Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:4

🕯️ صلیبِ سکوت
قسط نمبر:4
✍︎ حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════

(حال)

“عبیرہ خان، یہ میرا احسان سمجھو کہ فی الحال تمہیں تمہارے گھر بھجوا رہا ہوں… بلکہ یوں کہو کہ پھینکوا رہا ہوں۔ میرے اس احسان کو یاد رکھنا، اور مجھے مزید کوئی ایسا قدم اٹھانے پر مجبور مت کرنا جو تمہارے لیے سخت ثابت ہو۔”

اس کے لہجے میں غرور کی تلخی اور زبردستی کی سختی کھل کر جھلک رہی تھی۔

“چاہتے کیا ہیں مجھ سے؟ کیا کرنا ہے مجھے؟” وہ غصے اور رونے کے ملے جلے عالم میں چیختی ہوئی انداز سے بولی۔

اس کی آواز میں بے بسی کی چیخ اور دل کی گھٹن صاف جھلک رہی تھی۔

“بس اتنا چاہتا ہوں کہ تم جلد اپنے گھر والوں کو بتا دو کہ تم مجھ سے پیار کرتی ہو… اور مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔ اور اگر دوبارہ یارم خان کے ساتھ ملنے کی کوشش بھی کی، تو تمہارے گھر کے ایک ایک فرد کو چوراہے پر الٹا نہ لٹکا دیا تو میرا نام آریان خان نہیں۔”

عبیرہ اس کی دھمکیوں کے بوجھ تلے سہمی ہوئی اپنے گھر اندرقدم رکھ رہی تھی۔

اچانک جیسے ہی اس کی ماں کی نظر عبیرہ پر پڑی تو وہ گھبرا کر تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔ “عبیرہ، تم ٹھیک ہو؟ عبیرہ، تمہارے ساتھ کچھ غلط تو نہیں ہوا؟”
اس کی ماں نے قریب آتے ہی عبیرہ کی کلائی پکڑ لی اور بےچینی سے سوال کرنے لگی۔
وہ سخت پریشان تھیں، جب سے ڈرائیور نے آ کر بتایا تھا کہ عبیرہ کو کسی نے کڈنیپ کر لیا ہے۔ عبیرہ کے بابا گھر پر نہیں تھے اور اب تک انہیں خبر بھی نہیں دی گئی تھی۔

ماحد اور اس کی ماں نے اپنے طور پر تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر عبیرہ تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی واپس گھر لوٹ آئی تھی۔

بیٹی کو دیکھ کر عبیرہ کی ماں کے ذہن میں ایک ساتھ ہزاروں خیال امنڈ آئے۔

“نہیں ماما، میرے ساتھ کچھ غلط نہیں ہوا… آپ پریشان نہ ہوں۔”

ماں کی بگڑتی حالت دیکھ کر عبیرہ نے نکاح والی بات چھپانا ہی مناسب سمجھا۔
“اللہ تیرا شکر ہے…” اس کی ماں نے ہاتھ اٹھا کر دل سے شکر ادا کیا۔

“عبیرہ، وہ کون لوگ تھے؟ کیا چاہتے تھے؟ کیوں تمہیں کڈنیپ کیا؟” وہ ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھنے لگی۔

لیکن عبیرہ کے پاس اس وقت کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔ وہ کیسے بتاتی کہ اس کی زبردستی نکاح ہو چکا ہے… اور وہ اب کسی کے نکاح میں بندھ چکی ہے۔

اس شخص کی دشمنی کیا تھی، یہ تو عبیرہ خود بھی نہیں جانتی تھی، تو اپنی ماں کو کیا بتاتی۔مگر عبیرہ کی خاموشی، پریشان نظروں اور زرد چہرے کو دیکھ کر اس کی ماں کے دل میں طرح طرح کے وسوسے جنم لینے لگے۔۔
“عبیرہ، خدا کا واسطہ ہے، چپ مت رہو… مجھے بتاؤ کہ کیا ہوا ہے۔ میرا دل بند ہوا جا رہا ہے یہ سوچ سوچ کر کہ کہیں تمہارے ساتھ کچھ غلط نہ ہو گیا ہو۔”

سوچوں میں گم عبیرہ کو دیکھ کر اس کی ماں نے اس کے کندھے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑ ڈالا۔
“ماما، بتا تو دیا ہے کہ کچھ نہیں ہوا… اور کیا سننا چاہتی ہیں؟ ان لوگوں نے شاید پیسوں کے لیے مجھے کڈنیپ کیا تھا، مگر میں ان کی قید سے بھاگ کر گھر آگئی۔ آپ اس طرح تفتیش کر کے مجھے ہی گنہگار ثابت کر رہی ہیں۔ مجھے تو لگ رہا ہے کہ گھر آ کر مجھ سے ہی غلطی ہو گئی ہے۔” عبیرہ چڑ کر بولی۔

پھر غصے میں اپنے کمرے کی طرف تیزی سے بڑھی اور اندر جا کر دروازہ لاک کر لیا۔
اس میں جھوٹ بولنے کی ہمت نہیں تھی، اور سچ وہ بتا نہیں سکتی تھی، اسی لیے وہاں سے ہٹ جانا ہی اس نے مناسب سمجھا۔
ماحد اس وقت گھر پر موجود نہیں تھا، وہ عبیرہ کو ڈھونڈنے کے لیے نکلا ہوا تھا۔

عبیرہ کے رویے نے اس کی ماں کو لمحہ بھر کو غصہ دلایا، مگر اگلے ہی لمحے وہ یہ سوچ کر خاموش ہو گئیں کہ بیٹی شاید شدید ذہنی دباؤ میں ہے۔

انہوں نے ماحد کو فون کر کے عبیرہ کی واپسی کی خبر دی اور پھر وضو کر کے رب کے حضور نوافل میں مصروف ہو گئیں، دل میں ایک ہی دعا تھی کہ بیٹی ہر آفت سے محفوظ رہے۔
“اللہ ہر بیٹی کی عزت کو محفوظ رکھے… عبیرہ تو میری باتوں سے انکار کر گئی، مگر کیسے کہوں کہ میرے دل میں ڈر ہے، کہیں میری بیٹی کا مستقبل داغدار نہ رہ جائے۔”

وہ رب کے حضور سجدے میں گڑگڑا کر رو رہی تھیں، آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ بس یہی فریاد کر رہی تھیں ۔

═══════❖═══════
“مس عبیرہ خان، آپ نے تو میرے دل پر قبضہ ہی جما لیا ہے۔ نہ دن کو سکون لینے دیتی ہیں، نہ رات کو چین کی نیند سونے دیتی ہیں۔”

“کبھی سوچا نہیں تھا کہ یارم خان کا دل بھی کسی کی محبت میں گرفتار ہو کر بغاوت پر اتر سکتا ہے۔ اپنے دل کو میں نے کبھی اجازت نہیں دی تھی، مگر آپ کی محبت نے اسے حد سے زیادہ سرکش بنا دیا ہے۔ خدارا، جلدی جواب دے دیجیے… زیادہ دوری برداشت نہیں کر سکوں گا۔”

وہ کروٹ بدلتے ہوئے بےچینی سے تکیے پر الٹا لیٹا اور ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آگئی۔

خیالات میں عبیرہ ہی چھائی ہوئی تھی، مگر اس کی طرف سے اب تک کوئی جواب نہیں آیا تھا۔ کچھ لمحے سوچنے کے بعد اس نے عبیرہ کا نمبر ڈائل کیا، مگر یارم کا فون بجتا ہی رہ گیا، وہ اس نے اٹھایا نہیں۔
یارم کو برا تو ضرور لگا، مگر پھر دل کو یہ کہہ کر سمجھا لیا کہ شاید رات کافی گزر چکی ہے اور وہ سو گئی ہوگی۔

“کمال ہے جناب… میری راتوں کی نیندیں چرا کر خود آرام کی نیند سو رہی ہیں۔”

اس نے میسج ٹائپ کیا۔
“اگر میرا پیغام دیکھ لیں تو براہ کرم جواب دے دیجیے گا، یہ یارم پر آپ کا احسان ہوگا۔”

پیغام بھیج کر موبائل ایک طرف رکھتے ہوئے وہ زبردستی آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگا۔ نماز کا پابند تھا، ہر حال میں فجر کے لیے بیدار ہونا تھا، اور اپنی ڈیوٹی پر دیر سے پہنچنا اسے سخت ناپسند تھا۔

مگر آنکھیں میچنے کے باوجود اس کے دل کے سامنے عبیرہ کا معصوم، دل فریب چہرہ بار بار ابھر رہا تھا، جو اس کے دل کو مزید بے چین کیے جا رہا تھا۔
═══════❖═══════
(حال)
عبیرہ بے صبری سے اپنے بابا کا انتظار کر رہی تھی، کیونکہ گولی لگنے کی خبر ان تک پہنچ چکی تھی۔ ماحد کے ساتھ عبیرہ اور اس کی ماں سب ایئرپورٹ پر تبریز خان کو ریسیو کرنے آئے تھے۔

جیسے ہی اس کی ماں کی نظر اپنے شوہر پر پڑی، وہ تیزی سے ان کی طرف لپکی۔
“خان، کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ کس نے گولی چلائی تھی؟” وہ روتے ہوئے بے اختیار ان کے سینے سے جا لگی۔

وہ عام طور پر ایسی نہ تھیں، مگر اس وقت شوہر کی تکلیف کے سامنے وہ خود کو کمزور پا رہی تھیں۔ اپنے بچوں کے سامنے ہی شوہر کے سینے سے لگ کر رو پڑیں۔

تبریز خان نے بیوی کے اس انداز پر ہلکی مسکراہٹ دی۔ وہ اپنی بیوی سے بے حد محبت کرتا تھا، جو عمر میں اس سے لگ بھگ بیس سال چھوٹی تھی۔ مگر ان کی محبت کی بنیاد عمر کا فرق نہیں تھی، بلکہ بیوی کی سچائی اور وہ دکھ تھے جو زندگی میں ایک حادثے کے بعد ان دونوں کو قریب لے آئے تھے۔

وقت نے دونوں کو گہرے زخم دیے تھے، مگر اسی حادثے نے ان کے رشتے کو ایسا مضبوط کر دیا کہ ایک کو تکلیف پہنچتی تو دوسرا درد محسوس کرتا۔ حادثے میں جڑا یہ رشتہ دراصل تبریز خان کی محبت کی کہانی تھی۔

وہ کب اور کیسے اپنی بیوی سے بے انتہا محبت کرنے لگا، وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ مگر اس نے اپنے پیار کے رنگ میں اسے اس طرح رنگ لیا کہ وہ عورت، چاہے نہ چاہے بھی، اس شخص سے محبت کرنے لگی تھی۔
عبیرہ اور ماحد اپنے بابا کو دیکھ کر سخت پریشان تھے۔ عبیرہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جبکہ ماحد، جو مضبوط اعصاب کا مالک تھا، رویا تو نہیں مگر دل ہی دل میں بے چینی کا شکار تھا۔

“پلیز تم دونوں پریشان نہ ہو، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ گولی صرف چھو کر گزری ہے۔” تبریز خان نے نرمی مگر سخت لہجے میں کہا۔ “اگر تم دونوں ایسے ہی ٹوٹ جاؤ گے تو اپنی ماں کو حوصلہ کیسے دو گے؟”

وہ اپنے بچوں کو دیکھتے ہوئے ڈانٹنے کے انداز میں بولے مگر آنکھوں میں بے پناہ محبت جھلک رہی تھی۔ ان کی نظریں اپنی بیوی پر جمی تھیں، جس کی آنکھیں رو رو کر سرخ ہو چکی تھیں۔ تبریز خان کو اپنی خوبصورت پٹھانی بیوی کی آنکھیں ہمیشہ پیاری لگتی تھیں، مگر جب وہ روتی تو اس کی آنکھوں کی سرخی ان کے دل کو چیر دیتی۔

انہوں نے سب کو تسلی دی کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ گولی صرف چھو کر گزری تھی۔ یہ سن کر سب کے دل کو ذرا سکون آیا۔ ماحول کو ہلکا کرنے کے لیے تبریز خان مذاق بھی کرنے لگے اور گاڑی میں سب کے ساتھ بیٹھ گئے۔ مگر کسی نے عبیرہ کے اغوا کی خبر انہیں نہیں دی تھی۔

دوسری طرف عبیرہ کے دل پر ایک بھاری بوجھ تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ بابا کو کیسے بتائے کہ وہ اب کسی کے نکاح میں آ چکی ہے۔ یہ سوچ کر اس کا دماغ جیسے پھٹنے لگا۔
اس کے بابا نے ہمیشہ اس پر بھروسہ کیا تھا، اسے بیٹے کی طرح پالا تھا۔ کبھی کسی خواہش کے لیے ترسانا تو دور کی بات، اس کی خواہش زبان سے نکلنے سے پہلے پوری کر دیتے تھے۔ ایسے باپ کا دل توڑنے کا سوچنا بھی عبیرہ کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت نے اسے عجیب دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اپنے بابا اور بھائی کی جان بچانے کے لیے وہ اس شخص کا نام تک نہیں لے سکتی تھی۔

وہ شخص چاہتا تھا کہ عبیرہ گھر والوں کو بتائے کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے، مگر عبیرہ کے دل میں تو اس کے لیے صرف نفرت تھی۔ وہ الجھی ہوئی تھی کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

“عبیرہ بیٹا، کیا بات ہے؟ تم بہت خاموش ہو۔” تبریز خان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

“نن۔۔۔ نہیں بابا، میں تو بس آپ کی باتیں سن رہی تھی۔” عبیرہ نے خیالات جھٹکنے کی کوشش کی اور مسکرا کر جواب دیا۔

“میرے بچے کی پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟”

“جی بابا، ہمیشہ کی طرح زبردست۔”

“ہمم۔۔۔ اور ماحد، تمہاری پڑھائی؟”

“آپی سے کہیں زیادہ زبردست!” ماحد ہنستے ہوئے بولا۔

“خبردار جو میری بیٹی کو چھیڑا! وہ بہت انٹیلیجنٹ ہے اور جتنی پڑھائی ضروری ہے اتنی پڑھتی ہے۔ تمہاری طرح کتابی کیڑا بننے کی ضرورت نہیں۔” تبریز خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“کیا بابا، آپ تو ہمیشہ آپی کی ہی سائیڈ لیتے ہیں!” ماحد نے شرارت سے کہا اور پھر بہن کو ہنسانے کی کوشش میں کھلکھلا پڑا۔
وہ جانتا تھا کہ کچھ دنوں سے عبیرہ بہت خاموش اور کمرے تک محدود ہو گئی ہے۔ کئی بار پوچھنے پر بھی اس نے کچھ بتایا نہیں تھا، مگر ماحد کو یقین تھا کہ کوئی نہ کوئی بڑی بات ضرور ہے جو عبیرہ سب سے چھپا رہی ہے۔

ماحد کے ہنسنے اور باتوں کے شور میں بھی عبیرہ کے کانوں میں آریان خان کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔

“اگر تم نے یارم سے دوبارہ ملنے کی کوشش کی، تو تمہارے گھر کے ایک ایک فرد کو چوراہے پر الٹا لٹکا دوں گا۔”

یہ جملہ بار بار اس کے ذہن میں گونج کر اس کے وجود کو ہلا رہا تھا۔
بابا کی ہنسی، ماحد کی شوخی، اور ماں کے آنسو سب ایک طرف، مگر عبیرہ کے دل کے کونے میں ایک خوف مسلسل اپنی جڑیں گاڑ رہا تھا۔

وہ جانتی تھی کہ بابا نے ہمیشہ اس پر فخر کیا، اسے اپنی آنکھوں کا تارا سمجھا۔ لیکن کیا وہ ان آنکھوں کا غرور توڑ دے؟ کیا وہ بتا دے کہ اس کی عزت، اس کی زندگی، اس کی مرضی سب آریان خان کے ہاتھ میں قید ہیں؟

آنکھوں کے سامنے بابا کی مسکراہٹ تھی، مگر کانوں میں آریان کی دھمکی۔ دل چاہتا تھا وہ سب کچھ چیخ کر کہہ دے، مگر ہونٹوں پر جیسے تالہ لگ چکا تھا۔

“عبیرہ بیٹا، تم ٹھیک تو ہو نا؟” اسکے بابا نے پھر نرمی سے پوچھا۔

“جی بابا۔۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔” اس نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا، مگر دل کے اندر ایک طوفان ٹوٹ رہا تھا۔

اس کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے آنسو صرف وہی جانتی تھی۔
═══════❖═══════
(حال)
وہ گہری نیند میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اچانک دل کو جیسے جھٹکا لگا۔ کسی کے وجود کا احساس ہوا۔

آنکھیں کھلیں تو اندھیرے میں ایک سایہ بالکل قریب کھڑا تھا۔
عبیرہ کے لبوں سے چیخ نکلنے ہی والی تھی کہ ایک بھاری ہاتھ اس کے منہ پر آ گیا۔ آواز حلق میں ہی دب کر رہ گئی۔

وہ ساکت آنکھوں سے مقابل کو دیکھنے لگی۔

“خاموش رہو!”
سرگوشی کی تیز کاٹ دار آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ “اگر آواز نکلی تو مجھے دیر نہیں لگے گی تمہارے ماں باپ کو ختم کرنے میں۔ جو اس وقت اپنے کمرے میں چین کی نیند سو رہے ہیں۔۔۔”

عبیرہ کا دل دھڑکنا بھول گیا۔
یہ آواز، یہ قریب آنے کی جرأت، یہ دھمکی۔۔۔ وہ پہچان گئی تھی۔

“گھٹیا انسان! تم۔۔۔ تم میرے ماں باپ کے کمرے تک جا پہنچے ہو؟”
وہ دانت پیستے ہوئے بمشکل بولی۔

“زبان سنبھال کر بات کرو، عبیرہ خان۔ مجھے بدزبان عورتوں سے سخت نفرت ہے۔”
اس نے سرد لہجے میں کہا اور اس کے جبڑے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔

عبیرہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔
رات کے سناٹے میں کسی اجنبی کا اس قدر قریب ہونا، اس کے وجود کو خوف سے کپکپا رہا تھا۔

“رہی بات تمہارے ماں باپ کی۔۔۔ تو یقین رکھو، میں نے ان کے کمرے میں کچھ دیر گزارا ہے۔ وہ نیند میں پرسکون تھے۔”
اس کی آواز میں سفاکیت کا زہر گھلا ہوا تھا۔
عبیرہ کے چہرے پر غصے اور خوف کا امتزاج تھا۔ اس نے اسے دھکیلنے کی کوشش کی مگر اس کے ہاتھ مضبوطی سے جکڑ لیے گئے۔

دل ہی دل میں عبیرہ نے آنکھیں بند کیں۔
“یا اللہ۔۔۔ مجھے بچا لے۔ مجھے حوصلہ دے۔۔۔”

اندھیرے میں، دھمکیوں اور قریب آتے قدموں کے بیچ، اس کی خاموش دعائیں بلند ہو رہی تھیں۔
“تمہاری میرے ساتھ آخر دشمنی کیا ہے؟ کیوں میری جان کا عذاب بنے ہوئے ہو؟”
عبیرہ نے سرخ پڑتے چہرے اور کانپتے وجود کے ساتھ کہا۔
اس کی آواز دبک کر نکلی، مگر اس میں خوف اور احتجاج دونوں کی کاٹ تھی۔

وہ بار بار خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر اس کی بے بسی پر جیسے اندھیری رات نے بھی گواہی دے دی ہو۔
“دشمنی نہیں، سویٹ ہارٹ۔۔۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔”
آریان کے لہجے میں سرد مہر شفقت تھی، “مسئلہ یہ ہے کہ تم مجھے کبھی موقع ہی نہیں دیتیں۔ ہر بار خود کو مجھ سے دور کر لیتی ہو۔ کتنی مشکلوں کے بعد تم تک پہنچتا ہوں۔۔۔”

وہ جھکنے کو ہوا ہی تھا کہ عبیرہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے اس کا رخ پیچھے دھکیل دیا۔ اس کی جرات کو عبیرہ کی ہمت نے روک دیا۔

“یہ گھٹیا حرکتیں میرے ساتھ کرنے کی کوشش مت کرنا!”
وہ سخت لہجے میں بولی۔

آریان کی آنکھوں میں سفاکی ابھری۔
“بھول گئی ہو؟ بیوی ہو تم میری۔ تم پر میرا حق ہے۔”
اس کے الفاظ میں ایسا زہر گھلا تھا کہ عبیرہ کے دل پر لرزہ طاری ہو گیا۔
“ذلیل انسان!” عبیرہ کی آواز کپکپا گئی۔
“زبردستی نکاح کر کے تم مجھ پر حق جتانے کی کوشش مت کرو۔ نکاح ایک مقدس رشتہ ہے، جو صرف ایک دوسرے کی رضا سے جڑتا ہے۔ اس نکاح میں میری رضا نہیں تھی۔۔۔ بالکل بھی نہیں!”
اس کے چہرے پر غصہ اور آنکھوں میں بے بسی تھی۔۔

“تمیز سے بات کرو عبیرہ!”
آریان کی آنکھوں میں خطرناک سی سختی اتر آئی تھی۔
“وہ دن یاد ہے نا۔۔۔ جب تم نے اپنے باپ کو گولی لگتے دیکھی تھی؟ یہ صرف بازو کو چھو کر گزری تھی۔ اگلی بار میں سیدھا دل کے پار بھی کر سکتا ہوں۔۔۔”

وہ دھیمے مگر زہر بھرے لہجے میں بولا۔ عبیرہ کے وجود پر ایک لرزہ سا طاری ہوا۔

آریان اس کے قریب جھک آیا۔ اس کی سانسوں میں ایک اجنبی سا بوجھ، ایک اجنبی سی ضد اتر آئی تھی۔
“تم چاہو یا نہ چاہو، نکاح تو ہو چکا ہے۔۔۔ اور نکاح کے بندھن کو میں اپنا حق سمجھتا ہوں۔”

“تمہارے جیسا کمینہ اور گندا انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔”
وہ نفرت سے اسے گھور رہی تھی۔

اس کا اتنا قریب ہونا عبیرہ کو زہر لگ رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ چیخ مار کر سب کچھ توڑ دے، مگر وہ جانتی تھی۔۔۔وہ آزاد نہیں ہے۔

ماں باپ کا خیال آتے ہی اس کی آواز گلے میں اٹک گئی۔
وہ کمزور نہیں تھی۔۔۔ مگر ان کے لیے مجبور تھی۔

وہ صفاکی کیا ہے، عبیرہ اچھی طرح جانتی تھی۔
ذرا سا بھی انکار۔۔۔ اور سب کچھ بکھر سکتا تھا۔۔
“اپنی زبان کو لگام دو، عبیرہ آریان خان!”
اس کے ہاتھ کی سختی اور لفظوں کا زہر ایک ساتھ محسوس ہو رہا تھا۔

“میں نہیں ہوں عبیرہ آریان خان! مت جوڑو اپنے گندے نام کے ساتھ میرا نام!”
وہ اپنی جان چھڑواتے ہوئے غصے سے بولی۔
آنسو آنکھوں میں بھر آئے تھے، مگر وہ گرنے نہیں دے رہی تھی۔ غصے کے پیچھے خوف چھپا ہوا تھا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
وہ جانتی تھی، یہ شخص جو کہتا ہے، وہ کر بھی گزرتا ہے۔ اور یہی سوچ اس کے وجود کو ہلا رہی تھی۔
پتہ نہیں عبیرہ میں یہ ہمت کہاں سے آ گئی تھی۔ وہ تو ہمیشہ ڈری سہمی رہنے والی لڑکی تھی۔

اس کے ہاتھوں کی سختی سے عبیرہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
جبڑے کو اتنی زور سے دبایا گیا تھا کہ اب تک درد محسوس ہو رہا تھا۔

“سویٹ ہارٹ، نام تو تمہارا میرے ساتھ جڑ ہی چکا ہے۔ اور جہاں تک بات ہے کہ میرا نام گندا ہے۔۔۔ تو اب تمہیں اسی گندے نام اور گندے شخص کے ساتھ پوری زندگی گزارنی ہے۔”
وہ اس کی بے بسی پر مسکرا رہا تھا۔

“دور رہو مجھ سے!”
عبیرہ نے دھکا دے کر اسے پیچھے کرنا چاہا۔

“تمہاری یہ زبان درازی مجھے بالکل پسند نہیں۔ خود کو بدل لو۔ بہت جلد تم میری قید میں آنے والی ہو۔ یہ زبان اور یہ الفاظ تم پر ہی بھاری پڑیں گے۔”
اس کے لہجے میں سختی اور آنکھوں میں ڈراؤنی چمک تھی۔
” تمہیں اپنے ہر ایک لفظ کا حساب دینا ہوگا۔”

وہ ایک لمحے کو رکا، پھر سرد مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
“جانتی ہو تم، آریان خان کس نام کا طوفان ہے؟ ابھی تم اس سے واقف نہیں۔ خوش نصیب ہو کہ نکاح کے بندھن میں تمہارے قریب آیا ہوں… ورنہ آریان خان کو کسی حسین چہرے تک پہنچنے کے لیے کبھی نکاح کا سہارا نہیں لینا پڑا۔”
وہ جملہ کہہ کر آریان خاموش ہو گیا۔ دھمکی آمیز لہجہ فضا میں دیر تک گونجتا رہا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ اٹھ کھڑا ہوا، جیسے اپنے ہی کہے الفاظ کے بوجھ سے زمین ہلکی ہو گئی ہو۔
“اپنے ماں باپ کو فوراً بتا دو کہ تم آریان خان سے محبت کرتی ہو… اور میرے بغیر جی نہیں سکتیں۔”
وہ کھڑا ہوا، شرٹ کے بٹن درست کیے، اور اس کی بے بسی پر ہلکی سی ہنسی چھوڑی۔۔۔ایسی ہنسی جس میں رعونت بھی تھی اور دھمکی بھی۔
“میں ایسا کچھ نہیں کہوں گی!”
وہ یکدم بستر سے اٹھی اور سیدھی کھڑی ہو گئی، جیسے اپنی کمزوری پر مہر لگنے سے پہلے ہی انکار کو ڈھال بنا لیا ہو۔
“سویٹ ہارٹ… یہ لفظ تمہارے لبوں پر آنا ہی چاہیے، ورنہ انجام تم خوب جانتی ہو۔”
وہ اچانک آگے بڑھا، اس کی کمر پر گرفت مضبوط ہوئی اور ایک جھٹکے سے اسے قریب کر لیا۔ اس اچانک کی سختی نے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر دوڑا دی۔

آریان کی آنکھوں میں خطرناک سی چمک تھی۔
“سچ ہے، تم مجھ سے دس برس چھوٹی ہو… مگر اتنی نادان بھی نہیں کہ بات کی تہہ تک نہ پہنچ سکو۔ تم جانتی ہو، اگر چاہوں تو ابھی اور اسی لمحے بہت کچھ بدل سکتا ہے۔”

“مگر ابھی آریان خان کا موڈ نہیں… اور آریان خان بغیر موڈ کے کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔”
اس کے لہجے میں ایسی حقارت تھی جو روح تک کو چیر دے۔ وہ اتنا قریب آ کھڑا ہوا کہ عبیرہ کو اس کی گرم سانسوں کا لمس اپنے چہرے پر جلتا محسوس ہونے لگا۔

اس کی نظریں خطرناک حد تک گہری تھیں۔ وہ جھکا اور اپنی بے دردی کی جھلک دکھا گیا۔ عبیرہ کے لبوں سے دبی ہوئی چیخ نکلی، مگر وہ اپنی پوری طاقت سے اُسے حلق ہی میں روک گیا۔ درد کی شدت نے آنکھوں میں آنسو بھر دیے۔

آریان نے سرد لہجے میں کہا۔
“یہ تو صرف ایک ڈیمو ہے، مسز آریان خان۔ مجھ میں اس سے کہیں زیادہ زہر چھپا ہے… تیار رہنا میری نفرت اور شدتوں کے لیے۔”

چہرے پر تمسخر بھری مسکراہٹ اور آنکھوں میں بے باکی کی جھلک لیے، وہ دھمکی آمیز انداز میں بول کر جھٹکے سے پیچھے ہٹ گیا۔

عبیرہ کی آنکھوں میں آنسو لرز رہے تھے، وہ بے بسی کے ساتھ آریان کو دیکھ رہی تھی۔

وہ مسکرایا، جیسے کسی کھیل سے محظوظ ہو رہا ہو۔
“سویٹ ہارٹ، یوں آنکھیں نہ پھاڑو… کہیں دل ہی نہ ہار بیٹھو۔”
پھر ایک آنکھ کے اشارے کے ساتھ ہنسا۔۔۔وہ ہنسی جس میں کشش بھی تھی اور بے رحمی بھی۔

“آریان خان جانتا ہے وہ خوبصورت ہے… اور جانتا ہے کہ لڑکیاں اس پر فریفتہ ہو جاتی ہیں۔”
وہ بے پروائی سے کہہ کر پیچھے ہٹا، جیسے عبیرہ کو اس کے اپنے ہی غصے اور کرب میں جلنے کے لیے چھوڑ رہا ہو۔

اور حقیقت یہی تھی۔۔۔آریان اپنی دلکشی سے سب کو مسحور کر دیتا۔ اس کی شخصیت کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دیتی۔ مگر اس چمک کے پیچھے ایک سیاہی تھی، ایک اندھیرا، جو صرف قریب جانے والوں پر آشکار ہوتا۔
وہ وجیہہ تھا، مگر ٹوٹا ہوا۔ پرکشش تھا، مگر زہر سے لبریز۔ باہر سے وہ ہر دلعزیز لگتا، مگر اندر ہی اندر اپنی خالی راتوں کو شراب اور سگریٹ سے بھرنے والا۔ اور حسین چہروں کو محض کھیل سمجھ کر قریب لانا اور پھر تڑپا کر دور پھینک دینا… یہی اس کی اصل پہچان تھی۔

عجیب بات تھی… آریان خان جیسے شخص کا بھی ایک اصول تھا۔
دنیا جسے آوارگی اور رنگینیوں میں ڈوبا ہوا جانتی تھی، اُس کے قریب آنے کی بھی ایک اپنی حد تھی۔ وہ فاصلے توڑ سکتا تھا، لیکن ایک حد کے بعد رُک جانا اُس کا قانون تھا۔ وہ قانون، جس کی منطق شاید صرف وہی جانتا تھا۔

لوگ حیران ہوتے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ ایک ایسا شخص جو ہر دن ایک نئے چہرے کے ساتھ دکھائی دیتا ہے، وہ بھی کسی حد کا پابند؟ مگر حقیقت یہی تھی۔۔۔آریان خان نے اپنی زندگی میں کئی سرحدیں پار کیں، لیکن ایک سرحد تھی جسے اُس نے کبھی نہیں توڑا۔

اور آج… لمحہ مختلف تھا۔
عبیرہ کے قریب آتے ہوئے پہلی بار اُس کے دل میں ایک انجان سا جذبہ جاگا۔ ایک احساس جسے وہ چاہ کر بھی ماننے کو تیار نہ تھا۔ وہ خود کو اس کمزوری سے الگ رکھنا چاہتا تھا، اور دوبارہ کبھی ایسے جذبے کو چھونے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا تھا۔

اُس کی آنکھوں میں سرد نفرت کی لہر تھی، وہ نفرت جو صرف عبیرہ ہی نہیں، اُس کے پورے خاندان کے لیے تھی۔
عبیرہ کی نگاہوں میں انکار جھلکا اور اُس کی آواز میں خراش۔

“آریان خان… ابھی میرے اتنے برے دن نہیں آئے کہ میں اُن لڑکیوں میں شامل ہو جاؤں جو تم پر اندھا دھند دل ہار بیٹھتی ہیں۔”

“مرتی ہوں گی لڑکیاں تمہارے حسن پر، تمہاری شخصیت پر… مگر مجھے ان میں شامل کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔”
عبیرہ نے دوپٹہ سنبھالتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز مضبوط دکھائی دیتی تھی، مگر اندر ہی اندر لرز رہی تھی۔

وہ جانتی تھی یہ سب ایک فضول کوشش ہے۔ اس کی بے باک نظروں کے حصار سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ چاہ کر بھی خود کو چھپا نہیں سکتی تھی۔

عجیب سا احساس تھا۔۔۔اپنے ہی گھر کی دیواریں اجنبی لگنے لگی تھیں، اور اپنے ہی کمرے میں وہ غیر محفوظ محسوس کر رہی تھی۔ جیسے ہر سانس پر کسی اور کا اختیار ہو۔

“کسی خوش فہمی میں مت رہنا…” وہ آہستہ مگر کاٹ دار لہجے میں بولا۔
“میں نے کبھی تمہیں اُن لڑکیوں میں شمار نہیں کیا۔ وہ لڑکیاں میرے لیے دل بہلانے کا سامان ہیں… اور تم؟ تم تو میرے لیے نفرت کا دوسرا نام ہو۔ تمہارا وجود، تمہارا چہرہ… سب میرے لیے ناگواری کا باعث ہے۔

مگر یہ مت سمجھنا کہ تم خود کو مجھ سے دور رکھ سکتی ہو۔ چند دن کی مہلت ہے تمہیں۔ جتنی آزادی جینی ہے، جی لو… پھر تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ تمہارا شمار کس فہرست میں ہوتا ہے۔ آریان خان کس عذاب کا نام ہے، یہ تمہیں بہت جلد سمجھ آجائے گا۔”

اُس کی آواز میں ایسی دہشت تھی کہ عبیرہ کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہو گئیں۔ اس کے پورے وجود پر کپکپی طاری تھی۔ وہ جتنا دلکش اور پرکشش تھا، اتنا ہی خوفناک اور دبنگ بھی۔ اس کی شخصیت میں وہی سختی تھی جو ایک پٹھان کے خمیر میں ڈالی جاتی ہے۔

“یاد رکھو، ایک بات تمہیں صاف سن لینی چاہیے۔ اپنے والدین کو جلد بتا دو… کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو اور میرے بغیر نہیں جی سکتیں۔”

آریان کی بات ختم ہوئی تو کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ عبیرہ نے سر جھکا لیا، مگر اس کے کانوں میں وہ الفاظ اب بھی گونج رہے تھے۔ “تم مجھ سے محبت کرتی ہو اور میرے بغیر نہیں جی سکتیں…”

دل کی دھڑکن جیسے پسلیوں کو توڑ کر باہر آنا چاہتی تھی۔ وہ اپنے ہی وجود میں قید ہو گئی تھی۔ اس کا کمرہ، جو کبھی اس کے سکون کی جگہ تھا، اب قید خانہ محسوس ہو رہا تھا۔
اسے یوں لگا جیسے کوئی دیواریں اس پر سمٹ رہی ہوں، جیسے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہو۔ آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی، مگر وہ جانتی تھی کہ آنسو بہا دینا کمزوری کا اظہار ہوگا۔۔۔اور وہ اپنی کمزوری اس شخص کو دکھانے کے حق میں نہیں تھی۔

عبیرہ کے دل کے اندر خوف اور احتجاج دونوں ساتھ ساتھ پل رہے تھے۔ وہ ڈری ہوئی بھی تھی اور اپنی جگہ پر ڈٹنے کا ارادہ بھی کر رہی تھی۔ لیکن ایک بات اس نے تہہ دل سے مان لی تھی۔آریان خان کے ساتھ مقابلہ آسان نہیں ہونے والا۔

“میں ایسا کچھ نہیں کہوں گی۔” عبیرہ نے سر جھکائے، مگر آواز میں فیصلہ واضح تھا۔
“اگر تمہیں لگتا ہے کہ دھمکیوں سے تم مجھ سے وہ سب کہلواؤ گے جس سے تمہارا فائدہ ہو، تو یہ تمہاری بھول ہے۔ میں کبھی تمہیں یہ موقع نہیں دوں گی… اور تم جیسے شخص کو پسند کرنا؟ یہ ممکن ہی نہیں۔”

سویٹ ہارٹ… یہ لفظ تمہیں کہنا ہی پڑے گا، ورنہ انجام تم جانتی ہو۔
آریان خان اتنا قریب کھڑا تھا کہ عبیرہ اپنی جگہ پر جم کر رہ گئی۔ اس کے قریب ہونے کا احساس عبیرہ کے پورے وجود کو جھنجھوڑ رہا تھا، اور اس کی بے باکی بھرے لہجے نے اسے اندھیرا محسوس کرایا۔

“سویٹ ہارٹ، مجھے ضدی لڑکیاں بہت پسند ہیں…”
آریان نے ایک لمحے کے لیے فاصلے کو پوائنٹ آؤٹ کیا، اور عبیرہ کو یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ وہ ہر لمحے قابو میں ہے۔ عبیرہ کی پلکوں سے آنسو بے قابو ہو کر بہنے لگے، دل کی دھڑکن تیز اور سانسیں بے ترتیب۔ وہ جانتی تھی کہ یہ لمحہ صرف ایک ڈیمو ہے، اور آریان خان کے ارادے ابھی اس کے سمجھ سے باہر ہیں۔

“تمہاری میرے ساتھ کیا دشمنی ہے؟ میں تو تمہیں جانتی بھی نہیں…”
عبیرہ نے ہچکیوں کے ساتھ کہا، مگر اس کی آواز لرز رہی تھی۔
آریان خان نے اس کے درمیانی فاصلے کو ایک لمحے کے لیے پوائنٹ آؤٹ کیا اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ۔۔

“تیار رہو… ہماری تیسری ملاقات میں بہت خاص اور تمہارے ساتھ کیا دشمنی ہے بتانے والا رخ آئے گا، انتظار کرنا سب کچھ دلچسپ ہوگا۔”

عبیرہ کے دل میں خوف اور بے بسی ایک ساتھ اُبھر رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ گھر والوں کو کیسے بتائے، اور وہ کیسے خود کو اس غیر متوقع بندھن سے آزاد کر سکتی ہے۔ ہر لمحہ آریان خان کے الفاظ، اس کی دھمکی، اور اُس کے رعب نے عبیرہ کو ساکت کر کے رکھ دیا تھا۔

آریان اپنی دھمکی کو پورا سناتے ہوئے چہرے پر ایک شیطانی سا مسکراہٹ سجائے، خاموشی کے ساتھ کھڑکی کی طرف بڑھ گیا۔
اور جیسے ہی وہ وہاں پہنچا، وہ لمحوں میں غائب ہو چکا تھا۔

عبیرہ رہ گئی۔۔۔اس پورے منظر کو ذہن میں گھماتے ہوئے، دل میں خوف اور بے بسی کے ساتھ۔
ہر لمحہ اُس کے دل پر بھاری تھا، اور اُس کے دماغ میں بار بار وہ الفاظ گونج رہے تھے جو اسے ہچکیاں دلا رہے تھے۔

وہ بیڈ پر بیٹھی، سر دونوں ہاتھوں میں دبا کر ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی،
“اللہ جی… مجھے اس مصیبت سے نکال دیں…”
عبیرہ نے سر جھکائے، ہچکیوں کے ساتھ روتے ہوئے دعائیں مانگیں۔
“میں نہیں جانتی کہ اس کی میرے ساتھ کیا دشمنی ہے۔ ایسا گھٹیا اور ذلیل انسان… میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ اللہ میری عزت کو محفوظ رکھنا۔ میرے بابا ہمیشہ سر اٹھا کر چلتے ہیں، کہیں میری وجہ سے ان کا سر نہ جھک جائے۔ اے اللہ، اس عذاب کا رخ موڑ دے۔”

اس کی آنکھوں میں خوف اور اضطراب دونوں ایک ساتھ جھلک رہے تھے۔ ہر سانس کے ساتھ اُس کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی، اور وہ محسوس کر رہی تھی کہ اس کی عزت خطرے میں ہے۔
═══════❖═══════
تبریز خان نے بازو میں اچانک درد محسوس کیا اور آنکھ کھل گئی۔ مدھم روشنی میں، انہوں نے اپنی پیاری بیوی کو ایک غیر آرام دہ انداز میں سوتے ہوئے دیکھا۔ سر تکیے سے ٹکراتا رہا، کیونکہ اکثر اسی طرح سونے سے گردن میں درد ہو جاتا تھا۔

اپنے اس احساس کو دل میں رکھتے ہوئے، وہ نرمی اور محبت سے بھرے اپنے مخصوص لہجے میں اسے آواز دینے لگے، مگر وہ تو گھبرا کر اٹھی تھی۔

“خانم، میری جان خانم…”

“جی… جی…”
“کیا ہوا؟ کہیں درد تو نہیں ہو رہا؟”
“میری دلربا، میری حسین خانم، درد تو نہیں ہو رہا؟ آپ بہت انکمفرٹیبل پوزیشن میں سو رہی ہیں۔”

“میرا بازو ڈاکٹر صاحب نے باندھ کر بھیجا ہے، اب خود سے آپ کا سر سیدھا نہیں کر سکتا تھا، اس لیے آواز دینا پڑی۔”
“آپ کیوں ڈر جاتی ہیں؟”
“نہیں، مجھے لگا کہ شاید آپ کے بازو میں درد ہو رہا ہو۔”

اسی لیے ڈر گئی تھی۔ وہ خوفزدہ ہو کر بیڈ پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔ عبیرہ کی ماں اکثر، اس کے بابا کے بلانے پر، یوں ہی خوفزدہ ہو کر نیند سے بیدار ہو جاتی تھیں۔

“میری دلربا خانم، تمہارے ہوتے ہوئے کوئی درد میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔”

تبریز خان نے ہاتھ پھیلا کر، آنکھ کے اشارے سے اسے اپنے قریب آنے کو کہا۔

اس نے خاموشی سے قدم بڑھائے اور بازو پر سر رکھتے ہوئے اس کے قریب ہو گئی، جیسے محبت کی نرم چھاؤں میں پناہ لے رہی ہو۔

اولاد جوان ہو چکی تھی، مگر تبریز خان کی محبت آج بھی اتنی ہی تازہ اور بے رنگ تھی جتنی برسوں پہلے تھی۔

آج بھی وہ اسے قریب رکھے بغیر آرام نہیں کرتا تھا، ہر لمحہ اس کی موجودگی کی قدر میں اضافہ کرتا۔

اس کی خوبصورت خانم اکثر کہتی، “عبیرہ اور ماحد بڑے ہو چکے ہیں، اب تھوڑا خود کو بدل لیجیے۔”

مگر تبریز خان ہمیشہ مسکرا کر جواب دیتے: “کہاں لکھا ہے کہ وقت گزرنے سے محبت ختم ہو جاتی ہے؟ جب خدا نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا، تو پھر مجھے محبت کرنے سے کیوں روکا جائے، خانم؟”

تبریز خان کی محبت کے آگے، خانم ہمیشہ نرم دل ہو جاتی تھی۔
یہ محبت اتنی خالص اور پاکیزہ تھی کہ کبھی کبھی خانم کو اپنے دل کی گہرائیوں میں خود پر رشک آ جاتا تھا۔

وہ ہمیشہ سوچتی رہی کہ کہاں تھی وہ اتنی خوش نصیب کہ تبریز خان جیسی محبت کے قابل ہو۔
اپنے الجھے ہوئے ماضی کے تمام راز اس کے علم میں ہونے کے باوجود، وہ اسے اپنی حفاظت میں رکھتا ہے؛ وہ محسوس کرتی تھی کہ یہاں تک کہ ایک نرم ہوا کا جھونکا بھی اس کے سکون میں خلل نہ ڈال سکے۔

، تبریز خان نے ہمیشہ کی طرح اسے سوچوں میں الجھا دیکھ، اس کا نام پیار سے پکارا۔

خانم”
سامنے سے اسی ادب اور نرمی کے ساتھ جواب آیا۔

“جی…”
“قربان جاؤں تمہاری جی پر۔”

وہ ہلکی سی ہنسی کے ساتھ مسکرائی۔

“تمہیں پتہ ہے، تمہارا میری زندگی میں آنا خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔”
اس نے نرمی سے اسے قریب کیا، اور اس کی موجودگی کی خوشبو اور قربت نے دل کو اتنا جکڑا کہ خانم شرما کر آنکھیں بند کر لیا۔

آج بھی، اس شخص کی محبت میں وہ شدت اور احترام موجود تھا کہ خانم دل سے محسوس کر کے آنکھیں بند کر لیا کرتی۔

تبریز خان اتنا خوب برو اور خوبصورت شخص تھا کہ اسے دیکھ کر بالکل نہیں لگتا تھا کہ اس کی جوان اولاد ہے۔
جبکہ خانم کے چہرے پر اب عمر کے رنگ ظاہر ہونے لگے تھے۔

“خانم، پتہ ہے… کبھی کبھی خدا ہمیں بن مانگے ایسی خوبصورت نعمت سے نواز دیتا ہے، جس کا شکر اگر ساری زندگی بھی ادا کیا جائے تو کم ہے۔ اور میری زندگی میں وہ تحفہ… آپ ہو۔”
تبریز اس کے ہاتھ کو تھامے ہوئے تھا، اور ہر لمحے میں محبت اور حفاظت کا احساس جاگ رہا تھا۔
“خان، اتنی محبت مت کیجیے۔ کبھی کبھی، آپ کی بے انتہا محبت کو دیکھ کر مجھے ڈر سا لگنے لگتا ہے…”
“اور پھر، میری ہی نظر آپ پر ٹھہر جاتی ہے۔”
“خانم، تمہاری نظر مجھے کبھی نہیں لگ سکتی… ایسا کبھی مت سوچا کرو۔”

“یہ سب فضول کے وسوسے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔”
“میری نظر آپ کو لگ گئی۔”
“جب آپ جا رہے تھے، تو میں نے دل میں سوچا کہ میں کتنی خوش قسمت ہوں…”

جو مجھے آپ کا ساتھ ملا، میں نے نظریں بھر کر، غور سے، آپ کو جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
اسی وقت دل میں ڈر سا اٹھا کہ کہیں آپ کو میری نظر نہ لگ جائے، اور میرا یہ خوف سچ ثابت ہوا… آپ کو نظر لگ گئی۔

وہ ایموشنل ہو کر، ہمیشہ کی طرح، رو پڑی۔
اپنے مضبوط سینے سے چھپتے ہوئے، وہ خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی۔
یہ شخص کا سینہ برسوں سے اس کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تھا، جہاں وہ سب غم اور تناؤ بھول جایا کرتی تھی۔
اس کی محبت کا جتنا بھی شکر ادا کرتی، کم تھا۔
تبریز اس کے ہر درد کی دوا تھا۔ خان نے اپنی محبت سے، خانم کی آنکھوں کے ہر آنسو کو چُرا لیا تھا۔

“خانم، ایسے وہم مت پالو کرو۔ پیار کرنے والوں کی بری نظر کبھی نہیں لگتی، اس بات پر یقین رکھو۔”

“تمہاری نظریں جب مجھ پر مرکوز ہوتی ہیں، خانم، میرے اندر جینے کی تمنا بڑھ جاتی ہے۔ تمہاری نظریں جب مجھ پر پڑتی ہیں، تو مجھے اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ جس دن تم مجھے نظر نہیں آتیں، مجھے وہ دن اچھا نہیں لگتا۔”

“دکھ اور سکون زندگی کے سفر میں لازم ہیں، اپنے ہر دکھ پر خود کو قصوروار مت سمجھو۔ ایسی باتیں سوچ کر اپنے آپ کو تکلیف نہ دو۔”

“خانم، اگر الفاظ میں اتنی طاقت ہوتی، تو میں تمہیں بتاتا کہ تم میرے لیے کیا ہو۔ مگر جب بھی تمہاری محبت میں تمہاری تعریف کرنے کی کوشش کرتا ہوں، الفاظ ترتیب میں نہیں آ پاتے۔ میری تعریف میں ہر لفظ چھوٹا محسوس ہوتا ہے، لگتا ہے الفاظ میں وہ قوت نہیں کہ میری محبت کو تمہارے سامنے پیش کر سکیں۔”

“تم جانتی ہو، میں لفظوں کے ساتھ جیتنے میں ہمیشہ سے ہی ناکام رہا ہوں۔ اور میری اسی کمزوری کی وجہ سے کچھ لوگوں نے یقین نہ کر کے مجھے توڑ دیا۔ اگر تم نہ ہوتیں، تو میری ہستی بھی شاید ادھوری رہ جاتی۔ تم ہی وہ ہو جسے دیکھ کر میں نے پھر سے جینا سیکھا…”📿

وقت کی آزمائش پر پورا نہ اترنے والے لوگ خود تو مجھ سے دور ہو گئے، مگر جاتے ہوئے میرے دل کے ٹکڑے کو بھی ساتھ لے گئے۔
وہ ٹکڑا آج بھی میری یادوں میں زندہ ہے، جسے پانے کے لیے دل کبھی کبھی تڑپ اٹھتا ہے۔

تبریز خان ہمیشہ کی طرح اپنے دل کے اس ٹکڑے کے بارے میں سوچ کر افسردہ ہو گیا۔
اور جب خان افسردہ ہوتا، خانم ہمیشہ خود کو قصوروار سمجھتی، آخر سب کچھ اس کی وجہ سے ہی تو ہوا تھا۔

تبریز خان نے خانم کو ہر مشکل سے بچاتے ہوئے خود اپنے دل میں صبر کی آگ جلا دی۔
وہ اسے محفوظ دیکھ کر بھی اپنی تکلیف محسوس کرتا، مگر کبھی اپنی بے گناہی کا دعویٰ نہیں کرتا۔

اگر تبریز خان چاہتا تو وہ خانم کو اپنا قصوروار ثابت کر سکتا تھا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔
اس نے اسے خوبصورت زندگی دی، محبت دی، عزت دی۔
ایسے شخص کے لیے ہمیشہ خانم کے لبوں سے دعائیں نکلتی رہیں، اور دل سے اس کی قدر بڑھتی گئی۔

“خان، آپ بہت اچھے ہیں…”
“کتنے اچھے ہیں… اتنے کہ میں بھی الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔”

“اگر الفاظ سے نہ بھی بتا سکیں، خانم، تو دل کی بات دل سے دل تک پہنچا دیں… یقین کریں، خان کے لیے یہ سب سے خوشی کا لمحہ ہوگا۔”

تبریز خان نے اسے افسردہ دیکھتے ہی فوراً بات کا رخ بدل دیا۔
وہ جانتا تھا کہ اس بات کا اثر یہ ہوگا کہ خانم خود کو قصوروار ٹھہرائے گی، اور اسے افسردہ دیکھنا تبریز خان کے دل کو پسند نہیں تھا۔خان کا شوخ جملہ خانم کو شرمانے اور مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔

خان تھوڑا مسکرا کر خاموش ہو گیا۔
“خان… شرم کیا کریں…” خانم نے سر ہلکا سا جھکاتے ہوئے کہا، آنکھوں میں ہلکی سی شرم اور ہچکچاہٹ تھی۔
“کتنی بار کہا ہے… ہمارے بچے بڑے ہو گئے ہیں، اور ہم بھی اب بوڑھے ہونے لگے ہیں۔ اب ہمیں ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔”
“خانم، تم ‘بوڑھا’ کہہ کر میری توہین مت کیا کرو۔ خان نہ کبھی بوڑھا تھا، نہ ہی ہو سکتا ہے… اور تمہیں دیکھ کر ہمیشہ میرا دل خوشگوار کیفیت میں رہتا ہے۔”

خان نے سر ہلکا سا اٹھاتے ہوئے، خانم کے شرمائے ہوئے چہرے پر نگاہ ڈالی اور محبت بھری نظر سے اسے قریب کیا۔

“خان، آپ کا بازو دکھ جائے گا، پھر درد شروع ہو جائے گا… سو جائیں۔”

“خانم، تم میرا سکون ہو… کچھ دیر سکون پا لو۔”

کتنے دنوں بعد گھر لوٹا ہوں، اور یہ کمبخت درد ہاتھ میں ہی کیوں ہے ؟ تبریز خان نے اب افسوس زیادہ چہرہ بناتے مسکرا کر کہا۔۔
“اتنا پریشان اور دکھی ہونے کی ضرورت نہیں ہے، میں یہی ہوں، آپ کے پاس ہر وقت، ہر لمحہ۔”

وہ مسکراتے ہوئے نرمی سے بولی،اپنا سر اس کے کاندھے سے ٹکائے ہوئے تھی۔

اس لمحے، خاموشی میں بھی محبت اور سکون کا احساس ہر سانس میں موجود تھا۔ خانم نے دل ہی دل میں محسوس کیا کہ تبریز خان کی موجودگی ہی سب کچھ ہے، اور اسی سے اسے سکون ملتا ہے۔

خان کے چہرے پر نرم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے خوشی اور اطمینان کے ساتھ اس کی کمر پر ہاتھ رکھا اور ماحول میں سکون محسوس کیا۔
“شکریہ، خانم، میرا سکون بننے کے لیے۔”

خان نے نرمی سے اس کے بالوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے قریب محسوس کیا۔
وہ خاموش رہی، مگر خان کا دل اس کے دل کی ہر کیفیت، ہر احساس اور ہر خاموشی کو بھرپور طریقے سے محسوس کر رہا تھا۔۔

خان کی محبت پر وہ دل سے رشک محسوس کرتی تھی، مگر یہی محبت کبھی کبھی اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتی۔ جیسے وہ اس لمحے دوبارہ اپنے اندر کی ندامت میں ڈوبنے لگی تھی۔

عجیب بات ہے۔
وہ لوگ جن کے ساتھ برسوں کا سفر طے کیا جاتا ہے، جن کی ہنسی اور خاموشی میں اپنی زندگی کا عکس دیکھا جاتا ہے آخر میں وہی لوگ اپنے دل کے دروازے بند کر لیتے ہیں۔

اعتماد کی اینٹوں سے جو محل بنایا تھا، وہ ان کے شک کی ہوا سے ڈھیر ہوجاتا ہے۔ اور پھر، ایک دن، ایک لمحہ، ایک حادثہ کوئی اجنبی سا چہرہ سامنے لے آتا ہے۔ وہ جو آپ کی کہانی سے ناآشنا ہے، آپ کی کرتی سانسوں سے نا آشنا ہے۔ مگر وہی اجنبی ایک نظر میں وہ یقین دے جاتا ہے جو برسوں کی قربت بھی نہ دے سکی۔
زندگی شاید اسی نام کا امتحان ہے
کہ رشتے وقت کے بوجھ سے نہیں دل کے وزن سے ٹوٹے جاتے ہیں اور کبھی دل کی ترازو میں ایک لمحے کے برسوں بھاری پڑ جاتا ہے۔

اور ایک ایسا ہی لمحہ میری زندگی میں آیا، جس نے پل بھر میں سب کچھ بدل دیا۔۔۔میری پہچان، میرا نصیب، سب کچھ۔ دل کے اندر کے زخم، جو ماضی کے تلخ لمحوں کی صورت میں بار بار اُبھرتے تھے، مگر اچانک ایک ہلکی سی روشنی کے لمس سے نرم ہو گئے۔۔وہ روشنی تبریز خان تھا۔

وہ تبریز خان کے ہاتھ کو اتنی مضبوطی سے تھامے بیٹھی، جیسے اسی میں اس کی حفاظت چھپی ہو، جیسے اگر یہ ہاتھ چھوڑ جائے تو سب کچھ، سب کچھ، زندگی ہی ہاتھوں سے پھسل جائے۔
ہر سانس میں خوف اور تسکین ایک ساتھ گھل مل رہے تھے، اور وہ لمحہ۔۔۔خاموش، مگر مکمل۔۔۔اس کے اندر کی دنیا بدل کر رکھ رہا تھا۔

“جسے محبت کی جائے، وہ نصیب نہ بن سکے، اور جو بن مانگے، بن چاہے مقدر میں محرم بن کے آئے، اسے پورے دل سے قبول کر لینا چاہیے، کیونکہ بے شک وہ انتخاب رب نے تمہارے لیے کیا ہوتا ہے۔”

ہزار سوچیں اس کے دماغ کو جکڑ رہی تھیں، دل ندامت کے سمندر میں ڈوب چکا تھا، مگر پھر خاموشی کی گہرائی نے سینہ چیر دیا۔ الفاظ کے بغیر، وضاحت کے بغیر، تبریز خان کی محبت اسے اندھیروں سے کھینچ کر روشنی کی طرف لے آئی۔ اور اس لمحے، اس نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔

اے اللہ، تیرا شکر ہے! تو اپنے بندوں کے لیے بہترین سوچتا ہے، اور ہم، کم عقل اور غافل، وقت کی گزرگاہوں میں بھٹکتے رہتے ہیں اور نہیں سمجھتے۔ ایک گہری سانس کے ساتھ، اس نے اپنی روح کو سکون کی روشنی میں ڈبو دیا اور نیند کی نرم وادیوں میں بہتی چلی گئی، جیسے ہر درد اور خوف صرف ایک دھندلا سا خواب ہوں۔۔۔
═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *