|

Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:26

صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ S.A
قسط نمبر:26
═══════❖═══════
صبح کے تقریباً ساڑھے دس بجے، سکاٹ لینڈ کے مہنگے اپارٹمنٹ ایریا کی روشنی میں ہر شیشہ نرم دھوپ کے ہلکے عکس سے چمک رہا تھا۔ سڑکیں پرسکون تھیں، اور ارد گرد کے بلند و شفاف اپارٹمنٹس ایک دلکش سکون بکھیر رہیں تھیں۔

پریشے اپنی گاڑی سے اتر کر قدم بڑھانے لگی۔ ہر قدم کے ساتھ اس کا دل تیز دھڑک رہا تھا، لیکن اس نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ ہینڈ بیگ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا، موبائل بھی ہاتھ میں تھا، اور اس کی آنکھیں سامنے والے اپارٹمنٹ پر جم گئی تھیں۔ شیشے کی کھڑکیاں اور بالکونیاں مہنگے، نفیس انداز میں سج رہی تھیں، جیسے ہر زاویہ اپنی کہانی سنانے کو تیار ہو۔
پریشے نے ایک لمحے کے لیے سانس گہری کھینچی اور دل کو سنبھالا۔ اس کے قدم اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتے گئے، اور ہر قدم کے ساتھ اندر ایک ہلکی سی گھبراہٹ اور امید کی ملی جلی لہر محسوس ہو رہی تھی۔
اپارٹمنٹ کے قریب پہنچ کر، اس نے ہینڈ بیگ پر مضبوطی سے ہاتھ رکھا، دل کی دھڑکن کو قابو میں رکھتے ہوئے، بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ نرم صبح کی روشنی میں اس کے ہاتھ نے بیل دبائی، اور بیل کی ہلکی آواز پرسکون ایریا میں گونجی، جیسے کہ وقت بھی اس لمحے کے لیے رک گیا ہو۔

بیل کی ہلکی آواز کے چند لمحے بعد دروازہ اندر سے کھلا۔ شایان خان ایک لمحے کے لیے پریشے کو حیرت سے دیکھا ،اس کی آنکھیں پریشے پر جم گئیں۔ صبح کی نرم روشنی میں اس کا چہرہ پرسکون تھا، مگر نگاہوں میں فکر اور تجسس بھی جھلک رہی تھی۔
اس نے آہستہ قدم بڑھائے، ہاتھ سے دروازہ مکمل کھولا،
“مس پریشے ، آپ… یہاں…؟”
اس کے لہجے میں حیرت اور ہلکی مسکراہٹ دونوں موجود تھے، جیسے وہ پریشے کی غیر متوقع موجودگی پر سوچ رہا ہو، مگر دکھانا نہ چاہتا ہو۔

“معذرت چاہتی ہوں کہ میں نے آپ کو اس وقت ڈسٹرب کیا… کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟”
اس کی آواز میں ہلکی سی اضطراب تھی،

“نہیں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے، جی جی، بالکل آئیں۔”
شایان نے ہاتھ کے اشارے سے اندر آنے کا اشارہ کیا اور خود سائیڈ پر ہو گیا۔
پریشے نے اندر قدم رکھا۔ شایان نے دروازہ آہستہ بند کیا اور اس کے سات لاؤنج میں چلتے ہوئے آ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔
پریشے بھی خاموشی سے وہاں بیٹھی، مگر کچھ بول نہیں رہی تھی۔ اس کے چہرے پر پریشانی اور اداسی صاف نظر آ رہی تھی۔
شایان نے محسوس کیا کہ ابھی سوال کرنے کا وقت نہیں ہے، اس لیے خاموشی اختیار کی۔
“میں ابھی آپ کے لیے چائے لاتا ہوں۔”
وہ کہتا ہوا اٹھا اور کچن کی طرف بڑھ گیا، جبکہ پریشے خاموش بیٹھی رہی، صرف اپنی سوچوں میں گم۔
وہ چائے کے دو مگ لے کر لانج میں واپس آگیا۔ سامنے شیشے کی ٹیبل رکھی تھی، وہ مگ اس پر رکھ کر سامنے سنگل صوفے پر بیٹھ گیا۔ پریشے اب بھی خاموش تھی، چائے سے بھانپ اٹھ رہی تھی مگر وہ مسلسل خاموشی کے پردے میں چھپی بیٹھی تھی۔
شایان خان ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا، اس کی خاموشی کو دیکھ رہا تھا، مگر خاموشی ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
“مس پریشے، پلیز، چائے لیں۔ ٹھنڈی ہو رہی ہے۔”
چائے کا مگ اس کے آگے بڑھاتے ہوئے شایان نے کہا۔
پریشے خاموشی سے مگ پکڑ کر ایک سپ لیا۔ پھر دوبارہ خاموشی چھا گئی، جیسے لمحہ خود اپنے اندر گم ہو گیا ہو۔

“مس پریشے خان… اگر کوئی پریشانی ہے تو آپ مجھے بتا سکتی ہیں؟
اگر آپ مجھے بتا دیں گی تو شاید میں آپ کی کچھ مدد کر سکوں۔
شایان خان صوفے پر بیٹھا رہا، ہاتھ میں چائے کا مگ تھامے، نظریں سیدھی پریشے کی طرف جمائے ہوئے۔ وہ بالکل حرکت کیے بغیر بیٹھا تھا، خاموشی کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا، الفاظ میں نرمی، لیکن نگاہوں میں سنجیدگی تھی۔
پریشے نے گہری سانس لی اور ایک نظر اس کی طرف اٹھا کر پھر فوراً ہٹا لی۔

روشانے کی وعدہ خلافی نے اسے اندر سے توڑ دیا تھا، اسی دل برداشتگی کے ساتھ وہ آریان کے اپارٹمنٹ سے نکلی تھی۔ دل بوجھل تھا، دکھ حد سے بڑھ چکا تھا اور اسے اپنا بوجھ بانٹنے کے لیے کسی ایک شخص کی ضرورت تھی… ایسے میں بے اختیار شایان خان ہی اس کے ذہن میں آیا۔
چند دنوں کی دوستی نہ جانے کب اعتماد میں ڈھل گئی تھی، اسے لگا تھا کہ وہ اس سے اپنا دکھ کہہ سکتی ہے، اسی یقین کے ساتھ وہ سیدھی اس کے اپارٹمنٹ تک آ گئی تھی۔
مگر اب سامنے شایان خان کو بیٹھا دیکھ کر نہ جانے کیوں الفاظ گلے میں اٹکنے لگے۔ دل میں باتیں تھیں مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ شایان کے سوال نے جیسے اسے جھنجھوڑا، اس نے خود کو سنبھالا، انگلیاں مگ کے گرد مضبوطی سے لپیٹیں اور ہمت باندھ کر بولی،

“پہلے آپ مجھے ایک بات بتائیں… کیا آپ پر میں بھروسا کر سکتی ہوں؟”پریشے نے گہری سانس لی، اور لمحے بھر کے لیے نظریں جھکا لیں، جیسے بیان کے جواب کے لیے خود کو تیار کر رہی ہو۔

“مس پریشے یہ تو آپ اپنے دل سے پوچھیں، اس کا بہترین جواب تو آپ کا دل دے سکتا ہے۔۔۔
شیان خان سامنے صوفے پر بیٹھا تھا، ہاتھ میں چائے کا مگ تھامے۔ اس کی آنکھیں پرسکون، مگر بھرپور توجہ کے ساتھ پریشے پر جمی ہوئی تھیں، ہر حرکت، ہر تاثرات کو نوٹ کر رہا تھا۔بزنس مین تھا، اس میں ہر چیز کو پرکھنے کی نگاہ اور صلاحیت موجود تھی۔

پریشے کے دل کی دھڑکن تیز تھی، مگر اس نے ہمت باندھ کر شیان کی جانب نظر اٹھائی ۔
“میرا دل تو کہتا ہے کہ میں آپ پر یقین کر سکتی ہوں… اور آپ میرے یقین کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔”انداز ایسا تھا جیسے اپنے دل کی بات شایان خان تک پہنچا رہی ہو۔

شایان نے مگ پکڑے خاموشی سے پریشے کی طرف دیکھا۔
“تو پھر اللہ کا نام لے کر اپنے دل کی بات کہیے۔
انشاءاللہ ایسا ہی ہوگا،
اگر دوستی کی ہے تو اس پر یقین رکھیے، دوستی کا دارومدار یہی ہے۔لہجہ پختہ اور سنجیدہ تھا۔
بتائیں، آپ اتنی پریشان کیوں ہیں؟
اور میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟”

“میں آریان سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔بغیر بات کو گھمائے دو ٹوک کہا۔

“تو پھر سمپل انکار کر دیجیے۔”شایان نے بھی سیدھا حل بتایا ۔

“میں نے آپ کو بتایا تھا… ہمارے خاندان والے ابھی بھی پرانی روایات پر سخت یقین رکھتے ہیں۔ مجھے اس رشتے سے کبھی آزاد نہیں ہونے دیا جائے گا، کیونکہ میں آریان خان کی بچپن کی منگ ہوں۔”

“تو پھر آپ نے کیا سوچا؟
اگر آپ کو مجھ سے کسی بھی طرح کی مدد چاہیے تو میں حاضر ہوں۔”نرمی سے کہتے ہوئے شایان خان نے اپنا مگ واپس ٹیبل پر رکھا۔

پریشے نے بھی آدھی چائے پی کر اپنا کپ ٹیبل پر رکھ دیا، شاید دل بھر گیا تھا اور اب وہ مزید نہیں پینا چاہتی تھی۔ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھتے ہوئے اب وہ بات کرتے ہوئے کافی ریلیکس فیل کر رہی تھی۔شاید جب تک بات شروع نہیں ہوئی تھی تب تک بات کرنا مشکل لگ رہا تھا۔

“مجھے آپ سے مدد چاہیے، اسی لیے تو آئی ہوں… مگر کیسے کہوں؟”
پریشے کے چہرے پر ہلکی سی الجھن اور آنکھوں میں ہچکچاہٹ کی مصنوعی جھلک رہی تھی۔

“آپ کو دوست کہا نہیں دل سے مانا ہے۔۔۔
اور میری نظر میں وہ دوست نہیں ہوتا جس سے بات کرنے کے لیے جھجھک محسوس ہو…جو کہنا چاہتی ہیں، آپ بےفکر ہو کر کہیں، انشاءاللہ میں اپنی طرف سے آپ کا پورا ساتھ دینے کی کوشش گا۔”

” اگر آپ مجھ سے ناراض ہو گئے… دوستی توڑ دی تو؟؟
پریشے کی آنکھوں میں کھو جانے کا خوف تھا، جسے دیکھ کر شایان مسکرا دیا۔۔۔

“نہیں آپ بے فکر ہو کر بتائیں ،میں دوستی توڑوں گا۔۔
بہت عرصے بعد مجھے کوئی بہت اچھا دوست ملا ہے، تو میں ہرگز کھونا نہیں چاہوں گا۔۔
تو پلیز اپنے ذہن سے ڈر نکال کر بتائیں، آپ کو مجھ سے کیا مدد چاہیے۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولتے ہوئے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔

پریشے لمحہ بھر کے لیے خاموش رہی ، کچھ گہرائی سے سوچا، پھر جو دل میں تھا، وہ زباں تک لے آئی۔۔۔
“کیا آپ مجھ سے نکاح کر سکتے ہیں؟”
“What??”
شایان خان نے بے یقینی سے دیکھا، اسے بالکل اُمید نہیں تھی کہ پریشے ایسا کچھ کہنے والی ہے۔ اس کی نظروں میں پریشے صرف اس کی اچھی دوست تھی۔۔۔مگر پریشے نے جو کہا،اس نے شایان خان کو پوری طرح سے حیران کر دیا تھا۔

“مس پریشے، آپ جانتی بھی ہیں کہ کیا کہہ رہی ہیں؟
شایان خان نے گہری سوچ میں ڈوبی نگاہیں اس پر ٹکاتے ہوئے کہا۔۔۔
جی، میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔۔
میں نے پوچھا ہے کہ کیا آپ مجھ سے نکاح کریں گے؟
پریشے نے نظریں ہٹائے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، اٹل انداز میں کہا۔۔۔
لمحہ بھر کے لیے شایان خان پر گہری خاموشی طاری ہو گئی، جیسے وہ سنے گئے لفظوں کا وزن پرکھ رہا ہو۔۔۔
پریشے کی نظریں بے اختیار اسی پر جم گئیں، تجسس اور بے قراری خاموشی سے اس کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔۔

“مس پریشے خان، انکار کی اور بھی بہت سی وجوہات دے سکتا ہوں، مگر اس وقت میں آپ کی توجہ صرف ایک ہی چیز کی طرف دلانا چاہوں گا۔

“آپ جانتی ہیں میری ایج کیا ہے؟شایان کا لہجہ سنجیدہ مگر جھنجوڑنے والا تھا۔

“نہیں۔۔۔نہ جانتی ہوں،
نہ ہی جاننے کا کوئی تجسس ہے۔وہ اپنی بات پر قائم کھڑی تھی، آنکھوں میں کوئی جھجک نہ تھی۔
نگاہیں شایان کے جواب پر جمی ہوئی تھیں۔

وہ اپنی بات پر اٹل تھی انکھوں میں کوئی جھجک نہیں تھی وہ اپنی بات پر قائم کھڑی تھی نظریں شیان کے جواب پر ٹکی ہوئی تھی۔

“اگر آپ اس وقت پریشان نہ ہوتیں تو شاید میرا لہجہ اور بات کرنے کا انداز کچھ اور ہوتا۔۔۔
مگر جب سامنے والا پہلے ہی الجھن میں ہو، اور اوپر سے دوست بھی ہو، تو لہجہ اور آواز نرم رکھنا مجبوری بن جاتی ہے۔
وہ یہ کہتے ہوئے بھی پُرسکون رہنے کی کوشش کر رہا تھا،مگر چہرے پر ابھرتی حیرانی اس کے ضبط کو بے نقاب کر رہی تھی۔

“میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ میری پریشانی سن کر کہیں آپ دوستی ہی نہ توڑ دیں۔پریشے کی آواز ہلکی سی لرز گئی تھی،مگر نظریں اب بھی اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں جیسے جواب سننے سے پہلے ہٹنے کو تیار ہی نہ ہوں۔

“آپ کی ایج کیا ہے؟ شایان خان نے اس کی بات کا جواب دیے بغیر نیا سوال داغا۔

“ستائیس۔پریشے نے نظریں ہٹا کر دھیمی آواز میں کہا۔

“میری عمر اڑتالیس سال ہے اور آپ کی ستائیس… ہمارے درمیان اکیس برس کا فرق ہے۔
نکاح کی بات کرتے ہوئے کیا آپ نے ایک لمحے کو بھی نہیں سوچا؟ آپ اتنی غیر سنجیدہ تو نہیں لگتیں…
شایان خان نے پورے تحمل اور ٹھہراؤ کے ساتھ کہا، آواز میں نہ سختی تھی نہ حیرت، بس ایک گہرا سا وزن تھا جو بات کی گہرائی کو واضح کر رہا تھا۔

“یہ کہاں لکھا ہے کہ اکیس سال کے فرق میں نکاح نہیں ہو سکتا؟
یہ تو کوئی وجہ نہیں ہے…
انکار کرنا تھا تو کم از کم کوئی ایسا جواز دیتے جو سن کر خاموش ہو جاتی۔
وہ مسکرائی تھی، مگر وہ مسکراہٹ طنز سے زیادہ ایک سوال تھی،
جیسے کہہ رہی ہو کہ کمزور دلیل سے مجھے مت روکیے۔
“اگر آپ کو مجھ سے کسی بھی طرح کی مدد چاہیے تو میں حاضر ہوں…
مگر آپ نے ہماری دوستی کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جس کے بارے میں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
اور یہ محض معمولی فرق نہیں ہے، ہمارے درمیان عمر کا فرق بہت زیادہ ہے۔
دوسری بات… میں نے کبھی آپ کو اس نظر سے دیکھا ہی نہیں۔
اس کا لہجہ پُرسکون تھا، مگر الفاظ واضح اور فیصلہ کن۔
جیسے وہ بات کو نرم رکھنا چاہتا ہو، مگر حد بھی کھینچ رہا ہو

“مگر مجھے آپ کی ایج سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اور اگر میں کہوں کہ میں نے تو آپ کو پہلے دن سے اسی نظر سے ہی دیکھا ہے… آنکھیں شایان کی آنکھوں میں ڈال کر بلا جھجک کہا۔

“مجھے آپ اچھے لگے تھے، اور یہ کہتے ہوئے مجھے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی۔ ہم پڑھے لکھے، اتنے پریکٹیکل ہیں کہ ایک دوسرے سے دل کی بات کہہ سکیں۔پریشے کا لہجہ مضبوط تھا وہ کہیں بھی بولتے ہوئے اب اٹک نہیں رہی تھی… شایان خان کی آنکھوں میں شدید حیرانی تھی۔بات اس کی توقع سے بہت ہٹ کر تھی۔

“میں آپ کی باتوں پر حیران ہوں۔
میں نے آپ کو نہ کبھی اس نظر سے دیکھا ہے اور نہ ہی کبھی دیکھ سکوں گا۔ بہت معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ہمارے درمیان نکاح جیسا رشتہ ممکن نہیں،
آپ کی دل آزاری کرنا ہرگز میرا مقصد نہیں ہے۔
امید ہے آپ میری بات کو سمجھیں،

جی نہیں، میں بالکل نہیں سمجھوں گی۔۔۔
آپ نے کہا تھا کہ دوستی میں آپ ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
یہ پہلا موقع تھا جب میں بہت اُمید کے ساتھ آپ کے پاس آئی تھی، مگر آپ مجھے نااُمید کر کے واپس بھیج رہے ہیں۔
مجھے ہمیشہ اس بات کی تکلیف رہے گی۔۔۔
پریشے کی آنکھیں نم تھیں، وہ آہستہ سے اُٹھی۔
ہینڈ بیگ کو کندھے پر لٹکاتے ہوئے، وہ دروازے کی جانب قدم بڑھانے لگی تھی۔

“مس پریشے پلیز ریلیکس ہو جائیں،بیٹھیں… “نہیں،مجھے جانے دیں…” پلیز،میں نے کہا بیٹھ جائیں۔
وہ بھی کھڑا ہوتے ہوئے نہایت مودبانہ انداز میں اسے بیٹھنے کا کہہ رہا تھا۔ پریشے نے آنکھوں کی نمی کو سرسری سا صاف کیا اور دوبارہ صوفے پر بیٹھ گئی،مگر رخ جان بوجھ کر دوسری طرف کیے ۔
وہ شایان خان کو کیا بتاتی کہ اس کا یہاں سے جانے کا ارادہ تھا ہی نہیں۔
یہ اٹھنا،یہ ضد،یہ بےچینی… سب اسی ایک کوشش کا حصہ تھا کہ وہ اپنی بات منوا سکے،خود کو آزما رہی تھی اور اس کے ردِعمل کو پرکھ رہی تھی۔

“میرا مقصد ہرگز آپ کی دل آزاری کرنا نہیں تھا، مگر آپ جو مجھ سے چاہتی ہیں، وہ میں نہیں کر سکتا۔۔۔ ویسے آپ مجھ سے نکاح کیوں کرنا چاہتی ہیں؟”
شایان خان کو پریشے کا اس طرح رو کر جانا بالکل اچھا نہیں لگا تھا،اسی لیے وہ اپنے لہجے میں پورا ضبط اور ٹھہراؤ رکھنے کی کوشش کر رہا تھا،حالانکہ اندر کہیں بےچینی صاف محسوس ہو رہی تھی۔

“سچ کہنا ہے یا جھوٹ؟
پریشے نے روتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اگلے ہی لمحے وہ خود کو سنبھال گئی، ہتھیلی سے آنکھوں کی نمی صاف کی اور بولی، بالکل اس انداز میں جیسے اس کے دل کی بات پوچھ لی گئی ہو۔

“ظاہر سی بات ہے، پریشے، اگر آپ سچ کہو گی، تو ہی مجھے سمجھ آ سکے گا کہ آپ مجھ جیسے، عمر میں کہیں بڑے شخص سے، نکاح کیوں کرنا چاہتی ہیں۔؟
کیونکہ اگر آپ صرف آریان سے بچنے کے لیے، مجھ سے نکاح کا سوچ رہی ہو، تو یہ بالکل غلط طریقہ ہوگا، اس شادی کو روکنے کے اور بھی ہزاروں راستے ہو سکتے ہیں۔۔۔
شایان خان نے ایک بار پھر، اسے سمجھانے کی نیت سے، یہی سوال دہرایا تھا۔

پریشے نے اپنی نگاہیں جھکائے رکھی، مگر دل کی بات کہہ دی۔ “سچ یہ ہے کہ میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔ آپ مجھے پہلی نظر میں ہی بہت اچھے لگے۔ اور آپ سے نکاح صرف آریان خان سے بچنے کے لیے نہیں کر رہی، اس میں میری رضامندی اور خوشی بھی شامل ہے۔”
لمحہ بھر کے لیے شایان خان خاموش رہا، پھر ایک گہری سانس لی اور پریشے کی جانب دیکھا۔

“مس پریشے، میں آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں… مگر ایسا ممکن نہیں۔ آپ ذرا غور کریں، ہمارا کسی لحاظ سے بھی ہمارا رشتہ مناسب نہیں ہے۔”

” انکار کی وجہ صرف عمر کا فرق ہے، یا کچھ اور بھی ہے جس کی بنیاد پر آپ یہ کہہ رہے ہیں؟ کیونکہ یہ وجہ واقعی کوئی وزن نہیں رکھتی۔”

“انکار کی کئی وجوہات ہیں…
سب سے پہلی، ہماری عمر کا فرق، جسے آپ رد کر چکی ہیں۔
دوسری، آپ میرے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں جانتیں… وہاں بہت کچھ ہے جو آپ کے علم میں نہیں۔

اور تیسری وجہ ،آریان خان میرا بزنس پارٹنر ہے، ہم نے ایک بڑی ڈیل سائن کی ہے، اور میں اس کے ساتھ اختلافات نہیں مول لے سکتا… اور وہ آریان خان ہے، اتنی آسانی سے بات ختم نہیں کرے گا۔”شایان خان کا اندازِ گفتگو اتنا باوقار اور سلجھا ہوا تھا کہ اگر پریشے کی جگہ کوئی اور ہوتی تو شاید سمجھ جاتی۔ مگر پریشے اپنے دل کی فریاد لے کر آئی تھی، وہ سننا نہیں چاہتی تھی، وہ صرف اور صرف شایان خان کو اپنا بنانا چاہتی تھی… مگر آریان خان اور اس کے ساتھ ہوئی ڈیل والی بات اسے اچھی نہیں لگی تھی۔

“سمجھ گئی، اصل بات تو یہ ہے کہ آریان خان کے ساتھ آپ نے ڈیل سائن کر رکھی ہے، اور اگر آپ مجھ سے نکاح کریں گی تو آریان خان یہ ڈیل توڑ دے گا، جس سے آپ کے بزنس کو بہت بڑا نقصان پہنچے گا…”
پریشے نے دوبارہ آنکھوں میں نمی بھرتے ہوئے بیگ اُٹھایا، جانے کے لیے قدم بڑھائے، مگر اچانک شایان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔

“پریشے، ایسا بالکل نہیں ہے… بات صرف ڈیل کی نہیں۔ دوستی کی خاطر میں ایسی ڈیلیں توڑنے کے لیے تیار ہوں۔ دوستی نبھانے کے لیے ہزاروں ڈیلز کی قربانی دے سکتا ہوں، اتنا کم ظرف نہیں ہوں کہ دوستی کو ڈیل پر قربان کر دوں…”
“مگر اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے، جس کی وجہ سے ہمارا نکاح ممکن نہیں…” شایان خان نے سمجھانے والے انداز سے کہا۔۔۔

خاموشی…
لمحہ بھر کے بات پریشے کی آواز گونجی۔۔۔
“اس کے علاوہ اور کیا وجہ ہے… مجھے آپ کی ایج سے کوئی فرق نہیں پڑتا ؟ میں آپ کو لائک کرتی ہوں، تو پھر انکار کی وجہ کیا ہے؟”

“شاید آپ نے تیسری وجہ غور سے نہیں سنی… میرے ماضی کے بارے میں آپ کچھ نہیں جانتیں۔ محبت سے بہت پہلے میرا یقین اُٹھ چکا ہے۔ برسوں پہلے محبت میں بہت کچھ ہار چکا ہوں۔ اب اور ہارنے کی ہمت نہیں رہی میرے اندر… اسی ڈر نے آج تک مجھے شادی نہیں کرنے دی۔ بہت سی آفرز آئیں، مگر اس کی جگہ کسی اور کو دیکھنے کی چاہت مجھ میں باقی نہیں رہی…”
کسی خاص کے ذکر پر شایان کے چہرے پر درد کے گہرے سائے اُبھر آئے۔
چھن سے… جیسے پریشے کے دل کے ٹکڑے ہو گئے ہوں۔ وہ لمحہ بھر کو بس اسے دیکھتی رہ گئی۔
“کیا آپ کسی سے بہت محبت کرتے تھے؟” پریشے نے آہستہ سے پوچھا، جیسے دل کی چوٹ زبان تک آ گئی ہو۔
“اپنی جان سے بھی زیادہ… اتنی محبت شاید کوئی اپنی سانسوں سے بھی نہ کر پایا ہو، جتنی محبت میں نے عروب خان سے کی تھی…”
“تو پھر آپ الگ کیوں ہو گئے؟”
“یہ… بہت لمبی داستان ہے… پھر کبھی موقع ملا تو ضرور بتاؤں گا۔”
“نہیں، میں ابھی سننا چاہوں گی… اگر آپ مجھ پر یقین کر سکتے ہیں تو بتائیں، ایسا کیا ہے آپ کے ماضی میں جس کی وجہ سے آپ مجھے قبول نہیں کر سکتے؟”
“اگر میں ٹرسٹ نہ کرتا تو یہ بات آپ سے کبھی شیئر نہ کرتا۔ آج تک میرے عشق کی داستان میرے عزیز دوست عدنان کے سوا کوئی نہیں جانتا… مگر آپ کو اتنی بڑی بات میں نے چند دنوں کی دوستی میں بتا دی۔”
“مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مجھ پر یقین کیا… پلیز مجھے بتائیں۔” پریشے کے لہجے میں التجا تھی۔
شایان خان اور پریشے دوبارہ صوفوں پر بیٹھ چکے تھے۔
“دیکھ لیں… جلد بازی میں سب کچھ بتانا مشکل ہو گا۔”
“مگر مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ آپ آرام سے بتائیں۔”
شایان نے گہری سانس لی۔ جیسے برسوں سے بند کسی دروازے کو کھولنے جا رہا ہو۔ پھر ماضی کی کتاب کھلی… اور وہ حرف بہ حرف پڑھتا چلا گیا۔
“عروب… عروب نام تھا اس کا…”
صرف نام سنتے ہی پریشے چونک اٹھی۔ عروب خان کا نام اس کے لیے اجنبی نہ تھا۔ حیرت اس کے چہرے پر واضح تھی، مگر وہ فوراً نظریں جھکا گئی۔ دل نے خود کو تسلی دی کہ عروب نام کی لڑکی دنیا میں ایک ہی نہیں تھیں…یہ نام اتفاق بھی تو ہو سکتا ہے وہ دل کو سمجھا گئی۔

مگر شایان کی کہانی آگے بڑھتی گئی، اور آہستہ آہستہ پردے ہٹتے چلے گئے۔ پریشے سمجھ گئی تھی، وہ غلط نہیں تھی۔ عروب وہی لڑکی تھی جس کا گہرا رشتہ روشانے کے ساتھ تھا۔ کہانی الجھتے الجھتے اسی سچ پر آ کر ٹھہر گئی تھی۔
وہ جان چکی تھی کہ عروب… عبیرہ کی ماں ہے۔
اور یہ بھی کہ شایان خان نہیں جانتا تھا کہ عروب زندہ ہے۔ اسے تو یہی خبر دی گئی تھی کہ عروب مر چکی ہے۔
حقیقت سے پردے اٹھتے چلے گئے۔شایان کو یہ علم تھا کہ عروب حاملہ تھی، مگر حقیقت اس پر بہت دیر سے کھلی۔ غلط فہمی میں وہ فون پر ہی طلاق دے چکا تھا، اور اپنے محبت بھرے رشتے کو خود جلا کر راکھ کر چکا تھا۔
ایک ویڈیو… ایک سازش… اور سب کچھ برباد۔وہ اپنے درد بھری کہانی میں پوری طرح سے ڈوبا ہوا تھا۔

“شایان، یہ بہت پرسنل سوال ہے… آپ عروب سے اتنا پیار کرتے تھے تو پھر بدگمان کیسے ہو گئے؟ اس ویڈیو میں ایسا کیا تھا کہ آپ نے بغیر سوچے سمجھے طلاق دے دی؟” پریشے کا تجسس بڑھتا جا رہا تھا۔

“میرے لیے وہ وقت یاد کرنا بہت مشکل ہے… وہ میری زندگی کا بدترین دور تھا، جسے میں یاد نہیں کرنا چاہتا۔”
درد اس کے چہرے سے صاف جھلک رہا تھا۔
“پلیز شایان… شاید برسوں سے دبے دکھ کو بانٹنے سے آپ کو سکون مل جائے۔” پریشے نے ہمدردی سے کہا تو اس نے پھر سے بات جاری رکھی۔۔

“میں نہیں جانتا تھا کہ اس گھٹیا انسان نے عروب کو نشہ آور ڈوز دے رکھی تھی… میں اس سے بے حد محبت کرتا تھا، آج بھی کرتا ہوں… مگر اس لمحے میں کمزور پڑ گیا۔ میری غیرت نے وہ سب دیکھنے کی طاقت نہ دی۔”
وہ بتاتا گیا… اور ہر لفظ کے ساتھ اس کا زخم ہرا ہوتا گیا۔
“غصے میں وہ تین الفاظ میرے منہ سے نکل گئے… جن پر میں آج بھی پچھتاتا ہوں۔ جب سچ سامنے آیا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی… داؤد عروب کو مار چکا تھا۔”
پریشے ساکت رہ گئی۔
“عروب میرے بچے کی ماں بننے والی تھی… اگر وہ آج زندہ ہوتی تو ہماری اولاد ہمارے ساتھ ہوتی۔”
آنکھیں نم تھیں… آواز بھاری۔
“میں نے داؤد کو مار کر بدلہ تو لے لیا، مگر خود اندر سے مر گیا۔ کئی بار اپنی جان لینے کی کوشش کی… ہر بار عدنان نے بچا لیا۔”
“عدنان کون ہے؟”
“میرا بہترین دوست… ایک ڈاکٹر۔”
وہ بتاتا گیا، امریکا جانے تک، ڈپریشن، تنہائی، کاروبار، اور اس حقیقت تک کہ عروب آج بھی اس کے دل میں زندہ ہے۔
“یہ ہے میری زندگی کی حقیقت… میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا۔”
پریشے کا دل چاہا کہ وہ سچ بتا دے… مگر خاموش رہی۔
“مس پریشے… ایسے شخص کے ساتھ نکاح کر کے آپ خود کو کیوں برباد کرنا چاہتی ہیں؟”
“اگر میں پھر بھی کہوں کہ مجھے آپ کے ماضی سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟”
شایان نے اسے دیکھا… خاموشی سے۔
“آپ خود کو ضائع مت کریں…”

“مسٹر شایان، آپ میری توہین کر رہے ہیں۔”
“نہیں… میں آپ کو درد سے بچانا چاہتا ہوں۔”
وہ اُٹھی، مسکرائی، اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
“سوچ لیجیے گا… میں آپ کے جواب کی منتظر رہوں گی۔”
شایان وہیں بیٹھا رہا… اسے روکنے نہ آیا۔
خاموشی…
بس خاموشی۔
شایان خان کی نظریں فرش پر جمی ہوئی تھیں، دل میں ایک عجیب سی الجھن اور درد کے لمس کے ساتھ… مگر لبوں پر کوئی لفظ نہیں آیا، صرف خاموشی میں سب کچھ محسوس کر رہا تھا۔

        ═══════❖═══════

“تم گھر پر اکیلی ہو، زیادہ اُچھل کود کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب میں آؤں گا تو گھر کی سیٹنگ خود کروا دوں گا۔۔۔
یارم اور ایزل اپنے گھر آچکے تھے، جو انہیں سرکاری سطح پر ملا تھا۔ گھر بہت خوبصورت اور کافی بڑا تھا، ظاہر سی بات ہے یارم خان اتنی اچھی پوسٹ پر تھا تو گھر اچھا ملنا ہی تھا۔ اسلام آباد میں اتنا خوبصورت گھر اور اتنا دلکش ویو دیکھ کر ایزل کے چہرے پر خوشی کے رنگ واضح تھے۔
وہ گھر کے ہر کونے کو غور سے دیکھ رہی تھی، وہ مرر ونڈو کے سامنے کھڑی ہو کر باہر کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہو رہی تھی، یارم کی بات پر اس کا بالکل دھیان نہیں تھا۔

یارم جلدی سے ریڈی ہو کر نکلنا چاہتا تھا، کیونکہ اسے اپنے ساتھیوں کی فکر تھی اور ہر صورت وہاں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔ایزل کی جانب دیکھتے نفی میں سر کو ہلایا۔

“تو میری بات سن رہی ہو…؟

“سن رہی ہوں…بے دھیانی میں ونڈو کے پار دیکھتے ہوئے جواب دیا…

“تمہارے دماغ میں میری بات گھس گئی ہے یا پھر سے ریپیٹ کروں؟”
ایزل جو مرر ونڈو کھول کر باہر کے نظارے دیکھ رہی تھی، پلٹ کر دیکھتے ہوئے بولا۔
“افف! کیا ہے، سن لیا ہے، میں کوئی بہری تھوڑی ہوں!”
ایزل نے ناک سنگوڑتے ہوئے ہلکی مسکان کے ساتھ جواب دیا۔
“اگر کان ٹھیک سے کام کرتے ہیں، تو پھر بات کا فوراً جواب بھی دے دیا کرو۔”

“کبھی آرام سے بھی بول لیا کریں، ہر وقت غصہ کرنا ضروری ہے؟”
“ایزل کے لب مسکرائے، اور آواز میں ہلکی سی شاعرانہ مٹھاس تھی۔”

ایزل تم میری بات دھیان سے سنو میں یہ کہہ رہا ہوں کہ گھر پر اکیلی ہو دھیان سے رہنا۔۔۔خدا کا واسطہ ہے، میرے آنے سے پہلے کوئی نیا تماشہ کھڑا مت کرنا۔ ابھی میرا نیا نیا یہاں پر ٹرانسفر ہوا ہے، کام کافی زیادہ ہوگا، تو مہربانی کر کے مجھے کام کرنے دینا۔”

“قسم سے آپ جتنے خوبصورت ہیں، اتنے ہی خوبصورتی سے بات کرنے کا ڈھنگ سیکھ لیں تو زندگی کتنی حسین ہو جائے گی، آپ سوچ بھی نہیں سکتے!””ایزل نے ہلکی مسکان کے ساتھ، نظریں چہرے پر جمائے کہا۔”

“تھینک یو….. یہ بتانے کے لیے کہ میں خوبصورت ہوں، مگر اب تم مدے کی بات پر آؤ کہ تم نے وہ سنا جو
میں نے کہا ہے۔”

“جی، میں نے سنا کہ آپ کو میری بہت فکر ہے، آپ نے مجھے کام کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔ آپ کو میری فکر ہے، کہ میں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کا استعمال صحیح طرح کروں۔۔۔
پریشان نہ ہوں….. میں سمجھ سکتی ہوں، ظاہر سی بات ہے، آپ کو یہ اچھا نہیں لگے گا کہ آپ کی نازک اور خوبصورت بیوی پورے گھر کا کام کرے۔ آپ نے کہا ہے کہ جب آپ آئیں گے تو سب کچھ خود دیکھیں گے، مجھے ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔”
ایزل کی دانت نکالتے ہوئے بات نے ماحول کو مزاحیہ بنا دیا،

“استغفراللہ! تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا، تم قسم سے لاعلاج ہو۔”
یارم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا اور واپس جا کر مرر کے سامنے ڈریسنگ سیٹ کرنے لگا، وہ اس وقت فل یونیفارم میں کھڑا تھا۔سچ میں وہ بولتے ہیں سن لگ رہا تھا۔
“ایزل اپنے دل کے جذبات چھپا نہیں سکتی تھی، یارم کی موجودگی اور اس کی کشش نے جذبات کو جھنجھوڑ دیا تھا۔”

“علاج تو میرا ہے، وہ الگ بات ہے کہ ڈی ایس پی صاحب آپ کرنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔”
وہ یارم کے سامنے جا کر، اس کے کالر سینے پکڑ ے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔
یارم اور ایزل کی ہائٹ میں فرق تھا، جس کی وجہ سے ایزل کو یارم کی آنکھوں میں دیکھنے کے لیے چہرہ اوپر اٹھانا پڑا۔

“ایزل، مجھے دیر ہو رہی ہے، بچکانہ حرکتیں دیکھنے کا ٹائم نہیں ہے، میرے پاس۔”
یارم نے نظریں چراتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو اپنی شرٹ سے ہٹایا اور بال برش کرنے لگا۔

یارم کی بے رخی دیکھ کر ،ایزل کے دل میں ایک درد سا دوڑ گیا، آنکھیں نم ہوئیں، مگر اس نے دکھاوا نہیں کیا۔ نمی کو چھپا کر رخ پھیر لیا۔
یارم نے اس کے آنسوؤں میں بنے شبنمی موتیوں کو دیکھ کر اندر ہی اندر ہلکی سی ہمدردی محسوس کی۔
یارم نے گہری سانس لی، وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے ہاتھ کو شرٹ کے بٹن پر رکھا، اور تھوڑا سا جھٹکا دے کر بٹن توڑ دیا۔

“سنو!”
“ہمم…”
ایزل نے حیرت سے اس کی طرف پلٹ کر دیکھا، آنسو اب بھی آنکھوں میں جمے ہوئے تھے۔
“اِدھر آؤ۔”
ایزل نے ہتھیلی سے آنسو صاف کرتے ہوئے گہری سانس لی اور خود کو نارمل کیا، پھر یارم کے پاس آئی۔
“جی۔”
“بٹن لگا دو۔”
“کون میں؟”
“تمہارے سوا روم میں کوئی اور نہیں ہے، ویسے بھی بیوی ہو، یہ تمہارا فرض ہے۔ جلدی سے لگاؤ، میں لیٹ ہو رہا ہوں۔”

ایزل نے فٹ سے اپنے بیک سے سٹچنگ باکس نکالا،اوربٹن لگا دیا، شرارت اور خوشی کے رنگ اس کے چہرے پر صاف جھلک رہے تھے۔ یارم نے نرم ہاتھ رکھ کر اسے ڈریسنگ ٹیبل پر بٹھایا، وہ بٹن لگاتے ہوئے کنفیوز تھی، مگر دل میں خوشی تھی۔

“بس، مس رومینٹک اتنے سے ہی ہوا؟”
“ابھی تو میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔”
یارم نے کان کے قریب جھکتے ہوئے سرگوشی میں کہا، اور ایزل شرما کر مسکرا دی۔

“یہ لیجیے آپ کا بٹن لگ گیا۔ وہ مسکراتے اور شرماتے ہوئے بٹن لگا چکی تھی۔۔۔

“ویری گڈ… چلتا ہوں …اپنا خیال رکھنا، مجھے آنے میں دیر ہو جائے گی۔ کوئی بھی آئے، دروازہ مت کھولنا۔اور دوپہر کو کھانا بھجوا دوں گا۔ کچن میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔”یارم اسے بچوں کی طرح سمجھا رہا تھا۔

“اور یہ سب کچھ اس لیے نہیں کہ مجھے پیار کا بخار چڑھ گیا ہے، بس تمہاری عقلمندی دیکھ کر کہہ رہا ہوں،کیونکہ تمہاری عقل کا بھروسہ نہیں کب کیا کر جائے ۔”
وہ چلتے ہوئے دروازے کی طرف گیا، ایزل بھی ساتھ ساتھ ساتھ چلتے ہوئے آرہی تھی۔

کیا تھا، اگر یہ آخری جملہ میری بیچاری عقل پر نہ آتا تو کتنا اچھا ہوتا۔
وہ بچوں جیسی شکل بناتے ہوئے ہونٹ ادھر اُدھر کرنے لگی تھی، جب کہ بے اختیار یارم کے لبوں پر مسکراہٹ اُبھر آئی۔
“کیا کروں، تمہاری حرکتیں اتنی بچکانہ ہیں کہ تمہاری عقل کو طعنے سننے پڑتے ہیں۔”
وہ مسکرا دیا۔

“کوئی بات نہیں، آپ ہنس کر طعنے دے لیا کریں، میں سن لوں گی۔ بس یوں سڑی ہوئی شکل مت بنایا کریں… اور بے فکر ہو کر جائیں، میں اپنا پورا خیال رکھوں گی۔” وہ کمر پر ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔

“ہمم…”
یارم نے سر ہلایا۔
“ایسا ہی کرنا۔ چلو، دروازہ بند کر لو۔”

“نہیں نہیں، ایک منٹ رُکیں!”
وہ اسے جاتا دیکھ کر جلدی سے سر پر دوپٹہ اوڑھتی ہوئی آگے بڑھی اور اس کا ہاتھ تھام کر روک لیا۔

“اب کیا ہے، ایزل؟ مجھے جانا ہے، ضروری کام ہے۔”
وہ ذرا سا جھنجھلا گیا تھا۔
وہ خاموش رہی۔ ہونٹوں ہی ہونٹوں میں آیت الکرسی اور چند قرآنی آیات پڑھتی رہی، انگلی کے اشارے سے اسے چپ رہنے کو کہا، اور پھر ہلکے سے اس پر پھونک مار دی۔
“یہ کیا ہے؟”
اس نے بھنویں اُچکاتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ نہیں۔ آپ کی حفاظت کے لیے آیت الکرسی اور قل شریف پڑھ کر پھونکی ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرے۔”
پھر ذرا ٹھہر کر بولی،
“اور یہ میں نے اپنے لیے کیا ہے… مجھے ہمیشہ آپ کا ساتھ چاہیے۔ تو کسی خوش فہمی میں مبتلا مت ہو جائیے گا۔”
وہ ایک لمحہ پہلے کی بات کا بدلہ لے چکی تھی۔

“ٹھیک ہے، میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوتا۔”
یارم نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“بس اندر سے دروازہ بند کر لو، اور جو سمجھایا ہے اس کا خیال رکھنا… ورنہ۔”

“ورنہ آپ آ کر مجھے ڈانٹیں گے، اور پھر میں یہ نہیں کہہ سکوں گی کہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں۔”
وہ خود ہی بات کاٹ کر بول پڑی۔

“گڈ۔ یہی کہوں گا۔”
وہ دروازے سے باہر نکل گیا۔
ایزل نے دروازہ بند کر دیا۔ لمحہ بھر وہ دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑی مسکراتی رہی۔

“دیکھتی ہوں، مسٹر یارم خان، کب تک آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہوتی۔”
اس نے خود سے کہا۔
“اتنی پیاری ہوں میں، آپ کو تو مجھ سے محبت ہونی ہی ہونی ہے… اور جب ہوگی، تو اتنی ٹوٹ کر ہوگی کہ آپ خود کو بھی بھول جائیں گے۔”
ایزل خاموشی سے مرر ونڈو کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔
اسلام آباد کی پرسکون فضا اس کے سامنے پھیلی ہوئی تھی، ہلکی ہلکی ہوا پردوں کو جنبش دے رہی تھی۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتی رہی، جیسے وہاں کہیں اس کی دعا لکھی ہو۔
“اللہ جی…
آپ تو جانتے ہیں نا کہ میں ان سے کتنی محبت کرتی ہوں۔
بس کسی طرح وہ محبت انہیں بھی نظر آ جائے…
پھر دیکھ لیجیے گا، وہ بھی مجھ سے محبت کرنے لگیں گے۔
اور وہ دن… وہ دن میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہوگا۔
وہ آہستہ آہستہ رب سے باتیں کر رہی تھی، بالکل بے ساختہ، بالکل سچے دل سے۔
محبت بھی عجیب ہوتی ہے…
جب دل میں اتر جائے تو انسان کے لیے دنیا پیچھے رہ جاتی ہے،
اور سامنے بس ایک ہی نام رہ جاتا ہے۔ایزل کی دعا ختم ہوئی تو کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی اتر آئی۔
وہی خاموشی جو شور نہیں کرتی، بس دل پر آ کر بیٹھ جاتی ہے۔
اس نے آہستہ سے کھڑکی بند کی، دوپٹہ درست کیا اور بستر پر بیٹھ گئی۔
آنکھیں بند کرتے ہی یارم کا چہرہ بے اختیار سامنے
آ گیا…
وہی سخت لہجہ، وہی ضبط میں بندھی آنکھیں، اور وہی چھپی ہوئی فکر۔
دل نے بے ساختہ شکر ادا کیا۔
کچھ مانگنے کے بعد دل کا ہلکا ہو جانا شاید قبولیت کی پہلی نشانی ہوتا ہے۔

دوسری طرف، اسلام آباد کی اسی خاموش فضا میں، یارم گاڑی چلاتے ہوئے اچانک سست پڑ گیا۔
اس کا ہاتھ اسٹیئرنگ پر مضبوط تھا مگر دل…
دل جیسے کسی انجانی دستک پر چونک اٹھا ہو۔
اس نے بے اختیار شیشے سے باہر دیکھا، نہ جانے کیوں سینہ ہلکا سا بھرا بھرا محسوس ہوا۔
ایک لمحے کو ایزل کا خیال آیا۔
بغیر کسی وجہ کے…
بس آیا اور ٹھہر گیا۔
یارم نے آہستہ سے سانس خارج کی، خود پر ناراضی سی مسلط کی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
مگر دل کے کسی کونے میں وہ دعا اپنا راستہ بنا چکی تھی۔
کہیں کوئی لفظ نہیں بولا گیا تھا،
کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا،
بس ایک دل نے رب سے بات کی تھی…
اور رب نے خاموشی سے سن لی تھی..ایسے سن لیا تھا جیسے ہر سچی دعا کو سنا جاتا ہے،
بغیر شور، بغیر نشان،
بس دل کے اندر ایک ہلکی سی جنبش چھوڑ کر۔
ایزل نہیں جانتی تھی کہ دعا کب قبول ہوتی ہے،
مگر وہ اتنا ضرور جانتی تھی
کہ جب محبت دل میں اتر جائے
تو انسان دنیا کو نہیں،
خود کو بھولنے لگتا ہے۔
اور یہی بھول…
اکثر رب تک پہنچنے کا سب سے سیدھا راستہ بن جاتی ہے۔
═══════❖═══════
عبیرہ…آریان خان نے آہستہ سے پکارا۔
ہمم…بڑی مشکل سے حلق سے آواز نکلی تھی۔
“اُٹھ جاؤ، آج بہت دیر ہو گئی ہے۔”

دوسری جانب پھر سے خاموشی چھا گئی
عبیرہ بدستور سو رہی تھی، بے خبر، مطمئن۔
آریان کافی دیر سے جاگ رہا تھا، مگر اسے جگانے میں عجیب سی ہچک تھی، جیسے یہ خاموش لمحہ ٹوٹ گیا تو کچھ کھو جائے گا۔رات کو وہ جتنا روئی تھی اس احساس نے دل کو اجازت نہ دی کہ وہ اسے اٹھا دے۔مگر اب انتظار کی انتہا ہو چکی تھی۔
بالآخر اس نے نرمی سے آواز دی،

“پلیز اٹھ جاؤ بہت دیر ہو گئی ہے۔”

“مجھے نہیں اُٹھنا…”
وہ نیند کی مدھم سی آواز میں بڑبڑائی اور بے ساختہ اپنا سر اس کے سینے سے ہٹا کر ذرا سا پہلو بدل لیا۔

“کیوں نہیں اُٹھنا؟؟
نہ اُٹھنے کی کوئی خاص وجہ۔۔۔
وہ اپنے دھڑکتے دل کو سنبھالتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔

“بس نہیں اُٹھنا…”
وہ روٹھے سے انداز میں بولی اور آنکھیں موندے، ویسے ہی بے فکری سے لیٹی رہی۔
اس کی قربت آریان کی سانسوں میں ہلکی سی بے ترتیبی لے آئی تھی، جس کی مدھم بازگشت وہ نیم روشنی میں محسوس کر رہی تھی۔

وہ جان بوجھ کر انجان بنی رہی، جیسے اس لمحے کو روک لینا چاہتی ہو۔
اسے آریان کے اُٹھ کر چلے جانے کا اندیشہ اندر ہی اندر جکڑے ہوئے تھا… ایک ایسا خوف، جسے وہ خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
عبیرہ جاگ رہی تھی، جانتی تھی کہ روشانے کچھ دیر پہلے اسے جگانے آئی تھی۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ آریان جاگ رہا تھا، مگر اس نے خاموشی اختیار کی۔
آج وہ اس خاموشی کو توڑنا نہیں چاہتی تھی۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ آریان کا دھیان کسی اور خیال کی طرف جائے۔
اس نے دل ہی دل میں عہد کر لیا تھا کہ اب وہ اس رشتے کو خود سنبھالے گی۔
جو اس کا ہے، وہ اس کے پاس ہی رہے گا۔
کچھ لمحوں کی بدگمانی کے باوجود، وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ آریان نے کس کو چھوڑ کر اس کا انتخاب کیا تھا۔
اور یہی انتخاب اس کے یقین کی بنیاد بن گیا تھا۔
باہر خطرے موجود تھے…
اب اسے اپنے رشتے کی حفاظت خود کرنی تھی۔
اور وہ دماغی طور پر پہلا قدم اٹھا چکی تھی۔

“تو سچ میں تم اُٹھنا نہیں چاہتیں؟”
آریان خان نے جواب نہ پا کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ تصدیق چاہی، آنکھوں میں نرم لیکن پراثر احساس لیے۔
“ہاں سچ میں نہیں اٹھنا…”
اس کی آواز نیند اور ضد کے درمیان کہیں ٹھہری ہوئی تھی۔
وہ مزید سمٹ کر اس کے قریب آ گئی، ہاتھ آہستہ اس کے بازو پر رکھ کر، جیسے یہ لمحہ روکے رکھنا چاہتی ہو۔
عبیرہ کے اس رویے نے آریان کے ضبط کو آزمائش میں ڈال دیا، دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔
آریان خان نے اسے چند لمحے دیکھا، نگاہوں میں حیرت اور دل میں چاہت کے ساتھ، جیسے اس بدلتے ہوئے انداز کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
یہ وہ عبیرہ نہیں تھی جو ہمیشہ خود کو سمیٹے رکھتی تھی۔آج تو وہ خود سے اسے اپنے پاس روکنا چاہتی تھی۔رات کی الجھی ہوئی غلط فہمیوں کی دھند چھٹ چکی تھی، اور فضا میں محبت کے رنگ بکھرنے لگے تھے۔

“میری محبت نے تمہیں بدل دیا ہے…”
وہ آنکھوں میں سکون اور قربت کے اشارے لیے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“تو کیا آپ نہیں چاہتے کہ میں آپ پر اور آپ کی محبت پر یقین کروں؟” نظریں اُس کے چہرے کی جانب اٹھا کر اُس نے سوال داغا، تو آریان مسکرا دیا۔
“کون کمبخت چاہے گا کہ بیوی اپنے شوہر پر اعتماد نہ کرے؟” وہ مسکرا کر اُس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اپنے ہاتھ میں لے آیا، ہلکے سے اُس کے ہاتھ کو سہلایا… پھر آنکھیں بند کر گیا۔

“مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔”
“کہو، میری جان، اتنی تمہید باندھنے کی کیا ضرورت ہے؟” وہ محبت بھری نظروں سے اُس کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“پلیز، جیسا بھی وقت آئے، مجھے مت چھوڑنا۔ بڑی مشکل سے میں نے تم پر اعتماد کیا ہے… اس اعتماد کو ٹوٹنے مت دینا۔” اس کی آنکھوں میں نمی سی ابھر آئی تھی۔
اس بار اُس کی آواز میں ضد کے ساتھ خوف اور عاجزی بھی شامل تھی۔
آریان نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا، دل میں اُس کی وفا کا اعتراف کرتے ہوئے سوچا۔
“یہ وہی عبیرہ ہے؟جس کے لیے میں صرف دشمن اور نفرت تھا۔”
اُس کی نگاہ میں سوال بھی تھا، حیرت بھی، اور تھوڑی سی عاجزی بھی۔

“یقین رکھو… میں تمہارا ہوں۔ اور ہمیشہ تمہارا ہی رہوں گا۔”
آریان کے لفظ فضا میں ٹھہر گئے۔
عبیرہ نے کچھ نہیں کہا، بس اس کے ہاتھ میں ہلکی سی جنبش ہوئی، جیسے وہی لمس سب کچھ سمیٹ لے۔
کمرے میں خاموشی اتر آئی…
اور وہ خاموشی خود ایک جواب بن گئی۔

═══════❖═══════
آریان خان روم سے باہر نکلا، جانتے ہوئے کہ کہیں نہ کہیں وہ عبیرہ کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ مگر جس شخصیت کے ساتھ اب اس کا سامنا ہونا تھا، وہ آسانی سے مطمئن نہیں ہوگی۔
ہال میں روشانے صوفے پر سمٹ کر بیٹھی تھی، کاندھوں پر شال، پاؤں سمٹ کر رکھے ہوئے۔ اندر ہیٹر کی ہلکی گرمی نے ماحول کو نرم کر رکھا تھا، مگر اس کے چہرے کی خاموش اور بے چین نظریں کچھ بھی چھپانے کی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔

“گڈ مارننگ، بیوٹی فل گرل…”
آریان آگے بڑھا، ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ لمس میں ایسی محبت تھی کہ روشانے کے دل میں ایک نرم دھڑکن اٹھتی، مگر آج غصہ عروج پر تھا۔ اس نے بھری ہوئی نظروں سے اس کی جانب دیکھا اور رخ پھیر لیا۔
آریان پیار سے قریب بیٹھ گیا، پچکار کر اسے سکون دینے کی کوشش کرتے ہوئے، مگر روشانے خاموش بیٹھی رہی۔ دل چاہتا تھا کہ وہ دیکھے، مگر غصے نے سب کچھ روک دیا تھا۔
“چلے جاؤ یہاں سے… میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔”
روشانے کی آواز میں غصہ اور آریان کے لیے محبت دونوں جھلک رہے تھے، اور اس کی نظریں زمین کی طرف جھکی ہوئی تھیں۔
آریان خاموش بیٹھارہا، دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسے قریب لے آئے، مگر وہ جانتا تھا کہ آج کا لمحہ صبر اور تحمل کا طلبگار تھا۔
ہال میں خاموشی چھا گئی، صرف دل کی دھڑکنیں اور روشانے کے چھپتے ہوئے جذبات محسوس ہو رہے تھے۔
آریان خان نے روشانے کا ہاتھ پکڑا، نظریں زمین کی طرف جھکی ہوئی تھیں، مگر اس کے دل میں مضبوط ارادہ تھا۔
“میں تو بالکل نہیں جاؤں گا، جب تک میری روشانے مان نہ جائے!”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر زمین پر بیٹھ گیا، ہاتھ بدستور پکڑے ہوئے، جیسے دنیا کی کوئی طاقت اسے اس لمحے روشانے سے دور نہیں کر سکتی ہو۔

” آریان، میرے ہاتھ چھوڑو… یہ ڈرامے بازیاں نہیں چلیں گی، بے وقوف! کسی اور بنانا۔”
آریان لمحہ بھر کے لیے خاموش رہا، بس اس کے ہاتھ پکڑے رہا۔ فرش پر بیٹھ کر وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھا تھا، جیسے ایک بیٹا اپنی ماں کو منا رہا ہو۔
روشانے کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، دل میں غصہ اور محبت کے جذبات ایک ساتھ اُبھرتے، مگر وہ خود کو ہلکا سا نرم پڑے سے بھی روک رہی تھی۔

“روشانے، ایسا کچھ نہیں ہے… آپ میرے پیار پر شک کر رہی ہیں…”
اس کی نظر روشانے کے آنسوؤں سے بھرے چہرے پر ٹکی رہی۔
خاموشی میں صرف دل کی دھڑکنیں محسوس ہو رہی تھیں۔

“بس کر دو، آریان! تم کب جھوٹ بولنا سیکھ گئے؟ مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا…”
“تمہیں تو جھوٹ سے ہمیشہ نفرت تھی… نا؟ ہمیشہ کہتے تھے کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا، اس لیے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں۔ تو آج کیا سمجھوں؟ اس لڑکی سے ڈرتے ہو اس لیے جھوٹ بول رہے ہو؟”
روشانے غصے سے آگ بگولا تھی، بار بار آریان کا ہاتھ جھٹک رہی تھی، اور وہ اس کے قدموں میں بیٹھا، صبر اور محبت سے اسے منا رہا تھا۔

“آریان، آج بھی ویسا ہے… نہ میں کسی سے ڈرتا تھا، اور نہ ڈرتا ہوں…”
“پلیز، آپ ہائپر نہ ہوں۔ آرام سے بیٹھ کر میری بات سنیں…”
“ہر بات کا حل غصہ نہیں ہوتا… کچھ باتیں آرام سے بھی سلجھائی جا سکتی ہیں۔”

“ریئلی … آرام سے بیٹھ کر تمہاری بات سنوں…”
“صبح سے کتنی بار میں نے تمہیں جگانے کی کوشش کی، مگر تم تو کسی اور خیال میں مصروف لگ رہی تھیں، اسی لیے میری آواز سنائی نہیں دی…”
روشانے کی نظر اور ہر حرکت میں اس کا شدید تناؤ اور ناراضگی چھلک رہی تھی، مگر ساتھ ہی دل کے کسی گوشے میں آریان کے لیے نرم محبت بھی چھپی ہوئی تھی۔

“سوری… مجھے پتہ نہیں چلا…”
آریان نے نظریں جھکا کر کہا۔ مگر یہ نظریں شرم سے نہیں، شرارت سے جھکی تھیں۔ شرم اور آریان کا آپس میں کبھی کوئی خاص رشتہ نہیں رہا تھا۔وہ ہنسنے کے قریب تھا،جھوٹ بولتے ہوئے اس سے ہنسی آرہی تھی جسے بمشکل ہوتے ہوئے تھا۔

“شٹ آپ، آریان! جھوٹ پر جھوٹ مت بولو۔ میں تمہیں تم سے زیادہ جانتی ہوں…”
“میرے ہاتھوں میں پل کر بڑے ہوئے ہو…تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں میں…” غصے کی شدت سے روشانے کی آنکھوں میں آنسو مزید بہنے لگے۔

“روشانے، یار… گہری نیند میں تھا۔ واقعی پتہ نہیں چلا۔”

“بکواس…!تمہاری نیند کتنی کچی ہے، تم کتنے چوکس ہو کر سوتے ہو، یہ بات مجھ سے بہتر کون جانتا ہے؟”
“اور اب تم مجھ سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہے ہو کہ اتنی بار دروازہ کھٹکھٹانے پر بھی آنکھ نہیں کھلی؟””پاگل لگتی ہوں میں تمہیں؟”
اس نے آریان کو گھور کر دیکھا۔
آریان خان نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔
وہ جھوٹ نہیں بولتا تھا، اس لیے روشانے کے دل میں عجیب سا خالی پن اور حیرت سی اُبھری۔
ایک ہی وقت میں اسے غصہ بھی آ رہا تھا، اور دل میں ایک نرم خوف بھی کہ کیا واقعی آریان آج اس سے جھوٹ بول رہا ہے۔
نظریں اُس کے ہاتھوں اور چہرے پر جم گئی تھیں، ہر حرکت پر نظر رکھتی، مگر لفظوں کے لیے کچھ بھی نہیں نکل رہا تھا…بس وہ اندر ہی اندر یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ یہ منظر واقعی حقیقت ہے یا اس کا وہم کھیل رہا ہے۔

“چپ کیوں ہو جواب دو…میں نے اتنی آوازیں دی۔مگر تم نے ایک بار بھی جواب کیوں نہیں دیا۔؟”
آریان خاموش تھا۔
شاید کچھ سوچ رہا تھا… اور یہی خاموشی روشانے کے دل میں ایک اور عجیب سا سوال پیدا کر گئی، کہ آج واقعی وہ جھوٹ کیوں بول رہا ہے۔

“تمہاری یہ خاموشی مجھے میری اوقات دکھا رہی ہے… میں ہی پاگل ہوں جو تمہارے پیچھے اتنی دور
آ گئی…”
آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے، مگر وہ رکی نہیں۔
“مجھے یہ سمجھ لینا چاہیے تھا کہ جب تم اس لڑکی کی خاطر ملک چھوڑ کر سب سے رابطے توڑ کر آئے ہو، تو وہ تمہارے لیے بہت خاص ہوگی… مجھے پیچھے نہیں آنا چاہیے تھا…”
وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئی، پھر سر جھکاتے ہوئے کہا۔
“مجھے لگتا تھا کہ …آریان… ہمیشہ میرا ہی رہے گا۔ میرے بیٹے کے لیے، ہمیشہ سب سے بڑھ کر میں ہی رہوں گی…”
روشانے کے رونے کو بالکل غلط نہیں کہا جا سکتا تھا۔
یہ سچ تھا کہ اس نے آریان کو صرف پیار نہیں، بلکہ صارم سے بڑھ کر چاہا تھا….ماں بن کر، محافظ بن کر۔
اور آج… وہ یہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی کہ اس کا آریان، عروب کی بیٹی کی محبت میں، اس سے اتنا دور جا کھڑا ہوا تھا۔

وہ اس وقت فرش پر بیٹھا تھا، مگر آہستہ سے اٹھا اور روشانے کے پاس آ گیا۔
اپنے بازوؤں سے اسے نرمی سے گلے لگایا، جیسے ایک بیٹا اپنی ماں کو سکون دینے کی کوشش کر رہا ہو۔
“آئی ایم سوری… اگر میری وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچی۔ میں واقعی شرمندہ ہوں…”
“پلیز… آپ روئیں مت…”

“پلیز، مجھ سے جھوٹی ہمدردی جتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے تمہاری ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور تمہیں میرے لیے پریشان ہونے کی بھی ضرورت نہیں…”
“تم خوشی خوشی اپنی محبوبہ کے ساتھ رہو۔ میرا کیا مقام ہے، یہ مجھے ایک ہی دن میں سمجھ آ گیا ہے۔ اس سے زیادہ میں برداشت نہیں کر سکتی…”
روشانے نے غصے میں اسے ہلکا سا دھکیل کر خود سے دور کیا۔
آریان وہیں ٹھٹھک گیا، بس دکھی نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو مگر الفاظ ساتھ نہ دے رہے ۔

برسوں پہلے اس کی ماں نے مجھ سے میرا شوہر چھین لیا تھا، اور میں کچھ نہیں کر سکی تھی۔
آج پھر تاریخ خود کو دہرا رہی ہے…
بیٹی آ کر میرے ہی بیٹے کو مجھ سے دور کر رہی ہے۔
تب بھی میں کچھ نہیں کر سکی تھی، اور آج بھی کچھ نہیں کر پاؤں گی…
رونے کی شدت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ روشانے کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔
آریان کے لیے یہ منظر اس کی سوچ سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہو چکا تھا۔
“ایسا نہیں ہے، روشانے… رونا بند کریں۔ آپ خود کو کیوں اتنی تکلیف دے رہی ہیں؟”
“ایسا ہی ہے…” وہ ٹوٹتی ہوئی آواز میں بولی۔
“روشانے کل بھی بدقسمت تھی… اور آج بھی بدقسمت ہے۔”
“میں جیسے آئی تھی، ویسے ہی چلی جاؤں گی… مزید اپنی توہین برداشت نہیں کر سکتی۔”

“آپ کہیں نہیں جا رہیں… بس کر دیں۔
غلطی ہو گئی مجھ سے، معافی مانگ رہا ہوں… پلیز، معاف کر دیں۔
آئندہ آپ کی پہلی آواز پر ہی اُٹھ جایا کروں گا…
یہ لیں، کان پکڑ رہا ہوں۔
وہ واقعی اپنے کانوں کو ہاتھ لگا چکا تھا۔
چلیں، اُٹھیں اور میرے ساتھ کھانا کھائیں۔
“مجھے کھانا نہیں کھانا۔”
“میں بھی دیکھتا ہوں کیسے نہیں کھانا۔”
وہ پورے حق سے روشانے کو اپنے ساتھ اُٹھا کر لے جانے لگا۔
“میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے… نہیں کھانا تو مطلب نہیں کھانا!”

“میں بالکل زبردستی کر سکتا ہوں۔
کھانا تو کھانا پڑے گا، ورنہ آپ کی صحت خراب ہو جائے گی، اور میں آپ کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔”
وہ اسے تقریباًقپنے ساتھ لگائے گھسیٹتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل تک لے آیا۔
وہاں عبیرہ کھانا لگا رہی تھی۔
روشانے کو دیکھتے ہی عبیرہ کی آنکھوں میں ہلکی سی گھبراہٹ ابھری، مگر وہ خاموشی سے، ترتیب سے کھانا سیٹ کرتی رہی۔

“میں نے کہہ دیا ہے مجھے کھانا نہیں کھانا…
تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے!”
عبیرہ کو دوبارہ سامنے دیکھ کر روشانے کا غصہ بھڑک اٹھا تھا۔
“ایسا آپ کو لگتا ہے کہ میں زبردستی نہیں کر سکتا؟
غلط فہمی ہے آپ کی۔
بیٹا ہوں… ماں کو زبردستی کھانا کھلانے کا پورا حق ہے مجھے۔”
آریان نے پورے اختیار سے اسے کرسی پر بٹھایا، خود پاس بیٹھا، نوالہ بنایا اور نرمی کے باوجود ضد سے اس کے منہ کی طرف بڑھایا۔

“نہیں ہو تم میرے بیٹے…”
روشانے نے روتی ہوئی نگاہوں سے کہا۔
“بیٹے اچھے ہوتے ہیں… تم جیسے نہیں، جو اپنی ماں کی آنکھوں میں آنسو بھر دیں۔”

“تو کیا مائیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے بیٹے کی غلطی معاف نہیں کر سکتیں؟”
آریان نے سیدھی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“تم بہت گندے ہو آریان…
میں صبح سے تمہاری وجہ سے رو رہی ہوں۔”

“مگر میری روشانے بہت اچھی ہے۔
دیکھیں نا، میں نے فوراً منا لیا ہے۔”
وہ دانت نکال کر مسکرایا۔

عبیرہ نے خاموشی سے کھانا روشانے کے آگے رکھا تو روشانے نے ہاتھ اُٹھا کر اسے روک دیا۔
اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ اس لڑکی کو اسی لمحے گھر سے باہر نکال دیتی…
مگر وہ اب کوئی ایسی حرکت نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے وہ آریان کی نظروں میں مظلوم بن جائے۔
وہ سمجھ چکی تھی۔
یہ لڑکی آریان کے دل پر مکمل قبضہ کر چکی ہے۔
اور اسے زبردستی دور کرنے کا مطلب… آریان کو تڑپانا۔
اور وہ اپنے آریان کو تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی۔
اب اسے کوئی ایسا راستہ نکالنا تھا
جس میں آریان کو تکلیف ہو… یہ لڑکی بھی ہمیشہ کے لیے اس سے دور ہو جائے۔۔

روشان نے جس انداز سے حقارت کے ساتھ عبیرہ کو کھانے سے روکا تھا، آریان کو برا تو لگا…
مگر اس لمحے وہ کچھ ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔

“عبیرہ، میں روشانے کو خود کھانا سرو کر دوں گا… تم اِدھر آؤ، میرے پاس بیٹھو۔”
آریان نے اشارے سے عبیرہ کو اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھا لیا۔
وہ عبیرہ کی خاموش سی بے عزتی محسوس کر چکا تھا۔
آریان خود بھی بری طرح پھنس چکا تھا۔
اگر وہ عبیرہ کی طرف جھکتا تو روشانے ٹوٹتی…
اور اگر روشانے کی طرف کھڑا ہوتا تو عبیرہ بدگمان ہو جاتی۔
اس اکڑو شہزادے نے زندگی میں جتنے لوگوں کو چکر دیے تھے،
آج سب حساب ایک ساتھ واپس مل رہا تھا۔
وہ روشانے کو اپنے ہاتھ سے نوالے کھلا رہا تھا،
مگر اس کی توجہ بار بار عبیرہ کی طرف کھنچ جاتی،
جو صاف نظر آ رہا تھا کہ خود کو بے حد غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔
کہیں نہ کہیں اس کے دل میں یہ ڈر تھا
کہ اس کا آریان اس سے دور جا رہا ہے۔
آریان کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا،
مگر وہ آریان خان تھا…
جس کی سمجھ، جس کی نظر، سب کچھ دیکھ لیتی تھی۔
ٹیبل کے نیچے اس نے نرمی سے اپنا ہاتھ عبیرہ کے ہاتھ پر رکھا،
بس اتنا کہ وہ محسوس کر لے…
وہ اکیلی نہیں ہے۔
کچھ دیر وہ خاموشی سے صرف روشانے پر دھیان دیتا رہا،
مگر عبیرہ کو کھانا نہ کھاتے دیکھ اب بولنا ضروری ہو گیا تھا۔
“عبیرہ، کھانا کھاؤ۔”
اس نے پلیٹ کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا۔
عبیرہ چمچ سے پلیٹ میں چاول ہلاتی رہی،
کھانے کی کوشش کرتی ہوئی،
جبکہ آریان خود بھی کھا رہا تھا اور روشانے کو بھی کھلا رہا تھا۔
روشانے کی قہر آلود نگاہیں بار بار عبیرہ پر جا ٹھہرتیں،
اور ہر نظر عبیرہ کے دل میں ایک نیا خوف بھر دیتی۔
روشانے سب دیکھ رہی تھی۔
آریان بظاہر اسے کھانا کھلا رہا تھا،
اس کا رخ بھی اسی کی طرف تھا…
مگر اس کا دھیان، اس کی فکر، عبیرہ میں اٹکی ہوئی تھی۔
عبیرہ کا یہ خاص ہونا
روشانے کے دل پر چھریوں کی طرح چل رہا تھا۔
تھوڑا سا کھانے کے بعد وہ غصے سے اُٹھی
اور کمرے کی طرف چلی گئی۔
کیونکہ وہ صاف دیکھ رہی تھی…
آریان کی نظروں میں عبیرہ کی جگہ۔
اور یہ منظر
وہ مزید برداشت نہیں کر پا رہی روشانے کے کمرے میں جاتے ہی عبیرہ بھی ضبط توڑ بیٹھی۔
اس نے آہستہ سے کرسی پیچھے کی، ایک نظر آریان پر ڈالی اور بنا کچھ کہے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔

لمحہ بھر کے لیے آریان وہیں بیٹھا رہ گیا۔
چہرے پر ایسی افسردگی تھی جو نہ پوری طرح ظاہر ہو سکتی تھی، نہ چھپائی جا سکتی تھی۔
پھر اس نے گہری سانس لی، خود ہی خود کو سنبھالا،
اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بڑبڑایا۔
“چل بیٹا، اُٹھ…
جتنی شدت سے روشانے کو منایا ہے،
اتنی ہی شدت سےجا کر پیاری بیگم صاحبہ کو بھی منانا پڑے گا۔بیٹا تیرا تو گھن چکر بنے گا۔” وہ مسکراتا ہوا آہستہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔اور نفی میں سر کو ہلاتے ہوئے کمرے کی جانب چل دیا۔۔۔
═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *