Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:29

صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ S.A
قسط نمبر :29
═══════❖═══════

دنیا داری آوازیں کہیں دور تھیں، آریان کے لیے سب کچھ خاموش ہو چکا تھا۔ سامنے شیشے کی دیوار تھی… وہی دیوار جس میں اس کا اپنا عکس بار بار اس کے زخموں پر ہنس رہا تھا۔ ہاتھ میں بوتل تھی، حلق میں کڑواہٹ، اور لبوں پر صرف ایک نام… عبیرہ۔
اور اسی شیشے کے پار…
عبیرہ تھی۔
“آریان… پلیز میری طرف دیکھیں… میں یہاں ہوں…”
وہ چیخی، روئی، شیشے پر ہتھیلیاں مارتی ہوئی، مگر آواز اس کے سینے میں ہی ٹوٹ کر رہ گئی۔ شیشے کے ساتھ ہاتھ لگا کر اس نے اپنی مدد کی کوشش کی، مگر درمیان میں یہ بے رحم دیوار حائل تھی۔
وہ اسے دیکھ سکتی تھی۔
ہر لمحہ۔
ہر ٹوٹتا ہوا سانس۔
ہر لڑکھڑاتا قدم۔
آریان صوفے پر بیٹھا تھا، آنکھیں نیم بند، وجود بکھرا ہوا۔ وہ شراب کا گھونٹ بھرتا اور جیسے ہی حلق میں اتارتا، عبیرہ کا نام اس کے لبوں سے پھسل جاتا۔ عبیرہ کا دل لرز کر رہ گیا۔ وہ جان گئی تھی… وہ واقعی ٹوٹ رہا ہے۔
عبیرہ کا گلا چیختے چیختے خشک ہو چکا تھا۔ آنسو اس کے چہرے پر بہہ کر شیشے پر گر رہے تھے، مگر شیشہ بے حس تھا۔ وہ واش روم کی طرف لڑکھڑاتی ہوئی گئی، بیسن سے پانی کے چند قطرے گلے میں اتارے، اور پھر دوبارہ دوڑتی ہوئی اسی دیوار کے ساتھ لگ گئی۔ جیسے وہاں سے ہٹنا آریان سے دور ہو جانا ہو۔
سامنے وہ تھا…
بچانے والا…
محبت کرنے والا…
اور وہ کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔
یہ کیسی اذیت تھی کہ جس کے لیے دل دھڑکتا ہے، وہ آنکھوں کے سامنے ٹوٹ رہا ہو، اور ہاتھ خالی ہوں۔ عبیرہ کے دل میں ہر لمحہ تیر کی طرح پیوست ہو رہا تھا۔
اگر وہ یہاں سے چلا گیا تو؟
اگر وہ بے ہوش ہو گیا تو؟
اگر وہ اسے اسی حال میں چھوڑ کر مر گئی تو؟
پیچھے شیشے کے اُس پار اپارٹمنٹ کی بیک سائیڈ کا منظر تھا۔ ایک مصنوعی جنگل سا بنایا گیا تھا—بڑے بڑے درخت، گھنی ہریالی اور سنسان خاموشی۔ دن میں شاید یہ منظر خوبصورت لگتا، مگر اس لمحے عبیرہ کے لیے یہ اندھیرا خوف بن چکا تھا۔

وہ اندھیرے سے ڈرتی تھی، اور اب یہ درخت، یہ سائے، یہ خاموشی سب اسے گھیرنے لگے تھے۔
وہ شیشے کے ساتھ بیٹھ گئی، گھٹنوں میں سر چھپا کر، مگر نظریں آریان سے نہیں ہٹیں۔
وہ دیکھ رہی تھی کہ اس کے لب اب بھی اس کا نام لے رہے ہیں۔
وہ دیکھ رہی تھی کہ نشے میں بھی اس کا دل اسے ڈھونڈ رہا ہے۔
“آریان… پلیز مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کرو… میں یہی ہوں…”
“اگر تم یہاں سے چلے گئے نا… تو میں مر جاؤں گی…”
اس کی سسکیاں شیشے میں دفن ہو گئیں۔
سامنے، آریان خان صوفے پر بیٹھا ہوا، ٹوٹا ہوا، بے حال…
اور شیشے کے اُس پار عبیرہ، زندہ ہوتے ہوئے بھی قید میں اسے دیکھتی رہی…
بس دیکھتی رہی۔

عبیرہ نے آسمان کی جانب نگاہیں اٹھائیں، آنکھوں میں اشک اور دل میں بے بسی کے ساتھ زور سے پکارا۔

“میرے اللہ… کیوں لوگ تجھے بھول جاتے ہیں؟ کیوں لوگوں کے دلوں میں خوفِ خدا نہیں ہوتا؟”
دل کی دھڑکنیں تیز تھیں، سانسیں رکی سی لگ رہی تھیں، اور اس کے لبوں سے بے اختیاری میں یہ شکایت نکل رہی تھی۔

“میں کیوں بھول گئی؟ مجھے کیوں عقل نہیں تھی؟ کیوں میں نے اس عورت پر بھروسہ کیا؟”
وہ اپنے اندرونی زخم کو محسوس کر رہی تھی، اپنے آپ کو کوس رہی تھی، مگر گزرے ہوئے لمحے، گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا تھا۔ ہر یاد، ہر عمل، ہر غلطی اس کے دل میں زہر گھول رہی تھی، اور شیشے کی دیوار کے پار آریان کی بے خبری اسے اور بھی زیادہ کچل رہی تھی۔۔۔عبیرہ نے زور سے آریان کو پکارا، آنکھیں سرخ اور اشک بھری ہوئی تھیں۔

“آریان… پلیز، یہاں دیکھو… ایک بار مجھے محسوس تو کرو، میں یہی ہوں…”
وہ روتے روتے بے بسی کے مارے شیشے سے اپنا سر ٹکرانے لگی، دل میں صبر کے سارے باندھ ٹوٹتے جا رہے تھے۔ ہر لمحہ اس کے دل کی دھڑکن اور سانسیں درد کے ساتھ جڑ رہی تھیں، وہ اپنی موجودگی کو، اپنی محبت کو، کسی طرح آریان تک پہنچا نہیں پا رہی تھی۔
“دشمن اچانک اچھا بن کر سامنے آئے ، تو اس پہ اندھا یقین کرنا بس بے وقوفی ہوتا ہے…”
عبیرہ کے دل میں یہ بات پوری شدت سے اتر رہی تھی، ہر دھڑکن کے ساتھ وہ خود سے کوس رہی تھی کہ کیسے اس نے اس عورت پر بھروسہ کیا، اور اب وہ تنہا، بے بس، اس ڈر زدہ ماحول کے درمیان پھنسی ہوئی تھی۔۔۔
═══════❖═══════

(روشانے کی نظر سے)

روشانے پلین کی کھڑکی کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی، پیشانی شیشے کے قریب، آنکھیں باہر بہتے مناظر پر جمی ہوئی تھیں مگر انگلیوں کی بے چینی، سخت سمٹے ہونٹ اور خالی ہوتی سانسیں گواہی دے رہی تھیں کہ اس کا ذہن ہواؤں اور بادلوں میں نہیں بلکہ آریان خان کے گھر کے منصوبے میں الجھا ہوا تھا۔

ہر لمحہ اس کے ذہن میں دھڑک رہا تھا کہ کس طرح ایک مہینے سے وہ آریان اور عبیرہ کے سامنے مہربان، پیار کرنے والی اور معصوم بنی رہی، تاکہ کسی کو ذرا سا بھی شک نہ ہو۔ وہ ہر لمحے کے لیے پہلے ہی سب کچھ تیار کر چکی تھی، ہر چھوٹی حرکت، ہر ردِعمل اس کے ذہن میں واضح اور طے شدہ تھا۔

وہ خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی، لبوں پر ٹھہری ہوئی مسکراہٹ اس کی جیت کی خاموش گواہ تھی۔ اس کے ذہن میں وہ لمحہ تازہ تھا جب آریان اور عبیرہ باہر گئے تھے اور اس نے نہایت سکون اور ہوشیاری سے اپنی عقل کا پورا استعمال کیا تھا۔ ڈیمو بک اس کے سامنے کھلی تھی، اپارٹمنٹ کے کیمروں کی تفصیل ایک ایک کر کے اس کی نظروں سے گزر رہی تھی۔ ہر زاویہ، ہر کیمرے کی پوزیشن، ریکارڈنگ کا پورا راستہ… سب کچھ اس نے غور سے چیک کیا تھا، سب کچھ ذہن میں بٹھا لیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ جب وہ چاہے گی، جو کرے گی، کسی کو خبر تک نہیں ہوگی کہ وہ کیا کر رہی ہے۔

وہ ذہن میں دہرا رہی تھی کہ کس طرح وہ لمحے بھر کے لیے اپارٹمنٹ میں واپس گئی، یہ کہہ کر کہ “میرا والٹ کمرے میں رہ گیا ہے”۔کیسے ہوشیاری سے وہ آریان سے مین گیٹ کی چابی لی ،یہ کہہ کر کہ میں خود دروازہ کھول لوں گی میری بہو کو زحمت نہیں ہونے چاہیے میرے ہوتے ہوئے،وہ سوچ کر اپنی ہی ذہانت پر مسکرائے جا رہی تھی۔

کتنی ہوشیاری سے اس نے سارا کام انجام دیا تھا، اس کا دل خوشی سے جھوم رہا تھا۔۔۔
شیشے کی بنی ہوئی خوبصورت دیوار کا دروازہ وہ پہلے ہی منصوبے کے تحت ہلکا سا کھول کر چھوڑ چکی تھی۔ اپارٹمنٹ کے اندر قدم رکھتے ہی اس نے عبیرہ کی موجودگی کا اندازہ لگایا، لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر موقع کا فائدہ اٹھایا اور زور سے دھکا دے دیا۔ عبیرہ فرش پر گری، اسی لمحے دروازہ بند کیا گیا، لاک لگایا گیا، اور پہلے سے تیار شدہ لیٹر اپنی جگہ رکھ دیا گیا۔

روشانے کے ذہن میں یہ سب ایک فلم کی طرح چل رہا تھا، عبیرہ کی بے بسی، آریان کا درد، اور شیشے کے پار پھیلا ہوا وہ سفاک فاصلہ۔ ہر حرکت، ہر قدم، ہر لمحہ بالکل اس کے منصوبے کے مطابق انجام پایا تھا۔

اس نے گہری سانس لی، جیسے سینے میں بھری ہوئی سرشاری کو قابو میں کرنا چاہتی ہو۔ ایک لمحے کو ساتھ بیٹھے مسافر کی طرف نظر گئی، بالکل بے جان، جیسے سامنے کوئی انسان نہیں بلکہ محض ایک سایہ ہو۔ اگلے ہی لمحے اس نے رخ دوبارہ کھڑکی کی طرف موڑ لیا۔ باہر بادل تیزی سے پیچھے ہٹ رہے تھے، مگر اس کے اندر سب کچھ ٹھہرا ہوا تھا۔
اسی لمحے روشانے کے دل میں مزید زہریلے خیالات ابھر آئے۔
’’آریان… میرا بچہ، تم نے کیسے سوچ لیا تھا کہ میں اس عورت کی بیٹی کو اپنے گھر کی بہو تسلیم کر لوں گی… جس کی ماں نے میرا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔ نہیں، میں کبھی معاف نہیں کر سکتی۔ آج میرا حساب مکمل ہو گیا۔ وہ وہیں تڑپ تڑپ کر مرے گی… اور اسے پانی کا ایک گھونٹ پلانے والا بھی کوئی نہیں ہوگا…‘‘

اس کے لبوں کے کنارے ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔ ایسی مسکراہٹ جس میں رحم کے نام کوئی چیز موجود نہ تھی ، صرف فتح کی ٹھنڈی، قاتلانہ خوشی۔ وہ اپنی کامیابی میں مکمل طور پر ڈوبی ہوئی تھی۔ دل کے کسی گوشے میں خوفِ خدا کی پرچھائیں تک نہیں تھی، نہ انجام کا کوئی سوال۔ بس ایک خاموش، گہری تسکین تھی… جیسے کسی نے لمبے انتظار کے بعد اپنا ہر مقصد حاصل کر لیا ہو، اور اب دنیا اسکے قدموں میں ہو۔

ایئر ہوسٹس کھانا لے کر اس کے قریب آ کر رکی، مگر روشانے نے بغیر دیکھے ہلکے سے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔ اسے بھوک نہیں تھی۔ اس کی روح اس وقت کسی اور ہی غذا سے سیراب تھی… اپنی سازش کی کامیابی سے۔

کیونکہ وہ پوری طرح اپنے منصوبے اور کامیابی میں مشغول تھی۔
اس نے کانوں میں ہیڈ فون لگا کر پرسکون موسیقی سننا شروع کیا، اور اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ سوچا کہ اس نے ایک لڑکی کو تنہا، بے بس چھوڑ دیا ہے، اور اس کے دل میں ذرا سا بھی پچھتاوا یا خوف نہیں تھا۔
پلین کے شور کے بیچ، روشانے مسکرا رہی تھی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ کوئی بھی حقیقت نہیں جان پائے گا۔ وہ ذہن میں بار بار دہرا رہی تھی: مہینے بھر کا ناٹک، محبت اور پیار کا دکھاوا، والٹ کا بہانہ، دھکا دینا، دروازہ بند کرنا، لیٹر رکھناسب کچھ مکمل ہوا۔
مگر اس سب کے درمیان وہ ایک اہم بات بھول گئی تھی۔
کہ اب سامنے جو کھڑی ہے، وہ بےگناہ ہے۔
اس کی کوئی خطا نہیں، وہ کسی گناہ کا حصہ نہیں تھا۔
لیکن اس وقت اس کے دل پر نفس غالب آ چکا تھا۔ خوفِ خدا دل سے نکل چکا تھا اور شیطان کی باتیں اسے درست لگنے لگی تھیں۔ وہ یہ بھول گئی تھی کہ بدلہ لینا انسان کا کام نہیں، انصاف اللہ کا اختیار ہے۔
جیت کا نشہ ایسا تھا کہ اس نے حق اور ناحق کے بیچ کی لکیر مٹا دی تھی۔ حالانکہ وہ جانتی تھی کہ جب انسان اپنے نفس کے پیچھے چلتا ہے تو وہ ہدایت سے دور ہو جاتا ہے۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک قدم رک جانا لازم تھا۔
کیونکہ اللہ ہر نیت، ہر عمل اور ہر زیادتی کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
اور اکثر انسان اسی مقام پر اپنی اصل آزمائش ہار جاتا ہے۔
═══════❖═══════
کمرے میں مدھم سی لائٹ جل رہی تھی۔ خاموشی ایسی تھی کہ موبائل کی اسکرین پر انگلیوں کی ہلکی سی ٹک ٹک بھی سنائی دے رہی تھی۔ یارم بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، نظریں فون پر جمی ہوئی تھیں۔
اس نے سر اٹھائے بغیر ایک سرسری سی نظر سامنے کھڑی ایزل پر ڈالی اور لاپرواہ انداز میں بولا
“کیا مسئلہ ہے؟ کیوں بھوت بن کر کھڑی ہو… آ کر سو جاؤ۔”
ایزل وہیں کی وہیں کھڑی رہی۔ نہ قدم آگے بڑھے نہ پیچھے۔ اس کے ہاتھ بے اختیار آپس میں الجھ گئے، انگلیاں ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامنے لگیں جیسے کوئی بہت بڑی بات کہنا چاہتی ہو۔

“وہ میں…” ایزل کچھ کہتے ہوئے رک گئی تھی۔

ایزل نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا۔ نظریں جھک گئیں۔ ایک دو لمحے رکی، پھر ہمت کر کے بولی
“نہیں… بس نیند نہیں آ رہی تھی۔”
یارم نے اسے دیکھا، ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ
آ گئی۔
“تو سیدھا یہی بات کہہ دیتی۔ ایسے خاموشی سے سر پر ا کر کھڑی ہو گئی ہو میں تو ڈر گیا۔”
ایزل کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

“ڈرنے والی کون سی بات ہے؟ میں کوئی بھوت تھوڑی ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ کر بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔ پاؤں نیچے لٹک رہے تھے، جیسے کھڑے کھڑے بات کرنے کا جھنجھٹ ختم کر دیا ہو۔ لبوں پر ہلکی ہلکی سی مسکراہٹ تھی… ایسی، جو صاف بتا رہی تھی کہ دل میں کوئی چھوٹی سی شرارت پل رہی ہے۔

یارم خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ گہری اور ٹھہری ہوئی نظروں سے… جیسے اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپی اصل وجہ پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“نہ نہ، تم بھوت نہیں، بھوتنی ہو جو کبھی بھی کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتی ہو، کچھ بھی سوچ سکتی ہو۔”

یارم کی نظریں اس پر تھیں۔ وہ مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا مگر لبوں کے کناروں سے وہ پھر بھی نکل آتی تھی۔ آنکھوں میں صاف صاف شرارتی انداز ظاہر ہو رہا تھا،دوسری جانب ایزل کے دماغ میں بھی کچھ نہ کچھ تو چل رہا تھا۔جسے لب پر لانے کے لیے وہ بے قرار سی نظر آرہی تھی۔

ایزل:
“پلیز، بھوتنی مت بولو… اتنی پیاری بیوی ہوں، قدر کیا کریں۔”
یارم نے ہنستے ہوئے سر ہلایا، آنکھوں میں روشنی اور مسکراہٹ کے ساتھ اس کی جانب دیکھا۔
یارم:
“اچھا جی، قدر کیا کرو؟ قدر کرنے کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا ؟ صبح شام جھک کر سلام پیش کروں یا اکیس توپوں کی سلامی صبح و شام پیش کیا کروں؟”
ایزل نے ہلکی ہنسی کے ساتھ سر پیچھے کیا، لبوں کے کنارے سے چھوٹی سی مسکان باہر آ گئی۔
ایزل:
“بس ہنس کر میرا نام لے لیا کریں، میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ اور فی الحال مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے… اتنی باتیں سنائیں گے تو میں وہ کہہ نہیں پاؤں گی۔”

یارم:
“کیا کہنا ہے بتاؤ؟ اور اتنی معصوم تم کب سے بن گئی کہ تمہیں کچھ کہنا ہے… اور اس کے لیے تمہیں اتنا سوچنا پڑ رہا ہے؟”
ایزل تھوڑی سی جھجک کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔ لب ہلکے سے ہل رہے تھے، آنکھیں فوراً نیچے جھکیں، مگر کوئی بڑا ڈراما نہیں، بس وہ معمول کی جھجک جو وہ بات کرنے میں محسوس کر رہی تھی۔
یارم نے متلاشی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے دیکھا، اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا کہ یہ لڑکی، جو عام طور پر ہر بات کھلے دل سے کہتی، اپنی خواہشات دھڑلے سے منواتی، اور شوہر سے صاف کہتی کہ آپ کے فرض میں میری ہر چیز شامل ہے… آج اتنی محتاط اور تھوڑی سی جھجکتی کیوں دکھائی دے رہی ہے۔

ویسے، اگر بیوی پیار سے شوہر کے قریب بیٹھے، پلکیں ٹمٹماتے ہوئے، کبھی مسکرا کر نیچے جھک جائے، کبھی شرماتے ہوئے ہاتھ اپنے گود میں سہلا لے، کبھی ہچکچاتے ہوئے چھوٹی سی سانس لے، تو شوہر کو خود ہی سمجھ جانا چاہیے۔ اتنے بڑے ہو گئے ہیں، پھر بھی یہ نہیں جانتے کہ جب بیوی یہ سب کرے تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔

“منہ سے کچھ بولو گی تو مجھے سمجھ آئے گا کہ تمہیں کیا چاہیے، ورنہ مجھے الہام نہیں ہوگا۔۔۔ اور یہ جو تم شرمانے، ہچکچانے والے انداز دکھا رہی ہو، یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ پوری عمر تمہیں جھیلنا ہے، آہستہ آہستہ سیکھ ہی جاؤں گا۔۔۔
کیا کہنا ہے؟ جلدی بتاؤ، مجھے نیند آ رہی ہے۔۔۔
آریان خان بات کرتے کرتے، اُسے چڑانے کے لیے تکیہ سر کے نیچے رکھ کر لیٹ چکا تھا۔

“ویسے، بہت ہی کھڑوس قسم کے انسان ہیں۔۔۔ ٹھیک ہے، سیدھا سیدھا بتا دیتی ہوں، مجھے بھوک لگی ہے، کھانا کھانا ہے۔
ایزل کی بات سن کر یارم خان یوں چونک اٹھا، جیسے اچانک کوئی ہائی وولٹ کا جھٹکا لگ گیا ہو، اور چند لمحوں کے لیے اس کی آنکھیں بڑی بڑی ہو گئیں۔

“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟”
ایزل نے کاندھوں کو اچکاتے ہوئے، پوچھا۔

“تم۔۔۔ تم اتنی دیر سے باتوں کو ادھر سے ادھر گھما کر، تمہید باندھ کر یہ کہنا چاہتی تھی؟”
یارم بیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کی نظریں ایزل پر جمی ہوئی تھیں۔

“جی ہاں مجھے تو یہی کہنا تھا……ایزل نے نارمل سا انداز اپناتے ہوئے کہا، جیسے کوئی بڑی بات نہ ہو۔

“کچن جا کر کھانا کھا لو۔ اس میں بتانے یا پوچھنے والی کوئی بات نہیں۔ ایسی کوئی پابندی میں نے تم پر نہیں لگائی۔کہ تم کھانا بھی مجھ سے پوچھ کر کھاؤ ۔”
یارم اس کی باتوں سے جھنجلا گیا تھا۔
“پیارے شوہر جی، پابندی تو آپ مجھ پر لگا بھی نہیں سکتے۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ میں ایزل ہوں، اور ایزل فضول کی پابندیاں برداشت نہیں کرتی۔”

“ہاں،وہ الگ بات ہے کہ اگر آپ لگائیں گے، تو میں خوشی خوشی آپ کی ہر پابندی کو قبول کر لوں گی۔ پیار کرتی ہوں نا!”
ایزل کا لہجہ اور انداز دونوں ہی ہنسا دینے کے لیے کافی تھے۔ یارم کے لبوں پر بھی زبردستی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔

یارم نے مسکراتے ہوئے کہا، “نہیں، مجھے پابندی لگانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میری طرف سے پوری اجازت ہے، تم جاؤ، جا کر کھانا کھا سکتی ہو۔”
اس نے تھوڑی دیر رک کر ایزل کی طرف دیکھا، پھر نرم لہجے میں کہا، “اور اگر پاؤں میں درد ہے اور چل نہیں سکتی، تو میں کھانا گرم کر کے میڈم کے لیے کمرے میں بھی لا سکتا ہوں۔ بس حکم دیں کہ مجھے کیا کرنا ہے۔”

ایزل نے ہلکی ناراضگی کے ساتھ کہا، “اتنی بھی مظلوم نہیں ہوں کہ کچن میں رکھے ہوئے کھانے کو آپ سے گرم کروانے کے لیے، یا خود گرم کرنے کے لیے اتنی سر کھپائی کروں۔ مجھے کھانا گھر پر نہیں کھانا، اس لیے اتنی دیر سے محنت کر رہی تھی، آپ کے ساتھ اپنا سر کھپا رہی تھی۔”

یارم نے فوری کہا، “تم میرے ساتھ۔۔۔ میرے ساتھ سر کھپا رہی تھی، یا میں تمہارے ساتھ کھپا رہا تھا؟ اور یہ کوئی وقت نہیں ہے باہر جا کر کھانے کا، میں تھکا ہوا ہوں، میں بالکل نہیں جانے والا۔”

“ٹھیک ہے، مت جائیں۔ اللہ تعالی کو حساب دینا ہوگا۔”
ایزل نے مظلوم سی شکل بناتے ہوئے، مصنوعی نمی آنکھوں میں بھرنے کی کوشش کی، جو چاہ کر بھی پوری طرح نہیں آئی تھی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
پاؤں میں اب کوئی درد نہیں تھا، لیکن جان بوجھ کر لڑکھڑاتے ہوئے جا کر صوفے پر لیٹ گئی۔

یارم گہری سانس لے کر اس کا سارا ڈرامہ دیکھ رہا تھا جو سچ میں ،تھکا ہوا تھا، مگر سوچا کہ خود کو ، ایک بھوکی، بے بس ، مظلوم بیوی کہنے والی لڑکی کی اپیل پر کس طرح کا ردعمل دے،لمحہ بھر کو وہ خاموش رہا۔

یارم نے پہلو بدلا۔ تکیے کے کنارے پر جمی انگلیاں ایک لمحے کو ٹھہر گئیں۔ ایزل صوفے پر تھی۔ وہ جانتا تھا یہ سب جان بوجھ کر رہی ہے، پھر بھی دل نے ماننے سے انکار کر دیا۔
نظر اٹھانا نہیں چاہتا تھا، مگر اٹھ گئی۔ فوراً ہٹانا چاہی، مگر وہ لمحہ سرک نہ سکا۔ اندر کہیں ہلکی سی جنبش ہوئی، ایسی جسے وہ سمجھنا نہیں چاہتا تھا، محسوس بھی نہیں کرنا چاہتا تھا، مگر وہ خاموشی سے اس پر حاوی ہو رہی تھی۔
وہ بیٹھ گیا۔
“اچھا… اٹھو، چلتے ہیں کھانا کھانے۔”

“تھینک یو،ل…. تھینک یو سو مچ…. مجھے پتا تھا آپ نے مان ہی جانا ہے۔ آپ مجھے ناراض دیکھ ہی نہیں سکتے۔”
وہ اپنی جگہ سے بچوں کی طرح اچھل کر بیٹھ گئی۔ نہ پاؤں میں اب کوئی درد تھا، نہ آنکھوں میں نمی۔ لمحہ بھر میں ساری اداکاری ختم ہو چکی تھی۔

“جی ہاں، میں بالکل تمہیں ناراض نہیں کر سکتا،” یارم نے طنزیہ انداز میں کہا، “کیونکہ تم پوری رات اللہ کے سامنے اپنی مظلومیت ثابت کرتی رہو گی، اور میں نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ مجھے تمہاری مظلومیت کے بدلے سزا دے۔”

“اور اب زیادہ باتیں مت بناؤ۔ منٹ سے پہلے چلو، ورنہ میرا ارادہ بدل سکتا ہے۔” سنجیدگی سے کہا،
یہ کہہ کر یارم اٹھا اور جوتے پہننے لگا۔

“نہیں نہیں، میں ایک سیکنڈ لگاؤں گی، بس دس منٹ میرا انتظار کریں،” ایزل نے فوراً سے کہا۔

“ایک منٹ لگاؤ گی، اور باقی کے نو منٹوں کا کیا کروں؟”جوتے پہنتے ہوئے ایک نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا ۔

“کچھ نہیں، وہ میں مینج کر لوں گی، آپ پریشان نہ ہوں۔ بس مجھے ایک منٹ دے دیں، میں دس منٹ میں ریڈی ہو کر آتی ہوں،”
وہ مسکراتے ہوئے جانے کے لیے مڑ گئی۔

“میں گاڑی نکالتا ہوں، جلدی آنا۔”
“بس دو منٹ میں آرہی ہوں۔ڈریسنگ روم سے ایزل کی آواز ابھری۔
یارم کمرے سے باہر نکلا۔ چابیاں اٹھائیں اور قدم تیزی سے باہر کی جانب بڑھائے۔ گاڑی نکالی اور رک گیا، مگر دماغ میں ایک نام بے اختیار گھوم رہا تھا… عبیرہ۔

“کہاں ہو تم؟
اس گھٹیا انسان کے ساتھ ہو؟
تم ٹھیک بھی ہو یا نہیں… مجھے کچھ نہیں پتہ،دل اچانک درد سے بھر گیا۔ اس نے بے اختیار ہتھیلی دل پر رکھ دی، جیسے اس بوجھ کو وہیں دبا دے۔
اسی لمحے ایزل باہر آئی۔ کندھے پر ہینڈ بیگ لٹکائے، تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے۔

“آ گئی ہوں۔ کیوں اپنا دل مسل رہے ہیں؟ آپ بھی نہ، ایک سیکنڈ میرے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کیا کروں میں آپ کا؟”اس کے چہرے پر وہی ہمیشہ والی مسکراہٹ تھی۔
ایسی مسکراہٹ جو زندہ دلی کی نشانی تھی،
ایسی مسکراہٹ جس میں کوئی دوسرا عکس نہیں تھا۔
صاف، شفاف، ایسی کہ یارم ہر دن، ہر لمحہ، دل ہی دل میں اسے محسوس کر رہا تھا۔

وہ مسکراتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ اس کے جملے پر یارم کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی… مگر دل نے اندر سے اسے ملامت کی۔
دل نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ ایزل کے ساتھ غلط کر رہا تھا۔

“میرے اللہ… وہ جہاں بھی ہے، اسے صحیح سلامت اس کے گھر والوں تک پہنچا دے۔ میں اسے سوچ کر اس کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا۔ میرے دل کو پرسکون کر دے…”

” پلیز جلدی آجائیں مجھے بھوک لگی ہے،کن خیالوں میں کھوئے ہوئے ہیں؟”
ازل نے گاڑی سے آواز دی۔
یارم نے پلٹ کر دیکھا۔

“آ رہا ہوں…”
یارم نے گہری سانس لی، دعا دل میں رکھی، اور گاڑی میں بیٹھتے کر دروازہ بند کرتے ایزل کی طرف دیکھا۔

ایزل نے آنکھیں چھوٹی کر کے تفیشی انداز میں پوچھا۔
یارم گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے، سٹیرنگ پر ہاتھ گھماتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔
“تمہارے بارے میں۔”

“جائیں، جھوٹے، کہیں میرے بارے میں سوچ ہی نہ لیں۔ ویسے حرکتیں تو آپ کی مشکوک ہیں، مگر مجھے پتہ ہے آپ میر ے سوا کسی اور کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے،

یارم:”اچھا اور ایسا تمہیں کیوں لگتا ہے۔

ایزل”کیونکہ آپ ایسے نہیں ہیں۔ اب جلدی چلیں، بھوک سے میرا برا حال ہو رہا ہے۔”
ایزل مست مولا اپنی ہی باتوں میں، اپنی دھن میں بول کر خاموش ہو گئی۔ یارم کا دل ایک بار پھر شرمندہ ہو گیا۔

“یہ کتنا اعتماد کر رہی ہے مجھ پر، اور جس دن یہ اعتبار ٹوٹا، کیا یہ برداشت کر پائے گی؟ یہ سوال اس کے دل میں بے آواز گھوم رہا تھا۔

“اللہ نہ کرے کہ یہ بات کبھی اس کے سامنے آئے۔”
اپنے ہی خیال کو جھٹک کر یارم نے دل میں جواب دیا۔

گاڑی اسلام آباد کی خوبصورت سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ بارش نے برس کر سڑک کو بھیگا بھیگا اور چمکدار بنا دیا تھا، ہر قطرہ روشنی میں چھلک رہا تھا، اور منظر ایک جادوئی سا روپ دھار رہا تھا۔ ایزل نے کھڑکی کے شیشے پر چھائے پانی کے موتیوں کو دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ دی، ہر قطرہ اس کے چہرے پر عکاسی کر رہا تھا، جیسے وہ بھی اس منظر کا حصہ بن گئی ہو۔

یارم سٹیرنگ گھماتے ہوئے کبھی کبھار اس کی طرف نظر ڈال لیتا۔ ازل کی خاموش مسکراہٹ اور بے ساختہ سی خاموشی دل میں ایک عجیب سا سکون اور ہلکی سی بے چینی گھول دیتی۔

بارش سے بھیگی سڑک، گاڑی کی ہموار رفتار اور اس کے دل کی کیفیت… سب کچھ خاموشی میں بہتا جا رہا تھا، جیسے کسی نے لمحے کو وہیں تھام کر روک لیا ہو۔

═══════❖═══════

           📌 Note
Meharbani kar ke is likhai ko copy ya kahin aur share na karein.
Original content ka ehtram karein
aur apna review comments mein zaroor dein.

آریان خان نشے میں دھت صوفے پر بے ترتیب سا بیٹھا تھا، پاؤں نیچے لٹکے ہوئے۔ نظریں بار بار سامنے اٹھتیں، جیسے کسی ایک ہی چہرے کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ عبیرہ کو دیکھنے کی تڑپ اب آنکھوں سے صاف جھلکنے لگی تھی…
اڑتالیس گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا۔
مگر ایڑی چوٹی کا زور لگا دینے کے باوجود عبیرہ کی کوئی خبر نہیں تھی۔

اسے اپنی زندگی بوجھل سی لگنے لگی تھی۔ ایک ہی شخص جب پوری دنیا بن جائے، تو اس کے دور ہوتے ہی دنیا جیسے اندھیرے میں ڈوب جاتی ہے۔ آج آریان خان یہ بات پوری طرح سمجھ چکا تھا۔

ایک ہاتھ میں موبائل تھا اور نظریں اسکرین پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ عبیرہ کی تصویریں دیکھ رہا تھا۔ اس کے فون میں عبیرہ کی لاتعداد تصویریں محفوظ تھیں، جیسے اس نے اس کے ساتھ گزارا ہر لمحہ قید کر رکھا ہو۔
وہ تصویریں… وہ مسکراہٹیں… وہ بے فکر لمحے۔
انہیں دیکھتے ہوئے اس کی سانس بھاری ہوتی جا رہی تھی۔ تڑپ ایسی تھی کہ اگر کوئی دیکھ لیتا تو آنکھیں بھیگ جاتیں۔

کون سوچ سکتا تھا کہ سخت دل آریان خان کسی لڑکی کے لیے اس حد تک بکھر جائے گا۔ ہمیشہ اپنی ذات کو سب سے پہلے رکھنے والا اپنی ذات کو بھول بیٹھا تھا۔
محبت آدمی کو توڑنے کے لیے کافی ہوتی ہے، اور آریان خان اس وقت ٹوٹا ہوا آدمی تھا۔ جسے کبھی کسی کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑا تھا، آج وہ ایک لڑکی کے نہ ہونے پر بکھر رہا تھا۔

اڑتالیس گھنٹے گزر چکے تھے۔
عبیرہ کا کوئی سراغ نہیں تھا۔
اس نے اپارٹمنٹ میں لگے کیمروں کی کی ریکارڈنگ نہ جانے کتنی بار چیک کی تھی، مگر کسی ایک فریم میں بھی عبیرہ باہر جاتی نظر نہیں آئی۔ جیسے وہ اچانک غائب ہو گئی ہو۔ اگر آریان اس وقت پوری طرح ہوش میں ہوتا تو شاید بہت سی باریکیاں اس کی نظر سے چھپ نہیں سکتی تھیں ۔ مگر خالی پیٹ، اور ضرورت سے زیادہ شراب نے اس کے حواس مفلوج کر رکھے تھے۔
پھر بھی…
کچھ لوگ اپنی کمزوری میں بھی راستہ نکال لیتے ہیں۔
موبائل اس کے ہاتھ میں تھا۔ عبیرہ کی تصویریں اسکرول کرتے کرتے اچانک اس کی نظر ایک ایپلیکیشن پر ٹھہر گئی۔ وہی ایپ جو اس اپارٹمنٹ کے کاغذات کے ساتھ انسٹال کی گئی تھی۔ ایک ایسی ایپ جسے اس نے کبھی کھولنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
اس کے ذہن میں جیسے ایک بتی جل اٹھی۔
آریان نے فوراً ایپ اوپن کی۔ اسکرین پر گھر کی تفصیلی ڈیمو ویڈیوز چلنے لگیں۔ ہر کمرہ، ہر دیوار، ہر زاویہ… سب کچھ۔ اور پھر اچانک اس کی نظر وہیں رک گئی۔
شیشے کی وہ دیوار۔
اس کا سانس رک سا گیا۔
آریان نے بے اختیار سر اٹھا کر سامنے موجود شیشے کی دیوار کو دیکھا۔ بالکل وہی۔
فون ہاتھ میں لیے وہ فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ شیشے کے ساتھ چہرہ لگا کر اندر جھانکنے کی کوشش کی، مگر کچھ دکھائی نہ دیا۔ پھر بھی اب وہ جان چکا تھا… اس دیوار کے پیچھے کمرہ تھا۔
اگر عبیرہ وہاں تھی…
تو وہ اس کی آواز سن سکتی تھی۔
اس کے ہونٹوں پر ایک لمحے کو عجیب سی مسکراہٹ آئی۔ کبھی وہ ہنس پڑتا، کبھی بے یقینی سے موبائل کو دیکھتا۔ دل کو کسی ضدی یقین نے جکڑ لیا تھا۔
اس کی عبیرہ…
اسی شیشے کی دیوار کے پیچھے تھی۔

“عبیرہ… عبیرہ، میری جان، تم مجھے سن سکتی ہو؟”
آریان نے شیشے کے ساتھ پیشانی ٹکائے آہستہ کہا۔ آواز بھری ہوئی تھی، مگر ٹوٹی نہیں تھی۔
“میرا دل کہتا ہے تم اسی دیوار کے پیچھے ہو۔”
ایک لمحے کو وہ رکا، جیسے سانس کو قابو میں لا رہا ہو۔

“گھبرانا مت، میری جان۔ میں تمہیں یہاں سے نکال لوں گا۔ بس ہمت رکھنا… میرے لیے۔”
ادھر عبیرہ آواز دینے کے قابل نہیں تھی۔ آنسو خاموشی سے بہہ رہے تھے۔ اس نے بس سر ہلایا، شیشے کے اُس پار، جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ وہ وہیں ہے… اور سن رہی ہے۔

“میں… میں ابھی چابی ڈھونڈ کر لاتا ہوں، عبیرہ۔ تم ہمت رکھو۔”
آریان دیوانہ سا لگ رہا تھا، خود سے باتیں کر رہا تھا، مگر دل کی گواہی دے رہا تھا کہ عبیرہ واقعی وہاں ہے۔ اور عبیرہ… وہ خاموشی سے، شیشے کے پار، اسے سن رہی تھی۔
پورے گھر میں وہ خفیہ روم کی چابی تلاش کرتا رہا، مگر کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ پھر اس نے دوبارہ ایپ کھولی اور سرچ کیا کہ اگر چابی نہ ملے تو دروازہ کھولنے کا کیا طریقہ ہے۔ ایپ نے بتایا کہ جب گھر مالک کے نام رجسٹر ہوتا ہے، ڈیجیٹل طور پر فنگر پرنٹ بھی لیے جاتے ہیں، اور وہی مخصوص جگہ پر رکھے جائیں تو شیشے کی دیوار کا دروازہ کھل جائے گا۔
آریان نے ہمت جمع کی اور اپنے انگوٹھے کو بتائی گئی جگہ پر رکھا۔ جیسے ہی وہ وہاں لگا، دروازہ خاموشی سے کھل گیا۔
وہ بھاگ کر اندر داخل ہوا۔ عبیرہ واقعی وہاں تھی—دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے، نڈھال بیٹھی، آنکھوں میں آنسو ابھی بھی بہہ رہے تھے۔ 48 گھنٹے بھوکی رہنے اور مسلسل رونے کی وجہ سے وہ کمزور تھی، شاید اس کی طاقت بالکل ختم ہو چکی تھی، شاید بی پی بھی کافی نیچے آ چکا تھا۔

“عبیرہ…”
آریان نے لمبی، دھیمی سانس اندر کھینچتے ہوئے اس کا نام لیا۔
عبیرہ کی آنکھیں دھندلی تھیں، مگر اس نے صرف سر ہلایا، جیسے کہنا چاہتی ہو کہ وہ وہیں ہے… اور سن رہی ہے۔
آریان کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، سانس رکنے کو تھی۔ ہر لمحہ اسے لگتا کہ اگر ایک قدم بھی آگے بڑھا تو وہ ٹوٹ جائے گا، مگر وہ خود کو سنبھال رہا تھا۔ اس کی آنکھیں صرف عبیرہ کے چہرے پر جمی تھیں، ہر زخم، ہر کمزوری، ہر تھکن اسے اندر سے جھنجوڑ
رہی تھی۔
اس نے دوبارہ آہ بھری، اور یہ آہ خاموش دعا کی طرح تھی، الفاظ کے بغیر، بس دل سے نکلتی ہوئی: “میں یہاں ہوں، تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔

قدم بے اختیار اس کی جانب بڑھ گئے۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس نے عبیرہ کو اپنے سینے کے قریب محسوس کیا، بس اتنا کہ وہ موجود ہو، بس اتنا کہ اس کی موجودگی عبیرہ تک پہنچے۔

“سوری… میری جان، میں تمہیں ڈھونڈ نہیں سکا…”
“سوری… میری وجہ سے تم اتنی تکلیف میں تھیں…”
نشے کی خمار میں الفاظ ٹوٹ رہے تھے، لہجہ کانپ رہا تھا، مگر آنکھوں میں وہ بے تحاشہ سچا پیار صاف جھلک رہا تھا جو بس عبیرہ کے لیے تھا۔ ہر سانس، ہر لمحہ اس محبت کی گواہی دے رہا تھا، اور خاموشی میں بھی یہ واضح تھا کہ وہ اسے کبھی نہیں چھوڑے گا۔

“مجھے لگا… میں مر جاؤں گی۔
آپ مجھے کبھی ڈھونڈ نہیں سکیں گے…”
الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے۔ وہ روتے ہوئے اس کے سینے میں سر چھپا گئی، اور سسکیاں جیسے اس کے وجود سے پھوٹ رہی ہوں۔
ان سسکیوں میں اتنا درد تھا کہ آریان کا دل جیسے اندر سے چٹخنے لگا۔ وہ کچھ کہہ نہ سکا، بس اس لمحے کو تھامے رہا، جیسے اگر ذرا سی بھی گرفت ڈھیلی ہوئی تو سب کچھ بکھر جائے گا۔

“پلیز… دوبارہ ایسا مت کہنا۔”
آریان کی آواز لرز گئی تھی۔
“عبیرہ، تمہارے مرنے سے پہلے میں مر جاؤں گا۔ تم سے دور یہ اڑتالیس گھنٹے میں نے کیسے گزارے ہیں، یہ صرف میں جانتا ہوں۔”
وہ ایک لمحے کو رکا، سانس جیسے ٹوٹ رہی ہو۔

“دوبارہ مرنے کی بات مت کرنا۔ تم مجھے دیکھ سکتی تھیں، سن سکتی تھیں… اور میں، میں تمہیں کھو دینے کے ڈر سے سانس تک نہیں لے پا رہا تھا۔”
لفظ بوجھل ہو گئے تھے۔
“عبیرہ… میں تمہارے بغیر مر رہا تھا۔”
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ انہیں چھپانے کی کوشش بھی نہ کر سکا۔ اس کی تڑپ اتنی سچی تھی کہ عبیرہ کا دل بھی بھر آیا۔
“آریان… چپ کر جائیں۔”
وہ نڈھال سی حالت میں آہستہ سے اس کے قریب ہوئی، اور کانپتے ہاتھوں سے اس کے آنسو پونچھنے لگی۔
“مجھے آپ کی آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگتے۔”کانپتے ہونٹوں سے بمشکل کہا۔

“رونے دو مجھے۔۔۔
یہ درد جو دل کے اندر جمع ہو گیا ہے نا، اگر بہہ نہ سکا تو مجھے اندر سے توڑ دے گا۔
اس کی آواز بھری ہوئی تھی، جیسے الفاظ کو باہر آنے میں بھی درد محسوس ہو رہا ہو۔ عبیرہ کے ہاتھ اس کی گرفت میں تھے، اور وہ انہیں آہستگی سے اپنی پیشانی سے لگا گیا۔
اس لمحے اس کے اندر کوئی ضد نہیں تھی، کوئی دعویٰ نہیں تھا، صرف ڈر تھا۔۔۔ خالص، بے لباس ڈر۔

“عبیرہ، کبھی مجھ سے دور ہونے کا خیال بھی مت کرنا۔آریان تمہارے بغیر اب جی نہیں سکتا۔۔۔۔خود سے خاموشی سے کہتے ہوئے ہوش کے دنیا میں لوٹ آیا۔۔

وہ اسے زمین سے اٹھاتے ہوئے ٹھہر گیا، جیسے ذرا سی جلدی سب کچھ بکھیر دے گی۔قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھ آئے جہاں خوبصورت لمحے اب بھی قید تھے۔
بیڈ پر لٹایا تو ہاتھ فوراً نہیں ہٹایا، کچھ لمحے وہیں بیٹھا رہا۔
پھر پانی میں گلوکوز گھولا، اور سہارا بن کر اس کے ہونٹوں تک لے آیا۔ ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر نیت مضبوط تھی۔

“میری جان سے بڑھ کر تم ضروری ہو گئی ہو۔
تم ہو تو سب کچھ ہے، تم نہ ہو تو یہ دنیا خالی ہے۔
اس نے بات مکمل کرنے کے لیے سانس لی، جیسے خود کو سنبھال رہا ہو۔وہ خاموشی سے اسے سن رہی تھی آنکھوں سے بے اختیار انسو بہتے جا رہے تھے۔

“آج مجھے اندازہ ہوا ہے کہ تم محبت سے آگے کا کوئی خاص ہو۔
تم میری سانسوں کا تسلسل ہو۔
اگر تم میری نظروں سے اوجھل ہو جاؤ، تو شاید یہ سانسیں بھی میرا ساتھ چھوڑ دیں۔
وہ خاموش ہو گیا۔

“اللہ نہ کرے… ایسی باتیں مت کریں۔
اس نے نازک سا ہاتھ اٹھایا اور بہتے آنسو آہستہ سے صاف کیے۔ پھر وہی ہاتھ تھام کر، اپنی پیشانی خاموش عقیدت سے اس سے ملا گیا۔
خاموشی میں دعا، خوف، اور بے پناہ محبت۔سب کچھ ایک ساتھ، کہہ گیا ۔

“کہنے دو… زندگی کی ڈور کب ہاتھ سے چھوٹ جائے، کوئی نہیں جانتا۔
وقت پر باتیں نہ کہی جائیں تو کچھ باتیں بس دل میں رہ جاتی ہیں۔”وہ مضبوط مرد ہو کر رو رہا تھا۔

“اگر میں دل چیر کر دکھا سکتا، تو تمہیں وہ دل دکھاتا جس نے تمہاری چندساعتوں کی جدائی بھی برداشت نہ کی۔
تم ذرا سی دیر اور نہ ملتیں، تو شاید یہ دنیا میرے لیے وہیں ختم ہو جاتی۔
لمحوں کے لیے کمرے میں خاموشی اتر آئی۔
ایسی خاموشی جو شور نہیں مچاتی، مگر اپنے اندر سب کچھ سمیٹے رکھتی ہے۔خاموشی میں ایک ایسا خوف تھا جو لفظوں کا محتاج نہیں تھا ۔

بے اختیار، عبیرہ اس کی طرف کھنچ رہی تھی۔ کبھی اس نے نہیں سوچا تھا کہ وہ اس شخص سے اس حد تک پیار کرے گی، جس نے کبھی اسے تڑپاتے ہوئے اپنی دنیا سے دور کر دیا تھا۔
مگر آج… آج وہ خود بھی اسی شخص کے لیے تڑپ رہا تھا۔
اس کی تڑپ عبیرہ نے اتنی قریب سے دیکھی کہ ہر خوف اور ہر درد اس کے دل میں اتر گیا۔
اب وہ کسی شک کی گنجائش بھی نہیں چھوڑ سکتی تھی۔اس کی محبت اب واضح، سچی اور بغیر کسی مکاری کے تھی۔
“دو منٹ میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہوں…”
یہ کہتے ہوئے وہ فوراً اٹھا، دروازہ کھولا اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔

“جلدی آئیے گا…”
عبیرہ کی مدھم سی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تھی۔
آریان کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی… اور اسی لمحے دماغ کے کسی کونے میں ایک ہلکا سا درد ابھرا۔
مسکراہٹ اس لیے کہ وہ اسے اپنا محافظ سمجھ رہی تھی، وہ چاہتی تھی کہ وہ فوراً اس کے پاس لوٹ آئے… اور یہ اعتماد، یہ چاہت، اس کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھی۔
اور درد اس بات کا کہ وہ اسی کے گھر میں خوف زدہ تھی، اسی جگہ جہاں اسے سب سے زیادہ محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
وہ کچھ نہ کہہ سکا۔
بس ایک لمحے کو رکا… پھر تیزی سے باہر نکل آیا۔

═══════❖═══════
کچن میں آتے ہی آریان رک گیا۔
ہاتھ بالوں میں اٹک گئے، انگلیاں زور سے کھوپڑی میں دھنسیں، جیسے درد کو باہر نکالنا چاہتا ہو۔ سانس بھاری تھی، آنکھیں سرخ ۔
روشانے…
یہ کیا کیا آپ نے…؟
یہ جملہ اس کے ہونٹوں سے نہیں نکلا، سیدھا سینے میں گونجا،تھا ۔
پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے لوگ…آپ کو زہر لگتے تھے۔پھر اپنے بنائے اصولوں کو کیسے توڑ دیا۔دل میں طوفان کی طرح سوال اٹھ رہے تھے۔

“جب آپ کے ساتھ غلط ہوا۔۔۔ آپ کی کی دنیا میں ایسے لوگوں کے لیے کوئی رعایت کوئی معافی نہیں تھی۔
تو پھر میرے ساتھ ایسا کیوں کیا…؟
یہ سوال اس کے اندر چیخ بن کر ابھرا۔
اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ کچن کی شیلف پر زور سے جا لگا۔ دھات کی سردی ہتھیلی میں اتر گئی، درد کی ایک تیز لہر آنکھوں کے آگے چمک سی بن کر ابھری۔
مگر یہ درد…
اس کے اندر اٹھتے درد کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھا۔
اس لمحے آریان کے لیے
دنیا کا ہر دکھ، ہر زخم، ہر تکلیف
اس ایک سوال کے سامنے بہت چھوٹی ہو چکی تھی۔

“اس سے کہیں بہتر ہوتا…
آپ اپنی ضد پر قائم رہتیں، کبھی عبیرہ کو قبول ہی نہ کرتیں۔
باقی سب کچھ… وہ قبول کر لیتا۔ رویّے، تلخیاں، سرد مہری۔ کیونکہ وہ سب کسی نہ کسی طرح حقیقت تھے۔
مگر یہ…
یہ تو پیٹھ پیچھے منافقوں کی طرح وار تھا۔
آنکھوں سے آنسو بہتے چلے جا رہے تھے، بنا رکے، بنا آواز کے۔
آریان آہستہ سے وہیں فرش پر بیٹھ گیا۔ کمر شیلف سے لگ گئی، نظریں جھک گئیں۔
وہ یہ بھی بھول چکا تھا کہ وہ کچن کیوں آیا تھا۔
کمزور وجود کے لیے فروٹس لینے…
اس لمحے اسے صرف یہ یاد تھا کہ کسی نے اس کی دنیا کو موت کے حوالے کر دیا تھا،
اور وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی… کچھ نہ کر سکا ۔

کچن کی روشنی اس پر سیدھی پڑ رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں کے اندر اندھیرا اتر چکا تھا۔
وہ فرش پر بیٹھا تھا، گھٹنوں کے درمیان سر جھکائے، جیسے جسم کا وزن اب سنبھالنا ممکن نہ رہا ہو۔
ہاتھ بے جان ہو کر گود میں گر گئے۔
سانسیں بے ترتیب تھیں، کبھی تیز، کبھی اچانک رکتی ہوئی۔ سینہ اٹھتا تو تھا، مگر جیسے ہوا اندر جا ہی نہ پا رہی ہو۔
آنکھوں سے آنسو خاموشی سے ٹپک رہے تھے۔
نہ سسکی، نہ آواز۔
بس وہ رونا جو اندر ہی اندر انسان کو کھوکھلا کر دے۔
نظر سامنے رکھی شیلف پر جم گئی، مگر وہ کچھ دیکھ نہیں رہا تھا۔
ذہن ایک ہی نقطے پر اٹکا تھا۔
ایک بند کمرہ، ایک بے بس وجود، اور وہ خوف… جو اب اس کے دل میں سانپ کی طرح بل کھا رہا تھا۔
کندھے آہستہ آہستہ جھک گئے۔
ریڑھ کی ہڈی جیسے ٹوٹ کر رہ گئی ہو۔
اس لمحے وہ آریان خان نہیں تھا۔
بس ایک آدمی تھا،

کچن کی روشنی اس پر سیدھی پڑ رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں کے اندر اندھیرا اتر چکا تھا۔
وہ فرش پر بیٹھا تھا، گھٹنوں کے درمیان سر جھکائے ہوئے۔
ہاتھ بے جان ہو کر گود میں گر گئے تھے۔ انگلیوں میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی۔
سانسیں بے ترتیب تھیں، کبھی تیز، کبھی اچانک رکتی ہوئی۔ سینہ اٹھتا تو تھا، مگر جیسے ہوا پوری اندر جا ہی نہ پا رہی ہو۔
آنکھوں سے آنسو خاموشی سے بہتے رہے۔
نہ کوئی آواز، نہ سسکی۔
بس وہ رونا جو انسان کو اندر ہی اندر توڑ دیتا ہے۔
وہ اپنوں کے دیے ہوئے دھوکے کو سہ نہیں پا رہا تھا۔
ایک لمحے بعد اس نے خود کو زبردستی سمیٹا۔
فرش سے اٹھ کر پاس رکھے ٹشو کے ڈبے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ایک ٹشو نکالا، آنکھیں صاف کیں، گہری سانس لی۔
چہرے پر پھیلی شکستگی کو ضبط میں لیتے ہوئے وہ کاؤنٹر کے پاس آ کھڑا ہوا۔ہاتھ دھوئے،
فروٹس نکالے، چھری اٹھائی، اور انہیں ڈش میں رکھنے لگا۔
حرکتیں عام تھیں، ہاتھ مصروف تھے۔

جیسے چاہتا تھا کہ کمرے میں موجود کمزور وجود کو
یہ اندازہ بھی نہ ہو
کہ اس لمحے اس کے اندر کیا کچھ ٹوٹ چکا تھا۔

بھاری قدم اٹھاتے ہوئے،کچن کی روشنی بند کر کے واپس باہر نکل آیا۔۔۔۔
═══════❖═══════

کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی۔
عبیرہ بستر پر پہلو کے بل لیٹی ہوئی تھی، جیسے جسم وہیں ہو اور جان کہیں اور اٹکی رہ گئی ہو۔
بازو کمبل کے اندر سمٹے ہوئے تھے۔ انگلیاں بے اختیار آپس میں الجھتی، پھر رک جاتیں۔
آنکھیں چھت پر ٹکی تھیں، مگر وہ چھت کو نہیں دیکھ رہی تھی۔
وہ صرف دروازے کی آہٹ سننا چاہتی تھی۔
سانس آتی جاتی تھی، مگر دل کے ساتھ ہم قدم نہیں ہو پا رہی تھی۔
ہر گزرتا لمحہ اسے اور کمزور کر رہا تھا۔
کبھی پلکیں بند ہوتیں، تو اندھیرے میں آریان کا چہرہ ابھرتا۔
کبھی آنکھیں کھلتیں، تو خالی کمرہ اسے اور زیادہ خالی لگتا۔
اس نے کروٹ بدلی۔
گلا خشک تھا، مگر پکارنے کی ہمت نہیں تھی۔
بس انتظار تھا۔
خاموش، تھکا ہوا انتظار۔
جیسے اگر وہ دروازہ کھل گیا
تو سب ٹھیک ہو جائے گا
اور اگر نہ کھلا
تو وہ اسی خاموشی میں بکھر جائے گی۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔
عبیرہ کی پلکیں فوراً لرزیں، نظریں دروازے پر جم گئیں۔
آریان اندر آیا تو قدم خود بخود دھیمے پڑ گئے۔
نظریں اس پر پڑتے ہی دل میں ایک بوجھ سا اتر آیا۔
“سوری…”
آواز ہلکی تھی، جیسے لفظ گلے میں اٹک گئے ہوں۔
“دیر ہو گئی…”
عبیرہ نے کچھ نہیں کہا۔
بس آنکھوں میں بھرا ہوا سب کچھ ایک دم بہہ نکلا۔
“کہا تھا نا…”
آواز ٹوٹ گئی۔
“جلدی آنا…”
یہ شکوہ نہیں تھا،
یہ ڈر تھا… وہ ڈر جو اکیلے چھوڑ دیے جانے سے جنم لیتا ہے۔
آریان ایک لمحے کو وہیں رک گیا۔
پھر آگے بڑھا، بستر کے پاس بیٹھ گیا۔
“سوری، عبیرہ…”
اس بار لفظوں میں کپکپاہٹ تھی۔
“میں جان بوجھ کر نہیں…”
عبیرہ نے چہرہ موڑ لیا۔ آنسو تکیے میں جذب ہو رہے تھے۔
آریان نے ہاتھ آگے بڑھایا، مگر چھو نہیں سکا۔
بس وہیں بیٹھا رہا، سر جھکائے۔
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
ایسی خاموشی جس میں معافی بھی تھی
اور وہ درد بھی
جو لفظوں میں نہیں سما پاتا۔
“پلیز… میری طرف دیکھو۔”
آریان کی آواز میں وہ ضد نہیں تھی جو کبھی اس کا خاصا ہوا کرتی تھی، بس التجا تھی۔
“دیکھو، میں کان پکڑ کر معافی مانگ رہا ہوں۔ مجھے جلدی آنا چاہیے تھا۔ کوئی بہانہ نہیں دوں گا۔”
کہتے ہوئے اس نے واقعی کان پکڑ لیے، ہلکا سا اوپر نیچے ہوا۔
یہ منظر اتنا بے ساختہ تھا کہ عبیرہ کے خشک، بھوک پیاس سے سوکھے ہونٹوں پر بے اختیار ایک مدھم سی مسکراہٹ آ گئی۔

“پلیز… ایسے مت کریں…”
وہ آہستہ سے بولی۔
“بیٹھ جائیں…”

“کیوں نہ کروں؟”
اس نے اسی حالت میں کہا۔
“مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ پہلے معاف کرو، پھر بیٹھوں گا۔”

عبیرہ نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔

“معاف کیا…”
ایک لمحے کا وقفہ۔
“مگر دوبارہ نہیں ہونا چاہیے…”
“کبھی نہیں ہوگا، میری جان۔”
وہ تب اس کے پاس آ کر بیٹھا۔
خاموشی سے فروٹس کی ڈش اپنی طرف کھینچی، ایپل ٹکڑے کیے، اور نرمی سے اس کی طرف بڑھانے لگا۔
کمرے میں لفظ کم تھے،
مگر وہ لمحہ
کہہ رہا تھا
کہ کچھ وعدے
آواز سے نہیں
عمل سے نبھائے جاتے ہیں۔

“آپ بھی کھائیں…”
عبیرہ نے آہستہ سے کہا اور اپنے ہاتھوں سے فروٹ آریان کی طرف بڑھایا۔
اس کی آنکھوں میں کمزوری کے باوجود فکر صاف جھلک رہی تھی۔
اس نے دیکھا تھا کہ آریان نے بھی کچھ نہیں کھایا۔ وہ بھی تو بھوکا تھا۔
آریان نے ایک لمحے کے لیے اس کے ہاتھ کو دیکھا، پھر خاموشی سے فروٹ لے لیا۔
دونوں تھک چکے تھے، جسم میں ہلکی سی جان لوٹ چکی تھی، مگر کوئی اور لفظ نہیں کہی۔
کھانے کا عمل جیسے اپنی رفتار سے ختم ہو گیا ہو، بس سانس میں سکون اور خاموشی باقی رہ گئی تھی۔
آریان نے آہستہ سے اسے اپنی باہوں میں سمیٹا۔
چھوٹے بچے کی طرح، مضبوط حصار میں۔
سینہ اس کے سر کے گرد ڈھال بن گیا۔
وہ خود بھی لیٹ گیا، جیسے چند لمحوں کے لیے سانس لینا چاہتا ہو،
اور اسے بھی آرام کی اشد ضرورت تھی۔
وہ اسے اس طرح تھامے ہوئے تھا
جیسے کوئی اپنی سب سے قیمتی چیز
دوبارہ کھونے کے خوف سے
آنکھیں بند کر کے بھی مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے۔
کچھ دیر کے لیے ،بس خاموشی تھی۔
پھر، مدھم سی آواز ابھری۔

“آپ کو پتہ ہے… کہ مجھے روشانے پھوپھو نے اس کمرے میں بند کیا تھا۔۔۔”
عبیرہ کی آنکھیں نم تھیں، اور ہر لفظ کے ساتھ اس کی آواز ہلکی سی لرز رہی تھی۔
آریان نے اسے سینے سے تھامے رکھا، خاموشی میں بس درد اور تحفظ ایک ساتھ بہہ رہا تھا۔

جانتا ہوں…
وہ آنکھیں بند کیے، عبیرہ کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں پھرتے ہوئے، بغیر چونکے بولا۔
“آپ کو کیسے پتہ؟”
عبیرہ کی آواز مدھم، لرزاں تھی۔
“میری جان، آریان خان بے وقوف نہیں ہے۔ بس ضرورت سے زیادہ بھروسہ ہونے کی وجہ سے دھوکہ کھا گیا۔
اُڑتی ہوئی چڑیا کے پر گرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں، مگر بے وقوف بنا… وہ بھی اپنوں کے ہاتھوں سے۔
روشانے پر یقین بہت تھا، اس لیے یہ سمجھ نہیں سکا کہ وہ تم سے اتنی محبت کیوں کر رہی ہے۔ یہی میری سب سے بڑی بے وقوفی تھی۔
چال تو اچھی چلی، مگر شاید میری سچی محبت پر رب کا رحم آگیا، یا میرے دل سے کیے گئے سجدے قبول ہوئے، اس لیے تم محفوظ رہیں۔
مگر جو کچھ روشانے نے کیا، میں کبھی معاف نہیں کروں گا۔
آریان خان کبھی اپنے ساتھ کیے گئے دھوکے کو معاف نہیں کرتا۔
وہ خوب جانتی تھی کہ تم میرے لیے کیا ہو۔
اگر سامنے سے وار کرتی تو میں اسے سمجھاتا۔ میرا پورا حق تھا۔ مگر اب اس کی کوئی معافی نہیں۔”
اس کے لہجے میں غصے کے ساتھ درد بھی تھا۔
عبیرہ نے خاموشی سے محسوس کیا کہ آریان کس حد تک اذیت میں ہے۔
روشانے کا یہ چھپ کر وار اسے سمجھ آیا، مگر حیرت بھی ہوئی کہ آریان کو کیسے پتہ چلا۔
“آریان…”
اس نے مدھم آواز میں کہا۔
“ہمم…”
آریان نے سانس بھرتے ہوئے جواب دیا۔
“آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ سب کچھ روشانے نے کیا؟”
“کبھی فرصت میں سب کچھ بتاؤں گا، ابھی آرام کرو۔
تمہاری جان اب صرف تمہاری نہیں، تمہاری سانسوں سے میری سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔
تمہیں اپنی حفاظت کرنی ہے میرے لیے۔
تم ہو تو میں ہوں۔”
آریان آنکھیں بند کیے خاموش، گہری سوچ میں تھا۔
عبیرہ نے اس کے سینے میں خود کو محفوظ پاتے ہوئے چند ہی لمحوں میں آنکھیں بند کر لیں۔

بس روشانے… آپ کا اور میرا رشتہ یہیں ختم۔
آج کے بعد آریان خان آپ کے ساتھ وہی سلوک کرے گا
جو وہ باقی سب کے ساتھ کرتا ہے۔
آپ نے میرے دل پر وار کیا ہے۔
اس لڑکی کو مٹانے سے پہلے ایک بار یہ سوچ لیتی
کہ اسی میں میری جان بستی ہے۔
آپ نے مجھ سے میری زندگی چھیننے کی کوشش کی ہے۔
اور ایسے زخم معافی کے قابل نہیں ہوتے۔
انتظار کیجیے…
جواب آپ کو ملے گا۔
عبیرہ خاموش، بالوں پر ہلکی انگلیاں،
اور آریان اپنے ذہن میں ہر لمحے کا حساب لگا رہا تھا۔
آنکھیں بند، مگر ہر خیال واضح
محبت اپنی جگہ قائم تھی،
اور دھوکے کا حساب بھی۔
ہر احساس میں سکون نہیں،
ہر سانس میں شدت تھی،
اور ہر دھڑکن میں فیصلہ…گونج رہا تھا۔

═══════❖═══════

ایزل آج کل تھوڑی زیادہ شرارتی لگ رہی تھی۔ یارم خاموشی سے اس کی ہر حرکت دیکھ رہا تھا، ہلکی مسکراہٹ لبوں پر، مگر دل میں چھپی خوشی اور نرمی ہر لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔ایزل صبح سے دو بار اس کے ساتھ ٹکرا چکی تھی۔

“کیا بات ہے محترمہ؟ آج کل تم کچھ زیادہ بکھلائی ہوئی لگ رہی ہو؟” یارم نے اسے نوٹس کرتے ہوئےپوچھا۔

“نن، ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔” ایزل نظریں چراتے ہوئے بولی۔

“تم پر یہ شرمانا بالکل سوٹ نہیں کرتا، پٹاخے۔ تم جیسی ہو، ویسی ہی رہا کرو۔ اور ویسے بھی ایسا کچھ نہیں ہوا جس کی وجہ سے تمہیں اتنا شرمانا پڑے۔” یارم نے آنکھیں ملا کر آہستہ کہا۔ وہ نظریں جھکا گئیو ۔وہ اٹھ کر اس کے قریب جا کھڑا ہوا۔

“میری طرف دیکھو،” یارم نے ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھتے ہوئے چہرے کا رخ ہلکا سا اوپر کیا، “تمہارے خاموش ہونے سے گھر میں ماتم کا ماحول بن گیا ہے۔ مہربانی کر کے اپنے اصلی روپ میں آجاؤ، تم ایسے بالکل اچھی نہیں لگ رہی۔”
اس کی بات پر ایزل کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ چھا گئی۔

“میں آپ سے شرما نہیں رہی، اور مجھے شرمانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔” وہ سینہ تان کر بول رہی تھی، لہجے اور آنکھوں میں شوہر کی توجہ کا غرور جھلک رہا تھا۔
“اچھا پھر یہ دیواروں کے ساتھ کیوں ٹکراتی پھر رہی ہو؟”

“ہی ہی ہی۔۔۔میں تو اپ کے ساتھ ٹکرائی تھی۔ آپ خود کو دیوار بول رہے ہیں؟” ایزل نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔

“ایسے اچھی لگتی ہو، ہنستی رہا کرو، اچھی لگتی ہو۔”
“تھینک یو سو مچ، میری صبح اتنی تعریف کرنے کے لیے!” ایزل نے خوشی کے ساتھ کہا۔

“میں نے تمہاری تعریف تو نہیں کی۔”تنگ کرتے ہوئے کہا۔

“بس شروع ہو جائیں، میرا دل جلانے کے لیے، تھوڑی خوشی دے کر جب تک آپ مجھے واپس دکھی نہیں کرتے، آپ کو چین نہیں آتا، کھڑوس انسان!”
ایزل کچن کی طرف بڑھتے ہوئے اپنی زبان کے بہترین استعمال سے اسے کھڑوس کہہ رہی تھی، اور یارم نفی میں سر ہلاتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔

“بے وقوف جھلی کہیں کی۔۔۔” یارم نے ہلکی آواز میں کہا، اور اس کے پیچھے پیچھے کچن تک آگیا۔

“باہر گھومنے چلیں؟” یارم نے اچانک پوچھا، اور ایزل کا منہ حیرت اور خوشی سے کھلا رہ گیا۔

“منہ بند کر لو، خوبصورت نہیں لگ رہی ہو، یہ پوز بالکل اچھا نہیں ہے۔” یارم نے کان میں سرگوشی کی، اور فریج سے پانی کی بوتل نکال کر اسے تھما دیا۔ “پانی پیو، کہیں زیادہ صدمے میں نہ چلی جاؤ۔”

“سچ میں آپ مجھے گھمانے لے جا رہے ہیں یا مجھے اُلّو بنا رہے ہیں؟” ایزل نے شرارت اور حیرت سے پوچھا۔

“نہیں جی، میں بنی بنائی چیزوں پر محنت نہیں کرتا۔”
“ہاں آ۔۔۔ آپ مجھے اُلّو بول رہے ہیں؟”
“نہیں، تم خود ہی اپنا نام لے رہی ہو، میں نے تمہارا نام نہیں لیا۔”

“آپ کو شرم نہیں آتی؟ کبھی بھی مجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں۔۔۔” ایزل نے ناراض سا منہ بنا کر کہا۔

“جلدی سے تیار ہو جاؤ، سچ میں گھمانے لے جا رہا ہوں، جھلی۔” یارم نے آخری الفاظ آہستہ سے کہا۔
ایزل خوشی سے آسمان کی جانب منہ کرتے ہوئے بولی، “اللہ جی۔۔۔ آپ ایک ہی مجھے اس کا اصلی روپ دکھا دیں۔ بار بار ایسے چھوٹے چھوٹے جھٹکے نہ دیں کہ میری ڈیتھ ہی ہو جائے!”

یارم خاموشی سے اس کی خوشی دیکھ رہا تھا۔
“بس میں دو منٹ میں تیار ہو جاتی ہوں۔
وہ جلدی سے کمرے میں آچکی تھی، یارم بھی اس کے ساتھ ساتھ آیا تھا۔

ایزل الماری میں جھانک کر اپنے لیے دو ڈریسز نکال کر یارم کے سامنے کھڑی تھی، بچوں جیسی خوشی کے ساتھ۔
“بتائیں، ان میں سے کون سا پہنوں؟”
یارم نے ایک نظر دونوں ڈریسز پر ڈالی،
“کوئی سا بھی پہن لو، ہم گھومنے جا رہے ہیں، شادی کے فنکشن میں نہیں، جو تم ڈریسز کے لیے اتنی ٹینشن لے رہی ہو۔”

“ایسے کیسے؟ میں تو بہت اچھی طرح تیار ہو کر جاؤں گی، شادی کے بعد پہلی بار آپ مجھے خود سے کہیں گھومانے لے جا رہے ہیں!” ایزل نے خوشی سے باری باری دونوں ڈریسز کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“تو ٹھیک ہے، الماری میں ایک پیکٹ ہے، اس میں جو ڈریس ہے وہ پہن لو۔” یارم مصروف انداز میں اپنے موبائل پر نظر جمع کیے کھڑا تھا۔

“آپ۔۔۔آپ میرے لیے نئی ڈریس لے کر آئے ہیں؟ او مائی گاڈ! بتایا کیوں نہیں؟” ایزل نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا۔
وہ جلدی سے پیکٹ میں سے ڈریس کو نکال کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے۔ ڈریسنگ مرر کے سامنے خود کو دیکھ رہی تھی، لائٹ سکن اور پرپل کے کمبینیشن میں فراک اس پر جچ رہی تھی۔

“کتنی خوبصورت ہے یہ! آپ نے کب خریدی اور مجھے بتایا کیوں نہیں؟”

“پہلے تیار ہو جاؤ، پھر سب سوال کر لینا۔ تمہارے لیے سرپرائز ہے۔”ہےیارم نے مسکرا کر کہا۔

“میرے لیے؟” ایزل نے حیرنی سے پوچھا۔

“ہاں، میرے خیال سے تمہارے علاوہ یہاں اور کوئی نہیں ہے۔”

“ہائے اللہ! اتنی ساری خوشیاں ایک ساتھ مت دے۔ آرام آرام سے دے تاکہ میں پہلی خوشی کو ہضم کر سکوں۔

“زیادہ ڈرامے مت کرو، جلدی سے تیار ہو جاؤ، ورنہ میں نے اپنا ارادہ بدل لینا ہے!” یارم نے نٹ کٹ ادھاؤں پر ہنستے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
“پلیز، پلیز، پلیز! ایسا ظلم مت کیجئے، میں ابھی دو منٹ میں تیار ہو کر آتی ہوں!” ایزل نے بھرتیلے انداز میں جواب دیا، اپنی چھوٹی چھوٹی شرارتی حرکتوں کے ساتھ فوراً تیاری میں جٹ گئی۔

“اس کی ہلکی شرارت اور غرور بھری آواز سن کر یارم پیچھے مڑ کر مسکرایا ۔دل میں اس کی خوشی اور شرارتی حرکات کو بھرپور انداز سے محسوس کرتے ہوئے ،گہری سانس لیتے ہوئے خاموشی سے چل دیا۔

═══════❖═══════

ایزل وقت پر تیار ہو کرآچکی تھی، اور سچ یہ تھا کہ اس نے زیادہ وقت بھی نہیں لگایا تھا۔
وہ کیسے یارم کو انتظار میں رکھ سکتی تھی؟ بڑی مشکل سے ہی تو ایسی خوشی کے لمحے نصیب ہوئے تھے۔ یارم نے خود اسے تیار ہونے کا کہا تھا اور خود سے اسے گھمانے لے جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایزل کے لیے آج کا دن واقعی خوشی اور مسرت کی خبر لے کر آیا تھا۔
یارم، جو موبائل پر کچھ دیکھنے میں مصروف تھا، ایک نظر اٹھا کر ایزل کی طرف دیکھتا ہے تو بھول گیا کہ وہ موبائل پر کیا دیکھ رہا تھا۔

پلکیں جھپکنا بھی اسے یاد نہ رہا۔ ایزل خوبصورت تھی، اس میں کوئی شک نہیں، مگر آج وہ سراپہ دلکش اور دیدنی لگ رہی تھی۔

پرپل اور ہلکے سکن رنگ کی فراک، جو پیروں کو چھو رہی تھی، جاذبِ نظر تھی۔ کانوں میں پہنی ہوئی بڑی بالیاں اس کے چہرے کے ساتھ نہایت خوبصورت لگ رہی تھیں۔

سلکی لمبے بال ہائی پونی میں بندھے تھے، پنکی گالوں پر ہلکا بلش اور ہلکی روشنی دینے والا ہائی لائٹر اس کے مخملی چہرے کی خوبصورتی کو اور نکھار رہا تھا۔
اور ہونٹوں پر لگے ہوئے لپسٹک نے اس کی دلکشی کو مکمل کر دیا تھا۔ بےشک آج اس کا نکھرا ہوا روپ یارم کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
یارم، سر سے پاؤں تک اسے دیکھتے ہوئے، ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل کے ساتھ ساکت کھڑا تھا۔

“پلیز بتائیں، میں کیسی لگ رہی ہوں؟”
وہ فراک کو دونوں جانب سے تھامے ہلکا سا گول گول گھوم کر خود کو دکھا رہی تھی۔
“ویسے تو مجھے معلوم ہے کہ میں خوبصورت لگ رہی ہوں، اسی لیے آپ کی نظر مجھ سے ہٹ ہی نہیں رہی۔”
وہ اپنی ہی بات پر مسکرا اٹھی، اپنی خوبصورتی کا اعتراف کرتے ہوئے، اور آنکھوں میں ہلکی سی شوخی نمایاں تھی۔

“ہاں، پیاری لگ رہی ہو۔”
یارم نے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

“کیا صرف پیاری لگ رہی ہوں؟”
ایزل کو اپنی تعریف کچھ خاص پسند نہیں آئی۔ اس نے ہلکا سا منہ بسورا۔

“ہاں، میرا مطلب ہے کہ تم بہت اچھی لگ رہی ہو۔”
یارم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

“رہنے دیجیے، بہت ہی کنجوس قسم کے انسان ہیں آپ۔”

“اتنی پیاری لڑکی سامنے کھڑی ہے، جو کہ آپ کی بیوی ہے، اور اس کی تعریف کرنے میں بھی اتنی کنجوسی!”
“رہنے دیجیے، میں تو مرر میں خود کو دیکھ کر اپنی بہت سی تعریف کر کے آئی ہوں۔”
وہ ناراضی سے منہ بسورے، دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کھڑی تھی۔

“کیا سننا چاہتی ہو؟”
یارم اس کے بس دو قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا۔ آہستہ آہستہ قریب آیا، کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہلکے سے اسے اپنی جانب کھینچا، اور پھر اپنی گہری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔
ایزل یارم کے قریب ہوتے ہی اس کے سینے سے ٹکرائی۔ یارم کی قربت اس کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کر دینے کے لیے کافی تھی۔
ایزل کا ننھا سا دل تیز دھڑکنے لگا، جیسے خاموشی سے اپنی خوشی کا اعتراف کر رہا ہو۔
ایزل نروس لوگوں میں سے بالکل نہیں تھی، مگر یہ حقیقت تھی کہ یارم جب بھی اس کے قریب آتا، اس کا دل جیسے پسلیوں سے باہر نکلنے کو بے قرار ہو جاتا۔

“بولو، کیا سننا چاہتی ہو؟”
یارم اسے گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
اس کی نظریں آج کچھ خاص کہہ رہی تھیں، وہ احساسات جو بغیر الفاظ کے بھی چھلک رہے تھے، ایزل کے دل کو بے چین کر رہے تھے۔

“میں چاہتی ہوں کہ آپ میری بہت سی تعریف کریں!”
“میرا مطلب یہ کہ جتنی میں خوبصورت ہوں، اتنی تعریف کریں، کنجوسی مت کریں!”
آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، ایزل نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ دونوں بازو یارم کے گرد ڈالے، جیسے ہر لفظ کے ساتھ اس کی خوشی اور انتظار کا احساس بھی منتقل ہو رہا ہو۔
پلکیں ہلکی سی جھپک رہی تھیں، اور دل کی دھڑکنیں خاموشی سے اپنے راز بیان کر رہی تھیں۔

“بہت… بہت خوبصورت لگ رہی ہو!” یارم نے آہستہ سرگوشی کی۔
“اتنی خوبصورت کہ آج میرا دل چاہتا ہے کہ خود پر لگائے ہوئے سب پہروں کو بھلا دوں۔”
“اتنی خوبصورت کہ دل چاہتا ہے کہ آج تمہیں اور قریب محسوس کروں۔”
“اتنی خوبصورت کہ دل چاہتا ہے کہ آج ہمارے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہ رہے۔”
ایزل نے اس کی سرگوشیوں اور نظریں کو محسوس کیا، ہلکی سی مسکان لبوں پر اور آنکھوں میں چمک لیے۔
یارم کی نگاہوں میں چھپی خاموش احساسات نے ایزل کے پورے وجود میں ایک نرم اور خوشگوار سنسنی دوڑا دی تھی۔
وہ جان چکی تھی کہ اس نے تعریف تو مانگی تھی، مگر آج خدا نے اسے چھپڑ پھاڑ کر نوازنے کا لمحہ دیا تھا، ہر لفظ اور ہر نگاہ میں۔

“اب بولتی کیوں بند ہو گئی؟”
“اتنی تعریف کافی ہے یا اور سننی ہے؟”
یارم نے یہ الفاظ آہستہ سے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہے، اور نظریں اس کی ہر حرکت پر مرکوز تھیں۔ ہر لفظ میں چھپی خاموش محبت اور بے ساختہ دل کی خواہش ایزل کے دل تک پہنچ رہی تھی، اور لمحہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔
ایزل نے اپنی نظریں یارم کی آنکھوں میں ڈالیں، اور ایک ہلکی سی مسکان لبوں پر بکھر گئی، جس میں خوشی، شرارت اور اندرونی سرور سب جھلک رہے تھے۔
“چلیں؟” یارم نے نرم مسکان کے ساتھ پوچھا۔
“جی ، چلیں۔” ایزل نے خوشی سے جواب دیا اور فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا۔
دونوں ایک ساتھ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔ایزل کی نظریں مسکراتے ہوئے باہر کا منظر دیکھ رہی تھیں۔یارم کی محبت بھری نظروں کو دیکھ کر وہ اس قدر خوش تھی کہ چہرہ دل کا حال بیاں کر رہا تھا۔ یارم کے دل میں بے اختیار ایک دعا اٹھی تھی۔

“میں تیری رضا پر راضی ہوں… جو کچھ چھوٹ گیا، وہ میرا نہیں تھا، اور جو میرا ہے، وہ میرے پاس ہے۔ اور میں راضی ہوں تیری اس تقسیم پر۔ بس تو اسے اتنی خوشیاں دے دے کہ میں کبھی پلٹ کر اس کی جانب دیکھوں تو بے اختیار مسکرا دوں۔”
یہ دعا آہستہ آہستہ اس کے لبوں پر سرک رہی تھی، اور ایک نظر ساتھ بیٹھی ہوئی ہستی پر پڑی، جس کے لیے اب وہ سب کچھ تھا۔صاحبان، سکون اور دل کی تمام خوشیاں۔
آج اس نے پورے دل سے اس رشتے کو مان لیا تھا، اور دل کے کسی گوشے میں نرم روشنی کے ساتھ ایک نیا سفر شروع ہونے کا احساس جاگ رہا تھا۔
═══════❖═══════

پسند آیا؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔آپ کا فیڈبیک ہمارے لیے قیمتی ہے۔

Hayat Irtaza S.A…. management

Similar Posts

One Comment

  1. g g g Boht Boht Boht psnd aya ❤️❤️❤️yarm our aizal ka Pyar aye Haye

    Or Aryan ko abheera ka mil Jana bepana Pyar krna ykeen kro Dil Khush hogya

    ab agly episode ka we8 rhy ga

Leave a Reply to Muzalfashan Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *