ چاہیے!”
وہ شرارت سے بھرپور انداز میں بیٹھی تھی، جیسے کوئی بچپن کی شریر لڑکی، اور یارم بس حیرت اور تھوڑی پریشانی کے ساتھ اسے دیکھتا رہ گیا۔

“مگر میں تو کوئی گفٹ نہیں لے کر آیا…”
یارم نے بالکل بے تاثرات انداز میں کہا۔

“مگر مجھے تو گفٹ چاہیے! میں ایزل ہوں، اپنا حق کبھی نہیں چھوڑتی…”
ایزل بیڈ پر بیٹھی، پاؤں لٹکائے، مسکراہٹ اور تھوڑی سی شرارت کے ساتھ بولی۔

“خدا کا واسطہ ہے، ابھی کے لیے سو جاؤ۔ صبح تمہیں گفٹ لا دوں گا…”
یارم اس کی باتوں سے جان چھڑانے کے لیے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا، مگر اس کی آواز میں کوئی نرم لہجہ یا تاثرات نہیں تھے۔

“اوکے… اب اتنا بھی پیار سے کہہ رہے ہیں تو میں مان جاتی ہوں۔ اتنے خوبصورت شوہر کو اتنی معافی مل سکتی ہے…”
ایزل نے تھوڑی شرارت اور معصومیت کے ساتھ کہا۔

“ویسے بات معافی والی ہے نہیں… اتنی پیاری بیوی کا منہ دکھائی، گفٹ بھلا کون بھولتا ہے؟”
وہ اٹھ کر اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی، چہرے پر معصومیت، سچائی اور تھوڑی سی شرارت بکھری ہوئی تھی۔
یارم ایک پل کے لیے اس کی طرف دیکھتا رہا، مگر حیرانی سے اب تو اسے یقین ہو چلا تھا کہ لڑکی واقعی بے وقوف ہے، کیونکہ یارم کے منہ سے نکلے ہوئے غصے کے الفاظ اسے محبت لگ رہے تھے۔

“پلیز، اگر اجازت ہو تو میں سو جاؤں؟
بہت تھکا ہوا ہوں…”
یارم گہری سانس لیتے ہوئے بولا۔

“اور اگر میں اجازت نہ دوں تو…؟”
ایزل کمر پر ہاتھ باندھے، سکول کے بچوں کی طرح نزاکت دکھاتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

“تو کچھ بھی نہیں… میں پھر بھی سو جاؤں گا…”
یارم زچ ہو کر بولا، اس کی معصومیت کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے، صرف اس کی بک بک پر دھیان دیتے ہوئےکہا۔

“چلیں، سو جائیں… کیا یاد کریں گے کس دلدار بیوی سے پالا پڑا ہے، بغیر گفٹ کے سونے کی اجازت دے رہی ہوں…”
ایزل مسکرا کر، آنکھوں کو ٹمٹما کر بولی۔ اس کا انداز بالکل غصے سے پاک تھا، مگر شرارت اور معصومیت کے چھوٹے چھوٹے جھونکے ہر حرکت میں جھلک رہے تھے۔

یارم کو اس کی عقل پر حیرانی ہو رہی تھی، اور ہونا بھی چاہیے تھا۔ شادی والی رات، اگر دولہے کا رویہ ایسا ہو تو دلہن یا تو روتی ہے یا غصہ کرتی ہے، مگر یہاں کچھ بھی ایسا نہیں تھا۔ وہ بالکل پرسکون تھی، ہر بات اسے نارمل لگ رہی تھی، اور یہ یارم کی سوچ سے بالکل باہر تھا۔

وہ بیڈ پر ایک طرف رخ کیے ہوئے لیٹا، دماغ میں سوچ رہا تھا، “یا اللہ، مجھے صبرِ جمیل عطا فرما… یہ لڑکی ایک رات مجھ سے ہضم نہیں، اس کے ساتھ پوری زندگی کیسے رہوں گا؟”
اس کے دل میں ایک عجیب سا ملغوبہ سا احساس تھا۔۔۔حیرانی، خوف، اور ایک چھپی ہوئی مسرت، جو وہ خود بھی اچھی طرح سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

“ڈی ایس پی صاحب، آپ تو میری سوچ سے بھی زیادہ اکڑو ہیں…ایزل کچھ دیر کے لیے یارم کے پیروں والی سائیڈ پر کھڑی رہی، مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔

“اللہ جی، مانا کہ مجھے تھوڑا سا اکڑو شوہر چاہیے تھا…کمرے کی سیلنگ سے سجی ہوئی چھت کی
لیکن آپ نے تو مجھے کچھ زیادہ ہی اکڑو دے دیا ہے…جانب دیکھتے ہوئے اپنے اللہ سے بول رہی تھی۔

“چلو کوئی بات نہیں، مرچی چاہے جتنی بھی تیکھی ہو، عورت اس کا اچار ڈال ہی دیتی ہے…
اور آپ کا بھی ایک دن اگر میں نے اچار نہ ڈالا، تو ایزل میرا نام نہیں… چٹخارے لے کر روز کھایا کروں گی…”
وہ دل میں ہنستے ہوئے، آنکھ دبا کر آرام سے خود کو مطمئن کرتی ہوئی قدم الماری کی جانب بڑھ گئی، اپنے کپڑے نکالے اور چینج کرنے چلی گئی۔مگر جاتے جاتے یا رم کے آرام میں خلل ڈالنے کے لیے سونگ گنگناتے ہوئے گئی تھی۔۔۔

“حسن، تیرا توبہ توبہ توبہ توبہ…”
مزے سے گنگناتے ہوئے وہ واش روم میں گھس گئی۔

یارم، جو آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کر رہا تھا، نے آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھا۔ نفی میں سر ہلایا، مگر دل کی دھڑکن تھوڑی تیز ہوئی۔

“کیا چیز ہے یار…”
دل میں سوچ کر وہ زچ ہوتے ہوئے ایک بار پھر آنکھیں بند کر گیا۔

جس یارم کے کمرے میں ہمیشہ خاموشی کے پہرے ہوتے تھے، آج وہاں ضرورت سے زیادہ ہلچل تھی۔
ایزل کی چھوٹی چھوٹی حرکات، شرارتی انداز اور بے فکری نے پوری فضا میں زندگی ڈال دی تھی، اور یارم بس خاموشی سے اسے سوچ رہا تھا کہ یہ لڑکی واقعی الگ ہی مخلوق ہے۔

اگر ایزل کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید یارم کے رویے پر پریشان ہو جاتی، مگر ایزل تھی، اور اس کا کام لوگوں کو پریشان کرنا تھا، نہ کہ خود پریشان ہونا۔
اس نے ایک بار بھی اپنی چھوٹی سی عقل استعمال نہیں کی کہ آخر یارم خان اس کے ساتھ اس طرح کا رویہ کیوں برت رہا ہے۔

              ═══════❖═══════

سکاٹ لینڈ کے وسیع اور لگژری کمرے میں صبح کی دھوپ شیشوں سے چھن کر اندر آ رہی تھی۔ کھڑکیاں بند تھیں، لیکن نرم سنہری روشنی فرش، قالین، مہکتے پلانٹس اور بیڈ کے کنارے رکھی ہر چیز پر چھن کر ایک پرسکون اور خاموش ماحول پیدا کر رہی تھی۔ کمرے کی ہر چیز بالکل ترتیب سے رکھی گئی تھی، جیسا کہ آریان خان کی عادت تھی۔ کتابیں، نوٹ، اور چھوٹے چھوٹے آئٹمز سب ایک خاص ترتیب میں تھے، کوئی چیز ادھر ادھر نہیں پڑی تھی۔

بیڈ پر آریان خان سفید نائٹ سوٹ میں بیٹھا تھا، لیپ ٹاپ سامنے، ضروری فائلز میں غرق۔ اس کے پٹھان خدوخال، ہلکی داڑھی اور مونچھیں، قدرتی پنک ہونٹ اور تھوڑے بے ترتیب بال سب کچھ اس کی قدرتی خوبصورتی کو نمایاں کر رہے تھے۔ اس کی ہر حرکت، ہاتھ کی ترتیب، اور بیٹھنے کا انداز اس کی صفائی اور نفاست کو واضح کر رہا تھا۔

اسی لمحے عبیرہ کچن سے نم ہاتھوں کو ٹشو سے صاف کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ ٹشو کو کمرے میں ایک چھوٹی، نفیس کچرے کی ٹوکر میں پھینکتے ہوئے، بیڈ کی جانب بڑھی۔ اس کا چہرہ سنجیدہ اور تھوڑا سا ناراض لگ رہا تھا”

آریان خان کی نظریں فوراً اس کی طرف اٹھیں۔ وہ لمحے بھر کے لیے بس دیکھتا رہ گیا۔عبیرہ کے ہاتھ، ٹشو پھینکنے کا انداز، چہرے کی ناراضگی ، اور اس کی حرکات سب کچھ اس کے ذہن میں نقش ہورہا تھا ۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتا،وہ بول پڑی ب

“سنیں!!”

“جی سنائیں!!”آریان خان نے جواب دیا، نظریں ابھی بھی عبیرہ پر مرکوز، پرسکون لیکن غور سے دیکھتی ہوئی۔

“کیا آپ اپنے فون پر مجھے فجر کی نماز کا الارم لگا کر دے سکتے ہیں؟”

“ہمم… لگا دوں گا…”
اس نے ہلکے بے تاثرات انداز میں کہا، عبیرہ کے ردعمل کو بغور پرکھتے ہوئے۔

“تھینک یو…”
عبیرہ خاموش تھی، چہرے کا رنگ ہلکا سا زرد تھا اور وہ اداس سا چہرہ لیے اپنی جگہ کھڑی تھی۔۔

“کیا پرابلم ہے؟”
آریان خان نے نظریں جماتے ہوئے پوچھا، آواز میں سنجیدگی اور فکر تھی۔

“کچھ نہیں…”عبیرہ نے اجنبی سے لہجے میں جواب دیا۔

“کچھ تو ہے، شکل کیوں اُتری ہوئی ہے…”لیپ ٹاپ کو بند کرتے ہوئے پوری توجہ کا مرکز اس وقت عبیرہ تھی۔

“اگر بتا دوں گی تو ،کیا آپ میری پریشانی دور کر دیں گے؟”
عبیرہ خفا سی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی اور تھوڑی سی دوری پر رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔

“ہاں، بالکل کر دوں گا…
سوائے اس بات کے کہ تم کہو کہ تمہیں اپنے مائکے کی یاد آرہی ہے…”

“نہیں، جانتی ہوں کہ آپ جیسے صاف انسان سے ایسی توقع کرنا بے وقوفی ہے…”
عبیرہ نے تنزیہ انداز میں کہا، لیکن نظریں ابھی بھی آریان خان کی طرف مرکوز تھیں۔

“چلو منہ کھولو اور بتاؤ کیا پریشانی ہے؟”

“یہ تنز بازی بعد میں کر لینا، فلحال میں بزی ہوں…”
“اتنے بڑے لگژری گھر میں ایک بھی جائے نماز نہیں جہاں میں نماز پڑھ سکوں…
قرآن پاک نہیں کہ میں اپنے رب کی تعریف کر سکوں…
ایسا قید خانہ ہے جہاں اذان کا پتہ ہی نہیں چلتا، کہ میں وقت پر نماز ادا کر سکوں…
سمت کا بھی پتہ نہیں کہ میرا قبلہ کس طرف ہے…
مجھے تو لگتا ہے جیسے یہ مسلمانوں کا گھر ہی نہیں ہے…”
وہ غصے سے بولتی چلی گئی۔ آج صبح اس کی فجر کی نماز قضا ہو گئی تھی، جس پر وہ بہت ناراض تھی۔
“یہ بات تم تمیز کے دائرے میں رہ کر بھی کر سکتی تھی…”
آریان خان نے اسے گھور کر کہتے ہوئے سانس بھاری کی۔

“آپ کے ساتھ رہتے رہتے تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے…”
عبیرہ نے بے ساختہ جواب دیا، چہرے پر خفگی صاف تھی۔
“عبیرہ، میرے ساتھ زبان درازی کرنے کی کوشش مت کیا کرو۔ ورنہ میں وہ آریان خان سامنے لے آؤں گا جسے میں نے اپنے اندر چھپا لیا ہے۔ اور نہ ہی وہ آریان تمہیں پسند آئے گا…”
وہ دھیرے مگر سخت لہجے میں بولا۔

“مجھے تو یہ بھی پسند نہیں جو اس وقت میرے سامنے بیٹھا ہے…”
عبیرہ نے بغیر جھجک اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

پسند ہوں یا نہیں… اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ رہنا تو تمہیں میرے ساتھ ہی ہے، میری بیوی بن کر۔

آریان خان نے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا، گہری سانس لی اور بیٹھے بیٹھے سیدھا ہوا۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھا۔ قدم آہستہ تھے مگر وزن لیے ہوئے، جیسے ہر قدم اس کے غصے اور ضبط کا بوجھ اٹھا رہا ہو۔
سرد کمرے کی ہلکی سی خاموشی اس کے ساتھ چلتی ہوئی صوفے تک آئی۔ وہ آ کر عبیرہ سے چند قدم کے فاصلے پر رکا، نظریں پوری طرح اسی پر ٹکی رہیں۔

عبیرہ نے آنکھیں اوپر اٹھائیں تو اس کے چہرے کے تاثرات میں صرف سختی نہیں، ایک عجیب سا ٹھہراؤ بھی تھا۔ کمرے کی مدھم روشنی میں وہ دونوں چند لمحے ویسے ہی ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
آریان کے یوں قریب آ کر رکنے سے عبیرہ کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی، مگر اس نے چہرے پر کوئی تاثّر نہیں آنے دیا۔ وہ جانتی تھی کہ اگر اس کی گھبراہٹ ذرا بھی ظاہر ہوئی تو آریان اس کا فائدہ اٹھائے گا۔
“ساتھ رکھنے اور ساتھ رہنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔
نظریں لمحہ بھر کو ٹکرائیں، پھر عبیرہ نے فوراً رخ موڑ لیا۔ آواز دھیمی تھی مگر لفظ سیدھے جا کر آریان کے دل میں لگے۔
آریان نے ایک پل عبیرہ کو دیکھا… جیسے اس کے لفظ اندر کہیں چبھ کر بیٹھ گئے ہوں۔ جبڑا سخت ہوا مگر آنکھوں میں وہی ضد، وہی چھپی ہوئی چاہ۔

“تم یہ باتیں کر کے خود کو بہادر سمجھتی ہو؟”
آواز دھیمی تھی مگر اکڑ واضح۔
“یاد رکھو عبیرہ… تم میری بیوی ہو۔ چاہے مجبوری کہو یا جو دل چاہے نام دے دو… میں تمہیں اپنے پاس ہی رکھوں گا۔”

وہ ذرا سا جھکا، لہجہ ہولا نہیں تھا، مگر اس کے اندر کی سچائی خود بول رہی تھی۔

“اور ہاں… ساتھ رہنے اور نبھانے کا فرق مجھے بھی پتا ہے۔ تم فکر نہ کرو… تمہیں ایک دن خود سمجھ
آ جائے گا کہ میں تمہیں صرف رکھ نہیں رہا…”
وہ لمحہ بھر رکا، نظریں گہری ہو گئیں۔

“…تم پر میرا حق ہے۔ اور یہ حق میں مانگ کر نہیں لیتا… جیت کر لوں گا۔”

عبیرہ نے اس کی طرف دیکھا،
’’جیت کر حق لیں گے؟‘‘
اس کے لہجے میں ایک ہلکی سی تلخی تھی
’’مسئلہ یہی ہے آپ کا۔۔۔ زندگی میں صرف جیتنے کا شوق‘‘
وہ سانس روکے اسے دیکھتی رہی

“مگر ایک بات ذہن نشین کر لیجیے مسٹر آریان خان، عورت کو جیتا نہیں جا سکتا‘‘
’’عورت اپنے من پسند شخص کی ہر کمی، ہر کمزوری قبول کر لیتی ہے۔۔۔ مگر ناپسند شخص کی خوبیوں سے بھی نظریں چرا جاتی ہے‘‘
اب کی بار اس نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا
’’اور میری کہانی میں آپ پسندیدہ شخص نہیں ہیں‘‘
اس کی آواز پرسکون تھی مگر کاٹدار۔

“جو تم نے کہا وہ ٹھیک ہے… سچ ہے کہ عورت کو جیتا نہیں جا سکتا۔
یہ بھی سچ ہے کہ عورت اپنے من پسند شخص کو کیچڑ سے اٹھا کر تخت پر بٹھا کر اسے مجازی خدا بنا لیتی ہے، اور نہ پسند شخص کی خوبیوں کو بھی کیچڑ میں ملا دیتی ہے۔

“پسند آنا یا نہ آنا… یہ میں نے تم پر چھوڑا ہے۔
مگر ایک بات مت بھولنا… میں تمہاری زندگی کا وہ باب ہوں جسے تم چاہ کر بھی بند نہیں کر سکتی،
اور جو تمہارا من پسند ہے، وہ تمہاری زندگی کا وہ باب ہے جسے چاہ کر تم کھول نہیں سکتی،
اور نہ ہی میں کبھی کھولنے دوں گا…”

آریان کے الفاظ دھیمی شدت کے ساتھ نکلے، لیکن ہر لفظ میں اکڑ اور قابو محسوس ہو رہا تھا۔
اس کی آنکھیں سخت اور سرخ تھیں، جیسے خاموش طوفان۔
عبیرہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، وہ سانسوں کی گہرائی میں جھنجھلاہٹ محسوس کر رہی تھی۔کیونکہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ آریان کا اشارہ یارم خان کی طرف ہے۔یارم کے نام پر جو غصے کی شدت آریان کی نظروں سے عبیرہ کے دن تک اترتی ، اسے دیکھ وہ خوف زدہ ہو جاتی تھی۔

“میرا وہ مطلب…”وہ وضاحت دینا چاہتی تھی

“شششش…
تمہارا جو بھی مطلب تھا، مجھ سے زیادہ اچھی طرح کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
تمہارا یہ کہہ دینا کافی ہے کہ اس کہانی میں میں تمہارا من پسند شخص نہیں ہوں،
تو پھر ناپسندیدہ شخص پر تو انگلی خود بخود اٹھ جاتی ہے۔
آریان نے عبیرہ کی بات کو بیچ میں کاٹتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اور چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
اس کی نظریں ایسی تپش لیے ہوئی تھیں کہ جیسے عبیرہ کو جلا کر راکھ کر دے، مگر الفاظ میں ایک نرم اور ہلکی سرسرات تھی،
جو عبیرہ کی شخصیت کو چھو رہی تھی اور اسے جاندار محسوس کروا رہی تھی۔

عبیرہ نے تھوڑا پیچھے ہٹ کر، دل کی دھڑکن کو قابو میں رکھتے ہوئے، خاموشی اختیار کی،
لیکن اس کی آنکھوں میں حیرت اور گھبراہٹ صاف دیکھی جا سکتی تھی۔

“اگر ایسا ہے… تو پھر ایسا ہی صحیح۔”

وہ آہستہ سے جھکا، جیسے ہر لفظ کو تول کر کہہ رہا ہو۔

“چلو… اگر میں ناپسند شخص ہوں…”
پھر ہلکی سی تلخی سے مسکرایا، “یہ مت کہنا کہ میں تمہیں اس من پسند کمینے سے جیت کر نہیں لایا۔”

آنکھوں میں خفیف سی چمک آ گئی۔

“کیسے اس کی نظروں کے نیچے سے تمہیں اپنے ساتھ لے آیا… وہ اپنی پوری طاقت لگا کر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔”
وہ سیدھا ہوا، سانس بھاری۔

“اب تو صرف تمہارے دل پر حکومت کرنی ہے… اور وہ دن ضرور آئے گا، عبیرہ… جب تم میری محبت میں میرے لیے تڑپو گی۔”وہ جیسے اپنے غصے کو ضبط کر کے زبردستی روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔چہرہ تھوڑا سخت ہوا، آواز دب گئی۔
عبیرہ کی آنکھوں میں خوف دکھائی دے رہا تھا آریان خان کے غصے کا خوف۔۔
“کچھ دیر کے لیے باہر جا رہا ہوں، کیونکہ اگر یہاں رکا، تو تم پر حق ثابت کرنے کے لیے کچھ ایسا کر جاؤں گا جس کی وجہ سے تم مجھے پھر سے دائرۂ اسلام اور مسلمان کی حدود سے باہر سمجھو گی۔۔۔

وہ اتنی ٹھنڈ میں، صرف نارمل شرٹ اور ٹراؤزر پہنے، ہیٹر والے کمرے سے باہر نکلا۔
دروازہ اتنی زور سے بند ہوا کہ عبیرہ نے فوراً اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
لگ رہا تھا جیسے کان کے پردے پھٹ جائیں۔
اس کا پورا وجود خوف کے مارے کانپ رہا تھا۔

“میں ایسا تو نہیں چاہتی تھی…”
عبیرہ دل ہی دل میں بار بار یہی سوچ رہی تھی،
“کیوں تم بار بار اس شخص کا ذکر بیچ میں لے آتے ہو، جس کے بارے میں میں سوچتی بھی نہیں… کتنی بار تمہیں یقین دلاؤں کہ میں اس کے بارے میں نہیں سوچتی۔”

آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے، مگر یہ رونا اس لیے نہیں تھا کہ وہ آریان کا شوہر ہے یا محبت نہیں ہے۔
اس کا درد اس لیے تھا کہ آریان کے رویے اور باتوں کی وجہ سے اس کے دل میں نامحرم کے خیال اُبھرتے ہیں، اور یہ خیالات اللہ کی بنائی ہوئی حدود کے خلاف تھے، جنہیں عبیرہ سہہ نہیں سکتی تھی،
آریان کے بار بار یارم کے نام سے جوڑنے سے اس کی روح چھلنی ہو رہی تھی، جیسے تیز ہوا میں بکھرتے پتوں پر گہری خاموش درد کا رقص کر رہی ہو

═══════❖═══════

            Ye qist novel "Saleeb Sukoot" ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.
Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category "Saleeb Sukoot" mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.
💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *