Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:24

صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ S.A
قسط نمبر:24

                             ═══════❖═══════

آریان خان کا سر شدید درد سے پھٹ رہا تھا۔ اس نے کراہتے ہوئے پیشانی دبائی اور بھاری پلکوں کو بڑی مشکل سے اوپر اٹھایا۔
نظر ابھی پوری طرح صاف نہیں ہوئی تھی، مگر گہری نیند سے جاگتے ہی اسے اپنے پاس کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔

حیرت کے عالم میں اس نے نظریں نیچے کی طرف جھکائیں۔ عبیرہ… اس کے کاندھے پر سر ٹکائے گہری نیند سو رہی تھی۔ بکھرے ہوئے ریشمی بال، پُرسکون سانسیں… یہ منظر حقیقت کم، خواب زیادہ لگ رہا تھا۔
چند لمحے وہ بس یونہی دیکھتا رہا۔پھر اس کی نظر سامنے دیوار پر لگی ہوئی گھڑی پر پڑی مدھم سی روشنی میں گھڑی کی چمکتی سوئیاں دکھائی دیں ، دل کو جیسے جھٹکا سا لگا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ کئی گھنٹے بے خبری میں گزار چکا ہے۔

یادوں کا ہجوم ایک ایک کر کے ذہن میں اترنے لگا۔ ٹیرس… سرد ہوا… بند دروازہ…عبیرہ کے آوزیں… مگر ایک بات گم تھی۔ وہ کمرے تک کیسے پہنچا؟ دماغ کے اندر سوالات گردش کرنے لگے۔

مگر یہ سب سوچیں عبیرہ کی قربت کے سامنے پس منظر میں چلی گئیں۔ اس خواب جیسے احساس کو محسوس کرتے ہوئے آریان کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
جس لڑکی کے وقت لیے وہ تڑپ رہا تھا، وہ اب اس کے اتنے قریب تھی۔ بے اختیار گہری سانس لی ۔دل نے نرم سے احساس کو گہرائی سے محسوس کیا۔

مگراچانک اسے عبیرہ کے وہ تلخ جملے یاد آئے، جنہوں نے اسے اندر تک زخمی کیا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ اسے اپنی محبت کے حصار میں سمیٹ لے، مگر دماغ نے فوراً روک دیا۔

“نہیں آریان خان ……یہ قربت، یہ موجودگی، سب عبیرہ کی طرف سے کسی جذبے کا اظہار نہیں….صرف مجھ پر رحم کیا گیا……سوچتے ہوئے آریان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ دل ہی دل میں اعتراف کر چکا تھا کہ عبیرہ شائد کبھی بھی اسے قبول نہیں کرے گی ۔

اس نے نرمی سے عبیرہ کا سر کاندھے سے ہٹاتے ہوئے دوری اختیار کی،پوری کوشش کی کہ عبیرہ کی نیند نہ ٹوٹے، مگرہاتھ ذرا سا ہلا تو … اسی لمحے عبیرہ کی آنکھ کھل گئی۔

عبیرہ کی آنکھ کھلی تو پہلا خیال یہی تھا۔کہ آریان ٹھیک ہے۔

“آپ کو ہوش آ گیا…؟
آپ ٹھیک ہیں۔نا …؟”
اس کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔ وہ آریان کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے سوال کر رہی تھی، جیسے ایک لمحے کے لیے بھی نظر ہٹا لی تو وہ پھر اس کی دسترس سے نکل جائے گا۔

آریان خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں نیند اور نشے کی ملی جلی تھکن تھی، سرخی کی باریک لکیریں، اور ایک عجیب سی گہرائی… جیسے وہ کسی منظر کو پرکھ رہا تھا، جیسے خواب اور حقیقت کے بیچ فیصلہ نہ کر پا رہا ہو۔

“بتائیں نا… پلیز… آپ ٹھیک ہیں؟” عبیرہ نے بے قرار ہو کر پھر سے پوچھا۔

“میں تو ٹھیک ہوں…” آہستہ سے بولا، پھر نگاہیں عبیرہ پر جماتے ہوئے کہا، “مگر تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی۔

عبیرہ چونکی۔مگر کچھ بولی نہیں شاید اس کی بات کی گہرائی کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

“کیوں۔؟ کیوں تم مجھے پاگل کر دینا چاہتی ہو۔؟
“مطلب …؟عبیرہ کی نظروں میں حیرانی تھی۔

“مطلب یہ کہ اگر میں تمہارے قریب آؤں تو غلط… اور تم میرے قریب آؤ تو درست۔
یہ اصول کس کتاب میں لکھا ہے؟ مجھے بھی دکھا دو وہ کتاب، میں پڑھ لوں۔”

اس کے لہجے میں شکوہ چھپا ہوا تھا، طنز نہیں… مگر وہ الفاظ عبیرہ کے دل میں تیر کی طرح جا گھونپے۔ وہ لمحہ ایسا تھا جیسے سانس رک گئی ہو، اور ہر دھڑکن بس اسی جملے کے اثر میں گم ہو گئی تھی۔وہ پیچھے ہو کر نظریں چرا گئی،

“مس عبیرہ…”
آریان کی آواز پھر ابھری

“نظریں چرا لینے سے بات ختم نہیں ہوتی۔ مجھے جواب چاہیے۔ اگر میں ایسا سوچوں تو غلط کیوں…؟”

عبیرہ خاموش رہی، آنکھیں بند، آنسو بے قابو ہونے لگے تھے۔ اس لمحے وہ صرف خود سمجھائے جارہی تھی کہ … جو کیا، وہ محبت نہیں تھی، خواہش نہیں تھی… یہ صرف ایک جان بچانے کی کوشش تھی۔ مگر آریان اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا، یہ سوچ ہی عبیرہ کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہی تھی۔

کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سکاٹ لینڈ کی رات کی سرد ہوا کھڑکی سے ٹکرا کر واپس لوٹتی، اور لگژری اپارٹمنٹ کی مدھم روشنی ماحول کو پرسکون بنا رہی تھی۔ دل کی دھڑکنیں اور دور سے ٹکرانے والی ہوا کی سرسراہٹ کے سوا کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔عبیرہ شرمندگی سے بچنے کے لیے رخ پھیر کر اٹھتے ہوئے جانے لگی تھی کہ
آریان خان نے نرمی سے ہاتھ تھام کر روک لیا ۔

ہاتھ آہستہ سے رخسار کے کنارے پر رکھا، اس کی آنکھوں میں فکر اور ہلکی سی نرمی تھی، مگر لبوں پر قابو پا رہا شکوہ ابھی بھی موجود تھا۔ وہ بس اسے دیکھ رہا تھا، ہاتھ میں تھوڑی سی کشمکش، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو مگر الفاظ خاموش تھے۔

“پلیز …مجھے جانے دیں۔وہ بازو کو گھماتے ہوئے جانا چاہتی تھی ۔

,”پہلے جواب دو…..تم تو نفرت کی دعوے دار تھی…اب اس عنایت کو کیا سمجھو ں؟
آریان کی آواز میں تلخی نہیں ،الجھن تھی۔ بھنویں ہلکی سی سمٹیں،نظریں عبیرہ پر ٹکی جواب جاننے کی جاننے کی ضد میں تھی۔

“شاید یہ وہ احساس ہے جس پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا…”
عبیرہ کی آواز کانپ سی گئی۔ آنکھیں اب بھی جھکی ہوئی تھیں، جیسے سامنے دیکھنے کی ہمت نہ ہو۔ انگلیاں کمبل کو پکڑے مٹھی کی صورت بند ہو گئیں، سانس بے ترتیب سی تھی۔جیسے وہ خود بھی اپنے جواب پر حیران تھی۔ایسا لگا جیسے دل نے زبان سے پہلے سچ کہہ دیا ہو۔

آریان خان نے آہستہ سے سانس باہر نکالی۔ اس کے کندھے ڈھیلے پڑ گئے، جیسے کسی اندرونی کشمکش نے اچانک ہتھیار ڈال دیے ہوں۔جواب اس کے لیے بھی حیران کن تھا۔
کمرے میں وہی سرد ہوا سرسراہٹ بن کر لوٹی، مگر اب خاموشی بوجھ نہیں رہی تھی۔ وہ بس ایک لمحہ تھا… جہاں نفرت کے دعوے ٹوٹ رہے تھے، اور تسلیم نہ کرنے والا احساس اپنی موجودگی منوا رہا تھا۔کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد آریان خان کی آواز پھر سے ابھری تھی۔

“میں… مان لوں کہ میں تمہارے لیے محبت ہوں؟”

“آپ یہ مان لیں کہ آپ میرے وہ خیال ہو جو کبھی سوچ کے دائرے میں آیا ہی نہیں تھا…”
وہ لمحہ بھر رکی۔ سانس لرزی، جیسے لفظ آگے بڑھنے سے پہلے اجازت مانگ رہے ہوں۔
“وہ خیال جو دل کے کسی پوشیدہ کونے میں خاموشی سے جاگتا رہا… جسے میں نے بے شمار بار جھٹلایا، مگر وہ ہر بار اور گہرا ہوتا گیا… جیسے کوئی نرم لمس دل پر ٹھہر جائے اور انسان چاہ کر بھی اسے ہٹا نہ سکے…”
آریان خان نے گہری سانس لی۔ پل بھر کو آنکھیں موندیں، جیسے خود کو یقین دلا رہا ہو کہ سچ میں عبیرہ یہی سب بول رہی ہے، پھر اس کے گرد بازوؤں کا مضبوط حصار بنا دیا۔ وہ گرفت سخت نہیں تھی، مگر اس میں حفاظت بھی تھی اور ضد بھی۔

“کیوں یہ ضد چھوڑ نہیں رہی ہو؟ مان لو کہ تمہیں اپنے دشمن سے محبت ہو چکی ہے۔”آریان خان کی آواز میں گہری نرمی تھی۔

“کبھی نہیں مانوں گی…” آنکھوں میں روکے گئے آنسو اب مزید قابو میں نہ رہے، پلکوں کی حد توڑ کر بہہ نکلے۔ آواز لڑکھڑا گئی، سانس بوجھل ہو گئی، مگر انکار پھر بھی قائم رہا۔ یہ ضد نہیں تھی، یہ خود کو ٹوٹنے سے بچانے کی آخری کوشش

آریان خان اس کے قریب جھکا، آواز دھیمی نہیں تھی، پختہ تھی… جیسے فیصلہ سنایا جا رہا ہو،

“تم دل کو جتنا روکنے کی کوشش کرو گی، وہ اتنا ہی تمہارا دشمن بنے گا۔ یہ بات سمجھ لو، دل پر زور نہیں چلتا۔ محبت کوئی جرم نہیں کہ اس پر پہرے بٹھائے جائیں… یہ مانگے بغیر ہو جاتی ہے، اور انکار کے باوجود زندہ رہتی ہے۔”

“میں نہیں کرتی آپ سے محبت…” حصار ذرا سا ڈھیلا پڑا، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹا۔ چہرہ اس کے کان کے قریب آیا، آواز اب سرگوشی تھی، نرم نہیں، گہری اور صاف… جیسے کوئی بات دل کے آخری کمرے میں رکھی جا رہی ہو۔
“محبت زبان سے نہیں ہوتی۔ زبان تو صرف جھوٹ بولتی ہے۔ محبت وہ ضد ہے جو دل خود کر لیتا ہے… اور پھر انکار اس کا کچھ نہیں بگاڑ پاتا۔”

“خود کو تسلیاں مت دیں… نہیں کرتی آپ سے محبت، آنسوؤں میں بھیگی آواز میں انکار کیے جا رہے تھی…

“جو دل رو رو کر، تڑپ تڑپ کر مجھے آوازیں دے رہا تھا، وہ محبت تھی… وہی محبت جو تمہیں میری جان بچانے پر مجبور کر رہی تھی۔ اور جو کچھ تم نے میری جان بچانے کے لیے کیا، وہ نہ ہمدردی تھی نہ کوئی انسانی فرض۔ مجھے بہلانے کی کوشش مت کرو… میں بچہ نہیں ہوں۔ تمہارے انکار سے سچ بدل نہیں جاتا…”اس کی سانسیں قریب آ کر ٹھہر سی گئ ۔ لفظ عبادت کی طرح دل پر اترتے جا رہے تھے۔

“ایسا کچھ بھی نہیں ہے… آپ کی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو میں اس کی جان ضرور بچاتی…” کہتے ہوئے وہ نظریں چرا گئی۔ پلکیں ایک لمحے کو لرزیں… دل کا حال چھپائے چھپ نہیں رہا تھا، مگر کوشش پھر بھی جاری تھی۔مگر عبیرہ کے یہ جملے اس کے سینے میں آگ لگا گئے۔

آریان خان کا، جبڑا سخت ہوا۔
“میری جگہ کوئی اور نہ تھا، نہ ہے، نہ کبھی ہو سکتا ہے۔ یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لو، عبیرہ آریان خان۔” آواز دھیمی تھی… مگر لفظوں میں ذرا سی بھی نرمی نہیں تھی۔

“آپ کی جگہ کوئی نہیں ہو سکتا… تو آپ جس مقام پر بیٹھنا چاہتے ہیں، وہ بھی نہیں ہو سکتا۔” اس کے سخت لہجے پر وہ ایک لمحے کو گھبرا ضرور گئی۔ سانس ہلکا سا اٹکا، انگلیاں بے اختیار سمٹیں… مگر نظریں نہیں چرائیں۔ ہمت سمیٹی، اور بات پوری کہہ دی۔
آریان خان نے اسے غور سے دیکھا، اور ہونٹوں پر وہ ہنسی آئی جو کسی جھوٹ پکڑنے پر آتی ہے… سامنے والا جتنی بھی ضد کرے، ماننے کو تیار نہ ہو، بالکل ویسی ہی ہنسی تھی اس کے لبوں پر۔ آنکھوں میں تھوڑی سی چالاکی، لبوں پر معمولی مسکان… مگر دل پر اثر ایسا کہ عبیرہ کی ہر ہچکچاہٹ کو بے نقاب کر دے۔

“میں اس مقام پر اپنے قدم جما چکا ہوں۔ آنکھیں کھولو اور حقیقت کو سمجھو۔ تمہارے خیالات، دل کی دھڑکن اور تمہارے لفظ… آپس میں میل نہیں کھا رہے۔ خدارا… خود سے مت الجھو۔”
آریان خان کھل کر مسکرایا، اور اس مسکراہٹ میں عبیرہ کو اپنی ہار صاف دکھائی دے رہی تھی۔
عبیرہ آنکھیں بند کیے اس حصار میں قید تھی، ہاتھ بے اختیار سمٹ گئے، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ہر لفظ، ہر سانس، ہر لرزتا ہوا پل اس بات کا اعلان کر رہا تھا کہ اب مزید انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی… مگر زبردستی اپنی ضد کی دیوار کے پیچھے چھپنے کی کوشش، اب بھی کہیں دل میں باقی تھی۔

“ہاتھ چھوڑ دیں… میرا۔ ایسا کچھ نہیں ہے، اور نہ کبھی ہوگا۔”
سانس بے ترتیب ہو رہی تھی، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
“اپنے سینے سے دل نوچ کر باہر نکال پھینکوں گی اگر اس نے بغاوت کی تو…”
وہ کہتے ہوئے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی، اٹھنے لگی، مگر آریان کے ہاتھ کی سخت گرفت نے اسے جانے نہیں دیا۔
واپس بیڈ پر بیٹھنے پر مجبور، عبیرہ کی آنکھوں میں خوف اور ضد دونوں جھلک رہے تھے، اور آریان کی آنکھیں صرف اس کی ہر حرکت پڑھ رہی تھیں۔

“چھوڑ دو یہ ضد…”
آواز میں اب وہ سختی نہیں، بلکہ ایک نرمی تھی، اور ساتھ ساتھ مضبوطی بھی۔
“چاہے حالات کیسے بھی ہوں، مل کر مقابلہ کریں گے۔ میں تمہیں کسی موڑ پر گرنے نہیں دوں گا۔ وعدہ ہے میرا۔”
اس کے لفظوں میں عاجزی تھی، مگر دل کی پوری طاقت کے ساتھ۔ عبیرہ کی نظریں اس کے چہرے پر جم گئیں، سانس تھم سی گئی۔ سچائی نے اسے اپنی جگہ سے ہلنے نہیں دیا، اور دل کے اندر ایک خاموش ہلچل شروع ہو گئی۔

“کیسے یقین کروں…؟”
عبیرہ کانپتے ہونٹوں سے پوچھ رہی تھی، نظریں اس کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ بے بسی کے آنسو ہاتھ کی پشت سے رگڑنے کے باوجود بھی پھسلتے جا رہے تھے، ہر قطرہ جیسے دل کی عاجزی اور خوف کو ظاہر کر رہا ہو۔

“آنکھیں بند کر کے یقین کر لو… مجھے اپنی روشنی سمجھ لو۔”
آریان خان کی آواز نرم تھی، مگر ہر لفظ دل میں اترا، ہر سانس کے ساتھ عبیرہ کے دل کی دھڑکن میں گونج رہا تھا۔ وہ اس کے قریب تھی، سانسیں تھم سی گئی تھیں، اور لمحہ بھر کے لیے ہر شک اور خوف جیسے ختم ہو گیا۔

“کل کو آپ مجھے طعنہ دیں گے کہ دیکھ لو، میں نے تمہیں اپنی محبت میں ہرا لیا…”
آریان نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔ دونوں ہاتھ اس کے چہرے کے قریب تھے، لمس نہیں… بس قرب، ایسا قرب جو دل پر دستک دے۔

“کبھی نہیں… کبھی بھی نہیں۔ ایسا نہیں ہوگا۔”
لہجے میں ایسی عاجزی، ایسی نرمی اور ایسی محبت تھی کہ عبیرہ کے آنسو رک ہی نہ سکے۔ وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔ اس لمحے وہ جان چکی تھی کہ سامنے بیٹھے شخص سے محبت ہونے لگی ہے۔ کیوں، کیسے… یہ سوال اب اس کے بس میں نہیں رہے تھے۔ کچھ چیزیں واقعی اختیار سے باہر ہوتی ہیں، اور عبیرہ اس وقت پوری طرح بے بس تھی۔

“میں آپ کے مقابل کچھ بھی نہیں ہوں… آپ مجھ سے بہت خوبصورت ہیں۔ یہ بات میں تسلیم کرتی ، آپ جیسے دل پھینک انسان سے میں کیسے امید لگا لوں کہ کل کو آپ مجھے دھوکہ نہیں دیں گے؟ آپ کا دل بھر جائے گا… آپ مجھے چھوڑ دیں گے… پھر میں کیا کروں گی…؟”
ایک پل کو آریان کی نگاہ اس پر ٹھہر سی گئی، جیسے اس کی ہر بات کو تول رہا ہو، پھر وہ آہستہ بولا،
“ایک بار خود کو میری نظروں سے دیکھو… پھر سمجھ آ جائے گی کہ خوبصورتی کیا ہوتی ہے۔ تمہارا کردار اتنا خوبصورت ہے کہ اس کی خوشبو نے میرے جیسے انسان کو بدل دیا۔ پھر تم اپنے لیے اتنے معمولی لفظ کیوں چنتی ہو؟”
“سوچ لیں… اگر آپ نے ساتھ چھوڑ دیا تو میں کہیں کی نہیں رہوں گی…”

“اور اگر میں نے تمہارا ساتھ چھوڑا… تو میں زندہ کیسے رہوں گا؟”

“یہ سب جذباتی باتیں ہیں… بعد میں آپ کو افسوس ہوگا۔”

“تم میری زندگی کی حقیقت ہو، سچائی ہو۔ مجھے ہمیشہ اس انتخاب پر فخر رہے گا۔

“دشمنی میں محبت کے بیج لگانا آسان ہوتا ہے… مگر کھل کر پھول بننا مشکل۔ آپ کے گھر والے مجھے…اور میرے گھر والے آپ کو…. کبھی نہیں اپنائیں گے۔” عبیرہ اسے حقیقت کا آئینہ دکھا رہی تھی۔

“مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی تمہارے اور میرے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ میرے دل نے پوری سچائی سے تمہیں اپنا لیا ہے۔ ہماری محبت ہم دونوں کے لیے ہے… باقی سب کو سائیڈ پر رکھ دو۔ میں اپنے فیصلے خود لینے کا عادی ہوں، اور یہ فیصلہ بھی میرا ہے۔ لوگوں کی پرواہ مت کرو۔”آریان کا جواب فوراً آیا، پختہ اور بے خوف۔

“اگر…لوگ ہوتے تو شاید پرواہ نہ کرتی… مگر یہاں لوگ میری اور آپ کی فیملی ہیں…”عبیرہ نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آہستہ سے پیچھے کو کھینچ لیا تھا ۔
عبیرہ کا جملہ کمرے میں ٹھہر سا گیا تھا۔
اور آریان خان لمحہ بھر کو خاموشی سے اسے سنتا رہا، جیسے اس بار ، صرف اس کے نظریے کو سمجھنے کی کوشش میں ہو۔

“اور اگر میں کہوں کہ کچھ بھی مت سوچو… میرے پاس تمہاری محبت اور یقین ہوا… تو باقی سب الجھنیں میں خود سمیٹ لوں گا۔”
اس کے لہجے میں جو سچائی اور ٹھہراؤ تھا، اس میں ڈوب کر اعتبار کرنا بالکل فطری تھا۔ عبیرہ کی خاموش نظریں اسے سن رہی تھیں۔ وہ کچھ نہیں بولی، بس بیٹھی رہی… اور وہ، اس کے جواب کے انتظار میں تھا۔

سردی کے موسم اور اپارٹمنٹ کی مدھم روشنی میں دل کی دھڑکنیں اور ہوا کی ہلکی سی سرسراہٹ ان دونوں کے درمیان فضا کو نازک اور پرسکون بنائے ہوئے تھی۔

دوسری جانب اب بھی خاموشی تھی۔ وہ نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھ رہی تھی، جیسے وہیں کہیں جواب چھپا ہو۔

“میری طرف دیکھو…”
وہ کہتے ہوئے اس کے ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے آیا۔ گرفت میں زبردستی نہیں تھی، تحفظ تھا۔ عبیرہ نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں اب بھی آنسو ٹھہرے ہوئے تھے۔

“تھوڑا سا مجھ پر رحم کھا لو… مانتا ہوں اس لائق نہیں ہوں، مگر خدا کی قسم، تمہارا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے۔ میں ان خوبصورت آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھنا چاہتا۔ اور جو آنسو میری وجہ سے آئے ہیں… ان کے لیے دل سے معافی مانگتا ہوں۔”
وہ نرمی سے اس کی آنکھوں سے ایک ایک کر کے آنسو صاف کرنے لگا۔ اس لمس میں التجا تھی، شرمندگی تھی۔ اس کی آنکھوں میں سچ صاف نظر آ رہا تھا… خود پر نادم، اس بات پر کہ اس نے اس بے قصور لڑکی کو اتنی تکلیف دی۔

“آپ کے معافی مانگ لینے سے… کیا مجھ پر لگا داغ مٹ جائے گا؟”
اس نے نظریں نہیں اٹھائیں۔

ایک لمحے کو آریان خان کے دل پر بوجھ سا آ گیا۔
ایک سوال… ایک ہی جملے میں اتنا درد تھا کہ اس نے بے اختیار چہرہ پھیر لیا۔ گہری سانس لی، نظریں سامنے دیوار پر جم گئیں۔ ماتھے پر ہاتھ رکھا اور انگلیوں سے آہستہ آہستہ رگڑنے لگا۔

لمحہ بھر کے توقف کے بعد آریان خان کی نظریں دیوار سے پلٹیں۔
چہرے پر وہی سنجیدگی، وہی بےچینی تھی۔

“تم مجھے جو سزا دینا چاہتی ہو… دے دو۔ میں گزرے وقت پر صرف شرمندہ ہو سکتا ہوں۔ واپس نہیں لا سکتا۔”

عبیرہ کی نظریں اب بھی جھکی ہوئی تھیں۔
“یہ… جو اب نہیں ہے…”
آواز بہت ہلکی تھی، جیسے لفظ پورے ہو ہی نہ سکے ہوں۔
آریان خان نے سانس کھینچی۔
“میرے پاس جواب نہیں ہے۔ میں کیا کروں…؟”

عبیرہ نے دل میں چبھتے ہوئے درد کو محسوس کیا، اس کی نظریں پل بھر کے لیے آریان کی جانب اٹھیں، پھر جھک گئیں۔ ہلکی سانسیں بھرتے ہوئے، بولی،
“کتنی آسانی سے، بس یہ کہہ کر قصہ ختم کر دیا کہ میرے پاس جواب نہیں ہے…”
دونوں کے درمیان پھر سے خاموشی واپس آ گئی۔
دونوں ایک ہی لمحے کی قید میں بیٹھے تھے۔

“کبھی سوچا نہ تھا کہ میری زندگی میں…میں ایسا مقام آئے گا کہ میرے پاس بولنے کو الفاظ کم پڑ جائیں۔

عبیرہ کی گہری نگاہیں آہستہ آہستہ اوپر کو اٹھی لمحہ بھر کے لیے آریان کے چہرے پر جم گئیں، اور پھر جھک گئی۔ وہ خود میں سمٹ گئی، ہر سانس میں ایک خاموشی اور درد چھپا ہوا تھا۔

آریان نے نرمی سے اس کے ہاتھ تھامے ہوئے تھا ۔جیسے ہاتھ چھوڑ تے ہی وہ نظروں سے اوجھل ہو جائے گی ۔

“جانتی ہو… میں ہزاروں کی بھیڑ میں خود اعتمادی سے بول جاتا ہوں۔ مجھے لفظوں کا چناؤ نہیں کرنا پڑتا، اسکرپ نہیں لکھنی پڑتی… میں کبھی گھبرایا نہیں…”اس کی آواز میں وہ درد جھلکنے لگا جو الفاظ سے زیادہ کہہ رہا تھا۔

“مگر آج… تمہارے سامنے… لفظ میرا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ مجھ سے تمہارے سامنے کچھ کہا نہیں جا رہا… اب تم جو بھی کہو… مگر میری حقیقت اس لمحے یہی ہے۔”

عبیرہ نے پلکیں ہلکی سی اٹھا کر آریان کی جانب دیکھا۔ وہ اس لمحے ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا، ہر نظر، ہر لہجہ، ہر خاموش سانس سچائی سے بھر پور تھی۔ کوئی غرور، کوئی ، دشمنی باقی نہیں تھی۔ عبیرہ اپنے دل سے پوچھ رہی تھی… کیا یہ وہی شخص ہے جو کل تک جھکنے کو تیار نہ تھا، اور آج، اپنے سب احساسات کے ساتھ، میرے سامنے بیٹھا ہے؟ کیا میں اس پر یقین کر سکتی ہوں…؟

“میرے لیے آپ اس وقت وہ مقام ہیں… جہاں میں پہلے ہی اپنا سب کچھ ہار چکی ہوں… ایک داؤ… اور سہی….. کر لیتی ہوں آپ پر یقین…تھام لیتی ہوں آپ کا ہاتھ… اگر میرا یقین آپ کے ساتھ ٹھیک سے جڑ گیا… تو برسوں بعد یہ لمحہ… محض ماضی کی ایک یاد بن جائے گا… ایک یاد جو دل کو سکون دے گی…
لیکن اگر بیچ میں ہاتھ چھوٹ گیا… تو ڈوبتے ہوئے مجھے بس یہ دکھ رہے گا… کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا غلط فیصلہ تھا… دشمن پر بھروسہ کر کے… محبت کے سمندر میں کبھی نہیں اترنا چاہیے…

“میں وعدہ کرتا ہوں… کہ میرے جیتے جی ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا…
ہاں، اگر سانسیں ہی تھک کر بے وفا ہو جائیں… زندگی دھوکہ دے جائے تو اس کا میں کچھ نہیں کہہ سکتا…

اس لمحے عبیرہ نے پہلی بار دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا… کہ یہ وعدہ کسی طاقت سے نہیں،اس کے دل کی گہرائیوں سے نکل آیا ہے۔

عبیرہ نے آنکھیں بند کیں تو دل میں کوئی شور نہیں تھا… بس ایک دبتی ہوئی دعا تھی۔ خوف ابھی مرا نہیں تھا، مگر اس کے ساتھ اب تنہا پن بھی نہیں تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ راستہ آسان نہیں، مگر اس نے آج پیچھے ہٹنے کے بجائے ساتھ چلنے کا انتخاب کیا تھا… شاید پہلی بار اپنے دل کی سن کر ،فیصلہ کر رہی تھی ۔

سکاٹ لینڈ کی رات خاموش تھی، ٹھنڈی ہوائیں کھڑکی سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھیں، اور اس خاموشی میں ایک فیصلہ ٹھہر گیا تھا۔ٹھنڈی رات خاموشی سے گزر رہی تھی۔
کمرے میں مدھم روشنی تھی اور باہر ٹھنڈی ہوا اپنے نرم لمس کے ساتھ لوٹ رہی تھی۔ وقت جیسے ٹھہر سا گیا تھا، اور اگلے چند گھنٹے خاموشی میں تحلیل ہو گئے تھے۔وہ دشمنی بھلا کر محبت کو قبول کر چکے تھے ۔۔۔۔

عبیرہ کی آنکھ کھلی تو دل میں کوئی گھبراہٹ نہیں تھی۔ ایک سکون، ایک اطمینان… جیسے دل نے آریان خان کی محبت پر آمین کہہ دیا ہو…. وہ مانگ پا لی ہو جس کا اسے خود بھی پورا ادراک نہیں تھا۔ آریان خان اس کے قریب تھا، اس قرب میں کوئی بے ترتیبی نہیں، بس تحفظ اور سچائی کا احساس تھا۔
اس رات محبت نے خود کو ظاہر نہیں کیا۔
وہ خاموشی سے اپنی جگہ پر ٹھہر گئی…
اور دونوں کے درمیان رشتہ مکمل ہوکر منزل پر پہنچ گیا ۔۔۔

                ═══════❖═══════

ایئرپورٹ کی رات سکاٹ لینڈ کے سرد اور خاموش ماحول میں خاموشی سے چھائی ہوئی تھی، فلائٹس کی روشنی مدھم لیکن مستقل جل رہی تھی۔

پریشے، ماڈرن اسٹائلش جیکٹ اور ٹراؤزر میں، اپنے ہاتھ میں ایک چھوٹا ہینڈ بیگ پکڑے ہوئے، ایئرپورٹ کی بڑی گیلری میں قدم قدم بڑھا رہی تھی۔ ہر قدم میں وہ محتاط مگر پرعزم تھی،

خوشی کے مارے زور زور سے دھڑک رہا تھا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہ روشانے کو لے کر آریان کے معاملے میں ایک اہم موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی، اور دل کے اندر ایک یقین سا موجود تھا کہ یہ رشتہ بہت جلد ختم ہونے والا ہے، اور روشانے اس رشتے کو توڑنے کی مضبوط کڑی کے طور پر اسے سامنے نظر آ رہی تھی۔

دوسری طرف، دروازے کی جانب سے روشانے باہر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ چہرے پر سنجیدگی چھلک رہی تھی، مگر ہر قدم میں وقار جھلک رہا تھا۔ وہ ہلکے خاکی رنگ کے سوٹ میں ملبوس تھی، ایک سادہ مگر نفیس ہینڈ بیگ کو ایک ہاتھ سے تھامے، ایئرپورٹ کے ہال سے باہر نکلی۔
اس کے قدم بے چین تھے، ہر قدم تیز اور عجلت میں۔ آنکھیں ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں، شاید پریشے کو تلاش کر رہی تھیں۔ جب پریشے نے ہاتھ ہلا کر اشارہ دیا، روشانے کی نظریں اسی طرف جمی، مگر دل کے اندر ایک آگ جل رہی تھی۔ ہر لمحہ اسے آریان خان تک پہنچنے کی فکر تھی، ہر دھڑکن اس کے اندرونی جذبے کو اور تیز کر رہی تھی۔
اس کے دل میں صرف ایک ہی خیال تھا۔۔ اس لڑکی کو سزا دینا، ماضی کے زخموں کا مداوا کرنا۔ ایئرپورٹ کی روشنیاں اس کی جلدی اور بے چینی کو اور نمایاں کر رہی تھی، رات کی ٹھنڈی ہوا میں اس کے قدموں کی آواز جیسے ہر لمحے عجلت کی گواہی دے رہی تھی۔
روشانے چھوٹے سے ہینڈ کیری کو کھینچتی ہوئی پریشے کے قریب آ پہنچی۔

“السلام علیکم، کیسی ہیں آنٹی؟”
پریشے نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔
روشانے نے بھی ایک قدم آگے بڑھایا۔
“وعلیکم السلام…”
دونوں نے رسمی سے انداز میں ایک دوسرے کو گلے لگایا، نہ زیادہ گرمجوشی، نہ سردمہری۔
“اور سناؤ، ٹھیک ہو تم؟”
روشانے نے چلتے چلتے پوچھا۔
“جی الحمدللہ، میں ٹھیک ہوں… آپ سنائیں، خیریت سے پہنچ گئیں؟”
پریشے نے رسمی انداز میں پوچھا۔
“ہاں، خیریت سے پہنچ گئی ہوں… مجھے کیا ہونا تھا۔”
روشانے کا لہجہ سپاٹ تھا، جیسے یہ سوال اس کے لیے کوئی اہمیت ہی نہ رکھتا ہو۔
پریشے نے بات آگے نہ بڑھائی اور قدم گاڑی کی سمت بڑھا دیے۔
گاڑی کے قریب پہنچتے ہی ڈرائیور نے آگے بڑھ کر روشانے کے ہاتھ سے ہینڈ کیری لیا اور خاموشی سے ڈِگی میں رکھ دیا۔ پھر احترام سے دروازہ کھولا۔
پریشے اور روشانے دونوں گاڑی میں بیٹھ گئیں۔
اگلے ہی لمحے ڈرائیور نے اپنی سیٹ سنبھالی، گاڑی اسٹارٹ کی، اور ایئرپورٹ کی روشنیاں پیچھے رہنے لگیں۔
روشانے نے شیشے سے باہر اندھیرے میں ڈوبی سڑک کو دیکھا۔
دل میں بے چینی بدستور موجود تھی۔
ہر گزرتا لمحہ اسے آریان خان کے قریب لے جا رہا تھا… اور اس کے ساتھ موجود لڑکی نام سوچنے پر اس کے اندر چھپی تلخی اور زیادہ گہری ہو رہی تھی۔

پریشے، تم مجھے فوراً آریان کے پاس پہنچاؤ…
روشانے نے گاڑی کی کھڑکی سے نظریں ہٹائے بغیر کہا۔ آواز میں حکم نہیں تھا، مگر عجلت صاف جھلک رہی تھی، جیسے ہر گزرتا لمحہ اس کے لیے بے چین ہو رہا ہو۔
پریشے نے ایک نظر اس کی طرف ڈالی، پھر سامنے سڑک پر نظریں جما دیں۔
“آنٹی… اس وقت سیدھا پہنچنا ممکن نہیں ہے، مگر ۔ جیسے ہی لوکیشن کنفرم ہوگی، میں آپ کو خود لے چلوں گی۔”
روشانے نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بس خاموشی سے باہر اندھیرے کو دیکھتی رہی…
اور اس خاموشی میں اس کی بے چینی اور ضد، دونوں صاف محسوس ہو رہی تھیں۔
اس کے چہرے پر بے چینی اور غصہ ایک ساتھ چھلک رہا تھا۔

“ویسے افسوس کی بات ہے… ابھی تک تم آریان کی لوکیشن بھی نہیں نکال سکیں؟”
روشانے نے رخ اس کی طرف کرتے ہوئے، طنزیہ سا لہجہ اپنایا۔
“ویسے تو تم خود کو مردوں کے شانہ بشانہ سمجھتی ہو نا۔”
پریشے کو اس کا یہ انداز زہر لگا۔
مگر اس نے چہرے کے تاثرات قابو میں رکھے۔

“کیا ہو گیا آنٹی…ابھی ابھی تو آپ پہنچی ہیں گھر چل کر تھوڑا ریسٹ کریں۔”
وہ نسبتاً ہلکے لہجے میں بولی۔
الفاظ پرسکون تھے، مگر دل کی دھڑکن اپنی انسلٹ سن کر تیز ہو چکی تھی۔
وہ جانتی تھی، آج کا دن کسی طرح سنبھالنا ہے۔اس عورت سے بگاڑ نہیں سکتی تھی۔

“مجھے ریسٹ کی ضرورت نہیں ہے۔”
روشانے نے فوراً کہا۔
“میں کوئی پاکستان سے بھاگتے ہوئے سکاٹ لینڈ نہیں پہنچی جو مجھے آرام کی سخت ضرورت ہو۔… تم مجھے باتوں میں مت بہلاؤ۔”
لہجہ رُکھا تھا، صاف اور دو ٹوک۔
جیسے اس کے پاس وقت بھی نہیں تھا اور برداشت بھی نہیں۔
پریشے ایک لمحے کو خاموش ہو گئی۔
اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ عورت آرام کے لیے نہیں،
بلکہ کسی انجام کے ارادے سے آئی ہے۔

“میں نے اپنے ایک بندے کو اس کام پر لگا رکھا ہے۔ وہ آریان کو ٹریس کر رہا ہے… ان شاء اللہ کل رات تک ہمیں اس کے گھر کا پتہ مل جائے گا۔”
روشانے نے ایک پل کو اسے دیکھا، پھر منہ موڑ لیا۔
“آنٹی، آپ تو ایسے ناراض ہو کر بول رہی ہیں جیسے آپ اسے جانتی ہی نہ ہوں۔”
پریشے نے بات آگے بڑھائی۔

“وہ کوئی عام شخصیت ہوتا تو اب تک اس کی لوکیشن پتہ لگ چکی ہوتی۔ آپ اچھی طرح جانتی ہیں، جہاں ہماری سوچ ختم ہوتی ہے… وہاں سے اس کی شروع ہوتی ہے۔ ایسے دماغ کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ اور آپ تو ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر فوراً پہنچ گئیں، مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا… تو میں کیا کرتی؟”
لہجہ نرم تھا، مگر الفاظ سیدھے اور کاٹ دار۔
روشانے نے دل ہی دل میں سوچا،
اتنی لمبی زبان ہے، اسی لیے آریان اس سے دور بھاگتا ہے…
نظریں سڑک پر جم گئیں۔
بس چلتا تو یہ جملہ اس کے منہ پر دے مارتی،
مگر اس وقت وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی۔
اسے اس لڑکی کی ضرورت تھی… یہاں تک پہنچنے کے لیے۔
“خیر، آپ پریشان نہ ہوں۔”
پریشے نے خود کو سنبھالتے ہوئے بات کو نرم کیا۔
“بہت جلد اس کا ایڈریس ہمیں مل جائے گا۔”
وہ جانتی تھی، اسے بھی روشانے کی ضرورت ہے۔
اسی کی مدد سے تو اس نے بھی اپنا رشتہ آریان خان کے ساتھ ختم کروانے کا سوچا تھا۔
اس عورت سے ٹکر لینا، اس وقت خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے برابر تھا۔

“تمہارے پاس نمبر ہے تو دے دو۔”
روشانے نے کہا۔
“میں خود بات کرنا چاہتی ہوں… وہ مجھے لے جائے گا۔”
لہجے میں غرور تھا۔
ایک یقین کہ آریان اس کا فون ضرور اٹھائے گا۔
“آنٹی، نمبر تو ہے…”
پریشے نے آہستہ کہا۔
“مگر وہ کال نہیں اٹھاتا۔”
“میرا نمبر ان نون نہیں ہے۔”
روشانے نے فوراً جواب دیا۔
“بھتیجہ ہے میرا۔
تم مجھے اس کا نیا نمبر دو… میرا فون وہ اٹھا لے گا۔”
پریشے نے خاموشی سے موبائل کی سکرین پر آریان کا نیا نمبر دکھا دیا۔
روشانے نے نمبر ڈائل کیا۔
ایک بار… پھر دوسری بار…
فون دوسری جانب سے خاموش رہا۔
پریشے کے لبوں کے کونے میں دبی دبی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اسے روشانے کی اکڑ یاد آ رہی تھی…
اور اب یہ ناکامی، اسے عجیب سی تسکین دے رہی تھی۔
کئی بار کال جانے کے بعد بھی جب فون نہ اٹھا،
روشانے کے چہرے کا رنگ بدلتا صاف دکھائی دیا۔
“آنٹی، پریشان مت ہوں۔”
پریشے نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔
“میں نے پہلے ہی کہا تھا، وہ فون نہیں اٹھاتا۔ آج رات یا کل صبح تک ہمیں اس کا مکمل ایڈریس مل جائے گا… پھر فون کی ضرورت ہی نہیں، ہم سیدھا اس کے گھر پہنچ جائیں گے۔”
روشانے نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
پریشے کے لفظوں میں بظاہر تسلی تھی…
مگر دل کی خوشی اس سے چھپی نہیں رہ سکی۔

باقی کا راستہ تقریباً خاموشی سے کٹا۔ گاڑی کے اندر دونوں ایک دوسرے سے دور بیٹھی تھیں، بات کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ سکاٹ لینڈ کی رات تھی، باہر ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی، گہرے نیلے آسمان میں مدھم روشنی سڑک کے کناروں پر پڑ رہی تھی، سردی کی ایک ہلکی سی لپک ہر چیز کو خاموش کر رہی تھی۔
پریشے کے دل میں ایک عجیب بےچینی تھی، اسے روشانے کی موجودگی ناگوار لگ رہی تھی، مگر وقت کی مجبوری نے انہیں ایک ہی گاڑی میں بٹھا دیا تھا۔ روشانے بھی اپنی خاموشی میں مضبوط لگ رہی تھی، لیکن دل کے اندر بے سکونی چھپی ہوئی تھی۔

سفر کے ہر لمحے میں صرف گاڑی کا ہلکا سا شور اور باہر کی رات کی سرد ہوا سنائی دے رہی تھی۔ دونوں کے دل اپنی جگہ دھڑک رہے تھے، مگر ایک دوسرے کی سوچوں سے بالکل الگ تھے۔ وقت آگے بڑھ رہا تھا، لیکن گاڑی کے اندر ہر لمحہ جیسے سست اور بھاری محسوس ہو رہا تھا، دونوں اپنے اپنے خیالوں میں غرق تھیں۔
═══════❖═══════

اسلام آباد کی طرف جاتی سڑک رات کی خاموشی میں لپٹی ہوئی تھی۔ پہاڑوں کے سائے گاڑی کے ساتھ ساتھ چلتے محسوس ہو رہے تھے، کبھی قریب آ جاتے، کبھی پیچھے رہ جاتے… جیسے اندھیرے میں کوئی خاموش نگرانی کر رہا ہو۔

ایزل یارم کے ساتھ والی سیٹ پر گہری نیند میں تھی۔ سر یارم کے کاندھے سے ٹکا ہوا تھا، سانس ہموار، چہرے پر وہ معصوم سی بے خبری جو صرف نیند کے حصے میں آتی ہے۔ یارم خان ایک نظر اس پر ڈال کر اسٹیئرنگ پر واپس لے آیا۔ اسے جگانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا… وہ جاگتی تو سوالوں کی بارش شروع ہو جاتی، اور وہ سفر خاموشی سے کرنے کا عادی تھا۔

راستہ معمول کے مطابق کٹ رہا تھا، گاڑی کی رفتار متوازن تھی، محافظوں کی گاڑیاں کچھ فاصلے پر ساتھ تھیں۔ مگر جیسے ہی پہاڑی موڑ شروع ہوئے، فضا میں اچانک ایک سخت شور ابھرا…

دھڑ دھڑ… دھڑ دھڑ…
گولیوں کی آواز نے رات کا سکوت چیر دیا۔
ایزل جھٹکے سے جاگی، چیخ اس کے ہونٹوں سے خودبخود نکل گئی۔
یارم خان نے فوراً ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا، دوسرے سے اسٹیئرنگ سنبھالے رکھا، اور اسے اپنے سینے کی طرف کھینچ لیا۔
“ریلیکس… ریلیکس… کچھ نہیں ہوا۔”
اس کی آواز پختہ تھی، مگر گرفت مضبوط… جیسے اپنے یقین کو اس کے دل تک منتقل کر رہا ہو۔

باہر فائرنگ کا شور بڑھ گیا تھا۔ پولیس فورس جواب میں فائرنگ کر رہی تھی۔ شیشوں کے باہر چنگاریاں سی ابھرتی محسوس ہو رہی تھیں۔ ایزل کا جسم کانپ رہا تھا، اس نے یارم کے سینے میں چہرہ چھپا لیا، ہاتھ اس کی قمیض پر مٹھی کی طرح جکڑے لیے ۔
” ریلیکس ہو جاؤ۔ گاڑی بلٹ پروف ہے… تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔”
وہ اس کے کاندھے ہلکے ہلکے ہاتھ پھیر کر مسلسل اس کی ہمت باندھ رہا تھا … جیسے اس ا سے خوف کی شدت کم ہو جائے گی۔

اچانک یارم نے گاڑی روکی۔ اس کی باڈی لینگویج بدلی، کندھے تن گئے۔ اس نے دروازے کی طرف ہاتھ بڑھایا، سیٹ کے پاس رکھے پسٹل کا ٹریگر کھینچا۔
ایزل نے فوراً گھبرا کر اس کے کوٹ کا گریبان پکڑ لیا۔
“آپ… آپ کہاں جا رہے ہیں؟”
آواز کانپ رہی تھی۔

“آپ باہر نہیں جائیں گے… مجھے چھوڑ کر نہیں۔”
یارم نے ایک لمحہ اس کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں نرمی آئی، مگر فیصلہ اپنی جگہ قائم تھا۔

“ایزل، میں ایسے بزدلوں کی طرح اندر نہیں بیٹھ سکتا۔ ایسے حملے پولیس والوں پر آئے روز ہوتے رہتے ہیں۔”
“پولیس والے سے شادی کی ہے تو ہمت بھی رکھو۔”
اس کے لہجے میں ذرا سا طنز تھا یا صرف ایزل کو محسوس ہوا۔ایزل کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

“تانے بعد میں دے لیجئے گا… کبھی تو پیار سے بھی بول لیا کریں۔”
یارم کے ہونٹوں پر لمحہ بھر کو مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
“پیار سے ہی تو کہہ رہا ہوں کہ تم سیف ہو۔گاڑی بلٹ پروف ہے تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔”
اس نے اس کی انگلیاں آہستہ سے اپنی قمیض سے ہٹائیں۔۔
“پلیز مجھے باہر جانے دو۔”ایزل کی گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے اس کا لہجہ بے حد سوفٹ ہو گیا۔

اسی لمحے ڈرائیور سائیڈ کا شیشہ کھٹکھٹایا گیا۔
یارم نے اپنے جونیئر افسر کو دیکھا اور شیشہ نیچے کر دیا۔
“سر، آپ باہر نہیں آئیں گے۔ ان سے ہم خود نپٹ لیں گے۔”
باہر کھڑا پولیس افسر باادب مگر مضبوط لہجے میں بولا۔
“میں باہر آؤں گا، مجھے آرڈر مت دو۔ ایسی صورتحال میں بزدل بن کر اندر نہیں بیٹھ سکتا۔”
یارم نے کڑک لہجے میں کہا۔
گاڑی کے اندر چند لمحوں کی خاموشی ٹھہر گئی۔
صرف ایزل کی تیز سانسیں… اور یارم خان کی نظریں، جو باہر کے اندھیرے کو چیرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
پولیس افسر کی آواز دوبارہ ابھری، اس بار قدرے محتاط مگر پُرعزم۔
“سوری سر، گستاخی معاف کیجیے، مگر ہم آپ کو باہر آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ آپ کی جان ہمارے لیے بہت قیمتی ہے۔ یہ حملہ آپ پر ہے، اور آپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔”

“حملہ مجھ پر ہے اور میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں… تو کیا میں ان سے ڈر کر اندر بزدل کی طرح بیٹھا رہوں؟ ہٹو سامنے سے، مجھے باہر آنے دو۔ میں خود سارے معاملے کو دیکھوں گا۔

اس کے الفاظ کے ساتھ ہی باہر دھڑ دھڑ گولیوں کی آوازیں گونج اٹھیں۔ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان باقاعدہ فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا، رات کا سناٹا چیخوں اور بارود کی بو سے چِرنے لگا تھا۔
یارم دروازہ کھولنے کے لیے آگے جھکا ہی تھا کہ ایک پولیس والے نے فوراً ہاتھ بڑھایا، اندر سے چابی اٹھائی اور مؤدبانہ مگر سخت آواز میں
“سوری سر…”
کہتے ہوئے ریموٹ سے شیشے چڑھا دیے اور گاڑی لاک کر دی۔
یارم نے غصے بھری نظروں سے اسے دیکھا، انگلی کے اشارے سے شیشہ نیچے کرنے کا حکم دیا، مگر پولیس والوں نے نفی میں سر ہلایا اور چند قدم پیچھے ہٹ گئے۔
گاڑی کے اندر تناؤ جم گیا تھا۔
باہر گولیوں کی آوازیں، اندر یارم خان کا ضبط اور ایزل کی بے بسی…
یہ لمحہ کسی کے قابو میں نہیں تھا۔
۔
“تم سمجھ نہیں رہے ہو…”
اس کی آواز بھاری ہو گئی، لفظ لفظ میں غصہ گھلا ہوا تھا،
“یہ حملہ مجھ پر ہے، اور میں اپنی جان کے فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں نہیں دیتا۔ کسی کی ڈھال بن کر گاڑی میں بیٹھنا میری فطرت نہیں… ہٹو، دروازہ کھولو!”
اگلے ہی لمحے اس نے غصے سے مٹھی بھینچی اور پوری قوت کے ساتھ شیشے پر ہاتھ مارا۔
ٹھک!
آواز گاڑی کے اندر گونج گئی۔
“دروازہ کھولو!”
اس نے دانت پیستے ہوئے دوبارہ کہا،
“میں باہر جاؤں گا… جو ہوگا، سامنے ہوگا۔”
باہر فائرنگ کی آوازیں اور تیز ہو چکی تھیں، روشنیوں کے جھماکے، چیخیں، سائرن…
مگر اندر یارم خان کی آنکھوں میں صرف ایک ضد تھی، ایک جنگ…
جو وہ چھپ کر نہیں، سامنے کھڑے ہو کر لڑنا چاہتا تھا۔
پولیس والوں نے ایک لمحے کو ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر نظریں چرا لیں۔
شیشے بند رہے…
اور گاڑی کے اندر غصہ، بے بسی اور خطرے کی خاموش چیخیں قید ہو گئیں۔
“پلیز… پلیز…”
ایزل کی آواز کانپ رہی تھی، آنسو اس کی پلکوں پر ٹھہرے ہوئے تھے۔
“آپ باہر نہیں جائیں گے… پلیز، آپ بالکل باہر نہیں جائیں گے… وہ سب سنبھال لیں گے… آپ کو کچھ نہیں ہونا چاہیے…”
وہ گھبرا کر ڈرائیونگ سیٹ کی طرف جھکی، اپنے بازو اس کے گرد لپیٹتے ہوئے اس کے سینے سے لگ گئی۔ اس کا پورا وجود خوف سے لرز رہا تھا۔ شاید اس نے زندگی میں پہلی بار ایسا منظر اتنے قریب سے دیکھا تھا۔ گولیوں کی آوازیں، سائرن، اندھیرے میں چمکتی لائٹس… یہ سب فلموں سے کہیں زیادہ خوفناک تھا۔
اس لمحے ایزل کے سامنے یارم خان کوئی پولیس افسر نہیں تھا۔
وہ صرف اس کا شوہر تھا۔
اور یہی خیال اس کے دل کو چیر رہا تھا کہ اگر وہ باہر گیا… اگر اسے کچھ ہو گیا…
تو یہ خوف، یہ لمحہ، اس کی زندگی کا سب سے ڈراؤنا سچ بن جائے گا۔

بے اختیار یارم کا ہاتھ نرمی سے اس کے گرد محافظ کی طرح لپٹ گیا۔
“بہادر بنو… ریلیکس ہو جاؤ… کچھ نہیں ہوا۔ اس طرح کے حالات ایک پولیس والے کی زندگی میں آئے دن آتے رہتے ہیں۔ اگر تم اس طرح پریشان ہوتی رہو گی تو میرے ساتھ زندگی گزارنا تمہارے لیے بہت مشکل ہو جائے گی… ”

وہ جواب میں کچھ نہیں بولی۔
بس کانپتی رہی…
یارم خان اپنی شرٹ پر گرتے اس کے آنسوؤں کی نمی صاف محسوس کر رہا تھا ۔

یارم کی نظریں ایک لمحے کے لیے سامنے کی سڑک پر جم گئیں۔ اندھیرے میں لال نیلی بتیاں لرز رہی تھیں، کہیں دور فائرنگ کی آواز ابھری… پھر قریب آتی چلی گئی۔ اس کی جبڑیاں سخت ہو گئیں۔
ایزل اس کے سینے سے یوں لگی ہوئی تھی جیسے سہارا کھسک جائے تو وہ بکھر جائے گی۔ اس کا سانس بے ترتیب تھا، انگلیاں یارم کی شرٹ میں الجھی ہوئی تھیں، پورا وجود کانپ رہا تھا۔ پسینے کی نمی یارم نے اپنی قمیص پر صاف محسوس کی۔
یارم کا ہاتھ بے اختیار اس کے گرد محافظ کی طرح لپٹ گیا۔ انگلیاں مضبوط تھیں مگر لمس نرم…
“ریلیکس ہو جاؤ…” اس کی آواز دھیمی مگر ٹھہری ہوئی تھی۔ “کچھ نہیں ہوا۔”
باہر ایک اور گولی کی آواز گونجی۔ یارم کی آنکھوں میں ایک لمحے کو آگ سی لپکی، وہ شیشے کی طرف جھکا… مگر ایزل کا لرزتا وجود اسے واپس اپنی جگہ باندھ گیا۔
چند لمحوں بعد شور آہستہ آہستہ پیچھے رہ گیا۔ گاڑی نے رفتار پکڑی۔ اندھیرے نے سب کچھ نگل لیا۔
ایزل کی سانس آخرکار ذرا سی سنبھل گئی …

یارم نے موبائل کان پر لگایا، آواز میں غصہ اور اختیار کی شدت جھلک رہی تھی۔
’’راشد… آج تم نے گاڑی لاک کر کے وہاں خود سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی؟ تم سمجھتے ہو یہ ٹھیغ ہے؟ سمجھ گئے؟‘‘
فون کے پار خاموشی، اور راشد کی ہلکی سانسیں،اور پھر سوری کی مختصر آواز گونجیں ۔ یارم کے غصے کو تھوڑا ٹھنڈا کر گئی۔
’’میں جانتا ہوں تم نے میری جان بچانے کے لیے کیا، لیکن یہ طریقہ… میں کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ اگلی بار حرکت نہیں ہونی چاہیے ۔‘‘

“جی سر…دوسرغ جانب سے با ادب مختصر جواب
یارم نے موبائل ہلکا سا نیچے کیا، گاڑی کی طرف نظریں جمائیں، جہاں کچھ دیر پہلے راشد نے لاک لگا دیا تھا۔ اندر بیٹھا یارم خود کو کمزور محسوس کر رہا تھا،

“کیوں ڈانٹ رہے ہیں بیچاروں کو۔۔۔؟
انہوں نے آپ کی جان بچائی ہے۔۔۔ آپ کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔۔۔
ایزل کی آواز اب کانپ نہیں رہی تھی، مگر لہجے میں ابھی تک خوف کی نمی باقی تھی۔ یارم کی کال ختم ہوتے ہی وہ بے اختیار بول اٹھی۔

یارم نے گردن موڑ کر ایک سرسری سی نظر اس پر ڈالی۔۔۔ نگاہ میں سختی تھی، وہی پرانی، حکم دینے والی۔
“خاموش ہو کر بیٹھو۔۔۔ میرے معاملات سے دور رہو۔۔۔
بس اتنا کہا، اور نظریں دوبارہ سڑک پر جما لیں۔
ایزل نے ہونٹ بھینچ لیے۔۔۔ دل چاہا کچھ کہے، مگر اس لمحے وہ جان گئی تھی کہ یہ وہ یارم ہے جو وردی کے ساتھ جیتا ہے، اور جس کی دنیا میں اپنی جان سے بڑھ کر اپنی وردی کا فرض ہے۔ لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد وہ اپنی سیٹ پر سیٹ ہو کر بیٹھتے ہوئے کل کڑک کر بولی۔

“نہ میں خاموش ہو کر بیٹھ سکتی ہوں۔۔۔ اور نہ ہی آپ کے معاملات سے دور رہ سکتی ہوں۔۔۔ اور مجھے ڈانٹیے گا مت، ورنہ میں انکل کو فون کر دوں گی۔۔۔
ایزل نے ہونٹ دائیں بائیں موڑے، ٹھوڑی ذرا سی اوپر اٹھی۔۔۔ لہجہ صاف دھمکی میں بدل چکا تھا۔
یارم نے پل بھر کو چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
یہ وہ ایزل نہیں تھی جو دو لمحے پہلے اس کے سینے سے لگی کانپ رہی تھی۔۔۔ آنسوؤں میں بھیگی ہوئی۔
ڈر کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔۔۔

“ہر بات پر بابا کی دھمکی مت دیا کرو… تمہیں میری جان کھانے کے لیے ساتھ آنے کی ضرورت ہی کیا تھی…
وہاں رہتیں… آرام سے بابا کی خدمت کرتیں… میری جان بھی چھوٹی رہتی…
یارم نے اسٹیئرنگ پر ہاتھ گھماتے ہوئے زچ ہو کر کہا… انگلیاں بے قابو سی حرکت میں تھیں… جبڑا بھنچا ہوا… نظریں سڑک سے ایک لمحے کے لیے بھی نہ ہٹیں… وہ اس وقت ایزل سے نہیں الجھ رہا تھا… اُس حملے سے… اُن چہروں سے… اُن دھمکیوں سے لڑ رہا تھا جو ابھی پیچھے رہ گئی تھیں…
ایزل نے اس کی طرف دیکھا… آنکھوں میں اب خوف نہیں تھا… صرف ضد تھی… وہ ذرا سا سیدھی ہو کر بیٹھی… ہونٹ آپس میں دبا لیے… جیسے خود کو سنبھال رہی ہو…
گاڑی کے اندر خاموشی پھیل گئی… بھاری… کھنچتی ہوئی خاموشی… ایک طرف یارم کا ضبط میں بندھا غصہ تھا… اور دوسری طرف ایزل کی نادان سی انا… دونوں اپنی اپنی جگہ اَڑے ہوئے تھے…

“آپ تھکتے نہیں مجھ سے لڑ لڑ کے؟
ایزل نے گھورتے ہوئے کہا، نظریں سیدھی اس کے چہرے پر جمائی ہوئی تھیں۔
جب تم بک بک کر کے نہیں تھکتی، تو میں لڑ لڑ کے کیوں تھکوں؟

“چلو ٹھیک ہے، وعدہ۔آج سے بک بک نہیں کروں گی۔
ایزل کے دماغ میں شیطانی آئیڈیا پلک جھپکتے آیا، آنکھوں میں چمک بتا رہی تھی کہ وہ کچھ نیا اور شرارتی سوچ رہی ہے۔

“مہربانی… جو تم بک بک نہ کرنے کا وعدہ کر رہی ہو… بس اس وعدے پر قائم رہ جانا… میرے لیے یہی بہت ہے…یارم نے کہتے ہوئے چہرہ شیشے کی طرف موڑ لیا… نگاہیں باہر سڑک پر جم گئیں… جیسے بات وہیں ختم کرنا چاہتا ہو… مگر ہونٹوں کے کنارے پر اب بھی وہی دبی ہوئی مسکراہٹ تھی…

“یہ وعدہ ہے… آج سے میں بک بک نہیں کروں گی…
ایزل نے آنکھیں ذرا سی سکیڑیں، ہونٹوں پر شرارتی سی مسکراہٹ آ گئی…
روز… پیار بھری باتیں کیا کروں گی…

’’نہیں… میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘
یارم نے نگاہیں سڑک پر جمائے رکھیں، آواز میں قطعیت تھی، ہاتھ اسٹیئرنگ پر ذرا سخت ہو گیا۔
’’فی الحال تو بالکل نہیں۔‘‘

’’ویسے مولانا صاحب… آپ سے کس نے کہا کہ اپنے ہی شوہر سے پیار محبت کی باتیں کرنے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے؟‘‘
ایزل مسکرا کر تھوڑا جھکی، اور ہلکا سا اپنا کاندھا یارم کے کندھے سے لگا دیا۔

’’جب شوہر کا موڈ ہوگا، تو شوہر خود بتا دے گا۔‘‘
’’زبردستی کی محبت اور پیار مجھے نہیں چاہیے۔‘‘

’’میں تو زبردستی کروں گی، سرٹیفکیٹ بھی میرے پاس ہے، نکاح کا۔‘‘
’’اور یہ بار بار آپ مجھ سے بھاگنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ دال میں کچھ کالا تو نہیں ہے؟‘‘
ایزل نے آنکھیں سگوڑیں، ہلکی سی شیطانی مسکان لبوں پر بکھیرتے ہوئے، سیدھی یارم کی جانب دیکھ کر ہر لفظ پر زور دیا۔

“ایسا کچھ بھی نہیں ہے، دماغ کو زیادہ چلانے کی ضرورت نہیں۔”ایک نظر اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا… یارم کا دل کسی وجہ سے زور سے دھڑک اٹھا، جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
یہ پہلا لمحہ تھا جب اسے وہ ڈر محسوس ہوا…وہ ڈر جو ایک شوہر اپنی بیوی کے سامنے چھپی ہوئی بات ظاہر ہو جانے پر محسوس کرتا ہے۔

“ہاہاہاہا… چہرہ دیکھیں، جیسے چوری پکڑی گئی ہو!
ایزل دانت نکالتے ہوئے زور سے ہنس رہی تھی، دونوں ہاتھ سے تالی بجاتے ہوئے ایک دوسرے پر مارتی، لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔
اس کی ہنسی کی گونج پوری گاڑی میں پھیل گئی تھی، اور لمحہ ایک دم زندہ ہو گیا تھا۔

” نہیں، میں تو بالکل ٹھیک ہوں، مجھے تو آپ کھسکے ہوئے لگتے ہیں،
ایزل نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔ہر وقت منہ بنا کر بیٹھے رہتے ہیں۔

” اگر ایک لفظ اور بولا تو میں اُٹھا کر تمہیں پہاڑیوں سے نیچے پھینک دوں گا۔

” ڈیئر ہسبینڈ، میں پہاڑیوں سے نیچے گرنے کے لیے تیار ہوں، مگر بشرط یہ کہ میرے ہاتھ میں آپ کا ہاتھ ہو۔
اففف …..کیا رومینٹک مومنٹ ہوگا… ہم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر سلو موشن میں پہاڑوں سے نیچے گر رہے ہوں گے اور لوگ ہماری پکس بنا رہے ہوں گے…
او مائی گاڈ، کتنا رومینٹک مومنٹ ہوگا! کل کی نیوز ہیڈ لائن بن جائے گی….”ڈی ایس پی یارم خان اور ان کی خوبصورت، بیوٹی فل، چھوٹو سی وائف پہاڑیوں سے رومینٹک انداز میں گر گئے!”
اب کی بار ایزل نے یہ سب کچھ بلند آواز میں کہا۔
یارم اسے گھور گھور کر لال آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔

” ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟ اب میں نے کیا غلط کہہ دیا ہے؟ ہر وقت بڑی بڑی آنکھوں سے گھورتے رہتے ہیں… کبھی پیار سے بھی دیکھ لیا کریں میری طرف۔ایزل نے معصوم سا چہرہ بناتے ہوئے، آنکھیں ٹمٹما کر کہا۔

“آپ نے گاڑی کیوں روک دی ہے؟”
ایزل نے حیرت سے شیشے کے پار دیکھا، جہاں اندھیرا اور نیچے اترتی کھائیاں خود ہی ایک خوفناک منظر بنا رہی تھیں۔
“تمہارا رومانٹک ہونے کا شوق پورا کرنے لگا ہوں۔”
یارم نے اسٹیئرنگ پر ہاتھ جمائے رکھے، “یہ جگہ ان سیف ہے، اگر نیچے پھینکا تو واپس آنے کے چانس کم ہوں گے۔”
گاڑی رک چکی تھی، آگے پیچھے پولیس کی گاڑیاں بھی ٹھہر گئی تھیں۔
“ہائے اللہ… آپ سچ میں مجھے نیچے پھینکنے والے ہیں؟”
ایزل نے منہ کھول کر حیرانی سے پوچھا۔
“ہاں، بالکل… کیونکہ اگر تمہیں اپنے ساتھ لے گیا تو گھر پہنچنے تک تم مجھے پاگل کر دو گی۔”
یارم کا لہجہ سنجیدہ تھا، حالانکہ وہ صرف اسے خاموش کروانا چاہ رہا تھا۔
“اچھا تو پھینک دیں۔”
ایزل نے فوراً کہا، “خون کا الزام آپ پر آئے گا۔ میں انکل کو میسج بھیج دیتی ہوں، انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ان کے بہادر بیٹے نے اپنی معصوم بیوی کے ساتھ کیا کیا۔”
وہ سچ میں موبائل پر ٹائپ کرنے لگی تو یارم گھبرا کر اس کا ہاتھ پکڑ گیا، فون اس کی گرفت سے نکل گیا۔
“دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟”
اس نے جھنجھلا کر کہا، “جہاں سیریس ہونے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں ہوتی نہیں، اور جہاں نہیں ہوتی وہاں فوراً سیریس ہو جاتی ہو۔”
ایزل نے آنکھیں سکیڑیں، لبوں پر شرارتی سی مسکراہٹ آ گئی۔
یارم کو اب احساس ہوا کہ مذاق میں کہی گئی بات، اس کے لیے خاصی مشکل کھڑی کر سکتی تھی۔

“کیا ہوا، ڈر گئے؟”
ایزل نے شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے کہا۔

“میں نے زندگی میں ضرور کوئی گناہ کیے ہوں گے، جس کے بدلے تم جیسی جوکر بیوی میرے نصیب میں لکھ دی گئی ہے۔۔۔”
یارم کی آواز میں ہلکی سی جھنجھلاہٹ تھی۔

“ہی ہی ہی…”
ایزل دانت نکالتے ہوئے ہنس رہی تھی، آنکھیں چمک رہی تھیں، چھوٹے قہقہے ہونٹوں سے پھوٹ رہے تھے۔

“اب تو لکھ دی گئی ہوں نا؟ اب کچھ نہیں ہو سکتا، ڈی ایس پی صاحب۔ کیوں فضول میں پھڑپھڑا رہے ہیں؟ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتی ہوں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے، کیونکہ آپ اپنے بابا جان سے بہت پیار کرتے ہیں اور میں آپ سے بھی بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔ اور آپ کے بابا جان کو بھی بہت پسند کرتی ہوں۔”
ایزل تھوڑا سا آگے جھکی، ہلکی سی شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ، مگر نگاہیں سیدھی سڑک پر۔
“میں ان کی اچھی بہو ہوں، اس لیے آپ مجبور ہیں، چاہ کر بھی مجھے مار نہیں سکتے۔ جب کچھ نہیں کر سکتے تو فضول میں دماغ کی تاریں شاٹ کیوں کر رہے ہیں؟ ریلیکس رہیں، انجوائے کریں۔ باہر نیچر دیکھیں، آپ کو انجوائے کرنا کیوں نہیں آتا، ڈی ایس پی صاحب؟”

ایزل دیکھنے میں بک بک کر رہی تھی، زندگی جی رہی تھی، بےفکری کے ساتھ ہر لمحے سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ یارم کی جھنجھلاہٹ، غصہ، یا کچھ دیر پہلے کا خوفناک واقعہ اس کی چہ چکاہٹ پر بالکل اثر نہیں ڈال سکا تھا۔ اس کی ہنسی گاڑی میں گونج رہی تھی، چھوٹے قہقہے اور شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ وہ یارم کو تنگ کیے جا رہی تھی۔جبکہ وہ ایزل کو چپ کروا کر کچھ سوچنا چاہتا تھا مگر ایزل تھی کہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

یارم نے ایک بار پھر موبائل پر راشد کا نمبر ملایا۔

“یس سر…” دوسری جانب سے محتاط لہجہ گونجا۔

“راشد، تمہارے پاس کوئی نشہ آور دوا ہے؟”

“نہیں سر، جانتے ہیں ہمیں ایسی کوئی دوا رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی…”

“مگر سر، کیا کرنا ہے؟ ہم آگے کہیں سے ارینج کر لیتے ہیں۔”
راشد کو واقعی لگا شاید ڈی ایس پی صاحب کو کسی سنجیدہ مسئلے میں اس کی ضرورت پڑ گئی ہے۔

“آپ نشہ آور چیز کیا کریں گے؟”
ایزل نے ناسمجھی میں، خالص تجسس کے ساتھ پوچھا۔

“تمہیں دینی ہے…”
یارم کا لہجہ خشک تھا،
“تاکہ تم بے ہوش ہو کر گاڑی کی سیٹ پڑی رہو اور میرا دماغ سکون میں رہے۔”

“راشد، اگر کچھ نہ ملے تو چوہے مارنے والی دوائی لے لینا… مگر دو پیکٹ۔ ایک پیکٹ سے تمہاری میڈم مریں گی نہیں۔” فون پر دوبارہ راشد کو حکم جاری کیا گیا ۔

“چھی۔۔۔”
ایزل کا چہرہ فوراً بگڑ گیا۔
“کم از کم مارنا ہی ہے تو کسی مہنگی نشے والی چیز سے تو مارو…”

“مجھے… ایزل خان کو… چوہے مارنے والی دوا؟”وہ اپنے نام پر زور دیتی ہوئی بولی،
ناک سکیڑتے ہوئے منہ بنا لی۔

“تم اپنی برادری کے کھانے پینے کی چیزوں سے مرو گی تو شاید میں زیادہ
خوشی ہوگی۔”
یارم نے کہا۔
ایزل نے گردن سیدھی کی۔ خوبصورت آنکھوں میں غصہ اتر آیا۔

” چپ ہو جائیں…”
“ورنہ اس بار میں آپ کو اُٹھا کر پہاڑیوں سے نیچے پھینک دوں گی۔”
فون کی دوسری جانب راشد ہنسی ضبط کرتے کرتے تقریباً ٹوٹ چکا تھا۔

یارم نے کال کٹ کر دی۔
ایزل کچھ دیر منہ پھلا کر بیٹھی رہی، پھر حسبِ عادت بولنے لگی۔
پورا راستہ دونوں کی ہلکی پھلکی کھٹ پٹ چلتی رہی۔
کبھی کسی کو اندازہ نہیں ہوتا کہ اگلا موڑ کیا لانے والا ہے۔ سفر اچھا گزر رہا تھا،کیا پتہ تھا کہ حملہ کرنے والوں کے کچھ لوگ آگے گھات لگائے بیٹھے ہیں۔
سڑک کے عین درمیان اچانک گاڑی کے آگے درخت کا تنا پھینک دیا گیا۔
ایک جھٹکا، پھر توازن بگڑا… اور تینوں گاڑیاں پھسلتی ہوئی نیچے بہتی ندی میں جا گریں۔
پانی میں گرنے سے فی الحال کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، مگر ندی کا پانی حد سے زیادہ ٹھنڈا تھا۔ دو گاڑیوں کے شیشے کھلے ہونے کی وجہ سے پانی تیزی سے اندر بھرنے لگا۔

پولیس اہلکار فوراً تیرنے لگے، مگر بہت احتیاط سے۔
اوپر سے فائرنگ کا خدشہ تھا، اس لیے وہ خاموشی اور ہوشیاری سے کنارے کی طرف بڑھ رہے تھے۔
یارم کی گاڑی کے شیشے بند تھے، اس لیے اس میں ابھی پانی داخل نہیں ہوا تھا۔
یہ بھی خدا کا کرم تھا کہ جس جگہ سے حملہ کیا گیا، وہاں ندی کی گہرائی زیادہ نہیں تھی۔
یہ راستہ عام نہیں تھا، مخصوص لوگ ہی استعمال کرتے تھے… اور شاید اسی لیے حملہ آوروں نے یہی جگہ چنی تھی۔
مگر مسئلہ یہ تھا کہ پانی کا تیز بہاؤ گاڑیوں کو اپنے ساتھ بہا رہا تھا۔
پیچھے والی گاڑیوں کا کیا حال ہے، یارم کو علم نہیں تھا۔
اس کی گاڑی میں اس وقت صرف دو لوگ تھے۔
ایزل کی ڈری ہوئی چیخیں گاڑی میں گونج رہی تھیں۔
گاڑی کے جھٹکے سے اس کا سر کسی سخت چیز سے ٹکرایا تھا۔ ماتھے پر ہلکا سا کٹ لگا تھا، جہاں سے خون بہہ رہا تھا۔
یارم نے فوراً جیب سے رومال نکالا اور اس کے ماتھے سے خون صاف کیا۔
کچھ لمحے پہلے گاڑی میں ہنسی تھی… اور اب قیامت۔
یارم نے بے اختیار ایزل کو کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔
گاڑی اب پوری طرح پانی میں تھی۔ باہر کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، بس نیلا سا دباؤ۔
ایزل روتے ہوئے اس کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھی۔
اس کا جسم خوف سے کانپ رہا تھا۔
“ریلیکس ہو جاؤ…”
یارم نے دھیمی آواز میں کہا،
“ان شاء اللہ، اللہ سب بہتر کرے گا۔”
“نہیں…”
وہ لرزتی آواز میں بولی،
“ہم مر جائیں گے…”
“جب تک اللہ نہ چاہے، کوئی نہیں مرتا…”
اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا،
“اللہ پر یقین رکھو۔ خود کو پُرسکون رکھو… اللہ بہتر کرے گا۔
“نہیں… نہیں…
آپ گاڑی کا شیشہ نہیں توڑیں گے…
ایزل کی آواز لرزی، پانی اب سیٹ کے کنارے کو چھونے لگا تھا۔

“ایزل…
اگر شیشہ نہیں ٹوٹا تو بھی ہم نہیں بچیں گے۔
یارم کی آواز سخت تھی، مگر نگاہیں اس پر جمی ہوئی تھیں۔
نہیں…
مجھے ابھی نہیں مرنا…
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے رو پڑی۔
مجھے آپ کے ساتھ جینا ہے…
آپ کو نہیں پتہ میں نے کتنی دعاؤں سے آپ کو مانگا ہے…
یارم ایک لمحے کو خاموش ہو گیا۔
پانی اس کے جوتوں کے اندر بھر چکا تھا۔
کچھ نہیں ہوگا۔
وہ آہستہ بولا۔
اگر ہمت رکھو گی تو نکل جائیں گے۔
پانی بہت ٹھنڈا ہے… زیادہ دیر رک گئے تو جسم جواب دے دے گا۔
ایزل نے بے اختیار پاؤں سیٹ پر سمیٹے،
اور اس کے گلے سے لپٹ گئی۔
پانی اس کی پنڈلیوں کو کاٹ رہا تھا۔
آپ بچ جائیں گے…
میں نہیں۔
اس کی آواز بچوں جیسی ہو گئی۔
دیکھو میری طرف۔
یارم نے اس کا چہرہ تھاما۔
تم میری بیوی ہو۔
میں تمہیں چھوڑ دوں… ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔
مجھے تیرنا نہیں آتا…
اور مجھے ڈر ہے آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔
آنکھوں میں بے یقینی تھی، سچی۔
یارم نے ایک لمحہ ضائع نہیں کیا۔
دوپٹہ کھینچا،
ایک گرہ… پھر دوسری۔
ایزل کی پشت اس کے سینے سے جڑ گئی۔
میرا ہاتھ نہیں چھوڑنا۔
سانس روکے رکھنا۔
شیشہ ٹوٹے گا تو پانی ایک دم آئے گا…
گھبرانا نہیں۔
وہ سر ہلاتی رہی،
ہونٹ نیلے پڑنے لگے تھے۔
ون…
ٹو…
تھری…
اللہ اکبر۔
شیشہ ٹوٹا۔
پانی چیخ مارتا ہوا اندر گھسا۔
ایک لمحے میں سب کچھ اندھیرے اور سردی میں ڈوب گیا۔
یارم کے ہاتھ نہیں کانپے۔
صرف آنکھیں ایک لمحے کو بند ہوئیں۔
دروازہ کھلا۔
ندی کا بے رحم پانی چاروں طرف تھا۔
وہ تیرتا ہوا اوپر لپکا،
ایزل اس کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔
سانس…
ایزل کی سانس ٹوٹ رہی تھی۔
ہمت رکھو…
بس تھوڑی دیر…
وہ اسے ساتھ گھسیٹتا کنارے کی طرف بڑھ رہا تھا۔
پانی کا بہاؤ انہیں کھائی کی طرف کھینچ رہا تھا۔
ایک جھٹکا…
پھر زمین۔
راشد کا ہاتھ آگے بڑھا۔
یارم نے آخری زور لگایا۔
ایزل کھانسنے لگی۔
پانی، سانس، کپکپاہٹ… سب ایک ساتھ۔
یارم گھٹنوں کے بل اس کے سامنے جھکا۔
اس کا سر جھکایا۔
سانسیں بھریں۔
ایک…
دو…
ایزل کے سینے نے جنبش لی۔
ایک گہری سانس۔
یارم نے آنکھیں بند کر کے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کلمہ پڑھا۔
ایزل کی پلکیں ہلیں۔
کیا…
میں مر گئی ہوں…؟
آواز بمشکل نکلی۔

ماشاءاللہ… منہ کھولا بھی تو غیر ضروری کھولا ہے۔
تم بالکل زندہ ہو، اور خدا کے لیے تھوڑا ہوش میں آ جاؤ۔
یارم نے قدرے سخت لہجے میں کہا تھا، شاید اس امید پر کہ ایزل سنبھل جائے، مگر اس کی حالت واقعی بہت خراب تھی۔ وہ چاہ کر بھی ہوش نہیں پکڑ سکی۔ پلکیں بھاری ہو رہی تھیں اور وہ ایک بار پھر آنکھیں بند کرنے لگی۔
یارم جانتا تھا کہ وہ فوری خطرے سے تو باہر آ چکے ہیں، مگر ٹھنڈ نے سب کی حالت بگاڑ دی تھی۔ خاص طور پر ایزل کی۔ اب کسی بھی طرح کسی محفوظ جگہ تک پہنچنا ضروری تھا۔
اس نے اردگرد نظریں دوڑائیں۔ علاقہ مقامی گھروں سے گھرا ہوا تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ یہاں آبادی موجود ہے۔ اگر ذرا سی محنت کی جائے تو پہاڑی پر چڑھ کر مدد حاصل کی جا سکتی تھی۔

’’تم دونوں ہمت کرو اور پہاڑی پر چڑھنا شروع کرو… ان شاء اللہ ہمیں مدد مل جائے گی۔‘‘
یارم خان نے اپنے دونوں آدمیوں کو حکم دیا۔
اس نے ایزل کو گود میں اٹھایا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

وزن کے ساتھ پہاڑی پر چڑھنا آسان نہیں تھا، مگر ایک تو ایزل نازک اور کمزور سی تھی، دوسرا یارم پولیس والا تھا۔ ایسے سخت حالات کا وہ عادی تھا۔

ابھی آدھا راستہ ہی طے ہوا تھا کہ مقامی لوگوں کی نظر ان پر پڑ گئی۔ پولیس کی وردی دیکھتے ہی وہ سمجھ گئے کہ کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔ اوپر سے رسی کے ساتھ لکڑی کی بنی ہوئی ایک لچکدار سیڑھی نیچے پھینکی گئی تاکہ یہ لوگ آسانی سے اوپر پہنچ سکیں۔
سب نے سیڑھی مضبوطی سے تھامی تو مقامی لوگوں نے آہستہ آہستہ اسے کھینچنا شروع کر دیا۔ چند لمحوں میں وہ پہاڑی کے اوپر پہنچ چکے تھے۔
فوراً ان کے لیے گرم کمرے کا انتظام کیا گیا۔ لکڑیوں کی آگ جلائی گئی تاکہ جسموں کو حرارت ملے۔ ایزل اب بھی بے ہوش تھی۔

کپڑوں کا بندوبست کیا گیا۔ ڈرائیور اور کانسٹیبل کے لیے الگ کمرے، گرم کپڑے اور گرم مقامی قہوہ۔
ایزل اور یارم کے لیے الگ کمرہ رکھا گیا۔ ڈی ایس پی کی وردی میں یارم کی اہمیت چھپی نہیں رہ سکتی تھی۔ بہت عزت کے ساتھ انہیں ایک آرام دہ کمرے میں منتقل کیا گیا۔

ایک بوڑھی خاتون بے ہوش ایزل کو دیکھ کر بولیں،
’’بیٹا… اگر ہم غلط نہیں تو یہ تمہاری بیوی ہے نا؟‘‘
’’جی…‘‘
’’ماشاءاللہ، بہت خوبصورت ہے۔ اللہ تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے۔ اسے جلدی سے کپڑے بدلوا دو، ورنہ ٹھنڈ لگ جائے گی۔ حالت پہلے ہی ٹھیک نہیں۔ میں ابھی تم لوگوں کے لیے گرم قہوہ بھیجتی ہوں۔ ہمارے ہاں کا خاص تیل بھی ہے، ہاتھوں اور پیروں کی تلیوں پر مل دینا، ہوش میں آ جائے گی۔‘‘
’’جی ماں جی، بہت بہت شکریہ۔‘‘
یارم نے دل سے کہا۔

اس کے دل میں ایک الجھن تھی۔ ایزل خود کپڑے بدلنے کی حالت میں نہیں تھی، اور وہ…
وہ خاموش ہو گیا۔ اجنبی لوگوں کو کیا صفائی دیتا۔
بوڑھی خاتون یہ کہتی ہوئی باہر نکل گئیں۔
یارم نے ایزل کی نبض دیکھی، مدھم چل رہی تھی۔ کپڑے بدلنا اب ناگزیر تھا۔
گہری سانس لے کر اس نے دروازہ لاک کیا۔
یہ مرحلہ اس کے لیے آسان نہیں تھا۔

آنکھیں بند کیے، کمبل کی اوٹ میں، پوری احتیاط اور ایمانداری کے ساتھ اس نے ایزل کے کپڑے بدل دیے۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اپنی ہی بیوی کے کپڑے بدلتے ہوئے بھی وہ نظریں جھکائے کھڑا تھا۔
عورت اس کے نزدیک حرمت کا نام تھی۔ اس کی مرضی کے بغیر چھونا اس کے لیے گناہ کے برابر تھا، چاہے وہ اس کی بیوی ہی کیوں نہ ہو۔

اس نے ایزل کو اچھی طرح کمبل میں لپیٹ دیا، یہاں تک کہ چہرہ بھی ڈھانپ دیا تاکہ سانسوں کی حرارت اس کے وجود کو گرم رکھے۔
پھر خود واش روم جا کر کپڑے بدلے۔
ابھی باہر نکلا ہی تھا کہ دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔
دروازہ کھولا تو وہی بزرگ خاتون تھیں، ساتھ ایک لڑکی بھی، جس کے ہاتھ میں کھانا اور گرم قہوے کا تھرمس تھا۔

’’بیٹا، یہ ہمارے ہاں کا خاص تیل ہے۔ ندی میں گرنے والوں کے لیے بہت مؤثر ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے شیشی یارم کے ہاتھ میں تھما دی۔
’’ہاتھوں اور پیروں کی تلیوں پر ملنا، پھر قہوہ پلانا۔ خود بھی پیو، کھانا بھی ہے، آرام کرو۔‘‘
’’بہت مہربانی ماں جی… دل سے شکریہ۔‘‘
’’ارے بیٹا، شکریہ کی کیا بات ہے۔ آپ لوگ ہمارے لیے سب کچھ کرتے ہو۔‘‘
انہوں نے دعا دی۔ ساتھ آئی لڑکی کی نظریں بار بار یارم پر جا رہی تھیں، مگر وہ اس سب سے بے نیاز بزرگ خاتون سے بات کرتا رہا۔

ان کے جانے کے بعد یارم نے تیل ایزل کے پیروں کی تلیوں پر نرمی سے ملنا شروع کیا، پھر ہاتھوں پر۔
چند ہی لمحوں بعد ایزل کی پلکیں ہلیں اور اچانک آنکھیں کھل گئیں۔

’’شکر ہے میڈم… ہوش میں آ گئیں۔ احسان ہے آپ کا۔‘‘
یارم نے جان بوجھ کر کہا، تاکہ وہ کچھ بولے۔
’’میں جان بوجھ کر تھوڑی بے ہوش ہوئی تھی…‘‘
وہ کمزور سی آواز میں بولی۔

’’مجھے تو لگتا ہے جان بوجھ کر ہی بے ہوش ہوئی تھیں، تاکہ میں آپ کو اٹھائے پھر وں۔‘‘
یارم نے اس کے پیچھے تکیہ رکھتے ہوئے کہا۔
وہ منظر… اب بھی تھکا ہوا تھا، سرد تھا، مگر زندگی واپس لوٹ چکی تھی۔

” جو کچھ کرتی ہوں، ڈھنگ کی چوٹ پر کرتی ہوں… ڈرامے نہیں کرتی۔‘‘
ناک ذرا سا سکیڑ کر اس نے یارم کو گھورا۔

’’چلو، جلدی سے یہ پی لو… تاکہ تم ڈھنگ کی چوٹ پر ٹھیک بھی ہو سکو۔‘‘
یارم نے مگ اس کی طرف بڑھایا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘
ایزل نے مگ کے اندر جھانکا، ناک سکیڑی، چہرہ کڑوا سا بنا لیا۔
’’کہوہ ہے۔‘‘
یارم نے مختصر سا جواب دیا۔
’’یہاں کے لوگ کہتے ہیں، اس سے ٹھنڈ کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔‘‘

’’مجھے نہیں پینا کہوہ۔‘‘
وہ فوراً بولی۔
’’یہ مقامی لوگ بھی عجیب ہیں… ٹھنڈ ختم کرنی ہے تو کوئی یخنی دیں، سوپ دیں، دیسی مرغے کا شوربہ پلائیں۔‘‘
اس نے ناک سکوڑی، ہونٹ آگے نکالے، اور مگ کی طرف ایسے دیکھا جیسے دشمن ہو۔
’’مجھے نہیں پینا۔‘‘
یارم نے ایک لمحہ اسے دیکھا۔
یہ ضد بالکل بچوں جیسی تھی، صاف، کھری اور بے تکلف۔
’’اب مقامی لوگوں کو کیا پتا تھا کہ تم پانی میں بہتی ہوئی یہاں تک آ پہنچو گی،‘‘
وہ ہلکی سی طنز کے ساتھ بولا،
’’ورنہ یقیناً دیسی مرغے کا سوپ پہلے سے تیار رکھتے۔‘‘
’’جو بھی کہہ لیجیے، میں یہ کڑوا کہوہ نہیں پیوں گی۔‘‘
وہ کمبل میں منہ چھپاتے ہوئے بڑبڑائی۔
’’پینا پڑے گا۔‘‘
یارم نے نرمی سے کمبل اس کے چہرے سے ہٹایا،
’’چپ چاپ اٹھو اور پیو… ڈرامے بازی نہیں چلے گی۔‘‘
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
’’ہائے… صدقے جاؤں۔‘‘
وہ ہلکا سا مسکرائی،
’’اتنے پیار سے اگر زہر پینے کو بھی کہیں گے نا تو ایزل پی جائے گی… انکار نہیں کرے گی۔‘‘
جسم ابھی کمزور تھا۔
یارم پاس ہی بیٹھا تھا، پاؤں لٹکائے۔
اس نے دونوں بازو اس کے گلے میں ڈالے اور آہستہ سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔

یارم نے خاموشی سے مگ اس کے آگے بڑھایا۔
آنکھوں کے اشارے سے پینے کو کہا۔
’’چھی… کتنا کڑوا ہے یہ۔‘‘
ایزل نے پہلا گھونٹ لیتے ہی مگ ہٹا دیا۔
’’چپ چاپ پیو۔‘‘
یارم کی آواز میں سختی آ گئی،
’’اسی سے تم ٹھیک ہو جاؤ گی۔‘‘
’’میں نہیں پیوں گی… یہ بہت کڑوا ہے۔‘‘
وہ رو دینے والی شکل بنا کر بولی۔
یارم نے ایک لمحہ اسے دیکھا۔
پھر بغیر کچھ کہے مگ دوبارہ اٹھایا اور اس کے قریب لایا۔
’’سمجھ میں نہیں آ رہا؟ میں نے کہا پیو۔‘‘
اس نے خود مگ اس کے لبوں سے لگا دیا۔

“آپ کو مجھ پر ذرا بھی ترس نہیں آ رہا؟‘‘
اس نے بھنویں سکیڑ کر یارم کو دیکھا۔
’’زندگی میں پہلی بار اپنے ہاتھوں سے کچھ پلا رہے ہیں، اور وہ بھی یہ زہر جیسا قہوہ…‘‘
مگ کی طرف دیکھ کر اس کا منہ بگڑ گیا۔
’’کوئی جوس پلا دیں… کوئی شیک ہی دے دیں۔‘‘
کمبل کے اندر سمٹتے ہوئے اس نے بچوں کی سی ضدی صورت بنا لی۔

’’لیٹنے کی کوشش مت کرنا۔‘‘
یارم نے فوراً اس کا ہاتھ تھام کر اسے پیچھے جھکنے سے روکا۔
’’اور تم نے تو کہا تھا کہ میرے کہنے پر زہر بھی پی لو گی… اب یہ قہوہ نہیں پیا جا رہا؟ یہی ہے تمہاری وہ محبت جو تم ڈھنگے کی چوٹ پر کرتی ہو؟‘‘
وہ ذرا جھکا، مگ اس کے قریب کرتے ہوئے بولا،

’’تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہونا چاہیے کہ میں خود اپنے ہاتھوں سے پلا رہا ہوں۔ میں نے تو سوچا تھا تم خوشی خوشی پی لو گی۔‘‘
یہ جملہ اس نے جان بوجھ کر کہا۔ اسے معلوم تھا، آسانی سے پینے والی وہ نہیں تھی۔
ایزل نے اس کی طرف دیکھا۔
’’آزما رہے ہیں؟‘‘
’’یہی سمجھ لو۔‘‘
وہ ہلکا سا ناک سکیڑ گئی۔

’’تو پہلے ہی بتا دیتے… زہر بھی پلائیں گے تو ایزل خوشی خوشی پی لے گی۔‘‘
کہتے ہوئے اس نے یارم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا، مگ دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور بڑے بڑے گھونٹ لینے لگی۔
یارم نے بھی اپنا مگ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ قہوہ واقعی حد سے زیادہ کڑوا تھا۔ جڑی بوٹیوں کی تیز خوشبو حلق میں اتر رہی تھی۔
ایزل سانس روکے پی رہی تھی۔ آنکھیں نمی سے بھرنے لگیں، مگر مگ نیچے نہیں رکھا۔

’’پاگل… آہستہ پیو۔‘‘
یارم نے بے اختیار کہا۔
’’میں نے ایسا بھی نہیں کہا تھا۔‘‘
وہ بمشکل مسکرائی۔
’’کہا تو تھا… کہ میرے لیے یہی کافی خوشی ہونی چاہیے کہ آپ اپنے ہاتھوں سے پلا رہے ہیں۔‘‘
ایک اور گھونٹ لیا۔
’’پھر ایزل انکار کیسے کر سکتی ہے؟‘‘
یارم نے نظریں چرا لیں۔ مگ کی کنارے پر اس کی انگلیاں ذرا سخت ہو گئیں۔
’’بس کرو… اور مت پیو۔‘‘
وہ اچانک بولا۔
’’بہت کڑوا ہے۔‘‘
کمبل کے اندر سے ایزل نے اس کی طرف دیکھا، آنکھیں سرخ تھیں، مگر مگ اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔

’’نہیں… اب تو میں پورا پیوں گی، کیونکہ اس پر میرے ڈی ایس پی صاحب کے ہاتھ لگے ہوئے ہیں۔‘‘
کڑواہٹ کے باعث اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے، جنہوں نے آنکھوں کو اور بھی شفاف اور دلکش بنا دیا تھا۔
’’ہر بات پر ضد کرنا ضروری ہے؟ میں نے کہا بس کرو۔‘‘
یارم نے سختی سے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ سے مگ لے کر ایک طرف رکھ دیا۔
ایزل نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
’’I love you…‘‘
آواز بھری ہوئی تھی۔
’’اور کتنا تڑپائیں گے؟ کتنا انتظار کرنا پڑے گا آپ کی محبت کو حاصل کرنے کے لیے؟‘‘
کہتے ہوئے اس نے دونوں بازو یارم کی کمر کے گرد باندھ دیے اور خود کو اس کے سینے سے لگا لیا۔
یارم ایک لمحے کو ساکت رہ گیا۔
وہ لمس…
وہ آنسو…
وہ بے لوث محبت…
سب کچھ اس کے دل پر بوجھ بن کر اتر رہا تھا۔
اس نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔
انسان دنیا سے تو لڑ سکتا ہے…
مگر اپنے اندر کی سچائی سے نہیں۔
ایزل اس سے لپٹی ہوئی تھی، پوری شدت سے، پوری سچائی کے ساتھ…
اور یارم؟
وہ خاموشی میں اپنے ہی دل کے سامنے شرمندہ ہورہا تھا۔
تم میری بیوی ہو، اتنا کافی نہیں ہے…
یارم نے نرمی سے کہا تھا۔
اور آج پہلی بار اسے اس کا یوں سینے سے لگنا بُرا نہیں لگا تھا۔
’’نہیں… بیوی بننا کافی نہیں ہے۔‘‘
ایزل کی آواز لرز گئی۔
’’کیوں آپ مجھ سے پیار نہیں کر سکتے؟ ایزل اتنی بُری تو نہیں ہے…‘‘
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر جیسے دل سمیٹ کر بولی،
’’ایک بار بس بتا دیں، آپ کو مجھ میں کیا اچھا نہیں لگتا… میں خود کو بدل لوں گی۔‘‘
یارم نے نظریں چرا لیں۔
’’تم بہت اچھی ہو… میں تمہارے لائق نہیں۔‘‘
یہ جملہ ایزل کو سنبھال نہ سکا۔
اس نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
’’آپ کسی سے پیار کرتے ہیں؟‘‘
یہ سوال…
بالکل اچانک تھا۔
یارم ایک لمحے کو ساکت رہ گیا۔
اسے سمجھ ہی نہ آیا کہ اس سوال کا جواب کیا دے۔
وہ تو ہمیشہ سوچتا آیا تھا کہ جس دن ایزل یہ پوچھے گی، وہ صاف کہہ دے گا کہ ہاں… وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے۔
مگر آج؟
آج وہ نہ کہہ سکا۔
اس چھوٹی سی، معصوم سی لڑکی کا دل توڑنے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔
یارم اس بات سے انجان نہیں تھا کہ ایزل نے اسے اپنی پوری دنیا بنا لیا ہے۔
وہ پاگلوں کی طرح اس سے محبت کرتی تھی۔
بے حساب، بے شرط، بے خوف۔
وہ اپنی ناکام محبت کی سزا اس لڑکی کو خود سے دور رکھ کر دے رہا تھا…
کیا وہ درست کر رہا تھا؟
یہ سوال اس کے اندر گونج رہا تھا۔
اور اس کا دل…
اس کے خلاف کھڑا ہو چکا تھا۔
وہ اسے جھنجھوڑ رہا تھا،
صاف بتا رہا تھا کہ وہ اس لڑکی کے ساتھ غلط کر رہا ۔۔۔

                 ═══════❖═══════

کمرے کی ہلکی روشنی میں وہ سر پر دوپٹہ لیے بیڈ کے کنارے سے پاؤں لٹکائے اس کے قریب بیٹھی تھی۔
تکیہ پر سر رکھ کر ایک بازو نیچے رکھے ہوئے وہ لیٹا تھا، اور اس کی نگاہیں نرم مسکان کے ساتھ اس پر جمیں ہوئی تھیں۔
وہ اسے دیکھ رہی تھی، دل دھڑک رہا تھا، اور وہ مسکرا رہا تھا، بالکل سکون اور وقار کے ساتھ، جیسے ہر لمحہ روحانی سکون سے بھر گیا ہو۔

’’کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘
’’یہ دیکھ رہی ہوں کہ آپ اتنے برے نہیں ہیں، جتنا خود کو ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔‘‘
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
’’ہمم… مطلب کہ میں اچھا ہوں؟‘‘
’’ہاں… یہ بھی کہا جا سکتا ہے۔‘‘
’’میری جان، لفظوں کو گھمانا تمہیں خوب آتا ہے۔‘‘
’’آپ سے زیادہ نہیں۔‘‘
’’اچھا جی؟‘‘
’’ہاں جی۔‘‘
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے بات بدلی۔

’’اچھا چلو، جاؤ… تمہیں نماز کے لیے دیر ہو رہی ہے۔ پھر یہ الزام بھی میرے سر ڈال دو گی کہ میں نے باتوں میں لگا لیا تھا۔‘‘

وہ ذرا سنجیدہ ہوئی، لہجہ نرم مگر فیصلہ کن تھا۔
’’صرف مجھے نہیں… آپ بھی نماز پڑھیں گے۔‘‘
وہ چونکا، بھنویں ذرا سی اٹھیں۔

’’ حکم دے رہی ہو؟‘‘
وہ ہلکا سا مسکرائی، مگر بات میں وزن تھا۔
’’حکم تو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے ہر مسلمان کو… اور میرا نہیں خیال کہ آپ مسلمان ہو کر اُس کے حکم کو ٹال سکتے ہیں۔‘‘

’’پلیز… ایسی باتیں مت کہو۔‘‘
وہ ذرا سنجیدہ ہوا، آواز میں خفگی نہیں تھی، بس ایک ٹھہراؤ تھا۔
’’بھٹکا ہوا ضرور ہوں… مگر گستاخ نہیں ہوں۔‘‘

عبیرہ کی آنکھوں میں مدھم چمک تھی، آواز میں خلوص اور محبت تھی۔
’’جانتی ہوں… اسی لیے تو کہہ رہی ہوں کہ اٹھیں اور نماز پڑھیں۔ اور ہمارے رشتے کے لیے اللہ تعالی سے دعا کریں گے کہ ہمارے لیے آسانیاں ہوں۔‘‘
وہ اتنے پیار سے بول رہی تھی کہ دل نرم ہو گیا، اور وہ خاموشی سے مسکرا دیا۔

’’ٹھیک ہے، تم چلو، میں ابھی آتا ہوں۔‘‘
آریان نے اس کے ہاتھ پر نرمی سے ہاتھ رکھا، آنکھوں میں ہلکی مسکراہٹ تھی۔

“ٹھیک ہے، جلدی آنا، میں انتظار کروں گی۔‘‘وہ کہتے ہوئے اٹھ کر جانے لگی تھی کہ آریان نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روک لیا۔

“اب کیا ہے؟”
اس نے پلٹ کر آریان کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا، وہ کروٹ لے کر سر کے نیچے ایک بازو رکھتے بیڈ پر سر کو سہارا دیے لیٹا تھا۔

’”ہر بات ایسے ہی مجھے پیار سے سمجھا لینا، میں مان جاؤں گا۔”
آریان کے لبوں پر ہلکی مسکان تھی، ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامے ہوئے۔
“ٹھیک ہے… بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟‘‘
عبیرہ نے دل کے نرم جذبات کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا۔

’’حکم کرو، جان حاضر ہے… دل تو پہلے ہی تمہارا ہو چکا ہے۔‘‘
آریان نے یقین اور محبت کی شدت کے ساتھ جواب دیا، آنکھوں میں چھپی وفاداری کے لیے۔

’’نہیں جان…. نہیں چاہیے، بس تمہارا ساتھ چاہیے… اور میرے لیے ایسے ہم سفر بن جاؤ جس کی ہمیشہ میں نے رب سے دعا کی ہے ۔‘‘
عبیرہ کی آواز میں سکون اور خلوص تھا،

“جان لگا دوں گا ویسا بننے کے لیے۔‘‘
آریان نے دل کی گہرائی سے کہا، مسکان کے ساتھ جو اعتماد اور اطمینان پیدا کر رہی تھی۔

’’ٹھیک ہے، وضو کر کے آؤ، پہلی سیڑھی پر قدم رکھو اور پہلے رب کو راضی کرو، میں خود ہی راضی ہو جاؤں گی۔‘‘
عبیرہ نے محبت اور خلوص کے ساتھ کہا، آنکھوں میں نرمی اور دل میں سکون لیے ہوئے۔
وہ آہستہ سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کمرے کی جانب سے نکل گئی، وہ بیڈ سے پاؤں لٹکائے، چپل پہنے لگا ۔

“جب تم جانو گی کہ یہ محبت کب سے ہے میرے دل میں، تو تم حیران رہ جاؤ گی۔”
آریان نے مسکراتے ہوئے کہا اور وضو کے لیے خاموشی سے واش روم کی جانب چل دیا۔

═══════❖═══════

پرے ایریا میں عبیرہ جائے نماز پر بیٹھی تھی، ہاتھوں میں تسبیح کے موتی گنتی جا رہی تھی۔ روشنی آہستہ آہستہ کمرے میں پھیل رہی تھی، شیشے کے باؤل میں رکھی تسبیحیں ہلکی روشنی سے جگمگا رہی تھیں، اور شیشے کی الماری میں اسلامی کتابیں اور قرآن پاک رکھا ہوا تھا۔ وہ اپنی جگہ خاموش اور سکون کے ساتھ بیٹھ کر آریان کا انتظار کر رہی تھی، دل میں ایک نرم امید کے ساتھ۔

کچھ ہی لمحوں میں آریان سفید کرتا شلوار میں نماز کے لیے تیار ہو کر پرے ایریا میں داخل ہوا۔ عبیرہ نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔۔۔

وہ حجاب کی طرح دوپٹے کو سر پر لپیٹے بیٹھی تھی چہرے پر نور سا برس رہا تھا۔ آریان خان بھی اسے دیکھ کر نرمی سے مسکرا دیا، دل میں سکون اور محبت لیے۔اس کے قریب آکر جائے نماز پر کھڑا ہو گیا۔

’’نماز پڑھیں؟‘‘
اریان نے پرسکون لہجے میں پوچھا۔

“جی…ہاں میں سر کو ہلایا اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔تسبیح کو رکھتے ہوئے۔دونوں نے ایک ساتھ ’’اللہ اکبر‘‘ کہا اور نیت باندھی۔

آریان نے بڑے ٹھہراؤ اور خضوع کے ساتھ نماز ادا کی، رکوع، سجدہ اور قیام میں ہر رکن دل کی گہرائی سے ادا کرتا جا رہا تھا۔

عبیرہ اس کے ہر لمحے کو محسوس کر رہی تھی،وہ نماز بہت اچھے سے پڑھ رہا تھا۔ مطلب اسے نماز پڑھنی آتی تھی بس وہ بھٹک گیا تھا وہ یہی تو بول رہا تھا۔سوچ رہی تھی۔

ہر رکوع میں دل میں دعا کر رہی تھی کہ اللہ اسے ہمیشہ اسی راستے پر قائم رکھے۔یہ لمحہ محبت اور روحانیت کا درس محسوس ہو رہا تھا۔

نماز کے بعد دونوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تھے۔
فضا میں ایک گہرا سکون اتر آیا تھا، جیسے وقت بھی ٹھہر کر اس لمحے کی حرمت کو مان رہا ہو۔
اے اللہ…
اسے ہمیشہ میرا نصیب رکھنا…
یہ آریان خان کی پہلی دعا تھی۔
مختصر، سادہ، مگر دل کے پورے یقین کے ساتھ۔
اے اللہ…
اسے ہمیشہ راہِ راست پر رکھنا،
کبھی دوبارہ بھٹکنے نہ دینا…
یہ عبیرہ کی پہلی دعا تھی۔
آواز میں نرمی، دل میں خوف بھی اور امید بھی۔
اے میرے رب…
تو نے اگر اسے میرا نصیب بنایا ہے
تو بے شک اس میں تیری کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوگی…
میرے لیے یہی کافی ہے
کہ میری محبت
اسے اصل محبت
اور اصل ذات کے قریب لے آئی ہے…
بندے کو سب سے پہلے تیرے قریب ہونا چاہیے
اور آج یہ تیرے قریب کھڑا ہے…
اے اللہ…
اس کی ہر خطا کو معاف فرما دے
اگر کبھی یہ کمزور پڑ جائے
تو اسے تھام لینا
اگر کبھی قدم ڈگمگائیں
تو اسے سنبھال لینا…
یہ عبیرہ کی دعا تھی۔
آنکھیں بند تھیں، ہاتھ اٹھے ہوئے تھے
اور دل پوری عاجزی سے رب کے سامنے جھکا ہوا تھا۔
یا اللہ…
تو دلوں کے بھید جانتا ہے…
میرے دل میں جو کچھ ہے
تجھ سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا…
میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتا
بے شک تو مجھ سے میری ہر خوشی
میری ہر آسائش
میری ہر خواہش چھین لے
مگر اسے مجھ سے کبھی دور نہ کرنا…
اگر میری کسی خطا کا بدلہ دینا ہو
تو مجھے دے دینا
مگر اس رشتے کو مت آزمانا…آریان خان کی انکھوں میں نمی اتری ہوئی تھی۔مجھے وہ ہاتھ کی پشت سے آسانی سے چھپا گیا۔

تیرا یہ گناہگار بندہ
تیرے آگے ہاتھ اٹھائے کھڑا ہے
تو میری کوتاہیوں کو نظر انداز کر کے
اپنی رحمت کو دیکھنا…
اے اللہ…
میری کسی لغزش
کسی کمزوری
کسی نادانی کے بدلے
اسے مجھ سے جدا مت کرنا…
یہ آریان خان کی دعا تھی۔
خاموش، گہری، اور مکمل سپردگی کے ساتھ۔
دعا کے آخری لفظوں پر
دونوں نے آہستگی سے چہرے پر ہاتھ پھیر لیے تھے۔
یہیں یہ منظر ٹھہر گیا تھا…
جہاں محبت
عبادت بن چکی تھی
اور عبادت محبت میں ڈھل چکی تھی۔

═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki aik qist hai.Mukammal aur agli qist ke liye category “Saleeb Sukoot” dekhein.Nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje publish hoti hai.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *