Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:8
🕯️ صلیبِ سکوت
قسط نمبر :8
حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════
“وہ اپنے وجود پر ثبت اُس ناخوشگوار یاد کو مٹانے کی جستجو میں کافی دیر تک الجھی رہی۔ جب وہ پلٹی تو کمرہ خالی تھا، آریان خان جا چکا تھا۔ اُس کی زبان پر شکر کے الفاظ آئے اور اس نے جلدی سے دروازے کا ہینڈل گھما کر باہر کا رخ کیا۔”
“پورا گھر ویرانی کی تصویر بنا ہوا تھا، قیمتی آسائشوں کے ڈھیر کے سوا وہاں کسی انسان کا سایہ بھی موجود نہ تھا۔”
“اس محل نما گھر کی آرائش اور آسائش بتا رہی تھی کہ دولت اس شخص کی کمزوری ہے، جذبات نہیں۔”
“گھر کی ہر شے ترتیب اور نفاست سے رکھی ہوئی تھی، گویا اس کے مالک کو اشیاء سے غیر معمولی لگاؤ تھا۔
عبیرہ سہمی ہوئی قدموں سے بھاگتی ہوئی چیزوں سے ٹکراتی گارڈن ایریا تک جا پہنچی۔ اُس کی نظریں باہر کے دروازے پر جمی تھیں۔۔۔وہ کسی طرح منت سماجت کر کے دروازہ کھلوانا چاہتی تھی۔
مگر جیسے ہی اس نے پہلا قدم آگے بڑھایا، دروازے کے پاس دبکا ہوا وہ دیو ہیکل کتا اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے آیا۔ عبیرہ کے قدم ڈگمگا گئے، جیسے جان ہی نکل گئی ہو۔ کتا پہلے ہی تاک میں بیٹھا تھا، اسے دیکھتے ہی لپکا اور اس کی طرف دوڑ پڑا۔
وہ حواس باختہ ہو کر الٹے قدم بھاگی، مگر جلدی میں اتنی تیزی سے پلٹی کہ راستے میں رکھے ہوئے بھاری ٹیبل سے ٹکرا کر زمین پر جا گری۔ ٹیبل کے کونے کی ضرب ماتھے پر لگی اور گہرا زخم کھل گیا۔ خون دھار کی صورت میں بہنے لگا، اُس کے چہرے کو سرخی سے بھگو رہا تھا۔”
خوف اس پر اس طرح حاوی تھا کہ وہ اپنے درد اور تکلیف کو بھول گئی۔ تیزی سے اٹھی، کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ زور سے بند کر دیا۔ باہر سے کتے کے ہانپنے کی آواز اب بھی آ رہی تھی۔ وہ لرزتے وجود کے ساتھ صوفے کے پیچھے جا چھپی۔ اس کی حالت ایک ننھے بچے جیسی تھی، کمزور، سہمی ہوئی اور بےبس۔
اسے محسوس ہوا جیسے وہ اپنے پیاروں سے ہمیشہ کے لیے کٹ گئی ہے، جیسے وہ کسی ایسی بھول بھلیاں میں پھنس گئی ہو جہاں سے کوئی اسے ڈھونڈنے نہیں آئے گا۔ منہ پر ہاتھ رکھے وہ ہچکیوں کے ساتھ روتی رہی۔ ماتھے سے بہتا ہوا خون چہرے کو تر کرتا ہوا فرش پر ٹپک رہا تھا اور خون دیکھ کر اس کا خوف اور بڑھ گیا۔ دل کانپ رہا تھا کہ شاید وہ اب زندہ نہیں بچے گی، کوئی بھی اسے بچانے نہیں آئے گا۔
اسی لمحے اس نے اپنے بابا کو یاد کیا، اپنی اماں اور اپنے بھائی کو۔ آنکھوں کے سامنے ان سب کے چہرے تھے اور انہی میں ایک اور چہرہ ابھر آیا، یارم خان کا۔ اس خیال نے اس کے دل کو ایک لمحے کے لیے روک دیا، جیسے تڑپ کے بیچ امید کی ایک کرن جاگ اٹھی ہو۔ اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ اسے تو ہمیشہ یارم جیسا ہمسفر چاہیے تھا، پھر کیوں آریان خان اس کی زندگی میں آ گیا؟ یہ سوچ کر وہ اور زور سے رونے لگی۔
کہاں یارم خان اور کہاں آریان خان۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ایک مشرق تھا تو دوسرا مغرب۔ ایک آسمان تھا تو دوسرا زمین۔
ایک کھلتا ہوا خوشنما پھول تھا تو دوسرا جھلسا دینے والی دھوپ۔
یارم خان عورتوں کی عزت کرنے والا تھا، اور آریان خان عورتوں کو پیروں تلے روندنے والا۔
یارم کے نزدیک عبیرہ محبت کا دوسرا نام تھی، اور آریان کے نزدیک وہ صرف نفرت کا نشان۔
کہتے ہیں، جس چیز کو انسان شدت سے چاہے وہ اسے مل جاتی ہے۔ میں نے بھی تو پہلی نظر میں یارم کو شدت سے مانگا تھا۔ پھر کیوں میرے نصیب میں آریان خان جیسا سفاک شخص آیا؟
سر سے بہتا ہوا خون اسے مسلسل کمزور کر رہا تھا۔ چکر آنے لگے تھے۔ کمرے میں چلتا ہوا اے سی خون کو جما رہا تھا اور بدن کو سن کرتا جا رہا تھا۔ وہ زخموں سے چور تھی۔ ماتھے پر گرنے سے لگنے والا گہرا کٹ… اور کلائی پر آریان خان کے چاقو کا دیا ہوا وہ زخم، جس پر ابھی تک پٹی بندھی تھی، سب اسے ٹکڑوں میں توڑ رہے تھے۔
پورا وجود زخموں کے بوجھ تلے کراہ رہا تھا۔ عبیرہ کی نازک جان ایک ساتھ اتنی اذیتیں سہنے کے قابل نہ رہی۔ قدموں نے بیوفائی کی، وہ لرزتی ہوئی زمین پر گری۔ ایک دھڑام کی آواز اور پھر سناٹا۔
ماتھے سے بہتا ہوا خون فرش پر پھیلنے لگا، اور اردگرد ہر چیز اس خون کی لالی سے رنگتی گئی۔ صوفے کے پائے، قالین کے گوشے، دیوار کا سایہ۔۔۔سب اس کی تکلیف کے گواہ بن گئے۔
وہ فرش پر بے حس و حرکت پڑی تھی۔ سانسیں مدھم ہو رہی تھیں، اور کمرہ اس کے گرد گھومتا جا رہا تھا۔ درد نے اسے گھیر کر ایسا جکڑ لیا تھا جیسے کوئی رسی بدن کے گرد لپیٹ دی گئی ہو۔
اور پھر وہ یوں گراں ہوگئی جیسے طوفان کے بعد ٹوٹا ہوا پرندہ زمین پر گر کر خاموش ہو جائے۔
═══════❖═══════
♥️🎂🎂♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
دیکھیں روشانے اس طرح جھوٹ بول کر مجھے گھر واپس بلا کر آپ نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔
آپ جانتی ہیں میں آپ پر کتنا یقین کرتا ہوں اور آپ نے اپنی طبیعت خراب کا جھوٹا بہانہ بنا کر مجھے گھر واپس بلایا۔ ۔۔۔۔
بالکل اچھا نہیں کیا آپ نے۔۔۔
چلاؤ مت آرام سے بیٹھ جاؤ ۔۔۔
مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی اس لیے بلایا ہے۔
روشانے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہا۔۔
چلا نہیں رہا اور آپ جانتی ہیں میں آپ پر کبھی نہیں چلاتا۔۔ ۔۔
مگر مجھے ضروری کام تھا جو میں بیچ میں چھوڑ کر آیا ہوں۔۔
آپ جانتی ہیں کہ میں آپ سے کتنا پیار کرتا ہوں۔۔۔۔
آپ کی ذرا سی تکلیف بھی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی ۔۔۔۔
اور آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا ۔۔۔
جبکہ آپ ہمیشہ ہمیں جھوٹ بولنے سے منع کرتی ہیں۔۔۔۔
آریان خان سچ میں روشانے کی طبیعت خراب کا سن کر بہت پریشان ہو گیا تھا۔۔
۔جیسے ہی روشانے کا فون گیا کہ اس کی طبیعت ٹھیک ہے وہ عبیرہ کو بتائے بغیر وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔
اسے عبیرہ سے کوئی ہمدردی نہیں تھی محبت نہیں تھی مگر وہ لڑکی اس وقت وہاں پر اس کی وجہ سے تھی ۔۔۔۔
اور ابھی تو اس کی سزا کا پروسیجر شروع ہوا تھا ۔۔۔۔
ابھی تو آریان خان نے بدلہ لینا شروع کیا تھا کہ اسے اچانک گھر بلا کر اس کا سارا کھیل خراب کر دیا گیا ۔۔۔۔
آریان خان بہت زیادہ غصے میں تھا۔۔۔۔۔
کیا مجھے کوئی حق نہیں کہ میں تمہیں کبھی اس طرح مذاق کر کے بلا سکوں۔۔۔۔
تم جانتے ہو کہ اگر ویسے تمہیں بلاتی تو تم نے اتنی جلدی کبھی نہیں آنا تھا ۔۔۔
تمہارا تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ تم کب گھر آتے ہو اور کب چلے جاتے ہو۔۔۔۔
گھر سے کہیں زیادہ تو تم باہر رہتے ہو۔۔۔
صبح بھی تم کتنی جلدی میں گھر سے نکلے تھے۔۔۔۔
جیسے فائر برگیڈ کی گاڑی کے مین ہیڈ تم ہو تم نے جا کے کہیں پر لگی ہوئی آگ کو بجھانا تھا۔۔۔
کئی کئی دن تمہاری شکل دیکھنے کے لیے ترس جاتی ہوں۔۔۔
میں تمہیں سارم سے زیادہ پیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔
سارم صرف میرا بیٹا ہے اور تم میرے بیٹے ہونے کے ساتھ ساتھ میرے بھتیجے ہو ۔۔۔۔
اور پھوپھیوں کو بھتیجے بہت زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔۔۔۔
کیونکہ وہ بھتیجوں میں اپنے بھائیوں کا عکس دیکھتی ہیں۔۔۔۔
تم یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہو ہمارے بیچ میں ماں بیٹے سے بڑھ کر رشتہ ہے۔۔۔
روشانے میں جانتا ہوں کہ آپ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں۔۔۔۔
اور میں آپ کو اپنی ماں سے بڑھ کر سمجھتا ہوں۔۔۔
آپ بھی یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہیں۔ ۔۔۔
کم سے کم میرے پیار پر شک مت کریں۔۔۔
تو پھر ذرا سی بات پر یوں منہ پھلا کر مت بیٹھ جایا کرو آریان ۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے رونا بند کریں ۔۔۔۔
آئندہ خیال رکھوں گا اور بتائیں کیا کہنا تھا آپ کو جس کے لیے آپ نے اپنی طبیعت خراب کا بہانہ بنایا۔۔۔
آریان نے روشانے کا ہاتھ پکڑ کر اس کے آنسو صاف کیے۔۔۔
آریان تمہیں اب شادی کر لینی چاہیے ۔
چلو!!
یہ اچانک سے آپ کو میری شادی کا خیال کیسے آگیا ۔۔۔
آریان کو شادی والی بات بالکل سمجھ میں نہیں آئی تھی اس کے چہرے کے زاویے خراب ہوگئے ۔۔۔
آریان شادی کا خیال اچانک سے نہیں آیا تم بچے نہیں ہو جو تمہاری 12 سال کی عمر میں شادی کی بات کر رہی ہوں تم شاکٹ ہو گئے ہو۔۔۔
30 سال کے ہو چکے ہو۔۔۔۔۔۔
شادی کی پرفیکٹ عمر ہے تمہاری اس سے کوئی دو چار سال پہلے ہو جاتی تو زیادہ بہتر تھا۔۔۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ تم ضدی اور خودسر ہوتے جا رہے ہو۔۔۔۔
روشانے پلیز یہ مورے اور بابا کی زبان مت بولیں ۔۔۔۔
مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔۔
آریان شادی تو کرنی پڑے گی۔۔۔۔
تم اس طرح سے اپنی بچپن کی منگیتر کو سالوں اپنے نام پر بٹھا کر اب شادی سے بھاگ نہیں سکتے۔۔۔۔
میری مرضی سے نہ تو رشتہ جوڑا گیا تھا اور نہ میں نے کہا کہ وہ سالوں میرے نام پر بیٹھی رہے۔۔۔
وقت مانگ رہا ہوں شادی سے انکار نہیں کر رہا۔۔۔
پٹھان ہوں جانتا ہوں کہ جس لڑکی کو زبردستی آپ لوگوں نے میرے نام پر منگ بنا کر بٹھا رکھا ہے ۔۔۔۔
اس کو چھوڑنے کا مطلب ہے کہ میری مردانگی پر انگلیاں اٹھیں گی۔۔۔۔
اتنا بے غیرت نہیں ہوں جو اپنے منگ کو جانے دوں گا۔۔۔۔۔
مگر ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا پلیز دباؤ مت ڈالیے گا۔۔۔
آریان بات دباؤ ڈالنے کی نہیں ہے ۔۔۔ تمہاری اور پریشے کی صحیح عمر ہےشادی کی۔۔۔
تو شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے ہو ۔۔۔
تمہیں کون سا شادی کر کے ہمیشہ اسے سر پر اٹھا کر ساتھ رکھنا ہے۔۔۔
وہ ہمارے ساتھ یہاں رہے گی اور وعدہ کرتی ہوں کہ ہم اسے سنبھال لیں گے۔۔۔
تمہاری آزادی میں کوئی خلل نہیں پڑے گا۔۔۔
ایسا ابھی کوئی پیدا نہیں ہوا جو میری آزادی میں خلل ڈالے۔۔
اور آپ جانتی ہیں کہ مجھے پریشے بالکل پسند نہیں ۔۔۔۔۔
پتہ نہیں کیا سوچ کر آپ لوگوں نے میرا رشتہ اس کے ساتھ طے کر دیا ۔۔۔۔۔
عجیب عذاب سا بن کر ہمیشہ میرے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔۔۔
آریان اس میں کمی کیا ہے پڑھی لکھی ہے خوبصورت ہے تمہاری خالہ کی بیٹی ہے۔۔۔
ہماری ذات کی ہے ہمارے کلچر کو ہماری روایات کو ہر چیز کو سمجھ سکتی ہے۔۔
کیا خرابی ہے اس لڑکی میں جو تمہیں وہ پسند نہیں ہے۔۔۔
ماشاءاللہ لگتا ہے اب آپ کو بھی نزدیک اور دور دونوں چشمے دوبارہ سے نظر چیک کروا کے لگوا لینے چاہیے۔۔۔۔
اتنی ماڈرن لڑکی اور آپ کو لگتا ہے کہ وہ ہماری روایات اور سب چیزوں کو سمجھتی ہے۔۔۔
اور میری پسند سے آپ ہمیشہ سے واقف تھیں۔۔۔۔
مجھے ڈیسنٹ اور شرم و حیا والی لڑکی چاہیے تھی۔۔۔۔۔
اور اس میں تو مجھے ایسا کوئی گن نظر نہیں آتا۔
اس کے گھر والوں نے اسے مکمل آزادی دے رکھی ہے۔۔۔
مجھے تو اس کا آفس جانا اور ہر چوتھے دن ملک سے باہر جانا زہر لگتا ہے۔۔۔۔۔
بے لگام اور ضدی لڑکی ہے۔۔۔۔
تو آریان ضدی تو تم بھی ہو۔۔
روشانے آج آریان کو منانے کا پورا ارادہ رکھتی تھی۔۔
تو کیا آپ اس کا مقابلہ مجھ سے کروا رہی ہیں۔۔۔
آپ کو عورت اور مرد میں فرق محسوس نہیں ہوتا میں مرد ہوں اور وہ عورت۔۔۔۔
عورت با پردہ ہو کر گھر کی چار دیواری میں اچھی لگتی ہے۔۔
جو عورتیں مردوں کا مقابلہ کرتی ہیں مجھے وہ عورتیں انتہائی بری لگتی ہے۔۔۔
بد قسمتی سے آپ نے ایک ایسی لڑکی کے ساتھ میرا رشتہ منسوب کر رکھا ہے۔۔
جس کو نہ تو میں بیوی بنانے کے لائق سمجھتا ہوں اور نہ ہی چھوڑ سکتا ہوں۔
چھوڑتا ہوں تو بے غیرت کہلاؤں گا اگر ساتھ رکھوں گا تو کبھی اسے بیوی ہونے کا حق نہیں دے سکوں گا۔۔۔
آریان ٹھنڈے دماغ سے سوچو تمہارا اس کے ساتھ خراب رویہ بھابھی اور گلشن آپا کے رشتے کو تباہ کر سکتا ہے ۔۔
وہ دونوں سگی بہنیں ہیں۔۔۔
کیا اس دن کے لیے بھابھی نے تمہیں پال پوس کر بڑا کیا ہے ۔۔۔۔
کہ تم ان سے ان کے قیمتی رشتے جدا کر دو۔۔۔
روشانے میں ان رسم و رواجوں رشتوں میں بندھنے والا انسان نہیں ہوں۔۔۔۔
مجھے اپنی ذات سب سے پہلے عزیز ہے۔ باقی سب بعد میں۔۔۔۔
میں آج بھی کہہ رہا ہوں کہ وہ لڑکی میرے بیوی کے سانچے میں فٹ نہیں ہوتی۔۔۔۔
اور آنے والے وقت میں بھی میرا فیصلہ بدلے گا نہیں۔۔۔
صرف نکاح کے تین بول پڑھ لینے سے کوئی بیوی نہیں بن جاتی۔۔۔۔
آریان مجھے تمہاری باتوں سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔
کہیں آنے والے وقت میں تم سب رشتوں کو خراب مت کر دینا۔۔۔۔
پہلے ہی ہم بہت کچھ کھو چکے ہیں اب اور کھونے کی ہمت نہیں ہے۔۔۔
روشانے مجھے اس وقت کسی ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔
جو میں ادھورا چھوڑ کر آیا ہوں۔۔۔۔
وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
آریان ایسے کون سے تمہارے کام ہیں جو ختم ہی نہیں ہوتے ۔۔۔۔
اور تم گھر کیوں نہیں رہتے ہو۔۔۔
گھر تو تم ایسے آتے ہو جیسے مہمان آتے ہیں۔۔۔۔
نا آنے کا پتہ نا جانے کی خبر۔۔۔
روشانے بھی اس کے ساتھ اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔
کیا روشانے اب آپ بھی مورے اور بابا کی طرح ایسے سوال کر کے مجھے زچ کیا کریں گی ۔۔ ۔۔۔
کیا چاہتی ہیں کہ میں آپ کے پاس بھی بیٹھنا چھوڑ دوں۔۔۔
آریان خان کا موڈ سخت خراب ہونے لگا تھا۔۔۔
آریان عام روٹین میں کبھی روشانے سے اس طرح بات نہیں کرتا تھا۔۔۔
مگر آج سچ میں اسے کہیں جانے کی بہت جلدی تھی ۔۔۔۔
وہ جانے کے لیے بہت بے قرار تھا۔۔۔
روشانے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے خاموش ہو گئی۔۔۔۔
ٹھیک ہے جاؤ اور میری بات پر غور ضرور کرنا۔۔۔
روشانے نے یاد دہانی کروائی۔
غورکرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
کہہ دیا ہے کہ شادی کر لوں گا مگر فی الحال ابھی نہیں کرنا چاہتا مجھے تھوڑا سا وقت چاہیے ۔۔۔۔
کتنا وقت چاہیے۔۔۔
بہت جلد بتا دوں گا ابھی جاؤں مجھے ضروری کام ہے۔۔۔
جاؤ جہاں پر آگ لگی ہے جا کر جلدی سے بجھا دینا ۔۔۔۔
مجھے تو تمہاری یہ جلد بازیاں کبھی سمجھ میں نہیں آتیں ۔۔۔
روشانے اس کی جلد بازی پر اکتا کر بولی۔۔۔
اللہ حافظ اپنا خیال رکھیے گا۔۔۔
وہ کہتا ہوا فون پر کوئی نمبر ڈائل کرتا ہوا فون کان کو لگا کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
اللہ کرے آریان کہ تم پریشے کو خوش رکھ سکو ۔۔۔
جبکہ مجھے تم سے ایسی کوئی امید نہیں ہے ۔۔۔۔۔
جو لڑکی بھی تمہاری بیوی بنے گی تم اس کو بہت کڑے امتحان میں ڈال دو گے ۔
اللہ پریشے کو صبر دے کہ وہ تمہیں برداشت کر سکے۔۔۔۔
وہ دماغ میں سوچ کر پاس رکھے ہوئے ٹیبل پر جگ سے پانی انڈیل کر پینے لگی۔۔۔۔۔
اسے آج آریان کی ماں نے بہت مجبور کیا تھا کہ وہ کسی بھی طرح آریان کو بلا کر پریشے کے بارے میں بات کرے۔۔
کیونکہ پریشے کی ماں رخصتی کے لیے راضی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
دونوں بہنوں کی آپس میں فون پر بات ہو چکی تھی مگر آریان کی باتیں سن کر تو روشانے بہت زیادہ پریشان ہو گئی تھی۔
اسے تو یہ رشتہ بے جوڑ لگ رہا تھا کیونکہ آریان خان کبھی بھی پریشے کو خوش نہیں رکھ سکے گا۔ ۔
اتنا تو روشانے کو اندازہ ہو چکا تھا ۔۔
۔روشانے نے آریان کو بچپن سے لے کر جوانی تک سارم کے ساتھ بیٹا بنا کر پالا تھا ۔۔۔۔۔
اس کے لیے سارم خان اور آریان میں کوئی فرق نہیں تھا۔۔
اسکا زیادہ تر وقت روشانے کے ساتھ ہی گزرا۔۔۔
وہ آریان خان کے نیچر کو بہت اچھی طرح سے جانتی تھی کہ جو چیز آریان کے دل کو نہیں لگتی آریان اس چیز کو کبھی اپنی زندگی میں اہمیت نہیں دیتا۔۔۔۔
پھر چاہے وہ رشتے ہوں یا ارد گرد کی چیزیں۔۔۔
•••••••••••
خانم کب تک اس طرح بھوکی رہ کر خود کو سزا دوں گی۔۔۔۔
میں نے تو کہا ہے کہ مجھے ان سے بات کرنے دو مگر آپ کو وہ بھی منظور نہیں تو یوں بھوکی رہ کر کیوں مجھے سزا دے رہی ہیں۔۔
خان جب سالوں بعد اپنے نظروں کے سامنے آ کر آپ کو اس طرح سے نظر انداز کریں بہت تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔
میں تو ان کو بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی ۔۔
میں کبھی ان کو بھول نہیں سکی مگر کبھی یاد کرنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔۔۔۔
کیونکہ میں اچھی طرح سے جانتی تھی۔ وہ لوگ مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے ۔۔۔
کبھی میری مجبوری کو نہیں سمجھیں گی ۔۔۔کبھی میری سچائی کو تسلیم نہیں کریں گے۔۔
اس لیے ہمیشہ کے لیے اپنے دشمنوں کے ساتھ پیاروں سے بھی ناطہ توڑ کر خود کو سمجھا لیا تھا کہ اس دنیا میں میرا آپ کے سوا کوئی نہیں۔۔۔
مگر اچانک سے کل میرے سامنے آکر میری سب یادوں کو تازہ کر دیا جن میں بہت سی یادیں اچھی تھیں اور بہت سی بری۔پھر مجھے نظر انداز کر کے غیروں کی طرح چلے گئے۔۔۔
خان مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔جو لوگ آئے تھے۔میرا ان کے ساتھ بہت گہرا رشتہ ہے۔ان میں سے کوئی بھی میرا دشمن نہیں تھا۔۔۔۔
ماضی میں سب سے زیادہ میرے قریب رشتوں میں سے یہ تینوں افراد تھے اور آج غیروں کی طرح برتاؤ کر کے چلے گئے میرا دل پھٹ رہا ہے میرا دل چاہ رہا ہے میں چیخ چیخ کر رو ؤ ۔۔۔۔۔۔
خانم مجھے بتانے کی ضرورت نہیں آپ کے درد سے میں بخوبی واقف ہوں۔جانتا ہوں کہ آپ سے اپنوں کا غیروں والا رویہ برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔
رات جب آپ کے سر میں شدید درد تھا تو آپ کو پین کلر کے ساتھ نیند کی دوا بھی میں نے دی تھی تاکہ آپ سکون سے سو سکیں۔۔۔مگر نیند کی دوا کھانے کے باوجود آپ بار بار اپنے بھائی باسق اور مون کا نام لے رہی تھی۔۔۔۔
اور جب سے اٹھی ہیں ان کو ہی سوچ رہی ہیں۔مگر وہ تو آپ کو اجنبیوں کی طرح چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔۔
ایک بار تو آپ کو صفائی کا موقع دیتے۔۔۔
مگر وہ لوگ تو غیروں کی طرح آئے اور چلے گئے ۔۔۔
نہ تو آنے کی وجہ بتائی اور نہ ہی جانے کی۔۔
آپ اس طرح بھوکی رہ کر مجھے تکلیف پہنچا رہی ہیں ۔۔۔۔
وہ لوگ تو نہیں ہیں یہاں آپ کو دیکھنے کے لیے۔۔۔
تبریز خان کل سے خانم کی حالت دیکھ کر پریشان تھا۔۔۔۔
مگر زبان سے کچھ نہیں کہا وہ خانم کے بغیر کہے بھی سمجھ چکا تھا کہ وہ لوگ خانم کے لیے کس قدر عزیز ہیں۔۔۔۔اور اپنوں کو کھو دینے کا درد کیا ہوتا ہے یہ بات تبریز خان سے زیادہ کون جانتا تھا۔۔۔
اس کی معصوم خانم سالوں تک خانم خاموش رہی ۔کبھی اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کو یاد نہیں کیا ۔۔بہت صابر تھی تبریز کی خانم۔۔۔۔
کبھی اپنے قریبی رشتوں کا ذکر نہیں کیا مگر ان کے سامنے آتے ہی وہ کیسے تڑپ اٹھی تھی۔۔۔کیونکہ وہ اپنے پیاروں کو بھولی نہیں تھی صرف اپنے درد کو اپنے دل میں دبا کر سی لیا تھا اس نے۔۔۔
اسنے اپنی زندگی تبریز خان کے نام کر دی اس کی زندگی پر صرف اس شخص کا حق تھا ۔جو اسے غم اور تکلیفوں سے بچا کر اپنے خوبصورت گھر میں پیار سے رانی بنا کر رکھے ہوئے تھا۔۔۔
جب بس خان رتبہ خان اور اس کا بیٹا ڈی ایس پی یا رب ایک دم سے اٹھ کر چلے گئے تھے ۔۔ تبریز نے خانم کو تڑپ کر دروازے تک ان کے پیچھے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔۔اب کس طرح تڑپ کر رو رہی تھی ۔۔۔۔۔
مگر ان لوگوں نے تو پلٹ کر بھی خانم کی جانب نہیں دیکھا سوائے رتبہ خان کے۔۔۔۔
خان میں آپ کو تکلیف پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی کیا کروں کھانا میرے حلق سے نہیں اتر رہا۔۔۔۔
آپ تو میرے مسیحہ ہیں اگر آپ نہ ہوتے تو مجھے ایک باعزت زندگی کبھی میسر نہ ہوتی۔۔۔ہر بار میرا ساتھ دےکر
اور کتنے احسان کریں گے آپ مجھ پر ۔۔۔۔۔
وہ روتی ہوئی آنکھوں سے دیکھ کر خان کے احسانوں کو یاد کر رہی تھی۔۔۔
آپ فرشتہ صفت انسان کہاں سے میری زندگی میں اگئے۔۔یہاں تو اپنے ہی منہ موڑ کر چلے گئے ہیں۔۔
سالوں جن کے ساتھ گزارے ۔ان کو مجھ پر ذرا برابر یقین نہیں اور آپ نے ہمیشہ مجھ پر یقین کیا۔۔ ہر مشکل گھڑی میں آپ نے اپنے یقین کو ڈگمگانے نہیں دیا خان میں کیسے آپ کا شکریہ ادا کروں الفاظ ہی نہیں ملتے۔۔۔۔
تبریز خان خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا کہاں روتی تھی کہاں وہ اپنے دل کی بات کہتی تھی اس نے تو زبان پر تالے لگا رکھے تھے۔قسم کھا رکھی تھی کہ کبھی شکوہ نہیں کرے گی آج شاید درد برداشت سے زیادہ ہو گیا تھا۔۔ تو لبوں پر کچھ الفاظ خود سے ہی آتے چلے گئے تبریز خان خاموشی اور تحمل سے سن رہا تھا۔۔۔۔
خان ان لوگوں نے ایک پل کے لیے نہیں سوچا کہ میں ان کی عزت پر کبھی داغ نہیں لگا سکتی تھی۔میں اتنی بری تو کبھی نہیں تھی۔۔ہمیشہ باسک بھائی کو میں نے اپنا سگا بھائی سمجھاتا وہ بھی تو مجھے سگی بہنوں سے بڑھ کر پیار کرتے تھے۔۔
ایک بار تو مجھ سے پوچھتے کہ میں نے گھر کی دہلیز پار کیسے کی اتنا حق تو مجھ پر دکھا سکتے تھے مگر نہیں انہوں نے تو مجھے وہ ہی نہیں لگایا۔۔۔اس وقت خانم بہت ٹوٹی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔
کم سے کم ایک بار تو پوچھتے کہ آخر میں نے ایسا کیوں کیا تھا غصے سے ہی پوچھ لیتے۔۔۔مگر غصہ تو اپنوں پر کیا جاتا ہے میں تو ان کی اپنی کبھی تھی ہی نہیں۔۔۔
اور ایک آپ ہیں۔ جن کا سب کچھ برباد ہو گیا۔۔۔
صرف میری وجہ سے۔۔۔
آپ کے اپنے چھوٹ گئے میری وجہ سے۔۔۔۔
میں آپ کی زندگی میں درد بن کر آئی ۔۔۔
مگر آپ میرے لیے ہمیشہ شفا بن کر میرے ساتھ رہے ۔۔۔۔۔
میں وہ منحوس لڑکی تھی۔۔۔
جس نے آپ کی زندگی میں داخل ہوتے ہی آپ کا سب کچھ چھین لیا۔۔۔۔
پھر بھی آپ نے مجھ پر احسان کیا۔۔۔
مجھے اپنا نام دیا مجھے عزت دی۔۔۔۔
اگر آپ اس رات عروب خان کو عزت نہ دیتے تو وہ عر وب آج گلیوں کی دھول بن چکی ہوتی۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے خان کے سینے سے لگ گئی تھی۔۔۔تبریز خان نے اس کے گرد اپنے مضبوط بازوؤں کا دائرہ بناتے ہوئے اسے ہمیشہ کی طرح اپنے سینے میں چھپا لیا۔۔۔۔۔
افسوس ہوا یہ جان کر خانم کہ آپ آج بھی یہ سمجھتی ہیں کہ میں نے آپ پر احسان کیا ہے ۔۔۔
آج بھی آپ کو میری آنکھوں میں اپنے لیے محبت نظر نہیں آتی ۔۔۔
ہاں مانتا ہوں آپ میری زندگی میں ہوا کے اس جھونکے کی طرح آئی جو بہت تپش زدہ زیادہ تھا ۔
مگر وقت کے ساتھ آپ میرے لیے وہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن گئیں۔۔۔۔
جہاں پر آ کر مجھے سکون ملتا ہے۔اپ تو میرے لیے سکون بن گئی ۔مگر مجھے افسوس ہے اپنی ذات کے لیے کہ میں اب بھی آپ کے لیے ایک احسان ہوں۔۔
اور جو مجھ سے چھوٹ گئے ان کو مجھ پر یقین نہیں تھا۔ اگر یقین ہوتا تو وہ آج میرے پاس ہوتے ۔۔۔۔
وہ کی اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کر گئے۔۔میں نے ان کو اپنی زندگی سے جانے کو نہیں کہا تھا میں ان کے ساتھ اتنا ہی مخلص ساتھ جتنا آج آپ کے ساتھ ہوں۔۔۔۔
اس سب میں آپ کا کوئی قصور نہیں تھا خود کو قصور وار سمجھنا بند کریں۔۔۔ اگر میرے لیے کچھ کر سکتی ہیں تو کم سے کم اتنے سالوں بعد ہی یہ اعتراف کر دیں کہ آپ بھی مجھ سے پیار کرتی ہیں۔۔۔۔
خان نے ہمیشہ آپ کے منہ سے یہ سننا چاہا کہ آپ مجھ سے پیار کرتی ہیں۔۔۔
اور رہی بات کہ میں نے آپ پر کوئی احسان کیا ہے تو میں نے کوئی احسان نہیں کیا ۔۔۔۔
میں بھولا نہیں کہ آپ کے ساتھ بہت کچھ میری وجہ سے بھی ہوا تھا ۔۔نہ اس رات میں آپ داؤد کے ساتھ واپس بھیجتا اور نہ وہ گھٹیا انسان تم پر تشدد کرتا۔۔۔۔
میں اس بات کا کبھی ازالہ نہیں کر سکتا کیونکہ اس رات مجھ سے غلطی ہوئی تھی تمہارے بار بار منع کرنے پر بھی میں نے تمہیں زبردستی اس شخص کے ساتھ بھیج دیا ۔۔۔
مگر خدا کی قسم میں نہیں جانتا تھا کہ وہ شخص اتنا گھٹیا ہے کہ بیچ راستے میں تم پر تشدد کرے گا۔ ۔۔میں نے تو اسے باحفاظت تمہیں گھر لے جانے کو کہا تھا میں نہیں چاہتا تھا کہ ایک جوان لڑکی در در کی ٹھوکریں کھائے۔۔۔مگر زندگی میں پہلی بار تبریز خان نے غلط فیصلہ کیا تھا اور اس وقت فیصلے نے تمہاری زندگی خراب کر دی۔۔۔
میں نے تو تمہاری حفاظت کے لیے اپنے آدمی پیچھے بھیج کر ایک طرح سے بہت اچھا کیا۔۔ اگر ایسا نہ کرتا تو شاید وہ تمہاری جان ہی لے لیتا اور میں خود کو کبھی معاف نہ کر پاتا ۔۔۔۔
مجھے ہمیشہ اس بات کا افسوس رہے گا ۔۔تمہارے ساتھ تو بہت کچھ غلط ہوا۔ اس معصوم بچے کی جان بھی چلی گئی جس نے ابھی اس دنیا میں سانس بھی نہیں لیا تھا۔۔۔
میری اتنی بڑی خطا کے بدلے آپ نے مجھے ہمیشہ شوہر ہونے کی عزت دی میری ہر چیز کا خیال رکھا ۔میرے گھر کو سنبھالا میرے بچوں کو سنبھالا بیوی ہونے کے ہر فرض ایمانداری سے نبھا یا ۔۔میں آپ سے بہت خوش ہوں خانم ۔۔۔اگر میں کہوں کہ آپ میرے لیے خدا کا دیا ہو تحفہ ہے تو غلط نہ ہوگا۔۔
خان میں وہ سب کچھ بھول چکی ہوں اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں تھی آپ نے تو میرے اچھے کے لیے مجھے واپس بھیجنا چاہا۔۔۔بار بار اس وقت کو یاد مت کیا کریں مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔۔۔
آپ نے میرا اچھا ہی چاہا وہ میری قسمت تھی جو میرے ساتھ ہونا تھا ہو گیا۔۔۔۔ اس میں آپ کی بری نیت نہیں تھی میں جانتی ہوں۔اپ کو قسم یا گواہی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
آپ تو مجھے باعزت میرے اپنوں کے پاس بھیجنا چاہتے تھے ۔۔۔اپنوں کے بھیس میں چھپے ہوئے بھیڑیے کو آپ کیسے پہچان سکتے تھے۔۔ وہ الگ بات ہے کہ میں نے آپ کو بار بار بتایا کہ یہ شخص اپنا نہیں ہے۔۔
مگر اب جو وقت گزر گیا میں اس کو یاد نہیں کرنا چاہتی ۔۔ آپ نے اس ایک غلطی کے بدلے مجھے اتنا کچھ دیا ہے کہ میں وہ سب کچھ بھول چکی ہوں۔۔۔جو گزر گیا اسے کیا یاد کرنا اور گزرے ہوئے کل میں سوائے تکلیفوں کے تھا ہی کیا۔۔۔۔
اگر میں کہوں کہ ماضی میں کچھ بھی ایسا نہیں جس کو یاد کیا جائے تو غلط نہ ہوگا جس کے لیے اپنی عزت داؤ پر لگا دی وہ بھی تو وقت کے ایک تیز ہوا کے جھونکے کو برداشت نہیں کر پایا تھا۔۔۔
آپ نے میرے لیے جو کچھ کیا میں اس سب کے لیے آپ کی دل سے بہت عزت کرتی ہوں۔۔۔۔۔
ہمم۔۔۔
خان کو معاف کر دیا عزت کرتی ہیں ۔مگر کبھی یہ نہیں کہا کہ آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں ۔۔۔۔۔آج بھی تبریز خان آپ کے ان الفاظوں کا منتظر ہے۔۔۔۔
خان کچھ باتیں زبان سے کہیں نہیں جاتی اور رہی بات محبت کی تو محبت سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے عزت۔ آپ میرے لیے بہت معتبر ہے۔۔۔
عروب تبریز خان ۔۔۔۔۔
ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے تحمل سے تبریز خان نے عروب کا نام لیا تھا۔۔۔۔
میری جان تبریز خان کوئی بچہ نہیں جس کو تم بہلا رہی ہو۔۔۔ جانتا ہوں آج بھی آپ کو محبت سے ڈر لگتا ہے۔۔ آپ صرف میری عزت ہی کرتی ہیں پیار نہیں۔۔۔۔
مجھے افسوس ہے اس بات پر کہ میں اتنے سالوں میں بھی آپ کے دل سے نہ تو ڈر نکال سکا اور نہ ہی اپنی محبت کا چراغ جلا سکا۔۔۔۔
کبھی کبھی مجھے اس شخص کے مر جانے کے بعد بھی اس جلن محسوس ہوتی ہے۔
عروب نے چہرہ اٹھا کر تبریز خان کی جانب دیکھا تھا کیونکہ آج سے پہلے تبریز خان نے کبھی بھی اس کے ماضی کے بارے میں ایسی بات نہیں کی تھی۔۔۔۔
ایسے مت دیکھو عروب صحیح کہہ رہا ہوں۔ کبھی آپ کے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا ۔۔۔۔مگر پتہ نہیں کیوں مگر مجھ سے اس شخص سے جلن ہوتی ہے۔ کیوں آپ مجھ اس سے پہلے نہیں ملی۔۔۔۔۔
کیوں آپ میری زندگی میں اس شخص سے ملنے سے پہلے نہیں آئی ۔۔
میرے دل میں ایک آگ سی لگ جاتی ہے یہ سوچ کر،کبھی اس شخص کا نام پر حق رہا تھا ۔۔۔۔۔اور جانتی ہیں یہ سب کیوں ہوتا ہے،کیونکہ آج بھی کہیں نہ کہیں آپ شایان خان سے (پیار) ۔۔۔
اللہ کا واسطہ ہے خان چپ ہو جائے۔عروب نے خان کی بات بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔۔
خدا کی قسم خان آپ غلط سوچتے ہیں۔ وہ میرا ماضی تھا وہ گزر گیا ۔۔۔اب میں آپ کے نکاح میں ہوں آپ کے دو بچوں کی ماں ہوں ایسا سوچنا بھی میرے لیے گناہ ہے۔۔۔۔
وہ عروب تو اسی رات اسی جگہ پر مر گئی تھی جب ویران سڑک پر آدھی رات کو ننگے پاؤں بے سہارا ویران سڑک بھاگتی ہوئی آپ کی گاڑی سے ٹکرائی تھی ۔۔۔
وہ عروب تو اسی وقت مر گئی تھی جب شایان خان نے محبت کے دعوے کرنے کے باوجود مجھ پر یقین نہیں کیا۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ داؤد ہمارا دشمن ہے مگر پھر بھی وہ داؤد کی باتوں میں آگیا ۔۔
جس عروب کو بچا کر آپ نے اپنی عزت کی چادر دی وہ عروب آج آپ کے سامنے ہے۔۔۔۔ اس عروب کے دل پر دماغ پر زندگی پر صرف آپ کا حق ہے۔۔۔۔
خدا کے لیے آج کے بعد یہ مت کہیے گا جو آپ کہنے والے تھے۔ میرا پیار میرا وقت میری ایمانداری سب آپ پر قربان۔۔۔۔
میرا یقین ہے اس ذات پر ۔۔۔ بے شک میرا رب اپنے بندے سے بہتر چھینتا ہے تو بہترین دیتا ہے۔۔۔۔
آپ میرے لیے بہترین تھے اسی لیے خدا نے آپ کو میری قسمت میں لکھ دیا میں خدا کا جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے۔۔
شایان خان اگر اس دنیا میں ہوتا تب بھی میرا اور اس کا رشتہ ختم ہو چکا تھا شایان خان نے مجھے طلاق دے دی تھی۔۔
۔میں یہ بات ہمیشہ آپ کو بتانا چاہتی تھی کہ میں شایان خان کی بیوہ بننے سے پہلے اس کے نکاح سے نکل چکی تھی ۔۔۔۔
تبریز خان حیران نظروں سے عروب کی جانب دیکھ رہا تھا یہ بات وہ اس سے پہلے نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
اسے تو یہی پتہ تھا کہ عروب شایان کی بیوہ ہے مگر مرنے سے پہلے وہ عروب کو وہ طلاق دے چکا تھا یہ بات اسے نہیں پتہ تھی۔۔۔۔۔
کیونکہ کبھی بھی تبریز خان اس مدے پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
مگر خانم جب آپ پہلی بار میری گاڑی سے ٹکرائی تھی تم نے تو اسی وقت یہ کہا تھا کہ تمہارا شوہر مر گیا ہے تمہاری چلتی ہوئی خاندانی دشمنی میں اسے گولی مار دی گئی ہے اور اس کی گاڑی کھائی سے نیچے گر گئی ہے اس کی لاش نہیں ملی۔۔۔
پھر اس نے تمہیں طلاق کب دی۔۔تبریز خان نے مت تلاشی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
خان وہ داؤد کی پھیلائی ہوئی جھوٹی خبر تھی ۔۔۔اور میں پاگل اس کی بات کا یقین کر کے اپنی مورے کا سہارا لیتے ہوئے گھر سے بھاگ نکلی۔۔
مورے کو میرے اور شایان کے نکاح کا پتہ چل چکا تھا مورے جانتی تھی کہ میں ماں بننے والی تھی۔۔مورے مجھے پر بہت ناراض ہوئی تھی مگر ماں تھی میرے آنسوؤں کے آگے ہار گئی۔۔۔
مورے کو جب شایان خان کی موت کی خبر ملی انہوں نے کہا تھا کہ اگر اپنے بچے کی جان بچانا چاہتی ہو تو بھاگ جاؤ ورنہ تمہارے چچا بابا اور داؤد مل کر ہماری زندگی حرام بنا دیں گی۔۔۔۔۔۔
بہت دن سے میرا اور شایان کا رابطہ ٹوٹا ہوا تھا میری شایان سے بات ہی نہیں ہوتی تھی کہ میں حقیقت تک پہنچ پاتی۔۔۔
داؤد کو جب میرے اور شایان کی محبت کے بارے میں تھوڑا بہت پتہ چلا اس نے یہ بات بابا اور چچا کے کانوں تک پہنچا دی تھی۔۔۔
اس وقت داؤد نہیں جانتا تھا کہ میرا ہو چکا ہے اور میں پریگننٹ ہوں میرا کالج چھڑوا دیا گیا مجھ سے فون لے لیا گیا ۔۔۔
میرا ہر رابطہ جو مجھے شایان خان سے جوڑ سکتا تھا ختم کروا دیا گیا ۔۔۔اس کے بعد ایک دن داؤد نے گھر آکر یہ افواہ پھیلا دی کہ شایان خان مر گیا ہے۔۔۔۔
ہم نے اسے مار دیا ہے۔۔ میں اور مورے بہت خوفزدہ ہو گئی تھی مورے نے رات کی تاریکی میں مجھے کچھ پیسے ہاتھ میں تھماتے ہوئے گھر سے بھگا دیا تاکہ میں اپنی اور اپنے بچے کی جان بچا سکوں۔۔۔۔۔
میرا نکاح شایان ہو چکا تھا یہ بات مورے کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
اس رات ڈر کر بھاگتے ہوئے میں آپ کی گاڑی سے ٹکرائی تھی۔تو ہوش میں آنے پر میں نے آپ سے غلط بیانی نہیں کی تھی۔ اس وقت جو سچ تھا میں نے آپ کو وہی بتایا تھا۔۔
اس وقت جو مجھے پتہ تھا میں نے آپ کو وہی بتایا مگر اس کے بعد جب آپ نے مجھے داؤد کے ساتھ واپس بھیج دیا تو داؤد مجھے گھر لے کر نہیں گیا تھا۔۔۔
وہ صرف زبان کا میٹھا بن کر آپ کے سامنے خود کو سچا ثابت کر کے مجھے لے کر چلا گیا اصل میں تو سارے فساد کی جڑ وہی تھا۔۔
وہ مجھے راستے میں ایک کھنڈر نما گھر میں لے کر رک گیا جہاں پر اس نے مجھے بہت ٹارچر کیا۔۔۔مجھے اتنا مارا کہ سوچ کر آج بھی میری روح کانپ جاتی ہے وہ سسکیاں لے کر رو رہی تھی۔۔۔
مجھے معاف کر دو خانم میری وجہ سے تم اس درندے کے ہاتھوں پہنچ گئی۔جس کے ڈر سے تم بھاگ رہی تھی۔میں نے تمہیں اسی کے سپرد کر دیا۔۔
پلیز خان آج بیچ میں مت روکے بہت ہمت کر کے سب بتانا چاہتی ہوں ۔۔۔میری ساری بات سن لیں میرا دل ہلکا ہو جائے گا۔۔۔سالوں سے اس درد کو اپنے دل میں دبائے ہوئے ہوں۔۔۔
آج میرے دل کو ہلکا ہو جانے دے۔۔بولو خان میں تو ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ تم مجھے سب کچھ بتا کر اپنا دل ہلکا کر لو سب دکھ مجھے دے دو۔۔۔
خان آپ کو پتہ ہے داؤد وہاں پر زبردستی مجھ سے نکاح کرنا چاہتا تھا اور جب میں نے اسے بتایا کہ نکاح پر نکاح نہیں ہو سکتا۔۔۔تو وہ بھڑک اٹھا تھا۔
جب میں نے اس سے اپنے شایان کی نکاح کے بارے میں بتایا اور اسے خود سے دور کرنے کے لیے یہ بتایا کہ میں ماں بننے والی ہوں۔۔۔۔
وہ تو جیسے وحشی ہو گیا تھا۔۔پھر اس نے پاگل پن میں ہر حد پار کی اس کے جنون اور پاگل پن نے مجھ سے میرا بچہ چھین لیا پھر بھی صبر نہیں آیا تھا۔۔۔
اس نے گھر والوں تک یہ خبر پہنچا دی کہ میں شایان خان کے ساتھ بھاگ گئی ہوں۔۔۔
۔گھر والے تو یہ سن کر مجھ سے نفرت ہی کرتے کیونکہ محبت والا تو کام میں نے کیا نہیں تھا۔۔چچا اور بابا سے تو میری کچھ زیادہ امیدیں نہیں تھی جانتی تھی کہ بابا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں مگر ان کے دماغ میں صرف چچا کی بات ہی آتی تھی اور چچا کا دماغ داؤد ہینڈل کرتا تھا تو ایسے میں اچھے کی امید کرنا فضول تھی۔۔۔
مور سے زیادہ امیدیں اس لیے نہیں کر سکتی تھی کہ وہ بہت کمزور خاتون تھی جو اپنے فیصلے نہیں لے سکتی تھی وہ میرے لیے کیا فیصلہ کرتی۔۔
شاید اج بھی مجھے باسک بھائی پر ہی دکھ ہے اور ماضی میں بھی میری امیدیں باسد بھائی سے ہی وابستہ تھے مگر یا تو حقیقت تک پہنچائی نہیں گی یا پھر انہوں نے حقیقت جان کر میرے لیے کچھ کرنا ضروری نہیں سمجھا اس بات کا مجھے نہیں پتا۔۔۔۔
اس طرح باسق بھائی اور رتبہ بھابھی جیسے رشتے بھی مجھ سے دور ہو گئے میرا چھوٹا سا مون جو سارا دن عروب کرتے تھکتا نہیں تھا وہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو گیا ۔۔۔۔۔
اس کی نظروں میں تو عروب گھر سے بھاگ گئی تھی۔۔۔آپ کو پتہ ہے اس دن باسق بھائی کے ساتھ جو ان کا بیٹا ڈی ایس پی یارم خان آیا تھا وہ میرا مون ہے۔۔۔وہ لوگ مجھے پہچان گئے تھے اسی لیے اس دن باسق بھائی اور مون مجھے دیکھ کر چلے گئے تھے۔۔۔
اور آپ کو پتہ ہے
جب تک آپ کے آدمی مجھ تک پہنچے بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔میری جان تو بچ گئی تھی مگر باقی سب کچھ ختم ہو گیا۔۔۔
تب مجھے داؤد کی باتوں سے پتہ چلا کہ شایان تو زندہ تھا سب کچھ داؤد کی پھیلائی ہوئی سازش تھی جس میں آکر میں اپنوں سے دور ہو گئی۔۔۔
اس نے میرے کردار کی دھجیاں اڑانے کے لیے ایک مصنوعی منظر بناتے ہوئے ویڈیو ریکارڈ کی۔پھر وہ ویڈیو شایان خان تک بھیج دی اور گن پوائنٹ پر مجھے یہ کہنے پر مجبور کیا کہ میں نے جان بوجھ کر اس کے بچے کی جان لے لی ہے یہ بات شایان برداشت نہیں کر پایا۔۔۔۔
شایان خان نے اس ویڈیو پر یقین کرتے ہوئے مان لیا کہ میں غلط ہوں۔۔۔
یہ مان لیا کہ سچ میں میرا داؤد کے ساتھ رشتہ ہے۔۔۔۔مجھے شایان سے ایسی امید کبھی نہیں تھی۔۔۔شایان نے مجھے تین بار طلاق طلاق کا لفظ بول کر نکاح جیسے پاک رشتے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔۔۔۔
داؤد نے دو دن تک مجھے اس کھنڈر نما گھر میں بند رکھا تھا۔۔ جہاں مجھے بے تحاشہ مارتے ہوئے اس نے مجھ سے بدلہ لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔
میری غلطی صرف اتنی تھی کہ میں نے شایان خان سے محبت کی تھی۔۔اور وہ محبت میرے لیے سزا بن گئی۔۔۔۔میرا دل ٹوٹ گیا تھا جب شایان خان نے اس ویڈیو پر یقین کرتے ہوئے مجھے طلاق دی۔۔۔
۔کیونکہ وہ شیطان فطرت شخص خوش ہو رہا تھا وہ اس سے پہلے مجھے کہہ چکا تھا کہ دیکھتا ہوں کہ تمہاری یہ ویڈیو دیکھ کر شایان تمہیں کیسے قبول کرتا ہے اور وہی ہوا شایان نے مجھے قبول نہیں کیا۔۔۔
۔ماضی کی تلخ یادوں کو بتاتے ہوئے عروب خان تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔۔۔بہت چھوٹے سے بچے کی طرح سسکیاں لے کر روتی ہوئی تبریز خان کے سینے میں چھپی ہوئی تھی۔۔۔
جب کہ وہ ویڈیو اس گھٹیا شخص نے آپ تک بھی پہنچائی۔ مگر آپ نے مجھ سے کوئی صفائی نہیں مانگی تھی۔
میں آج بھی کہتی ہوں کہ اس نے صرف وہ ویڈیو میں مجھے غلط دکھانے کے لیے منظر کشی کی تھی۔۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا ۔پھر ایک کردار پر کوئی داغ نہیں ہے۔۔۔۔
خانم مجھے یقین دلانے کی ضرورت نہیں ہے خ۔۔تبریز خان کی محبت کاغذ کی کشتی نہیں جو ذرا سے طوفان کو برداشت نہ کر سکے۔۔۔ تبریز خان سمندر میں تیرتے ہوئے وسیع جہاز کا نام ہے۔جو ہر طوفان سے ٹکرا سکتا ہے۔۔۔۔
ب بتائیں کہ اپ کو لگتا ہے کہ اس کے بعد بھی میرے دل میں شایان کی محبت رہی ہوگی۔۔۔۔
اگر اس دن آپ کے بھیجے ہوئے آدمی مجھے ڈھونڈنے میں کامیاب نہ ہوتے تو شاید عروب ہو وہ مار کر وہیں دفنا دیتا۔۔۔
اور عروب کی تو ہڈیاں تک نہ ملتی گھر والوں کی نظروں میں تو میں شایان کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔۔۔
اتنے سالوں میں تبریز خان نے کبھی اس کے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔۔
مگر آج اس کے دل کی بات اس کی زبان تک آگئی ،جب اس نے یہ کہا کہ عروب کے دل میں آج بھی شایان کی محبت ہے۔۔۔۔
یہ بات عروب برداشت نہیں کر سکی اور ماضی کے پردے اٹھاتی چلی گئی۔۔۔۔عروب کا ماضی تبریز کی سوچ سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا۔۔۔
وہ کافی دیر سے بولتی ہوئی کچھ دیر خاموش ہو گئی۔۔۔۔
خان اسے اپنے سینے سے لگائے۔ بولنے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔تبریز خان آج اس کے دل کی ہر درد کو کھینچ کر باہر نکال کر ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
خان۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔
عروب آپ سے بہت پیار کرتی ہے میرے پیار پر شک مت کیجئے۔اپ کا بھروسہ میری زندگی ہے۔۔عروب کے پاس آپ کے یقین سوا کچھ نہیں ہے آپ کی آنکھوں میں میں اپنی دنیا دیکھتی ہوں۔۔۔
خان کے سینے سے چہرہ اٹھا کر خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہی تھی۔۔۔
عروب یہ سب کچھ آپ اس لیے کہہ رہی ہیں کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو عزت دیکھ کر اپنا نام دے کر میں نے آپ پر احسان کیا ہے۔۔۔اور آپ میرے احسانوں کا بدلہ جھکانا چاہتی ہیں۔۔۔۔
نہیں خان آپ میرے بارے میں اتنا غلط سوچتے ہیں آپ نے اپنا سب کچھ میری خاطر گنوا دیا اور مجھے کبھی ذرا سی تپش بھی نہیں لگنے دی۔۔۔ تو اگر میں انسان کی جگہ جانور بھی ہوتا نا تو تب بھی مجھے آپ سے محبت ہو جاتی۔۔۔۔۔
میرے ماضی کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوئے آپ نے مجھ پر یقین کیا کبھی میرے ماضی کے بارے میں مجھے طانہ نہیں دیا۔ایسے انسان سے کیسے کسی کو محبت نہیں ہو سکتی۔۔۔
میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں ۔کیا آپ کی اتنی محبت اور عزت کے بدلے مجھے آپ سے محبت نہیں ہو سکتی تھی۔ ۔
آپ جیسے اچھے اور نیک شخص سے کیسے خود کو محبت کرنے سے کیسے روک سکتی تھی۔۔۔۔
اور جس شخص سے آپ جلن محسوس کرتے ہیں مت بھولیں کہ وہ اب اس دنیا میں ہی نہیں ہے۔۔۔ دنیا سے جا چکے انسان کے ساتھ کیسی جلن خان۔۔۔
عروب آپ کی ہے اور مرتے دم تک آپ کی ہی رہے گی۔۔۔۔
خان نکاح میں بڑی طاقت ہوتی ہے،اللہ تعالی نے عورت کو صابر بنایا ہے عورت کی شادی جس سے ہوئے ہو جاتی ہے عورت اس سے خود بخود پیار کرنے لگتی ہے۔۔۔
اور اگر مرد آپ جیسا ہو تو عورت محبت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔۔۔تبریز خان ہر عروب کے نصیب میں نہیں ہوتا۔۔
میں اپنا ماضی بھول چکی ہوں۔میرے ماضی میں کون تھا کیا تھا میں کبھی یاد نہیں کرنا چاہتی۔میری اپنے رب سے دعا ہے کہ ۔ اگر میں نے زندگی میں کوئی نیک اعمال کیے ہیں تو خدا اس کے بدلے مجھے دنیا اور آخرت میں آپ کا ساتھ نصیب کرے۔۔۔۔
عروب آج اپنے دل میں چھپی ہوئی ساری باتیں بول گئی۔۔۔۔
اس میں ہمت نہیں تھی اعتراف کرنے کی۔۔اسے ہمیشہ لگتا تھا کہ وہ تبریز خان سے محبت کا اعتراف کر کے روشانے کے ساتھ غلط کرے گی ۔۔۔۔۔
اسے کیا پتہ تھا کہ اس کا کھل کر اعتراف نہ کرنا اس کے خان کو اتنی تکلیف دیتا تھا ۔اگر جانتی تو اس اعتراف کو کئی سالوں پہلے ہی زبان تک لے آتی جس احساس کو اس نے دل میں چھپا کر رکھا تھا۔۔۔۔
روشانے اور تبریز خان کی محبت اور بیٹے کا سوچ کر وہ ہمیشہ تبریز خان کے ساتھ محبت کا اعتراف کرنے سے خود کو روک لیتی تھی۔۔
مگر آج تبریز خان کی باتوں نے اس کے اندر ہمت پیدا کر دی ،آج سے لگا کہ اپنے دل کی حقیقت تبریز خان کو بتانی چاہیے وہ تو بہت زیادہ غلط فہمیوں کا شکار ہے۔۔۔
عروب کا اعتراف محبت تبریز خان کے لبوں پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔۔۔
کاش خانم یہ اعتراف آپ کچھ سال پہلے کر دیتی تو اتنے سالوں تک تبریز خان یک طرفہ محبت کی آگ میں نہیں جلتا رہتا۔۔۔۔
تبریز خان نے خانم کے گرد اپنی مضبوط بازو کا حصار بناتے ہوئے عقیدت بھرا لمس اس کے ماتھے پر چھوڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔
خان کئی بار آپ کی بے لوس محبت کو دیکھ کر دل نے کہا کہ اعتراف کر لوں۔ مگر ہمیشہ میری نظروں کے سامنے آپ کی روشانے اور اس معصوم سارم کا چہرہ آجاتا تھا جن کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے بھی میری وجہ سے غلط ہو گیا۔۔۔۔
میں کیسے بھول جاؤں کہ آپ روشانے سے بہت پیار کرتے تھے میں کیسے بھول جاؤں کہ وہ آپ کی پہلی بیوی ہے ۔۔۔
میں نہیں بھول سکتی کہ وہ آپ کی پہلی اولاد آپ کے بیٹے کی ماں ہے۔۔۔
میں کیسے بھول جاؤں خان کہ میری وجہ سے معصوم سارم اپنے باپ کی محبت اور سائے سے محروم ہو گیا۔۔۔۔اس سب میں اس کی تو کوئی غلطی نہیں تھی۔۔۔
خان میں کیسے اپنے دل کے اس گلٹ کو مٹاؤں جو ہمیشہ اس سوچ میں مبتلا رہتا ہے کہ روشانے میری وجہ سے آپ سے دور ہو گئی۔۔
آج بھی سوچ کر مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی ۔۔۔۔۔
عروب تم ان سب چیزوں کے لیے خود کو قصور وقت مت ٹھہراؤ۔۔۔ تم نے آ کر رو شانے کی محبت پر ڈاکہ نہیں ڈالا روشانے خود غلط فہمیوں کا شکار ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
بے شک میں نے اور رروشانے نے ایک دوسرے سے بہت محبت کی مگر روشانے کا یقین مجھ پر بہت کچا تھا جو ہوا کے ایک تیز جھونکے سے ہی ختم ہو گیا۔۔۔
جیسے شایان نے آپ پر یقین نہیں کیا اسی طرح روشا نے نے مجھ پر یقین نہیں کیا۔اپ کو اس سے ہمدردی نہیں بلکہ میرے دکھ کا احساس ہونا چاہیے۔۔ ۔
محبت کا بنیادی اصول یقین پر ٹکا ہوتا ہے جس رشتے میں یقین نہیں ہوتا وہ رشتہ بیکار ہوتا ہے ۔۔وہ وقت کی کسوٹیپر کھرا نہیں اتر سکتا۔۔
آپ نے ہمارا رشتہ نہیں توڑا ۔۔ہمارا رشتہ اس لائق ہی نہیں تھا کہ چل سکتا ہوں۔۔۔
مجھے آج بھی کوئی گلٹ نہیں ہے میں نے روشانےکے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تھا وہ میرے بیٹے کی ماں تھی میری پہلی محبت تھی ۔۔
اگر اس گھر سے قدم نہیں نکالتی مجھے طلاق دینے پر مجبور نہیں کرتی تو آج روشانے میرے ساتھ ہوتی۔۔۔۔
مگر خان وہ آپ سے بہت پیار کرتی تھی اور عورت اپنے پیار میں کبھی کسی کی شرکت برداشت نہیں کرتی ۔شاید اس کی جگہ میں ہوتی تو میں بھی یہی کرتی۔۔۔۔
نہیں خانم تم اس کی جگہ ہوتی تو تم ایسا کبھی نہیں کرتی اتنا تو تبریز خان کو بھی عورت میں فرق کرنا آتا ہے۔۔۔
تمہاری محبت ٹھنڈی چھاؤں کی جیسی ہے اور روشانےکی محبت کڑکتی دھوپ کی مانند ۔۔۔۔
روشانے ہمیشہ اپنی ضد میں ہماری محبت کے تقاضے پورے کرنے بھول جاتی تھی ۔۔۔۔
تم مٹنے والوں میں سے ہو اور روشانے اپنی ضد میں مٹانے والوں میں سے ہے۔۔۔۔اور اس نے ایسا ہی کیا اپنی ضد میں ہمارے رشتے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔۔۔
میں نے اس کے ساتھ ہوتے ہوئے تمہارے ساتھ نکاح نہیں کیا تھا ۔۔۔۔جو تم خود کو قصوروار سمجھ رہی ہو۔۔۔۔
اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی دھوکہ کیا ہے۔۔ نہ ہی میں آپ کو اس گھر میں کسی خراب نیت سے لے کر آیا تھا۔۔
میرا رب گواہ ہے کہ میں نے تو آپ کو کبھی نگاہ بھر کر دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔
آپ شاید اس بات سے واقف نہیں کہ میں نے مورے کے سامنے روشانے کو صفائی دی تھی ۔۔
ا سے بار بار بتایا کہ میرا آپ کے ساتھ کوئی غلط رشتہ نہیں ہے۔۔ میں صرف آپ کو ہمدردی اور آپ کی جان بچانے کی خاطر اپنے گھر میں لایا ہوں۔۔۔
میں نے اسے بار بار سمجھایا کہ وہ غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔۔۔میں اس کے سوا کسی سے پیار نہیں کر سکتا۔۔۔۔
مگر اس نے تو ایک ایک ہی ضد پکڑ رکھی تھی کہ یا آپ کو اس گھر سے نکال دوں یا اسے طلاق دے دوں محبت میں ایسے کون کرتا ہے۔۔۔۔
میرا رب جانتا ہے خانم اس وقت سے مجھے صرف آپ سے ہمدردی تھی جو کچھ آپ نے اپنے بارے میں میری مورے کو بتایا ۔۔۔۔۔
مورے نے وہ سب کچھ آکے مجھے بتایا تو مجھے آپ سے ہمدردی تھی اور ساتھ میں اس بات کا گلٹ کہ میں نے کیوں آپ کو داؤد خان کے ساتھ واپس بھیجا میں شرمندہ تھا خود پر۔۔۔۔
بتائیں کیسے آپ کو اپنے گھر میں پناہ نہ دیتا ۔۔۔کیسے آپ کو بے سہارا ایک بار پھر سے گھر سے نکال کر داؤد خان جیسے درندہ صفت انسان کے پاس بھیج دیتا۔۔۔
مگر خان وہ بیوی تھی وہ برداشت نہیں کر پائی۔اسے لگا کہ میں آپ کو اس سے چھین رہی ہوں اس لیے وہ بدزن ہو گئی۔۔
بدزن اور خود سر ہونے میں فرق ہوتا ہے روشانے بدزن نہیں خود سر ہو گئی تھی۔۔اور جب عورت خود سر ہو جاتی ہے تو وہ اپنے لیے ہی خطرہ بن جاتی ہے۔۔۔
میں نے سب کچھ ہمدردی میں کیا تھا۔میں تو صرف اپنے گھر میں صرف آپ کو تھوڑی سی جگہ دینا چاہتا تھا۔۔۔
مگر روشانے کی محبت اتنی کمزور تھی کہ وہ مجھ پر یقین ہی نہیں کر سکی اس نے سب نوکروں کے سامنے کس طرح سے اس بات کو اچھالا تھا کہ آپ کا اور میرا ناجائز تعلق ہے۔۔ بغیر نکاح کے آپ میرے بچے کی ماں بننے والی ہو۔۔۔۔
جبکہ مورے نے اسے بار بار بتایا کہ وہ رپورٹس پرانی ہیں وہ رپورٹس اس رات کی تھی جب آپ میری گاڑی سے آکر ٹکرائی تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر مجھے بہت اچھی طرح سے جانتا تھا تو رپورٹس کلینک پر چھوٹ جانے پر کئی دن بعد وہ رپورٹس ڈاکٹر نے گھر بھجوا دی۔۔۔۔۔
اس بات کو لے کر میں نے کتنی صفائی دی کہ ایسا کچھ نہیں ہے کم سے کم روشانے کو اپنے شوہر پر تو اتنا یقین ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔
کیا میں اسے ایسا گھٹیا انسان لگتا تھا جو کسی بھی عورت کے ساتھ ناجائز رشتہ بنا لوں گا۔۔۔۔
میں مرد ہو کر اس وقت بھی برداشت کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔۔مگر میری بھی کوئی حد تھی اور روشانے اپنی باتوں سے تذلیل کرتے ہوئے وہ حد کراس کر گئی۔۔۔۔۔
وہ تو آخر میں یہ بھی بھول گئی تھی کہ میں اس کا شوہر ہوں تو ایسے پیار کا کوئی فائدہ نہیں جس میں عزت نہ ہو۔۔۔
میں نے اسے سمجھایا مورے نے سمجھایا کہ تمہاری پریگنسی والی بات پرانی ہے ۔۔اسکو مت اچھالے۔۔ ۔۔
مگر وہ تو ضد پر اڑ گئی تھی۔۔۔ میں تو اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی اسے کبھی طلاق نہیں دیتا ۔۔۔۔۔
مگر جب اس نے بار بار میرے کردار پر کیچڑ اچھالا ایک ہی الفاظ کہا کہ تبریز خان اگر تم غیرت مند مرد ہو تو مجھے ابھی کے ابھی طلاق دو مجھے طلاق چاہیے ۔۔۔۔۔
تم میں غیرت کی ذرا برابر مقدار موجود ہے تو مجھے طلاق دو مجھے۔۔ تم جیسے گھٹیا گندے شخص کے ساتھ نہیں رہنا ذرا سوچو عروب ایسے الفاظ ایک مرد کے لیے سننا آسان نہیں ہوتے۔۔۔۔۔
مجھے پھر بھی اس وقت پر افسوس ہے جب میں نے وہ تین طلاق کے بول بول دیے۔۔۔۔غصہ حرام ہوتا ہے۔اور اسی غصے میں میں نے نقاد جیسے پاک رشتے کو طلاق جیسی لعنت دے کر ختم کر دیا۔۔۔
میں بھی خوش نہیں تھا اس کے جانے کے بعد۔۔۔ میں نے بہت محبت کی تھی رو شانے سے۔۔۔۔
ہمارے رشتے کو ختم کر کے بھی اس کو کہیں سکون نہیں ایا ۔۔۔۔۔
اس نے عدالت میں کیس کر کے سارم کو ہمیشہ کے لیے مجھ سے چھین لیا ۔جب کہ وہ جانتی تھی کہ سارم میری کمزوری ہے میں سارم کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ میں اپنے بیٹے کا مقدمہ لڑ نہیں سکتا تھا یا جیت نہیں سکتا تھا مگر اس نے جو کیس مجھ پر ڈالا تھا۔۔۔
وہ میرے لیے شرمندگی کا باعث تھا۔۔جس تبریز خان کا نام لوگ عزت سے لیتے تھے روشانے میری عزت کی دھجیاں اڑا رہی تھی۔۔۔
آپ تو جانتی بھی نہیں ہیں کہ اس نے کیا کیس فائل کیا تھا۔۔ ۔۔ آج میں آپ کو ضرور بتاؤں گا کہ اس نے بھری عدالت میں مجھ پر کیا الزام لگایا تھا ۔۔۔۔۔۔
تبریز خان کی آنکھوں میں شدید غصہ تھا۔۔۔۔
روشانے ،نے بھری عدالت میں یہ کہا تھا کہ میں بد کردار ہوں اور میرے ناجائز تعلق ہیں آپ سے۔۔۔۔۔
اور آپ میری ناجائز بچے کی ماں بننے والی ہیں۔۔۔۔
اگر میں اپنے بیٹے کی کسٹڈی لینا چاہتا تو لے سکتا تھا ۔۔۔مگر اس کے لیے مجھے پھر آپ کو بھی عدالتوں میں گھسیٹنا پڑتا آپ کے کردار کی دھجیاں اڑتی آپ سے بہت گندے سوالات کیے جاتے۔۔۔جو کچھ میں مرد ہو کر برداشت نہیں کر پا رہا تھا آپ کیسے کرتی یہ سب کچھ سوچتے ہوئے میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ اپنا رشتہ قربان کر دیا۔۔۔۔۔
آپ پر انگلیاں اٹھتی یہ مجھے منظور نہیں تھا۔۔۔ میں جانتا تھا کہ آپ اس سے پہلے بہت کچھ برداشت کر چکی ہیں۔۔۔
عدالت نے ہمیشہ کے لیے سارم کی کسٹڈی اس کی ماں کے حوالے کرتی مگر عدالت نے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا ۔کہ سارم کو مجھ سے ملنے دیا جائے مگر وہ اتنی ضدی عورت ہے کہ اس نے مجھے سارم سے کبھی نہیں ملنے دیا۔۔۔۔۔
میرے بیٹے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور کر لیا ۔۔بہت سالوں سے تڑپ رہا ہوں اپنے سارم کے لیے۔۔۔۔
آپ اور مورے نے میری وہ تڑپ دیکھی ہے ۔۔۔۔۔
میں اس عورت سے ہارا نہیں بس آپ کی عزت کی وجہ سے خاموش ہو گیا ۔۔۔میں سمجھ چکا تھا کہ جب جب اس کو چھیڑوں گا وہ آپ کو ٹارگٹ بنائے گی۔۔۔وہ عورت ہو کر عورت کی عزت ابرو اتارنے پر تلی تھی۔۔۔
ایک وہ ہے جو سب کچھ کر کے بھی خود کو بے گناہ اور بے قصور سمجھتی ہے۔۔ اور ایک آپ ہیں جو ہمیشہ خود کو قصوروار ٹھہرانے پر تلی رہتی ہے۔۔۔۔۔
اس عورت نے نہ صفائی دینے کا موقع دیا اور نہ رشتے کو بچانے کا موقع دیا سب کچھ چھوڑ دیا ۔۔سالوں کی محبت اور گھر کو توڑ کر چلی گئی بغیر کچھ سوچے سمجھے۔۔۔۔
۔ میں تو اس کے جانے کے بعد بھی آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا یہ تو مورے تھی جس نے مجھے یہ سمجھایا کہ میرا گھر تو برباد ہو گیا ہے میرا بچہ بھی لے کے چلی گئی ہے۔۔۔۔۔۔
میری زندگی میں کچھ نہیں بچا تھا ۔۔تو مورے نے تمہارا اور میرا زبردستی نکاح کروایا۔۔۔۔۔نکاح پر ناتو آپ راضی تھی نہ ہی میں۔۔۔
صرف مورے کو ہم انکار نہیں کر سکے اور ان کی خوشی کی خاطر ہم نے نکاح کر لیا۔۔۔
اس ساری باتوں میں یاد کروں میں نے کہاں روشانے کو دھوکہ دیا ہے اور کہاں آپ نے روشانے کو دھوکا دیا ۔۔۔۔۔۔
روخانے اپنی ہی غلط فہمی کے جال میں پھنس کر سب کچھ برباد کر کے چلی گئی۔۔۔
عرو ب بلا کیسے اس وقت کو بھول سکتی تھی جب تبریز خان اسے بے ہوشی کی حالت میں ہاسپٹل لے کر گیا اور ڈاکٹر نے یہ خبر دی کہ عروب خان پریگننٹ ہے ۔۔۔۔۔۔
تبریز خان تو ایک نیک دل اور رحم دل شخص تھا اس نے تو عروب سے پوچھا کہ اسے کہاں جانا ہے ۔۔۔۔
مگر عروب کیا بتاتی ہے عروب کے پاس تو واپسی کی کوئی جگہ کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔۔۔۔
وہ تو اپنی جان بچا کر گھر سے نکلی تھی اور اس کی جان بچانے میں اس کا ساتھ دیا تھا اس کی مورے نے کہ عروب اپنی زندگی بچانے کے لیے بھاگ جاؤ۔۔۔۔۔
جو عروب گھر کی چار دیواری کے اندر اکیلے ڈر جایا کرتی تھی۔۔۔ وہ کیسے ویران سڑکوں پر پاگلوں کی طرح بھاگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اس دن اگر اسے تبریز خان نہ ملتا تو نہ جانے اس کے ساتھ کیا ہوتا وہ آج کس دلدل میں ہوتی مگر خدا نے فرشتہ صفت انسان تبریز خان کو اس سے ملا دیا۔۔۔۔۔
عروب نے کہا کہ اس کا کوئی گھر نہیں ہے۔۔۔مگر تبریز خان ایک سمجھدار آدمی تھا اس نے زبردستی اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ لڑکیاں اس طرح گھر سے نہیں بھاگتی۔۔۔
اپنے گھر میں کسی عزیز کا نمبر دو مجھے بات کرنی ہے ۔۔۔عروب کو لگا کے وہ اپنی ماں کا نمبر دے دے گی تو اس کی ماں اس شخص کو سب سمجھا دے گی۔۔۔
مگر بد قسمتی تھی جب تبریز خان نے فون کیا تو فون کیسے مگر داؤد کے پاس تھا داؤد نے ہمدرد بن کر کہا کہ وہ آرہا ہے۔۔۔۔
اس لڑکی کو جانے مت دینا ۔۔۔بس تھوڑی سی غلط فہمی کی بنا پر فضول میں گھر سے ڈر کر بھاگ گئی ہے ہمارے گھر کی لڑکی ہے ہم اس کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ۔۔۔۔اس سے آگے وہی کچھ داؤد نے کیا جو عروب تبریز کو بتا چکی ہے۔۔۔
جب عروب کو دوبارہ تبریز خان کے آدمیوں نے آزاد کروایا تو اس وقت داؤد کو بھی بہت مارا پیٹا گیا تھا۔۔۔۔
مگر داؤد اس کے بعد کیوں عروب تک نہیں پہنچا یہ بات عروب نہیں جانتی تھی۔۔۔۔
اور نہ ہی کبھی تبریز نے اس بات کا ذکر کیا نہ ہی عدد عروب اس گھٹیا شخص کا نام لینا چاہتی تھی۔۔ اس طرح ایک بار پھر سے عروب واپس تبریز خان کے پاس پہنچ گئی۔۔۔۔۔
تبریز خان اسے اپنے گھر لے گیا جہاں پر اس کی بوڑھی مورے اور اس کی خوبصورت بیوی روشانے اور اس کا تین چار سال کا بیٹا سارم رہتا تھا۔۔۔
بے شک ایک خوشحال خاندان تھا ۔۔تبریز خان نے تو عروب کی جانب نظریں اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
اس نے جاتے ہی اپنی ماں سے یہ کہہ دیا اس لڑکی کو تحفظ چاہیے تو اس کی مورے نے اسے اپنے گھر میں بیٹی بنا کر ایک کمرہ دیا ۔۔۔۔۔۔
تبریز خان کی ماں ایک بہت نیک دل عورت تھی۔۔۔۔
اس کو رہنے کی جگہ دی پہننے کے لیے کپڑے دیے کھانے کے لیے روٹی دی اور اس کا بہت سا خیال رکھا ۔۔۔۔
عروب شکل اور پہناوے سے کسی امیر اور بڑے خاندان کی لگتی تھی۔۔۔
مگر پتہ نہیں روشانے کے دماغ میں کہاں سے یہ بات آگئی کہ یہ لڑکی صحیح نہیں اور اس کا چکر تبریز خان سے ہے۔۔۔۔۔
شاید عورت اپنی محبت کو کھو دینے کے ڈر سے ، اسی طرح سے پاگل پن پر اتر آتی ہے جیسے روشانے اتر آئی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ روشانے کے دل میں عروب کے لیے نفرت بڑھتی گئی۔۔۔۔۔
نفرت کا زخم بڑھتے بڑھتے ناسور بننا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔
پھر ایک دن وہ پرانی رپورٹس جو شایان اور عروب کے ہونے والے بچے کی تھی۔۔۔۔
وہ کلینک سے ڈاکٹر نے گھر بھیج دی تو وہ رپورٹس روشانے کے ہاتھ لگ گئی پھر تو روشان نے چیخ چیخ کر زمین آسمان ایک کر دیا تھا ۔۔اسے یقین ہو گیا تھا کہ تبریز خان اور عروب کے بیچ میں ناجائز تعلقات ہیں۔۔۔
جبکہ تبریز خان کی ماں نے اس بات پر روشنے کو بہت ڈانٹا اور ساری بات بتائی مگر روشانے تو جیسے اپنے شک میں اندھی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
وہ یقین کرنے کو تیار ہی نہیں تھی۔۔ اس نے گھر میں اتنا تماشہ بنایا کہ گھر کے نوکر تک اکٹھے ہو گئے۔۔۔۔۔
سب کے سامنے چیخ چیخ کر یہی کہتی رہی ان دونوں کا چکر ہے اور یہ ناپاک رشتے کو بڑھاوا دے کر ایک ناجائز بچے کو دنیا میں لانے والے ہیں ۔۔۔۔۔۔
یہ باتیں تو خود وروب نے بھی سنی تھی عروب کے لیے مرنے کا مقام تھا عروب کی طبیعت بے حد خراب ہو گئی تھی۔۔۔
روشانے کو کہیں صبر نہیں آرہا تھا اس نے تھپڑ مار مار کر عروب کا چہرہ سرخ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
عروب نے نظریں تک اٹھا کر اس عورت کو نہیں دیکھا تھا ۔۔کیونکہ عروب تو اپنے آپ میں ہی مر چکی تھی ۔۔۔
وہ کیا کسی کو جواب دیتی ۔۔۔عروب کو کھینچ کر بالوں سے گھسیٹتے ہوئے باہر گیٹ کی جانب لے جا رہی تھی مگر بیج میں تبریز خان اگیا۔۔۔
تبریز خان نے روشانے کو روم میں لے جانے کی بہت کوشش کی ۔۔مگر وہ ضدی پٹھانی بنی ہوئی اپنی اکڑ پر قائم تھی۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں گئی تبریز خان نے اس کو قسمیں دی دلیل دی کہ اس کا اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔۔۔
مگرروشانے کے دماغ میں کچھ نہیں جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ مجھے طلاق دو یا اس لڑکی کو گھر سے نکالو یا مجھے طلاق دو۔۔۔۔ وہ فیصلہ کرنے کا موقع ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔
آخر تبریز خان بھی ایک مرد تھا جب اس نے بار بار چلا کر کہا کہ تم مرد ہو تم میں غیرت ہے تو مجھے طلاق دو ۔۔۔۔
طلاق دے کر اپنی مردانگی کا ثبوت دو اس وقت تبریز خان نے اپنی مورے کے لاکھ روکنے کے باوجود غصے سے تین بار کہہ دیا کہ تبریز خان اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہے طلاق دیتا ہے طلاق دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
روشانے تو جیسے رشتہ توڑنے کے لیے تیار کھڑی تھی اپنے بیٹے سارم کا ہاتھ پکڑتی ہوئی وہ ڈرائیور کے ساتھ وہاں سے چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد تبریز خان کو عدالت کی طرح سے طرف سے نوٹس ملے جس میں روشانے نے یہ کیس کر دیا تھا کہ تبریز خان ایک اچھا باپ نہیں اس کے ناجائز تعلقات رکھے ہیں ۔۔۔
یہ گھٹیا الزام لگاتے ہی کیس روشانے کے حق میں ہو گیا۔۔تبریز خان نے ایک عورت کی عزت بچانے کے لیے اپنے قدم پیچھے لے لیے۔۔۔
اور سارم کی کسٹڈی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روشانے کو مل گئی۔۔۔ اس طرح روشانے اور تبریز خان کا رشتہ وقت کی اندھی میں تنکے کی طرح ض اڑ گیا۔۔۔
وقت گزرتا رہا اور تبریز خان ڈپریشن میں رہنے لگا۔۔۔اس کا ہنستا بستا گھر برباد ہو چکا تھا ۔۔۔روشانے کے جانے کے بعد تبریز کی مورے جو پہلے ہی شوگر کی مریض تھی۔۔۔
بیٹے کے گھر اجڑ جانے کی ٹینشن میں مزید بیمار رہنے لگی۔۔۔۔جب تبریز کی ماں کو لگا کس کی زندگی کے دن بہت کم رہ گئے ہیں اپنے بیٹے کو ایسے بے سہارا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی۔۔
اس نے بہت منت و سماج کر کے تبریز خان سے کہا کہ وہ عروب سے نکاح کر لے۔۔۔تبریز خان اس بات پر بہت ناراض ہوا۔۔۔مگر جب اس کی ماں نے کہا کہ جس لڑکی کی عزت آبرو بچانے کے لیے تم نے اپنا گھر اپنا بچہ کھو دیا ۔۔۔
اب کیا اس بچی کو ایسے ہی چھوڑ دو گے لوگ انگلیاں اٹھائیں گے کب تک لوگوں کی اٹھتی ہوئی گلیوں کو تم اپنے دبدبے سے روک سکو گے۔۔۔ اس لڑکی کی عزت بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تم اس سے نکاح کر لو۔۔۔۔
وہ ماں تھی اسے اندازہ تھا کہ اپنے بیٹے کو کس طرح سے منانا ہے اس بات پر تبریز خان خاموش ہو گیا تھا۔۔
تقریباً روشانے سے طلاق کے چھ مہینے بعد عروب اور تبریز کا نکاح ہو گیا۔۔مگر یہ نکاح صرف کاغذوں کی حد تک تھا۔۔۔
عروب کبھی تبریز خان کے سامنے نہیں آتی تھی۔ اسے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ اس کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔
اور تبریز خان نے بھی عروب کو بیوی کے روپ میں قبول نہیں کیا تھا۔۔ دونوں میں نہ تو کوئی بات چیت ہوتی تھی نہ ہی ملاقات۔۔۔
تبریز خان اپنے کام کاج میں مصروف رہتا تھا۔۔۔اور عروب اس کی مورے کے ساتھ سارا دن گزار دیتی ہے۔۔۔۔
مگر وقفے وقفے تھے تبریز خان کی مورے عروب اور تبریز کو الگ سمجھاتی رہتی تھی کہ اس رشتے کو آگے بڑھاؤ زندگی ایسے نہیں گزرتی۔۔۔۔
مگر کبھی بھی تبریز اور عروب نے قدم آگے نہیں بڑھایا۔۔۔ آخر وہ دردناک گھڑی آگئی کہ تبریز خان کی ماں اس دنیا سے چلی گئی۔۔۔
تبریز خان پوری طرح سے ٹوٹ گیا تھا ۔۔جب تک تبریز خان کی ماں تھی وہ اپنے بیٹے کی ہر چیز کا خیال رکھتی مگر وہ آخری سہارا بھی ختم ہو گیا تھا۔۔۔
دوسری طرف عروب کے پاس بھی اب کوئی سمجھانے والا کوئی ہمدرد نہیں تھا ۔سارا سارا دن عروب اپنے کمرے میں بند رہتی تھی۔۔ اچھی زندگی جیسے رک گئی تھی۔۔۔گھر پوری طرح سے نوکروں پر آن پڑا تھا۔۔۔۔
گھر میں ہر کوئی اپنی مرضی کا مالک بن کر گھوم رہا تھا تبریز تو سارا دن کام پر رہتا۔۔۔ اور رات کو لیٹ نائٹ گھر آتا ۔۔۔عروب کو اچھا نہیں لگتا تھا کہ وہ فضول میں گھر کی مالکن بند کر گھومتی رہے۔۔۔۔
تبریز خان بھی عروب کو بیوی کے روپ میں کبھی ایکسیپٹ نہیں کر سکا تھا ۔۔اس لیے اس نے بھی کبھی عروب کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا۔۔ گھر میں رہ کر ان دونوں کی ملاقات نہ ہونے کے برابر تھی۔۔۔۔
آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا۔۔۔
تبریز اور عروب کے بیچ کا تناؤ ختم نہیں ہوا ۔۔۔
ایک دن تبریز خان کو زمینوں کے تصادم میں گولی لگ گئی۔۔۔ گولی لگی تو کاندھے پر تھی مگر کافی گہری لگی جس سے اس کی حالت کافی خراب ہو گئی تھی۔۔۔
بدقسمتی نے شاید ڈیرے لگا لیئے ہیے تھے۔۔ تبریز خان کی مورے کا تو انتقال ہوچکا تھا ۔۔۔ گھر میں عروب اور نوکروں کے سوا کوئی نہیں تھا۔نہ چاہتے ہوئے بھی عروب کو تبریز خان کا خیال رکھنا پڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ کاغذی ہی صحیح مگر اسکی بیوی تھی اس کا فرض تھا اس کا خیال رکھتء۔۔۔
عروب اکثر اس کے کمرے میں خود جا کر کھانے پینے کے بارے میں پوچھنے لگی ۔۔۔
عروب تبریز خان کا بہت خیال رکھنے لگی تھی بیوی ہونے کے ناطے اسے کپڑے چینج کروانا صفائی ستائی کا خیال رکھنا اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنا عروب نے کچھ گلٹی فیل کرتے ہوئے سب کچھ اس کے احسانوں کو یاد کرتے ہوئے ذمہ داری سمجھ کر اپنے سر پر لے لیا ۔۔۔۔
تقریباً چھ ماہ لگے تھے تبریز خان کو مکمل ٹھیک ہونے میں۔۔۔
اس دوران عروب نے تو کچھ بھی تبریز خان کے لیے محسوس نہیں کیا۔۔ مگر تبریز خان عروب کے لیے بہت کچھ محسوس کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔
عروب خوبصورت تھی معصوم سی تبریز خان سے چھوٹی تھی اور سب سے بڑھ کر وہ تبریز خان کے نکاح میں تھی یہ سب کچھ ایک مرد کو عورت کے قریب لیجانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔۔۔
ایک رات جب روز کی روٹین کے مطابق تبریز خان کے لیے چائے رکھ کر واپس جا رہی تھی تو تبریز خان نے اچانک سے عروب کے ہاتھ کو تھام کر روک لیا ۔۔۔۔۔
عروب گھبرا گئی تھی کیونکہ آج سے پہلے تبریز خان نے کبھی ایسا کچھ نہیں کیا تھا اور نہ ہی عروب کو ایسی کوئی توقع تھی۔۔۔۔۔۔
اس کے پورے وجود میں سنسناہٹ سی دوڑ رہی تھی تبریز خان نے نرمی سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا اور گہری نظریں اس کی جھکی ہوئی پلکوں پر ڈالی۔۔۔
کک کیا کر رہے ہیں۔۔
بہت کم آواز میں وہ لفظوں کو توڑتی ہوئی پوچھ رہی تھی۔۔
اپنے جائز حقوق لینے کا ارادہ رکھتا ہوں میرے خیال سے آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔۔۔
عروب کے حلق میں تھوک اٹک گئی تھی اس کے اوپرلی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔۔۔۔
اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ تبریز خان ایسا کچھ کہہ سکتا ہے جبکہ وہ روشانے اور تبریز خان کی محبت سے بخوبی واقف تھی۔۔۔۔اسے تو امید نہیں تھی کہ وہ کبھی اسے بیوی کے روم میں قبول کرے گا۔۔۔
جواب دیجیے کہ آپ کو اعتراض ہے۔۔
پتہ نہیں مگر کیوں عروب نے نہ چاہتے ہوئے بے اختیار نفی میں سر ہلا دیا تھا۔۔
اب یہ اس کے اندر کا گلٹ تھا یا وہ اس کی بیوی تھی یہ احساس تھا وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پائی ۔۔بنا سمجھے اس نے ہاں میں سر کو ہلایا تھا۔۔
تھینک یو سو مچ۔۔۔
پورے دل سے میں اپنے گھر میں اپنے کمرے میں اپنی زندگی میں اور اپنے دل میں آنے کی آپ کو اجازت دیتا ہوں۔۔۔۔
اور آپ سے بھی یہی توقع رکھتا ہوں جو گزر گیا وہ ہمارا ماضی تھا میں چاہتا ہوں کہ آج کے بعد آپ میرا آج بن کر میرے ساتھ رہے ۔۔۔۔
عروب کوئی جواب نہیں دے سکی تھی عجیب سی کپکپاہٹ خوف گھبراہٹ اس پر طاری تھا۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے ہاتھوں کو مسلسل مروڑ رہی تھی۔۔ جب تبریز خان دروازے کی کنڈی لگا کر واپس پلٹا تو عروب کو گھبرایا دیکھ کر اپنے مضبوط ہاتھوں میں اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر گہری نظروں سے دیکھا ۔۔۔
مت گھبراؤ تبریز خان ہمیشہ آپ کو پلکوں پر بٹھا کر رکھے گا۔۔آپ کو مجھ سے کسی بھی طرح کی کوئی شکایت نہیں ہوگی ۔بے فکر ہو کر میری زندگی میں قدم رکھ سکتی ہے ۔۔۔۔۔
اگر پھر بھی آپ رضامند نہیں تو تبریز خان زور زبردستی کا قائل نہیں ، خانم میں یہاں سے اپنے قدم واپس لیتا ہوں۔۔
اس نے اتنی عنایت اور محبت سے کہا تھا کہ عروب نے بھیگی ہوئی پلکیں اٹھا کر تبریز خان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
آج پہلی بار تبریز خان نے اسے خانم کہہ کر بلایا تھا ۔۔۔
آپ کی نم آنکھوں کا تبریز خان کیا مطلب نکالے مجھے آنسوں اور آنکھوں کی زبان پڑھنی نہیں آتی ۔۔
اب جو چاہتی ہیں میں وہی کروں گا۔۔ اگر نہیں چاہتی تو میں کبھی زور زبردستی نہیں کروں گا۔۔۔
یہ آپ کا گھر ہے آرام سے رہیں۔۔ آپ جا سکتی ہی۔۔۔ں تبریز خان رخ دیوار کی جانب موڑ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ دونوں ہاتھ کمر پر باندھے ہوئے ہو وہ گہری سانس فضا میں چھوڑتے ہوئے اسے جانے کو کہہ رہا تھا۔۔۔
عروب کی آنکھوں سے آنسوں شدت سے بہہ گئے تھے۔۔۔ اس لیے نہیں کہ وہ تبریز خان کی باتوں سے کی وجہ سے رو رہی تھی۔۔۔
بلکہ اسے تو اس شخص کے کیے ہوئے احسانوں نے رلا دیا تھا ۔۔۔جس نے اسے باحفاظت سے زندگی دی، عزت دی اسے اپنا نام دیا ۔۔۔۔۔
ساری دنیا کے سامنے وہ عروب تبریز خان تھی کوئی چاہ کر بھی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔۔۔حفاظت کی چھت دے کر دنیا کا ہر سکھ بھی دیا ۔۔مگر یہ سچ تھا کہ عروب کے دل میں شایان کی جو محبت تھی اسے وہ نہیں نکال سکی تھی۔۔۔۔۔۔
مگر آج تبریز خان کا اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا اس کے نزدیک آنے کی جائز خواہش کرنا اپنے جائز حقوق مانگنا عروب خان کو اس بات پر مجبور کر گیا کہ وہ شایان کی محبت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے۔۔۔
کچھ دیر کھڑی آنسوں بہاتی رہی تھی اور دل میں یہ عہد کر لیا کہ آج شایان خان کو اپنے دل سے نکال کر دفن کر دے گی ۔۔۔۔
شیان خان زندہ تھا یا نہیں وہ نہیں جانتی تھی ۔۔کیونکہ اس کے بعد پھر ایک بار اس نے افوا سنی تھی کہ شایان خان کو قتل کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔
اب یہ سچ تھا یا جھوٹ وہ نہیں جانتی تھی۔۔ مگر وہ شایان خان کے نکاح میں نہیں تھی اب وہ تبریز خان کی بیوی تھی شایان سے اس کا رشتہ ختم ہو چکا تھا۔۔
ایک مسلمان عزت دار اور عورت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ بستر پر کسی اور کے ساتھ ہو اور دل میں کوئی اور ہو ۔۔۔۔
بے شک تبریز خان خان اس کا شوہر تھا شایان خان سے کبھی اس نے بہت محبت کی تھی ۔۔۔۔
مگر آج وہ تبریز خان کی بیوی تھی اور تبریز خان کی دسترت میں جانے سے پہلے اس نے پوری طرح سے جھنجھوڑ کر کھینچتے ہوئے شایان خان کی یادوں کو اپنے دل سے نکال پھینکا تھا۔۔۔۔۔
آج اس کے سامنے دو راستے تھے یا تو وہ ایسی عورت بن جاتی جو کسی نامحرم کی محبت دل میں لیے اپنے محرم کی باہوں میں رہتی، یا پھر سب کچھ بھلا کر نیک عورت کی طرح اپنی محرم کو دل میں بسا کر ہمیشہ کے لیے خود کو اسے سونپ دیتی۔۔۔۔ اسنے دوسرے راستے کا انتخاب کیا تھا ۔۔۔۔۔اپنے ماضی کو اللہ حافظ کہتے ہوئے اس نے اپنے حال کو بسم اللہ کرتے ہوئے قبول کر لیا۔۔
پلیز آپ کو اتنا گہرائی سے سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ۔سمجھ چکا ہوں کہ آپ مجھے اپنانے کے لیے تیار نہیں۔ چلی جائیے میں آپ پر کوئی زور زبردستی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔۔
عروب کچھ دیر یوں کھڑے رہ کر روتے ہوئے گہری سوچ میں دیکھ کر تبریز خان نے بغیر اس کی جانب دیکھے اسے جانے کو کہا تھا۔۔۔
آپ مجھے میرے ہی شوہر کے کمرے سے اس طرح جانے کو نہیں کہہ سکتے ۔۔۔۔
عروب کی آنسوں سے بھیگی ہوئی مدھم اثواز کو سن کر شایان خان نے سرخ آنکھوں سے پلٹ کر عروب کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
جو اپنے جذباتوں کو روکتے ہوئے سرخ ہوئی تھی۔۔۔
اگر آپ اپنے شوہر کے کمرے میں رہیں تو شوہر کو حقوق دینے پڑیں گے اور مجھے نہیں لگتا کہ آپ تیار ہیں۔۔۔
سب فیصلے اپنے دل سے ہی مت کریں کسی کے دل کا حال اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔۔۔
اس کی مدھم سی میٹھی باتوں پر تبریز خان کے لب مونچھوں تلے مسکرا اٹھے تھے۔۔۔
تبریز خان کی جذباتوں کو روکنے کی کوشش کرتی ہوئی سرخ آنکھیں چمک اٹھی تھی ۔۔۔
وہ بھاری قدم آہستہ سے اٹھاتے ہوئے اس کے قریب آکر کھڑا ہو گیا اس کے جھکے ہوئے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے اپنے چہرے کے مقابل کیا۔۔۔
سوچ لیجئے اب بھی وقت ہے ایک بار تبریز خان پیار میں دھوکہ کھا چکا ہے دوبارہ نہیں کھانا چاہتا
پوری زندگی میرا ہو کر رہنا پڑے گا ایک بار دستر میں آگئی تو جانے نہیں دوں گا ۔۔۔
وہ خمار در لہجے سے کہتے ہوئے چہرہ اس کے چہرے پر جھکاتا چلا جا رہا تھا۔۔ اس کی گرم سانس یں عروب کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رہی تھی۔۔۔۔
جس پرندے کو کڑی دھوپ سے اٹھا کر چھاؤں میں لایا جاتا ہے۔ اس سے خوفزدہ نہیں ہوتے کہ وہ اڑ کر چلا جائے گا۔۔
یقین رکھنا چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنے مالک کا وفادار رہتا ہے۔۔ جس نے اس کی جان بچائی ہوتی ہے۔۔
ہمم۔۔۔بہت پیاری باتیں کرتی ہو مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میری خانم اتنی پیاری باتیں بھی کر لیتی ہے۔۔۔
تبریز خان نے اس کی کمر میں نرمی سے ہار ڈالتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا۔ ۔۔۔
عروب کی سانسیں بے ترتیب تھی نظریں جھکی ہوئی تھی پورا وجود کپکپاہٹ کا شکار تھا ۔۔۔۔۔
تبریز خان کے میٹھے الفاظ میگنیٹ کی جیسے تھے ۔۔جو اسے اپنی جانب کھینچ رہے تھے ۔
خانم ابھی تو ہم نے ابتدائے محبت بھی شروع نہیں کی اور آپ پر کپکپی طاری ہو گئی ہے۔۔۔
ایک جھلک تبریز خان کی محبت کی دیکھ تو لیجیے اس کے بعد اتنا گھبرائیں تو سمجھ میں بھی آتا ہے۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے لبوں سے اس کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھتے ہوئے اس کی پنکھڑیوں پر جھکاتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
اس کی پنکھڑیوں کو لبوں کی قید میں لیے محبت کی پہلی مہر اس کے ہونٹوں پر ثپت کرتے ہوئے وہ شبنمی قطروں کو پیتا ہوا عروب کو اپنی زندگی میں شامل کرتا چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
اس شخص کے احسان کہہ لیں یا اس کی محبت کی کشش عروب اسے روک نہیں پائی تھی ۔۔۔۔
تبریز خان نے اتنی محبت کے ساتھ است اپنی دسترت میں لیتے ہوئے خود میں شامل کیا کہ عروب کی سانسیں تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئی ۔۔
اس کے وجود پر تبریز خان کی محبت کی بارش اتنی شدت سے برس رہی تھی کہ عروب کی دبی دبی سسکیاں پورے روم کی فضا کو مہکا رہی تھی
تبریز خان نے اپنی محبت کو پورے دل سے اس کے وجود پر نچھاور کیا تھا۔۔
تبریز خان نے آج پورے دل سے عروب کو اپنے دل میں جگا دی تھی اور روشانے کو آج اس نے پوری طرح سے اپنے دل سے آزادی دے دی تھی ۔۔
عروب کو اپنی محبت میں رنگتا چلا گیا اس خوبصورت رات کے بعد ہر رات ہر دن عروب اور تبریز کا رشتہ مضبوط سے مضبوط ہوتا چلا گیا ۔۔۔۔
تبریز خان عروب سے بے انتہا محبت کرنے لگا تھا ۔۔عروب کب تک خود کو تبریز خان سے محبت کرنے سے روک دی آہستہ آہستہ عروب تبریز خان کی محبت میں بہتی چلی گئی۔۔۔۔۔
اور جب اللہ تعالی نے عبیرہ کی صورت میں ان کو پیاری سی بیٹی دی تو ان کا رشتہ اور بھی مضبوط ہو گیا ۔۔۔
تبریز خان بیٹی کو بہت پیار کرتا تھا گھر میں رونق آگی ۔۔۔۔اس کے بعد جب مائد پیدا ہوا اللہ تعالی نے ان کی فیملی مکمل کر دی ۔۔۔۔
تبریز خان آج بھی سارم کو نہیں بھول سکا تھا وہ اس کی پہلی اولاد تھی اس کا بیٹا تھا ۔۔۔سارم کے لیے آج بھی تبریز خان کا دل بہت تڑپتا تھا ۔۔۔
مگر ان دونوں بچوں کو بھی اس نے بہت پیار دیا ماحد سے کہیں زیادہ عبیرہ تبریز کے دل کے نزدیک تھی ۔۔
عبیرہ عروب سے کہیں زیادہ اپنے بابا کے ساتھ اٹیچ تھی۔۔ وہ ہر بات اپنے بابا سے شیئر کرتی تھی۔۔۔
تبریز خان نے عبیرہ کو اپنے پلکوں پر بٹھا کے رکھا تھا۔۔دو بچوں نے مل کر بھی سارم کی کمی کو پورا نہیں کیا تھا۔۔۔انسان کے جتنے بھی بچے ہوں سب کی اپنی جگہ ہوتی ہے۔۔۔
تبریز خان کا بھی سارم کو بھول نہیں سکا کئی بار اسنے سارم سے ملنے کی کوشش کی مگر روشانے ملنے نہیں دیا کرتی تھی ۔۔۔
اپنے موبائل میں اپنے ساتھ کھینچی ہوئی سارم کی تصویروں کو دیکھ کر کئی بار عروب نے تبریز خان جیسے مضبوط شخص کی آنکھوں کو نم دیکھا تھا
مطلب کہ وہ روشانے کو تو بھلانے میں کامیاب ہو گیا ۔۔مگر سارم اس کے دل کا ٹکڑا تھا۔۔ سارم کوکیسے بول سکتا تھا۔۔۔
اس طرح عروب شایان سے عروب تبریز خان بن گئی۔۔۔۔۔زندگی آرام سے خوشحال گزر رہی تھی۔۔۔عروب نے اپنی ماضی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔۔وہ ماضی بھول نہیں سکتی تھی مگر یاد بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔اب سالوں بعد عروب کا سامنا اپنے گھر والوں سے ہوا تھا۔۔۔
تو اس سے اپنا گزرا ہوا سارا وقت یاد آگیا۔۔۔
═══════❖═══════
یہ قسط ناول “صلیب سکوت” کی ایک قسط ہے، تخلیق حیات ارتضی، ایس۔اے کی۔اگلی قسط مطالعہ کرنے کے لیے اسی ناول کی category “صلیب سکوت” ملاحظہ کریں، جہاں تمام اقساط ترتیب وار اور باقاعدگی سے دستیاب ہیں۔💡 ہر نئی قسط ہر اتوار شام 8:00 بجے شائع کی جائے گی۔