|

Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:25

صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ SA
قسط نمبر: 25
═══════❖═══════
عبیرہ کچن میں شلف پر رکھے ہوئے چاپنگ بورڈ کے سامنے کھڑی تھی، سبزیاں ایک ایک کر کے ترتیب سے کاٹ رہی تھی۔
سر ہلکا سا جھکا ہوا، ہر ٹکڑا کمال کی نرمی کے ساتھ کاٹا جا رہا تھا۔ رنگ برنگی سبزیاں،سرخ مرچ، ہرا پیاز، گاجر، شملہ مرچ،بورڈ پر ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں، اور ان کے درمیان عبیرہ کے ہاتھ کی روانی روشنی میں جھلک رہی تھی۔

بال کیرچر میں بندھے ہوئے تھے، چند نرم لٹیں گندمی رنگت میں بکھری ہوئی تھیں، جو اس کے سر کے حرکات کے ساتھ ہلکی سی روشنی میں جھلک رہی تھیں،عبیرہ کی آنکھیں سبزیوں پر مرکوز ہو کر، اپنی سوچ میں کھوئی ہوئی حرکت کر رہی تھیں۔اسے نہیں پتہ تھا کہ آریان دروازے پر کھڑا اسے ٹک ٹکی باندھے دیکھ رہا ہے۔۔
عبیرہ چاپنگ بورڈ کے پاس کھڑی، سبزیاں کاٹ رہی تھی، اس کی ہر حرکت میں نرمی اور احتیاط صاف نظر آ رہی تھی۔
اس کے بال کیرچر میں بندھے ہوئے تھے، ہلکی لٹیں روشنی میں جھلک رہی تھیں، اور وہ سر اٹھا کر کبھی سبزیوں پر، کبھی مصالحوں پر، کبھی اپنے خیالات میں کھو جاتی ہے۔

آریان بس دیکھ رہا تھا، ٹک ٹکی باندھے، جیسے دنیا کی ہر خوشی اسی لمحے میں رک گئی ہو۔
کوئی الفاظ نہیں، بس خاموشی اور محبت کی تپش، جو ہر لمحے کو جاندار بنا رہی تھی۔

سفید ٹراؤزر اور سکائی بلو شرٹ میں وہ خاموشی سے چلتا ہوا عبیرہ کے قریب آ کھڑا ہوا، ہر قدم میں وقار اور ہر نگاہ میں محبت کی شدت تھی۔
عبیرہ، نےچاپنگ بورڈ پر سبزیاں کاٹتے ہوئے، سر اوپر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ آریان کی نظریں اس کے چہرے پر ٹھہر سی گئیں، عبیرہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔۔

“کیا دیکھ رہیں ہے۔؟

” اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں۔

” کیوں، پہلے کبھی نہیں دیکھا؟

“دیکھا ہے… بار بار دیکھنے کا دل چاہتا ہے، کمبخت، دل پر اختیار نہیں رہا۔

” سمجھائیں، اپنے دل کو… باغی ہونا اچھی بات نہیں ہے۔

” اب تو ہو گیا ہے باغی… اب اسے قید نہیں کیا جا سکتا۔

” اور ویسے بھی، اپنی بیوی کو جتنی بار پیار سے دیکھیں، ثواب ملتا ہے۔

” باقی کا ثواب بعد میں حاصل کر لیجئے گا… آپ کی نظریں مجھے کنفیوز کر رہی ہیں، مجھے کھانا بنانے دیں۔
” کنفیوز تم ہو رہی ہو، تو نظریں میں کیوں ہٹاؤ۔
“میں تو ثواب حاصل کروں گا ۔
آریان خان نے ہاتھ بڑھایا۔ انگلیوں کی پوروں سے عبیرہ کے چہرے پر جھولتی ہوئی لٹ کو آہستگی سے نرمی سے کان کے پیچھے کر دیا۔ لمحہ بھر کو اس کا ہاتھ وہیں رکا رہا۔ اس کی نظریں عبیرہ کے چہرے پر ٹھہر گئیں… خاموش، گہری۔
عبیرہ کی پلکیں جھک گئیں، اور ہونٹوں پر بے اختیار ہلکی سی مسکراہٹ آ کر ٹھہر گئی۔

“جائے نا… مجھے آپ کے لیے کھانا بنانا ہے۔

ہلکا سا رخ پھیرتے کو واپس سبزیاں کاٹنے میں خود کو مصروف کرنے لگی تھی۔آواز میں نرمی اور جھجک ایک ساتھ تھی۔

آریان نے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کا واپس اپنی طرف کر لیا۔ ایک قدم قریب آ کر جیسے لمحے کو تھام لینا چاہتا ہو۔ اس کی نظریں ٹھہر گئیں، گہری اور خاموش، اور کچن کی فضا میں ایک ان کہی سی بات پھیل گئی…

“کہا ہے نا کہ باہر جا کر کھا لیں گے۔ یہ لمحہ جی بھر کر جینے دو، خواب سا لگ رہا ہے۔میں اسے حقیقت میں محسوس کرنا چاہتا ہوں۔

“اتنی محبت مت کریں… مجھے ڈر لگنے لگتا ہے…
کہتے ہوئے اس کی آواز ہلکی سی کانپ گئی۔ پلکیں جھک گئیں، اس کے اندرونی الجھن چہرے پر نظر انثے لگی تھی۔ وہ سامنے کھڑا مسکرا تو رہا تھا، آنکھوں میں نرمی کچھ زیادہ ہی تھی، ایسی نرمی جو ڈرا بھی دیتی ہے اور خود سے باندھ بھی لیتی ہے…

میرے ہوتے ہوئے ہر ڈر کو دل سے نکال دو… تمہاری ہر مشکل کے سامنے میں کھڑا ہو جاؤں گا۔
اس کے ہاتھ میں تھمی چھری آہستگی سے الگ کر دی گئی۔ انگلیوں پر انگلیاں آئیں، گرفت نرم مگر فیصلہ کن تھی۔ سبزی کٹتے کٹتے رہ گئی، اور وہ اس کے ہاتھ کو تھامے اپنے کندھے سے لگائے کچن سے باہر لے آیا۔
اچانک بیل کی تیز، بے رحم آواز فضا چیر گئی… ایک بار نہیں، بار بار۔
اس کے جسم میں تناؤ دوڑ گیا، جبڑا سخت ہوا، آنکھوں میں ناگواری ابھری۔
کون پاگل ہے جو جاہلوں کی طرح بیل سے ہاتھ اٹھا ہی نہیں رہا؟
میں ابھی دیکھ کر آتا ہوں۔
وہ دروازے کی طرف تیز قدموں سے بڑھا۔ ہاتھ ہینڈل پر آیا، جملہ لبوں تک پہنچا… مگر دروازہ کھلتے ہی سب کچھ وہیں رک گیا۔
سامنے سخت تاثرات اوڑھے روشانے کھڑی تھی۔ آنکھوں میں وہی پرانی سختی، وہی ناگواری۔ اور ذرا پیچھے، ہونٹوں پر دبی دبی، تنزیہ مسکراہٹ لیے پریشے… جیسے خاموشی سے اپنی کامیابی دیکھ رہی ہو۔
ایک لمحے میں سب سمجھ آ گیا۔
یہاں تک پہنچانے والی وہی تھی۔

“کیوں نہیں آ سکتی؟

“نہیں نہیں… کیوں نہیں آ سکتی۔ پلیز اندر آئیں۔
وہ آگے بڑھا اور رسمًا گلے ملا، مگر اس کی نظریں پیچھے کھڑی پریشے پر جم گئیں۔ نگاہیں ایسی تھیں جیسے ایک لمحہ اور ملا تو سب کچھ کہہ ڈالے گا… یا شاید کھا ہی جائے۔
اندر سے آوازیں سن کر عبیرہ بھی دروازے تک آ گئی۔ ابھی اس نے کچھ سمجھنے کی کوشش ہی کی تھی کہ سامنے سے پڑنے والی نگاہوں نے اس کے قدم روک دیے۔ وہ نگاہیں سخت تھیں، تیز… اور غصے سے بھری ہوئیں۔
عبیرہ کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ پلکیں جھک گئیں، اور دل جیسے ایک دم سے بیٹھ سا گیا۔ فضا میں اچانک فضا میں اپنائیت باقی نہ رہی، کسی ان دیکھے طوفان کی آہٹ محسوس ہونے لگی…

تو یہ ہے وہ نمونہ جسے تم سزا دینے کے لیے لائے ہو؟
لفظ ابھی فضا میں ٹھیک سے گونجے بھی نہ تھے کہ اس کے چہرے کے نقش بدل گئے۔ جبڑا بھینچ گیا، آنکھوں میں ایسی چمک ابھری جیسے کسی نے چنگاری ڈال دی ہو۔ اگلا قدم اٹھا… پھر دوسرا۔ قدم نہیں، جیسے بجلی کوندی ہو۔ فاصلے سمٹتے چلے گئے، پلک جھپکنے کا موقع تک نہ ملا۔
ہاتھ پیچھے سے بڑھا، بال مٹھی میں آئے، اور ایک ہی جھٹکے میں سر پیچھے کو کھنچ گیا۔ حرکت اتنی اچانک، اتنی تیز تھی کہ آس پاس کھڑا ہر شخص منجمد رہ گیا۔
درد ایک چیخ بن کر لبوں سے پھوٹ پڑا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا، اور لمحے بھر میں پورا منظر بدل گیا… جیسے سکون کی جگہ طوفان نے لے لی ہو۔

“روشانے… کیا کر رہی ہیں آپ؟ چھوڑیں اسے…!
آواز کمرے میں گونج گئی۔ وہ ایک جھٹکے سے آگے بڑھا، لہجے میں غصہ بھی تھا اور گھبراہٹ بھی۔ ہاتھ بے اختیار مٹھیاں بن گئے، آنکھوں کے سامنے صرف وہ منظر تھا جو لمحہ بھر میں حد سے آگے نکل چکا تھا۔ فضا میں تناؤ یوں پھیل گیا جیسے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہو…

“آریان، تم اس فساد سے دور رہو…!
اس کی آواز میں خوف اور جلدبازی تھی، لیکن آریان کے چہرے پر محبت اور فکر کے آثار واضح تھے۔ اس کی نظریں صرف عبیرہ کی طرف نہیں، بلکہ روشانے کے دل کی سختی اور اس کے اپنے جذبات کے درمیان پھنسے ہوئے لمحے کو بھی سمجھ رہی تھیں۔

“میں نہیں چاہتی… جس طرح اس کی ماں نے میرے شوہر کو اپنے جال میں پھنسا کر میرا گھر برباد کیا… اسی طرح یہ بھی تمہیں پھنسا کر پریشے کی زندگی خراب کر دے۔
یہ سنتے ہی کونے میں کھڑی پریشے کے چہرے پر ناگواری کی لکیر ابھری۔ ہونٹ بھنچ گئے۔ یہ رحم دلی… اسے بالکل پسند نہیں آئی تھی۔ اسے آریان سے کوئی لینا دینا نہ تھا، مگر اس کا نام بیچ میں آنا اسے کھل گیا۔
ادھر درد اور الجھن کے بیچ کھڑی عبیرہ نے بے اختیار آریان کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں بے آواز الجھے ہوئے سوال تھے ۔ پریشے… یہ نام اس کے لیے نیا تھا، انجان۔ وہ کچھ نہیں جانتی تھی، سوائے اس کے کہ اس کے بالوں کو جکڑے کھڑی عورت کی نگاہوں میں قہر بھرا ہوا ہے۔
وہ عورت روشانے تھی۔
وہی، جس کا ذکر آریان کی باتوں میں بار بار آیا تھا۔ کبھی طنز میں، کبھی دکھ میں۔ وہ جانتی تھی… آریان اسے بہت چاہتا ہے۔
روشانے، پلیز… اس کے بال چھوڑیں۔ اسے درد ہو رہا ہے۔آریان خان کی اواز میں تڑپ تھی۔درد اس کے چہرے پر نظر آرہا تھا۔

“اس کو درد ہو رہا ہے یا تمہیں درد ہو رہا ہے؟روشانے کا ہاتھ بالوں پر مزید سخت ہو گیا۔

“مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ تم اس کے پیار کے جال میں پھنس چکے ہو؟”
روشانے کی آنکھیں غصے سے بھری ہوئی تھیں۔ آریان کی سانس تھمی، مگر نظریں عبیرہ پر محافظ بلی طرح ٹھہریں رہیں۔

“روشانے… پلیز…
میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں، اس کو چھوڑ دو…جو بھی بات کرنی ہے ہم بیٹھ کر کر سکتے ہیں وہ زور سے چلایا تھا۔”

پریشے دور کھڑی سارے ماحول کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی بغیر کچھ بولے.ـ”

“آریان، تم اس لڑکی کے لیے میرے سامنے ہاتھ جوڑو گے؟
مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم میرے آریان ہو۔
اس دو ٹکے کی لڑکی نے تمہیں ہاتھ جوڑنا سکھا دیا ہے؟”
روشانے نے بال جھٹکے سے چھوڑے، سر تھوڑا سا آگے کیا، اور آنکھوں میں سوال ڈال کر آریان کو گھورا۔ لب سخت، پلکیں جھکی نہیں، ہر حرف جیسے دھاگے سے باندھا ہوا۔
“تم شاید بھول گئے ہو تو میں تمہیں یاد کروا دوں…
تم آریان خان ہو جو کسی کے سامنے نہیں جھکتا۔
پھر تم اس لڑکی کے لیے میرے سامنے کیوں جھک رہے ہو؟
ایسا کیا رشتہ بنا لیا ہے تم نے اس کے ساتھ؟”
آریان کا سینہ ہلکا سا اُبھرا اور ڈوبا۔ ہاتھ مٹھیوں کی شکل اختیار کرتے ہوئے تھوڑا سخت ہوئے، مگر پیار اور حفاظت کی لہر ہر حرکت میں واضح تھی۔

عبیرہ کے لیے ہمدردی دیکھ کر روشانے کے دل میں درد کے لاوے پھٹ رہے تھے۔ آنکھیں جل رہی تھیں، ہونٹ بھنے ہوئے، اور ہر سانس میں آگ کا گولا سا محسوس ہو رہا تھا۔
برسوں پہلے ماں سے ہاری تھی، اور اب تاریخ دوبارہ دہرا رہی تھی۔
عروب کی بیٹی اس کے بیٹے سے بڑھ کر چاہنے والے بھتیجے کو اس سے چھین چکی تھی۔
یہ سوچ کر روشانے کے پورے وجود میں آگ بھڑک اٹھی۔ ہر قدم سخت، ہر نظر بھڑکتی ہوئی۔
اب اسے ہر حال میں جواب چاہیے تھا۔

“روشانے پلیز اندر چلو آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔

“میں بیٹھوں گی بھی اور رہوں گی بھی یہاں پر… مگر پہلے مجھے میرے سوالوں کا جواب چاہیے۔
گھٹیا لڑکی، تم نے میرے آریان کو کیا سے کیا بنا دیا؟
روشانے نے زور سے عبیرہ کے منہ پر تھپڑ مارا۔
چٹاخ کی زوردار آواز سے عبیرہ لڑکھڑا کر نیچے گر پڑی۔
روشانے۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے؟ پاگل ہو گئی ہیں آپ؟
آریان نے غصے سے چیختے ہوئے روشانے کو عبیرہ سے دور کیا اور تڑپتے ہوئے اسے زمین سے اُٹھایا۔
پریشے سارا تماشہ سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوئی، مزہ لے کر دیکھ رہی تھی۔
اسے تو امید بھی نہیں تھی کہ ڈرامہ اتنا دلچسپ ہونے والا ہے۔
آریان، تم نے اس لڑکی کے لیے مجھے دھکا دیا؟
روشانے بے یقینی سے آریان کو گھور رہی تھی۔

“سوری… آئی ایم سوری، روشانے، میں نے آپ کو دھکا نہیں دیا۔
میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔
میں نے تو آپ کو صرف پیچھے کیا ہے۔
آپ ہائپر ہو کر غلط کر رہی ہیں۔
پلیز، آرام سے بیٹھ کر میری بات تو سنیں۔
آریان کے جسم میں ایک لرزش دوڑ گئی۔ اس کی آنکھیں بھری ہوئی تھیں، سانس تیز، لیکن الفاظ نرم

اور محبت بھرے۔
وہ حالات کی بھاری پیچیدگی میں پھنس چکا تھا۔
اس کے سامنے دو ایسی شخصیتیں کھڑی تھیں جن سے وہ بے حد محبت کرتا تھا۔
ابھی وہ کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا تھا۔ نہ روشانے کو عبیرہ پر، نہ عبیرہ کو روشانے پر۔
بڑی مشکل سے آریان نے دروازہ بند کیا اور روشانے کو اپنے روم میں لے گیا، ہر قدم بھاری، ہر سانس تناؤ سے بھر گیا تھا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔۔

ویسے کافی انٹرسٹنگ چیز ہے… پریشے نے عبیرہ پر طنز بھری نگاہیں جمائیں۔

“مطلب…؟”عبیرہ نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا،
آنکھیں سوال سے بھری ہوئی تھیں ۔

“اتنی معصوم تو نہیں ہو کہ میری بات کا مطلب نہ سمجھ سکو۔۔۔
وہ تنزیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

جس آریان خان کے ناک پر کوئی لڑکی نہیں چڑھتی…
جو خود کو دنیا کا سب سے خوبصورت مرد سمجھتا ہے…
جس کے لیے خوبصورتی کا مطلب صرف وہ خود ہے…
جو ایٹیٹیوڈ اور اکڑ کا چلتا پھرتا مجسمہ ہے…
اس شخص کو تم نے چند دنوں میں کیسے اپنے بس میں کر لیا؟
تم سے تو کلاسز لینی چاہیے…
شکل معصوم اور کام دلچسپ۔
پریشے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اس کے سامنے کھڑی تھی۔
نگاہیں اس پر ایسی جمائی ہوئی تھیں جیسے پلک جھپکے تو وہ غائب ہو جائے۔
عبیرہ کو اس کی یہ تفتیش کرنے والی نظر زہر لگ رہی تھی، دل میں ہلکی سی الجھن اور خوف مچل رہا تھا۔
عبیرہ کے اندر غصہ بھی تھا اور درر بھی۔
اس میں اپنی تذلیل کا بوجھ سہنے کی طاقت نہیں بچی تھی۔
وہ پریشے کے سوالوں کا جواب دینے کی حالت میں نہیں تھی، بس جان چھڑانے کے لیے وہاں سے جانا چاہتی تھی۔
مگر پریشے گھوم کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

“اوئے، خود کو توپ سمجھنے کی کوشش مت کرنا۔
میں روشانے نہیں، پریشے ہوں، جو ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتی ہے۔”
پریشے نے عبیرہ کے جبڑے کو پکڑ کر دبوچ لیا۔
عبیرہ درد سے کراہ اُٹھی۔
ایک ہی دن میں دو لوگوں سے اپنی تذلیل ہوتے دیکھ، دل تڑپ کر رو رہا تھا، آنکھوں سے درد کے آہٹیں بہہ رہی تھیں۔

“تم نے میرے بارے میں آریان سے نہیں پوچھا.. ؟چلو کوئی بات نہیں میں خود ہی بتا دیتی ہوں۔

میں بچپن کی منگیتر ہوں، آریان خان کی…”
یہ بات پریشے نے صرف عبیرہ کو جلانے کے لیے کہی تھی۔
اور یہ سن کر عبیرہ کا دل ٹوٹ کر کرچیاں ہو گیا۔
اسے یہ جان کر صدمہ ہوا کہ آریان خان کی زندگی میں کوئی اور لڑکی بھی اتنا اہم مقام رکھتی ہے ۔

روشانے کی بدتمیزی وہ برداشت کر چکی تھی، کیونکہ وہ پہلے سے تیار تھی کہ ایک دن اس کا سامنا ہوگا۔
مگر پریشے… اس کا نام تو عبیرہ کے ذہن میں دور دور تک نہیں تھا، اور اب یہ حقیقت اسے اندر سے ہلا رہی تھی۔
“کتنی مشکل سے میں نے تم پر یقین کیا تھا…
اور تم نے وہی کیا، جس کا مجھے ڈر تھا۔
تم نے میرا دل توڑ دیا۔
تم بالکل ویسے ہی نکلے، جیسا میں تمہیں سمجھتی تھی۔
یہ سوچ آتے ہی وہ اندر سے ٹوٹ گئی۔
سانس بے ترتیب ہو گئی، اور آنسو خاموشی سے بہنے لگے…
اوووو… ہووووو…
بےبی کو رونا آ رہا ہے؟
پریشے اس کا مذاق اُڑا رہی تھی۔
عبیرہ میں اب اور ہمت نہیں رہی تھی۔ اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ جبڑے سے آزاد کرایا اور وہاں سے بھاگتی ہوئی پرے ایریا کی طرف چلی گئی۔ اس لمحے اس کے لیے اس سے زیادہ محفوظ جگہ اور کوئی نہیں ہو سکتی تھی۔

پاس والے کمرے میں جا کر اس نے وضو کیا۔ اور پری ایریا میں چلی گئی۔نماز سے پہلے ہی جائے نماز بچھا لی، جیسے دل کو سنبھالنے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت ہو۔ رب کے سامنے بیٹھ کر رو رو کر اپنے لیے صبر مانگتی رہی، مگر آریان کی زندگی میں کسی اور لڑکی کے ہونے کا خیال آتے ہی دل جیسے پھٹنے لگتا۔ اسے خود نہیں معلوم تھا کہ محبت کب دل میں اتری، مگر آج اس کی شدت صاف محسوس ہو رہی تھی۔

دوسرے کمرے میں کیا باتیں ہو رہی تھیں، اسے کچھ خبر نہ تھی۔ اس نے تو بس اپنے لیے ایک پناہ گاہ ڈھونڈ لی تھی۔ نماز ادا کرتے ہوئے۔ کچھ وقت گزر گیا، مگر آریان اب تک اس کے پاس نہیں آیا تھا۔
آریان… تمہارے وعدے جھوٹے تھے، تمہاری محبت بھی جھوٹی نکلی۔
اپنی منگیتر اور روشانے کے آنے کے بعد تم مجھے بھول گئے۔
میں کہیں کی نہیں رہی۔
تم نے مجھے دھوکہ دیا، مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا، اور اب خود الگ ہو گئے۔
میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔
آنکھوں سے بہتا ہوا درد جائے نماز پر بکھر گیا… اور وہ وہیں، اسی خاموشی میں ٹوٹ کر رہ گئی۔

                 ═══════❖═══════

روشانے بیڈ پر بیٹھی تھی۔ کندھے تناؤ میں تھے، نگاہیں سامنے جمی ہوئی تھیں۔
وہ اس کے قدموں کے قریب بیٹھا تھا، دونوں ہاتھ آپس میں جڑے، سر ذرا سا جھکا ہوا۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا،

“میری بات سنیں…
میں… آپ سے کچھ بھی جھوٹ نہیں بولوں گا…”
آپ پوچھیں، جو پوچھنا چاہتی ہیں۔

بیڈ پر بیٹھی عورت نے نگاہیں اس پر گاڑ دیں۔

“تم نے… مجھے اندھیرے میں رکھا۔
تم نے جھوٹ بولا ہے۔”

آریان خان کے جبڑے بھینچ گئے۔ سانس ایک لمحے کو رکی۔ وہیں بیٹھے بیٹھے انگلیاں سخت ہو گئیں۔ چار گھنٹے… ایک ہی بات، بار بار۔

“مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں…
اتنی ہمت ہے… کہ کوئی بھی بات میں سینہ تان کر کہہ سکتا ہو۔
اس کا ضبط جواب دینے لگا تھا۔روشا نے کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی۔

دروازہ ہلکی سی آواز کے ساتھ کھلا۔
کمرے میں پریشےداخل ہوئی۔
نظروں نے پہلے بیڈ پر بیٹھے منظر کو دیکھا، پھر اس کے قدموں میں بیٹھے شخص کو۔
ہونٹ ذرا سے مڑے۔

“اتنی ہمت ہے تو سینہ تان کر کہہ دو نا
کہ تم اس لڑکی کے پیار میں پاگل ہو چکے ہو۔پریشے جو کمرے داخل ہوتے بات سن سکی تھی آتے زہریلا تیر پھینکا۔
آریان خان اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔ نہ اس کی طرف دیکھا۔
مگر چہرے کے زاویے بتا رہے تھے…
اگر اس کا بس چلتا تو وہ اس لڑکی کی جان لے لیتا۔
وہ غافل نہیں تھا۔ اچھی طرح جانتا تھا کہ روشانے کو یہاں تک لے کر آنے والی وہی ہے۔

“ہاں… ہو چکا ہوں۔
اس کے پیار میں… پاگل!”
“بہت پیار کرتا ہوں…
دل و جان سے پیار کرتا ہوں!”
“کر لو جو کر سکتی ہو…
تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے نہیں جانتا؟
روشانے کو یہاں تک لانے والی تم ہو؟”
آریان خان پریشے کی بات پر بھڑک اُٹھا۔
اس نے دل کی پوری سچائی کو تسلیم کر لیا۔
نڈر تھا وہ… ہمیشہ سے نڈر۔
ڈرنا؟ اس کی فطرت میں نہیں تھا۔
عبیرہ سے محبت کا اعتراف وہ صرف اس لیے نہیں کر رہا تھا کہ روشانے کو تکلیف نہ ہو۔
مگر پریشے کی بات پر…
اس نے سچائی کھلے دل سے قبول کر لی۔

“اور اس وقت میں مزید بحث نہیں کرنا چاہتا…
ٹائم کافی ہو چکا ہے۔
جو بھی بات کرنی ہے، صبح کریں گے۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔
چہرے کا زاویہ، لہجہ، سب بتا رہا تھا کہ اب کوئی بات نہیں سنے گا۔
روشانے خاموش ہو گئی۔
وہ جانتی تھی… جب آریان دو ٹوک کہہ دیتا ہے، تو پھر کسی کی نہیں سنتا۔
چار ساڑھے چار گھنٹے وہ کوشش کر رہا تھا، مگر روشانے اپنی بات پر ڈٹی رہی۔
عبیرہ سے محبت کا اظہار ایک بار بھی نہیں کیا، تاکہ روشانے کو تکلیف نہ پہنچے۔
وہ چاہتا تھا کہ پیار سے سب کچھ سمجھا کر اصلیت بتائے۔
مگر پریشے نے بیچ میں بول کر آریان کے غصے کو بھڑکا دیا۔
اسی لیے وہ سچائی بول کر اٹھ گیا۔
اس کے دماغ میں بار بار عبیرہ کا چہرہ آ رہا تھا۔
کہاں ہوگی… کیا کر رہی ہوگی… ایک لمحے کے لیے بھی وہ اس کے بارے میں سوچنا نہیں روک سکتا تھا۔
اب وہ غصے کے ساتھ سب کچھ کہہ چکا تھا۔
اس لیے یہاں ایک لمحے کے لیے بھی رکنے کا ارادہ نہیں تھا۔
عبیرہ کے پاس جانا تھا۔
“آرام کریں صبح ملاقات ہوگی…. کہتے ہوئے روم کا دروازہ کھول کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔

روشانے سمجھ گئی تھی…
آریان کو غصے سے وہ کبھی اپنی طرف نہیں کر سکے گی۔سمجھداری سے اس نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا۔

“اس کے سر پر تو عشق کا جادو کچھ زیادہ ہی چڑھ گیا ہے۔”پریشے نے طنز بھرے لہجے میں کہا،
روشانے لمحہ بھر کو خاموش بیٹھی رہی،
پلکیں جھپکیں، سانس رک سا گیا۔

“بہت جلد… اتار دوں گی۔”ہر لفظ میں دھونس۔
پل بھر کے لیے کمرے کی ہوا ٹھنڈی سی ہو گئی،
ہر نظر، ہر حرکت میں منصوبہ بندی چھپی ہوئی تھی۔
صرف آگ لگانے کے لیے۔
═══════❖═══════

    آریان روم سے نکلا۔

سیدھا پرے ایریا کی جانب بڑھا۔
دل زور زور سے دھڑک رہا تھا… وہ جانتا تھا، وہ وہیں ہوگی۔
رات بہت ہو چکی تھی، مگر اُمید نے قدم بڑھائے۔
دروازہ کھولا…
عبیرہ سجدے میں سر رکھے، بے ترتیب پڑی تھی۔
نیند میں ہی سو گئی۔
آریان آگے بڑھا، نیچے جھکا، اور اسے اپنی گود میں اُٹھا لیا۔
پلکیں جھپکیں… آنکھ کھل گئی۔
اپنے آپ کو آریان کے بازوؤں میں دیکھ کر، چہرے پر غصے کی لالی چھا گئی۔
“چھوڑیں مجھے… جھوٹے انسان!
مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا…
آگئی نا آپ کی اصلیت میرے سامنے!”
وہ آریان کے سینے پر مکے مارتے ہوئے، آنسو بھرتے ہوئے رو رہی تھی۔
آریان نے اسے ہلکے سے اپنے سینے سے لگایا، خاموش، صرف نظریں بول رہی تھیں۔
دل دھڑک رہا تھا… سانس رکا سا تھا…
وہ لمحہ… جیسے وقت رک گیا ہو

آریان اسے اُٹھا کر اپارٹمنٹ کے اُس کمرے میں لے آیا جو کبھی استعمال میں نہیں آتا تھا۔
ان کے اپنے کمرے میں اس وقت روشانے اور پریشے موجود تھیں۔
اسے بیڈ پر بٹھایا۔
ہاتھ بڑھا کر نرمی سے آنسو صاف کرنا چاہے…
عبیرہ نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“مجھے ہاتھ مت لگائیں۔”
آریان نے ایک لمحے کو سانس روکی۔
“یار… اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو؟
مجھے بولنے کا موقع تو دو…”
عبیرہ ہنسی، مگر وہ ہنسی زخم جیسی تھی۔
“کیوں دوں موقع؟
آپ کے لیے کوئی موقع نہیں ہے۔”
اس کی آواز بھرا گئی، مگر الفاظ مضبوط تھے۔
“آپ کی محبت پر مجھے پہلے ہی یقین نہیں تھا۔
میں جانتی تھی… آپ دھوکہ دیں گے۔
پھر بھی میں پاگل تھی…
اتنی بڑی بے وقوف،
جو آپ کی محبت کے جھانسے میں آ کر
خود کو آپ پر لٹا بیٹھی۔”
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے،
آواز میں لرزش تھی،
درد اس قدر گہرا کہ آریان کا دل تڑپ اٹھا۔
وہ خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
اس لمحے، اگر عبیرہ کے بس میں ہوتا…
تو شاید وہ واقعی اسے مار ڈالتی۔
“میں نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا…”
اس نے آواز آہستہ رکھی، جیسے ایک لفظ بھی زیادہ ہوا تو وہ ٹوٹ جائے گی۔

“پہلے… آرام سے میری بات سن لو۔
اس کے بعد جو سزا دو گی، قبول ہے۔
میں تمہاری سزا سے بھاگوں گا نہیں۔”
کہتے ہوئے اس نے نظریں اس کے چہرے سے ہٹائیں، دیوار کی طرف بڑھا۔
ریموٹ اٹھایا…
اور ہیٹر آن کر دیا۔
کمرے میں ہیٹر کی گرمی پھیل گئی۔
پر وہ گرمی صرف ہوا کی نہیں تھی…
اس کے الفاظ، اس کی موجودگی، اس کی کوشش بھی خاموشی سے بول رہی تھی۔

آریان ریموٹ سے ہیٹر آن کر کے واپس پلٹا ہی تھا کہ عبیرہ بیڈ سے اٹھ کر اس کے قریب کھڑی ہو گئی۔
“جھوٹ مت بولیں…
آپ نے مجھ سے چھپایا کہ آپ کی ایک عدد منگیتر بھی ہے!”
وہ پریشے کا نام لیتے ہوئے تڑپ رہی تھی،
اور آریان نے اس کی ہر تڑپ کو دل پر محسوس کیا۔
آنکھوں سے پھسلتے ہوئے آنسو تیزی سے بہہ رہے تھے،
چہرے پر غصہ اور درد کی لالی ایک ساتھ جھلک رہی تھی۔
“اپنے آنسوں ضائع مت کرو…
تمہارے آنسو میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔”
“اس منگیتر کی میرے لیے کوئی حیثیت نہیں ہے۔
تمہیں اس کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔”
آریان کا لہجہ غیر معمولی طور پر تحمل بھرا تھا۔
وہی تحمل جو اس کے نیچر میں شاذ و نادر ہوتا ہے۔
مگر اس وقت، عبیرہ کی تکلیف اسے اپنے دل پر محسوس ہو رہی تھی۔

“آپ جھوٹے انسان ہیں!
آپ نے مجھے دھوکہ دیا ہے…”
“مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر…
میں جانتی تھی، ایک دن آپ مجھے اسی طرح رسوا کر کے چھوڑ دیں گے!”
وہ اس کے گریبان کو پکڑے کھڑی تھی،
آنکھوں میں غصہ، لبوں پر لرزش،
اور ہر لفظ سے دل کی تڑپ سنائی دے رہی تھی۔

“پاگل ہو گئی ہو؟
جانتی بھی ہو کیا بول رہی ہو!”
آریان کی آواز میں غصہ اور حیرانی دونوں جھلک رہے تھے،
نظریں عبیرہ پر جم گئی تھیں،
جیسے ہر لفظ اس کے دل پر بھاری پڑ رہا ہو۔

“پاگل ہی تو ہو گئی…
پاگل کر دیا تم نے مجھے!”
وہ دونوں ہاتھ گریبان سے چھوڑتی ہوئی کھڑی تھی،
چہرے پر غصے اور درد کی لالی،
آنکھیں بھر آئیں، جسم تھوڑا سا جھک رہا تھا۔
اس وقت اس کا دل بالکل ٹوٹا ہوا تھا،
کوئی سہارا نہیں،
صرف درد اور حیرت کے درمیان،
ہر سانس کے ساتھ ٹوٹتی ہوئی محسوس کر رہی تھی ۔
“تم پاگل ہو گئی ہو…
میری بات کیوں نہیں سن رہی؟
میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
تم میری تھی، میری ہو اور ہمیشہ میری ہی رہو گی۔
فضول سوچنا بند کرو۔”
اس نے عبیرہ کا آنسوؤں سے لبریز چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
گرفت سخت تھی، مگر لمس میں نرمی چھپی ہوئی تھی۔
آنکھیں اس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھیں،
اور ہر لفظ، ہر سانس، خاموشی سے سکون پہنچا رہا تھا۔
میں نہ آپ کی تھی…
نہ ہوں…
نہ کبھی ہونا چاہتی ہوں۔
جائیں… اپنی منگیتر کے پاس۔
اس نے آریان کے ہاتھ جھٹک دیے۔
دو قدم پیچھے ہٹ کر اس سے دور جا کھڑی ہوئی۔
آنکھوں میں آنسو تھے مگر لہجے میں وہ سختی تھی
جو ٹوٹنے کے بعد آ جاتی ہے…
جہاں اب کسی سہارے کی گنجائش نہیں تھی ۔

“وہ منگیتر ہے…
اور تم میری بیوی ہو۔
آریان کی آواز بھری ہوئی تھی، مگر مضبوط۔
جیسے لفظوں میں حق بھی تھا اور ڈر بھی۔
“فرق سمجھو عبیرہ…
وہ صرف ایک نام ہے،
اور تم وہ حقیقت ہو جس کے بغیر میں ادھورا ہوں۔

عبیرہ کا رونا اور اس کی بے آواز تڑپ آریان خان سے اب برداشت نہیں ہو پا رہی تھی، آج پہلی بار اس کا وہ مضبوط دل اس کے معصوم سے درد کے سامنے ہارنے لگا تھا ۔

“مجھے کچھ سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں…
بس یہ جان لینا کافی ہے کہ آپ کی زندگی میں میرے سوا کوئی اور لڑکی ہے…
اور یہی بات مجھے اندر تک جلا رہی ہے۔
عبیرہ کے آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں،
وہ اسے دیکھ رہی تھی، ہر نظر میں درد اور بے بسی تھی۔
اس کا لہجہ ٹوٹے ہوئے الفاظ کی طرح تھا،
جیسے ہر لفظ اپنے ساتھ دل کا ٹوٹنا بھی لے کر آیا ہو۔
ہونٹ کانپ رہے تھے، سانس پھونک پھونک کر نکل رہی تھی،
اور جسم کا ہر حصہ اس کے غم کو خاموشی سے بیان کر رہا تھا۔

“پلیز رونا بند کرو… خود کو یوں اذیت مت دو، مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔
وہ ایک قدم آگے بڑھا، اس کے قریب آ کر زبردستی اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
عبیرہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں، پلکیں بھاری اور سانس بے ترتیب، مگر وہ نظریں نہ ہٹا سکی۔
“میری زندگی میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
وہ میرے لیے صرف ماں باپ کا کیا ہوا فیصلہ ہے، بچپن کی ایک منگنی…
اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔

“اور میں… کیا ہوں؟!”
عبیرہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
نظروں میں تجسس اور درد دونوں جھلک رہے تھے، جسم تھوڑا سا جھک رہا تھا، ہونٹ کانپ رہے تھے۔

“تم میری پہلی اور آخری محبت ہو…”

“مجھے آپ پر یقین نہیں ہے…
میں آپ سے پیار نہیں کرتی!”

“اب ناہ کی گنجائش نہیں ہے!
دوبارہ کہا تو جان لے لوں گا!”

“لے لو… جان مار دو…
مگر میں بار بار کہوں گی!”

“تم پاگل ہو گئی!”

“ہاں… آپ نے کر دیا ہے!”
آریان نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں، پھر اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالے میں تھامتے ہوئے نرمی سے دیکھا ۔

“ایک بار بیٹھ کر آرام سے میری بات سنو…”

“مجھے نہیں سننا…
آپ دور رہیں مجھ سے!”
عبیرہ نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے کو دھکیلنے کی ناکام کوشش کی،

“عبیرہ… تم مجھے سختی کرنے پر مجبور کر رہی ہو!”

“جتنی مرضی سختی کر لو، میں اپنی بات سے نہیں بدلوں گی!”
عبیرہ کے لہجے میں ضد اور درد دونوں تھے۔
آریان نے سانس بھرتے ہوئے دیکھا ۔

“کیوں ۔۔۔۔۔۔اتنی بدگمان ہو گئی ہو؟
میں تمہارا ہوں اور تمہارا رہوں گا!
وہ انسان جو خود تمہارے سامنے تڑپ کر گڑگڑا کر تمہاری زندگی میں شامل ہوا،
جس نے دعاؤں میں تمہاری محبت کو مانگا…
وہ تم سے دور جانے کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے؟
تھوڑا ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر دیکھو۔

“یہ بات اپنے دل سے پوچھو…
اگر میری جگہ آپ ہوتے،
کوئی اچانک میری زندگی میں آ کر حق جتاتا،
تو کیا کرتے؟”

عبیرہ نے درد سے کانپتی ہوئی آواز میں جو سوال کیا تھا، وہ آریان کے سینے میں دہکتے انگارے کی طرح اتر گیا۔ اس کی آنکھوں کی سختی یکدم بدل گئی، جیسے کسی نے اندر کچھ توڑ دیا ہو۔ جبڑا بھنچا، سانس گہری ہوئی۔
“میں ….اس کی…. جان لے لوں گا…”
لفظ اس کے ہونٹوں سے نہیں نکلے، دانتوں کے بیچ چبھے تھے۔
“ٹکڑے کر دوں گا اُس شخص کے، جو تم پر حق جمانے کی کوشش کرے۔”
وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا، نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑ کر، جیسے پوری دنیا بس اسی ایک لمحے میں سمٹ آئی

“واہ مسٹر آریان خان، اپنی محبت کے لیے الگ قانون اور دوسروں کی محبت کے لیے الگ فیصلہ؟ دل تو میرا بھی چاہ رہا ہے کہ میں پریشے کے ٹکڑے کر دوں۔”
وہ آنسوؤں سے لال آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی، آواز میں طنز گھلا ہوا تھا مگر لفظ ٹوٹے ہوئے تھے، جیسے ہر جملہ کہنے سے پہلے دل ایک بار اور بکھر رہا ہو۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ تم پریشے سے جل رہی ہو… اُس پریشے سے، جس کی میری زندگی میں کوئی اہمیت ہی نہیں۔”
وہ الجھن اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا، جیسے واقعی اس کی سوچ کی سمت سمجھنے سے قاصر ہو، آواز میں جھنجھلاہٹ کم اور درد زیادہ تھا ۔

“ہاں، ہو رہی ہوں جیلس…”
وہ آنسوؤں سے بھری آنکھیں اس پر جمائے کھڑی تھی، آواز بھرا گئی مگر لفظ صاف تھے۔

“جس حق سے اس نے کہا کہ وہ آپ کی بچپن کی منگیتر ہے، وہ حق جتانا میرے اندر آگ لگا گیا ہے۔ میں اس کی باتوں سے جل رہی ہوں، کیونکہ وہ مجھے یہ احساس دلانا چاہتی تھی کہ میں کل کی آئی ہوئی لڑکی ہوں، میری کوئی اہمیت نہیں… اور وہ بچپن سے آپ کی زندگی کا حصہ ہے، وہ خاص ہے۔”
کہہ کر وہ ایک لمحے کو خاموش ہو گئی، جیسے دل نے مزید الفاظ اٹھانے سے انکار کر دیا۔

“اچھا، اُس خاص سے پوچھنا کہ بچپن سے لے کر آج تک اُسے کبھی آریان خان میسر بھی ہوا ہے؟ میں نے تو کبھی نظر بھر کے اُسے دیکھا تک نہیں۔ اور تم… تم چند دن پہلے آئی ہو، اور میرے حواسوں پر چھا گئی ہو، میرے دل پر قبضہ جما لیا ہے۔ ہمارے درمیان وہ رشتہ مکمل ہو چکا ہے جو صرف نام سے نہیں، احساس سے بنتا ہے۔”
وہ یہ کہتے ہوئے رک گیا تھا۔
عبیرہ روٹھ کر بیڈ پر جا بیٹھی، نظریں جھکائے ہاتھوں کو گود میں رکھے انگلیوں کو بے ترتیب سا مسلتی رہی، جیسے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہو۔
وہ اس کے قریب جا بیٹھا۔ عبیرہ نے ہاتھ جھٹکنے کی کوشش کی مگر اس نے ضدی نرمی کے ساتھ اس کی دونوں ہتھیلیاں اپنے ہاتھوں میں تھام لیں۔ اس کی نظریں ایک لمحے کو بھی اس کے چہرے سے نہیں ہٹیں، جیسے اسے یقین دلانا چاہتا ہو کہ اس کی باتیں صرف لفظ نہیں تھیں، سچ تھیں۔

“وہ بچپن سے میری منگیتر ہے، مگر میں نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے میری نظروں نے ہر پل تمہیں ہی دیکھا ہے۔ پھر چاہے وہ بدلے کے نظریے سے ہی کیوں نہ ہو، میری نگاہیں ہر لمحہ تمہارے گرد ہی طواف کرتی رہیں۔”
وہ ذرا سا جھکا، آواز میں ٹھہراؤ تھا مگر شدت صاف محسوس ہو رہی تھی۔
“کیوں خود کو اس پریشے کے برابر لا کھڑا کر رہی ہو؟ تمہارا اور اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ۔

“جانتی ہوں… میرا اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں، کیونکہ وہ آپ کے خاندان کی لڑکی ہے۔
اس کے پاس پورا حق ہے آپ کے ساتھ نکاح کر کے آپ کے گھر میں رہنے کا ۔
میرا اور اس کا مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا… اسے پوری دنیا میں آپ کی بیوی ہونے کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔”
عبیرہ کے ہونٹ کانپ رہے تھے، ہر لفظ سانس کی طرح نکل رہا تھا، درد کی سختی سے بھرا۔
“آریان خان کی بیوی کے روپ میں، ہر کسی کے سامنے جب متعارف کروایا جائے گا…
پریشے کو کروایا جائے گا۔
وہ سب کی نظروں میں آپ کی بیوی ہوگی… اور میں… میں کچھ بھی نہیں۔”
اس نے دونوں ہاتھ خالی کر کے سامنے پھیلا دیے، نظریں زمین کی جانب جھکی ہوئی تھیں۔
سسکیاں چھوٹ چھوٹ کر نکل رہی تھیں،
جیسے ہر سانس کے ساتھ اس کا دل اور ٹوٹ رہا ہو، اور دنیا کی کوئی طاقت اسے سہارا دینے کو موجود نہ ہو۔

“تم میری پہلی محبت ہو، تم ہی میری پہلی بیوی ہو عبیرہ۔ آریان خان… اپنی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش تو کرو۔”
عبیرہ کی آواز میں درد اور گھبراہٹ تھی، ہر لفظ اس کے دل کو چھو رہا تھا۔
“نہیں سمجھنا مجھے اپنی اہمیت کو… شوہر کو کسی کے ساتھ بانٹنا بہت تکلیف دہ ہے۔”
آج پہلی بار عبیرہ نے اسے شوہر کہا تھا، اور اسی ایک لفظ نے آریان کے مضبوط دل کو ہلا کر رکھ دیا۔
اس کا سینہ ایک عجیب سی گرمائش سے بھر گیا، دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، آنکھوں میں نرم پن آ گیا۔
وہ جس دل کو برسوں سے سخت اور سنبھالا ہوا سمجھتا تھا، وہ اچانک اس محبت کے لفظ سے پگھلنے لگا تھا، اور اندر سے وہ عبیرہ کے قریب آنا چاہ رہا تھا، چاہے زبان کچھ نہ کہتی۔

“جب یار کو یار کی وفا پر یقین نہ آئے،
تو عاشق کو سر قلم کروا لینا چاہیے۔
مگر میرا یار تو اتنا بے یقینیوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے کہ
اگر عاشق سر بھی کٹوا لے، یقین کے امکانات پھر بھی نہیں ہیں!
آریان خان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کی لالی بکھرنے لگی،

“بولیں… مجھے یقین دلوانے کے لیے، کہ آپ اس پریشے سے رشتہ توڑ دیں گے۔”
وہ آریان کی شرٹ کو سینہ سے دبوچے کھڑی تھی، نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑے، ہر سانس میں خوف اور امید کی ملی جلی کیفیت تھی۔
آریان کی نگاہیں اس کی آنکھوں میں گہرائی سے جا گئیں، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ اور دل میں سکون کا لمحہ تھا ۔

“وہ میری منگ ہے، اور پختون اپنی منگ نہیں چھوڑتے… یہ بات تم اچھی طرح جانتی ہو۔”
“نہیں، میں کچھ نہیں جانتی… اور نہ جاننا چاہتی ہوں۔ ویسے بھی اب پختون آہستہ آہستہ اس جاہلانہ سوچ کو بدل رہے ہیں… آپ بھی بدل دیجیے۔”
“اوہوں… میں ایسا نہیں کر سکتا۔ یہاں بات غیرت کی ہے۔”
“اووووہو…”
اس کے لبوں پر کڑوا سا طنز پھیل گیا، آنکھوں میں تیز دیکھنے کا انداز تھا۔
“مطلب آریان خان کو گھر والی بھی چاہیے اور باہر والی بھی؟ کوئی فائدہ نہیں، جائیں… اس کے پاس جائیں۔ فضول میں میرے ساتھ وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں؟ مجھے آپ کے قرب کی کوئی خواہش نہیں ہے۔”

“عبیرہ، پلیز…”
اس کی آواز میں پہلی بار صاف التجا تھی۔
“تم میرے دل کا سکون ہو، خود کو بار بار مت گراؤ۔ بیوی سکون ہوتی ہے، راحت ہوتی ہے، محبت ہوتی ہے۔”
وہ ذرا سا رکا، جیسے لفظ تول رہا ہو۔
“وہ نسبتیں جن میں محبت نہ ہو، اُن کی نوعیت الگ ہوتی ہے۔”
اس کی نگاہیں نرم پڑ گئیں، لہجہ آہستہ مگر گہرا ہو گیا۔
“تم میرے دل کی اُن خوبصورت وادیوں میں بسنے والی وہ واحد حقیقت ہو، جس پر آریان خان نے پہلی بار دل ہارا ہے… بغیر شرط کے۔

“میں آپ کو کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتی…”
عبیرہ کی آواز ضد سے زیادہ خوف میں ڈوبی ہوئی تھی۔
“آپ پریشے سے شادی نہیں کریں گے، مجھ سے وعدہ کریں۔”
وہ بچوں کی طرح اَڑی ہوئی تھی، آنکھوں میں بے یقینی، جیسے ذرا سی لغزش پر سب کچھ بکھر جائے گا۔
“عبیرہ…”
آریان نے گہری سانس لی۔
“اس سے نکاح کرنا میری مجبوری ہے۔ ہمارے خاندان میں آج بھی لوگ پرانی سوچ کے قیدی ہیں۔ جو مرد اپنی منگ چھوڑ دے، وہ بے غیرت کہلاتا ہے… اور میں بے غیرت نہیں بن سکتا۔”
اس کی آواز بھاری تھی مگر سچ سے خالی نہیں۔
“خدا گواہ ہے، اس کے سوا میرا پریشے سے کوئی رشتہ نہیں۔ میں تمہارا ہوں، اور آخری سانس تک تمہارا رہوں گا۔”
“چاہے لاکھ دلیلیں دے لیں میں پھر بھی یہی کہوں گی کہ میں آپ کو پریشے کا نہیں ہونے دوں گی!”
عبیرہ کی آواز اچانک بلند ہوئی، ہاتھ کانپ رہے تھے۔
“میں آپ کی ان روایتوں کو نہیں مانتی۔ اگر آپ اتنے ہی خیالات کے پابند تھے تو مجھ سے محبت نہیں کرنی چاہیے تھی۔”
آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، مگر لفظ کاٹ دار تھے۔

“حق تو آپ زبردستی بھی حاصل کر سکتے تھے… پھر کیوں دکھائے وہ خوبصورت راستے، جہاں صرف آپ اور میں تھے؟ کیوں پکڑا میرا ہاتھ، کیوں مجھے اس راستے پر لے آئے جہاں میں آنا ہی نہیں چاہتی تھی؟”
وہ رکی، سانس ٹوٹا ہوا تھا۔

“اگر آج ہمارے درمیان نفرت ہوتی، تو پریشے کو قبول کرنا میرے لیے مشکل نہ تھا۔ ایک نہیں، دس پریشے بھی آ جاتیں تو فرق نہ پڑتا… مگر اب نہیں۔”
اس نے سر نفی میں ہلایا۔
“اب میں آپ کو کسی کے ساتھ نہیں بانٹوں گی۔ جس دن آپ نے پریشے کا ہونے کا سوچا، اس سے شادی کا سوچا… میں اپنے ساتھ ساتھ آپ کی بھی جان لے لوں گی۔”
آریان نے اس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں عجیب سا سکون اور دکھ اکٹھا تھا۔
“جان تمہاری ہے…جب چاہو، لے لینا۔”
اس کی آواز دھیمی مگر فیصلہ کن تھی۔

“ اس وقت پلیز اس بات کو چھوڑ دو۔”
آریان نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا، انگلیاں کنپٹیوں پر رکھ کر ہٹاتا رہا۔
“میں پہلے ہی بہت دماغ کھپا کر آیا ہوں، رات بہت ہو چکی ہے، اس وقت مجھے سکون چاہیے۔”

“تو جائیے…”
عبیرہ کی آواز میں کڑواہٹ تھی، آنکھیں نم مگر سیدھی اس پر جمی ہوئی تھیں۔
“جا کر اسی پریشے کی گود میں سر رکھ کر سکون لے لیجیے، منع کس نے کیا ہے؟ میرے پاس آپ کے لیے سکون نہیں ہے۔ جب آپ وعدہ نہیں کر سکتے تو میں آپ کے لیے سکون مہیا کرنے والی کوئی چیز نہیں بننا چاہتی۔”

وہ ایک لمحے کو خاموش ہوا، پھر اس کی آواز ٹھنڈی مگر خطرناک حد تک پُرسکون ہو گئی۔
“سوچ لو… پھر سے جا کر بالکونی کی ٹھنڈ میں کھڑا ہو جاؤں گا۔ اُس رات بھی تم نے اسی طرح مجھے خود سے دور کیا تھا۔”
اس کی نگاہ اس کی آنکھوں میں جا ٹھہری۔

“اس بار موقع نہیں دوں گا کہ تم مجھے بچا سکو۔”
آریان کی اس بات پر عبیرہ نرم پڑ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ سامنے کھڑا ضدی شخص جو بول رہا ہے، وہ کر بھی سکتا ہے۔

وہ اس سے ناراض تھی، دل دکھا ہوا تھا، مگر وہ آریان کو کسی بھی حال میں کھونا نہیں چاہتی تھی۔ آریان اسے اپنی جنونی محبت میں مبتلا کر چکا تھا۔ محبت میں انسان اس قدر کمزور پڑ جاتا ہے کہ اپنی جان سے زیادہ سامنے والے کی جان کی فکر ہوتی ہے۔
اسی فکر نے عبیرہ کے لبوں پر تالے لگا دیے۔
عبیرہ نے کچھ نہیں کہا…
مگر اس رات، پہلی بار، اس نے محبت کو ہار مانتے محسوس کیا۔
═══════❖═══════
“مورے، قسم سے میں ٹھیک وقت پر پہنچ جاؤں گی۔ بس تھوڑی دیر مجھے اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر انجوائے کر لینے دیں۔
آپ ہر پانچ منٹ بعد فون کر لیتی ہیں، سانس تو لینے دیں…”

“انشاء، زیادہ زبان مت چلاؤ۔ تمہیں اجازت دے دی ہے مگر مجھے لگتا ہے مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔
اگر یارم کو پتا چل گیا تو گھر میں قیامت کھڑی کر دے گا، اور تمہارے بابا بھی سوئے ہوئے ہیں۔ دعا کرو کہ آنکھ کھلتے ہی تمہارا نہ پوچھیں، ورنہ مجھ سے جھوٹ نہیں بولا جائے گا۔۔۔”
رتبہ خاصی گھبرائی ہوئی تھی۔
آج پہلی بار انشاء کی ایک بہت قریبی دوست، جو اکثر گھر بھی آ جایا کرتی تھی اور رشتے میں دور کی کزن بھی لگتی تھی، اس کی ضد پر انشاء کو باہر بھیجا گیا تھا۔ بہانہ اس کی دوست کی برتھ ڈے کا تھا۔
بہت زیادہ اصرار پر رتبہ منع نہ کر سکی۔ صرف ایک گھنٹے کی اجازت دی گئی تھی۔
جبکہ اصل بات سے رتبہ بے خبر تھی۔
برتھ ڈے تو محض ایک بہانہ تھا۔ اصل میں ان کی ایک بہت عزیز دوست، جو شادی کے بعد ہمیشہ کے لیے ملک سے باہر جا رہی تھی، اس سے ملنا مقصود تھا۔ وہ انشاء کی اتنی قریبی دوست نہیں تھی، مگر انشاء کی دوست لائبہ کی بہت اچھی سہیلی تھی۔
لائبہ چاہتی تھی کہ اسی بہانے کم از کم انشاء کو بھی تھوڑا گھومنے پھرنے کا موقع مل جائے، اسی لیے اس نے اپنی برتھ ڈے کا بہانہ بنا لیا تھا۔
اس چھوٹی سی پارٹی میں چند اور دوستوں نے بھی شرکت کی تھی۔
لائبہ کے بہت زور دینے پر رتبہ نے اجازت تو دے دی، مگر اب اس کا دل عجیب خدشات میں گھرا ہوا تھا۔
باسق خان دوا لے کر آرام کر رہے تھے اور یارم اس وقت اسلام آباد میں تھا، پھر بھی رتبہ کو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں باسق خان جاگ کر انشاء کے بارے میں نہ پوچھ لیں یا یارم کا فون نہ آ جائے۔
یارم، باسق خان سے کہیں زیادہ سخت طبیعت کا مالک تھا۔
وہ انشاء کو کہیں بھی اکیلے جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔
رتبہ ہر پانچ منٹ بعد فون کر رہی تھی۔
انشاء انجوائے نہیں کر پا رہی تھی، تو آخرکار اس نے ماں سے کہہ دیا کہ بار بار فون نہ کریں۔
“انشاء، جلدی آنے کی کوشش کرنا… میری سانسیں اٹکی ہوئی ہیں۔۔۔”
“ماما، انشاءاللہ میں وقت پر پہنچ جاؤں گی، آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔”
فون بند ہو چکا تھا۔
ادھر سب دوستیں خوش تھیں، آپس میں گپیں مار رہی تھیں۔
کیک کٹنے کے بعد پیزا کھایا جا رہا تھا، ہنسی مذاق کا شور تھا کہ اچانک ایک دوست کا ہاتھ لگا اور ڈرنک انشاء کی ڈریس پر گر گئی۔۔۔

اوووو۔۔۔سوری۔۔سوری انشاء۔۔۔انشاء کی فرینڈ شرمندہ تھی۔
“اٹس اوکے، کوئی بات نہیں، میں صاف کر لیتی ہوں۔۔۔”
“چلو، میں ابھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔۔۔”
“نہیں نہیں، یہ سامنے ہی تو ہے، میں چلی جاتی ہوں۔ تم لوگ انجوائے کرو، ہمارے پاس ٹائم بہت کم ہے۔۔۔” انشاء نے ریلیکس کرتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔

“پکا نہ انشاء؟ تم کبھی گھر سے زیادہ نکلتی تو کہیں کھو مت جانا۔۔۔”

“اگر کھو گئی تو فون کر لوں گی۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے بول کر وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی سیڑھیوں سے نیچے اُتری، ویٹر سے پوچھ کر واش روم کی جانب گئی۔ ڈرنک صاف کر کے ٹشو سے اپنی شرٹ کو خشک کیا اور واپس گاؤن پہن لیا، جو پہلے ہی صاف کر لیا تھا۔

ہاتھ واش کر کے خشک کرنے کے بعد جیسے ہی باہر نکلی، اپنے دوستوں کی جانب جا رہی تھی۔ راستے میں بکنگ روم سے گزرنے والا ایریا تھا۔

رومز کے اندر شاید لوگ موجود تث، مگر باہر کافی خاموشی تھی۔ انشاء کے دل کی دھڑکن تیز تھی، قدم بھی تیز ہو گئے۔ جب وہ واش روم جا رہی تھی وقت تھوڑی چہل پہل محسوس ہو رہی تھی ، شاید کچھ نئے روم بک ہوئے تھے، لوگ آ جا رہے تھے، مگر واپس نکلنے پر خاموشی چھائی ہوئی تھی، سب اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔

وہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی اپنے دوستوں کے پاس جا رہی تھی کہ اچانک ایک روم کا دروازہ کھلا اور کسی نے اسے اندر کھینچ لیا۔
ڈر کے مارے انشاء کی جان نکل گئی، وہ چیخنے والی تھی، مگر مقابل نے اس کے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اسے خاموش رہنے پر مجبور کر دیا۔

آنکھیں بند کیے، وہ کانپ رہی تھی، ہر سانس خوف سے بھرا ہوا تھا ۔ایک سیکنڈ میں نہ جانے کتنے اندیشوں نے اسے جکڑ لیا۔

“مس انشاء، آپ سیو ہیں۔ آنکھیں کھول لیجیے۔۔۔”
جانی پہچانی آواز کان کی سرگوشی میں محسوس ہوئی، انشاء نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔

“آاااااااپ۔۔۔”انشاء نے نظروں کے سامنے صارم کو دیکھ کر حیرانی سے کہا۔

“جی، میں۔۔۔” مسکراتے ہوئے با ادب انداز میں سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا۔

“یہ کیا بدتمیزی تھی؟”
انشاء نے غصے سے گھورتے ہوئے دیکھا، آنکھوں میں سوال اور خوف دونوں کے آثار تھے۔

“سوری، مجبوری تھی۔ بدتمیزی کرنی پڑی، کیونکہ آپ ہمارا فون اُٹھانا گوارا نہیں کرتی۔۔”

“اگر فون نہیں اُٹھائیں گے تو آپ ایسی حرکتیں کریں گے؟”
“جی بالکل، اب آپ سے بات کرنے کے لیے ہمیں کوئی نہ کوئی راستہ تو اپنانا پڑے گا۔۔”

“مگر مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔
آپ کو اتنا شوق ہے بات کرنے کا تو میرے لالہ سے جا کر کریں۔۔”

“بات تو آپ کے لالا سے ہی کروں گا، مطلب آپ کی طرف سے اجازت ہے، میں لالہ سے بات کر سکتا ہوں؟”
“کیا مطلب؟”
انشاء کی آنکھیں بڑے سوالات لیے، لب ہل رہے تھے، دل دھڑک رہا تھا۔

صارم جان بوجھ کر انشاء کو تنگ کر رہا تھا۔۔۔
“مطلب یہ کہ آپ رشتے پر آمادہ ہیں؟ پھر میں جا کر آپ کے لالہ سے آپ کا ہاتھ مانگ سکتا ہوں؟؟”

“پلیز میرا راستہ چھوڑیں!!
مجھے جانے دیں۔۔۔
انشاء کے ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر رکھے ہوئے تھے، اور وہ دروازہ کھول کر جانے کو بے تاب تھی، مگر صارم کی موجودگی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ اس کا ہاتھ سختی سے دروازے پر ٹکا ہوا تھا، کندھے سکیڑے ہوئے اور سانسیں تیز تھیں۔ خوف اور گھبراہٹ اس کے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی، اور آنکھیں ہر لمحہ راستہ تلاش کر رہی تھیں۔

“بڑی مشکل سے دوبارہ بات کرنے کا موقع ملا ہے… جواب لیے بغیر تو میں نہیں جانے دوں گا۔ آپ کو عادت ہے ہر بات کو ادھورا چھوڑنے کی۔”
وہ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے کھڑا تھا، مگر عزت، احترام اور فاصلہ برقرار تھا۔

“ایسی حرکتیں مت کریں… آپ کو نہیں پتہ ان بڑے بڑے ہوٹلوں میں کیمرے لگے ہوتے ہیں، جن سے ویڈیو ریکارڈ کر کے لڑکیوں کو بدنام کرنے کے لیے لیک کر دی جاتی ہیں۔۔۔
اگر خدانخواستہ میری کوئی ایسی ویڈیو لیک ہو گئی تو میرے لالہ میرے ساتھ ساتھ تمہارے بھی ٹکڑے کر دیں گے۔۔۔
اگر جان پیاری ہے تو راستہ چھوڑو۔۔۔
وہ ڈرانے اور دھمکی دینے والے انداز میں بول رہی تھی، مگر آواز میں چھپی لرزش اور چہرے پر پھیلی گھبراہٹ سب کچھ خود ہی ظاہر کر رہی ۔”

“سوری، میں تو نہیں چھوڑوں گا!!
ویڈیو لیک ہوتی ہے تو اچھا ہی ہے… کم از کم میرا تو فائدہ ہو جائے گا۔ جب تم بدنام ہو جاؤ گی تو پھر تمہارے گھر والے تمہاری شادی میرے ساتھ ہی کریں گے۔۔۔
وہ یہ کہتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ وہیں کھڑا رہا، آواز میں بے نیازی تھی مگر آنکھوں میں ضد صاف جھلک رہی تھی۔

“پلیز آپ سمجھنے کی کوشش کریں، کوئی دیکھ لے گا!!
مجھے ایسے پریشان مت کریں پلیز… میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔
وہ نرم لہجے میں جان چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر وہ بری طرح خوفزدہ تھی۔۔۔

“تو دیکھ لیں!!
اگر کوئی دیکھ لے گا تو ہمارے لیے تو اور آسانی ہو جائے گی۔ ہمارے بتانے سے پہلے ہی خبر آپ کے لالہ تک پہنچ جائے گی۔۔۔

“ن۔۔۔نہیں۔۔۔ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟؟
وہ خوف سے لفظ توڑتے ہوئے بولی۔۔۔

“میں نے اس دن جو آپ سے سوال کیے تھے، ان سوالوں کا جواب دیں!!
اس کے بعد جانے دوں گا۔۔۔

“میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے!!
تو پھر ٹھیک ہے، میں راستہ نہیں چھوڑوں گا!!

“آپ پاگل ہیں؟؟

“نہیں… عاشق!!
کتنی گندی باتیں بولتے ہیں!!

“میں عشق کرتا ہوں، میں تمہارا عاشق ہوں!!
یہ گندی بات ہے؟؟

“ہاں، گندی بات ہے۔ اگر میرے لالہ کو پتہ چل گیا تو عاشق کا سر جسم سے جدا ہو جائے گا۔۔۔
پھر عاشق کہیں اور ملے گا اور سر کہیں اور۔۔۔
اس کی بات پر صارم کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔۔۔

“کیوں، تمہارے لالہ قصائی ہیں؟؟

“یہ تو جب میرے لالہ تمہارا حشر کریں گے تب ان سے ہی پوچھ لینا۔۔۔

“ویسے آپ میرا پیچھا کر رہے تھے؟؟
وہ گھور کر دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

“نہیں، کنفیوز میڈم۔ میں بندہ ناچیز اس ہوٹل کا مالک ہوں، اور آپ کو میں نے اپنی دوستوں کے ساتھ سی سی ٹی وی کیمرے پر دیکھا تھا۔۔۔
کیمرے میں کوئی پرابلم تھی، اسی کو ٹھیک کیا جا رہا تھا۔۔۔

“او میرے اللہ…
مطلب اب میری ریکارڈنگ ہو گئی ہے۔۔۔
لالہ کو پتہ چل جائے گا کہ میں ہوٹل میں آئی تھی۔۔۔
وہ بری طرح پریشان ہو کر بڑبڑانے لگی۔۔۔
پلیز، میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں…
کیا آپ میری ریکارڈنگ ڈیلیٹ کر سکتے ہیں؟؟
صارم کے ذہن میں شرارتی خیال آیا تھا۔۔۔

صارم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا، آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی…

“ڈیلیٹ تو کر سکتا ہوں… مگر میری ایک شرط ہے۔۔۔”
وہ لفظ ہوا میں معلق رہ گئے، جیسے وقت رک گیا ہو۔
انشاء کی آنکھیں بڑی ہو گئیں، سانس رک سی گئی، اور ہاتھ بے ساختہ دروازے کے ہینڈل پر جم گئے۔
صارم نے قدم آگے بڑھایا، سرکنے والی روشنی میں اس کا سایہ لمبا ہو رہا تھا…

“سوچ لو… فیصلہ تمہارا، لیکن یاد رکھو، ایک غلط قدم، اور پھر کوئی واپس نہیں آتا…”
خاموشی میں صرف دل کی دھڑکن اور دروازے کی کوشش سے ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ سنائی دے رہی تھی۔

میں ایسا کچھ نہیں کروں گی۔۔۔
تو ٹھیک ہے، پھر یہ ریکارڈنگ میں ڈیلیٹ نہیں کروں گا۔
بلکہ اسے وائرل کر دوں گا، تاکہ آپ کے لالہ تک جلدی سے پہنچ جائے۔۔۔
ن۔۔۔ن۔۔۔نہیں، پلیز ایسا مت کیجئے گا۔۔۔
آپ جب بھی فون کریں گے، میں آپ کا فون اُٹھا لوں گی۔۔۔
پلیز پلیز، میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں، ویڈیو وائرل مت کیجئے گا۔۔۔
آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے، ہاتھ واقعی جُڑے ہوئے تھے۔۔۔
مگر اس لمحے اسے اس پر ذرا سا بھی ترس نہیں آیا۔
اسے تو بس یہ خوشی تھی کہ اس کا تیر ٹھیک نشانے پر لگا تھا۔
وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا، مگر وہ ہر بار اس کا فون کاٹ دیتی تھی۔۔۔
پلیز اب مجھے جانے دیں، میری دوستیں میرا ویٹ کر رہی ہیں۔۔۔
اوکے، جاؤ۔
مگر وعدہ یاد رکھنا۔۔۔
ورنہ ویڈیو تو میرے پاس محفوظ ہے۔۔۔
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز میں صاف دھمکی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے، پلیز ویڈیو والی دھمکی مت دیں۔
میں آپ کا فون سن لوں گی۔۔۔
وہ کمرے کا دروازہ کھول کر ایسے نکلی، جیسے اس کے پیچھے پولیس لگی ہو،
یا کوئی خوفناک جن جو بس ابھی اسے پکڑ لے گا۔۔۔
وہیں کھڑا وہ اسے بھاگتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔۔
لبوں پر پھیلی ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
واہ میرے اللہ…
کیا ماسٹر پیس بنا ہے۔۔۔
اس کے ذہن میں یہی گونج رہا تھا۔
صارم وہیں کھڑا، ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ، دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں چمک ابھی بھی موجود تھی، اسے انشاء کے غائب ہونے کے بعد بھی، منظر مکمل طور پر رکا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

             ═══════❖═══════

ایزل کنارے بیٹھی تھی، دونوں گھٹنوں کو سینے سے لگائے، جیسے خود کو سمیٹ کر کسی آنے والے درد سے چھپانا چاہتی ہو۔
یارم اس کے سامنے تھا، ایک ہاتھ میں روئی، دوسرے میں پائیوڈین۔ کمرے میں خاموشی تھی، مگر اس خاموشی کے نیچے ایزل کی تیز سانسیں اور یارم کی ضبط شدہ جھنجھلاہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی۔
ایزل نے اچانک اس کا ہاتھ تھام لیا، بالکل بچوں کی طرح، انگلیاں اس کی ہتھیلی میں گاڑ دیں۔

’’پلیز… یہ مت لگائیے گا، یہ بہت جلن کرتی ہے…‘‘
آواز کمزور تھی، آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی، جیسے واقعی درد اس کے سامنے کھڑا ہو۔
یارم نے ہاتھ کھینچنا چاہا مگر ایزل کی گرفت مضبوط ہو گئی۔

’’ہاتھ چھوڑو… لگانی پڑے گی۔ کٹ گہرا ہے، اگر صاف نہیں کیا تو انفیکشن ہو جائے گا۔‘‘
اس کی آواز میں نرمی نہیں تھی، بس ذمہ داری تھی، وہ ذمہ داری جس سے وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔
ایزل نے سر نفی میں ہلایا، آنسو پلکوں پر لرزنے لگے۔

’’نہیں… نہیں… مجھے نہیں لگوانا…‘‘
روئی جیسے ہی زخم کے قریب آئی، اس نے ہاتھ اور زور سے پکڑ لیا، پورا جسم تن گیا۔
یارم کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ اس نے آنکھیں سخت کیں، مگر لہجے میں اب بھی ایک مجبور سا ضبط تھا۔

’’ایزل، بچوں جیسا بیہیویئر مت کرو۔ زخم صاف کرنے دو۔‘‘
ایزل کی سانس ٹوٹنے لگی، آنسو اب بہنے لگے۔
’’مجھے بہت جلن ہوتی ہے…‘‘
وہ رو رہی تھی، بالکل بے بس، جیسے درد سے نہیں بلکہ اس لمحے کی بے رحمی سے ڈر گئی ہو۔
یارم نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں، جیسے خود کو قابو میں لا رہا ہو، پھر بولا،

’’اگر ذرا سا دماغ بھی زبان کے ساتھ چلتا ہو نا، تو سمجھ آ جائے کہ پائیوڈین ضروری ہے۔ ڈریسنگ نہیں کریں گے تو زخم خراب ہو جائے گا۔ جو پانچ دن میں ٹھیک ہو سکتا ہے، وہ پندرہ دن تک گھسیٹے گا۔‘‘
ایزل نے آنسوؤں کے بیچ ہونٹ بھینچے، ہاتھ اب بھی اس کی ہتھیلی میں تھا، مگر آواز میں خفگی گھل گئی۔

’’آپ کو تو ہر وقت میری زبان پر طعنے دینے ہوتے ہیں…‘‘
پھر ایک لمحے کی خاموشی کے بعد، لرزتی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،

’’مجھے تو ڈر ہے، کسی دن آپ کی بری نظر سے میری بیچاری زبان کٹ کر گر ہی نہ جائے…‘‘
یارم کے ہاتھ کی گرفت لمحہ بھر کو ڈھیلی پڑ گئی۔ وہ کچھ کہہ نہ سکا، بس اسے دیکھتا رہ گیا… اور ایزل، آنسوؤں کے ساتھ بھی مسکرا کر، اسی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔

“ہو گئی تمہاری بک بک؟
اب مجھے ڈریسنگ کرنے دو… اور اگر اب کی بار آواز نکالی نا، تو زخم کے اندر انجیکشن بھر کر لگاؤں گا، پھر دل بھر کر چیخ لینا۔
یارم نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اسے تکیے پر سیدھا لٹایا۔ اس کی گرفت مضبوط تھی مگر بے رحمی نہیں تھی، بس وہ ضد جو کسی کو بچانے کے لیے کی جاتی ہے۔ ایزل نے تکیے کے کنارے کو مٹھی میں جکڑ لیا، پلکیں زور سے بند کر لیں۔

’’ اوں… آہ… ااا…‘‘وہ درد سے کراتے ہوئے روتے ہوئے رنگ برنگی آوازیں نکال رہی تھی۔
یارم کے ہاتھ ذرا بھی نہ رکے۔

’’ایزل، یہ رنگ برنگی آوازیں نکالنا بند کرو۔‘‘

’’مجھے درد ہو رہا ہے…‘‘
آواز روتے روتے بھرا گئی۔
’’میں کوئی شوق سے آوازیں نہیں نکال رہی…‘‘
وہ واقعی درد میں تھی۔ زخم کی جلن، اور اس کا اپنا خوف… سب ایک ساتھ اس کے اعصاب پر حملہ کر رہے تھے۔ اس کے آنسو تکیے میں جذب ہو رہے تھے اور انگلیاں بے اختیار یارم کی شرٹ کے کالر میں پیوست ہو چکی تھیں، جیسے وہی واحد سہارا ہو۔

یارم نے کٹ کو پوری توجہ سے صاف کیا۔ ہاتھ مضبوط تھے مگر ہر حرکت نپی تلی تھی۔ اس کی جبڑے کی لکیر تن گئی تھی، جیسے وہ ایزل کے درد کو اپنے اندر روک رہا ہو۔ ایزل سسکیاں لے رہی تھی، سانس بے ترتیب، جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔
پٹی باندھی گئی، سنی پلاسٹ لگا، اور پھر ہاتھ پیچھے ہٹ گیا۔

’’ہو گیا…‘‘
آواز قدرے ہلکی پڑ گئی۔
’’اب تم رونا بند کر سکتی ہو۔‘‘
ایزل نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ آنسو اب بھی پلکوں سے پھسل رہے تھے، جیسے دل کو یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ درد رک چکا ہے۔

’’آپ مجھے پیار سے بھی چپ کروا سکتے ہیں…‘‘
وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔

’’ ڈانٹنا ضروری نہیں ہوتا۔‘‘
یارم ایک لمحے کو خاموش رہا، پھر اس کے ہونٹوں پر بے اختیار ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

’’اچھا؟ تو بتاؤ… کیسے چپ کرواؤں؟‘‘
ایزل نے آہستہ سے پلکیں اٹھائیں، آنکھیں سوجی ہوئی مگر توقع سے بھری تھیں۔

’’پیار سے کہیں… کہ ایزل، میری جان، چپ کر جاؤ۔ میں جانتا ہوں کہ تمہیں درد ہو رہا ہے
’’مگر ڈریسنگ نہ کرتا تو زخم میں انفیکشن ہو جاتا۔ اس لیے تمہیں تکلیف دینا ضروری تھا… ورنہ میں کبھی بھی تمہیں ذرا سی بھی تکلیف نہ ہونے دیتا۔‘‘
ایزل کی سانس دھیرے دھیرے نارمل ہونے لگی۔ لبوں پر شرارتی مسکراہٹ پھیلنے لگی۔

’’ہاں اور اس کے بعد تمہیں لوری سناؤں تاکہ تمہیں نیند آ جائے…‘‘
یارم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا، لہجہ ہلکا سا طنز اور معمولی ناراضگی لیے ہوئے۔
’’نہیں… وہ…‘‘
عبیرہ شرماتے ہوئے بولی، آنکھیں جھکی ہوئی، الفاظ رک کر ادا کر رہی تھی۔
’’Woh optional hai… lekin baki sara kuchh compulsory hai…‘‘
یارم نے ہلکا سا سر نفی میں ہلایا،
’’قسم سے، میں نے اپنی زندگی میں تم سے بڑی ڈرامے باز لڑکی نہیں دیکھی!‘‘

اس کی آواز میں مصنوعی سا غصہ تھا، لیکن نرم انداز میں ، بس تھوڑا سا احساس، اور یہ کہ وہ عبیرہ کی حرکتوں پر توجہ دے رہا ہے۔

“ڈی ایس پی صاحب، اب تو دیکھنے کا چانس بھی نہیں ہے کیونکہ میں آپ کے قریب کسی کو بھٹکنے ہی نہیں دوں گی۔۔۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، آپ میرے ہو چکے ہیں، پیارے شوہر جی۔۔۔
اس نے پورے حق سے یارم کی شرٹ سینے سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔۔۔ وہ اچانک قربت، وہ بے ساختہ جرات۔۔۔
یارم کا مضبوط دل لمحہ بھر کو اپنی رفتار بھول بیٹھا تھا، دھڑکنیں تیز ہوئیں مگر چہرے پر وہی ضبط، وہی خاموشی رہی۔۔۔

ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔

“کون ہے؟
“سر، میں راشد خان ۔۔۔ آپ کو اپڈیٹ دینی ہے۔۔۔”
باہر سے بھاری اور سنجیدہ آواز آئی تھی۔

“یہ آپ کے بندے بھی آپ کے جیسے ہیں۔یہ غلط وقت پر انٹری کیوں مارتے ہیں۔۔۔ ان رومنٹک لوگ۔۔۔ دو منٹ صبر نہیں کر سکتا تھا؟ کتنی مشکل سے میں نے یہ لمحہ بنایا تھا۔۔۔”

ایزل نے منہ بسورتے ہوئے کہا، چہرے پر تھوڑی سی تڑپ اور طنز لیے دیکھ رہی تھی۔

“پلیز محترمہ، میری شرٹ چھوڑیں، وہ مجھے ہمارے باقی ساتھیوں کے بارے میں انفارم کرنے آیا ہوگا، ورنہ اتنی رات کو اس بیچارے کو کوئی شوق نہیں کہ ٹھنڈ میں اپنے کمرے سے نکل کر ہمارا دروازہ کھٹکھٹائے۔۔۔”
یارم نے نرمی سے کہا، لیکن نظریں کمرے کے دروازے کی طرف مرکوز تھیں۔
وہ خود پر حیران تھا کہ اس نے ایزل کی حرکت پر ابھی تک ڈانٹ کیوں نہیں لگائی۔
وہ اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔دروازہ کھول کر باہر جھانک کر دیکھا ۔

“سوری سر، معذرت خواہ ہوں، آپ کو رات کے اس وقت پریشان کیا، مگر خبر ضروری تھی۔۔۔”
“کوئی بات نہیں راشد، ہمارے لیے ہمارا مشن اور ہمارا کام سب سے پہلے ہے۔۔۔” یارم نے نرم مگر مضبوط انداز میں جواب دیا، اپنے اہلکار کے احترام کو برقرار رکھتے ہوئے۔

“جلدی بتائیں، میں تمہارا انتظار کر رہا تھا۔۔۔”
“سر، خوشخبری ہے۔۔۔ ہمارے باقی فورس کے آدمیوں کا پتہ چل چکا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس جان لیوا حادثے میں سب بچ گئے ہیں۔۔۔”

“شکر ہے، اللہ تیری ذات کا شکر ہے۔۔۔” یارم نے ہاتھ اٹھا کر خدا کا شکر ادا کیا، دل میں سکون اور راحت محسوس کرتے ہوئے۔
“سب خیریت سے ہیں اور کہاں ہیں؟”
“میرے خیال سے ہمیں فوراً ان کی مدد کے لیے پہنچنا چاہیے۔۔۔” یارم نے فکر مند انداز میں کہا، آواز میں تھوڑی بے چینی جھلک رہی تھی۔

“نہیں سر، میری اُن سے بات ہو گئی، وہ لوگ چوکی نمبر چھ میں باحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ابھی ابھی بہادر خان سے بات ہوئی ہے، وہ لوگ بالکل محفوظ ہیں اور کل صبح چوکی نمبر چھ کا سابقہ انسپیکٹر اپنی ٹیم کے ہمراہ یہاں پہنچے گا۔ آپ کو آرام کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور آپ کی مسز کے لیے بھی سب بہت فکر مند تھے۔۔۔” راشد نے تفصیل سے سب کچھ بتا دیا۔

“بہت شکریہ سب کے فکر مند ہونے کے لیے۔۔۔ ٹھیک ہے، پھر تم آرام کرو، انشاءاللہ صبح بات ہوگی۔۔۔” یارم نے دروازہ بند کیا اور اندر آ کر خاموشی سے ایزل کو دیکھا۔
ایزل کمبل اوڑھے، سمٹ کر لیٹی ہوئی تھی۔ پانچ منٹ پہلے وہ ڈریسنگ کراتے ہوئے بک بک کر رہی تھی، وہ جاگ رہی تھی یہ تو کنفرم تھا۔ ایک چھوٹی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی، مگر چہرے پر سکون اور فکر کی ملی جلی کیفیت تھی۔

“میں پوچھ سکتا ہوں اب یہ تمہیں کون سا نیا دورہ پڑ گیا ہے؟؟
یارم چلتے ہوئے اس کے پاس آ کر دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا تھا۔۔۔

“پلیز آپ پہلے مجھے ایک بات کا سچ سچ جواب دیں۔۔۔
وہ کمبل کے اندر سے بولی،اس کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔۔۔

“میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا پوچھو کیا پوچھنا ہے؟؟
اور یہ چہرے سے کمبل کا گھونگٹ اُٹھاؤ اتنی شرمیلی بننے کی ضرورت نہیں۔۔۔
یارم نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے سے کمبل ہٹانا چاہا مگر اس نے سختی سے کمبل کو جکڑ رکھا تھا۔۔۔

“آپ مجھے یہ بتائیں میرے کپڑے کس نے چینج کیے ہیں؟؟

“ماشاءاللہ تمہیں اب ہوش آئی ہے کہ تمہارے کپڑے چینج ہو چکے ہیں۔۔۔
یارم کے لب شرارت سے مسکرا دیے تھے اسے اب سمجھ میں آیا کہ وہ کیوں شرما کر کمبل میں گھسی ہوئی ہے۔۔۔

“اور کس کی اتنی جرات ہے کہ یارم خان کی بیوی کو ہاتھ لگائے ظاہر سی بات ہے میں نے چینج کیے ہیں۔۔۔
مگر اس میں اتنا شرمانے والی کیا بات ہے یہ بات مجھے سمجھ میں نہیں آئی؟؟

“کیااااااااااا۔۔۔
آپ نے چینج کروائے ہیں؟؟
وہ کمبل کے اندر سے چیخی تھی۔۔۔

“پاگل ہو گئی ہو اتنی زور سے چیخو گی تو لوگ باہر سمجھیں گے کہ پتہ نہیں تمہارے ساتھ کیا تشدد ہو رہا ہے۔۔۔

“لوگ گئے بھاڑ میں آپ مجھے یہ بتائیں آپ کو شرم نہیں آئی میری بے ہوشی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے؟؟

“واٹ….بے ہوشی کا فائدہ؟؟
میں تمہیں ایسا لگتا ہوں؟؟

“لگتے تو نہیں تھے مگر جس طرح کی حرکت کی ہے اب تو مجھے آپ بہت کچھ لگ رہے ہیں۔۔۔

یارم نے اس کے منہ سے کمبل تھوڑا نیچے کھینچتے ہوئے گھور کر دیکھا۔۔۔
“ابے او عقل کی اندھی…. میں نے صرف لائٹ آف کر کے کمبل کے اندر صرف اتنا ہی تمہیں ٹچ کیا جتنا کرنا ضروری تھا۔۔۔
صرف تمہارے گیلے کپڑے اُتار کر تمہیں سوکھے کپڑے پہنائے ہیں تاکہ تم کہیں ٹھنڈ سے مر نہ ہی نا جاؤ۔۔۔
اگر ٹھنڈ سے مر جاتی تو تمہارے سسر نے یہ الزام بھی مجھ پر ڈال دینا تھا کہ میں نے تمہیں مار دیا ہے۔۔۔

“تو مر جانے دیتے۔۔۔
جب میں ہوش میں ہوتی ہوں تب منہ نہیں لگاتے۔
بے ہوش تھی تو پتہ نہیں۔۔۔بات ادھوری چھوڑ چکی تھی، مگر اس کا مطلب یارم کو سمجھ آگیا ۔

“اووووووں۔۔۔۔وہ رو رہی تھی۔
وہ ڈرامے بازی سے روتے ہوئے شرم سے سرخ پڑ رہی تھی۔۔۔
شرم تو اسے سچ میں آرہی تھی باقی وہ ایزل تھی ڈرامے بازی تو اس کی فطرت میں تھی،جو وہ بہت اچھی طرح سے کر رہی تھی۔۔۔

“مجھے لگتا ہے کہ تمہارا دماغ ندی میں گرنے سے نکل کر پانی کے تیز بہاؤ کے ساتھ بہہ گیا ہے،اس لیے تمہیں پتہ نہیں چل رہا کہ تم کیا بک رہی ہو۔۔۔
اور میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے تمہیں اوووووووووووں کر کے منہ پھاڑ کے رونا پڑے۔۔۔
یارم نے اس کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔۔۔

“میں کیسے یقین کر سکتی ہوں میں تو بے ہوش تھی آپ نے میرا کتنا فائدہ اٹھایا یا نہیں؟ ۔۔۔یہ تو آپ کا دین ایمان ہے۔۔۔

“ایک لگاؤں گا کان کے نیچے کھینچ کر،اگر فضول دماغ چلایا تو۔۔۔
یارم نے ہاتھ اٹھا کر اشارے سے کہا تو دوبک کر پیچھے ہوئی اسے سچ پہ لگا تھا کہ یارم اسے تھپڑ مارنے لگا ہے۔۔۔

“یہ اچھا ہے ایک تو معصوم لڑکی کا فائدہ اٹھا لیا اور اوپر سے ہاتھ اٹھا کر ڈرا رہے ہیں آپ کو تو ہم سویلین کا محافظ سمجھا جاتا ہے اور آپ یہاں میری سچائی سے بھری آواز دبا رہے ہیں۔۔۔
وہ ڈرامہ کوین بہترین ایکٹنگ کر رہی تھی۔۔۔

“تم کتنی بڑی ڈرامے باز ہو۔۔۔
کوئی سن لے تو کیا سوچے گا کہ ڈی ایس پی یارم خان ہے ایسا ہے۔۔۔یارم نے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

“جی ہاں ڈی ایس پی یارم خان بالکل ایسا ہے۔۔۔
میں جانتی ہوں کہ میں بہت خوبصورت ہوں اس لیے میں مان ہی نہیں سکتی کہ آپ نے میری بے ہوشی کا فائدہ نہیں اٹھایا ہوگا۔۔۔

“اگر مجھے تمہارا فائدہ اٹھانا ہو تو وہ میں تمہارے ہوش میں ہوتے ہوئے بھی اٹھا سکتا ہوں۔۔۔
تم میری بیوی ہو پورا حق ہے میرا تم پر،اگر میں حق وصول کرنا چاہوں تو مجھے کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا۔۔۔
یارم نے اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے نرمی سے صرف سمجھانے کے لیے کہا تھا۔۔۔

“ہائے۔۔سو رومینٹک کہاں چھپا کر رکھتے ہیں اپنا یہ والا روپ۔۔۔
لو یو جی۔۔۔
ایزل کا چینل چینج ہوچکا تھا۔۔۔
وہ مظلوم عورت سے اور رومینٹک دو شیزا بن چکی تھی۔۔۔

“اے اللہ میری حفاظت فرما… اس کے ساتھ اگر میں چار دن رہا تو میرا شمار نارمل لوگوں میں نہیں ہوگا۔۔۔
یا اللہ مجھے صبر جمیل عطا فرما کے میں اس نمونے کو جھیل سکوں۔۔۔
یارم سر پکڑتے ہوئے پاس رکھی ہوئی قدیم لکڑی کی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔

“ویسے سچ میں آپ نے میرا ذرا سا فائدہ بھی نہیں نہ اٹھایا؟؟
انگلی کے پوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھ رہی تھی کہ اتنا سا فائدہ بھی نہیں اٹھایا۔۔۔

“آج تو میں تمہارا گلا دبا دوں گا۔۔۔
یارم نے اٹھ کر بیڈ سے تکیے کو اٹھا کر زور سے اس کے اوپر مارا۔۔۔

ہی ہی ہی ہی۔۔۔
ایزل دانت نکالتے ہوئے زور زور سے ہنس رہی تھی… اس نے منہ پر کمبل لے کر تکیے سے اپنا بچاؤ کر لیا۔۔۔

I love you …
میرے پیارے سجنوا۔۔۔
وہ کمبل میں منہ چھپائے دانت نکال کر ہنستے ہوئے بولی تھی۔۔۔

“اے اللہ آج کی رات میری حفاظت فرما۔۔۔
صبح اٹھ کر سب سے پہلے اس لڑکی کو کسی اچھے سائیکیٹرس کے پاس لے کر جاؤں گا،اس سے پہلے کہ اس کا دماغی توازن پوری طرح سے خراب ہو جائے اس کا علاج کروانا پڑے گا۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے بول رہا تھا۔۔۔

“جو ڈاکٹر میرے پاگل پن کا علاج کرے گا اس کا بھی دھیان رکھنا بعد میں اس کا علاج کرنے والا کوئی نہیں ملے گا ڈی ایس پی صاحب۔۔۔ ایزل کھی کھی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

” بابا۔۔یہ کیا چیز آپ نے میرے پلے باندھ دی ہے؟؟
یارم تنگ آگیا تھا اس کی بک بک سے۔۔۔

“زیادہ تنگ آنے کی ضرورت نہیں میں سونے لگی ہوں۔۔۔
بس مجھ سے دور رہیے گا اگر میرا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو میں نے چلا کر یہاں پر سب لوگوں کو اکٹھا کرلوں گی۔۔۔کمبل دھمکی دینے کے بعد پھر سے چہرے پر لے چکی تھی۔۔دھمکی دے کر سونے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔

“سو جاؤ …..سو جاؤ پلیز۔۔۔
سو کر تم میری جان پر احسان کرو گی۔۔۔
بے فکر ہو کر سونا۔۔میں پاگل ہوں جو تم جیسی آفت کو ہاتھ لگاؤ۔۔۔
یارم نے دونوں ہاتھ جوڑ کر جان چھڑاتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہائے ڈی ایس پی صاحب ایسے مظلوم بنتے ہوئے آپ قسم سے بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔
اب کی بار یارم چپ ہو گیا تھا وہ اس لڑکی سے جیت نہیں سکتا تھا یہ بات اس نے میں دل سے تسلیم کر لی تھی۔۔۔

           ═══════❖═══════

آریان، اٹھ جاؤ بیٹا، میں نے آپ دونوں کے لیے اپنے ہاتھ سے ناشتہ ریڈی کیا ہے۔۔۔
یہ روشانے کی آواز تھی۔۔۔

رات بہت دیر سے سونے کی وجہ سے شاید عبیرہ کے بھی فجر میں آنکھ نہیں کھلی تھی۔ روشانے کی آواز پر آریان کی آنکھ تو کھل گئی تھی، مگر اس نے جان بوجھ کر جواب نہیں دیا کیونکہ عبیرہ گہری نیند میں سو رہی تھی۔۔۔

اگر وہ جواب دیتا تو عبیرہ کی نیند خراب ہوجاتی۔ آریان اس وقت بالکل بھی عبیرہ کو اٹھانا نہیں چاہتا تھا۔ رات کو عبیرہ بہت روئی تھی، اس کی آنکھیں اب بھی سوجھی ہوئی تھیں۔۔۔
کتنی مشکل سے اس نے عبیرہ کو سونے پر آمادہ کیا تھا۔۔۔
اس کے دل کے درد کا احساس تب ہوا جب وہ گہری نیند میں بھی سسکیاں لے کر رو رہی تھی۔۔۔

وہ آج آفس نہیں جانا چاہتا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ سارا دن عبیرہ کے ساتھ رہے گا۔۔۔
گھر میں اس وقت پریشے اور روشانے بھی تھیں، وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ مل کر عبیرہ کو پریشان کریں۔۔۔
سچویشن کافی خراب تھی، نہ تو آریان روشانے کو تکلیف میں دیکھ سکتا تھا، نہ عبیرہ کو۔۔۔
اس سب میں سے فضول صرف پریشے لگ رہی تھی۔۔۔
آریان کو پریشے پر بہت غصہ تھا؛ وہ جانتا تھا کہ پریشے روشانے کو یہاں تک لے کر آئی ہے۔۔۔

“بیٹا، اٹھ جاؤ۔۔۔
روشانے کی آواز پھر سے ابھری، وہ بھی دروازے سے جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ آریان جانتا تھا کہ روشانے یہ سب کچھ انسکیورٹی میں کر رہی ہے۔۔۔
ورنہ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ آریان کو کوئی بھی اس طرح ناشتے کے لیے نہیں اٹھا سکتا۔۔۔
آریان اپنا ٹائم ٹیبل خود سیٹ کر کے سوتا تھا۔ وہ ہمیشہ الارم لگا کر سوتا تھا اور اپنی مرضی سے اٹھنے کا عادی تھا۔۔۔ اور روشانے یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتی تھی۔
آریان کو روشانے کے اس انداز پر غصہ بھی آ رہا تھا اور پیار بھی۔۔۔
غصہ اس لیے کہ وہ جان بوجھ کر اس کی نیند خراب کر رہی تھی، اسے تنگ کر رہی تھی، اور پیار اس بات پر کہ وہ اسے لے کر انسکیورٹی فیل کر رہی تھی۔۔۔ آریان خان کے لب مسکرا دیے۔

روشانے آریان سے بہت پیار کرتی تھی، اس بات کو آریان خان جھٹلا نہیں سکتا تھا۔۔۔
اور جو اس وقت اس کے پہلو میں سر رکھے ہوئے گہری نیند سو رہی تھی، اس سے وہ کتنی محبت کرتا تھا، اس بات سے بھی وہ انکار نہیں کر سکتا تھا۔۔۔

بہت مشکل ہوتا ہے انسان کے لیے جب دو ایسے رشتے جن سے وہ بے حد پیار کرتا ہو، وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑے ہوں، اور دونوں ہی ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہوں۔۔۔
بہت مشکل ہو جاتا ہے ایسے میں انصاف کرنا۔۔۔
اگر عبیرہ سے انصاف کرتا تو روشانے سے نانصافی ہو جاتی، اور اگر روشانے سے انصاف کرنے کی کوشش کرتا تو عبیرہ سے نانصافی ہوتی۔۔۔

مگر اس وقت عبیرہ کی محبت آریان پر غالب تھی، کیونکہ بار بار روشانے کی آواز دینے پر بھی آریان نے آواز نہیں دی تاکہ عبیرہ کی نیند خراب نہ ہو جائے۔ یہ بھی بہت مشکل تھا اس کے لیے۔۔۔
روشانے کی تو ایک آواز پر آریان بھاگا چلا جاتا تھا، مگر آج عبیرہ کی محبت نے اسے روک رکھا تھا۔۔۔
اب دروازے پر روشانے کی آواز نہیں آرہی تھی، شاید وہ جا چکی تھی۔۔۔
کب تم میری، زندگی، بن گئی؟ پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔
کب تم اتنی خاص ہو گئی؟ میں سمجھ نہیں پایا۔۔۔
وہ عبیرہ کی سلکی، ریشمی لٹوں کو چہرے سے ہٹاتے ہوئے، معصوم روئے ہوئے چہرے کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ گہری نیند میں بے خبر سو رہی تھی۔

                  ═══════❖═══════

دروازہ بند رہنے کے بعد روشانے کا ضبط جیسے وہیں ٹوٹ گیا تھا۔
سانس تیز تھی، انگلیاں بے اختیار آپس میں مڑ رہی تھیں۔ چند لمحے وہ وہیں کھڑی رہی، جیسے ابھی دروازہ خود ہی کھل جائے گا… مگر خاموشی بدستور قائم رہی۔
وہ پلٹی، لمبے قدموں سے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھی اور صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔
چہرے پر غصہ، آنکھوں میں وہ چبھتا ہوا خوف جو صرف تب جاگتا ہے جب کوئی اپنا ہاتھ سے نکلتا محسوس ہو۔
پریشے، جو یہ سب خاموشی سے دیکھ رہی تھی، ہونٹوں پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ سجا کر بولی،

“روشانے آنٹی تسلیم کر لیجئے کہ آپ کا بھتیجہ آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔۔۔
اس لڑکی نے پوری طرح آپ کے بھتیجے کو اپنا گرویدہ کر لیا ہے۔۔۔”
روشانے نے تیز نظروں سے اسے دیکھا۔
ہونٹ بھینچ گئے، آواز میں کڑواہٹ اتر آئی،

“پریشے اگر تم مجھے کوئی اچھا مشورہ نہیں دے سکتی، میرے ساتھ ہمدردی نہیں کر سکتی تو دل جلانے والی باتیں مت کرو۔۔۔”
اس کا ہاتھ بے اختیار صوفے کے بازو پر جم گیا تھا۔
آج پہلی بار آریان نے اسے نظر انداز کیا تھا… اور یہ خیال اس کے اندر کچھ توڑ رہا تھا۔

“روشانے آنٹی میں آپ سے ہمدردی کیا کروں سب کچھ آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔۔۔
آپ دیکھ رہی ہیں کہ آپ کا اکڑو ضدی بھتیجہ کیسے اس لڑکی کی آگے پیچھے گھوم رہا ہے۔۔۔”
روشانے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
چہرے پر سختی آ گئی، آواز میں وہ پرانی تلخی لوٹ آئی،

“اس میں میرے آریان کا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔
وہ بیٹی کس کی ہے، اس چالاک ماں کی، جس نے میرے شوہر پر ڈورے ڈال کر میرا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔۔۔
مگر اس بار اس عورت کی بیٹی کو جیتنے نہیں دوں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے۔۔۔”
اس کے لہجے میں فیصلہ تھا، ضد تھی… اور برسوں پرانا زخم بھی۔

“میں تو پلاننگ کے تحت آریان کو اٹھانے گئی تھی جبکہ میں اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ آریان اس طرح اٹھنے کا عادی نہیں۔۔۔
اس نے جب اٹھنا ہوتا ہے وہ اپنا الارم کلاک شروع سے ہی سیٹ کر کے سوتا ہے۔۔۔
مگر اسے اس چڑیل سے دور کرنے کے لیے میں نے آریان کے لیے ناشتہ بنایا، اسے اٹھانا چاہا تاکہ وہ اس جادوگرنی کے سحر سے باہر نکلے مگر وہ تو اس کے سحر میں پوری طرح سے جکڑا ہوا ہے۔۔۔”
وہ رکی، سانس بھرا… پھر زہر آلود یقین کے ساتھ بولی،

“آریان کو میں تمہیں تبریز کی طرح اس لڑکی کے حوالے نہیں کروں گی۔۔۔
اس کی ماں نے تبریز کو مجھ سے چھین لیا اور اب بیٹی میرے بھتیجے کو، میرے بیٹے کو مجھ سے چھین رہی ہے، میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔۔۔
پریشے تم جلد از جلد نکاح کے لیے خود کو تیار کرو تم ہی ہو جو اس لڑکی کو ہرا سکتی ہو۔۔۔”

“کیااااااا۔۔۔”
پریشے چونک کر کھڑی ہو گئی۔

“روشانے آنٹی آپ اپنی بات سے نہیں بدل سکتی۔۔۔
آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں آپ کو آریان تک پہنچاؤں گی تو آپ میرا رشتہ اب یہاں سے ختم کروانے میں میری مدد کریں گی، اب آپ اپنی بات سے بدل نہیں سکتی۔۔۔”
اس کے لہجے میں صدمہ تھا، آنکھوں میں بے یقینی۔

“پریشے میری بات کو سمجھ کی کوشش کرو پاگل مت بنو۔۔۔
تمہیں آریان کی زندگی میں آنا ہی ہوگا، بیوی بن کر طاقتور ہو جاؤ گی اور اس لڑکی کو اٹھا کر آریان کی زندگی سے باہر پھینک دینا۔۔۔”
پریشے کی آنکھوں میں ایک لمحے کو نفرت ابھری۔
وہ دو ٹوک بولی،

“مجھے تو آپ کا آریان پہلے ہی منہ لگانا گوارا نہیں کرتا، اب تو پوری طرح سے فدا ہو چکا ہے اس لڑکی پر مجھے کسی کی جھوٹی چیز نہیں چاہیے۔۔۔
مجھے آریان سے شادی نہیں کرنی۔۔۔”
وہ ہینڈ بیگ اٹھا کر کندھے پر ڈال چکی تھی۔
“کہاں جا رہی ہو؟؟”

“واپس اپنے اپارٹمنٹ، مجھے یہاں رہ کر آپ کی جیت کا ذریعہ نہیں بننا۔۔۔”
روشانے کی آواز میں خطرناک سکون اتر آیا،

“پریشے تم شاید بھول رہی ہو تم کہیں بھی چلی جاؤ مگر واپس تمہیں آنا آریان کے پاس ہی ہے۔۔۔
تم آریان خان کی منگ ہو وہ تمہیں کبھی بھی چھوڑے گا نہیں۔۔۔”
پریشے نے پلٹ کر آخری نظر ڈالی،

“آنٹی وہ تو میں بعد میں دیکھ لوں گی مگر مجھے افسوس ہوا کہ آپ اپنی بات سے مکر گئی ہیں۔۔۔”
اور اگلے ہی لمحے وہ تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔
روشانے صوفے پر بیٹھے بیٹھے مسکرائی…
وہ مسکراہٹ جس میں شفقت نہیں، سازش تھی۔

“بھاگ لو پریشے جتنا بھاگ سکتی ہو واپس تو تمہیں آریان کے پاس ہی آنا ہے کیونکہ اگر جلد از جلد تمہیں آریان کی زندگی میں شامل نہ کیا تو یہ لڑکی آریان پر قابض ہو جائے گی، جو میں کبھی برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔”
وہ وہیں بیٹھی رہی، نظریں خلا میں جمائے…
ذہن میں ایک نیا، زیادہ خطرناک پلان بن رہی تھی، جس میں صبر کم تھا اور وار سیدھا… ایسا وار جو خاموشی سے نہیں بلکہ پورے اختیار کے ساتھ کیا جانا تھا، کیونکہ اب بات صرف ضد کی نہیں رہی تھی بلکہ اپنی شکست ماننے یا دوسروں کو توڑ دینے کی تھی۔
═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *