Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:7

🕯️ صلیبِ سکوت
قسط نمبر:7
✍︎ حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════
“آریان۔,,

“جی۔۔۔”
آریان نے مختصر سا جواب دیا۔

“پوچھ سکتی ہوں، صبح صبح کہاں جا رہے ہو؟”
ماں نے ناشتہ کی میز پر بیٹھے بیٹھے پوچھا، جب اس نے بیٹے کو ٹپ ٹاپ تیار ہو کر جلدی جلدی نکلتے دیکھا۔

“ضروری کام ہے، جا رہا ہوں۔۔۔”
آریان نے قدم اور تیز کر دیے۔

“ایسا کون سا ضروری کام ہے جو تم بغیر ناشتہ کیے گھر سے نکل رہے ہو؟”
بابا افضل خان نے ناشتہ کرتے ہوئے غصیلی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

“اب ہر کام آپ کو بتا کر جانا ضروری ہے؟”
آریان کے لہجے میں تلخی صاف جھلک رہی تھی۔

“ہاں، کیوں نہیں؟ تم تو ہمارے بیٹے نہیں، اپنی مرضی کے مالک ہو۔ نہ وقت پر آنا ضروری، نہ بتا کر جانا۔ تم تو اپنی آوارہ سوچ کے قیدی ہو۔۔۔”
ماں نے تیکھے انداز میں جواب دیا۔

افضل خان اور آریان کا آمنا سامنا اکثر اسی طرح جھگڑوں اور تلخیوں میں بدل جاتا تھا۔ باپ کے لیے بیٹے کے طور طریقے ناقابلِ برداشت تھے۔ آریان کا بنا اطلاع کئی دن یا مہینوں تک غائب رہنا، کسی کی ذرا سی اونچی آواز پر بھڑک جانا۔۔۔یہ سب عادتیں باپ کے لیے وبالِ جان تھیں۔

وہ جانتا تھا کہ بیٹا بزنس کی دنیا میں مقام رکھتا ہے، اس کی کامیابی پر فخر بھی تھا۔ مگر دوسری طرف اس کی ضدی اور عیاش طبیعت نے باپ کے دل کو بار بار زخمی کیا تھا۔

“اگر صبح صبح آپ نے صرف جلی کٹی سنانی ہے تو معاف کیجیے۔ میں دن کی شروعات جھگڑ کر خراب نہیں کرنا چاہتا۔۔۔”
آریان نے سرد لہجے میں کہا اور بڑے بڑے قدم بڑھاتے ہوئے باہر نکل گیا۔

“آریان! واپس آؤ اور ناشتہ کر کے جاؤ۔”
پھوپھو روشانے کی آواز میں خفگی بھی تھی اور اپنائیت بھی۔ انہیں یہ گوارا نہ ہوا کہ آریان یوں خالی پیٹ گھر سے نکل جائے۔

روشانے کا ناشتہ کی میز پر ہونا سب کے لیے حیرت کی بات تھی۔ وہ بہت کم اس محفل میں شریک ہوتیں۔ ایک حادثہ ان کی زندگی پر ایسا قہر بن کر ٹوٹا تھا کہ ان کے دن و رات اجڑ گئے۔ اس صدمے نے انہیں لوگوں سے دور کر دیا، جیسے وہ خود کو ایک خاموش قید میں بند کر چکی ہوں۔

یوں ان کا کسی کے ساتھ بیٹھ جانا، چاہے محض ناشتہ ہی کیوں نہ ہو، ایک غیر معمولی منظر تھا۔۔۔ویرانیوں کے بیچ جیسے لمحے بھر کو زندگی کی جھلک دکھائی دے جائے۔

“روشانے، مجھے جلدی ہے۔ میں باہر کچھ کھا لوں گا، آپ فکر نہ کریں۔۔۔”
آریان سب کی بات ٹال سکتا تھا، مگر روشانے کی نہیں۔ اس لمحے مگر وہ ان کی بات بھی نہ مان سکا۔ اس کے لہجے اور تیزی سے اٹھتے قدموں سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ کسی نہایت ضروری کام کے لیے جا رہا ہے۔
“آریان، کوئی نہ کوئی طریقہ تو ہوتا ہے گھر آنے اور جانے کا۔ نہ تمہارے آنے کی خبر ملتی ہے اور نہ جانے کی۔ یہ طور طریقہ اچھا نہیں لگتا۔ ابھی تو جاؤ، تمہیں بہت جلدی ہے، مگر یاد رکھنا… واپس آ کر ضرور میرے پاس آنا۔ مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے۔۔۔”
روشانے کی آواز میں نرمی بھی تھی اور ایک غیر معمولی سنجیدگی بھی۔

“جی ٹھیک ہے، آ کر آپ کی بات بھی سن لوں گا اور آپ کا موڈ بھی ٹھیک کر دوں گا۔ ابھی مجھے جانے دیں، بہت ضروری کام ہے۔۔۔”
آریان نے جلدی میں کہا اور بڑے بڑے قدم لیتا ہوا باہر نکل گیا۔

“پتہ نہیں، اس لڑکے کو ہر وقت اتنی جلدی کیوں رہتی ہے۔۔۔”
افضل خان غصے سے بولا، حقیقت یہ تھی کہ اسے بیٹے کی یہ عادت واقعی کھلتی تھی۔
“چھوڑ دیں لالا، پریشان نہ ہوں۔ واپس آئے گا تو میں خود اس سے بات کروں گی۔ اس بے لگام گھوڑے کو قابو کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جلد از جلد اس کی شادی کرنی پڑے گی۔۔۔”
روشانے کے لہجے میں بھتیجے کے لیے شفقت بھی تھی اور اس کی زندگی سنوارنے کی خواہش بھی۔

“مگر روشانے، شادی تو تب ہو گی جب یہ لڑکا ہاں کرے گا۔ یہ تو پریشے کا فون تک سننا گوارا نہیں کرتا۔۔۔”
آریان کی ماں نے پریشان لہجے میں کہا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اسے اپنا بیٹا پہلے سے زیادہ بگڑتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔

“بھابھی، آپ فکر نہ کریں۔ آپ گلشن آپا سے بات کریں، اسے میں خود منا لوں گی۔۔۔”
روشانے نے نرمی سے تسلی دی۔
“روشانے، گلشن سے تو میں بات کر لوں گی۔ مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ گلشن کو بھی اعتراض ہونے لگا ہے۔ پہلے تو وہ دبے لفظوں میں کہتی تھی، مگر اب تو صاف صاف کہنے لگی ہے کہ آریان اس رشتے سے خوش نہیں ہے۔۔۔”
آریان کی ماں کے لہجے میں بےبسی چھپی ہوئی تھی۔

“یہ کیسا رشتہ ہے بھلا؟ آریان کو تو ہماری پریشے کا فون تک سننا گوارا نہیں۔ اگر لڑکا راضی ہی نہیں تو کیوں زبردستی سب کو اذیت میں ڈالا ہوا ہے؟”
گلشن کی باتوں میں ماں کی اپنی بیٹی کےلئے کی فکر جھلکتی تھیں۔ پہلے پہل وہ نرم انداز میں گلہ کرتی تھی، لیکن اب اس کے لہجے میں خفگی اور دوٹوک پن صاف سنائی دیتا تھا۔

“تو آپ گلشن آپا کو سمجھائیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اور ویسے بھی، شادی سے پہلے لڑکے اکثر ایسے ہی ضدی اور لاپروا ہوتے ہیں، مگر شادی کے بعد سب سنبھل جاتے ہیں۔ دیکھ لیجیے گا، آریان بھی بدل جائے گا۔۔۔”
روشانے کے لہجے میں ایک ضد تھی، اور اپنے بھتیجے کے لیے وہ ڈھارس بھی جو صرف ماں جیسی محبت سے نکلتی ہے۔ آریان کے بارے میں وہ کسی کی ایک منفی بات بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔
“روشانے، تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں یہ سب تم سے نہیں کہتی؟ یہ پریشے سے کبھی بات ہی نہیں کرتا۔ اگر وہ کبھی فون کرے تو تب بھی یہ اس کا فون نہیں اٹھاتا۔ تو بتاؤ، کون سی ماں اپنی بیٹی کو ایسے لڑکے کے ساتھ رخصت کرنا چاہے گی؟ جبکہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ پریشے بچپن سے ہی اس کے ساتھ منسلک کر دی گئی تھی۔۔۔”
آریان کی ماں نے چائے کا مگ روشانے کی طرف بڑھاتے ہوئے پریشان لہجے میں کہا۔
“بھابھی، مجھے پتہ ہے کہ آریان ایٹیٹیوڈ بوائے ہے۔ مگر پریشے بھی تو بچپن سے لے کر آج تک اسے اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اگر یہ سیر ہے تو وہ سوا سیر ہے۔ وہ بھی تو اپنی اکڑ کم نہیں کرتی۔۔۔”
روشانے نے ہلکی سی سنجیدگی کے ساتھ کہا۔

“لڑکیاں لڑکوں کی نسبت جلدی بدل جاتی ہیں۔ اپنی عقل، سمجھداری اور اداؤں سے لڑکوں کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہیں۔ مگر معاف کیجیے گا۔۔۔وہ آپ کی بھانجی ہے، کہیں آپ کو برا نہ لگ جائے۔۔۔لیکن اس میں بھی کوئی لچک نہیں۔ وہ بھی ضدی ہے اور اکڑو ہے۔۔۔ تو پھر بتائیں، جب وہ لڑکی ہو کر خود کو نہیں بدل پا رہی تو ہم آریان کو کیسے قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں، جبکہ وہ تو ایک لڑکا ہے۔۔۔”
روشانے کے لہجے میں تلخی نہیں تھی، بلکہ حقیقت کا وزن تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ بھابھی معاملے کو ایک ہی زاویے سے نہ دیکھیں۔
“معاف کرنا روشانے، میں اپنی بھانجی کی طرف داری نہیں کر رہی اور نہ ہی کر سکتی کیونکہ آریان میرا سگا بیٹا ہے، بھانجی اس سے بڑھ کر تو نہیں ہو سکتی… مگر اگر تم یہ کہو کہ کوئی لڑکی اپنی اداؤں اور نرمی سے آریان جیسے لڑکے کو سیدھا کر سکتی ہے تو یہ درست نہیں ہوگا… ادائیں دکھانے کے لیے ضروری ہے کہ سامنے والا نظر بھر کے دیکھے بھی… آریان تو پریشے کو ایک بےکار چیز سے زیادہ اہمیت ہی نہیں دیتا، تو بیچاری وہ بھی کیا کرے۔”
آریان کی ماں کے لہجے میں لاچاری اور دکھ صاف جھلک رہا تھا۔
“اگر لڑکی میں ادائیں دکھانے اور سمجھداری کے ساتھ لڑکے کے دل پر حکومت کرنے کی صلاحیت ہو تو ناممکن کچھ بھی نہیں… آریان جیسے انسان کو سیدھا کرنا اور اسے اپنی محبت میں گرفتار کرنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے…”
روشانے اب بھی اپنے بھتیجے کی طرف داری پر ضد کے ساتھ ڈٹی ہوئی تھی۔

“روشانے، تم مجھے عزیز ہو… میری بات کو طعنہ مت سمجھنا… مگر یہ بات تم سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ اگر مرد خود نہ چاہے تو کوئی بھی سمجھدار سے سمجھدار لڑکی بھی اس کے دل کے دروازے پر دستک دے کر اس پر لگے تالے کو نہیں کھول سکتی… مرد کی ہٹ دھرمی کے آگے عورت کی عقل، خوبصورتی، ادائیں اور ذہانت سب کچھ بےکار ہو جاتا ہے…”

آریان کی ماں کے نرمی سے کہے گئے مگر سخت اثر رکھنے والے الفاظ سیدھا روشانے کے دل پر لگے… وہ چاہ کر بھی خود کو سنبھال نہ سکی… اس کے چہرے پر سخت تاثرات ابھر آئے… دل کے اندر کہیں گہری کسک جاگی… شاید اپنی زندگی کی ادھوری کہانی، شاید اپنے زخموں کا پرانا درد… لمحہ بھر کو اس نے چاہا کہ جواب دے مگر پھر خاموشی نے اس کے ہونٹوں پر مہر لگا دی…
“تم دونوں عورتیں بس آپس میں بحث کرتی رہو گی… اس سے بہتر ہے کہ گلشن سے سیدھی بات کرو… کہو ہم پریشے اور آریان کے رشتے کو شادی کے بندھن میں باندھ کر مضبوط کرنا چاہتے ہیں…”
افضل خان نے سخت لہجے میں کہا، جیسے بات ختم کر دینا چاہتا ہو۔

“اور ہاں، مجھے بھی لگتا ہے کہ جب اس کی شادی ہو جائے گی تو پھر یہ سدھر ہی جائے گا… بڑے بڑے شادی کے بعد سنبھل جاتے ہیں…”
وہ غصے کے ساتھ بولا، مگر اندر کہیں ایک باپ کی تھکن اور لاچاری بھی جھلک رہی تھی۔

دونوں عورتیں خاموش ہو گئیں… مگر ان کے دل اچھی طرح جانتے تھے کہ آریان خان کا شادی کے بعد بدل جانا محض ایک خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں۔

“جی ٹھیک ہے، میں آج ہی گلشن آپا سے بات کرتی ہوں…”
آریان کی ماں نے شوہر کا حکم مانتے ہوئے فرمانبرداری سے کہا اور ناشتہ دوبارہ شروع کر دیا۔

روشانے بھی خاموشی سے اپنے مگ سے چائے کے سپ لینے لگی… مگر ماحول میں ایک انجانا سا تناؤ معلق تھا، جیسے سب کے دل اپنی اپنی سوچوں کے بوجھ تلے دبے ہوں۔
“جلد از جلد بات کرو… اس بددماغ کو باندھنا ضروری ہے…”
افضل خان یہ کہتا ہوا اٹھا اور آفس کے لیے نکل گیا۔

اس کے جانے کے بعد دونوں خواتین کافی دیر تک آریان کے موضوع پر ہی بحث کرتی رہیں…

“بھابھی، مان لیجیے آریان ضدی ہے مگر شادی کے بعد وہ بدل جائے گا… مرد چاہے کتنا ہی بےلگام کیوں نہ ہو، ایک عورت کی موجودگی اس کی زندگی کو سنبھال دیتی ہے…” روشانے نے اعتماد سے کہا، مگر اس کے لہجے کی گہرائی میں کہیں اپنا پرانا دکھ بھی چھپا تھا۔

آریان کی ماں نے سر جھٹکتے ہوئے جواب دیا… “کاش ایسا ہو روشانے… مگر میں اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہوں کہ وہ پریشے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا… اور یہ بات دل میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے…”

روشانے نے نرمی سے کہا… “محبت کا بیج ایک دن میں نہیں اگتا بھابھی… وقت اور ساتھ ہی سب کچھ بدل دیتا ہے…” ایک لمحے کو اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے ماضی کا عکس بھی لہرایا… وہ وقت جب وہ چاہ کر بھی کسی کے دل کا دروازہ کھول نہ سکی تھی۔

دماغی طور پر دونوں ہی پریشان تھی،دونوں جانتی تھیں کہ آریان کو بدلنا آسان نہ ہوگا۔ناشتے کی میز پر خاموشی چھا گئی… اور اس خاموشی میں یہ سچ چھپا تھا کہ آریان کی زندگی کو بدلنا محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک کڑی آزمائش ہونے والا تھا۔
═══════❖═══════

کالج کا گیٹ ہمیشہ کی طرح آج بھی رنگ برنگی کاروں اور ڈرائیورز کے ہجوم سے بھرا ہوا تھا… ڈیزائنر بیگز سنبھالے لڑکیاں قہقہے لگاتی، موبائل پر جھکی سیلفیاں بناتی اور اگلی شاپنگ یا پارٹی کی منصوبہ بندی کرتی نظر آ رہی تھیں۔ فضا میں خوشبوؤں اور قہقہوں کی ایک مدھم سی بازگشت پھیلی ہوئی تھی۔

“کیا بات ہے عبیرہ؟ آج گیٹ پر رکنے کا ارادہ ہے؟” مائرہ نے تجسس سے پوچھا۔

“تم جاؤ… میں تھوڑی دیر میں آ جاؤں گی، مجھے کسی سے ملنا ہے…” عبیرہ نے الجھن زدہ لہجے میں کہا۔

مائرہ نے متلاشی نظروں سے اسے دیکھا، “کیا مطلب کسی سے ملنا ہے؟ اور ایسا کون ہے جسے تم مل سکتی ہو اور میں نہیں؟”

“ہے خاص دوست… پلیز مائرہ، اس سے زیادہ کچھ مت پوچھنا، وقت آنے پر سب بتا دوں گی…” عبیرہ نے نظریں چرا لیں۔

مائرہ اس کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھ کر پریشان ہو گئی، “عبیرہ تم ٹھیک تو ہو؟ اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ، میں تمہاری دوست ہوں…”

“فی الحال تو میرے لیے اتنا کر دو کہ تم جا کر کچھ بہانہ کر دینا… مگر میرے کالج نہ پہنچنے کی خبر میرے گھر تک نہیں جانی چاہیے۔ میں آدھے گھنٹے تک واپس آ جاؤں گی۔ تم جانتی ہو اگر بابا، ماما یا ماحد تک یہ خبر پہنچی تو وہ لوگ پریشان ہو جائیں گے۔ باقی سب باتیں میں تمہیں آ کر بتا دوں گی۔”

عبیرہ کے لہجے میں ایسی سنجیدگی تھی جو عام دنوں میں شاذ ہی نظر آتی تھی… مائرہ کو یقین ہو گیا کہ اس کی دوست واقعی کسی الجھن میں ہے۔ مگر دل کے کسی کونے میں یہ کھٹکا بھی جاگ اٹھا کہ کہیں عبیرہ کسی ایسی راہ پر تو نہیں قدم رکھ رہی جس کے انجام کا سوچ کر بھی دل دہل جائے۔
مگر دوسرے ہی لمحے اس نے اپنے دماغ میں آئے وسوسے کو جھٹک دیا… وہ عبیرہ کی سنجیدگی، عقل اور ذہانت سے اچھی طرح واقف تھی۔ عبیرہ کبھی بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی تھی جو اس کے وقار یا اس کے گھر والوں کے سکون کے خلاف ہو۔
“اچھا ٹھیک ہے، جاؤ… میں سب سنبھال لوں گی۔ مگر عبیرہ، واپس آ کے مجھے سب بتا دینا… مجھے تمہاری فکر ہو رہی ہے” مائرہ نے فکر مندی سے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔

اس کے لمس میں بےچینی صاف جھلک رہی تھی، جیسے دوست کا ساتھ دینے کے باوجود دل مطمئن نہ ہو۔ عبیرہ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا ہاتھ دبا کر تسلی دی ۔۔

“پرومس… سب کچھ بتا دوں گی، مگر ابھی کے لیے تم سب سنبھال لینا…” عبیرہ نے آہستگی سے کہا۔

“اوکے… اپنا خیال رکھنا” مائرہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکا، جیسے مزید کچھ پوچھنا چاہتی ہو، مگر پھر پریشان نظروں کے ساتھ کالج کے اندر چلی گئی۔

اب گیٹ کے باہر ہلچل ذرا کم ہو گئی تھی۔ گاڑیوں کی قطاریں آہستہ آہستہ چھٹ رہی تھیں۔ عبیرہ گیٹ سے ذرا فاصلے پر آ کر سڑک پر نظریں جما کر کھڑی تھی، جیسے کسی خاص شے یا کسی خاص شخص کے انتظار میں ہو۔

وہ یارم کا انتظار کر رہی تھی… دل میں ایک انجانی گھبراہٹ تھی۔ گیٹ کے پاس کھڑا ہونا اسے کسی طور اچھا نہیں لگ رہا تھا، لیکن وعدہ نبھانا تھا۔

چمکتی ہوئی سیاہ گاڑی اس کے قریب رکی تو اسے اطمینان ہوا… یہی یارم ہوگا۔

مگر شیشہ نیچے ہوا… اور اس کے اندر سے یارم نہیں، آریان خان تھا۔
آنکھوں میں لال ڈورے، چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ، اور وجود سے اٹھتی ہوئی وہ خوشبو… جو سانسوں کو قید کر لیتی تھی۔

,,کمال ہے… عبیرہ ڈارلنگ۔ تم اب بھی باز نہیں آئیں۔ مجھے دھوکہ دینے نکلی تھیں؟‟
وہ آہستگی سے بولا… جیسے ہر لفظ اس کے دل میں کیل ٹھونک رہا ہو۔

,,بہت وقت دیا تھا تمہیں… مگر اب کھیل ختم۔ بھاگنے کی کوشش کی… تو تمہارے بھائی کی سانس رک جائے گی۔ وہ اسی وقت کیفے میں بیٹھا ہے، دوستوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا۔ شاید آج کا دن اس کی زندگی کا آخری دن ہو۔ اور مجھے نہیں لگتا… کہ تم اتنی بے رحم بہن ہو۔‟

عبیرہ کے قدموں میں لرزش تھی… مگر دھمکی ایسی تھی کہ وہ ہل بھی نہ سکی۔ زمین جیسے اس کے تلووں کو جکڑ چکی تھی۔

،،تم میرے بھائی کو کچھ نہ کہنا… اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں۔ میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں،،
وہ سچ میں ہاتھ جوڑ کر کھڑی تھی، آنکھوں میں التجا بھری ہوئی۔

عبیرہ اپنے بھائی کے لیے تڑپ گئی تھی۔ یہ محبت خالص تھی، بے ریا… دکھاوے سے کوسوں دور۔
مگر سامنے والا شخص… اس جذبے کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔

،،ہاتھ نیچے کرو… سڑک پر تماشہ مت بناؤ۔ بیٹھو اندر… بھائی کی زندگی اتنی پیاری ہے تو زبان چلانے کی بجائے قدم چلاؤ اور بیٹھو گاڑی کے اندر،،
آنکھ کے اشارے اور رعب دار آواز نے عبیرہ کے اندر ایک بار پھر وہی خوف جگا دیا…
،،پپ… پ… پل… پلیز معاف کردیں… آئندہ ایسی غلطی کبھی نہیں کروں گی۔ آج کے بعد میں کبھی یارم نہیں ملوں گی… مجھے ابھی جانے دو،،
لفظوں کو توڑتے ہوئے، التجا بھری آواز میں وہ روتی اور کانپتی تھی۔ اگر یہ آواز کسی اور کے سامنے ہوتی تو فوراً رحم کھا لیتے، مگر یہ آریان خان تھا، جس کے لیے عبیرہ صرف نفرت کا نام تھی…

,,آج کے بعد میں تمہیں یہ موقع ہی نہیں دوں گا… اور دوبارہ اس ڈی ایس پی کا نام تمہاری زبان پر آیا تو تمہارے حلق سے زبان کھینچ کر تمہارے ہتھیلی پر رکھ دوں گا…“
آریان نے زور دے کر کہا، اس کی آواز میں کانٹوں جیسی سختی تھی۔
„تم میری بیوی ہو… اور تمہاری جرات کیسے ہوئی کسی اور کا نام لینے کی؟“

عبیرہ کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسی لمحے وہاں سے بھاگ نکلے… اس شخص سے دور چلی جائے۔ مگر وہ جا نہیں سکتی تھی… کیسے اپنے اکلوتے بھائی کی جان کو خطِرے میں ڈال کر بھاگ سکتی تھی؟

وہ آدمی جسے وہ اچھی طرح جانتی تھی، کسی پر گولی چلانے کو ہچکچا نہیں رہا تھا۔ یہ خیال اس کے خون میں سردی گھول رہا تھا۔
حجاب میں لپٹے چہرے سے آنسوں بہہ رہے تھے… آنسو اس کے نقاب کو گیلا کر رہے تھے، اور آنکھوں میں ایک بے بسی سی جھلک تھی۔

،،یا رم…،،
لفظ جیسے اس کے منہ سے نکل کر ہوا میں گھل گیا، لیکن اس کے دل کی دھڑکنیں آریان کی سخت نگاہوں کے سامنے بے بسی کا نقاب اُتار رہی تھیں…

مزید تماشہ مت بناؤ۔ گاڑی کے اندر بیٹھو۔۔۔ آریان خان کی بھاری آواز کے سائے میں وہ ہچکچاتے ہوئے دو قدم آگے بڑھی، مگر جیسے زمین نے اس کے قدموں کو جکڑ لیا ہو، ہر قدم ساتھ دینے سے انکار کر رہا تھا۔
اس کا پورا جسم ڈر سے کانپ رہا تھا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، اور وہ سوچ رہی تھی کہ یہ شخص اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔

جب وہ گاڑی کے قریب پہنچی، آریان خان نے اسے جھٹکے سے پکڑ کر اندر کھینچ لیا۔ وہ بے بسی سے اس کی گود میں گر گئی۔

گاڑی کا دروازہ بند ہوتے ہی، ڈرائیور نے اسے تیز رفتاری سے سڑک پر دوڑا دیا، تقریباً سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے۔

ڈرائیور یہ منظر پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آریان خان وہ شخص ہے جس کے سامنے کوئی بات نہیں کر سکتا۔

,,اب بتاؤ، اس دو ٹکے کے ڈی ایس پی کا انتظار کر رہی تھی تم، منع کیا گیا تھا کہ تم اس سے بات نہیں کرو گی، مگر تم تو اپنے عاشق سے ملنے کی خواہش، دل میں لیے، کھڑی تھی۔

عبیرہ کے جبڑے کو مروڑتے ہوئے، اسے تڑپنے پر مجبور کر رہا تھا، الفاظ کو چباتے ہوئے، اس کے چہرے پر چہرہ جھکائے، سرگوشی میں بول رہا تھا، اس کی آواز، ڈرائیور صاف سن سکتا تھا۔

،”گاڑی تیز چلاؤ، اور اپنے کان آنکھیں بند کر کے بیٹھو، اپنے کانوں کے اندر لگے ہوئے ایئر فون کو، سونگ کے لیے استعمال کرو،
اگر میری یا میری وائف کی آواز تمہارے کانوں تک پہنچی، تو دونوں کان گولیوں سے اڑا دوں گا، آج کے بعد، کوئی اور آواز سننے کے لائق نہیں رہو گے،”

اس نے اپنے الفاظوں میں، ڈرائیور کو یہ بھی بتا دیا کہ عبیرہ، اس کی بیوی ہے، اور یہ بھی سمجھا دیا کہ ان کی باتیں سننے سے گریز کریں۔

بیچارے ڈرائیور نے فوراً، اپنے موبائل پر سونگ پلے کرتے، زبردستی میوزک سننا شروع کر دیا، نظریں تو پہلے ہی، بیچارے کی سڑک پر مرکوز تھیں، اب تو پلکی جھپکنا بھی شاید بھول گیا تھا۔

“چھچ… چھوڑو، مجھے درد ہو رہا ہے۔” عبیرہ اپنے جبڑے کو بے نتیجہ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے، درد کے مارے کرارہ کر رہی تھی، ہر سانس اس کے اندر ایک درد کی لہر چھوڑ رہا تھا۔۔۔

“یہ درد تو کچھ بھی نہیں… درد تو اب تمہارا مقدر بنے گا۔” آریان خان کی آواز سرد اور بے رحم تھی۔ “تم نے مجھے چیٹ کرنے کی کوشش کی، اپنے یار سے مل کر میری شکایت لگانا چاہتی تھی… تمہیں کیا لگا کہ میں تمہیں یہ کرنے میں کامیاب ہونے دوں گا؟ اتنا بے وقوف اور غافل سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے؟”

اس کے جبڑے کو آخری حد تک دبوچ کر، وہ درد کی شدت بڑھا چکا تھا۔ درد کی اذیت سے عبیرہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، مگر اس سفاک شخص کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔

عبیرہ کے دل کی دھڑکن تیز تھی، ہر سانس ایک اذیت کی گونج تھی، لیکن ساتھ ہی ایک چھوٹا سا چراغ امید کا جل رہا تھا کہ شاید یہ خوفناک لمحہ ختم ہو جائے۔ اس کے اندر ایک خاموش چیخ تھی، جو اس کے لبوں تک نہیں پہنچ سکی، مگر ہر نظر، ہر جنبش اس کے دل کی کہانی بیان کر رہی تھی۔

ڈرائیور، جو چور نظروں سے سب دیکھ رہا تھا، اپنے ہاتھوں کو سٹیرنگ پر دبائے نظریں سڑک پر مرکوز رکھ کر، سانس روکے، ایک لمحے کے لیے خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ ایک لفظ بھی بول دے تو حالات اور خطرناک ہو جائیں گے۔جانتا تھا کہ زندگی کا اختتام یہی ہو جائے گا۔

دوسری جانب اس کے شکنجے میں پھنسی ہوئی عبیرہ کے ذہن میں ایک سوال گونج رہا تھا۔
“کیا میں اس سے بچ پاؤں گی؟ کیا یہ درد کبھی ختم ہوگا؟” مگر جواب نہ تھا، صرف درد، خوف اور اس سفاک شخص کی خاموشی تھی، جو ہر لمحے اسے ذہنی اور جسمانی طور پر دھکیل رہا تھا۔

کہاں عبیرہ کی نازک سی جان، اور کہاں یہ فولادی شخص، جو جم جا کر ٹرینر کو تھکا دیا کرتا تھا۔

“رونا بند کرو، تمہیں رونے کے بہت سے موقع دوں گا، تم تو ابھی سے شروع ہوگئی، ڈارلنگ۔” آریان کے لبوں پر تنزیہ سی، شیطانی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔ “جب جگرا کر کے یار سے ملنے کے لیے بے تاب کھڑی تھی، اس وقت مجھ سے ڈر نہیں لگا کہ میں تمہارا کیا حشر کروں گا، اب رونے سے کوئی فائدہ نہیں۔”

سارا راستہ اسے بری طرح سے ٹارچر کرتے ہوئے گزر گیا۔ پورے راستے، اسے لفظوں کے تیر برساتے ہوئے چھلنی کیا، اور اس کے جبڑے پر ظلم کرتے ہوئے آگے بڑھا۔

گاڑی اسی بڑے بنگلے کے آگے رکی، جہاں عبیرہ اور آریان کا نکاح ہوا تھا۔

گاڑی گیٹ کے اندر جا رہی تھی، اور عبیرہ پہلے سے کہیں زیادہ خوف زدہ ہو چکی تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب اس بڑے کتے نے اسے خوفزدہ کر کے آریان خان کی دسترس تک پہنچا دیا تھا۔ اگر آریان خان اسے نہ بچاتا، تو شاید وہ کتا اسے نگل ہی لیتا۔ کتنا بڑا منہ تھا اس کا، یہ سوچ کر عبیرہ ایک بار پھر کانپ گئی۔

جب گاڑی گھر کے اندر جا کر رکی، ڈرائیور تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکلا، اور آریان کا دروازہ کھولتے ہوئے، نظریں جھکائے، باہر دروازے تک پہنچنے میں نو دو گیارہ ہو چکا تھا۔
،،حویلی آج بھی پہلے کی طرح ویران تھی… بے حد خوبصورت، مگر سنسان… جیسے اپنے مکینوں کی راہ تکتی ہو۔ وہاں شاذ و نادر ہی آریان خان آتا تھا، ورنہ حفاظت کرنے والے گارڈز اور چند ملازم ہی اس ویرانے کو آباد رکھتے تھے… ان کے سوا اس عظیم الشان حویلی میں کوئی نہ رہتا تھا۔،،
،،گاڑی سے اترو گی… یا میں میڈم کو گود میں اٹھا کر کمرے تک لے جاؤں؟‘‘
آریان خان نیچے اترتے ہی، گہری لَوڈ بھری نظروں سے اسے گھورتے ہوئے دھاڑا…

عبیرہ کا دل سینے میں دھڑکنے کے بجائے یوں لگ رہا تھا جیسے رک جائے گا۔ خوف سے اس کی انگلیاں کانپنے لگیں، قدم زمین میں دھنس گئے۔ نقاب کے پیچھے چھپے آنسو بے اختیار گالوں پر ڈھلکنے لگے تھے۔ وہ چاہ کر بھی حرکت نہ کر سکی… بس اپنے سامنے کھڑے اس طوفان کو دیکھتی رہ گئی۔
،،میرے ساتھ زیادہ بکواس کی ضرورت نہیں… جب چاہوں گا، جیسے چاہوں گا، تمہیں پل پل تڑپاؤں گا۔ اتنی آسان موت تمہیں نہیں دوں گا، عبیرہ خان… اور جتنی سزا تم مستحق ہو، ایک بار موت دے کر وہ پوری نہیں ہو سکتی،،

زبردستی ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے وہ اسے گھر کے اندر لے جا رہا تھا…

،،بار بار تمہیں اذیت دے کر ہی میرا حساب پورا ہوگا… ہر لمحہ تمہیں تڑپاؤں گا… اتنی اذیت دوں گا کہ تمہاری روح کانپ جائے… ہر دن میرے تشدد کا نشانہ بنو گی اور راتیں وحشت کا چہرہ دکھا دیں گی… تمہارا ہر سانس درد کی چادر اوڑھا دے گا ۔۔۔ اتنی شدت کہ اندر تک لرز جاؤ گی،،

اسے روم کے اندر لے جا کر فرش پر پھینکتے ہوئے وہ زور سے چیخا تھا۔

اس کی آواز پورے کمرے میں گونج اٹھی۔ ڈر اور خوف سے رو کر کانپتی ہوئی عبیرہ نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ ہینڈ بیگ میں رکھا فون مسلسل بیل دے رہا تھا۔ دماغ میں ایک خیال بجلی کی طرح کوند گیا ۔۔۔ شاید اسی راستے سے آزادی مل سکے۔

وہ تیزی سے فون نکالنے لگی مگر اس سے پہلے ہی آریان جھپٹ کر فون اس کے ہاتھ سے چھین کر فرش پر دے مارا۔

،،آ ہ… آ ہ… تم اپنے یار کو بھول نہیں سکتی؟،،
وہ گھٹنے کے بل بیٹھا اور اس کا حجاب بے دردی سے کھینچ کر دور پھینک دیا۔ بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے غرایا۔

،،آہہ… چھوڑو مجھے… میرے بال… درد ہو رہا ہے،،
عبیرہ تڑپ اٹھی۔

،،درد ہو رہا ہے؟ مجھے بھی ہو رہا ہے… جب تم میرے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی اور کے لیے پاگل ہو رہی ہو۔ تمہارا عاشق میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا… آریان خان کے سامنے وہ کتے کی مانند دم ہلائے گا… اور تمہارے لیے جو سزا میں دوں گا وہ تمہاری روح کو ہلا کر رکھ دے گی… تم راتوں کو نیند نہیں بلکہ خوف کے سائے اوڑھو گی،،

سکرین پر یارم کا نمبر اور عبیرہ کی بے تابی نے آریان کو مکمل طور پر درندہ بنا دیا تھا۔تو غصہ اس کے حواسوں پر چھانے لگا تھا۔
“میں نے آخر کیا بگاڑا تھا تمہارا؟ وہ بالوں کے درد سے زور سے چیخی۔ آریان خان نے اتنی سختی سے اس کے بال پکڑ رکھے تھے جیسے ضد پر ہے کہ آج جڑوں سمیت نوچ ڈالے گا۔ اس کی گرفت کی سختی اور اس کی چیخ کی گونج نے پل بھر کو ماحول ساکت کر دیا۔”
“پرانا حساب برابر کرنا ہے، ڈارلنگ۔ آریان کی نظروں میں عجیب سا شیطانی رنگ جھلکنے لگا۔”

“کیسا حساب لینا چاہتے ہو مجھ سے، آریان خان؟ میں تو تمہیں جانتی تک نہیں۔۔۔ وہ درد سے تڑپتی ہوئی اسے دیکھ کر بولی، آنکھوں میں بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔”
“وہ قہقہہ لگا کر اس کی بے بسی پر ہنسا۔
‘اتنی جلدی بھی کیا ہے، ڈارلنگ۔ پوری زندگی میرے ساتھ رہنا ہے۔ آہستہ آہستہ جان جاؤ گی کہ آخر تمہیں مجھے کس چیز کا حساب دینا ہے۔’
اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ عبیرا کے آنسو دیکھ کر آریان کی سفاکی اور نمایاں ہو گئی۔”
“میں تھوکتی ہوں تم پر! تمہارا میرے قریب ہونا ہی میری بدقسمتی ہے۔ ساری زندگی تمہارے ساتھ رہنا تو دور کی بات ہے، میرے بس میں ہو تو میں تمہاری شکل بھی نہ دیکھوں۔

پوری ہمت اکٹھی کر کے وہ لمحہ بھر کے لیے شیرنی بن کر بولی۔ ہر لڑکی کی طرح اسے بھی اپنی عزتِ نفس عزیز تھی، اور اسے کھو دینے کا خوف اس کے سامنے کھڑا تھا۔”
“عبیرہ خان، اوقات میں رہو۔ حد پار کی تو تباہی ہو جائے گی”
آریان کی آواز دھاڑتی ہوئی تھی، آنکھوں کی تپش اس کے چہرے کے قریب، عبیرہ کے وجود میں ایک لرزہ دوڑا

“اگر چاہوں تو تمہیں اتنا قریب کر دوں کہ اپنا آپ بھول جاؤ”
کمرے کی دیواریں اس سختی کو سہہ نہ سکیں

“میں تھوکتی ہوں تم پر، تمہارا قریب ہونا میری بدقسمتی ہے”
عبیرہ کی آنکھوں میں نمی تھی مگر لہجے میں زہر

آریان کی آنکھیں شعلوں کی طرح جل رہی تھیں، ہر لمحہ اس کی باندھی ہوئی حدود کے قریب لے جا رہا تھا، عبیرہ کی سسکیاں، بہتے آنسو اور خوف کی فضاء اس کی سفاکی کو اور نمایاں کر رہی تھی

وہ جھکا، پھر رکا، سانسیں بھاری، ہاتھ بے حرکت، لمحہ ایسا جیسے پوری کائنات تھم گئی ہو
عبیرہ لرزتی ہوئی دعا پڑھ رہی تھی، اپنی عزت نفس کی حفاظت کے لیے ہر دم لڑتی ہوئی

اچانک آریان پیچھے ہٹا، دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، آنکھیں بند، سانسیں بے ترتیب، پہلی بار وہ خود اپنی شدت سے ڈرا

عبیرہ فرش پر بیٹھی، آنکھوں سے بہتے آنسو چھپاتے ہوئے، دل کے زخم جسم کے کسی بھی زخم سے زیادہ گہرے محسوس ہو رہے تھے۔۔
“رونا بند کرو، مجھے سخت نفرت ہے۔ اور اگلی بار میرے سامنے بکواس کرنے سے پہلے سوچ لینا کہ میں تمہارا اس سے بھی برا حشر کروں گا۔”
“آریان خان، کسی بے بس پر یوں ظلم کرنا گناہ ہے، اور ہر گناہ کی سزا میر رب دیتا ہے”
وہ سسکیوں میں، روتی ہوئی، دبی دبی آواز میں بول رہی تھی۔

خوبصورت آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ کر اور بھی حسین لگ رہی تھیں۔ پلکوں پر شبن کے قطرے ٹھہرے ہوئے تھے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی آریان کی نظر ایک لمحہ کے لیے ٹھہر گئی، مگر فوراً سنبھل گیا۔

“عبیرہ خان، خود کو مظلوم سمجھنا بند کرو۔ خدا بےبس اور مجبوروں پر ظلم کرنے والوں کو سزا دیتا ہے۔ تم جیسے گناہ گاروں کو سزا دینے پر ثواب ملتا ہے۔ اٹھو، اپنا حلیہ درست کر کے میرے لیے کھانا بناؤ۔ کچن میں سب کچھ موجود ہے۔”

عبیرہ کے دل میں ایک لمحے کے لیے خواہش جاگی کہ اس کے ہاتھ میں پتھر ہو اور وہ سیدھے اُس شخص کے سر پر مار دے جو اسے حکم دے رہا تھا۔

“میں تمہارا کوئی کام نہیں کروں گی۔ میں تمہاری نوکر نہیں ہوں۔”

“تم میری نوکر ہو، میری غلام ہو۔ تم چاہو یا نہ چاہو، میرے ہر حکم کو ماننا تم پر فرض ہے۔ یہ اکڑ مجھے مت دکھانا، سمجھی تم۔”
آریان نے آگے بڑھ کر اس کے جبڑے کو ایک بار پھر سختی سے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔ اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ ابھری اور اگلے ہی لمحے اس کے دماغ کا زہر الفاظ کی صورت میں ٹپکنے لگا۔

“نوکر بن کر تمہیں میرا ہر کام کرنا ہوگا… اور بیوی کہلانے کے قابل بن کر ہر دن میرے آرام اور سکون کا سبب بننا ہوگا۔”

وہ اپنے لفظوں سے عبیرہ کی روح کو چھلنی کر رہا تھا۔ عبیرہ بچی نہیں تھی؛ اسے اندازہ تھا کہ اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔

“میں نہیں ہوں آپ کی بیوی!”
وہ چیختے ہوئے اس کی بیوی ہونے سے انکار کر رہی تھی۔
جب بھی وہ اسے اپنی بیوی کہتا، اسے خود سے کوفت ہوتی، مگر وہ ہر بار جان بوجھ کر اس کے ساتھ اپنا نام جوڑ کر کچھ ثابت کرنا چاہتا تھا۔

“چچ… چچچ… جب تم مجھ سے ڈرتی ہو، قسم سے میرا دل چاہتا ہے کہ تمہیں اپنا دل چیر کر دکھا دوں کہ خوشی کے مارے کتنا جھوم رہا ہوتا ہے۔”

“اللہ سے ڈرو، خود کو خدا مت سمجھو۔ اللہ کے ہاں رات گئی بات والا معاملہ نہیں چلتا۔ جب تم سے حساب لیا جائے گا، تمہارا دل جو خوشی سے جھوم رہا ہے، اسے رونا بھی ہو گا، تڑپنا بھی ہوگا”
عبیرہ دانت پیستے ہوئے بول رہی تھی، آنکھوں میں خوف اور درد کے ملا جلا اثر کے ساتھ

“اچھا، اور اللہ کا عذاب صرف میرے لیے ہے، تم جیسے لوگوں کے لیے کچھ نہیں ہے”
آریان نے سرخ آنکھوں سے اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا، عبیرہ تھوڑی پیچھے ہٹی

“میرے خیال سے کھانے کا کام رہنے دو… پہلے تمہیں بیوی ہونے کا احساس دلا دوں”
اس بے باک نظروں سے دیکھتے ہوئے اور ارادے سے اس کی جانب بڑھتے ہوئے، عبیرہ سمجھ گئی تھی کہ سامنے والے کی شدت کس حد تک جا سکتی ہے

عبیرہ کے وجود میں اچانک تناؤ اور خوف بھر گیا، وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو گئی
کچن کی طرف جانے کی تیاری، قدم بڑھانا، یہ سب اس کے اندر مزاحمت اور حوصلے کی علامت تھا

“آئی لائک اٹ… مطلب تم کھانا بنانے کے لیے تیار ہو تاکہ مجھ سے دور رہو؟”
آریان نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا، مگر عبیرہ ڈرتے ہوئے قدم پیچھے ہٹا، غصے اور خوف کے امتزاج کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی

اس کی آنکھوں میں جوش، خوف اور ہمت کی آمیزش تھی، اور آریان کے دل میں بے چینی پیدا کر رہی تھی
“ایسے مت دیکھو، عبیرہ، آریان خان شوہر کے حقوق کے بارے میں تو پتہ ہوگا”
“نہیں، نا؟ مجھے پتہ ہے، اور نہ ہی پتہ لگانے کی ضرورت ہے”
عبیرہ نے اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے، دیوار کے ساتھ جکڑی ہوئی تھی

آریان کے وجود کی شدت اور اس کے ارادے کو عبیرہ محسوس کر رہی تھی
اس کے قریب آنے اور نظریں جمائے رکھنے کی طاقت نے عبیرہ کے اندر خوف اور تناؤ پیدا کر دیا

“تم نوکر ہو اور نوکر بن کر میرے گھر میں رہو گے، مگر بیوی کے حقوق جب چاہوں جیسے چاہوں حاصل کر سکتا ہوں”
اس سے انکار کرنے کی جرات مت کرنا، عبیرہ، ورنہ مجھے زبردستی کرنے میں بھی کوئی دقت نہیں ہوگی
عبیرہ نے آنکھیں بند کر کے، ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے نفی کی، ہر حرکت سے اپنی حدود بچانے کی کوشش کی

اس کی موجودگی میں غصہ، طاقت اور بے بسی کا کھیل واضح تھا
عبیرہ ہر لحاظ سے کمزور تھی، اور آریان ایک مضبوط اور پراثر نوجوان تھا
اس کی نظریں، الفاظ، اور ارادے نے عبیرہ کو اپنے آپ کی محدودیت کا احساس دلا دیا

دروازے پر کھٹکھٹاہٹ سن کر آریان تھوڑا پیچھے ہٹا، مگر اسے ناگوار لگا کہ کسی نے اس کے عمل میں رکاوٹ پیدا کر دی

غصے سے جا کے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا، باہر کھڑا شخص لگتا تھا کہ آریان خان کی آنکھوں سے ہی خوفزدہ ہو کر مار دیا جائے گا۔

“کون مر گیا ہے تمہارا، جو تم اس طرح دروازہ پیٹ رہے ہو!”
روزہ کھولتے ہی آریان خان باہر کھڑے شخص پر بری طرح چلایا۔

“سر، یہ آپ کا سامان…”
“تو گاڑی میں پڑا رہنے دیتے، میں نے منگوایا ہے…”
“نہیں سر، مجھے لگا اگر آپ کے روم میں وقت پر نہ پہنچایا تو آپ ناراض ہو جائیں گے”
باہر کھڑا شخص کپکپاتی آواز میں بولا۔

“دفع ہو جاؤ یہاں سے، اور دوبارہ میرے بلانے پر ہی گھر کے اندر قدم رکھنا، ورنہ ٹانگیں کاٹ کر چہرہ الٹا لٹکا دوں گا”
وہ شخص معافی مانگتے ہوئے چلا گیا۔

آریان خان دروازہ بند کرتے ہوئے واپس عبیرہ کی جانب پلٹا، جو خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔
“جا کر اپنا حلیہ ٹھیک کرو، مجھے نفرت ہے بے حال عورتوں سے…
اگر تمہارا ایسا ہی حال رہا تو میں مزید تمہیں تڑپانے سے خود کو روک نہیں سکوں گا”

اس کی ہر بات میں چھپی ہوئی شدت اور دھمکی تھی، جسے عبیرہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔ الفاظ محتاط اور ناپ تول کر استعمال کیے گئے، مگر ان کا اثر واضح تھا۔

خوف کے مارے عبیرہ تیزی سے واش روم کی جانب بڑھ گئی، وہ اس کی نظروں سے دور ہونا چاہتی تھی۔

واش روم میں لگے آئینے کے سامنے، اس نے اپنا عکس دیکھا اور آنسوں سے بھیگ گئی۔ اپنا حلیہ بے ترتیب اور منتشر لگ رہا تھا، بال چہرے پر چھائے ہوئے، جیسے ہر چیز بے قابو ہو گئی ہو۔

وہ خود سے جھنجھلا رہی تھی، دل میں سوال اٹھا رہی تھی کہ اس نے زندگی میں کیا گناہ کیا جس کے بدلے اس کے نصیب میں آریان خان جیسا شخص آ گیا۔ سوچتے سوچتے پانی کے ساتھ اپنے آنسو بھی بہا رہی تھی۔
“بابا… پلیز، بابا مجھے بچا لے…”
وہ دل ہی دل میں کپکپاتے ہوئے اپنے خیالوں میں باپ کو یاد کر رہی تھی، ایک معصوم بچی کی طرح مدد طلب کر رہی تھی۔
باپ کی شفقت اور تحفظ اس کے لیے ہمیشہ سب سے زیادہ معنی رکھتے تھے، اور اس لمحے وہی یاد اسے تھوڑا سکون دے رہی تھی۔
اپنے باپ کو یاد کرتے ہوئے، نہ جانے کیسے اتنے پریشانی والے ماحول میں بھی اس کے دل کو ایک سکون سا محسوس ہو رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے باپ اس کے بہت قریب ہوں، سر پر محبت اور شفقت کا ہاتھ رکھے ہوئے ہوں۔ بے شک، بیٹی کے لیے باپ سے بڑا محافظ کوئی نہیں۔
═══════❖═══════

یارم کب سے دھوپ میں کھڑا، عبیرہ کا انتظار کر رہا تھا، مگر وہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ عبیرہ کا فون مسلسل بند جا رہا تھا۔

ایک بار رنگ ٹرن ہوا اور پھر فون مکمل طور پر بند ہو گیا۔ یارم بہت پریشان تھا۔ اسے یاد آیا کہ عبیرہ نے رات کو فون کیا تھا، وہ بہت پریشان لگ رہی تھی اور کچھ بتانا چاہتی تھی۔ یارم دل ہی دل میں سوچ رہا تھا: ایسا کیا ہے جو وہ بتانا چاہتی تھی؟

کالج کے اندر جا کر عبیرہ کا پتہ آسانی سے لگایا جا سکتا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ ایک لڑکی کے پیچھے پولیس والے کا کالج تک جانا اس کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔

یہی سوچ کر وہ کب سے کڑی دھوپ میں کھڑا انتظار کر رہا تھا۔ مگر آدھے گھنٹے کے لگاتار انتظار کے بعد اسے کچھ غلط ہونے کا اندیشہ ہونے لگا۔

پولیس والے کی فطرت میں خطرے کو دور سے بھانپنا شامل تھا۔ یارم کے ذہن میں مائرہ کا خیال آیا، جو عبیرہ کی دوست تھی اور اس دن رپورٹ درج کرواتے ہوئے اس کا نمبر بھی اسٹیشن میں درج ہوا تھا۔ یارم نے اپنے کانسٹیبل سے کہا اور مائرہ کا نمبر منگو لیا۔

دوسری بیل پر مائرہ نے فون اٹھایا۔
“اسلام علیکم…”

“جی وعلیکم اسلام، کون بول رہے ہیں؟”

“ڈی ایس پی یارم خان بات کر رہا ہوں…”

“جی جی، خیریت؟ آپ نے مجھے اس وقت کالج میں فون کیوں کیا؟”
مائرہ کی آواز میں ہلکی گھبراہٹ تھی، اور وہ لیکچر کے شروع ہونے کے باعث جلدی میں محسوس ہو رہی تھی۔

یارم کی آنکھیں دھوپ میں تھکی ہوئی تھیں، مگر اس کے لہجے میں عزم اور سنجیدگی واضح تھا۔
“محترمہ، اگر واقعی ضروری نہ ہوتا، تو میں آپ کو فون نہ کرتا۔ میں جانتا ہوں کہ سٹڈی کے دوران فون کرنا اچھا نہیں اور میں فضول میں کسی کو کبھی نہیں ڈائل کرتا۔”

مائرہ پہلے ہی کافی پریشان تھی۔ عبیرہ جب سے گئی تھی نہ تو فون آیا اور نہ ہی آدھے گھنٹے میں واپس لوٹی۔ دل میں خوف تھا کہ اگر عبیرہ کے گھر والوں نے پوچھا تو وہ کیا جواب دے گی۔

یارم خان کو مائرہ کا سوال سن کر برا بھی محسوس ہوا، کیونکہ وہ خود ایسے انسان نہیں تھا جو فضول میں لڑکیوں کے نمبر گھماتا رہے۔
اس نے مائرہ کا نمبر صرف اسی مجبوری میں ڈائل کیا تھا تاکہ عبیرہ کی خبر لے سکے، اور یہ بات صرف وہ خود سمجھ سکتا تھا۔
“سو، سوری سر، میرا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا۔ میں تو صرف یہ کہہ رہی تھی کہ اگر پروفیسر نے لیکچر کے دوران فون پر بات کرتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ ناراض ہو جائیں گے…”

مائرہ نے جلدی سے وضاحت کی، اور اس کی آواز میں ہلکی گھبراہٹ تھی۔

اسے فوراً احساس ہو گیا کہ یارم خان کو اس کا اس طرح سے پوچھنا کچھ اچھا نہیں لگا۔
“آپ کا زیادہ ٹائم نہیں لوں گا بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کی دوست عبیرہ خان اس وقت آپ کے ساتھ موجود ہیں یا نہیں؟”

“نہیں سر عبیرہ اس وقت میرے ساتھ نہیں ہے…”

یارم کی آواز میں سنجیدگی اور غصہ واضح تھا: “تو کہاں ہے؟”

مائرہ نے جھجکتے ہوئے جواب دیا “سر مجھے نہیں پتا بس اتنا جانتی ہوں کہ وہ آدھے گھنٹے میں واپس آنے والی تھی اور واپس آکر مجھے سب کچھ بتائے گی مگر اب تو گھنٹہ ہونے والا ہے وہ نہیں آئی۔ میں خود بہت پریشان ہوں اس کے لیے وہ بہت پریشان تھی اور مجھے کچھ بتائے بغیر گئی…”

یارم کی آنکھیں دھوپ میں تیز دھوپ کے باوجود کشادہ راستوں کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ اس کے الفاظ میں غصہ اور بے چینی دونوں جھلک رہے تھے: “افسوس کی بات ہے آپ کی دوست پریشان تھی کہیں جا رہی تھی اور نہ آپ نے اس کی پریشانی جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی یہ پوچھنا ضروری سمجھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے…”

یہ سن کر مائرہ نے فون دو سیکنڈ کے لیے کان سے ہٹا لیا۔ یارم کی آواز واقعی گرجدار تھی اور اس کی شدت مائرہ کے دل میں کھچاؤ پیدا کر گئی۔
“سر، میں نے اس سے پوچھا تھا، مگر وہ بہت ضدی ہے۔ اس نے نہیں بتایا، ایک ہی بات کہتی رہی کہ آ کر بتائے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ مجھے اپنی دوست کی فکر نہیں ہے…”

مائرہ کی آواز میں اضطراب اور ہچکچاہٹ جھلک رہی تھی۔
“میرے بار بار پوچھنے پر بھی اس نے نہیں بتایا، تو میں کیا کرتی…”
“یہ تو آپ خود سے پوچھیں کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے تھا۔”

ڈی ایس پی یارم شدید غصے میں تھا۔ ہر لفظ میں سنجیدگی اور اضطراب جھلک رہا تھا۔ اب اسے کنفرم ہو چکا تھا کہ عبیرہ کسی مشکل میں ہے، اور وقت گزرتا جا رہا تھا۔

دھوپ میں کھڑا یارم گرد و نواح پر نظر ڈال رہا تھا، ہر لمحہ اس کے دل میں دھڑکن تیز کر رہا تھا۔ اسے پتہ تھا کہ عبیرہ کی حفاظت کا موقع ہاتھ سے نکلنے کی صورت میں کوئی معافی نہیں ملے گی۔
“پلیز سر، آپ اسے ڈھونڈنے میں میری مدد کر سکتے ہیں؟ مجھے اس کی بہت فکر ہو رہی ہے۔”
مائرہ کی آواز میں گھبراہٹ اور اضطراب واضح تھا، دل دھڑک رہا تھا اور ہاتھ تھرتھرائے جا رہے تھے۔

“جی، وہی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔”
یارم کی آواز میں سنجیدگی اور عزم جھلک رہا تھا، دھوپ میں کھڑے اس کی نظریں ہر طرف تلاش کر رہی تھیں۔

“سنیں، جو نمبر میرے پاس ہے وہ لگ نہیں رہا۔ کیا آپ کے پاس عبیرہ کا کوئی دوسرا نمبر موجود ہے؟”
مائرہ نے فون تھامے اپنے دل کی دھڑکن محسوس کی، سانسیں کچھ تیز تھیں اور وہ ہر لفظ کو ناپ تول کر بول رہی تھی، خوف اور پریشانی کا اثر واضح تھا۔

“نہیں سر، عبیرہ کا وہی نمبر ہے اور اس کا فون کبھی بند نہیں ہوتا۔”
مائرہ کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔

“میں بھی پچھلے آدھے گھنٹے سے کوشش کر رہی ہوں، اس کا فون بند جا رہا ہے…”
اس کے لہجے میں پریشانی تھی۔
“ٹھیک ہے، میں اپنے طریقے سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آپ بھی اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ جیسے ہی بات ہو، مجھے فوراً اطلاع دے دینا۔”
یارم کی آواز میں سنجیدگی تھی۔

“جی سر، ٹھیک ہے…”
مائرہ نے فون بند کر دیا، ۔

یارم خان اپنی جیپ میں بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ عبیرہ کو ڈھونڈنے کے لیے نکلا تھا، مگر اس کے پاس ایسا کوئی راستہ نہیں تھا جس سے وہ براہِ راست اس تک پہنچ سکے۔

سوائے ایک کے کہ وہ سیدھا عبیرہ کے گھر جاتا اور پوچھتا کہ وہ کہاں ہے۔ مگر یارم دل میں ٹھان چکا تھا کہ اس گھر میں اپنے بابا کی اجازت کے بغیر قدم نہیں رکھے گا۔

پھر بھی عبیرہ کی محبت اسے کھینچ رہی تھی، اسے اس گھر تک لے جا رہی تھی جہاں کوئی ایسا شخص رہتا تھا جس نے برسوں پہلے یارم کے معصوم دل کو چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کیا تھا، یہ سوچے بغیر کہ بچے کے دل پر کیا گزرے گی۔

گھر کے بہت نزدیک پہنچ کر یارم رک گیا۔ اس نے اپنے اندر سوچا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عبیرہ کسی دوست کے ساتھ یا کہیں گئی ہو اور اس کا پوچھنا اسے مشکلات میں ڈال دے۔ وہ جانتا تھا کہ گھر والے انگلی اٹھانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

چند لمحے اور انتظار کے بعد، یارم نے اپنے حساب سے عبیرہ کو ڈھونڈنے کا آغاز کیا۔

اس نے اپنی ٹیم سے کہا کہ عبیرہ کا نمبر ٹریس کیا جائے۔ مگر وہ حیران تھا یہ سن کر کہ عبیرہ کے فون کو ٹریس کرنے پر کسی نے سکیورٹی کوڈ لگا رکھا تھا۔

کوئی چاہ کر بھی اس کے فون کو ٹریس نہیں کر سکتا تھا۔ اب تو یارم کا یقین شک میں بدل گیا تھا کہ واقعی عبیرہ کسی مشکل میں ہے۔

کیونکہ یہ کام کوئی عام انسان نہیں کر سکتا تھا، فون پر سکیورٹی کوڈ لگانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ کام ہیکر کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا تھا۔
“کہاں ہو، عبیرہ؟
پلیز، مجھے کوئی اشارہ دو کہ میں تم تک پہنچ سکوں۔
وعدہ کرتا ہوں، کہ تم دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو، میں تم تک پہنچ جاؤں گا۔”

یارم کے دل نے پہلی بار کسی سے محبت کی ہے، اور وہ محبت اتنے کم دنوں میں اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ تمہیں کھو دینے کے ڈر سے، یارم خان کا مضبوط دل بند ہو رہا ہے۔

خدارا، عبیرہ، واپس آجاؤ۔ یارم، گاڑی کے اسٹیئرنگ پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے، عبیرہ کے بارے میں سوچ کر، حلق میں اٹکی ہوئی تھوک کو نگلتے ہوئے، گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکا کر بیٹھ گیا۔

وہ کافی دیر سڑکوں پر گاڑی کو بھگا بھگا کر تھک چکا تھا، کچھ دیر کے لیے اس نے گاڑی، ایک ڈھابے کے قریب، کھڑی کر دی۔”

یارم کی پلیز فورس والی گاڑی بھی، یارم کی گاڑی کے ساتھ رک گئی۔
کے کہنے پر، اس کی فورس کے آدمی ڈھابے سے چائے وغیرہ پینے لگے۔

سر آپ کے لیے کچھ ٹھنڈا یا گرم لے کر آئیں؟؟
کانسٹیبل نے پاس آکر پوچھا ۔

نہیں آپ لوگ آرام سے کھانا وغیرہ کھائیں،مجھے جب چاہیے ہوگا بتا دوں گا۔۔۔۔

جی سر ٹھیک ہے۔
کانسٹیبل جا چکا تھا۔

یارم کے حلق سے کوئی چیز نیچے نہیں اتر رہی تھی۔۔ اسے تو ہر حال میں عبیرہ صحیح سلامت چاہیے تھی۔

اب یارم ہم کو کوئی کیسے بتاتا کہ عبیرہ جس شخص کے ہاتھ میں جا چکی ہے وہاں سے عبیرہ کو لانا آسان کام نہیں تھا ۔

اس نے سالوں انتظار کیا تھا عبیرہ کو اپنی نفرت کا نشانہ بنانے کے لیے تو کیسے اتنی آسانی سے عبیرہ کو کوئی اس کے چنگل سے آزاد کروا سکتا تھا۔

یارم بار بار عبیرہ کا فون ٹریس کروانے کی کوشش کر رہا تھا،مگر ہر بار ناکامی کا سامنا کرتے ہوئے یارم کو غصہ آنے لگا تھا۔
وہ سوچنے پر مجبور تھا ایسا کون ہے جو پولیس والوں سے بھی زیادہ دور کی سوچ سوچنے کی مہارت رکھتا ہے۔

ایک بات تو یارم کے دل نے تسلیم کر لی تھی، کہ عبیرہ واقعی کسی بہت بڑی مشکل میں ہے، اور دشمن ہرگز معمولی نہیں تھا۔

═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *