|

Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:21

صلیب سکوت
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر:21
═══════❖═══════

ایزل شاور لے کر فریش ہوئی اور روم میں داخل ہوئی۔
ٹاول سے بالوں کو خشک کرتے ہوئے اس کی نگاہیں اچانک سوئے ہوئے یارم خان پر پڑیں۔

وہ ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے، سیدھا تکیے پر لیٹا ہوا تھا، اور پوری طرح پرسکون لگ رہا تھا۔ایزل کی نظریں اس کے چہرے پر ٹھہر گئی۔
دل میں ہلکی سی چلبلی خوشی جاگی، جیسے صبح کی سنہری کرن نے اچانک اسے چھو لیا ہو۔

ٹاول کاندھے پر ڈالے،ایزل نے آہستہ قدم بڑھایا، ، اس کی آنکھوں میں کھیلتی ہوئی چمک تھی۔
مگر یہ کوئی شرمانے والی نظر نہیں تھی، بلکہ ایک چلبلی اور نٹکھٹ انداز، جس میں حوصلہ اور پہلی محبت جھلک رہی تھی۔
یارم خان بالکل ویسا تھا جیسا ایزل نے ہمیشہ اپنے شوہر کے لیے تصور کیا تھا۔

“ڈی ایس پی صاحب، رات کو آپ نے بہت روڈ بیہیویئر دکھایا، مگر ہم نے آپ کو معاف کر دیا کیونکہ ایٹیٹیوڈ جناب پر سوٹ کرتا ہے۔اور اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر سوچتی کوئی قدم اس کی جانب بڑھا رہی تھی،

ٹاول کو بے ترتیبی سے صوفے پر پھینکتے ہوئے، وہ مسکراتے ہوئے یارم یہ بیڈ کے قریب جا کھڑی ہوئی،
اس کے شیطانی دماغ میں طوفانی آئیڈیا آیا تھا۔

ایک نظر اس کے پرسکون چہرے پر ڈالی، پھر جان بوجھ کر وہ یارم کے اوپر گری۔
پاؤں ہلکے سے زمین پر لٹک رہے تھے اور اس کا جسم اس کے سینے پر نرم انداز میں ٹکرایا، جیسے انجانے میں کوئی کھیل کر رہا ہو۔
اس لمحے کی خاموشی میں، ایزل کی شرارت اور یارم کی حیرت دونوں ایک ساتھ محسوس ہو رہی تھیں۔

یارم کے چہرے پر ایزل کے گیلے بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ اچانک نیند سے جاگا، آنکھیں پھیلی ہوئی، اور پھٹی پھٹی نظروں سے ایزل کو دیکھنے لگا۔
حیران نظروں سے دیکھتے ہوئے سمجھ نہیں پایا کہ وہ کیا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے؟”
اپنے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے، یارم نے گھور کر پوچھا۔

“ڈیئر ہسبینڈ، اسے بدتمیزی نہیں کہتے، میرا پاؤں پھسل گیا اور میں لڑکھڑا کر آپ کے اوپر گر گئی، اسے حادثہ کہتے ہیں۔”

آرام سے کہنی یارم کے سینے پر رکھے ہوئے، اپنا ہاتھ اپنی گال پر رکھ کر، ایزل نے یارم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بےتکلف انداز میں کہا۔

“تمہارے اندر شرم ہے یا صرف تیز زبان کی خوبی باقی ہے؟”
یارم خان کو اس کا بولڈ انداز بالکل بھی پسند نہیں آیا۔
“شرم تو مجھ میں بہت ہے، مگر سوری ڈیئر ہسبینڈ، آپ اس سے محروم رہیں گے، کیونکہ شرم دکھانے کے لیے پوری دنیا مر گئی ہے ، جو شرم آکر میں آپ کو دکھاؤں۔۔۔”
ایزل نے شرارتی چہرے پر ہلکی سی مسکان سجائے ہوئے ، کانفیڈنس سے کہا،
اس کے انداز نے یارم خان کی بولتی ایک لمحے کے لیے بند کر دی۔

“مہربانی کر کے مجھ سے ہٹ جائیں۔۔۔

“کیوں، آپ میری ذاتی پراپرٹی ہیں؟”
“جب تک چاہوں، یہاں پر پورے حق کے ساتھ رہ سکتی ہوں۔۔۔”

“حق صرف اس وقت بنتا ہے جب سامنے والا اسے دے۔۔۔
فضول کی بحث مت کریں اور یہاں سے اٹھ جائیں۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں دھکا دے کر فرش پر گرا دوں اور تمہاری کوئی ہڈی یا پسلی زخمی ہو جائے۔۔۔”

یارم نے اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھنے سے روک رکھے تھے، جبکہ ایزل پورے حق کے ساتھ اس کے سینے پر بیٹھی تھی۔ اسے اپنے غرور پر فخر تھا، کہ وہ اس کی بیوی ہے۔۔۔

ایسا سوچیے گا بھی نہیں۔۔۔ ورنہ رات کو جو روڈ بیہیویئر آپ نے میرے ساتھ کیا ہے نا، میں وہ جا کر باسق انکل اور رتبہ آنٹی کو ایک ایک لفظ سمیت بتا دوں گی۔۔۔
وہ دھمکی دینے والے انداز میں بولی، آنکھوں میں شرارت کی چمک اور لہجے میں پوری اعتماد بھری سختی تھی۔۔۔

پولیس والے کو دھمکا رہی ہو؟؟

نہیں، ڈیئر ہسبینڈ، میں بتا رہی ہوں کہ میں ایسا کر سکتی ہوں…
رات کو، جب آپ ٹم ٹم کرتے ہوئے انکل کے روم میں گئے تھے…
میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے آئی تھی، اور جو باتیں آپ اور انکل آنٹی کے درمیان ہوئیں… وہ سب میں نے سنی تھیں…

“مطلب تمہیں جاسوسی کرنے کی بھی عادت ہے؟”
یارم نے گھورتے ہوئے پوچھا… ساتھ ہی اس کے ذہن میں ایک بے چین سی لہر اٹھی کہ کیا وہ یہ بات بھی سن چکی ہے…کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا تھا۔؟

“کہاں کھو گئے، ڈیئر ہسبینڈ…؟”
ایزل نے ہلکا سا سر ایک طرف جھکایا، انگلیوں کو بے فکری سے یارم کے تکیے پر ٹہلاتے ہوئے شرارت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔یارم اپنے خیال سے نکل کر پھر سے اس کی جانب متوجہ ہو گیا۔

“مجھ میں کیا کیا خوبیاں ہیں، یہ تو آپ کو وقت کے ساتھ خود ہی پتہ چل جائیں گی۔”
وہ آہستہ سے سیدھی ہوئی، گیلے بالوں کی ایک لٹ انگلی پر لپیٹ کر ہلکا سا جھٹکا دیا، چہرے پر پوری اعتماد والی مسکراہٹ تھی۔

“اور ہاں… مجھے آپ کے بارے میں جو جاننا تھا، وہ میں جان چکی ہوں۔”
اس نے ایک پل کو رکی، بھنویں ذرا سی اٹھائیں، جیسے اسے اس کی خاموشی سے بھی لطف آ رہا ہو۔

“میں اچھی طرح سمجھتی ہوں کہ میں آپ کو پسند نہیں ہوں۔
“چلو یہ تو اچھی بات ہے کہ تم جانتی ہو کہ تم مجھے پسند نہیں۔ کم از کم مجھے تمہارے سامنے اچھا بننے کی ایکٹنگ تو نہیں کرنی پڑے گی۔”

ایزل نے آہستہ سے ہاتھ اٹھایا، جیسے اسے بولنے سے روک رہی ہو۔

“ڈیئر ہسبینڈ… پوری بات سنیں، اس کے بعد جواب دیجیے گا۔”
وہ ہلکا سا مسکرائی، آنکھوں میں چمکتی ہوئی شرارت تھی۔

“آپ کے لیے شاکنگ بات شاید یہ ہوگی کہ مجھے اس سے ذرا سا بھی فرق نہیں پڑتا…”
اس نے اپنے بال پیچھے کرتے ہوئے اتنے آرام سے کہا جیسے سامنے کوئی عام سی بات ہو، کوئی اعتراف نہیں۔
کیوں تمہاری کوئی سیلف رسپیکٹ نہیں ہے؟؟یارم کے الفاظ تھے تو چوٹ کر کرنے والے مگر اس سے ابھی اندازہ نہیں تھا کہ سامنے مضبوط دل لڑکی ہے اس سے ایسی چوٹوں سے فرق نہیں پڑتا۔

ایزل نے یارم کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے سانس چھوڑا، جیسے دل میں ساری بات پہلے سے ترتیب دی ہوئی ہو۔ پھر وہ ذرا سا آگے ہوئی، اپنی کہنی دوبارہ اس کے سینے پر ٹکاتے ہوئے شرارتی سنجیدگی کے بیچ کا وہی خاص انداز لائی جس میں اس کی اصل پہچان تھی۔

“سیلف رسپیکٹ تو میری بہت ہے… مگر وہ میں نے اوروں کے لیے سنبھال کر رکھی ہے۔”
وہ ایک پل کو رکی، پھر ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لے آئی۔

“آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا نا… تو میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیتی۔”
اس نے انگلی اٹھا کر جیسے کسی فرضی شخص کو دھمکی دی۔
“آپ کی جگہ کوئی اور ایزل کو ناپسند کرتا… تو اس کی تو جان ہی لے لیتی۔ پورا گھر سر پر اٹھا لیتی… اور بےعزت کرنے میں ایک فیصد بھی رعایت نہ کرتی۔”
وہ بات ختم کر کے پُراسرار سا جھک کر قریب آئی، جیسے اس کی شرارت ہوا میں خوشبو بن کر گھل گئی ہو۔
“مگر آپ…”کے ساتھ تو چاہ کر بھی ایسا نہیں کر سکتی۔
وہ ہنس دی، وہی نٹکھٹ، ضدی، دل پر نہ لینے والی مسکراہٹ۔

“اس خاص عنایت کی وجہ پوچھ سکتا ہوں ؟”یارم نے تجسس سے پوچھا۔اسے سچ مچ ایزل کی ذہنی حالت پر شک ہو رہا تھا۔
ایزل نے شرم سے چہرے پر دل فریب سی نظریں گاڑے ہوئے دیکھا ۔
“ڈی ایس پی صاحب، آپ میری محبت ہیں۔۔۔پہلی نظر میں ہی مجھے تو آپ بہت اچھے لگے تھے۔۔۔بنا محنت کے بنا آنسوں بہائے۔میری محبت اللہ تعالی نے خود سے میری جھولی میں ڈال دی ہے، میں خوش ہوں کہ آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرے ہو چکے ہیں۔۔۔اس لیے آپ کے ساتھ میں کوئی بھی غیر اخلاقی حرکت نہیں کر سکتی “
وہ چھوٹی سی ناک کو سنگھوڑتے ہوئے مسکرا رہی تھی، یارم حیران تھا کہ شادی کی پہلی رات اسے پتہ چلنے کے باوجود کہ وہ اس کی محبت نہیں، ایزل کتنی پرسکون اور ریلیکس ہے۔ اس کے چہرے پر کوئی شکن نہیں، خوشی اور مسکان کی جھلک صاف نظر آ رہی تھی،

“کیا تم نے میری اور بابا لوگوں کی سب باتیں سنی تھی؟”

یارم نے تجسس اور حیرانی سے پوچھا، کچھ جاننے کی خواہش لیے۔

ایزل نے بغیر جھجک کے جواب دیا۔
“ہاں، سب سن لی تھی۔ مگر جب آپ لوگ دھیمے لہجے میں بولتے تھے، تو کان لگانے کے باوجود کچھ باتیں سنائی نہیں دیتیں تھیں، بیچ بیچ سے کچھ باتیں رہ گئیں۔ پھر بھی میں نے زیادہ تر سب سن لیا۔”

وہ خود سے بولتی رہی، “آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ کچھ اور بھی ہے اس شاکنگ نیوز کے بعد کہ آپ مجھے پسند نہیں کرتے…”

“نہیں اور تو کچھ بھی نہیں ایسا… یارم کا لہجہ کھویا کھویا سا تھا۔

“گڈ۔۔۔۔اور کچھ ہونا بھی نہیں چاہیے… ایزل کا محبت سےحکم دینے والا انداز تھا ……یارم کے ذہن میں یقین جا چکا تھا کہ اس نے وہ بات نہیں سنی کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے۔

“ڈی ایس پی صاحب، ایک بات کا دھیان رکھیے گا۔۔۔”
ایزل نے نظریں اٹھائے، ہلکی سنجیدگی کے ساتھ کہا، جیسے کوئی انتباہ دے رہی ہو۔یارم اس کی سنجیدگی پر متوجہ ہو کر سننے لگا۔

“روم کے اندر چاہے جتنی مرضی مجھے اگنور کر کے میری بے عزتی کریں۔۔۔”
اس کی آواز میں تھوڑا طنز تھا، مگر لبوں پر ہلکی مسکان تھی۔

“مگر روم کے باہر، اگر آپ نے نظر انداز کرنے کی کوشش کی، تو ایزل کو اپنی طرف متوجہ کرنا آتا ہے۔۔۔”اس کی آنکھوں میں چبھتا سا اشارہ تھا۔

“میں اپنی مرضی کی مالک ہوں، یہ دھمکیاں جا کر کسی اور کو دینا۔۔۔”
یارم نے سرد سے لہجے میں کہا۔
“ویسے، اگر روم کے باہر میں تمہیں اگنور کر دوں تو پھر کیا کرو گی؟”
یارم خان نے متلاشی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اچھا اندازہ لگانا چاہتا تھا کہ اگنور کرنے پر میڈم کیا کر سکتی ہے۔۔

“آپ اگنور کرکے دیکھیے گا، پھر بتاؤں گی۔۔۔”
ایزل نے سر اٹھائے، کندھوں کو آرام سے پیچھے کرتے ہوئے اور آنکھوں میں اعتماد بھرے شاہانہ انداز کے ساتھ کہا۔

“اگر تم مجھے دھمکی دے رہی ہو تو تمہاری دھمکیوں کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہونے والا۔۔۔
یارم بیڈ کی جانب اوپر کی طرف کھسکتے ہوئے ایزل سے تھوڑا سا فاصلے پر ہو گیا۔ وہ اب بھی اپنے پاؤں لٹکائے بیٹھی تھی، مگر اب ان کے درمیان ہلکا سا فاصلہ پیدا ہو گیا تھا۔

“ڈیئر ہسبینڈ، ازل دھمکیاں دینے والا نہیں، کر کے دکھانے والا ہے!”عبیرہ مسکراتی ہوئی، تھوڑا شرارتی انداز میں بولی،

تم چیز کیا ہو یار۔۔۔
ڈیڑھ چھٹانک کی ساری ہو اور باتیں اتنی بڑی بڑی۔۔۔
تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا؟”
یارم، کو اسکی ہر حرکتیں دیکھ کر حیرت اور صدمہ ہو رہا تھا۔

“نہیں، مجھے تو آپ سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔
مجھے تو آپ پر بہت سا پیار آ رہا ہے۔۔۔
اگر اجازت ہو تو تھوڑا سا پیار جتا کر دکھاؤں۔۔۔”
عبیرہ شرارتی بچوں کی طرح دانت نکال کر، بے جھجک اور شوخ لہجے میں بولی۔

“جی نہیں، میری طرف سے ایسی کوئی اجازت نہیں، اور دور ہٹو۔۔۔”
یارم نے سرد لہجے میں کہا، آنکھوں میں سنجیدگی تھی …

“ڈی ایس پی صاحب، یہ آنکھیں کسی اور کو دکھائیے گا، میں تو بیوی ہونے کا حق جتا کر جاؤں گی۔۔۔
اس کے لبوں پر ہلکی مسکان، آنکھوں میں چمک اور کندھے کی نرم حرکت نے اس کے عزم کو واضح کر دیا۔
وہ یارم کو سوچنے سمجھنے کا ایک پل بھی نہ دے سکی۔ بس ہلکی سی جھکائی ہوئی، سانسوں کی گرمی اس کے قریب لاتی ہوئی، کوئی نرم سی چھونے جیسی کیفیت گال پر چھوڑ کر فوراً پیچھے ہٹ گئی۔ یارم کو بس اتنا محسوس ہوا جیسے لمحہ اس کے گال پر ٹھہر کر خاموشی سے کوئی راز کہہ گیا ہو۔

یارم حیران نظروں سے اسے دیکھے جا رہا تھا لڑکی تھی کہ پٹاخہ وہ سمجھ نہیں پایا،جو کرتے ہوئے مرد بھی سو بار سوچے ،وہ کتنے آرام سے کرکے ڈریسنگ روم میں بھی جا چکی تھی۔۔۔
جبکہ یارم ابھی تک سکتے کی حالت میں لیٹا ہوا تھا۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہے میں کیوں سکتے میں آؤں گا؟؟
ہاں تمہاری حرکت بےہودہ تھی اس کے لیے میں حیران ہوں۔۔۔گھبراہٹ کو سنبھالتے ہوئے یارم نے جواب دیا۔

“کہیں پر نہیں لکھا کہ اپنے ہسبینڈ کو کس کرنا بےہودہ حرکت ہے۔۔۔
جب کہ یہ حرکت ہسبینڈ کو کرنی چاہیے،جب ہسبینڈ کنجوس ہو تو حق جمانا ثواب کا کام ہوتا ہے۔۔۔مرر کے سامنے کھڑی ہو کر تیار ہونے کے لیے موئسچرائزر چہرے پر لگاتے ہوئے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے جواب دے رہی۔
“تم ضرورت سے زیادہ بولڈ ہو…. اور مجھے بولڈ لڑکیاں پسند نہیں…یارم نے زچ ہو کر کہا۔

“اور آپ ضرورت سے زیادہ شائے ہیں ….مجھے شائے لڑکے بالکل پسند نہیں۔۔۔ فوراً سے جواب دیا

“تو شادی سے پہلے میرے بارے میں اچھی طرح سے جانچ پڑتال کر لینی چاہیے تھی….میں تو ایسا ہی ہوں۔
تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی بہت ہی گھاٹے کا سودا کیا ہے۔۔۔
وہ اُٹھ کر ڈریسنگ روم کے اندر آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
وہ سامنے کھڑی ہو کر ہیئر ڈرائر کوتھامے لاپروا سے انداز میں سے اپنے بال کو خشک کر رہی تھی….

“مجھے آپ کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت نہیں ڈی ایس پی صاحب۔۔۔
آپ مجھے ہر حال میں پسند ہیں بس آپ کا شائے ہونا پسند نہیں۔۔۔مگر کوئی بات نہیں اپنے پیار سے آپ کو میں بولڈ بنا دوں گی۔۔۔
وہ بھی ایزل تھی اسے کون سا یارم کی باتوں سے کوئی فرق پڑ رہا تھا۔۔۔

“بولڈ بنا دو گی۔۔ڈسکسٹنگ۔۔۔
لڑکی ہو کر ایسا کیسے بول سکتی ہو؟؟
یارم نے گھور کر دیکھتے ہوئے کہا اور ڈریسنگ روم سے جلدی سے باہر نکل گیا….

“ڈسکسنگ…….لڑکے ہو کر اتنا اوور ری ایکٹ کیسے کر سکتے ہو؟؟
وہ یارم کی نقل اُتارتے ہوئے مسکرا کر واپس جا کر ڈریسنگ مرر کے سامنے تیار ہونے لگی۔۔۔
اس کی صحت پر یا رم کی باتوں کا ذرا بھی اثر نہیں تھا۔۔۔
اس کے لیے تو اتنا ہی کافی تھا کہ یارم ہمیشہ کے لیے اس کا ہو چکا ہے۔۔۔

سچ کہتے ہیں کہ محبت انسان کو دیوانہ بنا دیتی ہے یہ تو یارم کی دیوانی کو دیکھ کر صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔
جو لڑکی کسی کا ایک لفظ برداشت نہیں کرتی تھی وہ یارم کے سخت جملے بھی مسکرا کر ہوا میں اُڑا رہی تھی

ایزل جھلی سی ضرور تھی مگر دل کی بے حد زندہ، صاف اور زندگی کو پورے شوق سے جینے والی لڑکی تھی اب یارم کے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اپنا خوابوں سے بھرا دل جوڑ کر زندگی کو کیا نیا رنگ دیتی ہے… لگتا تھا کہ کہانی ایک دلچسپ موڑ لینے والی ہے۔

واری دنیا کے دستور… کہیں خوشی کا میلہ لگتا ہے
کہیں دلوں کی بستیاں اُجڑتی ہیں، کہیں خوشیوں کا ہنگامہ رہتا ہے۔

═══════❖═══════

ولیمے کا فنکشن ایک مہنگے، شان دار ہال میں پوری آب و تاب سے جاری تھا۔ بارات اگرچہ سادگی سے رکھی گئی تھی چند خاص لوگوں تک محدود مگر آج کے فنکشن میں امارت اور سٹیچر کھل کر دکھائی دے رہے تھے۔۔۔
ہال کی چھتوں سے لٹکتے کرسٹل لیمپس، فرش پر بچھے نرم قالین، سنہری کناروں والی میزیں اور درمیانی حصے میں لگے تازہ پھول سب مل کر ایک شاہانہ منظر بنا رہے تھے

مہمانوں کا ہجوم بھی پہلے دن کے برخلاف خاصا زیادہ تھا لوگ دور دور سے آئے ہوئے تھے کوئی سلام کرنے میں مصروف تھا کوئی تصویریں بنوا رہا تھا کوئی کھانے کی ٹیبل پر چمکتے ڈشز دیکھ کر تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا

ایزل کو لائٹ گرے اور سلور کام والی میکسی میں آراستہ کر کے یارم کے ساتھ اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا روشنی جب اس کے لباس پر پڑتی تو وہ کسی چاندی کے قطرے کی طرح دمک اٹھتی تھی

یارم خان اپنے ٹریڈیشنل پٹھانی لباس میں بےحد وجیہہ لگ رہا تھا سفید کرتا شلوار، پٹھانی واسکٹ اور پشاوری چپل نے اسے ایک مکمل، باوقار دلہا میں ڈھال دیا تھا جیسے کسی پرانی کہانی سے نکلا ہوا شہزادہ ہو
ایزل کی نظریں بار بار اس پر جا ٹکیتیں تھیں جیسے اردگرد کی ساری ہلچل کہیں پیچھے رہ گئی ہو

ایزل کی فیملی اس کے قریب ہی اسٹیج پر بیٹھی ہوئی تھی سب کے چہروں پر سکون اور خوشی کا امتزاج تھا
دوسری طرف یارم خان سب سے خوش اخلاقی سے بات کر رہا تھا مگر اس کی آنکھوں میں ایک ہلکی سی تھکن اور بےچینی چھپی بیٹھی تھی اگر بس چلتا تو وہ شاید اسی لمحے اس ہجوم سے نکل جاتا۔۔۔
مگر آج کا دن اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں تھا اور وہ جھوٹی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی زمہ داری نبھاتا بیٹھا تھا۔
ایزل نے یارم کی جانب دیکھتے ہوئے ہلکی سی کونی ماری۔ مسکراتی نظریں سامنے چلتے پھرتے لوگوں پر تھیں، مگر آہستہ سے سرگوشی کی،

“ڈیئر ہسبینڈ، چہرے پر یہ فیک مسکراہٹ سے بہتر ہے کہ مت ہنسو۔ لوگ سمجھ جائیں گے کہ بندہ سیریس پرسنلٹی کا ہے، اس لیے نہیں ہنس رہا۔”

“چپ کر کے بیٹھو۔ یارم نے نظریں سامنے رکھتے ہوئے بس اتنا کہا۔

“سوری، یہ جاب آپ سنبھال کر رکھیں، میں چپ نہیں رہ سکتی۔ ایزل نے لاپرواہی سے ہاتھ اٹھا کر جواب دیا۔

“تو ٹھیک ہے، پھر دانت نکالنے والا اور فضول بولنے والا کام تم ہی سنبھال لو۔ مجھ سے نہیں ہوگا۔ یارم نے آہستہ سے سرگوشی کی، نظریں اب بھی سامنے تھیں۔

“ہاں؟ اس کا کیا مطلب ہوا؟ مطلب میں فضول بولتی ہوں؟ وہ منہ کھولے یارم کو گھور رہی تھی۔

“اللہ کا واسطہ ہے، تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو جاؤ۔ اردگرد دیکھو، سب کی نظریں ہم پر ہیں۔ یارم نے چہرہ ذرا سا موڑ کر سرگوشی کی۔ اسے ایزل کا یوں کھل کھلا کر بات کرنا عجیب لگ رہا تھا۔

“دیکھتے ہیں تو دیکھنے دو۔ اتنی خوبصورت جوڑی ہے، لوگ حسرت سے ہی دیکھیں گے۔ اللہ ہمیں بری نظروں سے بچائے۔ آمین ثم آمین۔ رکو، میں آپ پر آیت الکرسی پڑھ کر دم کر دیتی ہوں، کسی لڑکی کی بری نظر نہ لگ جائے۔
وہ واقعی آیت الکرسی پڑھتے ہوئے تین مرتبہ پھونکیں مار رہی تھی، اور یارم ماتھے پر انگلیاں رکھ کر آنکھیں بند کر چکا تھا۔

“مجھے……. کسی کی نظر نہیں لگے گی۔ مت کرو ایسے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ یارم شرمندہ سا ہو رہا تھا۔

“تو دیکھنے دو۔ میں اپنے شوہر پر دم کر رہی ہوں، اس میں غلط کیا ہے؟تین بار آیت الکرسی پڑھتے ہوئے اس نے یارم پر دم کر کے ہی چھوڑا تھا۔۔
اس سے پہلے کہ یارم کا صبر جواب دیتا، شادی میں آئی ہوئی کچھ لڑکیاں اچانک excited سی حالت میں دلہا دلہن کے ساتھ تصویریں بنوانے آ گئیں اور یارم کی جان چھوٹ گئی۔

              ═══════❖═══════

انشاء صارم سے کیے ہوئے وعدے کے مطابق، سب کی نظروں سے بچتے ہوئے صارم کے بلانے پر ہال کی سیکرٹ سائیڈ پر پہنچ گئی تھی۔ ہر قدم پر دل تیز دھڑک رہا تھا، بھائی کے ڈر کی وجہ سے ایک عجیب سا خوف بھی تھا، مگر اس کے غصے کی چمک آنکھوں میں صاف نظر آ رہی تھی۔

صارم ایک طرف کھڑا تھا، نظریں اس پر جمائی ہوئی تھیںط
“بتائیں، میں نے آپ کے گھر سے کیا چرایا ہے؟” انشاء کی آواز میں غصہ تھا، آنکھیں شدید سوالیہ انداز میں سارم پر مرکوز تھیں۔
صارم خاموش رہا، بس انشاء کی معصوم مگر پراثر آنکھوں میں ڈوبا رہا،سارم کی آنکھوں میں پسندیدگی صاف دکھائی دے رہی تھی۔مگر انشاء کو اس وقت صرف اپنا غصہ دکھائی دے رہا تھا۔

“مجھے اس طرح گھورنا بند کریں، سمجھیں، میں یہاں صرف یہ کلیئر کرنے آئی ہوں کہ میں نے آپ کے گھر سے کوئی چیز نہیں چرائی، اور نہ ہی ہم ایسے لوگ ہیں جو لوگوں کے گھروں سے چیزیں چراتے پھریں…” انشاء نے اپنی بات کو واضح اعلانیہ طور پر کہا۔لیکن اندر ہی اندر دل کی دھڑکن تیز تھی۔

صارم نے آنکھیں نہیں ہٹائیں، بس خاموشی سے انشاء کی ہر بات کو محسوس کیا، دل میں محبت اور احترام کے جذبات کے ساتھ۔

“مس انشاء، چوری تو آپ نے کی ہے…” سارم نے رازدانہ انداز میں کہا،
انشاء نے ناک کو تھوڑا سا پھلاتے ہوئے غصے کے ساتھ اس کی جانب دیکھا ، “تو بتائیں نا، کیا چرایا ہے اور ثبوت دکھائیں!” اس کی نظریں ادھر ادھر گھوم رہی تھیں، خوف اور شرم کے درمیان، تاکہ کوئی اسے دیکھ نہ لے۔ دل میں بھائی کا ڈر اور اپنی عزت کی فکر دونوں موجود تھیں۔

“مس انشاء، آپ نے میرا دل چرایا ہے، وہ بھی میری اجازت کے بغیر…” سارم کی آواز میں محبت اور ہلکی سی نرمی تھی، جو انشاء کے دل میں ایک اور ردعمل پیدا کر گئی۔

“کیاااا۔۔۔” انشاء حیرت اور تھوڑی شرمندگی کے درمیان رک گئی، آنکھوں میں غصہ اور حیرت
دونوں جھلک رہے تھے۔

انشاء جو غصے سے بھری ہوئی تھی، صارم سے اپنے سوال کا جواب چاہتی تھی، مگر صارم کے جواب پر اس کی آنکھیں باہر آنے کو تھیں۔ دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے رک جائے، اور پیروں تلے زمین کھسک گئی ہو۔

ایسی بات آج تک اس سے پہلے کبھی کسی نے کہنے کی جرات نہیں کی تھی۔ بات کرنے کو تو انشاء ایزل سے دو سال بڑی تھی، لیکن کانفیڈنس لیول چیک کیا جائے تو انشاء، ایزل کے مقابلے میں بالکل زیرو تھی۔

انشاء اپنی عمر سے چھوٹی اور معصوم لگتی تھی۔ اس کا ہر انداز محتاط، ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا ہوا، اور ہر بات میں خوف کی ہلکی سی جھلک تھی۔ ایزل کے مقابلے میں وہ بالکل مختلف تھی۔ایزل تو پٹاخہ تھی، جس کی باتوں اور انداز میں جرات صاف نظر آتی تھی۔

انشاء کے لیے صارم کی بات اس کی سوچ سے کہیں بڑی اور حیران کن تھی۔ وہ اپنی حدود میں رہنے والی، ڈرپوک اور اپنے گھر والوں کی بنائی ہوئی حدود کی پابند لڑکی تھی، اور آج اس کے سامنے وہ شخص کھڑا تھا جس نے اس کی دنیا بدل دینے والی بات کہہ دی تھی۔ دل کے اندر خوف، حیرت اور ساتھ موجزن تھے،

“ارے ……میری بات تو سنیں کہاں بھاگی جا رہی ہیں؟؟

انشاء، جو صارم کی بات سنتے ہی اُلٹے قدموں اپنی لونگ ڈارک فراک کے دامن کو مٹھیوں میں دبائے واپس بھاگنے لگی تھی، صارم نے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کی کلائی تھام لی۔۔۔ وہ اچانک رکی، جیسے کسی نے اس کا سانس روک دیا ہو۔

چچ۔۔۔چچ۔۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔۔ وہ لفظوں کو توڑتی ہوئی رو پڑی، آنسو ایک دم سے بہہ نکلے۔۔۔ گالوں سے پھسلتے ہوئے اس کے ڈر کی پوری کہانی سنا رہے تھے۔

انشاء یار، کیا ہو گیا ہے؟ میں نے ایسا بھی کیا کہہ دیا کہ تم نے تو رونا ہی شروع کر دیا؟ صارم نے نرم دل سے اس کے آنسو صاف کرنے کو ہاتھ بڑھایا۔۔۔
انشاء نے کپکپاتے ہوئے اس کا ہاتھ جھٹک دیا، اور سرخ پڑتی آنکھوں سے اوپر دیکھا، جیسے کسی نے اسے دیوار سے لگا دیا ہو۔

“پلیز ….مجھے جانے دیں۔۔۔ اگر لالہ نے مجھے یہاں دیکھ لیا تو لالہ میرے ساتھ ساتھ آپ کی بھی جان لے لیں گے…. وہ بے جان سی کوشش سے اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کرتی، روتی جا رہی تھی۔۔۔

صارم حیران رہ گیا۔
آج کے دور میں کوئی لڑکی اس لیے رو رہی ہو کہ اسے پروپوز کیا گیا ہے؟ یہ اس کے لیے ناقابلِ فہم تھا۔

“یار تمہارے لالہ اس وقت مصروف ہیں،ان کے گرد اتنے مہمان ہیں۔ وہ سٹیج سے اٹھ کر نہیں آ سکتے….

“اور ہم یہاں کسی غلط ارادے سے نہیں آئے کہ وہ آکر قتل و غارت شروع کر دیں گے۔۔۔
پلیز اپنے آنسو صاف کریں۔۔۔ اس نے بھاری سانس لیتے ہوئے دھیمے لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی۔
صارم اس کی گھبراہٹ اور اس کی معصوم شکل پر نثار ہو رہا تھا۔۔۔
کچھ دیر پہلے تک وہ اسے صرف پسند کرتا تھا۔۔۔ مگر اب؟
انشاء کی سادگی اور بے ساختہ خوف نے اس کے دل میں اس کے مقام کو اور بھی مضبوط کر دیا ۔

“انشاء… پلیز رونا بند کریں۔۔۔ میں آپ کو کھاؤں گا نہیں۔۔۔
بس تھوڑی دیر آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ آپ کو پروپوز کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔۔۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں آپ کو کیسا لگتا ہوں۔۔۔ میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ اس کی کپکپاہٹ دیکھ کر جلدی جلدی سب کچھ کہتا چلا گیا، شاید چاہتا تھا کہ انشاء اس کی باتوں کو سنے بغیر نہ جائے۔شادی کا اس لیے بتا دیا کہ وہ اسے غلط نہ سمجھے۔

،،مم۔۔ مجھے آپ بالکل اچھے نہیں لگتے۔۔۔ پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔
ہمارے گھر میں ایسے فیصلے لالہ اور بابا کرتے ہیں۔۔ آپ نہیں جانتے اگر لالہ یا بابا نے مجھے یہاں آپ کے ساتھ دیکھ لیا تو وہ خفا ہو جائیں گے۔۔۔
انشاء کی آواز کانپ رہی تھی۔ صارم نے اس کی کلائی تھامی ہوئی تھی اور اسے صاف محسوس ہوا کہ انشاء کا پورا وجود لرز رہا تھا۔

،،انشاء میں پورے دل سے تمہیں اپنانا چاہتا ہوں، تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔
اور میں تمہیں ناپسند کیوں ہوں؟
کیا تم کسی اور کو پسند کرتی ہو؟
صارم نے دکھی اور ٹوٹے دل والی نظروں سے پوچھا۔

،،نن۔۔ نہیں میں کسی کو پسند نہیں کرتی۔۔۔
میں آپ کو ایسی خراب لڑکی لگتی ہوں؟؟
انشاء نے سچ میں تڑپ کر کہا۔ صارم اس کا جواب سن کر بے اختیار مسکرا دیا تھا۔

،،کس نے کہا کہ کسی کو پسند کرنے والی لڑکیاں خراب ہوتی ہیں؟

،،مجھے پتہ ہے۔۔۔
جو لڑکیاں گھر والوں کی مرضی کے بغیر کسی کو پسند کرتی ہیں وہ خراب ہوتی ہیں۔۔۔
ان کی وجہ سے ان کی فیملی کا سر جھک جاتا ہے۔۔۔
انشاء نے لرزتی ہوئی آواز میں نظریں جھکا کر کہا۔

،،اچھا جی۔۔۔ یہ نیا نالج آج آپ سے ملا ہے، اس سے پہلے تو مجھے ایسا نہیں لگتا تھا کہ کسی کو پسند کرنا کوئی برائی ہے۔۔۔
اگر میرے گھر والے رشتہ لے کر آئیں تو کیا آپ مجھے قبول کریں گی؟
صارم نے متلاشی نظروں سے اسے دیکھا۔

،،مم۔۔ م۔۔ میں کیسے قبول کر سکتی ہوں؟
یہ فیصلہ تو لالہ اور بابا لیں گے۔۔۔
پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔
وہ پھر سے گھبرا گئی تھی۔ صارم کی آنکھوں میں محبت بڑھتی جا رہی تھی اور یہی چیز انشاء کی سانسیں منتشر کر رہی تھی۔

،،پلیز انشاء۔۔۔ میں آپ سے پیار کرنے لگا ہوں۔۔۔
آپ مجھے پہلی نظر میں اچھی لگی تھیں۔۔۔
دل توڑ کر مت جائیے۔۔۔
صارم نے ایک بار پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے رکا لیا۔میں تمہارے لیے سیریس ہوں یار۔۔

اسی لمحے انشاء کا فون بجا۔ اس کی مورے کا نمبر چمک رہا تھا۔
انشاء کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

صارم نے فوراً اس کی گھبراہٹ محسوس کر کے اس کی کلائی چھوڑ دی۔

،،جج۔۔ جی مورے۔۔۔
مم۔۔میں یہیں ہوں۔۔۔
جی میں ابھی آئی۔۔۔
انشاء نے جلدی سے فون کان سے لگایا، فراک کا کنارہ اٹھایا اور بھاگتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔

وہ ڈارک بلو، پیروں کو چھوتی فراک میں بہت معصوم اور بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔

،،ہائے۔۔۔۔۔۔ معصوم مس انشاء ،جی۔۔۔
آپ کو تو اپنا بنانا ہی پڑے گا۔۔۔
دل آگیا ہے آپ پر صارم خان کا۔۔۔
وہ لمبی سانس لے کر مسکرایا۔

،،بہت جلد آپ کے نام کو اپنے نام سے منسوب کرنے کا ارادہ کر چکا ہوں۔۔۔
صارم اس کی جاتی ہوئی پرچھائی کو دیکھ کر دیر تک مسکراتا رہا۔

          ═══════❖═══════

،،آریان خان روم سے نکل کر بالکونی میں کھڑا تھا۔۔۔
باہر شدید ٹھنڈ پڑ رہی تھی۔ سکاٹ لینڈ میں ویسے بھی برف باری اور سخت سردی عام تھی۔۔۔
ہیٹر والے کمرے کی گرم فضا سے نکل کر جب وہ اچانک ٹھنڈی ہوا میں آیا تو سردی اس کے وجود میں سوئیوں کی طرح اترنے لگی۔
ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس وہ اس موسم کا مقابلہ نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔
لیکن اس وقت اس کے ذہن میں سردی سے زیادہ عبیرہ کا خیال چل رہا تھا۔۔۔

،،اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ خوش ہو یا افسوس کرے۔
عبیرہ کے قریب ہونا اس کے دل کو سکون دے جاتا تھا۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے بھی اس کی قربت نے آریان کو ایک عجیب سی راحت دی تھی۔۔۔اس نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔
دل نے زبردستی اس لمحے کی قید میں آ کر محبت کے کچھ قیمتی سے جذبات اس تک مختصر سے پہنچائے تھے،
مگر وہ اس سے سخت ناراض تھی۔۔۔
لیکن عبیرہ کا غصہ، اس کی ناپسندیدگی، اس کی نفرت۔۔۔ یہ سب آریان کے دل پر بوجھ بن چکی تھیں۔
اور دل یہ بھی مانتا تھا کہ عبیرہ اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک ہے۔۔۔

،،ایسے الجھے ہوئے جذباتوں میں وہ پہلے کبھی نہیں پڑا تھا۔
یہ زندگی میں پہلی بار تھا کہ وہ اپنے ہی دل پر سوال اٹھا رہا تھا۔۔۔
اپنی ہی سوچ سے لڑ رہا تھا۔۔۔‘‘

،،وہ کچھ دیر تک لکڑی کی چھوٹی سی ریلنگ پر ہاتھ رکھے، سکاٹ لینڈ کی خوبصورت سوسائٹی کو دیکھتا رہا۔
صفائی، سکون، خاموشی، روشنیوں کا پھیلاؤ۔۔۔ سب کچھ دل موہ لینے والا تھا۔۔۔
مگر آریان کا دل وہیں کا وہیں بے چین کھڑا رہا۔۔۔‘‘

،،نظاروں میں کھو کر بھی اسے چین نہ ملا تو وہ گہری سانس لے کر واپس اندر آگیا۔
دروازہ کھولا تو جسم نے فوراً گرمائش محسوس کی۔۔۔
اور کچھ قدم آگے بڑھا تو وہ ٹھہر گیا۔‘‘

،،عبیرہ وہیں بیٹھی تھی۔۔۔
بالکل اسی جگہ۔۔۔
جہاں اسے چھوڑ کر وہ باہر آیا تھا۔۔۔‘‘
دونوں ہاتھ گھٹنوں کے گرد باندھے، سر جھکا ہوا، آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
آریان خاموشی سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور ایڑھیوں کے بل بیٹھ گیا۔

،،کس بات کا ماتم کر رہی ہو۔؟
شوہر ہوں تمہارا،صرف ایک لمحے کی قربت پر اتنا رونا کیوں۔؟پوچھ سکتا ہوں ۔کون سی اتنی بڑی غلطی کر دی ہے؟
وہ دھیمے لہجے میں بولا۔

عبیرہ نے لال ہوئی آنکھوں سے گھورتے ہوئے سر اٹھایا۔

،،جھوٹ مت بولیں
کیا یہ صرف ایک لمحے کی قربت تھی؟
اس کی آواز کانپ رہی تھی۔

آریان کی مسکراہٹ میں تھوڑی سی شرارت تھی مگر نگاہوں میں نرمی تھی۔

،،نہیں وہ لمحہ صرف قربت نہیں تھا
اس میں بہت کچھ تھا جو لفظوں میں نہیں سما سکتا۔مسکراتی نظروں سے توجہ کا مرکز عبیرہ ہی تھی۔

،،آپ کو شرم نہیں آتی؟
عبیرہ نے غصے سے دیکھا ۔

،،جب تم سے نکاح کیا تھا اسی وقت بتا دیا تھا کہ شرم اور میرا کوئی رشتہ نہیں ہیں
مگر تمہارے معاملے میں کوشش کرتا ہوں کہ کہیں سے تھوڑی بہت رشتہ داری بنا کر رکھ لوں
لیکن شرم خود مجھ سے کوئی رشتہ داری نہیں بنانا چاہتی جب بھی ہاتھ بڑھاتا ہوں ،وہ روٹھ کر چلی جاتی ہے۔
اب اس میں میرا کیا قصور؟
وہ بے ساختہ سا چہرہ بنا کر بولا۔نظروں میں شرارت لبوں پر دبی سی مسکراہٹ تھی۔

،،قسم سے دل چاہتا ہے اپنے ہاتھوں سے اپ کی جان لے لوں۔۔عبیرہ ہاتھ کی پشت سے گالوں پر آئے ہوئے آنسوؤں کو باری باری بے دردی سے صاف کرتے ہوئے کہا۔
،،تو کس نے روکا ہے؟
میری جان، تم پر تو حق ہے۔
وہ ذرا سا جھکا… اس کے لہجے کی گرمی عبیرہ کی سانسوں کو بھٹکا رہی تھی۔

اس کی آنکھوں میں جیسے کوئی عجیب سی طلب ٹمٹما رہی تھی
وہ پاکیزہ سا جذبہ گویا پہلی بار اس کے دل پر ہلکی سی روشنی بن کر اترا تھا۔

عبیرہ نے سر ہلکا سا موڑ کر دوسری جانب دیکھا، دل میں ایک خالی سا ساون بھرا ہوا۔
“مجھے کوئی حق نہیں چاہیے…” اس کی آواز خاموش مگر پُر اثر تھی۔

آریان خان نے سر کے بل سامنے جھک کر سرگوشی کی، “پلیز، مت تڑپاؤ مجھے، عبیرہ… یہ رخ بدلنا، مجھے اچھا نہیں لگتا۔”

عبیرہ کی نگاہیں اس کی آنکھوں سے ٹکرا گئیں، لیکن فوراً ہی جھک گئیں… دل کے اندر ایک طوفان سا اٹھ رہا تھا۔ ہر لمس، ہر سرگوشی، ہر خاموشی کی گہرائی، اس کے دل میں ایک نرم دھڑکن پیدا کر رہی تھی۔ کچھ کہنے کو زبان تیار نہ تھی، پھر بھی ہر لمحہ، ہر نظر ایک قصہ کہہ رہی تھی…جو کچھ اس کی نظروں میں تھا عبیرہ اس کو دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔

،،کب تم نفرت کے پردے سے نکل کر میری محبت میں بدل گئیں مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا۔؟” تم مجھ سے محبت کیوں نہیں کر سکتی ۔
آریان خان نے کے لہجے میں رس گھولتا ہوا شہد تھا، ایک عاشقانہ سرور جو لمحوں کے لیے عبیرہ پر اثر ڈال گیا، مگر وہ فوراً سنبھل گئی۔

،،زندگی میں ہر چیز ویسی نہیں ہوتی جیسی آپ چاہیں…اور محبت کوئی حکم نہیں سے زبردستی مان لیا جائے ۔”
عبیرہ بہادری دکھانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آریان کے قریب سے آتی ہوئی سانسیں، اس کی جلد کے کناروں کو چھو کر گزر رہی تھیں۔ ہر لمحہ، ہر ہلکی جنبش، اس کے دل کی دھڑکن کو تیز کر رہی تھی، اور وہ لرزش، جو وہ چھپانے کی پوری کوشش کر رہی تھی، چھپ نہیں پا رہی تھی۔

اس کی نگاہیں زمین کی طرف جھکیں، لیکن دل بے اختیار اس کی موجودگی کی طرف کھنچ رہا تھا۔ ہر لمحہ، ہر لمحہ کی سرگوشی، ہر خاموشی میں چھپی گرمائش، اسے اندر سے ہلکا سا پگھلا رہی تھی، اور وہ خود بھی نہ جانتے ہوئے اس اثر میں گرفتار ہو رہی تھی۔
آریان کے لبوں پر خفیف سا تبسم آیا۔

،،تم جانتی ہو… اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو گستاخی کی ایسی سزا دیتا کہ کبھی مر کر بھی نہ بھولتا۔
مگر تمہیں اجازت ہے…
جتنی چاہو تکلیف دو۔
میرا دل جتنے ٹکڑے کرنا چاہو، کر دو…
کیونکہ تم نے مقابلہ برابر کا کر دیا ہے۔
آریان خان کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت ہر کسی میں نہیں ہوتی۔

وہ مدھم سا جھکا…
اتنا قریب کہ عبیرہ کی سانسیں بے ربط ہونے لگیں۔
اگر وہ ایک انچ بھی ہلتی
تو فاصلے کا آخری دھاگا بھی ٹوٹ جاتا…

عبیرہ کے دل میں ایک نرم سی کپکپی اٹھی تھی، جیسے اس کی پوری ہستی آریان کی موجودگی کے حصار میں قید ہو رہی ہو۔ وہ چاہ کر بھی اپنے اندر اٹھتی لرزش کو روک نہیں پا رہی تھی۔

،،زندگی میں آج تک بہت لوگ خود پر قربان ہوتے دیکھے
مگر پہلی بار کسی نے آریان خان کو ٹھکرا کر دکھایا
اب تمہاری محبت کا قرب پانا میرا جنون ہے
یا تو محبت سے میری قید میں آؤ گی۔۔۔
یا زبردستی ہی صحیح میں ہمیشہ کے لیے قید میں رکھوں گا ، تمہیں کھونے کی غلطی کبھی برداشت نہیں کروں گا۔
سرگوشی اس کی روح تک اتر رہی تھی
عبیرہ پیچھے سرکتی جا رہی تھی۔

،،یوں دور بھاگ کر مجھے جانور مت بناؤ ۔
میں نے خود کو حدوں میں رکھا ہوا ہے
ورنہ تم مجھ سے چاہ کر بھی دور جا ہی نہیں سکتی ۔
اس گرد نرم سا حصار بناتے ہوئے بازوؤں میں سمیٹ گیا۔۔۔بالکل ایسے جیسے قیمتی چیز کو دنیا کی نظروں سے چھپا کر رکھ لیا گیا ہو۔

عبیرہ کے دل کی دھڑکنیں تیز تھیں
گھبراہٹ، بے بسی، اور انجانی کپکپی
سب مل کر اس کے وجود کو ہلا رہے تھے۔

آریان کے لبوں پر حقیقی مسکراہٹ آئی۔

،،اب تو میں کچھ بھی نہیں کہتا۔پھر کیوں مجھ سے ڈرتی ہو ۔؟
وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا
بال کان کے پیچھے کرتا گیا
نگاہیں محبت اور بے بسی سے بھر چکی تھیں۔

،، پلیز مجھے بتاؤ
محبت نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟
اپنوں کی بات سائیڈ پر رکھ کر کہو،
وہ درد میں جانتا ہوں،اس کے سوا ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے تم مجھ سے دور بھاگتی ہو۔

آریان نے اس کے گالوں کو ہلکے سے چھوتے ہوئے اس کے آنسو پونچھے۔

،،عبیرہ……آنسو روک لو
میں ان کو اور برداشت نہیں کر سکتا
جو دل میں ہے کہہ دو۔عبیرہ کا رونا اسے تکلیف دے رہا تھا۔

،،نہیں کہہ سکتی …..آپ سچ سن کر غصہ کریں گے……عبیرہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا۔

،،جب اتنا سن لیا ہے…. تو اب کیا رہ گیا
آج جو کہنا ہے کہہ دو
میں ہنس کر سنوں گا
وہ وعدہ کرتا ہوں۔

،،پکا؟عبیرہ کہا ،نظریں اس کے چہرے پر تھی۔

،،تمہارے سر کی قسم
کچھ نہیں کہوں گا
جو دل میں ہے وہ بول دو بول دو۔۔۔نظر عبیرہ کے چہرے پر تھی۔آریان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے قسم کھائی۔
ایک بازو کا حصار اس کے گرد رکھا ہوا تھا۔
وہ اس کے اتنے قریب بیٹھا تھا کہ سانسوں کی آواز تک سنائی دے رہی تھی… اس کے جواب کا بےچینی سے منتظر تھا۔

“مجھے آپ اچھے نہیں لگتے!!”مدھم کی آواز تھی

“یہ بات میں جانتا ہوں!!”
آریان کی نشیلی سی آنکھیں اس کے چہرے پر ٹھہری تھیں، اور لہجے میں دبی ہوئی سی محبت کی ایک نرم سی خماری گھلی ہوئی تھی۔

“آپ مجھے….. بالکل اچھے نہیں لگتے!!”

“یہ بھی جانتا ہوں!!”

“آپ بہت برے ہیں!!

“نہیں ….میں بہت خوبصورت ہوں!!

“مگرآپ کا کردار بہت گندا ہے!!”

آریان کی آنکھیں لمحہ بھر کو ساکت ہوئیں، پھر وہ آہستگی سے بولا،
“ثابت کر کے دکھاؤ…
“آریان خان کی قربت کا شرف صرف تمہیں ملا ہے.”

“جھوٹ بول رہے ہیں!!”
عبیرہ غصے سے دہک اٹھی۔

“میں کسی سے ڈرتا نہیں، اس لیے مجھے کبھی جھوٹ بولنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔”آریان پرسکون لہجے میں بولا،

“آپ نے خود کہا تھا کہ بہت سی لڑکیاں آپ پر مرتی ہیں!!”
“یہ بات آج بھی مانتا ہوں… لڑکیاں میری شکل اور میرے انداز پر فدا ہیں۔”

“آپ نے خود کئی بار کہا کہ لڑکیاں آپ کی کشش سے متاثر ہو کر آپ تک آتی ہیں، آپ کی دسترس میں ہوتی ہیں… لڑکیاں اپنی مرضی سے آپ کے قریب آتی ہیں!!”

،،ہاں… یہ بھی سچ ہے
لڑکیاں آتی ہیں، وہ بھی اپنی خوشی سے قریب تک‘‘
آریان نے نظریں جھکا کر سانس سنبھالا اور صاف گوئی سے کہا۔
عبیرہ کی آنکھیں غصے سے سلگ اٹھیں۔ اس کی آواز کٹ دار ہوئی،

“تو قریب تک…. کیا آپ کی نظر اُتارنے کے لیے آتی ہیں؟؟
میں آپ کو پاگل لگتی ہوں؟؟”
عبیرہ نے اسے سخت نگاہوں سے گھور کر دیکھا ۔

“مجھے کیوں لگ رہا ہے… تم جل رہی ہو؟”
آریان نے نظریں اس پر ایسی ٹکائیں جیسے اس کے دل تک اتر جانا چاہتا ہو، لبوں پر مدھم سی نشیلی مسکراہٹ تھی جو لہجے میں بھی رس گھول رہی تھی۔
“مجھے کوئی ضرورت نہیں جلنے کی…”
وہ فوراً نظریں چرا کر ایک طرف دیکھنے لگی، جیسے دیوار پر توجہ جما کر اپنے بھٹکتے احساسات کو چھپا رہی ہو۔
“میری طرف دیکھ کر بات کرو…”
آریان خان نے آہستہ سے اس کی ٹھوڑی تھامی، نرمی سے اس کا چہرہ اپنی سمت موڑ دیا۔
اس لمس میں ایسا سکون تھا جو عبیرہ کے اندر تک تیر گیا، اور وہ چند لمحے کیلئے سانس لینا بھی بھول گئی…
،،سب کچھ کہنے کا حق دیا ہے،
مگر بات صرف نظروں میں دیکھ کر ہوگی۔۔۔ آج تم میری آنکھوں میں جھانک کر اپنے سارے اُلجھے ہوئے سوالوں کے جواب ڈھونڈ لو،
اور میں تمہاری نگاہوں کی خاموشیوں میں وہ سب جان لوں جو لفظ شاید ادا نہ کر سکیں۔۔۔

وہ اس کے نازک وجود کو اپنے محافظانہ حصار میں لیے دھیرے سے گویا ہوا۔ اس کی آواز میں وہ ٹھہراؤ تھا جو دلوں کی گہرائیوں تک اتر جاتا ہے۔ آج وہ عبیرہ کے دل تک رسائی چاہتا تھا، اس نرم گتھی کو جاننا چاہتا تھا کہ اس کے دل میں نفرت کا سایہ کیوں ہے۔۔۔
وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ اس سے نفرت کیوں کرتی ہے۔۔۔آریان خان کو اپنی شخصیت پر غرور تھا، اپنی خوبصورتی پر یقین تھا کہ کوئی بھی لڑکی اس کی وجاہت کے سحر سے بچ نہیں سکتی۔ مگر عبیرہ پر اس کی قربت، اس کی چاہت، اس کی شدت کا ذرّہ برابر بھی اثر کیوں نہیں ہوا۔۔۔ وہ بھی تب جب وہ خود بڑھ کر اس سے محبت کا اظہار کر رہا ہے۔۔۔ یہ سوال اسے اندر تک چبھ رہا تھا، اسے بےقرار کر رہا تھا۔۔۔

وہ اس کے سامنے خاموشی سے بیٹھا تھا۔ آنکھوں میں ایسا تڑپتا انتظار تھا جیسے ہر لمحہ اس کے جواب پر ٹکا ہو۔
عبیرہ نے ہونٹ بھینچے، نگاہیں چرانے کی کوشش کی، مگر آریان کی آنکھوں کی گہری لرزش اسے خود میں کھینچ رہی تھی۔

،،میں تمہارے جواب کا منتظر ہوں…
کہاں کھو گئی ہو؟
جو کہنا ہے… کہہ دو۔۔۔

اس کی آواز میں وہ ٹھہراؤ تھا جو دل کی دیواروں کو اندر تک ہلا دیتا ہے۔ اس کے انداز میں کوئی دباؤ نہیں تھا، بس ایک پرسکون امید، جیسے وہ عبیرہ کے ہر لفظ کو دل پر لکھ لینے کے لیے جھکا بیٹھا ہو۔

،،مجھے یقین نہیں آتا کہ آپ کا کردار واقعی شیشے کی طرح بے داغ ہے۔۔۔
یہ کہتے ہوئے عبیرہ کے دل میں عجیب سی کھٹک تھی۔
لفظ تو مضبوط تھے، مگر اندر کہیں ہلکی سی لرزش، ایک نہ ماننے والی ضد اور نہ سمجھے جانے کا دکھ… سب ایک ساتھ دھڑک اٹھے۔
اس کی آنکھوں میں حیرت، تردد اور اندھیرا سا شکوہ واضح تھا، جیسے وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کیوں اس شخص پر یقین نہیں کر پا رہی…
اور پھر بھی اس کے دل کی دھڑکنیں آریان کی قربت سے بے ترتیب ہو رہی تھیں۔
ہمم…
مطلب یہ کہ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو، اور مجھ سے پیار نہ کرنے کی وجہ میرا کردار ہے؟
کیا میں صحیح سمجھ رہا ہوں؟

آریان خان نے نرمی سے اس کی گال کے کنارے چھوئے، اور اپنی نگاہوں کی خاموشی سے اس کے دل کی باتوں میں اترنے کی کوشش کی، جیسے ہر لمحہ اس کی خاموشی سے چھپے جذبات کو سمجھنا چاہتا ہو۔

“یہی سمجھ لیں!!”
عبیرہ نے اپنے جذبات کو سنبھالتے ہوئے، ایک نرم مگر پختہ لہجے میں جواب دیا۔

“بات کو گھماؤ مت…
مطلب کہ بات یہی ہے…
تمہیں اعتراض ہے میرے کردار پر…؟
تمہیں میں پسند ہوں، میرا کردار پسند نہیں؟”

آریان کی آواز میں خفگی نہیں تھی، بس ایک گہری سی چوٹ تھی، جیسے وہ پہلی بار اپنے بارے میں کسی کی رائے سن کر سچ میں ٹھہرا ہو۔
اس کی نظروں میں جو سوال تھا، وہ کسی الزام کی طرح نہیں… بلکہ کسی زخمی امید کی طرح عبیرہ پر ٹک گیا تھا۔

“جی،نہیں۔۔۔۔ آپ نے شاید ٹھیک سے نہیں سنا… میں نے نہیں کہا کہ آپ مجھے پسند ہیں۔۔۔”
عبیرہ نے دو ٹوک انداز میں کہا، ہر لفظ میں وضاحت اور پختگی کھانے کی پوری کوشش کی گئی تھی۔

سوچ لو… لہجہ اور چہرے کے زاویے سے میل نہیں کھا رہے تھے، مس عبیرہ، آریان خان…

آریان کی سرگوشی میں ایک نرم، مہکتا سا اثر تھا، جس نے عبیرہ کے وجود میں ہلکی سنسناہٹ پیدا کر دی۔ اس کی نگاہوں میں ایک خاموش کشش اور محبت بھرا اضطراب چھپا تھا، جو ہر لمحہ اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ گونج رہا تھا۔ عبیرہ نے سسکی بھری تھی…

“چلو مان لو … اگر میں تمہارے لیے اپنے کردار کو ثابت کر دوں، کیا تم پھر اپنا نظریہ بدل سکو گی؟”

“مجھے نہیں پتہ…وہ بس اتنا ہی کہ پائی تھی۔
آریان خان کی قربت عبیرہ کے چہرے پر ہلکی سی سرخی بکھیر رہی تھی۔ کانوں تک رنگ پھیل چکا تھا، اور وہ شرم و حیا کے گہرے پردوں میں ڈھلتی ہوئی نظریں جھکائے بیٹھی تھی، خاموشی میں اپنی بے بسی محسوس کر رہی تھی۔

آریان خان کی مضبوط موجودگی، اس کی نرمی اور خاموشی پر ایک خاموش دباؤ کی طرح محسوس ہو رہی تھی، اور وہ ہر لمحے اس نازک کشش کو سمجھ رہا تھا۔ عبیرہ کے چہرے پر ہلکی لرزش کے آثار اس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ تھے،
وہ اس بات سے انجان نہیں تھا کہ عبیرہ اس کے مقابلے میں نازک اور کمزور تھی، مگر اس کی نزاکت، معصومیت اور سمجھداری، آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی، اور ہر لمحہ، ہر خاموش نظر میں ایک نرم کشش محسوس ہو رہی تھی۔

“مجھ سے نظریں مت چراؤ، عبیرہ۔ یقین کرنے کی کوشش تو کرو… وعدہ کرتا ہوں، تمہارے ہر شک کو دور کر دوں گا۔ خدا کی قسم، میں بدکردار نہیں ہوں، اس بات کا یقین رکھو۔ جس طرح چاہو گی، ثابت کرنے کے لیے تیار ہوں۔”

اس کی نظروں اور لہجے میں چھپی ہوئی سچائی نے عبیرہ کے لیے وقت کو روک دیا۔ وہ اپنے آپ کو اس سحر میں جکڑا ہوا محسوس کر رہی تھی، جیسے ہر لمحہ اس کی موجودگی کے ساتھ دھیرے دھیرے گزر رہا ہو۔

عبیرہ حیران تھی۔ اس شخص کی تیز دماغی نے بالکل صحیح اندازہ لگایا تھا کہ اسے اس کے کردار سے نفرت تھی۔ وہ کئی بار اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوئی تھی، یہ سچ تھا۔

اس کی بیوی تھی، وہ اس کا محرم بن چکا تھا، اور ایک ایسا شخص جو غیر محرم ہو کر کئی لڑکیوں کے دل کی دھڑکن کو تیز کر سکتا تھا، کئیوں کے ایمان کو ہلا سکتا تھا، اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے ایک لڑکی کیسے خود کو اس سے مکمل لا تعلق رکھ سکتی تھی؟

مگر عبیرہ کو نفرت تھی، اس کے بد کردار ہونے پر، اور یہ وہ اچھی طرح سمجھ چکی تھی۔
پھر بھی وہ حیران تھی کہ آریان نے کیسے یہ بات سمجھ لی، کیونکہ اس نے تو کچھ بھی کلیئر نہیں کہا تھا۔

عبیرہ ہمیشہ خدا سے پاک دامن شوہر کی دعا کرتی رہی تھی، اور آریان خان میں سب سے بڑی خامی یہی تھی کہ وہ بدکردار تھا۔
مگر جس انداز سے اس نے قسم کھائی، عبیرہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ جب اس نے ہزاروں بار اپنے منہ سے ایک بات کا اعتراف کیا ہے، تو اب وہ کیسے خدا کی قسم کھا سکتا ہے؟
کیا وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہے، یا سچ کچھ اور ہے جو اس کی نظروں سے اوجھل تھا؟

عبیرہ سوچوں میں گھری ہوئی تھی، آریان خان کی موجودگی کے قریب محسوس کرتے ہوئے، آنکھیں بند کر کے سانس سنبھال رہی تھی۔

۔“ٹھیک ہے، اب ثبوت کے ساتھ اپنے کردار کو تمہارے سامنے ثابت کروں گا، باقی بات بعد میں ہوگی۔۔۔”
آریان خان نے اس کے قریب سے کھڑا ہوتے ہوئے اپنے ہاتھ کو عبیرہ کے سامنے پھیلایا، مگر عبیرہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ہاتھ نہیں تھاما اور خود اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔

“میرے ساتھ آؤ۔۔۔”
زبردستی اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے آریان خان اسے کمرے سے باہر لے آیا۔

“میرا ہاتھ چھوڑیں، میں خود سے چل سکتی ہوں۔۔۔”
عبیرہ نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولی، مگر آریان خان نے نرمی سے کہا،
“کبھی بغیر جھگڑا کیے، صرف دو منٹ خاموشی سے میری بات سن لو۔ ہر بار جھگڑا کرنا، بحث کرنا ضروری نہیں ہے۔۔۔”
آریان خان نرم لہجے میں بولتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامے اسے گھر کے ایک سائیڈ طرف لے آ یا۔ جہاں عبیرہ کبھی نہیں گئی تھی۔ یہ جگہ گھر کا حصہ تھی، مگر اس طرف وہ کبھی نہیں آئی تھی۔

عبیرہ صرف کچن، کمرہ اور ٹی وی لاؤنچ کی حد تک ہی محدود تھی، یا سامنے والے روم میں جاتی تھی، جہاں وہ اکثر فرش پر نماز پڑھا کرتی۔
یہ نئی جگہ خاموشی اور خوبصورتی کے ساتھ اسے حیران کر گئی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس جگہ کو پہلے کیوں نہیں دیکھا۔ روشنی کے ہلکے پردے، نرم فضا اور خاموش ماحول عبیرہ کے دل میں حیرت اور تجسس پیدا کر رہے تھے، اور آریان کی موجودگی ہر لمحے کو پرسکون اور مہکتا بنا رہی تھی۔

آریان نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ دروازہ کھولتے ہی سامنے نماز کے لیے جگہ بنائی گئی تھی سائیڈ پر بڑی سی مرر ونڈو تھی جس سے خوبصورت پہاڑ اور بہت سے خوبصورت قدرتی مناظر نظر آرہے تھے۔۔۔
خدا کے قدرتی مناظر دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی تھی یہ شاید گھر کا بیک سائیڈ ایریا تھا اس طرف سے قدرتی مناظر دیکھنے کو ملتے تھے جبکہ گھر کے سامنے سوسائٹی ایریا تھا جہاں سے خوبصورت رہائش گاہوں ،اور اس میں بسنے والے لوگوں کو دیکھا جا سکتا تھا۔۔۔
عبیرا pray ایریا کو دیکھ کر خوشی سے قدم آگے بڑھاتی چلی گئی،اس نے آج سے پہلے کبھی نماز کے لیے اتنی خاص اور خوبصورت بنائی ہوئی جگہ نہیں دیکھی تھی۔۔۔
ایک سائیڈ پر خوبصورت کرسٹل کی بنی ہوئی الماری میں اسلامک کتابیں اور احادیث کی تمام جلدیں محفوظ کر کے رکھی ہوئی تھی۔۔۔

اسلامک کتابوں سے بھری ہوئی خوبصورت الماری پوری وال پر بنی ہوئی تھی،ایک طرف باکس کے اندر خوبصورت جلد کے میں قرآن پاک رکھا ہوا تھا۔۔۔

ایک طرف چھوٹے سے باکس کے اندر ہاتھ سے پڑھنے والی تسبیح اور ساتھ ڈیجیٹل تسبیح رکھی ہوئی تھی۔۔۔

ایک طرف جائے نماز کے لیے خوبصورت تخت رکھا ہوا تھا اس کے اوپر سیم کلر کے دو جائے نماز بچھائے ہوئے تھے۔۔۔

مطلب کہ گھر کا یہ ایریا خاص کر عبادت کے لیے بنایا گیا تھا،ایسے لگ رہا تھا جیسے اس عبادت والے حصے میں نور برس رہا ہو۔۔۔
بے شک بنوانے والے نے بہت دل سے اس ایریے کو بنوایا تھا۔۔۔

مطلب کہ وہ آریان کے بارے میں غلط سوچ رہی تھی،اس نے کتنے غصے سے کہا تھا کہ اتنے بڑے گھر میں جائے نماز تک نہیں ہے۔۔۔
اس نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ اس سے مسلمان کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے جبکہ اس نے تو اپنے گھر کے اندر اتنی خوبصورت نماز کے لیے جگہ بنائی ہوئی تھی۔۔۔۔
گھر کے اندر اتنی خوبصورت عبادت گاہ اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی،وہ اپنے کہے الفاظوں پر خود ہی شرمندہ ہو رہی تھی۔۔۔

مسز آریان خان کو کیسی لگی عبادت کے لیے خاص جگہ؟؟
وہ اس کے پیچھے کھڑا تھا۔۔۔

“بہت… خوبصورت ہے۔۔۔
“بہت….. بہت زیادہ خوبصورت ہے۔۔۔
آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں دکھایا؟؟
میں ایسے ہی آپ کو اتنی باتیں سناتی رہی۔۔۔
وہ شرمندہ سی ہو کر بولی۔۔۔

“کوئی بات نہیں جب خود پر سارے حق دے دیے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے کہ کچھ باتیں غلط فہمی میں کرتے ہوئے تم میرا دل توڑ جاتی ہو۔۔۔
جب دل تمہیں دے دیا ہے،اپنے ہاتھوں سے تمہیں دل پر حکومت کرنے کے تمام اختیارات دے دیے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے کہ تم اسے توڑو یا سمیٹو۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کی خوشی دیکھ رہا تھا۔۔۔
محبت سے اس کا ہاتھ پکڑ کر قرآن پاک کے قریب لے آیا تھا۔۔

“عبیرہ ہم مسلمانوں کے لیے اس پاک کتاب کی کیا اہمیت ہے یہ تم بھی جانتی ہو اور میں بھی۔۔۔

میں جانتا ہوں کہ تم مجھے اپنے جیسا نہیں سمجھتی مگر میں بھی مسلمان ہوں اور اپنے دین کی اتنی ہی عزت کرتا ہوں ،جتنی عزت ہر مسلمان کرتا ہے۔۔۔اس کا لہجہ اس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ بہت کچھ بڑا اور سنجیدہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

“میں قسم کھاتا ہوں اس پاک کتاب پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہ جو کہوں گا سچ کہوں گا جھوٹ بولوں تو خدا مجھے یہی غرق کر دے۔۔۔
وہ اللہ کی پاک کتاب کے اوپر تھوڑی دوری بنا کر ہاتھ رکھے ہوئے کھڑا تھا شاید پوری طرح سے ہاتھ ٹچ اس لیے نہیں کیا کہ وہ با وضو نہیں تھا۔۔۔

عبیرا میں بد کردار نہیں ہوں!!
یہ سچ ہے کہ ہزاروں لڑکیاں مجھ پر مرتی ہیں اور مجھے خوشی ہوتی ہے جب وہ میری خوبصورتی سے متاثر ہو کر میرے قریب آنا چاہتی ہیں۔۔۔
بہت سی لڑکیوں کو میں اپنے کمرے تک لے کر آیا مگر خدا گواہ ہے قسم کھاتا ہوں اس پاک کتاب کی میں نے کبھی کسی لڑکی کو کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا۔۔۔

بس مجھے ذہنی تسکین ملتی تھی جب لڑکیاں مجھے اپنا کرش بنا کر میرے سامنے بچھ جانے کو،اپنی عزت لٹا دینے کو تیار ہو جاتی تھی۔۔۔

مجھے ذہنی تسکین ملتی تھی اور میں غرور کرتا تھا اپنی خوبصورتی پر،میرا غرور اس وقت ٹوٹا جب تم نے مجھے دھتکارا۔۔۔

شاید تم نے بہت اچھا کیا مگر یہ بھی سچ ہے کہ جو محبت،جو جذبہ،جو احساس میرے دل نے تمہارے لیے محسوس کیا وہ آج سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔

مجھے قسم ہے اس کتاب کی میرے ہونٹوں نے آج تک
میں نے کبھی زنا جیسی لعنت کو ہاتھ بھی نہیں لگایا،مجھ میں بہت سارے عیب ہیں میں شراب پیتا ہوں،سیگریٹ پیتا ہوں،لڑکیوں سے کھلے عام افیئر چلاتا ہوں۔۔۔
یہ سب برائیاں مجھ میں ہیں،میں ہوش و حواس میں اعتراف کرتا ہوں۔۔۔

میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ مجھے کبھی جھوٹ بولنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی نہ تو مجھے کسی کا ڈر تھا اور نہ ہی کسی سے آج سے پہلے ایسی محبت تھی کہ جس کو کھو دینے کے ڈر سے میں جھوٹ بولتا۔۔۔
میرا کردار گندا نہیں ہے۔۔۔
یہ میری سچائی ہے اب تم اپنے دل سے پوچھ لینا کہ تمہیں میری باتوں پر یقین ہے یا نہیں؟؟
میں اپنا فیصلہ اپنے خدا پر چھوڑتا ہوں اگر میں سچا ہوں تو میری سچائی میرا رب ثابت کردے گا۔۔۔

إِنَّ رَبِّي يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ
بیشک میرا رب جو چاہے،کر سکتا ہے!!

میرا یقین ہے کہ کسی کو سچا ہونے کی دلیل مت دو،اس بات پر یقین رکھو کہ اللہ سب جانتا ہے!!
اس سے زیادہ میں اپنے کردار کی گواہی نہیں دے سکتا،معاملہ رب کی بارگاہ میں چھوڑ دیا ہے فیصلہ بھی خدا کرے گا تم یقین کرو یا نہ کرو یہ فیصلہ بھی اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔

خیر الارم لگا دوں گا صبح ٹائم اُٹھ کر نماز ادا کر لینا،آج کے بعد تمہاری فجر کبھی قضا نہیں ہوگی یہ وعدہ ہے میرا تم سے۔۔۔
آرام سے اپنی نماز ادا کرو میں ایک ضروری کال سن لوں یہی باہر ہوں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔
شاید وہ جانتا تھا کہ عبیرہ گھر کے اندر بھی اکیلی گھبرا جاتی ہے۔۔۔
اسی لیے یقین دلا رہا تھا کہ وہ باہر ہے۔۔۔
وہ تو اپنے کردار کی گواہی دے کر رب کے سامنے اپنا مقدمہ رکھتے ہوئے سارے فیصلے خدا پر چھوڑ کر جا چکا تھا۔۔۔

مگر عبیرہ اسے کیسے بتاتی کہ اس کے انداز سے اس کی آنکھوں میں سچائی کی چمک سے اسے یقین آچکا ہے۔۔۔

اس نے جتنی ایمانداری سے قسمیں کھاتے ہوئے اپنے کردار کو ثابت کیا تھا اسے آریان خان کی ایک ایک بات پر یقین آچکا تھا بس بولنے کی ہمت نہیں تھی،پہلی بار اس کا دل چاہ رہا تھا کہ آریان خان بولتا جائے اور وہ سنتی رہے۔۔۔

وہ سوچ رہی تھی کہ کیا یہ وہی آریان خان ہے جس سے وہ پہلی بار ملی تھی یا یہ بدل چکا ہے یہ کوئی اور ہے۔۔۔
وہ سوچو میں گم کھڑی ہوئی تھی۔۔

وہ سب کچھ ایسے بول گیا جیسے کوئی خواب ہو،
مگر یہ خواب بہت خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا تھا۔

کبھی کبھی انسان کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ
وقت، حالات یا اپنے دل کے جذبات پر مکمل قابو پا سکے۔

ہر شخص کے دیکھنے کا اپنا انداز اور نظریہ ہوتا ہے۔

عبیرہ جس جگہ کھڑی تھی،
کچھ لوگوں کو یہ غلط لگ سکتا تھا کہ
اس نے یارم خان کی محبت چھوڑ کر
آریان کی محبت کی طرف قدم بڑھایا،
لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے اختیار سے باہر رہتا ہے۔

کبھی کبھی دل، وقت اور قسمت
انسان کے اختیار سے باہر ہو جاتے ہیں،
اور ہر قدم، ہر انتخاب
اپنی ایک حقیقت اور اپنا نظریہ رکھتا ہے

═══════❖═══════۔

           Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki aik qist hai.
Mukammal aur agli qist ke liye category “Saleeb Sukoot” dekhein.
Nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje publish hoti hai.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *