Saleeb e sakoot by hayat irtza S.A. Episode :1

صلیبِ سکوت
قسط: 1
✍︎ حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════

یہ آیت شاید صرف کتابوں کے اوراق تک محدود تھی، اس حویلی کی دیواروں نے تو کبھی اس کی بازگشت نہیں سنی۔
یہاں ہر رشتہ، ہر فیصلہ صرف رسم و رواج طے کرتے تھے۔۔۔
چاہے رسم و رواج کی بھینٹ چڑھ کر کسی کا دل

ٹوٹ جائے، خواب ریزہ ریزہ ہو جائیں، یا پوری زندگی ہی اندھیروں میں ڈوب جائے۔

کہانی کا آغاز نوشہرہ کے ایک ایسے گاؤں سے ہوتا ہے جو اپنی دلکشی اور وسعت کے سبب دور دور تک مشہور تھا۔
ہر سمت لہلہاتے سبز کھیت، ہوا کے سنگ نغمہ سناتے کھلے میدان… اور ان وادیوں میں بسنے والے لوگ بھی اپنی شکل و صورت ہی نہیں بلکہ خلوصِ دل کے باعث منفرد پہچان رکھتے تھے۔

یہ خطہ زیادہ تر پختونوں کا مسکن تھا، اور یہاں کسی دوسری زبان یا قبیلے کے لوگ شاذونادر ہی دکھائی دیتے۔
انہی میں دو خاندان ایسے تھے جو اپنے آپ کو سب سے بلند سمجھتے تھے۔

دونوں ہی خاندان پٹھان تھے،اکڑ، ضد اور انا ان کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔
روایات کے حصار میں جکڑے ہوئے یہ لوگ آج بھی وہی قدریں نبھاتے تھے جنہیں توڑنے والے کو وہ دشمن سمجھ بیٹھتے۔

مگر ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔
کبھی یہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے سچے دوست تھے، ان کی محبت اور رشتوں کی مثالیں پورا گاؤں دیا کرتا تھا۔
لیکن وقت کے دھارے نے ایسا پلٹا کھایا کہ غلط فہمیوں نے ان کے خون میں دشمنی کا زہر یوں گھول دیا کہ اب صلح کا کوئی در وا نہ رہا۔

گزرا ہوا وقت نہ کسی کو یاد رہا… اور نہ ہی کوئی یاد رکھنا چاہتا تھا۔

{ماضی}

{ماضی}

”مورے… مورے… کہا ہو!“
داؤد خان کی آواز آنگن سے گونجی اور چھت تک جا پہنچی۔

وہ سیڑھیاں دوڑ کر چڑھ رہا تھا۔ قدم دھم دھم کرتے جا رہے تھے، جیسے غصہ ہر آہٹ میں بول رہا ہو۔

”ہا د خدایہ! کیا ہو گیا، داؤد؟ میں گھر ہی میں ہوں۔ کھو تو نہیں گئی… جو یوں دہاڑیں مار رہا ہے!“
شامینہ خان دھوپ میں بیٹھی تھیں۔ آنکھوں پر ہاتھ کا سایہ کیا اور پیشانی تان کر بیٹے کو گھورنے لگیں۔

”کتنی بار کہا ہے! عروب کو بولو کہ بس کرے پڑھائی۔ میری بات ایک ہی بار میں کیوں تم لوگوں کو سمجھ نہیں آتی؟“
داؤد تیز لہجے میں دہاڑا، سیڑھی پر رک کر ماں کو گھورتے ہوئے دیکھ رہا تھا جیسے نظروں سے کھا جائے گا۔

”ہم نے اس سے نوکری تھوڑی کروانی ہے! اور یہ عروب کا ہوسٹل میں رہنا… بالکل! مجھے برداشت نہیں ہے۔“

”داؤد… میں اس کو کیسے منع کر سکتی ہوں؟“
شامینہ خان نے آہ بھری، دھوپ سے آنکھیں سکیڑتے ہوئے بیٹے کو دیکھا۔

”وہ اپنی مرضی کا مالک ہے… اور اوپر سے اس کے ماں باپ خود چاہتے ہیں کہ وہ پڑھے۔ میں کیسے روکوں اسے؟“
”ابھی تک تو تمہارے ساتھ اس کا رشتہ بھی طے نہیں ہوا، داؤد! تو میرا ایسا کون سا اختیار ہے جس کے بل پر میں عروب کو پڑھائی سے روک سکوں؟“
وہ جھنجھلا کر بولیں، آواز میں کڑواہٹ بھی تھی اور بیٹے کی ضد کے آگے اپنی بےبسی بھی۔

عروب جب بھی مہینے میں دو چار دن کی چھٹیاں لے کر گھر آتی اور واپس جاتی… داؤد کی زبان پھر وہی شکوے دہرا دیتی۔ ماں کو کوسنے، طعنے، باتیں۔۔۔سب ایک ہی پرانے ریکارڈ کی طرح سننا پڑتا تھا۔

”تو مطلب یہ ہے ناں… جب تک سارے گاؤں کو رسم و رواج کے ساتھ اعلان نہ ہو جائے کہ میرا اور عروب کا رشتہ پکا ہے، تب تک میں بے غیرت بن کے بیٹھا رہوں؟ آنکھیں بند کر لوں؟ وہ جو کرے، جو پھرے… اور میں کچھ نہ بولوں؟“

”داؤد! مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ تمہیں عروب کی پڑھائی سے مسئلہ کیا ہے…؟“
سیڑھیوں پر قدموں کی چاپ ابھری۔ عروب کی ماں اوپر آ رہی تھی۔ چھت پر پہنچ کر اُس نے داؤد کو اپنی ماں سے تکرار کرتے دیکھا تو تیز نظروں سے اسے گھورا اور سوال داغ دیا۔
”مسئلہ؟“
داؤد ہنسا نہیں، غرایا۔
”کوئی ایک مسئلہ ہو تو بتاؤں بھی… مجھے تو ڈھیروں مسئلے ہیں! یہ جو شہر جا کے پڑھائی کے چونچلے کرتی ہیں ناں… وہاں پڑھائی کم، عاشقاں معشوقیاں زیادہ چلتی ہیں۔“

وہ ایک قدم آگے بڑھا، دونوں ہاتھ کمر پر جمائے، آنکھوں میں سختی لیے۔
”سب سمجھتا ہوں میں! بغیرت نہیں ہوں۔ اور کل کو یہ مت بھولو کہ تمہاری بیٹی کا رشتہ میرے ساتھ جڑنا ہے۔ اگر اُس نے میری عزت پر ذرا سا بھی داغ لگایا تو… کاٹ کر رکھ دوں گا!“

اس کے لہجے میں غرور بھی تھا، دھمکی بھی۔
چھت کی کھلی ہوا میں بھی اُس کی آواز قہر بن کر گونجی۔
سامنے کھڑی تائی کا رنگ اڑ گیا، مگر داؤد کی آنکھوں میں ذرا نرمی نہ آئی۔
”داؤد خان… اگر میرے اختیار میں ہوتا نا، تو میں تجھے اپنی بیٹی کا ایک بال بھی نہ چھونے دیتی۔“
اس کی آواز غصے سے کانپ رہی تھی۔
”مگر افسوس… بدقسمتی یہ ہے کہ میں اپنی بیٹی کو تیرے جیسے درندے سے بچا نہیں سکتی۔ کیونکہ اس گھر میں… عورت کو آج بھی بھیڑ بکری سے زیادہ حیثیت نہیں دی جاتی۔“
عروب کی ماں آج پہلی بار بیٹی کے دفاع میں یوں غصے سے بولی تھی۔
داؤد خان پل بھر کو ساکت ہوا، پھر قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔

”ہا… ہا… ہا… ہا!“

وہ جاہلوں کی طرح دہاڑ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں شیطانی چمک تھی… جیسے یہ ہنسی نہیں، اپنی جیت کا اعلان ہو۔

”تو کس نے کہا ہے کہ خود کو نایاب سمجھو؟ ۔ عورتیں بھیڑ بکریوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتیں… بھیڑ بکری بھی گھونٹے سے بندی رہتی ہے، اور ہمارے ہاں کی عورتیں بھی۔ اسی لیے تو کہہ رہا ہوں۔۔۔کیوں فضول میں پڑھائی پر روپیہ، پیسہ اور وقت ضائع کر رہی ہے؟“

”اتنی سی بات اپنی لاڈلی بیٹی کو بھی سمجھا دو… کل کو اس نے بھی بھیڑ بکری بن کے اسی گھر میں رہنا ہے۔ میرے جوتے صاف کرنے ہیں، میری اولاد کو پالنا ہے۔ پڑھائی لکھائی کے چکروں میں مت ڈالو… میرے لیے سلامت رکھو اسے۔“
وہ طنزیہ انداز میں مسکرایا، جیسے اپنی جیت پر مہر لگا رہا ہو۔

عروب کی ماں کا دل دہک رہا تھا۔ آنکھیں انگاروں کی طرح سلگ رہی تھیں۔ اس کے اندر کی ماں چیخنا چاہتی تھی، مگر زبان بند تھی۔ بیٹی کے مستقبل کو داؤد کے غرور کے نیچے کچلتا دیکھ وہ خود کو بے بس پا رہی تھی۔

دوسری طرف، شامینہ خان دھوپ میں بیٹھے ایسے لطف اندوز ہو رہی تھیں جیسے بیٹے کے ہر جملے پر اسے داد دے رہی ہوں۔ آنکھوں میں عجب سی چمک تھی، چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ… جیسے یہ سب کچھ اسی کے دل کی آواز ہو۔

اسی وقت، باسق خان اپنی والدہ سے ملنے کے لیے چھت پر آیا۔
باہر سے گھر آتے یا جاتے، وہ ہمیشہ باادب بیٹے کی طرح اپنی ماں کے سامنے سر جھکاتا، پیار بھری نگاہوں اور دعاؤں کے ساتھ ماں کو دیکھنا اس کی روٹین میں شامل تھا۔

اس لمحے بھی وہ اسی انداز میں چھت پر اپنی ماں کو ڈھونڈتے ہوئے آیا تھا۔
مگر چھت پر پہنچتے ہی باسق کی سماعت میں داؤد کی بدتمیزی والی آواز ٹکرائی۔
اس کے قدم اور بھی تیز ہو گئے۔

”داؤد خان… یہ کون سا طریقہ ہے اپنے گھر کے بزرگوں سے بات کرنے کا؟“
باسق کی آواز میں ادب بھی تھا اور ہلکی سی سختی، ۔۔
”لو جی، ماشاءاللہ… اس گھر کا فرمانبردار، نیک ہونہار بیٹا آگیا۔“

”اب تو اس کی تقریر سننی پڑے گی۔ اس سے بہتر ہے کہ میں یہاں سے چلا ہی جاتا ہوں…“
وہ بنا باسق خان کی بات سنے تیزی سے سیڑھیاں اترتا ہوا جا چکا تھا۔

”اے اللہ، اس کو ہدایت بخش۔۔۔“

باسق خان نے سیڑھیاں اترتے ہوئے داؤد کی جانب دیکھ کر اونچی آواز میں کہا۔
”بڑی مورے، آپ پریشان نہ ہوں…“
”اللہ تعالی سب بہتر کرے گا۔ آپ اس کے منہ کیوں لگتی ہیں…؟“

باسق خان اپنی تائی کے پاس آیا، ان کے پریشان اور اداس چہرے کو دیکھا، پھر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں ملا کر خاموشی سے انہیں تسلی دینے لگا۔

”ماشاءاللہ… باتیں میرے جگر کے ٹکڑے کو سنائی گئیں… اور دل دکھی ہو رہا ہے… قدرت ہے اللہ کی…“

باسق خان کی ماں کے لیے باسق کا اپنی تائی کے ساتھ ہمدردی دکھانا بہت ناگوار گزرا۔

باسق خان کی ماں ہمیشہ یہ سمجھتی تھیں کہ داؤد اپنی جگہ بالکل صحیح ہے… داؤد کی بدتمیزی ان کو اچھی لگتی تھی،وہ کہتی تھی کہ اس کا بیٹارعب دار اور دبدبے والا ہے۔
داؤد اتنا بگڑ گیا تو اس میں اس کے ماں باپ کا بھی بہت بڑا ہاتھ تھا۔

ماں اپنے بچے کے لیے پہلی درسگاہ ہوتی ہے، اور باپ وہ پہلا قاعدہ جسے کھول کر بچہ پہلا سبق پڑھتا ہے۔
جب درسگاہ اور کتاب ہی ٹھیک نہ ہو تو بچے سے اچھائی کے راستے پر چلنے کی امید رکھنا زیادتی ہے۔۔
”مورے، یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں…“
اپنی ماں کی بات پر باسق خان نے سوال اٹھایا۔

”میں یہ کہہ رہی ہوں کہ داؤد نے غلط کیا کہا ہے… اگر وہ نہیں چاہتا کہ عروب شہر جا کے پڑھائی کرے، تو ٹھیک ہی تو کہتا ہے۔ اوپر سے حالات دیکھو، کیسے ہیں… مہینوں وہ لڑکی گھر سے دور رہتی ہے۔ مجھے تو خود یہ طریقہ سمجھ نہیں آتا…“

وہ بڑبڑاتے ہوئے، اپنے بیٹے کی طرح سیڑھیاں اتر کر نیچے جا چکی تھی۔

”خواہ مخواہ جوان بیٹی کو مہینوں گھر سے دور رکھنا کہاں کی عقلمندی ہے؟“
وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے بولتی جا رہی تھی، اور اوپر ان کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
”ویسے تو بڑی سمجھدار بنتی ہیں، مگر یہاں آ کر عقل گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔
بیٹی کو گھر داری سکھاؤ، اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ کیسے رہنا ہے، رہن سہن اور اس کی پسند کا کھانا بنانا سکھاؤ …. مگر نہیں!
یہاں تو الٹے ہی طریقے ہیں۔
پڑھ کے پتہ نہیں، کون سا ملک کی وزیراعظم بن جائے گی!“

اپنی ماں کی کڑوی باتیں اور جانے کے مغرور انداز کو دیکھ کر باسق خان کے دل میں شرمندگی اُبھری۔
مگر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا، سوائے شرمندہ ہونے کے۔

دوسری طرف، عروب کی ماں کا دل کوئلوں پر جل رہا تھا۔
وہ مجبور تھی، ان ظالم لوگوں کے ہاتھ اپنی بیٹی دینے پر، اور دل میں خوف و غم کے ساتھ خاموشی سمیٹے کھڑی تھی۔
اپنی ماں کے جاتے ہی باسق خان نے آنکھیں بند کرتے ہوئے گہری سانس فضا میں چھوڑتے ہوئے غمزدہ آنکھوں سے بڑی مورے کی جانب دیکھا۔۔۔

”میں شرمندہ ہوں… میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں۔ آپ ان کی باتوں کو دل پر مت لیا کریں۔ آپ جانتی ہیں، یہ ایسے ہی ہیں۔اور ایسے ہی ان کو رہنا ہے ۔“
باسق خان ہاتھ جوڑ کر کھڑا تھا، آنکھوں میں شرمندگی اور دل میں دکھ لیے ہوئے۔

”نہیں، تمہیں ہاتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں۔ تم نے تو کچھ نہیں کیا۔“

انہوں نے جلدی سے باسق کے جوڑے ہوئے ہاتھ تھامے۔
چوم لیا۔

وہ باسق خان سے بہت محبت کرتی تھیں۔
بالکل اپنے سگے بیٹے کی طرح۔

باسق کا شرمندہ ہونا انہیں اچھا نہیں لگتا تھا۔باسق کے لیے ہمیشہ سے ان کے دل میں ایک نرم گوشہ رہا تھا ۔ جیسے تیز دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں کا جھونکا۔۔

“میرا دل بس یہ سوچ کر کٹتا رہتا ہے کہ میری پھول سی بیٹی ان کے ساتھ کیسے گزارا کرے گی۔“وہ چادر کا پلو منہ پر رکھے اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔۔

”اللہ تعالی سب بہتر کرے گا۔ وہی کرے گا جو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ ہمارے پریشان ہونے سے کچھ بھی نہیں بدل سکتا۔ یہ بات آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی۔“باسق ان کے دل کے درد کو اچھی طرح سے سمجھ رہا تھا۔

باسق کے سمجھانے پر انہوں نے پلو تھوڑا سا ہٹا دیا۔۔۔۔بڑی مورے کی آنکھوں میں غم اور خوف جھلک رہا تھا۔

”ہاں، اگر میرے چاہنے سے کچھ ہو سکتا تو میں اپنی بیٹی کو ان ظالموں سے بچا لیتی۔صرف داؤد کی بات ہوتی تو شاید میری تکلیف کم ہوتی، مگر شامینہ کون سی کسر چھوڑتی ہے۔ہر وقت سینہ چھلنی کرنے والی باتیں کرنا اس کی فطرت میں شامل ہو گیا ہے۔“

”آپ پریشان نہ ہوں، چلیں میرے ساتھ۔“باسق نے قدم آگے بڑھا کر اسے سہارا دیا، کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے اسے تسلی دی۔۔

“آپ چلیں میرے ساتھ وہ انہیں لے کر سیڑھیوں سے اترتے ہوئے ۔سیڑھیوں کے آخری پائدان پر رک گیا اور بڑی مورے کی طرف دیکھ کر کہا۔

”میری طرف دیکھیں… اب رونا نہیں ہے۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ اپنی آنکھوں میں آنسو مت آنے دیجیے گا۔ مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے۔“

اس نے اپنے ہاتھوں کی نرمی سے بڑی مورے کے آنسو صاف کیے۔ ہر لمس میں ادب، محبت اور ہلکی شرمندگی جھلک رہی تھی۔

”نہیں رہوں گی، تمہاری خاطر تو کچھ بھی کر سکتی ہوں۔“
وہ اپنے آنسو اندر دبائے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ باسق چند لمحے وہیں رک کر ان کو دیکھتا رہا۔۔۔، پھر اپنے قدم بڑھائے اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔۔
═══════❖═══════
”کیا بات ہے، باسق؟ آپ پریشان لگ رہے ہیں۔“

رتبہ نے باسق خان کو صوفے پر بیٹھا دیکھا۔ باسق نے لمبی سانس بھری اور سر کو صوفے کی پشت سے لگایا۔

”میں یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوں کہ عروب اور داؤد کا نبھا کیسے ہوگا…“
اس نے آہ بھری۔
”بے شک، داؤد میرا سگا بھائی ہے۔ میں اسے بہت پیار کرتا ہوں۔ مگر اس کی حرکتیں مجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔
پتہ نہیں، ایک بے چوڑ رشتہ طے کر کے ہمارے گھر کے بزرگ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔“

وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے، سر صوفے کی پشت سے لگائے، پریشان کن انداز میں خاموش لمحے لیتا رہا، اور پھر دھیرے دھیرے یہ سب کچھ بیان کیا۔

”باسق، آپ اگر ایسے پریشان ہوں گے تو اس سے کون سا ہمارے بزرگوں کا فیصلہ بدل جائے گا۔“

”جو کرنا ہے، وہ تو وہی کریں گے۔“
”تو آپ اتنا پریشان ہو کر اپنی طبیعت مت خراب کریں۔“

رتبہ باسق خان کے پاس بیٹھی، اپنی ہتھیلی اس کے ماتھے پر رکھتے ہوئے سر دبانے لگی۔

رتبہ باسق سے بہت پیار کرتی تھی۔
دونوں کی شادی گھر والوں کی مرضی سے ہوئی تھی، مگر دونوں میں بے انتہا محبت تھی۔
دونوں ہی سلجھی ہوئی سوچ کے مالک تھے۔
ان کا ایک پیارا سا بیٹا تھا، جسے پیار سے ’مون‘ کہہ کر بلایا کرتے تھے۔

”رتبہ، پریشانی کی بات تو ہے۔“

”میں عروب کو بالکل اپنی سگی بہن مانتا ہوں، یہ بات تم جانتی ہو۔“

” تھوڑی دیر کے لیے اللہ کو حاضر رکھ کر سوچوں کہ کیا داؤد عروب کے لائق ہے تو خدا کی قسم، میرے دل سے ایک ہی آواز نکلتی ہے۔۔۔نہیں، بالکل بھی داؤد ہماری اروب کے لائق نہیں۔“

”وہ پیاری، معصوم اور سچے دل کی مالک ہے، عمدہ سوچ رکھنے والی۔
اور میرا سگا بھائی بالکل اس کے برعکس ہے، جس کی سوچ میں گند بھرا ہوا ہے۔
وہ روایتی سوچ کے دائروں سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتا، اور جس کے لیے عورت پاؤں کی جوتی ہے… ”تو کیسے میں اپنی بہن کے بارے میں پریشان نہ ہو؟“

نہ چاہتے ہوئے بھی باسک خان کا لہجہ تھوڑا سخت ہونے لگا تھا۔۔۔۔اس نے اپنے انداز اور سخت لہجے کو خود محسوس کیا۔
پھر فوراً نرمی اختیار کر لی۔
باسق جانتا تھا کہ رتبہ کی پریشانی اور فکر کو سمجھنا ہی اصل احترام اور محبت ہے۔
اس نے رتبہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر ہلکا سا دباؤ دیا، اور خاموشی میں سب کچھ کہہ دیا گیا۔۔۔محبت بھی، تحفظ بھی، اعتمادی لمس بھی۔
”میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں کہ آپ عروب کو بالکل اپنی بہن سمجھتے ہیں۔
میں جانتی ہوں آپ عروب کے لیے وہی درد محسوس کرتے ہیں جو ایک بھائی اپنی سگی بہن کے لیے محسوس کرتا ہے۔“

”مگر آپ کے کہنے سے وہ لوگ نہیں مانیں گے۔
آپ نے کتنی بار کوشش کی ان کو سمجھانے کی کہ یہ رشتہ بے جوڑ ہے…
مگر کوئی نتیجہ نکلا؟ الٹا آپ کو ہی سب باتیں سنا کر آپ سے ناراض ہو جاتے ہیں۔
سب کو لگتا ہے کہ آپ اپنے بھائی کے دشمن ہیں۔“

رتبہ نے باسق کے گال پر پیار سے ہاتھ رکھا۔پریشان چہرہ اپنی جانب کیا ۔ اس کی نگاہوں میں فکر اور محبت دونوں جھلک رہی تھیں۔
“جانتا ہوں کہ ہوگا وہی جو بڑے بابا اور چچا جان چاہیں گے، مگر اس دل کا کیا کروں جو اپنی بہن کے مستقبل کے لیے تڑپ رہا ہے۔۔۔”
وہ پریشان انداز سے بولتے ہوئے، رتبہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر، نرمی اور پیار سے سہلا رہا تھا، جیسے اپنی فکری تڑپ کو سکون میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔

“ہم سوائے رب سے دعا کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔ اللہ سب بہتر کرے گا۔
“کچھ چیزیں وقت اور حالات کے حوالے کر دینا ہی حکمت ہے، کیونکہ ہر شے اپنے مقررہ وقت پر کھلتی ہے اور ہر درد اپنے وقت پر سکون پاتا ہے۔”

وہ ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے، رتبہ کی جانب دیکھ رہا تھا، آنکھوں میں ایک خاموش سی فکر چھپی ہوئی۔
“مون کہاں ہے؟” اس نے آہستہ سے پوچھا، جیسے بات کا رخ بدلنا چاہ رہا تھا۔ ہ

رتبہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “پہلے عروب کے پاس ، اس کے کمرے میں بیٹھا ہوا ،تھا۔۔۔
اب عروب واپس ہاسٹل جا چکی ہے، شاید ابھی، اپنے کمرے میں عروب کی یاد بھلانے کے لیے ویڈیو گیم کھیل رہا ہو گا۔
آپ تو جانتے ہیں، جب عروب چلی جاتی ہے، اس کا موڈ کئی دن، ٹھیک نہیں ہوتا۔۔۔”

لفظوں کی نرمی میں بھی، رتبہ کی فکر صاف دکھائی دے رہی تھی۔
ہمم!! اور تم کیا کر رہی تھی۔۔۔
رتبہ صوفے پر بیٹھی تھی، اور وہ آہستہ آہستہ سے اسکے قریب ہوا ، نگاہوں میں پیار اور نرم دلچسپی لیے۔ ہر لمحے میں ایک ہلکی احتیاط اور آہستہ آہستہ بڑھنے کی نرمی محسوس ہو رہی تھی، جیسے فاصلے کے اندر بھی خاموش خیال اور محبت چھپی ہوئی ہو۔

“میں ابھی کچن سے آئی ہوں، آپ کا من پسند گاجر کا حلوہ بنا کر، وہ بھی پستہ ڈال کر۔۔۔”

باسق خان کو گاجر کا حلوہ بہت پسند تھا، اور پستہ اس میں اس کی مٹھاس کو اور بڑھا دیتا تھا۔۔۔

رتبہ اکثر باسق کے لیے یہ حلوہ اپنے ہاتھوں سے بناتی، اور باسق خان ہمیشہ نرمی اور محبت کے ساتھ تعریف کے پل باندھ دیتا، رتبہ کے لیے۔۔۔
ہمم!!
“آپ نے ہمارے لیے گاجر کا حلوہ بنایا ہے۔۔۔ تو پھر آپ کو کوئی انعام بھی ملنا چاہیے۔۔۔”

باسق خان کا انداز ہلکا سا شوخ تھا، اور رتبہ انعام کی بات سن کر شرم سے مسکرا گئی۔۔۔

وہ جانتی تھی کہ باسق خان کس نرم اور محبت بھری انداز میں یہ بات کر رہا ہے، اور اسی میں چھپی ہلکی خوشگواری اسے دل کے قریب محسوس ہوئی۔۔۔

وہ شرما کر نظریں جھکا گئی، مگر باسق خان صبر سے اس کے جواب کا انتظار کر رہا تھا، جیسے ہر حرکت میں نرمی اور محبت چھپی ہوئی ہو۔۔۔

اس لمحے میں خاموشی بھی نرم تھی، اور باسق خان کی موجودگی، رتبہ کے دل کو سکون دے رہی تھی۔۔۔

یہ وہ وقت تھا جب چھوٹے چھوٹے لمحات میں چھپی خوشگواری اور محبت سب کچھ بیان کر رہی تھی، اور باسق خان خاموشی کے ساتھ اس خوبصورتی کو بانٹ رہا تھا۔۔۔

اکثر، ایسے لمحوں کے بعد، باسق خان کے دل میں ایک ہلکی مسکراہٹ اور سکون رہ جاتا تھا۔۔۔

اس سے پہلے کہ یہ لمحہ اپنی شدت پکڑتا، روم کا دروازہ کھلا، اور مون اندر خوشی اور تجسس کے ساتھ داخل ہوا، لمحے کی نرمی کو مزید روشن کرتے ہوئے۔۔۔
رتبہ تھوڑی گھبرا کر اپنے قدم پیچھے ہٹاتی ہوئی کھڑی ہو گئی، لیکن باسق خان کی موجودگی میں ہر حرکت میں نرمی اور محبت کی جھلک چھپی ہوئی تھی۔۔۔

باسق خان نے اپنے بیٹے کی فطری خوشگواری اور رتبہ کے شرمیلے انداز کو دیکھتے ہوئے، ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے سکون پہنچایا۔۔۔

اپنی بازو پھیلاتے ہوئے، وہ مون کو اپنی باہوں میں اٹھا کر اپنی گود میں لے آیا، اور وہ لمحہ خاموشی اور محبت سے بھرا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
پانچ سال کا وہ گورا شہزادہ، جس کی آنکھوں کا رنگ ہلکے گرے میں تھا، اپنے بچپن ہی سے ایک ایسا حسن لیے ہوئے تھا کہ کوئی بھی ایک بار اسے دیکھ کر دوبارہ نظر بھر کے دیکھے بنا نہ رہ پاتا تھا۔ ہر ادا میں معصومیت اور دلکشی کا امتزاج نظر آتا، جیسے قدرت نے اس کے لیے وقت کے تمام خوبصورت لمحے یکجا کر دیے ہوں۔

باسق اور رتبہ دونوں کے نین نقش کی نفاست اس میں جھلک رہی تھی، اور ان کی مشترکہ خوبصورتی مون کے ہر جنبش میں محسوس کی جا سکتی تھی۔

گورا رنگ، جو پٹھانوں میں وراثت میں ملتا ہے، مون کے ہر ادا اور ہر حرکت میں ظاہر ہوتا، اور والدین کی محبت اور وراثتی حسن کا عکس اس میں صاف نظر آتا تھا

بڑی! آپ میرا بیٹ اور بال والا کٹ لے کر آئےہیں۔۔۔

اپنے باپ کے گلے میں باہیں ڈالے جھولتا ہوا، مون تجسس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
شام کو میرے بیٹے کا بیٹ بال والا کٹ، آجائے گا۔۔۔
میں نے حشمت لالہ کو بول دیا ہے۔۔۔ حشمت ان کے پرانے ڈرائیور کا نام تھا۔۔۔

مون بیٹا، تمہیں کتنی بار کہا ہے، مجھے بابا کہہ کر بلایا کرو۔۔۔

نہیں، بڑی! دوست کو کہتے ہیں، اور آپ میرے دوست ہو۔۔۔
مون نے ہمیشہ والا جواب اپنے بابا کو دیا۔۔۔
مون بیٹا، بابا کہنے سے ہماری دوستی کم نہیں ہوگی۔۔۔ ہم دوست ہیں، اور ہمیشہ دوست رہیں گے۔۔۔
مگر میں چاہتا ہوں، میرا بیٹا مجھے بابا کہہ کر بلائے۔۔۔

مون کے سر پر ہاتھ رکھ کر، پیار سے اس کے بال بکھیرتے ہوئے، باسق خان نے کہا۔۔۔

نہیں، بابا، بہت اولڈ سا لگتا ہے۔۔۔ میرے بڑی اتنے ینگ اور ڈیشنگ ہیں۔۔۔

بابا کہنے سے بوڑھے بابا والی فیلنگ آتی ہے۔۔۔
اس کے جواب پر، رتبہ اور باسق دونوں کھلکھلا کر ہنس رہے تھے۔۔۔

دیکھو، میرا بیٹا مجھے ینگ اور ڈیشنگ بول رہا ہے۔۔۔
آپ بھی تیار رہیے گا۔۔۔
کچھ تعریف آپ کے منہ سے بھی سننے کی امید رکھتا ہوں۔۔۔

باسق خان کا اشارہ کس جانب تھا، رتبہ سمجھ کر، شرماتے ہوئے، نظریں جھکائے اپنا دوپٹا ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔

رتبہ حد سے زیادہ شرمیلی تھی۔۔۔
اور باسق خان کو اس کی یہی شرم و حیا بہت پیاری لگتی تھی۔۔۔

رتبہ، ایک بیٹے کی ماں بن کر بھی، بہت باحیا خاتون تھی، جس کی نظروں میں حیا آج بھی محفوظ تھی۔ جب وہ باسق خان کو تھوڑا سا قریب محسوس کرتی، وہ ایسے نرم ہو جاتی جیسے صبح کی پہلی کرن میں چھپا ہوا نازک سا پودا، جو ہوا کی ہلکی لمس سے لرز اٹھتا ہو۔۔۔

═══════❖═══════
شایان اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر، کافی دنوں بعد عروب سے ملنے آیا تھا۔۔۔
عروب، اپنے گھر والوں کے ڈر کی وجہ سے، ہمیشہ شایان کو ملنے سے منع کیا کرتی تھی۔۔۔
مگر شایان کیا کرتا؟ عروب سے زیادہ دن کی دوری وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔

وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر، ہمیشہ عروب سے کیے ہوئے وعدے کو توڑ کر، اس سے ملنے آجایا کرتا تھا۔۔۔

شایان ہاسٹل کے باہر کھڑا ہوا تھا۔۔۔
شایان کی کافی جان پہچان تھی، جس کی وجہ سے اسے عروب سے ملنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔۔۔
وہ اکثر ہاسٹل کے مالک سے بات کر کے، عروب سے اپنی ملاقات کر لیا کرتا تھا۔۔۔

کافی دنوں سے وہ اپنے کام میں بہت بزی تھا۔۔۔
کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا، تو عروب سے ملاقات نہیں ہو سکی۔۔۔

اتنے دن اس نے عروب کا چہرہ دیکھے بغیر کیسے گزارے، یہ صرف وہی جانتا تھا۔۔۔
آج وہ عروب سے مل کر ایک خاص فیصلہ لینے والا تھا۔۔۔

گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے، اس نے ہاسٹل کا نمبر ملایا، اور کچھ دیر بعد عروب کو اس کے روم سے بلوا لیا گیا تھا۔۔۔

عروب کے پاس اپنا موبائل نہیں تھا۔۔۔
اسے گھر والوں کی طرف سے اجازت نہیں تھی۔۔۔
کئی بار شایان نے اسے فون دینے کی کوشش کی، مگر عروب ہمیشہ منع کر دیتی۔۔۔
وہ اپنے لیے کوئی مصیبت کھڑی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
شایان ہمیشہ ہاسٹل کے نمبر پر ہی عروب سے بات کیا کرتا تھا۔۔۔

اسلام علیکم۔۔۔

ہمیشہ کی طرح، وہ میٹھی سی عروب خان کی آواز، شایان کی کانوں میں ٹکرائی، اور لمحے بھر کے لیے وقت رک سا گیا۔۔۔
اس کی مونچھوں کے نیچے، ایک گہری، خاموش مسکراہٹ بکھر گئی، جیسے دل کی گہرائیوں سے کوئی خوشی کی روشنی باہر آئی ہو۔۔۔
“وعلیکم اسلام، میری پیاری سی خانم، کب سے باہر کھڑا تمہارا ویٹ کر رہا ہوں، جلدی سے آؤ۔۔۔”

شایان کی محبت سے بھرپور آواز، عروب کے کانوں میں ٹکرائی، اور لمحے بھر کے لیے ایک گرم روشنی کی طرح دل میں اتر گئی۔۔۔

“شایان، میں نہیں آسکتی۔۔۔ آپ سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔
میرا اس طرح سے روز روز آپ کے ساتھ ملنا مناسب نہیں ہے۔۔۔
اگر مجھے چچا یا داؤد نے دیکھ لیا تو وہ بابا کو بتا دے گی، اور بابا میری جان لے لے گی۔۔۔
بابا مجھے گولی مارنے سے پہلے کبھی صفائی کا موقع نہیں دے گا۔۔۔”

عروب کے لہجے میں چھپی ہوئی خوف اور سنجیدگی، شایان کو اچھی طرح سمجھ آ گئی۔۔۔

“شایان، آپ جانتے ہیں کہ بابا صرف اور صرف وسیم چچا کی زبان سمجھتے ہیں۔۔۔
اور وسیم چچا کے دماغ کو داؤد ہینڈل کرتا ہے۔۔۔”

وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی۔۔۔
داؤد، عروب کے چچا، وسیم خان کا بیٹا ہے۔۔۔

وسیم خان کے دو بیٹے تھے۔ باسق خان، جو عمر میں عروب خان سے تقریباً دس سال بڑا تھا، اور دوسرا بیٹا داؤد خان، جو عروب سے دو سال بڑا تھا۔

عروب خان اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ شاداب خان کے گھر بہت عرصہ تک اولاد کی خوشخبری نہیں آئی تھی، اس کے بعد خدا نے ایک بیٹی دی، عروب خان، جبکہ وسیم خان کے دو بیٹے تھے۔

باسق اور داؤد دونوں بھائیوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ باسق خان پڑھا لکھا، رحم دل، سمجھدار اور وسیع سوچ کا مالک شخص تھا، جو عروب خان کو اپنی سگی بہنوں کی طرح پیار کرتا تھا۔

داؤد خان بالکل اس کے برعکس تھا۔ بگڑا ہوا، چھچھورا، ظالم، ہمیشہ عورت کو بھیڑ بکریوں میں شمار کرنے والا، اور عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والا انسان تھا۔ اس کے دماغ میں بیوی کے سانچے میں ہمیشہ عروب خان ہی فٹ تھی۔

عروب کے باپ کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ عروب کی شادی داؤد سے کرنے میں وہ اپنے بھتیجے کو بہت لائق سمجھتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اپنے بھتیجے سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے۔ ایسے میں داؤد کو اور شے ملتی تھی۔ وہ اکثر عروب کو گندی نظروں سے دیکھتا اور اس پر اپنا حق جماتا رہتا تھا۔ اس کا یہ حق جمانا شایان خان کی نگاہوں سے چھپا نہیں رہا تھا۔

یہ بات شایان خان تک بھی پہنچ چکی تھی، مگر عروب خان اپنی زبان سے کبھی شایان کو نہیں بتاتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ ہمیشہ اس پر گندی نظر رکھتا ہے۔

“خانم، اگر تمہاری بات ختم ہو گئی ہو تو میں کچھ بولوں۔۔۔”
اس کی باتیں خاموشی سے سننے کے بعد شایان نے نرم لہجے میں کہا۔

“جی۔۔۔ تھینک یو۔۔۔ عروب، میرے ہوتے اتنا مت گھبرایا کرو۔ جب تم اس طرح ڈرتی یا گھبراتی ہو، میرا دل چاہتا ہے اپنی مردانگی پر لعنت بھیج دوں!”
شایان خان نے اپنی بھاری مردانہ آواز میں کہا، جو باہر اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے کھڑا تھا۔ شایان خان عروب سے بے حد محبت کرتا تھا، اور اس کی محبت اس کے لہجے سے صاف جھلکتی تھی۔

ایسے میں عروب کا ملنے سے انکار کرنا شایان کے دل کو چوٹ دے رہا تھا۔

“شایان، تمہیں پتہ ہے کہ چاچو اور داؤد کتنے ظالم ہیں، اور بابا ان دونوں کی ہی بات سنتے اور مانتے ہیں۔۔۔ ایسے میں، میں کسی طرح کا رسک نہیں لے سکتی۔ اگر انہوں نے آپ کو کچھ کر دیا تو میں مر جاؤں گی۔۔۔”
عروب نے اپنے دل کا ڈر شایان کو بتایا۔ عروب کو اپنی جان سے زیادہ شایان کی جان کی فکر تھی، اسی لیے وہ کوئی غلط قدم اٹھانے سے پہلے سو بار سوچتی تھی۔

“خانم، ان کے کچھ کرنے سے مجھے کچھ نہیں ہونے والا۔ البتہ اگر تم مجھ سے نہیں ملنے آئی تو میں خود کو ضرور کچھ کر لوں گا۔”
شایان خان نے مسکراتے لبوں سے دھمکی دی، جانتا تھا کہ یہ دھمکی ہمیشہ کی طرح کارآمد ثابت ہوگی۔

“شایان، آپ ہمیشہ مجھے اسی طرح بلیک میل کرتے ہیں۔۔۔ پلیز، مت کیا کریں۔”

“کیا کروں، اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوں، تم سے ملے بنا شایان کو سانس نہیں آتی۔۔۔ کچھ دیر ویٹ کرو، میں گاؤن پہن کر آتی ہوں۔”

“خانم، جلدی آنا، یہ عاشق کہیں یہاں کھڑا کھڑا اکڑ ہی نہ جائے۔۔۔”

“جی۔۔۔”
عروب نے مسکرا کر فون بند کر دیا تھا۔ وہ بھی تو اپنے شایان سے ملنے کے لیے بے تاب تھی، مگر دشمنی کے مزید بڑھنے کے ڈر سے ہمیشہ خود کو روکے رکھتی تھی۔

═══════❖═══════

“شایان، آپ مجھے اس طرح سے ہاسٹل سے لے جا کر بہت رسک لے رہے ہیں۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر کسی نے ہمیں دیکھ لیا تو ہمارا انجام کیا ہوگا۔۔۔ آپ وسیم چچا اور اپنی پھوپھو کے انجام سے اچھی طرح واقف ہیں۔۔۔”

ڈری سہمی سی عروب، گاؤن پہن کر حجاب میں خود کو لپیٹے ہوئے، جب ہاسٹل سے باہر آئی، تو شایان خان پہلے سے ہی گاڑی کے پاس ٹیک لگائے کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔

“خانم، پہلے گاڑی میں بیٹھ کر عاشق کو دیدار تو ہونے دو، اس کے بعد ڈر بھی لینا۔۔۔”
گاڑی کا دروازہ عروب کے لیے خود کھولتے ہوئے، مسکراتے لبوں سے بولا۔

عروب گاڑی میں، گاؤن سنبھالتی ہوئی، بیٹھ گئی تھی۔ شایان خان دروازہ بند کرتے ہوئے دوسری طرف سے ہوتا ہوا، آنکھوں پر دھوپ والے چشمے لگا کر، ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا۔

مسکراتی، گہری نظریں، ساتھ بیٹھی عروب خان پر ڈالیں۔ وہ ڈر کے مارے اپنی نازک، مخملی انگلیوں پر ظلم کرتے ہوئے، ہاتھ گود میں رکھ کر مروڑے جا رہی تھی۔

گاڑی ہاسٹل سے کافی دور آ چکی تھی۔ عروب اب بھی خاموشی سے، نظریں اپنے ہاتھوں پر گاڑھے، چہرہ جھکائے بیٹھی تھی۔ عروب کم گو اور معصوم، ڈری سہمی شخصیت کی مالک تھی، اور یہی ادائیں شایان خان کے دل کو ہمیشہ بھایا کرتی تھیں۔

“خانم، کیوں ان پر ظلم کر رہی ہو؟ ان بیچاروں کا کوئی قصور نہیں۔ آپ کو میں نے بلوایا ہے تو آپ یہ تشدد مجھ پر کر سکتی ہیں۔۔۔”
گاڑی کی سپیڈ کم کرتے ہوئے، اپنا مضبوط ہاتھ اس کے مخملی ہاتھوں پر رکھتے ہوئے، ہاتھوں پر ہونے والے ظلم کو روکا تھا۔

“شایان، مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔ آپ اس طرح سے مجھے مجبور کر کے مت لایا کریں۔ جب آپ اپنی جان پر خطرے کی بات کرتے ہیں تو میں ڈر جاتی ہوں۔۔۔ میں مجبور ہو جاتی ہوں۔۔۔ آپ کا بات نا ماننے پر مجھے ایسی دھمکیاں نہ دیا کریں۔۔۔”
ڈر سے اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا۔

“ٹھیک ہے، آج کے بعد خان، اپنی خانم کو کبھی اس طرح کی دھمکی نہیں دے گا، جس سے میری خانم کی خوبصورت آنکھوں میں نمی آ جائے۔۔۔ اجازت نہیں ہے آپ کو رونے کی، کیوں کہ شایان خان تمہاری آنکھوں میں ہمیشہ خوشیاں دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔”
اس کی آنکھوں کی نمی کو اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے پیار سے کہا۔

“آج کے بعد، آپ کا ڈر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔۔۔”

“مطلب؟”
شایان خان کی اٹل بات پر، اس نے چونک کر دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

“کچھ دیر میں خانم، آپ کو آپ کے ہر سوال کا جواب بھی مل جائے گا۔۔۔”
مسکراتے ہوئے، اس کے ایک ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں لیتے ہوئے۔

” اس لمحے شایان نے محسوس کیا کہ اس کی دنیا میں بس ایک روشنی باقی ہے، وہ روشنی عروب کی خاموش مگر پُراثر موجودگی تھی، جو ہر خوف اور ہر خطرے کو مٹانے کی طاقت رکھتی تھی۔”

شایان خان نے ہزاروں بار عروب خان سے ملاقات کی، مگر کبھی اپنی حدود پار نہ کیں۔ آج تک، عروب خان کی موجودگی نے ہی اسے وہ سکون اور قربت بخشا، جو کسی اور لمحے میں نہ حاصل ہوا۔ وہ عروب کو دل و جان سے چاہتا تھا، مگر اس کے ساتھ کبھی کوئی ناجائز رشتہ جوڑنے کا خیال بھی نہ آیا۔

کچھ دیر کے بعد گاڑی ایک خوبصورت فارم ہاؤس کے سامنے جا کر رکی۔ جیسے ہی گاڑی فارم ہاؤس کے گیٹ پر پہنچی، گارڈز نے دروازہ کھول دیا اور جھکتے ہوئے سلام کیا۔

یہ شایان خان کا اپنا فارم ہاؤس تھا۔ یہاں عروب پہلے بھی کئی بار شایان خان کے ساتھ آ چکی تھی۔ جب بھی شایان خان عروب سے ملنا چاہتا، وہ ہمیشہ اسی جگہ کا انتخاب کرتا تھا، کیونکہ اسے عروب خان کی عزت اور شان و شوکت بے حد عزیز تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ کسی پاکیزہ رشتے میں جڑنے سے پہلے کسی کی نظروں میں آئیں۔

ہمیشہ کی طرح شایان خان کے گارڈز نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ شایان خان اپنی خوبصورت شخصیت کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ سے نیچے اترتے ہوئے، دوسری جانب سے ہوتا ہوا اپنی ڈری سہمی ہوئی خانم کے پاس آیا۔

دروازہ کھول کر اپنا مضبوط ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا، اور عروب نے کانپتے ہوئے ہاتھ شایان خان کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ عروب ہمیشہ شایان خان کی محبت میں کھنچی چلی آتی تھی، مگر اس کا ڈر اسی طرح برقرار رہتا تھا۔

شایان خان، عروب کا ہاتھ تھامے ہوئے، اپنے خوبصورت فارم ہاؤس کے اندر داخل ہوا۔ اسے لے کر ہمیشہ کی طرح سیدھا اپنے اسپیشل روم کی جانب گیا۔

روم بے حد خوبصورت اور وسیع تھا، جس میں آرائش کا سامان نہایت قیمتی تھا۔ بیڈ سے لے کر کارپیٹ، پردوں سے لے کر روم میں رکھے صوفوں تک، ہر چیز میچنگ، قیمتی اور دلکش تھی۔

“خانم، آج بہت ساری باتیں ہوں گی، مگر اس سے پہلے ایک خاص بات ہے جس کا مجھے آپ سے جواب چاہیے اور اجازت بھی…”

عروب کے دونوں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامے ہوئے، شایان نے اس کے نقاب اور حجاب میں چھپے چہرے کو محبت بھری نظروں سے دیکھا۔

عروب کو آج شایان خان کی باتیں پہلے سے بہت الگ محسوس ہو رہی تھیں، جنہیں وہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی مگر سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ وہ متلاشی نظروں سے شایان کی جانب دیکھ رہی تھی۔
عروب۔۔۔

“جی۔۔۔”

“مجھے اس سوال کا جواب چاہیے کہ تمہیں مجھ پر کتنا یقین ہے۔۔۔”

“شایان، یہ کیسا سوال ہے!!”

“یہ بہت اہم سوال ہے، اس سوال سے ہماری محبت کا اگلا سفر شروع ہوگا۔۔۔”
گہری نظروں سے عروب کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔

عروب کے لہجے میں اٹل پن اور محبت واضح نظر آرہی تھی۔

“تو ٹھیک ہے، اگر عروب شاداب خان، شایان حیدر خان پر اتنا یقین رکھتی ہے، تو پھر آج، نکاح کے تین خوبصورت الفاظ ادا کر کے پوری طرح سے میری ہو جاؤ۔۔۔ نکاح کے پاک رشتے میں بندھ کر بن جاؤ، عروب شایان خان۔۔۔”

“نہیں شایان، میں اس طرح کا کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گی۔۔۔ مجھے نکاح آپ سے کرنا ہے، مگر بابا کی دعاؤں کے ساتھ۔”

“عروب، جب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا تو ہم پھر سے نکاح کر لیں گے، اور اس میں تمہارے بابا کی دعائیں بھی شامل ہوں گی۔۔۔ ان شاء اللہ، خدا وہ وقت ضرور لائے گا، جب سب گھر والوں کی رضامندی کے ساتھ ہم ایک بار پھر سے نکاح کے بندھن میں بندھیں گے۔۔۔”

“مگر اس وقت، نکاح کے لیے ہاں بول دو، عروب، میں بہت تکلیف میں ہوں۔۔۔ میری راتوں کو سکون بخش دو۔۔۔ خدارا انکار مت کرنا۔ اگر محبت کرتی ہو، یقین کرتی ہو، تو پھر نکاح سے پیچھے مت ہٹو۔۔۔”

شایان، عروب کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھامے، التجائی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

“شایان، میں ایسی چوری نکاح کیسے کر سکتی ہوں۔۔۔”

“عروب، آج تمہارا انکار یہ ثابت کرے گا کہ تمہیں شایان خان پر یقین نہیں ہے۔۔۔ کہیں نہ کہیں تمہارے دل میں ایک ڈر ہے کہ شایان خان کہیں محبت کی آڑ میں دشمنی تو نہیں نبھا رہا۔۔۔”

“شایان، ایسا کچھ نہیں ہے، مجھے آپ پر پورا یقین ہے۔ اگر یقین نہ ہوتا، تو عروب اپنی عزت کی دہلیز کو پار کرتے ہوئے آج اکیلی آپ کے ساتھ یہاں کھڑی نہ ہوتی۔۔۔”

“میرے ساتھ آؤ۔۔۔”
شایان نے اس کا ہاتھ تھام کر سٹڈی روم میں لے کر آیا۔ سٹڈی روم میں شیشے سے بنی الماری میں ایک خوبصورت غلاف میں لپٹا ہوا قرآن پاک رکھا تھا۔

شایان خان نے اس پر ہاتھ پھیلاتے ہوئے عروب کی جانب دیکھا۔ عروب سمجھ نہ پائی تھی کہ شایان کیا کرنا چاہتا ہے۔

“عروب، مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کی، مجھے قسم ہے اس پاک کتاب کی، کہ شایان خان کے دل میں رتی برابر بھی کوئی غلط سوچ نہیں ہے۔ شایان خان پورے دل سے تمہیں پیار کرتا ہے۔ چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، شایان خان کبھی ہمارے دونوں خاندانوں کے درمیان ہونے والی دشمنی کی تپش تم تک نہیں آنے دے گا۔”

“میرے لیے صرف تم میری محبت ہو۔۔۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دونوں خاندانوں کے بیچ میں کیا ہوا۔ ہمارے رشتے کی سچائی ہم دونوں ہیں۔۔۔ پلیز، عروب، نکاح سے انکار مت کرو۔۔۔”

“تمہیں جب داؤد غلیظ نظروں سے دیکھتا ہے، تو میرا دل پھٹنے لگتا ہے۔۔۔”

عروب نے حیران نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔

“ایسے مت دیکھو عروب۔۔۔ تم شایان خان کی محبت ہو، تو ایسا کیسا ہو سکتا ہے کہ میں تم سے غافل رہوں۔ میں جانتا ہوں کہ داؤد تم پر اچھی نظریں نہیں رکھتا۔ میں کچھ بھی غلط نہیں کرنا چاہتا، مگر ڈرتا ہوں کہ کہیں اپنی محبت کو کھو دینے کے خوف میں میں وہ نہ کر دوں جس کا انجام ہماری جدائی پر لکھا ہو۔۔۔”

“پلیز، تھام لو شایان کا ہاتھ، اور دے دو مجھے تسلی کہ تم میری ہو اور ہمیشہ میری رہو گی۔۔۔”

“شایان، کیا آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے۔۔۔”

“میری جان، مجھے تمہاری وفا پر بھروسہ ہے۔۔۔ مگر جو میرے دل کے اندر ڈر ہے، اسے ختم کر دو۔۔۔ اگر نکاح ہو جائے گا تو میرے دل کو تسلی ہوگی کہ عروب شایان خان ہمیشہ میری ہے اور میری رہے گی۔ کوئی چاہ کر بھی آپ کو کسی اور کے ساتھ منسوب نہیں کر سکتا۔۔۔”

عروب نے متلاشی نظروں سے شایان خان کی جانب دیکھا۔ کیونکہ داؤد کس قدر غلیظ انسان ہے، اس کے بارے میں عروب نے کبھی شایان کو کچھ نہیں بتایا تھا۔

“عروب، ایسے سوالیہ نظروں سے مت دیکھو۔ محبت ہو تم شایان خان کی۔۔۔ وہ شایان خان جو اپنی چھوٹی سے چھوٹی چیز پر نظر رکھتا ہے، تو اپنی محبت سے لاپرواہ کیسے ہو سکتا ہے۔”

“بتا چکا ہوں کہ میں داؤد کے بارے میں سب جانتا ہوں، مگر مجھے اچھا لگتا اگر تم مجھ پر بھروسہ کر کے اپنے دل کا حال سناتی۔۔۔ میں داؤد کے نظریے اور فطرت کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں، اسی لیے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ تمہاری وفا پر، تمہاری محبت پر شایان خان کو پورا یقین ہے۔ مگر اپنے دل کی تسلی کے لیے نکاح کر کے ہمارے رشتے کو پاکیزہ نام دے کر پختہ کرنا چاہتا ہوں۔ اور تم بے فکر رہو، جب تک تم نہیں چاہو گی، یہ نکاح والی بات کبھی باہر نہیں آئے گی۔ چاہے شایان خان کو پوری زندگی تمہارا انتظار کرنا پڑے، یہ نکاح ہمارے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے ہے، تمہیں رسوا کرنے کے لیے نہیں۔۔۔ اور اس کا گواہ رب ہے، اس کی پاک کتاب ہے۔”

عروب سمجھ چکی تھی کہ شایان کے دل میں جو خوف ہے، وہ یہی ہے کہ کہیں اس کے گھر والے اس کا نکاح داؤد سے نہ کر دیں۔ نکاح کی طاقت کو کون نہیں جانتا، کہ نکاح کے بعد کوئی چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

عروب، اپنے شایان کی محبت کے آگے ہمیشہ ہارتے ہوئے، اس کی بات مان چکی تھی۔ سب کچھ پہلے سے طے تھا، مولوی صاحب اور چند گواہوں کے درمیان، جو شایان خان کے بے حد قریبی دوست اور گارڈز تھے۔

نکاح ہو گیا۔ چند منٹوں میں عروب شاداب خان سے عروب شایان خان بن چکی تھی۔ عروب کے دماغ میں سوچوں کا ایک طوفان اٹھا کہ آگے کیا ہوگا۔

شایان خان، گواہوں اور مولوی کو باہر چھوڑ کر واپس اندر آیا۔ عروب خان اب بھی گاؤن، حجاب اور نقاب میں پوری طرح لپٹی تھی۔ صرف آنکھیں اور ہاتھ دکھائی دے رہے تھے۔ آنکھوں میں خوف اب بھی طاری تھا۔

“اجازت ہے اپنی منکوحہ کا چہرہ دیکھنے کی۔۔۔”

شایان خان کے لہجے سے محبت، شہد بن کر ٹپک رہی تھی۔ آنکھوں میں خوبصورت جذبات کا مکمل جہاں آباد تھا۔

شش۔۔۔ شایان۔۔۔

“جی بولیے، شایان خان کی خانم۔۔۔ شایان خان کی جان، شایان خان کے دل کی مالک۔۔۔”

شایان خان ایک ہی لمحے میں کتنے خوبصورت جملے بول رہا تھا، اس کا لہجہ محبت اور یقین سے بھرا ہوا تھا۔

“اب نکاح ہو گیا ہے۔۔۔ آپ مجھے ہاسٹل چھوڑ آئیں۔۔۔”

عروب اپنے کانپتے ہوئے وجود کو لیے جھٹکے سے شایان خان کے ہاتھوں سے ہاتھ چھڑاتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔ ایک عجیب سا خوف اور ڈر اس پر طاری تھا، اور شایان خان بخوبی اس کے احساس کو سمجھ رہا تھا۔

“عروب، آپ مجھ سے ڈر رہی ہیں۔۔۔”
یہ دیکھ کر شایان خان اس کے مقابل کھڑا ہوا، اس کے ہاتھ محبت سے تھامے اور پیار بھری آواز میں بولا۔

“نن۔۔۔ نہیں۔۔۔ شایان، میں آپ سے تو نہیں ڈر رہی۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ ہمیں ہاسٹل سے آتے دیر ہو گئی ہے۔ اگر کسی نے وہاں جا کر پتہ کر لیا تو کیا ہوگا؟”

“تمہارے شایان نے بہت پکا انتظام کر رکھا ہے، کوئی چاہ کر بھی تمہارے بارے میں وہاں سے پتہ نہیں لگا سکے گا۔۔۔ اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوا، تو اس سے پہلے مجھے خبر ہو جائے گی۔ میں تمہیں باحفاظت سب کی نظروں سے بچا کر وہاں تک پہنچا دوں گا۔۔۔ یہ وعدہ ہے، شایان خان کا۔ اتنا تو تم اپنے شوہر پر بھروسہ کر سکتی ہو۔”

عروب نے ایک نظر اٹھا کر شایان خان کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں خوشی کی لہر اس کے دل میں اتنی وسیع تھی کہ اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل تھا، کیونکہ اب وہ اس کا شوہر بن چکا تھا۔

جلدی سے وہ نظریں جھکا گئی، اور شایان خان کی نظروں میں آج بہت کچھ پہلے جیسا نہیں رہا تھا؛ ایک نرمی، محبت اور ذمہ داری کی روشنی اب ہر پل اس کے چہرے پر نظر آ رہی تھی۔

“شایان، اب میں یہاں رک کر کیا کروں گی؟
ہم نے نکاح تو کر لیا ہے۔۔۔
عروب خان کی آواز نرم، شرم و حیا کے پردے میں لرز رہی تھی، جیسے ہر لفظ دعا کی طرح بولا جا رہا ہو۔

شایان نے اس کی آنکھوں میں جھانکا، جانا کہ یہ خوف، احتیاط اور محبت کا ملاپ ہے۔
“خانم، آپ بچی تو نہیں کہ نکاح کی اہمیت نہ جان سکیں۔
“نکاح کے بعد زندگی کے نئے لمحے شروع ہوں گے، اور مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی سمجھداری سے سب کچھ سمجھ جائیں گی۔۔۔”

وہ آہستہ آہستہ اس کے کان کے قریب جھکا، سرگوشی کی، جیسے ہر لفظ دعا کے بیج بو رہا ہو۔
عروب دبک کر پیچھے ہٹی، دل کی دھڑکن تیز، مگر ہر خوف میں بھی ایمان اور محبت کا سایہ تھا۔

شایان ایک قدم بڑھاتا گیا، عروب ایک قدم پیچھے۔
پھر وہ الماری کے قریب رک گئی، اپنے آپ کو آہستہ آہستہ اس کی موجودگی کے ساتھ ڈھالتی ہوئی۔
شایان نے ہاتھ بڑھایا، اسے تحفظ کا احساس دلایا، اس کی راہ فرار کو صرف خیال اور الفاظ کے پردے سے بند کیا۔

“عروب، یہ تو ناانصافی ہے۔ ہم نے احترام کے ساتھ نکاح کیا،
اور اس سے پہلے کبھی کوئی خواہش یا تمنا نہیں کی۔۔
ہمیشہ اپنی محبت کو پہرے لگا کر سنبھالے رکھا۔۔۔”

اپنے ہاتھوں پر، اس کے ہاتھوں کی نرمی کو جب عروب نے محسوس کیا،تو اسے شیان کی محبت پاکیزہ اور دعا کی ماند لگی۔۔

شایان نے اس کی ہتھیلیاں تھام کر الفاظ سے محبت کا لمس پہنچایا، خاموشی میں ہر چیز صاف نظر آ رہی تھی۔

“شش۔۔۔ شایان، پلیز، مجھے واپس چھوڑ آئیں۔۔۔
یہ سب غیر ضروری ہے۔بے شک نکاح ہوا ہے مگر مجھے میرے گھر والوں کی دعائیں بھی چاہیے جن کے بغیر میں ادھوری ہوں۔!”
عروب نے دروازے کی طرف قدم بڑھایا، مگر شایان کی موجودگی میں ہر قدم دعا اور اعتماد کے سائے میں تھا۔

شایان خاموش، محبت بھرے انداز میں اس کے پیچھے گیا۔
“ٹھیک ہے، چلی جائیں، مگر آپ کا یوں جانا یہ بتا رہا ہے کہ آپ کو مجھ پر یقین نہیں۔
اگر یقین ہوتا تو یوں نہیں جاتے۔۔۔”

عروب رک گئی۔ شایان نے اسے غور سے دیکھا، محبت کی گہرائی میں چھپے ہر لمحے کو محسوس کیا۔

میں نے آپ سے نکاح کر کے ثبوت دے دیا ہے کہ میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں۔”

“آپ بات بات پر میری محبت کو ازمائش کیوں بنا دیتے ہیں ؟

شایان اس کے قریب ہوا، اور اپنی موجودگی سے اسے سکون پہنچایا۔
وہ صرف دل کی قربت اور تحفظ کے لیے موجود تھا۔
عروب کے دل نے محسوس کیا، یہ محبت واقعی پاکیزہ اور دعا کی طرح ہے۔

“عروب، میں آپ پر پورا حق رکھتا ہوں، پھر ڈر کس بات کا؟
میں زبردستی کا قائل نہیں، آپ کی رضا سے ہی میرے لیے سب کچھ ہے۔”عروب خاموش رہی، مگر خاموشی میں بھی اعتماد اور سکون کی موجودگی تھی۔

شایان نے روم کا دروازہ کھولا، قدم باہر رکھا،
اور پھر پلٹ کر دیکھا ۔۔
“اب آپ کیوں کھڑی ہیں؟
چلیے، میں آپ کو باحفاظت واپس ہاسٹل تک پہنچا دوں۔”

عروب کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے، مگر یہ آنسو خوف کے نہیں، بلکہ محبت اور اعتماد کے تھے۔
“مجھے غلط مت سمجھیں، میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں، مگر اتنی ہی محبت میں اپنے گھر والوں سے بھی محبت کرتی ہوں۔ ان کی محبت میں ہمیشہ یہ ڈر رہتا ہے کہ مجھ سے کبھی کچھ غلط نہ ہو جائے، جس کے لیے مجھے ہمیشہ محتاط رہنا پڑتا ہے۔”
شایان نے اس کے آنسو اپنے ہاتھ سے صاف کیے، اسے قریب بٹھایا، اور اپنی موجودگی سے اسے مطمئن محسوس کروایا۔

عروب اس کے سینے سے سر ٹکائے ہوئے تھی۔
خاموشی میں محبت اور وفا کے سائے محسوس کرتے ہوئے،
نہ کسی جلد بازی کی ضرورت، نہ کسی بے صبری کا احساس۔

وہ جان چکی تھی، شایان کی محبت میں اسے حرص یا جلد بازی کی کوئی گنجائش نہیں۔
وہ قانونی اور اسلامی طور پر اس کی بیوی تھی۔”پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، میں تمہاری محبت میں برسوں انتظار کر سکتا ہوں۔
چلو، میں تمہیں چھوڑ کر آتا ہوں، دوبارہ تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے چاہیے۔”شایان کے قدم دروازے کی جانب بڑھنے لگے تھے۔

عروب ایک قدم بڑھا کر اس کی کلائی تھام کر پھر سے روک لیا ۔
شایان پلٹ کر اس کی طرف دیکھا، اور وہ پلکیں جھکائے کھڑی تھی، لبوں پر مسکراہٹ سجائے،وہ خاموشی میں بھی بہت کچھ بیاں کر گئی۔۔

“مجھے میرا حق مہر اور منہ دکھائی دے دیجیے، یہ میرا حق ہے،”
شرارتی مسکراہٹ لیے، ہلکی سی شوخی اس کے چہرے پر چھا گئی، اور فوراً دونوں ہاتھ اپنے نازک چہرے پر رکھ کر شرم سے چھپ گئی۔

شایان کی نگاہیں خاموش دعاؤں کی طرح اس کے ہر احساس پر قائم تھیں،

شایان کے لیے یہ محبت ایک خاموش دعا تھی، جسے وہ دل کی گہرائیوں سے محسوس کرنا چاہتا تھا، اور عروب کے لیے یہ محبت ایک قیمتی تحفہ، جسے وہ احتیاط سے سنبھال کر رکھنا چاہتی تھی۔ مگر وقت کی پردہ دار چادر کے سائے میں، اس لمحے کی حقیقت سے دونوں بے خبر تھے۔

═══════❖═══════

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *