Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:27

صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ S.A
قسط نمبر:27
═══════❖═══════
روشانے غصے سے تیز سانس لیتے بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی، پاؤں زمین پر تھی، جنہیں وہ بے اختیار ہلا رہی تھی۔ کندھے تناؤ میں اکڑے تھے، انگلیاں بار بار آپس میں الجھ جاتیں، اور نظریں سامنے جمی ہونے کے باوجود کہیں اور بھٹک رہی تھیں۔
دل میں غصہ تھا، دکھ تھا، اور ایک گہرا سا خوف…
ناراضگی کے نیچے یہ اندیشہ چھپا تھا کہ کہیں وہ نظرانداز نہ ہو جائے، کہیں وہ غیر اہم نہ رہ جائے۔

“نہیں… آریان، تم ایسا نہیں کر سکتے۔
کسی اور لڑکی کے لیے مجھے نظرانداز نہیں کر سکتے…
یہ خیال اس کے ذہن میں بار بار گونج رہا تھا۔
وہ اچانک کھڑی ہو گئی۔
کمرے میں دو قدم چلی، رکی، پھر پلٹ آئی۔ سانس بے ترتیب تھے۔ دل کے کسی کونے میں ایک پرانا نام تھا، ایک پرانا زخم… جو آج پھر جاگ اٹھا تھا۔
اگر اس زخم کی بیٹی نے آ کر اس سے اس کا بیٹا چھین لیا، تو پھر اس کے پاس بچانے کو کچھ نہیں بچے گا۔ یہ درد جڑیں پکڑ رہا تھا۔

“نہیں۔میں یہ ہونے نہیں دوں گی۔
اس بار جوش نہیں، ہوش سے کھیلا جائے گا۔
اس بار شے اور مات کے ہر خانے میں جیت میری ہوگی۔
یہ سوچ آتے ہی اس کے چہرے پر ایک خاموش سا سکون اتر آیا…
ایسا سکون، جو طوفان سے پہلے آتا ہے۔
═══════❖═══════
دروازہ کھولتے ہی آریان خان کمرے میں داخل ہوا۔
عبیرہ غصے سے منہ پھلائے صوفے پر بیٹھی تھی۔ جیسے ہی اس کی نظر آریان پر پڑی، وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ رخ دروازے کی طرف تھا اور قدموں میں تیزی تھی، ایک لمحہ بھی ٹھہرنا نہیں چاہتی تھی۔

آریان نے بازو پھیلا کر اسے روکنا چاہا، مگر وہ نہیں رکی۔ اس نے اس کا ہاتھ جھٹک کر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو آریان خان نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور پاؤں کی ہلکی سی ٹھوکر سے دروازہ بند کر دیا۔
وہ دونوں دروازے کے قریب ہی رک گئے۔
فضا میں غصہ، ضد اور ان کہی باتیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔
عبیرہ نے منہ پھلا کر رخ دوسری طرف کر لیا۔ آنکھوں میں آنسو تھے، مگر وہ انہیں گرنے نہیں دینا چاہتی تھی۔
“میری طرف دیکھو…”
آریان نے اس کی ٹھوڑی تھام کر چہرہ آہستہ سے اپنی طرف کیا۔

“اتنی بے رخی…”
اس کی آواز میں حیرت بھی تھی اور درد بھی، جیسے یہ فاصلہ اسے اندر سے چبھ رہا ہو۔

“دوسری جانب…خاموشی…

“جواب نہیں دو گی؟ جانتی ہو نا، مجھے جواب نہ دینے والے لوگ بالکل پسند نہیں۔”
ہاتھ کی پشت سے نرمی سے اس کے رخسار کو چھوا۔ نگاہوں میں محبت چھپی ہوئی تھی، مگر لہجے کی سختی عبیرہ سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔
خاموشی اسے تکلیف دے رہی تھی۔

” آریان خان کو سب کچھ برداشت ہے …
مگر تمہاری خاموشی نہیں۔

“جانتی ہوں… آپ کو جواب نہ دینے والے لوگ پسند نہیں۔
مجھے بھی اپنی بے عزتی سہنا اچھا نہیں لگتا… اور نہ ہی یوں خاموشی میں ذلیل ہونا۔”
اس کی نگاہیں آریان کے چہرے پر ٹکی تھیں۔
جیسے وہ پرکھ رہی ہو کہ وہ سب کچھ دیکھ بھی رہا ہے یا نہیں۔
وہ غصہ، وہ نظر انداز کیا جانا، وہ لمحہ جب سب کچھ اس کے دل پر آ کر ٹھہر گیا تھا۔
اور آریان…
وہ واقعی سب کچھ برداشت کر رہا تھا۔
روشانے کا دکھ، عبیرہ کا خوف، دونوں کے بیچ کھڑا وہ شخص
جس کی آنکھوں میں اس لمحے صرف ایک ہی سچ تھا۔
وہ سناٹا جس میں لفظ کم اور احساس زیادہ بولتے ہیں۔
جہاں دل کی دھڑکنیں گفتگو بن جاتی ہیں۔
آریان کی نگاہ سخت ہوئی،
لہجہ اچانک سنجیدہ ہو گیا۔

“کسی کی اتنی جرات نہیں…
کہ میری بیوی کی بے عزتی کرے۔”
یہ صرف جملہ نہیں تھا۔
یہ اعلان تھا۔
اور اس اعلان میں وہ یقین تھا
جس پر عبیرہ کا دل بے اختیار پل بھر کے لیے ٹھہر گیا۔
“سب کہنے کی باتیں ہیں…
عبیرہ نے دھیمی مگر کٹی ہوئی آواز میں کہا، نظر ایک لمحے کو بھی اس سے نہ ہٹی، جیسے وہ اس کے لفظوں کو پرکھ رہی ہو، ان پر یقین نہیں کر پا رہی ہو۔

“وقت آنے پر میں اپنی ایک ایک بات ثابت کر دوں گا۔
کہنے والوں میں سے نہیں ہوں…
نبھانے والوں میں سے ہوں۔آریان کی آواز میں اب نرمی تھی مگر فیصلہ کن بھی،
عبیرہ خاموش تھی،
اس خاموشی میں سوال بھی تھا،
اور یقین کی سی دستک بھی…

“کیوں اتنی ناراض ہو؟”
“جب کہہ دیا ہے کہ بے فکر ہو کر جاؤ…
میں تمہارا ہوں،
تو پھر کیوں بار بار خود کو اسی مقام پر لا کر کھڑا کر دیتی ہو؟”
وہ خاموش رہی، نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

“آپ کو لگتا ہے… آپ کی پھوپھو جان آپ کو میرا رہنے دیں گی؟”
آواز چاہ کر بھی مضبوط نہ رہ سکی، لرزش خود ہی در آ گئی۔
“جس طرح سے وہ رو رو کر زور دے کر آپ کو مجھ سے الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں…
مجھے ڈر لگتا ہے آریان۔
ڈر اس بات کا کہ ایک دن آپ بھی بدگمان ہو کر
ان کی کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔”
یہاں عبیرہ شکایت نہیں کر رہی تھی،
وہ اپنے سب سے بڑے خوف کو لفظ دے رہی تھی…
اور یہی خوف اس لمحے کو مکمل بنا رہا تھا ۔۔

“بدگمانی بہت بری چیز ہے…
آریان کی آواز دھیمی تھی، مگر اس دھیمے پن میں وزن تھا۔
یہ رشتوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
وہ ذرا رکا، جیسے لفظوں کو سنبھال رہا ہو، پھر بولا،
میں نہیں چاہتا کہ ہمارا رشتہ کھوکھلا ہو۔
مجھ پر یقین رکھو…
میں تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دوں گا۔
نظریں اس پر ٹکی تھیں، لہجہ نرم مگر پُر یقین۔

“جس طرح میں تمہیں اپنی محبت کا یقین دلا رہا ہوں نا…
آواز میں ہلکی سی سختی اتر آئی،
تمہاری جگہ کوئی اور ہوتی تو شاید کب کا یقین کر چکی ہوتی۔
خاموشی لوٹ آئی۔
ایسی خاموشی جس میں اعتماد اور شک آمنے سامنے کھڑے تھے۔

“اب میری جگہ کوئی نہیں ہو سکتی…
کوئی نہیں…
مطلب، کوئی بھی نہیں، سمجھے آپ؟
عبیرہ نے آہستہ کہا، اس کے سینے سے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں پکڑے ہوئے،
لفظ جیسے چبا کر نکالے جا رہے ہوں،
ہر حرف میں ضد بھی تھی اور ڈر بھی۔

“یہی تو میں کہہ رہا ہوں…
تمہاری جگہ کوئی نہیں ہو سکتی۔
کوئی نہیں… سمجھی؟
آریان نے اس کے ہاتھ نرمی سے اپنی گرفت میں لے لیے،
چہرے پر نظریں جمائے،
بغیر کسی دعوے کے ایک خاموش سا احساسِ تحفظ دے دیا۔

“جس وجہ سے تم نے رات بھر رو کر اپنی آنکھوں کا حشر کیا،
وہ صبح ہوتے ہی یہاں سے جا چکی ہے…
اشارہ پریشے کی طرف تھا۔
یہ سنتے ہی عبیرہ کے دل میں جیسے کوئی بوجھ ہلکا ہو گیا،
سانس ذرا سیدھی ہوئی،
جیسے طوفان کا رخ بدل گیا ہو۔

“اچھا ہوا چلی گئی…ورنہ یہاں رہ کر آپ پر نظریں جمائے رکھتی،
جو میں بالکل برداشت نہیں کر سکتی۔

آریان اسے دیکھ رہا تھا،
ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر،
دل کو سکون اس بات سے نہیں
بلکہ اس جلن سے مل رہا تھا
جو اس کی محبت کا ثبوت تھی۔

“میری جان….. مجھے تھوڑا سا موقع دو…
آریان نے آہستہ کہا، گہری سانس کے ساتھ،
نگاہیں لمحہ بھر کو جھک گئیں۔

“کس چیز کے لیے؟
آواز میں سوال بھی تھا اور اندیشہ بھی۔

“روشانے کو سمجھانے کے لیے۔
وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے۔
اس نے مجھے اپنے بچوں کی طرح پالا ہے…
اور اب تمہیں یوں حق جماتے ہوئے دیکھ کر
وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی۔

“تو اگر وہ مجھے قبول نہ کرے…
تو پھر…
روشانے کے لیے مجھے چھوڑ دیں گے؟
عبیرہ نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا،
یہ سوال نہیں تھا،
یہ خوف تھا۔

“کوئی اپنی زندگی کیسے چھوڑ سکتا ہے؟
کیوں بار بار یہ لفظ بول کر مجھے تکلیف دیتی ہو؟
پلیز… آج کے بعد کبھی یہ بات مت دہرانا۔
میں تمہیں آخری سانس تک خود سے الگ نہیں کر سکتا،
یہ بات اٹل ہے۔
لہجہ سخت تھا،
مگر آنکھوں میں صرف فکر تھی۔

“آپ غصے سے بول کر مجھے ڈرا رہے ہیں…
وہ آہستہ بولی،
ڈر لفظوں میں کم، لہجے میں زیادہ تھا۔

“میری جان…
تم خود مجھے اس مقام پر لا رہی ہو۔
جب کہہ رہا ہوں تھوڑا سا وقت دو
تو مجھ پر یقین بھی رکھو۔

“کیا چاہتے ہیں مجھ سے؟
اب کی بار آواز بالکل صاف تھی۔

“بس یہ…
کہ تم پرسکون رہو۔
تمہاری آنکھوں میں آنسو نہ ہوں۔
باقی سب میں خود سنبھال لوں گا۔
روشانے کو بھی…
بس اس میں وقت لگے گا۔

“مطلب؟

“مطلب یہ کہ اگر وہ کبھی
تمہیں نظر انداز کرے،
یا کسی بات پر سختی دکھائے،
تو تم خاموشی سے گزر جانا۔

“اور پریشے؟
یہ سوال فوراً آیا،
جیسے دل میں پہلے سے یہی نام تھا۔

“پریشے کا میری زندگی میں ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔

“تو پھر ختم کر دیجیے وہ رشتہ۔

“عبیرہ…اس بات پر بعد میں بات کریں گے۔
ابھی نہیں۔
پلیز۔
پریشے کا معاملہ خود آریان کے لیے بھی الجھا ہوا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ ابھی اس سمت جانا
صرف مزید شک کو جنم دے گا۔

“ابھی تم آرام کرو۔
میں ذرا روشانے کو دیکھ آؤں۔
اور…
اپنی آنکھوں کو رونے مت دینا۔
ورنہ؟

“ورنہ…کیا….

“رات کی خاموشی کو یاد کر لینا…
منانے کے لیے
پھر سے اسی کا سہارا لینا پڑے گا۔
وہ ہلکی سی سرگوشی کے ساتھ مسکرایا،
ماتھے پر لب رکھے،
اور پیچھے ہٹ گیا۔
عبیرہ شرم سے لال ہوتی ہوئی
ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئی۔
مگر دل…
ابھی مطمئن نہیں تھا۔
آریان کے لفظ مضبوط تھے،
مگر یقین کو ٹھہرنے کے لیے
ابھی کچھ اور درکار تھا۔
کوئی ایک جملہ،
کوئی ایک عمل…
جو کہا نہیں جائے،
بس محسوس کروایا جائے ۔
اس کے جانے کے بعد بھی عبیرہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی۔
دروازہ بند تھا، کمرہ خاموش… مگر اس کے اندر شور تھا۔
یقین کی باتیں دل کو چھوتی ضرور تھیں، ٹھہرتی نہیں تھیں۔
وہ جانتی تھی آریان کے لفظ سچے ہیں،
مگر بعض خوف لفظوں سے نہیں مرتے۔
وہ آہستہ سے پلٹی، بستر کے کنارے بیٹھ گئی۔
انگلیاں آپس میں الجھیں، نظریں خالی جگہ پر ٹک گئیں۔
دل ماننا چاہتا تھا، مگر کہیں اندر ایک اندیشہ سانس لے رہا تھا…
اور اسی ادھوری کیفیت کے ساتھ
منظر وہیں تھم گیا۔

             ═══════❖═══════

یارم کو گھر آتے ہوئے بہت دیر ہو گئی تھی۔ دوپہر کو اس نے اپنے خاص آدمی کے ہاتھ گھر کھانا بھجوا دیا تھا اور فون پر ایزل سے بھی بات کر لی تھی، مگر آتے ہوئے اسے اتنی دیر ہو جائے گی، اس کا اندازہ نہیں تھا، اس لیے رات کا کھانا نہیں بھجوا سکا۔

اپنے ساتھیوں کو صحیح سلامت دیکھ کر یارم خان بہت خوش تھا۔ کارروائی شروع ہو چکی تھی اور جن لوگوں نے یہ حملہ کروایا تھا، ان کا حساب وقت کے ساتھ چکایا جانا تھا۔نئی جگہ تھی، نیا چارج، نئی چیزیں سنبھالتے ہوئے، ضرورت سے کچھ زیادہ ہی وقت لگ گیا۔ تھانے سے نکلتے ہوئے اسے خیال آیا کہ ایزل بھی گھر میں بھوکی ہوگی۔ آتے ہوئے یارم نے باہر سے کھانا پیک کروایا لیا تھا۔

اسے ایزل کے کھانے پینے، پسند و ناپسند کا زیادہ علم نہیں تھا، مگر لڑکی تھی، پیزا اور بریانی تو اس کی پسندیدہ چیزیں ہوں گی۔ یہی سوچ کر اس نے کھانا پیک کروا لیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے تقریباً ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہو گیا۔
دروازہ کھٹکھٹانا مناسب نہیں لگا، اس نے سوچا کہ ایزل سو چکی ہوگی۔ اپنے ساتھ گھر کی چابی لے کر وہ دروازہ کھولا، اندر داخل ہوا، لاک لگا کر کھانا ڈائننگ ٹیبل پر رکھا، اور روم کی جانب بڑھ گیا۔
جیسے ہی دروازہ کھولا، کوئی سخت چیز اس کے سر پر لگی۔ یارم بالکل نہیں سمجھ پایا کہ یہ کیا ہوا ہے۔ فوراً ڈنڈے کو پکڑ لیا، پولیس والا اتنی پھرتی کے ساتھ؟ یہ لمحہ تھوڑا سا حیران کن تھا۔

ایزل نے ایک اور وار کرنے سے پہلے ہی اسے دیکھ لیا تھا۔ ڈنڈے کو سائیڈ پر پھینکتے ہوئے وہ شرمندہ انداز میں لبوں پر ہاتھ رکھے، آگے بڑھتی ہوئی یارم کے سر کو سہلانے لگی۔

“سس… سوری… سوری، مجھ سے لگا، اچانک سے، گھر میں کوئی چور گھس آیا، مجھے نہیں پتہ تھا آپ ہیں۔”
شرمندگی اس کی آواز میں واضح تھی۔ اس نے گھبرا کر نظریں اٹھائیں، پھر فوراً جھکا لیں، جیسے اپنی حرکت پر خود ہی نادم ہو گئی ہو۔ ہاتھ بے اختیار یارم کے سر تک گیا، نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے، جیسے اپنی غلطی کو چھو کر معافی مانگ رہی ہو۔
یارم لمحہ بھر کو ساکت رہا۔
دل میں ایک خیال ابھرا، بے ساختہ سا
پولیس والے کی بیوی ہو تو ایسی ہی ہونی چاہیے…
وہ سر کو ہلکا سا ملتے ہوئے مسکرایا، تکلیف کم اور حیرت زیادہ تھی۔
“پاگل لڑکی، ایسے شوہر کا استقبال کرو گی؟”
وہ کہتے ہوئے نیم مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ لہجے میں ڈانٹ نہیں تھی، بلکہ وہ مانوس سا حق تھا جو صرف اپنوں پر جتایا جاتا ہے۔
دل کے کسی کونے میں خوشی بھی تھی
کہ یہ لڑکی خوف سے نہیں، حفاظت کے جذبے سے وار کر بیٹھی تھی۔

“نہیں نہیں، سوری، مجھے نہیں پتہ تھا آپ ہیں…”
وہ نظریں چراتے ہوئے بولی، آواز میں گھبراہٹ تھی۔ ہاتھ ابھی تک اس کے سر کے پاس رکے ہوئے تھے، جیسے ہٹانے کی ہمت ہی نہ ہو۔ کندھے جھکے ہوئے تھے اور پیشانی پر ندامت صاف لکھی تھی۔
“اوکے، اوکے، پریشان مت ہو، میں ٹھیک ہوں۔”
یارم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ سر ذرا سا ایک طرف جھکا کر اسے یقین دلانے کی کوشش کی، جیسے معاملہ واقعی معمولی ہو۔
ایزل کے چہرے پر پھیلی پریشانی دیکھ کر اس کا لہجہ نرم پڑ گیا، اور وہ بے اختیار ایک قدم اس کے قریب آ گیا، تاکہ اس کی گھبراہٹ کم ہو سکے۔

“پکا، اب ٹھیک ہے؟ آپ چاہیں تو مجھے سزا دے سکتے ہیں…”
وہ ذرا جھک کر اس کے چہرے کے قریب آئی، آنکھوں میں شرارت کے ساتھ خلوص بھی تھا۔ ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ تھی، جیسے جان بوجھ کر ماحول ہلکا کرنا چاہ رہی ہو۔
“اچھا پھر تیار رہنا، اسی ڈنڈے سے تمہارے سر پر وار کروں گا…”
یارم نے مصنوعی سختی کے ساتھ کہا، مگر آنکھوں میں چمک تھی۔ بات ختم کرتے ہوئے اس نے سر کو ایک بار پھر چھوا، جیسے خود ہی اپنی بات پر ہنس رہا ہو۔
وہ کپڑے الماری سے نکالتا ہوا بے فکری سے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
یارم کے دل میں ایزل کی بہادری اور اس معصوم سی شرارت پر ایک عجیب سا فخر ابھرا۔
یہ لڑکی خوف میں نہیں، ذمہ داری میں وار کر بیٹھی تھی… اور یہی بات اسے اندر ہی اندر خوش کر گئی۔
ایزل وہیں کھڑی ڈنڈے کو گھور رہی تھی۔
ہونٹ بھینچے ہوئے تھے، ماتھا ذرا سا سکڑا ہوا، جیسے ساری غلطی اسی بے زبان ڈنڈے کی ہو جو خود چل کر یارم کے سر سے جا لگا ہو۔

“اتنی بہادری دکھانے پر ویسے آپ کو میری تعریف کرنی چاہیے تھی…ایزل نے پل بھر کو آنکھیں گھما کر چھت کی طرف دیکھا، ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی، مگر فوراً خود کو سنبھال لیا۔

“ایک کام کرو، میرے آنے سے پہلے تحریر لکھ دو، تمہاری تعریف مجھے بولنی ہے۔
میں باہر آ کر بول دوں گا، تاکہ تمہارے تڑپتے ارمانوں کو سکون مل جائے…”
یارم کی آواز واش روم سے آئی، ہنسی دبانے کی ناکام کوشش کے ساتھ۔

“واش روم میں چپ کر کے نہایا کریں، واش روم میں بولنا گناہ ہوتا ہے…”
وہ ہلکی آواز میں بڑبڑائی، ہنسی کو بمشکل روکے ہوئے۔
“ٹھیک ہے قاری صاحبہ…
ٹیبل پر کھانا رکھا ہے، نکالو، میں آ رہا ہوں، بہت بھوک لگی ہے…”
یارم نے لاپروائی سے جواب دیا، جیسے یہ روز کا معمول ہو۔
“اوکے، بھوک تو مجھے بھی لگی ہے، کیا لے کر آئے ہیں؟”
ایزل کے چہرے پر فوراً چمک آ گئی۔ وہ تیزی سے کچن کی طرف بڑھی، قدموں میں بے ساختہ خوشی تھی۔
“شاور لے لوں یا ایسے ہی باہر آ کر تمہارے ساتھ چل کر دکھاؤں؟”
یارم کی آواز میں جان بوجھ کر چھیڑ تھی۔
“لے لیجیے، اتنی ہمت آپ میں نہیں ہے…”
وہ پلٹ کر بولی، دانت نکالتے ہوئے، آنکھوں میں شوخی ناچ رہی تھی۔
“جس دن ہمت دکھائی، خود سے نظریں نہیں ملا پاؤ گی…
سوچ کر بولا کرو…”
یارم نے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ کر کہا، مگر لہجہ سب کچھ کہہ رہا تھا۔
“اللہ کرے کبھی وہ دن آئے…”
یہ بار اس نے دل میں کہا۔
ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، اور وہ آہستہ قدموں سے روم سے باہر نکل گئی، دل میں بے نام سی خوشی لیے۔

ایزل تیزی سے سوچتے ہوئے ٹیبل کی جانب آئی۔
نگاہ پڑتے ہی قدم خود بخود ٹھٹک گئے۔
سامنے بریانی، منی پیزا، ڈرنک اور کچھ فروٹس سلیقے سے رکھے ہوئے تھے۔
“واہ رے میرے کھڑوس ڈی ایس پی، آپ کو پتہ ہے کہ مجھے کیا پسند ہے…”
وہ بے اختیار مسکرائی، بچوں کی طرح آنکھیں بند کر کے خوشی سے ہلکے ہلکے چٹخارے لینے لگی، جیسے ذائقہ ابھی سے محسوس ہو رہا ہو۔
ایزل نے آستین ذرا سی اوپر چڑھائی، اور پوری توجہ سے برتن نکالنے لگی۔
ہر چیز ترتیب سے رکھتی گئی، چمچ سیدھا کیا، پلیٹوں کا فاصلہ درست کیا، جیسے یارم کے آنے سے پہلے سب کچھ مکمل ہونا ضروری ہو۔
یارم آ کر رک گیا۔
ایک سرسری نظر میز پر ڈالی۔
ترتیب، صفائی اور اہتمام… سب کچھ اس کی نظر میں آ گیا۔
دل میں تعریف آئی، مگر ہونٹوں تک آنے سے پہلے ہی رک گئی۔
ایزل اس وقت اپنا فیورٹ کھانا بھی بھول چکی تھی۔
یارم بلیک ٹراؤزر اور بلیک شرٹ میں سامنے آ چکا تھا۔
پٹھانی، گورا رنگ، اور بلیک کلر کا امتزاج آنکھوں کو ٹھہرنے پر مجبور کر رہا تھا۔
کسرت سے ابھرے ڈولے ہاف ٹی شرٹ کے نیچے نمایاں تھے، اور ایزل نے محسوس کیا کہ اس کی سانس کی رفتار ذرا سی بگڑ گئی ہے۔
یارم نے کرسی پیچھے کھینچی اور بیٹھ گیا۔
ایزل وہیں کھڑی رہ گئی۔
ایک ہاتھ کرسی کی پشت پر رکھا، انگلیاں بے دھیانی میں لکڑی پر پھسلتی رہیں۔
پلکیں جھپکنا بھول چکی تھی، نظریں اس پر جمی تھیں…
جیسے لمحہ بھر کو وقت وہیں رک گیا ہو۔

“محترمہ، ہوش کی دنیا میں واپس آجاؤ، کھانا دو، بھوک لگی ہے…”
اس نے سر ذرا سا اٹھایا، نگاہ سیدھی ایزل پر ڈالی، لہجے میں جان بوجھ کر سادگی رکھی گئی تھی۔
ایزل چونکی۔
پلکیں ایک دم جھپکیں، جیسے خود کو کسی اور ہی خیال سے واپس کھینچا ہو۔
ہونٹوں پر پھیلی مسکراہٹ فوراً سمٹ گئی۔

“بھوک لگی ہے؟ کبھی بھوک کے علاوہ اور بھی کچھ محسوس ہوتا ہے؟”
وہ پلیٹ کی طرف جھکتی ہوئی بولی، مگر نگاہ اب بھی اس پر اٹکی ہوئی تھی، آواز میں ہلکی سی چڑ۔
یارم نے چمچ اٹھایا، سکون سے بریانی کو ہلایا، جیسے بات معمولی ہو۔

“میرے خیال سے تو نارمل انسانوں کو بھوک ہی لگتی ہے…”اس نے کندھے اچکائے، لہجے میں لاپروائی تھی،

ایزل نے چمچ میز پر رکھ دیا۔
جسم سیدھا کیا، بھنویں ذرا سی اوپر اٹھیں۔
آنکھوں میں اب شرارت تھی، وہ والی شرارت جو جان بوجھ کر چھیڑنے کے لیے کی جاتی ہے۔
“نہیں… نارمل انسانوں کو اور بھی بہت کچھ محسوس ہوتا ہے،
جو شاید آپ میں ڈاؤن لوڈ ہی نہیں ہوا…”
وہ جھک کر اس کے قریب بولی، آواز دھیمی مگر طنز صاف تھا۔
یارم نے چمچ روک دیا۔
نگاہ آہستہ آہستہ پلیٹ سے اٹھا کر اس پر جمائی۔
چہرے پر سنجیدگی، آنکھوں میں سوال۔
“مطلب؟”

“کچھ بھی نہیں…”
ایزل نے بات ٹالنے کے انداز میں کہا، اور فوراً نظریں جھکا لیں۔آواز میں وہ ہچکچاہٹ تھی، جو دل کی بات چھپاتے وقت آ جاتی ہے۔
حقیقت یہ تھی کہ اسے صرف یارم کے پاس بیٹھنا تھا۔
خاموشی سے،
قریب، مگر حدود میں۔
وہ اس وقت غیر معمولی طور پر سنجیدہ اور پُرکشش لگ رہا تھا،
اور ایزل کے دل میں ایک بےنام سا احساس جاگ اٹھا تھا،
جسے وہ خود بھی پورا سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
بھوک اپنی جگہ موجود تھی،
مگر دل کسی اور طرف الجھا ہوا تھا،
اس لیے نہ پیزا میں دل لگا،
نہ ہی بریانی میں۔
اس نے جان بوجھ کر چہرے پر سنجیدگی طاری کی۔
کھانا نکالتے ہوئے ہاتھ ذرا ٹھہر ٹھہر کر چل رہے تھے۔
پلیٹ یارم کے سامنے رکھتے وقت،
نگاہیں اٹھیں نہیں۔
پھر وہ خود آ کر بیٹھ گئی۔
لب ہلکے سے بھینچے ہوئے،
کندھے ساکت،
اور دل میں ایک ایسی کیفیت،
جسے لفظوں میں کہنا ممکن نہیں تھا۔

“تم نے کھانا نہیں کھانا؟”
یارم نے بریانی کا نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا، آنکھیں ایزل پر جمائی ہوئی تھیں، اور چمچ ہلکا سا پلیٹ پر ٹکرا رہا تھا۔

“میڈم میں نے پوچھا کھانا نہیں کھانا تمہیں یارم نے پھر سے پوچھا….

“نہیں کھانا ہے…ایزل منہ بصورت بولی۔

“کیوں… روزہ رکھا ہوا ہے؟”یارم نے چھیڑنے والے انداز میں جواب دیا۔

ایزل نے گھور کر دیکھا…
“نہیں، کھانے کی بچت کر رہی ہوں… کہیں آپ میرے کھانے سے کنگال نہ ہو جائیں…”
ایزل نے چڑتے ہوئے کہا، نظریں تھوڑی نیچی، کندھے معمولی سا آگے کو جھکے ہوئے تھے ۔
لہجے میں ناراضگی بھی تھی، مگر ساتھ ساتھ دل میں چھپی ہلکی سی تڑپ اور بےچینی بھی نمایاں تھی۔
وہ چاہ رہی تھی کہ اس کی بات سن لی جائے، مگر چہرے پر وہ نرم تاثرات بھی نظر آ رہے تھے جو دل کی اندرونی کیفیت کو ظاہر کر رہے تھے۔

ایزل کو اس کی خاموشی پر غصہ آرہا تھا ۔
وہ اپنے ہاتھوں کو ہلکا سا چہرے کے قریب لائی، تھوڑا سا رخ موڑ کر چور نگناہوں سے یارم کی طرف دیکھ رہی تھی،جبکہ یارم بنا کوئی جواب دیے نظریں جھکائے کھانا کھائے جارہا تھا ….یارم کی ناسمجھی اسے کچھ زیادہ ہی چڑھا رہی تھی۔

“جتنا معصوم دکھائی دیتا ہے، اتنا معصوم ہے نہیں… میسنا گھنا کہیں کا…”
ایزل یہ سوچ رہی تھی، نظریں تھوڑی نیچی، ہلکی سی جھنجھلاہٹ کے ساتھ، چہرے کے زاویے بدلتے ہوئے۔
“مجھے گالیاں دے رہی ہو؟
وہ نوالہ منہ میں ڈال کر، نظریں پلیٹ پر جمائے، بولا۔

“استغفر اللہ… میں آپ کو گالیاں کیوں نکالوں گی؟” ہڑبڑا کر گھبراہٹ کے ساتھ کہا، جیسے کوئی چوری پکڑ لی گئی ہو۔ اس نے دل میں سوچا۔ “کیا یہ غیب کا علم جانتا ہے؟”

“اتنی دیر سے منہ کو تالا لگا کر بیٹھی ہوئی، دماغ میں کچھ نہ کچھ تو ضرور سوچ رہی ہوگی…
کیونکہ چپ رہنا تمہاری فطرت میں نہیں ہے۔”یارم نے آہستہ مگر پُر اثر لہجے میں کہا۔
دل میں اٹھنے والے سوال کا جواب ملتے ہی، ایزل کی آنکھیں جیسے باہر آنے کو تھیں۔
جلدی سے وہ پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگا گئی۔ یارم پر سکون سا بیٹھا اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
ایزل نے دھیرے سے کہا،
” بس میرا دل نہیں چاہ رہا بولنے کو…”

یارم نے نظریں اٹھائے بغیر پوچھا،
“کیوں؟ نہ بولنے کی کوئی خاص وجہ؟”

ایزل نے کچھ لمحے سوچا، پھر نظریں یارم پر جما کر آہستہ سے بولی،
“آپ سے ایک بات پوچھوں… سچ سچ بتائیں گے؟”
اس کی آنکھوں میں ہلکی سی ہچکچاہٹ تھی۔
یارم نے پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے بے پروا انداز میں کہا،

“ہمم… پوچھو… میں ہمیشہ سچ ہی بولتا ہوں۔”
ایزل نے یکدم بات کر دی،
“کیا آپ کا کسی کے ساتھ چکر چل رہا ہے؟”
سوال غیر متوقع تھا۔

یارم کے گلے میں پانی اٹک گیا، وہ کھانسنے لگا۔
“کہاں…؟”
اس نے سانس سنبھالتے ہوئے کہا،
“کہاں سے لاتی ہو ایسے عجیب و غریب سوالات؟”
ایزل ذرا آگے کو جھکی، بچوں جیسی ضد لہجے میں بولی،
“پلیز بتائیں نا… آپ کا کہیں چکر چل رہا ہے؟”
یارم نے گلاس میز پر رکھا،
“نہیں، میرا کہیں کوئی چکر نہیں چل رہا۔”
اس کے چہرے پر ہنسی کی ہلکی سی لکیر ابھری،
غصہ کم تھا، حیرت زیادہ،
مگر وہ یارم تھا،
ہنسی کو ظاہر کرنا اس کی عادت نہیں تھی۔
ایزل نے آہستہ سے پوچھا،

“تو پھر کیوں میں آپ کو اچھی نہیں لگتی؟”
اس کے چہرے پر صاف اداسی اتر آئی تھی۔
یارم نے فوراً اس کی طرف دیکھا،

“میں نے کب کہا کہ تم مجھے اچھی نہیں لگتی؟”
ایزل کے چہرے پر یکدم روشنی سی پھیل گئی،
“مطلب… میں آپ کو اچھی لگتی ہوں؟”
وہ خوشی سے بے اختیار بول اٹھی۔
ایک ہی لمحے میں
اس کے چہرے پر خوشی کے کئی رنگ بکھر گئے۔
اگر آپ چاہیں تو اگلا مکالمہ بھیج دیں، میں اسی لیول پر صرف پالش اور احساس کے ساتھ سیٹ کر دوں گا۔

یارم نے نظر بھر کر اسے دیکھا۔
پتہ نہیں کیوں، مگر یارم کو یہ لڑکی ہنستی، چہکتی ہی اچھی لگتی تھی۔
اس کا چہرہ اُداسی کے لیے بنا ہی نہیں تھا…
یارم تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا،
مگر اس کی چہچہاہٹ،
اس کی بے وقوفیاں،
اس کا بچپنا،
آہستہ آہستہ یارم کی زندگی میں اہمیت اختیار کر چکے تھے۔
اس کی خاموشی یارم کو اچھی نہیں لگتی تھی۔
یارم ابھی اس احساس کو کوئی نام نہیں دے رہا تھا۔
وہ ماننے کو تیار نہیں تھا،
مگر حقیقت یہی تھی کہ ایزل کی سچی محبت
کہیں اس کے پرانے زخموں پر مرہم رکھ رہی تھی
اور کہیں اسے خود پر دوبارہ یقین دلانے لگی تھی۔
یارم ایزل کی اداؤں سے تو نہیں بچ پا رہا تھا،
اب اس کی محبت سے کب تک بچ پاتا ہے،
یہ وقت ہی بتاتا۔
ایزل نے یارم کی نظروں کو غیر حاضر پا کر پھر پوچھا،
“پلیز بتائیں نا… میں آپ کو اچھی لگتی ہوں؟”
آنکھوں میں تجسس صاف جھلک رہا تھا۔
یارم نے ہلکے سے کندھے اچکائے،
“میں نے ایسا بھی نہیں کہا کہ تم مجھے اچھی لگتی ہو…”
ایزل کی ہنسی ایک دم سے غائب ہو گئی۔
“آپ مجھے ہنستا ہوا نہیں دیکھ سکتے؟”
اس نے شکوے سے کہا۔
“کیا ملتا ہے آپ کو مجھے یوں تنگ کر کے؟
یا تو کہہ دیں کہ میں آپ کو اچھی لگتی ہوں
یا کہہ دیں کہ میں آپ کو بری لگتی ہوں۔
بیچ میں لٹکا دیتے ہیں…
میں سوچ سوچ کر تھک جاتی ہوں کہ آپ کی بات کا مطلب کیا تھا۔”

یارم نے بے نیازی سے جواب دیا،
“جب پہلے سے ہی دماغ بہت کم ہے
تو اتنا سوچنے کی ضرورت کیا ہے؟
سکون سے کھا پی کر آرام کیا کرو۔”

ایزل نے اس بار سنجیدگی سے کہا،
“آپ مجھے سیریس کیوں نہیں لیتے؟
زندگی میں کھانے پینے کے علاوہ بھی
کچھ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔”
اس کے لہجے میں اس بار مذاق نہیں تھا۔
یارم نے نظریں اٹھا کر اس کے اُداس چہرے کی طرف دیکھا…
اور خاموش رہ گیا۔

اس نے
ذرا سخت لہجے میں کہا،
ہاتھ قدرے جھکائے ہوئے،
کندھوں میں تناؤ تھا،
اور آواز میں ہلکی لرزش تھی۔

“پتہ ہے،
ایک لڑکی کو
اپنے شوہر کی محبت چاہیے ہوتی ہے،
اس کا وقت چاہیے ہوتا ہے…”
وہ بولتی جا رہی تھی،
ہونٹ تھوڑے سے کپکپائے ہوئے،
اور نگاہیں زمین پر جمیں تھیں،
جیسے کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی ہو۔

“ایک لڑکی
شادی سے پہلے بھی
کھانا کھاتی ہے،
کپڑے پہنتی ہے،
اس کے پاس
بہن بھائی بھی ہوتے ہیں،
ماں باپ بھی،
ایک گھر بھی ہوتا ہے…”
اس نے ایک لمبی سانس لی،
ہاتھ آہستہ سے کرسی کے کنارے پر رکھے،
اور بات آگے بڑھائی۔

“شادی کے بعد
اگر کچھ بدلتا ہے
تو وہ ہوتا ہے
شوہر…”
“شوہر کی محبت،
اس کا قیمتی وقت…”
آواز اب آہستہ ہو گئی تھی،
آنکھیں تھوڑی سی نم تھیں،
اور وہ خود سے جھک کر کھانے کے برتن کے پاس ہاتھ رکھ رہی تھی۔
“اور مجھے
نہیں لگتا
کہ میری زندگی میں
کچھ بدلا ہے…”
اس نے نگاہیں آہستہ سے اوپر اٹھائیں،
اور ایک جھنجھلاہٹ سا دل میں محسوس کی۔

“مجھے یہ بھی
سمجھ نہیں آتی
کہ مجھ میں کمی کیا ہے،
مگر کمی تو ہے نا…
جو آپ
مجھے یوں
نظر انداز کرتے ہیں۔”
وہ ایک دم
سنجیدہ ہو گئی،
کندھوں کو تھوڑا سا اوپر اٹھا کر کرسی کو پیچھے دھکیل دیا،
اور بغیر کھانا چھوئے،
نم آنکھوں کے ساتھ
وہ وہاں سے اٹھی،
اور کمرے کی طرف
تیزی سے بھاگ رہی تھی ۔

یارم نے نرم مگر پر درد آواز میں پکارا۔
“ایزل۔۔۔۔میری بات سنو۔۔
اس کی نگاہیں ایزل کے پیچھے جمی رہیں،
چہرے پر درد اور مایوسی صاف نظر آ رہی تھی۔
ایزل نے پیچھے مڑنے کی زحمت نہیں کی،
بس تیزی سے روم کی طرف دوڑ گئی،
پاؤں بے ترتیب، نظریں نیچی، دل دھڑک رہا۔
یارم خاموش رہا،
لیکن اندر ایک تڑپ اور بے بسی چھپی تھی۔

“کمی تم میں نہیں ہے، تم بہت اچھی ہو،یارم آنکھیں بند کیے، ٹھنڈی سانس چھوڑتے ہوئے سوچا ۔
تمہاری اپنے لیے سچی محبت دیکھ کر مجھے خود پر شرمندگی ہوتی ہے۔۔۔
مگر…کیا کرو میں بھی بے بس ہوں،
تم سے پہلے یہ خوبصورت جذبہ میں کسی اور کے نام کر چکا ہوں۔۔۔وہ دونوں ہاتھوں سے ماتھے کو رگڑتے ہوئے سوچ رہا تھا،
آہستہ آہستہ سانسیں لیتے ہوئے،
دل میں ایک بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا۔

“بابا، یہ آپ نے کیا کر دیا؟؟
کیوں ایک ایسی لڑکی کو لا کر میری زندگی میں شامل کر دیا، جس کا کوئی قصور نہیں، مگر پھر بھی وہ سزا بھگت رہی ہے۔۔۔

وہ خود کو ملامت کرتا رہا۔
پھر اچانک غصے میں
ٹیبل پر مکہ مارا۔
آواز نہیں ابھری،
دل کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔

اس نے ایک نظر ٹیبل پر سجے کھانے کو دیکھا۔۔۔کچھ کھائے بغیر، ایزل روتی ہوئی، ٹیبل سے اُٹھی اور چلی گئی تھی۔
یہ منظر یارم کے دل کو اور تکلیف دے رہا تھا۔
آخر اس کا اجنبی شہر میں کوئی نہیں تھا،
یارم کے سوا۔
وہ گہری سانس لیتے ہوئے، ایک ڈش میں کھانا رکھتے ہوئے، ایزل کے لیے روم کی طرف بڑھا۔
جیسے ہی اس نے روم میں قدم رکھا،
ایزل کو اوندھے منہ بیڈ پر لیٹے ہوئے دیکھا۔
وہ رو رہی تھی،
اس کا جسم ہچکیاں لیتے ہوئے آہستہ آہستہ ہل رہا تھا۔

“ایزل…پلیز اُٹھ کر کھانا کھاؤ…
وہ ٹیبل پر کھانا رکھتے ہوئے ایزل کے قریب آ کھڑا ہوا۔
ایزل نے کوئی جواب نہیں دیا،

“ایزل تم میری بات سن رہی ہو؟؟نرمی سے پوچھا ۔

“نہیں!!روتے ہوئے، رکا رکا سا، ایک روکھا سا جواب آیا۔

“پلیز، اُٹھ کر کھانا کھاؤ،”
وہ نرمی سے بولا،
“کھانے سے ناراضگی رکھنا گناہ ہے۔”

بیڈ سے ہلکا سا سر اٹھایا، آنکھیں رو نے سے بھاری اور سرخ تھیں ۔
“اور بیوی کو پیار سے نہ دیکھنا، اسے خود سے دور رکھنا… یہ ثواب ہے، صدقہ جاریہ ہے؟
اس کے لہجے میں طنز صاف جھلک رہا تھا۔

“نہیں… وہ بھی گناہ ہے۔”
وہ گہری سانس لیتے ہوئے آہستہ سے بولا۔

“تو ٹھیک…. اللہ تعالی آپ کو یہ گناہ معاف کر دے گا۔
تو میں بھی اللہ سے معافی مانگ لوں گی۔
مجھے بھی معافی مل جائے گی۔”
وہ ضدی بچے کی طرح تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئی، اور کچھ لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔

“بچوں جیسی باتیں مت کرو…”
یارم نے آہستہ، مگر کچھ سخت لہجے میں کہا۔
ایزل اپنی جگہ سے اٹھ کر بیٹھ گئی، نظریں یارم کے چہرے پر جمی ہوئی تھی۔

“بچوں جیسی باتیں… سچ میں، آپ کو میری باتیں بچوں جیسی لگتی ہیں؟”
ایزل اپنی جگہ سے اٹھ کر بیٹھ گئی، آنکھوں میں ناراضگی اور سوال تھا۔

” مجھے آپ کا نظر انداز کرنا بھی قبول ہے،
مگر میری غلطی تو بتائیں…
کم سے کم اتنا تو کہیں کہ ایزل، تم ایسی بن جاؤ، پھر میں تمہیں پسند کروں گا۔”
“ایزل، آپ کے معیار پر پورا نہ اُترے تو پھر کہیے گا،
مگر نہیں… آپ کو میرا کچھ بھی کرنا اچھا نہیں لگتا…”
یارم خاموش تھا جیسے پوری طرح سے اس کے دل کا درد سننے کے بعد جواب دینا چاہتا ہو۔

“اب پتھر کے بن کر چپ کیوں کھڑے ہیں؟
جواب دیں نا… کیا میں کچھ غلط کہہ رہی ہوں؟”
ایزل بیڈ سے اتر کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی،
دونوں ہاتھ سینے پر باندھے،
جیسے کوئی ٹیچر اپنے سٹوڈنٹ سے سوال پوچھ رہا ہو۔
چہرے پر غصہ اور دکھ صاف نظر آ رہا تھا،
آنکھوں میں سوال اور مایوسی دونوں چھلک رہے تھے۔
“پلیز، ریلیکس ہو جاؤ…
مجھے تھوڑا سا ٹائم دو،
میں اس رشتے کا ہر فرض نبھاؤں گا…”
اس کے لہجے میں نرمی اور یقین تھا،
آنکھوں میں سکون اور دل کی سنجیدگی جھلک رہی تھی،
جیسے وہ ہر بات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہو،
اور بس چاہ رہا ہو کہ ایزل بھی سکون سے اسے سن لے۔
“کتنا وقت؟”
وہ دو ٹوک بولی،
چہرے پر ہلکی سی سختی اور نظریں سیدھی اُس پر جمائی ہوئی تھیں،
جیسے جواب میں کوئی بہانہ قبول نہ ہو۔

“پلیز یار، آرام سے بیٹھ جاؤ، ایسے استانی بن کر پوچھو گی تو میں کیسے جواب دوں گا؟”
یارم کے لمحوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی، نظریں اس کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں، لہجہ نرم تھا، جیسے بات کو ٹالنے کی کوشش کر رہا ہو۔

“ضرور آرام سے بات کرتی اگر آپ ٹرسٹ کے لائق ہوتے…
اچھی طرح جانتی ہوں کہ اگر ایک بار یہاں سے بات کٹ گئی تو دوبارہ کب شروع ہوگی، نہیں جانتی…”
ایزل اپنا رونا دھونا، اپنا دکھ بھول کر، بچوں کی طرح ضد لگاتے ہوئے یارم کے سامنے کھڑی تھی۔

“اب شادی کر لی ہے
پیار کر لیا ہے
تو یقین بھی کرو
کیونکہ میرا نہیں خیال کہ تمہارے پاس کوئی اور آپشن ہے۔
وہ بیڈ پر بیٹھ گیا تھا
انداز ایسا
جیسے بات کو کسی بھی طرح ٹال کر ختم کرنا چاہتا ہو۔
ایزل دو قدم اور قریب آ گئی
اتنی قریب کہ اس کی سانس یارم کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی
آنکھوں میں غصہ تھا اور لہجے میں ضبط۔یارم بیڈ پر بازو پیچھے کی جانب رکھتے ہوئے ذرا سا پیچھے کو جھک گیا تھا۔

“دیکھیں !مسٹر یارم خان
کسی بھول میں مت رہیے گا
میں یہ بات کہنا نہیں چاہتی تھی
مگر آپ کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے
جیسے آپ پہلے سے ہی کسی اور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس نے انگلی اٹھائی
وارننگ نہیں تھی بلکہ فیصلہ تھا۔

“ایزل،میری بات سنو۔۔۔

“نہیں….آپ میری بات سنیں۔
وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے،انگلی اب بھی اٹھائے
چہرہ اس کے قریب جھکائے،کھڑی تھی۔

“اگر ایسا ہوا…تو خدا کی قسم میں برداشت نہیں کروں گی…
“میں ایزل خان ہوں۔
میں ہر چیز برداشت کر سکتی ہوں
مگر یہ نہیں،کہ جس شخص کو میں نے پہلی نظر میں محبت کا نام دیا…وہ اپنی محبت کسی اور کے نام کر چکا ہو۔
اور میرے حصے میں ایک ٹوٹا ہوا دل لیے شخص آیا ہے ۔یہ محض بولے گئے جملے نہیں تھے،ایزل کی آنکھوں میں غصہ دہک رہا تھا۔جس سے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔

یارم نظریں ایزل پر جمائے بیٹھا تھا۔مضبوط دل کے اندر عجیب سی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔
ایزل ظروں میں کچھ ایسا تھا
جس نے اسے حیران کر دیا۔
وہ پیچھے ہٹ کر بیڈ پر جا کر بیٹھ چکی تھی ۔ خاموش تھی،مگر اس خاموشی میں
ایک طاقت، ایک سچائی چھپی ہوئی تھی
جو یارم کے دل پر گہرائی سے اثر کر گئی۔
وہ سوچ رہا تھا
یہ کیسا لمحہ ہے
کہ ایک نظر
اتنے سوال اور اتنے احساسات پیدا کر سکتی ہے۔

“کیا سمجھوں ۔تم مجھے دھمکا رہی ہو؟اس نے اس کی طرف دیکھے بغیر سوال کیا۔
دل میں اچانک اُٹھنے والی گھبراہٹ کو
نظر انداز کرتے ہوئے،
خود کو سنبھال کر بولا تھا۔

“نہیں،
میں بتا رہی ہوں۔
اسے دھمکی سمجھیں
یا کچھ اور…
مگر سچ یہی ہے۔”

“لمحہ بھر کے لیے یہ مان لو
کہ ہاں، میں کسی اور سے پیار کرتا ہوں
تو کیا کرو گی؟
یہ سوال سنجیدگی سے پوچھا گیا تھا۔
وہ اپنی جگہ ساکت بیٹھا تھا۔
پوچھنے کا انداز ایسا تھا
جیسے وہ محض یہ جاننا چاہتا ہو
کہ اگر کبھی اس دل پر یہ حقیقت کھل گئی
تو وہ کیا کرے گی۔

“کچھ زیادہ نہیں کروں گی…
اپنی جان لے لوں گی۔

“خودکشی حرام ہے…
اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
تم جانتی ہو نا، اس کی سزا کیا ہوتی ہے؟

“یہ ہر سزا،
یہ ہر خوفِ خدا
صرف مجھے ہی کیوں دکھایا جا رہا ہے؟
آپ کے لیے کچھ نہیں ہے؟
آپ کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟
ایزل نے پلٹ کر،بیڈ پر بیٹھے بیٹھے
اس کی جانب دیکھا تھا،
جبکہ وہ دوسری طرف رخ کیے
خاموش بیٹھا تھا۔

“میں نے ایسا تو نہیں کہا۔
بس ایک سوال پوچھا ہے۔
اس میں ناراض ہونے والی
کوئی بات نہیں ۔
اس کا لہجہ بظاہر سنبھلا ہوا تھا،
مگر الفاظ میں ایک عجیب سی بے ترتیبی تھی،
جیسے بات وہ ایزل سے کر رہا تھا
اور ذہن کہیں اور الجھا ہوا ہو۔
وہ بول رہا تھا،
مگر اس کی آنکھوں میں
وہ توجہ نہیں تھی
جو پاس بیٹھی ہوئی عورت مانگ رہی تھی۔

ایزل:
میں نے بھی تو جواب ہی دیا ہے۔۔۔
آپ کو خوفِ خدا کیوں نہیں ہے؟
آپ کو اللہ سے ڈر کیوں نہیں لگتا؟
آپ اپنے فرض سے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہیں؟
آپ کا فرض ہے میرا خیال رکھنا۔

یارم:
تو میں تمہارا خیال رکھ تو رہا ہوں۔
کہاں کمی ہے؟

ایزل:
اپنے دل سے پوچھیں،
کمی کہاں ہے۔

یارم:
پلیز ایزل۔۔۔
بس کر دو یار،
بات کو مت کھینچو۔

ایزل:
نہ میں کھینچ رہی ہوں،
نہ مجھے کوئی شوق ہے بات بڑھانے کا۔
بس ایک عنایت کر دیں۔۔۔
میری واپسی کی ٹکٹ کنفرم کروا دیں۔
مجھے یہاں نہیں رہنا۔
وہ ایسے بولی
جیسے کوئی فیصلہ سنا رہی ہو۔

یارم:
ایسا بالکل نہیں ہو سکتا۔
اپنی مرضی سے آئی ہو،
اب یہیں رہو گی۔۔۔
میرے ساتھ۔

ایزل:
کیوں؟
کوئی زبردستی ہے؟

یارم:
بالکل ہے۔
بیوی ہو میری،
تو میرے ساتھ ہی رہو گی۔وہ پورے حق سے بولا تھا۔
“اور اب
نہ کوئی بحث،
نہ کوئی نئی بات۔
اُٹھو۔۔۔
اُٹھ کر کھانا کھاؤ۔

ایزل:
نہیں۔۔۔
مجھے نہیں کھانا۔

یارم:
مجھے لڑکیوں کا
اس طرح سرکش اور ضدی ہونا
بالکل پسند نہیں۔
وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھا،
ایک ہی لمحے میں اس کا ہاتھ تھاما،
اور زبردستی اسے صوفے پر بٹھا دیا۔
تیز قدموں سے،سائیڈ ٹیبل تک گیا،،کھانے کی ٹرے اٹھائی،اور اس کے سامنے رکھ دی۔

ایزل:
مجھے بھی شوہر کا اینرومینٹک ہونا بالکل پسند نہیں،
مگر آپ اینرومینٹک ہیں،
میں آپ کو برداشت کر رہی ہوں، نا؟
آپ بھی مجھے برداشت کریں۔
آج تو فل آن غصے کے موڈ میں تھی،
یارم کو ٹکا ٹکا کر جواب دے رہی تھی۔
ہاتھوں کو سمیٹ کر گود میں رکھے ہوئے،
نظریں اور رخ دوسری جانب کیے بیٹھے،
اس کا جواب سن کر
بے اختیار یارم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی،
جو فوراً چھپ گئی۔

یارم:
کھانا کھاؤ….

ایزل:
بھوک نہیں ہے….
یارم کو دیکھے نے بغیر جواب دیا۔

یارم:
کھاؤ گی تو لگ جائے گی،
بچوں والی حرکتیں مت کیا کرو۔اس کے سامنے پزے کا ٹکڑا کرتے ہوئے کہا۔ایزل کو بھوک لگی تھی اس خوشبو نے اس بھوک کو مزید بھڑکا دیا۔

ایزل:
بچی نہیں ہوں میں۔۔۔
یارم:
مگر حرکتیں تو بچوں جیسی ہیں، نا؟یارم کی بات پر ایزل نے منہ بسورتے ہوئے اسے دیکھا۔

یارم:
“اور میں نارمل ہوں،
تم تھوڑی زیادہ رومینٹک ہو،
اس لیے تمہیں میں اینرومینٹک لگتا ہوں۔۔
یارم نے اپنے جھوٹ کو سچ بناتے ہوئے،
نوالہ اس کے منہ میں ڈال دیا،
تاکہ وہ تھوڑی دیر کے لیے اپنا منہ بند رکھے۔مگر ایزل اپنی بات پوری کیے بغیر رکنے والی کہاں تھی۔

“جب سے شادی ہوئی ہے، کب آپ نے دو پیار کے لفظ بولے ہیں؟
میرے خیال سے تو کبھی نہیں۔ باوجود اس کے کہ میں خاموش ہوں، پھر بھی آپ کو لگ رہا ہے کہ آپ نارمل ہیں، تو مجھے افسوس ہے آپ کے نارمل ہونے پر۔”
“پلیز آج کے لیے اتنا کافی ہے، باقی کل یہیں سے کنٹینیو کریں گے، ٹائم بہت ہو چکا ہے، کھانا کھاؤ تاکہ ہم آرام کر سکیں۔۔۔”
وہ ایزل سے جان چھڑاتے ہوئے بول رہا تھا۔
ایزل کی باتوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
وہ جانتا تھا کہ وہ سچ بول رہی تھی،
اور یہ سوچ کر اندر سے تھوڑا سا دباؤ محسوس کر رہا تھا کہ
سچائی کو کب تک جھٹلایا جا سکتا ہے۔۔۔

“آپ کر لیں، آرام میں تو سارا دن بھی آرام ہی کرتی رہی ہوں۔۔۔”
غصہ ابھی تک برقرار تھا۔
یارم نے اس کی جانب گہری نظروں سے دیکھا،
“اس لیے کہہ رہا تھا کہ تم یہاں بور ہو جاؤ گی،
مگر تب تمہیں آنے کی جلدی تھی،
اور گھر والوں کو تمہیں بھیجنے کی جلدی تھی،
اب تم مجھے تانے دے رہی ہو۔۔۔”

ایزل: “ہاں، تو اسی لیے کہا ہے،
ٹکٹ کروا دیں، میں صبح واپس چلی جاؤں گی۔”فورا سے جواب دیا جیسے پہلے سے سوچ کر رکھا تھا۔

یارم نے نظریں اس پر جمائے رکھی، خاموشی سے اس کی حرکات اور لہجے کا انداز دیکھ رہا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟
صحیح کہہ رہی ہوں،
آپ مجھے واپس بھیج دیں،
آپ کو میری کوئی ضرورت نہیں،
اور یہاں رہ کر میں فضول میں آپ کا دماغ کھاتی رہوں گی ۔

یارم کی نظریں سخت ہو گئیں، ہونٹ بھنچ گئے، اور آنکھوں میں بےچینی جھلک گئی۔
“جب گلے پڑ گئی ہو تو پھر دماغ کھاؤ یا جان، کیا فرق پڑتا ہے؟
آج کے بعد جانے کی بات کی تو پہاڑوں سے اُٹھا کر نیچے پھینک دوں گا،
پھر یہاں پر روح بن کر وادیوں میں گھومتی رہنا۔۔۔”
یارم کو ایزل کی بھر سے جانے والی بات سن کر اچانک بہت برا لگا،
مگر اپنے ہی دل میں سوال اٹھنے لگا کہ اسے ایزل کے جانے والی بات سن کر برا کیوں لگ رہا ہے۔
اپنی بے چینی چھپانے کے لیے وہ آہستہ سے اُٹھا،
اور روم سے باہر نکل گیا۔
ایزل کچھ نہیں سمجھا،
مگر اس کا یوں خاموشی سے اٹھ کر جانے کا انداز اسے پسند نہیں آیا۔۔

کھڑوس انسان۔۔۔
وہ ہلکی آواز میں بڑبڑائی۔
پھر ایک نظر کھانے پر ڈالی۔
اپنا من پسند کھانا سامنے تھا،
اور اب وہ خود کو روک نہیں پائی۔
اس نے دروازے کی طرف دیکھا،
جیسے دل ہی دل میں یقین کر رہی ہو
کہ وہ واقعی جا چکا ہے۔
اگلے ہی لمحے
بریانی اور پیزا کے ساتھ
پورا انصاف شروع ہو گیا۔
بھوک بھی شدید تھی
اور سامنے اس کی پسندیدہ چیزیں تھیں۔
وہ کھانے سے
زیادہ دیر ناراض رہنے والوں میں سے نہیں تھی۔

           ═══════❖═══════     

انشاء آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بال سنوار رہی تھی۔ فون استعمال کرتے کرتے ایک طرف رکھ دیا تھا، مگر ذہن اس اسکرین سے کہیں آگے نکل چکا تھا۔ آئینے میں اپنی ہی آنکھوں سے نظریں ملیں تو پل بھر کو ٹھٹھک گئی… جیسے دل کسی ان کہی بات پر رکا ہوا ہو۔
اسی لمحے نیچے سے مورے کی آواز ابھری۔
انشاء۔۔۔
جی مورے۔۔۔
بیٹا، نیچے آؤ۔۔۔
جی، ابھی آئی۔۔۔
انشاء نے ذرا جلدی میں بال درست کیے، دوپٹے کا کنارہ سنبھالا اور بغیر دیکھے سیڑھیاں اترنے لگی۔ مگر جیسے ہی اس کی نظر صوفے پر بیٹھی ایزل کی امی کے ساتھ صارم پر پڑی، قدم وہیں منجمد ہو گئے۔
سانس ہلکی سی اٹک گئی، دل کی دھڑکن جیسے ایک دم تیز ہو گئی۔ انگلیاں خود بخود دوپٹے کو درست کرنے لگیں، جیسے وہ اپنے آپ کو سنبھال رہی ہو۔
ایزل کی مورے اور انشاء کی مورے آپس میں باتوں میں محو تھیں، مگر صارم کی نظریں… وہ تو سیدھی انشاء پر ٹھہری ہوئی تھیں۔
انشاء کے ہونٹوں پر ایک رسمی سی مسکراہٹ آ گئی، مگر اندر کہیں الجھن سی پھیل گئی۔
اوپر واپس چلی جائے؟
یا نیچے آ کر سب کے سامنے خود کو معمول پر رکھے؟
مورے کی موجودگی کا خیال آیا تو ہلکی سی گھبراہٹ کے ساتھ اس نے دوپٹے کا پلو انگلی میں لپیٹ لیا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ گئی۔

“اسلام علیکم آنٹی، کیسی ہیں؟
اس نے ایزل کی امی کے سامنے آ کر ادب سے کہا۔

“وعلیکم السلام بیٹا، میں بالکل ٹھیک ہوں، تم سناؤ؟
ایزل کی ماں نے پیار سے اسے اٹھا کر گلے لگا لیا۔ رسمی سی سلام دعا کے بعد انشاء وہیں ان کے پاس بیٹھ گئی۔
دل اب بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ صارم کی گہری… اور وہ شرارتی نظریں۔ انشاء کو صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے،
دونوں بڑی خواتین باتوں میں مصروف تھیں، مگر صارم کی توجہ کہیں اور تھی۔ اس کی مسکراتی نظروں کی تپش انشاء کو شرما کر لرزا گئی، اور وہ… وہ اس کیفیت سے اندر ہی اندر لطف اندوز ہو رہا تھا۔
ایزل کی ماں یارم کی ماں سے ملنے کی خواہش مند تھیں، اور صارم نے جان بوجھ کر کام سے چھٹی لی تھی۔ گھر میں ڈرائیور موجود تھا، مگر وہ یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیناچاہتا تھا۔ انشاء کو دیکھنا، اس لمحے کو جینا… یہی اس کا اصل مقصد تھا۔
صارم کی نظروں سے بچنے کے لیے انشاء اچانک اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں کچن میں ہو کر آتی ہوں…
اس نے نظریں جھکائے کہا۔
اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا یہ معمولی سا قدم اسے اور زیادہ مصیبت میں ڈال دے گا۔ کچھ دیر بعد صارم بھی فون کا بہانہ بنا کر اٹھا اور اسی سمت چل پڑا۔
دونوں بڑی خواتین اس قدر باتوں میں مگن تھیں کہ اردگرد کے ماحول سے بالکل بے خبر رہیں…
═══════❖═══════
انشاء کیچن کا ایک بے مقصد سا چکر لگا کر واپس اپنے کمرے میں آ گئی۔ دل ابھی تک بے ترتیب دھڑک رہا تھا۔ وہ دوبارہ صارم کی نگاہوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
اب میں واپس نہیں جاؤں گی۔۔۔
زیادہ سے زیادہ مورے سے ڈانٹ ہی تو پڑے گی۔
اس کی نظروں سے بچنے کے لیے مورے کی ڈانٹ کھا لینا زیادہ آسان ہے۔۔۔
وہ دل ہی دل میں خود کو سمجھا کر مطمئن ہوئی۔
دوپٹہ آہستگی سے اتار کر صوفے کی پشت پر رکھ دیا اور فون ہاتھ میں لیے بیڈ پر لیٹنے ہی والی تھی کہ اچانک نظر سامنے پڑی۔۔۔
بیڈ کے ایک کنارے پر، پوری بے فکری سے پاؤں لٹکائے، ٹانگ پر ٹانگ رکھے، صارم موجود تھا۔
آہ۔۔۔ آہ۔۔۔
اس کی چیخ میں خوف اور حیرت دونوں کی آمیزش جھلک رہی تھی۔۔۔

“شش۔۔۔ شش۔۔۔
انشاء کے دل کی دھڑکن زور سے چل رہی تھی، ہاتھ تھرک رہے تھے۔
پلیز، چیخ و پکار سے گریز کریں، ورنہ نیچے بیٹھی بزرگ خواتین میرے بارے میں کیا سوچیں گی۔۔۔
وہ دانت نکالتے ہوئے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کر رہا تھا، اور کمرے کی ہوا میں گھبراہٹ کی ہلکی لہر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

آ۔آ۔۔ آپ۔۔۔
آپ میرے روم میں کیا کر رہے ہیں؟؟
انشاء کی آواز میں خوف اور حیرت کا امتزاج تھا، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
صارم کو سامنے دیکھ کر اس کی جان ہی نکل گئی تھی، اسے بالکل توقع نہیں تھی کہ صارم اس کے روم تک پہنچ سکتا ہے۔
وہ سوچ رہی تھی، یہ شخص اتنے سکون سے، بغیر دیکھے، کیسے اپنے قدم اس کمرے تک لے آیا، جب کہ وہ خود صرف اس سے بچنے کے لیے آئی تھی۔
اور یہاں، پورے جناب صارم، اس کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔وہ بغیر جواب دیے مسکرا رہا تھا…

“آپ ابھی کے ابھی میرے روم سے باہر نکل جائیں، ورنہ میں چلانا شروع کر دوں گی۔۔۔
انشاء نے بڑی بہادری سے کہا، مگر ہاتھ لرز رہے تھے اور دل کے دھڑکنے کی آواز کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔
“اچھا تو آپ چلائیں گی۔۔۔؟چلیں جلدی سے چلا کر دکھائیں ۔۔۔۔
صارم نے آہستہ کہا اور قدم بڑھا کر انشاء کے قریب
آ گیا۔۔۔
مم۔۔ میں سچ میں چلاؤ گی۔۔۔
انشاء کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی، وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔
“ہاں ، تو چلائیں کس نے منا کیا ہے؟؟
صارم کی آنکھیں اس کی آنکھوں میں جا ملی تھیں، اور وہ ہلکے مسکراتے ہوئے ہر قدم قریب بڑھتا گیا۔
انشاء نے قدم پیچھے کھینچا، ہاتھ تھوڑے سے کپکپائے، اور سانس کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔
وہ دروازے کی طرف دوڑی، مگر صارم نے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر راہِ فرار بند کر دی۔
” اسی معصومیت نے ، میری راتوں کی نیند حرام کر رکھی ہے، آج تو میں بات کیے بغیر نہیں جانے والا نہیں ہوں۔۔۔” صارم نے دل میں سوچا۔

“پل۔۔۔ پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔”
انشاء کی آواز ہلکی سی تھی، اور اس کی آنکھیں خوفزدہ نظر آئیں۔
صارم نے نرمی سے اسے دیکھا، دل میں ترس اٹھ رہا تھا، مگر آج وہ اپنی بات کہے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
“انشاء، میں تم سے بات کیے بغیر نہیں جا سکتا۔”
“تم کیوں میری بات نہیں سننا چاہتی، ہر بار نظر انداز کر دیتی ہو؟”
وہ نرمی سے بول رہا تھا۔۔۔

“پل۔۔۔ پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔”
انشاء سارم کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے، بے قراری میں ہینڈل گھمانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“آپ کو میری بات سمجھ میں کیوں نہیں آرہی؟
میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، اور آپ مجھے نظر انداز کر رہی ہیں۔۔۔”
صارم کی ذرا سی اونچی آواز پر وہ خوفزدہ ہو گئی، آنکھیں سختی سے بند کیے ہوئے اور مٹھیاں بھینچے کھڑی تھی۔
اس نے اپنی سانس ایسے روکی ہوئی تھی جیسے اس کے سامنے کوئی جن کھڑا ہو جو اسے نگل جائے۔۔۔

انشاء کی اس حالت نے صارم کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ لے آئی۔
وہ چند لمحے اسے یوں ہی دیکھتا رہا، آنکھیں بند، مٹھیوں میں جکڑی ہوئی گھبراہٹ، سانس روکے کھڑی ایک معصوم سی لڑکی۔۔۔
ڈیجیٹل دور میں بھی کوئی اتنا سادہ ہو سکتا ہے، یہ خیال اس کے ذہن میں ابھرا۔
شاید کڑی نگرانی تھی جس نے اسے آج بھی باقی لڑکیوں سے الگ رکھا ہوا تھا،
اور شاید یہی بے ساختہ معصومیت تھی جس پر وہ کب کا اپنا دل ہار چکا تھا۔۔۔
پلیز مجھے جانے دیں… اگر مورے اوپر آگئی تو پھر کیا ہوگا۔۔۔
انشاء کی آواز ہلکی ہلکی کپکپا رہی تھی، آنکھوں میں آنسو جمے ہوئے، ہاتھ بے اختیار ہل رہے تھے۔

“آجائیں گی تو کیا ہوگا… جان سے تو نہیں مار دیں گی نا؟
میں آپ سے بس بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
صارم نے آہستہ، نرم لہجے میں کہا تھا۔

“مجھے آپ سے بات نہیں کرنی، نہ ہی آپ سے شادی کرنی ہے… بات ختم ہو گئی۔
مجھے جانے دیں، پلیز۔۔۔
انشاء کے دل میں اچانک صارم کی شادی والی بات گھوم گئی، لگے ہاتھ اس کا بھی جواب وہ دے چکی تھی…
“کیوں… کیوں شادی نہیں کرنا چاہتی آپ؟” صارم نے تھوڑی اونچی آواز میں پوچھا۔
انشاء کے جسم میں لرزش دوڑ گئی، آنکھیں خوف اور اضطراب سے بڑی ہو گئیں۔ دل کے اندر درد سا اٹھا، مگر وہ کانپتی ہوئی پناہ تلاش کر رہی تھی۔ گھر کی چار دیواری، محدود میل جول، اور مردوں سے بات کرنے کی پابندی—یہ سب اس کے خوف کو اور بڑھا رہے تھے، اور اسی خوف میں بھی، اس کی معصومیت اور بے بسی صاف نظر آ رہی تھی۔

“انشاء… انشاء، پلیز میری طرف دیکھیں…”
“ڈرنے کی ضرورت نہیں، میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ صرف آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، آرام سے سنیں۔”
صارم نے آہستہ سے اس کے دونوں ہاتھ پکڑے اور نرمی سے بات کی۔
وہ اپنی محبت سے اسے ڈرانا نہیں چاہتا تھا، مگر یہاں، اسی محبت کی وجہ سے انشاء خوفزدہ اور محتاط کھڑی تھی۔

“میں… میں آپ کی بات نہیں سن سکتی…”
اس کی آواز میں عجیب سی بے بسی گھلی ہوئی تھی۔
روتے روتے آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔ اس نے نظریں اُٹھا کر ایک پل کو اسے دیکھا اور فوراً جھکا لیں، جیسے یہ ہمت بھی اس سے ادھار لی ہو۔ آواز اتنی مدھم تھی کہ خود اسے بھی سنائی نہ دی۔ آنسو گلے میں اٹکے ہوئے تھے، اور پلکیں مسلسل بھیگ رہی تھیں۔
صارم ایک لمحے کو ساکت رہ گیا۔ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ انشاء اتنا ڈر جائے گی، ورنہ وہ کبھی اپنی آواز بلند نہ کرتا۔
“آپ میری بات کیوں نہیں سن سکتیں؟”
وہ بے اختیار پوچھ بیٹھا،
“کیا میں آپ کو اتنا برا لگتا ہوں… یا آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کو کوئی نقصان پہنچا دوں گا؟”

“نن… نہیں، میں نے کب کہا کہ آپ مجھے برے لگتے ہیں…”
انشاء کی آواز ہلکی اور لرزاں تھی، آنکھیں خوف اور اضطراب سے بڑی تھیں۔
“تو پھر میری بات نہ سننے کی کیا وجہ ہے؟”
صارم نے آہستہ سے پوچھا، دل میں اس کی معصومیت اور بے بسی کو محسوس کرتے ہوئے۔
کم سے کم، یہ جان کر کہ انشاء اسے برا نہیں سمجھتی، اس کے دل میں تھوڑی راحت سی آئی۔

“لالہ بہت ناراض ہوں گے اگر میں آپ سے بات کروں یا آپ کی بات سنوں…ان کو میرا غیر مردوں سے بات کرنا اچھا نہیں لگتا…”وہ محتاط سے لہجے میں بولی تھی۔
صارم نے فوراً سمجھ لیا کہ انشاء اپنے بھائی کے خوف کی وجہ سے محتاط ہے۔

صارم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلاتے ہوئے کہا،
“اچھا… تو یہی وجہ ہے کہ آپ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی۔”
اس کی نظریں انشاء کے خوفزدہ اور شرمیلے چہرے پر جم گئیں، لیکن انداز میں پیار اور نرمی تھی، کوئی سختی نہیں۔
پھر تھوڑا طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا،
“ویسے، آپ کے لالہ تھوڑے ظالم قسم کے انسان ہیں…”
اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، آنکھوں میں چالاکی، اور ہاتھ آرام سے اپنی جیب میں، مگر نگاہیں مکمل طور پر انشاء پر مرکوز تھیں۔
انشاء ایک لمحے کے لیے رک گئی، دل دھڑک رہا تھا، خوف اور شرم کے درمیان الجھی ہوئی۔ صارم کے نرمی اور ہلکی چالاکی نے اس کے اندر اضطراب اور دلچسپی دونوں پیدا کر دیے تھے۔

“جی نہیں… میرے لالا پوری دنیا کے بیسٹ انسان ہیں! وہ سب کچھ میری بھلائی کے لیے کرتے ہیں…”
انشاء نے انگلی اٹھاتے ہوئے وارن کرتے ہوئے کہا، آواز میں نرم حزم تھا۔

“اور صحیح کہتے ہیں… ایک لڑکی کا غیر مرد سے باتیں کرنا خطرے کی علامت ہوتا ہے۔ دوبارہ ان کے بارے میں کچھ بھی غلط نہیں سنوں گی!”
اس کی آنکھوں میں بھائی کی محبت اور لگاؤ صاف جھلک رہا تھا، لہجہ پرعزم اور نرم، اور انداز میں معصومیت اور پختگی کا حسین امتزاج تھا۔
انشاء واقعی پیاری لگ رہی تھی، ایک چھوٹی سی لڑکی جو اپنے بھائی کی محبت کی طرفداری کر رہی تھی، ہر بات اس کے دل اور آنکھوں سے چھلک رہی تھی۔
“اوکے اوکے… معاف… آئندہ کبھی ایسی گستاخی نہیں کروں گا۔
آپ کے لالہ ورلڈ کے بیسٹ ہیں، ان سے اچھا دنیا میں کوئی نہیں…”
صارم نے کان پکڑ کر ہلکی مسکراہٹ دی، نگاہوں میں نرمی اور ہلکی سی چمک تھی۔
انشاء کے دل میں بھائی کا خوف اور محبت دونوں ایک ساتھ جھلک رہے تھے، اور صارم یہ چھوٹا سا احساس فوراً محسوس کر گیا تھا۔

“ٹھیک ہے، معاف کر دیا… مگر دوبارہ کبھی میرے لالہ کے بارے میں غلط مت سوچئے گا…”
انشاء کی آواز میں سنجیدگی تھی، نگاہیں صاف اور پراعتماد، اور ہر لفظ کے ساتھ اس کے دل کی محبت اور بھائی کے لیے لگاؤ جھلک رہا تھا۔

“پرومس… آئندہ ایسی گستاخی کبھی نہیں ہوگی…”
صارم نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سر کو جھکا کر کہا۔
“پلیز… اب اتنی بحث کے بعد، آپ دو منٹ آرام سے بیٹھ کر میری بات سنیں اور میری محبت کا جواب محبت سے دے سکتی ہیں؟”
انشاء خاموش رہی، آنکھیں جھکی ہوئی، دل دھڑک رہا تھا۔
پلیز اس قسم کی باتیں مت کریں۔۔۔مجھے ڈر کیوں لگتا ہے؟نظریں جھکائے انگلی پر دوپٹے کے پلو کو لپیٹتے ہوئے دیکھا۔

“اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے…”
صارم کی آواز اب نرم ہو چکی تھی، جیسے اسے خود بھی احساس ہو گیا ہو کہ ایک لمحہ پہلے اس کا لہجہ حد سے آگے نکل گیا تھا۔
“میں بری نیت سے آپ سے بات کرنے نہیں آیا۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ مجھے عزیز ہیں… اور میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گیا، جیسے جان بوجھ کر ان کے درمیان فاصلہ رکھ رہا ہو۔
“عزت کے ساتھ، گھر والوں کے سامنے۔ اگر یہ سب درست طریقے سے ہو تو… اس میں خوف کیسا، انشاء؟”
انشاء نے بے اختیار اپنی انگلیاں آپس میں بھینچ لیں۔ نگاہ ایک لمحے کو اٹھی، پھر فوراً جھک گئی۔
چہرے کی سرخی اس کی باتوں کا جواب دے رہی تھی، زبان مگر خاموش تھی۔
صارم نے یہ خاموشی محسوس کی۔
یہ انکار نہیں تھا…
یہ خوف تھا، تربیت تھی، اور حد سے بڑھی ہوئی حیا تھی۔

“اگر نیت اچھی ہے تو جو بھی بات کرنی ہے میرے گھر والوں سے کریں… اس طرح چھپ چھپ کر مجھ سے ملنے کی ضرورت نہیں۔”
انشاء نے نظریں اٹھائے بغیر کہا۔ آواز میں لرزش تھی مگر بات میں وہی سیدھی سچائی… جس پر سمجھوتا نہیں ہوتا۔
صارم ایک لمحہ خاموش رہا۔ جیسے یہ جملہ کہیں اندر اتر کر ٹھہر گیا ہو۔
“انشاء آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں…” وہ آہستہ بولا۔
“میں اس طرح کا انسان نہیں۔ آپ کی عزت مجھے بہت عزیز ہے۔”
وہ ذرا سا رک گیا… نظریں خود بخود جھک گئیں۔
“میں تو بس آپ کی ہاں کا منتظر تھا۔ ایک بار… صرف ایک بار، اگر آپ اپنے دل کی بات کہہ دیں۔۔۔تو میں پورے وقار کے ساتھ آپ کے گھر والوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔”
انشاء نے جواب میں کچھ نہ کہا۔
خاموشی تھی… مگر اس خاموشی میں انکار کم، حیا زیادہ بول رہی۔

“میں خود سے ہاں نہیں کہوں گی…”
انشاء کی آواز میں وہ ٹھہراؤ تھا جو ضد نہیں، اصول ہوتا ہے۔
“آپ کی نظر میں ہاں کا مطلب محبت ہے… اور مجھے محبت کے چکروں میں نہیں پڑنا۔”
صارم نے ذرا سا سر جھکایا، جیسے بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“پوچھ سکتا ہوں… محبت جیسے نرم جذبے کے لیے آپ کے دل میں اتنی سختی کیوں ہے؟”

انشاء نے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا، لمحہ بھر کو رکی… جیسے الفاظ چن رہی ہو، یا شاید خود کو سنبھال رہی ہو۔
“کیونکہ میری امّاں کہتی ہیں…”
آواز دھیمی تھی مگر یقین سے بھری ہوئی۔
“محبت اکثر لڑکی کو اپنے ہی گھر والوں کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے۔”
وہ ایک سانس میں بات مکمل نہ کر سکی، پھر آہستہ آہستہ بولی،
“پہلے رشتے بنتے ہیں، میٹھی باتیں ہوتی ہیں… پھر دل لگ جاتا ہے۔ اور جب گھر والے نہ مانیں تو وہی بیٹی، وہی بہن، ماں باپ کے سر میں خاک ڈال کر گھر سے بھاگ جاتی ہیں۔”
اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، ماں سکھائی گئی احتیاط تھی۔
“مورے کہتی ہیں… شادی سے پہلے محبت کا وجود، اکثر صرف تباہی لے کر آتا ہے۔”
وہ خاموش ہو گئی۔
کہا ہوا جملہ نہیں، ماں کی سکھائی ہوئی سوچ فضا میں ٹھہر گئی۔۔۔

“تو پھر جو اپنے ماں باپ کا سر جھکاتی ہیں، جو گھر سے بھاگ جاتی ہیں… وہ غلط ہی تو کرتی ہیں نا۔”
صارم کی آواز اس بار نرم تھی، مگر اس نرمی میں ایک ٹھہرا ہوا درد شامل تھا۔
“ہم تو ایسا کچھ نہیں چاہتے۔ میں تو عزت کے ساتھ آپ کے گھر رشتہ بھیجوں گا، سب کی رضامندی سے بات ہوگی، نکاح ہوگا…”
وہ لمحہ بھر رکا، جیسے خود کو سنبھال رہا ہو۔
“تو پھر اس میں غلط کیا ہے؟”
اس نے آہستہ سا قدم آگے بڑھایا، مگر حد میں رہتے ہوئے۔
نظر انشاء کی جھکی ہوئی پلکوں پر ٹھہر گئیں۔
“کیا میں آپ کو…”
آواز ذرا بھرا گئی،
“ایک لمحے کے لیے بھی اچھا نہیں لگا؟”
کہا ہوا سوال نہیں تھا،
بلکہ دل سے پھسل کر نکلا ہوا احساس تھا۔۔

انشاء بے اختیار اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی، شاید دل میں اُتری ہوئی بات کو لفظوں کا روپ دینا اس کے لیے آسان نہ تھا۔۔۔

“انشاء، اگر میں آپ کو پسند نہیں ہوں، اگر ایک لمحے کے لیے بھی آپ کے دل میں میرے لیے کوئی کشش نہیں… تو وعدہ کرتا ہوں، میں خاموشی سے پیچھے ہٹ جاؤں گا۔ کبھی آپ کے لیے پریشانی نہیں بنوں گا۔
بس ایک بار، صرف ایک بار، اپنے دل کی بات سچ سچ بتا دیں۔
اسلام ہمیں اتنی اجازت تو دیتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کر سکیں۔
خدا گواہ ہے، میرے دل میں آپ کے لیے کبھی کوئی غلط خیال نہیں آیا۔
جو کچھ ہے، صاف، مقدس اور عزت کے دائرے میں ہے… صرف آپ کے لیے۔

انشاء خاموش رہی۔
کمرے میں ایک لمحے کے لیے ایسی خاموشی اتری کہ سانسوں کی آواز بھی سنائی دینے لگی۔ اس نے نظریں جھکا لیں، پلکیں کچھ زیادہ ہی دیر تک بند رہیں، جیسے اپنے اندر اُٹھتے شور کو سمیٹ رہی ہو۔
اس کے ہاتھ بے اختیار دوپٹے کے کنارے میں الجھ گئے۔ دل ماننے کو تیار تھا، مگر ذہن نے فوراً ماں کی آواز لا کر کھڑی کر دی۔ وہی نصیحتیں، وہی ڈر…
وہ کچھ کہہ سکتی تھی، مگر الفاظ گلے میں اٹک گئے۔
صرف اتنا ہوا کہ اس کی پلکوں کے نیچے نمی چمک گئی، اور یہ خاموشی خود سارم کو بہت کچھ کہہ گئی۔

صارم کے دل میں ایک ہلکا سا اطمینان اترا، جیسے بے چینی کے ہجوم میں کہیں سے امید کی ایک کرن پھوٹ نکلی ہو۔ وہ بے اختیار مسکرایا اور نظریں اٹھا کر اس کی سمت دیکھ لیا۔
چند لمحے رکا، پھر لہجہ بدلتے ہوئے آہستہ سے بولا،
“چلیں، سوال بدل لیتے ہیں… اگر آپ کے گھر والے اس رشتے کے لیے ہاں کر دیں، تو کیا آپ مجھے قبول کر لیں گی؟”

“اور اگر گھر والوں نے آپ کے رشتے کے لیے ہاں نہ کی تو…؟”
یہ سوال بے اختیار اس کے لبوں سے نکل گیا تھا۔ بات کہتے ہی جیسے خود اپنی جرأت سے گھبرا گئی، فوراً رخ موڑ لیا۔ پلکیں مضبوطی سے بند کر لیں، جیسے سامنے والے کی آنکھوں میں جھانکنے کی ہمت ہی نہ بچی ہو۔ دل کی دھڑکن تیز تھی، اور اس خاموشی میں اس کا خوف صاف سنائی دے رہا تھا۔۔۔

“ہاں، کیوں نہیں کریں گے؟”
وہ فوراً بولا، آواز میں اعتماد تھا مگر حد سے بڑھا ہوا نہیں۔
“مجھ میں کوئی ایسی کمی تو نہیں کہ انکار کی نوبت آئے… آخر وجہ ہی کیا ہو سکتی ہے؟”
وہ چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ سامنے اس کی پشت تھی، جھکی ہوئی گردن اور بند آنکھوں والی خاموشی… جس میں ڈر بھی تھا اور تذبذب بھی۔

“بس ایک بار کہہ دیجئے کہ میں آپ کو اچھا لگتا ہوں…
مجھے تسلی ہو جائے گی۔
وہ خاموش کھڑی رہی۔
نگاہیں جھکی ہوئیں، سانسیں بے ترتیب…
سامنے کھڑا وہ شخص جس کی باتوں میں ضد نہیں تھی،
صرف ایک سادہ سی چاہت تھی۔
دل مان چکا تھا…
مگر زبان ابھی تک لالہ اور بابا کے خوف میں بند تھی۔

“میں نے کب کہا کہ آپ اچھے نہیں ہیں؟
مگر اگر آپ اس سے زیادہ کی توقع رکھتے ہیں تو معاف کیجئے گا…
میرے لیے میرے لالہ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔
اس بار اس کے لہجے میں سختی نہیں تھی،
بس ایک ٹھہرا ہوا یقین تھا۔
جیسے وہ خود کو بھی یہی بات سمجھا رہی ہو۔
چند لمحے کی خاموشی کے بعد صارم نے سانس لی۔
نہ شکوہ، نہ اصرار… بس قبولیت۔

“میں آپ کے لالہ کے اصولوں کو بھی سمجھتا ہوں
اور آپ کو بھی…
اسی لیے شاید آپ مجھے اچھی لگتی ہیں۔
جملہ ہلکا تھا،
مگر اس کے اندر ٹھہراؤ تھا،جبکہ انشاء خاموش تھی اور خاموشی میں چھپا ہوا جواب سارم صاف محسوس کر رہا تھا۔
ایک نیا خوبصورت رشتہ بننے جا رہا تھا،
دونوں کے بیچ خاموش محبت پروان چڑھ چکی تھی،
دونوں کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑک رہے تھے…
مگر انشاء کی جانب سے ابھی الفاظ کا اظہار ممکن نہیں تھا،
اور یہ حقیقت صارم کے دل نے بخوبی تسلیم کر لی تھی۔
ایک نیا خوبصورت رشتہ بننے جا رہا تھا،
دونوں کے بیچ خاموش محبت پروان چڑھ چکی تھی،
دونوں کے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑک رہے تھے…
مگر انشاء کی جانب سے ابھی الفاظ کا اظہار ممکن نہیں تھا،
اور یہ حقیقت صارم کے دل نے بخوبی تسلیم کر لی تھی۔
محبت کے لمحے بہت خوبصورت ہوتے ہیں،
مگر انہی لمحوں میں ماں باپ کی عزت کو عبادت کی طرح سنبھالنا بھی ضروری ہے… تاکہ زندگی کے باقی لمحے بھی پاکیزہ رہیں۔

═══════❖═══════

یہ قسط ناول "صلیب سکوت" کی ایک قسط ہے، تخلیق حیات ارتضی، S.A کی۔اگلی قسط مطالعہ کرنے کے لیے، اسی ناول کی category "صلیب سکوت" ملاحظہ کریں،جہاں تمام اقساط ترتیب وار اور باقاعدگی سے دستیاب ہیں۔💡 نوٹ: ہر نئی قسط ہر اتوار شام 8:00 بجے Publish کی جائے گی۔📌 حیات ارتظی مینجمنٹ

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *